Nūr al-Maṣābīḥ
باب القصد في العمل

Moderation in Actions
Volume 3 · Prayer

(یہ باب اعمال میں میان روی اختیار کرنے کے بیان میں ہے جس میں افرط و تفریط سے پچھاچا ہے۔ جس نے اعمال کو بالکل کم کر دیا یا پچھا ہے اور نہ بہت زیادہ کرنا کے اس کو نہ جانا سکیں اور آکتا کر سب پڑھ چھوڑ دیئیں)

This chapter discusses the adoption of a moderate approach in actions, warning against both excess and deficiency. It cautions against those who have completely neglected actions or gone to extremes, such that they neither know how to perform them properly nor bother to learn and practice them at all.

وقول الله عز و جل واقصد في مشيتك اور الل تعالي كا رشاد سور لقمان ع ايت نمبر مي اور ا ني رفتار مي جس ن بركام مي ميان روي اور اعتدال اختيار كرو وقول فاذا اطمانتم فاقيموا الصلوه ان الصلوه كانت علي المومنين كتبا موقوتا اور الل تعالي كا رشاد سور نساء ع ايت نمبر مي جب تم نماز كو اداء كر كو تو الل تعالي كي ياد مي ل جاو ك ر س ب ي بي ك ي اور لي ك ي جب تم مطمين و جاو تو نماز كو قاعده ك موافق ل و

نفل اعمال میں اعتدال کا بیان

پہلی حدیث

The Explanation of Moderation in Voluntary Acts

The First Hadith

1866

اس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہر کام میں میان روی اور اعتدال ہوتا تھا تم بہت حضرت کہیں دیکھو گے کہ آپ کسی کام کو افراط سے کر رہے ہیں یا کسی کام میں تفریط کر رہے ہیں (مثال کے طور پر سنے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بعض مہینوں میں روزے نہ کرتے تھا اور اتنے دن نافذ کرتے کہ ہمارا خیال جاتا کہ اب

آپ روزہ نہ رکھیں گے) پھر جب روزے رکھنے تو آئے رکھتے کہ ہمارا خیال ہو جاتا کہ اب آپ روزہ ترک کی ذکری گے (اگر آپ کو اعتدال پسندہ ہوتا تو بیشتر نفل روزے رکھتے، جس سے افراط ثابت ہوتا یا بیشتر نفل روزے ترک فراماتے جس سے تفریط معلوم ہوتی، اسی اندازے کی بھی روزے رکھتے جب شاط ہوتا کہ روزے ترک کرتے، جب روزے ترک کرنے کی ضرورت معلوم ہوتی)

اب ایک دوسری مثل آپ کے اعتدال پسندہ ہونے کی سنی ہے حضرت کی نماز شب کی کیفیت یہ تھی کہ اگر تم حضور کو نماز شب میں مشغول دیکھنا چاہتے تو دیکھ سکتے تھا اور اگر تم حضور کو سوتے ہوئے دیکھنا چاہتے تو ایسا بھی دیکھ سکتے تھا (اگر آپ کو اعتدال پسندہ ہوتا اور آپ نماز پڑھتے تو تمام رات نماز پڑھتے رہتے اور سوتے تو تمام رات سویا کرتے، اسی اندازے کے آپ رات میں آرام بھی فراماتے اور نمازیں بھی پڑھتے، اس لے صاحب! حضرت کی سنن پر عمل کرنے ہر کام میں میانہ روی اور اعتدال اختیار کرو)۔(اس حدیث کی روایت بخاری نے کی ہے۔)

دوسری حدیث

Anas (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) would sometimes break his fast during a month to the extent that we thought he would not fast at all, and at other times he would fast so much that we thought he would not break his fast at all. If you wished to see him praying at night, you would see him, and if you wished to see him sleeping, you would see him." [Narrated by Bukhari]

1867

ا م الْمُؤْمِنِينَ عَلَيْهِمْ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ رَوَاهَا أَبُو فُرَاتٍ مِّنْ كَرْسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَ ارْشَادُ فُرَاتِ مَا يَكُرُونَى اوراد و وظائف اور نوافل ، اللَّهُ تَعَالَى كُنْهَايَتِ پَسَنْدِ يَدْهُ اور پِّيَارَ مَعْلُومْ هَوْتَ حَنْ پَرْ بِمِيشَ پَابَنْدِي كِي جَائَتَ اَگَرْ چَوْهَتَحوْرْتَهَيْ كَيْوَنْ نَهَوْلْ ( كَيْيَ اَنْ كَو بَهْتَ زَياوَهْ كَرْنَا اورْ كَيْيَ اَنْ كَوْجَحوْرْ دِيْنَا اللَّهُ تَعَالَى كُوْ پَسَنْدِيْنْ ، اسْ لَيْ اوراد و وظائف ونوافل مِيْن اَعتَدَالْ چَائَتَا كْ بِمِيشَ كَرْسِيْنْ ، جَوَالْلَّهُ تَعَالَى كُوْجَبُوبْ بَهْ )۔(اَسْ كِيْ رَوَايْتْ بُخَارِيْ اورْ مُسْلِمْ نَ مَتفَقْ طُورْ پَرْكِيْ بَهْ )

دعا ئے قبول ہو نے کا مختصر طریقہ

A concise method for the acceptance of supplication.

1868

ا بُوْا مَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَوَاهَا تَهْوْهُ فَرَمَاتَ مِيْنْ ( كَرْ دَعا ئَ قَبُولْ هَوْ نَ كَ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک مختصر ساطری قہ بتلا ہے جس پر پابندی کی ہوسکتی ہے اور جس پر دعاویٰ مت کی آسان ہے وطریقت ہے۔ جس کو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنایا اپ ارشاد فرماتے تھے: جب کوئی مسلمان سونے کے لیے باوضوء بستر پر جائے اور اللہ کا ذکر دل سے یازبان سے کرتے ہوئے سوجائے، اور رات میں کروٹیس بد لے تو اس وقت و نیا اور آخرت کی بجلائی کی جوہری دعا کرے اللہ تعالیٰ اس کو قبول فرماتے ہیں (یہ اعتدال کی تعلیم!

ایس طرح ہر کام کو اعتدال سے کرنا چاہیے)۔

(اس کی روایت امام نووی نے کتاب الازکار میں ابن اسحی کی روایت سے لکھے۔)

پہلی حدیث

Abu Umamah (may Allah be pleased with him) narrated: I heard the Prophet (ﷺ) say: "Whoever goes to bed in a state of purity and remembers Allah until sleep overtakes him, no hour of the night will pass in which he asks Allah for something good from this world or the Hereafter except that Allah will grant it to him." [Narrated by Imam Nawawi in Al-Adhkar with the narration of Ibn As-Sinni]

نصف اعمال میں اعتدال کا بیان
1869

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ارادو وظائف ونوافل اپنے اوپر تم اسی قدر لا زم کر لو جو تم سے ہمیشہ ہوسکیس (دواؤں کو نہاہ سکو، اس سے کیا فائدہ کہ چار دن کس عمل کو کریں اور پھر چھوڑ دیتے ہیں، یہوگر ہمیشہ ہو، اس سے قلب میں وہ صفائی پیدا ہوتی ہے جو بہت سے اور ادو وظائف ونوافل شروع کرنے اور پھر چھوڑ دینے سے نہیں ہوسکتی دیکھو! پانی کی لوٹ پھر کی چھان پرتے گذ رجا ے تو اس میں کوئی سوراخ پیدا نہیں کر سکتی، اس کے بر خلاف اگر پھر پرانی کا ایک ایک قطرہ ہمیشہ ٹپکتا رہے تو ایک نا ایک دن پھر میں سوراخ کر کے رہے گا۔ اس کو جسی یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کے پاس ثواب کے بیڑ خزاں بھرے ہوئے ہیں) اور اللہ تعالیٰ ثواب دینے سے تحقیق نہیں (تم جتنا کرو گے اس قدر ثواب دیتے جائیں گے، مگر تم اپنے کو دیکھو کہ) تم اتنے اور ادو وظائف ونوافل مقرر کر لے جتن کو تم نباه نہ سکو اور تھک کر چھوڑ دیئے (اس سے کیا فائدہ)، اس لے اور ادو وظائف ونوافل میں اعتدال اللہ

اوراس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بہت پسند ہے۔

(اس حدیث کی روايت بخاري اور مسلم نے متفرق طور پر کی ہے)

It is narrated from Umm al-Mu'minin Aishah (RA) that she said:

The Messenger of Allah ﷺ said: 'Impose upon yourselves only as much of supererogatory acts of worship as you can consistently perform. For what benefit is there in performing acts of worship for two or three days and then abandoning them? If they are performed consistently, they bring about a purity in the heart that cannot be achieved by starting many acts of worship and then abandoning them. Consider this: if water continuously falls on a stone, it will not create a hole; but if a single drop of water persistently falls, it will eventually create a hole. Remember that with Allah, the Exalted, there are countless treasures of reward, and He does not tire of giving rewards. Perform as much as you can without becoming weary and abandoning them, for such consistency in supererogatory acts of worship is very pleasing to Allah and His Messenger ﷺ.'

دوسرا حدیث
1870

نس رضی اللہ عنہ تے روایت ہے وہ فرماتے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ

وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص نفل نماز پڑھر باہ تو اس کو خیال رہ کہ جب

تم دل میں فرح ت وشاط رہ اور پڑھنے کو جی چاہے اس وقت تک تو نماز پڑھتا رہ، جب نفل

نماز ول کو پڑھنے سے دل اکتا جائے اور پیزار ہونے لگے تو ( زبردست نفس کو مجبور کر کے نفل نماز پڑھنے

پڑھے بلکہ ) تحوط ی در پینہ جائے اور آرام لے لے، پھر جب شاط وفرح ت پیرا ہوتا تو نفل نماز پڑھنے

– اس حدیث ثریف سے معلوم ہوا کہ جو شخص اوراد و وظائف و نوافل افراد سے پڑھر باہو، لیتنی اکثر

اوقات کثرت سے پڑھا کرتا ہے اگر چہ یہ موہبت ہے مگر یخیال رہ کہ کبھی تحمل کریا پیزر ہو کر چھوڑ دے

دے، اس لے اعتدال کا حکم دیا گیا ہے، اس طرح کوئی شخص اوراد و وظائف و نوافل میں تفریط کر ربا

ہے لیتنی اس کے نا اوراد و ئیں نہ وظائف میں اور نوافل میں تو ایسے شخص کو اجبار جاتا ہے کہ تیری پی

تفریط مناسب نہیں ہے اعتدال سے اوراد و وظائف و نوافل قائم کرنا چاہیے – ایک دن آنے والا

ہے کہ جس دن اوراد و وظائف و نوافل پڑھنے والوں کو جود رجات میں گے ان کو دیکھ کر پی پچھتا ہے

گا اوراس وقت پچھتا نا کوئی فائدہ نہ دے گا – اب وقت ہے کہ تو اوراد و وظائف و نوافل اعتدال کے

ساطح جاری کرو اعتدال کا جوارشاہ ہواہ وہ افراد کرنے والے اور تفریط کرنے والے دونوں کے

لے ہے – (اس حدیث کی روايت بخاري اور مسلم نے متفرق طور پر کی ہے)

Anas (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Let one of you pray with energy, and when he becomes tired, let him sit down." [Agreed upon by Bukhari and Muslim]

تیسری حدیث
1871

صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص (نفل) نماز پڑھ رہا ہو، اوروہ اوگھلنے گے (یااس کو گیری نیند آ جائے پھر بھی وہ نماز پڑھتا چلا جائے تو اس کو ایسا نہیں کرنا چاہئے نماز مختصر کر کے ) اس کو سوجانا چاہئے۔ (جب اونگلو اور نیند اس سے دور ہو جائے تو پھر نماز پڑھے، باوجود نیند کے غلبہ کراگروہ نماز پڑھتا چلا جائے تو نہیں معلوم نیند کے غلبہ میں زبان سے کیا نکل جائے، دعا ئے کی جائے بدوعاء کرنے گی، مثلًا مغفرت کی دعا کرنا چاہتا ہے، اور نیند میں مغفرت ماگنے کے جائے عذاب ماگنے لے (اسی لے نوافل میں اعتدال کا حکم دیا گیا ہے تاکہ پینوبت، یعنآ ہے)

(اس حدیث ثریف کے تزجم میں پہلے ضروری بات سن ہیں: ایک زمانہ ایسا تھا کہ لوگ کو مشقت میں ذوالی) عبادت کا بحدشوق تحاصل ان کواس افراط سے ہٹا کر اعتدال پر لاگیا لیکن اس زمانے میں معمولی معمولی عبادات کی مشکل معلوم ہوتی تھی اس لے ان کو بھی تفریط سے ہٹا کر اعتدال پر لا یاجار پابھے، اس تمہید کے بعد حدیث ثریف کوسنے):

Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "If one of you feels drowsy while praying, let him sleep until his drowsiness goes away. If one of you prays while drowsy, he may not know whether he is seeking forgiveness or cursing himself." [Agreed upon by Bukhari and Muslim]

پچھلی حدیث
اس حدیث کی روايت بخاری اور مسلم نے متفرق طور پرکی ہے-
1872

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (جولوگ افراط سے عبادت کر رہے ہیں ان کو مجھ نا چاہے کر) دین بہت آسان ہے (تم راہبول کی طرح اپنے کوشقت میں مت ذو الاور جولوگ تفریط میں پڑے ہوئے ہیں پھر بھی نفل عبادت نہیں کرتے ہیں۔ ان کو کہا جارہا ہے کر دین بہت آسان ہے تم ایسے نفل عبادات کب تک چھوڑنے ہوئے رہوگے؟ ترزق کر کے اعتدال پرآجاو) جو شخص دین میں اپنے اوپر خی اختیار کر لے گا ایسی بحاری بحاری عبادتوں کی عادت ذا لے گا اور سخت سخت عبادت کر کے دین کو مشکل بنانے گا (بالا خراجیں نبا نہیں سکے گا اور بمیشہ نہ کر سکے گا، مجبو رہوگر چھوڑنے گا لہذا ایسے

میان روي شخص کو اوراس شخص کو جس جو کچھ بھی نفل عبادت میں نہیں کرتا، ان دونوں کے لے چاہئے کر ) اختیار کر کے اللہ تعالیٰ کے مقرب بن کی کوشش کریں ( اے وہ شخص جوعبادات میں افراط کرنے والابھے تجہ جواعتدال پر لا یا جارباہے اسستے پینہ جہناکے تیرے ثواب میں پچھکی بهولی نہیں! نہیں!) تجہ پورے پورے ثواب کی خوشخبری ساتے ہیں (اوراے وہ شخص جوعبادتمیں چحوڑ بیٹھاتے تو کیون پستہمتی کردپاہے، تو کچھ عبادتوں میں اعتدال کرتاجہ کچھ خوشخبری دی جاتی ہے کہ تجہ کو کچھ وہی ثواب ملگا جوافراط سے اعتدال پرآنےوالے کوملتا ثواب ہمتکواعتدا لکا طریقتاتے ہیں سنو!) نماز فجر کے بعدتے (اثراق کے وقتتک) نفل عبادات اورادو وظائف میں مشغول رہو، اورعصر کے بعدتے مغرب تک کے وقت کو کچھ غنیمت جانو! اوراورادو وظائف میں مشغول رہو! پیردونوں بہتہی مقبول وقت ہیں، اورمغرب کے بعد نماز اوائیں پڑھاکرو، اورآحر شب میں تجد کچھ پڑھ لیا کرو (اگر اتنا کچھ کرلوگے تو تمہیں عبادات کا اعتدال حاصل ہوجائے گا)

(اس حدیث کی روایت بخاری نے کی ہے۔)

پاچھویں حدیث

Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Religion is easy, and no one overburdens himself in religion except that it overwhelms him. So strive for excellence, come close (to perfection), and give glad tidings. Seek help by praying in the morning, afternoon, and some part of the night." [Narrated by Bukhari]

1873

عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کر اللہ تعالیٰ دو شخصوں کودیکھ کر بہت تجب کرتے ہیں (اللہ تعالیٰ کا تجب کرنا قشاشاہات سے ہے، تمام اس پرامیان لا ہے، تجب کے معنی معلوم ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے تجب کرنے کی کیفیت معلوم نہیں، وہ دو شخص جن پر اللہ تعالیٰ تجب کرتے ہیں ان میں) ایک تو وہ شخص ہے جوزماورگرم پچھونے پرسور باقعا، اور دوسرا کے لے کچھ لحاف موجود ہے (رات کا وقت ہے مردواآئیں چل رہی ہیں، لوگوں کودیکھ رہاہے کروہسورہے ہیں، اسستے اسکا کچھ دول سونے کی رغبت کرتا ہے) اور پہلو میں محبوہ اس کی اعلی موجود ہے (نفس چاہتا تجاکه ان سب

سے لطف اٹھائے، ایسے میں تجربہ وقت آگیا) اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کی فکر اوراس کے عذاب

سے بچنا خیال اس کو بچین کرو یا ان سب کو چھوڑ کر اٹھا، وضو کیا اورخدا کے سامنے آکر ا

ہوگیا (اس وقت اظهار تجب کے لئے) اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتے ہیں: اے میرے مقرب

فرشتو! تم کولئے خواہش نہیں تم میری عبادت کرتے ہوتے کولئے تجب نہیں) اس میرے بنے کو

دیکھو (کیا کیا خواہشات اس کو گھیرے ہوئے ہیں، نزم پچونا ہے، گرم لحف ہے، پہلو میں محبوس

ہے، کسی کا جھیلس کو پچھا خیال نہیں، میرا ثواب حاصل کرنے کی رغبت اورعذاب سے بچنا کا

خیال سب سے برہکر مجھے راضی کرنے کی دس میں اپنی ساری خواہشات کو چھوڑ کر سطرح

میرے سامنے آ کر کہراہے۔ مجھے قیام میں ہے، مجھے رکوع میں ہے اورمجھے سجدہ کر رہا ہے– میرے

لئے یہ جو جو کر رہا ہے سب میں دکیہ رباہول اورمیں اس سے راضی ہوگیا) دوسرا وہ شخص جس پر

اللہ تعالیٰ تجب فرماتے ہیں وہ ہے جواللہ کے راستے میں جہاد کر رہا ہے(وہ میں اس کو اوراس کے

ساہیوں کو گھیر لئے ہیں، خدا کے وشمنون کے مقابلے کی طاقت نہ ہوتی ہے) سب کے سب

بجاگے گئے (یہ شخص کافرون کے مقابلے سے بجاگے کی وعید کو سوچااوری خیال بھی آیا کہ مجھے نہ میں

قوم ناہے! کافرون سے بجاگے کر میں کب تک زندہ رہوں گا، ایک دن خدا کو منہ دکھانا ہے جب

اس کے سامنے حاضر ہوگیا اوروہ پوچھے گا کر تو کافرون کے سامنے کیون بجاگا تو میں کیا

جواب دوں گا – یہ خیال آتا ہے، وہ پلت کر کفار کے مقابلے میں آگیا (جان توڑنا شروع کیا،

جہت سے کفار کو قتل کیااور) آخر خود مجھے شہید ہوگیا– ایسے شخص کی حالت فرشتوں کو دکھا کر اللہ تعالیٰ

فرماتے ہیں اے میرے مقرب فرشتو! ویکھواس شخص کو! محض میرے ذریعے اورمجھے خوش کر نے

کے اور راضی کرنے کے خیال سے پیجان دے دیا (میں بلا کی قد ردالہوں تم دیکھنا میں ان

دونوں کو کیا کیا مرتب اور کیا کیا درجات دوں گا– اس حد یثثریف میں تمام رات جاگے کی

فضیلت نماز بیان کی گئی ہے بلکہ صرف تجویز کے لے اٹھنے والوں کی تعریف فرمائی گئی ہے، اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کو اعتدال پسند ہے )۔

(اس حدیث کی روایت صاحب المصائح نے ثرچ السیمل کی ہے )

اعتدال عمل کی بھی ایک صورت ہے

(اللہ تعالیٰ بہت برے قدردان ہیں، ان کی قدردانی کی ایک چھوٹی مثال وہ ہے جس کو )

حضرت عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روایت کرتے ہیں

کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمايا: (جس شخص کی عادت یہ ہو کہ وہ رات میں بیشہ اوراد و وظائف یا تہجد بلا نافع پڑھتا ہوا تقاق سے) وہ سوگیا اور اپنا پورا وظیفہ یا وظیفہ کا پچھا حصہ پڑھ سکا (یا تہجد نہ ہوسکی) اور وہ فجر کے بعد تے لے کر زوال تک کے وقت میں (فوٹ شدہ وظیفہ یا تہجد کو) پڑھ لے تو اس کے لے ایسے ی ثواب کس حا جا یے گا کہ گویا س نے رات کو اٹھ کر پڑھا ہے (یہ قدردانی اللہ تعالیٰ کی )۔(اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے )

عذر کی حالت میں نماز اداء کرنے کی کیفیت

پہلی حدیث

عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (مجے باسیر کا مرض تھا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا کہ نماز کس طرح ادا کروں تو)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (اگر تم فرض نماز پڑھنے ہوتے) کہرے ہو کر پڑھو (اس لے کر فرض نماز میں قیام فرض ہے بخلاف نفل کے کر اس میں کہرے رہنا افضل ہے فرض میں جہے، اگر بخیر عذر کے نفل پیہ کر پڑھیس جی تو جائز ہے مگر کہرے رہ کر پڑھنے میں جو ثواب ہے نفل پیہ کر پڑھنے میں وہ ثواب نہیں بلکہ آدھا ثواب ہے گا) اگر کسی عذر سے فرض کہرے ہو کر نہ پڑھ سکو

تو پیٹھ کر نماز پڑھو، پیٹھ کر پڑھنے کی بھی طاقت نہ ہوتی تو (قبل رو) کروط لیٹ کر پڑھو (کروط لیٹ کر نماز پڑھنا جائزہ گرا فضل نہیں ہے، بلکہ چت لیٹ کر پڑھنا افضل ہے۔ اس کی تفسیر ذیل میں نسائی کی حدیث سے ہوتی ہے)- (اس حدیث کی روایت بخاری سے کی ہے-)

Abdullah ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Our Lord is amazed by two men: a man who leaves his bed and his blanket, leaving his beloved and family to pray, so Allah says to His angels: 'Look at My servant; he left his bed, his blanket, and his beloved and family to pray, out of desire for what I have and fear of what I have.'

And a man who fights in the cause of Allah, but his companions flee, and he knows what awaits him if he flees and what awaits him if he returns. So he returns until his blood is shed, and Allah says to His angels: 'Look at My servant; he returned out of desire for what I have and fear of what I have, until his blood was shed.'" [Narrated by the author of Al-Masabih in Sharh al-Sunnah]

1876

نسائی کی وہ حدیث یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کے اگرتے (کسی عذر سے) پیٹھ کر نماز نہ پڑھ سکوتو قبلہ رو چت لیٹ کر (اس طرح) نماز پڑھو (کمر مشرق کی طرف ہواور پیر قبلہ کی طرف،سر کے پیچھے تکیڑ کر کر سر کو کسی قدراونچا کیا جائے اور پیروں کو احترام قبلہ کی وجہ سے لا بنہ نہ رکھیں بلکہ پیروں کو پیچھے کر گڈونو کواس طرح کمرا کریں کہ چیراپی سمیت زمین پر لگ رہیں)

لا يكلف اللہ نفسا الا وسعها،الذين كسي شخص پربوجہیں ذا لے مراسی قدر جس کے اتحا نے کی اس کوطافت ہو-

ف: صدر کی دونوں حد یول سے واشہوتاہے کر ایسا شخص جو کسی عذر کی وجہ سے پیٹھ کر نماز نہیں پڑھ سکتا ہو، اس کے بارے میں ایک حدیث میں کروط لیٹ کر نماز پڑھنا کازکر ہے۔ اور دوسری حدیث میں چت لیٹ کر نماز پڑھنا کافضی نہہب میں دونوں طرح سے نماز پڑھنا جائزہے، چاہئے تو کروط لیٹ کر نماز پڑھیں، یا چت لیٹ کر، مگر چت لیٹ کر نماز پڑھنا افضل ہے، افضل ہونے کی ایک وجہ یہہے کر کروط لیٹ کر نماز پڑھنا کاحکم خاص عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کو ان کے چت لیٹ پر قاعدہ ہو نے سے دیا گیا تھا چونکہ وہ باسیر کے مریض کاشکارتھاور چت لیٹ کر نماز پڑھنا کاحکم عام طور پر دیا گیا ہے، عمران رضی اللہ عنہ کے لے جو چیز افضل قرار دی گئی ہے اس کو سب پیاروں کے لے افضل قرار دیا مناسب نہیں بلکہ چت لیٹ کر نماز پڑھنا کوترجیح دے کر افضل قرار دیا جاتا ہے، اس لے کر چت لیٹ کر نماز پڑھنے میں جب رکوع اور سجدہ کے لے اشارہ کا موقع آتاہے تو قبلہ کی طرف یارخ رہتاہے، اور کروط لیٹ کر نماز پڑھنے میں جب رکوع اور سجدہ کے لے اشارہ کا موقع آتاہے تو قبلہ سے رخ بہت جاتا ہے، حالا نکہ نماز میں استقبال قبلہ فرض ہے، چونکہ

کروت لیٹ کر نماز پڑھنے میں قبل کی جہت باقی رہتی، اور چت لیٹ کر نماز پڑھنے میں قبل کی

جہت باقی رہتی ہے، اس لئے چت لیٹ کر نماز پڑھنا کروت لیٹ کر نماز پڑھنے سے فضل ہے اور یہی

نذہب حقیقت ہے (مرقات)-

Imran ibn Husayn (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Pray standing. If you cannot, then pray sitting. If you cannot, then pray on your side."

[Narrated by Bukhari]

In a version by Nasa'i: "If you cannot, then pray lying on your back.(1) " "Allah does not burden a soul beyond its capacity." (Al-Baqarah, 2:286)

(1) The ruling on lying on one's back is that it is preferable in our school of thought over lying on one's side. The hadith of Imran is not a general proof, as it was addressed to him specifically due to his illness (hemorrhoids), which prevented him from lying on his back. Therefore, it is not a general ruling for the Ummah. Preference is given to the meaning, which is that lying on one's back allows one to face the Qiblah, fulfilling the obligation, unlike lying on one's side. For example, if one prostrates while lying on their back, it is directed toward the Qiblah, whereas lying on one's side would not face the Qiblah. This is mentioned in Al-Maraqat.

دوسرا حدیث
1877

عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا کہ ایک شخص فرض نماز پڑھنے کے وقت رہ کر پڑھنے کے لئے

ناقابل برداشت تکلیف اٹھائی پڑتی ہے اس کا بیٹھ کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر وہ (تکلیف برداشت کرے) کھڑے ہو کر نماز پڑھنے تو اس کے

لئے فضل ہے (اوراس کو پورا ثواب ملے گا) اور اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھنے تو کھڑے رہ کر جونماز پڑھتا

ثقا اس کا آدھا ثواب ملے گا (ایسے جو شخص کھڑے ہو کر تو نماز پڑھنے نہیں سکتا، البته نا قابل

برداشت تکلیف اٹھا کر بیٹھ کر نماز پڑھ سکتا ہے اگر وہ) لیٹ کر نماز پڑھنے (تو جائز ہے گر) بیٹھ کر نماز

پڑھنے والے کو جو ثواب ملتا ہے اس کا آدھا ثواب لیٹ کر نماز پڑھنے والے کو ملے گا-

(اس کی روایت بخاری میں ہے-)

Imran ibn Husayn (may Allah be pleased with him): He asked the Prophet (ﷺ) about a man praying while sitting. The Prophet (ﷺ) said: "If he prays standing, it is better. Whoever prays sitting will receive half the reward of one who prays standing, and whoever prays lying down (2) will receive half the reward of one who prays sitting." [Narrated by Bukhari]

(2) Al-Khattabi said: This refers to a sick person who is obligated to pray and could force himself to stand but with difficulty. Thus, his reward is doubled if he prays sitting, as an encouragement, even though praying lying down is permissible. Similarly, if he forces himself to stand despite the difficulty, his reward is doubled compared to praying sitting. This is mentioned in Majma' al-Bihar. In Al-Maraqat, it is stated: Is it permissible to pray voluntary prayers lying down when one is capable of standing or sitting? According to Abu Hanifah, it is not permissible. It is said that this hadith refers to an obligated sick person who could stand or sit but with difficulty and increased illness.

نفل نماز بلا عذر بیٹھ کر پڑھنے میں آدھا ثواب ملتا ہے
1878

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ مجھے یحدیث

پہلو پیچ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پی کر کولی شخص (نفل) نماز (بیشتر عذر کے)

پیٹھ کر پڑھنے تو اس کو کھڑے رہ کر نماز پڑھنے والے کے ثواب کا آدھا ثواب ملے گا (ایک روز) میں

حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ آپ نفل نماز پیٹھ

ہو کے پڑھ رہے ہیں (مجھے بہت تجبب ہوا، کیونکہ حضرت کے سب کام فضل طریقہ پڑھوا کرتے ہیں

پھر اگر حدیث میں ہے تو آپ کے بیٹے ہوئے نماز پڑھ رہے ہیں، عرب کا طریقہ ہے کہ جب ان کو کسی باٹ پر تجبہوتاہےتوجسستےتجبہوتاہےاسکےسرپراباتهرككردوریافتکرتہیںاور اس کو خلاف ادب نہیں ہے۔ ) میں ( مجھی اس طریقے کے موافق حضور جب نماز سے فارغ ہوئے تو ) حضور کے سر پر باته رکھا تو حضور مجھے فرمائے: کیا ہے عبد اللہ! ( کس باٹ پر تم کو تجبہ ہوراہے، میں عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے یہ حدیث پڑی ہے کہ آپ فرماتے ہیں کہ ( بغیر عذر کے ) پیٹ کر ( نفل ) نماز پڑھنے والے کوطرے رہ کرنماز پڑھنے کے ثواب کا آدھا ثواب ملتا ہے ( اگر پیٹے ہے تو پھر آپ ستترکافضلکیہوا_اسپرمجھےتجبہوراہے)حضورفرمایے:بالحدیثمیںہے(تم نے جوسناہودهتنےکیاتمکومعلومنہیںکہ)مینتمجسیانہیںہول(بهتسیچیزیںمراخاصة ہیں، اورامت اس میں شریک نہیں، مجمل ان کے ایک پیہ کر مجھے بلا عذر نماز پیٹ کراداعکرنے میں مجھی ویسے ثواب ہے جس کطرے ہو کر نفل اداء کرنے میں ثواب ملتا ہے،خلاف امت کے ان کونفلنمازکطرےرهکرنمازپڑھنےمینجوثوابملتاہےپیٹکرنمازپڑھنےمیناسکاآدھاثوابملتاہے۔ اس واسطقرآنمیںحضرصلیاللهعلیهوآلہ وسلم کے واسطفرماگیاہے"وگانفضل الله علیک عظیما"اے رسول ! تم آپ کو بہت برافضل عطا فرماتے ہیں - ( اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے - )

نماز میں اطمینان قلب حاصل ہوتا ہے

ہے بلکہ میرا مطلب یہ ہے کہ نماز شروع ہوجائے، و نیا کے مشاغل سے نچ جائے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ راز و نیاز کرے۔ میں راحت حاصل ہوتی۔ میرا مطلب یہا لوگوں نے جو سمجھا ہے وہ غلط سمجھا ہے، میں جس لحاظ سے کہتا اسی لحاظ سے حضرت علی اللہ علیہ و آلوہ وسلم نے مجھے اکثر فرمایا ہے۔ بلال! نماز کی تکبیر کرو۔ نماز شروع ہوجائے تو تم کو نماز میں اللہ تعالیٰ سے راز و نیاز کرنے میں راحت ملتی ہے۔ اسی وجہ سے حضور نے فرمایا ہے کہ نماز میں مجھے جولف ملتا ہے اس سے میری آنکھوں کی طرف دک کہے، خزاۃ کے ان صحاب نے جو کہا تھا اس سے ان کی مراد یہی ہے کہ لوگوں نے جو سمجھا ہے وہ مناسب نہیں۔ اس حدیث کی روایت البوداوی نے کی ہے۔

Abdullah ibn Amr (may Allah be pleased with him) narrated: "I was informed that the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'The prayer of a man while sitting is half the prayer.' So I went to him and found him praying while sitting. I placed my hand on his head, and he said: 'What is the matter, O Abdullah ibn Amr?' I said: 'O Messenger of Allah, I was told that you said: The prayer of a man while sitting is half the prayer, yet you are praying while sitting?' He said: 'Yes, but I am not like any of you.'" [Narrated by Muslim]

This hadith has been narrated by Muslim - 'In prayer, tranquility of the heart is obtained.' However, my intention is that when the prayer begins, one should be free from worldly affairs and engage in secret conversation and supplication with Allah Almighty, thereby finding comfort. What people have understood is incorrect; I am referring to the perspective from which I speak, and it is the same perspective from which Ali Allah be pleased with him and his family often said to me: 'Bilal! Begin the prayer with the takbir (opening declaration).' When the prayer begins, you find comfort in engaging in secret conversation and supplication with Allah Almighty. This is why the Prophet ﷺ said that he finds joy in prayer, and it makes him look towards his eyes. The meaning intended by those Companions who said this is that what people have understood is not appropriate. This hadith has been narrated by Al-Budawi.

14/1879 _ سالم بن ابی الجعد رضی اللہ عنه سے روايت ہے وہ کہتے ہیں کہ قبیلہ خزاعة کے ایک صاحب نے کہا کاش میں نماز پڑھتا تو مجھے راحت ملتی ( پین کر ) لوگوں نے ( ان کے اس کین کواس وجہ سے ) برا سمجا ( کہ وہ پیکہ نا چاہ رہے ہیں کہ نماز کو میں ادا کروں یا تو نماز سے فارغ ہو کر آرام و راحت سے پیچتا تو قبیلہ خزاعة کے ان صاحب نے کہا کہ میرا مطلب وہ نہیں تھا جو تم نے سمجا