(نوي زوالحج کومیدان عرفات میں ظہیر نے کاپائیں)
(On the day of Nuzul-e-Hajj, Zahir obtained them in Arafat)
وقول الله عز وجل ثم افيضوا من حيث افاذ الناس اور الل تعالي كا ارشاد
سے: (سورۃ بقرہ، پ:2، ع:25، آیت نمبر:199، میں) اے لوگو! نویں زوالحج کوسب لوگوں کے
ساٹھ عرفات میں (ظہیر نے کے بعد) سب کے ساٹھ اسی جگہ تے (مزدلفہ میں دسویں شب گز ارکر
منی کو) واپس ہوجاؤ۔
وقوف عرفات کی فرضیت
ف : واضح ہوکر زمانۂ جاهلیت میں قریش خود کومجاور حرم میں اور چونکہ مزدلفہ حدودحرم میں داخل
ہے اس لئے نویں زوالحج کومزدلفہ میں ظہیر جاتے اور میدان عرفات میں اس لئے نہیں جاتے کہ
عرفات خارج حرم ہے اور قریش خود کو عام لوگوں سے برتر سمجھتے تھے، حالاکہ وقوف عرفات نے کارکن
ہے اور وقوف عرفات کے بغیر نہیں نہیں ہوتا۔ اس کے برخلاف قریش کے علاوہ سب لوگ عرفات
جاتے،اور وہاں قیام کرنے کے بعد مزدلفہ لوٹتے۔
صدر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس حکم کو بیان فرمایے ہے کہ سب لوگ نویں زوالحج کوعرفات میں
قیام کریں اور وہاں سے مزدلفہ واپس ہوں۔ تفسیرات احمدیہ
نویں زوالحج کوعرفات میں ذکراور تلبیہ میں مشغول رہنا چاہیے
O people! On the ninth day of Dhu al-Hijjah, proceed to Arafat with all the people, and after the setting of the sun (after Zhuhr), remain there until the night of the tenth day at Muzdalifah, and then return to Mina.
It is clear that during the time of ignorance, the Quraysh would stay in the vicinity of the Haram, and since Muzdalifah is within the boundaries of the Haram, they would spend the ninth afternoon of Hajj in Muzdalifah and not go to the plain of Arafat because Arafat is outside the Haram, and the Quraysh considered themselves superior to the common people, although the standing at Arafat is essential, and Hajj cannot be completed without it. In contrast, all other people would go to Arafat and return to Muzdalifah after staying there. In this verse, Allah Almighty has stated the command that all people should spend the ninth afternoon of Hajj in Arafat and then return to Muzdalifah. - Tafsir Ahmadia
On the ninth of Dhu al-Hijjah, one should be engaged in remembrance (dhikr) and recitation of talbiyah at Arafat.
_ محمد بن ابی بکر ثقفی رحمۃ اللہ تے روایت سے وہ فرما تے ہیں کہ انس بن ماک رضی
اللہ عنہ سے انہوں نے دریافت کیا کہ جب کہ یے دونوں (نویں زوالحج کی صح ) میں عرفات
جارہے تھے تو آپ حضرات آنج کے دون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کن مشاغل میں
گزارتے تھے؟ تو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ہم میں سے کوئی لبیک پکارتا تو اس کو
اس سے منع نہیں کیا جاتا اور ہم میں سے کوئی اللہ اکبر کہتا تو اس کو بھی اس سے روکا نہیں جاتا تھا۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔
جرہا اولی پر کلریال مارنے تک لبیک کہنا رہنا چاہیے
ف: لماعت میں کہنا کہ صدر کی حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ نویں زوالحجو حاجی اللہ تعالیٰ
کے ذکر میں مشغول رہے جب کسی نے احرام باندھنے کے بعد ایک یا دو مرتبہ لبیک پکار لیا تو، البتہ
فضیلت اس باٹ کی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ لبیک کہتا رہے۔ اہ
اور اس حدیث سے پیچھے معلوم ہوتا ہے کہ لبیک کونیں زوالحجو کے صحح کے بعد ختم نہ کیا جائے
جبیا کہ مرودی سے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لبیک کہنے کو دسویں زوالحجو کے دن پہلے جغرے
پر کلریال مارنے کے بعد ختم کیا، اور پیچھے نہہب حتی کہ جبیا کہ عمدہ القاری میں ذکور ہے۔12
منی، عرفات، مزدلفہ میں جہال چاہیں کہہر سکتے ہیں
پہلی حدیث
Muhammad ibn Abi Bakr al-Thaqafi narrated that he asked Anas ibn Malik (may Allah be pleased with him) while they were traveling from Mina to Arafah, "What did you do on this day with the Messenger of Allah (ﷺ)?" He replied, "Some among us would recite the Talbiyah, and no one objected to it, while others would recite Takbir, and no one objected to it." [Agreed upon]
جابر رضی اللہ عنہ نے روایت کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد
فرمایا کہ میں نے (منی کے) اس مقام پر قرآنی کی سے (اور اس مقام کو خرا لبی کہا جاتا ہے) جومسیر
خیف کے قریب تھا) اور منی کا پورا میدان قرآنی کی جگہ سے اس لے تم اپنے اپنے نہیں میں
جہال چاہے قرآنی کر سکتے ہو۔ اور (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیچھے ارشاد فرمایا کر)
(عرف کے دون) میں اس جگہ (لیکن جبل رحمت کے قریب سیاہ پتھروں کے پاس) ظہر اہول اور سارا
میدان عرفات (وادی عرف کے سوا) ظہر نے کی جگہ سے اور مزدلفہ میں اس جگہ (لیکن مشعر رام میں)
میں نے شب غزاری کی سے اور مزدلفہ کا پورا میدان (سوا سے وادی مشعر کے) شب غزاری کی جگہ
ہے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
ف: مرقات میں کہا ہے کہ اس حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ منی، عرفات اور مزدلفہ
میں جہال چائیں تجانج کرام ظہر سکتے ہیں اور منی میں جہال چائیں قربانی دے سکتے ہیں لیکن فضل
مقامات وہی ہیں جہال کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قربانی کی اور قیام فرما یا۔12
دوسری حدیث
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said, "I slaughtered my sacrifice here, and all of Mina is a place of slaughter. So slaughter wherever you are in Mina. I stood here, and all of Arafah is a place of standing. I stood here, and all of Muzdalifah is a place of standing." [Narrated by Muslim]
_ جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد
فرمایا ہے کہ عرفات کا پورا میدان (سواء وادی عرفہ کے نویں زوال حجرو حاچیون کے) ظہر نے کی جگہ
ہے اور منی کا پورا میدان (دسویں زوال حجر کو) قربانی کی جگہ ہے (کہ جہال چائے قربانی دے سکتے ہو)
اور مزدلفہ کا پورا میدان (سواء وادی محرر کے (دسویں زوال حجر کو) شب گزاری کی جگہ ہے (جہال
چائے ظہر سکتے ہیں اور جس راستے سے چائیں کہ معظّم میں داخل ہو سکتے ہیں اور کہ معظّم میں جہال
چائیں قربانی دے سکتے ہیں۔ اس کی روایت ابو داوداورداری نے کی ہے۔
کہ معظّم میں مشرقی جانب سے داخل ہونا فضل ہے
ف (1): واضح ہو کہ کہ معظّم میں جس راستے سے چائیں داخل ہو سکتے ہیں لیکن کہ اے نامی غالب
جو کہ معظّم کے مشرقی جانب سے اس طرف سے داخل ہونا فضل ہے اور جب کعبہ اللہ شریف میں
داخل ہو تو باب السلام سے داخل ہوں جو جانب مشرق واقع ہے۔ مرقات اور عرف شنزی۔12
جو کہ قربانی منی میں فضل ہے اور دیگر قربانیاں اور دم حرم میں
جہال چائیں دے سکتے ہیں
ف (2): واضح ہو کہ کہ معظّم چون کہ مرز میں حرم ہے اس لے جہال چائیں قربانی دے سکتے ہیں
لیکن جو کہ قربانی کے لے فضل یہ ہی ہے وہ منی میں دی جائے۔ اور دیگر قربانیاں جہاں تمتح، نذر اور شکرانہ اور
جنایات کی قربانیاں کہ معظّم میں جہال چائیں دی جائیں تو جانبہ مرقات اور اشعة اللمعات۔12
عرفات میں جہال کی ظہری وقوف کی فرضیت ادا ہوجائے تو
خواہ وہ امام سے دور، یا کیوں نہ ہو
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said, "All of Arafah is a place of standing, all of Mina is a place of slaughter, all of Muzdalifah is a place of standing, and all the mountain passes of Makkah are pathways and places of slaughter." [Narrated by Abu Dawud and al-Daraqutni]
عن کعب بن عبد اللہ بن صفوان رحمہ اللہ (جو تا بعین میں سے ہیں) اپنے مامول سے
جن کا نام زید بن شیبان رضی اللہ عنہ ہے (جو صاحبی ہیں) روایت کرتے ہیں، زید بن شیبان فرماتے
ہیں کہ، ہم عرفات میں اس مقام پر ظہرے ہوئے چھے، (جو زمانہ جابلیت میں ہمارے قبیلے کے لے
خصوص تھا اور یہ مقام امام سے بہت دور تھا توراولی حدیث) کعب بن عبد اللہ اس جگہ کو امیر نے کی جگہ
سے بہت دور پارے تھے (انہوں نے اس دوری کو اپنے مامول زید بن شیبان سے بیان کیا تو انہوں نے
کہا کہ، ہم حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ عرفات میں اس جگہ جودورتی قیام کے تھا اور
چاہتے تھے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے قریب ہو جائیں۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جب
ہمارے اس خیال کی اطلاع ملی تو آپ نے ہمارے اس اشكل کو دور کرنے کے لیے ابن مرقع انصاری
رضی اللہ عنہ کو ہمارے پاس بھیجا اور) ابن مرقع انصاری رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آ کے اور کہا کہ میں
آپ حضرات کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا قاصد ہوں۔ (اور یہ پیام لا یہوں) حضرت محمد
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرما یہ کہ تم اس وقت جہال ظہرے ہوئے ہو تو ہیں ظہرے رہو (پورا
میرا اعرفات ظہر نے کی جگہ ہے) اور تم اپنے اس وقوف میں اپنے باب پ حضرت ابراہیم علی نبیا وعلیہ
الصلوۃ والسلام کی میراث لیتے سن ت پر ہو (اس لے امام سے دوری کے باوجود وقوف عرفات کی فرضیت
ادا ہو جائے گی، اس لے تم عرفات میں جہال کی ظہرے ہو، اس کو حقیقت جانو)۔ اس حدیث کی
روایت ترمذی، ابوداود، نسائی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
Amr ibn Abdullah ibn Safwan narrated from an uncle of his named Yazid ibn Shayban, who said: "We were standing at a distant place in Arafah, far from where the Imam stood. Ibn Mirba' al-Ansari came to us and said: 'I am the Messenger of the Messenger of Allah (ﷺ) to you. He commands you: "Stand at your places of ritual, for you are following the legacy of your father Ibrahim."'" [Narrated by al-Tirmidhi, Abu Dawud, al-Nasa'i, and Ibn Majah]
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرما تی ہیں کہ قریش
اور ان کے متبعین (نوبی زوالحج کو عرفات میں قیام کرنے کی بجائے صرف) مزدلفہ میں کھڑے تھے
(اس زعم میں کہ مزدلفہ حد و حرم میں داخل ہے اور عرفات خارج حرم ہے، اس لے خارج حرم قیام
کو پیشان کے منافی نہیں تھا) اور اس کو بهادری اور اعزاز قرار دیتا تھا۔ اس کے برخلاف
سارے عرب قبائل (حسب و ستور قدیم نوبی زوالحج کو) عرفات میں قیام کرتے، جب اسلام آیا تو
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حکم دیا کہ (قریش ہون یا غیر قریش سب) آپ کے
ساتھ عرفات آئیں (و بالقیام کریں اور سب کے ساتھ) و بال سے واپس ہون، اور اللہ تعالیٰ کے
اس ارشاد (سورۃ بقرہ، پ:2، ع:25، آیت نمبر:199) کا یہی مطلب ہے۔ " ثُمَّ أَفِيضُوا
مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ " (تم عرفات جا کرو بال قیام کروا و روا بال سے سب کے ساتھ واپس
ہو)۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔
امام کے لئے بلند مقام پر خطہ دینے کا جواز
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: "The Quraysh and those who followed their religion used to stand at Muzdalifah and were called al-Hums. The rest of the Arabs would stand at Arafah. When Islam came, Allah commanded His Prophet (ﷺ) to go to Arafah, stand there, and then depart from it. This is the meaning of His words: 'Then depart from the place from where [all] the people depart.' (Al-Baqarah 2:199)." [Agreed upon]
خالد بن میوزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو عرفہ کے دون میدان عرفات میں اونٹ پرسوار لوگوں کو خطہ ارشاد فرماتے
دیکھا۔ اور آپ کے دونوں پیر کاب میں تھے۔ (تاکہ لوگ آپ کو کیسے کیسے اور آپ کے خطہ کو
اچھی طرح سن سکیں)۔ اس کی روایت ابوداود نے کی ہے۔
ان کلمات کا بیان جحن کو حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اور
انبیاء کرام نے عرفات کے دون پڑھائے
Khalid ibn Hawdhah (may Allah be pleased with him) narrated: "I saw the Prophet (ﷺ) delivering a sermon to the people on the day of Arafah while mounted on his camel, standing in the stirrups." [Narrated by Abu Dawud]
سے پہل انبیاء علیہم الصلاۃ السلام نے (عرفات میں) پڑھاہے بیں لاِاللّٰہُ وَحْدَہُ لَاشَرِیکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرُ
عمر و ابن شعیب اپنے والد کے واسطے سے اپنے دادا (عمرو بن العاص) رضی اللہ
عنہم سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرما کر (فضیلت اور قبولیت
کے اعتبار سے) جہنم کی دعاویں جوعرفہ کے دون کی جانب، اور جہنم کی کلمات جهن کو میں نے اور
اس کی روایت تزندی نہ کی ہے۔ ف : مسوّی میں ذکور سے کہ مستحب پیہ کر عرفات میں ذکر، تہمل اور دعاوی میں بہ حد مشغول رہیں۔12 عرفہ کے دن بے شمار بندرول کودوزخ سے ربائی ملتی ہے
I have not belittled the supplications for Hellfire directed towards the two horns of Mount Arafat, nor have I belittled the words of Hellfire that I have mentioned. It is recommended to be extremely engaged in remembrance, humility, and supplication at Arafat. On the day of Arafat, countless prayers for protection from Hellfire are accepted.
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے روایت کہ آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالی عرفہ کے دن اپنے بندرول کودوزخ سے اتنے زیادہ تعداد میں نجات دیتے ہیں کہ اس اوردن اتنے زیادہ نجات دینے دیتے (یعنی عرفہ کے دن بے شمار بندرول کو دوزخ سے ربائی اور مغفرت ملتی ہے) اور اللہ تعالی (اس دن اپنی رحمت اور مغفرت کے ساتھ) بندرول سے قریب ہوتے ہیں اور ان پر (یعنی عرفات میں حاضری دینے والوں پر) فرشتوں کے ساتھ فخر کرتے ہیں اور فرما تے ہیں کہ ان بندرول (نے میرے لیے اپنے وطن اور گھر بارکوچھوڑااور خود کو تھکا اور مال خرچ کیا ہے اور یہاں جمع ہوئے ہیں اس سے ان) کا مقصد کیا ہے؟ (ہی وہ بندرے جن پر تم نے اپنے فرشتوں طعنہ دیا تھا کہ پیڑ میں پرفسا کر رہی ہیں گی دیکھو! میری اطاعت میں کس طرح جمع ہیں، اور سوا میری مغفرت کے ان کو اور پچھڑا رہیں!) اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔ عرفات کے دن اللہ کی رحمت اور مغفرت کو کیا کر شیطان ذیل اور رساہو تا ہے
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "There is no day on which Allah frees more people from the Fire than the day of Arafah. Indeed, He draws near and boasts about them to the angels, saying, 'What do these people seek?'" [Narrated by Muslim]
طلحہ بن عبید اللہ بن کریز رضی اللہ عنہ نے روایت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ شیطان کو عرفہ کے دن سے زیادہ کسی اوردن اتنا حقیر، ذیل، پست اور
غضبنا کے نہیں دیکھا گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شیطان اس دون میں ان عرفات میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کو نازل ہوتے ہوئے اور برطے برطے گناہوں کی مغفرت ہوتے ہوئے دیکھتا ہے اور غزوہ بدر کے دون میں شیطان کو ایسی طرح (زیل، حقیر اور غضبناک) دیکھا گیا جب کہ اس نے حضرت جبریل علیہ السلام کو دیکھا کہ وہ فرشتوں کی صفون کو تنہائی دے رہے تھے (اور ایسی دون مسلمانوں کو اور اسلام کو شوکت اور عزت حاصل ہوئی)۔
اس کی روایت امام ماک کے مرسل کی ہے اور شرح السنہ میں بعض اس کے قریب قریب روایت ہے۔
عرفات کے دون اللہ تعالیٰ کے احکام پر فرشتوں کے ساتھ فخر فرماتے ہیں
Talhah ibn Ubaydullah ibn Kurayr narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Satan is not seen more humiliated, despised, angry, or disgraced than on the day of Arafah - except for what he witnessed on the day of Badr." It was asked, "What did he see on the day of Badr, O Messenger of Allah?" He replied, "Did he not see Jibril organizing the ranks of angels?" [Narrated by Malik as mursal; also in Sharh al-Sunnah with the wording of Al-Masabih]
جا بر ضی اللہ علیہ روایت ہے آپ فرماتے ہیں کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ عرفات کے دون اللہ تعالیٰ آمان و نیا پرنزول فرماتے ہیں اور (میدان عرفات میں) جمع ہوئے والوں پر فرشتوں کے ساتھ فخر فرماتے ہیں اور ارشاد فرماتے ہیں (اے فرشتو!) تم میرے بندول کو دیکھو کہ وہ میری بارگاہ میں پرآگندہ بال، گرد آ لود چھرون میں دور دراز، تگ اور کشاورزتوں سے چل کر (یہاں حاضر ہیں اور تہلیل، تسبیح، ذکر اور تلبیہ کرتے ہوئے) مجھے پکارنے ہیں (اے فرشتو!) تم گواہ رہو، میں نے ان سب کو خش دیا (پیس کر) فرشت عرض کرتے ہیں پروردگار! انا میں فلان مرداور فلان عورت مجھی سے جوگنہ کرے ہے اور میں سے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں کہ (پیس کر) اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں (سنو!) میں نے (نیوں کے ساتھ) ان کو بھی خش دیا (پیفرما کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اور دونوں دوزخ سے اتنے بندول کو رباہی نہیں ملتی جتنے بندول کو عرفات کے دون دوزخ سے) رباہی ملتی ہے۔ اس کی روایت شرح السنہ میں کی ہے۔
مزدلفہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام امت کی مغفرت کی خوشخبری
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "On the day of Arafah, Allah descends to the lowest heaven and boasts to the angels about the pilgrims, saying, 'Look at My servants - they have come to Me disheveled, dusty, and exhausted from every deep valley. I call you to witness that I have forgiven them.' The angels say, 'O Lord, so-and-so is known for sinning, and so-and-so and so-and-so?' Allah says, 'I have forgiven them.' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'There is no day on which more people are freed from the Fire than the day of Arafah.'" [Narrated in Sharh al-Sunnah]
عباس بن مرداس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرفہ کے (دن) شام کے وقت اپنی امت (کے تمام گزہگاروں) کی بخشش کی (اللہ تعالی سے) دعا میں تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ خوشخبری دی گئی کہ میں نے آپ کی پوری امت کو بخش دیا ہے، سوا یے ظالم کے (کیونکہ اس نے بندول کے حقوق تلف کے ہیں)اور میں اس سے مظلوم کے حقوق دلوان کا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (دوبارہ بارگاہ رب العزت میں) عرض کیا پروردگار آپ چاہیں تو مظلوم کو (اس کے حقوق کے بدل میں) جنت عطا فرما کر ظالم کو بخش دین لیکن حضور کی پردا عارف کی شام میں قبول نہ ہوئی - پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مزدلفہ تشریف لاگے (اور شب گذاری کے بعد) صبح چھ رائے دعا کولوٹا یا تو آپ کی (خوابش کے مطابق) یہ دعا قبول کر لی گئی (لیکن ظالم کی مغفرت کی خوشخبری کچھ آپ کو دیدی گئی) راوی کا بیان ہے کہ (قبولیت دعا کی خوشخبری سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نفس دے یا مسکرا ہے (حضر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مسکراتے دیکھ کر) حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما نے عرض کیا ہمارے مال باپ آپ پر فدا ہوجائیں (یا رسول اللہ) معمولاً ایس موقع پر آپ پہسا نہیں کرتے، آپ کو کس چیز نے پسایا؟ اللہ تعالی آپ کو تمیشہ بنستا رکھے! آپ نے ارشاد فرما یا کر اللہ کے دشمن ابلیس کو جب یہ معلوم ہوا کر اللہ تعلی نے میری دعا قبول فرمائی ہے اور پوری امت کو بخش دیا ہے تو اپنے سر پر خاک ذاکر گا اور واو یلا کرتا ہوا بجا گے نکلا - اس کی پریشانی اور بدحواسی دیکھ کر مجھے بھی آگئی - اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے - اور تہقیق نے مجھی کتاب البغیث والنشور میں اس طرح روایت کی ہے - ف: واضح ہو کر اس حدیث تشریف سے معلوم ہوتا ہے کہ امت محمدی - علی صاحبها آلاف
صلوات - امت مرحمہ کے اللہ تعالیٰ جس شخص کو چاہیں گے اس کے حقوق العباد میں معاف کر وادی کے لیکن شرک معاف نہیں ہوتا جسیما آیت شریفہ میں ارشاد ہے " ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذلك لمن یشآء " ( سورۃ نساء، پ : 5، ع : 18، آیت نمبر : 116 ) ( اللہ تعالیٰ مشرك کو میں بخشش لیکن مشرك کے سوا جس کو چاہیں بخشش دیتے ہیں ) تو حقوق العباد شرک کے سوا ہیں، اس کے ان کی بخشش کی امید ہے اس کی تائید میں بخاری کی مرفو ع حدیث میں ہے کہ جونچ کرے اور ( نج کے دوران ) فساد اور گناہ من کرے تو وہ ایسا پاک و صاف ہوجاتا ہے جسیما کہ اپنی مال کے پیٹ سے پیراٹ کے وقت گناہول سے پاک و صاف ہتا اور اس طرح مسلم کی بھی ایک مرفو ع حدیث ہے کہ اسلام لا نے سے ( زمانہ کفر کے ) سارے گناہ معاف کردیے جاتے ہیں اور تجرد سے بھی ( قبل تجرد کے ) سارے گناہ معاف کردیے جاتے ہیں اور نج سے بھی ( قبل تجرد کے ) سارے گناہ معاف کردیے جاتے ہیں ان احادیث شریفہ کی وجہ سے فتح الباری میں علامہ ابن حجر نے نج کی وجہ سے حقوق العباد کے معاف کردیے جانے کو ترجیح دی ہے اور شرح السیر الکبیر میں امام نخسی نے اس کو اختیار کیا ہے اور امام صدر الشہید کی اس کے قائل ہیں البتہ قاضی عیاض رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ ابل السنة والجماعہ کی اس بات پر اجماع ہے کہ کبڑے توہب کے بغیر معاف نہیں ہوتے خواہ حقوق اللہ ہول، جسے ترک نماز اور ترک زکوۃ میں ان کو بہ صورت قضاء کرنا پڑے گا بل نج کی وجہ سے تاہیر کا گناہ معاف ہوگا جب حقوق اللہ کا پیحال ہے تو حقوق العباد کیے معاف ہول گے اسی وجہ سے امام نہیں نے فرمایا ہے کہ کسی بندہ مسلم کو اس دحو کہ میں نہ رہنا چاہئے کرتے حقوق العباد میں معاف ہوجاتے ہیں اس لئے کہ گناہ بدختی ہے اور اللہ تعالیٰ کے احکام کے خلاف بری جسارت اور بہ باکی ہے بال جس کسی کو نج مبرور اور مقبول نصیب ہوجائے تو اس کی مغفرت کی امید ہے لیکن وہ کون مردخاہ جویدعوی کرے کہ میرا نج مقبول ہے اگر چہ کروہ عالم بامل ہواور برطا نیک و کار ہو، جب کہ یمعلوم ہے کہ انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے سواسارے انسانوں کا مقام خوف اور رجاء کے درمیان ہے اس لئے تم کو چاہئے کہ گناہول پر جرت نہ کریں اور حقوق العباد کے ضائع کرنے سے بچیں اور سابقہ گناہول پر توہا اور استغفار اوران کی تلاوت کی کوشش کرتے رہیں۔ مضمون و محتر، رواجتار، مرقہات اوراشعہ اللمعات سے ماخوذہ
Abbas ibn Mirdas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) prayed for his ummah on the evening of Arafah for forgiveness. He was answered: "I have forgiven them except for the wrongdoers, for I will take the right of the oppressed from them." The Prophet (ﷺ) said: "O Lord, if You will, grant the oppressed Paradise and forgive the wrongdoer." But he received no response that evening. The next morning at Muzdalifah, he repeated the supplication and was granted what he asked for. The Messenger of Allah (ﷺ) smiled, and Abu Bakr and Umar (may Allah be pleased with them) said: "May our fathers and mothers be sacrificed for you! This is not a time when you usually smile. What made you smile - may Allah keep you smiling?" He replied: "When the enemy of Allah, Iblis, learned that Allah had accepted my supplication and forgiven my ummah, he took dust and began pouring it on his head, crying out in despair. His distress made me smile." [Narrated by Ibn Majah; al-Bayhaqi narrated something similar in Kitab al-Ba'th wa al-Nushur]
From this honored hadith, it is evident that the Ummah of Muhammad - may Allah’s peace and blessings be upon him and his companions - is the Ummah of mercy, for Allah the Exalted forgives the rights of people as He wills, but He does not forgive shirk, as is stated in the noble verse: 'Indeed, Allah does not forgive association with Him, but He forgives what is less than that for whom He wills' (Surah An-Nisa, Chapter 4, Verse 116). The rights of people are other than shirk, hence there is hope for their forgiveness. This is confirmed in a marfu' hadith in Bukhari, which states that if one performs Junub (ritual bath after sexual activity) and commits sins during the state of impurity, he becomes as pure and clean as when he was born from his mother's womb, free from sins. Similarly, there is a marfu' hadith in Muslim that states that Islam erases all sins committed during the time of disbelief, and tawbah (repentance) erases all sins committed before it, and ghusl (ritual bath) erases all sins committed before it. Due to these noble hadiths, Imam Ibn Hajar in Fath al-Bari has preferred the view that the rights of people are forgiven due to ghusl. Imam Nakhshi in Sharh al-Sir al-Kabir has adopted this view, and Imam Sadruddin al-Shahid also holds this opinion. However, Qadi Iyad (RA) has said that according to the consensus of the Ahl al-Sunnah wa al-Jama'ah, major sins are not forgiven without repentance, whether they pertain to the rights of Allah or the rights of people, such as neglecting prayer and zakat, which must be made up. But if the sin pertains to the rights of Allah, then the rights of people are also forgiven. Therefore, Imam Nahi (RA) has said that any Muslim who says, 'I should not remain in this world,' will have the rights of people forgiven because sin is a sign of misfortune and a violation of Allah's commands, and if anyone is granted an accepted and pleasing ghusl, there is hope for his forgiveness. However, no one should claim that his ghusl is accepted, even if he is known in the world for his piety and good deeds, for it is known that the station of the prophets, peace be upon them, and all humans is between fear and hope. Therefore, you should not be bold in committing sins and avoid violating the rights of people, and strive to seek forgiveness and recite istighfar for past sins.