Nūr al-Maṣābīḥ
بَابُ مَا عَلَى الْمَأْمُومِ مِنَ الْمُتَابَعَةِ

وَحُكْمِ الْمُسْبُوقِ

What Is Required of the Follower (Ma’mum)
Volume 3 · Prayer

(یہ باب امام کی اس اتباع کے بیان میں ہے جو مقتدی پروا جب ہے اور مسبوق لیعنی

ایسے شخص کے حکم کے بیان میں ہے جوابتداء نماز سے نہیں بلکہ نماز کا پچھلا حصہ اداء

ہوجانے کے بعد جماعت میں شریک ہوا ہے)

مقتدی امام سے پہلے کوئی رکن ادا کرنے کے

پہلی حدیث

This chapter is about the Imam’s following of a person who is observant and follows, meaning someone who joins the congregation after the initial part of the prayer has been completed, rather than from the beginning of the prayer. The first hadith pertains to a follower who completes a rak'ah before the Imam.

1732

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ

وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ افعال نماز میں امام سے سبقت نہ کرو (بلکہ امام کے پرفل کے بعد، ی تم

جبی اسی فعل کو امام کے فعل سے ملا ہوا ادا کرو) جب امام اللہ أکبر کہ تو تم جبی اللہ أکبر (اس طرح)

کہو ( کہ امام کے اللہ أکبر کی رائے سے مقتدی کے اللہ أکبر کا الف ملا رہے، بخلاف اس کے اگر مقتدی

امام کی تکبیر تحریمہ سے پہلے خود تکبیر تحریمہ کہے لے تو مقتدی کی نماز میں نہ ہوگی ) (اور جب امام سورۃ

فاتحہ پڑھے تو مقتدی ستارہ )اور جب امام "وَلا الضَّالِّين" پڑھ کر (آ میں کہنا کا راہ کرے

تو) تم مقتدی جبی (امام کی طرح آہستہ تے )آ میں کہو، اور جس وقت امام رکوع کرے تو تم جبی امام

کے رکوع کے بعد اس کے رکوع سے متصل رکوع کرو، پھر جب امام رکوع سے سراٹحات ہو تو

"سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَة" کہ (تو امام کو چاہے کہ "رَبَّنَا لَكَ الْحَمد" نہ کہے) مقتدی کو

چاہئے کر (جب وہ رکوع سے سر اٹھائے تو "سَمعَ اللہُ لِمَنْ حَمدَهُ" نہ کہ صرف )اللہُمَّ رَبَّنا لَکَ الْحَمد“ کہے۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم میں متفرق طور پر ہے۔)

It is narrated from Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Do not precede the imam. When he says the takbir, say the takbir. When he says, 'Nor of those who have gone astray,' say, 'Ameen.' When he bows, bow. When he says, 'Sami’a Allahu liman hamidah,' say, 'Allahumma Rabbana lakal-hamd.'" This is agreed upon (by Al-Bukhari and Muslim], except that Al-Bukhari did not mention, "When he says, 'Nor of those who have gone astray.'" Ali Al-Qari said: "Our school holds that following the imam continuously is obligatory, and the letter 'fa' (so) in the hadith indicates this."

دوسرا حدیث
1733

اٰس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز ختم کی تو ہماری جانب رخ کر کے ارشاد فرمایا لوگو! میں تمہارا امام ہوں (اور امام اس لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی متابعت کی جائے) لہذا اتم مجھے نہ رکوع کر نہ میں سجود کرو اور نہ جہدہ کر نہ میں نہ قیام میں اور نہ سلام پھیرنے میں (اگر سبقت کرو گے تو متابعت نہ رہے گی) (تم مجھے ہونے گے کر) میں ساتھ ہی دکھتا ہوں، ایسا نہیں بلکہ میں اپنے پیچھے سے مجھے ایسا ہی دکھتا ہوں، جسیا کہ ساتھ میں (اس لیے میں دکھ لیتا ہوں کہ افعال نماز میں تم میری متابعت کرتے ہو یا مجھے سبقت کرتے ہو)۔ (اس کی روایت مسلم میں ہے۔)

مقتدی امام سے پہلے کوئی رکن اداء کرے تو اس کی وعید

It is narrated from Anas (may Allah be pleased with him) that he said: "One day, the Messenger of Allah (peace be upon him) led us in prayer. When he finished, he turned to us and said: 'O people, I am your imam, so do not precede me in bowing, prostrating, standing, or finishing the prayer, for I see you in front of me and behind me.'" [Narrated by Muslim]

1734

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نماز میں (مثالا رکوع یا سجدے سے) امام سے پہلے اپنا سر اٹھانے والا کیا اس بات سے بخوف ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے سر کو خطرے کے گرد ہے کا سر بنادی۔ (اس حدیث ثریف میں اس طرف اشارہ ہے کہ افعال نماز میں جو امام سے سبقت کرتا ہے وہ محاقت اور بلاوت میں گرد ہے کا جسیا ہے کیونکہ امام اس لیے بنایا ہے کہ متابعت کی جائے لیکن متابعت چھوڑ کر امام سے سبقت کرنا امام بنانے کے منشا کے خلاف ہے اس لیے یہ گرد ہے کے جسیا ہمقہ ہے)۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم میں متفرق طور پر ہے۔)

ف: اس حدیث شریف میں مسخ کا ذکر ہے کہ امام سے سبقت کرنے والے کا سر مسخ ہوگا

گردہ کا سر ہوجائے گا۔ واقعہ کہ مسخ ہونا اس حدیث کے خلاف نہیں ہے جس میں ارشاد ہے

کہ اس امت مرحوم میں مسخ نہیں ہوگا، اس لئے کہ اس حدیث شریف کا متناء پیشہ کے عام مسخ نہ ہوگا

میں اور امت کی طرح پیتمام امت میں بھلا نہ ہوگی، اگر بعضوں کو سزا مسخ کر دیا جائے تو اس

حدیث شریف کے خلاف نہیں ہے۔ چنانچہ دمشق کے ایک شخص کا واقعہ کہ وہ اپنا منہ میشہ ڈھال کے

رہتا تھا، ایک روز جب اس کا چہرہ نظر آیا تو کیا دیکھا جیسے جیسے کہ اس کا سر گدھ کا سربھ، دریافت کر نے

معلوم ہوا کہ اس نے حدیث کوں کر پیخیال کیا تھا کہ انسان کا سر گدھ کا سر کیے ہوسکتا ہے اور عداً

امام سے پہلے سراٹ کا تواس کا سر مسخ ہوگا کہ دے کہ اسر ہوگیا اور اس کو معلوم کر ادیا گیا کہ مسخ ایسے ہوسکتا

ہے "نَعُوذُ باللهِ مِنهُ" حدیث شریف سے باولی کرنے اور حدیث شریف کا انکار کرنے کی بھی سزا

ہے دنیا میں، اور آخرت میں جدا عذاب ہے اللہ تعالیٰ ہم سب کو حدیث شریف کے انکار سے

پچائے۔ (ماخوذ از مرقات)12

دوسرا حدیث

It is narrated from Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Does the one who raises his head before the imam not fear that Allah will turn his head into the head of a donkey?" [Agreed upon]

1735

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جو شخص (مثالاً رکوع اور

سجدہ تے) امام سے پہلے اپنے سر کو اٹھاتا ہے اور (ایسا کی رکوع اور سجدہ میں جانے کے لئے) امام

سے پہلے اپنے سر کو جھکا تا ہے تو وہ شیطان کے ہاتھ میں کرتے پڑی بناتا ہے (کہ شیطان جو چاہتا ہے

اس سے کروار پا ہے، اس لئے وہ افعال نماز میں امام سے سبقت کرنے سے نفت اور شر ریعت کی نافرمانی

کر رہا ہے)۔ (اس حدیث کی روایت امام ماکے نے کی ہے۔)

امام کی عذر میں پیہا کر نماز پڑھنے تو مقتدی کیا کرے؟

پہلی حدیث

It is narrated from him (Abu Hurairah) that he said: "The one who raises and lowers his head before the imam, his forehead is in the hand of Satan." [Narrated by Malik]

1736

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ

وسلم ایک گھوڑے پرسوار تھا (پھر عجیب اتفاق ہوا کہ باوجود شہمسوار ہونے کے) گھوڑے سے زمین

پرگر پڑے اور حضور علی الصلاۃ والسلام کا دایاں پہلو کھرا چھل گیا (جس کی وجہ سے آپ کٹے ہوکر نمازیں پڑے سکے) اس لئے ایک فرض نماز کو آپ نے بیٹھے ہوئے پڑھائی اور تم نے بیٹھے آپ کے مقتدی ہوکر بیٹھے ہوئے اس فرض نماز کو ادا کیا، جب آپ پ سلام پچھیر کر نماز سے فارغ ہوئے تو ہماری طرف متوجہ ہوکر ارشاد فرمائے (صا حبو! تم کو معلوم ہونا چاہئے کر امام بنانے کا مقصد کیا ہے؟ سنو!) امام ای لئے بنایا جاتا ہے کر امام جسیا کرے مقتدی بھی ویسے کریں (یعنی) جب امام کٹے ہوکر نماز پڑے تو تم بھی کٹے ہوکر نماز پڑھو، اور جس وقت وہ رکوع کرے تو تم بھی اس کے بعد، ی متصل بلا فصل رکوع کرو اور جب وہ رکوع سے سر اٹھا تو تم بھی سر اٹھا او رجب وہ "سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ" کہ تو تم "رَبَّنَا لَكَ الْحَمد" کہو، اور جب (یا کی اضافہ کی روایت میں ذکور ہے مرقات -12) وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو، اور جب امام (کسی عذر سے) بیٹھ کر نماز پڑے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔

اور امام بخاری اس حدیث کو بیان کر کے کہتا ہیں کہ ان کے استاد حمیدی نے کہا: "وَاذا صَلَّی جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا" (جب امام بیٹھ کر نماز پڑے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیرشاد مرض الموت سے مبتلا زمانہ کا ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مرض الموت کا واقعہ سے جس میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیٹھ کر امامت فرمائی اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے کٹے ہوکر اقتداء کی اور صحابہ کرام کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیٹھ کر نماز پڑھنے کا حکم دینے دیا۔ اس لئے امام کا کسی عذر سے بیٹھ کر امامت کرنا اور مقتدی پول کا بھی بلا عذر بیٹھ کر اقتداء کرنا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مرض الموت کے واقعہ سے منسوخ ہوگا اور یقاعدہ کلیہ ہے کسی مستند میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ابتدائی زمانے کا فعل ایک ہواورآ خری زمانہ کا فعل دومراہوتا آخری فعل واجب عمل ہوتا ہے، پہلا فعل منسوخ ہوتا ہے اور آخری فعل ناخ، اس لئے امام کسی عذر سے بیٹھ کر نماز پڑے تو مقتدی پول کو کٹے ہوکر اقتداء کرنا چاہئے۔(یہ بخاری میں ذکور ہے اور نہہب حسنی بھی ہے)

It is narrated from Anas (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) rode a horse, fell, and injured his right side. He led a prayer while sitting, and we prayed behind him while sitting. When he finished, he said: "The imam is appointed to be followed. If he prays standing, pray standing. If he bows, bow. If he raises his head, raise your heads. If he says, سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ, say, رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ. If he prays sitting, pray sitting all together."

Al-Humaidi said: "The statement, 'If he prays sitting, pray sitting,' refers to his earlier illness. Later, the Prophet (peace be upon him) prayed sitting while the people stood behind him, and he did not order them to sit. The last action of the Prophet (peace be upon him) is what is taken as the ruling." This is the wording of Al-Bukhari. Muslim agreed up to "all together." In another narration, it adds: "Do not differ from him, and when he prostrates, prostrate."

And Imam Bukhari states this hadith as follows: 'When the imam prays while sitting, then pray while sitting.' This is from the time when the Messenger of Allah ﷺ was afflicted with the illness of death. During the event of the Messenger of Allah ﷺ's illness of death, he led the prayer while seated, and the Companions (RA) followed him in prayer while seated. The Messenger of Allah ﷺ commanded the noble Companions to pray while seated. Therefore, the imam leading the prayer while seated due to some excuse and the congregation also praying while seated without any excuse is abrogated by the event of the Messenger of Allah ﷺ's illness of death. The general principle is that if there is a valid reason, the action performed by the Messenger of Allah ﷺ in the initial period is one thing, and the action performed in the later period is another. The final action is obligatory to follow, the first action is abrogated, and the last action is valid. Therefore, if the imam prays while seated due to some excuse, the congregation should follow him while seated. (This is mentioned in Bukhari and is also considered good practice.)

1737

اور مسلم کی ایک روایت میں ان الفاظ کا اضافہ ہے: تم امام سے اختلاف نہ کرو! جب وہ جدہ کرے تو تم بھی جدہ کرو۔

It is narrated from Anas (may Allah be pleased with him) that he said: "One day, the Messenger of Allah (peace be upon him) led us in prayer. When he finished, he turned to us and said: 'O people, I am your imam, so do not precede me in bowing, prostrating, standing, or finishing the prayer, for I see you in front of me and behind me.'" [Narrated by Muslim]

دوسرا حدیث
1738

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اس مریض سے پیار ہوتے جس کے سبب سے آپ دنیا سے تشریف لے گئے اور جب آپ کی پیاری بہت برہگئی اور آپ باہر تشریف نہ لیجا سکتے حسب عادت بلال رضی اللہ عنہ نے حاضر ہوکر جماعت کے تیار ہونے کی اطلاع دی تو حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ ابوبکر (رضی اللہ عنہ) سے کہو کہ وہ امام ہوکر لوگوں کو نماز پڑھا کرین تو ابوبکر رضی اللہ عنہ (حکم کی تغییر کرے) حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے دنیا سے تشریف لیجا نے تک لوگوں کو نماز پڑھاتے رہے (اس اثناء میں ایک نماز کے موقع پر ابوبکر رضی اللہ عنہ امام بن کر نماز پڑھارتے تھے کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی پیاری میں پچھکی معلوم ہوتی (اور باہر تشریف لا نے کی قوت محسوس ہوتی، جماعت کا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس قدر اہتمام تھا کہ پیاری میں پچھکی معلوم ہوتے کے بعد آپ تھنا نماز پڑھنا مناسب نہیں تھے اس لیے) آپ دوآ دیوں کے کندھوں پر سہارا دے کر جماعت کے لئے باہر تشریف لا گئے۔ (ام المومنین فرماتی ہیں کہ اس وقت کا منظر اب تک میری آنکھوں کے سامنے ہے کہ) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (قدم اٹھانے کی قوت نہ ہوتی میرے زمین پر اپنے پیر پائے ہوئے تشریف لے جارہے تھے پیحال تک کہ آپ اسی حالت میں مسجد میں داخل ہوئے، جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تشریف لا نے کی آہنک محسوس کی اور پچھکے میں گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ فرمایا کہ اپنی جگہ سے پچھے نہ طے، اور خود تشریف لیجا کر ابوبکر رضی اللہ عنہ کے باہم جانب بیٹھے گئے (جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

تشریف لائے تو ابو بکر رضی اللہ عنہ سے امامت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منتقل ہوگئی

اس وجہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سیدی جانب ابو بکر رضی اللہ عنہ تھے جومقتدی کا

مقام ہے اور امامت کے منتقل ہونے کی ایک دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے

قرآن تا سی جگہ سے ثروت فرمائی جہاں ابو بکر رضی اللہ عنہ نے چھوٹی تختی جسیا کرا بن عباس رضی اللہ

عنہما کی روایت میں نذور ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امام ہوکر عذر کی وجہ سے بیٹھے ہوئے

نماز پڑھارہے تھے اور ابو بکر رضی اللہ عنہ مثل ساری جماعت کے مقتدی ہوکر مكبر بن کر کٹرے ہوکر

نماز پڑھارہے تھے اور ساری جماعت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی تکبیر کی آواز پر نماز پڑھرہی تھی -

It is narrated from Aisha (may Allah be pleased with her) that she said: "When the Messenger of Allah (peace be upon him) became seriously ill, Bilal came to inform him about the prayer. He said: 'Tell Abu Bakr to lead the people in prayer.' Abu Bakr led the prayers during those days. Then, the Prophet (peace be upon him) felt some relief and walked supported by two men, with his feet dragging on the ground, until he entered the mosque. When Abu Bakr heard his movement, he began to step back, but the Messenger of Allah (peace be upon him) signaled him not to step back. He came and sat to the left of Abu Bakr. Abu Bakr prayed standing, and the Messenger of Allah (peace be upon him) prayed sitting, following Abu Bakr's prayer, while the people followed Abu Bakr's prayer." This is agreed upon (by Al-Bukhari and Muslim] In another narration by both: "Abu Bakr made the takbir audible to the people."

At this time, during a prayer, Abu Bakr (RA) was leading the congregation when the Messenger of Allah (peace be upon him and his family) felt unwell (and lacked the strength to come out). The presence of the congregation was so important to the Messenger of Allah (peace be upon him and his family) that after feeling unwell, he considered it inappropriate to lead the prayer while seated. Therefore, he came out to the congregation with the support of two men. Umm al-Mu'minin (the Mother of the Believers) says that the scene is still before her eyes: the Messenger of Allah (peace be upon him and his family) did not have the strength to lift his feet and was being carried along the ground until he entered the mosque in that condition. When Abu Bakr (RA) realized that the Messenger of Allah (peace be upon him and his family) was being brought out and was unwell, the Messenger of Allah (peace be upon him and his family) gestured for him not to move from his place and went himself, sitting beside Abu Bakr (RA). When the Messenger of Allah (peace beupon him and his family) arrived, the leadership of the prayer was transferred to him because Abu Bakr (RA) was on his right side, which is the position of the follower, and one reason for the transfer of leadership is that the Messenger of Allah (peace be upon him and his family) recited the Quran up to a certain point, as mentioned in the narration of Anas bin Malik (RA). The Messenger of Allah (peace be upon him and his family) led the prayer while seated due to his illness, and Abu Bakr (RA), like the rest of the congregation, followed him by reciting the takbir and performing the prayer, and the entire congregation followed Abu Bakr (RA) in the prayer based on his recitation of the takbir.

1739

ابو بکر رضی اللہ عنہ کے مكبر ہونے پر بخاری اور مسلم کی پر دوسری روایت دلالت

کرتی ہے جن کے الفاظ میں "یُسْمِعُ أَبُو بُکْرِ النَّاسَ التَّكْبِيرَ"، لیعن ابو بکر رضی اللہ عنہ رسول

اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تکبیر کی آواز لوگوں کو پہوچیارہے تھے اس سے معلوم ہوا کہ ابو بکر رضی

اللہ عنہ مكبر تھا امام نہیں تھا اور خود ابو بکر رضی اللہ عنہ اور ساری جماعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ

وسلم کی اقتداؤ کر رہی تھی اور امامت کا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف

منتقل ہوجانا پیرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خاص ہواورول کے لے ایے موقع پر ہی حکم ہے کہ

جب تک پہلا امام ہے تکرہیں اور نہ چلا جاے دوسرا شخص امام نہیں بن سکتا۔ مثلًا اگر امام کو حدث

ہوجاے تو وہ وضو کے لے چلا جاے گا اور اس کی جگہ دوسرا شخص امام بن کر نماز پڑھاے گا۔ پھلا

امام ہوتے ہوئے دوسرا امام نہیں بن سکتا۔ دوسری بات اس حدیث سے یہی ثابت ہوتی ہے کہ

عذر سے امام بیٹھ کر رکوع اور سجدہ کرتے ہوئے نماز پڑھاے تو جماعت کطری ہوتی حالت میں نماز

اداء کرے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آخری فعل ہوئے نے سے ناخ ہے اور اسی پر عمل

درآمد ہے اور یہی امام ابوحنیفہ کا نہہب ہے اور اس سے پہلے کی حدیث میں جو ذکور ہے کہ امام بیٹھ کر

نماز پڑھنے تو مقتدی کچھ بیٹھ کر نماز پڑھنے تو پہلا فصل ہو نے سے منسوخ ہے، جسیا کہ اوپر کی

حدیث میں تفصیل سے ذکر ہو چکا ہے۔

(اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔)

مسبوق کو امام کے ساتھ نماز میں کس طرح شریک ہونا چاہیے

پہلی حدیث

Abu Bakr (RA) used to make the takbir audible to the people, which indicates that the voice of Abu Bakr (RA) making the takbir reached the people. This shows that Abu Bakr (RA) was not the imam but rather the mu'adhdhin, and both Abu Bakr (RA) and the entire congregation were following the Prophet ﷺ. The imamate was transferred from Abu Bakr (RA) to the Prophet ﷺ, and this was a specific command for that particular situation: as long as the first imam is present, no one else can become the imam. For example, if the imam needs to perform wudu due to a need, he will go to perform wudu, and another person will lead the prayer in his place. As long as the first imam is present, no one else can become the imam. Another point established by this hadith is that if the imam leads the prayer while sitting due to a valid excuse, the congregation should follow him in that state, because it is based on the last action of the Prophet ﷺ, and this is the practice according to Imam Abu Hanifah. The previous hadith mentioned that if the imam leads the prayer while sitting, the followers should also sit, which is abrogated by the first part of the hadith, as detailed above. (This hadith is narrated by Bukhari and Muslim.)

1740

حضرت علی اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما سے روایت ہے دونوں نے فرمایا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص مسجد آئے اور دیکھے کہ

جماعت ہورہی ہے (تو وہ نیت کر کے کٹرے لے ہوئے تکبیر تحریمہ ادا کرے) اور امام جس حالت میں

ہوائی حالت میں شریک جماعت ہوجائے اور ویسا کی کرے جسیا امام کر رہا ہو (اس حدیث میں اس

بات کی دلیل ہے کہ مسبوق امام کی موافقت کرے خواہ امام قیام میں ہو یا رکوع میں ہو، سجدہ میں ہو یا

قدہ میں اور امام کے قیام کی طرف رجوع کرنے کا انتظار نہ کرے جسیا کہ عوام کیا کرتے ہیں، البتہ

رکعت پاینے کے لیے امام کے ساتھ رکوع پانا ضروری ہے اور رکوع پائنے کی حد یہ ہے کہ امام کے

ساتھ کم از کم ایک رفع "سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِيمُ" کہے لے، اگر امام کے رکوع کرنے کے بعد جہد ہیا

قدہ میں امام کے ساتھ جاملا سے تو اس رکعت کا شمار نہیں ہوگا)۔

(اس حدیث کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)

دوسری حدیث

It is narrated from Ali and Mu'adh bin Jabal (RA) that they said:

The Messenger of Allah ﷺ said: 'When any one of you enters the mosque and sees that the congregation is in progress, he should make an intention and join the prayer with takbir tahrima, and participate in the congregation in whatever state the imam is in, and do as the imam does. This hadith provides evidence that the follower should follow the imam, whether the imam is standing, bowing, prostrating, or in tashahhud, and should not wait for the imam to stand again, as people commonly do. However, it is necessary to catch the bowing with the imam, and the limit for catching the bowing is to recite at least one 'Subhana Rabbiyal Azeem' with the imam. If one joins after the imam has bowed and before the imam reaches tashahhud, then that rak'ah will not count.' (This hadith is narrated by Tirmidhi.)

1741

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ

وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم نماز کے لئے سجدہ میں آؤر دیکھو کہ میں (یا کوئی اور امام) سجدہ

میں ہوتا (تم ہمارے قیام میں آئے کا انتظار نہ کرو) سجدہ میں شریک ہوجاؤ اور سجدہ کے لئے ہی

سے جھوک رکعت ملتی ہے بلکہ رکوع ملتے ہی رکعت ملتی ہے۔ اس کی روایت ابوداود نے کی ہے۔

ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے "مَنْ أَدْرَكَ رُكْعَةً فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلوۃَ"، یعنی

جس نے رکوع پالی تواس میں رکعت پالی، یہاں رکعت کے معنی رکوع کے اس وجہ سے کہ گئے کہ

احادیث شریف میں جب لفظ رکعت کے ساتھ سجدہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس میں رکوع کی مراد ہوتی ہے،

چنانچہ اس حدیث شریف میں پہلی سجدہ کا ذکر ہے، اور پھر رکعت کا اس لے یہاں رکعت کے مراد رکوع

میں ہے نکہ پوری رکعت پر اعلاء اسناد میں نذور ہے۔

It is narrated from Abu Hurairah (RA) that he said:

The Messenger of Allah ﷺ said: 'When you come for prayer and find me (or any other imam) in prostration, do not wait for us to stand; join us in prostration, and the prostration itself completes the rak'ah. Indeed, the rak'ah is completed when the bowing is completed, not just the prostration.' This hadith is narrated by Abu Dawud. In this noble hadith, it is stated: 'Whoever catches a bowing has caught the prayer,' meaning that whoever performs the bowing has performed the rak'ah. The term 'rak'ah' refers to the bowing because in the noble hadiths, when the word 'rak'ah' is used along with prostration, it implies the bowing. Thus, in this noble hadith, the first prostration is mentioned, and then the rak'ah, which means the bowing, as the completion of the entire rak'ah is indicated in the elevated chains of transmission.

تیسری حدیث
1742

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کی گئی ہے وہ فرمایا کرتے تھے کہ جوشخص

(نیت کرے اور کٹھرے ہوئے تو تکبیر تحریمہ اداء کرے اس حال میں رکوع پائے (کہ رکوع میں

امام کے ساتھ کم از کم ایک دفعہ "سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمُ" کہنا موقوف ہو) تو اس کو وہ رکعت

پوری ملتی (اگر وہ ثروت میں امام کے ساتھ شریک رہتا تو امام کے سورۃ فاتحہ کی قرأت کرنے سے

اس کے طرف سے بھی سورۃ فاتحہ کی قرأت اداء ہوجائے اور اس کو خیر کثیر حاصل ہوجائے) رکوع میں

ملے وا لے کو ورکعت تو ملتی مگر سورۃ فاتحہ کی قرأت نہ ملتے ہوئے خیر کثیر سے محروم رہا (اس لے

کو شک کر کے ثروت میں امام کے ساتھ شریک رہتا کر سورۃ فاتحہ ملتے ہوئے اس کو خیر کثیر حاصل

ہوجائے)۔ (اس حدیث کی روایت امام ما لک نے کی ہے۔)

تکبیر تحریمہ کے وقت امام کے ساتھ نماز میں شریک رہنے کی فضیلت

It is narrated from him (Abu Hurairah) that he used to say: "Whoever catches a rak'ah has caught the prostration, and whoever misses the recitation of Umm al-Quran (Surah Al-Fatihah) has missed a great deal of good." [Narrated by Malik]

1743

انس رضی اللہ عنہ نے روایت کی وہ فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ

وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے اخلاص کے ساتہ اللہ کی کے لے چاپس دن پاچول

نمازی جماعت سے اس طرح اداء کی ہوئی کہ امام کے تکبیر تحریمہ کی کہ کے وقت حاضر ہوا اور اس سے

امام کی تکبیر تحریمہ کے بعد کی تکبیر تحریمہ اداء کی ہوئی اس کے لے دو طرح کی نجات کلہ دی جاتی ہے:

ایک نجات دوزخ سے مل جائے یا کوئی دوزخ سے محفوظ رہے گا اور دوسری نجات نفاق سے مل جائے

ہے۔ کہ دنیا میں منافقوں کے اعمال مثلًا جھوٹ بولنے، وغیرہ خلافی کرنے اور نماز کو کستی اور ریاء

سے اداء کرنے سے پچارہے گا اور اصل اخلاص کے اعمال کی اس کو تو فیق دی جائے گی اور آخرت میں

منافقین کے لئے جو عذاب خاص ہے اس سے جہنم پچالی جائے گا۔ (اس کی روایت تزدی نے کی ہے۔)

عمل جس سے جماعت کا ثواب مل جائے گا

It is narrated from Anas (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Whoever prays forty days in congregation, catching the first takbir, will be granted two freedoms: freedom from the Fire and freedom from hypocrisy." [Narrated by Al-Tirmidhi]

1744

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ

وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص (سنن اور مستحبات کی پابندی کے ساتھ حضور دل سے) اچھی

طرح وضو کرے اور جماعت کے ارادے سے مسجد کو جائے و بال جا کر کیا و کیتا ہے کہ لوگ نماز پڑھنے

پچھیں (اس کو جماعت نہ ملنے سے بری حرمت ہوتی۔ چونکہ وہ جماعت کی نیت سے نکلا تھا اور

اتفاق سے اس کو جماعت نہ ملی اس لئے) اللہ تعالیٰ اس شخص کو جھی (اس کی نیت اور پچھتاوے کی

جبرت) جماعت میں حاضر ہونے والوں اور جماعت سے نماز پڑھنے والوں کے برابر ثواب عطا

فرماتے ہیں (اس کو جماعت کا جوازہ و ثواب دیا گیا ہے۔ یا اللہ تعالیٰ کی قدر دانی سے اس کے شخص

کو اجر دینے سے جو جماعت سے نماز پڑھنے پچھیں، ان کے اجر و ثواب میں پچھکی نہیں ہوتی)۔

(اس کی روایت البوداوداورنسائی نے کی ہے۔)

جماعت ثانیہ کا حکم

پہلی حدیث

It is narrated from Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Whoever performs ablution and perfects it, then goes to the mosque and finds that the people have already prayed, Allah will grant him the reward of those who prayed and attended it, without diminishing their rewards in the slightest." [Narrated by Abu Dawud and Al-Nasa’i]

1745

ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک صاحب

(مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے) ایس وقت حاضر ہوئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (جماعت

سے) نماز پڑھنے پچھے تھے (جولوگ جماعت کے پابند ہوتے ہیں ان کو جماعت نہ ملنے کا بہت رنج ہوتا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا (چونکہ ان کو جماعت نہیں ملی تو اس لئے) کوئی صاحب ان پراحسان کرکے ان کے ساتھ صورت جماعت بنا کر نماز ادا کریں (اس سے جماعت نہ ملنے والے کو جماعت کا جو ثواب ملگا وہ بھی جماعت کا ثواب ملے گا کر پھر کہی جو پڑھا اجر ملے گا، جو خض شریک ہوگران کے ساتھ نماز پڑھ رہا ہے جہا جائے گا کہ پیغمبر اس پر ثواب نہیرات کر رہا ہے) یعنے کر ایک صحابی کہ رہے ہوئے اور ان کے ساتھ جماعت بنا کر نماز ادا کے۔

(اس کی روایت ترمذی اور ابو داود نے کی ہے۔)

ف: واضح ہوگا جس مسجد میں ایک بار جماعت ہوچکی ہو، اس مسجد میں دوبارہ پھر جماعت کرنا حقی، شافعی اور ما لکی متنون (عمدۃ القاری، اعلاء السنن، بحوالۃ رحمۃ اللہ تعالیٰ) نہاہب میں کروہتر یہ ہے، جماعت ثانیہ کا کروہتر یہونارواختار میں نہ کروہے۔ اب رہا س حدیث سے ظاہر جماعت ثانیہ کا جائز ہونا جو معلوم ہورہا ہے، اس لئے نہیں میں کہ اس حدیث میں جس جماعت کا ذکر ہے وہ حقیقت جماعت نہیں ہے بلکہ صورت جماعت ہے۔ اور صورت جماعت یہ کہ امام توفرض نماز ادا کر رہا ہو، اور مقتدی نفل کی نیت سے اس کی اقتداء کر رہا ہے اور حقیقت جماعت یہ کہ امام اور مقتدی دونوں فرض نماز ادا کر رہے ہوں اور ظاہر ہے کہ یہاں صورت جماعت ہوتی ہے اور ایسی جماعت کے بارے میں ہمارے امام میں سے کسی امام نے کراہت نہیں بتانے ہے، اس کے بر خلاف حقیقت جماعت کی صورت میں جب کوئی امام اور مقتدی دونوں فرض نماز ادا کرنے کے لئے جماعت ثانیہ قائم کریں تو ایسی جماعت کو اکثر اتمہ نے کروہ قرار دیا ہے، جسیا کہ ابھی اوپر بیان ہوچکا ہے۔ (یہ زل اگر ہو دیں نہ کروہے۔)

دوسری حدیث

It is narrated from Abu Sa'id Al-Khudri (may Allah be pleased with him) that he said: A man came after the Messenger of Allah (peace be upon him) had already prayed. The Prophet (peace be upon him) said: "Is there no one who will show kindness to this man and pray with him?" A man stood up and prayed with him. [Narrated by Al-Tirmidhi and Abu Dawud]

Al-Tabarani also narrated it in "Al-Kabir" and "Al-Awsat."

1746

ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (کسی دین کام کے لئے) مدینہ متوہہ کے اطراف کسی مقام پر تشریف لے گئے (وہاں سے واپس ہوئے

میں دریاگی) نماز کے لئے جب آپ اپنی مسجد میں تشریف لا تو دیکھ کہ جماعت ہوچکی ہے تو آپ (مسجد میں جماعت ثانیہ بنانے) اپنے گھر تشریف لے گئے اور گھر والوں کو جمع کر کے ان کے ساتھ (با جماعت نماز ادا فرمائی۔ (اس کی روایت طبرانی نے کبیر اور اوست میں کی ہے، اور بھی نے کہا ہے کہ اس حدیث کے راوی ثقة ہیں۔)

ف: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ مسجد میں جماعت ثانیہ کرونا کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد میں دوسرا جماعت نہیں کی بلکہ گھر میں جماعت کی، رب ایا اختلاف کاس وقت آپ کو مسجد میں جماعت کرنے کے لئے آدی نہ ملے ہوئے تو اس کا جواب یہ کہ اول تو آپ مدینہ منورہ سے باہر تھا۔ جب نہ جاتے تھے بلکہ پہلے صحابہ ضرور آپ کے ہمراہ ہوتے تھے اس لئے خاطر یہ کہ اس وقت کچھ لوگ ہمراہ ہوئے گے، دوسروں پیکر آپ گھر والوں کو جمعی مسجد میں بلا کر مسجد میں جماعت کر سکتے تھے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں عورتوں کو مسجد میں نماز پڑھنے کی ممانعت نہیں۔

اس حدیث سے یہی معلوم ہوا کہ دوسرا جماعت مسجد میں کرونا کیوں کہ مسجد سے باہر جانے سے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد کی جماعت کے بعد گھر میں دوسرا جماعت کی گمری نہیں اس شخص کے لئے جانے سے جو جماعت اولی میں سکتی نہ کرے بلکہ اس کے حاصل کرنے کی بمیش کوشش کرے، پھر کچھ اتفاقاً فوت ہو جائے تو مسجد سے باہر جماعت کر سکتا ہے ورنہ مسجد سے باہر جماعت ثانی کا عادی ہونا کچھ کرونا ہوگا۔ "والله اعلم" کیوںکہ اس سے جماعت اولی کی اہمیت باتی نہ رہے گی اور جماعت اولی یہی ہو جائے گی۔ حالانکہ جماعت اولی واجب اور مؤكد ہے (اعلاء السنن)۔

It is narrated from Abu Bakrah (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) was returning from the outskirts of Madinah intending to pray, but he found that the people had already prayed. He turned to his house, gathered his family, and led them in prayer. (1) Al-Haythami said: Its narrators are trustworthy.

Our scholars said: If repeating the congregation in the mosque were permissible, he would not have chosen to pray at home over praying in congregation in the mosque. This is mentioned in "Radd al-Muhtar."

(1) The statement "He gathered his family and led them in prayer": It is mentioned in "Radd al-Muhtar" that it is strongly disliked (makruh tahriman) to repeat the congregation in a neighborhood mosque with a second adhan and iqamah, unless the first prayer was led by someone other than the regular imam or by the regular imam but with a low adhan. If the family repeats the prayer without a second adhan, or if it is a mosque on a travel route, it is permissible by consensus, as in the case of a mosque without a fixed imam or muadhin where people pray in groups. It is preferable for each group to pray with its own adhan and iqamah, as mentioned in "Amali Qadi Khan."

The restriction applies to a neighborhood mosque with a fixed imam and congregation, as mentioned in "Ad-Durar" and other sources. In "Al-Manba'," it is stated that the restriction to a neighborhood mosque is to distinguish it from a public mosque, and the restriction to a second adhan is to exclude cases where a congregation prays in a neighborhood mosque without an adhan, which is unanimously permissible.

In arguing against Imam Ash-Shafi'i, who denies the dislike of repetition, it is said: We have this hadith, and if repeating the congregation were permissible, he would not have chosen to pray at home over praying in congregation in the mosque. Moreover, unrestricted repetition diminishes the significance of congregation, as people would not gather if they knew the prayer would not be missed. As for a public mosque, people are equal there, and no group has a special claim over it.

This reasoning implies that repetition is disliked in a neighborhood mosque even without a second adhan. This is supported by what is mentioned in "Az-Zahiriya": If a group enters the mosque after its residents have prayed, they should pray individually, which is the apparent ruling. This contradicts the earlier consensus.

In the chapter on Adhan, it is mentioned in "Sharh al-Munyah" that Abu Yusuf said: If the congregation is not in the same form as the first, it is not disliked; otherwise, it is disliked, and this is the correct view. Changing the position of the imam alters the form, as mentioned in "Al-Bazzaziya." In "At-Tatarkhaniya," it is narrated from "Al-Walwaljiya": This is our position. End of the summary from "Radd al-Muhtar."

تبصرہ حدیث
1747

_ اسود بن یزید تابعی رضی اللہ عنہ سے روایت کی گئی ہے کہ جب کچھ ان کو پچھلے کی مسجد میں جماعت نہیں ملتی تو وہ (اپنے محل کی مسجد میں جماعت ثانیہ کرتے) دوسروں محل کی

مسجد میں (جماعت اولی) حاصل کرنے کے لئے جائیا کرتے تھے۔ (گر اپنے محل کی مسجد میں جماعت اولی کے لئے جانا واجب ہے اور دوسرے محل کی مسجد میں جماعت اولی حاصل کرنے کے لئے جانا مستحب ہے، پر بدائع میں ذکور ہے)- (اس کی روايت ابن ابي شيبة نے سنديچ کے ساتھ کی ہے)-

It is narrated from Al-Aswad ibn Yazid, a Tabi'i (follower of the companions), that if he missed the congregational prayer in his local mosque, he would go to another mosque. [Narrated by Ibn Abi Shaybah with a Sahih chain]

Al-Bukhari also narrated it in a Mu'allaq form. The statement, "Who will show kindness...", does not indicate the permissibility of the repetition being discussed, which is the following of one obligated prayer by another obligated prayer. What is established by it is the following of a voluntary prayer by an obligated prayer, and there is no ruling of dislike for this. Rather, another hadith supports its permissibility: "If you two pray among your men, then come to the prayer of a group, pray with them, and let your prayer with them be a voluntary one," as is apparent.

What Al-Bukhari narrated in a suspended form from Anas (may Allah be pleased with him) is understood to refer to a mosque on a travel route or similar, where it is reported that he gave the adhan and iqamah. This is disliked according to the general opinion, as understood from "Al-Mirqah" and other sources.

1748

اور بخاری نے بھی اس کی روایت تعلیقاً کی ہے-

Al-Bukhari mentioned it in a suspended (Mu'allaq) manner and said: "O Allah, make him a precursor, a forerunner, a treasure, and a reward for us."