اس باب میں نماز تراویح کا ورتراویح کی 20 رکعتوں کا ثبوت ذکورہے
وقول الله عزوجل انا انزلنه في ليله القدر انا كنا منذرين فيها يفرق كل امر حكيم اور الل تعالي كا ارشاد سور دخان ر ء ايت نمبر مي م ن اس كومبارك رات مي نازل فرمايا كيونك ي مي لو و كو ا ن عذاب س ظلمان منظور ت ا اس رات مي تمام حكمت ك كام فيصل ك جات ي ف موضع القران مي ك ا ك ايك جماعت كا يوتوول ك ليل القدر س مراد شب براي ت جو يدا ويي شب عيد كو وتي
فصل اول
اس باب میں تین فصلیں ہیں۔ فصل اول میں یہ ذکور ہے کہ تراویح سنہ موکدہ ہے اس کے
کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تراویح پڑھنے کی ترغیب دلاتے ہے اور اس فصل میں جو
احادیث شریفہ ذکور ہیں ان سے تراویح کی فضیلت اور تراویح کا سنہ موکدہ ہونا ثابت ہوتا ہے۔
تراویح کی فضیلت اور اس کے سنہ موکدہ ہونے کا ثبوت
پہلی حدیث
This chapter contains three sections. In the first section, it is mentioned that Tarawih is a confirmed Sunnah, as the Prophet Muhammad ﷺ encouraged the recitation of Tarawih. The noble Hadiths cited in this section prove the virtue of Tarawih and its status as a confirmed Sunnah. Proof of the virtue of Tarawih and its status as a confirmed Sunnah: First Hadith
امام المومنین سیدنا علی رضی اللہ عنهہا سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپیا تا کیری حکم دیے بغیر (کہ جس سے تراویح فرض ہو جائے) ایسی ترغیب
دینے کے لیے کہ جس سے تراویح محض سنہ (موکدہ) ثابت ہو) پارشا دفرما سے تک کہ جوموس
ثواب کی نیت سے بغیر کسی فرتم کی ریاء کے رمضان میں نماز نزاوی پڑھنے تو اس کے گزشتہ تمام گناہ معاف کردے جاتے ہیں۔ (اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔)
دوسرا حدیث
The Messenger of Allah ﷺ gave a command without specifying (that which would make the Tarawih prayer obligatory) to encourage (such that the Tarawih prayer would be established as a confirmed Sunnah). He said: 'Whoever performs the night prayer in Ramadan out of faith and seeking reward from Allah, his past sins will be forgiven.' (This narration is reported by Nasa'i.)
ابو هریرہ رضي الله عنه سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول الله صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمايا کہ جو کوئی مسلمان ثواب کی نیت سے بغیر کسی فرتم کی ریاء کے رمضان میں نماز نزاوی پڑھا کر تو اس کے گزشتہ تمام گناہ معاف کردے جاتے ہیں۔
(اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔)
تیسری حدیث
This narration is reported by Bukhari.
عبد الرحمن بن عوف رضي الله عنه سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول الله صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمايا کہ اللہ تعالیٰ نے تم سب مسلمانوں پر (قرآن شریف) میں روزے فرض کیے ہیں اور میں (اس حدیث کے ذریعے) تم سب مسلمانوں پر نماز کو سنت (مؤکده) قرار دیتا ہوں، پس تم میں سے جو کوئی ثواب کی نیت سے بغیر کسی ریاء کے رمضان کے روزے رکے اور نماز اوتھ پڑھنے تو وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک ہو جائے گا کہ جس طرح وہ اپنے پیدا ہونے کے دن گناہوں سے پاک تھا۔
(اس کی روایت نسائی، ترمذی، ابن ماجہ اور ابن ابی شیبہ نے کی ہے۔)
چوتھی حدیث
This hadith is reported by Nasa'i, Tirmidhi, Ibn Majah, and Ibn Abi Shaybah.
عبد الرحمن بن عوف رضي الله عنه سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول الله صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمايا کہ جو کوئی مسلمان ثواب کی نیت سے بغیر کسی فرتم کی ریاء کے رمضان میں نماز نزاوی پڑھنے تو وہ اپنے گناہوں سے ایسا پاک ہو جائے گا جسیا کہ وہ اپنے پیدا ہو نے
حضرت کے رمضان میں شب بیدار رہنے سے تراوت کا استمتاع مؤكدہ ہونا
ثابت ہوتا ہے
It is established that the enjoyment of the Torah by staying awake at night in Ramadan is confirmed from the Prophet ﷺ.
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ
رمضان المبارک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت مبارکہ یہی کر آپ (بمیشہ کی طرح
بستر پر اطمینان سے بھی نہیں سوتے تھے بلکہ پڑھ دیتے رہتے اور چھ رات کا اکثر حضرت عبادت کی
میں گزارتے تھے ختم رمضان تک بھی طریقہ رہتا تھا (اس کی روایت بھی ہے۔)
فصل دوم
فصل دوم میں یہ ذکر ہے کہ پورے رمضان المبارک میں تراوت کا جماعت کے ساتھ اداء
کرنا سنت مؤكدہ ہے اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان کی چند راتوں میں تراوت کو
جماعت کے ساتھ اداء فرماتے ہیں۔ تراوت کو بمیشہ باجماعت پڑھنے سے حضرت صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کو تراوت کے فرض ہونے کا خوف نہ ہوتا تو آپ پورا مہینہ جماعت کے ساتھ تراوت کو
پڑھاتے۔ چونکہ حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امت پر فرض ہونے کے خوف سے تراوت کو باجماعت
پڑھاتے نہیں فرماتے ہے۔ اس لئے سمجھا جاتا ہے کہ حضرت کا چند روز تراوت کو باجماعت اداء کرنا تراوت کو
پڑھاتے فرماتے یعنی تراوت کو بمیشہ اداء کرنے کے حکم میں ہے۔ اس طرح ثابت ہوا کہ تراوت کو
رمضان میں جماعت کے ساتھ اداء کرنا سنت مؤكدہ ہے۔
حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد صحابہ کے بمیشہ تراوت کی جماعت کے ساتھ پڑھنے سے
تراوت کی جماعت کے امت پر فرض ہونے کا خوف باقی نہ رہا۔ اس لئے خلافہ راشدین رضی اللہ
عنہم میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے پورے رمضان میں تراوت کو جماعت کے ساتھ پڑھنے کا حکم
دیا بلکہ سب کو ایک امام کے چھپے رمضان بھر باجماعت تراوتگ پڑھنا کا پابند فرمادیا۔ اس وقت صحابۃ کرام کی پوری جماعت نے آپ کے فعل پر اعتراض نہیں کیا اور آپ کے بعد حضرت عثمان غغم اور حضرت علی رضیٰ کے دور میں بھی باجماعت تراوتگ بر عمل درآمد ہوتا رہا بلکہ آخر تک پوری امت مسلمہ دنیا کے هرشہر اور ملک میں تراوتگ باجماعت پڑھتی آرہی ہے اس طرح خلفاء راشدین کا تراوتگ باجماعت کو پسند فرمانا اور اس کو باجماعت پڑھنا کا حکم دینے سے معلوم ہوا کہ پورے رمضان میں تراوتگ باجماعت ان حضرات کے پاس بھی سنن مؤكدہ تھی۔ اس کی تائیر میں ذیل کی حدیثی آرہی ہے۔
پہلا حدیث
In the blessed month of Ramadan, it was the blessed habit of the Messenger of Allah ﷺ that he would not sleep on the bed with ease but would remain engaged in recitation, and for six nights, he would mostly spend his time in worship until the end of Ramadan, this practice continued. It is also narrated that throughout the blessed month of Ramadan, performing Tarawih prayer in congregation is a confirmed Sunnah because the Messenger of Allah ﷺ used to perform Tarawih in congregation during some nights of Ramadan. If the Messenger of Allah ﷺ did not fear that Tarawih would become obligatory upon the Ummah by performing it regularly in congregation, he would have performed it in congregation for the entire month. Since the Messenger of Allah ﷺ refrained from performing Tarawih in congregation out of fear that it would become obligatory upon the Ummah, it is understood that his performing Tarawih in congregation for a few days means that it is part of the command to perform Tarawih regularly. Thus, it is established that performing Tarawih in congregation during Ramadan is a confirmed Sunnah. After the Messenger of Allah ﷺ, the fear that Tarawih would become obligatory upon the Ummah by performing it in congregation remained no more. Therefore, during the era of the Rightly Guided Caliphs (RA), Umar ibn al-Khattab (RA) ordered that Tarawih be performed in congregation throughout Ramadan, and he commanded everyone to follow one Imam for the entire month of Ramadan. At that time, the entire noble assembly of the Companions did not object to his action, and after him, during the reigns of Uthman ibn Affan and Ali (RA), Tarawih continued to be performed in congregation. This practice has persisted until today, and the entire Muslim Ummah in every city and country performs Tarawih in congregation. Thus, it is evident from the preference and command of the Rightly Guided Caliphs to perform Tarawih in congregation that performing Tarawih in congregation throughout Ramadan was also a confirmed Sunnah according to them. The following hadith supports this.
ابوزر ضي الله عنه روايت به وه فرما ت بين كههم ن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم كه ساطه رمضان ثري فكروزه ركه توآپ ن، تم كونما زراوتغ نبين پرهاني يهال تك كمهيندي (آخر ك لحظت ) سات را تين باقي رهگين (اورميين ك آغاز ك لحظت 23 وي شب تقى - يحساب رمضان ك 29، يرا تين شماركر ك كياگياه اس لك ك زراوتغ ك ل تقني را تين 29 ي هوتي بين اور 30 وي رات كوتر اوتغ ك هون يانهو ن كا اختمال رهتا سه - اسي وجت حديث ثريف بين سات را تين " جو نذور بين الان سات بين پهي رات 23 وي شب هوگي ) اور جب 23 وي رات آلي توآپ پاهر ثريف لا ي اور رات كا تهالي حصه گزر ن تك تم كوتر اوتغ پر حاله ربه اور 24 وي شب كوا پ ن تمين زراوتغ نبين پر حالي پهر جب 25 وي شب آلي توآپ پهر پاهر ثريف لا ي اورآدمي رات گزر ن تك تم كوتر اوتغ پر حاله ربه، تم ن عرض كيا: يا رسول الله ! اگرآپ بقيرات كجي تم كوتر اوتغ پر حاله تو كيا
پڑھا کر تمہیں تواس کے لے تمام رات نماز پڑھنے کا ثواب لگتا ہے۔ گوتم اب آدھی رات نماز پڑھے بھی گرم کو پوری رات نماز پڑھنے کا ثواب لگتا ہے۔ پہرا پڑنے 26 ویں شب تراوت کے نہیں پڑھائی جب 27 ویں شب آئی توآپ باہر تشریف لا کر اور جوآپ کے گھر میں اس وقت تک امہات المومنین نہول یا کونی اور، سب کوترواتے میں شریک ہوئے کا حکم فرما کے پہر حضور سب کے ساتھ تراوت ک اٹی دریک پڑھائے رہ کر تم کوفلاح کے ذمہ کا انہیثم ہوگیا راوی کہتے ہیں کہ میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کر فلاح کیا چیز ہے؟ تو ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرما کہ فلاح سے مراد حری کہنا ہے (اس کے بعد بقیہ دن میں آپ نے تراوت ک نہیں پڑھائی)۔ (اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے اور ابوروا ور، ترمذی، نساوی اور ابن ماجہ نے بھی اس طرح روایت کی ہے)
دوسری حدیث
It is narrated that if you read the night prayer until the time of Tasbih, you will receive the reward of reading the entire night prayer. If someone reads the night prayer until half the night, they will also receive the reward of reading the entire night prayer. On the 26th night of Ramadan, the Tarawih was not led, but when the 27th night came, the Prophet (peace be upon him) went out and commanded all the Mothers of the Believers to participate in the Tarawih. He then led the Tarawih with everyone, and it was completed. The narrator says that I asked Abu Dharr (RA), 'What is falah?' Abu Dharr (RA) replied, 'Falah means to be saved.' (After this, the Prophet (peace be upon him) did not lead the Tarawih for the rest of the nights.) This narration is reported by Imam Tirmidhi, Abu Dawud, Nasa'i, and Ibn Majah.
اَبُوْ هِرِيرَهْ رَضِيَ اللهُ عَنهْ تَروَايَتْ بَهْ وَهْ فَرْمَاتْ هِنْ كَرْ رَمضَانْ كِيْ أَيْكْ شَبْ) رَسوْلُ اللهِ صَلى اللهُ عَليْهِ وَاَلَمْ سَلَّمْ باَهْرْ تَشْرِيفْ لَاْ كَ اوْرْ كِياْدْ يَكْهْتْ هِنْ كَ پَچْهْ لُوْگْ مَسيْدْ كَ اَيْكْ كُوْنْ مِيْنْ تَرَاوْتْ پُرْهَرْبْ هِيْنْ حَضْوُرْ نَ درْيَاْفْتْ فَرْمَاْكَرْ يِكوْنْ لُوْگْ هِيْنْ حَاضْرِيْنْ عَرضْ كِياْكَرْ يِوْهْ لُوْگْ هِيْنْ جَنْ كُوْ قَرْآنْ يَاْدْنِيْنْ بَهْ اَسْ لَكْ اَبِيْ بْنْ كَعْبْ رَضِيَ اللهُ عَنْهْ كُوْ اَماْمْ بَناْ كَ هِيْنْ اوْرْوَهْ اَنْ كُوْنْمَاْزْ مِيْنْ قَرْآنْ سَناْرْبْ هِيْنْ اوْرْ پِيْ لُوْگْ اَنْ كَ مُقتَدِيْ بْنْ كَرْقَرْآنْ سَنْ رَبْ هِيْنْ) يِسْ كَرْ رَسوْلُ اللهِ صَلى اللهُ عَليْهِ وَاَلَمْ سَلَّمْ نَ اَرْشاْدْ فَرْمَاْكَرْ اَنْ كَاْ نَماْزْ پُرْهَناْ اوْرَانْ كَا نَماْزْ پُرْهَناْ نَهاْيِتْ مَناْسِبْ بَهْ ماْشاْءْ اللهْ! اَنْهُوْلْ نَ جَوْ پَچْهْ كِياْبْ بَهْتْ اَچْهاْ كِياْبْ
(اس کی روایت ابوروا ور نے کی ہے)
ف: اس حدیث کو اوراس کے پہلے کی حدیث کو غور سے پڑھ تو معلوم ہوتا ہے کہ تراوت کی بناء اس طرح پڑھی کہ پڑھ را تم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نفس نفس تراوت پڑھائے جین اور ایک مصلحت سے لیئے امت پر فرض ہو جائے کے خوف سے آپ نے اس پر داومت نہیں فرمائی - پڑھ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے، میں صحابہ کرام تراوت کو جماعت کے ساتھ پڑھنا ثروت کردے تھے حضور نے جس ان کی تراوت کی جماعت کو پسند فرما کران کی تعزیف فرمائی مگر حضور کے زمان مبارک میں تراوت کا عام روایج نہیں ہوا تھا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانے میں اس ذکور الصدر وا قع کو اصل بنا کرتا اوت کی جماعت کا عام طور پر حکم دے دیاور حضرت الی جوحضور کے عہد مبارک میں امام بن کرتا اوت پڑھائے تھان، میں امام بناء تاک حضور کے زمان کی تراوت کی پوری پوری اتباع ہو۔
(تعلیق محمد میل ایسا کی کتاب سے)
صحابہ کرام کا تراوت کی جماعت کو پسند فرما اوراس پر عمل کرنا۔
تراوت کے سنن مؤکدہ ہونے کا ثبوت ہے
پہلی حدیث
When you read this hadith along with the previous one, it becomes clear that the recitation was done in such a way that the Prophet ﷺ would teach the recitation verse by verse, and it was made obligatory on the community out of concern for their benefit. However, the Prophet ﷺ did not enforce it strictly during his time. During the time of the Prophet ﷺ, the noble Companions used to recite the recitation in congregation, and the Prophet ﷺ approved of their congregational recitation and praised it, although it did not become a common practice during his blessed time. In his time, Umar (RA) established this as a regular practice and ordered the general congregation for recitation. Ali, who used to lead the prayers during the blessed time of the Prophet ﷺ, would also lead the recitation. Thus, leading the recitation was a complete adherence to the practice during the time of the Prophet ﷺ. (Commentary from the book of Muhammad Meel Al-Eisa) The noble Companions approved of and acted upon the congregational recitation. This is evidence that the recitation is a confirmed Sunnah.
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وفرماتے جین کر وہ کارتیر (جس کا عہد نبوت میں عام روایج نہ تھا اوراس کو قرن اول کے )مسلمان (لیئے صحابہ کرام اور اتمہ مجتہد یعن عظام) پسند فرما تین (اوراس پر عمل بھی کریں) تو وہ اللہ تعالیٰ کے پاس بھی پسندیدہ ہے۔ اس کو امام احمد، طبرانی، طیالسی، برار نے
If you do something that was not commonly practiced during the time of prophethood and is also liked by the pious predecessors (i.e., the eminent scholars) and you act upon it, then it is also pleasing to Allah, the Exalted. This has been reported by Imam Ahmad, Tabarani, Tiyalisi, and Bazzar.
اور ابو عمہ نے موافق روایت کی ہے۔
And Abu Ummah has narrated it in agreement.
اور امام رازی اور علامہ ابنی نے اس کا ذکر مرفوعاً کیا ہے۔
ف: اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ تراوت کے جس کا عہد نبوت میں عام روایج نہ تھا صحابہ کرام اپنے زمانے میں اس کو پسند فرما کر عام روایج دے دے تھے، اس لے پورے رمضان میں تراوت کو باجماعت قائم کرنا سنن مؤکدہ ہے اور اللہ تعالیٰ کے پاس بھی پسندیدہ ہے۔
اب رہی بات کر حدیث شریف کے لفظ "مسلمون" سے صحابہ کرام اور انہیں محمد ﷺ مراد لے گئے۔ اس کی وجہ یہ کہ حدیث شریف میں لفظ "مسلمون" مطلقآ آیہ اوراس کو کس قدر سے مقید نہیں کیا گیا ہے اور یہ مسلم قاعدہ کے آخر مطلق سے فرد کامل کے سوا کوئی اور مراد ہو نے کا قرینہ نہ ہوتا مطلق سے فرد کامل کی مراد ہوتا ہے چوکہ صحابراور انہیں محمد ﷺ میں صفت اسلام کامل ہے اس لے حدیث شریف کے لفظ "مسلمون" سے صحابہ کرام اور انہیں محمد ﷺ مراد ہول گے۔
From this noble hadith, it is understood that the Tarawih prayer, which did not have general practices during the time of prophethood, was favored by the noble Companions in their time, who established general practices for it. Therefore, establishing the Tarawih prayer in congregation throughout the month of Ramadan is a confirmed Sunnah and is also beloved to Allah the Exalted. Regarding the word 'Muslims' in the noble hadith, the noble Companions and Muhammad ﷺ are intended. The reason for this is that the word 'Muslims' in the hadith is used in its absolute sense and is not restricted to any particular degree. According to the established principle, when a term is used in its absolute sense, it refers to the perfect individual unless there is evidence to suggest otherwise. Since the perfect quality of Islam is found in the noble Companions and Muhammad ﷺ, the word 'Muslims' in the noble hadith refers to the noble Companions and Muhammad ﷺ.
عرباض بن ساریرضی اللہ عنہ روایت سے وہفرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائیا: جو شخص میرے بعد زندہ رہے گا تو بھت سے اختلافات اور فتن دیکھے گا (اگراس وقت تم صراط مستقيم پر قائم رہنا چاہے تو میرے طریقہ اور میرے خلفاء کے طریقہ کو جو سیدے اور نیک راستے پر چلنے والے ہیں اختیار کرو (پھر کہتا ہوں کہ) تم میرے خلفاء راشدین کے طریقہ کو مضبوط تھا سے رہو اور جس کسی چیز کو مضبوطی سے پکڑنے کے لے واں تول سے دبا لے رہے ہیں، ایسے میرے اور میرے خلفاء راشدین کے طریقہ کو مضبوطی سے تھا سے رہو (اس سے تم بدایت پر رہو گے، یا درحو اگرتے ایسا کرو گے تو گمراہی میں جا پڑو گے)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقت ست سے ایسے خلفاء راشدین نے جوفرما ایمل کیا ہوودہی سنہ سے مثل کے طور پراس کی ظہیر تراوت کے گو تروا تے کی بناء عمہ نبوت میں ہوچکی چھی، چندر اتمین تو حضرت علی الصلاۃ والسلام نے بہ نفس نفس تراوتے پڑھا لی کہ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تراوتے پر ہناشروع کر دے تے گر تراوتے کا عام روایج نہیں ہوا تھا لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں تراوتے کا عام روایج ہوگیا اور سب صحابہ تراوتے پڑھا کرتے تھاس لے تراوتے کچھ اور سننون کی طرح سنہ مؤکدہ ہے)-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیغمبر ارشاد فرمائیہ کہ تم کو چاہے کچھ باٹول سے پچھے رہو، کیونکہ هرئی بات (جو میرے اور میرے صحابہ کے دور میں نہیں ہوتی وہ) بدعت ہے اور بر (ایسی)
برعت (جوسيم ہووہ) گرامي به-
اس حديث شريف مين "كل بدعة ضلالة" جوارشادهواه اس پرغور كرنا ضروري به
اس لئے کر اس سے پیغمبر کے ہر براعت گرامی ہے تو پھر مسلم نے جبریہ رضی اللہ عنہ سے جو
روایت کی ہے اس کا کیا مطلب ہوگا؟ مسلم کی روایت یہ ہے: "قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَیْهِ
وَاَلِهِ وَسَلَّمَ : مَنْ سَنَّ فِی الْإِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَۃً فَلَہُ أَجْرُہَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِہَا بَعْدَہُ مِنْ
غَیْرِ انْ یَنْقُصَ مِنْ أَجْرِہِمْ شَیْءٌ . وَمَنْ سَنَّ فِی الْإِسْلَامِ سُنَّۃً سَیِّئَۃً فَلَہَ عَلَیْہِ وَزْرُہَا
وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِہَا مِنْ بَعْدِہِ مِنْ غَیْرِ انْ یَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِہِمْ شَیْءٌ"
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص کر اسلام مین کوئی اچھا طریقہ ايجاد
کرے تو اس شخص کواس اچھے طریقے کے ايجاد کرنے کا ثواب ملگا اور اس شخص کوان لوگول کا کچھ
ثواب ملگا جواس کے ايجاد کے بعد نیک طریقت عمل کردنے ہوناور بغیر اس کے کراس شخص
کے ايجاد کے بعد طریقت عمل کرنے والوں کے ثواب میں کسی قسم کی کوئی نقصان ہوگی -
اور جو شخص کر اسلام مین کوئی برائے طریقت ايجاد کرے تو اس شخص کواس برے طریقت کے ايجاد
کرنے کا گناہ ہوگااور ان لوگول کا گناہ کچھ اس شخص کے سربہ گا جنهون نے اس کے بعد اس کے
ايجاد کے بعد طریقت عمل کیا ہو، اور اس شخص کے ايجاد کے بعد برے طریقت عمل کرنے والوں
کے گناہوں میں کسی قسم کی کوئی نقصان ہوگی -
مسلم کی اس حدیث سے معلوم ہوا کہ براعت وطرحت پرہے: ایک براعت حسنہ، جس پر ثواب
کی خوشخبری سنائی گئی ہےاور دوسرا براعت سیئہ، جس پر عذاب کا خوف دلا یا گیا ہے- اب یہاں یہ
بات قابل غور ہے کہ صدر کی حدیث میں جو "كل بدعة ضلالة" (ہر براعت گرامی ہے) ارشاد ہے
کیا اس سے مراد ہر براعت، خواہ حسنہ ہو یا سیئہ ہو، گرامی ہوگی حالا نکہ مسلم کی نذر کہ حدیث سے تو
صرف براعت سیئہ کی کے گرامی ہو نے کا ثبوت ملتا ہے نہ کہ براعت حسنہ کے گرامی ہونے کا ای وجہ
سے علماء نے صراحتم کی ہے کہ مسلم کی اس حديث اور اس طرح کی اور احادیث کی بناء پر "كل بدعة
ضلالة" (اپنے عموم پر باقی نہ رہی بلکہ اس سے خاص براعت سیئہ کی مراد ہوگی اور براعت سیئہ کی
گرامی ہوگی - یہاں اس حدیث کے عام کو خاص کرنے کی ایسے کی ہے "تدمر كل شيء" کی آیت
میں "گُلَّثِیْء" کے عام سے خاص مراد لیا گیا ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے حضرت محمد علیہ وسلم کو قوم پر نفرمانی کی وجہ سے ہوا کا عذاب نازل کیا گیا۔ اس عذاب کا ذکر سورۃ احقاف پ٢6 غ3، آیت نمبر:25 میں اس طرح نکلا ہے "تُدْمِرُ کُلَّ شَيْئٍم بَا مُرِ رَبِّهَا" لیعن وہ ہوا اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو بلاک کر رہی تھی، جسیا کہ مفسرین نے اس کی صراحت کی ہے تو یہاں جیسے "گُلَّثِیْء" موسیشیون، یہ کو بلاک کرتی رہی، جسیا کہ مفسرین نے اس کی صراحت کی ہے تو یہاں جیسے "گُلَّثِیْء" کے عام سے ہر چیز کی بلاکت مراد نہیں ہے بلکہ خاص انسانوں اور موسیشیون کی ہی بلاکت مراد ہے، اس طرح "کُلُّ بِدْعَةٍ ضَلالَةٌ" میں "کُلُّ بِدْعَةٍ" جو ظاہر عام ہے، اس پے عموم پرباقی نہیں رہی۔ جسیا مسلم کی نذورہ حدیث سے ثابت ہوچکا ہے، بلکہ اس سے مراد "کُلُّ بِدْعَةٍ سَیَّئَةٍ ضَلالَةٌ" ہے صرف وہی بدعت گرا، جسے جو سیرہ نہو12 عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کی نذورہ صدر حدیث کی روایت امام احمد، البوداووداورنہیق نے کی سے اور تنزی او رابن ماجہ نے جسی اس طرح روایت کی ہے اور تنزی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن تھے۔
Al-Irbadh ibn Sariyah (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whoever among you lives after me will see much disagreement. You must adhere to my Sunnah and the Sunnah of the rightly guided caliphs. Hold firmly to it and bite onto it with your molars. Beware of newly invented matters, for every innovation is misguidance.'" [Narrated by Ahmad, Abu Dawud, and Bayhaqi]
Tirmidhi and Ibn Majah narrated similar hadiths. Tirmidhi said: "This is a Hasan Sahih Hadith."
From this hadith, it is understood that the method of the Prophet Muhammad (peace be upon him) was followed by the Rightly Guided Caliphs, who established the practice of reciting the Taraweeh prayers during Ramadan. This practice became firmly established as a Sunnah in the era of prophethood. Although Imam Ali (may Allah be pleased with him) himself recited the Taraweeh prayers and initiated the practice for the Companions (may Allah be pleased with them), it did not become widely accepted until the time of Umar (may Allah be pleased with him), when all the Companions began to recite the Taraweeh prayers. Thus, the Taraweeh prayers have become a confirmed Sunnah, similar to other established practices.
The Prophet (peace be upon him) said: 'You should stay away from any innovation, for every innovation (that was not practiced during my time or the time of my Companions) is a deviation and every deviation is evil.'
This noble hadith states, 'Every innovation is a deviation,' which requires careful consideration. Therefore, if every innovation is evil, what is the meaning of the narration reported by Jabir (may Allah be pleased with him) in Muslim? The narration in Muslim is: 'The Prophet of Allah (peace be upon him) said: Whoever introduces a good practice in Islam will have the reward of it and the reward of whoever follows it, without diminishing their reward in any way. And whoever introduces a bad practice in Islam will bear the burden of it and the burden of whoever follows it, without diminishing their burden in any way.'
The Prophet (peace be upon him) said: If anyone introduces a good practice in Islam, he will receive the reward for it and the reward of those who follow it, without diminishing their reward in any way. And if anyone introduces a bad practice in Islam, he will bear the burden of it and the burden of those who follow it, without diminishing their burden in any way.
From this hadith of Muslim, it is understood that there are two types of innovations: one is a good innovation, for which reward is promised, and the other is a bad innovation, for which punishment is threatened. Here, it is worth considering that in the primary hadith, which states, 'Every innovation is a deviation,' does it mean that every innovation, whether good or bad, is a deviation? However, according to the hadith reported by Muslim, only the bad innovation is considered a deviation, not the good innovation. Therefore, scholars have reconciled these hadiths by stating that the general statement 'Every innovation is a deviation' does not remain general but specifically refers to bad innovations, which are deviations. This is similar to the interpretation of the verse 'It destroys everything' in Surah Al-Ahqaf (46:25), where the general term 'everything' is specifically interpreted to mean certain things. The verse describes how the wind destroyed everything by the command of its Lord, and commentators have clarified that it destroyed specific things like people and cattle, not everything in a general sense. Similarly, in the phrase 'Every innovation is a deviation,' the general term 'every innovation' does not remain general but specifically refers to 'every bad innovation is a deviation.' This is further supported by the hadith narrated by Ubayy ibn Ka’b (may Allah be pleased with him) and others, which indicates that only bad innovations are deviations, as narrated by Imam Ahmad, Al-Bukhari, and Muslim.
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میرے بعد (اگر تم بدایت پر ہناجا پڑے تو) الوبگرصد لیق اور عمرفاروق (رضی اللہ عنہما جو کہیں اور کریں) اس کی پیروی کرتے رہو (تاکہ تم بدایت پر رہو، اور کچھ گمراہ نہ ہوسکو، اس سے معلوم ہوا کہ حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے تزاوت کو جمعت کو جورانگ فرامادیاس پر عمل کرنا عیین بدایت سے اور مثل حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کے عین سنت مؤکدہ ہے)۔ (اس حدیث کی روایت تنزی، امام احمداورابن ماجہ نے کی ہے، تنزی نے اس کو حسن قرار دیا سے، اور ابن حباناورحاکم نے اس کو صحیح قرار دیا ہے)
The Noble Prophet ﷺ instructed that after me, if you are forced to follow someone, then follow Ali ibn Abi Talib and Umar ibn al-Khattab (RA), wherever they may be and whatever they may do, follow them so that you remain on the right path and do not go astray. It became evident that Umar ibn al-Khattab (RA) acted upon the principle of gathering the people in the major congregational prayers, which is precisely in accordance with the original practice and the established Sunnah of the Messenger of Allah ﷺ.
الوبغریہ (اس حدیث ثریف کا تزجمہ بخاری کی روایت کے لحاظ سے کیا گیا
تاکیدی حکم دے بغیر (کہ جس سے تراوتھ فرض ہو جائے (اے)) زر غیب دین کے لئے (کہ جس سے تراوتھ سنہ موکدہ ثابت ہو) پیارشاد فرماتے ہیں کہ جوممن ثواب کی نیت سے بگیر کسی فتنہ کی ریاء کے رمضان میں نماز تراوتھ پڑھ تو اس کے گذشت تمام گناہ معاف کردے ہیں (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس ارشاداورترغیب سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عام طور پرتہیاودو چارچار مل کر کسی کوامام بنالیت اورگروں میں ہولیا مسجد میں تراوتھ پڑھا کرتے تھے) زہری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے صحابہ کرام اس طرح عمل کرتے رہاوردحضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت میں بھی مسلمانوں کا ہی عمل رباوردحضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ابتدا کی زمانے میں بھی تراوتھ اس طرح پڑھی جاتی تھی۔
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے)
Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) encouraged people to perform night prayers in Ramadan without making it an obligatory command. He said: 'Whoever stands in prayer during Ramadan out of faith and seeking reward, his previous sins will be forgiven.' The matter remained like this until the Prophet (ﷺ) passed away, and it continued during the caliphate of Abu Bakr and the early part of Umar's caliphate." [Narrated by Muslim]
عبد الرحمن بن عبد قاری فرماتے ہیں کہ رمضان کی ایک شب میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد نبوی کوگیا، تم کیا دیکھتے ہیں کہ لوگ جدا جدا اور متفرق ہیں کوئی تهاوتھ پڑھ رہا ہے اور کوئی جماعت کے ساتھ پیحالت و کیکر حضرت عمر نے فرمایا: میرا خیال ہوتا ہے کہ میں ان سب کے لئے ایک امام مقمر کردوں جس کے پیچپیچ سبل کرتاوتھ پڑھا کریں تو بہت اچھا ہو گا (کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں کہی ایسا ہوا تھا کہ صحابہ کرام نے سب کے سب جمع ہوکرصرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچپیچ تراوتھ پڑھتے تھے) مزید فور کے بعد حضرت عمر کا خیال پختہ ہوگیا اورآپ نے ابیبن کعب رضی اللہ عنہ کو امام بناؤ کرسب کوان کی اقتداء کرنے کا حکم دیا۔ عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ ایک رات میں حضرت عمر کے ساتھ پھر مسجد نبوی کوگیا تو دیکھا کہ لوگ سب کے سب جمع ہوکر ایک امام کے پیچپیچ تراوتھ پڑھ رہے ہیں، حضرت عمر نے پیدا کیا
کر فرمایا کہ سب مسلماں کا ایک امام کے پیچھے جمع ہو کر تراوتگ اداء کرنا کیا، یا چہی بدعت ہے۔
(بہال حضرت عمر نے نفس تراوتگ کو بدعت نہیں فرمایا، اور نہ تراوتگ کی جماعت کو، کیونکہ
تراوتگ اور تراوتگ باجماعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قولاً اور فعلاً ثابت ہے تو حضرت عمر
نے مسلماں کو مسجد نبوی میں ایک ایامام کے پیچھے مہینہ محمر تراوتگ پڑھنا کا جو حکم دیا اور اس کو تمیشہ
کے لئے جاری فرمادیا، ایکوآپ نے "نَعْمَتِ الْبُدْعَةُ بَدْعَةُ حَسَنَةٌ" فرمایا، واضح ہو کہ حضرت
عمر کے تراوتگ باجماعت کو ایک ایامام کے پیچھے جاری کردینے سے حقیقت میں مسلم کی اس حدیث
کی تتمیل ہوئی جس میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جس نے میرے بعد کوئی اچھا
طریقہ ايجاد کیا تو اس کواس اتنہ طریقہ کے ايجاد کرنے کا ثواب ملغا اور جواس طریقہ پر عمل کرتے
رہیں گے ان سب کا جسی ثواب ملتارہ گا اس لئے صحاب مرقات نے فرمایا ہے: چونکہ حضرت
عمر نے ایک امام کے پیچھے تراوتگ باجماعت کو قائم کیا اور اس کو عام روانج دے دیا تو حضرت عمر کواس
کے ايجاد کرنے کا ثواب ملغا اور قیامت کے جولوگ تراوتگ پڑھتے رہیں گے ان سب کا ثواب
جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ملتارہ گا اور اس سے تراوتگ پڑھنے والوں کے ثواب میں کسی فرق کی کوئی
نہیں ہوگی۔
(تراوتگ جس کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک امام کے پیچھے سب مسلماں کو جمع فرمایا تھا
اس کے پڑھنے کے دور وقت ہیں: ایک سونے کے بعد اٹھ کر آخر رات میں تراوتگ اداء کرنا، دوم سے
سونے سے پہلے اوّل رات تراوتگ اداء کر کے سورہ نا ان دو وقتوں میں سے سونے کے بعد اٹھ کر
تراوتگ پڑھنا افضل ہے) راوی کہتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہی فرمایا کہ تم اوّل شب
تراوتگ پڑھ کر سورۃ ہو، حالاکہ اوّل شب سوکر آخر شب تراوتگ پڑھنا اوّل شب میں تراوتگ پڑھنے
سے افضل ہے (گر آخر شب میں اٹھ کر تراوتگ پڑھنا کا بہروسر نہ ہو نے سے اوّل شب تراوتگ
پڑھنے پر عمل درآمد ہے )۔( اس حدیث کی روایت بخاری نے کی ہے۔
ف: اس حدیث شریف میں ذکور ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک امام کے پیچھے تراوتگ
باجماعت کو "نِعْمَتِ الْبَدْعَةُ" فرمایا۔ اس بارے میں علامہ ابن تیمیہ نے فرمایا کہ تراوتگ
شریعت میں بدعت نہیں ہے بلکہ تراوتگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم کے قول اور عمل کی وجہ سے سننت
ہے، اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں پر رمضان
کے روزے فرض قرار دیے ہیں اور میں تم لوگوں پر تراوتگ کو سنت قرار دیا ہوں۔ اور اس طرح تراوتگ
باجماعت محض بدعت نہیں ہے بلکہ تراوتگ باجماعت محض شریعت میں سننت ہے اس لئے کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآل وسلم دویا مین را تین جماعت کے ساتھ تراوتگ پڑھنا کے اور پیغمبر ارشاد فرمایا کہ جب کوئی
شخص امام کے ساتھ اس کے فارغ ہونے تک نماز پڑھنے تو آئے شخص کے لئے تمام رات نماز پڑھنے کا
ثواب کلما جاتا ہے۔ حدیث شریف میں یہی ذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم ایک رات
اتی دیر تک تراوتگ پڑھنا کے صحابہ کرام کو تحریک کے فوت ہوجائے کا اندریش ہوگیا تھا۔ اس حدیث کی
روایت اصحاب سمنے کی ہے، اور اس حدیث میں جماعت کے ساتھ تراوتگ پڑھنے کی بھی ترغیب
دلائی گئی ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ تراوتگ باجماعت سننت مؤکدہ ہے۔ علاوہ ازیں رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآل وسلم کے زمانے میں صحابہ کرام مسجد نبوی میں مختلف جماعتوں کے ساتھ تراوتگ باجماعت
پڑھا کرتے تھے، اور حضور علیہ الصلاۃ والسلام صحابہ کے اس عمل کو برقرار رکھتا اور مانا فرماتے
تھا اور حضور کا صحابہ کے عمل کو برقرار رکھنا رباجماعت تراوتگ کے سننے ہوئے کی ویل ہے۔ اب رہی یہ
بات کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تراوتگ باجماعت کو "نِعمتِ البدعة" لیکن بدعت حسن فرمایا تو یہ
لغت اور معاورہ کے اعتبار سے ہے نہ کہ حقیقی طور پر، اس لئے کہ براپیا عمل جس کا ثبوت کتاب اللہ اور
سنن رسول اللہ میں ہو، اس کو شریعت میں بدعت نہیں کہا جاتا۔ اگر چہ کاس کو عام معاورہ یا لغت کے
اعتبار سے بدعت کہ دیا جاتے ہے۔ بہالی بات محض واضح رہنے چاہیے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم کے
ارشاد "کُلُّ بَدْعَةٍ ضَلالَةٌ" (ہر بدعت گمراہی ہے) سے مراد ہروہ عمل بدعت نہیں جونیا ہو بلکہ اس
ارشاد سے صرف ایمانیا کام بدعت ہے جو احکام شرعیہ کے خلاف ہو (جیسے معذزہ لاور قد ری وغیرہ کے
عقائد) توجب "کُلُّ بَدْعَةٍ ضَلالَةٌ" سے حضور کا منشا معلوم ہوگیا اور بی بات محض ثابت ہوتی کے
صحابۃ کرام تراوت کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور اقدس میں باجماعت اور تھا ادا کیا کرتے تھے۔
اور آخیری دہ میں تیری شب یاپچھی شب صحابہ کرام تراوت پڑھنے کے لئے جمع ہوگے تو حضور علیہ
الصلوۃ والسلام باہر تشریف نہیں لاۓ۔ اور تشریف نہ لائے کی وجہ یہ روایت کہ میں آج محمد اس مجتبے
باہر نہیں تلا کہ کہیں تراوت کہی تم پرفرض نہ ہوجائے، اس لئے تم تراوت کو اپنے اپنے گروں میں پڑھو
لیا کرو۔ پیمان حضور کے اس ارشاد کے صاف طور پر معلوم ہوگیا کہ حضرت کا تیری یاپچھی شب تراوت کے
کے لئے باہر تشریف نہ لانا تراوت کے فرض ہو جانے کے خوف سے تھا تو اس سے پروا ضح ہوتا ہے کہ
فرضیت کا خطرہ باقی تھا اور اگر فرضیت کا خوف نہ ہوتا تو حضور علیہ صلی اللہ علیہ باہر تشریف لاۓ اور تراوت کے
پڑھنے، جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا دور خلافت آیا تو آپ نے ایک عیام کے پیچھے سب کو
تراوت کے باجماعت کے لئے جمع کر دیا اور مسجد میں روشنی کروا کی تراوت کی مخصوص صورت لینے مسجد
میں ایک امام کے پیچھے سب کا جمع ہونا اور روشنی کروا کیا عمل ہوا جس کو صحابہ کرام نے اس سے پہلے
نہیں دیکھا تھا۔ اس لئے حضرت عمر بن اس عمل کا نام بدعت رکھا، اس لئے کہ پیغنت اور ماورہ کے لحاظ
سے تو بدعت ہے لیکن شریعت میں بدعت نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ کہ ازروے سنن عمل ساحل ہے
کیونکہ اب فرضیت کا اندیشہ دور ہوگیا اور فرضیت کا پراندیشہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات
مبارک سے باقی نہ رہا۔ اس طرح ثابت ہوا کہ تراوت کے باجماعت کے سنن ہونے کے معاض اور مانع
کوئی بھی نہیں تھا، یہ تراوت کے باجماعت قرآن مجید کے جمع کرنے کی طرح بدعت حسنہ قرآن پاک کی۔
Abdur-Rahman ibn Abd Al-Qari (1) (may Allah be pleased with him) narrated: "I went out with Umar ibn Al-Khattab (may Allah be pleased with him) one night to the mosque, and we found the people praying in separate groups. A man would pray alone, and another would pray with a small group following him. Umar said: 'If I gather these people behind one Imam, it would be better.' He then resolved to gather them behind Ubayy ibn Ka'b. Later, I went out with him another night, and the people were praying behind their Imam. Umar said: 'What an excellent innovation this is! (2) But the part of the night you sleep through is better than the part you pray in.' He was referring to the last part of the night, as the people used to pray in the early part of the night." [Narrated by Bukhari]
(1) The statement "Abdur-Rahman ibn Abd Al-Qari" is mentioned by At-Tibi. The name "Al-Qari" refers to the tribe of Qarah, a branch of the tribe of Adhal. The author stated that Abdur-Rahman was a prominent Tabi'i (follower) from Madinah. It is said that he was born during the time of the Prophet (ﷺ), but he did not hear or see him. Al-Waqidi listed him among the companions born during the Prophet's lifetime. This is mentioned in Al-Maraqat.
(2) The statement "What an excellent innovation this is" was commented on by Ibn Taymiyyah: "As for Taraweeh, it is not an innovation in Shariah but a Sunnah based on the words and actions of the Prophet (ﷺ). He said: 'Allah has made fasting in Ramadan obligatory upon you, and I have made its night prayers a Sunnah.' Praying it in congregation is not an innovation but a Sunnah in Shariah. The Prophet (ﷺ) even prayed it in congregation for two or three nights and said: 'When a man prays with the Imam until he leaves, it is recorded for him as if he prayed the entire night.' This encourages praying Taraweeh behind the Imam. This is stronger than it being merely a Sunnah. People used to pray it in congregation in the mosque during his time, and he approved of it, and his approval is a Sunnah. As for Umar's statement, 'What an excellent innovation this is,' the term 'innovation' here is linguistic, as an action supported by the Quran or Sunnah is not an innovation in Shariah, even if it is called an innovation linguistically. The Prophet's (ﷺ) statement, 'Every innovation is misguidance,' does not refer to every new action but to actions introduced that are not part of his Shariah. During his time, people prayed Taraweeh in congregation and individually. On the third or fourth night, when they gathered, he said: 'What prevented me from coming out to you was the fear that it would be made obligatory upon you, so pray in your homes.' This indicates that the reason for not continuing was the fear of it becoming obligatory. Thus, during Umar's time, when he gathered them behind one Imam and lit the mosque, this new arrangement was called an innovation linguistically, not in Shariah, as the Sunnah already supported it, and the fear of obligation had ceased with the Prophet's (ﷺ) death. This is similar to the compilation of the Quran and other matters."
In this noble hadith, it is mentioned that Hazrat Umar (RA) referred to the recitation of Tarawih in congregation as 'Nimat al-Bid'ah' (a blessed innovation). Regarding this, Imam Ibn Taymiyah said that Tarawih is not an innovation in Shari'ah but rather a Sunnah due to the sayings and actions of the Prophet (peace be upon him and his family). This is because the Prophet (peace be upon him and his family) stated that Allah has made fasting in Ramadan obligatory upon you, and I have made the recitation of Tarawih a Sunnah for you. Thus, the recitation of Tarawih in congregation is not merely an innovation but is a Sunnah in Shari'ah, as the Prophet (peace be upon him and his family) used to lead two Rak'ahs of Tarawih with the congregation and instructed that whoever joins the Imam until the end of the prayer will receive the reward of spending the entire night in prayer. The noble hadith mentions that the Prophet (peace be upon him and his family) once inquired about the absence of some Companions who missed the late-night Tarawih. This hadith encourages the recitation of Tarawih in congregation, thereby establishing that Tarawih in congregation is a confirmed Sunnah. Furthermore, during the time of the Prophet (peace be upon him and his family), the Companions used to recite Tarawih in congregation in the Prophet's Mosque with different groups, and the Prophet (peace be upon him and his family) approved and maintained this practice. It is clear that the term 'Nimat al-Bid'ah' used by Hazrat Umar (RA) is figurative and not literal, because any action that is proven by the Quran and the Sunnah of the Prophet (peace be upon him and his family) cannot be called an innovation in Shari'ah, even though it may be referred to as such in common usage or figuratively. It should be clearly understood that the guidance of the Prophet (peace be upon him and his family) 'Kullu Bid'ah Dhalalah' (every innovation is misguidance) does not mean that every new action is an innovation, but rather it refers to religious practices that contradict the commands of Shari'ah (such as beliefs in intercession and incarnation). From this guidance, it is evident that the intention of the Prophet (peace be upon him and his family) was to warn against such innovations. It is also established that the Companions used to recite Tarawih in congregation during the sacred era of the Prophet (peace be upon him and his family). In the last ten nights, when the Companions gathered to recite Tarawih, the Prophet (peace be upon him and his family) did not come out, and the reason given is that he did not want to make Tarawih obligatory upon them, so he instructed them to recite it in their own groups. This clearly shows that the fear of making Tarawih obligatory still existed, and if there were no such fear, the Prophet (peace be upon him and his family) would have come out to lead the Tarawih. When the caliphate of Hazrat Umar (RA) began, he gathered everyone behind one Imam to recite Tarawih in congregation and arranged for lighting in the mosque. This specific arrangement of gathering behind one Imam and providing lighting in the mosque was something the Companions had not seen before. Therefore, Hazrat Umar (RA) referred to this as an innovation, meaning that it was an innovation in terms of organization and management, but not in Shari'ah. The reason for this is that it aligns with the Sunnah, as the concern about making Tarawih obligatory had been removed after the blessed passing of the Prophet (peace be upon him and his family). Thus, it is established that there was no obstacle or hindrance to the Sunnah of reciting Tarawih in congregation, and this practice is akin to the compilation of the Quran, which is a praiseworthy innovation in the preservation of the Holy Quran.
عبد اللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے
أبي بن کعب رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا ہے کہ تم تراوت کے اوّل شب میں شروع کر کے اتنی دریک
پڑھتے رہتے تھے کہ جب تراوت کے پڑھنے واپس ہوتے تو تم کو حری کے فوت ہو جانے کا خوف ہوتا
تھا اس لئے تم غیر آ کر خادموں سے حری کا کہنا جلد دینے کا تقاضہ کرتے تھے، تاکہ حری کا وقت
نگزر جائے۔ اس کی روایت امام ماکے نے کہ ہے۔
امام ماکے رحمۃ اللہ علیکی وسری روایت میں ہے: تم حری کا کہنا جلد دینے
کا تقاضہ کرتے تھے؛تاکہ فجر کا وقت نہ گزر جائے۔
فصل سوم
فصل سوم میں یہ ذکر ہے کہ (۲۰) رکعت تراوتگ کا اداء کرنا سنتموکده ہے اس لئے کہ
خلفاء راشدین نے (۲۰) رکعت تراوتگ پر پابندی فرمائی ہے اوراس کو بھیشہ اداء کیا ہے اوراس
سے پہلے حدیث گزاری کی ہے جس میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرماپایا ہے کہ تم میری سننت
اور خلفاء راشدین کی سننت کو مضبوطی سے تحفظ رہو۔ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے خلفاء راشدین کی سنت کی اتباع محی لازمی ہے اور خلفاء راشدین کی سنت کا تارک گنهگار ہوگا۔ چونکہ
خلفاء راشدین نے (۲۰) رکعت تراوتگ ثابت ہے اس لئے (۲۰) رکعت تراوتگ سنتموکده
ہے اوراس پرہرزمانہ میں عمل درآمد باہے۔
تراوتگ ۲۰ رکعت سنتموکده ہو نے کا ثبوت
پہلی حدیث
I heard Abu Ayyub Al-Ansari (RA) say: 'You would start reciting the Torah on the first night and continue reading so much that when you returned from reciting the Torah, you feared that the time for the morning prayer would have passed. Therefore, you would come early and request the servants to hasten the announcement of the time for the morning prayer, so that the time for the morning prayer would not pass.' This is narrated by Imam Maqdisi. In another narration by Imam Maqdisi (may Allah have mercy on him), it is mentioned: 'You would request the announcement of the time for the morning prayer to be hastened, so that the time for the morning prayer would not pass.'
_ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم رمضان میں بغیر جماعت کے تہا (۲۰) رکعت تراوتگ پڑھا کرتے تھا اور نماز وتر ان
(۲۰) رکعت کے سواہوتی تھی۔
(اس کی روایت تبرقی، طبرانی، ابن ابی شیبہ، بغوي اور عبد بن حميد نے کی ہے۔)
دوسری حدیث
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated: "The Prophet (ﷺ) used to pray twenty rak'ahs in Ramadan individually, excluding Witr." [Narrated by Bayhaqi, Tabarani, Ibn Abi Shaybah, Al-Baghawi, and Abd ibn Humayd, though the chain has some weakness]
_ زیدبن رومان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن
خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں لوگ رمضان میں ۲۳ رکعت پڑھا کرتے تھا جس میں
رکعت تراوتگ کے ہوئے اور ۳ وتر کے۔ (اس کی روایت امام ماک نے کی ہے۔)
Yazid ibn Ruman reported: "During the time of Umar ibn Al-Khattab (may Allah be pleased with him), people used to pray twenty-three rak'ahs (including Witr)." [Narrated by Malik]
In Athar As-Sunan, it is said: "Its chain is mursal but strong."
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی گئی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ
حضرت ابل بن کعب رضی اللہ عنہ کو امام بنا کر سب لوگوں کو ان کے مقامی کر کے زراوت کے 20
رکعت پڑھانے کا حکم دے تھے۔ (اس کی روایت جہیقت اور ابن ابل شیخ نے کی ہے۔)
پچھلی حدیث
Umar (may Allah be pleased with him), who gathered the people behind Ubayy ibn Ka'b, and he would lead them in twenty rak'ahs. [Narrated by Bayhaqi and Ibn Abi Shaybah]
_ سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہم حضرت عمر
رضی اللہ عنہ کے زمانے میں 20 رکعت زراوت پڑھا کرتے تھے اور وتر کی نماز 20 رکعت کے سواہونی تھی۔
(اس کی روایت جہیقت نے معرفہ میں سندر کے ساتھ کی ہے اور امام نووی نے خلاصہ میں کہا
ہے کہ اس حدیث کی سندر تھی۔)
As-Sa'ib ibn Yazid reported: "We used to pray (1) twenty rak'ahs (excluding Witr) during the time of Umar (may Allah be pleased with him)." [Narrated by Bayhaqi in Al-Ma'rifah with a Sahih chain]
Imam Nawawi said in Al-Khulasa: "Its chain is authentic."
In another narration by Bayhaqi: "And during the time of Uthman and Ali (may Allah be pleased with them), it was the same."
(1) The statement "We used to pray" is understood to mean that the companions' actions and commands were based on the teachings of Allah and His Messenger (ﷺ). This is because the companions only narrated such practices to establish a ruling, permissibility, prohibition, or a legal judgment, indicating its legitimacy. Scholars have differed on the implications of such phrases, but the stronger view is that they are considered marfu' (attributed to the Prophet) due to the reasons mentioned. This was stated by Al-Allamah Al-Ayni.
_ اوزہیق کی ایک اور روایت میں اس طرح ہے کہ حضرت عثمان اور حضرت علی
رضی اللہ عنہما کے عہد خلافت میں کچھ وقت کے سواتر اوت کے 20 رکعت پڑھے جاتے تھے۔
ف: اس حدیث شریف میں سائب بن یزید رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کہ ہم حضرت عمر رضی
اللہ عنہ کے زمانے میں زراوت کے 20 رکعت پڑھا کرتے تھے۔ اس بارے میں علماء عین رحمۃ اللہ نے
فرمایا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کسی معالمہ میں یول فرما نے کر تم ایا کرتے تھے، یا"تم کو ایا حکم دیا
گیا تھے، "یا"تم کو فلال کام سے منع کیا گیا ہے تو وا ضرہ کر صحابہ کرام کا اس طرح فرما حقیقت میں
وہ حکم یا مما نعت اللہاور اللہ کے رسول صلی الله عليه وآلم وسلم کی طرف سے کچھ جائے گی اور صحابہ کرام
کے اس طرح بيان کرنے سے یمراد ہوتی ہے کہ اس چیز کے جواب یا سکی حلت اور حرمت کو ثابت کیا
جاتے اور اس کام کی شرعی حثیت بيان کی جاتے ہے علماء نے کلحاجہ کر صحابہ کرام کے ایے اقوال مرفو ع
کے حکم میں ہوتے ہیں۔ لیجن رسول الله صلى الله عليه وآلم وسلم کے حکم دینیا من فرما نے کے قائم مقام
سمجھ جاتے ہیں گے۔ اس اصول سے ثابت ہوا کہ صحابہ کا یفرما نا کہ "تم زراوت کے 20 رکعت پڑھا
کرتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کے قائم مقام ہے اس لے تزاوتوگے کے
رکعت سنۃ موکدہ ہیں
As-Sa'ib ibn Yazid reported: "We used to pray (1) twenty rak'ahs (excluding Witr) during the time of Umar (may Allah be pleased with him)." [Narrated by Bayhaqi in Al-Ma'rifah with a Sahih chain]
Imam Nawawi said in Al-Khulasa: "Its chain is authentic."
In another narration by Bayhaqi: "And during the time of Uthman and Ali (may Allah be pleased with them), it was the same."
(1) The statement "We used to pray" is understood to mean that the companions' actions and commands were based on the teachings of Allah and His Messenger (ﷺ). This is because the companions only narrated such practices to establish a ruling, permissibility, prohibition, or a legal judgment, indicating its legitimacy. Scholars have differed on the implications of such phrases, but the stronger view is that they are considered marfu' (attributed to the Prophet) due to the reasons mentioned. This was stated by Al-Allamah Al-Ayni.
_شہرمدرضی اللہ عنہ تو جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے شاگردول میں سے تھے
روایت سے کہ شہرمدر مضان میں امامت کرتے تو تزاوتگے (20) رکعت پانچ ترویحات کر کے
پڑھاتے تھے (اور ہر ترویجے چار رکعت کا ہوتا تھا)- (اس کی روایت تحقیق نے کی ہے)
ف: اس حدیث شریف مین تراوتگے کے 20 رکعت پانچ ترویحات کے ساتھ پڑھنے کا ذکر
ہے روايتار میں تقسیمنی کے حوالے سے نذکور سے کہ ہر ترویجے میں ہر چار رکعت کے بعد پیشیچ پڑھنا
چائے۔ "سُبحَانَ ذی الْمُلکِ وَالْمَلکُوتِ"،
اے اللہ! برعبے آپ پاک ہیں، حقیقی باادشاہت آپ ہی کی ہے او رساری مخلوق پرآپ
ہی کو کامل اختیار ہے-
"سُبحَانَ ذی الْعِزَّةِ وَالْعَظَمةِ وَالْقُدْرَةِ وَالْکِبریاءِ وَالْجَبْرُوتِ".
پہر عرض کرتا ہونے کے سارے مخلوقات کے صفات سے آپ پاک ہیں، اورساری عزت آپ
ہی کی ہے، آپ ہی بڑے عظمت والے ہیں، ہرچیز پرآپ کوقدرت حاصل ہے، آپ جوچاہیں کرتے
ہیں، کوئی آپ کورو کے والا نہیں، ہرطرح کی برطانی کے آپ ہی سزاوار ہیں، عظمت وجلال کے آپ ہی لااق ہیں-
"سُبحَانَ الْمِلكِ الْحَيِ الَّذِی لَا یَمُوتُ سُبُوحٌ قُدُوسٌ رَبُّ الْمَلاَئِكَةِ وَالرُّوحِ
اے اللہ! آپ برصے سے پاک ہیں اور ایسے باادشاهت ہیں کہ آپ کی باادشاہت کے ساتھ
سب کی باادشاہت پیچ ہے-(ہرزندہ کوموت آنے والی ہے)، اورآپ ایے زندہ ہیں کہ کچھ آپ کو
موت نہیں آ سکتا -(انسان کچھ پاک ہے گر عارضی) آپ پاک ہیں دائمی، انسانی صفات سے اور
انسانی اختیار سے آپ بالکل پاک ہیں، آپ کی شان کا کیا کہنا فرشتنوں اور جبریل علیه السلام کے
آپ رب ہیں-
"لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ آپ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، آپ ہی معبود ہیں، کیتا ہیں، کوئی
آپ کا شریک نہیں -
نستغفراللہ آپ کے ان عالی صفات کو ن کرا پنی عاجزی اور مجبری یاد آئی - اس لے
عرض کرتے ہیں کہ تم سراپاقصور ہیں، آپ کی سے تم تمام گناہوں کی مغفرت چاہتے ہیں -
نساءٰ لک الْجَنَّةَ آپ کے صفات عالیہ کا صدقہ ہمارے اعمال کومت و کیسے اپنے فضل
وکرم سے تم کو جنت عطا فرما ئے -
ونعوذ بک من النار تم اپنے گناہوں کی وجہ سے ذرے ہو نے سے ہو نے ہیں آپ کے
رحم وکرم کا صدقہ دوزخ کی آگ سے تم کو پا ئے -
رداحتاریس پیچھی کلمات کراس پیچھ کوہرترودیکے بعد تین بار پڑھنا چاہئے
رمضان میں وتر کے باجماعت پڑھنے کا ثبوت
when Shurayh would lead the Tarawih prayer during Ramadan, he would perform twenty rak'ahs with five intervals (and each interval would consist of four rak'ahs). In this hadith, it is mentioned that the Tarawih prayer consists of twenty rak'ahs with five intervals, and it is stated that after every four rak'ahs, one should recite the following:
“Subhana dhil-mulk wa al-malakut,”
O Allah! You are free from all imperfections; true sovereignty belongs to You, and You have complete authority over all creation.
“Subhana dhil-izzati wa al-'azmati wa al-qudri wa al-kibriya'i wa al-jabbarut,”
You are free from all defects, and all glory belongs to You; You are the Most Mighty, the Most Powerful, and none can oppose Your will; You are worthy of all dominion and majesty.
“Subhana al-malik al-hayyi alladhi la yamut subuhun quddusun rabbul-mala'ikati wa ar-ruh,”
O Allah! You are free from all imperfections and are the Sovereign King who never dies; everything that lives will die, but You are Ever-Living, and nothing can cause Your death; You are free from all human attributes and limitations, and You are the Lord of the angels and the Spirit.
“La ilaha illa Allah,”
There is no deity worthy of worship except Allah; You alone are the true Deity, and there is no partner with You.
“Astaghfirullah,”
I remember Your exalted attributes and am reminded of my own weakness and helplessness; I declare that You are free from all faults and seek forgiveness for all my sins.
“Nas'alaka al-jannah,”
I seek Your Paradise as a gift for my deeds, and I hope for Your mercy and favor.
“Wa na'udhu bika min an-nar,”
I seek refuge in You from the Fire of Hell due to my sins, and I hope for Your mercy and protection.
These words should be recited three times after each interval. This is the evidence for performing the Witr prayer in congregation during Ramadan.
ابو عبد الرحمن سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتا ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ
عنہ ماہ رمضان میں حفاظ کو بلا کر اور ان میں سے ایک حافظ کو حکم دیتے کروہ لوگوں کو 20 رکعت تراوتاح
پڑھائے،اور حضرت علی رضی اللہ عنہ لوگوں کو خود نماز وتر پڑھائے تھے -(اس کی روایت پیچھے نکی ہے-)
عورتوں کا حکم
ف : تراوتاح جیسے مردوں کے لے سنتمؤکدہ ہے ایسے عورتوں کے لے بھی 20 رکعت
سنتمؤکدہ ہے اس لے ان کو بھی چاہئے کرفرض نمازوں کی طرح اپنے گھروں میں رمضان میں
عشاء کے فرض وسنۃ اور نفل کے بعد دودو رکعت کی نیت بنڈھکر 20 رکعت تراوتاح پڑھا کریں، اور
جب تراوتاح کے 20 رکعت اداء کرچکیں تو نماز وتر پڑھیں -(طحاوی)
اس فصل میں شب برائت کے فضائل اور اس کے احکام ذکور ہیں -
شب برائت کے فضائل
پہلی حدیث
Abu Abdur-Rahman As-Sulami reported: "Ali (may Allah be pleased with him) called the reciters during Ramadan and ordered a man to lead the people in twenty rak'ahs. Ali would lead them in Witr." [Narrated by Bayhaqi]
/2 _ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ
( ایک مرتبہ شعبان کی پندرہویں شب جس کو شب برائت کہتے ہیں میری باری کی رات تھی ) اس
رات میں حضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بستر پر نہ پانی ( حضرت کی محبت کی وجہ سے مجھے طرح طرح
کے خیالات آئے گے، غالب غمان میرا ہوا کہ شاہدا تی کسی بھی کے پاس تشریف لے گے ہون
تو میں آپ کو ظہور دیتے ہوں نکلی، مدینہ تشریف کے مقام قبرستان پر میری نظر پڑی ) کیا ویسے تو
ہول کہ حضرت قبرستان میں کہاں ہو ہیں ( اور اموات کے لے دعا کے مغفرت فرماتے
ہیں، مجھ کو حضرت دیکھ اور میرا جوخیال تہا کرآ پشاکد کسی بھی کے پاس تشریف لے گے ہول، اس
کا حضرت پر کشف ہوگیا ) حضرت نے فرمایا : عائشہ ! ( تمہارا کیا خیال ہے ) اللہ تعالیٰ اور میں اس کا رسول
ہوں کی وجہ سے کسی پر لم نہیں کرتے ہیں ( تو تمہاری باری کی رات تم پر لم کر کے دوسرا کوی کے
پاس کیے جاسکتا تھا؟ مگر تمہارا جوخیال تھا یا اللہ کے رسول کی محبت کی وجہ سے تھا اس لے تم پر کوئی
الزام نہیں بلکہ تم اس خیال کی وجہ سے ثواب کی مستحق ہو، میں جوگہرے نقل کر قبرستان میں آگیا
ہول، اس کی وجہ یہ کہ عائشہ تم کوخبر نہیں کرآ ج کی کسی مبارک رات ہے؟ اس رات میں کیا ہور با
ہے؟ سنوعا کثر اللہ تعالیٰ هرادت کے آخری حصہ میں آ سالن و نیا پرنزل فرامتے ہیں گر ) آج کی
رات مغرب، یہ سے صبح صادق طلوع ہونے تک آ سائے دنیا پر زوال فرامتے ہیں (کیا کیا سرفرازیاں اور حمتیں نازل ہوتی ہیں اس کو کیا کہوں؟ ایک رحمت اور عنايت تو یہ ہے کہ) قبیلہ بنی کلب (جوہ نسبت اور قابل عرب کے کثرت سے بہریال رکن میں مشہور تھا) اس قبیلے کے بڑے پول کے بالوں کی تعداد سے زیادہ گنگا رون کے گناہ معاف کردے جاتے ہیں۔ ترنڈی اورابن لاجن تویر و ايت کی جہاں اور رزیں کی روایت میں پر اضافہ ہے کہ جومسلمان اپنے گناہوں کی وجہ سے دوزخ کے مستحق ہوگے جہاں کو کچھ اس رات نخش دیاجاتا ہے (پیہ اس رات کی خصوصیت! اور پیہ اس رات کی عام رحمت! اس لے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گهرے نقل کر بقیع کے اموت کے لے دعا کے مغفرت فرامتے تھے)۔
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: "I missed the Messenger of Allah (ﷺ) one night, so I went out to look for him and found him in Al-Baqi'. He said: 'Were you afraid that Allah and His Messenger would wrong you?' I replied: 'O Messenger of Allah, I thought you had gone to one of your wives.' He said: 'On the night of the 15th of Sha'ban, Allah descends to the lowest heaven and forgives more people than the number of hairs on the sheep of the tribe of Kalb.'" [Narrated by Tirmidhi and Ibn Majah]
Razin added: "From those who deserve the Fire."
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے روایت کے آپ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عاشر! تم پچھجانے ہوکرآ ن پندرسویں شب عبان کی رات (جو شب برائے تے ہے) کیا ہور باہے؟ ام المؤمنین عرض کیں: اللہاوراس کے رسول خوب جانتے ہیں فرمایے یارسول اللہ آج کی رات کیا ہور باہے؟ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (قیامت تک جو جو ہونا ہے وہ تو سب لوح محفوظ میں لکھا گیا ہے لیکن اس سال جو ہونا ہے وہ آج کی رات لوح محفوظ سے نقل کیا جارہے ان میں سے ایک پیہ کہ) اس سال بنی آدم جو پیادہوں والے ہیں وہ سب کیے جارہے ہیں اوراس سال جو بنی آدم مرے وا لے ہیں ان کے کچھ نام کیے جارہے ہیں (روزانہ کے نیک اعمالوں کو جس آ سان پر اٹھالیا جاتا ہے ایسی وہ اعمال صالحہ جو اہمیتیں ہوگے ہیں اوراس سال ہوئے والے ہیں) ان کو جس آج کی رات کے لیا جاتا ہے اور لوح محفوظ سے مقابلہ کے لے آ سانول پر اٹھالیا جاتا ہے) اوراس رات بنی آدم کے سال بھر کا رزق اتارا جاتا ہے (کس
کو کیا ملگا اور کس قدر ملگا) ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جب سے کے سال بھر ہوئے
و اس لے اعمال صالح جواب دی واقع نہیں ہوئے بلکہ کرآ سانول پر اٹھا لے جاتے ہیں تو) ام المومنین
(کو شہر ہوا اس لے) دریافت فرما کیں کر یارسول اللہ (اعمال صالح جودخول جنت کے موجب ہیں
ایسے وقوع سے پہلے میں کہ لے جاتے ہیں اور آ سانول پر اٹھا لے جاتے ہیں تو معلوم ہوا کر جنت
اعمال صالح کے بدلا میں نہیں بلکہ جس کو اللہ کی رحمت شامل ہوجائے گے، وہی جنت میں جائے گا؟ یعنی کر
رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! (اعمال صالح جنت میں جانے کے لے ظاہری سبب ہیں
گمر حقیقی سبب اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ جس کو جنت میں داخل کرنا چاہتے ہیں اس کو اعمال صالح کی
تو فیق عطا فرماتے ہیں اس لے) رحمت ایسی ہی جنت میں جانے کا سبب حقیقی ہے، تمہیں بارہ سطر ح
ارشد ہوا۔ یعنی کر میں عرض کی: یارسول اللہ! (آپ علم عمل میں کمال رکھتے ہیں کر کوئی آپ کا ثانی
نہیں) کیا آپ کہیں بھر رحمت ایسی کے جنت میں نہیں جائیں گے؟ تو حضور اپنے سر مبارک پر باٹھدکہ
کر (اپنی احتیاج کو ظاہر کرے) فرماتے کر میں کہیں نہیں جاون گا گمر پیکر رحمت ایسی مجھے گہرے لے تو
میں کہیں جنت میں جاون گا، اس کو کہیں آپ میں مرتبہ فرماتے (چونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھ کو عالمین کے لے
رحمت بنادر کچھ جاہے اور بیشہ مجھ کو رحمت ایسی گہرے رہتی ہے، اس لے میں اعمال صالح میں بھیڑ
کو شش کرتا ہوں کر اعمال ظاہری جو رحمت ایسی کے سبب ہیں جنت میں لے جانے کے باعث
نہیں)۔ (اس حدیث کی روایت تہقیق نے دعوات کیبر میں کی ہے۔)
تیسری حدیث
Aisha (may Allah be pleased with her), who reported that the Prophet (ﷺ) said: "Do you know what happens on this night?", referring to the night of the 15th of Sha'ban. She replied: "What happens, O Messenger of Allah?" He said: "On this night, every person to be born in the coming year is recorded, and every person to die in the coming year is recorded. On this night, their deeds are raised, and their provisions are sent down." She said: "O Messenger of Allah, does anyone enter Paradise except by the mercy of Allah?" He replied: "No one enters Paradise except by the mercy of Allah," repeating it three times. I asked: "Not even you, O Messenger of Allah?" He placed his hand on his head and said: "Not even me, unless Allah covers me with His mercy," repeating it three times. [Narrated by Bayhaqi in Ad-Da'awat Al-Kabir]
The good deeds performed daily that are raised up are those significant and virtuous actions that have been carried out during the year. These are taken up to the heavens on the night of the following day and are compared with the Preserved Tablet. On this night, the sustenance for the entire year is decreed for every person (what they will receive and how much). Umm al-Mu'minin, Lady Aisha (RA), said that since the year has passed and the answers to these good deeds have not yet been realized, it is because they are taken up to the heavens. This caused her concern, so she asked the Messenger of Allah (SAW): 'O Messenger of Allah! Are the deeds that lead to Paradise taken up and recorded before their actual occurrence? When I learned that the entry into Paradise is not due to good deeds but rather due to the mercy of Allah, it became clear to me that only those whom Allah bestows His mercy upon will enter Paradise.' The Messenger of Allah (SAW) said: 'Aisha! Good deeds are the apparent cause for entering Paradise, but the true cause is the mercy of Allah Almighty. He grants the ability to perform good deeds to those whom He intends to admit into Paradise. Therefore, the true cause for entering Paradise is His mercy. You received twelve lines of guidance. This means that I said: O Messenger of Allah! (You possess perfect knowledge and action, and there is no one like you) Will you not enter Paradise due to such mercy? The Prophet (SAW) placed his blessed hand on his head and said: 'I will not go anywhere unless the mercy of Allah envelops me. If the mercy of Allah envelops me, then I will enter Paradise.' He often repeated this (because Allah has made me a source of mercy for all people, and a greater portion of this mercy remains with me, so I strive in good deeds, which are the outward causes that lead to Paradise, but they are not the actual cause for being admitted into Paradise). This hadith is narrated in the major supplications. Third hadith.
_ ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت سے وہ فرماتے ہیں کر رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کر شب ان کی پندرہویں رات جس کو شب برائت کہتے ہیں اللہ
تعالیٰ اپنے بندرول پر زوال رحمت فرما کر تمام گنہگاروں کی مغفرت فرماتے ہیں گمر مشک کو نہیں کچھ
اوراس مسلمان کو جس نہیں بھیشے جو کسی مسلمان سے (بغیر کسی شرعی وجہ کے) کینہ رکھے۔
(اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔)
Abu Musa Al-Ash'ari (may Allah be pleased with him), who reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "On the night of the 15th of Sha'ban, Allah looks down and forgives all of His creation except for a polytheist or one who harbors hatred." [Narrated by Ibn Majah]
Ahmad narrated it from Abdullah ibn Amr ibn Al-As (may Allah be pleased with him). In another narration: "Except for two: one who harbors hatred and a murderer."
اور ایک حدیث کی روایت امام احمد نے عبد اللہ بن عمر و بن العاص رضی اللہ
عنہما نے کی ہے۔
اور امام احمد کی ایک دوسری روایت میں اس طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ شب
برات میں تمام کائنات کو خشن دیتے ہیں گردوآدمیون کو نہیں بھیشے۔ ایک وہ مسلمان جو کسی مسلمان
سے (بغیر کسی شرعی وجہ کے) کینہ رکھے اور دوسرے اس مسلمان کو جس نہیں بھیشے جو کسی کو عداً (بغیر
قصاص کے) ناحق قتل کر دے۔
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ شب براعت میں ایک مسلمان کی بھیش نہیں ہوتی جو
کسی مسلمان سے کینہ رکھے یا کسی کو ناحق قتل کر دے۔ اس بارے میں صاحب مرقات نے لکھا ہے کہ
اللہ تعالیٰ اس رات بڑے فر کے تمام حقوق اللہ معاف فرمادیتے ہیں البتر حقوق العباد کو معاف نہیں فرماتے
یہاں تک وہ تو بھی کر لے۔
Abu Musa Al-Ash'ari (may Allah be pleased with him), who reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "On the night of the 15th of Sha'ban, Allah looks down and forgives all of His creation except for a polytheist or one who harbors hatred." [Narrated by Ibn Majah]
Ahmad narrated it from Abdullah ibn Amr ibn Al-As (may Allah be pleased with him). In another narration: "Except for two: one who harbors hatred and a murderer."
حضرت علی رضی اللہ عنہ تے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب شعبان کی پندرسوی رات آئے (جس کو شب براعت کہتے
ہیں) تو اس رات نماز پڑھو اور اسے عبادت میں گزارو اور اس رات کے بعد جودن آر باہے جیسی
پندرسوی شعبان کو روزہ رکھو (رات کے جاگنے سے اور دن کے روزہ رکھنے سے اپنے کوال رحمتول
کے قابل بناؤ جو اس رات نازل ہوتی ہیں، تم کو معلوم ہے کہ اس رات کیا ہوتا ہے؟) اس رات اللہ
تعالیٰ مغرب ہی سے آسمانی دنیا پر زول فرماتے ہیں (کیا کہون کہ کس کس طرح سے اپنی رحمت کو
ظاہر فرماتے ہیں نہایت مہربانی سے) فرماتے رہتے ہیں: اے کائنات! کہاں ہے؟ آپنی مغفرت
ماگے! اس رات جو مغفرت مانگے، میں اس کی مغفرت کرتا ہوں! کہاں سے رزق مانگے والا؟ آجھے مجھے رزق مانگے میں اس کو رزق دیتا ہوں! کہاں سے ایا شخص جو طرح طرح کی بلاوں میں گرفتار ہے! آجھے تمہیں بلاوں اور مصیبتوں کو دور کرتا ہوں! کہاں سے ایا شخص جو مجھے یماںگے اور میں اس کو یدون! کہاں سے ایا شخص جو مجھے یہ مصیبت دفع کرنا چاہے اور میں اس کو دفع کروں - ایے، یہ طرح طرح کی حاجتین مانگے والا مجھے اپنی حاجتین مانگے، میں اس کی تمام حاجتین پوری کرتا ہوں! (گمراہ مانگے والے اپنے ایے دل سے ماگے جومیرے دین پر لیقین رکھتا ہو، اگر تجہ کومیرے دین یانے دینے پرشکے ہوتے پھرتو محروم رہے گا) اس طرح کی ندا میں صادق طلوع ہوتے تک ہوتی رہتی ہے۔ (اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے)
Ali (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'When the night of the 15th of Sha'ban arrives, stand in prayer during its night and fast during its day. For Allah descends to the lowest heaven at sunset and says: "Is there anyone seeking forgiveness so that I may forgive them? Is there anyone seeking provision so that I may provide for them? Is there anyone afflicted so that I may heal them? Is there anyone...?" until dawn breaks.'" [Narrated by Ibn Majah]