(اس باب میں تجہد پڑھنے کی ترغیب دالی گئی ہے اور تجہد پڑھنے والے کو جو ثواب ملتا ہے اس کا بیان ہے)
وقول اللہ عز و جل "ان ناشئة الليل هي اشد وطا واقوم قيلا"، اللہ تعالیٰ کا ارشاد
ہے (سورۃ مزمل پ۔29 ع۔1، آیت نمبر:6، میں) پیشک رات میں تجہد کے لے اطعنا نفس کو خوب زیر
کرتا ہے اور اس وقت دعا ہویا قرائت ہویا ذکر طیب دل سے نکلتا اور خوب درست ہوتا ہے۔
تجہد کے لے اطعنا کی فضیلت
In this chapter, encouragement is given to recite Tahajjud, and the reward that one who recites Tahajjud receives is described. And Allah, the Exalted and Glorious, says: “Verily, the rising by night (for prayer) is very hard and most potent in making one straight, and more suitable for the sending forth of speech (to one’s Lord)” (Surah Muzammil, verse 6). It is indicated that during the early part of the night, one exerts great control over oneself to perform Tahajjud, and at this time, supplication, recitation, and remembrance emerge from a tranquil heart and are performed with great correctness.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص سوتا ہے (تو جسے جادوگر جادو سے گر ہیں
گا تو پین، جس کی وجہ سے وہ شخص جس پر جادو کیا گیا ہوا پین مراد سے رک جاتا ہے اس طرح)
شیطان سونے والے کی گلدی پر تین گرہیں لگادیتا ہے (تا کہ وہ تجہد اور ذکر سے رک جاتے) اور ہر گرہ
گا نے کے وقت اس کے دل میں ذلہ ہے کہ اب مجھے بہتر رات باقی ہے سوتے رہو (جسے وہ شخص جس
پر جادو کیا گیا ہے اپنے سے جادو کے اثر کو زائل کر دیتا ہے تو ان جادو کی گرہوں کا اثر باقی نہیں رہتا اور
جواس کا مقصد ہووہ پورا کر لیتا ہے اسیا تی سونے والا جب شیطان کے اس منتر کو کہمجھی رات بری
ہے سوجاؤ" کا پیہ خیال نہ کر کے اپنے دم اٹھ بیٹھتا ہے اور اس وقت کی مسنون دعاوں کو پڑھنے گلنا
ہے تو شیطان کی باندھی ہوئی غفلت کی (چیلی) گرہ کحل جاتی ہے، (پھر شیطان کیتے ہی رہتا ہے کہ
"اہی رات بری ہے ذرا سوجاؤ" وہ اس کی نہ سن کر) وضو کر لیتا ہے تو شیطان کی دوسری گرہ کحل
جاتی ہے (اور پنجاست سے پاک ہو جاتا ہے) (اب شیطان دیکھتا ہے کہ یہ تجہد کو اٹھنے والا میرے
بات کے چلا گیا تو سستی اور سالت اس پر ذلہ ہے تا کہ سی طرح وہ نماز سے رک جاتے اور اگر پی
اس کی نماز کر) نماز کے لیے کہرے نوجوان کی تو شیطان کی ذالی ہوتی تیری گرہ بھی (جوستی اور
کسالت کی تھی) کحل جاتی ہے (اب کیا ہے تجہد کا پڑھنے والا) جب صح کرتا ہے تو تازہ دم اور خوش
خرم اٹھتا ہے (اس لیے کروہ شیطان کی گرہول سے نکل آیا ورغفلت اورستی اس سے دور ہوگئی اور
سب سے برہی چیز یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہو گے، پھراس کی فرحت اور خوشی کا کیا پوچھنا
، اس وجہ سے تجہد پڑھنے والے کے چہرے پر ایک خاص نور انیت ہوتی ہے) اور اگر بیمار نہ ہواور
شیطان کا کہنا 'کہ اگر رات برہی رات سوتے رہو'، کو اگرس لیا، نہ وضو کیا اور نہ تجہد پڑھی تو پینچ
کو جب اٹھتا ہے تو وہ پڑمرده اور ست اٹھتا ہے (نہ تو تجہد پڑہنے والے کی طرح اس کو فرحت
ہوتی ہے اور تجہد گزر کے چہرے کی طرح اس کے چہرے پر نور انیت رہتی ہے) (اس حدیث کی روایت
بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔)
تجہد کے لیے بیمار نہ ہونے والے پرواپیر
Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said:
"When one of you sleeps, Satan ties three knots at the back of his head, striking each knot and saying: 'You have a long night, so sleep.' If he wakes up and remembers Allah, one knot is undone. If he performs ablution, another knot is undone. If he prays, the last knot is undone, and he wakes up energetic and cheerful. Otherwise, he wakes up lazy and in a bad mood." [Agreed upon by Bukhari and Muslim]
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ بنی کریم صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کے سامنے زکرہ آیا کہ ایک شخص رات بھر نہ صادق تک سوتار پہتا ہے تجہد کی نماز کے لیے
نہیں اٹھتا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پر ایسا شخص ہے کہ شیطان اس کے کانوں
میں پیشاب کر دیتا ہے (کہ اس کو خبر ہی نہیں ہوتی کہ رات کتنی گزری اور اس پر غفلت طاری
ہو جاتی ہے اور وہ پڑا سویار پہتا ہے، اس لیے بعض بزرگوں نے فرمایا ہے کہ ایسا شخص جورات بھر پڑا
سوربا ہو کان میں انگلی رکھ کر دیکھے تو کان میں پیشاب کی تری محسوس ہوگی) - (اس حدیث کی
روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔)
عورتوں کو تجہد پڑہنے کی ترغیب
Ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) narrated: A man was mentioned to the Prophet (ﷺ), and it was said: "He slept until morning and did not wake up for prayer." The Prophet (ﷺ) said: "That is a man in whose ear Satan has urinated, or he said: in both ears." [Agreed upon by Bukhari and Muslim]
ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ ایک رات
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کچھ کر آپ نیندے گہرا لے ہوئے اٹھ جین (میں پوچھنا
چاہتا تھا کہ) خود آپ تجب سفر مانے گے "سُبْحَانَ اللّٰهِ"! آج کی رات کیا کیچا ہول کہ
(میری امت کی محتاجی دور ہوگی) اور ان کو بے شمار خزاں دے جارہے ہیں (اور یہی میری امت
پر بھیت برآفت ہے) اور کیا کچا ہول کر طرح طرح کے فتنہ جی میری امت پرنزل ہورہے ہیں
(جس سے فساد اور خون ریزی میری امت میں ظاہر ہوگی) کوئی سے کہ میرے جبرے والیوں
(ازواج مطہرات) کو جگا دے (کہ اب سونے کا وقت نہیں ہے، اٹھو! جاگو! خدا سے گرگرا کر
دعا کیس کرو، اور تجبر پڑھو (تا کہ اللہ تعالیٰ تجبر کی برکت سے مال و دولت اور فساد و خون ریزی کے فتنہ
سے تمام کو پچائے) (مال و دولت کے فتنوں میں سے ایک فتنہ یہ کہ عورتیں نہایت باریک اور قیمتی
لباس پہننے کی جس سے اندر کا جسم ظاہر ہوگا اور خوت اور غرور پیا ہوگا جس کے سبب سے پیقامت
کے دون برہنہ ہیں گی، دنیا میں جتنا غرور کی تحسین آخرت میں اتنا زیل ہوگی) جیسے دنیا میں باریک
لباس پہن کر برہنہ ہیں، ویسے ہی آخرت میں برہنہ رہیں گی - (اس کی روایت بخاری سے کی
ہے)
Umm Salamah (may Allah be pleased with her) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) woke up one night in a state of alarm, saying: 'SubhanAllah! What has been sent down tonight of treasures and trials? Who will wake the women of the chambers (his wives) so they may pray? How many a woman is clothed in this world but will be naked in the Hereafter!'" [Narrated by Bukhari]
_ عبد اللہ بن عمر و بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا: اے عبد اللہ! تم فلان شخص کی طرح نہ ہوجانا جو
رات کو تجبر کے لیے اٹھا کرتا تھا لیکن پھراس نے رات کو تجبر کے لیے اٹھنا چھوڑ دیا (اس لیے کہ اللہ
تعالی کو عبادت پر داومت کرنا پسند ہے اگر چیکہ وہ عبادت تحویلی ہی کیوں نہ ہو) - (اس حدیث
سے معلوم ہوا کہ جو شخص رات کو عبادت کرتا ہو، اس کو رات کی عبادت بالکل ترک کر دیا کروہ
ہے) - (اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پرکی ہے)
پہلی حدیث
Abdullah ibn Amr ibn Al-As (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said to me: "O Abdullah, do not be like so-and-so. He used to pray at night but then abandoned it." [Agreed upon by Bukhari and Muslim]
علیہ وآ لہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہر رات جب کس کا تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے تو ہمارا رب جو برہم برکت والا اور برہمی شان والا ہے، دنیا سے جو قریب آ سکتا ہے اس پر زول اجل فرما تا ہے جس طرح اس کی شان کے لا قہے (نزول فرما نے کے معنی تو معلوم ہیں گراس کی کیفیت، تم کو معلوم نہیں ولا یعلم تا ویلہ الا اللہ، اللہ کے سوا امت میں کوئی اس کی تا ویل او تفسیر کوئی جانتا، یہ تشبہات سے اس پر ایمان لا نا ضروری ہے، اس کی کیفیت معلوم کرنے کی کھونج کرنا جائز نہیں ہے، اس لیے تم ایمان لا تے ہیں کہ پیشک ہمارا رب رات کے آخری تہائی حضرت میں آ سکتا دنیا پر زول فرما کر نہایت محبت سے) ارشاد فرما تا ہے (اس وقت میری رحمت عام ہے): ہے کوئی جو مجھ سے دعا کرے اور میں اس کی دعا قبول کروں؟ ہے کوئی جو مجھ سے ما لگ اور میں اس کو عطا کروں؟ ہے کوئی ایسا گناہگار (جو گناہوں کی وجہ سے نا دم و شرم مندہ ہے۔ اس کو میری رحمت سے مایوس نہ ہونا چاہے) وہ گناہوں کی معافی چاہے تو میں اس کے گناہوں کو معاف کرنے کے لے تیار ہوں۔
Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Every night, our Lord, the Blessed and Exalted, descends to the lowest heaven when the last third of the night remains, saying: 'Who is calling upon Me so that I may answer? Who is asking of Me so that I may give? Who is seeking My forgiveness so that I may forgive?'" [Agreed upon by Bukhari and Muslim]
In a version by Muslim: "Then He spreads His hands and says: 'Who will lend to One who is neither poor nor unjust?' until dawn breaks."
(اس کی روایت بخاری اور مسلم میں متفق طور پرکی ہے)
فرما تا ہے: ہے کوئی ایسا شخص جو قرض دے اس ذات کو جو محتاج نہیں ہے (قرض کی ادائیگی اس پر بار نہیں) اور نہ وہ خالم ہے (کر قرض کی ادائیگی پر قدرت رکن کے باوجود قرض ادا نہ کرے، اے قرض دین والے ہم تیرے قرض کو دوگنا، تگنا اور کئی گنا بڑا ہاکر پھر تجھ کو دیں گے اس وقت تجھ کو معلوم ہوگا
کہ بھی کسی دین والے سے قرض کچھ ادا کریں گے اور اس کے صلہ میں تجہ وہ وہ نعمتیں دیں گے جس کو نہ تو تیری آنکھوں نے دیکھا اور نہ تیرے کانوں نے سنائے! کیا تو سمجھا کہ تم تجہے جو قرض ماںگ رہے ہیں اس سے ہماری مراد کیا ہے۔ تم چاہے جو کرتو نہیں رات کرو، قرض کا لفظ اس لئے کہہ رہے ہیں کہ تیرا نہیں رات کرنا، تیرا روپیہ ضائع کرنا نہیں ہے، نہیں، نہیں! اس نہیں رات کو جو تو تم کو دے گا قرض بھی، تم اس کو بہت برطہا کر دیئے پھر لو تا دیئے گے اور آخرت میں کچھ نا برطہا کراس کا صلہ دیئے گے) اس وقت میں طرح طرح کے ارشادات ہوتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ کچھ صادق طلوع کرتے ہیں۔
He said: 'Is there any person who gives a loan to someone who is not in need (for whom the burden of repayment is not heavy) and who is not poor (who does not fail to repay the loan despite having the means to do so)? O giver of the loan, We will return your loan doubled, tripled, and many times over. At that time, you will realize that you will repay something to the lender, and in connection with this, We will bestow upon you blessings that neither your eyes have seen nor your ears have heard! Do you understand what We mean by asking you for a loan? Whatever you do, do not worry; the word 'loan' is used here to mean that you should not worry, that you will not lose your money, no, no! This non-repayment, which you will give as a loan, you will also treat very well, then take it back, and in the Hereafter, you will receive even more in return for treating it well.' Thus, various instructions continue, and some sincere revelations appear.'
عمر بن عبسہ رضی اللہ عنه سے روايت ہے و فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وآله وسلم نے ارشاد فرمايا: اللہ تعالیٰ (یون توہر بندے کے رب گرون سے زیادہ قریب ہے گمر) آخری تہائی رات میں اپنے بندے سے بہت نی قریب ہوجاتے ہیں (کیا کہول کیے قریب ہوجاتے ہیں، ایا قریب ہوتے ہیں جسیا کران کی شان کے سزاوار ہے، یہی مشاہدات ہے، قریب ہوتے نے کے معنی معلوم ہیں گر اس کی کیفیت معلوم نہیں، تم ایمان لاۓ ہیں کر رات کے آخری تہائی حضرت اللہ تعالیٰ تم سے بہت نی قریب ہوجاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے تجہ اس طرح قرب حاصل ہوگیا ہے، اس کو تو غنیمت جان! اس لئے) اگر تجہے ہو سکے تو اس وقت اللہ کے ذکر کرنے والوں میں ہو جا (پھر تو کہاں اور پقر ب کہاں!)۔
(اس حدیث کی روایت تنزیل کی ہے۔)
This hadith is transmitted by Tanzeel.
ابوامہ رضی اللہ عنه سے روايت ہے و فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه
وآ لہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ یارسول اللہ! وہ کونسا وقت ہے جس میں دعا ئتمام اوقات سے زیادہ قبول ہوتی ہے تو حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: رات کے آخری تہائی حصے میں دعا بہت جلد قبول ہوتی ہے اور ایسا، یہ فرض نماز کے بعد جودعا کی جائے ہے وہ بھی بہت جلد قبول ہوتی ہے۔ (اس کی روایت ترندي نے کی ہے۔)
Abu Umamah (may Allah be pleased with him) narrated: It was asked: "O Messenger of Allah, which supplication is most likely to be answered?" He said: "During the last third of the night and after the obligatory prayers." [Narrated by Tirmidhi]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم کو ارشاد فرما تے سنا ہے (بارہ رکعت سے موکدہ جودن رات میں فرا ض کے ساتھ پڑھی جاتی ہیں، ان کی فضیلت کا کیا کہنا، سیر بارہ رکعت فرا ض کے مکملات ہیں اس سے بڑھ کر ان کی اور کیا فضیلت ہوسکتی ہے) فرا ض (اور ان کے توانح موکدہ سننول کے) سوارات دن کے باقی تمام نوافل سے تہجد جورات کے آخری تہائی حصے میں پڑھی جاتی ہے افضل ہے (اس لے کہ تہجد نفس پربہت شاق ہوتی اور اس میں ریاضہ بھی ہے)۔ (اس حدیث کی روایت امام احمد نے کی ہے۔)
رات میں ایک گھڑی ایسی ہے جس میں دعا قبول ہوتی ہے
I heard the Messenger of Allah ﷺ say: 'Twelve rak'ahs of voluntary prayer at night, along with the obligatory prayers, are so emphasized that what can be said about their virtue? The twelve rak'ahs complete the obligatory prayers; how can there be any greater virtue than this? The voluntary prayers (and their confirmed sunnahs) are better than all other voluntary prayers performed during the remaining part of the night, especially the last third of the night, when the tahajjud prayer is performed, as it is the most excellent (because tahajjud is very difficult and also involves self-discipline).' (This hadith is narrated by Imam Ahmad.) There is an hour in the night when supplication is accepted.'
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم کو ارشاد فرما تے سنا ہے کہ جومسلمان چاہتا ہے کہ اپنی دعا قبول ہوتا اس کو یاد رکھنا چاہے کہ رات ایک گھڑی ایسی آتی ہے کہ اس میں ضرور دعا قبول ہوتی ہے، چاہے دنیا کی بجلائی ماگیسیا آخرت کی۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: I heard the Prophet (ﷺ) say: "There is an hour during the night in which no Muslim asks Allah for good in this world or the Hereafter except that He grants it, and this occurs every night." [Narrated by Muslim]
عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم کو ارشاد فرما تے ہوئے سنا ہے کہ داودعلیہ السلام کارت میں
ایک وقت ایام مقرر ہوا جس میں آپ خود کہی عبادت فرما تے اور اپنے گھر والوں کو بھی جگا تے تھے اور فرما کرتے تھے: اے داود کے گھر والو! اٹھو! جا گو! نماز پڑھو ( کیا تم کو پچھا معلوم ہے کہ یہ کیسا وقت ہے ) اس وقت اللہ تعالیٰ عبادت کرنے والے کی عبادت اور دعا کرنے والے کی دعا قبول فرما تے ہیں ( ایسے مبارک وقت کو غفلت میں مت ضائع کرو، بلکہ اس میں قبول وقت میں جگا دو گر کی دعا و رزم سے چنگی وصول کرنے والے کی دعا قبول نہیں فرما تے - ( یہ دونوں چیزیں اللہ تعالیٰ کو غضب میں لا تی ہیں اور مقبولیت وقت کا بھی ان پر اثر نہیں کرتا ) -
( اس کی روایت امام احمد نے کی ہے - )
پہلی حدیث
Uthman ibn Abi Al-As (may Allah be pleased with him) narrated: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: "Prophet Dawud (David) had a time during the night when he would wake his family, saying: 'O family of Dawud, rise and pray, for this is the hour when Allah answers supplications, except for a sorcerer or a tax collector.'" [Narrated by Ahmad]
ابوبامرضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرما کر مسلما نو! تہجد ضرور پڑھا کرو ( تم کوخبر نہیں کر ) تم سے پیلے جوسا لحین گزر ہیں تہجد پڑھنا ان کا طریقہ خاص تھا اسے وہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرتے تھے ( تم تو خیر الامم ہو، تم بھی تہجد ضرور پڑھا کرو ) تہجد سے تم کو اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوگا اور اسی تہجد کی وجہ سے تم سے برائیا ل دور ہو لگی ( اور تہجد کا ایک خاص اثر یہ ہے کہ ) یہ تم کو گناہوں سے روکے گی -
( اس کی روایت ترمذی نے کی ہے - )
دوسرا حدیث
The Messenger of Allah ﷺ instructed: 'O Muslims! You must certainly perform the night prayer (Tahajjud). You do not know what happened before you; those who came before you used to perform the night prayer as a special practice to attain nearness to Allah Almighty. And you are the best of nations; you too must certainly perform the night prayer. By performing Tahajjud, you will attain nearness to Allah Almighty, and because of this Tahajjud, evil will be kept away from you. And one of the special effects of Tahajjud is that it will prevent you from sins.'
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرما یا: تین طرح کے لوگ ہیں ( جن پر اللہ تعالیٰ کمجبت آئی ہے اور ان سے راضی ہوگر وہ جو تین کام کر رہے ہیں ) ان کو کیا کر اللہ تعالیٰ پشت ہیں، جس طرح ان کی شان کے
سر اوار ہے (پیر بھنسا اللہ تعالی کی خوشنوودی اور راضی ہونے کی علامت ہے، اللہ تعالی کا بھنسا مجی
متشابہات سے ہے، تم اس پر ایمان لائے جیس، پیشک اللہ تعالی ہستے ہیں، مہنے کے معنی تو معلوم ہیں
گمراس کی کیفیت معلوم ہیں، کیسے خوش تقدیر ہیں وہ لوگ جن سے اللہ راضی ہو کر بھنسین، جن کو دیکھ کر
اللہ تعالی ہستے ہیں ان میں) ایک تو وہ شخص ہے جو رات کے وقت (نیند کو دور کر کے نزم باسترے اٹھ کر
محمد اللہ تعالی کو راضی کرنے کے لئے) تہجد پڑھنے کے راہو، دوم رہے جن کو دیکھ کر اللہ تعالی ہستے ہیں
وہ لوگ جیس جونماز کے لئے صف بندی کرتے ہیں (یعنی بندری اللہ تعالی کو نہایت پیاری معلوم
ہوتی ہے ان کے فعل کو پسند کر کے اور ان سے راضی ہو کر اللہ تعالی ہستے ہیں) تیسرے جن کو دیکھ کر
اللہ تعالی ہستے ہیں وہ لوگ جیس (جو محمد اعلاء کلمة اللہ کے لئے جان پر کھیل کر) اللہ کے دشمنول سے
لڑنے کے لئے ان کے مقابلہ میں صف بستے ڈالے ہوئے کٹرے رہتے ہیں -
(اس کی روایت امام بخوی نے ثرواح السنن میں کی ہے -)
تہجد کے لئے رغبت دلانے کی فضیلت
پہلی حدیث
Abu Sa'id Al-Khudri (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Allah smiles at three people: a man who rises at night to pray, a group of people who line up for prayer, and a group of people who line up to fight the enemy." [Narrated in Sharh al-Sunnah]
ابوبهریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالی اس شخص پر اپنی رحمت بھیج جو نو دیکھ کر تہجد کے لئے اٹھتا ہے اور
تہجد پڑھتا ہے اور پیوی کو (و کیتا ہے کہ تہجد کی بہ یا ستی سے تہجد کے لئے نہیں اٹھ رہی ہے تو اس
کو) جگانے کی کوشش کرتا ہے وہ جسی اٹھ کر تہجد پڑھنے کے لئے کٹری ہو جائی ہے تو بہتر ہے اگر وہ
غلب نیند کی وجہ سے نہ جاگے تو اس کے منہ پر پانی چھڑ کر نیند سے جگاتا ہے، اللہ تعالی اس عورت پر
بھی اپنی رحمت بھیج جو نو دیکھ کر تہجد کے لئے اٹھتی ہے اور تہجد پڑھتی ہے خاوند کو دیکھتی ہے کہ تہجد کیا
ہے یا ستی سے تہجد کے لئے نہیں اٹھ رہی ہے تو اس کو) جگانے کی کوشش کرتی ہے اگر وہ جاگے گیا اور
تجد پڑھنے کے لئے کہرا ہوگیا تو بہتر ہے اگر وہ غلبہ نیند کی وجہ سے نہ جائے تو اس کے منہ پر پانی
چھڑک کر نیند کے جگانے میں (ماشاء اللہ کیسا اچھا شوہراور کسی اچھی بیوی ہے! اس سے معلوم ہوتا ہے
کہ ان دونوں میں کس محبت اور اتفاق سے گزر رہی ہے، یہ دونوں اللہ کی عبادت کے لئے کیسے آپس
میں ایک دوسرے کی مد کرتے ہیں)۔(اس حدیث کی روایت ابوداوداورنسائی نے کی ہے۔)
دوسری حدیث
Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "May Allah have mercy on a man who rises at night, prays, and wakes his wife to pray. If she refuses, he sprinkles water on her face. May Allah have mercy on a woman who rises at night, prays, and wakes her husband to pray. If he refuses, she sprinkles water on his face." [Narrated by Abu Dawud and Nasa'i]
_ ابوسعید اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما دونوں روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب کوئی شخص نیند کے تجربے کے لئے خود کو اختیار کرتا ہے اور اپنے اہل
وعیال کو جگا کرتا ہے اور پیسبل کرتے ہیں (آٹھ رکعت پڑھیں یا کم سے کم) دو رکعت، یا پڑھیں
تو اللہ تعالی مردون کا نام ذاکرین میں لیجن ان لوگوں میں جو اللہ تعالی کا بہت ذکر کرتے ہیں اور
عورتوں کا نام ذاکرات میں لیجن اللہ تعالی کا کثرت سے ذکر کرنے والیوں میں لگھدیتے ہیں، تجربہ کا
کیسا مبارک وقت ہے کہ یہ عبادت سے بہت عبادت کا ثواب ملتا ہے)
(اس حدیث کی روایت ابوداوداورابن ماجہ نے کی ہے۔)
تیسری حدیث
Abu Sa'id and Abu Huraira (may Allah be pleased with them) reported: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "When a man wakes his family at night and they pray two rak'ahs together, they are recorded among the men and women who remember Allah abundantly." [Narrated by Abu Dawud and Ibn Majah]
_ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد حضرت عمر
بن خطاب رضی اللہ عنہ کی عادت تھی فتحی کہ وہ رات کو تجربے کے لئے بیمار ہوتے اور جتنی رکعتیں اور
جتنا وقت مقدر میں کھڑا ہوتا اس کو پورا کرتے پھر جب ویسے کہ پہلی رات ہوگی سے تو اپنے اہل و
عیال کو جگا کرتے اور فرماتے (اٹھو! اٹھو! اب سونے کا وقت نہیں! جاگو! جاگو! رحمت کے خزاں لٹ
رہے ہیں) تم بھی نماز پڑھو (اور خدا کی رحمت حاصل کرو! اگر اوقت پھر باتھا نا نہیں) پھر (سورۃ ط
پ16 ع8 کی) اس آیت کو تلاوت فرماتے: وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلَاةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا،
لا نَسْئَلْكَ رِزْقًا، نَحْنُ نَرْزُقُكَ، وَالْعاقِبَةُ لِلتَّقْوَىٰ . (میں تم کواس لے جگار باہول
تاکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل ہوجائے الستقالی فرماتے ہیں) اپنے ہروالون پرنمازی تاکید کرو،
اور خود بھی اس کے پابند رہو (ویہود نیا کے ماک اپنے غلامون سے کہتے ہیں کہ ہماری روزی
کما کر لاوتم ایسے ماک نہیں ) تم تجہے اپنا رزق نہیں ماگتے تم خود تم کوروزی دیتے ہیں (تم تو
تم سے صرف اپنی عبادت کا مطالبہ کرتے ہیں وہ بھی تہمارے ہی فانکے کے لے، اس لے تم
عبادت کر کے ویہوگے کہ ) جنت اور جنت کی ساری نعمتین متقوین کے لے ہیں یعنی ہماری
عبادت کرنے والون کو،ی ملیس گی - (اس وقت ہماری عبادت کرنے کو یاد کرو گے اور پچھتاوگے
کہ تم نے اس سے زیادہ عبادت کیون نہیں کی، ایسے وقت پچھتا نا کونی فانکہ نہیں دے گا اب
وقت سے کہ جتنی جاہو عبادت کرلو)- (اس کی روایت امام ماک نے کی ہے-)
تجدیدی فضیلت
پہلی حدیث
Ibn Umar (may Allah be pleased with him), who reported that his father, Umar ibn Al-Khattab (may Allah be pleased with him), would pray at night as much as Allah willed. When the last part of the night came, he would wake his family for prayer, saying to them: "Pray!" Then he would recite this verse: "And enjoin prayer upon your family and be steadfast therein. We ask you not for provision; We provide for you, and the best outcome is for the righteous." (Taha, 20:132) [Narrated by Malik]
ابو ماک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (ایک
روز) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے کہ جنت میں بالا خانے ہیں (ان کی لطافت و
صفات کیا کہون ایسے شفاف ہیں) کہ جن کے اندر کی چیزیں باہر سے اور باہر کی چیزیں اندر سے
نظر آتی ہیں (کسی نے عرض کیا: حضرت! کیا خوش تقدیر ہوگا وہ شخص جس کو ملیس گے، اگر پیکوش
سے مل سکتا ہیں تو، تم بھی کوشش کریں گے، ارشاد ہو کہ پیس کو ملیس گے؟) حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے ارشاد فرمایا: (کوئی خاص مرتبہ کے لوگوں کے لے ہی بالا خانے نہیں ہیں بلکہ ہر ایسے شخص
کے لے ہیں جو ان صفات سے متصف ہو، جو زیل میں آرہے ہیں وہ صفات ہی ہیں کہ) وہ خوش
اخلاق ہو، اور شیری کلام ہو (اس کے نزم لیجے اس کی خوش اخلا قی کا پہلا ہو اس کی مزاح
میں سخاوت ہو کر محتاج کو ) کہا نا کہ لاتا ہو (اور مہمانوں کی خاطر داری کرتا ہو ) اکثر نفل روزہ رکھا کرتا ہو (اور کم از کم ایام بیض لیمن برماہ بلا لی کی 15/14/13 کے روزہ رکھا کرتے )اور رات کو اٹھ کر تہجد پڑھا کرتا ہو، نیند کے ایسے غلبہ کے وقت میں جبکہ اور لوگ سورہ ہول (اور پیغدا کے سات من با تم باندہ کر کر اہواہ )- (اس کی روایت نہیں نے شعب الایمان میں کی ہے -)
Abu Malik Al-Ash'ari (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "In Paradise, there are rooms whose outside can be seen from inside and whose inside can be seen from outside. Allah has prepared them for those who speak kindly, feed others, fast regularly, and pray at night while people are asleep." [Narrated by Bayhaqi in Shu'ab al-Iman]
Tirmidhi narrated a similar hadith from Ali (may Allah be pleased with him), with the wording: "For those who speak good words."
اور ترنڈی نے کہی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اس طرح روایت کی ہے -
دوسری حدیث
Another hadith
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں (اکی دن عجیب واقعہ ہوا،ہم سب بیٹھے ہوئے ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے تشریف فرما ئیں )اکی صاحب آئے اور کہنے لگے حضور ! (اکی شخص کی حالت پر بہت افسوس ہوتا ہے )وہ پابندی سے تہجد پڑھتا ہے اور نہ ہوتے ہوئے چوری مجھی کرتا ہے (پیس کر )حضر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما ئیں : (یول توہر نماز آہستہ آہستہ برگناہ چھڑا دینے سے گمر تہجد میں ایک خاص اثر ہے، تہجد کے دل میں ایک نور انیت پیا ہو نا ثروت ہوتی ہے جسے جسے یقین انیت برہتی جاتی ہے ویسے ویسے تہجد پڑھنے والے کے دل میں گناہول سے نفرت پیدا ہوتی ہے الیا ئی )اس شخص کو (تم دیکھو گے کہ ایک دن ایا آئے گا کر )تہجر (کی نور انیت )اس سے چوری چھڑا کر رہے گی -(اس کی روایت امام احمد نے کی ہے اور تہجد کے اس کی روایت شعب الایمان میں کی ہے -)
تیسری حدیث
Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrated: A man came to the Prophet (ﷺ) and said: "So-and-so prays at night, but when morning comes, he steals." The Prophet (ﷺ) said: "What you say will deter him." [Narrated by Ahmad and Bayhaqi in Shu'ab al-Iman]
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرما ئا : (دنیا والون کے پاس بری عزت ان کی ہے جن کے پاس مال و دولت ہو،اور حکومت ہو،اور اللہ کے پاس )میری امت میں اشرف لیمن برے عزت والے وہ ہیں جو
باعمل حافظ ہون پر تجڑگز اربول (اس سے قرآن یاد کرنے کی اور شب بیداری کرنے کی فضیلت
معلوم ہوتی ہے)۔ (اس کی روایت تہقیق نے شعب الایمان میں کی ہے)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز تجڑ کا بیان
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said:
"The noblest of my Ummah are the bearers of the Quran and those who pray at night."
[Narrated by Bayhaqi in Shu'ab al-Iman]
_ مغیرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کی تجر کیا کہون کیسے تجر تھی؟) تجر میں قیام اس قدر طویل ہوتا تھا جس کی وجہ سے قدم
مبارک پروزم آجاتا تھا (آپ کی اس مشقت کو دیکھ کر) صحابہ نے عرض کیا: حضور! اس قدر مشقت
کیون انہا تے ہیں آپ کے اگلے پچلے گناہ تو معاف کردیے گے ہیں (پھر اتنی مشقت کی کیا
ضرورت ہے) تو حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: صاحب! (کیا گناہوں کی مغفرت، یہ
کے لئے ریاضت کی جاتی ہے اور مشقت انہائی جاتی ہے، نہیں! نہیں! اس کے سوا اور کچھی بہت سے
مواضع ہیں جہاں کی وجہ سے مشقت انہائی جاتی ہے، مجھ پر اللہ تعالی کے بے گنتی احسانات ہیں اور مجھ کو
اللہ تعالی سے اس قدر نعمتین ملی ہیں کہ ان کا شکر اس طرح کی عبادت سے کیا کرتا ہوں) کیا میں اس
قدر عبادت کرے اللہ تعالی کا شکرگزار بندہ نہ بنوں؟ (اللہ تعالی کو جی آپ کی اس مشقت کی برداشت
قدرتی، اس لئے ارشاد ہوا) (سورۃ طہ 16ء1، آیت نمبر:1-2) طہ۔ مَا أَنزَلْنَا عَلَیکَ
الْقُرْآنَ لِتَشْقَی۔ میرے پیارے بی (آپ کے جسیا کو نے شکرگزار بندہ نہیں، آپ کا عبادت میں
پی مشقت انہا نہیں ہے دیکھا نہیں جاتا) تہم آپ پراس لے قرآن نہیں اتا رے ہیں کہ آپ اس
قدر مشقت انہا نہیں)۔ (اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم میں متفرق طور پر کی ہے)
حضرت داود علیہ السلام کی تجرداور فل روزوں کا بیان
Al-Mughirah (may Allah be pleased with him) narrated: The Prophet (ﷺ) stood in prayer so long that his feet swelled. It was said to him: "Why do you do this when Allah has forgiven your past and future sins?" He replied: "Should I not be a grateful servant?" [Agreed upon by Bukhari and Muslim]
_ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (یہ تو اور لوگ بھی تجر پڑھا کرتے ہیں گر) حضرت داود علیہ
پڑھتے تھے اس کو سنے: آپ رات کے چھٹے کرے۔ آدھی رات لیجئے پہلے تین حصوں میں (اوراد و وظائف کے بعد) سوجائے تھے، اوراس کے بعد کا چوتھا اور پاچواں حضرت نے دو علیہ السلام کے پچھے حضرت میں سوجائے (اور چھ صادق ہوتے، یا انہوں جائے تھے۔ اب حضرت داود علیہ السلام کے نفل روزوں کی کیفیت سنے:) آپ ایک دن نفل روزہ رکھتے اور ایک دن روزہ چھوڑ دیتے (کیونکہ تو پیر آسان ہے گرآن پر عمل کرنے دیکھتے تو معلوم ہوگا کہ یہ پرس قدرشاق ہیں، اب رہی بات کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے تجد کیون نہیں پڑھے اور ایسے روزے کیون نہیں رکے؟ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر عمل کرتے تو امت کے لئے پیسنت ہو جاتا، ہر تجد پڑھنے والے کو اس طرح کرنا پڑتا، اور ہر نفل روزہ رکھنے والے کو اس طرح روزے رکھنا پڑتا۔ آپ رحمۃ للعالمین ہیں، آپ نہیں چاہتے کہ امت کو اس طرح مجبوکریں اور مشقت میں ڈالیں، اس لئے خود اس پر عمل نہ کرنے امت کو یتا دیتے کہ تم کو جس طرح آسان ہو تجد پڑھو اور جس طرح تمہارے لئے نفل روزے رکھنے میں سہولت ہو اس طرح روزے رکھو! بات بات میں آپ جو سہولت رکھیں اس سے دل چاہتا ہے کہ آپ پر قرآن ہو جائیں)۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متقدم طور پر کی ہے۔)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز تجد کا بیان
Abdullah ibn Amr (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "The most beloved prayer to Allah is the prayer of Dawud (David), and the most beloved fasting to Allah is the fasting of Dawud. He would sleep half the night, stand in prayer for a third of it, and sleep for a sixth of it. He would fast one day and break his fast the next." [Agreed upon by Bukhari and Muslim]
_ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے روایت کی آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ (عشاء کی نماز کے بعد اوراد وظائف سے فارغ ہو کر جن کو آپ عشاء کی نماز کے بعد پڑھا کرتے تھے) آدھی رات تک آرام فرما تے تھے، پھر آخری
نصف رات میں آپ کی تھوڑی مختلف اوقات میں ( کچھ کسی وقت اور کچھ کسی وقت ) تھوڑی پڑھنے
کے بعد اگر جماعت کی حاجت ہوتی تو جماعت سے فارغ ہوجاتے، چھررات کے ( چھ حضرت ) آرام
فرماتے ( تاکہ کی فرض اوراس کے بعد کے وظائف میں تھکان نہ ہو، اور نشاط حاصل رہے )۔ چھر
صبح کی اذان ہوتی تو آپ فوراً بیدار ہوجاتے اور اگر جنازت کی حالت میں ہوتے تو عسل سے
فارغ ہوجاتے اور اگر جنازت کی حالت نہ ہوتی تو وضو فرما تے اور صبح کی دو سنن اداء کر کے فجر کی
لے باہر تشریف لے جاتے - ( اس کی روایت بخاری اور مسلم میں متفرق طور پر ہے - )
The blessed habit of the Messenger of Allah ﷺ was that after the 'Isha prayer and completing the supplications he used to recite after the 'Isha prayer, he would rest until half the night. Then, at different times during the latter part of the night (some at one time and some at another), he would recite a little. If there was a need for the congregation, he would attend to it, and then he would rest again (so that he would not become tired in the obligatory prayers and the supplications after them, and to maintain his energy). When the Fajr adhan was called, he would immediately wake up. If there was a funeral, he would attend to it; if there was no funeral, he would perform wudu and pray the two Sunnah rak'ahs of Fajr, and then go out to lead the Fajr prayer. - (This narration is found separately in Bukhari and Muslim.)