یہ باب منی میں گیارہویں ذوالحج کو خطب دینے، ایام تشریق میں رمی کرنے اور طواف رخصت کے بیان میں ہے
ف: واضح ہو کہ مناسک مج جمن دونوں میں ادا کے جاتے ہیں ان کے لے علیہ علیہ نام
پیل - چنانچہ آٹھویں ذو الحج کو یوم الترویہ کیتے ہیں - لیعن غور و فکر کا دن، اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے حضرت
ابراہیم علیہ وسلم و علیہ الصلاۃ والسلام نے آٹھویں ذو الحج کی شب خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے
صاججزادے حضرت اسمعیل علیہ الصلاۃ والسلام کو زنگ فرار کے پیل تو آپ نے اس دن کواس غور و فکر
میں گزر اراکہ کیا پیرخواب اللہ تعالی کی طرف سے ہے؟ اس لے آٹھویں ذو الحج کو یوم الترویہ کیتے ہیں -
(2) نویں ذو الحج کو یوم عرف کیتے ہیں - اس لے کہ نویں کی شب حضرت ابراہیم علیہ الصلاۃ
والسلام نے دوبارہ پیلی خواب دیکھا تو آپ کو یقین ہوگیا اور جان گئے کہ پیرخواب اللہ کی طرف سے
ہے - اس شناخت کی وجہ سے نویں ذو الحج کو یوم عرف کیا جاتا ہے -
(3) دسویں ذو الحج کو یوم آخر کیتے ہیں اس لے کہ اس دن حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے
صاججزادے قربانی کے لے پیش فرمادیا - لیکن اللہ تعالی نے اپنی طرف سے جنت کا ایک دنبہ بجا جس
کی آپ نے قربانی دی اس لے دسویں ذو الحج کو یوم آخر کیتے ہیں -
(4) گیارہویں ذو الحج کو یوم الرؤوس کیتے ہیں اس لے کہ اس دن جانچ قربانی کے ہوتے
جانورول کے سرول کو پکائے اور کھائے ہیں اور گیارہویں ذو الحج ایام تشریق کا پہلا دن ہے، اور اس
دن سے ایام تشریق کی ابتدا ہوتی ہے -
(5) بارہویں ذو الحج کو یوم الخف الاول کیتے ہیں، اس لے کہ جانچ کواس دن رمی جمار کے بعد
اگروہ پچھے تو میں سے روانہ ہوں کی اجازت ہے -
(6) تیرہویں ذو الحج کو یوم الغفر الثانی کے دو اوراس دون تجان کرام میں سے روانہ ہو جاتے ہیں - عمدۃ القاری، مخطوطہ الناقص 12
It is clear that the rites of both Hajj and Umrah are performed in their names.
1. The eighth of Dhu al-Hijjah is called the Day of Tarwiyah - meaning the day of contemplation and reflection. The reason for this name is that on the night of the eighth of Dhu al-Hijjah, Prophet Ibrahim (peace be upon him) saw in a dream that he was sacrificing his beloved son, Prophet Ismail (peace be upon him). On this day, he spent time in deep contemplation and reflection, wondering if the dream was from Allah, the Exalted. Therefore, the eighth of Dhu al-Hijjah is known as the Day of Tarwiyah.
2. The ninth of Dhu al-Hijjah is called the Day of Arafat - because on the night of the ninth, Prophet Ibrahim (peace be upon him) saw the same dream again, which confirmed to him that it was indeed from Allah. This recognition led to the ninth of Dhu al-Hijjah being known as the Day of Arafat.
3. The tenth of Dhu al-Hijjah is called the Day of Nahr - because on this day, Prophet Ibrahim (peace be upon him) prepared to sacrifice his son. However, Allah, the Exalted, sent a ram from Paradise to be sacrificed instead. Thus, the tenth of Dhu al-Hijjah is known as the Day of Nahr.
4. The eleventh of Dhu al-Hijjah is called the Day of Aruq - because on this day, the heads of the sacrificial animals are cooked and eaten. The eleventh of Dhu al-Hijjah is also the first day of the Days of Tashriq, marking the beginning of these days.
5. The twelfth of Dhu al-Hijjah is called the First Day of Khaf - because on this day, after the stoning of the pillars (Rami al-Jamarat), permission is granted to depart if one wishes to leave early.
On the thirteenth of Dhu al-Hijjah, they set out for the second Day of Forgiveness, and these two noble individuals proceed in two caravans - 'Amdah al-Qari, incomplete manuscript 12
وقول الله عزوجل فمن تعجل في يومين فلا اثم عليه ومن تاخر فلا اثم عليه لمن اتقي اورالل تعالي كا ارشاد سور بقر ع ايت نمبر مي اور جو شخص مني مي دوران لحين يار وي اور بار وي ذو الحج كو ك كر يا مار كر ك معظم كي وا س مي جلدي كر ك تو اس ر كويي نا ن ي اس لي ك ك معظم وا س ونا جايز اور جو شخص مني مي قيام كي مدت مي تا خير كر د تو و تير وي ذو الحج كو ك كر يا مار ك اور ك معظم وا س و تو اس ر كويي نا ن ي ي بات مي اس شخص ك لي ي جو خدا ك دور اور خداست نذر ن وال كو تو نا اور ثواب س كويي غرض ن ي
گیارہویں ذو الحج کو خطبہ دینے کا بیان
The statement regarding the sermon delivered on the eleventh day of Dhu al-Hijjah
سنن اء بنت نجمان رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے تم کو (تجہ الوداع کے موقع پر )یوم الرووس لحین گیارہویں ذو الحج کے دن خطبہ
ارشاد فرما یا (دوران خطبہ میں )حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیغمبریافت فرما یا کونسا دن ہے؟ تو
تم نے عرض کیا: اللہ اوراس کے رسول مہتر جانتے ہیں، آپ نے پھر ارشاد فرما یا کیے لحین گیارہویں
ذوالحج ایام تشریق میں سب سے زیادہ فضیلت والا دن نہیں ہے؟ اس کی روایت ابوداود نے سندر
حسن کے ساتھ کی ہے۔ اور مجمع الزوائد نے کہا ہے کہ اس حدیث کے سب راوی ثقة ہیں۔
ف: واضح ہو کر چ کے موقع پر احتاف کے پاس تین خطبے ہیں - پہلا خطبہ ساتویں ذو الحج کے
دن، دومرا خطبہ عرفات میں نویں ذو الحج کو جس میں وقوف عرفات، رمی، قربانی، حلق اور طوافِ زیارت
کے احکام بیان کے جاتے ہیں اور تیسرا خطبہ منی میں گیارہویں ذو الحج کے دن - امام شافعی رحم اللہ کا
ذہب یہی ہے۔ مگران کے پاس ان تین خطبوں کے علاوہ چوتھا خطبہ یہی ہے اور یہ منی میں دسویں
زوالحجویاجاتاہے۔عمدة القاری۔12
گیارہ،بارہاورتیرہویںزوارحجبکےدنولمیںرمیکےاوپات
Sarra' bint Nabhan reported: "The Prophet (ﷺ) addressed us on the Day of Sacrifice saying: 'Do you know what day this is?' We said: 'Allah and His Messenger know best.' He said: 'Is it not the middle of the Days of Tashreeq?'" [Narrated by Abu Dawud with a Hasan chain]
د ریافت کیا کر (گیارہاوربارہزوارحجبجرات پر) میں کرب کنگریالمارول؟ تو آپ نے جواب دیا
کہ تمہارا امام (یعنی جعفر صادق علیہ السلام) زیادہ مسائل سے واقف نہیں ) جب رمی کرتے تو تم اس وقت رمی کرو
(راوی کا بیان ہے کہ مجھے تشنگی نہیں ہوتی) میں نے دوبارہ اس مسئلے کو دریافت کیا تو حضرت ابن عمر
نے فرما کر (گیارہاوربارہزوارحجب) تم رمی کے لئے (سورج کے ظہرنما) انظار کرتے پس
جب سورج ظہل جاتا ہے تو تم (ان دونوں تینوں جمرات پر) رمی کرتے۔ اس کی روایت بخاری نے
کی ہے۔
Wabarah reported: "I asked Ibn Umar when to stone the pillars. He said: 'When your leader stones, then stone.' I repeated the question, and he said: 'We used to watch - when the sun passed the zenith, we would stone.'" [Narrated by Bukhari]
In Al-Bayhaqi's version from Ibn Abbas: "When the day has advanced on the Day of Departure, stoning and departing become permissible."
اوربھی کی ایک روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہما اس طرح مروی ہے
کہ یوم العفر الثانی لیعنی تیرہویں زوالحجب جب سورج بلند ہوجائے تو (قبلی زوال) رمی کرنا درست
ہے اور رمی کے بعد واپس بھی ہوسکتا ہے۔
گیارہاوربارہزوارحجب کنگریالمارنے کی ترتیب اور تفصیل
Wabarah reported: "I asked Ibn Umar when to stone the pillars. He said: 'When your leader stones, then stone.' I repeated the question, and he said: 'We used to watch - when the sun passed the zenith, we would stone.'" [Narrated by Bukhari]
In Al-Bayhaqi's version from Ibn Abbas: "When the day has advanced on the Day of Departure, stoning and departing become permissible."
سالم رحمہ اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے پین کر حضرت ابن عمر
(گیارہاوربارہزوارحجب کے دن مسجد خیف سے) قریبی جمرے (یعنی جمرة اولی) پرسات کنگریال
مارتے اور ہر کنگری کے مارنے کے بعد اللہ اکبر فرما تے پھر پھڑ آگے برہتے اور زرم زم پڑپڑو پھڑ کر
دیر تک قبلہ رو کھڑے ہوتے اور (آٹی دی) دعا ملتے (کہ جتنی دیر میں سورۃ بقرہ پڑھی جائے) اور
(دعا میں) دونوں بازوں کو اٹھاتے، پھر جمرہ وسطی پر تشریف لاکرسات کنگریالمارتے اور ہر کنگری
کے پیچلے وقت اللہ اکبر فرما تے، پھر بازوں جانب برہتے اور زرم زم پڑپڑو پھڑ کر قبلہ رو کھڑے
ہوتے اور دونوں باہوں کو اٹھا کر دعا کرتے اور دعا کے درجے کے رتے - پڑے جمعہ
زات العقبہ پر (جس کو جمعہ کبری کہتے ہیں) نال میں کھڑے ہو کر سات کھڑے یاں مارتے
اور ہر کھڑے پر اللہ اکبر فرماتے (چونکہ اس کے بعد رمی نہیں ہے اس لے) یہاں نہ تو ظہر ہے
(اور نہ دعا کے ماگے) پڑو بال تے واپس ہو جاتے - (راوی کا بیان ہے کہ) حضرت ابن عمر
رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسا ہی کرتے دیکھا
ہے - اس کی روایت بخاری نے کی ہے -
منی کے قیام کے دونوں میں منی، یعنی رات گزرنا مسنون ہے
Salim reported from his father (Ibn Umar) that he would stone the nearest pillar with seven pebbles, saying Allahu Akbar after each, then move forward to an open area, face the Qiblah, stand for a long time raising his hands in supplication. Then he would stone the middle pillar similarly, then take the left path to stone the last pillar from the valley bottom without stopping there. Then he would depart saying: "This is how I saw the Prophet (ﷺ) do it." [Narrated by Bukhari]
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے رایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت عباس بن
عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بات کی درخواست کی کہ منی
کے قیام کے دوران ایکسیر راتول کو کہ معظّم میں قیام کی اجازت دی جائے تاکہ وہ لوگوں کو زمزم
پلا سکیں تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کو اجازت دی ہے
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے -
Ibn Umar (may Allah be pleased with him) reported that Al-Abbas sought permission from the Prophet (ﷺ) to stay overnight in Makkah during the nights of Mina due to his duty of providing water, and he permitted him. [Agreed upon]
In Ibn Abi Shaybah's version: He disliked anyone staying overnight in Makkah during the Days of Mina.
اور ابن ابی شیبہ کی روایت میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ اس طرح مردی ہے
کہ وہ اس بات کو کروہی کیے تھے کوئی شخص منی کے قیام کے دونوں میں کہ معظّم میں رات گزر اے -
ف: صاحب رداختار نے لباب کے حوالے سے کہاہے کہ حاجی رمی جمار کے دونوں میں رمی کے
لے منی میں رات گذر اے اور یہ مسنون ہے اور اگر منی میں شب نگزار سکتو یکروہے اور اس پر
کوئی کفارہ نہیں لا زم نہیں آتا
عذر کی بناء پر رمی جمار میں تقسیم یا تاخیر کا بیان
he considered it disliked for someone to stay overnight in Mina during both stands, meaning after the night of the greatest day has passed. It was reported by the Master of Acceptance from Lubb that the pilgrim should perform the stoning of the pillars at both times, and staying overnight in Mina is recommended. If one stays overnight in Mina, there is no sin, and no expiation is required. It is permissible to divide or delay the stoning of the pillars due to necessity.
ابوالبراح بن عاصم بن عدی اپنے والد عاصم بن عدی رحمہ اللہ سے روایت
کر تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اونٹ پڑا نے والوں کو اجازت دی تھی کہ
(اونٹوں کے گم ہوجانے کے اندیشے سے متنہی ہیں) رات نگزاری اوراس کی بھی اجازت دی تھی
کہ وہ قربانی کے دن (بجھڑہ عقبہ پر) کنگریال ماریں اورگیارہویں اوربارہویں ذو الحجہ کے کنگریال
مارنے کو کسی ایک دن میں جمع کر لین لیجن گیارہ ذو الحج کو گیارہ اوربارہ کی ایک ساتھ کنگریال ماریں یا
پھر بارہ ذو الحج کو گیارہ کی فوت شدہ کنگریال اوربارہ کی ایک ساتھ کنگریال ماریں، اس کی روایت امام
مالك، ترمذی اورنسائی نے کی ہے اورترمزی نے کہہا کہ یہ حدیث گھے۔
ف: واضح ہو کہ حدیث شریف میں اونٹوں کے چڑانے والوں کے لے رہی جمار میں تقسیم یا
تاخر کی جوازت ہے وہ مال کے ضائع ہونے کے اندیشے سے اس لے اگر کوئی بلا عذر رہی جمار
میں تقسیم یا تاخیر کرے تو اس پر دم واجب ہو گا جسیا کہ امام اعظم رحم اللہ کا قول ہے۔
Abu'l-Badda' bin Asim bin Adiyy reported from his father that the Prophet (ﷺ) permitted camel herders to combine two days' stoning on one day. [Narrated by Malik, Tirmidhi and Nasa'i]
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زمزم
کی سب سے پرشریف لاے اور زمزم طلب فرماے تو حضرت عباس (اپنے صاحبزادے) فضل کے
فرما کے تم اپنی مال کے پاس جاو اور ان کے پاس سے حضور کے پینے کے لے (صاف) پانی لے آو
(پیس کر) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مجھے پی زمزم پلاو تو حضرت عباس نے فرمایا رسول
اللہ! لوگ اس میں باتھوں ال دیتے ہیں اس پر مجھی حضور نے پھر فرمایا مجھے پی زمزم پلاو (تو آپ کو
زمزم پیش کیا گیا آپ نے اس کو پی لیا پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زمزم کے کنویں پرشریف
لاے، اس وقت لوگ (یعنی اولا عبدالمطلب) لوگوں کو زمزم پلا رہے تھے اوراس کام میں مشقت
اٹھارہ تھے حضور نے ان کو کیا کر فرماي تم اپنے کام میں مشغول رہو، تم اپنے نیک کام کر رہے ہو
پھر ارشاد فرمایا کہ اگر مجھے اس بات کا خوف نہ ہوتا کہ میرے ہاتھوں لگے تو لوگ لوٹ پٹیں گے
(اور پانی پلانا تمہارے لے مشکل ہو جائے گا) تو میں (اونٹی پر سے) اترتا اور ری کوندے ہے پر کھتا
(اور پانی کھینچتا اور تمہارے اس نیک کام شریک ہوتا)۔ اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
منٹی سے واپس میں مقام محضب میں ظہر نماز نون ہے
پہلی حدیث
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (ﷺ) came to the watering place and asked for water. Al-Abbas said: "O Fadl, go to your mother and bring drink for the Messenger of Allah (ﷺ)." The Prophet (ﷺ) said: "Give me to drink." He said: "O Messenger of Allah, people put their hands in it." He said: "Give me to drink," and drank from it. Then he came to Zamzam where people were drawing water and working, and said: "Keep working, for you are doing good work. Were it not that you might be overwhelmed, I would have taken the rope and placed it here" - pointing to his shoulder. [Narrated by Bukhari]
_ اس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (جہتے
الوداع کے موقع پر منی سے کلمہ کر مہ) واپس ہوتے وقت (مقام محضب میں ظہر کر) نماز ظہر، عصر،
مغرب اور عشاء (اپنے وقت پر آئی مقام میں) ادا فرما یے اور میں محضب میں پچھدی آرام
فرما یے۔ پھر (اونٹی پر) سوار ہو کر کہ معظّم پیو پچھ کر طواف وداع فرما یے۔
اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
دوسری حدیث
Anas (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (ﷺ) prayed Dhuhr, Asr, Maghrib and Isha at Al-Muhassab, rested briefly, then rode to the Kaaba and performed Tawaf. [Narrated by Bukhari]
_ البہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرما یے میں کہ (تم جہتے الوداع کے
موقع پر) منی میں تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (منی سے کلمہ کر مہ واپس ہوتے وقت)
تم سے ارشاد فرما یا کہ تم کل خیف بن کانہ لیتن محضب میں قیام کریں گے (اور پوچھی مقام پر)
جوہال مشرکین نے اپنے کفر پرتعمیں کہا کیا تحسین جس کی تفصیل پیہ کر قریش اور بنو کنانہ نے بنو
باشم اور بنوالمطلب کے خلاف با تم عهد کیا تھا کہ پیوگ ان نے (لیتن بنو باشم اور بنوالمطلب سے) نے
تو شادی پیا کریں گے اور نہ خرید وفر وخت کریں گے جب تک کہ پیرسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو
مقام محضب میں ان کے حوالہ نہ کردیں (اور پیراللہ تعالی کی شان سے کہ اس مقام پر حضرت صلی اللہ علیہ
و آلہ وسلم جہتے الوداع کے موقع پرفتحان قیام فرما یے ہیں)۔ اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم
نے مستقیم طور پر کی ہے۔
ف : صاحب فتح القدیر نے کہا ہے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جگہ الوداع کے موقع پر مناسک نج سے فراخت کے بعد منی سے کہ معظّم کو جائے ہوئے بالا رادہ مقام محضب قیام فرمایا۔ اس کی وجہ یہی مشہورین کہ نے اس مقام میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حوالہ کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور بنو باشم اور بنو المطلب سے اس وجہ سے مقاطعہ کیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی آرزو کو خاک میں ملا دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فتح میں عطا فرماگئے۔ اس شکر انہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس مقام محضب میں اپنے اس مبارک سفر کے اختتام کے موقع پر یہاں قیام فرمایا اور چارون نمازیں یہاں ادا فرما گئیں اور محضب میں قیام کی مثل ایسی ہے جیسے طواف قدوم میں رتل کیا جاتا ہے جس سے مقصد و غرض پر اسلام کے غلبہ کا ظہار تھا اور عمل آرج بھی مسنون ہے۔ اس لے محضب میں قیام جائز کرام کے لے امام عظیم رحمہ اللہ کے پاس مسنون ہے۔12
پہلی حدیث
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) reported that while at Mina, the Prophet (ﷺ) told them: "Tomorrow we will stop at Khayf Bani Kinanah where they swore allegiance to disbelief" - referring to when Quraysh and Kinanah allied against Banu Hashim and Banu Al-Muttalib to boycott them until they surrendered the Prophet (ﷺ), meaning Al-Muhassab. [Agreed upon]
نافع رحمہ اللہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں حضرت ابن عمر (مناسک نج سے فارغ ہوئے کے بعد منی سے کہ معظّم کو واپسی کے وقت) مقام محضب میں تطہیر کے کوسنت قرار دیتے تھا اور منی سے روانہ کے دون محضب میں نماز ظہر ادا فرما تے تھے۔ نافع فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اورآپ کے بعد خلفاء راشدین نے (منی سے واپسی کے وقت) مقام محضب میں قیام فرما یہ۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
دوسری حدیث
Nafi' reported that Ibn Umar considered stopping at Al-Muhassab Sunnah and would pray Dhuhr there on the Day of Departure. Nafi' said: "The Messenger of Allah (ﷺ) and the Caliphs after him stopped there." [Narrated by Muslim]
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت سے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کہتے (منی سے واپسی کے وقت) ابطح لیجنی مقام محضب میں
قیام فرما کر تے تھے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
طواف و داع و اجب ہوئے کا ثبوت
Ibn Umar (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (ﷺ), Abu Bakr and Umar used to stay at Al-Abtah. [Narrated by Muslim]
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ لوگ مناسک مج
سے فارغ ہوئے کے بعد میں سے طواف و داع کے بغیر (اپنے پنگھروں کو واپس ہوجاتے تھے تو
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم نے ارشاد فرمايتم میں سے کوئی شخص (جو کہ کا باشندہ نہ تھا) اس وقت
تک برگز واپس نہ ہو جب تک کروہ بیت اللہ سے اپنے آخری عہد کو پورا نہ کر لیجن طواف و داع
نا کر لے۔ البتہ حیض (یانفاس) والی عورت کے لیے (جتنی طواف و داع) معاف کر دیا گیا ہے۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔
ف: صاحب فتح القدیر نے لکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لا
ینفرن احدکم (یعنی تم میں سے برگز کوئی طواف و داع کے بغیر نہ تک) اس لفظ کو نہ تاکید سے
موکد فرمايے۔ جس سے طواف و داع کا وجوب ثابت ہوتا ہے اور عناوی میں لکھا ہے کہ طواف ہرا فاقی
(یعنی غیر کی) پر واجب ہے واجب نواہ وہ مفرد ہو (متجہ ہو یا قارن اور طواف و داع ترک کر دے تو
قرابل واجب ہوگی اور یہی نہ جب حتی ہے۔ 12
حیض یانفاس والی عورتوں کے لیے طواف و داع معاف ہے
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) reported: "People used to depart in all directions, so the Prophet (ﷺ) said: 'No one should depart until his last act is at the House,' except that he exempted menstruating women." [Agreed upon]
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ ام
المؤمنین حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو (چچی الوداع کے موقع پر میں سے واپسی کے وقت) رات میں
حیض آگیا (جب کرام المؤمنین حضرت صفیہ نے طواف و داع نہیں کیا تھا اس لیے آپ نے حضرت
صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم سے) عرض کیا میرا الیا خیال ہے کہ میری وجہ سے آپ حضرات رک جائیں
گے (اس لیے کہ میرا طواف و داع باقی ہے اور مجھے حیض آگیا ہے پیس کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآ لہ وسلم نے ارشاد فرمایا خدا تمہارا بجل کرے کیا انحول نے وسوی زواجہ کو طواف زیارة (جو فرض
اداکر لیے تو عرض کیا گیا پال! تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا (طواف زیارت
اداکر نے تمہارانچ پورا ہوگیا اور طواف وداع حاضم کے لئے معاف ہے۔ اس لئے) مذہب منورہ
کے لئے روانہ ہو جائے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفرق طور پر لی ہے۔
ف: اس حدیث سے ثابت ہوا کہ طواف وداع، حیض یا نفاس والی عورت کے لئے معاف
ہے، البتہ طواف زیارت جوفرض ہے اس کی ادائیگی کے بغیر حیض یا نفاس والی عورت وطن واپس نہیں
ہوسکتی۔12
طواف عمرہ کے پچھرول میں اگر رمل کر لیا ہو تو طواف زیارت میں رمل کی ضرورت نہیں
Aisha (may Allah be pleased with her) reported: "Safiyyah menstruated on the night of departure and said, 'I think I will detain you.' The Prophet (ﷺ) asked, 'Did she perform Tawaf on the Day of Sacrifice?' They said yes. He said, 'Then depart.'" [Agreed upon]
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نے طواف زیارت کے ساتون پچھرول میں سے کسی میں رمل نہیں فرمایا (اس لئے کہ آپ نے جتنے
الوداع کے موقع پر طواف عمرہ میں رمل فرمالیا تھا)۔ اس کی روایت ابوداوداور ابن ماجہ نے لی ہے۔
ایا طواف جس کے بعد سے ہو، اس میں رمل مسنون ہے
ف: واضح ہو کر رمل اس طواف میں مسنون ہے۔ جس کے بعد سے ہو۔ اس لئے اگر کسی ایک
طواف میں جس کے بعد سے ہو، رمل کر لیا گیا ہو تو سنت کی ادائیگی ہو جائے گی۔ طواف زیارت میں دوبارہ
رمل کی ضرورت نہیں۔ اس وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طواف زیارت کے پچھرول میں
رمل نہیں فرمایا کیونکہ آپ نے طواف عمرہ کے پچھرول میں رمل فرمالیا تھا۔
درختار، رواختار، فتح القدیر۔12
رمی، قربانی اور حلق کے بعد سوا یے پیوی سے محبت کے احرام کی پابندیاں اٹھ جائیں گیں
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (ﷺ) did not perform Ramal (brisk walking) in the seven circuits of Tawaf al-Ifada. [Narrated by Abu Dawud and Ibn Majah]
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرمائیں کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جب تم نے رمی کر لیا اور (قربانی کے بعد) سر مونڈا
لیا تو تم پر پیوپول کے سوا خوشبو لگانا اور کپڑے پہننا جائز ہے، مگر پیوپول کے ساتھ محبت نہیں کر سکتے
( البتطواف زیارت کے بعد عورتیں بھی حلال ہوجاتی ہیں -
اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے اور دار قطنی نے بھی اس طرح روایت کی ہے -
سرمونٹ حا نے کے بعد، ی احرام کی پابندیا ل ختم ہوتی ہیں
ف : اس حدیث ثریف سے معلوم ہوا کہ صرف رمی کر لینے سے احرام کی پابندیا ل ختم نہیں
ہوتی بلکہ قربانی کے بعد سرمونٹ حا نے سے احرام کی پابندیا ل اٹھ جاتی ہیں سواے پیوی سے صحبت کے
جوطواف زیارت کے بعد جائز ہوجاتی ہے - رد المختار
Aisha (may Allah be pleased with her) reported that the Prophet (ﷺ) said: "When you have stoned and shaved, everything becomes permissible for you except women (intimacy)." [Narrated by At-Tahawi and similarly by Ad-Daraqutni]