Nūr al-Maṣābīḥ
بَابُ التَّنْظِيفِ وَالتَّبْكِير

Cleanliness and Preparation for Friday Prayer
Volume 3 · Prayer

(اس باب میں جمع کے دونوں نماز جمع کے لیے غسل کرنا، اپنے پاس جوہرتوں کے لیے ہول وہ پینا

اور خوشبو تیل لگانا اور گھر سے جہال تک ہوسکے نماز جمع کے لیے جلد تک لنا ذکور ہے)

وقول اللہ عزوجل: "فَاسْعَوا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ" اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے

(سورۃ جمعہ پ28 ع2، آیت نمبر:9 میں) (نماز جمع کے لیے) جہال تک ہوسکے جلد سے جلد تک لا

کرو، اور آخر پیدا فروخت اور دوسروں کے مشاغل کو چھوڑ دیا کرو۔

نماز جمع کے آداب

In this chapter, it is mentioned that one should perform the ritual bath (ghusl) for both Friday prayers, drink water and apply fragrant oil for one's adornment, and hasten from home to the mosque as quickly as possible for the Friday prayer. And Allah, the Exalted, says: "So hasten to the remembrance of Allah and leave off trading," and the guidance of Allah, the Most High, is (in Surah Al-Jumu'ah, verse 9): to hasten from home to the mosque as quickly as possible for the Friday prayer, and to abandon buying and selling and other worldly affairs. The etiquettes of the Friday prayer.

2089

ابوسعید اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، یہ دونوں حضرات فرماتے ہیں

کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے جمع کے دونوں غسل کیا، اور

اس کے پاس جوہرتوں کے بین، اور ان میں سے جوائے کے بین (اور جوثر لیت میں ناجائز نہیں

ہیں) وہ پھر ناگراس کے پاس خوشبو توتواس کولگا یا پھرنماز جمع کے لیے مسجد میں آیا، اور (مسجد میں)

لوگوں کی گردول پرتے چلا گئے ہوئے نہیں گزرے (بلکہ جہال جلد میں وہیں پیٹ گیا) پھر جونماز اس کو

پڑھنا ہے پڑھا اور پھر جب امام خطب کے لیے اظہار وقت سے نماز ختم کرنے تک خاموش رہا تو

ایسے شخص کے وہ سب گناہ جوگزشتہ جمعتے اس جمع کے ہوئے بین وہ سب خش دے جاتے ہیں۔

(اس کی روایت البوداود نے کی ہے اور امام طحاوی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔ البوداود

اور امام طحاوی کی روایت میں ذکور الصدر الفاظ ہیں)

Abu Sa’id and Abu Hurairah (may Allah be pleased with them) reported:

"The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Whoever performs Ghusl (ritual bath) on Friday, wears his best clothes, applies perfume if available, attends Friday prayer without stepping over people’s necks, prays what is prescribed for him, and remains silent when the Imam speaks until he finishes his prayer, it will be an expiation for the sins between that Friday and the previous one.’" [Narrated by Abu Dawud while Al-Tahawi narrated a similar version]

In a narration by Ahmad: ‘He does not harm anyone. If he does not find the Imam, he prays as he wishes. If he finds the Imam has already come out, he sits, listens, and remains silent until the Imam finishes his sermon and prayer.’ The narrators are reliable, as mentioned in Majma’ al-Zawa’id.

2090

اور امام احمد کی روایت کے الفاظ یہیں کہ جب مسجد میں آیا تو کسی کو ایزا نہ دیا

(جہال جلد میں وہیں پیٹ گیا اور دیکھا کہ) امام احمی خطب کے لیے نہیں نکلا ہے تو جونماز اس کو پڑھنا

ہے پڑھ لیا، اور اگر وہ کسی کو امام خطہ دینے کے لئے نکل چکا ہے تو (بغیر کوئی نماز پڑھے ہے اپنی جگہ

پیٹھ گیا اور خطہ سنتا رہا، (اگراس کو ایسی جگہ میں کہ وہ اس کو امام کے خطہ کی آواز نہیں پہوچ رہی

ہے تو) خاموش رہا (اس کا خاموش رہنا جسی خطہ سننے کے حکم میں ہیں)۔ یہ حال تک کہ امام نے خطہ اور

نماز ختم کر لی۔ (اس حدیث کے راوی تج کے راوی ہے۔)

نماز جمعہ کی فضیلت

And according to Imam Ahmad's narration, when he entered the mosque, he did not give the adhan. (He sat down in the same place and saw that) Imam Ahmad had not come out to deliver the sermon, so he read the Jumu'ah prayer. And if he had already come out to deliver the sermon, (he returned to his place without praying and listened to the sermon, and if he was in a place where he could not hear the Imam's sermon,) he remained silent (his silence being in accordance with the command to listen to the sermon). This continued until the Imam finished the sermon and the prayer. (This hadith is narrated by Tuj.)

2091

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی

اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نماز جمعہ کے لئے (مسجد میں) آنے والے تین طرح کے ہوتے

ہیں، ایک تو ایسا شخص ہے کہ (خطہ ہور باہے) لوگوں کی گردنوں پر سے پچلا گیا ہوا ایزا دیتا ہوا آرہا

ہے، پھر بیٹھا جسی ہے تو پچھا با تین کردہاہے یا اشارہ کردہاہے، ایسے شخص کو جمعہ کوئی حسنہ نہیں۔

دوسرے شخص ایسا ہے کہ (خطہ ہور باہے تو وہ لوگوں کی گردنوں پر سے پچلا گیا ہوا نہیں آیااور نہ کوئی

ایزا دیا، مگر پیچھے کردہاپیوے کی قبولیت کا وقت ہے (زبان سے) دعا کردہاہے (دل میں دعا کا

خیال رہنا کافی تھا) ایزبان سے دعا کی مشغول رہنے کی وجہ سے خطہ برابر نہیں سن رہاہے، اس وجہ

سے اس کو جمعہ کا ثواب نہیں ملے گا۔ اب رہی دعا کے اللہ کو اس کا اختیار ہے کہ چاہے قبول کرے یا

نہ کرے۔ تیسرے شخص وہ ہے جو خطہ تے پہلے حاضر ہو کر بغیر کسی کو ایزا دے ہو کہ بیٹھا ہے یا خطہ

کے وقت آیا تو کسی کو ایزا نہیں دیا، جہاں جگہ میں وہاں بیٹھ گیا، اور بہت توجہ سے خطہ سن رہاہے تو ایسے

شخص جمعہ کی غرض پوری کردہاہے اس کو پیصلے میں ملے گا اس جمعہ کے لئے کرگزشتہ جمعہ کے اس

کے تمام گناہ معاف ہو جائیں گے، چونکہ اس کو اللہ کی رضا مندی مقصودی اور کوئی غرض نہیں اس لئے

نیمیوں کے ثواب کا اللہ تعالیٰ کے پاس جو قاعدہ مقرر ہے کہ ایک نیک کوسے گنا کرے دیتے ہیں، اس

لئے (7) دن کے سوا اور تین دن کے گناہ معاف کردیتے ہیں۔ (اس کی روایت ابوداود نے کی ہے۔)

پہلی حدیث

Abdullah ibn Amr (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Three types of people attend Friday prayer: One attends it aimlessly, and that is all he gets from it; another attends it with supplication, and Allah may grant or withhold his request; and another attends it silently and attentively, without stepping over people’s necks or harming anyone, this will be an expiation for his sins until the next Friday and an additional three days, as Allah says: “Whoever brings a good deed will have ten times its reward.” (Qur’an 6:160)’" [Narrated by Abu Dawud]

خطبے کے آداب
2092

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے آپ فرماتے تھے کہ میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرما تے سنا ہے کہ (جمع کے دن جہال تک ہوسکے جلد مسجد پہوچے) اگر کوئی (اتفاق سے) ایسے وقت آیا کہ امام منبر پر بیٹھا ہے (اور خطبہ شروع کرنا چاہتا ہے) تو اس کو چاہے کہ امام کے خطبے سے فارغ ہونے تک (خاموش بیٹھا رہے) اور دونوں خطبے کے وقت کوئی نماز نہ پڑھے اور نہ کوئی کلام کرے۔

(اس کی روایت طبرانی نے لکھی ہے۔)

دوسری حدیث

Ibn Umar (may Allah be pleased with him) narrated: "I heard the Prophet (ﷺ) say: ‘When one of you enters the mosque while the Imam is on the pulpit, he should not pray or speak until the Imam finishes.’" [Narrated by Al-Tabarani in Al-Kabir with a Hasan chain]

ف: در مختار میں لکھا ہے کہ جب امام خطبہ شروع کر دے تو حاضرین کو اس کا سننا واجب ہے خواہ امام کے نزدیک بیٹھے ہوں یا دور اور کوئی ایسا فعل کرنا جو خطبے سننے میں مخل بھوکر وہ حریم ہے، اور کہنا پینا، باٹ چیت کرنا، چلانا، پھرننا، سلام کرنا ایسالم کا جواب دینا، سبحان اللہ ایسی قسم کا کوئی اور وظیفہ پڑھنا، یا کسی کو شریعی مسئلہ بتانا، یا اگر کوئی باقیس کر رہا ہوتا اس کو خاموش رہا کہنا۔ یہ سب چیزیں جسیا کہ حالات نماز میں ممنوع ہیں، ویسے ہی شروع خطبے سے لے کر دونوں خطبے کے ختم ہونے تک ممنوع ہیں۔)

2093

حضرت علی، حضرت ابن عباس اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت کی گئی ہے کہ خطیب (جس مصلی پر بیٹھا ہے) خطیر دین کے لئے جب اپنی مصلی سے اٹھے (تو اس وقت سے دونوں خطبے کے ختم ہونے تک) کسی نماز کے پڑھنے کا کلام کرنے کو یہ سب حضرات کروہ (تریبی) نہیں تھے۔ (اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے لکھی ہے۔)

Ali, Ibn Abbas, and Ibn Umar (may Allah be pleased with them) disliked praying or speaking after the Imam had come out. [Narrated by Ibn Abi Shaybah with reliable narrators while Al-Tahawi narrated a similar version from Ibn Umar and Ibn Abbas]

2094

اور امام طحاوی نے بھی ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے ایسی طرح روایت کی ہے۔

تیسری حدیث

And Imam Tahawi has also narrated from Ibn Umar and Ibn Abbas (RA) in this manner.

2095

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایسا شخص ( جس کو معلوم ہے کہ جمعہ کے دونوں خطبے کے وقت کلام کرنا کررہے ہیں یا باوجود اس کے پیچر وہ ) ایسے وقت کر جمعہ کا خطبہ نہور پا ہو، کوئی کلام کرے تو اس کی مثل اس گرد ہی طرح ہے جس پر مسئل کی کتا بین لدی ہوتی ہوئی ( کہ اس گرد ہی کو ان کتا بولنے کوئی فائدہ نہیں ( ایسے وہ شخص ہے جومسئلے کے واقف ہوئے نے کہ باوجود پیچر کلام کرے تو اس مسئلے کے واقف ہوئے نے اس کو کوئی فائدہ نہیں ) اور اگر کسی نے خطبہ کی حالت میں باقین کرے وا لے کو ( زبان سے کہا ) چپ رہو، تو پیچپ رہو کہنے والے کو جمعہ کا ثواب نہیں مل گا۔ ( اس کی روایت امام احمد نے کی ہے )

پہلی حدیث

( ثروت اسلام میں مردوں کے ساتھ عورتیں بھی مسجد میں جمع ہوتی ہیں، ایسے موقع پر کوئی شخص آ کہوں کو رکے سکتا ہے ) مگر دل کا روحنااس کے قابو میں باہر ہے، نماز میں کٹراہے بہ اختیار عورت کا خیال آ رہا ہے، جب اگر پیوی سے جماع کر لے تو شہوت کے وساوس اور خطرات دل سے سب نکل جاتے ہیں، اور کیسوتی دل میں پیرا ہوتی ہے، اس کیسوتی کے حاصل کرنے ارشاد نہور پا ہے کہ جمعہ کی تیاری میں ایک پیچی ہے کہ پیوی سے جماع کر لے تاکہ شہوت کے خیالات دل سے نکل جائیں، دل سب خطرات سے پاک ہو جائے اس لے )۔

Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Whoever speaks during Friday prayer while the Imam is delivering the sermon is like a donkey carrying books, and the one who tells him to be quiet has no Friday prayer.’" [Narrated by Ahmad]

نماز جمعہ کے آداب
2096

اول بن اول رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس نے جمعہ کے دون پیوی سے جماع کر کے خود کو غسل کیا اور پیوی

کو بھی غسل کرایا (اور سارے خطرات شہوت سے پاک دل لے کر) مسجد کی طرف چلا، اور بہت سو ری مسجد میں پہوچ گیا تاکہ خطبہ ابتداء، میں اسکول سے (عذر تے آگر سوار ہو کر جائے تو وہ اور بات ہے، بلکہ عذر کے سواری میں جانے سے غور اور نہ جوئے پیادہ ہوتی ہے، اس سے بھی دل کو پاک و صاف کرنے کے لئے ارشاد ہو رہا ہے کہ) مسجد کو پہلے جائے اور سوار نہ جائے اور امام سے قریب جائے۔ (اول وقت جانے کی وجہ تقریب جملہ ہے) اور خطبہ کو بہت دل لگا کر غور سے سن اور کوئی ایسی حرکت نہ کرے کہ جس سے خطبہ کا ثواب ضائع جائے تو ایسے شخص کو اس کے ہر ہر قدام کے بدلا ایک سال کے روزہ اور ایک سال کی شب بیداری کا ثواب ملتا ہے (پیش خدا کی دین، وہ برطے قدردان ہیں، تحویز یہ عبادت پہہت برطہ ثواب دیتے ہیں)۔ (اس حدیث کی روایت تنزیل، البودا ود، نسائی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔)

Aws ibn Aws (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Whoever performs Ghusl on Friday, goes early to the mosque, walks instead of riding, sits close to the Imam, listens attentively, and does not engage in idle talk, for every step he takes, he will receive the reward of fasting and praying for an entire year.’" [Narrated by Al-Tirmidhi, Abu Dawud, Al-Nasa’i, and Ibn Majah]

دوسری حدیث
2097

عبید بن سباق نا بی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ مجھ کو یہ حدیث اس طرح پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک جمعہ میں ارشاد فرما یے : مسلمانو ! (جمعہ کا دن برطہ عظیمت والا دن ہے) اللہ تعالیٰ نے اس دن کو مسلمانوں کے لئے عید بنایا ہے (عید کے دن تم غسل کیا کرتے ہو، جمعہ کی عید کا دن ہے) جمعہ کے دن بھی غسل کیا کرو، اگر کسی کے پاس خوشبو مو جود ہوتا اس کو چپائے کہ خوشبو لگا لے اور تم اس دن ضرور مسواک کیا کرو (تاکہ اس سے منہ کی بو باقی نہ رہے، اور طہارت کامل ہو جائے)۔ (اس حدیث کی روایت امام ما لک نے کی ہے۔)

Ubaid ibn al-Sabbaq reported in a mursal narration: "The Messenger of Allah (ﷺ) said during a Friday sermon: ‘O Muslims, this is a day that Allah has made a celebration, so perform Ghusl, and whoever has perfume should apply it. Use the miswak (tooth-stick).’" [Narrated by Malik while Ibn Majah narrated it from Ibn Abbas with a connected chain.]

2098

اور ابن ملجم نے بھی عبید بن سباق کے وا سطے سے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے اور حضرت ابن عباس فرما تے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ایسا کی سنا ہے۔

It is narrated from Ibn Muljam through Ubayd bin Sabaq from Ibn Abbas (RA) that he said:

I have heard from the Messenger of Allah ﷺ such and such.

جمع کے دون غسل کرنا کی فضیلت
2099

براء رضی اللہ عنہ روایت سے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جمعہ کا غسل ثابت ہے جسے بر مسلمان کے لئے مشروع ہے (جمع کے دو نماز جمع کے لئے غسل کرنا کہیستحب ہے) (غیرول سے خوشبو ماگن کی ضرورت نہیں، اپنے پاس یا) اپنے گھر والوں کے پاس خوشبو لی ہوتا اس کو لگا لیوے، اگر خوشبو نہ پائے تو اس کے لئے پانی میں خوشبو لی (جس غسل کرنا، جی خوشبو کے برابر ہے کہ اس سے خوشبو کا مقصد ایک حد تک پورا ہوجائے گا کیونکہ پانی سے میل چل اورجسم کی بدبواور پیندوروہوجاتا ہے)۔(اس حدیث کی روایت امام احمداورترمزدی نے کی ہے۔)

Al-Bara’ (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘It is a duty upon Muslims to perform Ghusl on Friday and to apply perfume from their household. If they do not have perfume, water is sufficient.’" [Narrated by Ahmad and Al-Tirmidhi, who said: ‘This is a Hasan Hadith]

گھرے وضو کر کے نماز جمع کو جانا کی فضیلت
2100

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت سے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا (اگر چہ غسل کرنا جمع کے دو مستحب تھا، کسی وجہ سے نہ کرسکا تو خیر) وضو کی کر لے (وہی کافی ہے) اوروضو کو (گھری ہے) مستحبت اور سنن کی پابندی کے ساتھ کیا، چھر جمع کے لئےمسیب (اول وقت) آیا اور (امام کے نزدیک ہو کر بیٹھا) غور کے اور خاموشی کے ساتھ خطہ سن تار با تو اس کو پیصلے میں کر اس جمعے سے لے کر غذشہ جمعے تک کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ اس کے علاوہ اور تین دن کے گناہ بھی معاف کردیتے جاتین گے) اور جو (خطہ کی حالت میں جاتے دل لگا کر خطہ سن کے) کہریال الرّحمن پیٹ کرتا ربا تو اس کے لغو کیا (اور اس لغو کی وجہ اس کو خطہ کا کامل ثواب نہیں ملگا)۔(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)

نماز جمع کے لئے جہاں تک ہوسکے جلد جانا کا ثواب

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Whoever performs Wudu properly, attends Friday prayer, listens attentively, and remains silent will have his sins forgiven between that Friday and the next, plus an additional three days. Whoever plays with pebbles has engaged in idle talk.’" [Narrated by Muslim]

2101

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت سے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو فرثتے (جا مح) مسجد کے ہر دروازہ پر نچی سے تھیرتے ہیں اور ترتیب وار ہرآ نے والے کا نام لکھتے رہتے ہیں، جمعے کے دو نسوریے اول وقت

جو لوگ مسجد میں آتے ہیں ان میں سے ہر ایک کو وہ ثواب ملتا ہے جو ثواب کہ کہ معظّم کو قرآنی کے لئے اونٹ بھیں وا لے کو ملتا ہے اس کے بعد جو لوگ مسجد میں آتے ہیں ان کو وہ ثواب ملتا ہے جو ثواب کہ کہ معظّم کو قرآنی کے لئے گاڑی بھیں وا لے کو ملتا ہے ایس کے بعد جو لوگ مسجد میں آتے ہیں ان کو وہ ثواب ملتا ہے جو ثواب کہ کہ معظّم میں قرآنی کے لئے مینڈ ہا بھیں وا لے کو ملتا ہے اور اس کے بعد جو لوگ مسجد میں آتے ہیں ان کو وہ ثواب ملتا ہے جو ثواب کہ کہ معظّم میں خیرات کے لئے مرغ بھیں وا لے کو ملتا ہے، اور اس کے بعد جو لوگ مسجد میں آتے ہیں ان کو وہ ثواب ملتا ہے جو ثواب کہ کہ معظّم میں خیرات کے لئے اندا بھیں وا لے کو ملتا ہے (اس طرح یہ ثواب بہتر ہوتا ہے) یہاں تک کہ خطیب خطبہ جمعہ کے لئے اخطاب تو فرشتہ اپنے دفتر کو لپیط لیتے ہیں (یعنی امام خطبہ کے لئے اٹھتے کے بعد جو لوگ مسجد میں آتے ہیں ان کا نام فرشتہ فهرستوں میں لکھنا بند کردیتے ہیں) اور فرشتہ خطبہ سننے کے لئے مسجد میں آجاتے ہیں اور خطبہ سننے میں لگ جاتے ہیں۔ (اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفرق طور پر کی ہے۔)

نماز کے لئے کسی کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خود بیٹھنے کی ممانعت

پہلی حدیث

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘On Friday, angels stand at the mosque’s entrance, recording the order of arrival. The one who comes early is like one who sacrifices a camel, then a cow, then a ram, then a chicken, then an egg. When the Imam comes out, they close their records and listen to the sermon.’" [Agreed upon]

2102

جا بر ضی اللہ علیہ روایت سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کوئی شخص جمعہ کے دن اپنے بجا تی کو خود اس کی جگہ بیٹھنے کے لئے ہرگز اس کی جگہ سے ناٹھا یے بلکہ پی کہ کہ راز راہت کر مجھے مجھی جگہ دو۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)

دوسری حدیث

Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘None of you should make his brother stand on Friday and then take his seat. Instead, say: Make room.’" [Narrated by Muslim]

2103

نافع رضی اللہ علیہ روایت سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو یفرما تے سناتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی شخص کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خود

اس کی جگہ بیٹھنے سے منع فرماپیا، نافع نے دریافت کیا گیا کہ کیا یہ ممانعت صرف جمع کے لئے

ہے؟ تو حضرت نافع جواب دے نہیں، یہ ممانعت جمع کے لئے بھی ہے اور جمع کے سوا دوسرا

نماز ون کے لئے بھی ہے (بال) اگر کوئی شخص ایثار کے طور پر خود اٹھ کر دوسرے کو اپنی جگہ بٹھانا ہے تو

اس شخص کا بیٹھنا جائز ہے۔ (رداختار میں ایسائی کہا ہے اور مرقات میں کہا ہے کہ کسی کو اس کی

مرضی کے خلاف جگہ سے اٹھا کر خود اس کی جگہ بیٹھ جانا حرام اور نا جائز ہے)-

(اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم میں متفق طور پرکی ہے)-

جمع کے دونوں اچھا کپڑا پہنے کی فضیلت

Nafi’ reported: "I heard Ibn Umar (may Allah be pleased with him) say: ‘The Messenger of Allah (ﷺ) forbade a man from making another stand and taking his seat.’ When asked if this applied to Friday, he said: ‘It applies to Friday and other times.’" [Agreed upon]

2104

عبداللہ بن سلا م رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ

صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر تم میں سے کسی کو گنجائش ہے تو وہ اپنے روزانہ استعمال

کے کپڑوں کے علاوہ جمع کے لئے ایک جوزا (خاص) بنا لے رکے-

(اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے)-

Abdullah ibn Salam (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘It is not wrong for one of you to have two garments for Friday, other than his work clothes.’" [Narrated by Ibn Majah while Malik narrated it from Yahya ibn Sa’id]

2105

اور امام ما کے نے اس کی روایت میں بن سعید سے کی ہے-

ف: اس حدیث شریف میں جمع کے لئے ایک خاص جوزا بنانے کے کا جوہم ہے اس کا

مطلب یہ کہ جمع کی عزت کرے، اور مقدور کے موافق صاف و ستہرے عمدہ کپڑے پہنے، جس کو تی

در بار میں جاتا ہے تو کس اہتمام اور شان سے جاتا ہے- غرض جمع کے دونوں ایک خاص جوزا بنانے

رکے اور جمع کے دونوں اس کو پہنا کرے (مرقات)12

جمع کے دونوں امام سے قریب رہنے کی فضیلت

Abdullah ibn Salam (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘It is not wrong for one of you to have two garments for Friday, other than his work clothes.’" [Narrated by Ibn Majah while Malik narrated it from Yahya ibn Sa’id]

2106

سمره بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ

صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرما کر (جمع کے دون مسجد میں اول وقت آیا کرو صف اول میں بیٹھا

کرو) جہاں تک ہو سکے (بغیر کسی کو اپنے اول) امام سے قریب رہا کرو (تا کہ تم آسانی سے خطب سن سکو)

(بعضوں کی عادت ہوتی ہے کہ وسیع جگہ ملنے کے لئے امام سے دور رہا کرتے ہیں۔ ان کو یا درکھنا چاہے تو جنت میں داخل تو ہونے کے لئے جنت کے جانے میں ان کو پیچھے رکھا جائے گا، ایسا ہی جنت کے مراتب و درجات کے دین میں کچھ ان کو پیچھے رکھا جائے گا۔ (اس کی روایت البوداونی کی ہے۔)

خطبے کے وقت پچلا گنگے ہوئے جانے کی ممانعت

پہلی حدیث

Samurah ibn Jundub (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Attend the sermon and sit close to the Imam, for a person who keeps distancing himself will be delayed in entering Paradise, even if he enters it.’" [Narrated by Abu Dawud]

2107

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی گئی ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب امام کہرا ہوا (جمع کا) خطبے ربا ہو، ایسے وقت کوئی شخص آیا اور لوگوں کی گردنوں پر سے پچلا گنگے ہوئے چلا۔ ایسے شخص کو میں پیچھے رہتا تو اچھا ہوتا (کہ وہ خطبے کے وقت گردنوں پر سے پچلا گنگے کے ناجائز عمل کا مرتبہ ہوتا، جب وہ دیکھے آیا تھا تو پچلا گنگے ہوئے آگے جانے کے جواب میں اس کو چاہے تھا کہ گرم پیچروں پر، یا پیچھے اور وہیں نماز پڑھتا)۔ اس کے لئے گرم پیچروں پر، یا نماز پڑھ لینا لوگوں کی گردنوں پر سے پچلا گنگے ہوئے آگے جانے سے بہتر تھا۔ (اس کی روایت امام ماکے نے موطا میں کی ہے۔)

دوسری حدیث

It is narrated from Abu Hurairah (RA) that he said:

When the Imam raised his voice (in the Friday sermon), a man came and passed in front of the people, pushing through their necks. If I were to remain behind, it would have been better (for him to avoid the impermissible act of passing in front of people during the sermon). When he saw that he had come, it was preferable for him to go back or pray at the back rather than push through the people's necks to go forward. It is better to go back or pray at the back than to pass in front of the people's necks.

2108

جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک صاحب جمعہ کے دن مسجد میں ایسے وقت آیا کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلم وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، وہ صاحب لوگوں کی گردنوں پر سے پچلا گنگے ہوئے آگے برہمن گئے (پیدا کیکر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلم وسلم ان سے فرماتے! وہیں پیچھے جاؤ (کیا جمعہ کے لئے آنے کا وقت ہے) تم بہت دیر کر کے آئے ہو (خطبہ شروع ہونے کے بعد بخیرا یذا اء (جبیا کر و مختارا ور رداختا ر میں نذور ہے۔ 12) دینے کے لئے پچلا گنگے کر آنا نا جائز ہے) تم تو ایزا اے دیتے ہوئے پچلا گنگے کر آرہے ہو (پیتو بہت ہی برابہ، پول کچھ خطبہ شروع ہونے کے بعد کوئی عمل ہو، نا جائز ہے، پچلا گنگے کر آنا کچھ عمل ہے اس طرح سے

بھی تم ناجائز کام کر رہے ہو۔ بالخطہ ثروت ہونے کے پیل بغیر کسی کو ایزاء دے کر اگلی صفون میں خالی جگہ کو پر کرنے کے لے پچلا نگہ ہوئے جانے میں مضا لقمین، مگراس کا اندازہ کرنا کر پچلا نگہ ہوئے جانا بغیر ایزاء دے کے ہے بہت مشکل ہے، اس لے پچلا نگہ کر نہ جائے بھی تو اچھا ہے) (جسیا کر درختاراور رداختار میں نذور ہے۔12)۔(اس حدیث کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔)

Jabir ibn Abdullah (may Allah be pleased with him) narrated: "A man entered the mosque on Friday while the Messenger of Allah (ﷺ) was delivering the sermon. He began stepping over people’s necks, so the Prophet (ﷺ) said: ‘Sit down, for you have caused harm and delayed others.’" [Narrated by Ibn Majah]

تیسری حدیث
2109

رسول عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے (وہ تم کو احادیث سنا رہے تھے) ایک شخص لوگوں کی گردون پر سے پچلا نگہ ہوئے ہمارے پاس آ رہا تھا اس کو دیکھ کر عبد اللہ بن بسر فرماتے (مجلسوں میں بغیر ایزاء دے کے پچلا نگہ ہوئے اگر کوئی آ کے توپی جاتے ہے، اگر ایزاء دیتے ہوئے پچلا نگہ کر آ کے تو نا جاتے ہے، ان صاحب کے پچلا نگہ ہوئے آ کے پر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم کے زمانے کا واقعہ یاد آیا) ایک وقت حضور صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم جمعہ کا خطہ رہے تھے، ایک صاحب اپنائی گردون پر سے پچلا نگہ ہوئے آ رہے تھے ان کو دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم فرماتے (کر خطہ کی حالت میں تمہارا پچلا نگہا ہوا آنا، یا نا جاتے ہے، پھر ایزاء دیتے ہوئے پچلا نگہ کر آنا اور کہی برآہے اس لے) تم جہاں جگہ میں وہیں بیٹھ جاؤ۔ تمہارے پچلا نگہ کر آ کے لوگوں کو ایزاء دیہو چیتے ہے۔(اس کی روایت ابوداوداورنسائی نے کی ہے۔)

Abu al-Zahriyyah reported: "We were with Abdullah ibn Busr, a companion of the Prophet (ﷺ), on Friday when a man came stepping over people’s necks. Abdullah ibn Busr said: ‘A man came stepping over people’s necks on Friday while the Prophet (ﷺ) was delivering the sermon. The Prophet (ﷺ) said to him: “Sit down, for you have caused harm.”’" [Narrated by Abu Dawud and Al-Nasa’i with a good chain]

In a narration by Ahmad from the Prophet (ﷺ) that he said: ‘The one who steps over people’s necks and separates two people after the Imam has come out is like one who throws a stick into the fire.’

The narration by Al-Tabarani is same with addition: ‘I saw you stepping over people’s necks and harming them. Whoever harms a Muslim has harmed me, and whoever harms me has harmed Allah, the Almighty.’

2110

اور امام احمد کی روایت میں اس طرح نذور ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب امام اپنی جماعت اٹھ کر جمعہ کا خطہ دینے کے لے جارہا ہو، اس وقت اگر کوئی شخص لوگوں کی گردون پر سے پچلا نگہا ہوا جانے اور (صف میں بیٹھے ہوئے) دو شخصوں کو چیرے ہوئے پہ تو اس کو پچھڑے ہے کہ وہ کسی عذاب کا مستحق ہو رہا ہے، یا در کو کہ میں معظموں میں جوش بھرتا پرتا کا

آغاز کیا تھا، وہ دوزخ میں اپنی آنتیس کی نیچا ہوا جیسے زرا پائے گا وی، یہ شخص بھی جوگردون پرے

پچلا گئے ہوئے ایزاء دیتے ہوئے جاتے ہیں اس طرح کی سزا پائے گا۔

Abu al-Zahriyyah reported: "We were with Abdullah ibn Busr, a companion of the Prophet (ﷺ), on Friday when a man came stepping over people’s necks. Abdullah ibn Busr said: ‘A man came stepping over people’s necks on Friday while the Prophet (ﷺ) was delivering the sermon. The Prophet (ﷺ) said to him: “Sit down, for you have caused harm.”’" [Narrated by Abu Dawud and Al-Nasa’i with a good chain]

In a narration by Ahmad from the Prophet (ﷺ) that he said: ‘The one who steps over people’s necks and separates two people after the Imam has come out is like one who throws a stick into the fire.’

The narration by Al-Tabarani is same with addition: ‘I saw you stepping over people’s necks and harming them. Whoever harms a Muslim has harmed me, and whoever harms me has harmed Allah, the Almighty.’

2111

اور طبرانی کی ایک روایت میں امام احمد کی صدر کی روایت کی طرح ذکور ہے

گوترانی کی روایت کے الفاظ اس طرح ہیں کہ (ایک شخص خطبہ کی حالت میں لوگوں کی گردون پر

تے پچلانے ہوا آگزر رہا تھا، اس کو کیا کر حضور نے ارشاد فرمایا) میں دیکھ رہا تھون کہ تم لوگوں کی گردون

پرتے پچلا گئے ہوئے ایزاء دیتے ہوئے جارتے ہوتے اس کومعمولی بات ہے ہو، (ایا نہیں ہے

تم مسلما نوں کو جوايز اے دیتے ہوئے جارتے ہو) سنو کہ جومسلما نوں کو ایزاء دیتا ہے ججو کہ وہ مجھے

ایزاء دے رہا ہے اور جو مجھے ایزاء دیتا ہے تو اس کو مجھنا چاہے کر وہ اللہ تعالی کو ایزاء دے رہا ہے

(اور جواللہ کو ایزاء دیتا ہے اس کا کیا انجام ہو گا تم کو معلوم ہے)-

خطبے سننے کے لئے جس طرح جا ہیں جیہے سکتے ہیں کوئی خاص بیٹھک مسنون نہیں ہے

A person was walking around the people while they were in the state of the sermon. The Prophet ﷺ said: 'I see that you are walking around the people while making noise. This is a common thing, but do you go around the Muslims while making noise?' He said: 'Listen, whoever makes noise among the Muslims is as if he is making noise at me, and whoever makes noise at me is as if he is making noise at Allah. And what will be the end of the one who makes noise at Allah, do you know?' There is no specific place to sit for listening to the sermon; one can sit wherever they can.

2112

لعلی بن شراد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں معاویہ

رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیت المقدس حاضر ہوا حضرت معاویہ نے تم کو نماز جمعہ پڑھائی، میں نے دیکھا کہ

مسجد میں جتنے لوگ ہیں ان میں سب سے برتری تحداد نی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام کی ہے،

میں نے دیکھا کہ امام خطبے دے رہے تھے اور وہ بال جتنے صحابہ کرام موجود تھے وہ سب احتبا ئے کے ہوئے

بیٹھے ہیں اس کی روایت ابوداود نے کی ہے-

اور ابوداود نے کہا ہے کہ عبد اللہ بن عمر، انس بن مالک، شرتح، صعصعہ ابن صوحان، سعید بن

المصیب، ابراہیم نخی، محول، اسماعیل بن محمد بن سعد اور یحیم بن سلامہ یسب حضرات امام کے خطبے نے کی

حالت میں احتبا ئے کے ہوئے بیٹھا کرتے تھے اور ابوداود نے یہی کہا ہے کہ جمعہ کے دن امام کے خطبے

دین کے وقت احتبا ئے کرنے میں کوئی مضا قہ نہیں۔ اس واسط عبادۃ الرعا ئی میں جامع المضمر ات

کے حوالے سے کہاہے کہ امام کے خطہ دین کی حالت میں مصلیوں کے لے کونی بیٹھک خاص

شہیس ہے، جاہے تو احتیاء کے ہوئے ہیں، جاہے چوزا نو بیطیس، یا جس حالت میں آسالی اور

سہولت ہواس حالت میں بیطیس۔ -

اب احتیاء کے معنی سنے _ احتیاء پیہے کر مصلی پراس طرح بیٹھے کر دونول گٹنے

کطرے ہول اور پیروں کے دونون تلوے زمین پر ہے ہوئے ہول اور دونون باٹھونے

دونول گٹنون کو گہیرے ہوئے ہو، یا کپرا کمرے لے کر گٹنون سمیت باندے اور زمین پر

ٹک کر بیٹھے۔ -

مسجد میں کسی کو اونگلہ آ جاے تو جگہ بدلا دینا چاہے کیا کیا خطہ کی حالت میں

جگہ نہ بدلا

Ya’la ibn Shaddad ibn Aws reported: "I attended Friday prayer with Mu’awiyah in Jerusalem. I looked around and saw that most of the people in the mosque were companions of the Prophet (ﷺ), and they were sitting with their legs drawn up (ihtiba) while the Imam was delivering the sermon." [Narrated by Abu Dawud]

Abu Dawud added: "Ibn Umar would sit in ihtiba while the Imam was delivering the sermon, as did Anas ibn Malik, Shurayh, Sa’sa’ah ibn Suhan, Sa’id ibn al-Musayyab, Ibrahim al-Nakha’i, Makhul, Isma’il ibn Muhammad ibn Sa’d, and Nu’aym ibn Salamah. They said: ‘There is no harm in it.’"

2113

_ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے و فرماتے ہیں کر رسول اللہ صلی

اللہ علیہ وآ لہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب کوئی شخص جمع کے دون ہو (یا کوئی اور دون مسجد میں

ہو) اوراس کو نیند آ یے اور او گنجنے لگنے اے چاہے کہ اپنی جگہ سے اٹھ کروہ جگہ بدلا دے

(تاکہ حرکت سے نیند اچات ہوجائے اور نیند کا غلبہ جاتا رہے۔ بخلاف اس کے کسی کو جمع کا

خطہ ہوتے وقت نیند آ یے تو اٹھ کر جگہ نہیں بدنا چاہے۔ اس لے کہ خطہ سنے وقت کوئی

حرکت جات نہیں ہے) (جسیا کہ بزل اچھو دیں نکور ہے۔ 12)۔

(اس حدیث کی روایت ترنزی نے کی ہے۔)

It is narrated from Ibn Umar (RA) that he said:

The Messenger of Allah ﷺ instructed that if a person is in a congregation (or another person is in the mosque) and feels sleepy and begins to snore, they should get up and change their place (so that movement may dispel sleep and prevent it from overwhelming them). Conversely, if someone feels sleepy while the imam is delivering the sermon, they should not get up and change their place, as there should be no movement during the sermon (for example, yawning is disliked).