Nūr al-Maṣābīḥ
بَابُ مَا يُقُولُ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ

What to Say When Rising at Night
Volume 3 · Prayer

(اس باب میں ان اذکاراورو عاول کا ذکر ہے جن کا پڑھنارات میں اٹھ کرتے ہراداء کر نے

والے کے لئے مسنون ہے)

وقول اللہ عزوجل: "وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ" اور اللہ تعالیٰ کا رشاد ہے (سورۃ مزمل

پ 29 ع 1، آیت نمبر: 8 میں) (اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دن میں تو تبلیغ اسلام میں

مصر و فیت کی وجہ سے آپ کو بہت مشغلم رہتا ہے اس لئے رات کو اٹھ کر) اپنے پروردگار کا نام لیتے

اور اس کو یاد کرتے رہتے۔

تہجد کی مسنون دعا کا بیان

پہلی حدیث

This chapter mentions the invocations and prayers that are recommended for those who rise at night to worship.

And Allah, the Exalted, says: “And remember the name of your Lord” [Surah Muzzammil, verse 8]. And Allah, the Most High, guides (O Prophet ﷺ) that during the day, you are preoccupied with the propagation of Islam and its demands, so it is recommended to rise at night to remember and invoke the name of your Lord.

Narration of the recommended prayer for Tahajjud:

The first Hadith

1835

وآلہ وسلم جب رات تہجد کی نماز پڑھنے کو تیجھے تو (نماز تہجد شروع کرنے سے پہلے) یہ دعا پڑھتے-

"اللہُمَّ لَکَ الْحَمدُ أَنتَ قَیِّمُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِیهِنَّ. وَلَکَ الْحَمدُ

أَنتَ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِیهِنَّ. وَلَکَ الْحَمدُ أَنتَ الْحَقُّ. وَعُدْکَ الْحَقُّ.

وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِیهِنَّ. وَلَکَ الْحَمدُ أَنتَ الْحَقُّ. وَعُدْکَ الْحَقُّ. وَلَقَاوْکَ

حَقُّ. وَقَوْلُکَ حَقُّ. وَالْجَنَّةُ حَقُّ وَالنَّارُ حَقُّ. وَالنَّبِیُّونَ حَقُّ. وَمُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَیْهِ

وَآلِهِ وَسَلْمُ حَقُّ. وَالسَّاعَةُ حَقُّ. اللَّهُمَّ لَکَ أَسْلَمْتُ وَبِکَ آمَنْتُ وَعَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ.

وَالیکَ آنْبُتُ وَبِکَ خَاصَمْتُ وَالیکَ حَاکُمْتُ فَاغْفِرْ لی".

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ

اے اللہ! ہر طرح کی تعریف آپ سے ہے، آسماں و زمین و اور جتنی چیزیں

ان میں ہر آپ پے ان سب کے سنچالن والے اور ان کا نظام کرنے والے ہیں۔ اور بھٹرح حضرت آپؓ کو سزاوار ہے، آسانول، زمینول اور جنتی چیزیں ان میں ہیں سب کے آپ پورے ہیں۔ ان سب کو عدم کی ظلمت سے نکال کروجود کا نور عطا کرنے والے آپ پے ہیں۔ اور بھٹرح حضرت محمد آپ پے کوسزاوار ہے، اور آسانول، زمینول اور جنتی چیزیں ان میں ہیں ان سب کے باشہآپ پے ہیں۔ کونی آپ پے باشہ ہے تو شریک نہیں ہے اور کونی آپ پے باشہ ہے تو انکار کرنے والا نہیں ہے۔ اور بھٹرح حضرت محمد آپ پے کوسزاوار ہے۔ آپ پے حق ہیں لیجن آپ پے موجود ہیں۔ اور آپ پے جودلا زوال ہے کہ کچھ معدوم نہیں ہوں کا اور آپ پے سب معدوم ہیں۔ اور آپ پے وعدہ سپاہے لیجن آپ پے جودعده اپنے بنڈگان خاص سے دنیا میں مد کرنے کا اور آخرت میں ثواب دینے کا کیا ہے سپاہے کہ کچھ آپ پاس کا خلاف نہیں کرتے، اور آپ پے ملنے ہے کچھ دنیا سے دارآخرت کی طرف آنا اور پچھر و بالآپ پے کا دیار ہونا برحق ہے۔ آپ پے جوفر ماتے ہیں وہ بالکل پچھ ہوتا ہے۔ کچھ اس کا خلاف نہیں ہوتا۔ اور پیشک جنت کا موجود ہونا اور دوزخ کا موجود ہونا حقیقت ہے۔ سب نہیں برحق ہیں۔ اس لے تم سب پر ایمان لائے ہیں۔ اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں ہیں، اس لے تم راگل اور پچھلے کو آپ پر ایمان لانا ضروری ہے۔ اور قیامت کا آنا اور جواں میں ہوں والا ہے وہ سبقہے۔ اے اللہ! میں آپ پے کا تابعدار ہول اور آپ پے کے سامنے سر نیاز جھکا یہواہول۔ اے اللہ! میں آپ پے پر ایمان لا یہول۔ اور میں آپ پے پرتو کل کرتا ہول۔ میں بھجر وسر کرتا ہول اور میں آپ پے کی طرف رجوع کرتا ہول۔ میں نے اپنے نفس کے لئے کسی سے جھکتا نا چھوڑ دیا ہے۔ اور جب کچھ جھکتا ہول تو آپ پے کے لئے اور آپ پے کے دین کے لئے آپ پے کی مد لے کر جھکتا ہول۔ اے میرے اللہ! میں آپ پے کو اپنا حاکم جھکتا ہول، دینی اور دنیوی ہرام کو آپ پے سامنے فضیل کے لئے پیش کرتا ہول۔ (واضح ہو کہ یہ حال

گناہول سے مغفرت کی جودعاہو امت کے تعلیم کے لے بے، حضور علیہ صلاۃ اللہ معصوم ہو نے کی تحقیق نورالمصابیح، حضر دوم صفحہ 376 میں گزرچکی ہے–12)

"مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا نْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّی أَنْتَ

الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ"

(اے اللہ میں گناہ نہ کرنا تھا کیا، اب آپ کو میں اپنا حاکم بھیتاہوں، آپ کے سوا کوئی گناہ معاف نہیں کرسکتا اس لے) اس لے آپ پیرے اے گل پچلے پچے ہو نے اور ظاہری اور حق کو مجھے سے زیادہ آپ جانتے ہیں، ان سب گناہول کوآپ ایامعاف کچے کر میں گناہول سے ایاپاک ہوجاول جسے مال کے پیٹ سے پیداہو نے کے وقت پاک تھا (یا س لے عرض کر پاہول کرآپ پ جو کرنا چاہیں اس کو کوئی رونے والانہیں) جس کو چاہیں آپ آگے کر سکتے ہیں اور جس کو چاہیں آپ پ چچےوال سکتے ہیں، آپ میں میرے معبود ہیں آپ کے سوا کوئی معبود نہیں –

(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے–)

الیضاً وسری حدیث

Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated: "When the Prophet (peace be upon him) stood at night for Tahajjud, he would say: 'O Allah, to You is all praise. You are the Sustainer of the heavens and the earth and all that is within them. To You is all praise. You are the Light of the heavens and the earth and all that is within them. To You is all praise. You are the King of the heavens and the earth and all that is within them. To You is all praise. You are the Truth, Your promise is true, the meeting with You is true, Your word is true, Paradise is true, Hell is true, the Prophets are true, Muhammad is true, and the Hour is true. O Allah, to You I have submitted, in You I have believed, upon You I have relied, to You I have turned, for Your sake I have disputed, and to You I have appealed for judgment. Forgive me for what I have sent ahead and what I have left behind, what I have concealed and what I have declared, and for what You know better than I. You are the One who brings forward and delays. There is no god but You, and there is no god besides You.'" [Agreed upon]

It is clear that this state of affairs, where forgiveness for sins is sought through the intercession of the Ummah, has been discussed by the Holy Prophet ﷺ, as mentioned in Nur al-Masabih, second volume, page 376 - 12:

"What I have done before and what I have delayed, what I have kept secret and what I have made public, and what You know better than I do, You are the One who brings forward and You are the One who delays. There is no god but You, and there is no deity other than You."

(O Allah, I have not committed any sin intentionally; now I turn to You as my Lord, for none can forgive sins except You.) Therefore, You are the One who forgives all my past and future sins, both hidden and apparent, and You know better than I do. Forgive all my sins so that I may be purified from them, just as I was pure when I was born from my mother’s womb (or as I will be when I am presented to You, doing whatever You wish, without any weeper among those who weep). You can advance whomever You will and delay whomever You will. You are my Lord, and there is no deity other than You.

(This hadith has been narrated by Bukhari and Muslim with mutual agreement.)

This is the second hadith.

1836

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت سے آپ فرماتے ہیں کہ بنی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات جب تجد کی نماز پڑھنے کے لے ہوتے تو (تکبیر تک پیرے کے بعد) نماز کے شروع میں پیداپڑھا کرتے تھے:

"اللہُمَّ رَبَّ جَبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَإِسْرَافِيلَ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَیْبِ وَالشَّهَادَةِ أَنْتَ تَحْکُمُ بَیْنَ عِبَادِکَ فِیمَا کَانُوا فِیهِ یَخْتِلِفُونَ . اِهْدِنِی لِمَا اخْتَلَفَ فِیهِ مِنَ الْحَقِّ بِاذِنِکَ . اِنَّکَ تَهْدِی مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ".

ترجمہ: اے اللہ! اے جبریل و میکائیل اور اسرافیل کے رب! اے آسماں اور زمینوں کے

پیدا کرنے والے! اے غیب اور شہادت کا علم رکھنے والے آپ، یہ اپنے بندرول کے درمیان فیصلہ کرنا والے جین ان باتوں میں کی جن میں اختلاف کرتے ہیں (اس لئے) آپ اپنے حکم سے حق میں جو اختلاف ظاہر دیا گیا ہے ان (امور) میں میری رہبری فرمائیے اپنے حکم سے (اور آپ پر بھی مشکل نہیں ہے) آپ جس کو چاہتے ہیں اس کو صراط مستقیم کی رہنمائی فرمائیں۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)

Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: "When the Prophet (peace be upon him) stood at night to pray, he would begin his prayer by saying: 'O Allah, Lord of Jibreel, Mikail, and Israfil, Creator of the heavens and the earth, Knower of the unseen and the seen, You judge between Your servants in what they differ. Guide me to the truth in what they differ by Your permission. Indeed, You guide whom You will to a straight path.'" [Narrated by Muslim]

ایضاً تیسری حدیث
1837

"سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبَحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلا إلهَ غَيْرُكَ"۔ اے اللہ! تم آپ کی تعريف کرتے ہو تو تمام عیب لوٹے آپ کی پاکی بیان کرتے ہیں، آپ کا نام برآبرکت والا ہے، آپ بہت عالیشان ہیں، آپ کے سوا کوئی معبد لا ق عبادت نہیں۔

ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے روایت کیہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو جب تہجد پڑھنے کے لیے ہوتے تو تکبیر تحریمہ فرماتے، اس کے بعد ثناء اس طرح پڑھتے:

پھراس کے بعد آپ پیر دعا کی پڑھتے ہیں: اللہ أکبر کبیراً۔ اللہ سے برآلوتے برآبے، ساری برایال اسی کے لئے ہیں۔ اس کے بعد پھر دعا پڑھتے: "أعوذُ باللهِ السَّميعِ العَليمِ منَ الشَّيطَانِ الرَّجِيمِ منْ هَمزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ"۔ میں اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتا ہوں جوسب سے زیادہ سن و اے اور سب سے زیادہ جانے دالے میں، شیطان مردوں کے هَمْزَتے (لیعنی وسوسوں سے جن کو شیطان انسان کے دلون میں پیدا کرتا ہے) اور نَفْخَتے (لیعنی غرور اور خود پسندی سے جن کو شیطان انسانوں کے دلون میں دالتا

ہے،اور نفث سے(جس سے جس کو شیطان انسان سے کرواتا ہے)-

اس کی روایت ترجمہ،البودا وراورسالی نے کی ہے اور الپودا ودی روایت میں لااللہ

غیر کے بعد یاضافہ لاالہ الا اللہ لاالہ الاالله،اللہ اکبر کبیرا

اعوذ باللہ السميع العليم من الشيطان الرجيم من همزہ و نفخہ و نفثہ،یدعا پڑھنے

کے بعد آپ قراءت ثرو ع فرما تے تھے-

ف: واضح ہو کہ پیاوراس فرم کی حد ثبوت کی وجہ سے ثناء کے بعد نوافل میں نکورہ دعا کر اور

مسنون اذکار کا اضافہ کر سکتے ہیں، حقیقہ مدہب بھی یہی ہے۔اس کی تفصیل نور الصباح حضرت دوم حديث

نمبر (393) کے فائدہ میں ملاحظ کی جائے-

ایضًا چوٹی حدیث

Abu Sa’id (may Allah be pleased with him) narrated: "When the Messenger of Allah (peace be upon him) stood at night, he would say the Takbir, then say: 'Glory be to You, O Allah, and praise be to You. Blessed is Your name, and exalted is Your majesty. There is no god but You.' Then he would say: 'Allahu Akbar Kabira,' then say: 'I seek refuge in Allah, the All-Hearing, the All-Knowing, from the accursed Satan, from his madness, his arrogance, and his poetry.'" [Narrated by Tirmidhi, Abu Dawud, and Nasa’i]

Abu Dawud added: "Then he would say: 'There is no god but Allah' three times, and at the end of the Hadith: 'Then he would recite.'"

1838

ربيعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت سے وہ فرما تے ہیں کہ میں نبی کریم

صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حجرہ مبارک کے اتنا قریب سویا کرتا تھا کہ حضور اندر جو پڑھا کرتے وہ مجھے

سناتا دیا کرتا۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو تہجد کے لے اٹھتے تو بہت دریک

"سبحان رب العالمین" (سارے عالموں کارب سب عیبول سے پاک ہے) پڑھتے رہتے،

پھراس کے بعد بہت دریک "سبحان اللہ وبحمده" (اللہ تعالی کی سب عیبول سے پاکی بیان

کرتے ہوئے میں اس کی تعریف کرتا ہوں) پڑھا کرتے-

(اس کی روایت نسائی نے کی ہے اور ترجمہ نے مجھی اس طرح روایت کی ہے-)

ایضًا پاچویں حدیث

Rabi’ah ibn Ka’b Al-Aslami (may Allah be pleased with him) narrated: "I used to spend the night near the Prophet’s (peace be upon him) chamber, and I would hear him when he stood at night saying: 'Glory be to the Lord of the worlds,' repeatedly, then he would say: 'Glory be to Allah and praise be to Him,' repeatedly." [Narrated by Nasa’i, and Tirmidhi reported something similar, saying: "This is a Hasan Sahih Hadith."]

1839

رَحْمَتَكَ، اللَّهُمَّ زِدْنِي عِلْمًا وَلَا تُزِغْ قَلْبِي بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنِي وَهَبْ لِي مِنْ لَدُنكَ

رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ”.

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت سے،آپ فرما تے ہیں کہ رسول اللہ

صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو تہجد کے لے جب نیند سے بیدار ہوتے تو یاد عاپ رہتے:

"لاالہ الا انت سبحانک اللہم وبحمدک استغفرک لذنبی واسئک"

آپ کے سوا کوئی معیود نہیں، اے اللہ میں آپ کی تعریف کرتے ہوئے تمام عیب لوٹے آپ کی پا کی بیان کرتا ہوں (امت کو سکھانے کے لئے فرماتے ہیں اے اللہ! گناہ نہ کرنا تھا کیا، اب نادم وثر مندہ ہو کر عرض کرتا ہوں کہ) آپ میرے گناہوں کو معاف فرمادیں (اے اللہ میں بطرف سے ماپوس ہوگیا ہوں صرف آپ، میں کی رحمت پر جھروسے) میں آپ سے آپ کی رحمت کا طلب کارتا ہوں مجھ پر آپ رحم کیے - (اے اللہ! میں کیا اور میرا علم کیا، علم کے تو بھی درماتب میں اس لئے دعا کرتا ہوں کہ) آپ بر وقت میرا علم زیادہ فرماتے رہیں - (اے اللہ) ہر گزی دل کی حالات بدتر ہوتی ہے، ہماری کسی حالات پر جھروسے، آپ محض اپنے فضل و کرم سے مجھے بدایت دیتے رہیں اور دل کو گمراہی کی طرف جانے نہ دیں، میرا جھروسے آپ، میں کی رحمت پرہے، آپ اپنی رحمت سے مجھے بدایت پر قائم رکھیں - (یہ جو کچھ میں مانگ رہا ہوں، میرے اعتبار سے بہت بڑی چیز ہے، آپ کے لحاظ سے چھوٹی چھوٹی اس لئے کہ) آپ بہت عطا کرنے والے ہیں، آپ کی عطا کی کوئی حد نہیں۔

ایضاً حضرت حذیث

Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: "When the Messenger of Allah (peace be upon him) woke up at night, he would say: 'There is no god but You, glory be to You, O Allah, and praise be to You. I seek Your forgiveness for my sins and ask for Your mercy. O Allah, increase me in knowledge, and do not let my heart deviate after You have guided me. Grant me mercy from Yourself, for You are the Bestower.'" [Narrated by Abu Dawud]

اس کی روايت ابوداود نے کی ہے
1840

شریق نے رضی اللہ عنہ سے روایت کہ وہ کہتے ہیں کہ میں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا، اور عرض کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو جب تجد کے لئے بیارہوئے تو ابتدا کن ازکارے فرماتے تھے؟ ام المومنین ارشاد فرما تیں: تم نے مجھ سے وہ بات دریافت کی ہے جس کو آج تک کسی نے دریافت نہیں کیا (اس سے تمہارے طلب علم کا شوق معلوم ہوتا ہے) سنو! حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب تجد کے لئے نیندے تے بیار

ہوتے تو: اللہ أكبر دس بار، الحمد للہ، دس بار، سُبْحَانَ اللہ و بِحَمْدِهِ، دس بار، اور دس بار

سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوسِ، (اللہ تعالی سب عیب لو سے اور بر طرح کے نقصان سے پاک ہیں،

اور ان کی لا زوال باشہت ہے، جتنی صفاتوں میں کمال نہیں ہے ان صفاتوں سے اللہ تعالی پاک ہیں

یعنی مخلوقات کے سارے صفات سے اللہ پاک ہیں) پھر آستغفر اللہ، دس بار اور لاِللهِ الا الله، دس

بار فرما یا کرتے ہے کہ یہ دعا جی دس بار کیا کرتے ہیں اللہُمَّ اِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ ضِيقِ الدُّنیَا

وَ ضِيقِ يَومِ الْقِيَامَةِ "(اے اللہ جو شخص قرض میں بندلا ہوتا ہے اپنارہوجاتا ہے یا کوئی اس پر لمح کرتا

ہے تو ساری دنیا اس پر لگہوجاتی ہے تو مجھے ان مصیبتوں میں بندلا کر کے مجھے پر دنیا تگ مت کراور

قیامت کے ہولناک احوال اور طرح طرح کی شدتیں کی وجہ سے زندگی تگ ہوجاتے گی تو مجھے

قیامت کی اس تگ کی زندگی سے پچائے) (یہ سات چیزیں دس دس بار پڑھنے کے بعد) حضرت صلی

اللہ علیہ و آلہ وسلم تجری نماز ثرو ع فرما تے تھے (اس کی روایت ابوداود نے کی ہے)

رات کو بیدار ہو کر ظہر ایک کرتے کی فضیلت

پہلی حدیث

Shariq Al-Hawzani reported: "I entered upon Aisha and asked her: 'How did the Messenger of Allah (peace be upon him) begin when he woke up at night?' She said: 'You have asked me something no one has asked me before. When he woke up at night, he would say the Takbir ten times, then say: 'Glory be to Allah and praise be to Him' ten times, then say: 'Glory be to the King, the Holy' ten times, then seek Allah’s forgiveness ten times, then say the Tahlil ten times, then say: 'O Allah, I seek refuge in You from the distress of this world and the distress of the Day of Judgment' ten times, then he would begin his prayer.'" [Narrated by Abu Dawud]

1841

عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی

اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرما یا کہ جو شخص نیندے ہی کہے ہو تو بیدار ہو

"لاِللهِ الا اللهُ وَحْدَهُ لا شَرِیکَ لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلی کُلِّ شَیٍّ

قَدِیرٌ۔ سُبْحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُ لِلہِ وَلاِللهِ اَکْبَرُ وَ لا حَوْلَ وَ لا قُوَّۃَ الا

باللہ "۔

اللہ تعالی کے سوا کوئی لا ق عبادت نہیں وہ ا کیے ہیں کوئی ان کا شریک نہیں سب باشہت اسی

کی ہے اور بر طرح کی تعریف ایسی کے لئے ہے اوروہی سب پچھ کرنے پر کامل طور سے قادر ہیں -

اللہ تعالی تمام عیب و نقصان کے پاک ہیں اور ان کی صفتیں ایسی کامل ہیں جو زوال کے پاک ہیں اور تمام خوبیاں اللہ تعالیٰ کی ہیں۔ اس لیے سب تعزیف اللہ تعالیٰ کو سزاوار ہے، اور اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی لا قابلیت نہیں، اور اللہ تعالیٰ سب بڑولے سے بڑے ہیں، اور گناہوں سے پچھا اور نیکیاں کرنا اللہ تعالیٰ کی تو فیق اوراہی کی مدد سے ہوتا ہے۔

ایسے دوسری حدیث

Ubadah ibn As-Samit (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Whoever wakes up at night and says: 'There is no god but Allah alone, without partner. To Him belongs the kingdom, and to Him is all praise. He is over all things competent. Glory be to Allah, praise be to Allah, there is no god but Allah, Allah is the greatest, and there is no power nor strength except with Allah,' then says: 'O Lord, forgive me,' or makes a supplication, his supplication will be answered. If he performs ablution and prays, his prayer will be accepted.'" [Narrated by Bukhari]

(یہ دعا پڑھنے کے بعد مغفرت طلب کر کے گا اکونی اور دعا کر کے گا تو اس کی دعا قبول ہوگی اور اگر وضو کر کے تھوڑی نماز پڑھ کے تو نماز کی مقبول ہوگی۔ اس کی روایت امام بخاری نے کی ہے۔)

1842

معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو مسلمان باوضوء اللہ کا ذکر کرتے ہوئے سوجائے اور پھر اتفاق سے اس کی نیند ہوشیار ہو تو وہ جو دعا کر کے گا اللہ تعالیٰ اس کی دعا کو قبول فرما تین گے۔

Mu’adh ibn Jabal (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "There is no Muslim who goes to bed remembering Allah in a state of purity, then wakes up at night and asks Allah for something good, except that Allah will grant it to him.'" [Narrated by Ahmad and Abu Dawud]

اس کی روايت امام احمد اور ابوداود نے کی ہے