(یہ باب اشراق کی نماز اور چاشت کی نماز کے بیان میں ہے)
This chapter deals with the prayer of Ishraq and the prayer of Chasht.
وقول الله عز و جل والشفع والوتر الل تعالي كا ارشاد سور الفجر ء ايت نمبر مي قسم جفت نمازون كي ليي اشراق اور اشت كي جسيا ك مرقات مي ذكور اور قسم طاق نمازون كي ليي نماز وتر جسيا ك مرقات مي ذكور كي جو عشاء ك بعد ي جاتي
نماز چاشت کا وقت
زید بن ارم رضی اللہ عنہ تے روایت سے کر انہول نے پچھوگول کودیحا کروہ چاشت کی نماز کو چاشت کے اول وقت میں پڑھ رہے تھے ( حالانکہ پراشراق کی نماز کا وقت تھا، چاشت کی نماز کا مستحب وقت نہیں تھا ) حضرت زید بن ارم رضی اللہ عنہ نے پردیکہ کر فرمایا ( کہ چاشت کی نماز کا مستحب وقت نہیں تھے ) ان کومعلوم ہونا چاہے کہ چاشت کی نماز کا مستحب وقت اس کے علاوہ ہے، جسیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ صلاۃ الاوا بین لیمن چاشت کی نماز اس وقت ہوتی چاہے جبکہ اونوول کے چھوٹے چھوٹے پچ ریت کی تپش سے گرمانے لگے ہویں (اوراس وقت دن کا چوٹھائی حصہ ہوتا ہے اوراس وقت کے مستحب ہونے کی وجہ یہ کہ پراحت وآرام اورکاروبار کا وقت ہوتا ہے اوراس وقت نماز کے لیے کھڑے ہونا نفس پرساق ہے، اس وقت چاشت کی نماز وہی پڑھے گا جواوائین میں سے ہو، لیمن جواپی راحت وآرام
اور کاروبار کو جھوٹ کر خدا کی طرف رجوع ہونے والوں میں ہو )۔
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
ف: واضح باد کے درختار میں کس حاہے کہ چاشت کی نماز بقول چار رکعت یا سے زائد ہے
اور اس کا وقت آفتاب کے ایک نیزہ بلند ہونے کے بعد سے شروغ ہو کر زوال تک رہتا ہے اور نماز
چاشت کا مستحب وقت پیشہ کہ اس کودن کا چوٹالی حضرت نے کے بعد اداء کیا جاتے _ المني میں کہا
گیا ہے کہ نماز چاشت کی کم از کم مقدار دو رکعت ہیں اور زیادہ سے زیادہ بارہ رکعت ہیں اور اوسط آٹھ
رکعت ہیں اور آٹھ رکعت، یا فضل ہے جسیا کہ ذخائر اثر فیہ میں ذکور ہے اس کی وجہ یہ کہ نماز
چاشت کے (8) رکعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلم وسلم کے قول اور عمل دونوں سے ثابت ہیں اور بارہ
رکعت کا ثبوت صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلم وسلم کے قول سے ملتا ہے عمل سے نہیں۔
فجر کی نماز کے بعد سے اثر اق کی نماز تک ذکر و شغل میں ہیں کا ثواب
Zayd ibn Aram (RA) said: 'They were not praying at the preferred time for Zuhr. They should have known that the preferred time for Zuhr is different, as the Messenger of Allah ﷺ said: “The best time for Zuhr prayer is when the sun begins to decline and its small rays start to fall, which is when one-fourth of the day has passed.” This time is preferred because it is a time of rest and ease, and a time for business, and standing in prayer at this time is a pleasure. Whoever prays Zuhr during this time is among those who seek rest and ease and turn to Allah, forsaking their business and comfort.' (This narration is reported by Muslim.) It is clear that the preferred time for Zuhr prayer is after the sun has risen about a spear's length above the horizon until just before midday. The prayer can be performed with four or more rak'ahs. The preferred time for Zuhr prayer is before midday, after one-fourth of the day has passed. In Al-Minhaj, it is stated that the minimum number of rak'ahs for Zuhr prayer is two, and the maximum is twelve, with eight being the average. The reason for this is that the eight rak'ahs of Zuhr prayer are established by both the saying and the practice of the Messenger of Allah ﷺ, while the twelve rak'ahs are only established by his saying, not by his practice. The reward for engaging in remembrance and occupation from after the Fajr prayer until the Asr prayer is great.'
معاز بن انس جھنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلم وسلم نے ارشاد فرما یا کہ جو شخص فجر کی نماز پڑھ کر اثر اق کی نماز پڑھنے تک اپنے مصلی پر بیٹھا
رہے اور سواے بجلائی کی بات کیسے تلاوت قرآن، ذکر و فکر اور تعالیم و تعلیم کے کوئی و نیا کی بات نہ کرے،
اور اثر اق کی دور کعتین پڑھ کر اٹھ تو ایے شخص کے تمام گناہ معاف کردے ہیں جاتے ہیں، اگر چاہے کے
گناہ کثرت میں سمندر کے کف (جھاگ) کے برابر ہوں۔ (اس کی روایت البوداود نے کی ہے۔)
نماز اثر اق کی فضیلت
مہلی حدیث
Mu'adh ibn Anas Al-Juhani (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whoever sits in his prayer place after Fajr prayer until he prays two rak'ahs of Duha, speaking only good, will have his sins forgiven, even if they are as abundant as the foam of the sea.'" [Narrated by Abu Dawud]
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلم وسلم نے ارشاد فرما یا: اے انسان تجہ پچھری جیسے کہ اللہ تعالی نیرے جسم میں (360) جوڑ
بنا ہے جیں اور ان کوئے سالم رکے جیں جن سے تو نفع اظہار باہے کیا خدا کے اس احسان کا تجہ پر
پھر شکریہ میں بھی؟ جب تو چاہے کہ تو اپنے ہر ہر جوڑ کا شکریہ ادا کرے) جب تو صح و سالم صح کیا
ہے تو جب تو چاہے کہ ہر جوڑ کے بدلہ صدقہ لینے خیرات دے (پورا شکریہ تو کیا ادا کر سکتا ہے، ہر
جوڑ کے بدلہ پچھوٹا صدقہ دے کر شکریہ ادا کرے! مالی صدقہ جب پر مقرر کرتے تو جب تو بہت بار ہوتا، ہی
جب ہمارا احسان ہے کہ) برسبحان اللہ، کہ کوئی مصدقت لینے خیرات کے قائم مقام بنائے
ہیں اور برالحمد للہ، کہ کوئی نہیں خیرات کے قائم مقام ہے، اور تیرا برباراللہ اکبر، کہ نہ کوئی خیرات کے
اللہ، کہ نہ کوئی خیرات کے قائم مقام ہے، اور نہ کوئی کام کا حکم دیا کہ کوئی خیرات کے قائم مقام ہے اور بری باٹ سے منع کرنا
جب کوئی خیرات کے قائم مقام ہے (اگر تو مالی خیرات نہ دے سکے اور اس طرح قولی خیرات کوئی نہ
کر سکے تو) اشراق کے کم از کم دور کے تو پڑھ لیا کر کہ یہ دور کے تیرے ہر جوڑ کی نعمت کے
پہلے میں شکریہ کے قائم مقام بن جائیں گے (اس سے زیادہ اور کہ کیا آسانی کریں اگر پھر
پھر قدربھوتی تو ہمارے ہر احسان کا شکریہ ادا کرتا)۔(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
دوسری حدیث
Abu Dharr (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Every joint in a person's body must give charity every day. Every Tasbih (saying SubhanAllah) is charity, every Tahmid (saying Alhamdulillah) is charity, every Tahlil (saying La ilaha illallah) is charity, every Takbir (saying Allahu Akbar) is charity, enjoining good is charity, forbidding evil is charity, and two rak'ahs of Duha suffice for all of this.'" [Narrated by Muslim]
برپیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کوارشا دفرماتے سناہے کر انسان کے جسم میں (360) جوڑ ہیں (ان سے ہر کام میں مدد
ملتی ہےاور ان سے ہر کام سہولت سے کیا جاتاہے اگر پی (360) جوڑ نہ ہوتے تو انسان مثل ایک تختہ
کے ہوتا اور کوئی کام نہیں کر سکتا۔ پر ایسی برتنی نعمت ہے کہ ہر جوڑ کے بدلہ میں شکریہ ادا کرنا چاہیے
اس کا شکریہ اس طرح ادا کرے)۔ہراکی جوڑ کے بدلہ خیرات دی جائے، صحابہ (خیال فرماتے کہ
اس سے حضور کا مشاء مالی خیرات کرنے کے اس لے) عرض کہ: یا نبی اللہ! ہم محراج ہیں، اس لے ہر
جوڑ کے بدلہ تم کیے خیرات دے سکتے ہیں: تو حضور ارشاد فرماتے: (مالی خیرات نہ ہوسکے) اگر تم
دیحو کہ مسجد میں ریٹ یا بلخم پڑا ہوا ہو تو اس کو دور کر کے جگہ پاک کر دو (یہ بھی خبرات ہے) یاراستہ میں (ودیحو کہ) کا نہ یا پتھر پڑے ہوئے ہیں (جس سے آنے جانے والوں کو ایزاہ ہور، یہو تو) اس کو راستہ سے ہٹا کر راستہ صاف کرو دینا بھی خبرات ہے (اس فصل کے تمام کام جتنے لوگوں کو آرام سے لسب خبرات ہیں) اگر کسی سے پینے ہو سکے تو انثراق کے دور کے پرتھلا کرے، تو یہ دو رکعت ہر جوڑی نماز کے شروع میں خبرات کرنے کے قائم مقام ہونے گے۔
(اس کی روایت ابوداود نے کی ہے)
Buraidah (may Allah be pleased with him) narrated: "I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'A person has 360 joints, and each joint must give charity.' They asked: 'Who can afford that, O Prophet of Allah?' He replied: 'Covering phlegm in the mosque, removing something harmful from the road, or if you cannot do that, then two rak'ahs of Duha will suffice for you.'" [Narrated by Abu Dawud]
ابو بریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما کہ جو شخص اشراق کے دور کے کوروزانہ پابندی کے ساتھ پرتھلا کرے تو ایسے شخص کے تمام گناہ معاف کردے جائیں، اگر چہ اس کے گناہ کثرت میں سممندر کے (کف) جھاگ کے برابر ہول - (اس کی روایت امام احمد، ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے)
The Messenger of Allah ﷺ instructed that whoever performs the prayer at the time of sunrise with its seven verses, his sins will be forgiven, even if they are as numerous as the waves of the sea.
ابو رداء اور ابوذر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ان دونوں حضرات نے فرمایا کہ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث قدسی میں پیارشا دفر ما یہ کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اے آدم کی اولاد! اے انسان! تو ثرو عدن میں خاص میری خوشنو دی کے لے بغیر ریاء اور دکاوے کے اشراق کے چار رکعت پرتھلا کرتودی کہا کہ میں تمیری ساری ضرورتوں کو آخر دن تک پورا کرتا رہول گا اور تمیری ساری پریثانیوں کو دور کر دوں گا - (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے)
Abu Ad-Darda and Abu Dharr (may Allah be pleased with them) reported: "The Messenger of Allah (ﷺ) said, narrating from Allah, the Blessed and Exalted: 'O son of Adam, pray four rak'ahs for Me at the beginning of the day, and I will suffice you for the rest of it.'" [Narrated by Tirmidhi]
Abu Dawud and Al-Darimi narrated it from Nu'aym ibn Himar Al-Ghatafani, and Ahmad narrated it from them.
اور ابوداوداورداری نے اس کی روایت نیم بن همار غطفانی رضی اللہ عنہ سے کی
_اورامام احمد نے تینوں صحابہ، البودراء، البوذراؤریعم بن همار رضی اللہ عنہما سے
اس حدیث کی روایت کی ہے۔
نماز چاشت کی تعراد و رکعات کا بیان
پہلی حدیث
the establishment and number of rak'ahs of the mid-morning prayer.
_معازہ رضی اللہ عنہما سے روایت سے آپ فرماتے ہیں کہ میں نے ام المومنین
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاشت کی نماز کے
کتنے رکعت پڑھا کرتے تھے؟ ام المومنین ارشاد فرماتیں کہ آپ چاشت (جسیا کہ بخاری اورمسلم کی
دوسری روایت میں ذکور ہیں -12 ) کے چار رکعت پڑھا کرتے تھے اور بعض اس سے زیادہ بھی
پڑھتے تھے جس قدر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا (گر حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بارہ رکعت سے زیادہ
چاشت کی نماز پڑھنا کہیں ثابت نہیں ہے)- (اس کی روایت مسلم نے کی ہے)
دوسری حدیث
امہانی رضی اللہ عنہا سے روایت سے آپ فرماتے ہیں کہ نبی
کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے دون میرے گھر تشریف لائے، غسل فرمایے اور چاشت کی
آٹھ رکعتیں ادا فرمائے گھر آپ نے نماز اس قدر مختصر ادا فرماتے کہ بھی میں نے آپ کو اتنی مختصر اور
بلکہ نماز پڑھتے نہیں دیکھا گمراس کے رکوع اور سجدے کامل طور پراطمینان کے ساتھ ادا فرمارتے تھے
اور آپ صرف قرآن کو مختصر فرمائے تھے-(اس کی روایت بخاری اورمسلم نے متفرق طور پر لی ہے)
نماز چاشت کی تاکید
Umm Hani (may Allah be pleased with her) narrated: "The Prophet (ﷺ) entered her house on the day of the conquest of Makkah, performed Ghusl, and prayed eight rak'ahs. I have never seen a prayer lighter than that, except that he completed the bowing and prostration." In another narration, she said: "That was during Duha." [Agreed upon by Bukhari and Muslim]
_ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت سے کہ آپ کی عادت
مبارکہ تھی کہ آپ چاشت کے آٹھ رکعت پڑھا کرتی تھیں اور فرماتی تھیں کہ مجھے چاشت کی
نماز میں ایسی لذت ملتی ہے کہ مال بابپ کے زندہ ہونے میں وہ لذت نہیں (اگر میرے مال بابپ زندہ ہو تو اس خوشی اور لذّت میں اس چاشت کی نماز کی لذّت کو نہیں جھولوں گی، چاشت کی نماز کچھی ناغزیب کروں گی پر ما کرام المومنین مسلما نوں کو رغبت دلاتی ہیں کہ پڑھو جائے، کیسا ہے اتم کام آ جائے تم چاشت کی نماز کو برگز نہ چھوڑنا)- (اس کی روايت امام ما لك نے کی ہے-)
Aisha (may Allah be pleased with her), who used to pray eight rak'ahs of Duha and then say: "Even if my parents were resurrected, I would not abandon it." [Narrated by Malik]
اس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو چاشت کے بارہ رکعت پڑھا کر لو اس کے لے جنت میں سونے کا حل بنایا جاتا ہے-(اس کی روایت ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے-)
Anas (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whoever prays twelve rak'ahs of Duha, Allah will build for him a palace of gold in Paradise.'" [Narrated by Tirmidhi and Ibn Majah]
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاشت کی نماز اس اہتمام سے پڑھتے تھے کہ تم بھیتے تھا باپ پڑھاز چاشت کو کچھی نہیں چھوڑیں گے اور پھر چھوڑنے کچھی تو اتنے دون چھوڑنے تھے کہ تم بھیتے تھا کرآپ پڑھا چاشت کی نماز کچھی نہیں پڑھیں گے (حضور اس طرح اس وجہ سے کرتے تھے تاکہ یہ نماز امت پر فرض یا واجب نہ ہوجائے۔ اب پیختر نہیں ربا اس لے اس نماز چاشت کو پابندی سے پڑھا کر نا امت پر مستحب ہے)- (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے-)
The Messenger of Allah ﷺ used to perform the afternoon prayer with such diligence that you would think he was about to perform the last obligatory prayer. Then, when he omitted something, it was only to the extent that you would think he was about to omit the afternoon prayer entirely. (He did this so that the noon prayer would not become obligatory or necessary upon the community. Now, since it is not obligatory, performing the afternoon prayer diligently is recommended for the community.) - (This is reported by Tirmidhi.)