Nūr al-Maṣābīḥ
بَابُ دُخُولِ مَكَّةَ وَالطَّوَافِ

Entering Makkah and Performing Tawaf
Volume 5 · Rites of Pilgrimage

اس باب میں کہ معظّم میں داخل (کے آداب) اور طواف کرنے کا بیان ہے

This chapter deals with the etiquette of entering the Sacred Mosque and the method of performing the circumambulation.

وقول الله عز وجل ولطواف فوا بالبيت العتيق اور الل تعالي كا ارشاد سور حج ع مي اور الان ي مقرر دول مي اس مامون ر جين خان كعب حس كي حفاظت كا ذم الل تعالي ن ليا طواف كري اس مي طواف زيارت جوفض اس كي طرف اشار جوايم اخر جين ذو الحج مي كسي دونو ادا كيا جا سكتا

وقوله و اتخذوا من مقام ابراهيم مصلي اور الل تعالي كا ارشاد سور بقر ع ايت نمبر مي اور بركت حاصل كرن ك لي مقام ابرا يم كو نماز ن كي ج بناليا كرو جين دو ان طواف اور دي ر نوافل جسي ال ا كرو

ف: فتح القدیر میں ذکور ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (طواف کے بعد) مقام ابراہیم کے پاس تشریف لاے تو دوگانہ طواف ادا کرنے سے پہلے پرآ یت تشریفہ "وَ اتَّخِذُوَا مِنْ مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّی"، متلاوت فرمائی تاکہ پرداش فرمادیاجائے کہ یہ دوگانہ طواف تقبل حکم میں ہے اور اس لے کہ ادا کرنا واجب ہے اور یہی نہہب حقی ہے- بنایی میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ مرودی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (طواف کے بعد ایک مرتبہ) دوگانہ طواف ادا کرنا جہول گے تو آپ نے اس دوگانہ طواف کو مقام زوطوی میں ادا فرمایا تو فوت شدہ دوگانہ طواف کو قضا کرنے سے جسی اس کا جواب ثابت ہوتا ہے اس لے نہہب حقی میں پرطواف کے بعد دوگانہ طواف کا ادا کرنا واجب ہے

In Fath al-Qadir, it is mentioned that when the Messenger of Allah ﷺ (after performing the circumambulation) arrived at the Station of Ibrahim, before performing the two rak'ahs of Tawaf, he recited the verse 'And take, [O believers], from the standing place of Abraham a place of prayer.' He recited this so that it would be clear that the two rak'ahs of Tawaf are part of the command and that performing them is obligatory, and that they are indeed a right. According to the narration of Umar (RA), if the Messenger of Allah ﷺ (after the circumambulation) missed the two rak'ahs of Tawaf, he would perform them at the Station of Ibrahim, thereby proving that the missed two rak'ahs of Tawaf must be made up. Therefore, it is established that after the circumambulation, performing the two rak'ahs of Tawaf is obligatory.

وقوله ان الصفا والمروه من شعاير الله فمن حج البيت او اعتمر فلا جناح عليه ان يطوف بهما اور الل تعالي كا ارشاد سور بقر ع ايت

نمبر: 158، میں ) پیشک صفا اور مروہ (اوران کے درمیان سعی کرنا) دسین خداوندی کی یادگاروں میں

سے ایک یادگار ہے تو جو شخص بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ ادا کرے اس پر زرا بھی گناہ نہیں کروہ ان

دونوں کے درمیان حسب قاعدہ سعی کرے۔

ف : زمانۂ جاهلیت میں صفا اور مروہ پر دوہت رکے گئے تھے جن کے نام اساف اور نائلہ تھے

اور عرب ان دونوں پہاڑیوں کے درمیان زمانۂ جاهلیت میں مجسمے کیا کرتے تھے جب اسلام آیا تو ان

پتوں کو توڑ دیا گیا شاید مسلمان زمانۂ جاهلیت کی چیزوں کے اندیشے سے پہلے گناہ مجسمین کے اس لے

پر آیت تشریف نازل ہوئی جس میں سعی کی صفات و مروہ کا حکم دیا گیا اس لے احتیاط کے پاس سے

واجب ہے ماخوذ از تفسیرات احمدیہ

کعبۃ اللہ شریف میں داخل کے آداب

Number: 158, Performing the Sa'i (the act of walking) between Safa and Marwah is one of the divine remembrances. Therefore, whoever performs the Hajj or Umrah at the House of Allah, there shall be no sin upon them if they perform the Sa'i between these two hills according to the prescribed manner.

In the pre-Islamic era, there were two idols placed on Safa and Marwah named Isaf and Na'ilah. The Arabs used to place statues between these two hills during the time of ignorance. When Islam came, these statues were destroyed. Perhaps due to the Muslims' concern about the remnants of the pre-Islamic era, the verse was revealed which described the characteristics of the Sa'i and the command regarding Marwah. Hence, it is obligatory out of caution. [Taken from Tafsir Ahmadiyah - 12]

3585

نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی

عادت تھی کہ جب مجسمہ آپ کے معظّم تشریف لا تے تو (کہ معظّم میں فورا داخل ہوئے کی بجائے)

آپ مقام ذوطوی میں (جو کہ معظّم کے قریب ایک موضع کا نام ہے اور جو داخل حرم سے) رات

گزراتے اور جب صبح ہوجائی تو غسل فرماتے اور (دوگانہ شکرانہ) ادا فرماتے اور دون کی روشی میں

بیت اللہ میں داخل ہوتے (تاکہ اس کے دیدار کے مشترف ہوں اور دعا کریں) اس طرح جب کہ

معظّم سے والپس ہوتے تو مقام ذوطوی میں رات گزارتے اور وہیں صبح تک رہتے اور ابن عمر رضی

اللہ عنہما یہی فرمایا کرتے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت تشریف مجسمہ ایسی تھی (کہ

حضرت صلی اللہ علیہ وسلم مجسمہ کے معظّم کو آتے اور جاتے وقت مقام ذوطوی میں قیام فرماتے اور حرم

تشریف کی تغطیم کے لیے ایسا یہ اہتمام فرماتے تھے)۔

اس کی روایت بخاری اور مسلم میں متفقہ طور پرکی ہے۔

ف : واضح ہوگا کہ حدیث تشریف میں جو ذکر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معظّم میں

دون کے وقت داخل ہوتے تو وہ استحباب ہے، اس لے کر نساکی میں ایک روایت سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب الوداع کے موقع پر کہ معظّم میں دون میں داخل ہوتے اور عمرہ کے موقع پر رات کے وقت کہ معظّم میں داخل ہوتے۔ اس لے کہ نہایی میں کہہ کہ حجی چاہے تو کہ معظّم میں دون میں داخل ہو یارت میں۔ پیرقات میں ذکور سے صاحب مرقات سے حرم کہ کی تغظیم میں ابن حبان کی پیروائت کی بیان کی سے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ انہیاءم السلام حرم کہ میں برهمنہ پا اور پیادہ ہوتے اور طواف وگیر مناسک کو پیادہ اور برہمنہ پایی ادا فرما تے تھے اور عبد اللہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے پیرودی سے کہ بنی اسرائیل کے ایک لاکھ سترہزار اشخاص جب رج کے لے آئے تو مقام تعمیر کے پاس اپنے جوتوں کو رکھ دیتے اور کعبہ اللہ کی تغظیم میں وہال سے برہمنہ پا داخل حرم ہوتے۔ پی

مضمون مرقات سے ماخوذہ۔12

کہ معظّم میں داخل اور واپس ہونے کے آداب

Nafi’ reported: Ibn Umar (may Allah be pleased with them) would never enter Makkah without spending the night at Dhu Tuwa until dawn, performing ghusl, and praying. Then he would enter Makkah during the day. When departing, he would pass through Dhu Tuwa and spend the night there until dawn, mentioning that the Prophet (ﷺ) did the same. [Agreed upon]

In Fath al-Qadeer: "It does not matter if one enters at night or day, as narrated by An-Nasa’i that Ali (may Allah be pleased with him) entered both at night and day, during his Hajj by day and his Umrah by night. Both are equal in terms of entering to fulfill the rites of Ihram, or because it is merely entering a city. As for what is narrated from Ibn Umar, that he discouraged entering at night, this was not an affirmation of Sunnah but out of concern for pilgrims being robbed."

3586

كعْبَة اللَّهِ رَجُبَ نَظَرَ رَدَى تَوْبَغِيرَ با تَهَا ظَحَايَ دَعا كَرْنا چَپَ ہے

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت سے آپ فرماتی ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب الوداع کے موقع پر جب کہ کہ معظّم تشریف لاے تو کہ معظّم اس راستے داخل ہوتے جو بلندی سے (یعنی جنت المعلی کی طرف سے) آتا ہے (اور یہ مقام ذو طوی کی جانب سے) اور جب آپ کہ معظّم سے واپس ہوتے تو آس راستے سے واپس ہوتے جو نشیب کی طرف جاتا ہے (جب کومسفلم کیتے ہیں)۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم میں متفق طور پرکی ہے۔ ف : بحرالانق میں کہا ہے کہ آداب حرم میں مستحب یہ کہ کہ معظّم میں باب المعلی سے داخل ہوتا کہ داخل کے وقت کعبہ اللہ کے دروازہ کا سامنا ہو، اور جب کہ معظّم سے نکلنے تو مسفلم کے راستے سے واپس ہول جونشیب کی طرف ہے۔12

Aisha (may Allah be pleased with her) reported: When the Prophet (ﷺ) came to Makkah, he entered from the upper side and exited from the lower side. [Agreed upon]

3587

مہاجرکی رحم اللہ سے روایت سے وہ فرما تے ہیں کہ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی

اللہ تعالیٰ دریافت کیا گیا کہ ایسا شخص جو کعبۃ اللہ کو کسی توکیا وہ (دعا کے موقع پر) باٹھا اٹھا لے

(یا نہیں؟) پیس کر حضرت جابرؓ نے فرمائیں کہ یہود کے سوا کسی کو ایسا کرتے ہوئے نہیں دیکھا

ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جنگ کیا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی ایسا

کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ اس کی روایت ابوداود نے کی ہے۔

قارین اور مفردو طواف عمرہ، قدوم کے بعد مناسک نج ادا کرنے تک کوتی

اور عمرہ نہیں کرنا چاہیے

Al-Muhajir Al-Makki reported: Jabir ibn Abdullah (may Allah be pleased with him) was asked about a man who raises his hands upon seeing the Ka‘bah. He said, "I have never seen anyone do this except the Jews. We performed Hajj with the Messenger of Allah (ﷺ), and he never did so." [Narrated by Abu Dawud]

3588

عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ

وآلہ وسلم نے جب جہہ الوداع ادا فرمایا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ کہ معظّم

تشریف لا تو سب سے پہلے وضو فرمایا پھر طواف (عمرہ) ادا فرمایا (اس لے کر آپ قارن تھے

پھر مناسک نج ادا فرمایا نے تک آپ پ نے اور کوئی عمرہ ادا نہیں فرمایا۔ اس کے بعد حضرت ابوبکر صدیق

رضی اللہ عنہ نے نج ادا فرمایا تو آپ پ نے سب سے پہلے (عمرہ کا) طواف ادا فرمایا۔ اس طرح

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کیا اور ایسا کی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کیا (سب سے پہلے عمرہ کا

طواف) کیا (اور مناسک نج ادا فرمایا نے تک کوئی اور عمرہ ادا نہیں فرمایا)۔ اس کی روایت بخاری اور

مسلم نے متفق طور پر لی ہے۔

طواف کے دوران دین کی بات کر سکتے ہیں

Urwah ibn Az-Zubayr (may Allah be pleased with him) reported: The Prophet (ﷺ) performed Hajj, and Aisha (may Allah be pleased with her) informed me that the first thing he did upon arrival was perform wudu, then Tawaf around the House. He did not perform Umrah separately, as his Umrah was combined with Hajj. Abu Bakr (may Allah be pleased with him) also began with Tawaf, then performed Hajj without a separate Umrah. The same was done by Umar and Uthman (may Allah be pleased with them). [Agreed upon]

3589

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے

ارشاد فرمایا کہ بیت اللہ شریف کا طواف (ثواب میں) نماز کے مانند ہے مگر (فرق یہ ہے) تم

طواف کے درمیان بات کر سکتے ہو، اس لے اگر کوئی شخص دوران طواف بات کرنا چاہے تو اس کو

چاہے کہ نہیں کی بات کرے (ورنہ بہتر یہ کہ خاموش رہے)۔

اس کی روایت ترجمی، نسائی اور دارمی نے کی ہے۔

ف: واضح ہو کر طواف کے دوران میں کی بات مثلًا کسی کو مستلم بتانا، سلام کا جواب دینا جائز

ہے، دینیوی باقی نہ کریں اور دین کی بات جگہ اس طرح نہ کریں کہ جس سے طواف کرنے والوں کو

حرج ہو مرقات

حجر اسود کی طارت اور اس کے اوصاف

Ibn Abbas (may Allah be pleased with them) reported: The Prophet (ﷺ) said, "Tawaf around the House is like prayer, except that you may speak during it. So whoever speaks, let him only speak good." [Narrated by At-Tirmidhi, An-Nasa’i, and Ad-Dārimi]

3590

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ حجر اسود جنت سے اتارا گیا اور (جس وقت وہ جنت سے اتارا گیا تو

وہ دودھ سے زیادہ سفید (اور روشن تھا) اور بنی آدم کے گناہوں نے اس کو سیاہ کردیا (جب کروہ

ا ثناء طواف اس کو چھوئے اور بوس دیتے رہ اور یاں کے گناہوں کو جذب کرتارہا) اس حدیث

کی روايت امام احمد اور ترمذی نے کی ہے۔

ف: واضح ہو کر حجر اسود ایک جنتی پتھر تھا اور جنت کی برکتیں اور کمالات اس میں موجود تھے،

چونکہ انسانوں کے گناہوں کو جذب کرتارہا اور اس کی روشنی اور سفیدی ختم ہوئی گئی۔

یہاں ایک بات قابل عبرت یہ ہے کہ گناہ جب جمادات کو بھی متغیر کردیتے ہیں تو دولت کا کیا

حال ہوگا علامہ فاسی رحمہ اللہ نے طارت میں کہ میں لکھا ہے کہ انہوں نے (579ہ) میں حجر اسود میں

ایک سفید نقطہ کو بھی دیکھا تھا اور فقیہ سلیمان عسقلاني رحمہ اللہ نے اپنی مناسک میں لکھا ہے کہ (708ہ)

میں انہوں نے حجر اسود میں تین جگہ سفیدی دیکھی تھی اور ہر وقت اس کی روشنی اور سفیدی میں کچھ

محسوس کیا تھا مرقات اور اشعة اللمعات

قيامت کے دون حجر اسود پچھومنے والوں کی گوائی دے گا

Ibn Abbas (may Allah be pleased with them) reported: The Prophet (ﷺ) said, "The Black Stone descended from Paradise, whiter than milk, but the sins of the children of Adam blackened it." [Narrated by Ahmad and At-Tirmidhi]

3591

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود (کی شان) میں فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت میں اس حال میں انکا ہے

گا کر اس کی دوآ نکمین ہول گی جن سے پردیکہ گا اور زبان ہوگی جس سے یہ بات کرے گا اور

(سپاہی کے ساتھ ) اس شخص کی (تا سید میں ) گواہی دے گا (اور اس کا رقب اور حافظ ہوگا ) جس نے

اس کو (ایمان، صدق دل اور لیقین کے ) ساتھ چوما ہو، یا اس کا اسلام کیا ہو اس کی روایت تزدی،

ابن ماجرا ورداری نے کی ہے۔

تجرا سودا ور مقام ابراتیم جنت کے دویاقوت ہیں

Ibn Abbas (may Allah be pleased with them) reported: The Prophet (ﷺ) said about the Black Stone, "By Allah, Allah will resurrect it on the Day of Judgment with two eyes to see and a tongue to speak, testifying for those who touched it in truth." [Narrated by At-Tirmidhi, Ibn Majah, Ad-Dārimi, and Al-Bayhaqi]

3592

_عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے و فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ

صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوارشاد فرما تے سناتے کہ تجرا سودا ور مقام ابراتیم (یعنی وہ پچھر جس پر حضرت

ابراتیم علیہ السلام کے قد مبارک کے نشان ہیں، اور جس پر کٹرے ہو کر آپ پر نے کعبہ اللہ شریف

کی تعمیر کی ) یہ دونوں پچھر جنت کے دویاقوت ہیں (اور یہ دونوں بے حدروشن ہیں ) اللہ تعالیٰ نے ان

دونوں کے نور کو مند کر دیا (تا کہ ایمان بالغیب باقی رہے ) اگر اللہ تعالیٰ ان کے نور کو مند نہ کرتے تو

ان کا نور مشرق اور مغرب کے درمیان ہر چیز کو روشن کر دیتا۔

اس کی روایت تزدی نے کی ہے۔ اور امام احمد نے اپنی مسنیں اور ابن حبان نے اپنی صحیح

میں بھی اس کی روایت کی ہے۔

تجرا سودا ور رکن بیانی کے اسلام کا ثواب اور اسلام کے وقت لوگوں کو ایذاء

دینا منع ہے

Ibn Umar (may Allah be pleased with them) reported: The Prophet (ﷺ) said, "The Corner (Black Stone) and the Maqam (Station of Ibrahim) are two rubies from the rubies of Paradise. Allah extinguished their light, and had He not done so, they would have illuminated between the east and the west." [Narrated by At-Tirmidhi]

3593

_عبيد بن عمر رحمہ اللہ (جو مشہور تابعی اور قاضی کہ ہے ) سے روایت ہے کہ

حضرت عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہما برے جوش اور ولول کے ساتھ آگے بلا کر دونوں رکنیں تجرا

اسودا ور رکن بیانی پر (بوس دیتے اور پچھونے کے لے لوگوں کے مجع میں ) گہس جاتے ہیں (اس

طرح کہ لوگوں کو اذیت نہ ہو ) راوی حدیث کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر سے عرض کیا کہ

(دونوں رکنول تک پہوچنے کے لئے آپ پس جوش و خروش کا اظہار کرے ہیں میں کسی صحابی کو ایسا اہتمام کرتے ہوئے نہ میں دیکھا۔ پیغمبر آپ پر فرما، سنو! اگر میں ایسا کرتا ہوں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہی فرما تے سنا ہے کہ ان کو چھونا گناہ ہوگا کافر ہو گا، اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہی فرما تے سنا ہے کہ جو شخص اس گھر میں بیت الدشریف کے سات چوکر (اس کے واجبات، سنن اور آداب کا خیال رکھ کر) کرے تو اس کا ایمان ثواب میں ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہوگا اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہی فرما تے سنا ہے کہ جب کچھ وہ (طواف کی حالت میں) ایک قدم رکھتا ہے اور ایک قدم اٹھاتا ہے تو (ہر قدم پر) اللہ تعالیٰ اس کا ایک گناہ معاف کرتے ہیں اور ایک نکی اس کے نام اعمال میں لکھ دیتے ہیں۔

اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔

Ubaid ibn Umayr reported: I saw Ibn Umar (may Allah be pleased with them) pushing through the crowd at the two corners (Black Stone and Yemeni Corner) in a way I never saw any other Companion do. He said"If I do so, it is because I heard the Prophet (ﷺ) say, 'Touching them erases sins,' and I heard him say, 'Whoever performs Tawaf properly, it is like freeing a slave,' and I heard him say, 'No one lifts a foot or places it down except that Allah erases a sin and records a good deed.'" [Narrated by At-Tirmidhi]

In a narration by Ahmad: Sa‘id ibn Al-Musayyab reported that Umar (may Allah be pleased with him) said to him, "You are a strong man, do not push at the Stone and harm the weak. If you find space, touch it; otherwise, face it and say Takbir and Tahlil."

3594

اور امام احمد کی ایک روایت میں جو سعید بن المسیب رحمہ اللہ سے مروی ہے اور وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو فرما یا (اے عمر!) تم ایک طاقتوار آدمی ہو (دوران طواف میں تم اس بات کا خیال رکھو کہ جغر اسود کے پہوچنے میں تمہاری طرف سے کسی کمزور کو ایزاء نہ پہوچے اور تکلیف نہ ہو، اگر بھی ہو تو، اور راستہ میں جائے تو) تجراسود کو چھو لو، ورنہ اس کی طرف رخ کر کے تکبیر اور تهلیل لیں اللہ أکبر اور لا الہ الا اللہ کہ لیا کرو اس لئے کہ عمل جس اسلام کے قائم مقام ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ تجر اسود کے اسلام کے لئے لوگوں کو ایزائے نہ ہیں امنع ہے۔

اضطبا ع کا مسنون طریقہ

It is narrated on the authority of Sa'id bin al-Musayyib (may Allah have mercy on him) who reported from Umar (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said to Umar (RA),

O Umar! You are a strong man (during the circumambulation, keep in mind that your black beard should not touch anyone weak, causing them inconvenience; if it does, and it falls on the path, then touch Tajar Aswad, otherwise face it and recite Takbir and Tahmid: Allah is the Greatest and there is no deity but Allah, so that this act, which is the substitute for Islam, may be performed. It became evident that touching Tajar Aswad is not to cause inconvenience to people in Islam.)

3595

یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ

علیہ و آلہ وسلم نے بیت اللہ شریف کا طواف حالت اضطبا ع میں فرمایا اور آپ کے جسم الطہر پر ایک سبز چادر تھی۔

اس کی روایت ترمذی، ابوداود، ابن ماجراور دار قی نے کی ہے اور ترمذی نے اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے۔

ف: اضطبا ع یہ کرچادر کے نچے کے حصے کو دانتی بغل میں دبا لین اور چادر کے ایک حصے کو سینہ کے اوپر تے لے کر اور دوسرے حصے کو پیٹ کی طرف تے لا کر با کسی کاندے پڑوال لیس، اس میں سیدہا کندها کھلا رہے گا۔ اس صورت میں آدمی بہت چاق و چوبند اور بهادر معلوم ہوتا ہے۔ اضطبا ع اور زیلہراس طواف میں مسنون ہیں جس کے بعد سے ہو، البتر زیلہصرف ابتدا میں چکر ون میں ہو گا اور پورے سات چکر اضطبا ع کی حالتمیں ہو گی۔ مرق ات اور اشتعالمعات12 طواف عمرہ میں زیل اور اضطبا ع مسنون ہے

Ya‘la ibn Umayyah (may Allah be pleased with him) reported: The Prophet (ﷺ) performed Tawaf while wearing a green cloak, with his right shoulder uncovered (Idtiba‘). [Narrated by At-Tirmidhi, Abu Dawud, Ibn Majah, and Ad-Darimi]

3596

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (غزوہ حنین سے واپسی کے موقع پر) اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کے ساتھ مقام جعرانہ (جو کہ تے طائف کے راستے پر ایک منزل ہے) سے عمرہ ادفرمایا۔ (عمرہ کا احرام باندھ کر جب بیت اللہ شریف میں داخل ہوئے تو) پہلی تین چکروں میں زیل فرمایا (جیسے پہلو انوں کی طرح قدموں کو قریب قریب ظال کر اچلتے ہوئے طواف کیا ہا کے مشترکین پر رعب طاری ہو)۔ زیل تو پہلی تین چکروں میں ہوا، لیکن ساتوں چکر اضطبا ع کی حالتمیں کے اس طرح کے) احرام کی چادر ون کو اپنے بغل ون کے نیچے نکال کر اپنے باعین کنہوں میں ظال لیا (اس طرح کے سیدہا کندهے کے رہے)۔ اس کی روایت ابوداود نے کی ہے۔ دورانی طواف جعراسوداورد کنیمانی کے درمیان کی ماثورہ دعاے

Ibn Abbas (may Allah be pleased with them) reported: The Prophet (ﷺ) and his companions performed Umrah from Al-Ji‘irranah, walking briskly (Ramal) around the House, with their cloaks tucked under their right armpits and draped over their left shoulders. [Narrated by Abu Dawud]

3597

عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (طواف کے دوران) دونوں رکن لیمن حجر اسود اور رکن یمانی کے درمیان پڑعا ئفرما تے سنہ:

"رَبَّنَا اتِنَا فِی الدُّنِیَا حَسَنَةً وَفِی الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ"۔ اے ہمارے پروردگار! آپ ہمیں دنیا میں برتم کی بجلائی اور آخرت میں بھی برتم کی بجلائی عطا فرمائیں اور ہم کو دوزخ کے عذاب سے بچائیں۔ اس کی روایت ابو داود نے کی ہے۔

ف: مشتق میں امام ابو حنیفرحمہ اللہ مرودی کے طواف کرنے والے کو دوران طواف قرآن نہیں پڑھنا چاہئے۔ البتہ وہ اللہ کا ذکر، تسبیح، تحمید اور تکبیر کہہ سکتا ہے اور رواختار میں کلمات کے صدر کی حدیث میں جو آیت ذکور کے اس کا پڑھنا اس لے مسنون ہے کہ پڑھنا آیت دعا کیے اور مرقات میں ذکور کے اس آیت تشریف میں پہلے حسنے مراد عمل عمل یعنی عافیت اور اچھی روزی احوال طیبہ یا قناعت یا نیک اولاد ہے، اور دوم سے حسنے مراد مغفرت، جنت یا اخیاء کرام کی صحبت یاد یاد را یا ہے اور شرط ابو حسن بکری رحمہ اللہ فرما یہ کہ آیت تشریف کے لفظ حسن کی تفسیر میں کوئی ستر (70) قول ذکور میں اور سب میں بہتر قول یہ کہ پہلے حسنے مراد اتباع نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے اور دوم سے حسنے مراد خوش نوری مولی تعالیٰ ہے۔12 رکن یمانی کے پاس کی ماثورہ دعاء

Abdullah ibn As-Sa’ib (may Allah be pleased with him) reported: I heard the Prophet (ﷺ) say between the two corners (Rukn Yamani and Black Stone): "Our Lord, give us good in this world and good in the Hereafter, and protect us from the punishment of the Fire." (Al-Baqarah 2:201) [Narrated by Abu Dawud]

In Radd al-Muḥtar: "It is narrated that the Prophet (ﷺ) said between the two corners: 'Our Lord, give us...' (Al-Baqarah 2:201). This does not contradict the earlier ruling, as it likely refers to recitation unrelated to dhikr, or it was said specifically for dhikr, or to demonstrate permissibility."

3598

اللہم انى اسئلك العفو والعافية في الدنيا والآخرة۔ رَبَّنَا اتِنَا فِی الدُّنِیَا حَسَنَةً وَفِی الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرما یہ کہ رکن یمانی کے پاس ستر فرثہ بیشہ متعمین رہتے ہیں اور جو کوئی پر دعا کرتا ہے تو وہ سب (اس کی دعاء پر) آمین کہتے ہیں (وہ دعاء یہ):

اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔

ف: واضح ہوگرکن میانی کے پاس کئی اور دعا میں ماؤروہ بین جمن کا ذکر مختلف حدیثوں میں

موجود ہے ان میں سے ایک حدیث یہ ہے جس کو حاکم نے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ میں جب کچھ (طواف کے دوران) رکن میانی کے پاس پیو پیا تو وبال

حضرت جبریل علیہ الصلاۃ والسلام کو پیا اور حضرت جبریل نے فرمایا کے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

پیہال یودعا کیجے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا کون کی دعا پڑھوں تو حضرت جبریل

نے فرمایا یودعا پڑھو:

اللہم اِنّی أَعُوذُ بِکَ مِنَ الْکُفْرِ وَ الْفَاقَةِ وَ مَوْاقِتِ الْخِزِی فِی الدُّنْیَا وَ الْآخِرَۃِ

اِنّی ! مِنْ کَفْرٍ وَ فَاقَۃٍ سَ اور دنیا اور آ خرت میں رسوائی کے حالات میں بھلا ہو نے سے آپ

کی پناہ میں آتا ہوں (آپ بھی کفر، فاقہ اور داریں کی رسوائی سے پچائے)۔

اس کے بعد حضرت جبریل نے فرمایا کہ جبراسو اور رکن میانی کے درمیان ستر پڑار فرشتہ

متعمین ہیں اور جب بندہ یہ ذکورہ دعا پڑھتا ہے تو وہ سب آمین کہتے ہیں۔ (حدیث ختم ہوئی)۔ معلوم

ہونا چاہیے کہ جب کوئی شخص دعا کرے اور فرشتہ اس پر آمین کہیں تو وہ دعا قبول ہوگر رہتی ہے، اس

لئے جانچ کرام کو چاہیے کہ کعبہ اللہ شریف کی حاضری کو غیمت جان کر طواف کے دوران پیہال ذکورہ

دعا کریں تاکہ دنیا اور آخرت کی بجلائی حاصل ہو۔12

دوران طواف نجح، تحمید اور تکبیر پڑھنے کی فضیلت

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) reported: The Prophet (ﷺ) said, "The Yemeni Corner is entrusted to seventy angels. Whoever says: 'O Allah, I ask You for pardon and well-being in this life and the Hereafter. Our Lord, give us good in this world and good in the Hereafter, and protect us from the punishment of the Fire,' they say 'Ameen.'" [Narrated by Ibn Majah]

3599

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے

ارشاد فرمایا ہے کہ جو شخص بیت اللہ شریف کے سات (7) چکر کرے اور (دوران طواف) صرف یہی

کلمات پڑھتا رہے: سُبْحَانَ اللہ وَ الْحَمدُ للہ وَ لاَ إِلَهُ إِلَّا اللہ وَ اللہُ أَکْبَرُ وَ لاَ حَوْلَ وَ لا

قُوَّۃَ إِلَّا بِاللہ تَواس کے دونوں کناہ متادیہ جاتے ہیں اور دس نییال کسی جانی ہیں اور (جنت میں)

اس کے دس درب بلند کے جاتے ہیں (اس کے علاوہ) دوران طواف ان ذکورہ کلمات کو پڑھنے والا

اپنے پیرول سے رحمت الہی میں ایسادوب جاتا ہے جسے پانی میں ذوبنے والے اپنے پاؤں کے بل پانی

میں ذوبتا ہے۔ اس کی روایت ابن مجہد کی ہے۔

ف: واضح ہوگر حدیث شریف میں سجان اللہ ای آخرہ کے دوران طواف پڑھنے والے کو دو قسم

کے فائدے حاصل ہوتے ہیں ایک غیر حسی دورے حسی، غیر حسی فائدہ حدیث شریف کے پہلے حصہ

میں ارشاد فرمایا گیا ہے کر ایسے شخص کے لگناہ معاف ہوتے ہیں نییاں کہی جاتی ہیں اور درب بلند

ہوتے ہیں اور حدیث شریف کے آخری حصہ میں حسی فائدہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ وہ رحمت الہی میں

پاؤں کے بل ذوب جاتا ہے جس طرح کوئی شخص پاؤں کے بل پانی میں ذوب جاتا ہے۔

مرقات

حج اعمرہ کے طواف کا طریقہ

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) reported: The Prophet (ﷺ) said, "Whoever performs Tawaf around the House seven times, speaking only: 'Subhan Allah,' 'Alhamdulillah,' 'La ilaha illa Allah,' 'Allahu Akbar,' and 'La hawla wa la quwwata illa billah,' ten sins are erased, ten good deeds are recorded, and he is raised ten degrees. But whoever performs Tawaf while speaking (otherwise), he is like one wading into mercy up to his ankles." [Narrated by Ibn Majah]

3600

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و

آلم وسلم جب حج اعمرہ کا طواف فرماتے تو طواف کی پہلی تین چکروں میں رمل فرماتے (یعنی تیز قدی

تے اچل اچل کر چلتے تھے) اور باقی چار چکر معمولی چال سے ادا فرماتے، پھر (مقام ابراہیم میں)

دو گانہ طواف ادا فرماتے، پھر صفا اور مر وہ کے درمیان سے فرماتے۔

اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفرق طور پر کی ہے۔

سے کرتے وقت میلین اخضرین میں دور نامسنون ہے

Ibn Umar (may Allah be pleased with them) reported: When the Prophet (ﷺ) performed Tawaf for Hajj or Umrah upon arrival, he would walk briskly (Ramal) for three circuits and walk normally for four, then pray two rak‘ahs, then perform Sa‘i between Safa and Marwah. [Agreed upon]

3601

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلم وسلم نے

(جب حج اعمرہ کا طواف فرما تو آپ نے طواف کی ابتداء تجراسودے فرمائی اور آپ نے) تجراسود

سے تجراسود کے (ابتدا کی) تین چکر ون میں رمل فرما اور باقی چار چکر معمولی رفتار سے ادا فرماتے اور

(جب آپ سے کے لیے تشریف لے گئے تو) صفا اور مر وہ کے درمیان شیبی حصہ میں (پہو چے جس کو

میلین اخضرین کہا جاتا ہے تو) (اپنے پچون کے بل) دورتے ہوئے گزرے (میلین اخضرین میں

اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔

دوڑ ناسی کی بھرچگر میں مسنون ہے)-

سعی کر تے وقت صفا اور مرودہ پر دعا کرنا مسنون ہے

Ibn Umar (may Allah be pleased with them) reported: The Prophet (ﷺ) performed Ramal from the Black Stone to the Black Stone three times and walked four times. He would walk briskly in the valley between Safa and Marwah. [Narrated by Muslim]

3602

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تے روایت سے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (نے یا

عمرتے کے لئے) کہ کر میں داخل ہوئے تو حجراسود کے پاس تشریف لائے)اور حجراسود کو بوس دیا

پھر بیت اللہ تشریف کا طواف فرمایا پھر (سعی کے لئے) صفا پر تشریف لائے اوراس پر چٹھے گئے اور

جب کعبہ اللہ پر نظر پڑی تو (اس کی طرف دیکھ کر) دونوں باٹھا اٹھائے اور اللہ کا ذکر کرتے تے اور تمید

فرماتی اور دعا فرماتے رہے (اور مرودہ پر بھی چٹھے ہو کر پھی میں فرمایا)- (جسیا کہ مسلم کی روایت میں

نذکور ہے-) اس کی روایت ابوداود نے کی ہے-

صفا اور مرودہ کے درمیان سعی کا جواب

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) reported: The Prophet (ﷺ) entered Makkah, touched the Black Stone, performed Tawaf, then ascended Safa, faced the Ka‘bah, raised his hands, and supplicated as he wished. [Narrated by Abu Dawud]

3603

صفیہ بنت شیبہ رضی اللہ عنہما سے روایت سے وہ فرماتی ہیں کہ مجھے بنت الی تجراء

نےخبر دی کہ وہ چند قریبی خواتین کے ساتھ آئیں ابا الحسین کے گھر گئیں تاکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و

آلہ وسلم کو صفا اور مرودہ کے درمیان سعی فرماتے ہوئے دیکھا کر آپ (میلین اخضرین میں) اسی تیزی سے دوڑ رہے

تھے کہ حس کی وجہ سے مئزر چھین وہ چادر حس کو آپ اؤڑے ہوئے تھے، تیز دوڑ نے کی وجہ سے پھر

رہی چھی اور میں نے آپ کو پیارشاد فرماتے ہوئے کہی سنا (لوگو!) سعی کرو، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے

تم پر سعی کو واجب کیا ہے- اس کی روایت ثرہ السہ میں کی ہے اور امام احمد نے بھی اسی کے قریب

قریب روایت کی ہے- (جسیا کراشعۃ اللمعات میں نذکور ہے-12)

ف(1): اس حدیث تشریف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے

“اسعوا“( اے لوگو! سے کرو) پصیغام رکہ او رامرے وجوب ثابت ہے۔ اس لے لے اس سے ثابت

ہوا کر سے واجب ہے او رہی نہ بہ بحقی ہے۔ بدایی، فتح القدیر 12

ف (2): اس حدیث شریف سے میلین اخضرين میں تیز دورت نے کا ثبوت ملتا ہے او رہی بلی

پاحجرہ رضی اللہ علیہما کی اتباع میں یمسنون سے کرآپ پ حضرت اسلمعلی علی الصلاۃ والسلام کو جب کعبہ

اللہ شریف کے پاس چحوڑکر پانی کی تلاش میں نکلی تو وادی کے نشیبی حضر میں جس کواب میلین اخضرين

کہہ جیس تیزی سے دورتیں تاکہ وادی کے بالائی حصہ پر جلد پہوچ کر اپنے صاحجزادہ کو دکھی

سکیں۔ اہ)

اورامام احمد رحمہ اللہ ابن عباس رضی اللہ علیہما سے روایت کی سے کر حضرت ابراہیم علی

نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام کوجب مناسک نج کا حکم ہوا تو سے کے موقع پراسی جگہ لیئے میلین

اخضرين کے پاس شیطان نے آپ کور کناجاپا لیکن آپ دور کرا گے بلا گے مرقات۔ 12

دوران سے میں لوگول کوہٹوپچونہ کمیں

Safiyyah bint Shaybah reported: A woman from Quraysh told me, "I entered a house with other women to observe the Prophet (ﷺ) performing Sa‘i between Safa and Marwah. I saw him walking so vigorously that his lower garment swayed, and I heard him say, 'Perform Sa‘i, for Allah has prescribed it for you.'" [Narrated in Sharh as-Sunnah]

3604

قد امر بن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت سے وہ فرماتے ہیں کہ میں

نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (اثروهام کی وجہ سے اور تعلیم کی خاطر) جسیا کر عرف

شذی اور ککب دری میں نذور سے۔ 12) صفا اور مروہ کے درمیان اونٹ پرسوار ہوکر سے

فرماتے ہوئے دیکھا سے۔ (دوران سے میں) آپ نے اونٹ کونہ تو مارا اور نہ بانکا اور (لوگول

کو پنا نے کے لے) ہٹوپچو، ہٹوپچو نہیں فرامیا (جسیا کہ باشہول اور امراء کی سوار پول کے

آگے کیا جاتا سے۔)

اس کی روایت شرح سنبلہ کی سے۔

بلاعذر طواف اور سے سوار ہوکر نہ کرنا چاہیے

ف: واضح ہوکر طواف کی طرح سے میں الصفاء والمروہ کی پیادہ ادا کرنا واجب ہے البتہ اگر

کوئی عذر ہو، اور پیادہ چلنے ممکن نہ ہو تو سواری پر طواف اور سے ادا کر سکتے ہیں۔ بدایی 12

Quḍāmah ibn Abdullah (may Allah be pleased with him) reported: I saw the Prophet (ﷺ) performing Sa‘i between Safa and Marwah on a camel, without rushing or pushing. [Narrated in Sharh as-Sunnah]

طواٌف کی ابتداے اپنے سیدے حجانب سے کرنے چاہیے
3605

جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کلم کر رہے میں داخل ہوئے تو (طواٌف کے وقت) حجر اسود کے پاس تشریف لائے اس کو بوس دیا اور طواٌف کی ابتدا اپنے سیدے حجانب سے فرماتے (تاکہ دوران طواٌف قلب بیت اللہ کے مجاٌزی رہے) آپ نے (طواٌف کے دوران) پہلے تین چکرول میں زل فرما یا اور باقی چار چکر معمولی رفتارت ادا فرماتے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔

حجر اسود کو باٹھ کرنا اور بوس دینا دونوں مسنون ہیں

Jabir (may Allah be pleased with him) reported: Upon arriving in Makkah, the Prophet (ﷺ) touched the Black Stone, then walked to the right and performed Ramal for three circuits. [Narrated by Muslim]

3606

زبیر بن عربی رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حجر اسود کو بوس دینے کے بارے میں دریافت کیا؟ تو آپ نے جواب دیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ حجر اسود کا استلام فرماتے (لیعن باٹھ کے چھوکر باٹھ کو بوس دیتے)۔ اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔

حجر اسود کو بوس دینا میں حکم اور اتباع نبوی میں ہے

Az-Zubayr ibn Arabi reported: A man asked Ibn Umar (may Allah be pleased with them) about touching the Black Stone. He said, "I saw the Prophet (ﷺ) touch and kiss it." [Narrated by Al-Bukhari]

3607

عابس بن ربعیہ رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ حجر اسود کو بوس دیتے ہوئے پول فرمارہے تھے، میں جانتا ہوں کہ تو ایک پچڑہ ہے، نہ تو کسی کو نفع پہنچا سکتا ہے اور نقصان۔ اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہوتا تو میں بھی تھے بوس دیتا۔

اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔

مسلمان حجر اسود کو کیول بوس دیتے ہیں

تو ایک قطرہ جوڑا تو نفع پہوچا سکتا ہے اور نقصان ....... اگر

و اگر ہو کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ارشاد کا مقصد یہ ہے کہ جبراسود کا بوسہ محض حضور ہی

کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں ہے اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جبراسود کو بوسہ دینا اللہ

تعالیٰ کے حکم کی تقلید میں ہے جسیا کہ مرقات میں ابن ابی شیبہ کے حوالے سے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ

وسلم کا اپنے ارشاد مذکور ہے کہ آپ نے جبراسود کے روبرو کھڑے ہو کر ارشاد فرمائیں جانتا ہوں کرتا تو

ایک قطرہ جوڑا تھی (خورتے) نفع اور نقصان کا ما لک نہیں ہے اگر میرا رب مجھے بوسہ کا حکم نہ

دیتا تو میں کچھ بھی جوڑوں بوسہ نہ دیتا اہل اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی چیز بذات خود نفع یا نقصان کی

ما لک نہیں اب رباپی کے مشرکین کچھ جبراسود کو بوسہ دیتے ہیں اور اب مسلمان کچھ جبراسود کو بوسہ

دیتے ہیں ظاہر دونوں کا عمل ایک ہے لیکن حقیقت میں دونوں کی نیت جدا جدا ہوتی ہے مشرکین

اس کو بالذات نفع یا نقصان کا ما لک نہیں ہے اس کے برخلاف مسلمان صرف اتباع نبوی صلی

اللہ علیہ و آله وسلم اور تقلید حکم میں یہ کام کرتے ہیں اور نفع و نقصان کا ما لک صرف اللہ تعالیٰ کی کوئی

ہے اس لیے مسلمان کا جبراسود کو بوسہ دینا تقلید حکم اور اتباع نبوی میں ہے جسیا کہ حضرت عمر رضی

اللہ عنہ کے قول سے ظاہر ہے اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا مذکورہ

ارشاد اس وجہ سے تھا کہ لوگ زمانہ جابلیت سے قریب تھے وہ اس فرق کو اچھی طرح سمجھ لیں۔

مرقات اوراشعیۃ اللمعات

جبراسوداور رکن بمائی کا استلام مسنون ہے

پہلی حدیث

Abis ibn Rabi‘ah reported: I saw Umar (may Allah be pleased with him) kiss the Black Stone and say, "I know you are just a stone that can neither harm nor benefit. Had I not seen the Prophet (ﷺ) kiss you, I would not have done so." [Agreed upon]

ف: اس حدیث تشریف میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا حجر اسود کے بارے میں پارشادہ کر

3608

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے و فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی

اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بیشہ (دوران طواف) صرف دور کن جویس کی طرف ہی بین رکن جبراسوداور

رکن بمائی کا (جواس سے متصل ہے) استلام فرماتے دیکھا ہے۔

اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔

حجراسوداور رکن يمانی کے استلام کی علت

ف: صاحب مرقات نے کہا ہے کہ بیت اللہ شریف کے چار ارکان (کونے،گوشے) میں جتن پربیت اللہ شریف قائم ہے ان میں سے دویعن رکن حجراسوداوراس کے بعد کارکن جوجانب میں ہے،حضرت ابراہیم علی نبیا وعلیہ الصلوۃ والسلام کی بنیادول پرابتک قائم ہے برخلاف اس کے کعبہ اللہ شریف کے بقیہ دور کن بین رکن عراقی اور کن شامی کی بنیادی اپنی اصلی حالت پر نہیں ہیں۔ اس لے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکن حجراسود کو بوسہ کی دیتے تھا اور باٹھ کی لگاتے تھے،اس لے کہ اس میں حجراسود کی سے اور کن يمانی کوصرف باٹھ کی لگاتے تھا اور بقیہ دونول رکنول کونہ باٹھ کی نہ بوسہ دیتے تھے،اس لے رکن عراقی اور کن شامی کو باٹھ کی نہیں بوسہ دیتا کرتا ہے جسیا کہ رواختا ریں جن کے خوالہ سے ذکورہ۔12

Ibn Umar (may Allah be pleased with them) reported: "I never saw the Prophet (ﷺ) touch any part of the Ka‘bah except the two Yemeni Corners." [Agreed upon]

دوسری حدیث
3609

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے آپ فرماتے تھیں کہ جب سے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوان دونول رکن رکن يمانی اور کن حجراسود کا استلام فرماتے دیکھا ہے اس وقت سے نہمیں نہمیں ان دونول رکنول کے استلام کو نہیں چھوڑا،خواہ ان کے پاس لوگول کی بھیطر ہو یا جگہ خالی ہو۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔

Ibn Umar (may Allah be pleased with them) reported: "We never abandoned touching these two corners, the Yemeni Corner and the Black Stone, in hardship or ease, since I saw the Prophet (ﷺ) do so." [Agreed upon]

In another narration: Nafi‘ said, "I saw Ibn Umar touch the Black Stone with his hand and kiss his hand, saying, 'I have never abandoned this since I saw the Prophet (ﷺ) do it.'"

3610

اور بخاری اور مسلم کی ایک اور روایت میں حضرت نافع فرماتے تھیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا ہے کہ لوگول کی بھیطر کے وقت حجراسود کو بوسہ نہیں دے سکنے کی وجہ سے آپ حجراسود کو باٹھ سے چھوٹے اور پھر اپنے باٹھ کو چوم لیتے۔اور حضرت نافع یہی فرماتے تھیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو سنا آپ فرماتے تھے کہ جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنا کرتے دیکھا ہے میں نے کہیں کا استلام نہیں کیا۔

پہلی حدیث

Ibn Umar (may Allah be pleased with them) reported: "We never abandoned touching these two corners, the Yemeni Corner and the Black Stone, in hardship or ease, since I saw the Prophet (ﷺ) do so." [Agreed upon]

In another narration: Nafi‘ said, "I saw Ibn Umar touch the Black Stone with his hand and kiss his hand, saying, 'I have never abandoned this since I saw the Prophet (ﷺ) do it.'"

عذر کی وجہ سے سواری پر طواف جائزہے
3611

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پراونٹ پرطوف فرمايااور (دوران طواف اپنی عصا جس کا سراخمار (مرہاہوا) تھا تجراسود کو لائے تو اوراس کوبوسدیتے تھے۔

Ibn Abbas (may Allah be pleased with them) reported: The Prophet (ﷺ) performed Tawaf on a camel, pointing to the Corner with something in his hand and saying Takbir. [Narrated by Al-Bukhari]

3612

اور ابوداود کی ایک روایت میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، یہ مردوی سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (حجۃ الوداع کے موقع پر) جب کہ معظمو تشریف لاے تو آپ پیارے تھے اس لئے آپ نے سواری پر طواف فرمايااور (دوران طواف) جب کہ جی رکن تجراسود کے رو بر وتشریف لاے تو اپنی عصا سے جس کا سراخم دار (مرہاہوا) تھا تجراسود کو لائے اورعصا کے اس حصے کو چوم لیتا تھا۔ پھر جب آپ طواف سے فارغ ہوئے تو سواری کو بھجا لے گئے اور سواری سے اترکر دوگانہ طواف ادافرما لے۔

دوسری حدیث

Ibn Abbas (may Allah be pleased with them) reported: The Prophet (ﷺ) performed Tawaf during the Farewell Hajj on a camel, touching the Corner with a stick. [Agreed upon]

In a narration by Abu Dawud: The Prophet (ﷺ) entered Makkah while ill and performed Tawaf on his mount, touching the Corner with a stick. After Tawaf, he dismounted and prayed two rak‘ahs.

طواف اور عذر اور بلغر عذر سواری پرکرنے کے احکام

ف: واضح ہو کہ نذہب حقیقی طواف اور عذری طواف الصفا والمروة پیل کرنا واجب ہے البتہ کسی نے عذر کی وجہ سے طواف اور عذری سواری پرادا کی تو پیرجا نزہے، اوراس پردم لازم نہ ہوگا اور اگر کسی نے بلغر عذر طواف اور عذری سواری پرادا کی تو اس کو چاہیے کہ معدوم کے قیام میں طواف اور عذری کا پیل اعادہ کر لے اور اگر ایسا شخص اعادہ کے بلغر اپنے وطن واپس ہوجانے تو اس پردم لازم ہوگا۔ فتح

(12)

القدیر۔12

3613

ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ میں نے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! میں پیارہوں (اس لے لے میں پیل طواف نہیں کر سکتا، تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمائی تم، لوگوں سے دور دور سواری پر طواف کرلو۔ چنانچہ میں نے (سواری پر) طواف کیا اور (اس وقت) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کعبۃ اللہ شریف کے قریب نماز پڑھ رہے تھے اور نماز میں سورہ الطور و کتاب مسطور پڑھ رہے تھے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔

Umm Salamah (may Allah be pleased with her) reported: I complained to the Prophet (ﷺ) about my illness. He said, "Perform Tawaf behind the people while riding." So I did, while the Prophet (ﷺ) prayed beside the Ka‘bah, reciting Surah At-Tur. [Agreed upon]

تیسری حدیث
3614

جابر رضی اللہ عنہ نے روایت کہ وہ فراماتے میں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جہے الوداع کے موقع پر اپنی سواری پر طواف فرمایا اور (طواف کے دوران) اپنی ختم دار (مرتبہوئے) سرے والے عصاتے حجر اسود کا استلام فرماتے تھے (سواری پر طواف کا سبب یہ تھا) کہ اوپچائی پرہوئے کی وجہ سے لوگ آپ کو دیکھ کسی اور آپ سے (مناسب نہ کے مسائل) دریافت کرسکیں۔ اس لے لے کہ آپ کے گرد لوگ جمع ہوتے تھے اور اس وقت آپ کی طبيعت جسم ناساز تھی (جبیا کہ ابوداووداور بخاری کی روايتون میں ذکر ہے۔ 12) اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔ اثردهام کی وجہ سے حجر اسود کا استلام ممکن نہ ہوتا کسی چیز سے اس کی طرف اشارہ کرنے کافی ہے۔

Jabir (may Allah be pleased with him) reported: The Prophet (ﷺ) performed Tawaf during the Farewell Hajj on his mount, touching the Black Stone with a stick, so people could see him, ask him, and he could be visible to all, as they crowded around him. [Narrated by Muslim]

3615

ابن عباس رضی اللہ عنہما نے روایت کہ کہ (جہے الوداع کے موقع پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اونٹ پر (کعبۃ اللہ شریف کا) طواف فرمایا اور (دوران طواف) جب کہمی حجر اسود کے روبرو تشریف لاے اور (اثردهام کی وجہ سے کرتی سے حجر اسود کو چھوندے تو) دست مبارک کے عصاتے حجر اسود کی طرف اشارہ فرماتے اور اللہ اکبر فرماتے۔ اس کی روایت

بخاری نے کیا ہے۔

اثردهام کی وجہ توں حجراسود کی طرف جس چیز کو اشارہ کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔

Ibn Abbas (may Allah be pleased with them) reported: The Prophet (ﷺ) performed Tawaf on a camel, pointing to the Corner with something in his hand and saying Takbir. [Narrated by Al-Bukhari]

3616

ابوالطفیل رضی اللہ عنہ سے روایت وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو طواف فرماتے ہوئے دیکھا، اور (طواف کے دوران اثردهام کی وجہ سے) آپ اپنے خداوند کے اوپر لگے حجراسود کی طرف اشارہ فرماتے اور پھراس عصا کو چوم لیتے۔

اس کی روایت مسلماً نے کیا ہے۔

ف: واضح ہو کہ صدر کی حد تھول میں حجراسود کے استلام کا ذکر ہے۔ دوران طواف بہ صورت حجراسود کا استلام ضروری ہے موٹے ملنے تو حجراسود کو چوم لے پائیں گے کہ چوم ہوتا پاتا ہے۔ یا کسی چیز سے حجراسود کو سکرتے اور اس چیزوں کو چوم لے۔ تمیری صورت میں کہ کا اگر محیط کی وجہ سے دونوں صورتوں ممکن نہ ہوں تو حجراسود کی طرف باطنی یا کسی چیز کے اشارہ کرنے کے لیے چیزوں کو بوسم دے لے۔ پیثیوں صورتوں استلام کہلاتی ہیں۔ البتہ دوران طواف رکنی عمل کا صرف باطنی سے چھونا مسنون ہے۔ اور اثردهام کی وجہ سے باطنی لگنا ممکن نہ ہوتا رکنی عمل کے پاس سے بغیر باطنی لگنے گزر جانے یہاں اشارہ کرنے درست نہیں ہے۔ اشعار لمعات اور مرقات۔ 12

حاصل طواف کعبہ کے سوا تمام مناسک نجاداکرے

Abu At-Ṭufayl (may Allah be pleased with him) reported: I saw the Prophet (ﷺ) perform Tawaf, touching the Corner with a stick and kissing the stick. [Narrated by Muslim]

استلام کی تعریف اور اس کے طریقے
3617

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقرضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ جب الوداع کے موٹے پر، انہوں نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ (نج کے لیے نگل) اورتم (اپنے تمعبیر میں) صرف نجی کا ذکر کرتے تھے (ام المومنین فرماتی ہیں کہ) جب انہوں نے مقام سرف (جو کہ معظموں کے ایک محل کے فاصلے پر ہے) میں پہوچے تو مجھے حیض آنے لگا تو (اس اندیشہ کے حیض کی وجہ سے میرانگی باطل نہ ہوجائے) میں روزہی چیز کے میرے پاس حضور صلی اللہ علیہ وآلہ

و سلم تشریف لاۓ (پر دیکھ کر ) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (مجھے سلی دیتے ہوئے ) فرمائا (جس کے باطل جی بلال ! (پیس کر ) حضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (مجھے سلی دیتے ہوئے ) فرمائا (جس کے باطل ہونے کا خوف نہ کرو ) حیث تو ایسی چیز ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے آدم کی بنیوں پر مقرر کر رکھا ہے تو تم غسل کر لو، احرام باندھ لو (جبیا کہ بدایی میں ذکور ہے -12) اور ) وہ تمام مناسک ادا کرو جس کو ایک حاجی کیا کرتا ہے، البتہ حیث تے پاک ہونے تک بیت اللہ تشریف کا طواف نہ کرو (اس لے کر ناپاکی کی حالت میں کعبۃ اللہ میں داخل ہونا منع ہے )۔ اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم میں متفق طور پرکی ہے۔ طواف کی حالت میں ستر عمورت واجب ہے

Aisha (may Allah be pleased with her) reported: We set out with the Prophet (ﷺ) only intending Hajj. When we reached Sarif, I began menstruating. The Prophet (ﷺ) entered while I was crying and asked, "What is wrong?" I said, "I have gotten my period." He said, "This is what Allah has decreed for the daughters of Adam. Do everything the pilgrims do, except Tawaf until you are pure." [Agreed upon]

3618

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جبۃ الوداع سے ایک سال پہلے لمنی 9 ہجری میں ) حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو امیر زجا نما (اور کہ معظّمروانہ فرما ) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے مجھے دسویں ذو الحج کو ایک جماعت کے ساتھ لوگوں میں پر اعلان کرنے کے لے بجا کے اس سال کے بعد لمنی (10 ہجری میں ) مج کے لے (اور نعمہ کے لے اور نہ سکونت کے لے حد و حرمت اور کہ معظّم میں ) کوئی مشرك داخل نہ ہوا اور کوئی (زمانتہ جابلیت کے مشرقین کی طرح ) خانہ کعبہ کا طواف برہند کرے )۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم میں متفق طور پرکی ہے۔ ف : واضح ہو کہ در مختار میں کہا ہے کہ ستر عمورت مردوں کے لے نہیں بلکہ طواف کے واجبات سے ہے۔ اس لے اگر کوئی شخص ستر عمورت (لمنی ناف سے لے گہتنے کے نیچے کے ) میں کسی عضو کے چوٹیوالی حصر کو حل کر کر طواف کرے تو اس پر دم لازم آئے گا۔ اہ، حکم عورتوں سے متتعلق نہیں ہے۔ اس لے کہ عورتوں کو تو طواف کی حالت میں حسب معمول پورا جسم پچپانا ضروری ہے۔

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) reported: Abu Bakr (may Allah be pleased with him) sent me on the Hajj the Prophet (ﷺ) appointed him to lead before the Farewell Hajj, on the Day of Sacrifice, to announce: "No polytheist may perform Hajj after this year, and no one may perform Tawaf naked." [Agreed upon]