Nūr al-Maṣābīḥ
بَابُ مَا يَجْتَنبُهُ الْمُحْرِمُ

اس باب میں ان امور کا بیان ہے جس سے احرام باندھنے کے بعد حرم کو پچنا چاہے

What the Muhrim Should Avoid
Volume 5 · Rites of Pilgrimage

وقول الله عز وجل فمن كان منكم مريضا او باذي من راسه ففديه من صيام او صدقه او نسك

اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (سورۃ بقرہ، پ:2، ع:24، 196، میں) (جو کے دونوں میں

حالات احرام) اگر تم میں سے کوئی بیمار ہو جائے یا اس کے سر میں کوئی تکلیف (جب زخم یا درد یا جوؤں

کی وجہ سے) ہوجائے (اور اس کو قربانی سے پیلے سر منڈھانا کی ضرورت پڑ جائے تو وہ سر منڈھنا

سکتا ہے تو ایسی صورت میں) فردی دیے کے خواہ (تین دن) روزے رکے لے یا (چھ مساکین کو، ہر

مسکین کو) صدقہ فطر کے برابر (نصف صاع غیہون) نذرات کر دے یا چھ رائی بڑی ذنگ کر دے۔

حالات احرام میں عذر کی وجہ سے سر منڈھانے کافدیہ

ف: واضح ہو کہ پیاری کی وجہ سے محرم کو سر منڈھانے کی جوازت ہے اس کے فردی کے طور پر

تین چیزیں آئت شریف میں ذکور ہیں - (1) تین دن کے روزے -

(2) صدقہ - چھ مساکینوں میں سے ہر مسکین کو نصف صاع غیہون میں پولے دوسیر دیتے جا میں

اور ایک مسکین کو ایک نی صدقہ دینا چاہیے اور اگر دوحصر دیتے جا میں تو کچھ ایک نی صدقہ شارہوگا-

(3) ایک بڑی ذنگ کر کے مساکینوں میں تقسیم کی جائے اور پی ذنگ حدود حرم میں ہونا

چاہئے

حالت احرام میں کس کو چیزون کا پہنا جائے یا اور کس چیزوں کا پہنا جائزہیں

And the guidance of Allah Almighty is (in Surah Al-Baqarah, verses 24 and 196) (both concerning the state of Ihram): If any of you is sick or has some discomfort in his head (due to injury, pain, or lice), and it becomes necessary for him to shave his head before making the sacrifice, then he may do so, provided that he fasts for three days individually, or gives charity to six poor persons, giving each the equivalent of Sadaqah al-Fitr (half a saa' of wheat), or performs six major prostrations. Shaving the head during the state of Ihram is permissible due to valid excuses.

It is clear that out of necessity, it is permissible to shave one's head while in a state of Ihram. The noble verse mentions three options for expiation: (1) Fasting for three days; (2) Giving charity, giving half a saa' of wheat to each of six poor persons, with the total amount being equivalent to Sadaqah al-Fitr, and if given in installments, each installment should be a new act of charity; (3) Performing a major prostration and distributing it among the poor, and the prostration should be performed within the boundaries of the Haram.

In the state of Ihram, what items may be worn and what items are prohibited from being worn.

3714

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا کہ حرم (احرام کی حالت میں) کیا پہنے (اور کیا نہ پہنے) تو حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمايا (تم احرام کی حالت میں دوجا دریاس طرح پہن رہوگے ایک کو باندھلو اور دوسرا کو اوڑھولو ان کے سواوہ کوئی اور پہنے نہ پہنے) کرتے نہ پہنو، عامہمنہ باندھو، پائیجات نہ پہنو، برستیان نہ اوڑھو، لپیال نہ پہنو، اور موڑے کی نہ پہنوگر جس شخص کے پاس جوتیال نہ ہولوہ موڑے پہین لے گر موڑوں کو خون کے پیچے (اس طرح) کاتے کے کہ (تھا اور پیر کی اوپری بلندی کتلی رہے) اور ان کٹوں کو جی نہ پینے جس میں زعفران یا ورس (خوشبو دار گلاس) گلی ہو اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفرق طور پر کی ہے۔

Abdullah bin Umar (may Allah be pleased with him) reported that a man asked the Prophet (ﷺ) what clothing a Muhrim may wear. He said: "Do not wear shirts, turbans, pants, hooded cloaks or leather socks - unless one cannot find sandals, then he may wear leather socks cut below the ankles. And do not wear any clothing touched by saffron or wars." [Agreed upon]

Bukhari's version adds: "A Muhrim woman should not wear a niqab or gloves."

In Shafi'i's version from Sa'd bin Abi Waqqas: He would instruct his daughters to wear gloves in ihram. I [the narrator] say: This was also the view of Ali and Aisha.

3715

اور بخاری کی ایک روایت میں یالفاظ زیادہ ہیں (کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیچی ارشاد فرما کر) ایسی عورت جو حالت احرام میں ہو چھے پرنقاب نہ ڈالے اور دستانہ کچھ نہ پہنے۔

Abdullah bin Umar (may Allah be pleased with him) reported that a man asked the Prophet (ﷺ) what clothing a Muhrim may wear. He said: "Do not wear shirts, turbans, pants, hooded cloaks or leather socks - unless one cannot find sandals, then he may wear leather socks cut below the ankles. And do not wear any clothing touched by saffron or wars." [Agreed upon]

Bukhari's version adds: "A Muhrim woman should not wear a niqab or gloves."

In Shafi'i's version from Sa'd bin Abi Waqqas: He would instruct his daughters to wear gloves in ihram. I [the narrator] say: This was also the view of Ali and Aisha.

3716

اور امام شافعی نے کتاب الام میں سعد بن الی واقص رضی اللہ عنہما سے طرح روایت کیا ہے کہ وہ اپنی صاحجز ایول کو حکم دیتا تھا کہ وہ احرام کی حالت میں دستانہ پہین سکتی ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ (جبیا کہ مسوی میں ذکور ہے۔ 12) (احرام کی حالت میں دستانوں کا پہنا عورتوں کے لیے) حضرت علی اور امام المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہما کا بھی قول ہے (کہ احرام کی حالت میں عورتیں دستانے پہین سکتی ہیں۔ اور نہہب حقی بھی ہیں۔)

ف: واضح ہوگا س حدیث ثریف سے حسب زیل مسائل مستنبط ہوتے ہیں:

(1) احرام کی حالت میں سلا ہوا کپڑا پہنا مردو کے لیے جائزہیں۔ لہذا بتسلہ ہوا کپڑا اچھے قباے

وگیرہ اس طرح کندھون پراوڑہ لے کر اس کے آستینول میں باٹھنے ذا لے تو کوئی حرج نہیں۔ اس کو عالمگیری میں فتاوی قاضی خان سے بیان کیا ہے۔ اس طرح موڑے پائیتھاب سردی کی وجہ سے پہردن پڑوالے تو کوئی حرج نہیں البتن کا پہناانا جائزہے۔ اور رواختار نہ لپاب کے حوالے کیاہے کہ تقایاعبا کا کندھون پراس طرح اوڑهناآکر باٹھآاستیول میں نذا لے جامیں کروہے۔12 (2) محرم مردوچہرہاورسرکھلا رکنا ضروری ہے۔ البتعورتمیسردہا تنمیں صرف چہرہ کخلا رکھیں اورعورتمیں پاتھا بے پہین سکتی ہیں لیکن خشبو نہ لگا میں۔12 حالات احرام میں مردو کے لیے تنمیں کپڑا پہینامتع ہے۔

Abdullah bin Umar (may Allah be pleased with him) reported that a man asked the Prophet (ﷺ) what clothing a Muhrim may wear. He said: "Do not wear shirts, turbans, pants, hooded cloaks or leather socks - unless one cannot find sandals, then he may wear leather socks cut below the ankles. And do not wear any clothing touched by saffron or wars." [Agreed upon]

Bukhari's version adds: "A Muhrim woman should not wear a niqab or gloves."

In Shafi'i's version from Sa'd bin Abi Waqqas: He would instruct his daughters to wear gloves in ihram. I [the narrator] say: This was also the view of Ali and Aisha.

3717

نافع رحمۃ اللہ تعلی روایت ہے کہ انہوں نے اسلم مولی عمر ابن الخطاب کوفرامعت ہوئے ساکر انہوں نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت طلحہ بن عبید اللہ کو احرام کی حالات میں رنگین کپڑے کا احرام باندھے ہوئے دیکھا تو حضرت عمر نے آپ سے فرمایا لے طلحہ! (احرام کی حالات میں) پیرنگین کپڑا کیسا استعمال کرتے ہوئے حضرت طلحہ نے جواب دیا میرا المومنین! میرے پاس اس کے سوا کوئی کپڑا نہیں ہے اور وہ میں کے رنگ کاہے اس پرحضرت عمر نے فرمایا تم صحابہ کی جماعت ہو (اورقوم کے پیشواہو) اور لوگ تمہاری اقتدا کرتے ہیں، اگر کوئی جامل اور ناوقف شخص تمہارے اس لباس کودیکھے لے کہ حضرت طلحہ احرام کی حالات میں رنگین کپڑا پینے ہوئے تھے (تو وہ اس سے پیغہ لے گا کر احرام کی حالات میں مردوں کے کپڑا پہین سکتے ہیں) اس لے تم لوگ ایسے رنگین کپڑے احرام کی حالات میں پہنا کرو۔ اس کی روایت امام ماکے نے کی ہے۔

عورتمیں حالات احرام بلغر خوشبو رنگین کپڑا پہین سکتی ہیں ف: واضح ہوکر احرام کی حالات میں مردو کے لیے رنگین کپڑے کا استعمال ممنوع ہے البتعورتمیں ایسا رنگین کپڑا استعمال کرسکتی ہیں جس میں خشبو نہ ہو۔ مردو کی احرام کی حالات میں خوشبو استعمال نہ کرے۔12

حالت احرام میں خوشبو دار کپڑا پہننا منع ہے

Nafi' reported that Aslam, the freed slave of Umar, told Abdullah bin Umar that Umar saw Talhah bin Ubaidullah wearing a dyed garment while in ihram. Umar said: "What is this dyed garment, O Talhah?" Talhah replied: "O Commander of the Faithful, it's only mud-stained." Umar said: "You leaders are followed by people. If an ignorant man saw this, he would say Talhah wears dyed clothes in ihram. So avoid such clothes, O leaders." [Narrated by Malik]

3718

روایت کرتی پی کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ احرام کی حالت میں اس کپڑا مت پہنو جس کو درس (اک فسمل کی خوشبو دار گھاس) او زعفران میں بسا گیا ہو۔ بال اس کپڑے کو اگر دھو تو کوئی حرج نہیں (اس لے کر دھونے سے اس کی خوشبو زائل ہوجائے گی۔)

اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے اور علامہ عینی رحمہ اللہ نے کہا ہے اس حدیث کے راوی ثقة ہیں۔

مرد کے لے احرام باندھنے سے پہلے بدن کو خشبو لگانا مستحب ہے

Ibn Umar (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (ﷺ) prohibited wearing clothes touched by wars or saffron in ihram unless washed. [Narrated by At-Tahawi; Al-Ayni said its narrators are reliable]

3719

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے راويت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب احرام باندھنے کا ارادہ فرماتے (تو احرام باندھنے سے پہلے) جو کہی خوشبو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہتی اس کو (جسم الطهر پر) لگاتے۔ یہاں تک کہ کے اس خوشبو کی چھک کو میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک اور لیش مبارک پر دھیتی تھی۔

اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر لکھے ہیں۔

احرام کے کپڑے پر خوشبو لگانی جائزہے

f: واضح ہو کہ حاقي کے لے مستحب ہے کہ وہ احرام باندھنے سے پہلے اپنے بدن پر خوشبو لگاۓ اور اس خوشبو کا اثر احرام باندھنے کے بعد حسم پراباقی رہے تو کوئی حرج نہیں۔ البتہ احرام باندھنے والا احرام کے کپڑوں پر خوشبو نہ لگاۓ اور حسم پراباقی خوشبو کی نہ لگے۔ جس کا وہیب کپڑے پر آجاۓ۔ پیسارے احکام مردوں سے متعلق ہیں اور عوامل مطلقا خوشبو کا استعمال نہ کریں۔ ماخوذ از بدايہ

اور بدل اجہود۔12

محرم حالت احرام میں نکاح کر سکتا ہے لیکن صحبت ذکرے

Aisha (may Allah be pleased with her) said: "When the Messenger of Allah (ﷺ) intended to enter ihram, he would perfume himself with the best perfume he could find, and I would see the glistening of the oil on his head and beard afterward." [Agreed upon]

3720

_ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت سے کے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

نے امام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے (عمرۃ القضاء کے موقع پر) احرام کی حالت میں عقد

فرمائا۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم میں متفرق طور پر ہے۔

Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (ﷺ) married Maymunah while in ihram. [Agreed upon]

Bukhari's version adds: "He married her while in ihram but consummated the marriage when lawful. She died at Sarif."

3721

اور بخاری کی ایک روایت میں حضرت ابن عباس سے یہ مرتبہ کے حضرت نبی

کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے احرام کی حالت میں عقد

فرمائا اور (جب عمرہ کے مناسک سے فارغ ہوئے اور احرام کول دیا تو مقام سرف میں ) حال

ہونے کے بعد صحبت فرما ئی اور حضرت میمونہ کا انتقال جسی مقام سرف میں ہوا۔

ف: اس حدیث ثبوت سے ثابت ہوتا ہے کہ حالت احرام میں عقد کیا جاسکتا ہے لیکن صحبت

حالت احرام میں ممنوع ہے البتہ احرام کول دینے کے بعد صحبت جائزہے اور کبھی نہہب حقیقت ہے۔–12

احرام کی حالت میں اس طرح سردہو میں کہ بال ذحجطرین

Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (ﷺ) married Maymunah while in ihram. [Agreed upon]

Bukhari's version adds: "He married her while in ihram but consummated the marriage when lawful. She died at Sarif."

3722

ابوایوب رضی اللہ عنہ سے روایت سے کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم احرام کی

حالت میں اپنے سرمبارک کودھولیا کرتے تھے۔

اس کی روایت بخاری اور مسلم میں متفرق طور پر ہے۔

احرام کی حالت میں بالول کے ذحجطرین یا ذحجیر نے

جوصدق لازم آتاہے اس کا بیان

واضح ہو: تقاضی خال میں نذکور ہمیہ محرم حالت احرام میں اس طرح اپنے سرم کو پانی سے دھوسکتا

ہے کہ سر کے بال ذحجطرین اور آگراس نے اپنے سر کو ذحجیر (حوشبودار لباس) لے ہوئے پانی سے دھولیا

تو امام عظیم رحمۃ اللہ کے پاس اس پر دم لیتی قربانی دینا ضروری ہے اور آگر پانی سے دھونے میں

بالاحمر توہر بال کے بدلائی مطہر غسل صدقہ کرنا لازم ہوگا۔ پیپورا مضمون فتاوی عالمگیری سے

ماخوذہ

احرام کی حالت میں پچھنگانا جائزہے بشرطیہ بال نتوث خپاکین

Abu Ayyub (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (ﷺ) would wash his head while in ihram. [Agreed upon]

پہلی حدیث
3723

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

نے احرام کی حالت میں پچھنگلواؤے ہیں۔

اس کی روایت بخاری اور مسلم میں متفق طور پرکی ہے۔

ف: فتاوی عالمگیری میں لباب کے حوالے سے کہا ہے کہ احرام کی حالت میں ضرورت پر پچھن

لغنا جائزہے بشرطیہ بال نتوث خپاکین اور پچھنگا نے میں بال نتوث جاکسین تو قربانی لازم ہوگی۔

جسیا کہ روایت میں کہا ہے

It is narrated from Ibn Abbas (RA) that the Noble Prophet ﷺ

wore a turban while in the state of ihram. This narration is agreed upon in Bukhari and Muslim. In Fatawa Alamgiri, it is stated based on Lubab that it is permissible to wear a turban in the state of ihram out of necessity, provided that the hair is not covered completely; if the hair is completely covered by the turban, then a sacrifice becomes obligatory, as mentioned in the narration.

دوسرا حدیث
3724

عبداللہ بن ماکہ ابن خبیبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی

اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حالت احرام مقام میں جمل میں جوکہ معظّم (اور مدینہ منورہ کے درمیان) راستے

میں واقع ہے، اپنے سرمبارک کے نچی میں پچھنگلواؤے۔

اس کی روایت بخاری اور مسلم میں متفق طور پرکی ہے۔

It is narrated from Abdullah bin Maqil ibn Khubaybah (RA) that

the Messenger of Allah ﷺ, while in the state of ihram at Muzdalifah, which is located on the road between Mina and Medina, dismounted from his blessed camel.

تیسری حدیث
3725

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و

آلہ وسلم نے قدسمبارک کی پشت پردور کی وجہ سے حالت احرام میں پچھنگلواؤے۔

اس کی روایت ابوداوداورنسائی نے کی ہے۔

ف: صدر کی احادیث شریفہ میں حالات احرام کچھ لگانے کا جو زکر ہے وہ ضرورت کی وجہ

سے ہے چونکہ کچھ لگانے میں بالطو طے بین اس لے بالطو طے کی وجہ قربانی لازم آئے گی۔

مرقات، عمدۃ القاری

احرام کی حالات میں آتمحوول کے دردو کا علاج

It is narrated from Anas (RA) that he said:

The Messenger of Allah ﷺ used to wear a shirt over his blessed shoulder due to the need during the state of ihram. This has been narrated by Abu Dawud and Nasa'i. In the noble hadiths, it is mentioned that wearing something during the state of ihram is only due to necessity, as it is necessary to cover oneself for the sake of modesty and to avoid any inconvenience.

3726

امیر المومنین حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت صلی اللہ علیہ و

آلہ وسلم نے ایک ایسے شخص کے بارے میں جس کی آتمحوول میں درد ہو، اور وہ حالت احرام میں ہو

ارشاد فرمایا کہ وہ (ضرورت پر) الیو کا لپ پا سکتا ہے۔

اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔

احرام کی حالات میں تمُر مرگانے کے احکام

ف: واضح ہو کہ حالات احرام میں خوشبو کا استعمال کسی صورت میں جائز نہیں۔ اگر احرام کی

حالات میں اپیاسرم کا اجا بے جس میں خوشبو نہوتو کوئی حریج نہیں، اور اگر سمسمی بلکی سی خوشبو نہوتو

صد قدینا ہوگا اور اگر خوشبو زیادہ نہوتو حرم پرقر بانی دینالازم ہوگا۔ مرقات، ردالمختار

احرام کی حالات میں اس طرح ساپے لے سکتے ہیں کہ کپڑا سرکونے گے

It is narrated from Amir al-Mu'minin Uthman (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said about a person who has a wound on his skin and is in a state of ihram that he may apply oil to it out of necessity.

Muslim has narrated this. In the state of ihram, the ruling regarding the use of dates is as follows: It is clear that the use of any fragrance is not permissible in the state of ihram. If a person uses a perfume that does not contain any fragrance, there is no sin. If the perfume contains a slight fragrance, it is disliked. If the fragrance is significant, it becomes obligatory to make atonement. One can apply oil in such a way that it does not touch the clothes.

3727

امام الحصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے (حجۃ الوداع

کے موقع پر) دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اونٹی پرسوار تھے) اور حضرت بلال رضی اللہ

عنہ اونٹی کی مہار تھا ہے ہوئے اور حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ آپ کے اوپر کپڑے سے ساپے کے

ہوئے تھے اور اس وقت آپ جھڑے عقبہ پر کفریان مارنے تھے۔

اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔

ف: واضح ہو کہ حرم حالِ احرام میں کسی چیز کا سائے لے سکتا ہے بشرطیہ سایہ کرنے والی چیز سر کو

نہ گئے اس طرح ذریعہ و غیرہ کے سائے میں جسی پیٹ سکتا ہے فتاوی قاضی خان اور عالمگیری

عذر کی وجہ سے حرم فردی کیسر مونڈنا سکتا ہے

وسالم حضرت کعب کے پاس سے گزرے جب کہ وہ حالِ احرام میں مقام حدیبیہ میں تھا اور اس کے

مکہ کر میں داخل نہیں ہو سکتا اور وہ باقاعدہ کے پیچ آگے جلا رہے تھا اور جویلان کے منہ پر

گر رہی تھیں۔ پیدا کی کر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دریافت فرمایا کعب پیجوان تم کو تکلف دے

رہی ہو لگی تو حضرت کعب نے فرمایا جی باب، (یارسول اللہ) تو حضور نے فرمایا تم اپنے سر کو مونڈ ہو

جو الاور فدی میں جہمسا کین کو تین صاع مقدار کھانا کھلا دو، یا تین دون کے روزے رکھو، یا پچھر (مقدور

ہوتا) ایک جانور زنبگ کردو۔

اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفرق طور پر کی ہے۔

ف: واضح ہو کہ عذر کی حالت میں محرم کو سر مونڈنا جائزہے اور فدی میں ذکورہ بالا تین چیزوں

میں سے کسی ایک چیز کو اختیار کر سکتا ہے۔ -ہداپر

حالِ احرام میں عورت اس طرح چہرہ ظاہر کر سکتی ہے کہ چہرہ کو کپڑا نہ گے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ احرام کی حالت میں ہوتی (جس کی وجہ سے ہمارے

چہرے کے لیے رہتے) اور ہمارے قریب سے قافلہ جب گزر کرتے تو ہم میں سے بعض عورتوں اپنی

چادر ول (کنارول) کو سر پر چہرہ پرتانی میں (اس طرح سے کہ کپڑا چہرہ کوندے گے) اور جب

Umm al-Husayn reported: "I saw Usamah and Bilal - one holding the reins of the Prophet's (ﷺ) she-camel while the other held his garment to shade him from the heat until he stoned Jamrat al-Aqaba." [Narrated by Muslim]

3729

قافلگذر جاتے توپھرتم اپنے چہروں کو کول دیتے۔

اس کی روایت البوداوین کی بہاور ابن ماجہ نے جس طرح روایت کی ہے۔

Al-Bukhari and Ibn Majah narrated it as follows:

When the caravans passed, I would turn my face away.

3730

اور بخاری کی ایک روایت میں اس طرح ہے کہ احرام والی عورت اپنے چہرہ پر

نقاب نہ دالے۔

ف: واضح ہوکراحرام کی حالت میں مرد کے لئے یضروری ہے کہ وہ سر کھلا رکھ اور عورت کے

لئے یضروری ہے کہ وہ سر ظہا کے اور نہ صرف چہرہ کھلا رہے اگر عورت اس طرح چہرہ چھپائے کہ کپڑا

چہرہ کونے کے توجاہز واہسن ہے مرقات کیونکہ فی زمانےوار پول میں کئی مرداور عورتیں ایک ساتھ

آمنے ساتھ پیٹھ کر سفر کر رہے ہیں مطاف میں سے میں اور کل نج کے ارکان میں لوگوں کی کثرت کی

وجہ سے بہ پردگی سے پچانا نا ممکن ہے اس میں عورت کا عدیث ثریف کے حدود میں رکنر چہرہ چھپانا

لازمی ہے تاکہ شیطان کے شرے سے بردل محفوظ رہ سکیں۔

واللہ اعلم۔

Aisha (may Allah be pleased with her) reported: "Travelers would pass by us while we were in ihram with the Prophet (ﷺ). When they came parallel to us, we would lower our outer garments over our faces, and when they passed, we would uncover." [Narrated by Abu Dawud and Ibn Majah with similar meaning]

Bukhari's version adds: "A Muhrim woman should not wear a niqab."