Nūr al-Maṣābīḥ
بَابُ جَوَازِ التَّقْدِيمِ وَالتَّأخِيرِ فِي بَعْضِ أَمُورِ الْحَجِّ

واجبات نج میں تقدیم وتأخیر کے کفارہ کے ساتھ نج درست ہوجاتا ہے

Permissibility of Changing Order in Some Hajj Rituals
Volume 5 · Rites of Pilgrimage
3691

عبداللہ بن عمر ربن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت سے کر سول اللہ صلی اللہ علیہ

وآ لہ وسلم جنہاوداع کے موقع پر منی مین قیام فرما نے ہوئے تو اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ نے

نج کے مسائل دریافت کر رہے تھے۔ چنانچہ ایک صحابی آپ پکی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کے یا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم میں نے لا منی مین قرآنی سے پہلے سر مونڈ حالیا ہے تو حضور نے ارشاد

فرما یا بتم قرآنی دے دو، تمہار نے نج میں کونی خرابی نہیں ہوگی (البتہ تاخیر کی وجہ سے کفارہ میں

ایک اور قرآنی دے دو) ایک اور صحابی نے عرض کیا (یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم) میں نے لا منی سے ری نے

پہلے قرآنی کر دی ہے آپ نے ارشاد فرما یا (اب ری کر لو، تمہار نے نج میں کونی خرابی نہیں ہوگی (البتہ

تاخر سے ری کر نے کے کفارہ میں قرآنی دے دو) بہرحال (واجبات نج میں) تقدیم وتأخیر کے

جتنے سوالات حضور سے کہ گئے ان کے جواب میں حضور صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم نے ارشاد فرما یا (جس

کام میں تاخیر ہوگی ہو) اس کو اب ادا کر لو (اور اس کا کفارہ دے دو) تمہارا نج باطل نہیں ہوگا۔

اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔

Abdullah bin Amr bin Al-As (may Allah be pleased with him) reported that during the Farewell Pilgrimage, the Prophet (ﷺ) stopped at Mina while people were asking him questions. A man came and said, "I didn't realize and shaved before slaughtering." The Prophet (ﷺ) said: "Slaughter now, no harm done." Another came and said, "I didn't realize and slaughtered before stoning." He said: "Stone now, no harm done." The Prophet (ﷺ) was not asked about anything done out of order except that he said: "Do it, no harm done." [Agreed upon]

In Muslim's version: A man came and said, "I shaved before stoning." He said: "Stone now, no harm done." Another came and said, "I performed Tawaf before stoning." He said: "Stone now, no harm done."

3692

اور مسلم کی ایک روایت میں اس طرح مرودی کے حضور صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم

کی خدمت اقدس میں ایک صحابی حاضر ہو کر عرض کے کہ میں نے ری نے پہلے سر مونڈ حالیا ہے تو

حضر صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم نے ارشاد فرما یا ب ری کر لو تم پر کونی گناہ نہیں (البتہ تاخیر کے کفارہ میں

قربانی دے دو) ایک اور صحابی حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میں نے رہی سے پہلے طواف زیارت کر لیا

ہے۔ آپ نے فرمایا اب رہی کر لو، تم پر کوئی گناہ نہیں (البتہ تم کفارہ میں قربانی دے دو)۔

مناسک میں تقدیم و تأخیر سے قربانی واجب ہوتی ہے

پہلی حدیث

Ali (may Allah be pleased with him) reported that a man came to the Prophet (ﷺ) and said, "O Messenger of Allah, I performed Tawaf before shaving." He said: "Shave or shorten, no harm done." Another came and said, "I slaughtered before stoning." He said: "Stone now, no harm done." [Narrated by Tirmidhi]

3693

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جو شخص مناسک میں کی

ادا کی میں تقدیم و تاخیر کر دے تو وہ (اس تقدیم و تاخیر کے کفارہ میں) قربانی دیے۔ اس کی روایت

ابن ابی شیبہ اور طحاوی نے کی ہے اور امام محمد نے اس کی روایت امام ما لک سے کی ہے۔ اس حدیث

کی سنہ میں ابراہیم ابن مہاجر بھی اور پیغمبر کے راوی ہیں اور کتاب الکمال میں کہا ہے کہ بخاری

کے سوا محمد شین کی ایک برطی جماعت نے ان سے روایت کی ہے۔ چنانچہ ان سے روایت کرنے

والوں میں ثوری، شعبہ بن الحجاج عمروش اور دوسسرے محمد شین ہیں۔

Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) said: "Whoever changes the order of his Hajj rituals should offer a blood sacrifice." [Narrated by Ibn Abi Shaybah, As-Sahawi, and Muhammad from Malik]

3694

اور امام طحاوی نے اس کو ایک اور طریق سے روایت کیا ہے جس کی سنہ میں کسی

کو کلام نہیں ہے۔

مناسک میں کوئی ترتیب سے ادا کرنا کچھ واجب ہے

ف: واضح ہو کہ یوم آخر میں دسویں ذو الحجہ کے دن حج کو چار افعال انجام دینے ہیں۔

(1) رہی جمعۃ عقبہ (2) قربانی (3) حلق (4) طوافِ زیارت۔

پہلے تینوں افعال واجبات میں اور ان کو ایک ترتیب سے ادا کرنا کچھ واجب ہے۔ امام

ما لک اور امام اعظم رحمہما اللہ کہہ بہا اور اگر ان تینوں افعال کی ادائیگی میں تقدیم و تاخیر ہو جائے

تو کفارہ میں قربانی لازم آئے گی جب کہ حاجی قرآن یامتی کی نیت سے نہ ادا کر رہا ہو جسیا کہ صدر کی

حدیث جواب ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مردی ہے ثابت ہوتاہے البتہ اگر حاجی مفرد ہوتا اس پر ترتیب

صرف رہی جمارا و حلق میں لازم ہے، اس لے کراس قربانی واجب نہیں۔ اب رہا طواف زیارت

پھر کہ بیفرض ہے اوراس کا وقت دسویں ذو الحجہ سے بارہ ذو الحجہ تک ہے اس عرصہ میں کسی وقت بھی ادا کریں تو اداہو جاتا ہے۔ اس کے برخلاف امام شافعی اور امام احمد رحمهما اللہ کے پاس ان افعال میں ترتیب سنت ہے واجب نہیں، اس لئے ان میں اگر تاخیر یا تقدیم ہو جائے تو بخیر کفارہ کے بھی ان حضرات کے پاس نہ اداہو جاتے گا۔12

Imam Tahawi has narrated this through another route, in whose chain there is no issue. In the rituals, performing certain actions in order is obligatory. It is clear that on the Day of Arafat, which is the 9th of Dhu al-Hijjah, four actions must be performed during Hajj: (1) Rami al-Jamarat (stoning the pillars), (2) Sacrifice, (3) Shaving or cutting the hair, (4) Tawaf al-Ziyarah (circumambulation of the Kaaba for visitation). The first three actions are obligatory, and performing them in a specific order is also obligatory. According to Imam Malik and Imam Abu Hanifa (may Allah have mercy on them), if there is any delay or advance in performing these three actions, a penalty in the form of a sacrifice becomes necessary, even if the pilgrim is not performing Hajj Tamattu' (combined Hajj and Umrah). This is evident from the hadith reported by Ibn Abbas (RA) in response to a question. However, if the pilgrim is performing Hajj Ifrad (Hajj alone), then the order is only necessary for stoning the pillars and shaving or cutting the hair, and sacrifice is not obligatory. As for Tawaf al-Ziyarah, it is a condition and its time extends from the 9th of Dhu al-Hijjah to the 12th of Dhu al-Hijjah. It can be performed at any time within this period. On the contrary, according to Imam Shafi'i and Imam Ahmad (may Allah have mercy on them), the order of these actions is not obligatory, so if there is any delay or advance, no penalty is required.

دوسری حدیث
3695

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ دسویں ذو الحجہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منی میں قیام فرما گے ہوئے تھے اور صحابہ کرام (آپ سے مناسک میں بھول چکے اور لا علمی کی وجہ سے تقدیم و تاخیر کے بارے میں مسائل) دریافت کر رہے تھے تو آپ ارشاد فرما رہے تھے (بھول چکے اور افعال میں کی تقدیم و تاخیر میں) کوئی گناہ نہیں ہوتا (البتہ تقدیم و تاخیر کی وجہ سے قربانی لازم آنے گی) چنانچہ ایک صحابی نے دریافت کیا کہ میں نے (آج دسویں ذو الحجہ کو) شام ہونے کے بعد میں کی ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرما ئتم پر کوئی گناہ نہیں۔ اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔ ف: واضح ہو کہ قیام منی میں رہی کے چار دن میں: ایک دوم آخر لیجن دسویں ذو الحجہ اور ایام تشریق کے تین دن لیجن گیارہ، بارہ اور تیرہ ذو الحجہ۔ پہلے دن لیجن دسویں ذو الحجہ کو رہی کا مستحب وقت طلوع آفتاب کے بعد سے زوال آفتاب تک ہے اور زوال کے بعد گیارہ کی صبح صادق کے پہلے تک کراہت کے ساتھ رہی جائزہے اور کوئی کفارہ لا زم نہیں آنے گا اگر گیارہ ذو الحجہ کی صبح صادق ہو جائے تو رہی کرنے کے بعد تاخیر کی وجہ سے قربانی لازم ہوگی اور ایام تشریق لیجن گیارہ، بارہ اور تیرہ کو رہی کا مستحب وقت زوال آفتاب کے بعد غروب آفتاب تک ہے اور غروب آفتاب سے دوسرے دن کی صبح صادق کے پہلے تک کچھ رہی کر سکتا ہے اگر اسی کرنا کرو ہے اور اگر دوسرے دن کی صبح صادق طلوع ہو جائے تو فوت شدہ رہی کرنے کے بعد تاخیر کی وجہ سے قربانی دینا لازم ہوگا اور اگر

تیرہویں زواج کے دون سورنہ ذوب جا کے تو رہی جمار کے ادااور قضا و نول کا وقت ختم ہو جا کے گاسے ایک واجب ترک ہو جا تا ہے اس لے حا بی رہی جمار کے اوقات کا بہت خیال رکھ مرق اتو ر

بڑلا تجو د 12

Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (ﷺ) was asked questions on the Day of Sacrifice at Mina and kept saying "No harm." A man said, "I shaved before slaughtering." He said: "Slaughter now, no harm." Another said, "I stoned after evening." He said: "No harm." [Narrated by Bukhari]

تیسری حدیث
3696

امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ تے روایت ہے آپ نے فرمایا کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ میں نے طواف افاضہ (یعنی فرض طواف جو ایام نحر لیعنی دس سے بارہ زوالج کے درمیان کیا جاتا ہے) سے مونڈ ہا نے پیل کر لیا ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم اب سر مونڈ حالو، یا بال کتر والو (اس تقدیم وتاخیر سے) گناہ نہ ہو گا۔

پھر ایک اور شخص حاضر خدمت ہوا، اور عرض کیا کہ میں نے رہی جمار تے پیل قربانی دے دی ہے تو آپ نے ارشاد فرمایا، اب تم کنگریال مارو، اور اس تقزیم وتاخیر سے کولی گناہ نہیں (اگر حا می مفرد ہے تو اس پر کولی فریضہ نہیں۔ البتہ حا بی اگر قارن یا متمتع ہے تو اس پر کفارہ لیعنی قربانی لازم ہو گی)۔ اس حدیث کی روایت ترنزی نے کی ہے۔

Ali (may Allah be pleased with him) reported that a man came to the Prophet (ﷺ) and said, "O Messenger of Allah, I performed Tawaf before shaving." He said: "Shave or shorten, no harm done." Another came and said, "I slaughtered before stoning." He said: "Stone now, no harm done." [Narrated by Tirmidhi]

چوتھی حدیث
3697

اسامہ بن ثریک رضی اللہ عنہ تے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں (جبہہ الوداع کے موقع پر ہیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا (میں ویجا کہ) لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے (اور مج کے مسائل وریافت کرتے) بعض پر ریافت کرتے کر یا رسول اللہ! میں نے طواف سے پیل سے کر لی ہے (اور بعض پر عرض کرتے کر) میں نے (سہواً افعال جو کی ادائی میں) تقزیم کردی ہے (یعنی پیل اکر دیا ہے اور بعض کچھ کر) میں نے تاخیر کردی ہے

(ان کے جواب میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما تے (افعالیں کی سہواً تقذیم وتأخیر

سے) کوئی گناہ نہیں (کفارہ کے ساتھ نہ ادا کی جاتا ہے) البتہ گنہگار تو وہ شخص ہے جو ظالم ہو، اور گسی

مسلمان کی (ناحق توہین یا غیبت کر کے) عزت رپیزی کرے، ایسا شخص حقیقت میں گنہگار ہے

اور (گناہول کی وجہ سے) بلکہ ہو نے والا ہے اس کی روایت ابوداود نے کی ہے۔

طوفہ سے پہلے اگر سعی کر لی تو سعی کولو طا ضروری ہے

ف: وا ضع بھوکر طواف کے بعد سعی کرنارہ کے واجبات میں سے، اگر کوئی شخص سعی ترک کر دے

تو ترک واجب کی وجہ سے اس پر کفارہ میں قربانی لا زم ہو گی اور قربانی دینے کے بعد اس کا نج پورا ہو

جا یے گا، اور اگر کوئی شخص طواف سے پہلے سعی کر لے تو اس کو چاہے کہ طواف کے بعد پھر سے کا عادہ کر

لے، اس لئے کہ سعی تائی طواف سے اور طواف کے بعد سعی کر لینے سے اس کے ذمہ کوئی کفارہ نہیں

ہو گا اور اس کا نج پورا ہو جا یے گا۔ درختار، رد المختار، عالمگیری

Usama bin Shareek (may Allah be pleased with him) reported: "I went for Hajj with the Messenger of Allah (ﷺ). People would come to him asking - if someone said 'O Messenger of Allah, I did Sa'i before Tawaf' or changed the order of rituals, he would say: 'No harm except for a man who wrongfully takes a Muslim's honor - that is the one who is harmed and ruined.'" [Narrated by Abu Dawud]