Nūr al-Maṣābīḥ
باب و جوبها

The Obligation of Friday Prayer
Volume 3 · Prayer

(اس باب میں نماز جمعہ کا فرض عین ہونا ثابت کیا گیا ہے )

In this chapter, it is established that the Friday prayer (Salat al-Jumu'ah) is an individual obligation (Fard 'Ayn).

وقول الله عزوجل يا ايها الذين امنوا اذا نودي للصلاه من يوم الجمعه فاسعوا الي ذكر الله الل تعالي كا ارشاد سور جمع ع ايت نمبر مي ا

ايمان والو! جب جمعہ کے روز نماز جمعہ کے لئے (پہلی) ازان دی جائے تو تم اللہ کی یاد میں نماز اور خطبہ کی طرف فوراً چل پڑا کرو - ( حسیا کے تفسیرات احمدیا و رد مختار میں ذکور ہے -12)

نماز جمعہ تک کرنے کی وعید پہلی حدیث

O believers! When the (first) call to prayer is made on Friday for the Friday prayer, you should immediately proceed towards the prayer and the sermon in remembrance of Allah - (as mentioned in the interpretations of Haseya, Ahmadia, and Rad Maktar - 12)

2071

عبداللہ بن عمر اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، یہ دونوں حضرات فرماتے ہیں کہ ہم کو خوب یاد ہے کہ ایک مرہ شریف پرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہوئے اور ہم سن رہے تھے کہ لوگ جمعہ کی نماز چھوٹے نے سے بازار جاتے ہیں (اور پابندی سے جمعہ پڑھا کرتے ہیں) ورنہ یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ جمعہ کی نماز ترک کرنے والوں کے دولت پر مہر لگادی یے گے ( جس سے ان کو عبادت کی توفیق نہیں ہوگی )۔ اصل مہر تو کافرون کے دل پر لگائی جاتی ہے، جمعہ چھوٹے نے والوں کے لئے بھی کافرون کا سا برتا ہی جائے گا کہ ان کے دولت پر بھی مہر لگائی جائے گی، جس سے ان کے دولت پر بھی ایمان زگ آئے گا کہ پیسی ) نا فلمین کے گروہ میں شمار کے جائیں گے (اور کافرون کے جیسے اخلاق ان سے ظاہر ہوں گے )۔( اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے )

دوسری حدیث

Ibn Umar and Abu Hurairah (may Allah be pleased with them) reported: "We heard the Messenger of Allah (ﷺ) say from his pulpit: ‘People must stop neglecting Friday prayers, or else Allah will seal their hearts, and they will be among the heedless.’" [Narrated by Muslim]

2072

ابو الْجَعْد ضمیری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے و فرماتے ہیں کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص (بغیر عذر کے) محض ستی اور غفلت کی وجہ سے تین نماز جمع (متواتر) تڑک کر دے تو اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے (جس سے اللہ تعالیٰ کا فیض اس کے دل سے رک جاتا ہے اور جہمل، غفلت اور نفاق سے اس کا دل بھر جاتا ہے اور ایمان کا نور اس کے دل سے جاتا رہتا ہے)۔ (جبیا کہ مرقات اور زرقانی میں ذکور ہے۔12)

(اس حدیث کی روایت ابوداود، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ اور دارمی نے کی ہے۔)

Abu al-Ja’d al-Damiri (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Whoever neglects three Friday prayers out of laziness, Allah will seal his heart.’" [Narrated by Abu Dawud, Al-Tirmidhi, Al-Nasa’i, Ibn Majah, and Al-Darimi while Malik narrated it from Safwan ibn Sulaym, and Ahmad narrated it from Abu Qatadah]

2073

اورامام ماکر نے اس کی روایت صفوان بن سلمہ سے کی ہے

Imam Makki narrated it from Sufyan ibn Salama
2074

اورامام نہجی اس کی روایت ابوقادر رضی اللہ عنہ سے کی ہے۔

تیسری حدیث

Imam Naji reported it from Abu Qatadah (RA).

The third hadith

2075

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص بغیر کسی ناگزیر ضرورت کے جمع کی نماز تڑک کر دیتا ہے وہ منافق کہ دیا جاتا ہے، ایسی کتاب میں جو تغیر و تبدیل سے محفوظ ہے (یعنی اس کے نفاق کا حکم بمیش رہے گا۔ حال اگر توبہ کر لے یا رحم الرحمین محض اپنی عنايت سے معاف فرامای تو پیدومری باقی ہے)۔ ایک روایت تو ایسی ہے اور دوسرا روایت میں یہ کہ جو بغیر کسی ناگزیر ضرورت کے تین جمع چھوڑ دے تو اس کا نام منافقول میں کہ دیا جاتا ہے۔ (پیدونول روايتیں امام شافعی رحمہ اللہ نے کی ہیں۔)

چوتھی حدیث

Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated: "The Prophet (ﷺ) said: ‘Whoever skips Friday prayer without a valid excuse will be recorded as a hypocrite in a book that will not be erased or changed.’"

In some narrations: ‘...three times.’ [Narrated by Al-Shafi’i]

2076

ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ

علیہ وآلہ وسلم نے نماز جمعہ میں شرکی نہ ہونے والے لوگوں کے متعلق ارشاد فرمایا تھا کہ میرا پختہ ارادہ ہوا تھا کہ کسی شخص کو نماز جمعہ پڑھانے پرامور کر کے خود جاکر نماز جمعہ سے غیر حاضر رہنے وا لے لوگوں کو مکانول سمیت جلا ذوالول - ( لیکن حضور رحمۃ اللہ علیہ میں یہ ایمانہیں کہ - اس سے نماز جمعہ کی اہمیت تاکید اور فرضیت معلوم ہوتی ہے کہ جو نماز جمعہ کا تارک ہو گا وہ اس عذاب کا مستحق ہو گا ) - ( اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے - )

ف : اس حدیث شریف میں نماز جمعہ میں شرکی نہ ہونے والے لوگوں کے متعلق ارشاد ہے کہ کسی شخص کو نماز جمعہ پڑھانے پرامور کر کے خود جاکر نماز جمعہ سے غیر حاضر رہنے والے لوگوں کو مکانول سمیت جلا ذوالول - بہال بیشہ پیدا ہوتا ہے کہ فرض جمعہ کوترك کر کے گروہ کے جلالے میں مشغولیت کی اختیار کی جائے گی - اس بارے میں صاحب مرقات نے فرمایا ہے کہ کوئی مقام بناؤر جائے میں جائے والے سے فرض جمعہ ترک نہیں ہو گا - اس لیے کہ وہ دوسرا جلد جمعہ اداء کرسکتا ہے اور دوسرا جلد جمعہ ادا کرنے اس وقت ہوسکتا ہے جبکہ شہر میں متعدد جلد جمعہ ادا ہورہا ہو - اور جمعہ کا شہر میں متعدد جگہوں پر جائز ہونا امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا رائے قول ہے اور امام محمد رحمہ اللہ کا قول بھی اس طرح ہے اور اس قول راجح ہے ایک شہر میں کئی مقامات پر جمعہ کے قائم کرنے پرفتوی ہے - علماء ابن اہم ام رحمہ اللہ نے امام نرسی رحمہ اللہ کا قولاً کہا ہے کہ ذہب حقی میں فتوی اس پر ہے کہ جمعہ شہر کی دو یادوں زائد مسجدوں میں جائز نہیں ( مرقات - درمتار )12

نماز جمعہ ترک کرنے سے جو کفارہ آتا ہے اس کا بیان

Ibn Mas’ud (may Allah be pleased with him) narrated: "The Prophet (ﷺ) said to people who neglected Friday prayers: ‘I was about to appoint someone (1) to lead the people in prayer and then burn the houses of those who skip Friday prayers.’" [Narrated by Muslim]

(1) "If you ask: How can the leader abandon the obligation of Friday prayer and focus on this? The answer is: It does not mean that the leader abandons Friday prayer entirely, as it can be repeated. In Sharh al-Munyah: ‘Friday prayer is only valid in one place in a city, according to the apparent narration from Abu Hanifah. However, Muhammad said it is permissible in multiple places, and this is considered the more correct view. Abu Yusuf said it is permissible in two places only. Ibn al-Humam said: Al-Sarakhsi stated that the correct view in Abu Hanifah’s school is that it is permissible to hold Friday prayer in two or more mosques in one city. This is based on the general statement: “No Friday prayer except in a city.” If this condition is met in each place, Ibn al-Humam said: This is the more correct view.’ Thus, the issue is resolved. This is mentioned in Al-Mirqat."

2077

علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص بغير عذر کے ( کستی اور کابلی سے ) نماز جمعہ ترک کرتا ہے ( سا بقہ وعید کی حد ثول سے بھی متاثر نہیں ہوتا ہے ) تو اس کو چاہے کر ایک دینار یا نصف دینار خیرات کرے ( مال کا خرچ کرنا نفس پر ست برہمت گردان ہوتا ہے ) ( یا ایک دینار ساٹھ ہی چار ماشہ

سون کا ہوتا ہے۔12) مال کے پچانے کے خیال سے، مال کے خرچ کا باراس پڑنے کے

خوف سے بھی وہ جمع زک کرنا چھوڑ دے گا، اس لئے نماز جمعہ تک کرنے کا ایک بھی علاج بتایا گیا

ہے اس میں دوسرا فائدہ یہ بھی مضمر ہے کہ یہ خراب دور میں کا بھی ذرائع ہے۔)

(اس حدیث کی روايت امام احمد، ابو داوداور ابن ماجہ نے کی ہے)

نماز جمعہ کے واجب ہونے کی شرائط بھی ہیں:

(1) مقیم ہونا، مسافر پرنماز جمعہ واجب نہیں (2) تندرست ہونا، مریض پرنماز جمعہ واجب نہیں

(3) آزاد لیکن غلام نہ ہونا، غلام پرنماز جمعہ واجب نہیں (4) مرد ہونا، عورت پرنماز جمعہ واجب نہیں

(5) عاقل ہونا، دیوانہ پرجمعہ واجب نہیں (6) بالغ ہونا، پچول پرجمعہ واجب نہیں -

جمعہ واجب ہونے کے پرشرائط یعنی انشرائط کے نہ پائے جانے کے باوجود اگر کوئی شخص

نماز جمعہ پڑھے لے، مثلًا مسافر یا مریض جمعہ پڑھے لے تو ان کا جمعہ اداء ہوجائے گا اور فرض ظہر کی ادائی

ان سے ساقط ہوجائے گی -

نماز جمعہ کے اداء لیکن تے ہونے کی شرائط بھی ہیں:

مصر ( لیکن جس جگہ جمعہ ادا کیا جارہا ہے اس کا مصر لیکن شہر ہونا - فقہ حنفی کے روے ضروری

ہے - مصر تے مراد وہ مقام جہاں کے لوگ جمع ہول تو وال کی برتری مسجد میں نہ سکیں ) یا فنا ئمصر

( حدود مصر کے بعد تے ایک فرسخ لیکن تین میل کا علاقہ فناء مصر کہلاتا ہے ) یا چھوٹے قصبے، کیطرے یا

جگل میں نماز جمعہ درست نہیں -

ظہر کا وقت - وقت ظہر کے پہلے اور ظہر کا وقت نکل جانے کے بعد نماز جمعہ درست نہیں -

خطبہ - بغیر خطبے کے نماز جمعہ نہوگی -

خطبہ کا نماز سے پہلے ہونا - نماز کے بعد خطبہ پڑھا جائے تو نماز نہیں ہوگی -

خطبہ وقت ظہر کے اندر ہونا، وقت ظہر شروع ہونے سے پہلے خطبہ پڑھ لیا جائے تو نماز

جمعہ نہوگی -

جماعت بھی امام کے سوا کم از کم تین آدمیوں کا شرط و ع خطبے پہلی رکعت کے پہلے سبر ہے۔

تمام موجودوں کا اگر سیرۃ اولی سے پہلے ان تین آدمیوں میں سے ایک بھی چلا جائے تو نماز فاسد

ہوجائے گی، بالا اگر پہلی رکعت کا سجدہ اولی کرنے کے بعد چلا جائے تو کوئی حرج نہیں۔

اس مقام پر نماز جمعہ پڑنا جہاں نماز جمعے کے لئے آنے کی لوگوں کو عام اجازت ہو، اگر

کسی ایسے مقام میں نماز جمعہ پڑھی جائے جہاں لوگوں کو آنے کی عام اجازت نہ ہو یا مسجد کے

دروازوں بندر کے نماز جمعہ پڑھی جائے تو نماز جمعہ نہوگی، جمعہ کے اداء کی نہیں ہوئے کے بیشتر اظہر

ہیں، ان شرائط کے نہ پائے جانے کے باوجود اگر کوئی شخص نماز جمعہ پڑھے لے، مثلًا جنگل میں پڑھے تو

اس کی نماز جمعہ نہ ہوگی۔ اور اس کو فرض ظہر پڑھنا ہوگا۔ الحاصل جمعہ کے وجب اور جمعہ کے اداء

میں فرق یہ ہے کہ وجب کے شرائط نہ پائے جانے کے باوجود اگر کوئی نماز جمعہ پڑھے لے تو نماز جمعہ

اداء ہو جائے گی اور ظہر کے فرض اس سے ساقط ہو جائے گی۔ اس کے برخلاف اگر کوئی شخص جمعہ کے

اداء کے شرائط نہ پائے جانے کے باوجود جمعہ پڑھے لے تو نماز جمعہ درست نہ ہوگی۔ اور اس کو فرض ظہر

پڑھنا ہوگا (رد المختار، بدایہ، شرح وقایع ملتیقی)۔ جمعہ کے وجب کے شرائط اور جمعہ کے اداء کی صحت

کے شرائط تو آپس میں چھگر عام طور پر ایک غلطی ہوتی ہے۔ اس کا ازالہ بھی ضروری ہے۔ عموماً یہ مجھا

جارہا ہے کہ جمعہ کے شرائط میں دارالاسلام کا ہونا بھی ضروری ہے۔ دارالحرب میں جمعہ قائم کرنا تو

نبی کے، اس بارے میں کوئی دلیل میں نہیں۔ معلوم نہیں کہ پیغمبر علیہم نے کہاں سے نقل لی

ہے۔ فقہ میں اس کا کہیں تذکرہ نہیں ہے، دارالحرب میں یا دارالامن ان دونوں میں جمعہ قائم کرنا چاہے، جمعہ

اداء ہو جائے گا۔ پھر ظہر پڑھنے کی ضرورت نہیں، شاہ عبد العوام کو اس سے دعوا کا ہور بات کر رسول اللہ صلی

اللہ علیہ وآلہ وسلم کہ معظم میں جبکہ وہ دارالحرب میں جمعہ نہیں ادا کرتے تھے۔ حالانکہ حضرت صلی اللہ علیہ

وآلہ وسلم کا مکہ کے مرہ میں جمعہ پڑھنا دارالحرب میں ہوئی کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ اس وجہ سے جمعہ نہیں

پڑھاگیا کہ کفار جمع قائم کرنے میں نہیں دیتا تھا۔ اس لئے دارالاسلام کی طرح دار الحرب اور دار الامن میں جمع قائم کرنا چاہئے اور ظہر پڑھنے کی ضرورت نہیں۔ اس تمہید کو ذہن نشین رکھ کر زیل کے احادیث کو پڑھیں:

پہلی حدیث

Tariq ibn Shihab (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Friday prayer is an obligatory duty for every Muslim in congregation, except for four: a slave, a woman, a child, or a sick person.’" [Narrated by Abu Dawud while In Sharh al-Sunnah, it is narrated with the wording of Al-Masabih from a man from Banu Wa’il]

(1)  "This means that performing Friday prayer in congregation is a condition, as agreed upon, though there is disagreement about the number required. According to Abu Hanifah and Muhammad, it is three men besides the Imam. Abu Yusuf said it is sufficient with the Imam, as two people with the Imam constitute a congregation. Others said that congregation and the Imam are separate conditions, so a group besides the Imam is required. This is based on the verse: ‘When the call is made for the prayer on Friday, hasten to the remembrance of Allah...’ (Qur’an 62:9), which implies a caller (Mu’adhin) and a leader (Imam), and at least two people responding, as the word ‘hasten’ does not apply to fewer than two. Additionally, fewer than three is not considered a congregation in linguistic terms. The condition of congregation is absolute here. Al-Shafi’i required the presence of forty free, adult, resident men who hear the sermon, based on Jabir’s narration: ‘The Sunnah is that every three people have an Imam, and every forty or more have Friday and Eid prayers.’ However, this narration is weak, and Al-Bayhaqi said: ‘It is not a proof.’ This is mentioned in Sharh al-Nuqayah."

تمهيد
نمازجمعہ کی ادائیگی کی ایکشرط
2078

ابوعبد الرحمن سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ(نمازجمعہ کی ادائیگی کے شرائط میں سے پیٹ کر) نمازجمعہ جامع (جسیا سے مقام پر) اداء کی جائے (کہاگروبال کے لوگ اس مقام کی بردی مسجد میں جمع ہون تو اس مسجد میں نماز کیں، مصر سے کم از کم ایسی مقام مراد ہے اور اس سے زیادہ خواہ کتنی بھی امتقام ہو وہ مصر ہی کہلاے گا) حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہی فرمایا کہ تعبیرات تشریعیہ مصراجامع میں ہی پڑھی جائیں -(اس کی روایت ابن ابی شیبا نے سنن میں کے ساتھ کی ہے-)

Abu Abd al-Rahman al-Sulami reported: "Ali (may Allah be pleased with him) said: ‘There is no Friday prayer or Eid prayer except in a central city.’" (3) [Narrated by Ibn Abi Shaybah with a sahih chain, as a mawquf narration]

Abd al-Razzaq, Al-Bayhaqi, Abu Ubaid in Al-Gharib, and Al-Marwazi in Kitab al-Jumu’ah narrated similar mawquf reports. A mawquf narration in such cases is equivalent to a marfu’ narration.

Al-Allamah Al-Ayni said: ‘Abu Zayd claimed in Al-Asrar that Muhammad ibn al-Hasan narrated it as marfu’ from Mu’adh and Suraqah ibn Malik. Al-Nawawi said: The Hadith of Ali is weak, and its chain is weak and disconnected. However, it seems he was unaware of the narration through Jarir from Mansur, which has a sahih chain.’

(3) "This means that Friday prayer is only valid in a central city, based on these narrations. This is because the Prophet’s city (Madinah) had many surrounding villages, and it is not reported that he ordered Friday prayer to be held there. This is mentioned in Sharh al-Nuqayah."

2079

اورعبد الرزاق، نہیں اور ابو عبید نے جس کی روایت کی ہے-

And 'Abd al-Razzaq, and Abu Ubayd have narrated -
2080

اور مر وزی نے اس کی روایت کتاب الجامع میں اس طرح کی ہے اور علماء عینی رحمۃ اللہ نے البوزید رحمۃ اللہ کے حوالے کے لئے کرام محمد بن احسن رحمۃ اللہ نے فرمایا ہے کہ اس حدیث کی روایت حضرت معاز اور حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہما نے مرفوعاً کی ہے-

دوسری حدیث

It is narrated by Mar Wazi in his book Al-Jami' and Imam Aini (may Allah have mercy on him) has referred to Al-Buzayd (may Allah have mercy on him) through Karam Muhammad bin Ahmad (may Allah have mercy on him) that this hadith was narrated as marfu' by Hz. Mu'az and Hz. Suraqah bin Malik (may Allah be pleased with them both):

Another hadith

2081

حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ(نمازجمعہ کے اداء کرنے کے شرائط میں سے پیٹ کر) نمازجمعہ (کم سے کم)مصر جامع میں اداء کی جائے-(جس کی تعریف اسی گزر چکی ہے)(زیادہ سے زیادہ کی کوئی حد

نہیں ) بلکہ سے بلکہ شہر میں جسی جمع قائم ہوتا ہے (اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پیغمبر کے ) تکبیرات تشریق، نماز عیدالفطر اور نماز عیدالفطر کے ( کم سے کم ) مصر جامع میں اداء کرنا چاہئے - ( ان کے لئے جسی زیادہ سے زیادہ کی کوئی حد نہیں ) ان نمازوں کو بلکہ سے بلکہ شہر میں جسی اداء کرنا چاہئے - ( اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے کی ہے اور ابن حزم نے اس کو تحقیق اردیا ہے - )

Al-Harith reported from Ali (may Allah be pleased with him): ‘There is no Friday prayer, Eid prayer, or Eid al-Adha prayer except in a central city or a large town.’" [Narrated by Ibn Abi Shaybah as a mawquf narration, and Ibn Hazm authenticated it]

تبصرہ حدیث
2082

- ابوبهریه رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ( کہ جمع کے اداء کرنے کے شرائط میں سے یہ کہ نماز جمعہ مصر میں اداء کی جائے گی، اگر کوئی جنگل یا کھیڑے میں جمعہ ادا کرے تو اس کا جمعہ نہیں ہوگا - اس کو ظہر پڑھنا پڑے گا اب ربا فاقۃ مصرقو ) فنا ئمصر میں ( جسی مصر کی طرح ) جمعہ ہوتا ہے ( ظہر پڑھنے کی ضرورت نہیں، فنا ئمصر کے کیا مراد ہے اس کو اس حدیث میں بتلا یا گیا ہے کروہ مقام جس کوفنا ء مصر کہتے ہیں، وہ مصر کے اتنے فاصلہ پر ہو کر ) اگر کوئی و بال سے نماز جمعہ کے لئے مصر میں آنے تو وہ اطمینان کے ساتھ نماز جمعہ کے بعد اپنے مقامات کورات سے پبل پہو چے گے ( جس کی مقدار ایک فرسخ بھی نہیں میل ہے ) - ( اس حدیث کی روایت ترنذی نے کی ہے - )

It is narrated from Abu Buraydah (RA) that he said:

The Messenger of Allah ﷺ said: 'Among the conditions for the validity of Jumu'ah prayer is that it be performed in a city. If someone performs Jumu'ah in the wilderness or in a field, his Jumu'ah will not be valid, and he will have to pray Dhuhr. Now, when it is said 'in a city' (fī al-madīnah), it means a place that is considered a city. The meaning of 'a city' (al-madīnah) is explained in this hadith as a place that is called a city, which is at a distance from the city such that if someone leaves it to perform Jumu'ah in the city, they can return to their place after Jumu'ah with certainty, even though the distance may be less than one farsakh.' - This hadith has been narrated by Tirmidhi.

چوٹی حدیث
2083

- قباء کے رہن والوں میں سے ایک شخص اپنے والد سے جو وہ صحابی ہیں روایت کرتے ہیں کہ ان کے والد نے کہا کہ تم لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا کہ ( وجوب کے طور پر نہیں بلکہ ثواب حاصل کرنے ) تم مسجد نبوی میں جمعہ اداء کرنے کے لئے قباء سے مدینہ منورہ آیا کریں ( اس سے معلوم ہوا کہ فنا ئمصر میں جمعہ قائم کرنا چاہئے، ظہر پڑھنے کی ضرورت نہیں، اگر کوئی فنا ئمصر سے جمعہ اداء کرنے کے لئے مصر آنا چاہے تو یاس کے لئے واجب نہیں بلکہ مستحب ہوگا )

اس حدیث کی روایت تنزہی نے کی ہے۔ (جسیا کو کہب دری میں ذکورہے۔12)

پاچھویں حدیث

A man from among the inhabitants of Quba' reported on the authority of his father, who was a Companion, that his father said: 'The Messenger of Allah ﷺ instructed you, O people,

to come to Madinah from Quba' to perform Jumu'ah prayer in the Prophet's Mosque, not as an obligation but to earn reward. It became evident that Jumu'ah should be established in Fana' al-Misr (a small village), and there is no obligation to perform Dhuhr prayer; if anyone from Fana' al-Misr wishes to come to the city to perform Jumu'ah, it is not obligatory but recommended.'

2084

جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (ایک دن)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کو خطیب دیے (اس خطیب میں) ارشاد ہوا کہ لوگو! موت آنے سے

پہلے تو بھکرلو ورنہ (موت آنے کے بعد تو بھکر کر سکوگے) اور دوسرے کاموں میں پچھ جانے سے

پہلے نیک کاموں کے کرنے میں جلدی کرو (کیا معلوم کہ پھر تم سے نیک کام نہ ہوسکے، اللہ تعالیٰ سے

تعلق ہوکر دنیا سے نہ جاؤ) تم اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق مضبوط کرلو، اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرنے

کے لئے (ایک تو) اللہ تعالیٰ کا کثرت سے ذکر کرنا چاہیے۔ (اور دوسرے) علا نیا اور جھپا کر کرنا

سے خیرات کیا کرو کہ اللہ تعالیٰ کا ذکراور خیرات اللہ تعالیٰ سے تمہارے تعلق کو مضبوط کر دینے گے (جب

اللہ تعالیٰ سے تمہارا تعلق قوی ہوگا تو تم کو رزق کی فکر کی ضرورت نہیں) ہوگی، غیب سے تم کو رزق دیا

جا گا اور اللہ تعالیٰ تمہاری مدد فرما ئیں گے اور تمہاری تائید کی جائے گی اور تمہاری شکست حالت کو

درست کیا جائے گا (یقین مانو کہ اللہ تعالیٰ سے تمہارا تعلق جتنی امور سے مضبوط ہوتا ہے مجمل ان کے

ایک نماز جمعہ ہی ہے) اور نماز جمعہ میں ایسے مقام، میں ایسی دن، میں ایسی ماہ اور میں ایسی

سال میں تم سب پر قیامت کے کے لئے فرض قرار دی گئی ہے پس میں ایسی زندگی میں یا میں بعد

خلیفہ وقت کے ہوتے ہوتے چاہے وہ عادل ہو یا ظالم کوئی نماز جمعہ حقیر سمجھ کر یا جمعہ کا مقرر بن کر

نماز جمعہ تک کر دے تو اللہ تعالیٰ اس کی پریثان حالی کو دور کرے اور اس کے کا مون میں برکت نہ

دے، سنو! جب تک کہ وہ تو بہ کر کے نماز جمعہ کا پابند نہ ہوجائے۔ اس وقت تک نتو اس کی نماز قبول

ہوگی اور نہ اس کی زکات اداہ ہوگی اور نہ اس کا نہ مقبول ہوگا اور نہ روزہ اور نہ اس کی کوئی نہیں قبول

ہوگی۔ پھر اگر وہ تو بہ کر کے نماز جمعہ پابندی سے پڑھا کر تو اللہ تعالیٰ اس کی تو بہ قبول فرما ئیں گے

(اوراس کے دوسروں عبادات کے قبول فرما نیسےگے)-

(اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے اور جہت نے اس کی روایت سنن میں کی ہے اور بزاز نے بھی

اس کی روایت کی ہے-)

Jabir ibn Abdullah (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) addressed us, saying: ‘O people, repent to Allah before you die, hasten to perform good deeds before you become preoccupied, and strengthen your connection with your Lord by frequently remembering Him and giving charity in secret and openly. You will be provided for, supported, and compensated. Know that Allah has made Friday prayer obligatory for you in this place, on this day, in this month, and in this year until the Day of Resurrection. Whoever neglects it during my lifetime or after my death, whether under a just or unjust ruler, out of disregard or denial, Allah will not unite his affairs, nor bless his matters. Indeed, his prayers, charity, Hajj, fasting, and good deeds will not be accepted until he repents. Whoever repents, Allah will accept his repentance.’" [Narrated by Ibn Majah, Al-Bayhaqi in Al-Sunan, and Al-Bazzar while Al-Tabarani narrated a similar version in Al-Awsat from Ibn Umar (may Allah be pleased with him)]

2085

اور برائے نے اس کی روایت اوسط بن ابمرضی اللہ عنہما سے ای طرح کی ہے-

ف: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نمازجمع کے اداء کرنے کے ثواب میں سے ایک ثواب یہ ہے

کہ نمازجمع کو سلطان قائم کرے۔ یا سلطان کے ازن اور اجازت سے قائم ہو، عمدۃ الرعايہ میں لکھا ہے

کہ فقہاء کی تحقیق سے معلوم ہوا کہ نمازجمع کے لئے سلطان کا ہونا یا سلطان کی اجازت کا ہونا اولویت

کے لئے ضروری نہیں ہے۔ خواہ پیشہ ور طاولویت کے واسطے ہو یا ضروری ہو اب پیشہ ور طبا قی نہیں رہی ہے

اس وجہ سے کہ 945 ہجری میں خلیفہ وقت نے تمام دنیا کے مسلمانوں کے لئے ازن عام دینے دیا ہے

کہ نمازہرامام اور خطیب پڑھا سکتا ہے اس لئے اب مزید کسی سلطان یا خلیفہ کی اجازت کی ضرورت نہیں

نہیں اور در مختار میں لکھا ہے کہ نماز الظهر نے اس پرفتوی دیا ہے

چہلم حدیث

From this hadith, it is understood that one of the rewards of performing the Friday prayer is that the Friday prayer should be established by a ruler or with the permission of a ruler. In 'Emda al-Ra'ayah, it is written that from the investigation of the jurists, it has been determined that the presence of a ruler or the permission of a ruler is not necessary for the priority of the Friday prayer, whether it is due to professional leadership or necessity. Now, professional leadership no longer exists for this reason: in 945 AH, the caliph of the time gave a general call to all Muslims to perform the Friday prayer and deliver the sermon, so there is no longer any need for the permission of a ruler or caliph. And in 'Durr al-Mukhtar,' it is written that the noon prayer has issued a fatwa on this matter.

2086

طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی

اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نمازجمع کی فرضیت (قرآن وحدیث سے) ثابت ہے اور (نماز

جمع) ہر مسلمان پر فرض ہے اور (نمازجمع کے اداء کی صحت کی شرائط میں ایک ثواب یہ ہے کہ نمام

جمع) جماعت سے پڑھی جائے (اگر نمازجمع جماعت سے نہ پڑھی جائے تو نمازجمع نہ ہوگی

جماعت سے مراد امام کے سوا کم سے کم تین آدمیوں کا ہونا ضروری ہے) (صدر میں ہر مسلمان پر

جمع کا فرض ہونا جو کہا گیا ہے وہ عام حکم نہیں ہے، اس سے کئی شخص مستثنیٰ ہیں) ایک غلام جو کسی کے

ملک میں ہو (اس پر جمع واجب نہیں) دوسرا عورت (اس پر بھی جمع واجب نہیں) تیسری بچری (اس

پر بھی جمع واجب نہیں۔ اس کے حکم میں مجنون بھی ہے کہ اس پر بھی جمع واجب نہیں) چوتھا (الیا) پیار

(جس کو جامع مسجد کے آنے میں وقت ہو، اس پر جمع واجب نہیں) اس کے حکم میں مسافر جیسے ہے

کہ اس پر جمع واجب نہیں۔ ان سب پر جمع واجب تو نہیں اور اگر یہ جمع کے لئے مسجد میں

آجا بھیں اور جمعہ پڑھیں تو ان کا جمع اداء ہو جائے گا اور ان کو ظہر پڑھنے کی ضرورت نہیں)۔

(اس حدیث کی روایت ابوداود نے کی ہے۔)

Tariq ibn Shihab (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Friday prayer is an obligatory duty for every Muslim in congregation, except for four: a slave, a woman, a child, or a sick person.’" [Narrated by Abu Dawud while In Sharh al-Sunnah, it is narrated with the wording of Al-Masabih from a man from Banu Wa’il]

(1)  "This means that performing Friday prayer in congregation is a condition, as agreed upon, though there is disagreement about the number required. According to Abu Hanifah and Muhammad, it is three men besides the Imam. Abu Yusuf said it is sufficient with the Imam, as two people with the Imam constitute a congregation. Others said that congregation and the Imam are separate conditions, so a group besides the Imam is required. This is based on the verse: ‘When the call is made for the prayer on Friday, hasten to the remembrance of Allah...’ (Qur’an 62:9), which implies a caller (Mu’adhin) and a leader (Imam), and at least two people responding, as the word ‘hasten’ does not apply to fewer than two. Additionally, fewer than three is not considered a congregation in linguistic terms. The condition of congregation is absolute here. Al-Shafi’i required the presence of forty free, adult, resident men who hear the sermon, based on Jabir’s narration: ‘The Sunnah is that every three people have an Imam, and every forty or more have Friday and Eid prayers.’ However, this narration is weak, and Al-Bayhaqi said: ‘It is not a proof.’ This is mentioned in Sharh al-Nuqayah."

2087

اور صاحب ثرح السیر نے مصانع کے الفاظ سے بنو وال کے ایک

صحابت سے اس کی روایت کی ہے۔

نماز جمعے کے واجب ہونے کی شرطیں

Tariq ibn Shihab (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Friday prayer is an obligatory duty for every Muslim in congregation, except for four: a slave, a woman, a child, or a sick person.’" [Narrated by Abu Dawud while In Sharh al-Sunnah, it is narrated with the wording of Al-Masabih from a man from Banu Wa’il]

(1)  "This means that performing Friday prayer in congregation is a condition, as agreed upon, though there is disagreement about the number required. According to Abu Hanifah and Muhammad, it is three men besides the Imam. Abu Yusuf said it is sufficient with the Imam, as two people with the Imam constitute a congregation. Others said that congregation and the Imam are separate conditions, so a group besides the Imam is required. This is based on the verse: ‘When the call is made for the prayer on Friday, hasten to the remembrance of Allah...’ (Qur’an 62:9), which implies a caller (Mu’adhin) and a leader (Imam), and at least two people responding, as the word ‘hasten’ does not apply to fewer than two. Additionally, fewer than three is not considered a congregation in linguistic terms. The condition of congregation is absolute here. Al-Shafi’i required the presence of forty free, adult, resident men who hear the sermon, based on Jabir’s narration: ‘The Sunnah is that every three people have an Imam, and every forty or more have Friday and Eid prayers.’ However, this narration is weak, and Al-Bayhaqi said: ‘It is not a proof.’ This is mentioned in Sharh al-Nuqayah."

2088

جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ

وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس کو اللہ پراور قیامت کے آنے پر ایمان ہے اس پر جمع کے دونوں

جمعی نماز فرض ہے (اس سے معلوم ہوا کہ ہر مسلمان پر نماز جمعہ فرض ہے مگر حکم عام نہیں ہے،

چند لوگ اس حکم سے مستثنیٰ ہیں) ایک (ایک) پیار (جس کو جامع مسجد کے آنے میں وقت ہوا سے پر

جمعہ فرض نہیں) ایسے مسافر پر، عورت پر اپنے پریالے غلام پر جوکسی کی ملک میں سے جمعہ فرض

نہیں، جو شخص (نماز جمعہ چھوڑ کر) اپنے لعب میں مشغول ہوگیا ہو، یا تجارت میں لگا ہوا ہے تو اس کی

یہ پرواہی بتاتی ہے کہ وہ اللہ سے پر واہوگیا تو اللہ تعالیٰ مجھ اس سے پر واہو جاتے

ہیں، نہ دنیا میں اس کی مدد فرما یں گے اور نہ آخرت میں اس کو نجات دیں گے۔ نماز جمعہ چھوڑنے

والو! تم کو یا ور کھنا چاہتے ہو اللہ تعالیٰ کو تمہاری پرواہی نہیں، وہ سب سے پر واہے) سب اس کے

متاج ہیں، سب اس کی تعزیف کرتے رہتے ہیں (اے پہ نمازی تیرے نماز نہ پڑھنے کی

تعزیف نہ کرنے کی اللہ کچھ پرواہی نہیں)۔ (اس حدیث کی روایت دار قطنب نے کی ہے۔)

Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Whoever believes in Allah and the Last Day must attend Friday prayer on Friday, except for a sick person, a traveler, a woman, a child, or a slave. Whoever is preoccupied with his livelihood or trade, Allah will have no need of him, and Allah is Self-Sufficient, Praiseworthy.’" [Narrated by Al-Daraqutni]