(اس باب میں پیتلا یاگیا بہ کر نماز وتر واجب ہے اور اس کے تین رکعات اکی سلام
سے میں اوردعاے قنوت اسی میں پڑھی جاتی ہے)
In this chapter, it is stated that the Tarawih prayer is obligatory, and it consists of an even number of rak'ahs with a single salam at the end, and the Qunut supplication is recited within it.
وقول الله عز وجل حفظوا علي الصلوات والصلاه الوسطي اور الل تعالي كا
ارشاد ہے (سورہ بقرہ پ230، آیت نمبر:238)مسلمانو! پاپچون فرض نمازوں کی حفاظت کرو،اور
خصوصاً عشاء اور جبری درمیانی نمازیں وتر کی بھی حفاظت کرو(اس لئے کروتر واجب ہے)-
وقولہ تعالی "والشفع والوتر" اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (سورۃ فجر پ3041،آیت
نمبر:3میں) فرم ہے ان نمازوں کی جن کی رکعتیں جفت ہیں (مثالاً فجر، ظہر، عصر اور عشاء)اور ثم
ہے ان نمازوں کی جن کی رکعتیں طاق ہیں (مثالاً مغرب کے فرض اور نماز وتر)-
وتر کے تین رکعات اکی سلام سے پڑھنے کا ثبوت
It is enjoined (Surah Al-Baqarah, p. 230, Verse No. 238): O Muslims! Safeguard your obligatory prayers, and especially the Asr prayer and the middle prayer, and also safeguard the Witr prayer (for Witr is obligatory), And the Exalted says, “And [establish] the two rows (of prayers)” (Surah Al-Fajr, p. 3041, Verse No. 3), which means: Establish those prayers whose rak'ahs are even (such as Fajr, Dhuhr, Asr, and Isha) and then establish those prayers whose rak'ahs are odd (such as the obligatory Maghrib prayer and the Witr prayer), The evidence for reciting Witr with three rak'ahs and one salam.
- ابوبسلہ بن عبد الرحمن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے امامومنین
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ماہ رمضان میں حضر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز تجد کی کیفیت اور
تعداد رکعات کے بارے میں دریافت کیا، امام المومنین ارشاد فرما کیں: حضور اقدس تجد میں گیارہ
رکعتوں سے زائد نہ پڑھتے تھے، خواہ رمضان ہو یا نہ ہو۔ چار رکعتیں تو ایسی پڑھتے کرتے ان کی خوبلی
اور ان کا طول قرأت تودریافت میں نہ کرو، اس کے بعد چار رکعتیں اور پڑھتے تھے ان کی خوبی اور
درازی بھی نا قبل دریافت ہے (ویہ تعلق رکعتی ہے) پھر اخیر میں آپ تین رکعتیں (وتر) کے
پڑھتے تھے-(اس کی روایت بخاری اور مسلم میں متفق طور پرکی ہے-)
ف: اس حدیث میں امامومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا تجد کی رکعتوں کی تفصیل بتلا رہی
پس جس کے آخر میں وتر کا ذکر ہے، اگر وتر ایک رکعت علیٰ ہ السلام سے هوی تو ام المومنین یول ارشاد
فرما تین کر حضور صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم وتر کے تین رکعتین دور کے ایک سلام سے اور ایک رکعت ایک
سلام سے اداء فرماتے تھے، ایسا نہ کہ وتر بیفرمانا کر وتر کے تین رکعتین ادا فرماتے تھے، اس سے ثابت
ہوا کہ وتر کی تین رکعتین ایک سلام سے اداء کرنا چاہے۔
ایک رکعت نماز پڑھنے کی ممانعت
Abu Salamah ibn Abdur-Rahman, who asked Aisha (may Allah be pleased with her): "How was the prayer of the Messenger of Allah (ﷺ) during Ramadan?" She replied:
"The Messenger of Allah (ﷺ) did not exceed eleven rak'ahs in Ramadan or at any other time. He would pray four rak'ahs, do not ask about their beauty and length, then pray another four rak'ahs (1), do not ask about their beauty and length, and then pray three rak'ahs." [Agreed upon by Bukhari and Muslim]
(1) The phrase "then he prayed four rak'ahs" indicates that the night prayer is performed in sets of four rak'ahs. Otherwise, she would have said"eight rak'ahs, do not ask about their beauty and length." This is mentioned in Fath al-Qadir.
البوسعید خدری رضی اللّہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم
بتیراء سے منع فرماتے ہیں (جیسے وتر ہو یا کونی اور نماز صرف ایک رکعت پڑھی جائے جس کو تجبیہ تحریم
سے ثروت عکر کے سلام پر ختم کرے اور دومسری رکعت اس کے ساتھ نہ ملاے اسی نماز کی فرض میں
کونی نظیر ملتی ہے نوافل میں اور نہ سنن میں، اس لے وتر کی ایک رکعت نہیں پڑھنی چاہے۔
(اس کی روايت ابن عمر البر نے تمہید میں کی ہے۔)
وتر کے تین رکعت ایک سلام سے پڑھنے کا ثبوت
پہلی حدیث
Abu Sa'id (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited the Butayra (praying only one rak'ah for Witr)." [Narrated by Ibn Abd al-Barr in Al-Tamhid]
حضرت علی رضی اللّہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ
وآلہ وسلم وتر کے تین رکعت (ایک تجبیہ تحریم اور ایک سلام سے) پڑھا کرتے تھے اس کی روایت
تزندی نے کی ہے، اور تزندی نے کہا ہے کہ علماء صحابا وعلماء تابعین کا کچھ کچھ نہیں نذہب ہے وہ فرماتے
ہیں کہ وتر کے تین رکعت (ایک تجبیہ تحریم اور ایک سلام سے) پڑھنا چاہے۔
دوسری حدیث
The Messenger of Allah ﷺ used to pray the Witr with seven rak'ahs (with one tashahhud and one salam). This is reported by Tazni, and Tazni said: 'Some of the scholars among the Companions and the scholars among the Successors have opined that the Witr should be prayed with seven rak'ahs (with one tashahhud and one salam).'
عبد اللّہ بن ابل قیس رضی اللّہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے ام
المومنین عائشہ رضی اللّہ عنہا سے دریافت کیا کہ رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم وتر کے کتنے رکعت
پڑھا کرتے تھے؟ ام المومنین ارشاد فرما کیں کہ آپ کبھی تہجد کے چار رکعت پڑھتے تھے، اور تین رکعت وتر کے (ایک تکبیر تحریمہ اور ایک سلام سے) پڑھتے تھے اور کبھی تہجد کے 6 رکعت پڑھتے تھے، اور وتر کے تین رکعت (ایک تکبیر تحریمہ اور ایک سلام سے) اور کبھی تہجد کے آٹھ رکعت پڑھتے تھے اور وتر کے تین رکعت (ایک تکبیر تحریمہ اور ایک سلام سے) اور کبھی تہجد کے دس رکعت پڑھتے تھے اور وتر کے تین رکعات (ایک تکبیر تحریمہ اور ایک سلام سے) اور وتر و تہجدا کا مجموعہ سات رکعت سے کم اور تیرہ رکعات سے زیادہ نہیں ہوتا تھا۔
(اس کی روایت ابوداود نے کی ہے۔)
ف: علامہ ابنی رحمۃ اللہ نے فرمایا کہ اس حدیث ثبوت کے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وتر کے تین رکعات ہوتے ہیں، اس لئے کرام المومنین نے بار بار وتر کے تین رکعات کا ذکر فرمایا ہے اگر وتر ایک رکعت ہوتی تو ام المومنین اس کو ظاہر فرما تیں، ام المومنین کا ایک رکعت کا ذکر فرمانا، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وتر کے تین رکعت ہیں اور وتر ایک رکعت کبھی نہیں پڑھی گئی۔ اس لئے کہ وہ بتیراء ہے جس کی مما نعت گزر چکی ہے۔
نماز وتر ایک رکعت ثابت نہیں ہے
Abdullah ibn Abi Qais reported: "I asked Aisha (may Allah be pleased with her): 'How did the Messenger of Allah (ﷺ) pray Witr?' She replied: 'He would pray Witr with four and three, six and three, eight and three, or ten and three. (1) He never prayed Witr with less than seven rak'ahs or more than thirteen.'" [Narrated by Abu Dawud]
(1) The phrase "and three" indicates that Witr is essentially three rak'ahs, and what precedes it is considered part of the night prayer (Tahajjud). Referring to the entire prayer as Witr is a metaphorical usage. This is supported by the authentic hadith: "Make the last of your night prayer Witr."
کرخی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ سعد بن الی وقاص رضی اللہ عنہ نے وتر کی نماز ایک رکعت پڑھی (حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ دیکھ رہے تھے کہ وہ ایک رکعت پڑھ رہے ہیں، جب وہ نماز سے فارغ ہو گئے تو) حضرت ابن مسعود (ایک رکعت کے ثبوت سے) انکار کرتے اور فرما ہے: پیسی نماز ہے؟ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلم وسلم کے زمانے میں اس قسم کی بتیراء نماز پڑھتے ہوئے کسی کو نہیں دیکھا (حضرت ابن مسعود کے اس انکار کی سعادت بن الی وقاص نے تردید نہیں کی اور خاموش رہے)۔ (اس کی روایت ابن الی شیبرہ نے کی ہے۔)
Al-Karkhi reported: "Sa'd ibn Abi Waqqas prayed Witr with one rak'ah, and Ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) criticized him, saying: 'What is this Butayra that we do not recognize from the time of the Messenger of Allah (ﷺ)?'" [Narrated by Ibn Abi Shaybah]
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرما تے ہیں کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مغرب کی نماز دن کی وتر ہے (اس کے پہلے جتنی فرض نمازیں ہیں سب کی رکعتیں جفت ہیں، مغرب کے فرض کے تین رکعتوں سے تمام نمازیں طاق ہوگئیں۔ ایسے ہی رات کی نمازیں تھیر جفت ہے، مش مغرب کے تین رکعت وتر کو ایک سلام سے پڑھ کر) رات کی نماز کو طاق بنادو۔ اس کی روایت نسائی نے کی ہے، اس حدیث کی سنہ بخاری اور مسلم کی شرط کے مطابق ہے (اس حدیث شریف میں وتر کو مغرب کے فرض سے تشہیہ دی گئی ہے اس لے جے مغرب کے فرض کی تین رکعتیں ہیں، ایسے ہی وتر کی بھی تین رکعتیں ہیں ہول گی)۔
Ibn Umar (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'The Maghrib prayer is the Witr of the daytime prayers, so pray Witr for the night prayer.'" [Narrated by Nasa'i]
Al-Allamah Al-Ayni said: "This chain meets the conditions of Bukhari and Muslim."
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرما تے ہیں کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ وتر دو ہیں: ایک دن کی نماز ون میں وتر ہے اور دوسرا رات کی نماز ون میں وتر ہے۔ دن کی نماز ون میں جو وتر ہے وہ مغرب کے فرض ہیں (جس کے تین رکعت ہیں) ایسے ہی (عشاء اور تھیر) جورات کی نمازیں ہیں ان میں بھی ایک نماز ہے جس کو وتر کہتے ہیں، وہ بھی مش مغرب کے فرض کے (تین رکعت والی) ہے۔ اس تشہیہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ دن کی وتر جسے فرض ہے ایسے ہی رات کی وتر بھی واجب ہے)۔ (اس حدیث کی روایت دار قطنی اور نہیم نے کی ہے۔)
Abdullah ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'The Witr of the night is three rak'ahs, just as the Witr of the day is the Maghrib prayer.'" [Narrated by Darqutni and Bayhaqi]
In a version by Darqutni from Aisha (may Allah be pleased with her), a similar narration is attributed to the Prophet (ﷺ).
اور دار قطنی کی ایک اور روایت میں امام المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اس طرح مرقوماً یہ بھی مرودی ہے۔
And in another narration from Dar al-Qutni, it is reported from Imam al-Mu'minin Ali (RA) as follows.
ابو خالد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوالعلیہ رضی اللہ
عنہ سے نماز وتر کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ تم کورسول اللہ علیہ وآ لہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے تعلیم دی ہے کہ نماز وتر مغرب کے فرض کی طرح (تین رکعت والی) ہے (اور واجب ہے) نماز وتر رات کی وترہ اور مغرب (کے فرض) دن کی وتر ہے۔
(اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔)
وتر تین رکعت ایک سلام سے ہونے کا ثبوت
پہلی حدیث
Abu Khalid reported: "I asked Abu Al-Aliyah about Witr, and he said: 'The companions of the Messenger of Allah (ﷺ) taught us that Witr is like the Maghrib prayer, this is the Witr of the night, and this is the Witr of the day.'" [Narrated by Tahawi]
_ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم جب وتر پڑھا کرتے تو دور کے کے بعد (قعدہ کر کے) بغیر سلام کے کے کٹرے ہوجاتے تھے (پھر تیرہی رکعت پڑھ کران تینوں رکعتوں کو ایک سلام سے ختم فرما کرتے تھے)
(اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔)
دوسری حدیث
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) would pray Witr with three rak'ahs (1) and only perform the Taslim at the end of them." [Narrated by Hakim in Al-Mustadrak reported: It is authentic according to the conditions of Bukhari and Muslim, though they did not narrate it]
(1) Al-Allamah Al-Ayni said: "Among those who said that Witr is three rak'ahs without separation are Umar, Ali, Ibn Mas'ud, Hudhayfah, Ubayy ibn Ka'b, Ibn Abbas, Anas, Abu Umamah, Umar ibn Abdul-Aziz, and the seven jurists." Ali Al-Qari said: "It is surprising that Imam Nawawi considered praying Witr with one rak'ah as the view of the majority."
_ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم جب وتر پڑھتے تو دور کے کے بعد قعدہ کر کے (تیرہی رکعت کے کے کٹرے ہوجاتے تھے اور تیرہی رکعت کے ختم پر (مش مغرب کے فرض کے) آخر میں سلام پہیرتے تھے۔ اس کی روایت حاکم نے مستدرک میں کی ہے اور حاکم نے کہا ہے کہ یہ حدیث بخاری اور مسلم کی شرط کے مطابق تھی ہے۔
ف: واضح ہو کہ ان احادیث سے معلوم ہوا کہ وتر کی تین رکعت ایک تکبیر تحریمہ اور ایک سلام سے ہیں۔ مذہب حنفی بھی ہے حضرت عمر، حضرت علی، حضرت ابن مسعود، حضرت حذیفہ، حضرت ابی بن کعب، حضرت ابن عباس، حضرت انس، حضرت ابوامامہ، حضرت عمر بن عبد العزیز اور مشہور فقہا سبعم رضی اللہ عنہم کا کہی بھی قول ہے کہ وتر تین رکعت ایک تکبیر تحریمہ اور ایک سلام سے ہے، اور اسی پر
ان حضرات کامل درآمد رپہ علامہ علی رحم اللہ نے اسی طرح کہا ہے۔
وتر میں جوسو تین پڑھنا مستحب ہے ان کا بیان
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) would pray Witr with three rak'ahs (1) and only perform the Taslim at the end of them." [Narrated by Hakim in Al-Mustadrak reported: It is authentic according to the conditions of Bukhari and Muslim, though they did not narrate it]
(1) Al-Allamah Al-Ayni said: "Among those who said that Witr is three rak'ahs without separation are Umar, Ali, Ibn Mas'ud, Hudhayfah, Ubayy ibn Ka'b, Ibn Abbas, Anas, Abu Umamah, Umar ibn Abdul-Aziz, and the seven jurists." Ali Al-Qari said: "It is surprising that Imam Nawawi considered praying Witr with one rak'ah as the view of the majority."
اَبْنُ كَعْبِ رضي اللہ عنه روايت سے وہ فرماتے ہیں کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وتر (کے تین رکعت ایک تکبیر تحریمہ سے پڑھتے تھے) اس کی پہلی رکعت میں "قُلْ يَا يَا الْكَفِرُونَ" اور تیسری رکعت میں "قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ" اور پڑھا کرتے تھے (دوسری رکعت میں قعدہ کے بعد بقیر سلام کے تیسری رکعت کے لے انہوں جاتے تھے) اور سلامصرف ان تینوں رکعتوں کے آخیر میں بھی رتے تھے۔
(اس لحاظ سے آپ کی وتر تین رکعت ایک تکبیر تحریمہ اور ایک سلام سے ہوتی تھی) اور وتر کا سلام بھی رنے کے بعد "سُبْحَانَ الْمِلْکِ الْقُدُّوْسِ"، تین مرتبہ فرما کرتے تھے۔
(اس کی روايت نسائی نے کی ہے)
اَبْنُ کَعْبِ رضی اللہ عنہ روایت سے وہ فرماتے ہیں کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وتر (کے تین رکعت ایک تکبیر تحریمہ سے پڑھتے تھے) اس کی پہلی رکعت میں "قُلْ يَا يَا الْكَفِرُونَ" اور تیسری رکعت میں "قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ" اور پڑھا کرتے تھے (دوسری رکعت میں قعدہ کے بعد بقیر سلام کے تیسری رکعت کے لے انہوں جاتے تھے) اور سلامصرف ان تینوں رکعتوں کے آخیر میں بھی رتے تھے۔
(اس لحاظ سے آپ کی وتر تین رکعت ایک تکبیر تحریمہ اور ایک سلام سے ہوتی تھی) اور وتر کا سلام بھی رنے کے بعد "سُبْحَانَ الْمِلْکِ الْقُدُّوْسِ"، تین مرتبہ فرما کرتے تھے۔
(اس کی روایت نسائی نے کی ہے)
وتر کے واجب ہونے کا اوراس کے وقت کا بیان
A statement regarding the obligation of Witr and its time.
خا رج بن حذافہ رضي اللہ عنه روايت سے وہ فرماتے ہیں کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (ایک روز) ہمارے پاس تشریف لاے اور فرماتے کر اللہ تعالی نے تم کو پانچ فرض نمازوں پر ایک زائد نماز عطا کی ہے اور وہ وتر ہے (صاحب جانے ہو کہ وتر کیا ہے؟
تمہارے سمجھانے کے لے کہا جاتا ہے کہ سرخ اونٹ تمہارے پاس جیسے مرغوب ہیں، اور سارے اموال سے زیادہ قیمتی ہیں ایسا ہی) وتر (بلحاظ ثواب کے) ان سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ بہتر ہے (12 رکعت سنت مؤكدہ جو فرض نمازوں کے تالع ہیں، ان کی طرح وتر کی نماز کے تالع نہیں بلکہ وتر ایک مستقل اور زائد نماز ہے اور واجب ہے، اس لے اس کا وقت تم کو بتایا جاتا ہے) اللہ تعالی نے اس کا وقت تمہارے لے عشاء اور صبح صادق کے درمیان رکھا ہے۔
(اس کی روایت ترجمہ اور ابوداود نے کی ہے۔)
ف: واجب ہو کر فرض نماز ول کے سوا دن رات میں سمن مؤکدہ، تھجراورد گیرنوافل جو پڑھی جائی
پین ان کا ذکر اس طرح نہیں کیا گیا جیسے کہ وتر کا ذکر اس حدیث شریف میں کیا گیا ہے۔ حدیث شریف
کے الفاظ پر غور کیجئے۔ وتر کے لئے ارشاد ہواہے فرض نماز ول پر وتر زاندکی جاری ہے، جو چیز زیادہ ہوتی
ہے اور جس پر زاند ہوتی ہے وہ اس کے جنس سے ہوتی ہے اس وجہ سے 12 رکعت سنت ول کو فراض پر
زاند کیا گیا نہیں۔ ارشاد فرمایا گیا: تھجراوعشاء پر زاند کیا گیا نہیں، ارشاد فرمایا گیا: ان کے برخلاف وتر
کو پاچھ فرضول پر زاند کیا گیا، ارشاد ہواہے جس سے معلوم ہوا کہ وتر بھی فراض کے قسم سے ہے اس
لئے وتر واجب ہے۔
It is obligatory to perform the Fard prayers, except for Witr, throughout the day and night, along with the Sunnah prayers that are recited. The mention of these is not made in the same way as the mention of Witr in this noble Hadith. Reflect on the words of the Hadith. Guidance was given to perform Witr after the Fard prayers, which is something that is done frequently and upon which there is consensus. Therefore, the 12 Rak'ahs of the Sunnah of Witr were not considered Fard. It was stated: 'There is no consensus on the Tarawih and Isha prayers.' It was also stated: 'There is no consensus on performing Witr after five Fard prayers.' This indicates that Witr is also of the category of Fard, hence Witr is obligatory.
_ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ صبح صادق کے پہلے وتر پڑھیا کرو۔ اس لئے کہ
صبح صادق ہوتے ہی وتر کا وقت ختم ہوجاتا ہے۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
وتر کب پڑھنا چاہئے اس کا ایک اور حکم
Ibn Umar (may Allah be pleased with him), who reported that the Prophet (ﷺ) said: "Hasten to pray Witr before dawn." [Narrated by Muslim]
_ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ مجھے میرے دل
دوست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر مہینے میں دن روزے رکھنے کی، چاشت کی دو
رکعتیں پڑھنے کی اور اس بات کی نصیحت فرمائی ہے کہ سونے سے پہلے وتر پڑھا کر لو۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفرق طور پر کی ہے۔)
وتر کب پڑھنا چاہئے اس کا ایک اور حکم
Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrated: "My close friend (the Prophet) advised me to do three things: to fast three days every month, to pray two rak'ahs of Duha, and to pray Witr before sleeping." [Agreed upon by Bukhari and Muslim]
_ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ
حضرۃ کرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ رات میں جو جونمازی پڑھا کرتے ہو، ان سب
نماز ول کے بعد وتر پڑھا کرو (اور وتر کو ان سب نماز ول کے بعد پڑھنا مستحب ہے، اگر کوئی وتر کے
بعد اور نفل نمازی پڑھنا چاہے تو پڑھ سکتا ہے)-
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے-)
پہلی حدیث
Ibn Umar (may Allah be pleased with him), who reported that the Prophet (ﷺ) said: "Make the last of your night prayer Witr." (2) [Narrated by Muslim]
(2) Ali Al-Qari said: "This is a recommendation, not an obligation."
غضیف بن حارث رضی اللہ عنہ ت روایت ہے و فرماتے ہیں کہ میں نے ام
المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ تھے پتو بتایے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم جناابت کا غسل اول شب میں کیا کرتے تھے یا آخر شب میں؟ تو ام المؤمنین ارشاد فرمائی کہ میں
تو آپ اول شب میں غسل فرما کرتے تھے اور میں آخر میں، میں نے کہا: اللہ اکبر! خدا کا شکر ہے کہ
جس نے دین میں آسانی فرما دی، پھر میں نے دریافت کیا: اچھا یتو فرمائیے کر رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم اول شب میں وتر پڑھا کرتے تھے یا آخر شب میں؟ ام المؤمنین ارشاد فرمائی کہ میں
آپ اول شب میں وتر پڑھ لیا کرتے تھے (اور چھ راٹے وقت پرتیحد پڑھا کرتے تھے، اس سے معلوم
ہوا کہ وتر پڑھنے کے بعد اور نمازی پڑھنا جائز ہے) اور میں آخر شب میں (تیحد کے بعد) وتر پڑھا
کرتے تھے، میں نے کہا: اللہ اکبر! خدا کا شکر ہے جس نے دین میں وسعت عطا فرما لی۔ پھر میں نے
دریافت کیا: اچھا یہی بتائیے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرآن پاک (تیحد میں) آواز سے
پڑھا کرتے تھے یا ہستے؟ ام المؤمنین ارشاد فرمائی کہ میں آپ قرآن پاک (تیحد میں) آواز سے
پڑھتے اور میں آہستہ، میں نے کہا: اللہ اکبر، خدا کا شکر ہے جس نے دین میں آسانی فرما دی-
(اس کی روایت ابوداود نے کی ہے اور ابن ماجہ نے صرف حدیث کے آخری حصہ کو یعنی تیحد
میں قرآن پڑھنے کے متعلق جوڑ کرہے صرف اس کو بیان کیا ہے-)
دوسرا حدیث
Ghudaif ibn Al-Harith reported: "I asked Aisha (may Allah be pleased with her): 'Did the Messenger of Allah (ﷺ) perform Ghusl (ritual bath) for Janabah (major impurity) at the beginning of the night or at the end?' She replied: 'Sometimes he performed Ghusl at the beginning of the night, and sometimes at the end.' I said: 'Allahu Akbar! Praise be to Allah, who has made the matter flexible.' I asked: 'Did he pray Witr at the beginning of the night or at the end?' She replied: 'Sometimes he prayed Witr at the beginning of the night, and sometimes at the end.' I said: 'Allahu Akbar! Praise be to Allah, who has made the matter flexible.' I asked: 'Did he recite aloud or quietly?' She replied: 'Sometimes he recited aloud, and sometimes quietly.' I said: 'Allahu Akbar! Praise be to Allah, who has made the matter flexible.'" [Narrated by Abu Dawud, and Ibn Majah narrated the last part]
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کے بھر حصر میں وتر پڑھتے تھے، جبہی عشاءء کے بعد اول شب میں
وتر پڑھتے ہیں (اس لے جس کو آخر شب میں بیدار ہونے کا بحر وسعت ہوتا اس کو اول شب میں، یا
وتر پڑھ لینا فضل ہے) اور جس آپ رات کے درمیانی حصر میں بھی وتر پڑھتے ہیں، اور جس آپ رات کے آخری حصر میں بھی وتر پڑھتے ہیں (اس لے جس کو آخر شب میں تجد کے لے بیدار ہونے کا بحر وسعت ہوتا اس کو آخر شب میں وتر پڑھنا فضل ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آخر شب میں بیدار ہونے کی عادت تھی اس لے آپ کی وتر آخری عمر میں رات کے آخری حصر میں تجد کے بعد ہوا کرتی تھی - (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفرق طور پر کی ہے-)
تیسری حدیث
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) prayed Witr at various times during the night, at the beginning, middle, or end, and his Witr would conclude by the time of Suhoor (pre-dawn)." [Agreed upon by Bukhari and Muslim]
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرما کہ جس شخص کو اندیشہ ہو کہ پہلی رات میں نماز سے کا تو شروع رات میں (نماز عشاء کے بعد) وتر پڑھ لے (اس اہتمام سے معلوم ہوا کہ وتر واجب ہے اگر وتر واجب نہ ہوتی تو اس طرح اہتمام نہیں کیا جاتا جیسے اور سنن ول کے لے ایسا اہتمام نہیں کیا گیا) اور جس کو امیر ہو کہ پہلی رات میں انہوں سے کا تو وتر آخر شب میں پڑھ ہیں کیونکہ آخر شب کی نماز میں رحمت کے فر ثنازل ہوتے ہیں (اور اللہ تعالیٰ کہ آسان و نیا پرزول فرما تے ہیں اس لے ایسے شخص کے لے آخر شب میں وتر پڑھنا فضل ہے)- (اس کی روایت مسلم نے کی ہے-)
پہلی حدیث
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said:
"Whoever fears that he will not wake up at the end of the night should pray Witr at the beginning of the night. Whoever hopes to wake up at the end of the night should pray Witr at the end of the night, for the prayer at the end of the night is witnessed (by angels), and that is better." [Narrated by Muslim]
بریدہ رضي الله عنه سے روايت ہے وہ فرما تے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ
کو ارشاد فرماتے سن کہ وتر واجب ہے جو وتر نہ پڑے وہ ہمارے تابعین میں سے نہیں ہے، وتر
و اجب ہے جو وتر نہ پڑے وہ ہمارے تابعین میں سے نہیں ہے۔ وتر واجب ہے جو وتر نہ پڑے وہ
ہمارے تابعین میں سے نہیں ہے۔ تین مرتبہ فرما یا س لے کہ میں پابندی سے وتر پڑھا کرتا ہوں، جو
میرا تابع ہے اس کو چاہئے کہ وتر کو واجب بھی کر پابندی سے پڑھا کرے۔)
(اس کی روایت البوداود نے کی ہے، اور حاکم نے بھی اس کی روایت متدرک میں کی ہے اور
کہا ہے کہ یہ حدیث بخاری اور مسلم کی شرط کے مطابق ہے۔)
Buraidah (may Allah be pleased with him) narrated: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: "Witr is a right. (1) Whoever does not pray Witr is not from us. Witr is a right. Whoever does not pray Witr is not from us. Witr is a right. Whoever does not pray Witr is not from us." [Narrated by Abu Dawud and Hakim in Al-Mustadrak, who authenticated it]
In a narration by Darqutni from Abu Ayyub (may Allah be pleased with him), the Prophet (ﷺ) said: "Witr is an obligatory right."
In the chain of Abu Dawud, there is Abu Al-Munib Ubaidullah ibn Abdullah, about whom Bukhari criticized. However, Ibn Abi Hatim said: "I heard my father say: He is reliable in hadith," and he criticized Bukhari for including him among the weak narrators. Hakim said: "Ibn Ma'in authenticated him," and Ibn Ma'in is an authority in this field, which is sufficient evidence for his reliability.
(1) Al-Allamah Al-Ayni said: "The statement 'Witr is a right' means it is obligatory. The evidence for this is the statement: 'Whoever does not pray Witr is not from us,' which is a severe warning. Such a statement is only made regarding the abandonment of an obligation or a duty, especially since it is repeated three times. Such emphatic language is not used for recommended acts." In Al-Maraqat, it is mentioned: "The phrase 'is not from us' may be used for non-obligatory acts, such as the statement: 'Whoever does not clean himself after relieving himself is not from us,' or 'Whoever avoids marriage despite being able to marry is not from me,' even though marriage is a Sunnah, not an obligation by consensus. However, it may also be used for obligatory acts, as in the verse: 'Indeed, those who have divided their religion and become sects, you are not associated with them in anything.' (Al-An'am, 6:159) We hold that Witr is obligatory because the evidence is speculative."
قطنی کی ایک روايت میں ابوایوب رضي الله عنه بی کریم صلی اللہ علیہ
و آ لہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم نے ارشاد فرما کر وتر حق
ہے حق کے دو معنی ہیں: ایک معنی تو ثابت کے ہیں، اور دوسرا معنی واجب کے۔ یہاں حق
کے معنی ثابت کے نہیں ہیں بلکہ واجب کے ہیں جسیا کہ حضرت صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم نے بطور عطف
تفسیری خود ارشاد فرما کر) وتر حق ہے لیجن واجب ہے۔
دوسری حدیث
Buraidah (may Allah be pleased with him) narrated: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: "Witr is a right. (1) Whoever does not pray Witr is not from us. Witr is a right. Whoever does not pray Witr is not from us. Witr is a right. Whoever does not pray Witr is not from us." [Narrated by Abu Dawud and Hakim in Al-Mustadrak, who authenticated it]
In a narration by Darqutni from Abu Ayyub (may Allah be pleased with him), the Prophet (ﷺ) said: "Witr is an obligatory right."
In the chain of Abu Dawud, there is Abu Al-Munib Ubaidullah ibn Abdullah, about whom Bukhari criticized. However, Ibn Abi Hatim said: "I heard my father say: He is reliable in hadith," and he criticized Bukhari for including him among the weak narrators. Hakim said: "Ibn Ma'in authenticated him," and Ibn Ma'in is an authority in this field, which is sufficient evidence for his reliability.
(1) Al-Allamah Al-Ayni said: "The statement 'Witr is a right' means it is obligatory. The evidence for this is the statement: 'Whoever does not pray Witr is not from us,' which is a severe warning. Such a statement is only made regarding the abandonment of an obligation or a duty, especially since it is repeated three times. Such emphatic language is not used for recommended acts." In Al-Maraqat, it is mentioned: "The phrase 'is not from us' may be used for non-obligatory acts, such as the statement: 'Whoever does not clean himself after relieving himself is not from us,' or 'Whoever avoids marriage despite being able to marry is not from me,' even though marriage is a Sunnah, not an obligation by consensus. However, it may also be used for obligatory acts, as in the verse: 'Indeed, those who have divided their religion and become sects, you are not associated with them in anything.' (Al-An'am, 6:159) We hold that Witr is obligatory because the evidence is speculative."
عبداللہ بن مسعود رضي الله عنه بی کریم صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم سے روايت
فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم نے ارشاد فرما کر وتر ہر مسلمان پر واجب ہے۔
(اس کی روایت بزاز نے کی ہے۔)
Abdullah (may Allah be pleased with him), who reported that the Prophet (ﷺ) said: "Witr is obligatory for every Muslim." [Narrated by Al-Bazzar]
In a narration by Abdullah ibn Ahmad from his father with his chain: When Mu'adh ibn Jabal arrived in Syria, he found the people of Syria not praying Witr. He said to Mu'awiyah: "Why do I see the people of Syria not praying Witr?" Mu'awiyah asked: "Is it obligatory on them?" Mu'adh replied: "Yes, I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'My Lord has granted me an additional prayer, which is Witr, and its time is between Isha and Fajr.'"
عبداللہ بن احمد بن حنبل اپنے والد امام احمد سے روايت کرتے ہیں کہ ان
کے والد نے اپنی سنہ تو روایت کی بے کرمعاژ بن جبل رضی اللہ عنہ جب ملک شام کا سفر کے تھے تو
وہاں دیکھا کہ لوگ وتر نمیں پڑھا کرتے ہیں تو حضرت معاز رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ
عنہ سے دریافت کیا کہ یہاں کے لوگ وتر کیون نمیں پڑھتے ہیں؟ حضرت معاویہ نے فرمایا کر (اس
طرے آپ کے حیرت کے ساتھ دریافت کرنے سے مجھے تجربہ ہور باہے) کیا وتر واجب ہے؟ (کے
جس کے نہ پڑھنے سے آپ اس طرح دریافت کر رہے ہیں)۔ حضرت معاز نے فرمایا: بلال بے
شک وتر واجب ہے (اس میں کیا شک ہے؟ وتر واجب ہونے کی دلیل پیچ کے) میں نے رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے، آپ ارشاد فرمایا کرتے تھے کہ میرے رب نے (فرائض پر)
ایک اور نماز زیادہ فرمائی ہے اور وہ وتر ہے (حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس ارشاد سے کہ اللہ تعالی
نے فرائض پر وتر کوزیادہ کیا ہے ثابت ہوتا ہے کہ وتر واجب ہے اس لے کہ جو چیز جس پر زیادہ ہوتی
ہے وہ اس کی جنس سے ہوتی ہے، یہاں وتر فرائض پر زیادہ ہور ہے، اس لے کہ وتر واجب ہے اور
حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وتر کو بہت پابندی سے پڑھنا اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ وتر واجب
ہے، فرائض کے جس اوقات بتانے گے ہیں، ایسے وتر کا ابتدا ایک اور آخری وقت بھی بتایا گیا ہے
کہ) اس کا وقت عشاء کی نماز کے بعد سے شروع ہو کر صبح صادق کے طلوع ہونے تک رہتا ہے-
(اس سے معلوم ہوا کہ وتر ایک مستقل نماز ہے اور واجب ہے-)
Abdullah (may Allah be pleased with him), who reported that the Prophet (ﷺ) said: "Witr is obligatory for every Muslim." [Narrated by Al-Bazzar]
In a narration by Abdullah ibn Ahmad from his father with his chain: When Mu'adh ibn Jabal arrived in Syria, he found the people of Syria not praying Witr. He said to Mu'awiyah: "Why do I see the people of Syria not praying Witr?" Mu'awiyah asked: "Is it obligatory on them?" Mu'adh replied: "Yes, I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'My Lord has granted me an additional prayer, which is Witr, and its time is between Isha and Fajr.'"
خارج بن حذافہ رضی اللہ عنہ نے روایت کے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (ایک روز) ہمارے پاس تشریف لاگے اور فرماتے کہ اللہ تعالی نے تم کو
پانچ فرائض نماز ول پر ایک زائد نماز عطا کی ہے اور وہ وتر ہے (صاحب! جانتے ہو کہ وتر کیا ہے؟
تمہارے سمجھانے کے لئے کہا جاتا ہے کہ سرخ اونٹ تمہارے پاس جیسے مرغوب ہیں اور سارے
اموال سے زیادہ قیمت پیسے میں ہے، وتر (بلحاظ ثواب کے) ان سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ بہتر
ہے (12 رکعت سنت مؤکدہ جوفرض نماز ول کے تالح ہیں، ان کی طرح وتر کی نماز کے تالح نہیں
بلکہ وتر ایک مستقل اور زائد نماز ہے، اور واجب ہے اس لئے کراس کا وقت تم کو بتایا جاتا ہے)
اللہ تعالیٰ نے اس کا وقت تہیار کے لئے عشائے اور صبح صادق کے درمیان رکھا ہے-
(اس کی روايت ترنزي اور ابوداود نے کی ہے-)
اوراس کی روایت ابن ماجہ نے بھی کی ہے اور حاکم نے مستدرک میں اور امام احمد نے اپنی
مسند میں اور دار قطنی نے اپنی سنن میں اور طبرانی نے اپنی مجعم میں اس کی روایت اس طرح کی ہے
اور حاکم نے اس کو تقرار دیا ہے اور حاکم نے کہا ہے کراس حدیث کی سنن بخاری اور مسلم کی شرط
کے مطابق ہے اور ابوداود نے اس حدیث کو روایت کر کے سکوت اختیار کیا ہے اور ابوداود کا
سکوت حدیث کے تحقیق کی دلیل ہے-)
Kharijah ibn Hudhafah (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) came out to us (1) and said: 'Allah has granted you a prayer that is better for you than red camels, the Witr prayer. Allah has made it for you between the Isha prayer and the dawn.'" [Narrated by Tirmidhi and Abu Dawud]
Ibn Majah, Hakim in Al-Mustadrak, Ahmad in Al-Musnad, Darqutni in Al-Sunan, and Tabarani in Al-Mu'jam narrated similar hadiths. Hakim authenticated it, saying: "This is a hadith with a Sahih chain." Abu Dawud remained silent about it. (2)
In a narration by our Imam Abu Hanifah: "Allah has made obligatory upon you and added for you the Witr prayer."
In another narration by him: "Allah has granted you an additional prayer, which is Witr, so preserve it."
(1) The evidence for the obligation of Witr from the text of the hadith is based on several points:
The utmost attention and care given to its status, as evidenced by the Prophet's (ﷺ) reddened face, ascending the pulpit, praising Allah, gathering the companions, and emphasizing its superiority over red camels. These are characteristics of obligatory acts.
Some narrations explicitly use the wording of command, and the command is inherently indicative of obligation unless there is evidence to the contrary.
An addition to something is only meaningful if it is of the same nature as what is being added to. Since what is being added to is obligatory, the addition is also obligatory, though the evidence is not definitive, making it a Wajib.)
(2) The statement "Abu Dawud remained silent about it" refers to his habit of remaining silent about a hadith he narrated, which indicates that he considered it authentic and was satisfied with it.
اورہمارے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی ایک روایت میں اس طرح ہے اللہ
تعالیٰ نے تم پر وتر کو فرض کیا ہے (جوتن سے ثابت ہے جس کا دور انا م واجب ہے، اور تقی پانچ فرض
نماز ول پر) وتر کو اتد کیا ہے (پیزا نہ جن پر زائد ہوا ہے ابی کے جنس کا ہو نے تو واجب ہے)-
Allah, the Exalted, has made the Witr prayer obligatory upon you (which is established by odd numbers, and its time is after the five obligatory prayers), and He has made the Witr prayer to be performed (it should not exceed the number of rak'ahs, and if it exceeds, it becomes invalid, and it is obligatory to perform it as such).
اور امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ دوسری روایت میں اس طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ
نے فراض پر ایک اور نماز زیادہ کی ہے اور وہ وتر ہے (جسے فراض کی حفاظت کرتے ہواور ان کو
پابندی سے پڑھتے ہو، ایسے ہی) وتر کی بھی حفاظت کرو، اوراس کو پابندی سے پڑھا کرو-
وتر کے آخر وقت کا بیان
Kharijah ibn Hudhafah (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) came out to us (1) and said: 'Allah has granted you a prayer that is better for you than red camels, the Witr prayer. Allah has made it for you between the Isha prayer and the dawn.'" [Narrated by Tirmidhi and Abu Dawud]
Ibn Majah, Hakim in Al-Mustadrak, Ahmad in Al-Musnad, Darqutni in Al-Sunan, and Tabarani in Al-Mu'jam narrated similar hadiths. Hakim authenticated it, saying: "This is a hadith with a Sahih chain." Abu Dawud remained silent about it. (2)
In a narration by our Imam Abu Hanifah: "Allah has made obligatory upon you and added for you the Witr prayer."
In another narration by him: "Allah has granted you an additional prayer, which is Witr, so preserve it."
(1) The evidence for the obligation of Witr from the text of the hadith is based on several points:
The utmost attention and care given to its status, as evidenced by the Prophet's (ﷺ) reddened face, ascending the pulpit, praising Allah, gathering the companions, and emphasizing its superiority over red camels. These are characteristics of obligatory acts.
Some narrations explicitly use the wording of command, and the command is inherently indicative of obligation unless there is evidence to the contrary.
An addition to something is only meaningful if it is of the same nature as what is being added to. Since what is being added to is obligatory, the addition is also obligatory, though the evidence is not definitive, making it a Wajib.)
(2) The statement "Abu Dawud remained silent about it" refers to his habit of remaining silent about a hadith he narrated, which indicates that he considered it authentic and was satisfied with it.
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فراماتے ہیں کر رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ صبح صادق ہو نے سے پہلے وتر پڑھ لیا کرو، (اس لئے کہ صبح
صادق طلوع کرتے ہی وتر کا وقت ختم ہوجاتا ہے )۔
(اس کی روایت ترجمہ، نسائی اور ابن ماجہ نے کی ہے )۔
وتر کے واجب ہونے کا ثبوت
Abu Sa'id Al-Khudri (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Pray Witr before the dawn arrives." [Narrated by Muslim, Tirmidhi, Nasa'i, and Ibn Majah]
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے روایت کہ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ وتر ہیں لیجن کیتا ہیں ( ان کی ذات کے جسے کسی کی ذات نہیں
ساری مخلوقات اپنی ذات میں قابل تقسیم ہیں لیکن اللہ تعالی کی ذات قابل تقسیم نہیں، ایے، یا اللہ
کے صفات کے جسے کسی کے صفات نہیں، صفات کے لحاظ سے مخلوقات ایک دوسرے کے مشابہ
ہوسکتے ہیں لیکن اللہ تعالی کے صفات کے مشابہ کوئی نہیں، اور اس طرح اللہ کے افعال کے جسے کسی
کے افعال نہیں، مخلوقات کے افعال میں مددیت والے اور شرکی ربا کرتے ہیں لیکن اللہ کے
افعال میں مددیت والا) اور شرکی کوئی نہیں، اس لے اللہ تعالی وتر ہیں لیجن کیتا ہیں ) وہ وتر کو
پیند فرما تے ہیں (اور چاہتے ہیں کہ ہرچیز وتر ہیں طاق رہے ) (جس اصل تورات سے مراد یہود
ہیں، اور اصل انجیل سے مراد نصاری ہیں، ایے، یا اصل قرآن سے مراد مسلمان ہیں توگویا یو
ل ارشاد ہور پا ہے ) مسلما نو! تم وتر پڑھا کرو (تاکہ تہماری رات کی نمازی کچھ طاق ہوجا گیس،
تہمارے وتر پڑھنے سے تہماری رات کی نمازی کچھ طاق ہوجا گیس گی - جو اللہ تعالی کو پسند ہے، یہ
شان جو بیان ہوتی ہے وہ سنن کی نہیں ہوتی بلکہ واجب، یہ کی پیشان ہوتی ہے اس سے کچھ معلوم
ہوا کہ وتر واجب ہے )۔ (اس حدیث کی روایت ترجمہ، البودا ودا ورنسائی نے کی ہے )۔
وتر کے قضا کرنے کا حکم اس لے کہ وتر واجب ہے
The Messenger of Allah ﷺ said: 'Allah is singular, and He has made singular. His Essence is such that nothing else can be like it; all created things are divisible in their essence, but the Essence of Allah is indivisible. In terms of attributes, no one's attributes can be like His; creatures may resemble each other in their attributes, but none can resemble the attributes of Allah. And in terms of actions, no one's actions can be like His; creatures assist and partner with each other in their actions, but there is no assistant or partner in the actions of Allah. Therefore, Allah is singular, and He has made singular. He commands singularity and desires that everything remain singular. (By the original Torah, the Jews are meant; by the original Gospel, the Christians are meant; and by the original Quran, the Muslims are meant.) O Muslims! Recite the Witr so that your night prayer may have some strength. Your night prayer will gain strength through reciting the Witr, which is pleasing to Allah. This excellence is not a Sunnah but rather an obligation, as it is evident from this that Witr is obligatory.' The command to make up the missed Witr is because Witr is obligatory.
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے روایت کہ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو کوئی نیند کی وجہ سے وتر نہ پڑھ سکے (اور لیلی وتر پڑھنے کے لیے
صادق ہوئی تو چونکہ اب وتر کا وقت ختم ہو چکا ہے اس لئے ایس شخص کو وتر کی قضا پڑھنا چاہیے
(اس سے دو باتیں معلوم ہوتی ہیں: ایک تو یہ کہ وتر کا وقت نہ صادق ہو نہ سے ختم ہوجاتا ہے، دوسری
بات یہ ہے کہ اس حدیث میں وتر کی قضا کا حکم ہے۔ اور وتر کے واجب ہونے کی کچھ دلیل ہے)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہی ارشاد فرمایا کہ جو شخص وتر پڑھنا بجول جائے تو جس وقت یاد
آ جائے وتر کی قضا کر لے۔
(اس کی روایت حاکم نے مستدرک میں کی ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث بخاری اور مسلم کی شرط
کے مطابق ہے اور ابن الحصار نے بھی بیان کیا ہے کہ یہ حدیث تیز ہے اور تزندی، ابوداود اور ابن
مجہ نے بھی اس طرح روایت کی ہے)
وتر کے واجب ہونے کا ثبوت
پہلی حدیث
Abu Sa'id Al-Khudri (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever sleeps through Witr or forgets it should pray it (4) when he wakes up or remembers it." [Narrated by Hakim in Al-Mustadrak]
Hakim reported: It is authentic according to the conditions of Bukhari and Muslim, though they did not narrate it. Ibn Al-Hassar also authenticated it. Tirmidhi, Abu Dawud, and Ibn Majah narrated similar hadiths.
(4) The evidence for this is that the obligation to make up a prayer is based on the obligation to perform it. Tahawi said: "The obligation to make up Witr is a consensus among the companions."
امام ماکر ضی اللہ علیہ روایت ہے کہ ان کو یہ روایت (قابل وثق
طریق سے) پہو چی ہے کہ ایک شخص نے ابن عمر ضی اللہ علیہما وتر کے متعلق دریافت کیا کہ کیا وتر
واجب ہے؟ تو آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میش وتر پڑھتے رہے ہیں، اور صحابہ
کرام نے میش وتر پڑھا کرتے تھے، چنانچہ وہ بار بار پیسوال کرتا تھا کہ آیا وتر واجب ہے اور حضرت
ابن عمر نہیں جواب دیتا جاتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میش وتر پڑھتے رہے ہیں، اور
صحابہ کرام نے میش وتر پڑھا کرتے تھے۔ (اس کی روایت امام ماکر نے موطا میں کی ہے۔)
ف: اس حدیث شریف میں ذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میش وتر پڑھتے تھے
اور مسلمان نے میش وتر پڑھتے رہے ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ وتر پڑھنا مسلمانوں کا طریقہ ہے، اور
جو شخص وتر نہ کرتا ہے تو وہ مسلمانوں کے طریقے سے بہت کر دوسرا طریقہ اختیار کرتا ہے، جس پر
قرآن میں نہت و عیدہ اور حس کام کے نک کرنے پر عید آئی ہے اس کام کا کرنا واجب ہوتا ہے،
اس لے وتر واجب ہے، اب رہی بی بات کر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے صراحت کے ساتھ سائل
کے جواب میں وتر کے واجب ہونے کو کیون نہیں بیان کیا؟ تو اس کی وجہ یہ کہ کئی سائل پنچگانہ
نماز ون کی طرح وتر کو فرض نہ کہے لے، اس لے کر واجب اور فرض میں اصطلاحی فرق ہے ورنہ بلحاظ عمل
کے فرض و واجب ایک ہی ہیں۔
دوسری حدیث
Malik, who reported that a man asked Ibn Umar (may Allah be pleased with him): "Is Witr obligatory?" Abdullah (Ibn Umar) replied: "The Messenger of Allah (ﷺ) prayed Witr, and the Muslims prayed Witr." The man kept repeating the question, and Abdullah kept replying: "The Messenger of Allah (ﷺ) prayed Witr, and the Muslims prayed Witr." (5) [Narrated in Al-Muwatta]
(5) The consistent practice of the Prophet (ﷺ) and the Muslims, especially the companions and successors, is evidence for the obligation of Witr.
_ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے روایت کے آپ فرماتی ہیں کہ مجی
کریم صلی اللہ علیہ وسلم تجرد کی نماز پڑھتے رہتے تھا اور میں آپ کے ساتھ بستر اقدس پر لیٹے
رتے تھے، لیکن جب آپ وتر پڑھنا چاہتے تو مجھے بیزار کرتے اور میں مجھی وتر پڑھتی تھی۔
(اس کی روایت بخاری میں ہے)
ف: علامہ عینی رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا کہ اس حدیث ثبوتیف میں وتر کے واجب ہونے کی
دلیل ہے۔ کیوں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب تجرد پڑھتے رہتے تو ام المومنین کو میں جگا کے تھا اور
جب وتر پڑھنے کا ارادہ ہوتا تو حضرت ام المومنین کو وتر پڑھنے کے لے بیزار کرتے۔ اس میں صاف
دلیل ہے کہ وتر واجب ہے اس لے کہ وتر کے لے ام المومنین کو بیزار کرتے تھا اور چونکہ تجرد واجب
نہیں، اس لے تجرد کے لے نہیں بیزار فرماتے تھے۔
تیسری حدیث
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: "The Prophet (ﷺ) would pray while I was lying across his bed. When he wanted to pray Witr, he would wake me up, and I would pray Witr." (6) [Narrated by Bukhari]
(6) Al-Allamah Al-Ayni said: "This indicates the obligation of Witr."
_سعید بن زبیر رضی اللہ عنہ نے روایت کے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر
رضی اللہ عنہما کی عادت تھی کہ وہ اپنی سواری پر نفل نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔ اس لے کر نفل نماز سواری
پر جائز جسیا کہ رداختار میں ذکور ہے۔ 12۔ پھر جب وتر پڑھنے کا ارادہ فرماتے تو سواری
تے اتر کر زمین پروتر اداء فرماتے۔ اس لے کہ فرض اور وتر بلخیر ضرورت کے سواری پر جائز نہیں، اگر
وتر واجب نہ ہوتی تو اور نوافل کی طرح حضرت ابن عمر وتر کوسواری پر، یا اداء فرماتے، سواری پر وتر
اداء نماز کے زمانے کو تھوڑا پرے منتقل کرنے کے معنی میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ جب وتر کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قرب میں موجود تھے تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ جس طرح نماز کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب موجود تھے۔ اس حدیث کی روایت دار طنی اور امام احمد نے کی ہے۔)
Sa’id ibn Jubayr reported: "Ibn Umar (may Allah be pleased with him) would pray voluntary prayers on his mount, but when he intended to pray Witr, he dismounted and prayed it on the ground." [Narrated by Al-Daraqutni and Ahmad]
عنہما کی عادت تھی کہ وہ اپنی سواری پر نفل نماز پڑھا کرتے تھے (اس لئے کہ نفل نماز سواری پر جائز - جس بات کے دردختار میں ذکور ہے - 12 - ہے ) پھر جب وتر کے وقت کا ارادہ فرماتے تو سواری اتنے کر زمین پروتر اداء فرماتے تھے (اس لئے کہ فرض اور وتر بغیر ضرورت کے سواری پر جائز (اس کی تحقیق اعلاء اس سنن میں ملاحظہ ہو - 12 ) نہیں ) اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے فرمائی کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس طرح نفل نماز سواری پر اور وتر زمین پر پڑھا کرتے تھے (حضرت ابن عمر کے اس طرح فرمائے سے حدیث مرقوم ہوگی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فعل سے محی وتر کا جواب ثابت ہوگیا )۔
(اس حدیث کی روایت امام طحاوی نے تج سند کے ساتھ کی ہے )
وتر میں دعا ؓ قنوۃ پڑھنے کا بیان
Nafi’ reported from Ibn Umar (may Allah be pleased with him): "He would pray voluntary prayers on his mount but prayed Witr on the ground, claiming the Messenger of Allah (ﷺ) did the same." [Narrated by Al-Tahawi with a sahih chain]
خالد بن الی عمران رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کتنی بھی تکلیف پہنچ آپ نے کسی کا فرپردوعا نہیں فرمائی _ قبلہ مصر کی طرف سے مسلماں کونا قال برداشت تکالیف پہنچ رہی تھیں، یا پہنچنے والیں ویسا گیا، ایک وقت آپ وتر پڑھ رہے تھے، مصر کے ناقابل برداشت تکالیف یاد آگئے ) قبلہ مصر کو پردوعا دینے لگے، ایسے جبریل علیہ السلام آگے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اشارہ سے پردوعا دینے سے منع فرماتے آپ رکے گئے پھر جبریل علیہ السلام کہے: یارسول اللہ! اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ تم آپ کو رحمتا
للعالمین بناء کریں۔ جو عالمین کے لئے رحمت ہو، ان کی شان کی خلاف بھکروہ کسی کو بدوعاء
دے، تم کو معلوم ہے کہ قبیلہ مصر نے مسلماں کو کیا کیا تکلیف ڈالی رہی ہے اس کا بدل ویاہمارا کام
ہے) آپ کا کام نہیں (تم ان کو کیا لیس گے تم پرچھوڑ دتبجہجا بے بدوعائے کے (وتر میں) رقنوت
یعنی بدوعائے کیا کہے: اللہمّ انا نستعینک و نستغفرک و نؤمن بك و نخضع لك
و نخلع و نترك من يكفرك اللهم إياك نعبد ولك نصلي و نسجد و اليك
نسعى و نحفد و نرجو رحمتك و نخاف عذابك ان عذابك الجد بالکفار
ملحق".
اللہ (آپ کومعلوم ہے کہ کفار تم کو کیا کیا تکلیفین دے رہے ہیں) تم آپ کی سے مدہ
مانگتے ہیں (کہ تم کو کفار کے ثرثرتے پچایے! ممکن ہے کہ گناہول کی شامت سے پیہور باہوگا) تم
آپ سے گناہول کی مغفرت مانگتے ہیں۔ تم آپ کے پیش آپ پراپیان رکعتیہیں، تم آپ کے
ساخنہ بایت عاجزی سے عرض کرتے ہیں (تم کو هرشرتے پچایے) (تم کومعلوم ہے کہ کفار آپ
کے دشمن ہیں اس لئے) جو آپ کے کفر کرتا ہے تم اس سے علم دہیوجاتے ہیں اور اسے چھوڑ دیتے
اورترک کردیتے ہیں (دلی دوسٹی ان سے نہیں رکھتے ہیں، وہنوی حثیت سے ظاہری برتاوار کہ
ہیں) اے اللہ! (آپ کے سواہمارا کونی نہیں ) تم آپ کی عبادت کرتے ہیں (تم آپ کی کے
لے ہیں) آپ کی کے ساتھ باہہ باندھے ہوئے کطرے رہ کر، تم آپ کی سے دعا کرتے ہیں اور
نماز اداء کرتے ہیں، جب آپ کا عظمت وجلال ہمارے دل پر طاری ہوتا ہے تو تم بہ اختیار ہوکر
آپ کے ساتھ سب دے میں گرتے ہیں (اس سے پیتناآچاتے ہیں کہ آپ کی شان عالی ہے اور
ہماری حالیت پیہ کہ تم نہایت عاجزی سے زمین پرس رکے ہوئے ہیں) -ہماری ساری کوششیں
آپ کی کے لے ہیں، تم آپ کی طرف دل سے جگہ ہیں (تم کسی قابل نہیں) اے اللہ! تم
آپ کی رحمت سے برطی برطی امیدی لگے ہیں۔ (اے اللہ! تم جانتے ہیں کہ ایمان خوف ورجا کے درمیان ہے، جسے تم آپ کی رحمت کے امیدوار ہیں ایسے، آپ کے عذاب سے بھارتے دل پر دہشت پڑتی ہوتی ہے، تم آپ کے عذاب کے خیال سے ڈرتے ہوئے سے ہوتے ہیں۔ (تم کو معلوم ہے کہ) آپ کا یقینی عذاب کفار کے لئے ہے (گر تم ظریتے ہیں کہ کہیں آپ کی شان بہ نیازی ہے، تم اپنے گناہوں کی وجہ سے عذاب میں گرفتار نہ ہوجائیں۔)
(اس کی روايت ابوداوود نے اپنے مراسل میں کی ہے اور طبرانی نے کچھ اس کی روايت کی
ہے۔)
روايت کی سند کے ساتھ ابن مسعود رضی اللہ عنه سے جوموقوفاً 1914/35_اور ابن الی شیبہ نے
اللّهُمَّ اَنَا نَسْتَعِينُكَ وَنَسْتَغْفِرُكَ وَنُثْنِی عَلَيْكَ
الْخَيْرَ وَلا نُكْفُرُكَ وَنَخْلَعُ وَنَتْرُكُ مَنْ يَفْجُرُكَ اللّهُمَّ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَلَكَ نُصَلِّى
وَنَسْجُدُ وَإِلَيْكَ نَسْعَعِى وَنَحْفِدُ وَنَخْشَى عَذَابَكَ الْجَدَّ.
اے اللہ (آپ کو معلوم ہے کہ کفار، تم کو کیا کیا تکفیرین دے رہے ہیں)، تم آپ کی سے مدح مانگتے ہیں (کہ تم کو کفار کے شر سے پاچائے! ممکن ہے کہ گناہوں کی شامت سے پیہور با ہوگا)، تم آپ کے گناہوں کی مغفرت چاہتے ہیں۔ اور تم آپ کی تعزیف کرتے ہیں (تم کیا اور ہماری تعزیف کیا، آپ کیسے ہیں جیسے آپ اپنی تعزیف کے ہیں)، تم آپ کی ناشکری نہیں کرتے ہیں (آپ کی نعمتیں، تم کو گھیرے ہوئے ہیں، تم بمیش آپ کے شکرگزار ہیں۔) تم کو معلوم ہے کہ کفار حقیقی فاجر و فاسق ہیں۔) تم آپ کے شمنون کو آپ کی کے لئے زک کرتے ہیں، دلی دوسٹی ان سے نہیں رکھتے ہیں، دنیوی حیثیت سے خطاب ری برتاور کے ہیں۔ اے اللہ! آپ کے سوا ہمارا کوئی نہیں، تم آپ کی عبادت کرتے ہیں، تم آپ کی کے لئے ہیں، آپ کی کے سامنے بات کہ باندھے
ہوئے کہرے۔ہوکراپن بندرے پن کا اظهار کرتے ہیں،جب آپ کا عظمت وجلال ہمارے دل پر طاری ہوتا ہے تو ہم بے اختیار ہوکرآپ کے سامنے بدے میں گرتے ہیں(اس سے یبتنا چاہتا ہے کرآپ کی شان عالی ہے اور ہماری حالت یہ ہے کہ ہم نہایت عاجز ہیں زمین پرس رکے ہوئے ہیں،ہماری ساری کوششیں آپ کے لئے ہیں،تم آپ کی طرف دل سے جھکتے ہیں، )اے اللہ تم جانتے ہیں کہ ایمان خوف ورجاء کے درمیان ہے)آپ کے عذاب سے ہمارے دل پردہشت ہیچی ہوتی ہے،تم آپ کے تقی عذاب کے خیال سے ڈرے ہوئے اور سے ہوئے ہیں - "وَنْرُجُو رَحْمَتَكَ انَّ عَذَاٰبَکَ الْجَدَّ بالُکَّارِ مُلْحِقْ" اے اللہ!تم کسی قابل نہیں،تم آپ کی رحمت سے برطی برطی امیدی لگے ہیں،تم کو معلوم ہے کرآپ کا تقی عذاب کفار،یکولاگوہونے والا ہے(گمرؤرتے ہیں کہ کہیں آپ کی شان بہ نیازی سے تم اپنے گناہوں کی وجہ سے عذاب میں گرفتار نہ ہوجائیں)-
Khalid ibn Abi Imran reported: "While the Messenger of Allah (ﷺ) was supplicating against the tribe of Mudar, Jibril (Gabriel) came to him and signaled him to stop, so he stopped. Jibril said: 'O Muhammad, Allah did not send you to curse or insult, but He sent you as a mercy to the worlds: "Not for you is the decision." (Al-Imran, 3:128). Then he taught him the Qunut:
اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْتَعِيْنُكَ وَنَسْتَغْفِرُكَ وَنُؤْمِنُ بِكَ وَنَخْضَعُ لَكَ وَنَخْلَعُ وَنَتْرُكُ مَنْ يَكْفُرُكَ. اللَّهُمَّ إِيَّاكَ نَعْبُدُ، وَلَكَ نُصَلِّي وَنَسْجُدُ، وَإِلَيْكَ نَسْعَى وَنَحْفِدُ، وَنَرْجُوْ رَحْمَتَكَ وَنَخَافُ عَذَابَكَ، إِنَّ عَذَابَكَ الْجِدَّ بِالكُفَّارِ مُلْحِقُ
'O Allah, we seek Your help, ask for Your forgiveness, believe in You, submit to You, and disassociate from and abandon those who disbelieve in You. O Allah, You alone we worship, to You we pray and prostrate, to You we strive and hasten. We hope for Your mercy and fear Your punishment, for Your severe punishment will surely reach the disbelievers.'" [Narrated by Abu Dawud in Al-Marasil and Tabarani]
Ibn Abi Shaybah narrated with a Sahih chain, as a statement of Ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him):
اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْتَعِيْنُكَ وَنَسْتَغْفِرُكَ وَنُثْنِي عَلَيْكَ الْخَيْرَ، وَلَا نَكْفُرُكَ، وَنَخْلَعُ(۱) وَنَتْرُكُ مَنْ يَفْجُرُكَ. اللَّهُمَّ إِيَّاكَ نَعْبُدُ، وَلَكَ نُصَلِّي وَنَسْجُدُ وَإِلَيْكَ نَسْعَى وَنَحْفِدُ، وَنَخْشَى عَذَابَكَ الْجِدَّ وَنَرْجُوْ رَحْمَتَكَ، إِنَّ عَذَابَكَ الْجِدَّ بِالكُفَّارِ مُلْحِقٌ
"O Allah, we seek Your help, ask for Your forgiveness, praise You for all good, and do not disbelieve in You. We disassociate from (1) and abandon those who disobey You. O Allah, You alone we worship, to You we pray and prostrate, to You we strive and hasten. We fear Your severe punishment and hope for Your mercy, for Your severe punishment will surely reach the disbelievers." Bayhaqi also narrated it in Al-Sunan Al-Kubra as a statement of Umar ibn Al-Khattab (may Allah be pleased with him).
(1) The phrase "we disassociate" (ونخلع) is mentioned with the conjunction "and" (واو) in Tahawi's narration, and its presence is evident, as stated in Al-Bahr Al-Ra'iq.
This tradition has been narrated by Abu Dawud in his Musnad and Tabarani has also narrated it to some extent. The chain of narration is with Ibn Mas'ud (RA) as reported by Jami' al-Tirmidhi 1914/35 and Ibn al-Shaybah.
O Allah, we seek Your help and ask for Your forgiveness. We praise You and do not deny You. We abandon and forsake those who disobey You. O Allah, You alone we worship, and to You we pray and prostrate. To You we strive and hasten, and we fear Your severe punishment.
O Allah (You know that the disbelievers are denying You), they ask for Your praise (so that You may be safe from the evil of the disbelievers; perhaps they will be saved from the consequences of their sins), they seek Your forgiveness for their sins. And they do not deny You (Your blessings surround them, and they are truly grateful to You). They know that the disbelievers are truly wicked and sinful. They renounce and forsake those who disobey You, and they do not maintain any affection for them; they address them in worldly terms.
O Allah! There is none worthy of worship except You. We worship You and are devoted to You. We stand before You in submission, expressing our humility. When Your majesty and glory descend upon our hearts, we become helpless and fall prostrate before You (this indicates that Your exalted status is such that we are extremely weak and lie prostrate on the ground; all our efforts are for You, and our hearts bow down to You).
O Allah, You know that faith lies between fear and hope. Our hearts tremble in fear of Your punishment, and we are terrified by the thought of Your just punishment, 'And we hope for Your mercy, for indeed, Your punishment is severe and will surely overtake the guilty.' O Allah, there is no one capable of saving us; we place our hope in Your mercy, knowing that Your just punishment is reserved for the disbelievers (we are concerned that we might be caught in Your punishment due to our sins, but we trust in Your mercy and seek refuge in Your needlessness).
_اور تیرہویں سنہ کبیر میں ابن ابی شیبہ کی اس روایت کو موقوفا حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کی ہے-
دوسری حدیث
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی ذیل کی حدیث کو تحقیق کے لئے اسمتمہید کوس لیجا حقی وعاً تقنوت کے دورے ہیں،اپنے حضر اللہم اننا نستعينک "سے ثروع ہوکر من يفجروک "،رختم ہوتا ہے اور دوم راحص اللهم اياک نعبد "سے ثروع ہوکر بالکفار ملحق "،رختم ہوتا ہے،پرو حضرآن مجیدی دوسو تین ہیں،جی آیت رحم منسوخ التلاوة ہے لیکن عمل اس پر جاری ہے،ایسے ی پدونوں سورتین کی منسوخ التلاوة ہیں لیکن قرآن میں پڑھی نہیں جاتی،گمران عمل جاری ہے اوروتر میں بطور تقنوت پڑھی جاتی ہیں)-
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سروايت بہ کر حضرت عمر بن خطاب رضی
اللہ عن ان دونول منسوخ التلاوة سورت لکو وتر میں بطور دعا قوت پڑھا کرتے تھے، ایک
سورہ یہ: اللهم انا نستعينك و نستغفرک و نشی علیک الخیر ولا نکفرک
نخلع و نترك من يفجرک اور دور مراسوره یہ اللہم ایاک نعبد ولک نصلی
ونسجود والیک نسعي و نخفد و نخشی عذابک الجد و نرجو رحمتك ان
عذابک الجد بالکفار ملحق اسکی روایت ابن الی شیمر او طحاوی نکی ہے۔
تبصری حدیث
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him), who reported that Umar ibn Al-Khattab (may Allah be pleased with him) would recite the following two supplications in Qunut:
اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْتَعِيْنُكَ، اللَّهُمَّ إِيَّاكَ نَعْبُدُ
"O Allah, we seek Your help. O Allah, You alone we worship." [Narrated by Ibn Abi Shaybah and Tahawi]
عبد اللہ بن زریغا فقی رضی اللہ عنہ سروايت بہ وہ فرماتے ہیں کر ایک
روز عبد الملک بن مروان نے مجھے کہا عبد اللہ تم گنوار، و حقانی آدمی ہو تم کو پچھبری نہیں خواہ
تم خواہ تم حضرت ابو الزرب علي رضی اللہ عنہ سمجبت کرتے ہوتے حضرت عبد اللہ نہیں جواب دے
مجھے گنوار، و حقانی جوچپہ کہ لوگر مین قرآن اس وقت یاد کیا تو جب کرتہمارا پٹھی نہیں تھا
بلکہ تمہارے مال باپ کا نکاح بھی نہیں ہوا تھا پچھر میں گنوار کی؟ مجھے قرآن کے دوسورے
حضرت علی رضی اللہ عنہ یاد دلا اور پڑھ دوسورے پیں جتن کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یاد کرا تم دوسورتول کی نتوتم کو تجرہ اور نتمہارے مال باپ کو
تو گنوار میں ہول یاتم؟ وہ دوسورتیس یہیں اللہم انا نستعينک و نستغفرک و نشی
علیک الخیر ولا نکفرک نخلع و نترك من يفجرک اللہم ایاک نعبد ولک
نصلی و نسجود والیک نسعي و نخفد نرجو رحمتك و نخشی عذابک ان
عذابک بالکفار ملحق پردوسورتیں منسوخ التلاوة پیں جتن قرآن میں نہیں پڑھی جا تین گر
وتر میں بطور قوت کے پڑھی جاتی ہیں اسکی روایت طبرانی کتاب الدعا میں کی ہے۔
Abdullah ibn Zurair Al-Ghafiqi reported: "Abdul Malik ibn Marwan said to me: 'I know what has made you love Abu Turab (Ali), except that you are a rough Bedouin.' I replied: 'By Allah, I had memorized the Quran before your parents even met, and Ali ibn Abi Talib taught me two chapters that the Messenger of Allah (ﷺ) taught him, which neither you nor your parents know:
اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْتَعِيْنُكَ، وَنُثْنِي عَلَيْكَ الْخَيْرَ وَلَا نَكْفُرُكَ، وَنَخْلَعُ وَنَتْرُكُ مَنْ يَفْجُرُكَ ، اللهُمَّ إِيَّاكَ نَعْبُدُ، وَلَكَ نُصَلِّي وَنَسْجُدُ، وَإِلَيْكَ نَسْعَى وَنَحْفِدُ، نَرْجُوْ رَحْمَتَكَ وَنَخْشَى عَذَابَكَ، إِنَّ عَذَابَكَ بِالكُفَّارِ مُلْحِقُ
"O Allah, we seek Your help, praise You for all good, and do not disbelieve in You. We disassociate from and abandon those who disobey You. O Allah, You alone we worship, to You we pray and prostrate, to You we strive and hasten. We hope for Your mercy and fear Your punishment, for Your punishment will surely reach the disbelievers.'" [Narrated by Tabarani in Al-Du'a]
اللّٰهُمَّ اهْدِنِى فِيمَنْ هَدَيْتَ وَعَافِنِى فِيمَنْ عَافَيْتَ وَتَوَلَّنِى فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ وَبَارِكْ لِى فِيمَا أَعْطَيْتَ وَقِنِى شَرَّمَا قَضَيْتَ فَإِنَّكَ تَقْضِى وَلا يُقْضَى عَلَيْكَ إِنَّهُ لا يَذِلُّ مَنْ وَآلَيْتَ تَبَارَكْتَ رَبَّنا وَتَعَالَيْتَ .
_ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ مجھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چند کلمات سماعت کی جس کا کردار یہ تھا کہ جب دعا کی قوت پڑتی تو آفت آنے تو میں ان کلمات کو پڑھا کروں (وہ کلمات یہیں):
اے اللہ! جب کوئی پڑائیت دیتا ہے اور ان کے عقائد و اعمال کو پسند فرما ہیں ان کے ساتھ مجھے بھی پڑائیت دتے (کہ میرے عقائد وہ ہون جب کوئی پڑائیت دیتا ہے، اور میرے اعمال بھی وہ ہون جب کوئی پڑائیت دیتا ہے۔) اے اللہ! جب کوئی پڑائیت دیتا ہے، برے اخلاق سے، برے خوابوں سے پچاکر) عاقبت میں رکے پہیں مجھے بھی ان سب سے پچاکیے (کہ میں بھی برے پچار پول سے برے اخلاق سے اور برے خوابشات سے پچاکوں عاقبت میں رہول۔) اے اللہ جب سے آپ محبت کرتے ہیں (اور ان کی برترت حفاظت کرتے ہیں، اور ہر معاملہ میں ان کی مد کرتے ہیں) ان کے ساتھ مجھے بھی محبت کیجئے (اور ہر برترت مجھی میری حفاظت فرمائیے اور ہر معاملہ میں میری مد فرمائیے۔) اے اللہ پچاپچے فضل و کرم سے جو جو چیزیں مجھے دیں ہیں (عمر، مال، علم اور عمل) ان سب میں برکت دتے۔ اگر آپ میرے لئے کسی شر کے پہوچنے کا حکم دیے ہیں تو آپ مجھے اس شر سے بیش پچاپچے رکیے (اور اپنے اس حکم کو بدلتے ہیں) اس لئے کہ آپ جو پچاپچے فیصلہ کرتے ہیں (اور اپنے دیے ہوئے حکم کو بدلتے ہیں) کوئی نہیں جو کسی پچاپچے خلاف فیصلہ کرسکے۔ جس کے آپ دوست ہیں اوراس کو پچاپچے حمایت میں لیں، وہ مجھی زیل نہیں ہوسکتا۔
اے اللہ! برکت آپ پر قدرت میں بھی جس کو چاہئے برکت دے سکتا ہے، آپ
بڑے عالمی شان میں اس کی روایت ترمذی، البودا ود، نساٰی، ابن ماجراورد ارمي نے لکھے۔
ف: روايتار میں کہاہے کر دعاے سابق "اللّهم انا نستعينك" ان کے ساتھ اس دعا کی
"اللّهم اهدینی" ان کو بھی ملا کروتر میں پڑھنا ختم نہہب میں مستحب ہےاور درختار میں ططاوي اور
ثرح منی کے حوالے سے کہاہے کر قوت میں ان دونوں دعاوں کو ملا کر پڑھنا چاہئے اور ان دعاوں کے
بعد یردو دثريف پڑھنا بھی مستحب ہے:
"وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله وسلم"۔ 12
نماز وتر کے بعد پڑھی جانے والی ایک دعا
پہلی حدیث
The Messenger of Allah ﷺ taught me some words to recite when the power of supplication is felt, so that if a calamity is about to strike, I should recite these words: 'O Allah! When someone is given a trial and their beliefs and actions are approved, grant me a similar trial (so that my beliefs will be as those who are given trials, and my actions will be as those who are given trials). O Allah! When someone is given a trial with bad character and bad dreams, keep me away from all of these (so that I may remain free from bad character and bad dreams). O Allah! Since You love them (and protect them and help them in every matter), make me also one of those whom You love (and protect me and help me in every matter). O Allah! Bestow Your continuous blessings and favors upon me (in life, wealth, knowledge, and action), and if You have decreed any evil for me, then through Your continuous mercy, keep me away from this evil (and change Your decree). This is because whatever You decide continuously (and change Your decree), no one can oppose Your decision. Whoever You love and continuously support, he cannot be humiliated. O Allah! You are the possessor of great power and can bestow blessings upon whomever You wish. O Allah! After reciting the previous supplication, 'Allahumma nastainika,' it is recommended to combine it with 'Allahumma ihdini' and recite both together at the end of the Witr prayer. It is also recommended to recite the following after these two supplications: 'Wasallallahu ala sayyidina Muhammad al-nabi wa alayhi wa sallam.'
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فراماتے تھے کہ جب رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز وتر سے فارغ ہوتے تو سلام کے بعد یہ دعا پڑھا کرتے تھے:
اللّہم انی اعود برضاک من سخطک
اے اللہ! میں آپ کے سخط لیجن ناراضگی سے آپ کی رضا مندی کے واسطے سے پناہ چاہتا
ہوں(لیجن آپ کی رضا کی پناہ میں آنا چاہتا ہوں)-
وبمعا فاتک من عقوبتک
اور آپ کی غرفت اور سزا سے (نچے) آپ کی معافی کی پناہ میں آنا چاہتا ہوں-
واعوذ بک منک
اور میں آپ سے آپ کی پناہ چاہتا ہوں-
لا اخصی ثناء عليك انت كما اثنیت علی نفسک
میں آپ کی ثناء و تعریف کا احتساب کرلتا، آپ ایسے ہی ہیں جیسے خود آپ نے اپنی تعریف
فرمائی ہے۔اس کی روایت البوداوو،ترمزی،نسائی اور ابن ماجع کی ہے۔
دوسری حدیث
Ali (may Allah be pleased with him) narrated: "The Prophet (ﷺ) would say at the end of his Witr:
اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوْذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوْذُ بِكَ مِنْكَ، لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ
'O Allah, I seek refuge in Your pleasure from Your anger, in Your forgiveness from Your punishment, and I seek refuge in You from You. I cannot praise You enough; You are as You have praised Yourself.'" [Narrated by Abu Dawud, Tirmidhi, Nasa'i, and Ibn Majah]
ابن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے و فرما ئے جس کر رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم جب نماز وتر ختم فرماتے تو وتر کے سلام کے بعد "سبحان الملك القدوس" فرمایا
کرتے تھے (جمن اللہ تعالی سب عیبول سے اور بہ طرح کے نقصان سے پاک ہیں اور ان کی
باوشاہت لازوال ہے، جمن صفتوں میں کمال نہیں اللہ تعالی ان صفتوں سے پاک ہیں، جمن مخلوقات
کے سارے صفات سے اللہ تعالی پاک ہیں)-اس حدیث کی روایت البوداوو داورسائی نے کی ہے،
اورنسائی نے اس روایت میں زیادہ کیا ہے کہ "سبحان الملك القدوس" تین بار فرماتے تھے
اور تیرہی مرتبہ جب "سبحان الملك القدوس" فرماتے تو قدوس کی دال او رواو کو
دراز پڑتے تھے۔
Ubayy ibn Ka'b (may Allah be pleased with him) narrated: "When the Messenger of Allah (ﷺ) finished his Witr, he would say:
سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوْسِ
'Glory be to the Sovereign, the Holy One' three times, prolonging it." [Narrated by Abu Dawud and Nasa'i]
In a narration by Nasa'i from Abdur Rahman ibn Abra from his father: "He would say when he finished:
سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوْسِ
'Glory be to the Sovereign, the Holy One' three times, raising his voice on the third time."
اورنسائی کی ایک اور روایت میں عبد الرحمٰن بن ابرارضی اللہ عنہما سے والد سے
روایت کرتے ہیں کہ ان کے والد نے کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وتر کے سلام کے بعد
"سبحان الملك القدوس" تین مرتبہ فرماتے تھے اور تیرہی مرتبہ بنسبت پائل دو کے زیادہ
آواز سے بلند فرماتے تھے(اوردار طی کی روایت میں "سبحان الملك القدوس" کے بعد
"رب الملائکۃ والروح" کہنا بھی آیا ہے)-
نماز تحد میں بیٹھ کر قرآن کرنا اور رکوع کے وقت کھڑے ہو کر
رکوع میں جانے کا بیان
Ubayy ibn Ka'b (may Allah be pleased with him) narrated: "When the Messenger of Allah (ﷺ) finished his Witr, he would say:
سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوْسِ
'Glory be to the Sovereign, the Holy One' three times, prolonging it." [Narrated by Abu Dawud and Nasa'i]
In a narration by Nasa'i from Abdur Rahman ibn Abra from his father: "He would say when he finished:
سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوْسِ
'Glory be to the Sovereign, the Holy One' three times, raising his voice on the third time."
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ
(میں نے بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیٹھ کر نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا-جبیا کہ بخاری میں
ذکرہ۔۔12–آپ عمر کے آخری حصہ میں جب تجدوکر لے ہوئے، ایاداء فرمائے تو اور جب
پھر کعتیس باقی رہ جا تین اور طول قرأت پڑھنے کی وجہ سے آپ تحل جاتے تو) بیٹھ ہوئے
قرأت فرماتےاورجب سورت کی(30یا40)آیات باقی رہ جا تین تو پھر آپ کطرے ہوجاتے
اور کطرے ہوئے بقیرآیات پڑھتےاور رکوع میں چل جاتے، پھرسیده فرماتےاوردوسری رکعت میں
اس طرح اداء فرماتے۔اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
ف: اس حدیث شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ نماز کی کسی رکعت میں پھر بیٹھنا اور پھر کٹرا
ہونا جائز ہے۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ اگر کوئی شخص نفل نماز بلغر عذر کے بیٹھ کر پڑھ رہا تھا پھر کٹرا
جو کراس کو پوری کر لے تو بالاتفاق جائز ہے اور اگر نفل نماز کٹرا ہو کر پڑھ رہا تھا پھر بلغر عذر کے بیٹھ کر
پوری کر لے تو نماز جائز ہے مگر کروہ ہوگی (جتنی پدارے رواختار)12
مرقات میں کہا ہے کہ باب الوتر کواس حدیث سے مناسبت یہ ہے کہ وتر سے پہلے تجد کی
آخری رکعتوں میں پیٹھ کر قرأت کر کے کٹرا لے ہو کر پورا کرنا جائز ہے۔
تشفع الوتر پڑھنے کے طریقے
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) would pray while sitting and recite while sitting. When about thirty or forty verses remained of his recitation, he would stand and recite while standing, then bow and prostrate. He would do the same in the second rak'ah." [Narrated by Muslim]
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت سے وہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم وتر کے بعد دور کعت (نفل) نماز اداء فرمایا کرتے تھے۔
(اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
Umm Salamah (may Allah be pleased with her) narrated: "The Prophet (ﷺ) would pray two rak'ahs after Witr." [Narrated by Tirmidhi]
Ibn Majah added: "He would pray them lightly while sitting." In another narration by Ibn Majah: "Then he would pray two rak'ahs, reciting while sitting. When he wanted to bow, he would stand and then bow."
اور ابن ماجہ کی روایت میں پر اضافہ ہے کہ پیغمبر کے جو وتر کے بعد پڑھی
جا تی تھیں ان میں بہت بھی قرأت ہوتی تھی اور حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان دور کعتوں کو پیٹھ کر اداء
فرماتے تھے اور ابن ماجہ کی ایک اور روایت میں اس طرح ہے کہ (وتر کے بعد) حضرت صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم دور کعت (نفل) پڑھا کرتے تھے، اور ان دور کعتوں میں پیٹھ کر قرأت فرمایا کرتے تھے اور
جب رکوع کرنے کا ارادہ فرماتے تو کطرے ہوجاتے، اور کطرے ہو کر رکوع میں جاتے۔
وآ لہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تجبر کے لے آخر رات میں اتنا بہت شاق اور مشکل ہوتا ہے (اگر کوئی سب مشکلات کو برداشت کر کے تجبر کے لے بیمار ہو تو اس کا کیا کہنا۔اس کی فضیلتین سابق کی بہت سی احادیث میں ذکور ہوچکی ہیں) اگر کوئی تجبر کے لے نامطہ سے تو اتنا تو کرے کر وتر کے بعد دو رکعت پڑھے لے (جس کو تشفع الوتر کیتا ہیں،اس کے بعد پھروہ تجبر کے لے اٹھا تو اس کا کیا کہنا،اس نے برہی عالی تمہی سے کام لیا اور برے برے ثواب کا مستحق ہوا)اور اگر وہ ناٹھ سکا تو پیر دور کرتے تجبر کے قائم مقام ہوجائے گی۔اس کی روایت داری نے کی ہے۔
وآ لہ وسلم ان دور کعتون کو جووتر کے بعد پڑھی جاتی ہیں بیشہ ہوئے پڑھا کرتے تو اور ان دور کعتون کی پہلی رکعت میں سورۃ "اذَا زُلْزِلَت" اور دوسری رکعت میں سورۃ "قُلْ يَا أَيُّها الكَفِرُونَ " کی ملاوت فرما کرتے تھے۔اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔
Abu Umamah (may Allah be pleased with him) narrated: "The Prophet (ﷺ) would pray two rak'ahs after Witr while sitting, reciting Idha Zulzilat (Surah Az-Zalzalah) and Qul Ya Ayyuhal Kafirun (Surah Al-Kafirun)." [Narrated by Ahmad]