Nūr al-Maṣābīḥ
کِتَابُ الْمَناسِكِ

The Rites of Pilgrimage
Volume 5 · Rites of Pilgrimage

(اس کتاب میں حج کے افعال، احكام اور فضائل کا بیان ہے)

وَقَوْلُ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ: " وَلِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيْلاً،

وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ اللّٰهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِيْنَ "۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: (سورۃ آل

عمران، ع: 10، پ: 4، آیت نمبر: 97، میں) اور اللہ تعالیٰ کے واسطے ان لوگوں پراس مکان لیجن

کعبۃ اللہ کے فرض ہے جو بالکل پہنچ کی استطاعت اور قدرت رکھتے ہیں اور جو شخص اس کا مکفر

ہو ( تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی پرواہ نہیں ) اللہ تعالیٰ تو تمام جہان والوں سے غنی ہیں ( کہ سی کے نہ

مانے سے اللہ تعالیٰ کا کوئی کام رکتا نہیں بلکہ انکار سے خود اس شخص کا ہی نقصان ہے )۔

قرآن سے حج کی فرضیت کا ثبوت

ف(1): تفسیرات احمدی میں لکھا ہے کہ صد رکی آیت " وَلِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ ...... اح " سے

حج کی فرضیت ثابت ہے لیکن مطلقاً نہیں بلکہ اس شخص پر جو کعبۃ اللہ کے پہو چنے پر قادر ہو، اور بدایی میں

لکھا ہے کہ حج فریضہ مکمل ہے جس کی فرضیت کتاب اللہ کی آیت شریفہ " وَلِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ

الْبَيْتِ...... اح " سے ثابت ہے

حج عمر میں ایک بار فرض ہے

ف(2): بدایی میں لکھا ہے کہ حج تمام عمر میں صرف ایک بار فرض ہے اس لے کر حج کی

فرضیت کا سبب بیت اللہ کے اور وہ ایک سے اور علم اصول کا قاعدہ ہے کہ جب تک سبب کی تکرار نہ ہو

واجب کی تکرار نہیں ہوتی اہ

حج کے عمر میں ایک بار فرض ہونے پر مسلم کی یہ حدیث جس کی دلالت کرتی ہے کہ حضرت صلی اللہ

علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے لوگو! تم پرج فرض کیا گیا ہے تو تم ج کرو۔ ایک صاحب نے

دریافت کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے

سکوت اختیار فرما یہ حال تک کراس شخص نے تین مرتبہ پرسوال دہرایا۔ پھر آپ نے ارشاد فرما کہ آگر

تمہارے اس سوال پر میں بلال کہ دیتا تو ہر سال تم پرج فرض ہوجائے گا جس کی تم طاقت نہ رکھے۔ 12

عورت کے لیے حرم کی ضرورت اوراس کے اسباب

ف(3): صدر کی آیت میں ارشاد ہے: "مَنِ اسْطَاعَ الیْهِ سَبِیلاً" یعنی جس شخص پر

فرض ہے جو کعبہ اللہ کے پہو چنے کی قدرت رکھتا ہو۔ فرغ القدرت میں کلحال کے عورتوں سے بیش متعلق

ہے ہوگا، اگر عورت کے ساتھ اس کا شوہر یا حرم نہ ہو، اس لئے کے عورت تنا سفر کے دوران بخیر کی

سہارت کے سواری وغیرہ پر اتر چڑھ نہیں سکتی جب تک کوئی اس کو سہارا دے کرنا اتارے اور نہ

چڑھا لے۔ اور حرم یا شوہر کے سوا کوئی اس کون سواری پر چڑھا سکتا ہے اور نہ اتار سکتا ہے۔ اس وجہ سے

تمام عورتیں حرم یا شوہر کی معیت کے بغیر نہ پر قادرنہیں ہوسکیں گی، اگر بعض عورتیں بغیر شوہر یا حرم کے

سواری پر اتر نے اور چڑھ نہ پر قادر ہول تو بھی ایسے موقعوں پر عورت کے ایٹیال، پیر، پنڈ لیال اور کلائی

کے کحل جانے کا اندیشہ رہتا ہے۔ اور حرم کی ضرورت ایسے موقعوں کے لئے ہے کہ وہ عورت کی ستر

پوٹی کا خیال رکے۔ فرغ القدرت کی عبارت یہاں ختم ہوگی۔

علاوہ ازیں نے کے سفر میں شوہر یا حرم کی ضرورت اس وجہ سے بھی ہے کہ دوران سفر میں اگر وہ

پیار ہوجائے تو اس کی یتیما داریء انجا نے بھلا نے اور کھلا نے پلا نے وغیرہ کا کام سواے شوہر یا حرم کے

غیر شخص نہیں کر سکتا۔

اس وجہ سے شوہر یا حرم کے بغیر عورت نے کے سفر پر قادرنہیں ہوسکتی۔

عمر مجھر میں ایک بار ج کی فرضیت اور کثرت سوال سے ممانعت

پہلی حدیث

This book discusses the actions, rulings, and virtues of Hajj.

And Allah’s statement, may He be glorified and exalted: 'And [due] to Allah from the people is a pilgrimage to the House, whosoever is able to find thereto a way. And whoever disbelieves, then indeed, Allah is free from need of the worlds.' [Surah Al-Imran, Chapter 3, Verse 97]

And the guidance of Allah, the Exalted, is that it is obligatory for those who have the means and ability to travel to the Ka'bah to perform the Hajj. As for the one who disbelieves, Allah, the Exalted, has no need of him. Allah, the Exalted, is free from need of all the worlds (for their disbelief does not affect Allah in any way; rather, it is the disbeliever himself who suffers loss).

In the Tafsir Ahmad, it is written that the hundredth verse, “And [as for] Allah, [He has made] pilgrimage to the House incumbent upon people...” (Quran 3:97), establishes the obligation of Hajj, but not absolutely; rather, it is incumbent upon the person who is capable of reaching the precincts of the House of Allah. In Badayi, it is written that the obligation of Hajj is fully established by the noble verse of the Book of Allah, “And [as for] Allah, [He has made] pilgrimage to the House incumbent upon people...” (Quran 3:97).

It is written in the introductory section that the Hajj is obligatory only once in a lifetime, and this is because the obligation of Hajj is due to the House of Allah, and it is a principle of the science of usul that as long as the cause does not repeat, the obligation does not repeat. This hadith, which indicates that Hajj is obligatory only once in a lifetime, is narrated by the Prophet ﷺ.

The Prophet (SAW) said: O people! If the pilgrimage is made obligatory upon you, then perform it. A man asked, or the Messenger of Allah (SAW) remained silent until this person had repeated his question three times. Then he (SAW) said that if I were to answer your question affirmatively, you would be required to perform the pilgrimage every year, which you would not have the capacity to do. 12

The necessity of a mahram for a woman and its reasons:

(3): In the verse of the opening, it is stated: 'Whosoever has the means to reach it', meaning the person who has the ability to travel to the Ka'bah. This condition of ability is more applicable to women in the current era, especially if the woman does not have her husband or a mahram with her. Therefore, a woman cannot mount or dismount from a conveyance during the journey without assistance, as she needs someone to help her mount and dismount. No one other than her husband or mahram can assist her in mounting or dismounting. For this reason, all women cannot be considered capable of performing the pilgrimage without a husband or mahram. Even if some women might be able to mount and dismount without a husband or mahram, there is still the concern of their hair, face, and other parts of their body being exposed. The presence of a mahram is necessary to ensure the woman's modesty and privacy. The explanation of the condition of ability ends here.

Additionally, the need for a husband or mahram during travel is also due to the fact that if a woman becomes pregnant during the journey, only her husband or mahram can take care of her and raise the child. For this reason, a woman cannot be considered capable of traveling without a husband or mahram.

In the time of Umar (RA), there was once a situation where the obligation of the pilgrimage and the frequent questioning led to a prohibition.

3477

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ایک مرتبہ) خطبہ کے دوران رسول

اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرما یا لوگو! تم پر (بیت اللہ کا) حج فرض کیا گیا ہے اس لے تم جا کرو۔ پیس کرا ئے صاحب نے دریافت کیا یا رسول اللہ! کیا تم ہرسال حج کیا کریں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (اس سوال کوس کر) خاموش رہے۔ پیال تک کہ انہوں نے اس سوال کو تین مرتبہ دہرائی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما یا (سنو!) اگر میں (تمہارے سوال پر) بال کردیتا تو (ہر سال تم پر) حج فرض ہو جاتا اور تم اس کی طاقت نہیں رکھتے ہو، پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرما یا (خبردار! جب تک میں خود سی حکم کوپیان نہ کر وں) تم مجھے اپنے حال پر چھوڑ دو، جب تک کہ میں خود تم کونے چھوڑ دوں (یعنے مجھے سے پینے پوچھو کہ میں کیساہے اور کیا بارہے؟ جب تک میں تم کواس کا حکم نہ دوں) اس لے کہ تم پہلے کی امتیاز کے اغیاءت اختلاف اور کثرت سوال کی وجہ سے بلاک ہوتی ہیں۔ لہذا میں تم کو جب کسی کام کا حکم دوں تو اپنی قوت کے مطابق اس کو ادا کرو، اور جب میں تم کو کسی چیز سے منع کر وں تو اس کو چھوڑ دو۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔

دوسری حدیث

Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) addressed us, saying: "O people! Allah has made Hajj obligatory upon you, so perform Hajj." A man asked: "Every year, O Messenger of Allah?" The Prophet (ﷺ) remained silent until the man repeated it three times. Then he said: "If I had said yes, it would have become obligatory, and you would not have been able to do it. Leave me as I have left you (without excessive questioning), for those before you were destroyed by their many questions and disputes with their prophets. When I command you to do something, do as much of it as you can, and when I forbid you from something, avoid it completely." [Narrated by Muslim]

(4) The statement: "Allah has made Hajj obligatory upon you..." refers to Allah’s words: "And [due] to Allah from the people is a pilgrimage to the House..." (3:97). The obligation is once in a lifetime, as indicated by the Prophet’s (ﷺ) response: "If I had said yes, it would have become obligatory." The cause (the Kaʿbah) does not recur, so the obligation does not repeat. According to Abu Yusuf, it is immediately obligatory (not delayable), based on Allah’s command: "Whoever intends to perform Hajj, let him hasten," and the unpredictability of death. Abu Ḥanifah (in the more authentic narration) and Muḥammad held that it is delayable, like the time for prayer, unless death intervenes. The Prophet (ﷺ) delayed his own Hajj until the 10th year after its obligation in the 9th year, possibly due to the inability to perform it immediately or fear of the polytheists. (Sharḥ al-ʿAyni on Al-Kanz, Fath Allah al-Muʿin, summarized).

(5) The statement: "If I had said yes, it would have become obligatory..." supports the correct view that the Prophet (ﷺ) could exercise independent judgment (ijtihad) in rulings, not necessarily requiring revelation. This is the position of most Ḥanafī scholars, contrary to the Ashʿari and Muʿtazili view that his rulings were always divinely inspired. (Nur al-Anwar, Qamar al-Aqmar)

ف(1): واضح ہو کر چا امام ابوحنیفہ اور امام ابویوسف رحمهما اللہ کے پاس علی الفور فرض ہے جسیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرما یا کہ جونج کا ارادہ کرے اس کو چاپے کر چ کر نہ میں جلدی کرے، اس لے کہ جسی کونی پیاری آجاتی ہے اور سواری گم ہوجاتی ہے اور کونی ضرورت در پیش ہوجاتی ہے۔ اہمیت اختیال ہے کہ دیر کرنے میں پر واقعت در پیش ہونا اور نہ کر سکے اور مر جاونے تو گویا وہ ایک فرض کا تارک ہو کرمرا اس لے جسی، یہ حج فرض ہو تو دوسرا سال تک تا خیر ذکر لے بلد ای سال نچ کرے
3478

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے و فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما یا کہ اے لوگو! اللہ تعالیٰ نے تم پر حج فرض کیا ہے پیس کرا ئے بن حابس رضی اللہ عنہ کہ ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! کیا ہرسال حج فرض کیا ہے؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ

وسلم نے ارشاد فرماياگر میں بالکہ دونوں توتم پر (هر سال نج) واجب ہوتا (لمین اس کا ادا کرنا ہرسال فرض ہوجاتا) اور (ہرسال) نج واجب ہوجانے توتم (ہرسال) نج نہیں کر سکتا اوراس کی قدرت کی نہیں رکھ سکتا (پاورکو!) نج عمر میں (صرف) ایک بار (فرض) ہے اور جو شخص اس سے زیادہ کر لے نفل ہوگا۔ اس کی روایت امام احمد، نسائی اور داری نے کی ہے اور ابن حمام نے کہا ہے کہ اس کی روایت درستی نے اپنی سنن میں اور حاکم نے مستدرک میں کی ہے اور حاکم نے کہا ہے کہ یہ حدیث بخاری اور مسلم کی شرط کے موافق ہے اور شیخ نے کہا ہے کہ ابوداود اور ابن ماجہ نے بھی اس کی روایت کی ہے۔

Ibn ʿAbbas (may Allah be pleased with them) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "O people! Allah has made Hajj obligatory upon you." Al-Aqraʿ ibn Ḥabis stood and asked: "Every year, O Messenger of Allah?" The Prophet (ﷺ) replied: "If I had said yes, it would have become obligatory, and you would not have been able to do it. Hajj is once; whoever does more, it is voluntary." [Narrated by Aḥmad, An-Nasaʾi, and Ad-Darimi]

Ibn al-Humam noted that Ad-Daraqutni and Al-Hakim also recorded it, with Al-Hakim declaring it ṣahiḥ by the criteria of Al-Bukhari and Muslim. Ash-Shamni added that Abu Dawud and Ibn Majah also narrated it.

نج فی الفور واجب ہے اوراس کی تحقیق
3479

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے و فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما یے میں کہ جو شخص نج کا ارادہ کرے تو اس کو چاپٹے کر (نج کے ادا کرنے میں) جلدی کرے۔ اس کی روایت ابوداود داری نے کی ہے۔

ف: اس حدیث شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ نج فی الفور واجب ہے جس کا بدل اچھو دین نذور ہے اور مرقات میں کہا ہے کہ تین قول یہ ہے کہ نج فی الفور واجب ہے اور پیقول امام ابو يوسف اور امام ماکرحمہ اللہ کا ہے۔ اور امام ابوحنیفرحمہ اللہ سے بھی بہی مروری ہے اور امام ابوحنیفہ کی ایک دوسری روایت یہ ہے کہ نج فی الترا تی فرض ہے لمین فرضیت کے دوسروں سال میں نج ادا کیا جاسکتا ہے۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ علی الترا تی فرضیت کے قائل ہیں اور امام محمد رحمہ اللہ کے پاس نج کے فرض ہونے کے بعد اس صورت میں تاخیر جائزہ جب کہ نج کے فوت ہونے کا اندیشہ نہ ہو، لمین اگر فرض ہونے کے بعد نج ادا کرنے سے پہلے مر جائے تو وہ گناہگار ہو گا۔ امتہ کرام کے درمیان نج کی فرضیت علی الفور یا الترا تی کا جواختلاف ہے اس کا اثر پیہ کہ نج حضرات کے پاس نج علی الفور واجب ہے تو فرضیت کے بعد فوراً نج ادا کرنے والا فاسق ہو گا اور اس کی گواہی قبول نہ ہو گی۔ اس کے بر خلاف جن امتہ کے پاس نج علی الترا تی واجب ہے ان کے پاس

فرضیت نج کے بعد تا خیرتے نج ادا کرنے والا فاسق نہوگا اور اس کی گواہی بھی قبول نہوگی، لیکن اگر نج کے فرض ہونے کے بعد نج ادا کرنے سے پہلے وہ مر جائے تو بالاتفاق ایا شخص سب کے پاس گناہگار ہوگا۔ یہ تحقیق علامہ شیخ رحمۃ اللہ نے بیان فرمائی ہے۔ اس لے بہتر یہہ کر نج فرض ہونے کے بعد چاہئے کر نج فوراً ادا کر لیا جائے۔ 12

It is narrated from Ibn Abbas (RA) that he said:

The Messenger of Allah ﷺ instructed us that whoever intends to perform the ritual bath (ghusl) should hasten to complete it. This hadith is reported by Abu Dawud Dari.

فرضیت نج کے لے زاد، راحلماور نبل ضرو ری ہے
3480

النّاس حجُّ البیتِ من استطاعَ إليه سبيلا ، ومن كفرَ فإنَّ الله غنيٌّ عن العالمينَ

النّاس حجُّ البیتِ من استطاعَ إليه سبيلا، ومن كفرَ فإنَّ الله غنيٌّ عن العالمينَ

Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: “A man came to the Prophet (ﷺ) and said, ‘In my garden, there is a date-palm belonging to so-and-so, and its position bothers me.’ The Prophet (ﷺ) sent for the owner and said, ‘Sell me your date-palm.’ He said, ‘No.’ The Prophet said, ‘Then give it to me as a gift.’ He said, ‘No.’ The Prophet said, ‘Then sell it to me for a date-palm in Paradise.’ He said, ‘No.’ The Messenger of Allah (ﷺ) said, ‘I have not seen anyone more miserly than you except one who is miserly with the greeting of peace.’” [Narrated by Ahmad and Al-Bayhaqi in Shu‘ab al-Iman]

سورۃ آل عمران، ع:10، پ:4، آیت نمبر:97) کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ یارسول اللہ سبیل سے کیا مراد ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تو شراور سواری ( جیہی آمد و رفت، کہاں اور مصارف سفر اور واپسی تک الہ و عیال کا نفقہ فرامیا کہ تو شراور سواری ( جیہی آمد و رفت، کہاں اور مصارف سفر اور واپسی تک الہ و عیال کا نفقہ ) اس کی روايت حاكم نے کی ہے اور حاکم نے کہا ہے کہ یہ حدیث بخاری اور مسلم کی شرط کے موافق ہے۔ اور ان دونوں حضرات نے اس کی تخریج نہیں کی ہے
3481

طرحا س کی تخریج نہ کی ہے اور حاکم بن سلمہ نے بھی قاعدہ کے واسطے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اس

It has not been traced back, and Hakim bin Salama also reported it from Anas (RA) for the rule.

3482

روایت کی ہے۔ اور سعید بن منصور نے بھی تین طرق سے حسن بصری رضی اللہ عنہ سے مرسلاً بن عمر و بن العاص اور ابن مسعود رضی اللہ عنہم اجمعین سے مرفوعاً روايتیں بیچنے ایک دوسرے کی تائید ہوتی ہے اور اس وجہ سے امام ترمذی نے اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے۔

It is narrated that Sa'id bin Mansur also transmitted, through three chains, from Hasan al-Basri (RA) as mursal, and from 'Umar, 'Uthman, and Ibn Mas'ud (may Allah be pleased with them all) as marfu', that their reports corroborate each other, and for this reason, Imam al-Tirmidhi has classified this hadith as hasan.

3483

روایت کی ہے۔ اور اس بارے میں حضرات ابن عمر ابن عباس، ام المؤمنین عائشہ، جابر، عبد اللہ بن عمر و بن العاص اور ابن مسعود رضی اللہ عنہم اجمعین سے مرفوعاً روايتیں بیچنے ایک دوسرے کی تائید ہوتی ہے اور اس وجہ سے امام ترمذی نے اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے۔

It is narrated that the reports from Ibn Umar, Ibn Abbas, Mother of the Believers Aisha, Jaber, Abdullah bin Umar, and Ibn Masud (RA) all confirm each other regarding this matter, and for this reason, Imam Tirmidhi has classified this hadith as hasan.

3484

ن فرمایا کرآ یت مبارکہ من استطاع الیہ سپیلا، میں سبیل سے مراد کہ بدلا ہے

زاورا حلم اور سبيل سے کیا مراد ہے

ف : صدر کی حدیث شریف میں نے کے بارے میں جوآ یت ذکر کے اس میں " مَا _ _ _ _ _

استطاع الیہ سپیلا، ارشاد کے اس سلسلہ میں تفسیرات احمدی میں لکھا کے اس آیت سے معلوم

ہوتا کہ نہ برس شخص پر فرض ہے جس میں استطاعت ہو، البتر استطاعت کے بارے میں انہ کرام

کے پاس اختلاف ہے _

امام شافعی رحم اللہ کے پاس استطاعت سے مراد " زاد اور راحل " کے اور امام ماکر رحم اللہ

کے پاس استطاعت سے مراد پیہ صحبت بلدن، پیدل پلی پر قدرت اور ایسا زریعہ معاش جس سے زاد

اور راحل حاصل ہوسکتا ہو، اور ہمارے امام اعظم رحم اللہ کے پاس صحبت بلدن، زاد اور راحل پر قدرت

اور راست کا امن استطاعت میں داخل ہیں -

ملا علی قاری رحم اللہ نے کہا کہ حضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حدیث شریف میں

استطاعت کی تفسیر میں صرف زاد اور راحل کا جوڑ کر فرمایا ہے وہ اس لئے کہ زاد اور راحل اصل کے

اور دوسروں ثرا اط پر مقدم ہے۔ یعنی مضمون بیضاوی، تفسیر حسینی، مدارک اور تفسیرات احمدی کے ماخوذ

ہے۔ اہ، اور اللہ تعالیٰ میں کہنا کہ ثرا اط کی تین وقتمیں ہیں -

(1) ثرا اط و جواب (2) ثرا اط ادا (3) ثرا اط صحبت نے _

(1) ثرا اط و جواب میں عقل، بلوغ، اسلام، حریت (یعنی غلام پر فرض نہیں ہے) وقت،

استطاعت اورنگ کے فرض ہو نے کا علم یہ سب چیزیں داخل ہیں

(2) ثرا اط ادا میں صحبت بلدن کے (یعنی ناپینا، اپائی، معذور، دونوں پیروں کے کٹنے ہو نے

شخص اور ایسا زریعہ جو سواری پر نہ پیہلے سکے نہ فرض نہیں ہے) ظاہری موانع کا (مثال اسمن کا خوف) نہ

ہونا، اور راست کا امن کے جس میں جان و مال کی سلامتی کا لیقین ہوا اور عورت کے لئے عدت کا نہ ہونا اور

شوبہ یا حرم کا ساتھ ہونا کے اور ثرا اط صحبت نے میں نے کا احرام، نے کے میں اور کعبہ اللہ میں نے

لئے حاضر ہونا ہیں

Abdullah ibn Amr (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "One who recites the Qur'an in less than three days has not understood it." [Narrated by Tirmidhi, Abu Dawud, and al-Darimi]

In another narration by Abu Dawud, Tirmidhi and Nasa'i: He asked the Messenger of Allah (ﷺ): "In how many days should I recite the Qur'an?" He said: "In forty days," then said: "In a month," then said: "In twenty," then said: "In fifteen," then said: "In seven," and did not go below seven.

In Bukhari's narration: The Messenger of Allah (ﷺ) said to me: "Complete the recitation of the Qur'an in one month." I said: "I have more strength than that," until he said: "Recite it in seven days and do not exceed that."

حج کب فرض ہوتا ہے
3485

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک صاحب نے کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مج کب فرض ہوتا ہے؟ تو حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ زا اور راحلم (توش اور سواری مہیا ہوتونج فرض ہوتا ہے)

اس کی روایت ترنزی اور ابن لجب نے کہا ہے -

قدرت کے باوجود مجذکر نے کی وعید

Ibn ʿUmar (may Allah be pleased with them) reported that a man asked the Prophet (ﷺ): "O Messenger of Allah, what makes Hajj obligatory?" He replied: "Provisions and a mount." [Narrated by At-Tirmidhi and Ibn Majah]

3486

وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مِنِ اسْطَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا ، وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ

امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما ہے جس کہ شخص اتنا توش (زادراہ) اور سواری رکتا ہو کہ بیت اللہ کے ذریعہ پہوچ سکے اور اس کے باوجود مجذکر نے کرے تو اس کے یہودی یا نصرانی ہو کر مر نے میں پھر فرق نہیں ہے اور پیر (وعید) اس لے ہے کہ اللہ بزرگ وبرتر نے ارشاد فرما یا

یعنی بیت اللہ کا مج لوگوں پر فرض ہے جب کہ وہ مصارف سفر کے ما کہ ہو ل ) اس کی روایت ترنزی نے کی ہے -

Ali (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever possesses provisions and a mount that can take him to the House of Allah but does not perform Hajj, let him die as a Jew or Christian, for Allah says: 'And [due] to Allah from the people is a pilgrimage to the House, for whoever is able to find thereto a way.'" [Narrated by At-Tirmidhī, who called it gharib and noted weak narrators in its chain]

Adh-Dhahabi mentioned a stronger chain, and Az-Zarkashi refuted Ibn al-Jawzi’s claim of fabrication, as a narrator’s weakness does not necessarily falsify a ḥadith. This ḥadith is also narrated from Abu Umamah, strengthening its reliability.

(1) The statement: "For whoever is able to find thereto a way..." The Shafiʿis interpret "a way" as provisions and a mount, while Malik adds physical ability to walk and earn. The Ḥanafis include safety on the journey. (At-Tafsirat al-Ahmadiyyah, Al-Madarik)

3487

اور پیر بیان کیا گیا ہے کہ یہ حدیث حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے -(طبی)-

It is narrated from Abu Aamah (RA) that he said:
3488

اور عراقی نے کہا ہے کہ ابن عدی نے اس کی روایت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے کی ہے -

ف : واضح ہو کہ اس حدیث ثریف میں مج قدرت رکن کے باوجود تارک مج کو یہود اور نصاری سے اس لے تشیہ دی گئی ہے کہ عرب کے مشرکین شرک کے باوجود مج کیا کرتے تھے اور یہود

اور نصاری الہ کتاب ہوئے کے باوجود جمین کرتے تھے۔ 12 مرقات

حاجی کے صفات اوراس کے فضل اعمال اور نبلی کی تشریح

It is reported from Ibn Adi through Iraqi that he narrated it from Abu Hurairah (RA) -

It is clear that in this defective hadith, despite the presence of the element of compulsion, the Jews and Christians have been given preference over those who abandon prayer, because the Arab polytheists, despite their associationism, used to do such-and-such, and the People of the Book, despite their status, used to do such-and-such. [12 Merqat] The virtues of Hajj and its merits, as well as noble deeds, are explained.

3489

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت سے کرائے صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ

وآ لہ وسلم سے دریافت کیا (یا رسول اللہ) حاجی کی کیا صفت ہے؟ تو حضرت صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم نے

ارشادفر ما یا غبار آ لو دسر اور پریثان بال (یعنی مناسک مج کی ادائی میں جوز بنت کو چھوڑے ہوئے

ہو) چھرا ایک دوسرو صحابی نے عرض کیا یا رسول اللہ! مج میں کسی با تمیں زیادہ ثواب رکھتی ہیں؟ تو

آپ نے ارشادفر ما یابلندآ واز کے ساتھ لبیک کہتے رہنا او قربانی کے خون کا پھانا۔ چھرا ایک اور صحابی

نے دریافت کیا یا رسول اللہ! سبیل کے کیا معنی ہیں؟ تو حضرت صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم نے ارشادفر ما یا

تو شا اور سواری۔

اس کی روایت شرح السنن کی ہے اور ابن ماجہ نے اس کی روایت اپنی سنن میں کی ہے۔

البتہ ابن ماجہ نے آخری فقرہ کو بیان نہیں کیا۔

سفر حج میں ماگن کی ممانعت

Ibn Umar (may Allah be pleased with them) reported that a man asked the Messenger of Allah (ﷺ): "Who is a pilgrim (hajj)?" He replied: "One with disheveled hair and covered in dust." Another asked: "Which Hajj is best?" He said: "Raising one’s voice (in talbiyah) and shedding blood (in sacrifice)." A third asked: "What is 'a way'?" He answered: "Provisions and a mount." [Narrated in Sharh as-Sunnah; Ibn Majah recorded it without the last part]

(1) "Disheveled hair and covered in dust" prohibits using oil (as stated in Al-Hidayah) and perfume (as it causes unpleasant odor). (Fath al-Qadir)

(2) "Which Hajj is best?" refers to the best form of Hajj, not its best acts (e.g., tawaf and standing at Arafah are superior). (Radd al-Muhtar)

(3) "Raising one’s voice and shedding blood" means loud talbiyah (a sunnah; omitting it is disliked but not sinful) and sacrificing animals. (Radd al-Muhtar, Fath al-Qadir)

3490

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے رایت سے وہ فرماتے ہیں کہ کیسے کے لوگوں کی یہ

عادت چھی کر جب وہ مج کے لیے آتے تو اپنے ساتھ تو شمعین رکھتے تھے اور یول کیتے کرتم تو متوقف

ہیں۔ جب وہ کہ میں آتے تو لوگوں سے ماگن کیتے تو اللہ تعالیٰ نے (سورۃ بقرہ، آیت

نمبر: 197، پ:2، ع:25، کی) یا یت نازل فرمائی "وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ

التَّقْوَى"، (جب تم سفر کے لیے گھرتے تو اپنے ساتھ تو شمع (اور تمام مصارف) لے لیا کرو، اس

لیے کہ بہترین تو شمع تقوا ہے (یعنی بہترین تقوا یہ ہے کہ لوگوں سے سوال کرنے سے پچاو ر

برائیوں سے دور رہو) اس حدیث کی روایت بخاری نے کی ہے۔

استطاعت رکھ کر جوڑ کرنے کی وعد

Ibn Abbas (may Allah be pleased with them) reported that the people of Yemen would perform Hajj without provisions, claiming to be reliant on Allah (mutawakkilun). When they arrived in Makkah, they begged. So Allah revealed: "And take provisions, but indeed, the best provision is piety." (2:197) [Narrated by Al-Bukhari]

3491

اپواماہد رضی اللہ عنہ سے روایت سے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جو شخص ظاہری حاجت (جسے زادراہ اورسواری یا طالم باوشاہ کاخوف) یامہلك مرض (جسے فارج یاناپینائی) کی وجہ سے ج کونجا سکے (تویمعاف ہے) البتہ جس شخص کوال تینول میں سے کوئی چیز مانگ نہ ہو (اوروہ ج کرنے سے پیل) مر جا ے تو (اللہ تعالی کواس بات کی کوئی پرواہ نہیں کر ) وہ یہودی ہوکر مرے یانصرانی ہوکر مرے اس کی روایت داری نہ کی ہے۔

It is narrated from Abu Mahdhurah (RA) that he said:

The Messenger of Allah ﷺ said: 'Whoever dies due to apparent need (such as lack of provisions or mount, or fear of being captured by an enemy), or due to a disease (such as fever or thirst), and could not reach a place of safety, is forgiven. However, whoever dies out of laziness, refusing to seek what is necessary for his survival, then Allah will not care whether he dies as a Jew or a Christian, and this narration is not established.'

نابالغ پچراورغلام کاج
3492

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت سے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روحاء میں (جو میں منورہ سے چا لیس میل کے فاصلے پر ایک مقام ہے) ایک قافلہ ملا حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا کہ تم کون لوگ ہو؟ انہوں نے عرض کیا کہ ہم مسلمان ہیں ان لوگوں نے مجھی دریافت کیا کہ آپ کون ہیں؟ حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا (میں) اللہ کا رسول ہوں! پھر قافلہ کی ایک عورت نے اپنے کمس نے پکود کا کرو پوچها (یا رسول اللہ اگرچہ کاس پچھ پرچ فرض نہیں، اگراس کونج کر ایا جاتے تو) کیا سکا ج ادا ہوجاتے گا؟ حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرماياں! (اس کا پنج نفل ہوگا اوراس کنفل نہ ج کا ثواب ملے گا البتر ج کرانے کا) تم کہی ثواب ملے گا اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔

It is narrated from Ibn 'Abbas (RA) that he said:

The noble Prophet ﷺ met a caravan at Ruha, which is a place about three miles from Mina. The Prophet ﷺ asked them, 'Who are you?' They replied, 'We are Muslims.' Then they asked him, 'Who are you?' The Prophet ﷺ said, 'I am the Messenger of Allah!' Then a woman from the caravan took her comb and asked, 'O Messenger of Allah, although combing the hair is not obligatory, if one combs it, will it count as a voluntary act of worship?' The Prophet ﷺ replied, 'It will be a voluntary act of worship, and you will receive the reward of a voluntary act, but not the reward of an obligatory act.' This narration is reported by Muslim.

3493

اور حاکم کی ایک روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی سے اس طرح مروی ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرماياں کہ جو کوئی نابالغ پچھ کرے اور (چ کرنے کے بعد) بالغ ہوتا اس پر (استطاعت کی صورت میں) فرض ہے کہ پھر دوسرا بار ج ادا کرے اور جو کوئی غلام ج کرے اور (چ کرنے کے بعد) اس کو

آزادی مل تواس پر بھی (بشرط استطاعت) فرض ہے کہ وہ پھر دوسرانگ ادا کرے حاکم نے اس کی روایت کر کے فرمایا ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی شرط کے مطابق تو ہے اور ان دونوں حضرات نے اس کی تخریج نہیں کی ہے۔

ناپالغ، ناداراور غلام کے نج کرنے کے مسائل

ف: واضح ہو کہ درختار، عام لگیری اورعمدۃ الرعايی میں ذکور سے کہ پچھا یا غلام نج کا احرام بندہ لیس اورنج ادا کر لیس تو ان کا پیر نج نفس ہوگا۔ فرض نج نہیں ہوگا۔ اس لئے کہ پچا اور غلام پر نج فرض نہیں ہے۔ پھر جب پچا بالغ ہو جائے، یا غلام آزاد ہو جائے اور ان میں نج کی استطاعت ہوتی ان کونج فرض ادا کر ناضرو ری ہوگا، اورعرف شنزی میں بھی ایسا ہی ذکور ہے۔ اورفقہاء کرام نے بھی صحاحت کی ہے کہ پیر جب نج کر رہا ہوتا وہ کو چا سے کہ پچا کو بھی برول کی طرح میقات سے احرام بنڈھوا لے اور پچا کی طرف سے وی لبیک کہ اور پچا کو منوعات احرام سے پچا تارہ۔ اہ، اوراگر ناپالغ پچا وقف عرفات سے پہلے بالغ ہو جائے اور پچرا میقات پر پچا کر فرض نج کی نیت سے جدید احرام بندہ لے اور مناسک نج کی تکمل کر لے تو فرض نج اس کے ذمہ ادا ہو جائے گا۔ اور شاہ عبد الحق محمد ث دہلوی رحمہ اللہ نے اشعۃ اللمعات میں بھی کہا ہے کہ اگر وہی ناوارا اور مفلس شخص کسی طرح نج کے دونوں میں کعبہ اللہ کی جانب اور نج کے مناسک ادا کر لے تو اس کا فرض نج ادا ہو جائے گا اور بعد ازاں وہ نہیں ہو جائے تو اس کو پھر سے فرض ادا کر ناضرو ری ہوگا۔ اوراگر غلام نے اپنے مالک کے ساتھ نجل نج کی نیت سے احرام بندہ ادا کر وقف عرفات سے پہلے آزاد ہوگیا تو اس کو چا سے کہ سا بقد نجل نج کی نیت، یہ سے مناسک نج کی تکمیل کر لے اور اس کے لئے پیجا نہیں کر نفل احرام کو توڑ کر میقات سے فرض نج کی نیت سے احرام بندہ لے، البته بشترط استطاعت اس کو آزاد ہوگیا تو اس کو پھر سے فرض نج کی تکمیل کر ناضرو ری ہوگا۔ درختار۔12 معذوری کی وجہ سے نج بدلا جا سکتا ہے۔

Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated: The Prophet (ﷺ) met a group of travelers at Rawha and asked, "Who are you?" They replied, "We are Muslims." They then asked, "Who are you?" He said, "The Messenger of Allah." A woman lifted a child to him and asked, "Does this child’s Hajj count?" He replied, "Yes, and you will be rewarded."

In another narration by Al-Hakim from him: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "Any child who performs Hajj and then reaches puberty must perform another Hajj. Likewise, any slave who performs Hajj and is then freed must perform another Hajj." Al-Hakim said: This Hadith is authentic according to the criteria of the two Sheikhs (Bukhari and Muslim), though they did not narrate it.

(4) The statement: "A woman lifted a child to him..." The ruling is that if a child or slave performs Hajj, it is valid as a voluntary act but does not fulfill their obligatory Hajj. Though they are not legally obligated (due to lacking eligibility for obligation), they are eligible for performance. Thus, upon reaching puberty or gaining freedom, if they have the means, Hajj becomes obligatory.

As stated in ‘Umdat ar-Ri’ayah: This is the position in Al-‘Alamgiriyyah and Ad-Durr al-Mukhtar. Al-‘Urf ash-Shadhi adds: The Hajj of a child or slave is unquestionably valid in our school. However, it does not suffice for Hajjat al-Islam (the obligatory Hajj) once the duty applies. Imam Nawawi erred in attributing the invalidity of their Hajj to Abu Hanifah, who actually held that it does not substitute for Hajjat al-Islam, as others also affirmed.

Jurists state: The guardian must instruct the child to remove stitched clothing, enter Ihram, and make Talbiyah on their behalf while preventing violations. ‘Umdat al-Qari cites At-Tahawi: The Hadith only confirms that the child’s Hajj is valid, not that it fulfills the obligation. If asked for proof, we cite the Hadith: "The pen is lifted from three: a child until puberty." If the child is not accountable, Hajj is not obligatory for them.

3494

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ (یہ نے قبیلہ) بنو خشعم کی

ایک خاتون نے دریافت کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے باب پر ایسی حالت میں جو فرض ہوا تو جب کہ وہ برطہائی کی وجہ سے سواری پر پیش آئی سکتا (جسے سفر کے قابل نہیں ہیں) کیا میں ایسی صورت میں ان کی طرف سے نج کروں؟ حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایسی صورت میں تم ان کی طرف سے نج کر سکتی ہو۔ یہ واقعہ جہاں الوداع کے موقع پر پیش آیا۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفرق طور پر کی ہے۔ ف: اس حدیث شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ اپنی معذور اور عاجز شخص جو پی سخت سے ماپس ہو، اس کی طرف سے نج بدل کرنادرست ہے اور یہ کی ثابت ہوتا ہے کہ مرد کی طرف سے عورت کو اور عورت کی طرف سے مردوں بدل کرنادرست ہے، اور اس حدیث شریف سے یہ کی ثابت ہوتا ہے کہ ایسا شخص جس پر نج واجب ہے اور خود سفر کی طاقت نہیں رکتا تو وہ دوسرا سے نج بدل کراسکتا

It is narrated from Ibn Abbas (RA) that

a woman from the tribe of Banu Khashjam came and asked, 'O Messenger of Allah ﷺ, if I am in a state of ritual impurity due to menstruation and I am unable to travel, can I delegate someone else to perform the farewell circumambulation on my behalf?' The Messenger of Allah ﷺ replied, 'In such a situation, you can delegate someone else to perform it on your behalf.' This incident occurred at the time of the farewell circumambulation. Bukhari and Muslim have narrated this on separate occasions. From this noble hadith, it is established that it is correct to delegate someone to perform the farewell circumambulation on behalf of a person who is excused or unable to do so due to hardship. It also establishes that it is correct for a man to delegate a woman and for a woman to delegate a man, and it further establishes that a person who is obligated to perform the farewell circumambulation but is unable to travel can delegate another person to perform it on their behalf.

میت کی طرف سے نج بدل کے احکام
ہے۔ نہایت، مرقات، اشعۃ اللمعات
3495

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک صاحب نے کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوکر عرض کی کہ میری بہن نے نج کرنے کی نذر مانی ہی اور (نذر پوری کرنے سے پہلے) اس کا انتقال ہوگیا۔ کیا میں اس کی طرف سے نج کی پینڈر پوری کرسکتا ہوں؟ تو حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کیا اگراس پر نج ہوتا تو تم اس کو ادا کرتے؟ انہوں نے عرض کیا کہ بال! (اذا کردیتا!) تو حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قرآن کو ادا کرو کے اس کا ادا کرنا زیادہ مناسب ہے اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفرق طور پر کی ہے۔ صاحب مرقات نے کہا ہے کہ اس حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ میت کی طرف سے اس کے تھالیوالے نج کروااس صورت میں میت کے ورثاء پر واجب ہے ججبہ میت نے نج کروا نے کی وصیت کی ہو، اگر میت نے نج کروا نے کی وصیت نہی ہوتو ورثاء پر

میت کی طرف سے جگر وانا ضروری نہیں بلکہ مستحب ہے۔ اس فعمدة القاری میں اس بارے میں لکھا ہے کہ امام عظیم رحمۃ اللہ کا مسلک یہ ہے کہ جہض اس حالت میں مرجا کے کاس پر جغرض حق تو رثانے پر ضروری نہیں کر اس کا جگدل کروا یعنی خواہ اس نے جگ کروا نے کی وصیت کی ہو یا نہیں ہو آگراس نے جگ کروا نے کی وصیت کی تو اس کے ایک تہائی مال سے جگ کروا یاجا کے، اگرا ایک تہائی مال سے جگ کروا یا جاسکتا ہے تو رثانے پر وا جب ہے کہ میت کی وصیت پوری کریں اور جگبدل کروا دین۔ اگرا ایک تہائی مال تاس کے وطن سے جگبدل ممکن نہ ہوتا ظاہر ہے کہ اس کی وصیت باطل ہوجائے گی لیکن مستحب یہ ہے کہ مال جہاں سے کچھ کفايت کرے اس مقام سے اس کا جگبدل کروا دین اور اگر کسی مقام سے کچھ جگبدل کے لے اس کا تہائی مال کافی نہ ہوتا اس کی وصیت باطل ہوجائے گی اور ایک تہائی مال کچھ ورتانے میں تقسیم کروا جائے گا۔ اس لے کر جغعبادت ہے اور عبادت میں اختیار اور اس کے ادا کرنے کی نیت ضروری ہے۔12

Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated: A man came to the Prophet (ﷺ) and said, "My sister vowed to perform Hajj but died." The Prophet (ﷺ) replied, "If she owed a debt, would you pay it?" The man said, "Yes." He said, "Then fulfill Allah’s debt; it is more deserving." [Agreed upon]

Al-Mirqat explains: In our school, this obligates the heir to arrange Hajj only if the deceased willed it from their third of wealth; otherwise, it is voluntary.

(1) The statement: "She died..." Abu Hanifah holds that Hajj is not obligatory on heirs unless willed, contrary to Ash-Shafi’i. If the will is general, Hajj is performed from the third. If funds suffice only for a shorter distance, the will is void (by analogy) but valid via istihsan.

Al-‘Inayah and Al-Hidayah state: Hajj is an act of worship requiring intention, which applies to wills, not inheritance. Financial rights (like debts) differ, as they are transferable.

بغیر محرم کے عورت کونی سفر نہ کرے
3496

ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما یے ہیں کہ براس عورت کے لئے جوالد پراورآخرت کے دون پر ایمان رکشتی ہو، جانتے نہیں ہے کہ وہ تین دون یا سے زیادہ مدت کے لئے (تتها) سفر کرے گرپکر اس کے ساتھ اس کا باب پایا پیشایا شوہر یا جحانی یا کونی محرم ہو(محرم وہ شخص ہے جس سے بیشہ کے لئے نکاح حرام ہو) اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔

Abu Sa’id al-Khudri (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "It is unlawful for a woman who believes in Allah and the Last Day to travel for three days or more unless accompanied by her father, son, husband, brother, or a mahram." [Narrated by Muslim]

In another narration by Al-Bazzar from Ibn Abbas (may Allah be pleased with him): The Prophet (ﷺ) said, "A woman may not perform Hajj without a mahram." A man said, "O Prophet, I am enlisted for a campaign, and my wife wishes to perform Hajj." He replied, "Go and perform Hajj with her."

Al-Mirqat states: Abu Hanifah requires a mahram or husband for travel exceeding three days. Shorter journeys are permitted without one, though caution is advised due to societal corruption.

3497

اور بخاری کی روایت میں صرف تین دون کا ذکر ہے (یعنی تین دون کے سفر پر جاتے تو محرم کو ساتھ لے کے )۔

And in Bukhari's narration, only the mention of Tamim al-Dari is there (i.e., if Tamim al-Dari went on a journey, he would take a mahram with him).

3498

اور برز ارکی روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرما یے کہ کونی عورت بغیر محرم کے نہ جگ کرے (یعن کر) ایک صحابی

حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرما یا تو اپنی بیوی کے ساتھ رجع کے لے چلا جا۔

ن عرض کیا یا نبی اللہ! میرا نام فلان غزوہ میں کہا گیا ہے اور میری بیوی نے مجھ کا ارادہ کر لیا ہے تو

Abu Sa’id al-Khudri (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "It is unlawful for a woman who believes in Allah and the Last Day to travel for three days or more unless accompanied by her father, son, husband, brother, or a mahram." [Narrated by Muslim]

In another narration by Al-Bazzar from Ibn Abbas (may Allah be pleased with him): The Prophet (ﷺ) said, "A woman may not perform Hajj without a mahram." A man said, "O Prophet, I am enlisted for a campaign, and my wife wishes to perform Hajj." He replied, "Go and perform Hajj with her."

Al-Mirqat states: Abu Hanifah requires a mahram or husband for travel exceeding three days. Shorter journeys are permitted without one, though caution is advised due to societal corruption.

3499

عورت بغیر حرم کے برگز نچ کے لے نہ جائے۔

A woman should not take a step without her husband's permission.

3500

صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابو عامر ضی اللہ عنہ ست روایت کی سے کہ انہول نے رسول اللہ

صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیارشاد فرماستے سناء کسی عورت کے لے پیجا تنہیں کروہ نچ کے لے

جاۓ جب کراس کے ساتھ اس کا شوہر یا کونی حرم نہ ہو۔

The Prophet ﷺ said, as narrated by Abu Amir (RA) through seven transmissions:

He used to send a woman alone at night to fetch something, when her husband or any mahram was not with her.

3501

کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرماستے کہ کونی عورت ایک دن رات کے سفر

پڑوانہ ہو جب کراس کے ساتھ کونی حرم نہ ہو۔

سفر مختصر ہو یا طویل عورت بغیر حرم کے نہ جائے۔

ف: بنابرین کہا ہے کہ علم محبت الدین طبری نے فرماستے کہ سفر میں عورت کے ساتھ حرم یا

شوہر کے مشروط ہو نے پرامام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے حضرات محمد ثین کے قول کی موافقت فرماستے ہے کراور

ان محمد ثین کرام میں حضرات ابراہیم نخی، حسن بصری، سفیان ثؤری، ابن خبل، اسحاق بن راہویہ رحمہم

اللہ جین، اور امام شافعی رحمہ اللہ کا ایک قول بھی ہیں ہے، اور علماء شوا فح میں سے امام بغوی رحمہ اللہ کا

بھی ہیں قول ہے عورت کے سفر کے لے حرم کا مشروط قرار دیناز یاود مناسب ہے۔

علاوہ ازیں صدر کی حثیت میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورت کے ساتھ سفر میں حرم

کے ساتھ رہنے پر دونوں کی مختلف تعداد ارشاد فرماستے ہے بعض حدیثوں میں تین دن، تین رات، بعض

میں ایک دن ایک رات۔ بعض میں ایک دن اور بعض حدیثوں میں صرف ایک رات کا ذکر ہے۔ واخ

رب کریاختلف سالمین کے سوال کے لحاظ سے ہے جسیا جس نے سوال کیا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ

وسلم نے ویا کی جواب ارشاد فرمايا، اس کے پیش نظر قول رانگ یہ ہے کہ خواہ سفر مختصر ہو یا طویل، عورت

بغیر محرم کے سفر نہ کرے - چنانچہ ثریح اللباب میں یصرحت ہے کہ فساویز مانے کے لحاظ سے اسی پرفتوئی

مناسبہ

ایمان اور جہاد کے بعد مجبر ور بہتر عمل ہے

Abu Sa’id al-Khudri (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "It is unlawful for a woman who believes in Allah and the Last Day to travel for three days or more unless accompanied by her father, son, husband, brother, or a mahram." [Narrated by Muslim]

In another narration by Al-Bazzar from Ibn Abbas (may Allah be pleased with him): The Prophet (ﷺ) said, "A woman may not perform Hajj without a mahram." A man said, "O Prophet, I am enlisted for a campaign, and my wife wishes to perform Hajj." He replied, "Go and perform Hajj with her."

Al-Mirqat states: Abu Hanifah requires a mahram or husband for travel exceeding three days. Shorter journeys are permitted without one, though caution is advised due to societal corruption.

3502

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت کیا گیا کہ (دین اسلام میں) کون سا عمل بہت بہتر ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرما یا کہ (دل سے) اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا (کہ پر دل کا عمل ہے) پھر عرض کیا گیا، اس کے بعد کون سا عمل (سب سے بہتر ہے؟) تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرما یا کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا! پھر عرض کیا گیا کہ اس کے بعد کون سا عمل؟ (سب سے بہتر ہے) تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرما یا (اس کے بعد) مجبر ور (سب سے بہتر عمل ہے!)۔

اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفرق طور پر کی ہے -

تقریر فرمائی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ یول توہر عبادت کا الگ الگ ثواب اور مرتبہ متعین ہے لیکن حالات کے اعتبار سے جس عمل کی ضرورت ہو، اور جس کا نفع عام ہو، وی فضل اور علی قرار دیا جاتے گا۔ چنانچہ ایک روایت یہ ہے کہ ایک نجوس غزوات سے فضل ہے اور یہی مردوی ہے کہ ایک غزوہ دس نجوس فضل ہے تواس کا تعلق نفل اعمال سے اور اشخاص کے حالات سے ہوگا مثلًا ایک شخص بردا بھادر ہے اور جنگوں میں مہارت رکھتا ہے تو ایسے شخص کے لیے نفل نجوس جہاد افضل ہے اس کے بر خلاف ایک ایسا شخص ہے جو دیر نیم ہے اور جہاد میں کام نہیں کرسکتا تواس کے لیے جہاد سے نج کرنا افضل ہے اور سرحدوں پر باطکی ضرورت ہے تو صدقات اور نفل نجوس افضل یہ ہے کہ رباط بنائے جائیں اور قوم میں غرباء کی کثرت ہے یا نیک لوگ محتاج ہیں یا سادات کرام غربت میں بھٹلا پیں تو ان حالات میں نفل عمران اور نفل نجوس بهتر یہ ہے کہ اپنے مال کو ان حضرات پرخرچ کرے۔

Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) was asked, "Which deed is best?" He said, "Faith in Allah and His Messenger." Asked, "Then what?" He said, "Jihad in Allah’s cause." Asked again, he said, "A Hajj Mabroor (accepted Hajj)." [Agreed upon]

(1) The statement: "Which deed is best..." affirms that faith includes both belief and action.

(2) The statement: "Then what? He said: Hajj Mabroor." The preference depends on context: If societal needs (e.g., defense) are greater, jihad supersedes. Likewise, aiding the needy or supporting scholars may outweigh voluntary Hajj.

مجبر ور کے علامات

ف(1): واضح ہو کہ مجبر ور کے بارے میں درمنشور میں علامہ سیوطی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ اصحہائی نے حضرت حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت کی ہے: ان سے دریافت کیا گیا کہ مجبر ور کیا ہے تو آپ نے جواب دیا کہ مجبر ور کے بعد حالتی میں دنیا سے برغبت اور آخرت سے رغبت پڑھے جائے - اہ اور مجبر ور کی نشانی یہ ہے کہ مجبر ور کے بعد حالتی کا حال بدلتے یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہے اور عبادات کی پابندی کرے اور منکرات اور منہیات سے پچدار ہے اور جہنگناہوں کو نہ پہلے کرتا ہے اس کو چھوڑ دیوے اشعۃ اللمعات میں بھی ایسائی نذور ہے -12 کون سا عمل کس وقت بہتر ہے ف(2): مجبر ور کے بارے میں صاحب رد المختار نے رحمتی کے حوالے سے ایک برہی واقع

نج عورتوں کا جہاد ہے
3503

امام مولین سیدتنا عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرمائی ہیں کہ میں کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جہاد پر جانے کی اجازت طلب کی (کہ آگا پڑ حکم دیں تو میں بھی جہاد کے لیے نکلون) تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (پسن کر) ارشاد فرمایا کہ تم خواتین کے لیے جہاد کے سفر، یہ جہاد ہے (اس لیے تم عورتوں کو جہاد کے لیے نکلنے کی ضرورت نہیں)۔ اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پرکی ہے۔

It is narrated from our mother Aisha (RA) that she said:

I asked the Messenger of Allah ﷺ for permission to go out for jihad (that if the order is given, I will also go out for jihad). The Messenger of Allah ﷺ said to me (with a smile): 'This journey you undertake for women is itself a form of jihad (so there is no need for you to go out for jihad specifically).'

نج میں فسق و فجر کے نکے کا ثواب
3504

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے لیے نج کرے اور دوران نج میں (بحالت احرام) اپنی پوئی سے محبت نہ کرے اور (دوران سفر کے ساتھیوں سے) بھی وہ کلام میں نہ کہے کہ میں جہگڑانے کرے اور کباب کے پچتارہ توہ نج کرنے کے بعد (گناہوں سے ایسی پاک و صاف ہو جائے)

جبسیا کر وہ اپنی مال کے پیٹ سے پیدا ہوئے وقت پاک وصاف تھا۔

اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔

جب کون سے گناہ معاف ہوتے ہیں اور کون سے گناہ معاف نہیں ہوتے

ف: واضح ہو کر اس حدیث شریف سے کی فوائد معلوم ہوتے ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ سفر جو

خالصہ للہ ہو، جس میں دکاو اور دومسرے دینوی اغراض شامل نہ ہون، البتر ج کے سفر میں ضمین طور پر

تجارت کا جویز ہے لیکن اگر مقصد اصلی جب سے تجارت ہے یا جو اور تجارت دونوں مساوی درجہ میں

ہیں تو پر اخلاص کے خلاف ہوگا اور جب کا ثواب کم ہوگا اور اگر مقصد اصلی جب سے اور تجارت محض تابع

ہے تو پر اخلاص کے خلاف نہ ہوگا اور اگر نیت پہوکر تجارت کے نفع سے جب میں اعانہ ہوگی تو تجارت

میں بھی ثواب مل گا۔

اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ خالصہ للہ ج کرنے والے گناہوں سے ایسے پاک ہوجاتا

ہے جیسا وہ اپنی پیدائش کے دن پاک تھا۔

اس بارے میں پرواہ رہ کہ گناہوں کی واقعیت میں ایک صغار و دومسرے کبارہ، پہر کبارہ کی

جوہی واقعیت میں، ایک حقوق اللہ، دوسرا حقوق العباد۔ جب سے صغائر بالاتفاق معاف ہو جاتے

ہیں۔ البتر کبارہ میں حقوق العباد جب قرض بغیر ادائیگی کے معاف نہ ہوگا اور اسی طرح حقوق اللہ میں

تارک نماز اور تارک زکوۃ کو پی فوت شدہ نمازیں اور واجب الاداء زکوۃ جوہی ادا کرنی پڑے گی۔ البتر

جب سے نماز ون اور زکوۃ کی ادائیگی میں جو تاخیر ہوگی ہے، اس تاخیر کا گناہ معاف ہو جاتے گا۔

روایت 12

جب اور عمرہ کرنے والوں کی دعا میں قبول ہوتی ہیں

It is narrated from Abu Hurairah (RA) that he said: The Messenger of Allah ﷺ said:

Whoever performs a minor ritual impurity (for the sake of Allah) and does not engage in affection with his wife during the state of minor ritual impurity (while in a state of ihram), and does not speak to his travel companions in a way that leads to quarreling, and who purifies himself after performing the minor ritual impurity, will become as pure and clean as he was on the day he was born from his mother's womb. This hadith has been narrated by Bukhari and Muslim on a mutually agreed basis. It clarifies which sins are forgiven and which are not forgiven. From this noble hadith, it is evident that one who performs actions purely for the sake of Allah becomes as pure from sins as he was on the day of his birth. It is important to note that sins vary in their nature; some are minor and others are major. Minor sins are generally forgiven. However, major sins involving the rights of people, such as unpaid debts, are not forgiven until they are settled. Similarly, those who neglect prayer and zakat must make up the missed prayers and obligatory zakat. The delay in performing these obligations will be forgiven once they are fulfilled.

3505

ابوبهریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے

روایت کرتے ہیں کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرما کے پی کر ج کو آنے والے اور عمرہ ادا

کرنے والے اللہ تعالیٰ کے معزز مہمان ہیں، اگر وہ اللہ تعالیٰ سے دعا میں تو اللہ تعالیٰ انکی دعا

قبول فرما تا ہے اور اگر وہ گناہوں کی مغفرت طلب کریں تو اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کو بخشنے ہیں

گے۔ (اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔)

حاجی، عمرہ ادا کرنے والے اور جہادیں اللہ تعالیٰ کے مہمان ہیں

Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (ﷺ) said: "Pilgrims and those performing ‘Umrah are Allah’s guests. If they supplicate, He answers; if they seek forgiveness, He forgives." [Narrated by Ibn Majah]

3506

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرما تے ہیں کہ میں نے رسول اللہ

صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوارشاو فرما تے سناتے کہ اللہ تعالیٰ کے مہمان تین شخص ہیں: (1) جہاد کرنے والا

(2) حج کرنے والا (3) عمرہ ادا کرنے والا۔ اس کی روایت نسائی نے کی ہے اور زہیق نے بھی اس کی

روایت شعب الایمان میں کی ہے۔

والپسی کے بعد حاجی کے گھر میں داخل ہونے سے پہلے دعاے مغفرت کروانا چاہئے

Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrated: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say, "Allah’s troops are three: the warrior, the Hajj pilgrim, and the ‘Umrah pilgrim." [Narrated by Nasa’i and Bayhaqi in Shu’ab al-Iman]

3507

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ

وآلہ وسلم ارشاد فرما تے ہیں کہ جب تم کسی حاجی سے ملو (جونگ سے فارغ ہوکر واپس ہور باہوتو تم اس

کے اپنے گھر میں داخل ہونے سے پہلے) اس کوسلام کرو، اور (ازراہ تو اضع اور اکرام) اس سے

مصافحہ کرو، اور اس سے اپنے لئے دعاے مغفرت کی درخواست کرو، اس لئے کروہ گھر میں داخل ہونے

سے پہلے (راہ خدا کا مسافر ہے) اور وہ گناہوں سے پاک و صاف ہے (اور جس کے لئے وہ دعاے

مغفرت کرنے گا۔ اس کی بھی مغفرت کر دی جائے گی)۔

اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔

مجہد اور دین کا طالب علم مجھی حاجی کے حکم میں ہے

ف: واضح ہوکر مرقات اور اشعة اللمعات میں کہاہے کہ حاجی کے حکم میں عمرہ ادا کرنے والا،

جہاد کرنے والا، اور دین کا طالب علم مجھی داخل ہے۔ پی حضرات مجھی اللہ کی راہ کے مسافر ہیں۔ گہرتے

نقل کرگر واپس ہوئے تک سفر کے حکم میں ہوتے ہیں تو پی حضرات مجھی جب ان کا مول سے فارغ ہوکر

گہرائی پس بول تو گہرون میں داخل ہوئے سے پہلے ان سے سلام اور مصافحہ کے بعد دعاء مغفرت

کروائی جاتے اس لئے کہ یہی مغفورین میں

Ibn Umar (may Allah be pleased with them) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "When you meet a Hajj pilgrim, greet him, shake his hand, and ask him to seek forgiveness for you before he enters his home, for he is forgiven." [Narrated by Ahmad]

اللہ کے راستے میں وفات پاچانے کی فضیلت
3508

وَا لَهُ سَلَامٌ ارْشَادًا فَرَما يَجِي كَجَوْخِسَ رَجَّ يَعْمَرَهُ يَجْهَادَ كَ ارَادَ سَتَ اَپَّنَ گَهَرَتَ نَکَ اورَراستَ، مِیں وَفاتَ پَاجَبَ توَ اللَّتَقَالِ ایَّ شَخصَ کَ لَ جَهادَ، رَجَّ اورَعَمَرَهَ کَا ثَوابَ کَحْدِیثَ مِیں (اورَدِیں کَا طَالِبَ عَلَمِ بَجِی اسَ حَکمِ مِیں ہے) جِسیا کَرَ اشْعَةَ اللَّمْعَاتِ مِیں نَذْکُرَ ہے۔ اس حَدیثَ کی رَوايتَ تَہْمَقَ نَ شَعبَ الاِیمانِ مِیں کی ہے۔ رَجَّ مَقبُولَ کی جَزاءَ جَنتَ ہے

وَا لَهُ سَلَامٌ ارْشَادًا فَرَما يَجِي كَجَوْخِسَ رَجَّ يَعْمَرَهُ يَجْهَادَ كَ ارَادَ سَتَ اَپَّنَ گَهَرَتَ نَکَ اورَراستَ، مِیں وَفاتَ پَاجَبَ توَ اللَّتَقَالِ ایَّ شَخصَ کَ لَ جَهادَ، رَجَّ اورَعَمَرَهَ کَا ثَوابَ کَحْدِیثَ مِیں (اورَدِیں کَا طَالِبَ عَلَمِ بَجِی اسَ حَکمِ مِیں ہے) جِسیا کَرَ اشْعَۃَ اللَّمْعَاتِ مِیں نَذْکُرَ ہے۔ اس حَدیثَ کی رَوایتَ تَہْمَقَ نَ شَعبَ الاِیمانِ مِیں کی ہے۔ رَجَّ مَقبُولَ کی جَزاءَ جَنتَ ہے

Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: “A man came to the Prophet (ﷺ) and said, ‘In my garden, there is a date-palm belonging to so-and-so, and its position bothers me.’ The Prophet (ﷺ) sent for the owner and said, ‘Sell me your date-palm.’ He said, ‘No.’ The Prophet said, ‘Then give it to me as a gift.’ He said, ‘No.’ The Prophet said, ‘Then sell it to me for a date-palm in Paradise.’ He said, ‘No.’ The Messenger of Allah (ﷺ) said, ‘I have not seen anyone more miserly than you except one who is miserly with the greeting of peace.’” [Narrated by Ahmad and Al-Bayhaqi in Shu‘ab al-Iman]

3509

وَا لَهُ سَلَامٌ ارْشَادًا فَرَما یَجِی کَ ایکَ عَمَرَهَتَ دومَرَعَمَرَهَ کَرَنے کے درمیانِ حتَّى (صَغیرَه) گناہَ ہوَ ہوَل وَهُ مَعافَ ہوَجاَتَ مِیں اورَنَجَّ مَقبُولَ کَا بدلَ جَنتَ یَہے۔ اس کی رَوايتَ بخاری اورَ مُسلِمَ نے متفقَ طورَ پَر کی ہے۔ رَکنَ ایامَ مِیں حَاجَی عَمَرَهَ ادا کَرے

وَا لَهُ سَلَامٌ ارْشَادًا فَرَما یَجِی کَ ایکَ عَمَرَهَتَ دومَرَعَمَرَهَ کَرَنے کے درمیانِ حتَّی (صَغیرَہ) گناہَ ہوَ ہوَل وَہُ مَعافَ ہوَجاَتَ مِیں اورَنَجَّ مَقبُولَ کَا بدلَ جَنتَ یَہے۔ اس کی رَوایتَ بخاری اورَ مُسلِمَ نے متفقَ طورَ پَر کی ہے۔ رَکنَ ایامَ مِیں حَاجَی عَمَرَہَ ادا کَرے

Ka‘b ibn Malik (may Allah be pleased with him) narrated: The Prophet (ﷺ) set out on a Thursday during the expedition of Tabuk, and he liked to set out on a Thursday. [Narrated by Bukhari]

3510

بَے امَ المومنینَ فَرَما تی میں کَعَمَرَهَ سالَ تمامَ میں ہروقتَ ادا کیا جا سکتا ہے سواَے انَ چَارَ دنوں کے جَوی میں : نویں، دسویں، گیارسویں اورَ بارسویں زَواجِمَ (انَ چَارَ دنوں میں حَاجَی کے لئے عَمَرَهَ ادا کَرنا جا زَمینَ ہے۔ البَتَ ایسا حَاجَی جِس کا رَجَّ فوتَ ہوَ چَکا ہو، وَهَ انَ دنوں میں عَمَرَهَ بَجِی ادا کَر سکتا ہے۔

بَے امَ المومنینَ فَرَما تی میں کَعَمَرَهَ سالَ تمامَ میں ہروقتَ ادا کیا جا سکتا ہے سواَے انَ چَارَ دنوں کے جَوی میں : نویں، دسویں، گیارسویں اورَ بارسویں زَواجِمَ (انَ چَارَ دنوں میں حَاجَی کے لئے عَمَرَہَ ادا کَرنا جا زَمینَ ہے۔ البَتَ ایسا حَاجَی جِس کا رَجَّ فوتَ ہوَ چَکا ہو، وَہَ انَ دنوں میں عَمَرَہَ بَجِی ادا کَر سکتا ہے۔

Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: “A man came to the Prophet (ﷺ) and said, ‘In my garden, there is a date-palm belonging to so-and-so, and its position bothers me.’ The Prophet (ﷺ) sent for the owner and said, ‘Sell me your date-palm.’ He said, ‘No.’ The Prophet said, ‘Then give it to me as a gift.’ He said, ‘No.’ The Prophet said, ‘Then sell it to me for a date-palm in Paradise.’ He said, ‘No.’ The Messenger of Allah (ﷺ) said, ‘I have not seen anyone more miserly than you except one who is miserly with the greeting of peace.’” [Narrated by Ahmad and Al-Bayhaqi in Shu‘ab al-Iman]

3511

اُورَ عَلامَتَ تَقی الدِّینَ نے امامَ میں کہا ہے کہ حضرتَ نافعَ اپَّنَ استاد حضرت

طاوس سے روایت کر تے ہیں کہ ربعین حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا ہے کہ (حاٰجی کے لئے ان پانچ دن میں عمرہ ادا کرنا جائز ہے ) وہ پانچ دن یہیں ہیں : نویں، دسویں اور ایام تشریق کے تین دن یعنی گیارہویں، بارہویں اور تیرہویں ذوالحجہ اور اگر تم عمرہ ادا کرنا چاہو تو ان پانچ دنوں سے پہلے بھی آٹھویں ذوالحجہ کے یا ان پانچ دنوں کے بعد بھی تیرہویں ذوالحجہ کے بعد عمرہ ادا کر سکتے ہو۔ پانچ دنوں کے سوا عمرہ تمام سال کیا جاسکتا ہے

ف(1): حدیث شریف سے یہ بتھوتا ہے کہ عمرہ سال تمام میں کسی وقت بھی ادا کیا جاسکتا ہے سوا ئے ایام نحر کے بیچ نویں سے تیرہویں ذوالحجہ کے ان پانچ دنوں میں عمرہ ادا کرنا کروہے، اس لئے کہ یہ مناسک نحر کے ایام ہیں -

ف(2): صدر کی حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ عمرہ میں کئی عمرے ادا کرنا چاہئے تاکہ گناہوں سے مسلمان پاک و صاف ہوتا رہے، اس وجہ سے حدیث شریف میں عمرے ادا کرنے کی فضیلت ارشاد فرمائی گئی ہے کہ دو عمروں کے درمیان تمام صغائر معاف ہوجاتے ہیں۔ اور رمضان المبارک میں عمرہ ادا کرنا برتر فضیلت اور ثواب کا باعث ہے اس لئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ رمضان میں عمرہ ادا کرنے والے کا رتبہ ایسا ہے جسیا کر اس میں ساتھ نچ ادا کیا۔ 12

نج اور عمرہ کو ایک ساتھ ادا کرنے کی فضیلت

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated in a lengthy hadith: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: "Allah the Exalted said: 'I have divided the prayer between Myself and My servant into two halves...'" [until the end of Surah Al-Fatihah] [Narrated by Muslim]

عمرے ادا کرنے کی فضیلت
3512

ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ اور عمرہ کو ایک دوم سے کے بعد ادا کرو ( لیکن نچ قرآن کا احرام بندهو کر اس میں نچ اور عمرہ دونوں ایک ساتھ ادا ہوتے ہیں ) اس طرح ( نچ اور عمرہ کا ادا کرنا ) افلاس ( ظاہری اور باطنی ) اور ( صغیرہ ) گناہوں کو اس طرح دور کر دیتا ہے جس طرح بجلی لوہے،

سونے اور چاندی کے میل چپیل کو دور کر دیتے ہے اور مجھ مقبول کابل توصرف جنت میں ہے۔

اس کی روایت ترتیب، نسالی نے کی ہے۔

Ibn Mas’ud (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "Perform Hajj and ‘Umrah consecutively, for they remove poverty and sins as a furnace removes impurities from iron, gold, and silver. Hajj Mabroor has no reward except Paradise." [Narrated by Tirmidhi and Nasa’i; Ahmad and Ibn Majah narrated a shorter version from Umar]

3513

قریب قریب روایت کی ہے۔

عمرو کا احرام باندھنے کے بعد اگر کسی وجہ سے عمرہ نہ کر سکیں تو عمرہ کی قضاء واجب ہے

It is narrated that after Amr performed the ihram, if for some reason he was unable to perform the umrah, then it is obligatory to make up the umrah.

3514

وآ لہ وسلم نے اجرت کے بعد چار مرتبہ عمرہ کی نیت کے احرام باندھا اور وہ سب کے سب ذو القعدہ

کے مہینے میں ہوئے سواے اس عمرہ کے جس کو آپ نے (حجۃ الوداع کے موقع پر ذو الحجج کے مہینے

میں) نے کے ساتھ ادا فرمایا (ان عمرول کی تفصیل یہ ہے) پہلے عمرہ کا احرام آپ نے مقام حدیبیہ

زوالقعدہ کے مہینے میں باندھا اور دومرا عمرہ (صلح حدیبیہ کے) بعد واپسی کے مہینے میں ذو القعدہ کے

مہینے میں (بطور قضاء سنہ سات اجری میں ادا فرمایا (جس کو عمرۃ القضاء کہتے ہیں، اس کے کے سال

گزشتہ آپ کو مقام حدیبیہ پر عمرہ ادا کرنے سے مشکیں نے رک دیا تھا جس کو آپ نے اب ادا

فرمایا) تیرا عمرہ آپ نے مقام جعرانہ تے (سنہ آٹھ اجری میں) کیا جہال آپ نے غزوہ حنین کا

مال غنیمت تقسیم فرمایا تھا اور یہ عمرہ کچھ ذو القعدہ کے مہینے میں ہوا اور چوتھا عمرہ آپ نے حجۃ الوداع

کے ساتھ (سنہ دس اجری میں ذو الحجج کے مہینے میں) ادا فرمایا۔

اس کی روایت بخاری اور مسلم نے مستقیم طور پر لی ہے۔

حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عمرہ قضاء فرمانا

ف: (1) صاحب مرقات فتح القدیر نے لکھا ہے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چار مرتبہ

عمرہ کی نیت کے احرام باندھا لیکن تین عمرہ پورے ہوئے۔ اس لیے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

نے مقام حدیثیے پہلی مرتبہ عمرہ کی نیت سے جب احرام باندھا تو اہل کہنے آپ کو عمرہ ادا کرے کی اجازت نہیں دی اور آپ نے اس عمرہ کی قضاے دوم سے سال ادا فرما لی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عمرہ کا احرام باندھنے کے بعد اگر کسی عذر سے عمرہ ادا نہ کر سکے تو اس کی قضاے واجب ہے۔ اور جبی نہیب حقیقت ہے۔12

ف(2): اس حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جبۃ الودع کے موقع پر بین بجرت کے دسویں سال نج ادا فرما یا اوراس سے پہلے دو عمرے ادا فرما کے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نج کے ادفرما نے میں جونا خیر فرمائی ہے اس کے بارے میں کنز الدقا ئق کی شرح میں علامہ عینی رحمہ اللہ نے کہا ہے جس کی فتح اللہ علیہ میں تائید کی موجود ہے کہ آیت مبارکہ "وَلَلله عَلی النَّاسِ حِجُّ البَیْتِ" سنو(9) بجری کے آخر میں نازل ہوئی ہے جس سے نج فرض کیا گیا اور اس کے بعد ہی آپ نے دہ سال بخیرتا نہیر کے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نج ادا فرما یا جبی سے ذو القعدہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف عمرے ادا فرما کے اور نج ادا نہیں فرما یا کیونکہ نج ابھی فرض نہیں ہوا تھا۔12

Anas (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) performed four ‘Umrahs, all in Dhul-Qa‘dah except the one accompanying his Hajj: one from Hudaybiyah (Dhul-Qa‘dah), one the following year (Dhul-Qa‘dah), one from Ji‘ranah after distributing war spoils (Dhul-Qa‘dah), and one with his Hajj." [Agreed upon]

(1) The statement: "Four ‘Umrahs" – This refers to entering Ihram four times. Only three were completed, as Al-Bara’ ibn ‘Azib said the Prophet (ﷺ) performed two ‘Umrahs before Hajj, excluding Hudaybiyah. Fath al-Qadir elaborates.

(2) The statement: "All in Dhul-Qa‘dah" – ‘Umrah is valid year-round except five disliked days. Ash-Shafi’i held no time is disliked, while Malik disliked ‘Umrah during Hajj months. The correct view is permissibility, as proven by the Prophet’s ‘Umrahs in Dhul-Qa‘dah. Al-Binayah cites this.

(3) The statement: "‘Umrah the following year" – Abu Hanifah viewed this as compensatory for Hudaybiyah. Malik considered it a new ‘Umrah. The term "‘Umrat al-Qada’" used by the Companions supports Abu Hanifah’s view. Fath al-Qadir analyzes this.

(4) The statement: "‘Umrah with his Hajj" – This refers to the Qiran Hajj, as established earlier. Shaykh Ibn Hajar affirmed this.

This tradition has been directly narrated by Bukhari and Muslim. Regarding the Prophet’s ﷺ performance of Umrah: (1) The author of Maraqat Fath al-Qadir has written that the Prophet ﷺ assumed the state of Ihram with the intention of performing Umrah four times, but he completed it only three times. This is because when the Prophet ﷺ first assumed Ihram at Dhat al-Hulayfah with the intention of performing Umrah, the people did not grant him permission to perform it, and he combined this missed Umrah with the second one he performed. This indicates that if someone assumes the state of Ihram for Umrah but cannot complete it due to some valid reason, it becomes obligatory to make up for it. And this is indeed the truth. (2): From this noble hadith, it is evident that the Prophet ﷺ performed Hajj al-Wada' in the tenth year of Hijrah and before that, he had performed two Umrahs. In the commentary of Kanz al-Daqaiq, Imam Aini (RA) states, as confirmed in Fath al-Bari, that the blessed verse 'And [due] to Allah from the people is a pilgrimage to the House' was revealed at the end of the ninth year of Hijrah, making Hajj obligatory. After this, the Prophet ﷺ performed Hajj in the tenth year of Hijrah. Before this, in the month of Dhu al-Qa'dah, the Prophet ﷺ performed only Umrah and did not perform Hajj, because Hajj had not yet become obligatory.

بجارت کے دسویں سال حضور کے نج ادا کرنے کی وجہ
رمضان میں عمرہ ادا کرنے کی فضیلت
3515

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما نے پی کر رمضان کے مہینے میں عمرہ ادا کرنا (فضیلت اور ثواب میں) نج کے بر ابر ہے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفرق طور پر کی ہے (اور صاحب مرقات نے فرما یہ کے بعض روایات میں یہی نذور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرما یا ہے کہ رمضان میں عمرہ ادا کرنا میسر سے سات حج نج ادا کرنے کی فضیلت رکھتا ہے اور رداختا ر میں کلمہ ہے کہ سلف صاحبین رحمہ اللہ رمضان میں عمرہ ادا کرنے کونج اصغر فرما کرتے تھے۔12

عمرہ ادا کرناسنت ہے: چھلی حدیث

Ibn Abbas (may Allah be pleased with them) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "‘Umrah in Ramadan equals Hajj (in reward)." [Agreed upon]

(1) The statement: "‘Umrah in Ramadan equals Hajj" – ‘Umrah is recommended in Ramadan if performed separately. It is superior in this month, as the Hadith indicates. Some early scholars called it "Al-Hajj al-Asghar (Minor Hajj)." Radd al-Muhtar cites this.

3516

جابر رضي الله عنه سے روايت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم سے دریافت کیا گیا کہ کیا عمرہ ادا کرنا واجب ہے؟ تو آپ نے ارشاد فرما نمین (پرواجب تو نہیں ہے البته) تمہارا عمرہ ادا کرنا برتر فضیلت کی بات ہے (یعنی سنۃ موکدہ ہے)۔ اس کی روايت تزندی نے کی ہے اور تزندی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن ثبت ہے اور اس کی روايت دار طنینے جس کی ہے اور طبرانی نے بھی اس کی روايت صغیر میں کی ہے۔

جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ کیا عمرہ ادا کرنا واجب ہے؟ تو آپ نے ارشاد فرما نمین (پرواجب تو نہیں ہے البتہ) تمہارا عمرہ ادا کرنا برتر فضیلت کی بات ہے (یعنی سنۃ موکدہ ہے)۔ اس کی روایت تزندی نے کی ہے اور تزندی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن ثبت ہے اور اس کی روایت دار طنینے جس کی ہے اور طبرانی نے بھی اس کی روایت صغیر میں کی ہے۔

دوسری حدیث

3517

طلحة ابن عبيد الله رضي الله عنه سے روايت ہے کہ انہوں نے رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ کرنا جہاد سے اور عمرہ ادا کرناسنت ہے۔ اس کی روايت ابن ماجہ نے کی ہے۔

طلحة ابن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ کرنا جہاد سے اور عمرہ ادا کرناسنت ہے۔ اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔

تیسری حدیث

Third Hadith

3518

ابراہیم نخی رحمه الله سے روايت ہے وہ فرماتے ہیں کہ عبد الله بن مسعود رضي الله عنه نے فرمايا ہے کہ کرنا فرض ہے اور عمرہ ادا کرناسنت ہے۔ اس کی روايت ابن ابی شیبہ نے کی ہے۔

حرم میں داخل ہے کے مواقع کا بیان

A description of the occasions when one enters the Sacred Mosque.

3519

ابن عباس رضي الله عنهما سے روايت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم نے باہر سے حرم میں داخل ہونے والوں کے لیے ان مقامات کو بطور میقات مقرر فرمايا ہے کہ وہ ان مقامات سے بغیر احرام کے حدوحرم میں داخل نہیں ہوسکتے اس کی تفصیل یہ ہے۔ ابل

مدینہ (جس کو آپ نے جملہ طرف سے آنے والوں کے لیے زوالحلفہ میں منورہ کی طرف سے آنے والوں کے لیے جوکہ معظّم تین منزل پر قرآن المنازل (جوکہ معظّم تین منزل پر شام (جس کے شام کی طرف سے آنے والوں کے لیے جوحفہ اور ابل نجر (جس کے نجر کی طرف سے آنے والوں کے لیے قرآن المنازل (جوکہ معظّم تین منزل پر ہے اور تمام میقاتول میں قریب ترین میقات ہے) اور وہ ابل بیمن (جس کے نجر کی طرف سے آنے والوں کے لیے جوکہ معظّم تین منزل پر ایک پہاڑ ہے اور اس کے مجازی ابل بندر کی احرام باندھتے ہیں) پس میقات ان شہرول سے آنے والوں کے لیے میقات ہیں اور میقات ان لوگوں کے لیے جو میقاتوں میں جوان مقامات پر گزریں، اگر چہ کوہ ان شہرول کے راستے والے نہ ہول اور وہ جو یاعمرہ کی نیت سے ان مقامات پر گزرے ہول، اور جو لوگ ان مقامات (جس کے نذکورہ مواقیت) کے اندر رہتے ہول وہ جس (جب نہ کا ارادہ کریں تو) اپنے گھروں سے احرام باندھیں اور ابل کہ جس (جب نہ کا ارادہ کریں تو) وہ جس کہ معظّم سے جس اپنے گھروں سے) احرام باندھیں (البتہ میقات کے اندر رہتے واں لے عمرہ کرنا چاہئے تو وہ کہ معظّم سے باہر جا کر (جب تنعیم یا جعرانہ جا کروبالے عمرہ کا احرام باندھیں)- اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے-

ہر وہ شخص جو میقات سے گذرے اس پر احرام باندھنا واجب ہے ف: واقع ہو کہ غایہ الا وطار میں کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کعبۃ اللہ شریف کو برزگی عطا فرمائی ہے اور اس کو بارگاہ قدسی قرار دیا ہے اور مسجد حرام کو اپنی جلوہ گاہ قرار دیا اور شہر مکہ مسجد حرام کا احاطہ بنایا اور حرم کو اس شہر مبارک کا پیشگاہ تھیرا یا اور مواقیت کو حرم میں داخل کے وقت سلام اور بجرا کا مقام قرار دیا اس لے ہراس شخص پر جو حرم مبارک میں داخل ہونا چاہے وہ در باری پیرصنیت احرام باندھ کر داخل بارگاہ ہو، چاہے اس کی نیت مج کہ ہو یا عمرہ کی یا سکونت کی یا تجارت کی، بہ صورت اس پر

احرام واجب ہے جو کعبۃ اللہ کے طواف اور سعی بین الصفا والمروہ کے بعد کول دیا جاتا ہے، البتر وہ لوگ جو میقات کے اندر رہتے ہوئے ان پر احرام کی پیپاندی اس لئے نہیں کروائے پنے کاروبار کے لئے بار بار کے معظّم آستے جاتے رہتے ہیں تا کہ ان کو حرج نہ ہو۔ 12

Ibn Abbas (may Allah be pleased with them) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) designated Dhul-Hulayfah for Medina, Al-Juhfah for Syria, Qarn al-Manazil for Najd, and Yalamlam for Yemen. These are for their residents and anyone passing through them intending Hajj or ‘Umrah. Those living closer may start Ihram from their homes, even Meccans (who start from Mecca). [Agreed upon]

(1) The statement: "These are for their residents..." – These locations are designated for pilgrims from these regions, whether residents or travelers. Those passing through must not exceed them without Ihram. Residents of these locations may pass them without Ihram unless intending Hajj/‘Umrah. Most scholars equate residents with outsiders regarding Ihram, contrary to At-Tahawi’s view. Al-Mirqat and Al-‘Alamgiriyyah cite this.

(2) The statement: "Even Meccans..." – The Hanafi view is that ‘Umrah requires exiting Mecca’s boundaries, as Aisha (may Allah be pleased with her) was instructed. This Hadith specifically refers to Hajj.

اہل مدینہ کے لئے دو میقات ہیں
3520

ابو الزبیر رحمہ اللہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے مرفوعا روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ اہل مدینہ کی میقات ذو الحدیفہ ہے اور (اہل مدینہ دومسرے راستے سے کہ معظّم آسیں جوشام کی طرف سے آتا ہے تو ان کی میقات "جُحْفَہ" ہوگی (جبال سے ان کو احرام باندھنا چاہیے) اور اہل عراق کی میقات ذات عرق ہے اور اہل نجد کی میقات قرن المنازل ہے اور اہل یمن کی میقات یلملم ہے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔ اور امام احمد اور ابن ماجہ نے بھی اس حدیث کو مرفوع قرار دیا

Abu Zubayr narrated from Jabir (may Allah be pleased with him): I heard (and I think he attributed it to the Prophet (ﷺ)): "The Miqat for Medina is Dhul-Hulayfah, for Syria Al-Juhfah, for Iraq Dhat ‘Irq, for Najd Qarn, and for Yemen Yalamlam." [Narrated by Muslim]

Ahmad and Ibn Majah affirmed its attribution to the Prophet (ﷺ).

In a narration by Muhammad from the Prophet (ﷺ): "Whoever wishes to enjoy their garments until Al-Juhfah may do so."

(1) The statement: "For Syria Al-Juhfah..." – At-Ta’liq al-Mumjid states: One may not pass these Miqats without Ihram unless another Miqat lies ahead. For example, Medinans may choose Dhul-Hulayfah or Al-Juhfah. Ash-Shafi’i disagrees, prohibiting passing the first Miqat. Al-Mirqat and Fath al-Qadir discuss this.

(2) The statement: "For Iraq Dhat ‘Irq" – Scholars differ whether this was designated by the Prophet (ﷺ) or ‘Umar (may Allah be pleased with him). Ash-Shafi’i held it was ‘Umar’s ijtihad, while Abu Hanifah and most Shafi’is attributed it to the Prophet (ﷺ). The Hadith’s chains support the latter view. ‘Umdat al-Qari and ‘Uqud al-Jawahir analyze this.

(3) The statement: "Ahmad and Ibn Majah affirmed..." – Nayl al-Awtar and Fath al-‘Allam confirm this.

(4) The statement: "Whoever wishes..." – This addresses Medinans. At-Ta’liq al-Mumjid notes this.

3521

اور امام محمد رحمہ اللہ کی روایت میں نہیں کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مرفوعاً مروی ہے کر (اہل مدینہ سے) جواس بات کو پسند کرتا ہے کروہ مقام جہاں تک اپنے لباس میں رہنا چاہے تو اس کو اس بات کا اختیار ہے (یعنی وہ مدینہ منورہ سے نقل کر "جُحْفَہ" تک بغیر احرام کے آسکتا ہے)۔ کسی کو دو میقات میں ملتی ہوتی تو وہ دوسرا میقات سے جہاں احرام باندھے سکتا ہیں ف: تعیق محیط میں کہا ہے کہ اس حدیث شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ کہ معظّم کے راستے میں کسی شخص کو اگر دو میقات میں ملتی ہوتی تو اس کو اختیار ہے کہ وہ پہلی میقات سے بغیر احرام کے گذر کر دوسرا میقات پر احرام باندھے اور پہلی میقات سے بغیر احرام کے گذر نے پر دم لازم نہیں آنے گا۔ البتہ پہلی میقات سے احرام باندھنا فضل ہے اور یہی نہہب حقی ہے۔ 12

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Call upon Allah with certainty of response, and know that Allah does not respond to a supplication from a heedless heart" [Narrated by At-Tirmidhi]

العراق کی میقات
3522

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے البقاع کے لئے میقاتات (جسے احرام باندھنے کی جگہ) ذات فرق مقرر فرمائی ہے۔

اس کی روایت ابو داؤداور نسائی نے سنن کے ساتھ کی ہے جسیا کرام نوی نے فرمایہ اور قطعی نے بھی اس کو تقرار دیا ہے۔

It is narrated from Umm al-Mu'minin Lady 'A'ishah al-Siddiqah (RA) that

the Messenger of Allah ﷺ designated Dhat al-Jar as the miqat (place for entering ihram) for al-Baqaa'. This is reported by Abu Dawud and al-Nasa'i in their Sunan, as Karam Nawi narrated, and Qutaybah also confirmed it.

3523

اور امام شافعی نے بھی سنن کے ساتھ حضرت عطاء سے مرسلاً اس کی روایت کی ہے۔

Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated: "He slept near the Messenger of Allah (peace be upon him). The Prophet (peace be upon him) woke up, used the toothstick, performed ablution, and recited: 'Indeed, in the creation of the heavens and the earth...' (Quran 3:190) until he finished the verse. Then he stood and prayed two rak'ahs, prolonging the standing, bowing, and prostration. Then he went back to sleep until he snored. He did this three times, praying six rak'ahs, each time using the toothstick, performing ablution, and reciting those verses. Then he prayed Witr with three rak'ahs." [Narrated by Muslim]

In a narration by Abu Dawud: "Then he prayed Witr, and Bilal came to inform him of the prayer when dawn appeared. He prayed the two rak'ahs of Fajr, then went out to lead the prayer."

In a narration by Bukhari and Muslim: "In his supplication, he would say: 'O Allah, place light in my heart, light in my sight, light in my hearing, light on my right, light on my left, light above me, light below me, light in front of me, light behind me, and grant me light.'" Some added: "Light on my tongue," and mentioned: "Light in my nerves, flesh, blood, hair, and skin." In another narration by them: "Place light in my soul and increase light for me." In another narration by Muslim: "O Allah, grant me light."

3524

اور دار قطعی نے بھی اس کی روایت کی ہے اور اس کی سنن بھی بخاری کی شرط کے مطابق ہے۔

And Dar Qutni has also narrated it, and his traditions are in accordance with the conditions of Bukhari.

3525

اور اس کی روایت ہمارے امام اعظم، طحاوی، ابن عدی، عبد الرزاق اور بزار نے بھی اس طرح کی ہے۔

بغیر احرام کے میقاتات پر سے گزرنے کی ممانعت

Our Imam, Al-Tahawi, Ibn Adi, Abdur Razzaq, and Al-Bazzar have also narrated this tradition in this manner. There is no prohibition in passing by the miqat points without entering into ihram.

3526

ابوزہر رحمہ اللہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (ایک مرتبہ) خطبہ میں ارشاد فرمایا کہ اصل میں کی میقاتات ذو الحلفیہ سے اور اعلی شام کی میقاتات "جحفہ" سے اور اعلی یمن کی میقاتات یلمالم سے اور اعلی نجد کی میقاتات قرن سے اور اعلی مشرق کی میقاتات ذاتِ عرق سے، چڑ آپ نے چھڑہ مبارک آسام کی طرف کیا اور پیدا کی: اے اللہ! یہاں حاضر ہوں و الوں کے دولوں کو (اپنی طرف) مائل کر لیجا!۔

اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔

Abu Zubayr narrated from Jabir (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (ﷺ) addressed us, saying:

"The Miqat for Medinans is Dhul-Hulayfah,

For Syrians Al-Juhfah,

For Yemenis Yalamlam,

For Najdis Qarn,

And for easterners Dhat 'Irq."

Then he faced the horizon and supplicated: "O Allah, incline their hearts (to obedience)." [Narrated by Ibn Majah without hesitation]

In Ibn Abi Shaybah’s narration from Ibn Abbas (may Allah be pleased with them): The Prophet (ﷺ) said, "No one may cross the Miqat without entering Ihram." Tabarani reported similarly.

Shafi'i narrated from Abu Sha'tha' that Ibn Abbas (may Allah be pleased with them) turned back those who crossed the Miqat without Ihram. Ishaq ibn Rahwayh reported in his Musnad that Ibn Abbas said: "If someone crosses the Miqat without Ihram and enters Makkah, they must return to the Miqat to enter Ihram. If fearing difficulty, they may enter Ihram immediately but must offer a sacrificial animal."

(1) The statement: "No one may cross..." – These explicit texts take precedence over implied meanings in other narrations (e.g., "for those intending Hajj/‘Umrah"), assuming they are the Prophet’s (ﷺ) own words rather than the narrator’s. Fath al-Qadir states this.

3527

– اور ابن ابی شیبہ کی روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ (جو کوئی حجّ یا عمرہ کی نیت سے کعبۃ اللہ حاضر ہوئے چاہے تو) وہ بگیر احرام کے میقات سے نہ گذرے – اور طبرانی نے بھی اس طرح روایت کی ہے –

Jabir (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Do not supplicate against yourselves, do not supplicate against your children, and do not supplicate against your wealth, lest you coincide with a time when Allah grants what is asked, and He answers your supplication." [Narrated by Muslim]

3528

– اور امام شافعی نے ابو الشعثاء سے روایت کی ہے کہ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ آپ اس شخص کو جو بگیر احرام کے میقات پر سے گزرتا تو اس کو واپس فرما دیتے (تا کہ وہ احرام باندھ کر میقات پر سے گذرے)۔

Jabir (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Do not supplicate against yourselves, do not supplicate against your children, and do not supplicate against your wealth, lest you coincide with a time when Allah grants what is asked, and He answers your supplication." [Narrated by Muslim]

3529

– اور ابن ابی شیبہ نے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی روایت کی ہے –

And Ibn Abi Shaybah has also narrated from Ibn Abbas (RA)
3530

حجّ کا احرام کعبۃ اللہ سے باندھا جاسکتا ہے

– اور اسحاق بن راہویہ نے اپنی مستند میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا جب کوئی شخص بگیر احرام باندھے میقات پر سے گزر جائے یہاں تک کہ وہ کہ معظّم میں داخل ہو جائے تو وہ (دوبارہ) میقات تک واپس جائے اور احرام باندھے اور اگر اس کو اندیشہ ہو کہ اس کے میقات تک واپس جائے نہ تک (نہ) فوت ہو جائے گا تو ایسی صورت میں وہ وہی (اندر ون میقات) احرام باندھ لے اور (بگیر احرام میقات پر سے گزر نہ کی پاداش میں) دم دیوے (یعنی بگڑا ذنہ کرے)۔

Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (ﷺ) said:

"One may not pass the Miqat (boundary for Ihram) without entering Ihram." [Narrated by Ibn Abi Shaybah and Tabarani]

3531

– جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب ہم نے عمرہ کرنے کے بعد احرام کھول دیا اور چھر (مناسک نچ کی ادائیگی کے لیے) کا قصد کیا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کو (نچ کے لیے) احرام باندھنا کا حکم دیا حضرت جابر نے فرمایا کہ ہم نے ابطح سے (جو کہ معظّم اور منی کے درمیان ایک وادی ہے) احرام باندھ کر لبیک کہا۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے –

Jabir ibn Abdullah (may Allah be pleased with him) narrated: "When we exited Ihram after Hajj, the Prophet (ﷺ) commanded us to re-enter Ihram when heading to Mina. So we entered Ihram from Al-Abtah." [Narrated by Muslim]

In the agreed-upon narration: Aisha (may Allah be pleased with her) said, "O Messenger of Allah, you depart for ‘Umrah and Hajj while I only perform Hajj?" He instructed 'Abdurrahman ibn Abi Bakr to accompany her to Tan'im, where she performed ‘Umrah after Hajj.

عمرہ قضاء کرنے کا بیان
3532

بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر حضرت ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا

سے ( ایک طویل حدیث میں حجۃ الوداع کے موقع پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے فوت شدہ

عمرہ کے بارے میں ) اس طرح روایت کی ہے کہ ام المومنین نے فرمایا کہ یارسول اللہ ! آپ حضرات

توڑھ اور عمرہ دونوں ادا کر کے واپس ہوئے ہیں اور میں ( حالاً ضہوونے کی وجہ سے ) صرف رج کرسکی

ہوں (اور میرا عمرہ فوت ہوگیا ہے ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے بجا ئی عبد الرحمن ابن

ابی بکر رضی اللہ عنہما کو حکم دیا کہ وہ میرے ساتھ مقام تعمیر کے چلس جہال سے مجھ عمرہ کا احرام باندھنا

تھا (اور مجھے حکم دیا کہ میں اپنے فوت شدہ عمرہ کے بدلہ ) جو کے بعد عمرہ کی قضاء کر لون۔

ف : اس حدیث شریف سے حسب ذیل فوائد حاصل ہوتے ہیں - ایک پیکر جو خص میقات

سے تمتح کی نیت سے عمرہ کا احرام باندھے اور عمرہ کی ادائیگی کے بعد احرام کو ل دے تو اس کو ج کا احرام

باندھنے کے لیے دوبارہ میقات تک جانا ضروری نہیں بلکہ کعبہ اللہ کے سے ج کا احرام باندھنے لے-

اس کے برخلاف کسی کو فلیا قضاء عمرہ ادا کرنا ہوتا اس کو چاہئے کہ وہ تعمیر یاجہ انہ تک جاے اور و بال

سے احرام باندھ کر کہ معظمه حاضر ہوا اور عمرہ ادا کرے -

دوسری بات یہ کہ عورت کو عمرہ کا احرام باندھنے کے بعد حیض آ جانے تو وہ عمرہ ادا کر گی،

اس لیے کہ وہ طواف کعبہ حالت حیض میں ادا نہیں کر سکتی جو عمرہ کا اہتم جزء ہے - اس لیے وہ پاکی کا

انتظار کرے گی اور پاک ہو نے کے بعد عمرہ ادا کرے گی، اور اگر اس کے پاک ہو نے تک نویں زوال حجم

آ جانے تو وہ عمرہ کا احرام توڑ دیگی اس لیے کہ وہ ایام جو میں عمرہ ادا نہیں کر سکتی، اس لیے اب وہ نے کا

احرام باندھ لے اور جے کے ارکان جیے وقوف عرف او ری جمار وغیرہ ادا کرے - البتہ پاک ہو نے تک

طواف زیارت ملتوي رگ اور پاک بھون پر طواف زیارت کر کے نج کے مناسک پورے کر لے اور

چھڑ دوبارہ تتعیم پاجرانہ جاکر فوت شدہ عمرہ کا احرام باند کر عمرہ کی قضاء کر لے -

پیت المقدس سے احرام باندھنے کی فضیلت

Al-Nu’man ibn Bashir (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Supplication is worship." Then he recited: And your Lord says: Call upon Me; I will respond to you (Ghafir 40:60). [Narrated by Ahmad, Tirmidhi, Abu Dawud, Nasa’i, and Ibn Majah]

عمرہ کی قضاء کا طریقہ
عورت احرام کی حالت میں حالت ہوجانے تو اس کے احکام
3533

ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ میں نے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرما تے سناتے کہ جو شخص بیت المقدس سے نج یاعمرہ کا احرام

باندھے اور کعبۃ اللہ حاضر ہوکر نج یاعمرہ ادا کرے تو اس کے اگلے پچحل تمام گناہ معاف کردیے

جا تے ہیں اور جنت اس کے لئے واجب ہوجاتی ہے-

اس کی روایت ابن مجہ، سے تقی اوردوسربے محمد ثین نے بھی کی ہے-

اور ملا علی قاری رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ ان حضرات کی یروايت حسن ہے-

Umm Salamah (may Allah be pleased with her) narrated: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say, "Whoever enters Ihram for Hajj or ‘Umrah from Al-Masjid al-Aqsa to Al-Masjid al-Haram will have their past and future sins forgiven, or Paradise will be granted to them." [Narrated by Abu Dawud, Ibn Majah, and Bayhaqi]

'Ali al-Qari said its wording suggests it is hasan. Hakim reported in Al-Mustadrak from 'Abdullah ibn Salamah al-Muradi that 'Ali (may Allah be pleased with him), when asked about "Complete Hajj and ‘Umrah for Allah" (2:196), said: "Enter Ihram from your homes." Hakim graded it sahih per Bukhari and Muslim’s standards.

(1) The statement: "From Al-Masjid al-Aqsa..." – This indicates greater reward for entering Ihram from farther distances. In our school, early Ihram (before reaching the Miqat) is superior if one can avoid violations; otherwise, entering Ihram at the Miqat is better. However, entering Ihram before Hajj months is disliked (makruh) according to us, Malik, and Ahmad, contrary to Shafi'i’s view. Al-Mirqat explains this.

Chapter of Ihram and the Phrases of Talbiyah

Allah the Exalted says: "And proclaim to the people the Hajj; they will come to you on foot and on every lean camel; they will come from every distant pass." (22:27)

And His saying: "And complete the Hajj and ‘Umrah for Allah." (2:196)

(1) Statement on Ihram: Ihram is not valid without intention and Talbiyah according to our school. One does not enter Ihram by intention alone without Talbiyah. These two actions initiate the sacred state, constituting Ihram legally. Al-Bahr ar-Ra'iq and Al-'Inayah affirm this.

(2) Statement on "Proclaim the Hajj": It is narrated that Ibrahim (عليه السلام) was commanded to call people to Hajj after building the Ka'bah. He stood on Maqam Ibrahim or Mount Abu Qubays and proclaimed: "O people! Your Lord has built a House and commanded you to perform Hajj to it." Allah made his voice reach all whom He decreed would perform Hajj, and they responded from their ancestors' loins and wombs: "Labbayk Allahumma Labbayk." Al-Hidayah references this in its chapter on Ihram.

(3) Statement on "Complete the Hajj": Al-Hidayah states: The Qur'an mentions Qiran (combined Hajj and ‘Umrah) in this verse, as it refers to initiating Ihram for both from one's residence, sustaining the state until completion. This makes Qiran superior to Tamattu'.

3534

اور حاکم نے مستدرک کی کتاب التفسير میں عبد اللہ بن سلمہ مرادي سے روایت

کی ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے آیت "وَأَتمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمرةَ للهِ"

(سورۃ بقرہ، ع:24، پ:2،آیت نمبر:196) کی تفسیر کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے

فرمایا کہ اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ تم (جب نج یاعمرہ کا ارادہ کرو تو) اپنے گھر سے بھی احرام باندھو

سکتے ہو۔ اور حاکم نے کہا ہے کہ یہ حدیث امام بخاری اور مسلم کی شرط کے مطابق نہیں ہے-

احرام کہاں سے باندھنا چاہئے اس کی تحقیق

ف : واضح ہو کہ اس حدیث میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ احرام جتنی زیادہ دور سے باندھا جائیگا اتنا ہی

زیادہ ثواب کا سبب ہوگا اور احناف کے پاس احرام میقات سے پہلے گھر سے باندھنا فضل ہے لیکن شرط یہ ہے کہ احرام

کے ممنوعات سے محفوظ رہ سکتا ہو، ورنہ فضل یہ کہ میقات سے احرام باندھے البتہ شہر نج سے پہلے نج کا احرام

باندھنا کرو ہے۔ یہ مضمون مراقت سے ماخوذ ہے۔12

Anas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Supplication is the essence of worship." [Narrated by Tirmidhi]