یہ باب جمع کے فضائل کے بیان میں ہے
جمع کے فضائل، آداب اوراحکام
ف: قرآن مجید اور احادیث متواتره اور اجماع امت سے ثابت ہے کہ نماز جمعہ فرض عین اور
اعظم شعار اسلام سے ہے اس کا منہجر کافراور بے عذر اس کا تارک فاسق ہے۔ معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کو نماز سے زیادہ کوئی چیز پسند نہیں اور اسی واسطے کسی عبادت کی اسقدر سخت تاکید اورفضیلت
ثریعت مقدسہ میں وارد نہیں ہوتی۔ اور اسی وجہ سے پروردگار عالم نے اس عبادت کو اپنے ان غیر متناہی
نعمتوں کے ادا کے لیے جن کا سلسلہ ابتداً پیداش سے آخر وقت تک بلدموت کے بعداور قبل پیداش کے بھی منقطع نہیں ہوتا، ہردن میں پائے وقت مقرر فرمایا ہے اور جمع کے دن چونکہ تمام دونوں سے زیادہ نعمتين فائز ہوتی ہیں، خصوصاً کہ حضرت آدم علیہ الصلاۃ والسلام جوانانی نسل کے لیے اصل اول پیش ایسے دن پیدا کی گئے جس لہذا اس دن ایک خاص نماز کا حکم ہوا، اور تم اس سے قبل جماعت کی حکمتیں اور فائدہ سے جس بیان کرچکے ہیں اور یہی ظاہر ہوچکا ہے کہ جس قدر جماعت زیادہ ہو، اس قدر ان فوائد کا زیادہ ظہور ہوتا ہے اور پیاسی وقت ممکن ہے کہ جب مختلف محلول کے لوگ اور اس مقام کے اکثر باشندے ایک جگہ جمع ہوکر نماز پڑھیں اور ہر روز پاچھول وقت یا مرست تکلیف کا باعث ہوتا۔ ان سب وجوہ سے شریعت نے بھی میں ایک دن ایسا مقرر فرمایا ہے جس میں مختلف محلول اور گاؤں کے مسلمان آپس میں جمع ہوکر اس عبادت کو اداء کرسکیں، اور چونکہ جمع کا دن تمام دونوں میں افضل و اشرف تھا لہذا ایسے دن کے لیے کی گئی ہے۔ اگلی امت کو بھی خدا کے تعالیٰ کے اس دون عبادت کا حکم فرمایا تھا مگر انہوں نے اپنی بدعتی سے اس میں اختلاف کیا۔ اور اس سرگرمی کا نتیجہ یہ عظیم کہ وہ اس سعادت کی سے محروم رہے، اور پی فضیلت بھی اسی امت کے حصہ میں آئی۔ یہود نے شنبہ کا دن مقرر کیا، اس خیال سے کہ اس دن میں اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کے پیدا کرنے فراغت کی تھی۔ نصاری نے اتوار کا دن مقرر کیا، اس خیال سے کہ پیدا کرنے کے آفریش کا ہے۔ چنانچہ اب تک یہ دونوں فرقے ان دونوں دونوں میں بہت اہتمام کرتے ہیں اور تمام دنیا کے کام چھوڑ کر
عبادت میں مصروف رہے ہیں۔ نظر انہی سلطنتوں میں اتوار کے دن اس سب سے تمام وفاتز میں تعطیل
ہوجاتی ہے۔
(1) ہر مسلمان کو چاہئے کہ جمعہ کا اہتمام پچشنبہ سے کرے، پچشنبہ کے دن عصر کے بعد استغفار
و غیرہ زیادہ کرے اور اپنے پیش کے کپڑے صاف کر لے، اور خوشبوگر میں نہواور مکن ہوتا اس دن
لاکر رکے، تاکہ چھر جمع کے دن ان کا مول میں اس کو مشغول ہونا نہ پڑے۔ بزرگان سلف نے فرمایا
ہے کہ سب سے زیادہ جمعہ کا فائدہ اس کو میلگا جواس کا منتظر ہوتا ہو، اوراس کا اہتمام پچشنبہ سے کرتا
ہو، اور سب سے زیادہ بد نصیب وہ ہے جس کو یہی نہ معلوم ہو کہ جمعہ کب ہے۔ چی کرنے کولوگول سے
پوچھے کر آج کون دن ہے، اور بعض بزرگ شب جمعہ کو زیادہ اہتمام کی غرض سے جامع مسجد میں
جاکر رہتے ہیں (احیاء العلوم)۔
(2) چھر جمع کے دن غسل کرے، مسکے بالوں کو اور بدان کو خوب صاف کرے اور مسواک کرنا
جبی اس دن بہت فضیلت رکھتا ہے (احیاء العلوم)۔
(3) جمع کے دن غسل کے بعد عمدہ کپڑے جواس کے پاس ہول پینے اور مکن ہوتے خوشبوگا کے
اور ناخن و غیرہ جبی کتر دالے (احیاء العلوم)۔
(4) جامع مسجد میں بہت سوپیے جائے، جو شخص جتنے سوپیے جائے گا اسی قدر اس کو ثواب
زیادہ لے گا۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ جمع کے دن فرشتے دروازے پراس مسجد کے جہال
جمع پڑھا جاتا ہے کہ یہو تے جین اور سب سے پہلے جوآتاہ اس کو پھراس کے بعد دوسرا کو اسی
درجہ بر جسب کا نام لکھتے ہیں۔ سب سے پہلے جوآیا سکو ایا ثواب ملتا ہے جسے اللہ تعالیٰ کی راہ میں
اونٹ قربانی کرے وا لے کا اس کے بعد پھر جسے جا کے کی قربانی کرے نا، پھر جسے بکرے کی قربانی
کرے نا، پھر جسے اللہ تعالیٰ کے واسطہ مرغ کے ذبح کر نے کا، پھر جسے اللہ تعالیٰ کی راہ میں کسی کو انڈا
صدق دیاجائے، پھر جب خطہ ہو نے گلتبہ تو فرشتے وہ دفتر بندر لیتے جین اور خطہ سنے میں مشغول
ہوجاتے ہیں۔ (تحی مسلم شریف و تحی بخاری شریف)
اگلے زمانے میں صح کے وقت اور بعد نہجر کے راستے گلیان بھری ہوتی نظر آتی تھیں، تمام لوگ
استح سوپیے سے جامع مسجد جائے تھے اور سخت اثرہ امام ہوتا تھا جسے عید کے دن میں۔ پھر جب یہ
طریقہ جاتا رہاتو لوگون نے کہا کہ پہلی بدعت ہے جواسلام میں پیدا ہوئی یہ کہ رامام غزالی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں : کیونکہ میں شرم آئی مسلمانوں کو یہوداور نصاری سے کروہ لوگ اپنی عبادت کے دونیعنی یہود شنبہ کو اور نصاری اتوار کو اپنی عبادت خانوں اور گرجا گھروں میں کیے سوپیے جاتے ہیں اور طالبان و نیا کتنے سوپیے بازاروں میں خریدوفرخت کے لے چٹائی جاتے ہیں پس طالبان و نیا کیون پیش قدیمی کرتے (احیاء العلوم) ور حقیقت مسلمانوں نے اس زمانے میں اس مبارک دون کی باکل قدر گھا یے ان کو بھی خبر نہیں ہوتی کہ آج کون دون ہے۔ اوراس کا کیا مرتبہ ہے۔ افسوس وہ دون جو کی زمانے میں مسلمانوں کے نزدیک عید سے بھی زیادہ تھا اور جس دون پر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فخر تھا، اور جو دون اگلی امت کو نصیب نہ ہوا تھا آج مسلمانوں کے باہرے اس کی ایک ذلت اور ناقدری ہورتی ہے خدا تعالی کی دی ہوئی نعمت کو اس طرح ضائع کرنا سخت ناشکری ہے جس کا و بالہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ انا للہ و انا الیہ راجعوْن!
(5) جمع کی نماز کے لے پیل جانے میں برقدم پر ایک سال روزہ رکن کا ثواب ملتا ہے۔ (ترنمہ شریف)
(6) نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمع کے دون فجر کی نماز میں سورہ آمن سجدہ اور دبل آئی علی الا نسان، لیعن سورہ دہر پڑھتے تھے۔ لہذا الان سورتول کو جمع کے دون فجر کی نماز میں مستحب سمجھا کر بھی پڑھا کرے، بھی کچھ ترک کچھ کر دے تاکہ لوگوں کو جواب کا خیال نہ ہو۔
(7) جمع کی نماز میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سورہ جمعا ورسورہ "مُنا فِقُوْن" یا "سَبّح اسْمَ رَبِکَ الْاعْلی" اور "ہَلْ اتَکَ حَدِیثُ الغَاشِیَة" پڑھتے تھے۔
(8) جمع کے دون نواہ نماز سے پہلے ایک چھوٹی سورۃ کہف پڑھنے میں بہت ثواب ہے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرما یا کر جمع کے دون جو کوئی سورہ کہف پڑھے اس کے لے عرش کے پچھے آسان کے برابر بلند ایک نور ظاہر ہوگا کر قیامت کے اندہیرے میں اس کے کام آوے گا اور اس جمع کے پچھلے جمع کے بینے گناہ اس سے ہوئے تحسین معاف ہو جا یں گے (شرح سفر السعادت)
(9) جمع کے دون درود شریف پڑھنے میں بھی اور دونوں سے زیادہ ثواب ملتا ہے اس لے
احادیث میں وارد ہے کہ جمعہ کے دن درود شریف کی کثرت کرو۔
شرح سفر السعادت میں بیچی کہ اس کہ قیامت کے بعد جب اللہ تعالیٰ مستحقین جنت کو جنت
میں اور مستحقین دوزخ کو دوزخ میں بھیج رہی گے اور پہی دن وہان بھی ہول گے۔ اگر چہ وہال دن
رات نہ ہول گے مگر اللہ تعالیٰ ان کودن اور رات کی مقدار اور حسنول کا شمار تعیم فرمادے گا۔ پیں جب
جمع کا دن آئے گا اور وہ وقت ہوگا کہ جس وقت مسلمان و نیا میں جمع کی نماز کے لے نکلے تو ایک
منادی آواز دے گا کہ اے ابل جنت مزید کے جنگل میں چلو وہ ایا جنگل میں جس کا طول و عرض
سواء خدا کے تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا۔ وہال مشک کے ذہییر ہول گے آسان کے برابر بلند انبیاء ہیں
اصلا ة و اسلام نور کے ممبرون پر بھلا کے جا کیں گے اور مومنین یاقوت کی کرپیون پر، پیں جب سب
لوگ اپنے اپنے مقام پر بیٹھ جا کیں گے حق تعالیٰ ایک ہوا کچھ گا جس سے وہ مشک جوو بال ذہییر ہوگا
اٹے گا، وہ ہوا اس مشک کوان کے پر ول میں لے جا گی اور منہ میں اور بالوں میں لگے گی اور ہو ا
اس مشک کے لگنے کا طریقہ اس عورت سے بھی زیادہ جانتی ہے۔ جس کو تمام دنیا کی خوشبو میں دی
جا کیں، پھر حق تعالیٰ حاملان عرش کو حکم دے گا کہ عرش کوان لوگوں کے درمیان میں لے جا کر رکھو، پھر
ان لوگوں کو خطاب کرے فرمائے گا کہ میرے بندر! جو غیب پر ایمان لا گے ہو، حالانکہ مجھ کو دیکھانے
تحا اور میرے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آل وسلم کی تصدیق کی اور میرے حکم کی اطاعت کی، اب پگھلے
ماگو یہ دن مزید کی زیادہ انعام کرنے کا ہے۔ سب لوگ ایک زبان پوکر کیں گے کہ اے پروردگار تم
تجھے خوش ہیں تو بھی تم سے راضی ہو جا حق تعالیٰ فرمائے گا کہ ابل جنت میں اگر تم سے راضی نہ
ہوتا تو تم کو اپنی بہشت میں نہ رکھتا اور پکھا ماگو، یہ دن مزید انعام دینے کا ہے، تب سب لوگ متفرق
المسان ہو کر عرض کریں گے کہ اے پروردگار تم کو اپنا جمال و جحاوے کہ تم تیری مقدس ذات کو اپنی
آنجھون سے دیکھیں، پھر حق تعالیٰ پردہ اٹھادے گا اور ان لوگوں پر ظاہر ہو جائے گا اور اپنے جمال
چہال آراستہ ان کو ظہیر لے گا۔ اگر ابل جنت کے لے پیغم نہوچکا ہوتا کہ جنتی کچھ نہیں گے تو پہ
شک وہ اس نور کی تاب نہ لاسکے اور جعل جائے، پھر ان سے فرمائے گا کہ اپنے اپنے مقامات پر
والپس ہو جائے۔ اور ان لوگوں کا حسن و جمال اس جمال حقیقی کے اثر سے دوگنا ہو گیا ہو گا۔ پیلوگ جب
اپنی یو لے پاس آ کیں گے تو نہیمیال ان کو کیسیں گے نہیں یو لے کو، ٹھوٹی دی ڈری کے بعد جب وہ
نور جوان کو چھپائے ہوئے تھا۔ بعد جا کر، تب پیرا پس میں ایک دروازہ کو کھولنے والے بیٹے کو دیکھا۔
کہیں: گی جائے وقت جبی صورت تمہاری تھی وہ اب نہیں، لیکن پرار باورجاس سے اچھی بنے، پیوگ
جواب دینے کے لیے بالا س سب سے کرتے تعالیٰ نے اپنی ذات مقدس کو تمہیں رظاہر کیا تھا اور تم نے اس
جمال کو پنی آنکھوں سے دیکھا (شرح سفر السعادت)، کہیں جمع کے دونوں پی بری نہمت میں-
(11) ہر روز دو پہر کے وقت دوزخ تیز کی جانی بنے گر جمع کی برکت سے جمع کے دونوں تیز نہیں
کی جانی - (احیاء العلوم)-
(12) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک جمع کوارشاد فرمایا کہ اے مسلما نو! جمع کے دونوں
اللہ تعالیٰ نے عید مقرر فرمایا ہے۔ پی جمع کے دونوں عمل کرو اور جس کو میسر ہو خوشبو لگا کے اور مساک کو
اس دن لا زم کر لو (ابن مجہ)-
وقول اللہ عزوجل: "وَالْيَوْمِ الْمَوْعُودِ وَشَاهِدٍ وَمَشْهُودٍ" اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد
ہے (سورہ برون پ 30 ع 1، آیت نمبر: 3-4 میں) اور (قتم ہے) اس دن کی جس کا وعدہ ہے (یعنی
قیامت کے دن کی) اور (قتم ہے) حاضر ہونے والے دن کی اور (قتم ہے) اس (دن) کی جس میں
لوگوں کی حاضری ہوتی ہے (تنزیل کی حدیث میں مرفوًعا مرودی ہے کہ "یوم موعود" قیامت کا دن ہے اور
"شاهد" جمع کا دن ہے اور "مشهود" عرف کا دن ہے، جمع کو شاہداورعرف کو مشہودشاپر اس لے فرمایا کہ جمع
کے دونوں اپنی اپنی جگہ رکھتے ہیں، تو گویا یہ دن خودآیا ہے اور عرف کے دونوں جانب اپنی مقامات
سے سفر کر کے عرفات میں اس دن کے قصد سے جمع ہوتے ہیں تو گویا یہ دن مقصود اور دور سے لوگ
حاضری کا قصد کرنے والے ہیں
اللہ تعالیٰ نے مسلما نوں کو جمع دے کر سب قوموں پران کوفضیلت عطا فرمائی ہے
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمام (دونوں) سب سے پیچھے آنے اور قیامت کے دون
سب سے پیلے (اس طرح ہول گے) کہ قبروں سے سب سے پیلے انخلاے جا میں گے اور سب سے
پہلے پل صراط پر تے گزر جائیں گے اور سب امتول سے پہلے ہمارا فیصلہ ہوگا - انتظار کی تکلیف نہیں
اٹھانا پڑے گا اور پھر جنت میں داخل ہوئے میں سب امتول سے پہلے تم داخل جنت ہو لگے ) بال
یرجعہ کے ابل کتاب کوتمہ سے پہلے کتاب وی گئی اور تم کوان کے بعد کتاب عطا ہوئی - ( کتاب
کے پہلے دین میں کوئی شرف کی باقی نہیں ہے ) نفس کتاب کے دین میں تم اوروہ مشترک ہیں، گر
قابل غفور بات پیہ کے ہماری کتاب ان کے کتابون کی ناخیز ہے اور ان کے زمانے میں ان سے جو
فضیحتیس ہوتی ہیں، ان کو ہماری کتاب ظاہر کرنے والی سے اور ان پر جوجوعذاب آیا ان کو ظاہر کی
ہے اس لحاظ سے تم کوان سے عبرت لینے کا موقع حاصل ہے اور ان کی سزا قتل سے نصیحت لینے کا بھی
موقع ملتا ہے، ان کے حالات سنا کرتے کوادب دیا گیا ہے، اس لحاظ سے کچھ ہمارا آخر میں آنا باغث
شرف سے محمد ابل کتاب کی کوئا ہیول کے ایک پیغمبر کے کعبادات کرنے کے لئے کوئی خاص دون
مقرر کرنا تھا ) ان کو جمع کا دون مقرر کرنے دیا گیا ( گراس جمع کے دون کی ان کو پچھوقدرنے ہوتی ) وہ
جمع کے لیں میں اختلاف کرنے جمع کو قبول نہیں کے ( اپنی طرح راتی ہوتی مصلحت لے پہودے شنبے کو
عبادت کے لئے اختیار کیا اور نصاری نے اتوار کو ) خدا کا شکر کہ کے اللہ نے تم کو جمع کے دون کے
اختیار کرنے کی پدابت فرمائی - تم جمع کو اختیار کے اوراس دون کے لحاظ سے ابل کتاب تم سے پیچھے
ہو گے - پہودے ( شنبے کے دون کو اختیار کرنے ) ایک دون پیچھے ہو گے اور نصاری ( اتوار کو اختیار کرنے )
دونوں پیچھے ہو گے ( پی جمع کی نہمت تم کو اور دونوں سے دین نغمتوں کی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم کے وجوہ مبارک سے حاصل ہوتی ) -
( اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفرق طور پر کی ہے - )
جمع کے فضائل
The Virtues, Etiquettes, and Rulings of Friday Prayer
It is established from the Glorious Quran, authentic Hadiths, and the consensus of the Ummah that Friday prayer (Salat al-Jumu'ah) is an individual obligation (Fard 'Ain) and a great symbol of Islam. Abandoning it is considered disbelief (kufr), and neglecting it without a valid excuse makes one a sinner (fasiq). It should be known that Allah, the Exalted, does not prefer anything over prayer, and therefore, no act of worship has such strict emphasis and virtue in the Sacred Shariah. For this reason, the Lord of the worlds has ordained this act of worship as a means to fulfill His countless blessings, which continue uninterrupted from the beginning of creation until the end of time, even after death and before birth. It is prescribed every week at a fixed time, and on Friday, more blessings are received than on any other day, especially since Prophet Adam (peace be upon him) was created on this day as the first ancestor of the human race. Therefore, a special prayer was ordained for this day.
The wisdom and benefits of congregation have already been explained, and it is evident that the more people gather, the more these benefits manifest. In times of need, it is possible that people from different localities and most residents of a place may gather in one place to perform the prayer, thus avoiding the inconvenience of praying five times daily or facing hardship. For all these reasons, the Shariah has designated a specific day when Muslims from different localities and villages can gather to perform this act of worship. Since Friday is the best and most noble day among all, it was chosen for this purpose. The previous nations were also commanded by Allah, the Exalted, to observe this blessed act of worship, but they introduced innovations and differences, leading to their deprivation of this great blessing. This virtue, however, became the share of this Ummah.
The Jews designated Saturday as their day of rest, believing that on this day, Allah, the Exalted, completed the creation of all beings. The Christians designated Sunday, believing it to be the day of the resurrection. Consequently, these two sects still pay great attention to these days, often setting aside all worldly affairs.
They remained engrossed in worship. On Sundays, their attention is diverted from all other occupations.
(1) Every Muslim should prepare for Friday from Thursday, performing more frequent acts of repentance and cleansing after the Asr prayer on Thursday, ensuring that their clothes are clean and that they use fragrances, so that on the day of Friday, they do not have to be occupied with these tasks. The pious predecessors (RA) have said that the one who benefits most from Friday is he who eagerly awaits it and prepares for it from Thursday, while the most unfortunate is he who does not even know when Friday is, asking others what day it is. Some of the pious predecessors would stay in the grand mosque on Friday night to show greater reverence (Ihya Ulum al-Din).
(2) On the day of Friday, one should take a bath, comb their hair, and clean their body thoroughly, as using the miswak on this day has great virtue (Ihya Ulum al-Din).
(3) After the bath on Friday, one should wear fine clothes, apply fragrance, and trim their nails and other parts (Ihya Ulum al-Din).
(4) One should go to the grand mosque early, as the more one goes early, the more reward they will receive. The Prophet (peace be upon him and his progeny) said that on the day of Friday, angels read out the names of those who come to the mosque, starting with the first to arrive. The first to arrive receives a reward equivalent to that of someone who sacrifices a camel in the path of Allah, followed by the reward of someone who sacrifices a cow, then a sheep, then a bird, and finally, someone who gives an egg in charity in the path of Allah. When the sermon begins, the angels close the book and become engaged in listening to it (Sahih Muslim and Sahih Bukhari).
In the past, during the time of the righteous, the streets leading to the mosque were filled with people, all heading to the grand mosque for the Friday prayers, and the imam's influence was strong, similar to that on the day of Eid. Then, when the sermon began, the angels would close the book and listen attentively.
The people said that the first innovation in Islam was that Al-Ghazali (RA) states: 'I felt ashamed for the Muslims when I saw that the Jews and Christians would sleep in their places of worship on Saturday and Sunday respectively, and the students and the pious would go to the markets to buy and sell. Thus, the students and the pious began to neglect the ancient practices (Ihya' al-Ulum). In reality, the Muslims of this time have lost the great significance of these blessed days; they do not even know which day it is today, nor what its status is. Alas, those days which were more important to the Muslims than Eid, and on which the Prophet (SAW) took pride, and which were not granted to the subsequent generations, are now a source of humiliation and disregard for the Muslims. It is a severe ingratitude to lose such a blessing given by Allah Almighty, which we are witnessing with our own eyes. To Allah we belong and to Him we shall return!'
One who goes ahead to offer the congregational prayer is rewarded with the merit of a year's fast. (Noble Hadith)
The Prophet ﷺ used to recite Surah Al-A'la and Surah Al-Duha in the Fajr prayer on Friday. Therefore, it is considered meritorious to recite Surah Al-A'la in the Fajr prayer on Friday, although one may also recite other surahs so that people do not think there is only one prescribed recitation.
In the Friday prayer, the Prophet ﷺ used to recite Surah Jumu'ah and Surah Munafiqun or Surah Sajdah and Surah Ghashiyah.
There is great reward in reciting a portion of Surah Al-Kahf before the two units of Friday prayer. The Prophet ﷺ said: 'Whoever recites a portion of Surah Al-Kahf on Friday, a light will appear behind the throne, equal in height to a pillar, which will benefit him in the darkness of the Day of Resurrection. Furthermore, the sins committed between this Friday and the previous one will be forgiven.' (Explanation from Safar al-Sa'adat)
There is also great reward in reciting both blessed invocations, and even more so when recited together.
It is narrated in the Hadith that one should increase the recitation of Darood Sharif on Friday. In the commentary of Safar al-Sa'adat, it is mentioned that after the Day of Judgment, when Allah Almighty will send the deserving ones to Paradise and the undeserving ones to Hell, there will be a day when they will be sent there. Although there will be no day and night, Allah Almighty will establish the measure of days and nights and the count of good deeds. Then, when the day of Jumu'ah (Friday) comes, and at the time when Muslims go out for the Friday prayer, a voice will call out, 'O people, go to the gardens of Paradise.' These gardens have a length and breadth known only to Allah Almighty. The righteous will proceed on camels made of musk, as tall as the prophets, and the believers will ride on carpets made of rubies. When everyone has taken their places, Allah Almighty will cause a breeze to blow, which will make the musk fragrant. This breeze will carry the musk to the people, and it will stick to their faces and hair. A woman who knows the way this musk sticks better than anyone else, even if she is given all the fragrances of the world, will not know it as well. Then, Allah Almighty will command the bearers of the Throne to place it among the people, and He will address them, saying, 'O my servants! You believed in the unseen, although you did not see Me, and you affirmed My Messenger, peace be upon him and his family, and obeyed My commands. Now, I will grant you more rewards in the Hereafter.' All the people will say in unison, 'O Lord, we are pleased with You, and You are pleased with us.' Allah Almighty will say, 'O people, if I were not pleased with you, I would not have placed you in My Paradise. Now, I will grant you more rewards.' Then, the people will express their desires, saying, 'O Lord, let us see Your beauty and glory, as we see You with our own eyes.' Then, Allah Almighty will unveil Himself and appear to them, showing them His true beauty. If the inhabitants of Paradise had not been informed that nothing in Paradise could surpass this, they would not have been able to endure the radiance of this light and would have perished. Then, He will command them to return to their places, and their beauty and glory will double due to the effect of this true beauty. When they return to their places, the angels will not recognize them, nor will they recognize their own selves, after the fear and trembling have subsided.'
The light of youth had been concealed. Later, he saw a son who opened a door behind him. He said: 'The time has passed when your appearance was different, but it has become better than before. The Most High God had bestowed His sacred satisfaction upon you and you have seen this beauty with your own eyes' (Explanation of Safar al-Sa‘adat). It is narrated that both Friday prayers were performed in the presence of the Prophet (PBUH) - (11) Every day at two prayer times, Hell is intensified, but due to the blessing of Friday, it is not intensified during both Friday prayers - (Ihya’ al-Ulum). (12) The noble Prophet (PBUH) delivered a sermon on a Friday, saying: 'O Muslims! Allah the Exalted has ordained Friday as a festival. Perform both Friday prayers, and whoever can, apply perfume and wear new clothes on this day' (Ibn Majah). And the word of Allah, Glorious and Exalted, is: 'And the promised Day, and a witness and the witnessed' (Surah al-Buruj, verse 30, Ayah numbers: 3-4). And (it is) the day whose promise is made (i.e., the Day of Resurrection) and (it is) the day of being present, and (it is) the day where people are present. In the transmitted Hadith, it is explained that 'the promised day' is the Day of Resurrection, 'witness' is the day of Friday, and 'witnessed' is the day of Arafat. Friday and Arafat each hold their own place, so it seems as if this day has come on its own, and people travel from their places to gather in Arafat for the purpose of this day, making it a destination and a day for those coming from far to attend - (12). Allah the Exalted has granted the Muslims the excellence over all nations by giving them Friday (2053-2055/3-1). It is narrated from Abu Hurairah (RA) that he said: The Messenger of Allah (PBUH) said: All (both) will come last and will be the first on the Day of Resurrection (in such a way) that they will emerge from their graves first and will arrive at the gathering place first.'
They will cross the bridge of Sirat with ease and our judgment will be passed before that of all other communities - there will be no hardship of waiting. They will rise and enter Paradise before all other communities. Before the Book is given to them at the time of the second blowing of the Trumpet, the Book will have already been given to you, and you will receive it after the first blowing of the Trumpet. In the first reckoning, there will be no remaining honor in the Book; in the reckoning of the Book, you and they are equal. If we forgive, then our Book will be more exalted than their books, and it will reveal the disgrace that occurs among them during their times, and the torment will come upon them, making their disgrace manifest. From this perspective, you have the opportunity to take heed from their fate and to learn from their punishment as a warning. Their conditions have been narrated as a lesson. For this reason, some of our coming at the end is not devoid of honor, as Muhammad (PBUH) did not appoint any specific day for the worship of a prophet of the People of the Book. They were given the choice of a congregational day, but they differed over it. The Jews chose Saturday for worship, and the Christians chose Sunday. Allah has commanded you to choose Friday for worship and has instructed you to give thanks to Him. You have been commanded to choose Friday, and in this regard, the People of the Book will be behind you - the Jews (who chose Saturday) will be behind, and the Christians (who chose Sunday) will be behind. The excellence of Friday is granted to you and both of them from the blessed cause of the Prophet Muhammad (PBUH).
This hadith has been narrated by Bukhari and Muslim separately.
The virtues of Friday.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت سے آپ فرماتے ہیں کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تمام دونوں سے بہتر جمعہ کا دن ہے۔ جس دن جو واقعات ظاہر ہوتے ہیں، ان واقعات سے اس دن کی عظمت ظاہر ہوتی ہے۔ جمعہ کے دن کچھ جو واقعات چیز آتے ہیں، ایسے واقعات کسی اور دن ظاہر نہیں ہوتے، ایک واقعت تو یہ ہوا کہ اشرف الخلق کے حضرت آدم علیہ الصلاۃ والسلام کے پیدائش کی تکملہ جمعہ کے دن ہوئی (جمعہ کے دن، یا پہلے جمعہ مبارک میں روز ذوالگین)۔ پھر آپ کو جمعہ کے دن، یعنی جنت میں داخل کیا گیا۔ پھر آپ کو جمعہ کے دن، یعنی جنت سے باہر لایا گیا (حضرت آدم علیہ السلام کو جنت کے باہر لانے سے کوئی پند نہیں کہ کیاس میں حضرت آدم علیہ الصلاۃ والسلام کی ابانت ہے بلکہ حضرت آدم علیہ الصلاۃ والسلام کو جنت سے نکلنے میں برطی مصلحت یقینی کرآ دم علیہ السلام کو زمین کا خليفة اللہ بنیا گیا تھا اس کا ظہور زمین پر لانے سے ہی ہوا، کتابول کانا زل کرنا، اور پیغمبر ول کا مجھناپی کی حضرت آدم علیہ الصلاۃ والسلام کے جنت سے نکلنے سے ہی ہوا۔ پیاوراس طرح کے اور حالات جنت سے نکلنے کی وجہ سے ہوتے ہیں، اس لے جنت سے نکلنا کچھ ایک عظیم الشان کام تھا جو جمعہ کے دن ہوا اس سے کچھ جمعہ کی عظمت ظاہر ہوتی ہے۔ اور قیامت (یعنی آخری دن) جس سے تمام مخلوق زندہ ہوگئے میدان حشر میں آئی گی) جمعہ کے دن، یعنی ہوگی (اس سے اعلیٰ جنت کو برآے برآے مرتب جنت میں گے، اس کے بعد، یا اس کی وجہ سے جنت کی نعمتیں کچھ ان کو حاصل ہونگی، پیا معظم کا میں جمعہ کے دن، یعنی ہوئے گے، اس سے کچھ جمعہ کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے۔)۔(اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
جمعہ مسلمانوں کی عید کا دن ہے
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘The best day on which the sun rises is Friday. On it, Adam was created; on it, he was admitted to Paradise; on it, he was expelled from it; and the Hour will not occur except on Friday.’" [Narrated by Muslim]
(سورۃ ما ئده پ6، ع1، آیت نمبر:3)'الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِى وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلامَ دِيناً '(اللہ تعالی فرماتے ہیں)(مسلمانو!) آج کے دن میں تمہارے لیے تمہارے دین کو کامل کردیااور میں نے تم پراپنا نعام پورا کرویا_اور میں نے اسلام
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی گئی ہے کہ آپ (ابو دنیا) یہ بتا ہے
کوتمہارادینبنثکےلےپسندکرلیا)-جبحضرتا بن عباس رآيتپڑھتواسوقتآپ
کے پاس ایک یہودی (بیٹھا ہوا) تحاس نے کہا آگریآئے تو، تم پراترتی تو آپ پڑیہتے کہ تم اس دون
کوعیدمناے(مسلمانولپرافسوسبھکراسآئے کے اترنے کی پچھقدرنہیں کے، یہودی سے پیر
سن کر) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فراماے: تم تو ایک عیدمناے تم تو اس آئے کی خوشی میں دو
عیدمناے ہیں (سالانہ جیاورہفتہواریہی) تم کومعلوم ہے کہ یہآئے کب اتری ہے؟ یہآئے
عرفات میں عصر کے وقت جمع کے روز ذی الحجہ کی نویں تارتی لیجنعرفد کے روز نازل ہوتی ہے
(عرفت کے دن عرفات میں سالانہ عید ہوتی ہے، جس میں تمام دنیا کے مسلمان جمع ہوتے ہیں اور جمع
کے دن ہفتہ واری عید ہوتی ہے، جس میں شہر کے تمام لوگ ایک جگہ جمع ہوتے ہیں اس طرح اس
آئے کے اترنے کے دن تم دونوں شیال منا کرتے ہیں)- (اس حدیث کی روایت ترمذی نے کی ہے-)
جمع کی رات اور جمع کے دن کے فضل
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated:
"He recited the verse: ‘This day I have perfected for you your religion...’ (Qur’an 5:3) in the presence of a Jew, who said: ‘If this verse had been revealed to us, we would have taken it as a day of celebration.’ Ibn Abbas replied: ‘It was revealed on two days of celebration: Friday and the Day of Arafah.’" [Narrated by Al-Tirmidhi]
انس رضی اللہ عنہ روايتہآپفرماتےہیں کرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ جب رجب کا مہینہ آتا تھا تو آپ پیر دعا پڑھا کرتے
تھے: "اللّٰہم بارک لنا في رجب وشعبان وبلغنا رمضان" اے اللہ! رجب آگیا
ہے، رجب اور شعبان میں ہمارے نیک اعمال میں برکت عطا فرما ئے (کہ بہت نیکیاں کر کے
دل کو رمضان کے قابل بنا ئیں) پھر تم کو رمضان تک پہوچا ئیں (کہ تم رمضان میں روزے
رکھ کر اور تراوتہ پڑھ کر دل کو خوب جلا دیں اور روش کر لیں اور اللہ تعالی کی رحمتوں کے مستحق بن
جا ئیں، راوی کہتے ہیں کہ اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمع کی نسبت فرمائا کرتے تھے
کہ (اللہ تعالی کے انوار جمع میں اسقدربرستے ہیں کہ) جمع کی رات نورانی رات ہوجاتی ہے
اور اس کا دن روش دن ہوجاتا ہے-(اس کی روایت میں نے دعوات کبیر میں کی ہے-)
جمعہ کے دون ایک گھڑی ایسی ہے جس میں دعا قبول ہوتی ہے
Anas (may Allah be pleased with him) narrated: "When the month of Rajab began, the Messenger of Allah (ﷺ) would say: ‘O Allah, bless us in Rajab and Sha’ban, and let us reach Ramadan.’ He also said: ‘The night of Friday is radiant, and its day is bright.’" [Narrated by Al-Bayhaqi in Al-Da’awat al-Kabir]
ابو هریرہ رضي الله عنه سے روايت ہے آپ فرماتے ہیں کر رسول الله صلى الله عليه وسلم نے (سورۃ بروج کی تفسیر میں) ارشاد فرمایا کہ الیوم المشهود (وہ دن جس کا وعدہ ہے)
تمراد قیامت کا دن ہے اور الیوم المشهود (وہ دن جس دن میں لوگ تمام دنیائے عرفات میں حاضر ہوتے ہیں) تمراد عرفہ کا دن ہے اور شاہدتمراد جمعہ کا دن ہے (کہ لوگ تو اپنی اپنی جگہ رشتہ بناؤر جمعہ ان پر حاضر ہوتا ہے) اور سب دولت سے فضل دن جمعہ کا دن ہے، جمعہ کے دن ایک گھڑی ایسی ہے کہ جو بندہ مومن اللہ تعالیٰ سے اس وقت دعا خیر کرتا ہے تو اس کی دعا اللہ تعالیٰ قبول فرمائے گیاور جس شرط پچانے کی دعا کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کواس شرط پچانے رکھے گی۔
جمعہ کے فضائل
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘The promised day is the Day of Resurrection, the witnessed day is the Day of Arafah, and the witness is Friday. No day is better than Friday, for on it there is an hour when no believing servant asks Allah for good except that He grants it, nor seeks refuge from evil except that He protects him from it.’" [Narrated by Ahmad and Al-Tirmidhi]
ابولاہ بن عبدالمطلب رضي الله عنه سے روايت ہے وہ فرماتے ہیں کہ بی کریم صلى الله عليه وآله وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جمعہ کا دن سب دولت کا سردار ہے، اللہ تعالیٰ کے پاس سب دولت سے زیادہ جمعہ کی عظمت ہےاور عیدالفطراورعیدالفیٹ سے بھی زیادہ اللہ کے نزدیک اس کی عظمت ہے، جمعہ میں پانچ عظیم الشان کام (پڑھیوے) ہیں(اور پڑھیوے والے ہیں) اس کے جمعہ کی سب دولت سے زیادہ عظمت ہے(اثرفاخلوقات) حضرت آدمعلی الصلاۃوالسلام کی پیداش کی تکملہ جمعہ کے دن ہوتی (جمعہ کے دن، یا پ کےجسم مبارک میںروح ذالیگئی) آدمعلی السلام کو جمعہ کے دن، یا زمین کی طرف اتارا گیا (جس سے آدمعلی السلام کی خلافت اللہ کی تکملہ ہوتی، پیغمبر آئے، کتابیں اتاری گئیں، یہ ب جنت سے اترنے سے، یہ وا اس سے بھی جمعہ کی عظمت ثابت ہوتی ہے)اور جمعہ کے دن، یا حضرت آدمعلی السلام کا انتقال ہوا(جس سے حضرت آدمعلی
السلام پریشاں ہوئے کے گھر تے نکل کرامن وعافیت کے گھر میں پہوچے، اس سے بھی جمع کی عظمت ثابت ہوتی ہے۔ اور جمع کے دون ایک گطری ایسی ہے جو بندہ موم کے اللہ تعالیٰ کے اس وقت دعا کے خیر کرتا ہے تو اس کی دعا اللہ تعالیٰ قبول فرمائیے گی، بالا اس گطری میں اگر بندہ کوئی حرام اور ناجائز کام کی دعا کرے تو وہ دعا قبول نہیں ہوگی۔ (اس میں بندہ کا، یا نہ ہے۔ وہ اپنی بچچی سے ناجائز امور کا سوال کر رہا ہے۔ اس لے اس کی دعا قبول نہیں کے۔ اور اس کو ای دعا کے نثر تے پڑادے۔ قیامت کے نقص ثانی کی طرح نقص اول ہی) جمع کے دون ہوگا۔ اس وجہ سے جب جمع کا دون ہوتا ہے تو (انسان کے سوا) مقرب فرشتے، آسمان وزیرین، ہوا نسیں، پہاڑ، دریا سب دور سے اور سے ہو گے رشتہ ہیں۔ (کر شاہراہ اس جمع کو قیامت قائم ہو جائے، اور تم تباہ ہو جائیں نقص اول کا ئیم الثانی کام جمعی جمع کے دون ہوگا)۔ (اس حدیث کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔)
The peace of the distressed house leaves and reaches the house of mercy and safety, thereby demonstrating the greatness of the congregation. And the call to prayer (Adhan) for the congregation is such that when a servant prays to Allah the Exalted at this time, his prayer will be accepted by Allah the Exalted. However, if the servant prays for something forbidden or unlawful in this call to prayer, his prayer will not be accepted. (In this, the servant is asking his child about unlawful matters, so his prayer will not be accepted, and he should be rebuked for it. This is like the first defect leading to the second defect on the Day of Resurrection.) The call to prayer for the congregation will be made, and when the call to prayer for the congregation is made, the angels close to Allah, the inhabitants of the heavens, the winds, the mountains, and the rivers will all come from far and near. (If the road to this congregation is cut off, and the congregation is destroyed, the first defect will lead to the second defect, which will be the work of the congregation on the Day of Resurrection.) (This hadith is reported by Ibn Majah.)
اور امام احمد کی روایت میں سعد بن معاز رضی اللہ عنہ سے اس طرح نذور ہے۔ کہ ایک انصاری صحابی حضرت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کے کہ حضور جمع میں کیا کیا خیر و برکات میں ان کوپیان فرمائیے، آپ ان انصاری کو، یا پائیج بتلا کے جن کا صدر میں ذکر ہوا ہے۔ جمع کے دون ایک گطری ایسی ہے جس میں دعا کے قبول ہوتی ہے۔ پہلی حدیث
a Companion from the Ansar presented himself to the Messenger of Allah ﷺ and said, 'O Messenger of Allah, what do you pray for us in the gathering? What good and blessings do you bestow upon us, O Messenger of Allah, or tell us about those who were mentioned in your presence. A gathering is such that supplications are accepted therein.'
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جمع کے دون میں ایک ساعت ایسی ہے کہ اگر کسی مسلمان کو وہ مل جائے اور وہ اس میں اللہ تعالیٰ کے کوئی بجلائی کی دعا کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا کے قبول کرے وہ بجلائی اس کو عطا فرمائیے گی۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم میں متفرق طور پر ہے۔ اور مسلم میں اتنا اور ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ قبول کی وہ ساعت
بہت تحوّل ہے۔
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘There is an hour on Friday when no Muslim servant asks Allah for good except that He grants it.’" [Agreed upon]
Muslim added: ‘It is a brief hour.’ In another narration: ‘It is when a Muslim is standing in prayer, asking Allah for good.’
اور بخاری اور مسلم کی ایک اور روایت میں اس طرح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جمعہ کے دن میں ضرور ایک ساعت ایسے ہے اگر طیک اس ساعت میں کوئی مسلمان دعا میں مشغول ہوتا اللہ تعالیٰ اس کی دعا کی برکت سے ضرور قبول فرما تے ہیں۔
دوسری حدیث
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘There is an hour on Friday when no Muslim servant asks Allah for good except that He grants it.’" [Agreed upon]
Muslim added: ‘It is a brief hour.’ In another narration: ‘It is when a Muslim is standing in prayer, asking Allah for good.’
ابوبرہ بن ابی موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتا ہے کہ میں نے اپنے والد حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ کو پرما تے سناتا کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما تے تھے کہ جمعہ کی وہ ساعت جس میں دعا قبول ہوتی ہے امام کے پیلے خطبے کے لئے منبر پر بیٹھنے کے وقت سے لے کر فرض جمعہ کے ختم ہونے کے درمیان میں کسی وقت آ جائے ہے۔
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد کہ جمعہ کی وہ ساعت جس میں دعا مقبول ہوتی ہے وہ امام کے خطبے کے لئے منبر پر بیٹھنے کے وقت سے لے کر فرض جمعہ کے ختم تک رہتی ہے حالاکہ خطیب کے خطبہ بیان کرنے کے وقت انصات کی چپ رہنا کا حکم ہے اور نماز میں توبات کرنا نہیں سکتا پھر دعا کا کیسا موقع ملا اس بارے میں صاحب مرقات نے علامہ ابنی رحم اللہ کے خوالد سے کہاہے کہ دعا کے لئے زبان سے تلفظ شرط نہیں ہے، صرف دل میں دعا کا خیال رکھنا کافی ہے۔ ایسا خیال رکھنے سے بھی قبول ہوجائے گا (مرقات)۔
جمعہ کے فضائل اور مقبول گھڑی کا ذکر
Abu Burdah ibn Abi Musa (may Allah be pleased with him) narrated: "I heard my father say: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say about the hour on Friday: ‘It is between when the Imam sits (on the pulpit) until the prayer is concluded.’" [Narrated by Muslim]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی گئی ہے وہ فرما تے ہیں کہ مجھے طور جانے کا
اِتفاق ہوا۔ و بالکعب احبار سے ملاقات ہوئی، میں ان کے پاس پیٹھ کر با تین کر نے لگا (چونکہ) وہ اس زمانے میں یہودی تھا) اپنی توراۃ کے پے مضامین سانے لگے، میں مجھی ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے احادیث سنار با تھا مجمل ان احادیث کے جو میں ان کو سنار با تھا، ایک حدیث یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا، پول تو ہر دن آ فتاب نکلتا ہے اور جمعہ کے دن کی آ فتاب نکلتا ہے، مگر جمعہ کے دن آ فتاب نکلتے جمعہ کا جو ظہور ہوتا ہے اس دن جو خیر و برکات ظاہر ہوتے ہیں، ایسے کی دن میں طاہر نہیں ہوتے، اس لے جمعہ کا دن سب دنون میں افضل ہے۔ حضرت آدم علیہ الصلاۃ والسلام اس دن پیدا کیا گیا اور اسی دن (جنت) سے زمین پرتارے لے گیا اور اسی دن ان کا قصور معاف ہوا۔ اور اسی دن انہوں نے وفات پانی۔ اسی دن قیامت قائم ہوگی۔ (اور تہی بار صور پچونکا جانے گا۔ جس سے سارا عالم فنا ہو جانے گا) جن و انس کے سواہر جاندار کواس کی خبر ہے کہ جب کہی قیامت آئے گی تو جمعہ کے دن نے صادق سے طلوع آ فتاب کے درمیان، یا آئے گی) اس لے جن و انس کے سوا کوئی جانور ایسا نہیں جو جمعہ کے دن نے صادق سے طلوع آ فتاب تک قیامت قائم ہونے کے خوف سے صور پچونک جانے کی آواز کی طرف کان دلگا رکھتا ہو، جمعہ کے دن میں ایک ساعت ایسی ہے کہ کوئی مسلمان نماز پڑھ رہا ہو اور اتفاق سے وہ ساعت نماز میں آئے (اور اس کے دل میں دعا کا مضمون حاضر ہو) تو اللہ تعالیٰ اس گھڑی کی برکت سے اس کی دعا قبول فرما کر جواب دینا وہ ما نگر با تھا، اس کو عطا فرماتے ہیں (یعنی کر) کعب احبار نے فرمایا کہ (ہمارے پاس کچھ اس کا داخلہ ہے)۔ یہ ساعت جس میں دعا قبول ہوتی ہے، سال میں ایک مرتبہ آتی ہے، میں نے ان سے کہا نہیں، یہ مقبول ساعت تو ہر جمعہ میں آتی ہے (یعنی کر) کعب نے توراۃ کی تلاوت کی اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پچ فرمایا (مجھے خیال نہیں رہا تھا) توراۃ میں کچھ ویاہی ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہر جمعہ کو وہ
مقبول ساعت آتی ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد میری ملاقات عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو میری اور عب احبار کی جمع کی مقبول ساعت کے متعلق جوگفتگو ہوئی۔ اس کو میں عبد اللہ بن سلام میں کے سامنے دہرائا کر کہ کعب کہہ دے ٹھک کر پی مقبول ساعت ہرسال ایک دن میں آتی ہے۔ پیس کر عبد اللہ بن سلام میں کہ: کعب کو یاد نہ رہا ہوگا، وہ غلط کہے، پھر میں عبد اللہ بن سلام سے کہا کر کعب تو راہ پڑھنے لگ ان کو اپنی غلطی کا علم ہوگیا۔ اس لے پھر کعب نے کہا: ٹھہ وہ مقبول ساعت ہر جمعہ میں آتی ہے عبد اللہ بن سلام میں کر کہ: اب کعب نے ٹھک کہا، پھر عبد اللہ بن سلام نے کہا کہ میں اس ساعت کو جانتا ہول کر وہ جمعہ کے دن کس وقت آتی ہے، تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتا ہیں کہ میں نے عبد اللہ بن سلام میں سے کہا کہ مجھے وہ ساعت بتادیتے اور مجھے اس ساعت کونہ پچھاپیے تو عبد اللہ بن سلام میں فرما کر وہ جمعہ کے دن کی آخری ساعت ہے۔ ابوہریرہ کہتا ہیں کہ وہ جمعہ کے دن کی آخری ساعت کیے ہوسکتی ہے جب کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرما کر جومسلمان بندہ نماز پڑھتے ہوئے اس ساعت کو پائے، حالاگہ (عصر کے بعد) جمعہ کی آخری ساعت میں کوئی نماز نہیں پڑھی جاتی ہے۔ پیس کر عبد اللہ بن سلام میں فرما کر تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نہیں سن کر حضرت فرماتے ہیں کہ جو شخص نماز کے انتظار میں بیٹھا ہوتا تو سجحا جاتے گا کر وہ نماز، یا میں ہے، میں نے کہا بال پیشک میں نے سناہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے فرما ہیں! تو عبد اللہ بن سلام نے کہا: پس اب بھی لو کر نماز پڑھتے ہوئے وہ ساعت پائے سے مطلب یہ کہ جو بندہ موسی نماز کے انتظار میں ہوتا وہ نماز میں، یہ سمجھا جاتا ہے۔ ایسے نماز کے انتظار کی حالت میں اس کو وہ ساعت میں تو سمجھا جاتے گا کہ نماز میں، یہ اس کو وہ ساعت میں اس وقت وہ جودعا کرے قبول ہوتی ہے۔)
(اس حدیث کی روایت امام ماک، ابوداود، ترمذی اور نسائی نے کی ہے اور امام احمد نے بھی
اس کے قریب قریب روایت کی ہے۔)
جمع کے دون ایک گھڑی اسی سے جس میں دعاے قبول ہوتی ہے
پہلی حدیث
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: "I went to Mount Tur and met Ka’b al-Ahbar. We sat together, and he told me about the Torah, while I told him about the Messenger of Allah (ﷺ). Among what I told him was: ‘The Messenger of Allah (ﷺ) said: “The best day on which the sun rises is Friday. On it, Adam was created; on it, he was forgiven; on it, he died; and on it, the Hour will occur. No creature but that it is in fear of Friday from dawn until sunrise, except for jinn and humans. On it, there is an hour when no Muslim servant asks Allah for something while praying except that He grants it.” Ka’b said: ‘That is one day every year.’ I said: ‘No, it is every Friday.’ Ka’b read the Torah and said: ‘The Messenger of Allah (ﷺ) spoke the truth.’"
Abu Hurairah said: ‘I met Abdullah ibn Salam and told him about my meeting with Ka’b and what I had said about Friday. I told him: Ka’b said it is one day every year. Abdullah ibn Salam said: Ka’b lied. I said: Then Ka’b read the Torah and said: It is every Friday. Abdullah ibn Salam said: Ka’b spoke the truth. Then he said: I know which hour it is. I said: Tell me, and do not withhold it. He said: It is the last hour of Friday. I said: How can it be the last hour when the Prophet (ﷺ) said it is when a Muslim is praying? He said: Did the Prophet (ﷺ) not say: “Whoever sits waiting for the prayer is in prayer until he prays”? I said: Yes. He said: That is it.’" [Narrated by Malik, Abu Dawud, Al-Tirmidhi, and Al-Nasa’I while Ahmad narrated up to: ‘Ka’b spoke the truth]
This hadith has been narrated by Imam Maq, Abu Dawud, Tirmidhi, and Nasa'i, and Imam Ahmad has also narrated it in a similar version. The two prayers are at a time when supplications are accepted. First hadith
اٰس رضي اللہ عنه سے روايت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے ارشاد فرمايا وہ ساعت جس میں دعاے مقبول ہوتی ہے۔ جمع کے دون عصر کے بعد سے
لے کر سورج کے غروب ہونے تک کسی وقت آئی ہے، اس لے اس مقبول ساعت کواس وقت میں
تماشا کرو۔ (اس کی روايت تنزہی نہیں ہے۔)
اٰس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ ساعت جس میں دعاے مقبول ہوتی ہے۔ جمع کے دون عصر کے بعد سے
لے کر سورج کے غروب ہونے تک کسی وقت آئی ہے، اس لے اس مقبول ساعت کواس وقت میں
تماشا کرو۔ (اس کی روایت تنزہی نہیں ہے۔)
جمع کے فضائل
Virtues of Congregational Prayer
اٰبوبهریرہ رضي اللہ عنه سے روايت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ حضور جمع کے دون کو جمع کیون کیتے ہیں؟ کون چیزی اس میں تحج کی گئی
ہیں۔ جس کی وجہ سے اس کو جمع کیتے ہیں: حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے:
سنو! (اس دون میں بہت سے اہم اور عظیم امور جمع ہوتے ہیں) جمع میں ایک بات تو یہ ہوتی
کہ آدم علیہ السلام کو بنانے کے لیے مٹی کو تیار کیا گیا، جمع کے دون میں پہلاصور پچونکا جاتے گا (جس
سے تمام عالم فنا ہوجائے گا) اور جمع کے دون میں (دوسرے اصور پچونکا جاتے گا جس سے) تمام عالم پھر
زندہ ہوجائے گا۔ جمع کے دون میں میدان قیامت (میں وہ بنگامہ) قائم ہوگا (جس کی وہشت سے
پھے بوڑے ہو جائیں گے)۔ جمع کے دون آخری حصر میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ اس گھڑی میں جو
کوئی دعا کرے اللہ تعالیٰ اس کو قبول فرماتے ہیں۔ (اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جمع کے دون عصر
سے مغرب تک کے درمیان مقبول ساعت آئی ہے اس لے عصر سے مغرب تک کے وقت کو اور
دنیوی امور میں ضائع نہ کریں بلکہ عبادات اور دعا میں مشغول رہیں)۔ (اس حدیث کی روايت
اٰبوبهریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ حضور جمع کے دون کو جمع کیون کیتے ہیں؟ کون چیزی اس میں تحج کی گئی
ہیں۔ جس کی وجہ سے اس کو جمع کیتے ہیں: حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے:
سنو! (اس دون میں بہت سے اہم اور عظیم امور جمع ہوتے ہیں) جمع میں ایک بات تو یہ ہوتی
کہ آدم علیہ السلام کو بنانے کے لیے مٹی کو تیار کیا گیا، جمع کے دون میں پہلاصور پچونکا جاتے گا (جس
سے تمام عالم فنا ہوجائے گا) اور جمع کے دون میں (دوسرے اصور پچونکا جاتے گا جس سے) تمام عالم پھر
زندہ ہوجائے گا۔ جمع کے دون میں میدان قیامت (میں وہ بنگامہ) قائم ہوگا (جس کی وہشت سے
پھے بوڑے ہو جائیں گے)۔ جمع کے دون آخری حصر میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ اس گھڑی میں جو
کوئی دعا کرے اللہ تعالیٰ اس کو قبول فرماتے ہیں۔ (اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جمع کے دون عصر
سے مغرب تک کے درمیان مقبول ساعت آئی ہے اس لے عصر سے مغرب تک کے وقت کو اور
دنیوی امور میں ضائع نہ کریں بلکہ عبادات اور دعا میں مشغول رہیں)۔ (اس حدیث کی روایت
امام احمد نے کیا ہے۔)
جمع کے دونوں کثرت سے درود پڑھنے کی فضیلت
پہلی حدیث
Imam Ahmad has narrated regarding the virtue of reciting abundant salutations in congregation.
اوس بن اول رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم جن دنوں کو فضل سمجھتے ہو مثملہ ان کے جمع کا دونوں ایک فضل دین ہے، جمع کے دونوں آدم علی الصلاۃ والسلام کو بنا نے کے لیے میں کو نہیں کیا گیا اور جمع کے دونوں آپ کی وفات ہوتی اور جمع کے دونوں دور اصور پھونکا جاتے گا (جس سے تمام عالم پھر زندہ ہوتا) اور جمع کے دونوں پہلا صور پھونکا جاتے گا (جس سے تمام عالم فتاہوتا) (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر ارشاد فرما یے کہ جب تم سن پچھرے) جمع افضل دنوں میں سے تو اس دنوں (فضل عبادات لیئے) مجھے پر درود کی کثرت کیا کرو، کیونکہ جمع کے دونوں درود مجھے پر پچھ کیا جاتا ہے (چونکہ جمع افضل ایام سے تو اس دنوں میں حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت مبارک میں درود پڑھنا نہایت مناسب ہے، جمع کے دنوں درود شریف کثرت سے پڑھنے کے لیے اس لیے ارشاد ہوتا ہے کہ اور دنوں میں فرشتوں کے ذریعے حضرت کی خدمت میں درود پچھ کیا جاتا ہے مگر) جمع کے دنوں ایک خاص (کشف کا مضمون مرقات میں ذکور ہے-) کشف کی کیفیت حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ظاہر ہوتی ہے جس کی وجہ سے درود پڑھنے والے کے درود کو حضرت بلاواسطہ خود سامعت فرماتے ہیں (جسے پڑی دین والے کے پڑیا جسیا کے سنہی حاشیر نسائی میں ذکور ہے-12) کو پڑیا لین والاخود لیتا ہے) صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ ہمارے درود آپ پر کس طرح پچھ کے جاتی ہیں گے (اورآپ کو کیا کشف ہوتا) جبکہ حضرت کا جسم مبارک (بعد وصال کے) محفوظ ڈرہ گا-(پیس کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کر اللہ عز وجل نے انگیاء
کے جسم زمین پر حرام کر دیا ہے۔ (کرمطی انپیاء کے جسم کو نہیں کہائی بلکہ جسم میں وسالم رہے ہیں)-
(ایسائی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جسم مبارک بھی زمین پر حرام کروایا گیا ہے اور آپ کے جسم کی
کوئی نظیر عالم برزخ میں نہ ہوئے۔ اس جسم مطہر میں روح اقدس واپس کروایا گیا ہے، آپ قبر
ثریف میں زندہ تشریف فرما ہیں اور کشف جسم مطہر پر، یہوتا ہے اس لے حضور جمع کے دون اپنی
امت کے درود کو جسم مطہر، یہ سے سنگ ہیں، خواہ امت و نیا کے کسی حصے سے بھی درود پڑے ہے، حضور صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جمع کے دون اپنے امت کے درود کو فرشتہ کے واسطے کے بغیر سن لینا کوئی تجب کی
بات نہیں، جب کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہی ایسا واقع ہوا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ مدینہ
منورہ میں جمع کا خطبہ دیتے ہوئے ایران کے میدان جنگ میں حضرت ساری پسپا لا رکود کیے اور ان
کو تجہ جنگ کرنے کا اعلان کیے، اس اعلان کو حضرت ساری بھی سینکڑ ول میل کے فاصلے سے سن
لے۔ اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو جب سینکڑ ول میل دور سے کشف ہوا تو
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بدر جاوی امت کے درود کا خواہ و نیا کے کسی حصے سے بھی ہو کشف
ہونا کوئی تجب کی باٹ نہیں بلکہ امر یقینی ہے)- (اس حدیث کی روایت ابوداود، نسائی، ابن ماجراور
داری نے کی ہے اور یہی نے کہی اس کی روایت و عوام کہی میں کی ہے)-
Aws ibn Aws (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘The best of your days is Friday. On it, Adam was created; on it, he died; on it, the Trumpet will be blown; and on it, the Punishment will occur. So increase your prayers upon me on this day, for your prayers are presented to me.’ They asked: ‘O Messenger of Allah, how are our prayers presented to you when you have turned to dust?’ He replied: ‘Allah has forbidden the earth from consuming the bodies of the Prophets.’" [Narrated by Abu Dawud, Al-Nasa’i, Ibn Majah, Al-Darimi, and Al-Bayhaqi in Al-Da’awat al-Kabir]
This hadith has been narrated by Abu Dawud, Nasa'i, Ibn Majah, and Daru. It is said that its narration and widespread acceptance are due to him.
ابوداود اعرضی اللہ عنہ سے روایت ہے و فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرما یا کہ جمع کے دون میں پر کثرت سے درود پڑھا کرو، اس وجہ سے کہ
جمع کا دون (بہت ممتن کر دیں ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث 399 سے معلوم ہوتا ہے کہ
جمع شاہد ہے، اس لے کہ لوگ تو اپنی اپنی جگہ رہتے ہیں، جمع ان لوگوں کے پاس ان کو فیض
پہوچا لے خود حاضر ہوتا ہے، ایسائی جمع) مشہود بھی ہے، اس لے کہ جمع کے دون رحمت کے
فرثت کر تے آئے جو اور رحمت پھیلا تے ہیں (کسی دن میں ایسی رحمت نازل نہیں ہوتی،
جب جمعہ کے دن نازل ہوتی ہے صلوۃ لعن درود کی رحمت، یہ اس لیے کر تے ہیں جا کرو)
(تم کو معلوم ہونا چاہیے کہ جمعہ کے دن درود کی میل اور دوسروں دونوں میں درود کی میل بڑا
فرق ہے اور دونوں میں تم جو درود کیتے ہو وہ درود فرثت میں پاس لاکر پیش کرتے ہیں،
خلاف) جمعہ کے اس دن میں ایسا کشف ہوجاتا ہے کہ بقیہ فرثتوں کے واسطوں کے تمہارا
dرو کشف کے ذریعے تمہیں پرطاہر ہوجاتا ہے (پیپورا مضمون مرقات میں نذکور ہے۔) میں
تمہارے درود کو خود ستاہول اور پیکشف تمہارا درود پڑہنا ختم ہو نے تک باقی رہتا ہے (گو کہتے ہیں
dریہ وا کہتے ہیں درست پڑہا جائے، یہ بات اور دونوں میں حاصل نہیں ہوتی ہے، اس لیے تم کو
تاکید سے کہتا ہول کہ جمعہ کے دن کثرت سے جو پردرود کچھ کرو) ابودردا کہتے ہیں: میں نے
عرض کیا: حضور پیکشف ہونا آپ کی زندگی تک ہی ہے یا آپ کے وصال کے بعد بھی ایسا، یہ
آپ کو جمعہ کے دن درود پڑہے جانے کا کشف ہوتا رہتا ہے گا: پیسن کر حضور ارشاد فرماتے سنو: ابودردا کے (سغیرول کا تم عوام پر قیاس نہ کرنا) اللہ تعالیٰ نے سغیرول کے جسم زمین پر حرام کر دیا
میں کر سغیرول کے جسم کو (عوام کے جسم کی طرح) میں نہیں کہا تی ہے، وہ اپنے جسم کے ساتھ
اپنی قبروں میں زندہ موجود ہیں (ایسے ہی میں اپنی قبر میں اپنے جسم کے ساتھ زندہ رہول گا۔ ابودردا کے مجھے ہول گے صرف روحا نی زندگی ہوگی، نہیں نہیں بلکہ روح جسم کے ساتھ ایسی موجود
رہے گی مجھے دنیا میں ہے، اس لیے) وہال رزق مجھے دیا جائے گا۔ (اس لیے میں قبر میں زندہ
رہول گا اور مجھے کشف مجھی ہوتا رہے گا اور میں امتیاز کے درود کو خود سنون گا۔ اس خصوص کی وجہ
سے کہتا ہول کہ جمعہ کے دن مجھے پرکثرت سے درود کچھ کرو)۔
(اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔)
Abu al-Darda (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Increase your prayers upon me on Friday, for it is witnessed by the angels. No one sends prayers upon me except that his prayers are presented to me until he finishes.’ I asked: ‘Even after death?’ He replied: ‘Allah has forbidden the earth from consuming the bodies of the Prophets, so the Prophet of Allah is alive and provided for.’" [Narrated by Ibn Majah]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو مسلمان جمع کے دن یا جمعہ کی رات کو مرتابہ تو اللہ تعالیٰ بھر ایسے مسلمان کو (بمیشہ (مرقات-12) کے لے) قبر کے عذاب اور سوال سے محفوظ رکھے ہیں -
Abdullah ibn Amr (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘No Muslim dies on Friday or the night of Friday except that Allah protects him from the trial of the grave.’" [Narrated by Ahmad and Al-Tirmidhi]