Nūr al-Maṣābīḥ
بَابُ الْحَلْقِ

Shaving the Head
Volume 5 · Rites of Pilgrimage
About this text. The Urdu here was machine-read (OCR) from the printed volumes and has not yet been proofread: it contains misread words, some of which change the meaning. Please check the printed Nūr al-Maṣābīḥ before quoting it. English beside a hadith is the scholarly Zujājah translation of the matching hadith; English commentary and chapter introductions are unreviewed machine translation.

(اس باب میں جیا عمرہ کے موقع پر احرام سے باہر آنے کے لئے سر منڈوانے کا بیان ہے)

Machine translation, unreviewed

This chapter contains the ruling regarding the shaving of the head as a means of exiting the state of ihram on the occasion of performing Hajj Tamattu‘.

وقول الله عزوجل لا تدخلن المسجد الحرام ان شاء الله امنين محلقين رءوسكم ومقصرين اور الل تعالي كا ارشاد سور فتح ع ايت نمبر مي تم ان شاء الل ضرور مسجد حرام مي داخل ون امن اور امان ك سات اس طرح ك عمر ك احرام س نكل ك لي تم مي س كويي سر من وا نا و ا اور كويي بال ك وا نا و ا

وقوله ثم ليقضوا تفثهم اور الل تعالي كا ارشاد سور فتح ع ايت نمبر مي جيا عمر ك موقع ر قرباني ك بعد ا كرا نا مي ل يل دور كري ليكن سر من وا نا كريا بال ك وا كر اور ناخن اور لب بنوا كر احرام ك ول دي جبيا ك تفسير خازن مي ذكور

احرام سے باہر آنے کے لئے سر منڈوا نا فضل ہے

پہلی حدیث

Machine translation, unreviewed

There is no merit in removing the head covering when coming out of Ihram.

The First Hadith

3682

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب الوداع کے موقع پر (احرام سے باہر آنے کے لئے) اپنا سر منڈوا نا اور کثر صحابہ رضی اللہ عنہم نے جبھی سر منڈوا نا اور بعض صحابہ نے بال کٹوا نا یا اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم میں متفرق طور پر ہے۔

دوسری حدیث

Ibn Umar (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) shaved his head during the Farewell Pilgrimage, while some of his companions shaved and others shortened their hair. [Agreed upon]

3683

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب الوداع کے موقع پر (سر منڈوا نے والون کے لئے) اس طرح دعا فرمائی اے اللہ سر منڈوا نے

والون پر رحم فرمایے! صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! بالکثر وانے والون کے لے بھی دعا فرمایے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر (بھی سر منڈھوا نے والون کے لے بھی) دعا فرمائی اے اللہ! سر منڈھوا نے والون پر رحم فرمایے! صحابہ نے پھر عرض کیا یا رسول اللہ! بالکثر وانے والون کے لے بھی دعا فرمایے تو حضور نے فرمایا (اے اللہ!) بالکثر وانے والون پر بھی (رحم فرمایے)- اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفرق طور پر کی ہے۔

تیسری حدیث
3684

کہاں کی دادی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جہیا الوداع کے موقع پر سر منڈھوا نے والون کے لے تین مرتبہ دعا فرما تے ہوئے اور بالکثر وانے والون کے لے ایک بار دعا فرما تے ہوئے سنگ کے موقع پراحرام تے باہرآ نے کے لے سر منڈھوا نا مسنون ہے۔

3685

الوداع کے موقع پر) منی تشریف لا ے اور جمعۃ عقبہ کے پاس پہو چے اور کلکریال ماریں، پھروپال سے منی میں اپنی قیام گاہ پر (جہال اب مسجد خیف ہے) تشریف لا ے اور اپنی قربانی کے جانورول کو ذبح فرمایا (نجمہ ایک سو کے 63، اونوول کو خود حضور نے اپنے دست مبارک سے ذبح فرمایا اور بقیہ کو حضرت علی نے حضور کی طرف سے ذبح فرمایا) پھر آپ علیہ السلام نے سر مونڈھنے والے کو بلايا اور اپنے سر مبارک کا اپنا جانب آ گے برہاياتواس نے اس کو مونڈھ دیا، تو آپ نے ابوطرہ انصاری رضی اللہ عنہ کو مونڈھنے ہوئے بال عطا فرما ے - پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر مبارک کے باقی حصے کو آگے کیا اور فرمایا اس کو بھی مونڈھ دو تو اس نے باپان حضرت مونڈھ دیا اور ان مبارک بالون کو بھی

آپ نے ابطنے انصاری کو دے دیا اور ارشاد فرما یا کہ ان بالون کولوگول میں تقسیم کروو (تاکروہ بطور تبرک رکھیں)۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔ آثار مبارک کو بطور تبرک رکھنا کا ثبوت ف : شاہ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ نے اشعۃ اللمعات میں کہا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے مبارک بالون کے ساتھ ساتھ ناخ مبارک کو بھی تر شوا کر حاضرین میں تقسیم فرما دیا، تاکہ برکات امت میں باقی رہیں۔ چنانچہ آج تک پیا آثار مبارک باقی ہیں جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وجود مبارک کی یاد تازہ کرتے ہیں۔12 احرام باندھنے سے پہلے اور حل ق کے بعد خوشبو لگانا مسنون ہے۔

Anas (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (ﷺ) came to Mina, stoned the Jamrah, went to his residence, sacrificed his animal, then asked for a razor. He gave the right side of his head to the barber to shave, then called Abu Talha al-Ansari and gave him the hair. He then offered the left side and said, "Shave," and gave that hair to Abu Talha, saying, "Distribute it among the people." [Agreed upon]

3686

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے (جسم الطہر پر جیا عورہ کے) احرام باندھنے سے پہلے اور (اس طرح) دسویں زوال حجرے کے دن (حلق کے بعد جب آپ احرام کول دیتے) بیت اللہ تشریف کے طواف (زیارت) سے پہلے ایسی خوشبو لگا کر تی تھی جس میں مشک ہوتا تھا۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔ احرام کول کے بعد طواف زیارت سے پہلے سواے عورتوں کے بھرپیڑ علا لہوجاتی ہے۔

Aisha (may Allah be pleased with her) said, "I would perfume the Messenger of Allah (ﷺ) before he entered ihram and on the Day of Sacrifice before he performed Tawaf around the House, using musk-based perfume." [Agreed upon]

In a version by Tahawi, she added: The Prophet (ﷺ) said, "When you stone (the Jamrah) and shave, everything becomes permissible for you except women (intimacy)." A similar narration was reported by Darqutni.

3687

اور طحاوی کی ایک روایت ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہی اس طرح ہے آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرما یا ہے کہ (دسویں زوال حجرے کو) جب تم رہی سے فارغ ہو جاؤ اور قربانی کروو (تو تم نے احرام کول دیا) اور تمہارے لیے خوشبو لگنا

اور پرے پہننا اور ہر چیز (جسے ہروہ پابندی جواہرام کی وجہ سے تم پر عائد ہے) جائز ہوگی سواے عورتوں سے نہم بستری کے (البتہ طواف زیارت کے بعد عورتیں کچھ حالات میں حلال ہوجاتی ہیں)۔ اور دار قطعی نہ کچھ اس طرح روایت کی ہے۔ طوافِ زیارت کا سویں ذوالحج کو ادا کرنے اور قیام میں کے دوران میں فرض نماز ون کا متنی میں ادا کرنے افضل ہے۔

Aisha (may Allah be pleased with her) reported that the Prophet (ﷺ) said: "When you have stoned and shaved, everything becomes permissible for you except women (intimacy)." [Narrated by At-Tahawi and similarly by Ad-Daraqutni]

3688

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (حجۃ الوداع کے موقع پر) دسویں ذو الحج کے دن (رہی جمار، قربانی اور حلق کے بعد طوافِ زیارت کے لے کہ معظّم تشریف لے کے اور (چاشت کے وقت) طوافِ زیارت ادا فرمائے چھر (متنی) واپس تشریف لائے اور متنی میں نماز ظہر ادا فرمائی۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔ احرام سے باہر آنے کے لے عورتیں سردہ مونڈ کر ہیں۔

3689

امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ اور امام المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے پردونوں حضرات فرماتے ہیں کہ (احرام سے باہر آنے کے لے) عورتوں کو منع فرمائیا ہے کہ اپنے سر کو (مردوں کی طرح) منڈھا نہیں (عام حالات میں کچھ عورتوں کوسر منڈھنا جائز نہیں ہے)۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔ عورتوں کو احرام سے باہر آنے کے لے بالول کو کٹز و انہا چپائے۔

Ali and Aisha (may Allah be pleased with them) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) prohibited women from shaving their heads. [Narrated by Tirmidhi]

3690

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ (احرام سے باہر آنے کے لے) عورتوں کو سر مونڈ کرنا جائز نہیں۔ البتہ عورتیں (احرام سے باہر آنے کے لے) اپنے بالول کو (کناروں سے انگلی کے ایک پور برابر)

کہتر والیس - اس کی روایت ابوداوداورترمزی نے کی ہے۔

بالول کو کہتر واں کی مقدار اوراس کا طریقہ

ف: واضح ہو کہ عورت احرام سے باہر آنے کے لئے خود اپنے بال آپ نہ کاٹے بلکہ ایسے محرم

سے جو اپنا احرام کھول چکا ہو بال کہتر واں - بال کہتر واں کی حد یہ ہے کہ چوٹیوالی حصد سر کے بالون

سے ایک انگل برابر بال کہتر واں میں تو واجب ادا ہو جائے گا - عامیری

Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Women are not required to shave [their heads]; rather they should only shorten their hair." [Narrated by Abu Dawud and Ad-Daraqutni]