Nūr al-Maṣābīḥ
بَابُ القُنُوتِ

Qunut
Volume 3 · Prayer

(اس باب میں اس وعاء کے احکام ذکور ہیں جونماز وتر میں پڑھی جاتی ہے)

وَقُولُ اللّٰهِ عَزَّوَ جَلَّ "وَقُومُوا لِلّٰهِ فَنِيۡنَ" اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (سورۃ باقرہ پ۔2

ع،آیت نمبر: 238 میں) (نماز وتر کے لئے جب) اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے رہو (تو اس میں

وعاء قنوت پڑھا کرو )

وَقُولُ اللّٰهِ عَزَّوَ جَلَّ "لَّيۡسَ لَكَ مِنَ الۡاَمۡرِ شَىۡءٌ اَوْ يَتُوۡبَ عَلَيۡهِمْ اَوْ يُعَذِّبَهُمْ"

اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (سورۃ آل عمران پ۔4 ع13 میں) (کفار کی طرف سے مسلمانوں کو

ناقابل برداشت تکالیف پہوچ رہی ہیں، پیرحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نہیں دیکھا گیا، ایک

وقت جب کہ آپ وتر پڑھ رہے تھے کفار کے ناقابل برداشت تکالیف یاد آگئے _آپ کفار کو بدوعاء

دینے لگے، ایسے میں جبریل علیہ الصلاۃ والسلام آگئے اور حضور سے کہ کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے

ہیں کہ آپ کو بدوعاء دینے کی ضرورت نہیں، انہیں ان کودیکھیں گے)۔ اتو اللہ تعالیٰ ان پرحمت سے

متوجہ ہوکر اسلام لا نے کی تو فیق عطا کرنے گے یا ان کے کفر کی حالت میں رہنے کی وجہ سے دنیا میں

جبھی ان پر کوئی عذاب اتاریں گے (آپ بجا نے بدوعا کرنے کے وتر میں اللہ تعالیٰ نے نستعین کر

"الخ اور اللہ تعالیٰ فیمن هدیت الخیرعا میں پڑھا کہ جو پکی شان کے لا ئے)

نماز وتر کی تیسری رکعت میں رکوع سے پہلے وعاے قنوت پڑھنے کا بیان

پہلی حدیث

(This chapter contains the rulings of the invocation recited in the Witr prayer.)

And Allah, the Exalted and Glorious, says, 'And stand before Allah devoutly' (Surah Al-Baqarah, 2:238), which means that when you stand before Allah in the Witr prayer, you should recite the invocation known as Qunut.

And Allah, the Exalted, says, 'There is no compulsion for you in this matter, whether He forgives them or punishes them' (Surah Al-Imran, 3:13). (The disbelievers were inflicting unbearable hardships upon the Muslims, but it was never seen that the Prophet ﷺ, while reciting the Witr, remembered these hardships and began to curse the disbelievers. On one occasion, however, when he was reciting the Witr and the unbearable hardships inflicted by the disbelievers came to his mind, he began to curse them. At that moment, Gabriel (peace be upon him) came and said to the Prophet that Allah, the Exalted, has instructed that there is no need for him to curse them; rather, they will see what will happen to them. Thus, Allah, the Exalted, will either grant them guidance to embrace Islam or punish them in this world for their state of disbelief.)

In the third rak'ah of the Witr prayer, the invocation of Qunut is recited before the ruku'.

First Hadith

1927

ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فراماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ

علیہ وآلہ وسلم وتر پڑھا کرتے تھے تو (وتر کی تیسری رکعت میں) رکوع سے پہلے وعاے قنوت پڑھتے

ثہ (اس کی روایت ابن مجہ نے سندرے کے ساتھ کی ہے)

دوسری حدیث

Ubayy ibn Ka'b (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) would pray Witr and perform Qunut before bowing." [Narrated by Ibn Majah with a Sahih chain]

1928

اپ بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وتر کے تین رکعت اداء فرما کرتے، پہلی رکعت میں "سَبْحٌ اَسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى"، دوسری رکعت میں "قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ"، او تیسری رکعت میں "قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ"، پڑھا کرتے۔ ثہ اور (تیسری رکعت میں) رکوع سے پہلے دعاے قنووت پڑھتے۔ (اس کی روایت نسائی نے کی ہے)

تیسری حدیث

Ubayy ibn Ka'b (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) would pray Witr with three rak'ahs. In the first, he would recite Sabbih isma Rabbika al-A'la (Surah Al-A'la), in the second Qul ya ayyuhal kafirun (Surah Al-Kafirun), and in the third Qul Huwa Allahu Ahad (Surah Al-Ikhlas). He would perform Qunut before bowing." [Narrated by Nasa'i]

1929

عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وتر کی (تیسری رکعت میں) رکوع سے پہلے دعاے قنووت پڑھا کرتے تھے۔ (اس کی روایت خطیب نے کتاب القنووت میں کی ہے اور ابن الجوزی نے کتاب التحقیق میں اس کو بیان کیا ہے اور سکوت اختیار کیا ہے)

چوتھی حدیث

Abdullah ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) narrated: "The Prophet (ﷺ) performed Qunut in Witr before bowing." [Narrated by Al-Khatib in his book on Qunut and mentioned by Ibn Al-Jawzi in At-Tahqiq, who remained silent about it]

1930

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وتر کے تین رکعت پڑھا کرتے تھے اور وتر (کی تیسری رکعت) میں رکوع سے پہلے دعاے قنووت پڑھتے تھے۔ (اس کی روایت ابویعم نے حلیہ میں کی ہے)

پانچویں حدیث

Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated: "The Prophet (ﷺ) prayed Witr with three rak'ahs and performed Qunut in them before bowing." [Narrated by Abu Nu'aym in Al-Hilyah]

1931

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وتر کے تین رکعت پڑھا کرتے اور دعاے قنووت کو وتر (کی تیسری رکعت) میں رکوع سے

پہلے پڑھتے تھے۔ (اس کی روایت طبرانی نے اوست میں لی ہے۔)

چھٹی حدیث

Ibn Umar (may Allah be pleased with him) narrated: "The Prophet (ﷺ) would pray Witr with three rak'ahs and perform Qunut before bowing." [Narrated by Tabarani in Al-Awsat]

1932

ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے و فرما تے جن کر بی کریم صلی اللہ علیہ

وآلہ وسلم وتر (کی تیرہی رکعت ) میں رکوع سے پہلے دعاے قنوت پڑھا کرتے تھے

(اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے لی ہے۔)

Ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) narrated: "The Prophet (ﷺ) would perform Qunut in Witr before bowing." [Narrated by Ibn Abi Shaybah]

سابقی حدیث
1933

ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے و فرما تے جن کر میں نے رسول اللہ صلی

اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ (ایک دفعہ) اس ارادہ سے رات گزارتی کر دیجیون کر رسول اللہ صلی اللہ

علیہ وآلہ وسلم وتر میں دعاے قنوت کب پڑھتے ہیں؟ میں نے دیکھا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ

وسلم (وتر کی تیرہی رکعت میں) رکوع سے پہلے دعاے قنوت پڑھتے ہیں۔ چھر میں نے اپنی والدہ ام

عبد رضی اللہ عنہا کو پی عرض کر کے خدمت گرا میں بیجا کر وہ ازواج مطہرات کے ساتھ رات

گزراری تا کر دیجیون کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وتر میں دعاے قنوت کب پڑھتے ہیں؟ (وہ

گمبین) اور واپس آ کر مجھ سے کہنے لگیں کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (وتر کی تیرہی رکعت

میں) رکوع سے پہلے دعاے قنوت پڑھتے ہیں۔ (اس کی روایت دارقطني نے لی ہے۔)

Ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) narrated: "I stayed with the Messenger of Allah (ﷺ) to observe how he performed Qunut in his Witr. He performed Qunut before bowing. Then I sent my servant Umm Abd to observe how he performed Qunut in his Witr. She came and informed me that he performed Qunut before bowing." [Narrated by Darqutni]

آٹھویں حدیث
1934

علقمه رضی اللہ عنہ سے روایت ہے و فرما تے جن کرابن مسعود رضی اللہ عنہ اور

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دورسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم وتر (کی تیرہی رکعت) میں

رکوع سے پہلے دعاے قنوت پڑھا کرتے تھے۔ اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے لی ہے۔ جو برقت میں

کہا ہے کہ اس حدیث کی سنہ مسلم کی شرط کے موافق ہے (اعلاء السنن)

Alqamah reported: "Ibn Mas'ud and the companions of the Prophet (ﷺ) would perform Qunut in Witr before bowing." [Narrated by Ibn Abi Shaybah]

نوي حديث
1935

سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوبکر صدیق حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان غنی اور حضرت علی مرتضی رضی اللہ عنہم کو فرما تے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر کی آخری رکعت میں دعا کے قنوت پڑھتے رہے ہیں، اور یہ حضرات خود بھی (وتر کی تیسری رکعت میں رکوعے سے پہلے) دعا کے قنوت پڑھتے تھے۔

(اس کی روایت دار طنی اور بہت سے نے کی ہے۔)

ف: واضح ہو کہ ان سب احادیث شریف کے ثابت ہوا کہ وتر کی تیسری رکعت میں رکوعے سے پہلے دعا کے قنوت پڑھنے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا بیش عمل رہا ہے، یا مام ابن اہمام رحم اللہ نے فرمایا ہے۔

Suwayd ibn Ghafalah reported: "I heard Abu Bakr, Umar, Uthman, and Ali (may Allah be pleased with them) say: 'The Messenger of Allah (ﷺ) performed Qunut in the last rak'ah of Witr,' and they would do the same." (1) [Narrated by Darqutni and Bayhaqi]

(1) The statement "they would do the same" indicates that the companions consistently practiced Qunut in Witr, as mentioned by Sheikh Ibn Al-Humam.

قنوت نازل کا بیان
پہلي حدیث
1936

عاصم احول رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرما تے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کر (وعاء، یا تو نماز کے آخری قعدہ میں کی جائے ہے؟ حضرت انس نے فرمایا: بال وتر کی نماز کے بعد) کیا عین نماز کی رکعتوں میں کچھ دعا کی جائے ہے؟ حضرت انس سے پوچھا کہ رکوعے سے پہلے یا تیسری رکعت میں کچھ دعا کے پڑھی جائے ہے تو میں نے حضرت انس سے پوچھا کہ رکوعے سے پہلے پڑھی جائے رکوع کے بعد؟ حضرت انس نے فرمایا کہ دعا کے قنوت (وتر میں بھی ہے) رکوع سے پہلے پڑھی جائے ہے (عاصم نے کہا کہ مجھے تو فلال شخص نے بیان کیا ہے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کے بعد دعا کے پڑھی ہے تو حضرت انس نے فرمایا: ایا نہیں، اصل واقع کو انہوں نے ظاہر نہیں کیا، تج بات ہے کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے توصرف ایک مہتک (نماز میں) رکوع کے

بعد دعا سے قنوت پڑھی ہے۔ ایک ماہ تک (نماز فجر میں رکوع کے بعد) دعا پڑھنے کی وجہ یہی کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پچھو سحاب کو جنہیں قرآن کے جا تا تھا اور وہ ستہ کے قریب تھے، مشرکین کی ایک جماعت کی طرف (اسلام کی تبلیغ کر کے علم دین سکھانے کے لئے) بھیجا (اس قوم میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں معاہدہ تھا۔ لیکن مشرکین نے عہد شکنی کی) اور سب قرآن کو قتل کردیا (صرف کعب بن زید انصاری رضی اللہ عنہ کہ ان کو جسی مشرکین نے زخمی کر دیا اور بھگلیا تھا کہ شہید ہو گیا ہیں مگر ان کی پچھو جان باقی تھی وہ نج کرواپس آ گیا اس واقعہ سے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس قد رتم ہوا کہ اسی غم کہ جس نہیں دیکھا گیا اس لئے) ایک ماہ تک نماز میں رکوع کے بعد قتلول کو برداشت کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا سے قنوت پڑھی ہے (پھر اس کے بعد نماز میں یاکسی اور نماز میں رکوع کے بعد دعا سے قنوت پڑھی نہیں پڑھی)۔

(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفرق طور پر کی ہے۔)

ف: واضح ہو کہ اس حدیث ثریف میں ذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف ایک ماہ تک (نماز میں) رکوع کے بعد (عام مسلمانوں پرمصیبت آنے کی وجہ سے) دعا سے قنوت پڑھی ہے۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ وتر کے سوا کسی اور نماز میں جب قنوت نازلہ کے دعا سے قنوت نہ پڑھی جائے۔ قنوت نازلہ پیہ کے کفار کی طرف سے جب کوئی سخت مصیبت عام مسلمانوں پر آن پڑے تو امام نماز فجر میں رکوع کے بعد دعا سے قنوت پڑھا کرے اور اس کا حکم دامی ہے لیکن ہر زمانہ میں کفار کی طرف سے مسلمانوں پر عام مصیبت آنے پڑنے تو قنوت نازلہ فجر کی نماز میں رکوع کے بعد پڑھی جائے۔ اس وجہ سے صحابہ کرام نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد جس ایسے موقع پر قنوت نازلہ پڑھی ہے، امام طحاوی رحمہ اللہ نے جسی فرما یا ہے اور جسی نذہب حقی ہے اور اسی پر جمہور کا عمل درآمد ہے۔

قنوت نازلہ کو نماز فجر کے سوا اور نماز ولی میں پڑھنے کا جو ذکر بعض احادیث میں مروی ہے ایسی حدیثوں کو امتہاحناف نے منسوخ قرار دیا ہے اس لئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز فجر کے

سواء دیگر نمازول میں قنوت نازلم پڑھی مواظبت اور تکرار نہیں فرمائی بلکہ قنوت نازلم کی تکرار اور

مواظبت صرف نماز فجر میں ثابت ہے اور اسی وجہ سے احناف نے قنوت نازلم کو نماز فجر سے مختص کیا

ہے، فقہاء نے اس کی وجہ صراحت فرمائی ہے کہ منفرد قنوت نازلم نہ پڑھے، اگر امام قنوت نازلم آہستہ

پڑھ رہا ہو تو مقتری بھی قنوت کو آہستہ پڑھے۔ اور اگر امام قنوت نازلم جہر سے پڑھ رہا ہو تو مقتری خود

قنوت نہ پڑھے بلکہ آمین کہتا جائے۔ (یہ پورا مضمون رد اختار سے ماخوذ ہے۔)

Asim Al-Ahwal reported: "I asked Anas ibn Malik (may Allah be pleased with him) about Qunut in prayer: Was it performed before or after bowing? He replied: 'Before bowing. The Messenger of Allah (ﷺ) only performed Qunut after bowing for a month (1) when he sent a group of people called the Qurra (reciters), seventy men, who were killed. The Prophet (ﷺ) performed Qunut after bowing for a month, supplicating against their killers.'" [Agreed upon by Bukhari and Muslim]

(1) The statement "The Messenger of Allah (ﷺ) performed Qunut after bowing for a month" means that Qunut is only performed outside of Witr during times of calamity. This is mentioned in Ad-Durr Al-Mukhtar. In Rad Al-Muhtar, it is stated: "If a calamity occurs, the Imam performs Qunut in the audible prayers." However, in Al-Ashbah, it is mentioned that Qunut is performed in Fajr prayer. This is supported by Sharh Al-Munyah, which states that the permissibility of Qunut during calamities is continuous. This is the view of our school and the majority. Hafiz Abu Ja'far At-Tahawi said: "We do not perform Qunut in Fajr prayer unless there is a calamity. If a calamity occurs, there is no harm in doing so, as the Prophet (ﷺ) did it. As for Qunut in all prayers during calamities, Ash-Shafi'i did not hold this view. It seems they considered the narrations about Qunut in Dhuhr and Isha prayers, as in Muslim, and in Maghrib prayer, as in Bukhari, to be abrogated due to the lack of consistent practice compared to Fajr prayer." This clearly indicates that Qunut during calamities in our school is specific to Fajr prayer and not other audible or silent prayers. It is also clear that the follower (ma'mum) follows the Imam, except when the Imam recites aloud, in which case the follower says "Ameen." Qunut is performed after bowing, not before, as evidenced by the narrations used by Ash-Shafi'i to support Qunut in Fajr, which explicitly mention Qunut after bowing. Our scholars interpreted this as Qunut during calamities. Later, Ash-Sharnuballi in Maraqi Al-Falah explicitly stated that it is performed after bowing, while Al-Hamawi suggested it is before bowing. The more apparent view is what we have stated.

It is clear from this hadith that the Messenger of Allah ﷺ read Qunut (a special supplication) after bowing in prayer for only one month due to a general calamity befalling the Muslims. The details of this summary are as follows: In any prayer other than Witr, if Qunut Nāzilah (a specific type of Qunut invoked during times of calamity) is not read, it should not be read. Qunut Nāzilah is read when a severe calamity befalls the Muslims due to the actions of the disbelievers. In such a case, the Imam should read Qunut Nāzilah after bowing in the Fajr prayer, and this is a continuous practice. However, whenever a general calamity befalls the Muslims due to the actions of the disbelievers, Qunut Nāzilah should be read after bowing in the Fajr prayer. For this reason, the noble Companions (RA) read Qunut Nāzilah on such occasions after the Messenger of Allah ﷺ, as Imam Tahawi (RA) has stated, and this is the correct view, and the majority of scholars have acted upon this. The mention of reading Qunut Nāzilah in prayers other than Fajr and in the Witr prayer, as found in some hadiths, has been declared abrogated by the Hanafi scholars because the Messenger of Allah ﷺ did not consistently and repeatedly read Qunut Nāzilah in prayers other than Fajr. Instead, the consistent and repeated reading of Qunut Nāzilah is established only in the Fajr prayer, and for this reason, the Hanafis have restricted Qunut Nāzilah to the Fajr prayer. The jurists have explicitly stated that Qunut Nāzilah should not be read individually. If the Imam reads Qunut Nāzilah slowly, the followers should also read it slowly. If the Imam reads Qunut Nāzilah in a low voice, the followers should not read it themselves but should say 'Amen.' (This entire topic is derived from Al-Radd al-Muhtar.)

دوسرا حدیث
1937

ابوبہریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ

وآلہ وسلم جب کسی قوم کے لئے دعا کرنا یا کسی قوم پر بد دعا کرنا چاہتے تو نماز فجر میں (روزہ کے

بعد) قنوت نازلم پڑھتے تھے۔ (اس کی روایت ابن حبان نے سننچ کے ساتھ کی ہے۔)

Abu Barzah (RA) reported: He said:

When the Messenger of Allah ﷺ wanted to supplicate for a people or invoke a curse upon a people, he would recite Qunut Nazil in the Fajr prayer (after fasting). (This is reported by Ibn Hibban with a sound chain.)

تیسری حدیث
1938

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ

وسلم (فجر کی نماز میں دعا کے قنوت میشہ نہیں پڑھتے تھے البتہ) کسی قوم کے لئے دعا کرنے یا کسی

قوم پر بد دعا کرنے کی غرض سے قنوت (نازلہ) پڑھتے تھے۔

(اس کی روایت خطیب نے کتاب القنوت میں کی ہے اور صاحب تحقیق نے کہا ہے کہ

اس حدیث کی سننچ ہے۔)

Anas (may Allah be pleased with him) narrated: "The Prophet (ﷺ) would only perform Qunut when supplicating for a people or against them." [Narrated by Al-Khatib in his book on Qunut]

The author of Tanqih At-Tahqiq said: "This chain is authentic."

چوتھی حدیث
1939

عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی

اللہ علیہ وآلہ وسلم نجر ایک مہیں کے صح کی نماز میں کبھی قنوت نہیں پڑھے اور کبھی آپ کو (صح کی نماز

میں) اس سے پہلے قنوت پڑھتے نہیں دیکھا گیا، اور اس طرح اس کے بعد کبھی کبھی آپ کو قنوت

پڑھتے نہیں دیکھا گیا، اور اس ایک مہیں میں کبھی آپ نے مشکیں میں سے پھلوں پر بد دعا کرتے

روایت ہمارے امام ابوحنیفرحمۃ اللہ نے کی ہے اوراس حدیث کی سندرے متعلق امام ابنہمام نے

کہاہے کرپیا کی سندرہ جس پرکوئی اعتراض نہیں۔

ذعاے قنوت بلغری حادث کے تمیشہ فجر میں پڑھنا ثابت نہیں ہے

پہلی حدیث

It is narrated from Abdullah ibn Mas'ud (RA) that he said:

The Messenger of Allah ﷺ did not recite qunut in the Fajr prayer during the month of Ramadan, nor was he ever seen reciting qunut before the Fajr prayer. And in this manner, sometimes he was not seen reciting qunut after it, and during this one month, he never cursed the fruits of the date palms. Our Imam Abu Hanifah (may Allah have mercy on him) has narrated this, and regarding the authenticity of this hadith, Imam Ibn Hammad said that its chain is sound and there is no objection to it. It is not established that qunut is recited in the Fajr prayer during the month of Ramadan.

1940

ابو ما کے ابی رضی اللہ عنہ روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے

والد سے دریافت کیا کہ ابا! آپ نے تو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، حضرت ابوبکر

صدیق، حضرت عمرفاروق اورحضرت عثمان ذو النورین رضی اللہ عنہم ان سب کے پیچپیچ نماز پڑھی ہے

اور یہاں کوفہ میں بھی (5) برس حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پیچپیچ نماز پڑھی ہے، آیا ہے

حضرات (بلا کسی حادث کے جسی فجر میں) قنوت پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا: بیا! یہ بدعت ہے،

بالکل نہیں بات ہے (کیونکہ اس سے پہلے ان حضرات میں سے کسی کو میں نے بلا کسی حادث کے فجر میں

قنوت پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا)-

(اس کی روایت تنزی، نسائی اورابن ماجہ نے کی ہے، اورابن ماجہ نے کہا ہے کہ یہ حدیث

حسن صحیح ہے-)

دوسری حدیث

Abu Malik Al-Ashja'i reported: "I asked my father: 'O father, you prayed behind the Messenger of Allah (ﷺ), Abu Bakr, Umar, Uthman, and Ali (may Allah be pleased with them) here in Kufah for about five years. Did they perform Qunut?' He replied: 'O my son, it is an innovation.'" [Narrated by Tirmidhi, Nasa'i, and Ibn Majah]

Tirmidhi said: "This is a Hasan Sahih Hadith."

1941

ابو ما کے ابی رضی اللہ عنہ والد سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے والد

نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچپیچ نماز پڑھی ہے، حضرت رسول اللہ صلی اللہ

علیہ وآلہ وسلم (بلا کسی حادث کے فجر کی فرض میں) کبھی قنوت نہیں پڑھے ہے اوراسی طرح میں نے

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچپیچ نماز پڑھی ہے، حضرت ابوبکر نے (بلا کسی حادث کے فجر کی فرض

میں) کہی قنوت نہیں پڑھی، اور ایسا ہی میں نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پچپچہ کہی نماز پڑھی

ہے، حضرت عمر نے کہی (بلاکہ حادث کے فجر کی فرض میں) کہی قنوت نہیں پڑھی، اور میں نے

حضرت عثمان ذو النور یعنی رضی اللہ عنہ کے پچپچہ کہی نماز پڑھی ہے، حضرت عثمان نے کہی (بلاکہ حادث

کے فجر کی فرض میں) کہی قنوت نہیں پڑھی، اور میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پچپچہ کہی

نماز پڑھی ہے، حضرت علی نے کہی (بلاکہ حادث کے فجر کی فرض میں) کہی قنوت نہیں پڑھی، پھر ان

کے والد نے کہا: بیٹا! (ہر روز نماز فجر کے فرض میں قنوت پڑھنا) بدعت ہے، اور بالکل تی با ت ہے-

(اس کی روایت نسائی نے کی ہے-)

Abu Malik Al-Ashja'i and his father reported: "I prayed behind the Messenger of Allah (ﷺ), and he did not perform Qunut. I prayed behind Abu Bakr, and he did not perform Qunut. I prayed behind Umar, and he did not perform Qunut. I prayed behind Uthman, and he did not perform Qunut. I prayed behind Ali, and he did not perform Qunut. Then he said: 'O my son, it is an innovation.'" [Narrated by Nasa'i]

تیسری حدیث
1942

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نماز میں قنوت

پڑھنا بدعت ہے- (اس کی روايت دار قطني اور ترمذي نے کی ہے-)

Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated: "Qunut in Fajr prayer is an innovation." [Narrated by Darqutni and Bayhaqi]

چوٹی حدیث
1943

غالب بن فرقد طحان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں اس

بن ماک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں دو مہینے تک میں نے آپ کوئی نماز میں قنوت پڑھتے کہی نہیں

دیکھا- (اس کی روایت طبرانی نے کی ہے-)

It is narrated from Ghallab bin Farqad the Tanner (RA) that he said:

I served Ibn Maktum (RA) for two months, and I did not see him recite qunut in any prayer.

پانچویں حدیث
1944

اسود بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ وہ حضرت عمر بن

خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ سفر اور اقامت کی حالت میں (2) سال تک رہے ہیں تو احوال میں

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو نماز فجر میں قنوت پڑھتے کہی نہیں دیکھا- اس کی روایت امام محمد نے کی ہے،

اور شخ ابن الهما م رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ یا بی معتر سنده جس پر کوئی اعتراض نہیں -

فجر کی نماز میں دعا کے قوت کا پڑھنا منسوخ ہے

پہلی حدیث

Al-Aswad ibn Yazid reported: "He accompanied Umar ibn Al-Khattab (may Allah be pleased with him) for sixty journeys and at home, and he never saw him perform Qunut in Fajr prayer." [Narrated by Muhammad]

Sheikh Ibn Al-Humam said: "This chain is flawless."

1945

_ انس بن ما ک رضی اللہ عنہ روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (بغیر کسی حادث کے فرض نماز ول میں ) ایک ماہ تک قوت پڑھتے رہے پھر حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے (فرض میں) قوت پڑھنا ترک فرمادیا (اس سے معلوم ہوا کہ نہ کی فرض ہو یا کوئی اور فرض اس میں دعا کے قوت کا پڑھنا منسوخ - جسیا کہ علامہ عینی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے -12 ہے - (اس کی روایت ابودا ود نے کی ہے اور نسائی نے بھی اس طرح روایت کی ہے -)

دوسری حدیث

It is narrated from Anas bin Malik (RA) that he said:

The Noble Prophet ﷺ used to recite Qunut in the Fajr prayer for one month without any specific incident. Then, the Prophet ﷺ discontinued reciting Qunut in the Fajr prayer. This indicates that whether it was obligatory or any other obligation, reciting Qunut in the Fajr prayer was abrogated, as Imam Aini (may Allah have mercy on him) has stated. This narration is reported by Abu Dawud, and Nasa'i has also narrated it in this manner.

1946

_ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف ایک ماہ تک (ایک حادث کی وجہ سے، جو بہتر معونہ (معونہ کے کوئی) کے پاس پیش آیا تھا جس میں کافرول نے تقریاً ستر صاحب کو شہید کر دیا تھا ) صبح کی نماز میں قوت پڑھتے ہیں - پھر حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو ترک فرمادیا، اور اس ایک ماہ کے پہلے (بلا کسی حادث کے ) صبح کی نماز میں قوت نہیں پڑھے اور نہ اس ایک ماہ کے بعد - (اس کی روایت طحاوی، طبرانی، ابن ابی شیبہ اور برز ار نے کی ہے -)

تیسری حدیث

Asim Al-Ahwal reported: "I asked Anas ibn Malik (may Allah be pleased with him) about Qunut in prayer: Was it performed before or after bowing? He replied: 'Before bowing. The Messenger of Allah (ﷺ) only performed Qunut after bowing for a month (1) when he sent a group of people called the Qurra (reciters), seventy men, who were killed. The Prophet (ﷺ) performed Qunut after bowing for a month, supplicating against their killers.'" [Agreed upon by Bukhari and Muslim]

(1) The statement "The Messenger of Allah (ﷺ) performed Qunut after bowing for a month" means that Qunut is only performed outside of Witr during times of calamity. This is mentioned in Ad-Durr Al-Mukhtar. In Rad Al-Muhtar, it is stated: "If a calamity occurs, the Imam performs Qunut in the audible prayers." However, in Al-Ashbah, it is mentioned that Qunut is performed in Fajr prayer. This is supported by Sharh Al-Munyah, which states that the permissibility of Qunut during calamities is continuous. This is the view of our school and the majority. Hafiz Abu Ja'far At-Tahawi said: "We do not perform Qunut in Fajr prayer unless there is a calamity. If a calamity occurs, there is no harm in doing so, as the Prophet (ﷺ) did it. As for Qunut in all prayers during calamities, Ash-Shafi'i did not hold this view. It seems they considered the narrations about Qunut in Dhuhr and Isha prayers, as in Muslim, and in Maghrib prayer, as in Bukhari, to be abrogated due to the lack of consistent practice compared to Fajr prayer." This clearly indicates that Qunut during calamities in our school is specific to Fajr prayer and not other audible or silent prayers. It is also clear that the follower (ma'mum) follows the Imam, except when the Imam recites aloud, in which case the follower says "Ameen." Qunut is performed after bowing, not before, as evidenced by the narrations used by Ash-Shafi'i to support Qunut in Fajr, which explicitly mention Qunut after bowing. Our scholars interpreted this as Qunut during calamities. Later, Ash-Sharnuballi in Maraqi Al-Falah explicitly stated that it is performed after bowing, while Al-Hamawi suggested it is before bowing. The more apparent view is what we have stated.

1947

_ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی

اللہ تعالیٰ اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم (صبح کی فرض میں) ایک ماہ تک قنوت پڑھتے رہے ہیں، اور قنوت میں قبیل عصیانی اور زکوان پر بدعافرما تے رہے۔ اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں قبیلوں پر غلبہ حاصل فرمایا تو آپ پر قنوت پڑھنا چھوڑ دیا۔

(اس کی روایت نہیں، بلکہ اور ابوہی الموصی نے کی ہے اور طبرانی نے بھی اکبرین اس کی روایت کی ہے۔)

نماز فجر میں بلا حادث کے قنوت پڑھنے کی ممانعت

Abdullah ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) never performed Qunut in Fajr except for one month. He was not seen doing it before or after that month, and he only performed Qunut during that month to supplicate against the disbelievers." [Narrated by our Imam Abu Hanifah]

Sheikh Ibn Al-Humam said: "This chain is flawless."

1948

_ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے روایت کی آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بغیر کسی حادث کے) فجر کے فرض میں قنوت پڑھنے کو منع فرمایا ہے۔

(اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔)

ف: واضح رہے کہ ان ذکور الصدر احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ حدیثیں جن میں بغیر کسی حادث کے فرض نماز میں قنوت پڑھنے کا ذکر ہے منسوخ ہیں، یہ بات علماء عینی رحمۃ اللہ نے فرمائی

Umm Salamah (RA) narrated that she said:

The Messenger of Allah ﷺ prohibited reciting qunut in the Fajr prayer without any specific reason. (This is reported by Ibn Majah.) It is clear that these narrations indicate that the hadiths which mention reciting qunot in the obligatory prayer without any specific reason have been abrogated, as stated by Imam 'Ayni (may Allah have mercy on him).