یعنی باب اللہ تعالیٰ کے ذکراوراس سے تقرب حاصل کرنے کے بیان میں ہے
وقول الله عزوجل ولذكر الله اكبر اورالل تعالي كا ارشاد سور عنبوت ايت نمبر اورالل كي ياد ب ت برتر يز وقول اا بذكرالل تطمين القلوب اورالل تعالي كا ارشاد سور رعد ايت نمبر مي خوب ب ي لو الل ك ذكر س دولت واطمينان حاصل وتا وقول فاذكروني اذكركم اورالل تعالي كا ارشاد سور بقر ايت نمبر مي تم مج ياد كرو تو مي تم ي ياد كر ل ا
ذکر کے اقسام اوراس کی فضیلت
ف : اشعتة العلمعات میں کہا ہے جو کتاب الدعوات میں نذکور سے کہ ذکر دل سے ہوتا ہے اور زبان سے بھی لیکن افضل یہ کہ ذکر دل وزبان اور ہر دو سے ہو اور اگر ذکر صرف ایک سے ہو تو صرف دل سے جوز کرد ل سے ہوگا وہ افضل ہوگا۔پرامام نووی نے شرح مسلم میں کہا ہے اور امام نووی نے بیچی کہا کہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کی واقسمیں ہیں : ایک ذکر قلب اور دوسرا ذکر لسان۔ذکر قلب کی بھی دو واقسمیں ہیں اوراس میں افضل ذکر قلبی ہے وہ یہ کہ اللہ عز وجل کی عظمت وجلال وجلوت کے بارے میں تفكر کیا جائے اور اللہ تعالیٰ کے ارضی وسماوی نشاٹیول میں غور وتدبر کیا جائے اور اس کو ذکر خفی کہتے ہیں اور اس حدیث ثریف میں وارد ہے کہ " خیر الذکر الخَفّی "۔
ذکر قلبی کی دوسری واقسم یہ کہ اوامر وناہی کے تذکرہ کے وقت اللہ تعالیٰ کی یاد دل سے ہو ابوعلي (موصلي صاحب سنن) نے امام المومنین حضرت علیؓ رضی اللہ عنہ اپنی کتاب (مسند) میں
ایک حدیث بیان کی ہے امام المومنین فرما تی ہیں کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمائے جیسے ذکر ختم کی فضیلت حس کو حفظ لیجنے انسان کی حفاظت کرنے والے فرشتہ جیسے نہیں پیش کر قیامت کے دون زکر جگلی پرستر درج زا ند ثواب سے لگا۔ قیامت کے دون اللہ تعالی ساری مخلوق کو حساب کے لئے جمع فرامایس گے۔ اور فرشتہ ان اعمال کوپیش فرامایس کے جن کو انہوں نے کیا ہے اللہ تعالی فرشتوں سے دریافت فرامایس گے۔ کہاں کے حق میں کوئی اور چیز تو نہیں رہ گی؟ فرشتہ عرض کریں گے کہ: تم نے ہراس چیزو جس کو جانتے نہیں گن کر کھادیا ہے اور پیش کردیا ہے۔ یعنے کر اللہ تعالی فرشتوں سے دریافت فرامایس گے۔ اے بندہ مومن تیرا ایک نیک عمل میرے پاس ہے جس کو تو نہیں جانتا ہے اور میں ہی اس کی جزا ء دولگا اور وہ نیک عمل ذکر ختم ہے جس کو تو نے دل میں کیا ہے اس حدیث کو علماء سیوطی رحمۃ اللہ نے " البدر والسافرة فی احوال الآخرة " میں بیان کیا ہے۔ امام محمد رحمۃ اللہ نے اپنی کتاب موطا میں فرامایہ کہ اللہ تعالی کا ذکر بر حال میں مستحسن ہے۔ 12 کثرت اللہ کا ذکر کرنے کی فضیلت
A hadith is narrated by Imam al-Mu'minin, who states that the Messenger of Allah ﷺ said: 'The virtue of completing the remembrance of Allah is like the protection of a person by an angel appointed to guard him. On the Day of Judgment, this will be presented as a deed of continuous remembrance, and its reward will be attached.' On the Day of Judgment, Allah Almighty will gather all His creation to take account. The angels will present the deeds that they have performed, and Allah Almighty will ask the angels about them. There will be nothing left unaccounted for. The angels will say: 'You have counted and presented things that you did not know.' This means that Allah Almighty will ask the angels: 'O servant, there is a good deed with Me that you do not know, and I will give you its reward in the Hereafter. That good deed is the completion of the remembrance of Allah, which you have done in your heart.' This hadith has been mentioned by the scholars, including Suyuti (RA), in his book 'Al-Badr wa Al-Safirah fi Ahwal al-Akhirah.' Imam Muhammad (RA) stated in his book, Al-Muwatta, that remembering Allah in a state of presence is commendable. The virtue of frequently remembering Allah is great.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ( ایک دفعہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے راستے سے گذر رہے تھے۔ اور مدنیہ منورہ تشریف لے جارہے تھے۔ جب حضرت اللہ صلی علیہ وسلم جمران نامی پہاڑی پر سے جومینے ایک رات کی مسافت پر ہے گزرے تو صحابہ کرام سے ) ارشاد فرمایا ہے۔ پیوہ جمران کی پہاڑیاں آگمبین ہیں ( مدینہ قریب ہی ہے ذرا تیز چلو مفردون سبقت لے گے۔ لیجنے وہ لوگ جوجماعت سے آگے مدینہ کی طرف قربت کی وجہ سے ٹکل گے صحابہ نے عرض کیا۔ یارسول اللہ " مفردون " کون ہیں تو حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ مفردون وہ مردوں جواللہ کو بھت یاد کریں۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔ ذکر کرنے والے اور نہ کرنے والے کا فرق
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (ﷺ) was traveling along the road to Makkah when he passed by a mountain called Jumdan. He said, "Proceed, this is Jumdan. The Mufarridun have gone ahead." They asked, "Who are the Mufarridun, O Messenger of Allah?" He said, "Those men and women who remember Allah abundantly." [Narrated by Muslim]
(1) His statement: "Those who remember Allah abundantly..." Imam Muhammad said in Al-Muwatta: "The remembrance of Allah is good in every state."
ابوموسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ
و سلم ارشاد فرما ئے پین کہ : اس شخص کی مثل جو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے زندہ انسان کی ہے اور اس شخص کی مثل جو اللہ تعالیٰ کا ذکر نہیں کرتا مردہ انسان کی ہے۔ لیتن جس شخص کے دل میں خدا کی یاد ہوتی ہے وہ بارکت اور باروق ہے۔ اور جس میں خدا کی یاد نہیں ہوتی وہ ببرکت اور بریان ہے۔ اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفرق طور پر کی ہے۔ اللہ کا ذکر کرنے والون کی فضیلت اللہ کا ذکر کرنے والون پر 3/3207 امام ماکرحمہ اللہ تے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ مجھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث پہوچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والون پر غافلون میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والے شخص کی مثل اس مجاپ کی طرح ہے جو کفار سے تہا جہا د کر ربا ہو اوراس کے سا قی دشمن کے خوف سے بھاگ رہے ہول۔ 4/3208 ایک اور روایت میں یول ہے: ياللہ تعالی کی یاد سے غافل لوگوں میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والا اس سرسپر درخت کی طرح ہے جوسوکے درختوں کے درمیان ہو یاغافل انسانوں میں اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے والا اس چراگ کے منڈہے جو تار کی گھڑ میں ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ غافل انسانوں میں اللہ تعالیٰ کی یاد کرنے والے شخص کو اللہ تعالیٰ اس کی زندگی میں لعنی و نیائی میں جنت میں اس کے مقام کو کھادیتے ہیں اور غافل انسانوں میں اللہ کی یاد کرنے والے شخص کے گناہوں کو اللہ تعالیٰ بخش دیتے ہیں۔ اگرچہ اس کے گناہ انسانوں اور جانوروں کی تعدا د کے برابر، یا کیوں نہ ہوں۔ اس کی روایت رزین نے کی ہے۔ ذاکرین کا مرتبا اور ان کی فضیلت 5/3209 ابو ہریرہ اور ابوسعید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے پدونوں حضرات فرماتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرما ئے پین کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جہاں کہیں کوئی جماعت
پیغمبر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہوئے فرشتوں کی وہ جماعت (جو اللہ کا ذکر کرنے والوں کی تلاش میں گشت کرتی رہتی ہے ) ان کو ظہیر بنی ہے اور اس جماعت کو اللہ کی رحمت و حافظ لیتی ہے اور انوار اُلیٰ حقاً جاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ان پر اطمینان قلب نازل ہوتا ہے (اور حضور قلب بھی حاصل ہوتا ہے ) اور اللہ تعالیٰ ان ذکر کرنے والوں کا (جلالی کے ساتھ ) اپنے (ملائکہ مقربین اور انبیاء اور مسلمین کی ارواح کے ) ساتھ (بطور فخر ) ذکر فرماتے ہیں۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
ایضاً وسری حدیث
Abu Musa (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "The example of one who remembers his Lord and one who does not is like the living and the dead." [Agreed upon]
This hadith has been narrated separately by Bukhari and Muslim. The virtue of those who remember Allah is narrated by Imam Maqsood (RA) in 3/3207, where he states that this hadith was transmitted to him from the Messenger of Allah ﷺ, who said: 'The one who remembers Allah while others are heedless is like a person who is being pursued by disbelievers and is fleeing from the fear of his enemy.' In another narration 4/3208, it is stated: 'The one who remembers Allah while others are heedless is like a tall tree among short trees, or like a wick in a lantern that is in a niche, and the Messenger of Allah ﷺ said: 'Allah bestows upon the one who remembers Him while others are heedless a place in Paradise during his life and after his death, and Allah forgives his sins, even if they are as numerous as the grains of sand or the drops of rain or the foam of the sea.' This narration is attributed to Rezain. The status and virtue of those who remember Allah 5/3209 are narrated by Abu Hurairah and Abu Sa'eed (RA), both of whom state that the Messenger of Allah ﷺ said: 'Wherever a group of people gather to remember Allah, the angels form a group around them, and the mercy of Allah descends upon them, and the light of truth visits them, bringing peace and tranquility to their hearts (and presence of mind). And Allah mentions these rememberers with His (glorious) angels, prophets, and the souls of the believers.' This narration is reported by Muslim.
مسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں اپنے بندے مومن کے گمان (اور خیال کے ساتھ ہول کر ) وہ میری نسبت جسیا خیال کرتا ہے میں مجھی اس کے ساتھ و پیاسی معاملہ کرتا ہول۔ اگر وہ مجھے معافی کا طالب ہے تو میں اس کو معاف کر دیتا ہول اگر وہ مجھے سے دو ماںگتا ہے تو میں اس کی مد و کرتا ہول۔ اور جب وہ (زبان پادل تے ) میرا ذکر کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہول۔ اگر وہ میرا ذکر اپنے دل میں کرتا ہے تو میں مجھی اس کو نفس میں یاد کرتا ہول۔ اور اگر وہ میرا ذکر مسلماں ول کی جماعت میں کرتا ہے تو میں مجھی اس کا ذکر ایسی جماعت میں کرتا ہول کہ جوال نے جہتر ہے (چناچہ ثمر ح عقائد نسفی کے خواشی میں کہا ہے کہ خواص الملائکہ متوسط درجہ کے بشر سے افضل ہیں )۔ اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔ صاحبین کی صحبت میں بیٹھنے والا مجھی محروم نہیں ہوتا
I deal with My servant according to his thoughts and suspicions about Me. If he seeks forgiveness from Me, I forgive him; if he asks Me for something, I give it to him. And when he mentions Me, I am with him. If he remembers Me in his heart, I remember him in Myself; and if he mentions Me in a gathering of Muslims, I mention him in a better gathering. This hadith has been narrated by Bukhari and Muslim on agreed-upon authority. One who sits in the company of My righteous servants will not be deprived.
مسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے فرشتوں کی ایک جماعت مقررہ جو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والوں کی تلاش میں چلتی رہتی ہے (تاکہ ان سے ملیں۔ اور ان کے ذکر کوسین ) جب وہ
زاکرین کی جماعت کو سنہ پس تو وہ فرشتہ اپنے ساتھیوں کو آواز دے کر کہتے ہیں کہ اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لئے دوڑو۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ یہ کر فرشتوں کی جماعت زاکرین کے پاس جمع ہوجائیں ہے۔ اور اپنے پرولے ان کو گہیر لیٹے ہے اور ان کا یہ سلسلہ پبل آسان کو بھی جاتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ (جب یقین فرشتہ اللہ تعالی کے حضور میں جاتے ہیں ) تو اللہ تعالی باوجود اس کے فرشتوں سے زیادہ اپنے بندرن کے حالات واقف ہیں فرشتوں سے دریافت کرتے ہیں کہ مرے بندر کیا کہہ رہے ہیں؟ فرشتہ عرض کرتے ہیں کہ وہ آپ کی پاکی، برائی، تعریف اور عظمت کے ساتھ آپ کا ذکر کر رہے ہیں حضور نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالی فرشتوں سے دریافت کرتے ہیں کہ کیا ان لوگوں نے مجھے دیکھا ہے، تو فرشتہ عرض کرتے ہیں کہ: آپ کی ذات کی قسم انہوں نے آپ کو نہیں دیکھا؟ اللہ تعالی دریافت فرماتے ہیں کہ: اگروہ نہیں دیکھے لیکن تو ان کا کیا حال ہوتا ہے۔ یعنے کر فرشتہ عرض کرتے ہیں کہ: اگروہ آپ کو نہیں لیتے تو آپ کی اور زیادہ عبادت کرتے۔ اورآپ کی اور زیادہ برزگی اور پاکی بیان کرتے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالی پھر فرشتوں سے پوچھتے ہیں کہ وہ مجھے کیا مانتے ہیں؟ فرشتہ عرض کرتے ہیں کہ: وہ آپ سے جنت کے طلبگار ہیں۔ یعنے کر اللہ تعالی ان سے دریافت فرماتے ہیں کہ کیا انہوں نے جنت کو دیکھا ہے۔ فرشتہ عرض کرتے ہیں کہ: آپ کی ذات کی قسم انہوں نے جنت نہیں دیکھی ہے۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اگروہ جنت کو دیکھی لیتے تو ان کا کیا حال ہوتا؟ فرشتہ عرض کرتے ہیں کہ اگروہ جنت دیکھ لیتے تو ان میں جنت کی خواہش طلب اور رغبت زیادہ ہوتی۔ اللہ تعالی پھر فرشتوں سے پوچھتے ہیں کہ وہ مجھے کس چیز کی پناہ ماںگتے ہیں؟ فرشتہ عرض کرتے ہیں کروہ آپ سے دوزخ کی پناہ چاہتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ: اللہ تعالی ان فرشتوں سے پوچھتے ہیں کہ کیا، انہوں نے دوزخ دیکھی ہے؟ تو فرشتہ عرض کرتے ہیں
کہ آپ کی ذات کی قسم انہوں نے دوزخ نہیں ویسے بھی، اللہ تعالیٰ پوچھتے ہیں کہ اگر وہ دوزخ دیکھ لیتے تو ان کا کیا حال ہوتا؟ فرض کرتے ہیں کہ اگر وہ دوزخ دیکھ لیتے تو اس سے بہت زیادہ بجاگے اور خوف زدہ ہوتے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ (فرشتون کو خطاب کرتے) فرماتے ہیں کہ میں تم کو گواہ رکھ کر کہتا ہوں کہ: میں نے ان کو جس ویسے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ: (یعنی کہ) ان فرشتوں میں سے ایک فرشتہ عرض کرتا ہے کہ ان میں ایک ایسا شخص بھی شامل ہے جو (ذکر کرنے کے لئے حاضر نہیں ہوا تھا بلکہ) وہ اپنے کسی کام کے لئے ان کے پاس آیا تھا اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ اپنے کامل لوگ بھی ان کے پاس بیٹھے والے بھی بد بخت نہیں ہوتا۔ اس لئے اس کی بھی بجشش ہوجائے گی۔ اور ذاکرین کی صحبت میں بیٹھنے والا بھی محروم نہیں ہوتا ہے۔
اس حدیث کی روایت بخاری نے کی ہے 12۔
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (ﷺ) said"Allah has angels who roam the roads seeking people engaged in remembrance. When they find a group remembering Allah, they call out, 'Come to what you seek!' They then surround them with their wings up to the lowest heaven. Their Lord, Who knows them better, asks, 'What are My servants saying?' They reply, 'They glorify, magnify, praise, and exalt You.' He says, 'Have they seen Me?' They say, 'No, by Allah, they have not seen You.' He says, 'How would it be if they saw Me?' They say, 'If they saw You, they would worship You more fervently, glorify You more, and praise You more.' He asks, 'What do they ask for?' They say, 'They ask for Paradise.' He says, 'Have they seen it?' They say, 'No, by Allah, O Lord, they have not.' He says, 'How would it be if they saw it?' They say, 'If they saw it, they would desire it more intensely and strive harder for it.' He asks, 'From what do they seek refuge?' They say, 'From the Fire.' He says, 'Have they seen it?' They say, 'No, by Allah, O Lord, they have not.' He says, 'How would it be if they saw it?' They say, 'If they saw it, they would flee from it more desperately and fear it more.' He then says, 'I call you to witness that I have forgiven them.' An angel among them says, 'So-and-so is not truly among them; he only came for a need.' Allah says, 'They are the people of the gathering, none who sits with them is wretched.'" [Narrated by Bukhari]
In Muslim’s version: "Allah has mobile, distinguished angels who seek out gatherings of remembrance. When they find one, they join them and spread their wings over them until they fill the space between them and the lowest heaven. When they disperse, they ascend. Allah, Who knows best, asks, 'From where have you come?' They say, 'We came from servants of Yours on earth who glorify, magnify, declare Your Oneness, praise, and supplicate to You.' He asks, 'What do they ask of Me?' They say, 'They ask for Your Paradise.' He says, 'Have they seen My Paradise?' They say, 'No, O Lord.' He says, 'How would it be if they saw it?' They say, 'They seek Your protection.' He asks, 'From what?' They say, 'From Your Fire, O Lord.' He says, 'Have they seen My Fire?' They say, 'No.' He says, 'How would it be if they saw it?' They say, 'They seek Your forgiveness.' He says, 'I have forgiven them, granted them what they asked, and protected them from what they feared.' They say, 'O Lord, among them is so-and-so, a sinful servant who merely passed by and sat with them.' He says, 'I have forgiven him too. They are a people whose companion is not wretched.'"
(1) His statement: "A group remembering Allah..." indicates the virtue and elevated status of communal remembrance. Mirqat Al-Mafatih mentions this.
(2) His statement: "Have they seen Me?" hints that the glorification of humans is superior because it occurs despite barriers, unlike the angels' glorification, which is direct. Mirqat Al-Mafatih.
(3) His statement: "They would praise You more" implies that the effort in worship corresponds to knowledge and love. Mirqat Al-Mafatih.
(4) His statement: "They ask for Your Paradise" shows that desiring Paradise is not blameworthy, as it is the abode of reward and meeting Allah. What is criticized is worship solely for Paradise or fear of Hell, for Allah deserves worship for His sake. Mirqat Al-Mafatih.
(5) His statement: "Have they seen it?" indicates that Paradise is a created, existing, tangible reality. Mirqat Al-Mafatih.
(6) His statement: "They would fear it more" demonstrates the profound dialogue resulting from abundant remembrance. This may be the meaning of: "Whoever remembers Me in a gathering, I remember him in a better one." The hadith also highlights the superiority of worship in the unseen realm, just as faith in the unseen is superior to faith in the seen. Mirqat Al-Mafatih.
(7) His statement: "None who sits with them is wretched" encourages keeping company with those who remember Allah. Mirqat Al-Mafatih.
(8) His statement: "Mobile (angels)" refers to those who frequently travel, from which the Sufi concept of spiritual travel (siyahah) is derived. Mirqat Al-Mafatih.
(9) His statement: "Their companion is not wretched" encourages sitting with the righteous to gain their blessings. Mirqat Al-Mafatih.
This hadith has been narrated by Bukhari 12.
اور مسلم کی ایک روایت میں اس طرح ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ فرشتوں کی ایک جماعت ہے جو زیادہ گشت کیا کرتی ہے اور ذاکر کے مجلس کی تلاش میں رہتی ہے۔ اور جب یقین ثابت کسی ایسی مجلس کو پائیتے ہیں جس میں اللہ کا ذکر ہور باہوتویہی ہی ان کے ساتھ ہی بیٹھ جاتے ہیں اور ایک دوسرا کو اپنے پرول سے ذباکے لیتے ہیں۔ یہاں تک کہوہ ساری فضاء جواس مجلس اور آسان کے درمیان ہے فرشتوں سے بحر جانی ہے اور جب (ذکر کی مجلس برخواست ہوتی ہے) تو یقین ثابت منتشر ہو کر (ساتویں) آسان پر چڑھ جاتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ (فرشتون کے بارگاہ رب العزت پہوچے پر) اللہ تعالیٰ ان سے دریافت فرماتے ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے زیادہ اپنے بندرول کے حال سے باخبر ہیں۔ تم کہاں سے آ رہے ہو؟ فرض کرتے ہیں کہ تم آپ کے ان بندرول کے پاس سے
آرہے ہیں جوز مین پر آپ کی پاکی، بزرگی اور آپ کا کلمہ اور حمد بیان کرنے کے لئے تھے اور
آپ سے دست بردا عتہ اللہ تعالی فرشتوں سے دریافت کرتے ہیں کہ وہ مجھے کیا مانگتے ہیں؟
فرشتن کوٹے ہیں کروہ آپ سے آپ کی جنت کا سوال کرتے ہیں، اللہ تعالی ان سے دریافت کرتے
ہیں کہ کیا انہول نے میری جنت کو دیکھا ہے۔ فرشتہ عرض کرتے ہیں: اے پروردگار انہول نے
(آپ کی جنت کو) نہیں دیکھا ہے۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں کیا خوب ہوتا اگر وہ میری جنت کو دیکھے
لیے۔ پھر فرشتہ عرض کرتے ہیں کہ: وہ آپ سے پناہ ماںگتے ہیں اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ: وہ کس چیز
سے پناہ ماںگتے ہیں؟ فرشتہ عرض کرتے ہیں کہ وہ آپ کی دوزخ سے پناہ ماںگتے ہیں۔ اللہ تعالی
فرماتے ہیں کہ کیا انہول نے میری دوزخ کو دیکھا ہے؟ فرشتہ عرض کرتے ہیں: اے خداوند انہول نے
(دوزخ کو) نہیں دیکھا، اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں کہ: کیا ہی بہتر ہوتا اگر وہ میری دوزخ کو
دیکھ لیتے۔ فرشتہ پھر عرض کرتے ہیں: کہ اے خداوند وہ آپ سے مغفرت طلب کرتے ہیں۔ حضور
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں کہ (تم گواہ رہو) کہ میں نے ان کی
مغفرت کردی۔ اور جس چیز (جس کی جنت کو) انہول نے مانگا میں نے وہ چیز انہیں بخش دی۔ اور جس چیز
(جو کی دوزخ) سے انہول نے پناہ ماںگی میں نے ان کواسے پناہ دی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
فرماتے ہیں کہ میں کرفرشتہ پھر اللہ تعالی سے عرض کرتے ہیں: ان میں ایک شخص ایسا ہے جو بدرا
گزہ کارتے اور ادحرتے گذر ربا تجا اوراس مجلس میں پیٹ گیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں
کہ: اللہ تعالی فرشتوں سے پیش کر فرماتے ہیں کہ میں نے اس شخص کو بھی بخش دیا کہ پر ایسے سعادت
مندلگہ ہیں کران کی صحبت میں بیٹھنے والا کبھی بد بخت اور مردو میں ہوتا۔
ف: واضح ہوکہ بخاری اورمسلم کی ذکور الصدر حدیث سے حسب زیل فوائد حاصل ہوتے
ہیں: محمل فوائد کے ایک فائدہ یہہ کہ ذکر الہی کے لئے مجالس کا قائم کرنا برطی اہمیت اورفضلیت کا
باعث ہے دوسرے پیکہ بنی آدم کا کئی موانعات کے باوجود عالم ناسوت میں رہ کر اللہ تعالی کودیکے بلغر
اس کی تشیع اور تقز لیس بیان کرنا ملاکہ کی تشیع اور تقز لیس سے افضل ہے اس لئے کر فرشتن کو مشاہدہ حق
کے سوا وہ موانعت کچھ نہیں ہیں جوانسانول کو حصل ہو گے ہیں -
تمبرے پیکر جنت کا سوال کرنا نہ موم نہیں البتہ پی نہ موم ہے کر اللہ تعالی کی عبادت صرف
جنت کے شوق اور دوزخ کے خوف سے کی جائے اس لئے کر اللہ تعالی کی عبادت میں نفر مطلوب ہے -
اور اس کی عبادت میں کسی غرض کو والست نہیں کرنا چاہئے -
اس حدیث شریف میں یہ کچھ ذکور ہے کہ فرشتہ ذکر الہی کی مجالس کی تلاش میں گشت کرتے
رہتے ہیں اس سے علماء نے صوفیاء کرام کی سیاحت کا جواز ثابت کیا ہے -
آخر میں حدیث میں ارشاد ہے کہ ذاکرین کی صحبت میں بیٹھنے والا کچھ بد بخت نہیں ہوتا اس
میں اس با ت کی ترغیب ہے کہ نیک اور صالحین کی صحبت اختیار کرنا چاہئے تاکہ ان کی صحبت سے فیوض
اور برکات حاصل ہوں اور پیوائے مرقات سے ماخوذ ہیں
ذاکر کو معیت الہی حاصل ہوتی ہے
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (ﷺ) said"Allah has angels who roam the roads seeking people engaged in remembrance. When they find a group remembering Allah, they call out, 'Come to what you seek!' They then surround them with their wings up to the lowest heaven. Their Lord, Who knows them better, asks, 'What are My servants saying?' They reply, 'They glorify, magnify, praise, and exalt You.' He says, 'Have they seen Me?' They say, 'No, by Allah, they have not seen You.' He says, 'How would it be if they saw Me?' They say, 'If they saw You, they would worship You more fervently, glorify You more, and praise You more.' He asks, 'What do they ask for?' They say, 'They ask for Paradise.' He says, 'Have they seen it?' They say, 'No, by Allah, O Lord, they have not.' He says, 'How would it be if they saw it?' They say, 'If they saw it, they would desire it more intensely and strive harder for it.' He asks, 'From what do they seek refuge?' They say, 'From the Fire.' He says, 'Have they seen it?' They say, 'No, by Allah, O Lord, they have not.' He says, 'How would it be if they saw it?' They say, 'If they saw it, they would flee from it more desperately and fear it more.' He then says, 'I call you to witness that I have forgiven them.' An angel among them says, 'So-and-so is not truly among them; he only came for a need.' Allah says, 'They are the people of the gathering, none who sits with them is wretched.'" [Narrated by Bukhari]
In Muslim’s version: "Allah has mobile, distinguished angels who seek out gatherings of remembrance. When they find one, they join them and spread their wings over them until they fill the space between them and the lowest heaven. When they disperse, they ascend. Allah, Who knows best, asks, 'From where have you come?' They say, 'We came from servants of Yours on earth who glorify, magnify, declare Your Oneness, praise, and supplicate to You.' He asks, 'What do they ask of Me?' They say, 'They ask for Your Paradise.' He says, 'Have they seen My Paradise?' They say, 'No, O Lord.' He says, 'How would it be if they saw it?' They say, 'They seek Your protection.' He asks, 'From what?' They say, 'From Your Fire, O Lord.' He says, 'Have they seen My Fire?' They say, 'No.' He says, 'How would it be if they saw it?' They say, 'They seek Your forgiveness.' He says, 'I have forgiven them, granted them what they asked, and protected them from what they feared.' They say, 'O Lord, among them is so-and-so, a sinful servant who merely passed by and sat with them.' He says, 'I have forgiven him too. They are a people whose companion is not wretched.'"
(1) His statement: "A group remembering Allah..." indicates the virtue and elevated status of communal remembrance. Mirqat Al-Mafatih mentions this.
(2) His statement: "Have they seen Me?" hints that the glorification of humans is superior because it occurs despite barriers, unlike the angels' glorification, which is direct. Mirqat Al-Mafatih.
(3) His statement: "They would praise You more" implies that the effort in worship corresponds to knowledge and love. Mirqat Al-Mafatih.
(4) His statement: "They ask for Your Paradise" shows that desiring Paradise is not blameworthy, as it is the abode of reward and meeting Allah. What is criticized is worship solely for Paradise or fear of Hell, for Allah deserves worship for His sake. Mirqat Al-Mafatih.
(5) His statement: "Have they seen it?" indicates that Paradise is a created, existing, tangible reality. Mirqat Al-Mafatih.
(6) His statement: "They would fear it more" demonstrates the profound dialogue resulting from abundant remembrance. This may be the meaning of: "Whoever remembers Me in a gathering, I remember him in a better one." The hadith also highlights the superiority of worship in the unseen realm, just as faith in the unseen is superior to faith in the seen. Mirqat Al-Mafatih.
(7) His statement: "None who sits with them is wretched" encourages keeping company with those who remember Allah. Mirqat Al-Mafatih.
(8) His statement: "Mobile (angels)" refers to those who frequently travel, from which the Sufi concept of spiritual travel (siyahah) is derived. Mirqat Al-Mafatih.
(9) His statement: "Their companion is not wretched" encourages sitting with the righteous to gain their blessings. Mirqat Al-Mafatih.
It is clear that from the Hadith mentioned in Sahih al-Bukhari and Sahih Muslim, the following benefits can be derived: One benefit is that establishing gatherings for the remembrance of Allah (SWT) is a means of great importance and virtue. Another benefit is that despite various obstacles, human beings living in the world of creation can invite others to the worship and obedience of Allah (SWT), which is more virtuous than the invitation to worship and obedience by angels. This is because the angels have no obstacles other than the observation of the truth, whereas human beings face numerous challenges. -
It is not appropriate to ask about the rewards of Paradise with the intention of gaining something material; rather, the worship of Allah (SWT) should be performed solely out of love for Paradise and fear of Hell. Therefore, in the worship of Allah (SWT), the desired end is the pleasure of Allah (SWT) alone.
And one should not seek any worldly purpose in His worship.
In this noble Hadith, it is mentioned that angels roam in search of gatherings where Allah (SWT) is remembered. From this, scholars have established the permissibility of the travels of the noble Sufis.
Finally, the Hadith states that one who sits in the company of those who remember Allah (SWT) will not be unfortunate. This encourages seeking the company of good and righteous people so that one may obtain blessings and spiritual benefits through their companionship, as mentioned in the Hadith.
The one who remembers Allah (SWT) attains divine support.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
ارشاد فرمایا ہے کر اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ میں اپنی رحمت تو فیق اور امداد کے ذریعہ اپنے بندہ مومکن
کے ساتھ ہر وقت ہول جب کروہ میرا ذکر (دل یازبان) سے کرتا ہے اور میرے ذکر میں اس کے ہونت
ہلتے ہوئے (یعنی حضور قلب کے ساتھ میرا ذکر زبان سے کرتا ہو ) -
اس حدیث کی روایت بخاری نے کی ہے -
ذکر کے حلق قائم کرنا مستحب ہے
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "Allah the Exalted says: 'I am with My servant when he remembers Me and his lips move with My mention.'" [Narrated by Bukhari]
آنس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد
فرمایا ہے کہ : جب تم ریاض الجنة لیعنی جنت کے باغوں سے گزر رتو خوب میوہ خوری کیا کرو صحابہ
نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ریاض الجنة کیا ہے؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہے
ریاض الجنة ذکر کے حلے میں جہاں مسلمان و نیا میں اللہ کا ذکر کے لے جمع ہوتے ہیں۔
اس کی روایت ترتیب کی ہے۔
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ کر کے حلقوں کو ریاض الجنت میں جنت کے باغ فرمایا
گیا ہے اس لے کہ آدمی ان کی وجہ سے جنت میں داخل ہوتا ہے امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے
کہ: جس طرح اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا مستحب ہے اس طرح ذکر کے لے حلے بنا کر بھیجنا بھی مستحب
ہے۔ مرقات۔12
حلق بنا کر ذکر کرنے والوں پر اللہ تعالیٰ نظر کرتے ہیں
Anas (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "When you pass by the meadows of Paradise, graze therein." They asked, "What are the meadows of Paradise?" He said, "The circles of remembrance." [Narrated by Tirmidhi]
البوسعیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں (کہ ایک روز) حضرت
معاویہ رضی اللہ عنہ ایک مسجد پر پہو چے تو دیکھا کہ پچھلے لوگ حلے بنا کر بیٹھے ہیں (اور ذکر کی ہیں
مشغول ہیں) تو حضرت معاویہ نے ان سے پوچھا کہ آپ کوسے چیز نے پیش کر جمع کیا ہے؟ تو ان
لوگوں نے جواب دیا کہ: ہم اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لے جمع ہوئے ہیں اس پر حضرت معاویہ نے ان
لوگوں کو فتنم دے کر پوچھا پیش کر جمع نے تمہاری غرض اللہ کے ذکر کے سوا کوئی اور چیز نہیں ہے؟ تو
انہوں نے کہا: اللہ کی فتنم ہم کو اللہ کے ذکر کے سوا کسی اور چیز نے پیش نہیں پیش کر ہے حضرت
معاویہ نے فرمایا کہ میں نے تم کو فتنم کی بدگمانی کی وجہ سے نہیں دی ہے بلکہ میں نے حضرت صلی اللہ
علیہ و آلہ وسلم کی اتباع میں تم کو پتنم دی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے میرا استحس
قدر قریب ہے اور کسی کا نہیں (کیونکہ آپ حضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نسبت برادر ہیں) اس کے
باوجود میں احتیاطاً صحابہ میں سب سے کم حد تین بیان کیا ہوں (ایک دفعہ کا اقتداء کر) رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ایک حلقوں میں تشریف لا ہے اور دریافت کیا کہ تم کو
پیش کس چیز نے پیش کر ہے؟ صحابہ نے عرض کیا کہ ہم پیش کر اللہ کا ذکر کر رہے ہیں اور اس کی
حمد بیان کر رہے ہیں کہ اس نے ہم کو اسلام کی بدایت دی اور مسلمان بنا کر ہم پر احسان کیا اس پر
حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں تم کو تمہیں دے کر پوچھتا ہوں کہ :صرف اللہ کے ذکر، میں
تم کو بہال جمع کیا ہے؟ صحابہ نے عرض کیا: (جی بال حضور) اللہ کی فتنہ بہال اس لے جیتے ہیں۔ یہ
سن کر حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں نے تم کو کسی بدگمانی کی وجہ سے فتنہ میں دلانی
بلکہ واقعہ یہ کہ حضرت جبریل میرے پاس آکر اور انہوں نے مجھے خبر دی کہ اللہ تعالیٰ تمنہارت
اس طرح (حلق بنائے) ذکر کرنے سے فرشتوں پر فخر کرتا ہے (کہ میرے ان بنوں کو دیکھو کہ
خواہشات نفس اور شیطان کے غلبے کے باوجود یہ میرے ذکر میں مشغول ہیں)۔
اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔
اثنتین بیٹھے ہر حال میں اللہ کو یاد کرنا چاہئے
Abu Sa'id (may Allah be pleased with him) reported: Mu'awiyah came upon a circle in the mosque and asked, "What has made you sit here?" They said, "We sat to remember Allah." He said, "By Allah, is that the only reason?" They said, "By Allah, it is." He said, "I did not make you swear due to any doubt, but no one was closer to the Messenger of Allah (ﷺ) in rank than me, yet I narrated fewer hadiths than others. The Messenger of Allah (ﷺ) once came upon a circle of his companions and asked, 'What has made you sit here?' They said, 'We sat to remember Allah and praise Him for guiding us to Islam and blessing us.' He asked, 'By Allah, is that the only reason?' They said, 'By Allah, it is.' He said, 'I did not make you swear due to any doubt, but Jibril came to me and informed me that Allah (Exalted and Glorified is He) boasts of you to the angels.'" [Narrated by Muslim]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ان سے ارشاد فرما کہ جو شخص کسی جگہ بیٹھے اور اس جگہ اللہ کو یاد نہ کرے تو اس کا وہال اس
طرح میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پروبال ہوگا۔ اور جو شخص اپنی خواب گاہ میں لیٹا اور وہال میں
اللہ کو یاد نہ کرے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پروبال ہوگا۔ اس سے معلوم ہوا کہ انسان کو ہر حال
میں خواب ہو یا بیماری ہوستہو یا برخواست اللہ کا ذکر اور اس کو یاد کرتے رہنا چاہئے خصوصاً
جب رات میں سونے کے لیے تو ذکر کرتے ہوئے سوجائے۔
اس کی روایت ابوداود نے کی ہے۔
اللہ کی یاد سے غفلت
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "Whoever sits in a gathering without remembering Allah, it will be a source of regret for him from Allah. Whoever lies down without remembering Allah, it will be a source of regret for him from Allah." [Narrated by Abu Dawud]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرما تے ہیں کہ جب لوگ کسی ایسی مجلس سے نکلنے جس میں اللہ کا ذکر نہیں ہوتا ان
کا اس طرح (غفل) اللہ نے ایسے گویا کہ انہوں نے مردار گلدہ کا گوشت کھا کر اٹھا ہے اور قیامت
کے دون ان کے اس طرح خدا کی یاد سے غفلت ہوگر (اثنا) ان کے لیے حسرت ہوگی۔ اس کی روايت امام احمد اور ابوداود نے کی ہے۔ 12 ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ مجلس میں خدا کی یاد سے غفلت ہوگی تو کا گوشت کھا کر اثنا اس لے ارشاد فرمایا گیا کہ گھاسارے حیوانات میں کمتر حیوان ہے اور اس کی بہت قوت ضرب مثل ہے اور گدہ کا گا شیطان سے ہوتا ہے اور پیرحمان سے دور کرے۔ واللاہ اس لے اس کی آواز پر اعجاز پڑتا ہے کا حکم ہے۔ مرقات 12
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "No people rise from a gathering in which they did not remember Allah except that they rise as if from a dead donkey, and it will be a regret for them." [Narrated by Ahmad and Abu Dawud]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جب لوگ کسی مجلس میں بیٹھیں اور وہال اللہ کو یاد نہ کریں اور اپنے نہیں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر دوروں کی جین تو پیہ مجلس ان کی حق میں وبال اللہ تعالیٰ چاہیں تو (ان کو ذکر اور دوروں سے غفلت کی پاداش میں) عذاب دیا چہر (اپنے فضل اور کرم سے ایمان کے بدلاں کے اس قصور کو) معاف فرمادیں۔ اس کی روایت ترنزی نے کی ہے۔
انسان کی ہربات اس کے اوپروبالے ہے
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "No people sit in a gathering without remembering Allah or sending blessings upon their Prophet except that it will be a source of regret for them. If Allah wills, He will punish them; if He wills, He will forgive them." [Narrated by Tirmidhi]
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ: انسان کی ہربات اس کے اوپروبالے ہے اس کو نفع دینے والی نہیں ہے سواہے اس بات کے جس میں کسی نکی کی بہايت یا کسی برائی سے روکا گیا ہے۔ یا جس میں اللہ کا ذکر ہو۔ (جیسے تلاوت، درود، تشیح یا ایک باب پر کے لے دعا وغیرہ)۔ اس حدیث کی روایت ترنزی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
زیادہ باقی کر نے دل سخت ہوجاتا ہے
Umm Habibah (may Allah be pleased with her) reported: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "Every word of the son of Adam is against him except enjoining good, forbidding evil, or the remembrance of Allah." [Narrated by Tirmidhi and Ibn Majah]
ابن عمر رضي الله عنهما سے روايت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول الله صلى الله عليه وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ: اللہ کی یاد کے بغیر کہتے کلام نہ کیا کرو۔ اس لئے کہ بغایر ذکر اللہ کے کثرت کلام دل کی سختی کا سبب ہوجاتا ہے۔ اور سخت دل والے لوگ اللہ کی رحمت اور نظر عنايت سے دور ہوجاتے ہیں۔ اس کی روايت ترتیب نہیں ہے۔
ف: صاحب مرقات نے کہتا ہے کہ دل کی سختی کی علامت یہ ہے کہ انسان حق بات سننے اعراض کرے اور لوگوں سے میل جول زیادہ رکے اور اس میں خوف خدا اور خشوع اور گریہگی نہ ہو اور آخرت کی یاد سے غافل ہوجائے۔ اور صاحب اشعة اللمعات نے کہتا ہے کہ جس شخص میں یہ باقی پانی جائے تو اس کا ذکر قبول نہیں ہوتا۔
ذکر خفی کی فضیلت ذکر جلي سے 70 درجہ زائد ہے
The author of Mirqat says that the sign of the hardness of the heart is that a person rejects the truth when he hears it, maintains excessive social interaction, lacks the fear of Allah, concentration, and weeping, and becomes heedless of the Hereafter. And the author of Ash'at al-Lama'at says that if these qualities remain in a person, his remembrance (dhikr) is not accepted. The excellence of secret remembrance over open remembrance is seventy degrees.
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقة رضي الله عنها سے روايت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول الله صلى الله عليه وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ: ذکر خفی کی فضیلت جس کو نامہ اعمال کیے وا لے فرشتہ بھی نہیں سپاتے (ذکر جلي) پر 70 درج زائد ہے۔ جب قیامت ہوگی اور اللہ تعالیٰ مخلوق کو حساب کے لئے جمع فرمائیں گے۔ اور پیغمبر کی ان اعمال کو پیش کریں گے جن کو انہوں نے کیا اور محفوظ رکھا ہے تو اللہ تعالیٰ ان سے فرمائیں گے کہ: کیا ان ذکر خفی کرنے والوں کی کونی اور نیک (کہنے تے) رہ گئی ہے؟ تو فرشتہ عرض کریں گے کہ: ہم کو جہالت کی معلوم نہیں ہے نہ سب پچھلے دنیا اور اس کی حفاظت کی ہے۔ پیغمبر اللہ تعالیٰ ذکر خفی کرنے والوں سے مخاطب ہوکر فرمائیں گے کہ تیری ایک نگی میرے پاس محفوظ ہے۔ (جس کے مرتبہ) کو تنبیہ جانتا اور اس کی جزاء میں خود تھے دول گا اور وہ نگی تیرا ذکر خفی ہے۔ جس کو دنیا میں کرتا تھا۔ اس کی روايت ابو عیلی نے کی ہے اور علامہ
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقة رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ: ذکر خفی کی فضیلت جس کو نامہ اعمال کیے وا لے فرشتہ بھی نہیں سپاتے (ذکر جلي) پر 70 درج زائد ہے۔ جب قیامت ہوگی اور اللہ تعالیٰ مخلوق کو حساب کے لئے جمع فرمائیں گے۔ اور پیغمبر کی ان اعمال کو پیش کریں گے جن کو انہوں نے کیا اور محفوظ رکھا ہے تو اللہ تعالیٰ ان سے فرمائیں گے کہ: کیا ان ذکر خفی کرنے والوں کی کونی اور نیک (کہنے تے) رہ گئی ہے؟ تو فرشتہ عرض کریں گے کہ: ہم کو جہالت کی معلوم نہیں ہے نہ سب پچھلے دنیا اور اس کی حفاظت کی ہے۔ پیغمبر اللہ تعالیٰ ذکر خفی کرنے والوں سے مخاطب ہوکر فرمائیں گے کہ تیری ایک نگی میرے پاس محفوظ ہے۔ (جس کے مرتبہ) کو تنبیہ جانتا اور اس کی جزاء میں خود تھے دول گا اور وہ نگی تیرا ذکر خفی ہے۔ جس کو دنیا میں کرتا تھا۔ اس کی روایت ابو عیلی نے کی ہے اور علامہ
سیوطی نے اس کو بدور سافرہ احوال و آخرت کے بیان میں لکھا ہے۔
رجوع الی اللہ تعالیٰ قرب خداوندی حاصل ہوتا ہے
Suyuti has written this in the description of the states and the hereafter. Returning to Allah, the Exalted, brings one closer to divine proximity.
ابوزرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
و آلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ: جو شخص (خالصہ میرے لئے) کوئی ایک نماز
کرے تو اس کو اس طرح کی دعائیں کا ثواب و دیاجا یہ گا اور (اس کے عمل کو صدق اور اخلاص کے
لحاظ سے سات سو گنا اور) اس سے زیادہ ثواب دول گا اور جو کوئی ایک گناہ کرے تو اس کو اس کی سزا
اس برائی کے برابر یا دی جائے گی یا میں چاہوں تو (اپنے فضل سے) اس کو خش دول گا اور جو شخص
(اطاعت کے ساتھ) مجھے ایک بالشت قریب ہوتا ہے تو میں اپنی رحمت کے ساتھ اس سے ایک
بات کو قریب ہوتا ہوں اور جو مجھ سے ایک باطن قریب ہوتا ہے تو میں اس سے دو باطن قریب ہوتا
ہوں اور جو میری طرف آہستہ چل کر آتا ہے تو میں تیزی کے ساتھ چل کراس کی طرف آتا ہوں اور
جو کوئی زمین بھر گناہ لے کر مجھ سے ملتا ہے بشرطہ اس نے میرے ساتھ کسی کوثر کی نکیا ہو تو میں
اس سے اتنی بھی مغفرت کے ساتھ ملتا ہوں اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
نوافل کے ذریعہ قرب اللہ حاصل ہوتا ہے
Abu Dharr (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "Allah the Exalted says: 'Whoever comes with a good deed will have ten times its reward or more. Whoever comes with an evil deed will be recompensed with its like or I will forgive. Whoever draws near to Me by a handspan, I will draw near to him by an arm's length. Whoever draws near to Me by an arm's length, I will draw near to him by a fathom. Whoever comes to Me walking, I will come to him running. And whoever meets Me with sins filling the earth, not associating anything with Me, I will meet him with as much forgiveness.'" [Narrated by Muslim]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
و آلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جس کسی نے میرے کسی ولی کو ایذاء پیا چاہی تو
میں اس سے جنگ کا اعلان کرتا ہوں اور اس لئے بندہ مومن کے لئے جو میرا قرب حاصل کرنا چاہتا ہو
مجھ سے بات بہت پسند ہے کہ وہ میرے فراڈ کی ادائیگی کے ذریعہ میرا قرب حاصل کرے اور میرا
بندہ (فراڈ کی تکمیل کے ساتھ) میں نوافل کے ذریعہ میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے پھر میں تک کہ
میں اسے محبووب بنالیتا ہوں) اور جب اس کو محبووب بنالیتا ہوں تو میں اس کی سعادت بن جاتا ہوں
جس کے ذریعہ وہ ستاہے۔ اور میں اس کی بصارت بن جاتا ہوں۔ جس کے ذریعہ وہ دیکھتا ہے۔
اور میں اس کا باطن بن جاتا ہوں۔ جس سے وہ پکرتا ہے۔ اور اس کا پیر بن جاتا ہوں۔ جس کے ذریعہ وہ
چلتا ہے۔ اور جب وہ مجھے ماگتا ہے تو میں اسے ضرور دیتا ہوں۔ اور اگر وہ میری پناہ چاہے تو میں
اس کو اپنی پناہ میں لے لیتا ہوں۔ اور میں جس کا مکرونا چاہتا ہوں۔ اس میں توقف اور ترد و تبیں کرتا۔
سوائے اس کے کہ میں اس بندرے مومن کی روح کو قید کرنے میں تردد اور تامل ہوتا ہے۔ جو ابھی موت
کو برا سمجھتا ہے۔ اس لیے کہ مجھے اس کی ناخوشی پسند نہیں۔ (یہاں تک کہ میں اس کو آختت کے
انعامات بتلاتا ہوں۔ تاکہ اس سے موت کا خوف نکل آئے۔ اور آختت کا شوق برہجاۓ۔ اس لیے کہ
موت سے کسی کو مغرم نہیں ہے۔ اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
اولیاء اللہ کو ایذاء رسائی کی وعید
ف: اس حدیث شریف میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جو میرے کسی ولی کو ایذاء پیوچھا یے تو
میں اس سے اعلان جنگ کرتا ہوں۔ اس بارے میں صاحب مرقات نے فرمایا ہے کہ انہی کرام کا
ارشاد ہے کہ گناہوں میں صرف دو گناہ ایسے ہیں۔ جس کے بارے میں ایسی سخت و عقیدہ وارد ہوئی ہے۔ ایک
تو سودخواری اور دوسرا اولیاء اللہ کو ایذاء پیوچھنا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں گناہ عظیم خطرہ
میں انسان کو پیوچھا نے والے ہیں۔ اور وہ پیوچھہ کر ایسے شخص کے سوے خاتمہ کا انہیشہ نہیں ہوجاتا
ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ جس سے جنگ کریں تو پھراس کوئن پچاس کرتا ہے۔ 12
عبادت پرداومنت کے بغیر قرب اللہ حاصل نہیں ہوتا
اس حدیث شریف میں یہی ارشاد ہے کہ جب بندہ نوافل کے ذریعہ مجھے قرب حاصل کرتا
ہے تو میں اس کو محبوب بنالیتا ہوں۔ اور یہ سماعت اور بصارت بن جاتا ہوں۔ ار
اس بارے میں صاحب مرقات نے لکھا ہے کہ۔ یہاں اس مقام کا بیان ہے۔ جس کو علم سلوک
میں فنائے الداور باقابا اللہ کیتے ہیں کہ جب بندہ نفل پرداومنت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے دل اعضاء اور
جوارح کا آگہ کرتا ہے۔ پاول کا گہبان ہوجاتا ہے کہ بندہ کو گناہوں سے بچاتا ہے۔
بعض علماء نے یہی فرمایا ہے کہ ایسے مقبول بندہ کے آگلو، کان اور باٹھ پاول اللہ تعالیٰ کی مرضی کے تائج ہو جاتے ہیں تو ایسے بلند مرتبہ اور قرب الی حاصل کرنے کا ذریعہ دامن لے او رقرب الی بہتر عبادت کے حاصل ہیں ہوتا تو انسان کو چاہئے کہ عبادت پر کر باندھے۔ 12 دوام ذکر سے قرب الی حاصل ہوتا ہے
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "Allah the Exalted says: 'Whoever shows enmity to a friend of Mine, I declare war upon him. My servant does not draw near to Me with anything more beloved to Me than what I have made obligatory upon him. My servant continues to draw near to Me with supererogatory acts until I love him. When I love him, I become his hearing with which he hears, his sight with which he sees, his hand with which he strikes, and his foot with which he walks. If he asks Me, I will surely grant him; if he seeks refuge in Me, I will surely protect him. I do not hesitate about anything as I hesitate about taking the soul of a believer - he dislikes death, and I dislike displeasing him, but it is inevitable.'" [Narrated by Bukhari]
(1) His statement: "I declare war upon him" - The scholars said: Among sins, none are met with Allah's warning of war except this (enmity to His friends) and usury, as Allah says: "Then take a notice of war from Allah and His Messenger" (Al-Baqarah 2:279). This indicates the gravity of these two sins, for Allah's declaration of war against a servant suggests his evil end - whoever fights Allah will never succeed. Mirqat al-Mafatih mentions this.
The Warning Against Afflicting the Friends of Allah
It is stated in this noble hadith that Allah, the Exalted, instructs that whoever afflicts one of My friends, I will declare war against him. Regarding this, the author of Mirqat has said that among His blessings, it is revealed that there are only two sins for which such severe warnings have been issued: one is usury and the other is afflicting the friends of Allah. This indicates that these two sins are of great danger, and whoever commits them faces dire consequences. The end of such a person is not auspicious because when Allah, the Exalted, declares war, who can stand against Him?
Worship Without Devotion Does Not Attain Proximity to Allah
This noble hadith conveys that when a servant seeks proximity to Me through voluntary prayers, I make him beloved to Me, and he becomes endowed with hearing and sight. In this regard, the author of Mirqat has written that this refers to the state where those who are perfect in the knowledge of spiritual conduct and remain steadfast in the remembrance of Allah are such that when a servant performs voluntary prayers, Allah, the Exalted, makes him aware of his heart, limbs, and senses. He becomes a guardian over the servant, protecting him from sins.
Some scholars have said that the eyes, ears, and limbs of such a beloved servant become means of Allah's pleasure, leading to high ranks and proximity to Allah. Therefore, if one desires to attain such exalted ranks and proximity to Allah, they should be steadfast in worship. Continuous remembrance leads to proximity to Allah.
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوئی تو آپ نے دریافت فرمایا: اے خزلم بن رنج اسی دی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرما تے ہیں کہ (ایک دفعہ) حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوئی تو آپ نے دریافت فرمایا: اے خزلم تمہارا کیا حال ہے؟ تو میں نے کہا: کیا عرض کروں خزلم تو منافق ہوگیا ہے تو پیس کر حضرت صدیق نے تجبہ فرمایا: خزلم تم پیا کہہ رہے ہو تم جیسے مومن کامل کے لئے پیس ممکن نہیں اس پر میں نے عرض کیا کہ: جب تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر رہتا ہیں اور حضرت تم کو نصیحت فرما تے ہیں اور دوزخ و جنت کا ذکر فرما تے ہیں تو اس وقت پیچھوس ہوتا ہے کہ گویا پیدونول ہماری نگاہوں کے سامنے ہیں اور جب تم حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے اٹھ کر پیوی، پچول اور باگول (و غیرہ کام کاج) میں مشغول ہو جاتے ہیں تو بہت پچھوں ہول جاتے ہیں (اور وہ استحضار اور تجمیع باقی نہیں رہتی پیس کر) حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرما کہ: ہمارا جسی جیسی حال ہے پھر میں اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں (عرض حال کے لئے) پھوچ اور میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ خزلم تو منافق ہوگیا ہے پیس کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرما کہ: کیونکیا بات ہے تو میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! جب تم آپ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوتے ہیں اور آپ تم کو نصیحت فرما تے ہیں کہ اور آپ دوزخ و جنت کا ذکر فرما تے ہیں تو اپنیا معلوم ہوتا ہے کہ گویا پیدونول ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں اور جب تم آپ کے پاس سے اٹھ جاتے ہیں اور پیوی پچول اور کچیتی بارتی میں مشغول ہو جاتے
وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قسم مجھے اس ذات کی جس کے قبض میں میری جان ہے کہ تم میرے پاس سے دور رہنے کی حالت میں مجھے (اگر صفائی قلب، خوف اللہ، واستغفار اور تجمعی کے ساتھ) زکر اللہ پرداومت کرتے رہتو فرشتم سے تمہارے گہرول میں اور استون میں (جسے تہاری فرضت اور کاروبار کی جگہ تہماری اس حالت کی عظمت میں، تم سے ملاقات اور کاروبار کی جگہ، مصافر کیا کرتے، اے حظیم (حضرتی کے بعد غفلت کی حالت کو نفاق مت بھجو ی نفاق نہیں ہے) تہمارے لئے ایک وقت (حقوق اللہ کی ادا یا کی کاہے اور ایک وقت (اپنے ضروریات اور حقوق العباد اور ان وعیال کی خدمت کا) ہے اور اس جملہ حضرتی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سائید کے لئے تین بار فرمایا۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Hanzalah ibn Ar-Rabi' al-Usaydi reported: Abu Bakr (may Allah be pleased with him) met me and asked, "How are you, Hanzalah?" I said, "Hanzalah has become a hypocrite." He exclaimed, "SubhanAllah! What are you saying?" I replied, "When we are with the Messenger of Allah (ﷺ) reminding us of Hell and Paradise, it is as if we see them with our eyes. But when we leave the Messenger of Allah (ﷺ) and attend to our wives, children, and livelihoods, we forget much." Abu Bakr said, "By Allah, we experience the same!" So I went with Abu Bakr until we entered upon the Messenger of Allah (ﷺ). I said, "Hanzalah has become a hypocrite, O Messenger of Allah!" The Messenger of Allah (ﷺ) asked, "How so?" I said, "O Messenger of Allah, when we are with you reminding us of Hell and Paradise, it is as if we see them. But when we leave you and attend to our families and work, we forget much." The Messenger of Allah (ﷺ) said, "By Him in Whose Hand is my soul, if you remained in the state you are in with me and in constant remembrance, the angels would shake hands with you in your beds and on your paths. But, O Hanzalah, there is a time for this and a time for that (he repeated this three times)." [Narrated by Muslim]
This is narrated by Muslim.
ابود رداء رضی اللہ عنہ نے روایت کہ وہ فرماتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ سے ایک وقف کے بعد ارشاد فرمایا: کیا میں تم کو ایسا عمل نہ بتاول جو محارت میں سب سے بہتر اور تمہارے پروردگار کے پاس سب سے پاکیزہ اور بلندی درجات کے لئے سب سے اعلیٰ ہے اور وہ ایسا عمل جس کے جوسون اور چاندی کی نثارات سے بھی بہتر ہے اور اس سے بھی بہتر یہ کہ تم (خدا کی راہ میں وثمنان اسلام سے جہاد کرو تم ان کو) قتل کرواوروہ تمہیں شہید کریں۔ صحابہ نے عرض کیا: کیوں نہیں، ضرور ارشاد فرمایے یارسول اللہ تم ایسے عمل کو جان کے مشاق پین تو حضرتی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (سنو) وہ اعلی ترین عمل اللہ تعالی کا ذکر نہے۔ اس کی روایت امام مالک، امام احمد، ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
اور عبادات پر ذکر الہی کی فضیلت کا سبب
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر اعمال سے اس بارے میں
صاحب مرقات نے فرمایا ہے کہ: اور عبادتیں جیسے سونے اور چاندی کی نئیات اور دشمنان اسلام سے
جہاد و غیرہ پر اللہ تعالیٰ کے ذراًع تقرب میں لیکن ذکر الہی بہتر مقصود اور مطلوب میں چناچہ اللہ تعالیٰ
نے ارشاد فرمایا ہے: "فَاذْكُرُونِي أَذْكُرُكُمْ" (تم میرا ذکر کرو میں تمہارا ذکر کروں گا) (سورۃ
بقرہ، آیت نمبر: 152)
اور حدیث قدسی میں پول ارشاد ہے کہ "انا جلیس من ذکرنی" (میں اپنے ذاکر کا تم
نشین ہوں - ایک اور جگہ ارشاد ہے: "وانا معه اذا ذکرنی" میں ذاکر کے ساتھ ہوتا ہوں جب وہ
میرا ذکر کرتا ہے۔
شیوخ طریقت رحمہ اللہ نے ذکر کے جو طریقہ بتائے ہیں ان کے مطابق ذکر الہی میں مشغول
رہنا چاہئے۔
اب چیزوں کا بیان جوسوں اور چاندی کے جمع کرنے سے بہتر میں
Abu ad-Darda (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "Shall I inform you of the best of your deeds, the purest in the sight of your King, the highest in elevating your ranks, better than giving gold and silver, and better than meeting your enemies and striking their necks while they strike yours?" They said, "Yes!" He said, "Remembrance of Allah." [Narrated by Malik, Ahmad, Tirmidhi, and Ibn Majah, though Malik stopped it at Abu ad-Darda]
ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب یا آیت نازل
ہوئی: "وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَبَشِّرْهُمْ
بَعْذَابِ آلِيمٍ"۔ (سورۃ توبہ، آیت نمبر: 34) اور جولوگے سونا چاندی کو جمع کرتے ہیں اور اللہ کی راہ
میں خرچ نہیں کرتے (لیجن زکوۃ ادا نہیں کرتے اور کسی کو قرض نہیں دیتے اور نہیں دارول کاحف ادا
کرتے ہیں۔ تو آپ ان لوگوں کو دردونا کے عذاب کی خبر سنا دتے ہیں۔ تو ہم اس وقت نہیں کریم صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے (اس آیت کو سن کر بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا آیت
سونے اور چاندی کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ جس سے ہم کو یہ معلوم ہو گیا کہ ان کے حقوق کو ادا
کے بغیر جمع کرنے کا کیا گناہ ہے کاش ہم کو یہی معلوم ہو جاتا کر (سونے اور چاندی کے سوا)۔ جمع
کر نے کے لئے کون سا مال سب سے زیادہ بہتر ہے۔ یعنی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سب سے بہتر مال (جو تم کو نفع دے گا) وہ ذکر اللہ کر نے والی زبان، شکرگزاری اور ایمان دار ہوئی ہے۔ جو شوہر کو اس کے دین اور ایمان پر مدح کرتی ہو۔ (یعنی اس کو نماز روزہ و دیگر عبادات کی یاد باقی رکھتی ہے۔ اور اس کو زنا و حرام کا مول سے روکتی ہو۔)۔ اس حدیث کی روایت امام احمد، ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
Thawban (may Allah be pleased with him) reported: When the verse "And those who hoard gold and silver" (At-Tawbah 9:34) was revealed, we were with the Prophet (ﷺ) on a journey. Some companions said, "This was revealed about gold and silver. If only we knew which wealth is better so we could acquire it." The Prophet (ﷺ) said, "The best wealth is a remembering tongue, a grateful heart, and a believing wife who helps him in his faith." [Narrated by Ahmad, Tirmidhi, and Ibn Majah]
عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ نے روایت کہ وہ فرماتے ہیں کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت مبارک میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یارسول اللہ کون سا آدمی سب سے بہتر ہے؟ تو حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: خوش نصیب ہوہ شخص جس کی عمر دراز ہو اور اس کے اعمال بھی نک ہوں (یعنی کہ اعرابی نے پھر عرض کیا: یارسول اللہ) سب سے فضل عمل کون سا ہے؟ تو حضرت فرمایا کہ: بہترین عمل یہ ہے کہ تم دنیا کے ایک حالت میں رخصت ہوکر تہماری زبان اللہ کی یاد میں تر ہو۔ اس کی روایت امام احمد اور ترمذی نے کی ہے۔
Abdullah ibn Busr (may Allah be pleased with him) reported: A Bedouin came to the Prophet (ﷺ) and asked, "Who are the best people?" He replied, "Blessed is he whose life is long and deeds are good." The man asked, "O Messenger of Allah, which deeds are best?" He said, "That you depart the world with your tongue moist from the remembrance of Allah." [Narrated by Tirmidhi and Ibn Majah. Tirmidhi said: This is a hasan gharib hadith]
عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ نے روایت کہ وہ فرماتے ہیں کہ ایک صحابی نے عرض کیا: یارسول اللہ ! اسلام کے احکام (یعنی فرائض اور نوافل تو ہم معلوم ہو گئے ہیں اور سارے نوافل کا ادا کرنا اتنی کمزوری کی وجہ سے) مجھے پرگرالگزر رہا ہے تو آپ مجھ کو کیا ایسی مختصر اور جامع عمل بتائیں جس کو میں (ہر حال میں چلتے چلنے اٹھتے بیٹھتے) ادا کرسکوں تو حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ (ایسی جامع عمل یہ ہے) تیری زبان اللہ کی یاد میں بیشتر
رہے۔ اس کی روايت ترندي اور ابين ماجر نے کی ہے۔
مجاہد ذاکر کی فضیلت
Abdullah ibn Busr (may Allah be pleased with him) reported: A man said, "O Messenger of Allah, the laws of Islam are too many for me. Tell me something to hold onto." He said, "Let your tongue remain moist with the remembrance of Allah." [Narrated by Tirmidhi and Ibn Majah. Tirmidhi said: This is a hasan gharib hadith]
اَبْوَسَعِيد رضي اللہ عنه سے روايت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے دریافت کیا گیا کہ: اللہ تعالیٰ کے پاس قیامت کے دن کون سا بنده سب سے افضل اور ثواب پائے میں سب سے بلند مرتبہ والا ہوگا؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمايا: اللہ کو کرنتے یاد کرنے والے مرداور عورتن قیامت میں پیدرجن پائے والے ہوں گے۔ پھر عرض کیا گیا: یا رسول اللہ کیا (دوام ذکر کرنے والے کا درجہ) مجہد فی سبیل اللہ (کے درجے) سے بڑا ہے؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمايا: بالدوام ذکر کرنے والے کا درجہ ایسے مجہد کے بلند ہے جو کفار اور مشرکین سے لڑ رہا ہو۔ پہلے تک کہ اس کی تلوارت ٹوٹ جائے۔ اور وہ لڑتے لڑتے خود شہید ہو جائے۔
اَبْوَسَعِید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا گیا کہ: اللہ تعالیٰ کے پاس قیامت کے دن کون سا بندہ سب سے افضل اور ثواب پائے میں سب سے بلند مرتبہ والا ہوگا؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ کو کرنتے یاد کرنے والے مرداور عورتن قیامت میں پیدرجن پائے والے ہوں گے۔ پھر عرض کیا گیا: یا رسول اللہ کیا (دوام ذکر کرنے والے کا درجہ) مجہد فی سبیل اللہ (کے درجے) سے بڑا ہے؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بالدوام ذکر کرنے والے کا درجہ ایسے مجہد کے بلند ہے جو کفار اور مشرکین سے لڑ رہا ہو۔ پہلے تک کہ اس کی تلوارت ٹوٹ جائے۔ اور وہ لڑتے لڑتے خود شہید ہو جائے۔
اس کی روايت امام احمد اور ترندي نے کی ہے۔
البذا وسری حدیث
Imam Ahmad and Tarnid have narrated this hadith.
عبداللہ بن عمر رضي اللہ عنهما سے روايت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وآله وسلم فرما کرتے تھے کہ: ہر چیز کے لئے ایک صیقل ہے (جس سے اس کی صفائی ہوتی ہے) اور دول کی صیقل یعنی جلا، اللہ کی یاد ہے۔ اور ذکر اللہ سے بڑا کرکوئی چیز انسان کو اللہ کے عذاب سے پاچانے والی نہیں ہے۔ یعنے کر صحابہ رضي اللہ عنهم نے عرض کیا کہ کیا جہاد فی سبیل اللہ کی عذاب کی سے انسان کو پاچانے میں اتنا موثر نہیں ہے؟ تو حضور نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرما کہ: بالاگر چیکہ مجہد اپنی تلوارت سے لڑتے لڑتے خود شہید ہو جائے۔ اور اس کی تلوارت ٹوٹ جائے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما کرتے تھے کہ: ہر چیز کے لئے ایک صیقل ہے (جس سے اس کی صفائی ہوتی ہے) اور دول کی صیقل یعنی جلا، اللہ کی یاد ہے۔ اور ذکر اللہ سے بڑا کرکوئی چیز انسان کو اللہ کے عذاب سے پاچانے والی نہیں ہے۔ یعنے کر صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ کیا جہاد فی سبیل اللہ کی عذاب کی سے انسان کو پاچانے میں اتنا موثر نہیں ہے؟ تو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما کہ: بالاگر چیکہ مجہد اپنی تلوارت سے لڑتے لڑتے خود شہید ہو جائے۔ اور اس کی تلوارت ٹوٹ جائے۔
اس کی روایت ترمذی نے دعوات کے ربع میں کی ہے۔
ذکر اللہ سے برہ کر کوئی عمل اللہ کے عذاب سے پاچانے والا نہیں ہے
Mu'adh ibn Jabal (may Allah be pleased with him) said: "No deed is more saving from Allah's punishment than His remembrance." [Narrated by Malik, Tirmidhi, and Ibn Majah]
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ انسان کا کوئی عمل اللہ کے عذاب سے پاچانے میں ذکر اللہ سے برہ کر موثر نہیں۔
اس کی روایت امام ماکے، ترمذی اور ابن ماجے نے لکھے ہیں۔
ذکر اللہ سے شیطان پچپچہ بھٹ جاتا ہے
Mu'adh ibn Jabal (may Allah be pleased with him) said: "No deed is more saving from Allah's punishment than His remembrance." [Narrated by Malik, Tirmidhi, and Ibn Majah]
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ: شیطان انسان کے دل سے چمچار ہتا ہے جب وہ اللہ کا ذکر کرتا ہے تو بھٹ جاتا ہے اور جب وہ ذکر اللہ سے غفلت ہو جاتا ہے تو دل میں وسوسے ذاتیہ۔ اس کی روایت بخاری نے تعلیقاً لکھے ہیں۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
(10) کِتَابُ اَسْمَاءِ اللّٰہِ تَعَالٰی
(اس کتاب میں اللہ تعالیٰ کے ناموں کی فضیلتون کا بیان ہے)
ف: واضح ہو کر اللہ تعالیٰ کے اسما ئو صفاتوں میں لیکن اللہ تعالیٰ کو ان میں اسما ؓ سے یاد کرنا اور پکارنا
چاہئے۔ جتنی اجازت شارع علیہ الصلاۃ والسلام سے ثابت ہے۔ جتنا ذکر قرآن اور حدیث میں
وارد ہے اس لے اپنی عقل اور بھیجے اللہ تعالیٰ کا کوئی نام مقرر کر کے پکارنا جائز نہیں اور مہی اللہ تعالیٰ
کی شان عالی اور عظمت وجلال کا تقاضہ ہے مثلًا اللہ تعالیٰ کو عالم کہنا چاہئے نہ کہ عاقل اس طرح اللہ تعالیٰ
کو شان کہنا چاہئے طبعی نہیں کہنا چاہئے۔
( ماخوذ از: اشعۃ اللمعات 12 )-
وَقَوْلُ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ : " لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى " اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (سورۃ حشر،
آیت نمبر: 24، میں) اللہ تعالیٰ کے تمام نام اٹھے ہیں -
وَقَوْلُہُ تَعَالٰی : " قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ، اَيَّاً مَا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَآءُ
الْحُسْنٰی " اور اللہ کا ارشاد ہے: (سورۃ بی اسرائیل، آیت نمبر: 110، میں) اے نبی! صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم آپ فرمادتے ہیں کہ اللہ کو اللہ تعالیٰ کہ کر پکارو یا رحمن کہ کر پکاروں اس کے تمام نام اٹھے
ہیں -
وَقَوْلُہُ جَلَّ شَانُهُ : " وَلِلّٰہِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰی فَادْعُوْهُ بِہَا " اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے
(سورۃ اعراف، آیت نمبر: 180، میں) اور اللہ تعالیٰ کے اٹھے اٹھے نام ہیں پس تم اس کو ابھی نامول
کے ذریعہ پکارو۔
Ibn Abbas (may Allah be pleased with them) reported: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "Satan sits on the heart of the son of Adam. When he remembers Allah, Satan withdraws. When he becomes heedless, Satan whispers." [Narrated by Bukhari in a suspended chain]
(1) His statement: "When he becomes heedless" hints that heedlessness is the cause of Satan's whispers, not the other way around, contrary to what is commonly believed. Mirqat al-Mafatih mentions this.
ف: اس حدیث ثریف سے معلوم ہوتا ہے کہ ذکر اللہ سے غفلت ہی شیطان کے وسوسے کا سبب ہے نہ کہ شیطان کے وسوسے سے غفلت پیدا ہوتی ہے اس لیے انسان کو چاہئے کہ ذکر اللہ پر مداومت کرے تاکہ وسوسے سے محفوظ رہے۔ یمرقات سے ماخوذ ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ناموں (99) نام میں یعنی ایک کم سو جو کوئی بندہ
مومن ان ناموں کو یاد کر لے (اور اخلاص کے ساتھ ان کے الفاظ اور معانی کا خیال رکھے ہوئے
پڑھا کرے) تو (ان اسما کی برکت سے وہدہ اول میں عظمت کے ساتھ ) جنت میں داخل ہوگا۔
ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کیتا ہے (کران کے مشابہ اور مثال کوئی نہیں) اور وہ
طاق عز (یعنی ایک تین پاچھ سات) کو پسند فرماتے ہیں۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔
ف(1): واقع ہو کہ قرآنی عام مگیری میں خزاۃ الفتاوی کے حوالے سے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ
کے نام مبارک کی تغظیم کا تقاضہ ہے کہ جب کچھ کوئی اللہ تعالیٰ کا نام لے تو مستحب یہ ہے کہ صرف "اللہ" نہ کہ بلکہ نام مبارک کے ساتھ کوئی ایسی صفت لائے جس سے اللہ تعالیٰ کی عظمت ظاہر ہوتی ہو جیے
اللہ کے بعد تعالیٰ یا "عزوجل" یا "جلالہ" وغیرہ برہا کراس طرح سے نام لیا کرے : اللہ تعالیٰ، اللہ
عزوجل جلالہ، اللہ جل جلالہ چاہے کتنی بار س نام مبارک کو سنایی نام لے اتنی بار نذکورہ
طریقت پر ادا کرے۔12
ف(2):
اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ناموں (99) نام میں اس بارے میں
صاحب مرقات نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نام بشار میں اس لے کر صفات ایسی کی کوئی حد نہیں
ہے۔ چنانچہ قرآن میں اللہ تعالیٰ کے ناموں میں ربّ، مولی، نصیر، محیط اور کافی وغیرہ ذکور
ہیں۔ اور حدیث شریف میں حنّان، منّان، الدائم اور الجمیل وغیرہ وارد ہیں تو مطلب اس
حدیث شریف کا یہ ہوا کہ اسما حسنی اثنین ناونوں (99) ناموں میں محصر نہیں ہیں بلکہ اثنین ناونوں
ناموں کو یاد کر لین کی فضیلت اور تا ثیر یہ ہے کہ بہشت حاصل ہو جائی ہے۔
ف(3):
واضح ہو کہ اللہ تعالیٰ کے جتنے نام ہیں ان میں صرف ایک نام اللہ اسم علم یا اسم ذات ہے اور اس
نام کے سوا جتنے نام ہیں وہ اسامہ صفات ہیں جو صفات اللہ کے مظہر ہیں اور یہ جتنے اسامہ صفات
ہیں ان سب کی نسبت اسم ذات اللہ کی طرف ہوتی ہے چنانچہ کہا جاتا ہے کہ : اللہ کریم ہے یعنی
کہا جاتا ہے کہ : کریم اللہ ہے۔
اور ایک حدیث شریف میں ارشاد ہے۔ تَخَلَّقُوْا بَآخُلاَقِ اللّٰہِ “اللہ تعالیٰ کے صفات اپنے
میں پیدا کرو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے جواسما صفات میں جسے رحمت کریم وغیرہ تو ان
صفات کا پرتوبندہ پر پرتا ہے تو بنده ان صفات کا حال ہوجاتا ہے البتہ اسم اللہ ایک ایسا اسم ہے جو اللہ
تعالیٰ کی ذات عالی سے خاص ہے، اس اسم کے بندہ متعلق نہیں ہوسکتا،صرف تعلق اور نسبت قائم کرسکتا
ہے، اس لئے اسم اللہ کے سوا جتنے اسامہ ہیں وہ تخلق کے لئے ہے۔
(مرقّات اوراشعة اللمعات)
اور حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ اللہ اسم عظم میں شرط یہ ہے
کہ جب تم اللہ کو توتمہارے دل میں اللہ کے سوا کچھ اور نہ ہو۔ (مرقّات -12)
جواسما میں حسنی کو یاد کرے گا وہ جنت میں داخل ہوگا
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "Allah the Exalted has ninety-nine names, one hundred minus one. Whoever enumerates them will enter Paradise." In another narration: "He is Odd (One) and loves the odd (singular)." [Agreed upon]
(2) His statement: "Allah the Exalted has..." – It is recommended to say, "Allah the Exalted said," and not merely "Allah said" without adding a glorifying description. Al-Wajiz by Al-Kurdi mentions this. If a person hears one of Allah’s names, he must glorify Him and say, "SubhanAllah" or similar. If he hears the name of Allah repeatedly, he must glorify Him each time by saying, "SubhanAllah" and "TabarakAllah." Khazinat al-Fatawa and Al-'Alamgiriyyah mention this.
This noble hadith instructs that among Allah's (SWT) names (99 names), the owner of Mirqat has stated that the attributes of Allah (SWT) in the name Bashir are limitless. Thus, in the Quran, names of Allah (SWT) such as Rabb, Mawla, Nasir, Muheet, and Kafi, etc., are mentioned. And in the noble hadith, names like Hannan, Mannan, Ad-Daaim, and Al-Jameel, etc., are included. Therefore, the meaning of this noble hadith is that the Asma ul-Husna (99 names) are not confined to these two names; rather, the virtue of remembering these two names is that Paradise is attained. (3)
It is clear that among all the names of Allah (SWT), only one name, Allah, is the proper name or the name of essence, and all other names are names of attributes, which are manifestations of Allah’s attributes. All these names of attributes relate to the name of essence, Allah, so it is said: Allah is Karim, meaning it is said: Karim Allah.
And in a noble hadith, it is instructed: 'Adopt the qualities of Allah' (Takhallaqu bi akhlaaqillah), meaning that if a servant embodies the attributes of Allah, such as mercy and generosity, then the servant becomes characterized by those attributes. However, the name Allah is a unique name that specifically pertains to the essence of Allah (SWT); a servant cannot be related to this name but can only establish a relation or connection with it. Therefore, all other names are for the purpose of embodiment.
(Sources: Mirqat and Asha'at al-Lama'at)
And Sheikh Abdul Qadir Jilani (RA) has said that the condition of the great name of Allah is that when you remember Allah, there should be nothing else in your heart besides Allah. (Mirqat - 12)
Whoever remembers the beautiful names will enter Paradise.
(4) الْمَلِكُ (جَلَّ جَلالُهُ) باوشاہ حقیقی -
(5) الْقُدُّوسُ (جَلَّ جَلالُهُ) نہایت پاک -
(6) السَّلامُ (جَلَّ جَلالُهُ) بعیب اور سلامتی دین والا -
(7) الْمُؤْمِنُ (جَلَّ جَلالُهُ) امان دین والا -
(8) الْمُهَيِّمُنُ (جَلَّ جَلالُهُ) محبان -
(9) الْعَزِيزُ (جَلَّ جَلالُهُ) عزت وغلب والا -
(10) الْجَبَّارُ (جَلَّ جَلالُهُ) بڑی کا بنانے والا -
(11) الْمُتَكَبِّرُ (جَلَّ جَلالُهُ) بڑائی اور تکبر کے لائق -
(12) الْخَالِقُ (جَلَّ جَلالُهُ) مخلوقات کو پیدا کرنے والا -
(13) الْمُصَوِّرُ (جَلَّ جَلالُهُ) شکل وصورت عطا کرنے والا -
(14) الْغَفَّارُ (جَلَّ جَلالُهُ) گناہوں کو بخش والا -
(15) الْقَهَّارُ (جَلَّ جَلالُهُ) غالب کس کے جلال وغلب کے سامنے جن و انس سب
(16) الْبَارِئُ (جَلَّ جَلالُهُ) پروردگار -
(17) الْوَهَّابُ (جَلَّ جَلالُهُ) بغير بدله کے بہت بدلدین والا -
(18) الرَّزَّاقُ (جَلَّ جَلالُهُ) رزق کا پیدا کرنے والا، رزق دین والا -
(19) الْفَتَّاحُ (جَلَّ جَلالُهُ) رحمت اور نصرت کے دروازے کھولنے والا -
(20) الْعَلِيمُ (جَلَّ جَلالُهُ) طاہر و باطن کا جاننے والا -
(21) الْقَابِضُ (جَلَّ جَلالُهُ) روزی، دل اور روح کا بند کرنے والا -
(۲۲) الْبَاسِطُ (جَلَّ جَلالُهُ) روزی، دل اور روح کا کھولنے والا۔
(۲۳) الْخَافِضُ (جَلَّ جَلالُهُ) مغرور کا فراور متكبر کو پست کرنے والا۔
(۲۴) الْرَّافِعُ (جَلَّ جَلالُهُ) مومنین اور محصنین کو بلند کرنے والا۔
(۲۵) الْمُعِزُّ (جَلَّ جَلالُهُ) عزت کا دینے والا۔
(۲۶) الْمُذِلُّ (جَلَّ جَلالُهُ) ذلت کا دینے والا۔
(۲۷) الْسَّمِيعُ (جَلَّ جَلالُهُ) ہر چیز کا سننے والا۔
(۲۸) الْبَصِيرُ (جَلَّ جَلالُهُ) ہر چیز کا دیکھنے والا۔
(۲۹) الْحَكِمُ (جَلَّ جَلالُهُ) حکم کرنے والا کہ جس کے فیصلے کو کوئی ردعیس کرسکتا۔
(۳۰) الْعَدْلُ (جَلَّ جَلالُهُ) انصاف کرنے والا۔
(۳۱) اللَّطِيفُ (جَلَّ جَلالُهُ) اپنے بندرول پر لطف و مہربانی کرنے والا اور باریک نیں
(۳۲) الْخَبِيرُ (جَلَّ جَلالُهُ) ہر چیز کی خبر رکھنے والا۔
(۳۳) الْحَلِيمُ (جَلَّ جَلالُهُ) بردبار اور حل کرنے والا۔
(۳۴) الْعَظِيمُ (جَلَّ جَلالُهُ) اسے بر اتی اور عظمت والا جس کا کوئی تمسر نہ ہو۔
(۳۵) الْغَفُورُ (جَلَّ جَلالُهُ) بہت بخشے والا۔
(۳۶) الْشَّكُورُ (جَلَّ جَلالُهُ) تشوہ سے عمل پر بہت ثواب دینے والا قدر وال
(۳۷) الْعَلِيُّ (جَلَّ جَلالُهُ) بلند و برتر۔
(۳۸) الْکَبِيرُ (جَلَّ جَلالُهُ) سب سے بڑا کراسے بڑا کوئی نہیں۔
(۳۹) الْحَفِيظُ (جَلَّ جَلالُهُ) آنٹول سے محفوظ رکھنے والا۔
(۴۰) الْمُقِيتُ (جَلَّ جَلالُهُ) اجسام اور ارواح کو غذا دینے والا۔
(59) الْمُبْدِئُ (جَلَّ جَلالُهُ) عالم کو پہلی بار پیدا کرنے والا۔
(60) الْمُعِيدُ (جَلَّ جَلالُهُ) عالم کو دوبارہ پیدا کرنے والا۔
(61) الْمُحْيِي (جَلَّ جَلالُهُ) زندہ کرنے والا۔
(62) الْمُمِيتُ (جَلَّ جَلالُهُ) مرنے والا۔
(63) الْحَيُّ (جَلَّ جَلالُهُ) ازلی اور ابدی زندگی والا۔
(64) الْقَيُّومُ (جَلَّ جَلالُهُ) اپنی ذات اور پائے سے قائم رہ کر خلقت کو قائم رکھنے والا۔
(65) الْوَاجِدُ (جَلَّ جَلالُهُ) ایسے غنی جو کسی چیز میں کسی کامیاب نہ ہو۔
(66) الْمَاجِدُ (جَلَّ جَلالُهُ) صاحب عظمت و مجد۔
(67) الْوَاحِدُ (جَلَّ جَلالُهُ) ذات وصفات میں تنہا اور یگانہ۔
(68) الْصَّمَدُ (جَلَّ جَلالُهُ) سب سے بے نیاز اور سب اس کے محتاج۔
(69) الْقَادِرُ (جَلَّ جَلالُهُ) کامل قدرت والا۔
(70) الْمُقْتَدِرُ (جَلَّ جَلالُهُ) قدرت کو ظاہر کرنے والا۔
(71) الْمُقَدِّمُ (جَلَّ جَلالُهُ) رواستون کو آگے بڑھانے والا۔
(72) الْمُؤَخِّرُ (جَلَّ جَلالُهُ) شمنون کو پیچھے کر دالے والا۔
(73) الْأَوَّلُ (جَلَّ جَلالُهُ) وه ذات جو تمام موجودات میں سب سے پہلے ہے۔
(74) الْآخِرُ (جَلَّ جَلالُهُ) وه ذات جو تمام موجود کے فنا ہونے کے بعد باقی رہے۔
(75) الظَّاهِرُ (جَلَّ جَلالُهُ) اپنے وجود کی نشانیوں سے آشکار۔
(76) الْبَاطِنُ (جَلَّ جَلالُهُ) اِسْپَوْشِرِه کَاسَتَ بُطْہ کَرَکَوْنِ قَرِیبُ نُمِیلْ
(77) الْوَالِی (جَلَّ جَلالُهُ) سَارَے کَا مَوْلَ کَا بَنا نے وَا لَا
(78) الْمُتَعَالِی (جَلَّ جَلالُهُ) عَلَى صِفاتِ وَا لَا
(79) الْبَرُّ (جَلَّ جَلالُهُ) بِهْتَ ا حَسانَ اوْرَ بَجلَالِی کَرْنے وَا لَا
(80) الْتَوَابُ (جَلَّ جَلالُهُ) خُوْبَ تَوْبَقَبولَ کَرْنے وَا لَا
(81) الْمُنتَقِمُ (جَلَّ جَلالُهُ) بَدَلَ لِیْنَ وَا لَا اوْرَ سَکْشَوْلَ کَوْسَزا دِیْنَ وَا لَا
(82) الْعَفُوُّ (جَلَّ جَلالُهُ) وَرَگْذَ رَکْرْنے وَا لَا
(83) الْرَؤُوفُ (جَلَّ جَلالُهُ) نِہَايِتَ مَہْرَبا نْ
(84) مَالِکُ الْمُلْکِ (جَلَّ جَلالُهُ) سَارَے جَہا لَکَا لَکَ جَوْچَا بَہَ سَوْکَرْ
(85) ذُوالْجَلالِ وَالْعِزَامِ (جَلَّ جَلالُهُ) بَزَرگِی اوْرَ کَخْشَشْ وَا لَا
(86) الْمُقْسِطُ (جَلَّ جَلالُهُ) عَدلَ اوْرَ انْصَافَ کَرْنے وَا لَا
(87) الْجَامِعُ (جَلَّ جَلالُهُ) قَیَامَتَ مِیْنَ سَارِی مَخلُوقَاتَ کَوْجَعَ کَرْنے وَا لَا
(88) الْغَنِیُّ (جَلَّ جَلالُهُ) سَبَتَ بَ نِیازْ
(89) الْمُغْنِیُّ (جَلَّ جَلالُهُ) اِپْنَ بَندَوْلَ مِیْنَ جَسَ کَوْچَا بَہَ بَ نِیازَ بَنا دِیْنَ وَا لَا
(90) الْمَانِعُ (جَلَّ جَلالُهُ) بَندَوْلَ کَوْقصَانَ اوْرَ بَلا کَتْتَ سَ بَجا نے وَا لَا
(91) الْضَارُّ (جَلَّ جَلالُهُ) ضَرَرِی قَدْرَتَ رَکْنے وَا لَا
(92) الْنَافِعُ (جَلَّ جَلالُهُ) فَا نَدَ مِیْوَ نِچا نے وَا لَا
(93) الْنُّورُ (جَلَّ جَلالُهُ) بَذَاتِ خُودَ طَاہَراوْرَ دَوْسَروْلَ کَوْظَاہَرَ کَرْنے وَا لَا
(94) الْهَادِی (جَلَّ جَلالُهُ) بَدايَتَ دِیْنَ وَا لَا
(95) الْبَدِيعُ (جَلَّ جَلالُهُ) نادر چيز ول کا پیدا کر نے والا۔
(96) الْبَاقِی (جَلَّ جَلالُهُ) بیشتمیش باقی رہنے والا۔
(97) الْوَارِثُ (جَلَّ جَلالُهُ) فناے عالم کے بعد باقی رہنے والا۔
(98) الْرَّشِيدُ (جَلَّ جَلالُهُ) عالم کی رہنمائی کر نے والا۔
(99) الْصَّبُورُ (جَلَّ جَلالُهُ) ایسابر وبارجو عذاب دینے میں جلدی نہ کرے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ پیشک اللہ تعالیٰ کے ناںوے (99) نام ہیں (جو کوئی ان کو یاد
کرے گا اور اخلاص کے ساتھ پڑھتارے گا وہ دہلاول میں شاندار طریقہ پر) جنت میں داخل ہوگا
وہ ناںوے (99) نام یہ ہیں:
(1) اللہ (جلّ جلالُہ) وہ ذات کے جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔
(2) الرحمٌن (جلّ جلالُہ) بر امہ بان۔
(3) الرحیم (جلّ جلالُہ) بے حد رحم کرنے والا۔
عاجز ہیں -
(41) الْحَسِيبُ (جَلَّ جَلالُهُ) قيامت کے روز بندر کا حساب لینے والا۔
(42) الْجَلِيلُ (جَلَّ جَلالُهُ) عظیمت وجلال والا۔
(43) الْكَرِيمُ (جَلَّ جَلالُهُ) برائی کے جس کے دینے کی کوئی انتہا نہیں۔
(44) الْرَّقِيبُ (جَلَّ جَلالُهُ) ظاہر و باطن کی تمام باتیں کرنے والا۔
(45) الْمُجِيبُ (جَلَّ جَلالُهُ) دعا کو قبول کرنے والا۔
(46) الْوَاسِعُ (جَلَّ جَلالُهُ) نعمتوں کا بڑا دینے والا۔
(47) الْحَكِيمُ (جَلَّ جَلالُهُ) برائی حکمتوں والا۔
(48) الْوَدُودُ (جَلَّ جَلالُهُ) نیکیوں کا چاہنے والا۔
(49) الْمَجِيدُ (جَلَّ جَلالُهُ) اپنی ذات اور صفات میں بزرگی اور شرف والا۔
(50) الْبَاعِثُ (جَلَّ جَلالُهُ) قيامت میں مردہ کو قبر سے انہاں والا۔
(51) الْشَّهِيدُ (جَلَّ جَلالُهُ) ہر چیز کو دیکھتا والا۔
(52) الْحَقُّ (جَلَّ جَلالُهُ) اپنی ذات جو ثابت ہے اور جس کی ذات و صفات ہرشکل
وشبہ پاک ہے۔
(53) الْوَكِيلُ (جَلَّ جَلالُهُ) کارساز حقیقی۔
(54) الْقَوِيُّ (جَلَّ جَلالُهُ) کامل قوت اور طاقت والا ہر چیز پاک ہو۔
(55) الْمَتِينُ (جَلَّ جَلالُهُ) وقار اور متانت والا۔
(56) الْوَلِيُّ (جَلَّ جَلالُهُ) مومن کو رستے کا ہرا والا۔
(57) الْحَمِيدُ (جَلَّ جَلالُهُ) ہر چیز کا تعریف کا مستحق۔
(58) الْمُحْصِيُّ (جَلَّ جَلالُهُ) ہر چیز کا حاط کرنے والا کوئی چیز اس کے علم اور
قدرت سے باہر نہیں۔
والی ہے۔
اس کی روایت ترنڈی نے کی ہے اور تیہتی نے دعوات کبیر میں اس کی روایت کی ہے۔
اسم اعظم کے ذریعہ دعا کے قول ہوتی ہے
صحابی کو (ان الفاظ تے) دعا کرتے ہوئے سنا:
اللہُمَّ اِنِّی أَسْأَلُكَ بِأَنَّكَ أَنتَ اللَّهُ. لَا إِلَهَ إِلَّا أَنتَ، الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ
یَلِدْ، وَلَمْ يُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كَفُوًا أَحَدٌ.
آپ کیتا ہیں، بے نیاز ہیں۔ آپ پنے کسی کو او لا دیتے بنایا اور نہ آپ کسی سے پیدا ہوئے اور نہ کوئی
آپ کے ممسرب ہے۔
تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی اس دعا کو نکفر ما کر انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اسم
اعظم کو وسیلہ بنانے کر دعا کی ہے اور جو کوئی اس نام کو وسیلہ بنانے کر دعا کرتا ہوتا تو دعا کے قول ہوتی ہے۔ اس
کی روایت ترنڈی اور ابوداود نے کی ہے۔
ایضاً دوسری حدیث
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "Allah the Exalted has ninety-nine names, one hundred minus one. Whoever enumerates them will enter Paradise. He is Allah, besides whom there is no deity, the Most Gracious, the Most Merciful, the Sovereign, the Pure, the Source of Peace, the Granter of Security, the Overseer, the Almighty, the Compeller, the Supreme, the Creator, the Originator, the Fashioner, the All-Forgiving, the Subduer, the Bestower, the Provider, the Opener, the All-Knowing, the Withholder, the Extender, the Abaser, the Exalter, the Honorer, the Humiliator, the All-Hearing, the All-Seeing, the Judge, the Just, the Subtle, the All-Aware, the Forbearing, the Magnificent, the All-Forgiving, the Appreciative, the Most High, the Greatest, the Preserver, the Sustainer, the Reckoner, the Majestic, the Generous, the Watchful, the Responder, the All-Encompassing, the All-Wise, the Loving, the Glorious, the Resurrector, the Witness, the Truth, the Trustee, the Strong, the Firm, the Protector, the Praiseworthy, the Counter, the Originator, the Restorer, the Giver of Life, the Causer of Death, the Ever-Living, the Sustainer of Existence, the Perceiver, the Noble, the One, the Eternal Refuge, the All-Powerful, the Prevailing, the Expediter, the Delayer, the First, the Last, the Manifest, the Hidden, the Governor, the Exalted, the Source of Goodness, the Accepter of Repentance, the Avenger, the Pardoner, the Kind, the Owner of Sovereignty, the Possessor of Majesty and Honor, the Equitable, the Gatherer, the Self-Sufficient, the Enricher, the Preventer, the Afflicter, the Benefactor, the Light, the Guide, the Incomparable, the Everlasting, the Inheritor, the Guide, the Patient." [Narrated by Tirmidhi and Bayhaqi in Al-Da'awat al-Kabir]
This narration has been reported by Tirmidhi, and it has been narrated by Tiyah in Duaat Kabir. The invocation is made through the Most Great Name of Allah. It was heard that the Companion (RA) invoked as follows: 'O Allah, I ask You by Your being Allah, there is no god but You, the One, the Eternal. You neither beget nor were You begotten, and there is none like unto You.' He is self-sufficient and has no need. He created without a father and was not born from anyone, and there is none comparable to Him. Then the Prophet (peace be upon him and his family) confirmed this invocation, stating that it is made by invoking through the Most Great Name of Allah, and whoever invokes using this name will have their invocation answered. This narration has been reported by Tirmidhi and Abu Dawud. Additionally, there is another hadith.
اللّهُمَّ إِنِّي أَشْهَدُكَ أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لاَ إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ۔ أَحَدٌ صَمَدٌ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ۔ اے اللہ! میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ آپ ہی ایسے معبود حقیقی ہیں کہ آپ کے سوا کوئی معبود نہیں جو کیتا اور بہ نیاز ہیں نہ آپ کسی کو اولاد بنایا اور نہ آپ کسی سے پیدا ہوئے اور نہ کوئی آپ کا ہمسر ہے۔
اللہ تعالیٰ و آلم وسلم کے ساتھ نماز عشاء کے لہ مسجد میں داخل ہوا۔ میں نے دیکھا کہ ایک صاحب بلند آواز سے قرآن پڑھ رہا ہے۔ میں نے اس طرح بلند آواز سے قرآن پڑھتے ہوئے دیکھا۔ عرض کیا کہ یارسول اللہ! کیا آپ ان صاحب کوریا کارہائے ہیں؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلم وسلم نے ارشاد فرمایا: بھیس بلکہ یہ پیگا مومس ہیں اور ان میں پوری طرح رجوعی الی اللہ اور انہیں الہی ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ بلند آواز سے اس طرح قرآن پڑھنے والے حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلم وسلم ان کی قراءت کونہایت توجہتے سن رہے تھے۔ جب حضرت ابو موسی تلاوت ختم کرتے پھر دینے کر دعا کرنے لگے:
حضرت ابوموسی اشعری کی پردا ئے سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ انہوں نے اس اتم اعظم کو وسیلہ بنانے کر دعا کر ما گیا ہے کہ جب کوئی اس نام کو وسیلہ بنانے کر دعا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا کو قبول فرماتے ہیں اور جو مانگتا ہے اس کو دیتے ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا میں ان کے لئے جو خوشخبری آپ سے سنی ہے ان کو سنادوں؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بالسادو تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پرخوشخبری حضرت ابوموسی کو سنادی تو انہوں نے کہا کہ آج سے تم میرے بھائی ہو کر تم نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سنائی (جس میں قبولیت دعا کی خوشخبری ہے)۔
اس کی روایت رزین نے کی ہے۔
اللہ تعالیٰ کے بندے کو اپنا نام لیکر دعا کرنے کی اجازت دی ہے۔
Buraydah (may Allah be pleased with him) reported: I entered the mosque with the Messenger of Allah (ﷺ) at night, and a man was reciting loudly. I said, "O Messenger of Allah, is this showing off?" He replied, "No, rather he is a believer turning to Allah." Abu Musa al-Ash'ari then recited loudly, and the Messenger of Allah (ﷺ) listened to his recitation. Later, Abu Musa supplicated, "O Allah, I bear witness that You are Allah, there is no deity except You, the One, the Eternal, who neither begets nor is begotten, nor is there any equal to Him." The Messenger of Allah (ﷺ) said, "He has asked Allah by His Name, for when He is asked by it, He gives, and when supplicated by it, He answers." I said, "O Messenger of Allah, should I inform him of what I heard from you?" He said, "Yes." So I told him, and he said to me, "Today, you are a beloved brother to me for narrating to me the words of the Messenger of Allah (ﷺ)." [Narrated by Razin]
برپیہ رضی اللہ عنہ تے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت رسول اللہ صلی
I heard the Messenger of Allah ﷺ say...
اس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مسجد میں بیٹھا ہوا تھا۔ اور ایک صاحب نماز پڑھ رہا تھا۔ انہوں نے (نماز ختم کرنے کے بعد) یودعا کہتے:
اللہُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بَأَنَّ لَكَ الْحَمْدُ، لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ الْحَنَّانُ الْمَنَّانُ بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ ذَا الْجَلالِ وَالإِكْرَامِ، يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ أَسْأَلُكَ أَنْ تَغْفِرَ لِي
اے اللہ! میں آپ سے اس بات کے وسيلے سے سوال کرتا ہوں کہ ہر تم کی تعریف آپ کو سزاوار ہے اور آپ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ آپ برطے مہربان اور احسان کرنے والے ہیں آپ، یہ نے بخیر نمونوں کے آسمان اور زمینوں کو پیدا کیا ہے۔
(ان کی پیدائش کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمايا: اس شخص نے اللہ تعالیٰ کے اس اسم عظیم کے وسيلے دعا کر رہا ہے۔ جب اس کے وسيلے دعا کی جائے تو دعا کی قبول ہوتی ہے اور جب پڑھا نگا جاتا ہے تو دعا جاتا ہے۔
اس کی روایت ترمذی، ابوداود، نسائی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
الآن آٹھوں میں اسم عظیم ہے
Anas (may Allah be pleased with him) reported: I was sitting with the Prophet (ﷺ) in the mosque when a man prayed and said, "O Allah, I ask You by the fact that all praise belongs to You; there is no deity except You, the Bestower of Mercy, the Originator of the heavens and earth, O Possessor of Majesty and Honor, O Ever-Living, O Sustainer of Existence, I ask You..." The Prophet (ﷺ) said, "He has supplicated Allah by His Greatest Name, for when He is supplicated by it, He answers, and when asked by it, He gives." [Narrated by Tirmidhi, Abu Dawud, Nasa'i, and Ibn Majah]
(1) His statement: "O Allah, I ask You..." – Other narrations mention similar supplications containing names not in this hadith, but the name "Allah" is present in all of them. This indicates that it is the Greatest Name. Mirqat al-Mafatih mentions this.
اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا اسم عظیم ان دوآئیوں میں ہے: "وَاللهُمُ اللهُ وَاحِدٌ، لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ الرَّحْمنُ الرَّحِيمُ" (سورۃ البقرہ، آیت نمبر:163)
اور تمہارا معبود ایک ہی معبود اور اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے جونہا یت مہربان اور رحم
کرے والا ہے۔
اور سورۃ آل عمران کی بھی آیت: "اللّٰہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ" الْمَدْتَعَالی
کے سوا کوئی مجبوہ نہیں وہی بہیشہ بہیشہ رہے اور ساری ساری مخلوقات کو قائم رکھے والا ہے۔ (سورۃ
آل عمران، آیت نمبر: 1)۔
اس کی روایت ترمذی، ابوداود، ابن ماجہ اور دارمی نے کی ہے۔
اسم عظیم کی تحقیق
Asma bint Yazid (may Allah be pleased with her) reported: The Prophet (ﷺ) said, "Allah’s Greatest Name is in these two verses: 'And your God is one God; there is no deity except Him, the Most Gracious, the Most Merciful' (Al-Baqarah 2:163) and the opening of Surah Al 'Imran: 'Alif Lam Mim. Allah, there is no deity except Him, the Ever-Living, the Sustainer of Existence' (Al 'Imran 3:1-2)." [Narrated by Tirmidhi, Abu Dawud, Ibn Majah, and Darimi]
_ ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا اسم عظیم کا
لفظ اللہ یہ اس کی روايت امام محمد بن الحسن رحمۃ اللہ علیہ نے کی ہے اور اس کو امام طحاوی نے مشکل
الآثار میں بیان کیا ہے اور امام طحاوی نے کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسم عظیم کے
بارے میں جو حدیثیں مریوی ہیں کہ ان سب میں اس بات پر اتفاق ہے کہ اللہ تعالیٰ کا لفظ ان تمام
روايتول میں مشترک ہے لہذا ایثابت ہوتا ہے کہ اسم عظیم لفظ اللہ یہ تو معلوم ہوا کہ احادیث
نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی حضرت امام عظیم رحمۃ اللہ علیہ کے ذہب کی تائید ہوتی ہے۔ اور عرف
شزی میں ابن حانی کی شرح تحریرامنہ مام کے حوالے سے کہا ہے کہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے
ہیں کہ اسم عظیم صرف لفظ اللہ یہ۔ بشرطیم اس کو خلوص دل کے ساتھ اس طرح کہو کہ تمہارا دل
غیر اللہ سے پاک و صاف ہو۔
ایک مقبول دعا
Abu Hanifah said: "The Greatest Name of Allah is 'Allah.'" [Narrated by Muhammad ibn al-Hasan, mentioned by Al-Tahawi in Mushkil al-Athar] He said: "These narrations from the Messenger of Allah (ﷺ) agree that the Greatest Name is 'Allah,' Glorified and Exalted, and what we have mentioned aligns with Abu Hanifah’s view, removing any disagreement."
(2) His statement: "From Abu Hanifah..." – In Sharh Tahreer Ibn Hammad by Ibn Hajj, it is narrated from Abu Hanifah that the Greatest Name is the word "Allah" when uttered sincerely from the heart, free from associating anything with Allah. Al-'Urf al-Shadhi mentions this.
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ . آلِمَ . اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ
الْقَيُّومُ . عَلَمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ، هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ . هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا
هُوَ ، الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمَهِيمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ ،
سُبْحَانَ اللَّهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ . هُوَ اللَّهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْأَسْمَاءُ
الْحُسْنَى ، يُسَبِّحُ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ، وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ . وَاللهُمُ
اللَّهُ وَاحِدٌ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ . قُلِ اللَّهُمَّ مَلِكَ الْمُلْكِ
تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ ، وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ
مَنْ تَشَاءُ ، بِيَدِكَ الْخَيْرُ ، إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ . تُولِجُ الَّيْلَ فِي
النَّهَارِ وَتُولِجُ النَّهَارَ فِي الَّيْلِ ، وَتُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَتُخْرِجُ الْمَيَّتَ
مِنَ الْحَيِّ ، وَتَرْزُقُ مَنْ تَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ . لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي
كُنتُ مِنَ الظَّالِمينَ
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدُ. لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْحَنَّانُ الرَّحَّانُ
الْبَدِيعُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ، يَا ذَا الْجَلالِ وَالْإِكْرَامِ ، يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ . اللَّهُمَّ
إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنِّي أَشْهَدُ أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي
لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ. اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ
الطَّاهِرِ الطَّيِّبِ الْمُبَارَكِ الْأَحَبِّ إِلَيْكَ الَّذِي إِذَا دُعِيتَ بِهِ أَجَبْتَ ، وَإِذَا
سُئِلْتَ بِهِ أَعْطِيتَ ، وَإِذَا اسْتُرْحِمْتَ بِهِ رَحِمْتَ ، وَإِذَا اسْتُفْرِجْتَ بِهِ
فَرَّجْتَ . اللَّهُمَّ إِنِّي أَدْعُوكَ اللَّهَ، وَأَدْعُوكَ الرَّحْمَنَ وَأَدْعُوكَ الرَّحِيمَ
وَأَدْعُوكَ بِأَسْمَائِكَ الْحُسْنَى كُلِّهَا مَا عَلِمْتُ مِنْهَا وَمَا لَمْ أَعْلَمْ . يَا رَبِّ يَا
رَبِّ. اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ . سُبُوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّنَا وَرَبُّ
الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ .
_ سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے سناء کہ زوالنون لیمن حضرت یوسف علیہمیا وعلیہ الصلاۃ والسلام کی دعا
کہ جس کو انہوں نے اس وقت کی جب وہ محجل کے پیٹ میں چل کے گئے یعنی: "لا اِلٰہَ اِلَّا اَنتَ
سُبْحَانَكَ اِنّی کُنتُ مِنَ الظّالِمِینَ "۔
آے اللہ آپ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے آپ پاک اور بے عیب ہیں بے شک ہیں، یہ
گناہگارول میں ہول حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرما یا ہے کہ: اس دعاء سے جس کسی
مسلمان نے کسی مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ کو پکارا تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اس کی دعا کو قبول
فرمایتا ہے۔ اس کی روايت امام احمد اور ترمذی نے کی ہے۔
ف: حاشیہ مشکوۃ میں تمام احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جمع کر کے حسب ذیل مرتب کی
گئی ہے اور کہا ہے کہ اس دعا میں اسم أعظم ضرور ہو گا تو جو کوئی اس دعا کے وسیلے اپنا مطلب اللہ
تعالیٰ سے مانگا امید ہے کہ اس کی دعا ضرور قبول ہو گی۔
اول و آخر تین بار درود شریف بھی پڑھ کر ساکل کو چاہے کر دعا کرتے وقت اس بات کی
احتیاط رکھ کر دعا میں غیر شرعی امور نہ مانگے اور نہ کسی کا نقصان چاہے اور نہ ایسی چیز طلب کرے جو
بندوبنے ماگی جائے ہے۔ وہ دعاء یہ ہے:
Sa'd (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "The supplication of Dhun-Nun (Prophet Yunus) when he called upon his Lord from the belly of the whale: 'There is no deity except You; exalted are You. Indeed, I have been of the wrongdoers' (Al-Anbiya 21:87). No Muslim supplicates with it in any matter except that Allah answers him." [Narrated by Ahmad and Tirmidhi]