Nūr al-Maṣābīḥ
کتاب فضائل القرآن

The Virtues of the Qur’an
Volume 5 · Virtues of the Qur’an

(اس کتاب میں قرآن کی فضیلتون کا بیان ہے)

This book expounds upon the virtues of the Quran.

وقول الله عز وجل يا ايها الناس قد جاءكم موعظه من ربكم وشفاء

لما في الصدر وهدي ورحمه للمومنين اور الل تعالي كا ارشاد سور يوس

, آیت نمبر: 57، میں) اے لوگو! تمہارے پروروگار کی طرف سے (انتظام جحت کے طور پر) ایک

ایسی چیز (معنی قرآن) آئی ہے (جو پڑے کامول سے روکنے کے لیے) نصیحت ہے اور دولوں میں

(برے کامول سے جو پڑاریال پیداہوجائے ہیں ان) کے لیے شفاہے اور نیک کام کرنے والوں کے

لیے ) رہنمائی کرنے والی ہے اور (اگراس پر عمل کرنے نیک کام اختیار کروگے تو) ایمان والوں کے

لیے رحمت (اور زریعت ثواب) ہے۔

قرآن کا نزل اوراس کی تدوین

ف : واضح ہو کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر چالیس سال سات ماہ کی تھی اور آپ

غار حرا میں تکبر حضرت جبریل علیہ السلام آپ پر وحی لاے وضوحروا یا نماز سجدائی اور سب

سے پہلے وحی پیغی (سورۃ علق، آیت نمبر:1 25)۔

O people! From your Lord has come to you a guidance (meaning the Quran) which is an exhortation to turn away from evil deeds, and it is a healing for the ills that have arisen from them, and a guidance for those who do good deeds, and for those who believe and act righteously, it is mercy and a means of reward.

The Revelation and Compilation of the Quran

It is clear that when the Messenger of Allah ﷺ was forty years and seven months old, and he was in the Cave of Hira, the noble Gabriel (peace be upon him) brought revelation to him, commanding him to read or recite (Surah Al-‘Alaq, verses 1-25), which was the first revelation.

اقرا باسم ربك الذي خلق خلق الانسان من علق اقرا وربك الاكرم الذي علم بالقلم علم الانسان ما لم يعلم

اور سب سے آخری وحی پیغی (سورۃ بقرہ، آیت نمبر: 281)

"وَاتَّقُوا يَوْمًا تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللَّهِ ثُمَّ تُوَفَّى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا

یُظْلَمُوْنَ"۔

قرآن شریف کی موجودہ ترتیب خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قائم کی ہوئی ترتیب سے، بلکہ

ضرورت، مقام اور موقع کے لحاظ سے نزول آگے پیچھے ہوتا رہا۔ اس وجہ سے جب کوئی آیت یا کامل

روک و ایسورۃ نازل ہونی ہوتو حضور صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرماتے تو کر اس کو

قرآن کے اس مقام میں رکھواور اسی سلسہ میں یاد کرواور صحابہ کرام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی

ترتیب کے مطابق یاد کرتے تھے۔ پھر اسی ترتیب کے مطابق حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے

قرآن کو جمع فرمايااور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد خلافت میں اس کی اشاعت فرمائی۔ جو

آج ہمارے باقی ہوئے بجسنہ موجود ہے۔ یہود اور نصاری کی تحریف کردہ آسانی کتابوں کو دیکھ کر

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تردوہوا کہ کتنی میری امت قرآن کریم کوردوبدل نکردو تو اللہ تعالیٰ نے

یہ آیت نازل فرمائی: انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون۔ (سورۃ حجر، آیت نمبر:9)

تم نے قرآن کو اتا راہے اور تم، یاس کی حفاظت کریں گے ) احمد شدیق کو کو پوری پوری ہوئی

اور آج قرآن کریم نازل ہوئے چودہ سو برس سے زائد ہورہے ہیں کہ قرآن کریم کے ایک لفظ میں بھی

آج تک فرق نہیں آیا بلکہ جس رس م خط سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانے میں کہا گیا تھا، یہ اب تک

باتی ہے اور قیامت تک باقی رہے گا۔ جو شخص اس کے خلاف یعنی اس کے کہ قرآن کریم میں ردوبدل

ہو کر اس کی حفاظت نہیں ہوئی ہے تو وہ مسلمان نہیں ہے اس کے برخلاف قرآن کے سوا جتنے آسانی

صحیح جیسے توراة انجیل وغیرہ نازل ہوئے وہ سب اپنی اصلی حالت میں موجود نہیں وہ سب تحریف شدہ

ہیں اس لے وہ سب منسوخ ہیں۔ اور اس امت محمد صلی خوش نصیب ہے کہ قرآن اپنی اصلی حالت

میں محفوظ چلا آرہا ہے۔

فضائل قرآن

حضر صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میری امت کی سب سے افضل عبادت قرآن شریف کی

تلاوت ہے۔ البتہ قرآن خاص اللہ ہیں تم میں سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھا اور سکھا ہے اللہ تعالیٰ

قرآن پڑھنے والے کی طرف سب طرف سے بڑھا کر توجہ کرتا ہے۔ جس نے قرآن پڑھا ہے پر حرف

پر اتنا ثواب ملگا جودوسرے اعمال کے ثواب سے دس گنا ہوگا۔ تم قرآن پڑھا کرو کیوں کہ قرآن

قیامت کے روز اپنے پڑھنے والوں کی شفاعت کرے گا۔ فرمایا کہ دل پر لوبہ کی طرح زگ آجاتا

ہے۔ عرض کیا گیا کہ اس زگ کو کیونکر دور کریں؟ ارشاد فرمایا کہ قرآن کی تلاوت اسے دور کرتی ہے اور

دل کو روشن کرتی ہے۔

حضرت علی کرم اللہ وجهہ فرماتے ہیں کہ جو شخص نماز میں بحالت قیام کلام مجید کی تلاوت کرے

اسے حرف کے بدلے (100) نکیوں کا ثواب اور جو شخص نماز میں پیٹھ کر تلاوت کرے اسے

پچاس (50) نکیوں کا ثواب اور جو شخص نماز کے علاوہ باوضو تلاوت کرے اسے چھپس نکیوں کا ثواب

اور جو شخص بے وضو تلاوت کرے اسے دس (10) نکیوں کا ثواب عطا ہوتا ہے۔

حضرت ابو عامرة رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ اس دل پر عذاب نہیں کرتے جس میں

قرآن موجود ہو۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قرآن کی حرآيت جنت کا درجہ رکھتی ہے اور

تمہارے گھر کا چرا غہ، جس گھر میں قرآن پڑھا جاتا ہے وہ گھر نکیوں سے بریز ہوتا ہے۔

حضرت امام احمد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ قرآن خواہ معانی سمجھ کر پڑھا جائے خواہ معانی

معلوم نہ ہوں دونوں حالتوں میں تقرب اللہ کا بہترین ذریعہ ہے۔ حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ

فرماتے ہیں کہ جب آدمی قرآن پڑھتا ہے تو فرشتے اس کی آنکھوں کے درمیان بوتی ڈالتے ہیں۔

قرآن مجید معنی کے اعتبار سے ایک انہائی مرتب اور منظم کتاب ہے اور ادب و انشاء کے اعتبار

سے بھی انہائی بلغ کتاب ہے۔ جس کو جتنی رسائی قرآن کے فنوم کی مسرآ جاتے جس وہی بندا کے

مرتب اور عزت کے لئے بہت ہے، کون اس علم الغیب اور میم کلام کے سارے گوشون اور

پہلوؤں کو پڑھنا چاہتا ہے؟ اس لئے کلام اللہ کی تشریح اور تفسیر اگلون اور پچلون

کے کسی دور میں بھی آخری نہیں ہوسکتی۔ اسے عسوال برابر پیاہول گے اور تے تے جواب کتاب

الهدی (قرآن شریف) کے صفوں میں تلاش سے برابر ملتے رہیں گے۔

دوسری طرف پیا در کچھ کی بات ہے کہ قرآن وقت کے چلے ہوئے اور اصطلاحی مفہوم میں

کوئی علمی یا ادبي حقیقی مقام نہیں بلکہ وہ اصلًا محض کتاب بدایت ہے اور انسانی زندگی کا انفرادي اور

اجتماعی استوار عمل ہے۔ اس کی وثاق سرتا پاحمت واخلاقالروحانيت اور انسانيت، اور عبادت و انابت

کی و نیاہ اس کی فضاء اطمینان قلب کی فضاء اوراس کا ماحول تقوا اورطہارت کا ماحول ہے اوراس کے مغز میں تقوا اورطہارت کی درجہ بندی بہرحال نازر پیش ہے۔

طہارت جسم کی طرح طہارت قلب کا زراسا مجھی اہتمام کے بغیر محض زبان اور لغت کے بل پر قرآن مجھی کو کوشش سے لا حاصل ہے۔ آخر ابونجمل اور ابو لهب جوخالص قریشی تھا اور ان کی لیکن ان پر قرآن ذرّہ بهذرّہ نکل سکا۔ بندر کا بندی ربا س لے کر انہوں نے اپنی روح کو قرآن کی روحا نیت سے برگزار کرنا اور ان کو قرآن مجھی کی سعادت ادنی درجہ بندی حاصل نہ ہونی۔

تلاوت کے آداب

تلاوت کا پہلا ادب یہ ہے کہ تلاوت کرنے والے باوضو، وقاراورادب کے ساتھ قبل روگردان جس کا کر بیٹھے، تمیز نہ لگے۔ ثست میں نخوت اور غرو کا شانہ بنہو تو نہیں اس طرح بیٹھے جس طرح استاد کے ساتھ شاگرد بیٹھتا ہے۔ قرآن مجید کو حلیا تمیز پر کہنا چاہئے۔ آیات قرآن کو ظہر ظہر کرتے زیرود زبر کے ساتھ اس طرح پڑھے کہ روفا پڑھنے خارج سے اداہول اور لفظ صاف سنائی دے۔

قرآن شریف کی تلاوت میں رونا مستحب ہے اور باعث ثواب ہے۔ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ: قرآن کو پڑھو اور گری کرو۔ اگر گری نہ کرسکو تو رونے کی شکل بناؤ۔ خاص کرآیت عذاب، تهدید، وعید، عہد و میثاق اوامر و نواہی کے پڑھنے وقت اپنی کونہیوں اور تقسیروں کو یاد کرے ضرور رونا چاہئے۔ اوردل کو غمگین بنانا چاہئے؟ کہ پیرحمت الہی کو پی طرف متوجہ کرنے کا ذریعہ ہے۔ جب سجدہ کی آئتون میں کوئی آیت تلاوت میں آجائے تو کمال بجز و فروتن کے ساتھ سجدہ کر لے جب کلام مجید کی تلاوت شروع کر لے تو "اعوذ بالله من الشيطن الرجيم" اور "بسم الله الرحمن الرحیم" کہ اور جب تلاوت ختم کر لے تو "صدق الله العلی العظیم" کہ۔

تلاوت قرآن خلوص نیت کے ساتھ ہونی چاہئے خواہ پکار کر پڑھے خواہ آہستہ پڑھے اچھی نیت کے ساتھ جؤریا اور نماز کے پاک ہو پی باعث ثواب ہے۔

کلام مجید کی تلاوت کے لے تجوید سیکھ کر تعلیم اور تجوید کا پورا اہتمام رکھنا چاہئے اس عام کتابوں اور عبارتوں کی طرح نہ پڑھے بلکہ خاص طور پر پوری خوش آوازی کے ساتھ پڑھے لیکن گانے کا انداز نہ ہو۔ قرآن پاک کو خوش آوازی اور پورے اہتمام کے ساتھ پڑھنا اور مجھی باعث ثواب ہے۔

تلاوت قرآن مجید کے وقت روموز و علامات اور حکمت و سنن پر احتیاط سے عمل کرنا چاہئے -

قرآن مجید میں چند ایسی مقامات ہیں جو زرا بھی احتیاط سے نادانستگی کے کفر کا ذکر کرتے ہیں،

زیرا وہ زبردوش میں ردودبل کردینے سے معنی کے پہلو پہلو جائے ہیں اور دانستگی سے گناہ بڑھے

بلکہ فریق نوبت پہو چ جائے گا اس لیے تلاوت میں احتیاط ضروری ہے -

قرآن کو سکینہ اور سکونے والے کی فضیلت

And fear a Day when you will be returned to Allah. Then every soul will be compensated for what it earned, and they will not be wronged (Surah Al-Baqarah, Verse 281).

“They will be in darkness.”

The current arrangement of the Holy Quran was established by the Prophet ﷺ himself, rather than according to the sequence of revelation, which varied based on necessity, context, and occasion. Therefore, whenever a verse or a complete section of a surah was revealed, the Prophet ﷺ would instruct the noble Companions (RA) to place it in a specific position within the Quran and to recite it in that order. The noble Companions would then recite it according to the sequence indicated by the Prophet ﷺ. Later, this same order was followed when Caliph Abu Bakr al-Siddiq (RA) compiled the Quran, and Caliph Uthman ibn Affan (RA) standardized its dissemination during his caliphate, which is the version we have today.

Seeing the alterations made to the books of the Jews and Christians, the Prophet ﷺ was concerned about how much his community might alter the Noble Quran. In response, Allah Almighty revealed the verse: “We have, without doubt, sent down the Reminder, and We will assuredly guard it” (Surah Al-Hijr, Verse 9).

The Quran has been preserved in its entirety, and for over fourteen hundred years since its revelation, not a single word has changed. It remains as it was written in the time of the noble Companions (RA) and will remain so until the Day of Judgment. Any person who claims that the Quran has been altered or that it has not been preserved is not a Muslim. In contrast to the Quran, other divine revelations such as the Torah and the Gospel, though originally authentic, have been altered and are now abrogated. The community of Muhammad ﷺ is fortunate that the Quran has remained in its original state, preserved throughout history.

The Prophet ﷺ says that the most excellent form of worship in my Ummah is the recitation of the Holy Qur'an. Indeed, the Qur'an is the special domain of Allah; among you, the best is he who has learned and taught the Qur'an. Allah, the Exalted, bestows great attention upon those who recite the Qur'an. For every letter of the Qur'an that one recites, a reward is earned that is ten times greater than the reward of other deeds. Therefore, recite the Qur'an.

On the Day of Judgment, the Quran will intercede for its readers. It is said that rust comes over the heart like a stain. It was asked how this rust can be removed? It was revealed that recitation of the Quran removes it and enlightens the heart.

Ali, may Allah be pleased with him, says: Whoever recites the Quran in prayer while standing will receive a reward of one hundred good deeds for each letter, and whoever recites it while sitting in prayer will receive fifty good deeds for each letter, and whoever recites it outside of prayer while in a state of ritual purity will receive thirty good deeds for each letter, and whoever recites it without being in a state of ritual purity will receive ten good deeds for each letter.

Abu Amama, may Allah be pleased with him, says: Allah, the Exalted, does not punish a heart in which the Quran is present.

Abu Hurairah, may Allah be pleased with him, says that the recitation of the Quran has the status of a high rank in Paradise, and the house in which the Quran is recited is filled with goodness.

Imam Ahmad, may Allah have mercy on him, says: Whether the meanings of the Quran are understood or not, reading it is the best means of drawing near to Allah in both cases. Sufyan Thawri, may Allah have mercy on him, says: When a person recites the Quran, angels place a fragrance between his eyes.

The Glorious Quran is an infinite and well-organized book in terms of meaning, and it is also an infinite and eloquent book in terms of literature. The more one delves into the phenomena of the Quran, the more elevated and honored the person becomes. Who would not want to read all the aspects and dimensions of this knowledge of the unseen and noble speech? Therefore, the interpretation and explanation of the Word of Allah cannot be final in any era, past or future. It will always continue, and answers will always be found in the pages of the Book of Guidance (the Holy Quran).

On the other hand, it is a matter of concern that the Quran, in the context of time and terminology, does not hold any scientific or literary significance but is, in fact, merely a book of beginnings and a practical guide for individual and social life. Its essence lies in moral, spiritual, and human values, and in worship and supplication.

And its essence is the realm of heart’s tranquility, and its environment is the sphere of piety and purity. In its core, the hierarchy of piety and purity is always visible. Purity, like the body, requires the cultivation of the heart; the Quran cannot be obtained by mere lip service and verbal effort alone. Ultimately, Abu Jahl and Abu Lahab were pure Qurayshites, yet the Quran could not penetrate them even in the slightest degree. Despite their lineage, they could not imbue their souls with the spirit of the Quran, nor could they attain even the lowest rank of the Quran’s blessings.

The first etiquette of recitation is that the one who recites should sit before the Qur'an with purity, dignity, and respect, without any sign of carelessness. One should not sit in a manner that shows arrogance or pride; rather, one should sit as a student sits before a teacher. The Qur'an should be placed on a clean stand. The verses of the Qur'an should be recited clearly, with proper pronunciation of zahr and jahr, such that the recitation is audible and the words are distinctly heard.

Crying during the recitation of the Holy Qur'an is recommended and a source of reward. The Prophet (peace be upon him) has said: 'Recite the Qur'an and weep. If you cannot weep, then make a show of weeping.' Especially when reciting verses of punishment, warning, threats, covenants, commands, and prohibitions, one should remember one's sins and interpretations and must cry, and one's heart should be filled with sorrow, as it is a means to turn towards the Divine Mercy. When a verse commanding prostration is encountered during recitation, one should perform the prostration with perfection and humility. When beginning the recitation of the Glorious Qur'an, one should say 'A'udhu billahi min ash-shaytan ar-rajim' and 'Bismillah ar-rahman ar-rahim,' and when finishing the recitation, one should say 'Subhan Allahi al-a'la al-azim.'

The recitation of the Qur'an should be done with pure intention, whether recited aloud or quietly, with good intention, and it is a source of reward, especially if done in the context of worship and prayer.

For the recitation of the Glorious Qur'an, one should learn tajweed and pay full attention to its rules. It should not be read like ordinary books and phrases but should be recited with a pleasant voice, though not in a singing manner. Reciting the Pure Qur'an with a pleasant voice and full attention is a source of reward.

During the recitation of the Glorious Quran, one should act with great caution regarding its symbols, wisdom, and established practices -

There are certain places in the Glorious Quran that mention the ignorance of unbelief due to a lack of caution,

For these places, when approached carelessly, lead to a loss of meaning and an increase in sin, rather than gaining knowledge.

Therefore, caution during recitation is essential -

The virtue of those who recite the Quran with tranquility and composure.

3036

_ امیر المومنین حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول

اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرما تے ہیں: تم میں سے بہترین وہ شخص ہے جو قرآن کو خود سکینہ اور دوسروں

کو سکونے _ اس کی روایت بخاری نے کی ہے -

قرآن سکینہ، سکونے اور اس پر عمل کرنے والے کی مثل

Uthman (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The best among you is the one who learns the Qur’an and teaches it." [Narrated by Bukhari]

(1) The statement: "The best among you..." If it is asked: Which is better, learning the Qur’an or learning Fiqh (jurisprudence)? The answer is: The one occupied with Fiqh is better. This depends on a person’s need, because Fiqh is superior to mere recitation. However, in the time of the Prophet (ﷺ), the reciter was the most knowledgeable in Fiqh, which is why the reciter led the prayer. This is mentioned in ‘Umdat al-Qari’.

3037

_ حضرت ابو برہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی

اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما یا ہے کہ قرآن کو (لفظ اور معنی کے ساتھ) پڑھنا سکینہ پھیراس کی تلاوت

تمیشہ جاری رکھو (اور اس کے احکام پر عمل کرتے جاؤ) کیونکہ جس نے قرآن کو سکینہ پھیر پڑھا اور تجدید

میں اس کو پڑھتارہا _ اس کی مثل چمرے کی اس جیلی کی طرح ہے جس میں مشک بھرا ہوا ہواور اس کی

خوشبو مکان کے گوشے گوشے میں پھو چ جائے گا (یعنی اس کی برکت پڑھنے اور سننے والوں کو حاصل ہو

جائے گا ) اور اس شخص کی مثل جس نے قرآن کو سکینہ اور اس کو سیند میں لے سوتارہا (یعنی نتو خورد

پڑھ کرتا ہے اور نہ دوسروں کو سکونے تا ہے اور نہ اس پر عمل کرتا ہے) اس جیلی جیسی ہے جس میں مشک تو

بھرا ہوا ہویکن اس کا منہ باندھ دیا گیا ہو _ اس کی روایت ترمذی، نسا ئی اور ابن ماجہ نے کی ہے -

قرآن پڑھنے والوں کی وسمیں اور ان کی مثلیں

It is narrated from Abu Burdah (RA) that he said:

The Messenger of Allah ﷺ said: 'Recite the Quran with its words and meanings, and continue to recite it regularly (and act upon its commands), for whoever recites the Quran regularly and continues to refresh it, his example is like that of a leather bottle filled with musk, whose fragrance will spread throughout the house (meaning that its blessings will reach those who hear and recite it). And the example of one who reads the Quran but does not refresh it, nor does he act upon it, is like a leather bottle filled with musk but whose mouth is sealed, so its fragrance does not spread.' This hadith is narrated by Tirmidhi, Nasa'i, and Ibn Majah - concerning the virtues of those who recite the Quran and their examples.

3038

_ حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ رسول

اللّٰہ تعالیٰ و سلم ارشاد فرماے ہیں کہ جو مسلمان قرآن پڑھتا رہتا ہے اس کی مثل تزہ نگ کے پچل

جیسی ہے جس کی خوشبو اچھی ہوتی ہے اور مزہ بھی عمدہ ہوتا ہے۔ لیجن قرآن پڑھن والے مسلمان کا

ظاہر و باطن دونوں اتنے ہوتے ہیں۔ اور اس مسلمان کی مثل جو قرآن نہیں پڑھتا ہے کچوری طرح

ہے کر اس میں خوشبو نہیں ہوتی لیکن اس کا مزہ ثیری ہوتا ہے۔ لیجن اس کا باطن ایمان کی وجہ سے تو

اچھا ہے لیکن قرآن نہ پڑھنے کی وجہ سے ایمان کا اثر اس پر ظاہر نہیں ہے۔ اور جو منافق قرآن نہیں

پڑھتا اس کی مثل ان دراں کے پچل کی طرح ہے۔ جس میں خوشبو بھی نہیں ہوتی اور اس کا مزہ بھی کٹوا

ہوتا ہے۔ لیجن منافق کا نتو ظاہر اچھا ہے اور نہ باطن۔ اور اس منافق کی مثل جو قرآن پڑھتا ہے

خوشبو دار پچول کی طرح ہے کہ بو تو اس کی اچھی ہے لیکن مزہ اس کا کٹوا ہے۔ اس کی روایت بخاری

اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔

Abu Musa al-Ash’ari (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The example of a believer who recites the Qur’an is like a citron, its fragrance is pleasant, and its taste is pleasant. The example of a believer who does not recite the Qur’an is like a date, it has no fragrance, but its taste is sweet. The example of a hypocrite who does not recite the Qur’an is like a colocynth, it has no fragrance, and its taste is bitter. And the example of a hypocrite who recites the Qur’an is like a basil, its fragrance is pleasant, but its taste is bitter." [Agreed upon]

In another narration: "The believer who recites the Qur’an and acts upon it is like a citron, and the believer who does not recite the Qur’an but acts upon it is like a date."

3039

_اور بخاری و مسلم کی ایک اور روایت میں اس طرح ہے کہ وہ مسلمان جو قرآن

پڑھ کر عمل کرتا ہو وہ ترنگ کی طرح ہے اور وہ مسلمان جو قرآن تو نہیں پڑھتا ہے لیکن اس پر عمل کرتا

ہے کچوری طرح ہے۔

قرآن کو پڑھنے اور پڑھانے کا ثواب

And in another version reported by Bukhari and Muslim, it is stated: 'The Muslim who recites the Quran and acts upon it is like a fresh tender plant, and the Muslim who does not recite the Quran but acts upon it is like a dry plant. The reward for reciting and teaching the Quran is [great].'

3040

_حضرت عقبہ بن عامر رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ صرف

پر جو مسجد نبوی میں ایک سايردار چھوٹرہ ہے۔ جیہوئے چھ کر رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم تشریف

لاے اور ارشاد فرماۓ کر تم میں سے کون اس بات کو پیند کرتا ہے کہ وہ ہر روز بطحان یا عقیق کے

بازار ول میں جائے۔ بطحان اور عقیق دو مقام ہیں جو مدینہ منورہ سے دو یا تین میل کے فاصلے پر ہیں

جہال اونوال کی خرید و فروخت ہوا کرتی ہیں۔ اور وہ لے بلغرگناہ اور قطع رحم کے دو برہ کو پان

والی اونیال لے؟ ہم نے عرض کیا۔ یا رسول اللّٰہ تم سب اس کو پیند کرتے ہیں۔ پیس کر حضرت صلی

اللہ تعالیٰ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ: جب الیاس تو کیا مجھے کو پڑرت میں سے کونی مسجد جا کر قرآن کی دو آیتین نہیں سکھتا اور خود نہیں پڑھتا جواس کے لئے (دو برطی) اونٹیول سے بہتر ہے اور اس طرح تین آیتین تین اونٹیول سے اور چارآیتین چاراونٹیول کے ملنے سے بہتر ہیں۔ بہرحال قرآن کی جتنی زیادہ آیتین سکھائے گا، وہ اونٹیول کی (انتیزیادہ) تعداد سے (ثواب واجر میں) بہتر ہیں۔ اس لئے کر قرآن پڑھنے اور پڑھانے کا ثواب و نیا کے تمام نفس مال سے بہتر ہے کیونکہ آخرت کا ثواب باقی رہے والاحاورد نیا کا اسباب فنا ہو نے والاحے)- اس حدیث کی روایت مسلمنے کی ہے۔

نماز میں قرآن پڑھنے کا ثواب

Uqbah ibn Amir (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) came out to us while we were in the Suffah and said: "Who among you would love to go every morning to Buthan or Aqiq and bring back two large she-camels without committing any sin or severing ties of kinship?" We said, "O Messenger of Allah, we would all love that." He said: "Why does not one of you go to the mosque and learn or recite two verses from the Book of Allah? That would be better for him than two she-camels, three verses better than three, four verses better than four, and so on with the number of camels." [Narrated by Muslim]

3041

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرما ہے کہ تم میں سے کون اس بات کو پسند کرتا ہے کہ جب وہ اپنے گھر واپس جائے اس کو تین فربغا جسن برطی اونٹیال ملیں؟ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ، تم سب اس کو پسند کرتے ہیں حضرت نے فرمایا: کہ تم میں سے کسی کا نماز میں قرآن کی تین آیتوں کا پڑھنا ثواب اور اجر میں فربغا جسن برطی اونٹیول کے ملنے سے بہتر ہے۔ اس کی روایت مسلمنے کی ہے۔

ہرروز کم سے کم ایک سوآیتون کے پڑھنے سے قرآن کا حق ادا ہوتا ہے

Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Would any of you like, upon returning to his family, to find three large, fat pregnant she-camels?" We said, "Yes." He said: "Then three verses that one of you recites in his prayer are better for him than three large, fat pregnant she-camels." [Narrated by Muslim]

3042

حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہ سے مرسلاً سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما یہ کہ جو شخص رات میں کم سے کم قرآن کی سو(100) آیتین پڑھ تو قرآن اس کے لئے (ایک حق تلاوت) کے بارے میں جگہ انہیں کرے گا۔ اور جو شخص ایک رات میں دوسو(200) آیتین پڑھے تو اس کورات مجھ کی عبادت کا ثواب ملے گا۔ اور جو شخص رات بھر میں

پر چھ سو سے بڑا رآ بنون تک کی تلاوت کرے گا تو وہ صح کواس طرح اٹھ گا کس کوا کی قنطار ثواب

مل چکا ہے صحابہ نے کہا: یارسول اللہ یق نطار کیا ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: بارہ

بڑا ر (ورحمیا دینار)۔ اس کی روایت داری نے کی ہے۔

قرآن میں مہارت حاصل کرنے اوراس کے سکین کی فضلیت

Al-Hasan reported in a mursal narration that the Prophet (ﷺ) said: "Whoever recites one hundred verses in a night, the Qur’an will not argue against him that night. Whoever recites two hundred verses in a night, it will be recorded for him as if he stood in prayer the entire night. And whoever recites between five hundred and a thousand verses in a night, he will wake up with a qintar of reward." They asked, "What is a qintar?" He said: "Twelve thousand." [Narrated by al-Darimi]

3043

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت سے کروہ فرماتی ہے

کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرماتے ہیں کہ قرآن کامہر (جو قرآن کے حفظ وتجوید میں

مہارت رکتا ہوا ور قرآن کے احکام کا علم ہواور ان پر پوری طرح عمل کرنے والا ہوتا اس کا حشر)

ال مقرب اور معزز فرشتوں کے ساتھ ہوگا جولو ح محفوظ سے کتب الہی کو لکھتے ہیں اور وہ شخص جو

قرآن کو (عدم مہارت کی وجہ سے دشواری کے ساتھ )دوہرا دوہرا کرکے رک کر پڑا حتاہے تو اس کو

دواجر ملتا ہے۔ (قرآن کی تلاوت کا جس اجر اور پڑنا کی مشقت کا جس اجر اس فضلیت سے

مشقت سے قرآن پڑنا والے کی لجوممقصود ہے تاکروہ قرآن کے سکین میں کم ہمت نہ ہو۔ یول

تماہر بالقرآن کی فضلیت ظاہر ہے کہ اس کا حشر ملاکہ مقربین انبیاءاورمرسلین اورصحابرکرام کے

ساتھ ہوگا)۔

اس حدیث کی روایت بخاری اورمسلم نے متفرق طور پر کی ہے۔

ان لوگوں کا بیان جن پر حسد جاترتہا اوراس کی تفصیل

Aisha (may Allah be pleased with her) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The one who is skilled in the Qur’an will be with the noble and obedient scribes (angels), and the one who recites the Qur’an with difficulty, stammering through it, will have a double reward." [Agreed upon]

3044

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت سے وہ فرماتے ہیں کرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

ارشد فرماتے ہیں کہ حسدصرف دوشخصوں پر جاترتہے: ایک اس شخص پر جس کواللہ نے قرآن (یعنی

ذوق تلاوت) عطا فرما یا ہواور رات دن اس کی تلاوت میں مشغول رہتا ہواور دوسرا وہ شخص (جس پر

حسد جاترتہے وہ ہے) کہ جس کواللہ نے مال عطا فرما یا ہواور وہ اس کو (نیک کاموں میں) دن رات

خرچ کیا کرتا ہو۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔

ف: واضح ہو کہ حسد کی واقعیت یہ ہے کہ کوئی شخص دوسروں کو غموں میں دکھ کر

اس کو برداشت نہ کر سکے اور پینا کرے کہ اس کی نعمتیں جمع ہو جائیں اور مجھ کو لجا نہیں آئی تمہارا م

ہے اور حسد کی دوسری قسم جس کو غبطہ کہتے ہیں یہ ہے کہ دوسروں کی نعمتوں کو دیکھ کر پیآرز وگرے کر خدا

تم کو بھی ایسی نعمتوں سے مرفراز کرے اور دوسروں کی نعمتوں کے زوال کی تمہاڑ کرے اور پیچائے

ہے اور حدیث ثریف میں حسد کے مراد کی غبطہ مراد ہے۔(مرقات)

قرآن سے کس کے درج بلند ہوتے ہیں اور کون پست ہوتے ہیں

حضرت امیر المومنین حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ

فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کتاب (یعنی قرآن

پر ایمان لا نے اس کی تعظیم کرنے اور اس پر عمل کرنے سے بعضون (کے مرتب) کو بلند فرماتے

ہیں (یعنی دنیا میں ان کو حیات طیبہ سے مرفراز فرماتے ہیں اور آخرت میں ان کا حشر اعلیٰ اور

صدیقین کے ساتھ فرماتے ہیں) اور بعضون کو (جو قرآن ریاکاری سے پرے ہیں اور اس پر عمل نہ

کرتے) قرآن سے پست (اور زیل) کرتے ہیں۔

اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔

قرآن، امانت اور قرابت میول قیامت میں شفاعت کریں گے

حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ

حضور نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن تمہیں چیزی عش کے پیچھے ہونگی۔ (جو شخص ان کے حقوق ادا

کرتے ہیں) اس کے حق میں ان کی شفاعت اللہ کے پاس مقبول ہوگی۔ اور جو ان کے حقوق ضائع

کرتے ہیں تو ان کی گرفت سے نچلے نے سکا ان میں سے (1) ایک تو قرآن سے کر بندول کے کے

جحر میں گا۔ اگر انہوں نے اس کے حقوق کی حفاظت کی ہے اور اس کے احکام پر عمل کیا ہے تو ان کے

Ibn Umar (may Allah be pleased with them both) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "There should be no envy except for two: a man whom Allah has given the Qur’an, so he recites it day and night, and a man whom Allah has given wealth, so he spends from it day and night." [Agreed upon]

3046

فاکد سے کے لئے اللہ تعالیٰ سے شفاعت کے لئے اثر جائے گا۔ اور آگر انہوں نے قرآن کا حق ضائع کیا تو اوراس کے احکام پر عمل نہیں کیا تو وہ تو ان کے خلاف جھٹ کرے گا، اورقرآن کا ایک ظاہر بہ اور ایک باطن ہے (ظاہر تو مراد تلاوت سے ہے جس میں سارے مسلمان شریک ہیں)، اور باطن اس کے معنی میں تدبر کے جوعلاجے امت کا حصول ہے۔ اور (2) دوسرا وہ چیز جوعش کے پیچہوگی وہ) امانت ہے (کراس سے مراد لوگوں کے حقوق کی حفاظت اوران کے اموال کی تغییرداشت ہے (3) تیسری وہ چیز جوعش کے پیچہوگی) وہ صلد رحمی ہے (لیعنی قرابت دارول کے حقوق کی حفاظت ہے) اوران تینون میں سے ہر ایک قیامت کے روزآوازوں کا کرآ گاہ نوجاوکر جومجوہے ملا (لیعنی میرے حقوق کی حفاظت کی) اللہ تعالیٰ مجی اس سے اپنی رحمت سے ملبس گے اور (سرفراز کریں گے) اور جومجوہے لوطا (لیعنی میرے حقوق کوضاح کیا) اللہ تعالیٰ مجی اس کو اپنی رحمت سے دور کریں گے۔ اس کی روایت ثبوت السنہ میں ہے۔

جنت میں صاحب قرآن کا مرتبہ

Abdur-Rahman ibn Awf (may Allah be pleased with him) reported from the Prophet (ﷺ) who said: "Three will be under the shade of the Throne on the Day of Judgment: the Qur’an, which will argue on behalf of the servants, having an outward and inward meaning, the trust (Amanah), and kinship, which will call out, ‘Whoever maintained me, Allah will maintain him, and whoever severed me, Allah will sever him.’" [Narrated in Sharh al-Sunnah]

3047

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے روایت کہ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرما ہیں کہ صاحب قرآن سے (جو قرآن کا حافظ ہواوراس کی تلاوت کرتا ہوااوراس کے احکام پر عمل کی کرتا ہو جب وہ جنت میں داخل ہوگا تو کہا جائے گا کر (قرآن) پڑھتا جا اور جنت کے در جول پر چڑھتا جا اور جس طرح تو دیا میں ترتیل کے ساتھ قرآن پڑھتا تھا اسی طرح ترتیل کے ساتھ پڑھتا جا اس لئے کہ تیرا انتہائی درجہ جنت میں (قرآن کی) آخری آیت پر ہوگا جس کو تو پڑھے گا۔ اس کی روایت امام احمد، ترمذی، ابوداؤد اورنسائی نے کی ہے۔ ف: واضح ہو کہ جنت کے درجات قرآن کے آیات کے مطابق ہیں اور صاحب مرقات نے علامہ دانی کے حوالے سے کہا ہے کہ قرآن کی مشتق علیا ہیں جو چہ بزار ہیں تو اس طرح جنت کے

درجات بھی پچھڑا رہول گے۔

جس کے دل میں پڑھنے قرآن نہووہ ویران گمر کی طرح ہے

Abdullah ibn Amr (may Allah be pleased with them both) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "It will be said to the companion of the Qur’an: ‘Recite and ascend, and recite with deliberation as you used to recite in the world, for your rank will be at the last verse you recite.’" [Narrated by Ahmad, Tirmidhi, Abu Dawud, and Nasa’i]

3048

حضرت ابن عباس رضي الله عنهما روايت به وه فرماتے پین کر رسول الله صلي الله عليه وسلم ارشاد فرماتے پين کر جس شخص کے دل میں پڑھنے قرآن نہوو ( لیعن اس کو پڑھنے قرآن یاد نہو ) تو اس کی مثل ویران گمر کی طرح ہے ( اس لئے کر دولن کی آبادی اور باطن کی زیئت ايمان بالله اور تلاوت قرآن ہے )

اس حدیث کی روایت ترنزی اورداری نے کی ہے اور تنزی نے کہا ہے کہ حدیث تنج ہے۔

ف: اشعۃ اللمعات میں کہا ہے کر اس حدیث ثریف میں ذکور ہے "جس کے دل میں پڑھنے قرآن نہ" هو تو اس سے مراد قرآن کاصرف وہ حصہ جو نماز ول میں پڑھا جاتا ہو بلکہ اس کے سوا مسلمان کو پڑھنے قرآن یاد کرنا چاہے اگر یاد کر سکتا ہو تو کم از کم ناظر ہی پڑھتا رہے۔

قرآن کی مشغولیت تمام اذکار سے فضل ہے

In Ash'at al-Lama'at, it is mentioned that this hadith is recorded in Tharif: 'Whosoever does not memorize the Quran,' meaning not just the portion of the Quran that is recited in prayer, but rather, besides that, a Muslim should strive to memorize the Quran. If he can memorize it, he should at least read it regularly. Engaging with the Quran is superior to all other remembrances.

3049

حضرت ابوسعید خدری رضي الله عنه روايت به وه فرماتے پین کر رسول الله صلى الله عليه وسلم ارشاد فرماتے پین کر جس شخص کو قرآن کی تلاوت اور اس کے معاني میں تدبر اور اس کے احكام عمل کی مشغولیت ) نے میرے ذکراور مجھے دعا مانگنے سے باز رکھا تو میں اپنے شخص کو ما نگنے والون سے بہتر دولن گا - ( لیعن جس شخص دومسر اذکار و اور اذکرو کو چھوڑ کر صرف قرآن مجید کو اپنا وظیفہ بنائے تو اللہ تعالی اپنے شخص کو مرادی اصحاب ! اورادو اذکار سے بلا کر بر لا تمیں کیونکہ پیالله کے کلام کے ساتھ مشغول ہے جوسارے اذکارو اوراد سے فضل ہے چہے : " کلام الملوك ملوك الكلام " اور اللہ کے کلام کی فضیلت دومسر کلامون پرامی ہے جس اللہعزوجلل کی بزرگی اس کی تمام مخلوق پر

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت بہ وہ فرماتے پین کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے پین کر جس شخص کو قرآن کی تلاوت اور اس کے معانی میں تدبر اور اس کے احکام عمل کی مشغولیت ) نے میرے ذکراور مجھے دعا مانگنے سے باز رکھا تو میں اپنے شخص کو ما نگنے والون سے بہتر دولن گا - ( لیعن جس شخص دومسر اذکار و اور اذکرو کو چھوڑ کر صرف قرآن مجید کو اپنا وظیفہ بنائے تو اللہ تعالی اپنے شخص کو مرادی اصحاب ! اورادو اذکار سے بلا کر بر لا تمیں کیونکہ پیاللہ کے کلام کے ساتھ مشغول ہے جوسارے اذکارو اوراد سے فضل ہے چہے : " کلام الملوك ملوك الكلام " اور اللہ کے کلام کی فضیلت دومسر کلامون پرامی ہے جس اللہعزوجلل کی بزرگی اس کی تمام مخلوق پر

اس کی روایت 'ترنڈی'اور'داری' نے کی ہے اور 'بیعت' نے 'شعب الامان' میں اس

کی روایت کی ہے۔

تلاوت قرآن کے بھرحرف پرايک نکی ملتی ہے

Ibn Mas’ud (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever recites a letter from the Book of Allah will receive one good deed, and each good deed is multiplied tenfold. I do not say that ‘Alif Lam Mim’ is one letter; rather, Alif is a letter, Lam is a letter, and Mim is a letter." [Narrated by Tirmidhi and al-Darimi]

Tirmidhi said: "This is a Hasan Sahih Gharib Hadith in its chain."

3050

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنه سے روايت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے تھے جو شخص اہلِ کتاب لینے قرآن کا ایک حرف بھی پڑھا تو اس کے لئے بھرحروف کے بدلا ایک نکی کسی جائے گی اور بھرتی کا بلدم ازکم دس گنا ملتا ہے ( زیادہ کی کونی حدثیں ) میں نہیں کہتا کہ اَلْم ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف ہے لام ایک حرف ہے میم ایک حرف ہے ( اس طرح الْم پڑھنے سے کم ازکم تیس نکیاں ملتی ہیں )۔

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے تھے جو شخص اہلِ کتاب لینے قرآن کا ایک حرف بھی پڑھا تو اس کے لئے بھرحروف کے بدلا ایک نکی کسی جائے گی اور بھرتی کا بلدم ازکم دس گنا ملتا ہے ( زیادہ کی کونی حدثیں ) میں نہیں کہتا کہ اَلْم ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف ہے لام ایک حرف ہے میم ایک حرف ہے ( اس طرح الْم پڑھنے سے کم ازکم تیس نکیاں ملتی ہیں )۔

اس حدیث کی روایت ترنڈی اور داری نے کی ہے۔

This hadith has been narrated by Tarnadi and Dari.

قرآن کے بعض صفات اور اس کے فضائل
3051

حضرت حارث اعور رحمه اللہ سے جومشهور تابعی ہیں وہ فرماتے ہیں کہ میں ایک رفع کوفی ایک مسجد میں گیا تو کیا دیکھا ہوں کر لوگ ( تلاوت قرآن کی جاجا کے ) بے فاندہ باٹول ( غیر ضروری مباحثوں ) میں مشغول ہیں - پرد کیا کر میں امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا - اور آپ کواس کی اطلاع دی - ( پسن کر ) آپ پنے فرمایا : کیا لوگ ( قرآن کی تلاوت کو چھوڑ کر مسجد میں ) ایک خرافات میں مشغول ہوگئے ہیں ؟ میں نے عرض کیا : یہاں ( یا امیر المومنین ) پھر حضرت علی نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیارشاد فرماتے سناب کہخبردار ہوجاؤ ! کہ عق قریب ایک فتنہ برپا ہو نے والاحے - پیس کر میں نے عرض کیا : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ! اس فتنے سے محفوظ رہنے کی کیا صورت ہے ؟ تو حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا

کہ اللہ کی کتاب لیتنی قرآن کے احکام پر عمل کرنا (یعنی اس فتنے سے محفوظ رہنا ہے) اس میں تم سے پہلے (کی امتون) کے تذکرے میں اور تمہارے بعد (قیامت کے بعث آنے والے واقعات) کا بیان ہے اور تمہارے مسائل (حلال و حرام وغیرہ) کا ذکر ہے اور وہ لیتنی قرآن ہے (حق و باطل کے درمیان) فیصلہ کرنے والا ہے اور اس میں کوئی باطلاشاستہ نہیں۔ جس سرش نے اسے چھوڑا اللہ تعالیٰ اس کو بلاکر دے گا۔ اور جس نے پڑائیت کو قرآن کے سوا (ان کتابول اور علوم میں) تلاش کیا (جو کتاب اللہ سے ماخوذ نہیں) تو اللہ تعالیٰ اس کو (پڑائیت کے راستے) گمراہ کردیتا ہے اور قرآن کی اللہ تعالیٰ کی مظبوطری ہے اور قرآن کی حکمت سے بھری ہوتی نصیحت ہے اور قرآن کی سیدہاراستہ اور قرآن کی ایک کتاب ہے جس کی اتباع کرنے والے کو خوابشات نفس گمراہ نہیں کر سکتیں اور قرآن ایسا کلام ہے جس میں کوئی دوسرا کلام مخلوط نہیں ہوسکتا۔ (اس لے کر اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کا وعدہ فرما یہ) اور علماء اس سے سیر نہیں ہوتے اور باربار دوہرانے کے باوجود یہ پرانا نہیں ہوتا (لیکن اس کی تلاوت کی لذت اور شیرینی کم نہیں ہوتی بلکہ بر وقت اس کی لذت برہم ہی جاتی ہے) اور اس کے جواب و غارت کھتم نہیں ہوتے۔ بالپرو، یہ کلام ہے جس کو سنت ہے (ایک لمحہ کی توقف کے بغیر اجنبے نہیں پیکر) انا سمعنا قرآن عجبا۔ یہدی الی الرشد فامنا بے “(سورۃ حجر، آیت نمبر: 1/2) امام نے قرآن کو سنایا جوعیب و غریب کلام ہے اور جو پڑائیت کاراستہ کہا تاہے تو امام اس پر ایمان لاے جس نے قرآن کے مطابق؟ چچ کہا اور جس نے اس پر عمل کیا اجر پایا اور جس نے اس کے مطابق فیصلہ کیا انصاف کیا جس نے (لوگوں کو) قرآن کی طرف بلا یا اس کو سیدہ راہ کی پڑائیت میں اس کی روایت ترنزی اور داری نے کی ہے۔ احادیث نبوی کا منکر قرآن کا منکر ہے ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے جس نے قرآن کے سوا کسی اور چیز میں پڑائیت تلاش

اس ارشاد سے بظاہر یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ قرآن میں کافی ہے۔ اس بارے میں صاحب مرقات نے لکھا ہے کہ تیرہ ابوساق کا زروں رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ گمرہ افریقہ جیسے خوارج، قدربی، جبری وغیرہ سنہ کی طرح قدری قرآن میں استدلال کرتے ہیں؟ اس پر علامہ کازرونی نے قرآن کی آیت پڑھی: "یُضلُّہُ کثیرًا وَیَهدی بہ کثیرًا"۔ (سورۃ بقرہ، آیت نمبر:26)

(اللہ تعالیٰ قرآن میں اکثر کو گمرہ کرتے ہیں اور قرآن میں اکثر کو ہدایت دیتے ہیں)

اور علامہ محمدوح نے پیغمبر میا کے گمرہ فریق کال طور پر قرآن سے استدلال نہیں کرتے کیونکہ انہوں نے ان حدیثوں کو چھوڑ دیا جو حقیقت میں مقاصد قرآن کی تفسیریں ہیں حالاکہ اللہ نے ارشاد فرمایا ہے کہ "وَمَا اتَّبَعُکُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ، وَمَا نَهَیکُمْ عَنْهُ فَانتَہُوا" (سورۃ حشر، آیت نمبر:7)

(رسول جو کچھ تم کو دی تم اس کو لے لو اور جس چیز سے وہ تم کو باز رکھی تم اس سے باز رہو تو ان فرقوں نے قرآن کی معرفت کا حق ادا نہیں کیا؟ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات نہ مانی جو قرآن کی معرفت میں کامل نہیں جس کے نتیجے میں انہوں نے احادیث کا انکار کیا۔ چنانچہ امام الصوفی حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ قرآن حفظ نہ کرے اور حدیث نہوی نہ کہے تو وہ اتباع کے لائق نہیں ہے اور جو تمام رے طریقہ جتنی تصوف میں بھیگر علم کے داخل ہوا اور اپنی جہالت پر اثر باٹو وہ شیطان کے پاتھوں میں کھلونا بن جائے گا کیونکہ ہمارا طریقہ کتاب اور سنہ کے ساتھ مقید ہے۔

مرقات کی عبارت یہاں ختم ہوئی۔

قرآن کے ساتھ احادیث نبوی مسائل کے استنباط اور استدلال کے لئے جرت اور ماخذ قرآن دین کے لئے مدد ثین کرام نے اپنی اپنی کتابوں میں متعدد حدیثیں روایت کی ہیں جن میں سے پہلا بطور مثال کے ابوداود کی ایک حدیث بیان کی جاتی ہے۔ جس کو حضرت عباد بن ساری رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرماتے کہ ہے اور فرماتے کیا تم میں کوئی شخص اپنے تحت پرتیک لگا ہے ہوئے پر خیال کرتا ہے کہ

اللہ تعالیٰ نے جو چیز حرام کی ہے وہ تو صرف قرآن میں موجود ہے (اب حدیث کی کیا ضرورت

ہے ) سن رکھو خدا کی فتنہ میں نے جن جن چیزون (کے کر نے کا) کا حکم دیا ہے اور نہیں کی ہے اور جن

چیزون سے منع کیا ہے (یعنی میری احادیث) وہ بھی (اپنی نومیت میں) قرآن کی طرح ہیں بلکہ

(بعض صورتوں میں جہاں قرآن مجمل ہو یا ساکت ہو قرآن سے زیادہ اتمیت رکھتی ہیں - الی

آخرالحدیث - اس سے ثابت ہوا کر احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے اعراض کر نے والامنکر اور کافر

ہے اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو انکار حدیث کے فتنہ سے محفوظ رکے آمین -

That the Book of Allah, if you act upon the commands of the Quran (i.e., remain safe from this trial), it contains the reminders of those who came before you (previous nations) and the events that will occur after you (after your death) and the mention of your issues (what is lawful and unlawful, etc.), and it is the Quran that decides between truth and falsehood, and there is no crookedness in it. Whoever leaves it, Allah will punish him. And whoever seeks knowledge other than the Quran (in books and sciences that are not derived from Allah), Allah will misguide him through that knowledge, and the Quran is the strong rope of Allah, and it is filled with wisdom and guidance, and it is a straight path, and it is a book whose followers will not be misguided by their whims. And the Quran is such speech that no other speech can be mixed with it. (For this reason, Allah has promised to protect it) and the scholars do not tire of it, and despite repeated recitation, it does not become old (but the pleasure and sweetness of its recitation only increase over time) and its benefits and rewards are endless. Indeed, it is a speech that, when heard, one cannot turn away from it without a moment's pause: 'We have heard a wondrous Quran. It guides to the right path, so we have believed in it.' (Surah Al-Hijr, Verse 1-2) The Imam recited the Quran, saying it is a strange and wondrous speech, and those who are skilled in knowledge are those who believe in what the Quran says, and those who act upon it receive reward, and those who make decisions according to it do justice, and those who call people to the Quran or preserve it in the straight path of knowledge have done well. The denier of the Prophetic hadiths is the denier of the Quran.

This noble hadith provides guidance that whoever seeks knowledge in anything other than the Quran. From this guidance, it also becomes apparent that the Quran is sufficient. Regarding this, the author of Mirqat has written that someone asked Thirteenth Abu Saq, may Allah have mercy upon him, whether the Kharijites like the Qadariyya, Jabriyya, and others argue from the Quran as they do with the Quran? In response, Imam Kazrani recited the verse from the Quran: 'He misguides many thereby and guides many thereby.' (Surah Al-Baqarah, Verse 26) (Allah, the Exalted, misguides many through the Quran and guides many through the Quran.) And Imam Muhammad Wahb stated that the deviant sects do not generally argue from the Quran because they have abandoned the hadiths which are, in fact, the interpretations of the objectives of the Quran, although Allah has commanded: 'And whatever the Messenger gives you, take it, and whatever he forbids you, abstain from it.' (Surah Al-Hujurat, Verse 7) (The Messenger gives you what you should take, and forbids you from what you should abstain; so these sects have not fulfilled the right of the Quran and have not accepted the words of the Prophet ﷺ, who is essential for a complete understanding of the Quran. As a result, they have rejected the hadiths. Therefore, Imam As-Sufi, Hazrat Junaid al-Baghdadi, may Allah have mercy upon him, said that one who does not memorize the Quran or narrate hadiths is not worthy of following, and whoever delves into any path of Sufism without acquiring knowledge and remains in ignorance will become a plaything in the hands of Satan, for our path is bound by the Book and the Sunnah. The statement from Mirqat ends here. Alongside the Quran, the hadiths of the Prophet ﷺ provide the basis and sources for deriving and arguing about issues in Islam. The noble Companions have narrated numerous hadiths in their respective books to support this. As an example, a hadith from Abu Dawud is mentioned, narrated by Hazrat Ubayd bin Sari, may Allah be pleased with him, who said that once the Prophet ﷺ was delivering a sermon and said, 'Is there anyone among you who has a stone tied around his neck and still thinks about it?' Listen, Allah has made certain things unlawful, and they are only found in the Quran (so what need is there for hadiths?). Know that whatever commands and prohibitions I have given (i.e., my hadiths) are also like the Quran, and in some cases where the Quran is general or silent, they are even more specific. This proves that those who reject and deny the hadiths of the Prophet ﷺ are disbelievers. May Allah protect the Muslim ummah from the trials of rejecting the hadiths. Ameen.'

حافظ قرآن کی فضیلت
3052

معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیہ

وسلم نے جوارشاد فرمایا ہے کہ جو شخص قرآن پڑھے اور اس کے احکام عمل کرے تو قیامت کے

روز اس کے مال باب کو تانج پہنایا جائے گا جس کی روشی آ فتاب کی روشی سے بہتر ہوگی جب کہ

پفرض کر لیا جائے کہ آ فتاب تمہارے گھرون میں روش ہو پھر بھی تم سے ہی لوکر جب مال باب کا پی

مرتبہ ہوگا) تو اس شخص کا کیامرتہ ہوگا جس نے قرآن پڑھ کیا -

اس کی روايت امام احمد اور ابوداود نے کی ہے -

ف : اس حدیث شریف میں ارشاد ہے "من قرأ القرآن" جو قرآن پڑھے اس بارے میں

صاحب مرقات نے ابن جبر کے حوالے سے لکھا ہے کہ یہال قرأ القرآن سے مراد حفظ قرآن سے اس

سے حافظ قرآن کی فضیلت معلوم ہوتی ہے -

حال قرآن کودوزخ کی آگ سے نہیں جلا سکتی

Mu’adh al-Juhani (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever recites the Qur’an and acts upon it, his parents will be crowned on the Day of Judgment with a light brighter than the sun in this world’s houses. If it were among you, what would you think of the one who acts upon this?" [Narrated by Ahmad and Abu Dawud]

3053

عقیہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول

اللہ صلی علیہ وسلم کو ارشاد فرما تے ہوئے سنا ہے کہ اگر قرآن کو چھٹے کے اندر بند کیا جائے اور آگ

میں ڈالا جائے تو نہیں جلتا چھٹے سے مراد جسم انسانی ہے اور آگ کے سے مراد دوزخ کی آگ

مرقات اوراشتع اللمعات میں نذورہ ) اس حدیث کی روایت داری نے کی ہے۔

حافظ قرآن کی شفاعت قبول ہوگی

Uqbah ibn Amir (may Allah be pleased with him) narrated: "I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘If the Qur’an were placed in a leather cover and thrown into the fire, it would not burn.’" [Narrated by al-Darimi]

3054

امیر المومنین حضرت علیؓ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ

علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جس نے قرآن پڑھااوراس کوحفظ کرلیاوراس کے حلال کوحلال

سمجھااوراس کے حرام کوحرام سمجھااوراس کے مطابق عمل کرتا رہتا تو اللہ تعالیٰ اس کو (اول وبلہ میں)

جنت میں داخل کریں گےاوراس کے گھر کے ایک دس آدمیوں کے بارے میں اس کی شفاعت قبول

فرما کیں گے جن پر فق وفجور کی وجہ سے دوزخ واجب ہوگی۔

اس کی روایت امام احمداورترمزدی ابن ماجاورداری نے کی ہے۔

قرآن کے اواروواصی کی تفسیر کا حکم

Ali (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever recites the Qur’an, memorizes it, permits what it permits, and forbids what it forbids, Allah will admit him to Paradise by it and grant him intercession for ten of his family members, all of whom were destined for the Fire." [Narrated by Ahmad, Tirmidhi, Ibn Majah, and al-Darimi]

3055

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ

علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ (اس کے علم کے امت) قرآن کے معانی (اس کے مطالب اس کے

الفاظ کی ندرت اوراس کے اعراب کی توجیہات) کوپیان کیا کرواوراس کے غرابت کی اتباع کرواور

قرآن کے غرابت (اس کے فراض اورحدود ہیں) فراض سے مراد قرآن کے اواروہیں جس کے

کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اورحدود سے مراد نواہی ہیں جس کی ممانعت کی گئی ہے۔ اس حدیث کی

روایت تبرع نے شعب الایمان میں کی ہے۔

نماز میں قرآن کا پڑھنا فضل تزیین عبادت ہے

It is narrated from Abu Hurairah (RA) that he said: The Messenger of Allah ﷺ said:

The knowledge of the Quran includes understanding its meanings, its concise words, and the reasons behind its expressions. Act upon its commands and prohibitions. The commands of the Quran are what it orders you to do, and the prohibitions are what it forbids you from doing. This hadith has been narrated by Tibr in Shu'ab al-Iman. Reciting the Quran in prayer is a virtue and an adornment of worship.

3056

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ نبی

کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ قرآن کا نماز میں پڑھنا غیر نماز میں قرآن پڑھنے سے

ساوہ تلاوت کرنے سے افضل ہے لیکن زیادہ ثواب رکھتا ہے اور غیر نماز میں قرآن پڑھنا تشبیح

(سبحان اللہ کہنا) اور تکبیر (اللہ اکبر کہنا) سے بہتر ہے اور اللہ تعالیٰ کی تشیح بیان کرنے صدقے سے بہتر ہے

اس لئے کہ عبادت متعدی جس کافاندہ غیر کو پہوچے اس عبادت سے افضل ہے جس کافاندہ صرف

کرنے والے کو پہوچے۔ اور نماز کرنے نفل روزہ رکنے سے بہتر ہے۔ اور روزہ دوزخ کی آگ

کے لئے پردہ حال ہے۔ اس کی روایت تشبیح نے شعب الایمان میں کی ہے۔

قرآن کو کیا کر پڑھنا بغیر دیکھے پڑھنے سے افضل ہے

Aisha (may Allah be pleased with her) narrated that the Prophet (ﷺ) said: "Reciting the Qur’an in prayer is better than reciting it outside of prayer, reciting it outside of prayer is better than glorifying (tasbeeh) and declaring Allah’s greatness (takbeer), glorification is better than charity, charity is better than fasting, and fasting is a shield from the Fire." [Narrated by al-Bayhaqi in Shu’ab al-Iman]

3057

عمران بن عبد اللہ بن اول ثقفی اپنے دادا حضرت اول سے روایت کرتے ہیں

کہ ان کے دادا فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ آدمی کا قرآن کودیکہ

بغیر (اپنی یاد سے حفظ تے) پڑھنا بزار درجہ ثواب رکھتا ہے اور قرآن کو کیا کر پڑھنے کا ثواب (زباني

پڑھنے کے ثواب سے) بڑھا کر دو بزار درجہ تک ویجا تا ہے۔

اس کی روایت تشبیح نے کی ہے۔

ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ قرآن کو کیا کر پڑھنے کا ثواب پڑھنے قرآن کو

سے زیادہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کو کیا کہیں کہیں عبادت سے اور قرآن کو کیا کر پڑھنے میں قرآن کو

اٹھاتے ہیں اور اس کوس کرتے ہیں اور اس کے معنی میں تفکر کرتے ہیں اور جوہے سے قرآن کو کیا کر

پڑھنے کا ثواب بڑھادیا جاتا ہے۔ چنانچہ اکثر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم قرآن کو کیا کر پڑھتے تھے اور

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں مرودی ہے کہ آپ کے کبڑے تے دیکر قرآن پڑھنے سے دو

قرآن مجید کے اوراق شکستہ ہوئے ہیں۔ (مرقات اوراشعة اللمعات)

تلاوت قرآن دلون کے زنگ کودور کرتی ہے

Uthman ibn Abdullah ibn Aws al-Thaqafi narrated from his grandfather that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "A man’s recitation of the Qur’an without looking at the Mus’haf is worth a thousand degrees, and his recitation while looking at the Mus’haf is doubled to two thousand degrees." [Narrated by al-Bayhaqi in Shu’ab al-Iman]

3058

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ

وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ دل یقیناً زنگ آلوہوجاتے ہیں جس طرح لوپاپنی کے اثر سے زنگ

آ لودہوجاتاہے عرض کیاگیا: یارسول اللہ ان کو (لعنہ اللہ کو) روش کرنے والی چیز کیاہے تو ارشاد فرمایا: موت کو بڑرت پا کر نااورقرآن کی تلاوت، (اس سے دل روش ہوتے ہیں)۔ اس کی روایت جہاں سے شعب الایمان میں کی ہے۔

Ibn Umar (may Allah be pleased with them both) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "These hearts rust just as iron rusts when water touches it." It was asked, "O Messenger of Allah, what is their polish?" He said: "Frequent remembrance of death and recitation of the Qur’an." [Narrated by al-Bayhaqi in Shu’ab al-Iman]

سورۃ فاتحہ کی فضیلت
3059

البسعید بن امعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں مسجد نبوی میں نماز پڑھنے باٹھا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (مجھ آواز دے کر) بلاپین نے جواب دینے دیاس لے کر میں نماز میں مشغول تھا، جب نماز فارغ ہو تو پھر حضرت کی خدمت میں حاضر ہوااور (بطور عذر کے) عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دے سکاپین کر حضور میں ارشاد فرما یا کہ: کیا اللہ تعالیٰ نے یہ کہہ دیاہے "استجیبوا للہ و لرسول اذادعاکم" (سورۃ انفال، آیت نمبر: 23) تم اللہ اوراس کے رسول کے کہنے کو جلالیا کرو (اس سے ثابت ہوتاہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خصوصیات میں شامل ہے کہ آپ کے بلوے پرحالت نماز میں بھی نمازی آپ کے حکم کی تقلید کرے۔ (طحاوی) جب کہ رسول تمصیل بلا کیسے پھرآپ پینے مجھے فرما یا کہ کیا میں تم کو قرآن کی سب سے بڑھ کر عظمت والی سورت نے سکھاوال (قبل اس کے کہ تم مسجد میں باہر جاؤ) میں کر حضور میں میرا باٹھا پکڑ لیا (پگھدیر بعد) جب تم مسجد میں نکل کا ارادہ کے تو میں نے عرض کیا: یارسول اللہ آپ پینے فرما یا کہ تم کو قرآن کی سب سے بڑھ کر عظمت والی سورت سکھاوال گا تو آپ پینے فرما یا (بال) وہ سورۃ الحمد للہ رب العالمین (یعنی سورۃ فاتحہ) اس میں سات آیتیں ہیں جو نماز میں باربار پڑھی جاتی ہیں اور یہی قرآن ہیمہ۔ جو مجھے عطا کیا گیاہے۔ اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔

للہ رب العالمین ” سے فرمائی ہے اور “بسم اللہ الرحم الرحیم” سے سورۃ فاتحہ کی ابتدا ہوئی۔

کی جہاں سے ثابت ہوتا ہے کہ “بسم اللہ الرحمن الرحیم” سورۃ فاتحہ کا جزء عینی ہے بلکہ ایک

مستقل آیت ہے۔

(ف2): اس حدیث ثریف میں ارشاد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورۃ فاتحہ کو

اعظم سورة من القرآن : قرآن شريف کی سب سے عظمت والی سورۃ ارشاد فرمایا ہے ) اس بارے

میں صحاب مرقات لے کر اس کے حقائق کے ذریعے کی اس سورۃ میں جو جامعیت ہے وہ کیا اور سورۃ

میں نہیں ہے؟ چنانچہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء سے اس کی ابتدا کی گئی ہے پھر الرحمن الرحیم میں صالحین کے

لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت کامل کے وعدے کی طرف اشارہ ہے اس کے بعد “مالك يوم الدين” میں

نافرمان بندرول کے لیے آخرت میں سزااور ان کے لیے وعید کا ذکر ہے پھر عبادات و استعانات کا اللہ

تعالیٰ کے لیے مخصوص ہونے کا بیان ہے اس کے بعد بندرول کے لیے سوال کرنے کا طریقہ بتایا

گیا ہے۔ ان کا محترم سوال بدایت کی طلب سے اور ان لوگوں کے راستے کی طلب سے جس پرانعام

ہو جسے انبیاء صدیقین، شهداء اورصالحین اور آخری میں گمرہ اہول اور مغضوبین کے راستے اور پیروی سے

نجات کی طلب کا بھی بیان ہے اس طرح سے سورۃ فاتحہ میں سارے سالکین کے سارے معاملات اور

منازل کا ذکر ہے۔ اور حدیث ثریف میں اس سورۃ کو قرآن عظیم، جوفرمايگياہےاسکی وجہ یہ

کہ جومطالب پورے قرآن میں مختلف مذکور بیان کا بیان سورۃ فاتحہ میں جملہ موجود ہے۔

سورۃ فاتحہ جسے عظمت والی سورۃ حضور کے سوا نہ تو کسی کودی گئی

اور نہ کسی آسانی صیفہ میں نازل ہوئی

Abu Sa’id ibn al-Mu’alla (may Allah be pleased with him) narrated: "I was praying in the mosque when the Messenger of Allah (ﷺ) called me, but I did not respond. Later, I came to him and said, ‘O Messenger of Allah, I was praying.’ He said: ‘Did Allah not say: "Respond to Allah and the Messenger when he calls you" (Al-Anfal: 24)? Then he said: ‘Shall I not teach you the greatest Surah in the Qur’an before you leave the mosque?’ He took my hand, and when we were about to leave, I said, ‘O Messenger of Allah, you said you would teach me the greatest Surah in the Qur’an.’ He said: "Alhamdulillahi Rabbil-‘Alamin (Surah Al-Fatihah), it is the Seven Oft-Repeated Verses and the Great Qur’an which I have been given."" [Narrated by Bukhari]

(1) The statement: "Respond to Allah and the Messenger..." Al-Hafiz said in Al-Fath: "The scholars ‘Abdul Wahhab and Abu al-Walid from the Malikis held that responding to the Prophet (ﷺ) during prayer is obligatory, and neglecting it is sinful, a ruling specific to the Prophet (ﷺ). The Shafi’is also hold this view, though they differ on whether the prayer becomes invalid or not."

I say: As for the Hanafis, al-Tahtawi said in Hashiyat Maraqi al-Falah: "It is obligatory for the one praying to respond to the Prophet (ﷺ), and there is no disagreement that the prayer becomes invalid if he does not, as mentioned by Badr in his Tafsir of Surah Al-Anfal."

(2) The statement: "Alhamdulillahi Rabbil-‘Alamin" indicates that the Basmalah is not part of Surah Al-Fatihah, otherwise he would have said, "Bismillahir-Rahmanir-Rahim, Alhamdulillahi Rabbil-‘Alamin."

In this noble hadith, it is indicated that the Messenger of Allah ﷺ referred to Surah Al-Fatiha as 'the greatest surah of the Quran: the most exalted chapter of the Noble Quran.' Regarding this, the Companions have elucidated its profundities and comprehensiveness. What is found in this surah that is not found in others? It begins with the praise and glorification of Allah Almighty, then in 'Ar-Rahman Ar-Raheem' there is an indication towards the complete mercy of Allah for the righteous. Following this, 'Malik Yawm ad-Deen' mentions the punishment and warning for the disobedient in the Hereafter. Then, it states that worship and seeking assistance are exclusively for Allah. After that, the method of asking for guidance for the servants is explained. This respected request includes the seeking of the right path and the path of those whom Allah has favored, namely the Prophets, the truthful, the martyrs, and the righteous, and finally, the avoidance of the path of those who have incurred Allah’s wrath and those who have gone astray. Thus, Surah Al-Fatiha encompasses all the matters and stations of all seekers. The noble hadith refers to this surah as the 'Great Quran' and 'the treasure of the Quran' because all the themes found throughout the entire Quran are summarized in Surah Al-Fatiha. This surah, which is called the exalted surah, was neither recited by anyone before the Prophet ﷺ nor was it revealed in any other easy language.

(1)

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورۃ فاتحہ ابتداء الحمد

3060

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیہ

وسلم نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے دریافت فرما کہ تم نماز میں (قرآن) کس طرح پڑھتے ہو؟ تو

انہوں نے ام القرآن نیں سورۃ فاتحہ پڑھ کر سنایا تو پیش کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد

فرما کہ تم ہے ذات باری تعالی کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کر اس سورۃ کے مثل نہ تو کوئی

سورت نازل ہوئی اور نماز میں نقوز بور میں اور نقرآن (کے بقیہ حضر) میں اور لعمی سورۃ فاتحہ سات آیتیں ہیں جونماز میں باربار پڑھی جاتی ہیں تو اور لعمی سورۃ فاتحہ قرآن عظیم ہے۔ جو مجھے عطا کیا گیا۔ اس کی روایت ترنژی نے کی ہے۔

Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) asked Ubayy ibn Ka’b, "How do you recite in prayer?" He recited Umm al-Qur’an (Al-Fatihah). The Messenger of Allah (ﷺ) said: "By the One in Whose Hand is my soul, nothing like it has been revealed in the Torah, the Gospel, the Zabur, or the Qur’an. It is the Seven Oft-Repeated Verses and the Great Qur’an which I have been given." [Narrated by Tirmidhi]

Al-Darimi narrated it as a statement of the Prophet (ﷺ) without mentioning Ubayy ibn Ka’b. Tirmidhi said: "This Hadith is Hasan Sahih."

3061

سورہ فاتحہ برپماری کے لیے شفاء ہے

Abd al-Malik ibn Umayr reported in a mursal narration that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "In the Opening of the Book (Al-Fatihah) is a cure for every disease." [Narrated by al-Darimi and al-Bayhaqi in Shu’ab al-Iman]

3062

عبدالملك بن عمر رضی اللہ عنہ روایت ہے (جو مشہور تاجی اوکوف کے قاضی تمرسل روایت ہے) کروہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فاتحہ الكتاب لعمی سورۃ فاتحہ کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے کہ سورۃ فاتحہ (کے پڑھنے کے بارے میں کہا کہ اور کہا کر پین) میں برپماری کے لیے شفا ہے۔ اس کی روایت داری نے کی ہے اور تہیقت نے مجھی اس کی روایت شعب الایمان میں کی ہے۔ ایک صحابی کے ملاوت قرآن کی ملاوت کے وقت فرض انرتے ہوئے نظرآ کے

Abd al-Malik ibn Umayr reported in a mursal narration that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "In the Opening of the Book (Al-Fatihah) is a cure for every disease." [Narrated by al-Darimi and al-Bayhaqi in Shu’ab al-Iman]

3063

ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت ہے کہ اسيد بن خضیر رضی اللہ عنہ ان سے بیان سے کیا کر ایک رفع وہ رات میں سورۃ بقرہ تلاوت کر رہے تھے کہ اچا کہ ان کا گھوڑا جوان سے تریب، یہ بندها ہوا تھا اچحلن اور کودنے لگتو حضرت أسيد نے قرآن پڑهناروک دیا تو گھوڑا کچھ خاموش ہوگیا جب انہول نے پھر تلاوت شروع کی تو گھوڑا پھرا چلنے بد کہ لگا یردیک کرانہول نے تلاوت روک دی تو ادھر گھوڑا کچھ خاموش کہرا ہوگیا حضرت اسيد تیری بار پھر قرآن پڑهنے لگ تو گھوڑا پھر بد کنا شروع کیا۔ یہ دیکھ کر حضرت أسيد اس خوف سے خاموش ہوگے۔ ان کا پرچمی گھوڑے سے تریب، یہ سورہ تھا کہیں گھوڑا اس کوزنی نکردے جب حضرت أسيد نے اپنے پیکو سلادیا تو اپنا سرآمان کی طرف اٹھایا تو کیا دیکھے ہیں کہ ابر کی ماں زکوئی

چیز سائین بھ جس میں چراغون کی طرح پڑھ چیزی روشن ہیں جب محبوگ تو حضرت اسید نے

حضر صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوگر (پرواقع) عرض کیا تو رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ

وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ابن حضیر کاش تم پڑھتے ہی رہے۔ اب ابن حضیر کاش تم قرآن پڑھتے، ہی

رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کر حضرت اسید نے عرض کیا: یا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم! میں ذرگیا تھا کر تلاوت کو جاری رکھنے کی

صورت میں کمیں گھوڑا میں لے پچھی کونہ روندؤا لے جواس سے قریب، میسور باتحا پس میں قرآن

کی تلاوت کو رک کر پچھے کے پاس گیااورآ سمان کی طرف اپناسرا ظحايا تو کیا دیجتا ہوئے کوئی چیزا برکی

طرحد سائین بھ جس میں چراغون کے ما نڈ پڑھ چیزی روشن ہیں۔ پچھر میں باہر نکلاتو دیجا کر پڑھ

جبی نے حضرت نے ان سے پوچھا کہ تم جانتے ہو کہ وہ کیا تھا میں نے عرض کیا۔ جبیس یا رسول اللّٰہ صلی

اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم! تو حضرت نے فرمایا سنووہ فرشتے تے (جو لطیف اور نورانی اجسم کی شکل میں) تمحاری

قرأت سن کے لے آئے تو اگرتا پی قرأت جاری رکھتو صح لوگ فرشتون کو اس طرح دیکھ

لیتے تو وہ لیجنی فرشتے ان سے پوشنده نربتے لیجنی لوگ فرشتون کو بر ملادیہ لیتے)۔

اس کی روایت متقد طور پر بخاری اور مسلم نے کی ہے۔

جب گھر میں سورہ بقرہ پڑھی جاتی ہے اس غربے شیطان نکل جاتا ہے

Abu Sa’id al-Khudri (may Allah be pleased with him) narrated that Usayd ibn Hudayr said: "While he was reciting Surah Al-Baqarah at night with his horse tied beside him, the horse suddenly became agitated. He stopped reciting, and it calmed down. When he resumed, it became restless again. He stopped, and it settled. When he recited again, the horse moved violently, so he stopped. His son Yahya was nearby, and he feared it might harm him. When he moved the child away, he looked up and saw something like a canopy with lamps. In the morning, he told the Prophet (ﷺ), who said: ‘Recite, O Ibn Hudayr! Recite, O Ibn Hudayr!’ He said, ‘O Messenger of Allah, I feared the horse might step on Yahya, so I turned to him and saw a canopy with lamps.’ The Prophet (ﷺ) said: ‘Those were angels drawing near at your recitation. Had you continued, people would have seen them in the morning, clearly visible.’" [Agreed upon, with Bukhari’s wording]

In Muslim’s version: "I ascended into the sky..."

3065

ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ

علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ اپنے گھروں کو مقبروں کی طرح نہ بناؤ۔ لیتنی گھروں میں مردوں کی

طرحد بعمل نہ ربا کرو بلکہ گھروں میں تلاوت قرآن، نفل عبادات اور اذکار و غیرہ کیا کرو کیوںکہ شیطان

اس غربے نکل جاتا ہے۔ جب میں سورہ بقرہ پڑھی جاتی ہے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔

آپ کے کری کی فضلیت

Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Do not turn your houses into graveyards. Indeed, Satan flees from the house in which Surah Al-Baqarah is recited." [Narrated by Muslim]

3066

ابی بن کعب رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰہ صلی

اللہ تعالیٰ وآ لہ وسلم نے مجھے دریافت فرمایا: اے ابوامنذر! یحضرت ابی بن کعب کی کنیت ہے)

تمہارے خیال میں اللہ تعالیٰ کی کتاب جس قرآن کی کون سی آیت سب سے برتر فضیلت والی

ہے؟ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں۔ حضرت نے دوبارہ پوچھ فرمایا: اے

ابوامنذر، اے ابوامنذر! قرآن کی کون سی آیت تمہارے خیال میں افضل ہے؟ اب میں نے عرض

کیا: ’اللہ لاالہ الا ہو الاحی القيوم‘، (یعنی پوری آیۃ الكرسی) حضرت ابی بن کعب کہتے

ہیں کہ پیس کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شفقت سے اپنا سست مبارک میرے سینے پر مارا

اور ارشاد فرما یے: اے ابوامنذر رتم کوتمہارائعلم مبارک ہو۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے-

قرآن کی بعض سورتول اورآ بیت کی فضیلت اورتو جیه

ف : فقاؤی عالمگیری میں لمحہ کہ قرآن کی بعض سورتول کودوسری سورتول پراور بعض آ بیت

کودوسری آ بیت پرفضیلت ہے۔ جس آیۃ الكرسی وغیرہ۔ اورافضل ہو نے کے معنی یہ ہیں کران کے

پڑھنے کا ثواب زیادہ ملتاہے اورآ بیت کے ایک معنی یہ ہیں کہ ایسی سورتیں اورآ بیت اپنے معنی

اورمضامین کے اعتبار سے دل کوزاکرمتقبل کرنے والی ہیں۔ اورفضیلت کا یہی معنوم زیادہ قریں صواب

ہے۔ پیجاہرلا فاطمی میں ذکور ہے۔ اس بارے میں دوسرا قول یہ ہیں کہ یول توپورا قرآن کلام

اللہ کی حثیت سے مساوی مرتبہ کا حامل ہے۔ اس لیاس کے کسی جزو کو کسی جزو پرفضیلت ہرگز نہ دی

جاسکے اوریہی مسلک محترام رمفتي ہے-

آیۃ الكرسی پڑھ کرسونے وا لے کے پاس شیطان نہیں آتاوراس بارے میں

حضرت ابوہریرہ کا ایک واقعہ

Ubayy ibn Ka’b (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "O Abu al-Mundhir, do you know which verse in the Book of Allah is the greatest with you?" He said, "Allah and His Messenger know best." The Prophet (ﷺ) repeated the question, and Ubayy replied: "Allahu la ilaha illa Huwa al-Hayy al-Qayyum (Ayat al-Kursi)." The Prophet (ﷺ) struck his chest and said: "By Allah, may knowledge be pleasant for you, O Abu al-Mundhir!" [Narrated by Muslim]

(1) The statement: "The greatest..." It is mentioned in Al-‘Alamgiriyyah: "Some Surahs and verses are superior, like Ayat al-Kursi, in that their recitation carries greater reward and awakens the heart. However, it is best not to prefer some parts of the Qur’an over others at all, this is the preferred view."

3067

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی

اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے رمضان کی زکات لمعنی صدقہ فطر کے غلم کی حفاظت اورگر انی پرامور فرمایا-

پس میرے پاس ایک شخص آیاور اپنے دونوں ہاتھوں سے غلم میں لگا میں نے اس کو پکڑ لیااوراس

سے کہا: میں ضرور تھے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے جاؤںگا، اس نے کہا: مجھے چحوڑ دو میں

متاح ہول اور صحاب اولاد ہول جن کا نفقہ میرے ذمہ ہے اور میں سخت ضرورتمند ہول - حضرت

ابوہریرہ فرماتے یین کہ بیس کر میں نے اس کو چھوڑ دیا اور جب صح ہول تو (حضرت کی خدمت میں

حاضر ہوا) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے کہہ کہ بخیر خود، میں تم سے دریافت

فرمایا: اے ابوہریرہ! تمہارارات والا قیدی کیا ہوا؟ میں نے کہا یارسول اللہ اس نے اپنی سخت ضرورت

اور عیالداری کی شکایت کی تو مجھ کو اس پرترس آگیا اور میں نے اسے چحوڑ دیا (یعنی کر) رسول

اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یا و رحمواس نے تم سے چحوٹ کہاہے اور کل پھرا آئے گا-

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمانے پر کوہ کل پھرا آئے گا کہ چنا چہ میں اس کی تاک میں ربا-

وہ پھرا آیا اور دونون باہون سے غلمیئے گا میں نے اس کو پکڑ لیا اور کہا: میں تجھ کو ضرورآ نج رسول اللہ

صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر کرول گا اس نے پھر کہا مجھے چحوڑ دو میں بہت متاح ہول اور

پھول کا سارا بوچھ میری گردان پرہے میں اب پھربیں آؤل گا مجھ اس پر پھر رتم آگیا اور میں نے

اس کو چحوڑ دیا اور جب صح ہولی اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو

حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے ابوہریرہ تمہارارات والا قیدی کیا ہوا؟ میں نے

عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس نے اپنی سخت ضرورت کی شکایت کی اور پھول کی

ضرورت کا مجھ اظہار کیا تو مجھ اس پر رتم آگیا اور میں نے اس کو چحوڑ دیا تو حضرت نے فرماياس نے تم

سے چحوٹ کہا وہ پھرا آئے گا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمانے سے کر وہ پھرا آئے گا میں

نے بقین کر لیا کر وہ ضروردوباره آئے گا چنا چہ میں اس کو پکڑ نے کے لے تاک میں ربا وہ پھرا آیا اور

غل سمیئے گا میں اس کو پکڑ لیا اور کہا میں تجھ کو ضرورآ نج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر

کرول گا اور یہ میں دفع میں آخری مرتبہ کرتو نے وعدہ کیا تھا کہ بیں آؤل گا اور پھرا آگیا ہے-

اس نے کہا: مجھے چھوڑ دو میں تم کو چھڑ کے ایسے سکھادیتاہوں جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ فائدہ دے

گا۔ جب تم سونے کے لیے بستر پر جا رتوآئے اکرستو اللہ لااللہ الا ہو ال حی ال قيوم، تاختم

آیتیمن و ہو العلی العظیم۔ تک پڑھیا کرو تو خدا کی طرف سے تمہارا ایک نغمہ بانی بنی ایک

فرشتنے مقرر کیا جاتا ہے گااور اس کی برکت سے صبح تک کوئی شیطان اور جن تمہاری ایزاء رسائی کے

لیے تمہارے قریب نہیں آ سکتا میں نے اسے پھر چھوڑ دیا جب صبح ہوتیاور میں حضور کی خدمت

میں حاضر ہوا تورسول اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے دریافت فرمایا کرتمہارا قیدی کیا ہوا؟ میں

نے عرض کیا: یا رسول اللہ مجھے چند کلمات ایسے سکھادی جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ مجھے فائدہ دین

گے (چناچہ اس نے مجھے سونے وقت پر آئے اکرستو پڑھنے کی فضیلت بتائی) تورسول اللہ علیہ

وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے جوپڑھے تا یہے مجھے تا یہے آئے اکرستو کی وہی خاصیت ہے (اگرچہ کا ور

باتول میں) وہ ججوہاتہے (ابوہریرہ) کیا تم کوخبر ہے کہ تمہیں راتول سے تم کس سے مخاطب ہے؟ میں

نے عرض کیا: یا رسول اللہ میں نہیں جانتا کہ وہ کون تھا حضور نے فرمایا کہ وہ شیطان تھا (جو

صدقات میں نقص پیدا کرنے اور نہیر کے کام میں میں خلل دالے کے لیے آیا کرتا ہے)

اس حدیث کی روایت بخاری نے کی ہے۔

سورہ فاتحہ اورآمن الرسول و انور میں جو قیامت میں جنت کی رہبری کریں

Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) entrusted me with guarding the Ramadan charity. A man came and began taking handfuls of food, so I seized him and said, ‘I will take you to the Messenger of Allah!’ He said, ‘I am needy, with a family in severe hardship.’ I released him. The next morning, the Prophet (ﷺ) asked, ‘What did your prisoner do last night?’ I explained, and he said, ‘He lied to you and will return.’ Knowing he would return as the Prophet (ﷺ) predicted, I caught him again. He pleaded, ‘Release me, I will not return,’ but I seized him a third time. He said, ‘Let me teach you words that will benefit you: Recite Ayat al-Kursi before sleeping, and you will have a protector from Allah, and no Satan will come near you till morning.’ I released him. The Prophet (ﷺ) said, ‘He told you the truth though he is a liar. Do you know whom you were speaking to for three nights? That was a Satan.’" [Narrated by Bukhari]

This hadith has been narrated by Bukhari. The Surah Fatiha and Aamin of the Messenger and the enlightened ones who will lead to Paradise in the Hereafter.

3068

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (ایک دفعہ)

حضرت جبریل علیہ السلام حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ

یا کی حضرت جبریل نے اوپر کی جانب سے ایک سخت آواز سے قوانہوں نے آسمان کی طرف اپنے

سر کو اٹھا یا اور کہا: یا آواز آسمان کے ایک دروازہ کے کہان کی طرف اورآسمان کاپیر دروازہ آنجا سے پہلے

کہ جی نہیں کہو لگیا تھا اور اس دروازہ سے ایک فرشتہ اتر آتو حضرت جبریل علیہ نے فرمایا: یا فرشتہ جو

ز میں پر اتر اہ آنج سے پہلے جس ز میں پہلی اتراہ اس فرشت نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں آگے سلام عرض کیا اور کہا آپ کو خوشخبری ہو کہ آپ کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے دونوں ر ایس عطا کی گئی پہلی جوآن ج سے پہلے جس نے کو عطا نہیں کی گئی ایک توفاته الكتاب یعنی سورۃ فاتحہ اور دوسرا سورۃ بقرہ کی آخری دوآ یعنی پیل جو آمن الرسول سے شروع ہو کر ختم سورت ہوتی ہے ان میں سے جو حرف آپ پڑھیں گے اس کا ثواب آپ کو دیا جائے گا اور ان میں جود عاہ وہ قبول ہو گی۔ اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔ ف اس حدیث شریف میں سورۃ فاتحہ اور سورۃ بقرہ کی آخری دوآ یعنی کونرین دونوں فرمایا گیا ہے اس بارے میں صحاب مرقات نے کہاہے کہ یہ دونوں آیتین پڑھنے والے لے قیامت کے دن روضہ کی صورت میں آ کر آئیں گے اور جنت کے راستے کی رہبری کریں گے۔

Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) narrated: "While Jibril was sitting with the Prophet (ﷺ), he heard a sound above him. He lifted his head and said, ‘This is a gate of heaven opened today, never opened before. An angel descended and said, "Rejoice in two lights given to you, never given to any prophet before: Al-Fatihah and the closing verses of Surah Al-Baqarah. You will not recite a single letter of them without being granted its reward."’" [Narrated by Muslim]

سورۃ اخلاص لعنی قل ہو اللہ احد کی فضیلت
3069

ایفہ بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک صحابی نے عرض کیا یا رسول اللہ قرآن کی کونی سورت سب سے افضل ہے تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا قل ہو اللہ احد کا سورہ مضامین تو حید کے اعتبار سے سب سے افضل ہے انہوں نے دریافت فرمایا کہ قرآن کی کونی آیت سب میں افضل ہے تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا آیۃ الكرسی اللہ لاالہ الا ہو الحی القيوم سے لے کروہو العلی العظیم تک سب آیتوں میں افضل ہے ان صحاب نے پھر عرض کیا یا نبی اللہ پاپنے لے اور اپنی امت کے لیے کونی آیت فرماتے ہیں کراس کا ثواب اوراس سے نیرو برکات حاصل ہوں تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سورۃ بقرہ کی آخری دوآ یعنی اس لے کر اللہ

تعالی کی رحمت کے خزائن میں سے جو اس کے عرش کے پیچھے اللہ تعالیٰ نے اس کو میری امت کو عطا کیا ہے اور نیا اور آخرت کی کوئی بھلاوٹ اب تک نہیں ہے جو اس میں شامل نہ ہو۔ اس کی روایت داری نے کی ہے۔

سورۃ بقرہ کی آخری دوآ یعنی قرب الہی کا ذریعہ ہے

A man asked the Messenger of Allah (ﷺ), "Which Surah in the Qur’an is the greatest?" He said: "Qul Huwa Allahu Ahad (Surah Al-Ikhlas)." The man asked, "Which verse is the greatest?" He replied: "Ayat al-Kursi." The man then asked, "Which verse do you love to be granted for you and your Ummah?" The Prophet (ﷺ) said: "The last verses of Surah Al-Baqarah, for they are from the treasures of Allah’s mercy under His Throne, given to this Ummah, they encompass every good of this world and the Hereafter." [Narrated by al-Darimi]

3070

جعفر بن نفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ بقرہ کو جن دوآئیں پر ختم کیا ہے جو آپ نے مجھ کو اس خزانے سے عطا کی گئی ہیں جو عرش کے پیچھے پس تم خود ان (آئیوں کو) سیکھواورا پنی عورتوں کو سکھاوا لے کہ پی (دوآ یعنی) رحمت ہیں اور قرب (الہی کا ذریعہ ہے اور) دعا ہیں۔ اس کی روایت داری نے مرسلا کی ہے۔

شیطان اس گھر کے قریب نہیں آ سکتا جس میں آمن الرسول تا آخر پڑھا جاتا ہے

Jubayr ibn Nufayr (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Allah concluded Surah Al-Baqarah with two verses from His treasures beneath the Throne. Learn them and teach them to your women, for they are prayer, Qur’an, and supplication." [Narrated by al-Darimi as mursal]

3071

نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے سے دو بزرگ سال قبل (اب پھر شتون کو حکم دے کر) قرآن کریم کولو ح محفوظ میں لکھوا دیا تھا اور اس قرآن کریم کی دوآ یعنی آمن الرسول (تاختم سورہ) ہیں۔ جب پرسورہ بقرہ کو ختم فرمایا جس گھر میں پڑوآ یعنی تین رات تک مسلسل پڑھی جائے تو شیطان اس گھر کے قریب نہ آ سکتا۔

اس کی روایت ترمذی اور داری نے کی ہے۔

آمن الرسول تاختم سورہ تک کے رات میں پڑھنے سے ہر بلاء سے حفاظت ہوتی ہے

Al-Nu’man ibn Bashir (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Allah wrote a Book two thousand years before creating the heavens and the earth. He sent down two verses to conclude Surah Al-Baqarah. If they are recited in a house for three nights, no Satan will come near it." [Narrated by Tirmidhi and al-Darimi]

3072

ابومسعور رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمایا ہیں کہ سورہ بقرہ کی آخری دوآ یعنی ایسی ہیں کہ جو شخص ان کورات میں پڑھے

توہاس کے لے کافی ہو جائی ہیں (لیعنی ہر آفت و بلاے اس کی حفاظت کا ذریعہ بن جائی ہیں) اس

کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔

Abu Mas’ud (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever recites the last two verses of Surah Al-Baqarah at night, they will suffice him." [Agreed upon]

جمع کے دن سورۃ آل عمران پڑھنے کی فضیلت
3073

کہول رضي الله عنه (جو مشهور تابعي ہیں) سے روايت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جو

جمع کے روز سورۃ آل عمران پڑھنے تو فرثت رات تک اس کے لے وعاً مغفرت کرتے ہیں۔

اس کی روایت داری نے کی ہے۔

رات میں سورۃ آل عمران کی آخری آیتیں کے پڑھنے کا ثواب

Uthman ibn Affan (may Allah be pleased with him) said: "Whoever recites the end of Surah Al-Imran at night, it will be recorded for him as if he stood the entire night in prayer." [Narrated by al-Darimi]

3074

امیر المومنین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے

ہیں کہ جو سورۃ آل عمران کی آخری آیتیں رات میں لیعنی ان فی خلق السموات والارض

لے کر آخر سورہ تک پڑھنے تو رات بھر عبادت کرنے کا ثواب کے حا جاتا ہے۔ اس کی روایت داری نے

کی ہے۔

سورہ بقرہ اور سورۃ آل عمران اپنے پڑھنے والون کو

قیامت کے دن شفاعت کریں گے

Uthman ibn Affan (may Allah be pleased with him) said: "Whoever recites the end of Surah Al-Imran at night, it will be recorded for him as if he stood the entire night in prayer." [Narrated by al-Darimi]

3075

ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ قرآن پڑھتے رہا کرو (لیعنی قرآن کی تلاوت کو غنیمت جانو اور اس پر مداومت رکھو) اس لے کر قرآن اپنے پڑھنے والون کے لے جواس کے حقوق اور آداب ادا کرتے ہیں۔

قیامت کے دن شفعت بن کرآے گا خصوصاً دو چمکدار اور روشن سورتے سورۃ بقرہ اور سورۃ آل عمران کو زیادہ پڑھا کرو اس لے کر یسورتین قیامت کے دن اپنے پڑھنے والون کے سروں پراس طرح سایہ

فگن ہول گی اور ایسے آ کیسی گی کہ گویا وہ ابر کے دو طرف سے ہیں (تویراس شخص کے لے ہولگا جومعی

سے جہ بگیر ان کو پڑے ہیں) یاس طرح آ کیسی گی جسے کہ کونی دوساپی کر نے والی چیزیں جس میں ساپی جسی

ہواور روشی جسی آتی ہو (یاس شخص کے لے ہولگا جومعی کے ساتھ ان کی تلاوت کرے) یاس طرح

آ کیسی گی جسے پرندول کی دو طرف یال پین (جو پڑهن والول پر) صف بستے سا فگن پین - (یاس شخص

کے لے ہولگا جوان کو خود پڑے ہیں اور دوسرو ل کو پڑہا لے) اور یہ دو نول سورتیں اپنے پڑهن والے کی

حمایت اور شفاعت کے لے اللہ تعالیٰ سے جھگڑی گی اور سورہ بقرہ کوثرت سے پڑہا کرو (اس لے

کراس کی پابندی سے تلاوت اوراس کے معنی میں تدبر) برکت ہے اس لے کی پابندی کے بعد اس

کو چھوڑ دینا حسرت (اورندامت) ہے۔ اور ابل باطل لیجن کسلم ند، ی اس کی تلاوت سے محروم رہے

پین (اورسورہ بقرہ کا ایک اثریہ یہ ہے کراس کے پڑهن والے پرجاد واشہبین کرتا)۔

اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔

ایضًا وسری حدیث

Abu Umamah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Recite the Qur’an, for it will intercede for its companions on the Day of Judgment. Recite the ‘two radiant ones’, Al-Baqarah and Al-Imran, for they will come like two clouds or two shades or flocks of birds, arguing on behalf of their reciters. Recite Al-Baqarah, for taking it up is a blessing, abandoning it is a regret, and the sorcerers cannot overcome it." [Narrated by Muslim]

3076

نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوارشا دفرما تے ہوئے سنہ کہ قیامت کے دن قرآن کو اور قرآن پڑهن

اوراس پڑلن کرنے والول کواس طرح لا یاجائے گا کہ قرآن اس کے آگے آ گے ہولگا اور سورہ بقرہ اور

سورہ آل عمران اس حالت میں ہول گے جسے ابر کے دو طرف سے ہیں یا کونی دوساپی دار سیاہ چیزیں ہیں

جس میں چھک اور روشی ہے یاصف بستے پرندول کی دو طرف یال پین جواب پڑهن والول کی (حمایت

اور شفاعت میں اللہ تعالیٰ سے) جھگڑی گی۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔

جمعرے روز سورہ بود پڑہنا چاہئے

Al-Nawwas ibn Sam’an (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (ﷺ) said: "On the Day of Judgment, the Qur’an and its people who acted upon it will be brought forth, led by Al-Baqarah and Al-Imran, like two clouds or dark shades with light between them, or like two flocks of birds pleading for their companion." [Narrated by Muslim]

3077

کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

نے ارشاد فرمایا ہے کہ جمع کے دون سورہ ہمود پڑھا کرو۔ اس کی روایت داری نے کی ہے۔

مسبّحات کی فضیلت اور ان کی تفصیل

It is narrated from Ka‘b (RA) that he said:

The Messenger of Allah ﷺ said: 'Recite the two surahs of Hamd in the Jumu‘ah prayer.' This is a narration with a chain of transmission. It pertains to the virtues of the Mubarakat and their details.

3078

عرباض بن سارپ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو سونے سے قبل مسبّحات پڑھا کرتے تھے اور پرمايا کرتے کہ ان سورتوں میں ایک ایک آیت میں جواکی بھرارآ یتول ستفضل سے۔ اس کی روایت تزدی اور ابوداود نے کی ہے۔

Al-‘Irbad ibn Sariyah (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (ﷺ) would recite the Musabbihat (Surahs beginning with "Subhan" or "Sabbaha") before sleeping and say: "There is a verse in them better than a thousand verses." [Narrated by Tirmidhi, Abu Dawud, and al-Darimi from Khalid ibn Ma’dan as mursal]

Tirmidhi said: "This Hadith is Hasan Gharib."

3079

"سَبح اسْمَ رَبك الْاعلى "جسیما کے مرقات میں نذکور ہے۔ اہ

ف: واعظ تو کہ مسبحات ان سورتوں کو کہتے ہیں کہ حسن کے اوائل میں سبحان يُسبِح يا سَبح يُسبِح کے کلمات آتے ہیں۔ اور یہ سات سورتیں یہیں (1) سبحان اللہی لیجن سورۃ بنی اسرائیل (2) سورۃ حمید (3) سورۃ حشر (4) سورۃ صف (5) سورۃ جمعہ (6) سورۃ تغابن (7) سورۃ اعلی لیجن

اس حدیث شریف میں جوارشاہی کے مسجات میں ایک ایک آیت میں جواکی بھرارآ یتول سے فضل سے اس بارے میں مرقات میں کہا ہے کہ آیت (سورۃ حشر، آیت نمبر: 21) " لو انزلنا هذا القرآن " الی آخرہا سے اور ابین کثرے نے کہا ہے کہ آیت (سورۃ حمید، آیت نمبر: 3) " هو الاول و الآخر و الظاهر و الباطن، وهو بكل شيء عليم " سے۔ اہ

سورۃ کهف کی تلاوت نزولی سکینہ کا سبب ہے

The Mabsihat are those surahs in which the words 'Subhan Allah' or 'Yusabbihu' appear at the beginning. These seven surahs are: (1) Surah Bani Israel, (2) Surah Hamid, (3) Surah Hashr, (4) Surah Saf, (5) Surah Jumu'ah, (6) Surah Taghabun, and (7) Surah Al-A'la. In this noble hadith, it is mentioned that in the mosques of Jowarshahi, each verse contains a reference to the excellence of Jowaki Bhara. It is stated in the Merqat that the verse (Surah Hashr, verse number: 21) 'If We had sent down this Qur'an upon a mountain, you would have seen it humbled, split apart in awe of Allah,' and Abin Kuthra said that the verse (Surah Hamid, verse number: 3) 'He is the First and the Last and the Manifest and the Hidden, and He is, of all things, Knowing.' The recitation of Surah Kahf brings about the descent of tranquility.

3080

براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فراماتے تھے کہ ایک صحابی رات کے وقت سورۃ کهف پڑھ رہے تھے اور ان کے قریب ایک طرف ایک گھوڑا دو رسیوں سے بندہا ہوا تھا، جب کی ابرکا ایک طور اس پر چھاگیا اوروہ ابر اترتا اور قریب ہوتا گیا۔ اور گھوڑا ایک دیکھ کر بدکے لگاجب صبح ہوتی تو وہ صحابی نے کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پروا قعہ بیان کے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ پیسکینہ (تمہیں رحمت آئی ہے) جو اطمینان قلب کے لے ابرکی

صورت میں قرآن پڑھتے وقت نازل ہوتی ہے۔

اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔

سورۃ کہف کی ابتدائی آئتوں کی تلاوت و جال کے فتنے سے حفاظت کا سبب ہے

Al-Bara’ (may Allah be pleased with him) narrated: "A man was reciting Surah Al-Kahf with his horse tied beside him. A cloud descended, coming closer, and his horse began to stir. In the morning, he told the Prophet (ﷺ), who said: ‘That was tranquility descending with the Qur’an.’" [Agreed upon]

3081

_ ابودردا ؑ اللہ عنہ ت روایت سے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ

وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جوسورۃ کہف کی ابتدائی دس آئتوں کوزبانی یاد کر لے تو وہ دجال کے فتنےاور

فتنتے پچالیا جائے گا اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔

ایضًا دوسری حدیث

Abu al-Darda’ (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever memorizes ten verses from the beginning of Surah Al-Kahf will be protected from the Dajjal." [Narrated by Muslim]

3082

_ ابودردا ؑ اللہ عنہ ت روایت سے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ

وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جوسورۃ کہف کی ابتدائی تین آئتوں کو تلاوت کرتا رہ تو اس کو دجال کے

فتنتے پچالیا جائے گا اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔

ف : واضح ہو کہ ذکورہ بالا حد ثبوت میں پظاہر جو تضا معلوم ہوتا ہے اس کی تطبیق کے بارے

میں مرقات میں ذکورہ کہ دس آئتوں والی حدیث بعد کی ہے اور تین آئتوں والی پہلی کی ہے، لہذا اجو

شخص دس آئتوں کو پڑھے گا وہ تین آئتوں کا بھی عامل ہو گا۔

جمع کے دون سورۃ کہف پڑھنے کی فضیلت

He also narrated: "Whoever recites three verses from the beginning of Al-Kahf will be protected from the Dajjal’s trial." [Narrated by Tirmidhi, who said: "This Hadith is Hasan Sahih."]

3083

_ ابوعبد رضی اللہ عنہ ت روایت سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد

فرماتے ہیں کہ شخص جمع کے روز سورۃ کہف کی تلاوت کرتا ہے تو اس کا قلب آنے والے دوسروں

جمعت کے (بڑايت اور نور کے ) منور کر دیا جاتا ہے اس کی روایت ترمذی نے دعوات کے بیر میں کی ہے۔

سورۃ طا اور سورۃ سبین کو پڑھنے اور حفظ کرنے کی فضیلت

Abu Sa’id (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (ﷺ) said: "Whoever recites Surah Al-Kahf on Friday, light will shine for him between the two Fridays." [Narrated by al-Bayhaqi in Al-Da’awat al-Kabir]

3084

_ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ت روایت سے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ

و سلم ارشاد فرماے جس کے اللہ تعالیٰ نے آسمانول اور زمینول کو پیدا کرنے کے ایک بھزار برس پہلے

( ملاک کو ) سورۃ طا اور سورۃ لیسین پڑھ کر سنایا (اس لئے کہ پیدونول سورتین لیسی سورۃ طا اور سورۃ

لیسین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسم مبارک سے شروع ہوتی ہیں اور سنانے کا مقصد حضور صلی اللہ

علیہ وسلم کی فضیلت کو ملاکہ پڑھا کرنا تھا )۔ جب ملاکہ نے قرآن کی ان دونوں سورتوں کو سناتوب

ساختر کہتا تھا : مبارک ہے وہ امت جس پر یہ سورتین اتاری جائیں گی اور مبارک ہیں وہ قلوب جو

اس سورتوں کے حال ہوں گے۔ اور مبارک ہیں وہ زبانیں جو ان کی تلاوت کریں گی۔

اس کی روایت واری نے کیا ہے۔

سورۃ آم تنزیل اور سورۃ تبارک الذی عذاب قبر سے پچاتی ہیں

Abu Hurairah (RA) reported that the Messenger of Allah ﷺ said:

Allah, the Exalted, taught Surah Ta and Surah Layl to the angel a thousand years before He created the heavens and the earth. (These two surahs are called Surah Ta and Surah Layl because they begin with the blessed name of the Noble Prophet ﷺ, and the purpose of teaching them was to make the angel aware of the excellence of the Messenger of Allah ﷺ.) When the angel heard these two surahs of the Quran, he would say: Blessed is the ummah upon whom these surahs will be revealed, and blessed are the hearts that will contain these surahs, and blessed are the tongues that will recite them. It is narrated that Surah Al-A'la and Surah At-Tariq protect from the torment of the grave.

3085

خالد بن معدان رحمۃ اللہ علیہ سے (جوشام کے مشہور تابعی ہیں ) روایت ہے

وہ فرماتے جس کے رات کے ابتدائی حصے میں اللہ تنزیل سجدہ کو پڑھا کر و جوعذاب قبر اور حشرت

نہابت دلانے والی سورت سے اس لئے کہ مجھے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے یہ حدیث پہوچی ہے کہ

ایک شخص اس سورۃ کو بطور وظیفہ پڑھا کرتا تھا اور اس سورت کے سوا کسی اور سورۃ کو بطور ورد کے)

نہیں پڑھا کرتا تھا اور وہ بہت گناہ کارتا (جب اس شخص کا انتقال ہوا تو ) یہ سورت اور اس کا ثواب

ایک پرندہ کی شکل اختیار کر کے اپنے بازوں کو اس شخص پر پھیلا دیا اور اس کو پچانے کے لئے اللہ تعالیٰ

نے اس طرح عرض کیا: اے پرودگار اس شخص کو بجش دے کہ پیشہ بکثرت پڑھا کرتا تھا اللہ تعالیٰ

نے اس سورت کی شفاعت کو اس شخص کے حق میں قبول فرما لیا اور فرشتوں کو حکم دیا کہ اس کے ہرا کی

گناہ کے بدلے ایک ایک نیک کلو دو اور اس کے درجہ کو بلند کردو۔ اور راوت نے پیشہ کہا کہ یہ سورت

ایک تلاوت کرنے والے کے لئے قبر میں عذاب کی تخفیف کے لئے اللہ تعالیٰ نے جگہ دی ہے اور

کہتے ہے کہ اے اللہ اگر میں تیری کتاب میں سے ہول تو میری شفاعت کو اس شخص کے حق میں قبول

فرما اور اگر میں تیری کتاب میں سے نہیں ہوں تو مجھے اس کتاب سے مطابق اور راوی نہیں

کہا کہ پیغمبر اپنے پڑھنے والے کی قبر میں پرنے کی شکل میں اپنے پڑھنے والے پر اپنے پرول کو

پچھلا دے گی اور اس کی شفاعت کرے اس کو عذاب قبر سے پچا لے گی۔ اور راوی نے سورۃ

تبارک اللہ کے بارے میں بھی ایسائی کہا کہ پیغمبر اللہ کہا کہ سورۃ اللہ تنزیل کی طرح اپنے پڑھنے

والے کو عذاب قبر سے پچا لے گی اور خالد لیجنی اس حدیث کے راوی ان دونوں سورتوں کو پڑھے بلکہ

نہیں سورتے تھے اور طاقوس (جو مشہور تابیعی ہیں اور راوی حدیث ہیں) بیان کرتے ہیں پر دوسروں

لیعنی سورۃ اللہ تنزیل سجدہ اور سورۃ تبارک اللہ قرآن کی حرسورت پر ثواب میں سائے پڑار نہیں ہیں

کی تقدارت نیادہ اجر کہتی ہیں۔ اس کی روایت داری نے کی ہے۔

سوئے پہلے سورۃ اللہ تنزیل اور سورۃ تبارک اللہ کا پڑھنا مسنون ہے

Khalid ibn Ma’dan (may Allah be pleased with him) said: "Recite the Munjiah (Surah As-Sajdah), for I heard that a man who recited nothing else, despite his many sins, had it spread its wings over him and say, ‘O Lord, forgive him, for he often recited me.’ Allah accepted its intercession, saying, ‘Record a good deed for every sin and raise him a degree.’ It also pleads for its reciter in the grave, saying, ‘If I am from Your Book, accept my intercession; if not, erase me for him.’ It will be like a bird shielding him from the punishment of the grave. The same applies to Tabarak (Surah Al-Mulk)." Tawus said: "These two Surahs are superior to all others by sixty good deeds." [Narrated by al-Darimi]

3086

جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں سورۃ

اللہ تنزیل اور سورۃ تبارک اللہ بیہ الملک پڑھے بلکہ سوائے نہیں کرتے تھے۔ اس کی روایت

امام احمد، ترمذی اور داری نے کی ہے اور تشریح السنن میں اس طرح ذکور ہے۔

سورۃ لیلین کی تلاوت کا ثواب

Jabir (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (ﷺ) would not sleep until he recited Alif-Lam-Mim Tanzil (Surah As-Sajdah) and Tabarakalladhi bi-Yadihil-Mulk (Surah Al-Mulk). [Narrated by Ahmad, Tirmidhi, and al-Darimi]

Tirmidhi said: "This Hadith is Sahih."

3087

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرامانت ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ

وسلم ارشاد فرامانت ہیں کہ ہر چیز کا ایک دل ہوتا ہے اور قرآن کا دل لیلین ہے اور جو سورۃ لیلین پڑھے

تو اللہ تعالی اس شخص کو دس مرتبہ قرآن کی تلاوت کرنے کا ثواب عطايت فرامانت ہیں۔ اس کی روایت

ترمذی اور داری نے کی ہے۔

ف: اس حدیث شریف میں سورۃ لیلین کو قرآن کا دل کہا گیا ہے۔ اس بارے میں بھی امام نسفی

رحمۃ اللہ علیہ فرامانت ہیں کہ سورۃ لیلین میں اصولی ثلاثہ لیجنی دحدانیت باری تعالی، رسالت اور حشر کا

پیان بھاوران میون پیزول کتعلق قلب سے ہے۔ اس وجہ سے سورہ لیسین کو قرآن کا قلب قرار دیا گیا۔

اور امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ ایمان کی صحت کا انحصار حشر و نشر کے لیقین اوران کے

استحضار پر ہے اور ان کی تفصیل سورہ لیسین میں ہے اور کمال نذکور سے اس کو قرآن کا دل کہا گیا

ہے اور امام رازی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس قول کو احسن قرار دیا ہے، اس لئے کہ سورہ لیسین کی تلاوت

سے مردہ قلوب زندہ ہوجاتے ہیں اور غفلت سے چوکے کر طاعات کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ اور اس

وجہ سے قریب المرگ کے پاس اس کی تلاوت کی ترغیب وارد ہے۔ یہ مرقات میں نذکور ہے۔

سورہ لیسین کے پڑھنے سے حا جتنی برآئی ہیں

It is narrated from Anas (RA) that he said:

The Messenger of Allah ﷺ said: 'Everything has a heart, and the heart of the Quran is Surah Layl. Whoever recites Surah Layl, Allah will grant him the reward of reciting the Quran ten times.' This is narrated by Tirmidhi and Daruqutni. In this noble hadith, Surah Layl is called the heart of the Quran. Imam Nasafi (may Allah have mercy on him) has stated that Surah Layl contains the fundamental three principles of monotheism, prophethood, and the resurrection, which are related to the heart. Therefore, Surah Layl is considered the heart of the Quran. Imam Ghazali (may Allah have mercy on him) has said that the soundness of faith depends on the certainty and awareness of the resurrection and the gathering, and their details are found in Surah Layl, which is why it is called the heart of the Quran. Imam Razi (may Allah have mercy on him) also gave this view the best position, because the recitation of Surah Layl revives dead hearts and makes them inclined towards acts of obedience, awakening them from heedlessness. For this reason, it is recommended to recite it near the time of death. These benefits of reciting Surah Layl are mentioned in Merghat.

3088

عطاء بن الی رباح رحمۃ اللہ علیہ سے (جو کہ کمشہور تابعی ہیں) روایت ہے

وہ فرماتے ہیں کہ مجھے یہ حدیث پہوچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جو شخص

سورۃ لیسین کودان کے ابتدائی حصہ میں پڑھ لے تو اس کی برکت سے اس شخص کی دینی و دنیوی حاجتیں

پوری کرو دی جاتی ہیں۔ اور اس کی روایت داری نے مرسلا کی ہے۔

سورہ لیسین کے پڑھنے سے گناہ معاف ہوجاتے ہیں

It is narrated from 'Ata bin Yasar (may Allah have mercy on him), who is a well-known Tabi'i, that

he said: I have received this hadith that the Messenger of Allah ﷺ said: 'Whoever recites the beginning part of Surah Al-Layl will have his religious and worldly needs fulfilled by its blessings. And it has been narrated that sins are forgiven through the recitation of Surah Al-Layl.'

3089

معقل بن بیار مزی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم

ارشاد فرماتے ہیں کہ جو سورۃ لیسین کو خض اللہ تعالیٰ کی خوشنوی حاصل کرنے کے لئے پڑھ تو اس

کے تمام پچھلے گناہ معاف کرو دے جاتے ہیں تو تم اس کوان لوگوں کے پاس پڑھا کرو جو قریب المرگ

ہوں۔ اس کی روایت تہقی نے شعب الایمان میں کی ہے۔

ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ سورۃ لیسین کو اخلاص سے پڑھنے سے گناہ معاف ہو

جاتے ہیں اور قریب المرگ شخص کے پاس اگر سورۃ لیسین پڑھا جائے تو وہ اس کو سگا اور اس کا دل

متاثر ہوگا اور اس کے گناہ بھی معاف ہوں گے۔ یہ مرقات میں نذکور ہے۔ صاحب مرقات نے فرمایا

ہے کہ چونکہ سورۃ لیسین کی تلاوت گناہوں کی مغفرت کا سبب ہے اس لئے قبروں کے پاس بھی اس کو

پڑھنا چاہیے۔

It is narrated from Ma'qil ibn Yasar (RA) that the Noble Prophet ﷺ said:

Whoever recites Surah Al-Lail with the intention of seeking Allah's pleasure, all his previous sins will be forgiven. Therefore, you should recite it to those who are near death. This narration is recorded in Shu'ab al-Iman. In this noble hadith, it is stated that reciting Surah Al-Lail with sincerity results in the forgiveness of sins, and if it is recited for a person who is near death, it will comfort him, affect his heart, and his sins will be forgiven. This is mentioned in Mirqaat. The author of Mirqaat has said that since the recitation of Surah Al-Lail leads to the forgiveness of sins, it should also be recited near graves.

حفاظت کے لئے قرآنی وظائف
3090

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جو شخص سورۃ حم٥ سورۃ مومن کوالیہ المصیبر کے لیے "حم٥ تنزیل الکتب من الله العزیز العلیم • غافر الذنب و قابل التوب شدید العقاب، ذی الطول، لا اله الا هو، الیه المصیر"، (سورۃ مومن، آیت نمبر:1-3) اوراس کے ساتھ آیہ الكرسی صح میں پڑھ لئے (ان کے پڑھنے کی برکت سے تمام طابری اور باطنی آفات اور بلیات سے) شام تک محفوظ رہتا ہے اور (اسی طرح) جوان کوشام کے وقت پڑھ لئے تو وہ (ان کے پڑھنے کی برکت سے) صبح ہونے تک محفوظ رہتا ہے۔ اس کی روایت ترنژی اورداری نے کی ہے۔

سورۃدخان کی تلاوت مغفرت کا سبب ہے

Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever recites Ha-Mim al-Mu'min (Surah Ghafir) up to 'To Him is the final return' (40:3) and Ayat al-Kursi in the morning will be protected until evening. Whoever recites them in the evening will be protected until morning." [Narrated by Tirmidhi and al-Darimi]

3091

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جو شخص رات میں سورۃدخان حم الدخان (جواب25 میں ہے)-پڑھ لے تو صح تک 70 ہزار فرشتے اس کے لئے دعاے مغفرت کرتے رہیں گے۔ اس کی روایت ترنژی نے کی ہے۔

ایضاً دوسری حدیث

Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever recites Ha-Mim al-Dukhan (Surah 44) at night, seventy thousand angels will seek forgiveness for him until morning." [Narrated by Tirmidhi]

3092

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جو سورۃ حم الدخان شب جمعہ پڑھا کرے تو اس کی مغفرت کروی جائے ہے۔ اس کی روایت ترنژی نے کی ہے۔

Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever recites Ha-Mim al-Dukhan on Friday night will be forgiven." [Narrated by Tirmidhi]

سورۃ بقرہ اور مفصل سورتوں کی فضیلت
3093

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہر چیز کی ایک بلندی ہوتی ہے اور قرآن کی بلندی سورۃ بقرہ ہے۔ اور ہر چیز کا ایک خلاصہ ہوتا ہے اور قرآن کا خلاصہ مفصل سورتیں ہیں۔ اس کی روایت داری نہ کی جے۔

ف: اس حدیث شریف میں سورۃ بقرہ کو سامنے قرآن (قرآن کی بلندی) اس لئے قرآن کی طویل سورت ہے اوراس میں بہت سارے احکام ذکور ہیں اوراس میں جہاد کا جو حکم موجود ہے اس کی وجہ سے اسلام کو بلندی حاصل ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں مفصلات کو لباب القرآن اس لئے کہ گیا کر ان سورتوں میں ان چیزوں کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ جو قرآن کے دوسرو حصہ میں اجمال کے ساتھ ذکور ہیں۔ اور سورۃ تجرات (پ،26) سے لے کر آخر آن تک کی تمام سورتوں کو مفصل کیتے ہیں۔ بی پورا مضموں مرقات سے ماخوذ ہے۔

سورۃ رحمٰن قرآن کی زینت ہے

Abdullah ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) said: "Everything has a hump, and the hump of the Qur'an is Surah al-Baqarah. Everything has a core, and the core of the Qur'an is al-Mufassal (the shorter surahs)." [Narrated by al-Darimi]

3094

امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے سن کہ ہر چیز کی ایک زینت ہوتی ہے اور قرآن کی زینت سورۃ رحمٰن ہے۔ کیونکہ سورۃ رحمٰن میں دو نیوی نغمتوں کے ساتھ ساتھ اخر وی نغمتوں اور جنت کے حور و غلمان کا ذکر ہے۔ اس حدیث کی روایت سے شعب الایمان میں کیا ہے۔

سورۃ واقعہ کو ہر شب پڑھنے سے فاقہ نبی آتا ہے

Ali (may Allah be pleased with him) narrated: "I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'Everything has a bride, and the bride of the Qur'an is Surah ar-Rahman.'" [Narrated by al-Bayhaqi in Shu'ab al-Iman]

3095

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جو سورۃ واقعہ کو ہر شب پڑھ تو وہ جسے تگدست اور محبت نہ ہوگا۔ اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ اپنی لڑکیوں کو تاکید فرماتے کہ وہ ہر رات اس سورت کو پڑھا

سورۃ حشر کی آخری تین آیتوں کو پڑھنے کی فضیلت

کریں۔ اس کی روایت جہاں تک نے شعب الایمان میں کی ہے۔

Ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever recites Surah al-Waqi'ah every night will never experience poverty." Ibn Mas'ud would instruct his daughters to recite it every night. [Narrated by al-Bayhaqi in Shu'ab al-Iman]

3096

معقل بن پیار رضی اللہ عنه سے روايت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ تھے وقت تین رفع " اعوذ باللہ السميع العليم من الشيطان الرجيم " پڑھ کر سورۃ حشر کی آخری تین آیتیں (جو " هو الله الذي لا اله الا هو " سے شروع ہو کر " هو العزيز الحكيم " پر ختم ہوتی ہیں جو آيات نمبر:22-24 ہیں )۔ جو شخص پڑھے تو اللہ تعالیٰ ( ان کی برکت سے ) ستّہزار فرشتوں کو مقرب فرمادیے ہیں جوشام کے اس کے لئے دعا کے مغفرت کرتے رہتے ہیں۔ اور اگر وہ اس روز فوت ہو جائے تو وہ شہید مرتبہ اور جنت کے ان آیتوں کو ایس طرح شام کے وقت پڑھنے تو ایسے شخص کو بھی بھی مرتبہ ملے گا۔ اس کی روايت تزندی اور داری نے کی ہے۔

معقل بن پیار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ تھے وقت تین رفع " اعوذ باللہ السميع العليم من الشيطان الرجيم " پڑھ کر سورۃ حشر کی آخری تین آیتیں (جو " هو الله الذي لا اله الا هو " سے شروع ہو کر " هو العزيز الحكيم " پر ختم ہوتی ہیں جو آیات نمبر:22-24 ہیں )۔ جو شخص پڑھے تو اللہ تعالیٰ ( ان کی برکت سے ) ستّہزار فرشتوں کو مقرب فرمادیے ہیں جوشام کے اس کے لئے دعا کے مغفرت کرتے رہتے ہیں۔ اور اگر وہ اس روز فوت ہو جائے تو وہ شہید مرتبہ اور جنت کے ان آیتوں کو ایس طرح شام کے وقت پڑھنے تو ایسے شخص کو بھی بھی مرتبہ ملے گا۔ اس کی روایت تزندی اور داری نے کی ہے۔

سورۃ ملک کی تلاوت مغفرت کا سبب ہے

Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "There is a surah in the Qur'an of thirty verses that interceded for a man until he was forgiven. It is Surah al-Mulk (Tabarakalladhi bi-Yadihil-Mulk)." [Narrated by Ahmad, Tirmidhi, Abu Dawud, Nasa'i, and Ibn Majah]

3097

ابو هریرہ رضی اللہ عنه سے روايت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ قرآن میں (30) آیتوں والی ایک سورت ہے جس میں ایک شخص کی شفاعت کی جواس کو پڑھا کرتا تھا پہالے کے کاس کو بخش دیا گیا۔ اور وہ سورت " تبارک الذی بیدہ الملك " ہے۔ اس کی روايت امام احمد، ترمذی، البخاری، نسائی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ قرآن میں (30) آیتوں والی ایک سورت ہے جس میں ایک شخص کی شفاعت کی جواس کو پڑھا کرتا تھا پہالے کے کاس کو بخش دیا گیا۔ اور وہ سورت " تبارک الذی بیدہ الملك " ہے۔ اس کی روایت امام احمد، ترمذی، البخاری، نسائی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔

سورۃ ملک کی فضیلت کا ایک واقعہ

Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "There is a surah in the Qur'an of thirty verses that interceded for a man until he was forgiven. It is Surah al-Mulk (Tabarakalladhi bi-Yadihil-Mulk)." [Narrated by Ahmad, Tirmidhi, Abu Dawud, Nasa'i, and Ibn Majah]

3098

ابن عباس رضی اللہ عنهما سے روايت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی نے (لاعلمي میں) ایک قبر کی جگہ پر دفن کیا اور ان کو یگمان نہ تھا کہ یہ قبر ہے۔

ناغمال انہوں نے ویحا کر اس میں ایک انسان بھجوسورہ تبارک اللہ ذی پیدہ

المُلک پڑھ رپاتھا۔ یہاں تک کہ انہوں نے سورہ کو ختم کیا۔ ان صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ

وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر پیوا قعد عرض کیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پیس کر فرمایا کہ یہ

سورت عذاب سے پچان والی اور پڑھنے والے کو عذاب کی نجات دلانے والی ہے۔

اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔

سورۃ سَّبح اسْمِ رَبِّکَ الْأَعْلَی حضرکو بہت پسند کی اس کی وجہ

Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated: "A companion of the Prophet (ﷺ) pitched his tent over a grave without realizing it. He heard a man reciting Surah al-Mulk until he finished. When he told the Prophet (ﷺ), he said: 'It is the Preventer, the Savior that delivers from Allah's punishment.'" [Narrated by Tirmidhi]

3099

امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت سے کروہ فرماتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سورت میں "سَّبح اسْمِ رَبِّكَ الْأَعْلَی" کو بہت محبوب رکھتے

تھے۔ اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔

ف: اس حدیث شریف میں سورت "سَّبح اسْمِ رَبِّكَ الْأَعْلَی" کو محبوب رکھنا جوز کر

ہے اس کی وجہ یہ کہ اس سورت میں ارشاد ہے: "انَّ هذا لَفِی الصُّحُفِ الْأُولی، صُحُفِ

ابْراهِیمَ وَمُوسَى"۔ یعنی مضامین لحتی و نیا کی بے ثباتی اور آخرت کی پائداری، فرمان برداری کی کامیابی

و غیرہ جو اس سورت میں بیان کے گئے ہیں۔ اس کے محفوظ میں کچھ ذکور ہے جسے حضرت ابراہیم اور

حضرت موسیٰ علی نہیں و نیہما الصلاۃ والسلام کے محفوظ میں تو گویا سابقہ محفوظ میں قرآن کی حقائق کی

تصدیق ہوتی ہے اور اس وجہ سے اس سورت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت محبوب رکھی کر حضور صلی اللہ علیہ

وسلم اس سورت کو وتر کی پہلی رکعت میں "سورۃ قُل" کو باقی دور کے تول میں پڑھا کر تے تھے۔

یہ رقات سے ماخوذ ہے۔

سورہ ادا زلزلت سورۃ قُلْ ہُوَ اللہُ أَحَدٌ اور

سورۃ قُلْ یَا أَيُّهَا الْکَافِرُونَ کی فضیلت

It is narrated from Amir al-Mu'minin Ali (RA) that

the Messenger of Allah ﷺ held Surah Al-A'la (Sabbaha ism rabika al-a'la) in high esteem. This is reported by Imam Ahmad. In this noble hadith, the reason for holding Surah Al-A'la in high regard is that it contains the verse: 'Indeed, this is in the ancient scriptures, the scriptures of Abraham and Moses.' This means that the contents of this surah, such as the instability of worldly life and the permanence of the Hereafter, the success of obedience, and other matters mentioned in it, have some connection with what was preserved in the scriptures of Abraham and Moses, peace be upon them. Thus, the truths of the Quran are confirmed in the previous scriptures, which is why the Messenger of Allah ﷺ held this surah in high regard. He used to recite Surah Al-A'la in the first rak'ah of Witr and Surah Qul Huwa Allahu Ahad in the remaining cycles. This is derived from the Riqat. The virtues of Surah Ad-Dhuha, Surah Qul Huwa Allahu Ahad, and Surah Qul Ya Ayyuhal Kafirun are also mentioned.

3100

ابن عباس اور انس بن مالک رضی اللہ عنہما سے روایت سے کہ یہ دونوں

حضرات فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرما تے ہیں کسورة ادا زُلزِلَتْ کی تلاوت کا ثواب آدھے قرآن کے پڑھنے کے ثواب کے برابر ہے اور "قُلْ هُوَ اللہُ أَحَدٌ" کی تلاوت کا ثواب ایک تہائی قرآن کے پڑھنے کے ثواب کے برابر ہے اور "قُلْ يَاَ يُهَا الْکَفِرُوْنَ" کی تلاوت کا ثواب چوٹھائی قرآن کے پڑھنے کے ثواب کے برابر ہے۔

اس کی روایت ترتیب نہیں ہے۔

سورۃ ادا زُلزِلَتْ کی جامعیت اورفضیلت

Ibn Abbas and Anas ibn Malik (may Allah be pleased with them) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Surah al-Zalzalah is equal to half of the Qur'an, Surah al-Ikhlas is equal to one-third of the Qur'an, and Surah al-Kafirun is equal to one-fourth of the Qur'an." [Narrated by Tirmidhi]

3101

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ ایک صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کے: یارسول اللہ مجھے قرآن پڑھانی تو حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ان تینوں سورتوں کو پڑھ لیا کرو جس کے ابتداء میں اللہ اور سے پانچ سورت میں جن کی تفصیل ذیل میں آرہی ہے تو انہوں نے بطور معذرت عرض کیا: یا رسول اللہ میں بورا ہوگیا ہوں اور دل میں نہتی آگی ہے۔ (یعنی حافظ کمزور ہوگیا ہے) اور زبان موتی ہوگی ہے۔ (جس کی وجہ سے میں ان طویل سورتوں کو پڑھنے میں سکتا ہوں) پس کر حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمايا: تو تم تین ایسی سورتوں کو جن کے شروع میں ختم ہے پڑھ لیا کرو (اور یہ سات سورت میں جن کی تفصیل ذیل میں آرہی ہے) تو ان صاحب نے پھر وہی عذر پیش کیا اور عرض کیا: یارسول اللہ مجھے کوئی ایسی مختصر سورت پڑھانی ہو (ثواب اور عذاب اور دیتی اور دینیوی اسور ومقاصد کی) جامع ہو توپیس کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سورۃ ادا زُلزِلَتْ پڑھانی (جس میں خیر کی ترغیب اور شر کے نکے کی ممانعت نذور ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سورۃ ادا ززلت پڑھانی۔ یہاں تم کرو اس سے فارغ ہوگے۔ پھر ان صاحب نے عرض کیا: اس ذات کی فتنہ جس نے آپ کو سپاہی بن کر بھیجا ہے میں برگز اس پر زیادتی نہیں کروں گا۔ پھر وہ

صحاب و اپس چلے گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما یا کہ: یہ شخص کامیاب ہوگیا۔ اس کو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دوم رتبہ ارشاد فرما یا۔ اس کی روايت امام احمد، اور ابو داود نے کی ہے۔ ف: واضح ہو کر قرآن کی جس سورت کے شروع میں "اللہ" ہے وہ پانچ بین جوسورہ یوس (پ۔11) سے شروع ہو کر سورۃ حجرات (14) میں ختم ہوتی ہیں اور اس طرح جوسورتیں ختم سے شروع ہوتی ہیں ان کی تعداد سات ہے جو ختم المؤمن (پ۔24) سے شروع ہو کر ختم الاحقاف (پ۔26) پر ختم ہوتی ہیں۔

Abdullah ibn Amr (may Allah be pleased with him) narrated: "A man came to the Prophet (ﷺ) and said: 'Teach me something to recite, O Messenger of Allah.' He said: 'Recite three surahs beginning with "Alif-Lam-Ra."' The man said: 'I am old, my heart is hardened, and my tongue is heavy.' The Prophet (ﷺ) then said: 'Recite three surahs beginning with "Ha-Mim."' The man repeated his excuse. Finally he said: 'Teach me a comprehensive surah.' So the Prophet (ﷺ) taught him 'When the earth is shaken...' (Surah al-Zalzalah). The man said: 'By the One who sent you with truth, I will never add to this.' The Prophet (ﷺ) said: 'The man has succeeded twice over.'" [Narrated by Ahmad and Abu Dawud]

3102

قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ

سورۃ "الْهَدْیُ التَّكَاثُرُ" پڑھنے سے ایک بزارآ میون کے پڑھنے کا ثواب ملتا ہے و سلم نے (ایک مرتبہ) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے دریافت فرما یا کر کیا تم میں سے کسی کو اتنی طاقت ہے کہ وہ روزانہ قرآن کی ایک بزارآ میون پڑھ لیا کرے؟ صحابہ نے عرض کیا کہ یارسول اللہ کون ہے جو ہر روز قرآن کی ایک بزارآ میون پڑھ سکے؟ لیکن تمام میں سے کوئی اس کی طاقت نہیں رکتا۔ پس کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما یا کہ: کیا تم میں سے کوئی اتنی طاقت نہیں رکتا وہ کروہ روزانہ سورۃ "الْهَدْیُ التَّکَاثُرُ" پڑھنے کا ثواب (لیکن ایک مرتبہ پڑھنے کا ثواب) ایک بزار آ میون کی تلاوت کے برابر ہے۔ اس حدیث کی روایت کے مقصد کی ہے۔ ف: اس حدیث شریف میں ذکور ہے کہ سورۃ "الْهَدْیُ التَّکَاثُرُ" کو ایک مرتبہ پڑھنے سے ایک بزارآ میون کے پڑھنے کا ثواب ملتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سورۃ میں آخرت کی ترغیب اور دنیا کی بے غیتی کی تاکید ذکور ہے اور یقین کے چہر (6) اتم مقاصد میں سے ایک اتم مقصد ہے اور حقیقت تو یہ ہے کہ یہ راز ہیں جو بڑے شارع علیہ الصلاۃ والسلام کے کسی پرمکشف نہیں اس کے قیاس کو اس میں داخل نہیں ہے۔ یمرقات سے ماخوذ ہے۔12

سوتے وقت سورۃ "قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ" پڑھنے کی ترغیب

Ibn Umar (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Can't one of you recite a thousand verses every day?" They said: "Who can recite a thousand verses?" He said: "Can't one of you recite 'The mutual rivalry (Surah al-Takathur)?" [Narrated by al-Bayhaqi in Shu'ab al-Iman]

3103

عرض کیا: رسول اللہ آپ مجھے کوئی وظیفہ بتادیں جس کو میں سونے کے لیے بستر پر جاؤں تو پڑھلیا کروں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ "قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ" پڑھلیا کرو فرمایا۔ اس لیے کہ اس میں شرک کے پیزاری کا ذکر ہے (اس لیے تم اس کو پڑھ کر سوؤے گے تو شرک سے پاک ہو کر سوؤے گے اور مردے گے تو توحید پر مرے گے)۔ اس حدیث کی روایت ترنزی البودا و داورداری نے کی ہے۔

سورۃ اخلاص تہاجی قرآن کے برابر ہے

Farwah ibn Nawfal reported from his father (may Allah be pleased with him) that he said: "O Messenger of Allah, teach me something to say when I go to bed." He said: "Recite 'Say: O you disbelievers (Surah al-Kafirun), for it is a declaration of freedom from polytheism.'" [Narrated by Tirmidhi, Abu Dawud, and al-Darimi]

3104

ابودردا رضی اللہ عنہ نے روایت کے وہ فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: کیا تم میں کوئی شخص رات میں ایک تہاجی قرآن نہیں پڑھ سکتا؟ صحابہ نے عرض کیا کہ: یا رسول اللہ ایک رات میں تہاجی قرآن کس طرح پڑھا جاسکتا ہے پیس کر آپ نے ارشاد فرمایا: سورۃ "قُلْ هُوَ اللہُ أَحَدٌ" کا ایک وفع پڑھنا (ثواب میں) ایک تہاجی قرآن کے برابر ہے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔

Abu al-Darda (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Can't one of you recite one-third of the Qur'an in one night?" They said: "How can we recite one-third?" He said: "'Say: He is Allah, the One' (Surah al-Ikhlas) equals one-third of the Qur'an." [Narrated by Muslim, and Bukhari reported something similar from Abu Sa'id]

3105

اور اس کی روایت بخاری نے ابوسعید رضی اللہ عنہ سے کی ہے۔

ف: اس حدیث شریف میں ارشاد کے سورۃ "قُلْ هُوَ اللہُ أَحَدٌ" کا ایک وفع پڑھنا ثواب میں ایک تہاجی قرآن کی تلاوت کے برابر ہے۔ اس بارے میں مرقات نے کہاہے کہ قرآن نے حکیم تین قسم کے علوم پر مشتمل ہے۔ ایک علم تو حید، دوسرا علم الشرائع جس میں حلال و حرام کے احکام کا علم اور تیسرے علم تہذیب الاخلاق اور زکیہ نفس اور سورۃ "قُلْ هُوَ اللہُ أَحَدٌ" میں قسم میں علم توحید پر مشتمل ہے۔ جواباً تینوں قسموں کے لیے اصل اور بنیاد کا حکم رکھتا ہے۔ اس وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ "قُلْ هُوَ اللہُ أَحَدٌ" ایک وفع پڑھنے کو ثواب میں تہاجی قرآن پڑھنے کے برابر قرار دیا

سورۃ اخلاص کے پڑھنے والے کو اللہ تعالیٰ محبوب رکھتے ہیں

Abu al-Darda (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Can't one of you recite one-third of the Qur'an in one night?" They said: "How can we recite one-third?" He said: "'Say: He is Allah, the One' (Surah al-Ikhlas) equals one-third of the Qur'an." [Narrated by Muslim, and Bukhari reported something similar from Abu Sa'id]

3106

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے روایت کیہو فرماتی ہیں

کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو ایک شگر پرامیر بنا کر بھیجا اور وہ اس پر ساتھیوں کی نماز

میں امامت کی جس کیا کرتے تھے۔ تو وہ اپنی بہر نماز کی قرآن کو سورہ "قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ " پر ختم کیا

کرتے تھے جب صحابہ والیس بھوئے تو ان حضرات نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ذکر کیا

حضرت نے فرمایا: آپس نے دریافت کرو کہ وہ ایسا کیون کیا کرتے ہیں؟ جب لوگوں نے ان کے

دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ اس سورہ میں رحمت لے جن اللہ تعالیٰ کی تو حید کا ذکر ہے اس کے میں اس

کے پڑھنے کو پسند کرتا ہوں (اور بار بار پڑھتا ہوں) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا جواب

سن تو فرمایا کہ ان کو مطلع کرو کہ اللہ تعالیٰ مجھی ان سے محبت کرتے ہیں (اور اس کی برکت سے تم کو

طاعت ابی پر استقامت نصیب فرمائی گے )۔

اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے

نمازول میں کسی ایک سورت کو میں کر لینے کی وضاحت

ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ ایک صحابی اپنی بہر نماز کی قرآن کو سورۃ اخلاص پر ختم

فرمایا کرتے تھے۔ اس بارے میں صحاب مرقات نے کہاہے کرو صحابی بہر نماز کی آخری رکعت میں

سورۃ فاتحہ کے بعد سورۃ اخلاص پڑھا کرتے تھے۔ اور عام لگیری میں کہاہے کہ کسی بھی نماز کے لے

قرآن کی کسی ایک سورت کو ایک حصہ کو میں کر لینا کرو ہے۔ امام طحاوی اور اسبیجاحبی نے کہا

ہے کہ یہ کراہت اس وقت ہوگی جب کروہ شخص قرآن کی کسی ایک سورت کی ایک حصہ کو نماز میں

پڑھنا واجب اور ضروری ہے۔ اور اس کے سوا کسی اور سورت و غیرہ کو پڑھنا جائز نہیں ہے۔ لیکن اگر کسی لے

کسی میں سورت کو اپنی آسانی کے لے پڑھا یا حصول برکت کے لے پیشہ کر پڑھا کر حضور صلی اللہ

علیہ وسلم اس سورت کو پڑھا کرتے تھے۔ تو اس میں کوئی کراہت نہیں لیکن شرط یہ ہے کہ جس کسی دورسی

سورت کو جس پڑھ لیا کرے تاکہ ناواقف لوگ غلط فہمی میں متلاش ہول۔ یعنی میں ذکور ہے۔

سورۃ اخلاص سے محبت رکھنے والے کی ہے

Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: "The Prophet (ﷺ) sent a man in charge of an expedition who would recite Surah al-Ikhlas for his companions in prayer. When they returned, they mentioned this to the Prophet (ﷺ), who asked why he did so. The man replied: 'Because it describes the Most Merciful, and I love to recite it.' The Prophet (ﷺ) said: 'Tell him that Allah loves him.'" [Agreed upon]

(1) His statement: "It is sealed, etc." In the last rak'ah after Al-Fatihah in every prayer, this surah is recited. This was mentioned in Al-Marqat. It was said in Al-'Alamgiriyyah: It is disliked to designate a specific part of the Qur'an for a specific part of the prayer. Al-Tahawi and Al-Isbijabi said: This applies if one considers it obligatory and necessary, such that nothing else is permissible, or considers reciting something else to be disliked. However, if one recites it for ease or to seek blessings, there is no dislike in that, provided that they occasionally recite something else so that an ignorant person does not assume that nothing else is permissible. This is stated in Al-Tabyin.

3107

اس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک صحابی نے عرض کیا: یارسول اللہ مجھے اس سورۃ "قُلْ هُوَ اللہُ أَحَدٌ" سے بڑی محبت ہے تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ تمہاری اس سورت سے محبت تم کو جنت میں داخل کرنے گی۔

اس کی روایت ترنزی نے کی ہے اور بخاری نے بھی اس طرح روایت کی ہے۔

جنت واجب ہونے کا وظیفہ

Anas (may Allah be pleased with him) narrated: "A man said: 'O Messenger of Allah, I love Surah al-Ikhlas.' He said: 'Your love for it will enter you into Paradise.'" [Narrated by Tirmidhi, and Bukhari reported something similar]

3108

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو سورۃ "قُلْ هُوَ اللہُ أَحَدٌ" پڑھتے ہوئے سنا تو آپ نے ارشاد فرمایا: اس کے لیے واجب ہوگی، میں نے عرض کیا (یارسول اللہ) کیا چیز واجب ہوگی؟ تو حضرت نے ارشاد فرمایا (سورۃ "قُلْ هُوَ اللہُ أَحَدٌ" پڑھنے کے بدلے) اس کے لیے جنت واجب ہوگی۔

اس کی روایت امام ماکرزنزی اور نساوی نے کی ہے۔

سورۃ اخلاص کی تلاوت سے گناہ معاف ہوتے ہیں

Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (ﷺ) heard a man reciting Surah al-Ikhlas and said: "It is deserved." I asked: "What is deserved?" He said: "Paradise." [Narrated by Malik, Tirmidhi, and Nasa'i]

3109

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے تھے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو بھردن سورۃ "قُلْ هُوَ اللہُ أَحَدٌ" دوسومرتہ پڑھے (تو اس کی برکت سے) اس کے گذشتے پچاس برس کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ اور اگر پیکر اس اس پر قرض ہو تو قرض کا گناہ معاف نہیں ہوگا۔ جب کر اس نے قرض ادا کیا نہ ہو۔ یا مرنے سے پہلے ادائیگی کی وصیت نہ کی ہو۔ اس کی روایت ترنزی اور دارمی نے کی ہے۔

It is narrated from Anas (RA) that he said:

The Messenger of Allah ﷺ said: 'Whoever recites Surah Al-Ikhlas (Qul Huwa Allahu Ahad) at night, his sins of the past twenty-five years will be forgiven due to its blessings. However, if he has a debt, his sin will not be forgiven until he has paid it off, or made a will to pay it before his death.' This has been narrated by Tirmidhi and Darimi.

3110

قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ۢ هَرُوز پڑے تواس کے پچاس سال کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں اوراس روايت میں قرض کے گناہ کا ذکر نہیں ہے۔

جنت میں داخل ہونے کا وظیفہ

The means of entering Paradise

3111

قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ۢ پڑے تو جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ کروت لیت کرا ئے سومرتہ سورۃ

کرتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرما یا ہے کہ کوئی شخص جب سونے کا ارادہ کرے اور اپنے بستر پر سیدی تقلا اس سے فرما تین گے کہ تیرے بندے تو اپنے سیدے جانب سے جنت میں داخل ہو جائے اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔ ف : علماء نے کہا ہے کہ جس شخص کو فضائل اعمال کے بارے میں کوئی عدیث لے تو اس کو چاہے کہ کم از کم عمر میں ایک مرتبہ اس عمل کرے۔ مرقات

جنت میں محل تیار کرے نے والی سورت

Anas (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (ﷺ) said: "Whoever lies on his right side in bed and recites 'Say: He is Allah, the One' one hundred times, on the Day of Judgment Allah will say: 'O My servant, enter Paradise on your right.'" [Narrated by Tirmidhi who said: "This hadith is hasan gharib"]

(2) His statement: "Enter, etc." The scholars said: It is recommended for someone who learns about the virtues of certain deeds to act upon them at least once, even if the hadith is weak, as it is agreed upon to act upon it in such cases. This was mentioned in Al-Mirqat.

3112

قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ۢ پڑے تو اس کے لے جنت میں محل فرما تے ہیں کہ جو شخص دس مرتبہ سورۃ

بنادیا جاتا ہے اور جو میں مرتبہ اس سورہ کی تلاوت کرتے تو اس کے لے دو محل جنت میں بنادے جاتے ہیں اور جو میں مرتبہ اس سورت کو پڑے تو اس کے لے تین محل جنت میں بنادے گے جاتے ہیں۔ یس کر حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے فرما یا: خدا کی قسم یارسول اللہ تو ایسی صورت میں بہت سے محل بنادیس گے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما یا: اللہ تعالی اس سے زیادہ وسیع رحمت

و ا لے پیں۔ اس کی روایت دارمی نے کی ہے۔

السورۃ کا بیان جن کورات میں دم کر کے سوناچاپے

Sa'id ibn al-Musayyab reported in a mursal narration that the Prophet (ﷺ) said: "Whoever recites 'Say: He is Allah, the One' ten times will have a palace built for him in Paradise. Whoever recites it twenty times will have two palaces, and whoever recites it thirty times will have three palaces." Umar said: "Then our palaces will be many!" The Prophet (ﷺ) said: "Allah is more generous than that." [Narrated by al-Darimi]

3113

_ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آپ فرماتی ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برشب سونے کے لئے جب بستر پر تشریف لے جاتے تو دونوں ہاتھوں کو

کھول کر ملا لیتے اور سورہ "قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَق، اور قُلْ أَعُوذُ

برَبِّ النَّاس" پڑھ کر دونوں ہاتھوں میں پھوکتے پھر دونوں تھیلیوں کو پینے پورے جسم پر جہال

تک کہ ہاتھوں پہو چتا ہے مل لیتے کہ ابتداء مسرت فرامانتے پھر پچرتے کو ملتے پھر جسم کے اگل حصہ کو ملتے

اوراس کے بعد جسم کے پچھلے حصے کو ملتے)اور عمل یعنی سورۃ کا پڑھنا ہاتھوں پردم کرنے اورجسم پر

ملنا تین وفعفرما تے۔ اس کی روایت بخاری اورمسلم نے متفرق طور پر لی ہے۔

ف: امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے کہاہے کہ دعاوں کودم کر کے پھونکنا مستحب ہے اوراس کے

جواز پر جمہور علماء نے اتفاق کیا ہے۔ اور جمہور صحابتا بعین اوربعد کے علماء نے دعاوں کے دم کرنے

اور پھونکنے کومستحب قرار دیا ہے۔12

معوز تین کی فضیلت

Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: "When the Prophet (ﷺ) went to bed each night, he would cup his hands, blow into them, and recite Surah al-Ikhlas, Surah al-Falaq, and Surah an-Nas. Then he would wipe over as much of his body as he could, starting with his head and face. He would do this three times." [Agreed upon]

(1) His statement: "Then he blew into them, etc." Al-Nawawi said: It is recommended to blow during ruqyah (spiritual healing), and there is consensus on its permissibility. The majority of the Companions, their followers, and those after them recommended it.

3114

وعقبہ بن عامر رضی اللہ عنه سے روايت ہے وہ فراماتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ایک دفعہ صحابہ کرام سے فرمايا کہ مجرب آیات میں جوآن ج کی رات اتاری گئی ہیں ان کے

مش (دفع سحر اورحفظ بلیات میں ایک)اورآیتین دیکھی گئیں اوروہ "قُلْ أَعُوذُ برَبِّ الْفَلَق، اور قُلْ أَعُوذُ برَبِّ النَّاس" کے سورۃ کی آیتین ہیں۔ اس کی روايت مسلم نے لی ہے۔

وعقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فراماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ صحابہ کرام سے فرمایا کہ مجرب آیات میں جوآن ج کی رات اتاری گئی ہیں ان کے

مش (دفع سحر اورحفظ بلیات میں ایک)اورآیتین دیکھی گئیں اوروہ "قُلْ أَعُوذُ برَبِّ الْفَلَق، اور قُلْ أَعُوذُ برَبِّ النَّاس" کے سورۃ کی آیتین ہیں۔ اس کی روایت مسلم نے لی ہے۔

الیہا دوسری حدیث

Here is another hadith

3115

ابوائے کے درمیان (جو کہ اور مدینہ کے درمیان واقع ہیں۔ جس کا بھٹا کراچا کے تحت آندیا اور طوفان وطار کی نے آگیرا تورسول اللہ علیہ وسلم سورۃ "قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَق، اور قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاس" (کی تلاوت) کے ذریعے (اس طوفان) سے پناہ ما لگے گے اور فرماتے گے اے عقبہ تم مجھی ان رسول توں کو پڑھ کر پناہ ما نگا کرو کیونکہ جس نے ان رسول توں کے ذریعے پناہ ما لگی بحقیقت اس نے بہترین طریقت سے پناہ ما لگی۔ اس کی روایت ابوداوود نے کی ہے۔

Uqbah ibn Amir (may Allah be pleased with him) narrated: "While I was traveling with the Messenger of Allah (ﷺ) between al-Juhfah and al-Abwa', we were enveloped by strong winds and darkness. The Prophet (ﷺ) began seeking refuge with 'Say: I seek refuge with the Lord of the daybreak' and 'Say: I seek refuge with the Lord of mankind,' saying: 'O Uqbah, seek refuge with them, for no one can seek refuge with anything better than them.'" [Narrated by Abu Dawud]

سورۃ کی فضیلت
3116

عبد اللہ بن خُبیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ تم اپنے رات بازش اور سخت تار کی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کرنے گئے اور تم نے حضور کو راستے میں پالیا تم کو کیا کر حضور نے فرمایا: پڑھو میں نے عرض کیا: (یا رسول اللہ) کیا پڑھوں تو آپ ارشاد فرمايا سورة قُلْ هُوَ اللہُ أَحد، سوره قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَق اور سورۃ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاس"، کو صح اور شام میں دفعہ پڑھیا کرو تو پی (وظیفہ) تم کو برچیز کے (ثرث) محفوظ و پچاے رکے گا۔ اس کی روایت ترمذی ابوداوداورنسائی نے کی ہے۔

Abdullah ibn Khubayb (may Allah be pleased with him) narrated: "We went out on a rainy and extremely dark night looking for the Messenger of Allah (ﷺ) to lead us in prayer. When we found him, he asked: 'Have you prayed?' I didn't answer. He said: 'Say...' but I remained silent. After repeating this three times, I asked what to say. He said: 'Recite "Say: He is Allah, the One" and the two refuge-seeking surahs (al-Falaq and an-Nas) three times each morning and evening - they will suffice you against everything.'" [Narrated by Tirmidhi, Abu Dawud, and Nasa'i]

معوذتین کی فضیلت
3117

عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا :یا رسول اللہ (دفع آفات اور حفظ بلیات کے لیے) سورۃ هود پڑھا کرولیا سورۃ یوسف؟ تو حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: اس معاملے میں اللہ تعالی کے نزدیک سورۃ "قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَق" سے بڑا کر اور کوئی سورۃ مفید نہیں ہے۔ اس کی روایت امام احمد، نسائی اور دارمی نے کی ہے۔

ف(1): صاحب مرقات نے کہا ہے کہ اس حدیث شریف میں وق بليات اور حفظ آیات کے لے "قل أعوذ برّب الفلق" کا جوڑ کرہوہ بلطو رک فايت کے سہورندوسري حدیثول کے پیش نظر جواکی اوپرگذری پین قریبنہ پیسے کسورۃفلق کے ساتھ سورۃناس کی پڑناچاپے -12 ف(2): صدر کی حدیثول میں قل أعوذ برّب الفلق اور قل أعوذ برّب الناس کی تلاوت کے لے بسم اللہ الرحمن الرحیم کے پڑهن کاز کرنہیں باس سے ثابت ہوتاہے کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم سورتول کا جزو نہیں ہےاور پیحدیثنہ پیمسک کی تانتیر کرتی پین کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم سورتول کے درمیان فصل پیدا کرنے کے لے نازل کی گئی ہےاور سورتول کا جزو نہیں ہے

Uqbah ibn Amir (may Allah be pleased with him) said: "I asked: 'O Messenger of Allah, teach me Surah Hud or Surah Yusuf.' He said: 'You will never recite anything more comprehensive before Allah than "Say: I seek refuge with the Lord of the daybreak."'" [Narrated by Ahmad, Nasa'i, and al-Darimi]