Nūr al-Maṣābīḥ
بَابُ مَنْ صَلّى صَلاةً مَرَّتَيْنِ

Praying the Same Prayer Twice
Volume 3 · Prayer

(یہ باب ایک نماز کو دو رفع پڑھنے والے کے بیان میں ہے)

نقل نماز پڑھنے والے کو فرض نماز پڑھنے والوں کی امامت کرنے جائز نہیں

This chapter deals with the narration of a person who reads the prayer aloud leading the prayer for those who read it silently. It is not permissible for one who reads the prayer aloud to lead the prayer for those who read it silently.

1749

بنی سلمہ کے ایک صاحب جمن کا نام سلیم تھا ان سے روایت ہے کہ وہ نی

کریم علیہ السلام کی خدمت قدس میں حاضر ہو کر عرض کہ : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم معاذ بن

جل رضی اللہ عنہ (آپ کے ساتھ مقنتی بن کرعشائی فرض پڑھ کر ) ہمارے سوجانے کے بعد (تمہیں

كوعشائی نماز پڑھانے کے لئے) آیا کرتے ہیں، اور تمہیں دین بھر کے کاروبار سے تعلق ہوتے رہتے

ہیں، جب وہ ازان دی تو تمہیں نماز کے لئے (اپنے گھروں سے) نقل آتے ہیں(جا بر ضی اللہ عنہ

کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ معاذ رضی اللہ عنہ نقل کی نیت سے امامت کرتے تھے اور ساری

جماعت فرض کی نیت سے اقتداء کرتی تھی اس کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں دی گئی تھی،

جب معاذ رضی اللہ عنہ کی پیشکشیت حضور سے پیش ہونی کر )معاذ رضی اللہ عنہ طویل قرآن سے نماز

پڑھا کرتے ہیں (اس وقت پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے معاذ! تم طویل قرآن پڑھ کر لوگوں کو فتنہ میں مت دالو (اب تک

تم نفل کی نیت سے جو امامت کی ہے آتندہ کے لئے اس کو منسوخ کردو، دو میں سے کوئی ایک کام

کرو) میرے ساتھ فرض کی نیت سے نماز پڑھو تو قوم کو پھر دوبارہ نہ پڑھاو۔ اگر قوم کو نماز پڑھانے ہو

تو (اپنی نماز میرے ساتھ نہ پڑھاور) قوم کو طویل قرآن سے نماز نہ پڑھاؤ۔

(اس کی روايت امام احمد اور امام طحاوی نے کی ہے)

ف: اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ امام کا نفل کی نیت سے قوم کی امامت کرنا اور قوم کا

فرض کی نیت سے اقدام کرنا بھیش کے لے ناجائز قرار پایا۔

فرض پڑهن وا لے مقتدیوں کا نفل کی نیت سے امام بنجا جاتے نہوں پر ایک اور دلیل صلاۃ

خوف” سے جس کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تجرت کے بعد کئی بار اداء فرمائی سے - پہلے

“صلاۃ خوف” کو بھجے صلاۃ خوف پیہ کے جب کسی دشمن کا سامنا ہو، اور دشمن کے خوف سے سپ

لوگ مل کر جماعت سے میک وقت نماز نہ پڑھ سکتے ہون، مشا قصر نماز ہوری ہوتے مسلما نول کے دو

حض کردیے جا مین، ایک حضر دشمن کے مقابلہ میں رہے اور دومرا حضر امام کے ساتھ نماز شروع

کروے، جب امام ایک رکعت ختم کرنے دور مری رکعت کے لے کطر اہو نے گ تو پہلا حضر دشمن کے

مقابلہ کے لے چلا جانے اور دومرا حضر جودشمن کے مقابلہ قداوبل سے آ کرامام کے ساتھ امام کی بقیہ

نماز میں شریک ہوجانے اور جب امام ختم نماز پرسلام پچیر دے تقیر دومرا حضر سلام پچیرے بلخیر دشمن

کے مقابلہ کے لے چلا جانے اور پہلا حضر جودشمن کے مقابلہ کوگیا پچا پچیر والپس ہوکر اپنی بقید نماز لا حق

کی طرح بغیر قرآن کے تکمیل کرنے، پچیری دشمن کے مقابلہ میں پچلے جا مین اور دومرا حضر والپس ہوکر

اپنی نماز قرآن کے ساتھ مسبوق کی طرح تکمیل کرنے اور سلام پچیر دے-

صلاۃ خوف کو بھجنے کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احوال جوصلاة خوف میں ہوئے میں

ان پرغور تجہ کرآ پ نے اکثر غزوأت میں جوابجرت کے بعد ہوئے میں، نذکورہ صلاۃ خوف کے

طریقہ پر نماز اداء فرمائی سے، اگر امام نفل کی نیت سے فرض نماز پڑهن والول کی امامت کرستا سے تو

حضرور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نصف فونج کوفرض کی نیت سے پوری نماز پڑہادیتے اور باقی نصف فونج کو

دوبارہ نفل کی نیت سے فرض پڑہاتے اور مقتدی فرض کی نیت سے اقدام کرتے، اس صورت میں

نماز کے منافی کونی حرکت کرنے کی ضرورت نہ پڑتی، ایسا نکے حضرور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرض

کی نیت سے آدمی فونج کواپی رکعت اور بقیہ نصف کو جواپی اپی رکعت پڑہائی، جس سے صاف طور

پر معلوم ہوا کر امام نفل کی نیت سے فرض پڑهن والول کی امامت نہیں کرستتا سے اور نہیں نذہب حقی سے

اوراسی کے قائل امام زہری، حضرت حسن بصری، حضرت سعید بن المسیب، امام نخعی، حضرت ابو قلابہ،

حضرت یعنی بن سعید النصاری، حضرت مجاهداور حضرت طاووس رضی اللہ عنہم کچھ میں-

صلاۃ خوف کے واقعات جسیا کر اور پر کہا گیا سے، تجرت کے بعد آخری زمانے کے پین اورمعاز

رضی اللہ عنہ نے بھت پہلے اسلام قبول فرمايتااورابتداعزمانےایک،ینمازکوایکمرتبہفرضکینیت

سےاداءکرنےپھردوبارهاسینمازکونفلکینیتسبھاےتاوراقتداکرنےوالےفرضکینیتسبھے

اقتداکرتےتمے،چونکہصلاةخوفکےواقعاتآخریزمانتےپیلاورحضرتمعازکاوقتاابتدائی

زمانکہاسلمےحضرتمعازرضی اللہ عنہ کافضلکینیتسبھےقومکوفرضنمازپڑهاںکامنسوخہوتا

صلاةخوفسبھیثابتہوتاہے(طحاوی،عمدة القارياورابنہمام)-

ایکمرتبہفرضنمازپڑہیئےکےبعددوبارهاسینمازکوجماعتکےساٹھپڑہےکاحکم

پہلی حدیث

اسودبن جابر رضی اللہ عنہما ابن والد حضرت جابر بن روايت

کرتےہیں(ایکدنکاواقعتہےکر)دوشخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ظہرکی

نمازاپنےگھربیلاسلخیالتےپڑہیئتےکرم(مسجد میں) لوگ(جماعتتنماز)پڑہے

چلےہولگے،پھردونولجبمسجدکاےتوکیادکیتهےپیکرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز

پڑہارتےہیلاندونولنےاپنےخیالمیںسمجھاکر(ایکدفوتهنانمازپڑہیئےکےبعددوبارہ)

ایسنمازکوجماعتسبھےپڑہناجاںزبینبے،اسیلتےپیردونولایکطرفمسجدمیں(نمازمیںشریک

ہوئےبغیرہی)پیٹےگے،جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازسفارغہوئےتوآپنےالن

دونولکودیکھاکر(جماعتمنشریکہوئےبغیرعلیہ)پیٹےہوئےپی،اسیلتےآپنےکسیکو

سمجھاکراندونولکوبلالاے،وهدونولجبخدمتاقدسمنحاضرکےگےتواندونولکی

حالتبھیکروہخوفوہیبتتےکانبپربےتمےکمبینالنبکےبارےمنکونیاحکمتوضیح

نازلہوائے؟حضورعلی الصلاۃوالسلامبنےالندریافتفرماياکرجماعتمنشریکنهوکر

علیحدہپیٹنےکیکیاوچہے؟توانہولنےاپناساراقصدکہسنا(اورظاہرکیاکرچونکہتمہرونلنماز

پڑہکراےتےخاسلبہپھردوبارهجماعتمنشریکہوکرنمازپڑہنکوناجانزبچہتمحضور!تم

اس وجہ سے حضرت محٌّمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سنو! جب تم

نے (فرض کی نیت سے) تہائی نماز پڑھ لی تو اور پچھر جماعت میں شرکیت کے موقع آئے تو دوبارہ

جماعت میں شرکیت کرو۔ جس طرح جمعہ کے موٹا امام محمد بن مذکور رحمۃ اللہ علیہ (12-ہے)

تمام روایت کی اس طرح روایت نے بھی اس طرح روایت فرمایا ہے کہ عصر اور مغرب اس حکم

کی اور شرح زرقانی میں کہا ہے کہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کہ اور تہائی، تنزی، ابوداؤد اور نسائی

مسٹقی ہیں، اس لے ان نمازوں کو ایک مرتبہ پڑھنے کے بعد پچھر دوبارہ جماعت سے نہیں پڑھنا

چاہیے -

ف : اس حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی فرض نماز کو تہائی پڑھ کر مسجد کو پہنچے

اور دکیہ کہ بعد میں جماعت ہوری ہے تو وہ نفل کی نیت سے جماعت میں شرکیت کرنے کے لئے حکم آس

شخص سے متتعلق ہے جو تہائی نماز پڑھ چکا ہو، اور اگر کوئی شخص کسی مسجد میں جماعت سے نماز ادا کر کے

کسی دوسرا مسجد میں اپنے وقت پہوچے کہ وہال وہی نماز جماعت سے ہوری ہے تو اپنے شخص کو

جماعت میں شرکیت نہ ہونا چاہیے، امام ابوحنیفہ امام ماکف اور امام شافعی رحمہ اللہ تینوں اس کے قائل

ہیں -(یا علماء اسناد میں مذکور ہیں)

دوسری حدیث

It is narrated from Sulaym, a man from Banu Salimah, that he came to the Prophet (peace be upon him) and said: "O Messenger of Allah, Muadh ibn Jabal comes to us after we have slept and are engaged in our daytime work. He calls for prayer, so we come out to him, but he prolongs the prayer for us." The Prophet (peace be upon him) said to Muadh: "O Muadh, do not be a cause of Fitnah (trial). Either pray with me or lighten the prayer for your people." [Narrated by Ahmad and At-Tahawi]

Imam Ibn al-Humam said: "The Prophet (peace be upon him) gave him two options: either pray with him and not lead his people, or lead his people with a shortened prayer and not pray with him. This is the literal meaning of the text, indicating that he was prohibited from leading the prayer if he prayed with the Prophet (peace be upon him). However, his leading the prayer is not prohibited by consensus. Thus, it is understood that he was prohibited from performing the obligatory prayer (with the Prophet) and then leading his people in the same prayer."

Al-Allamah Al-Ayni said: "This is the opinion of Az-Zuhri, Al-Hasan Al-Basri, Sa'id ibn Al-Musayyib, An-Nakhai, Abu Qilabah, Yahya ibn Sa'id Al-Ansari, Mujahid, and Tawus."

At-Tahawi responded to the hadith of Muadh, which indicates the permissibility of an obligated person following someone performing a voluntary prayer, by saying that it is abrogated. He argued that Muadh's Islam was earlier, and after years of Hijrah, the Prophet (peace be upon him) performed the prayer of fear multiple times, which involved actions contrary to the usual prayer. If it were permissible for an obligated person to follow someone performing a voluntary prayer, it would have been possible to perform the prayer twice without contradiction or corruption, but since this was not done, it indicates that it is not permissible.

From this noble hadith, it is understood that leading the congregation in voluntary prayer and then proceeding with the intention of obligatory prayer is impermissible. Those who have the obligation to pray should not be led by someone with the intention of a voluntary prayer. However, there is another type of prayer called 'Salat al-Khawf' (Prayer of Fear), which the Prophet (peace be upon him and his family) performed several times after returning from expeditions. The 'Salat al-Khawf' is performed when facing an enemy, and people cannot gather for congregational prayer due to fear of the enemy. In such a situation, two groups of Muslims are formed: one group faces the enemy, and the second group starts the prayer with the Imam. When the Imam completes one rak'ah and stands up for the second rak'ah, the first group goes to face the enemy, and the second group returns to complete the remaining prayer with the Imam. When the Imam finishes the prayer and gives the salam, the second group goes to face the enemy, and the first group returns to complete their remaining prayer without reciting the entire Quran, as they did before facing the enemy, while the second group returns to complete their prayer with the Quran, and then gives the salam.

After the 'Salat al-Khawf' was established, the Prophet (peace be upon him and his family) often performed prayers in this manner during many expeditions after returning from battles. If the Imam leads the obligatory prayer with the intention of a voluntary prayer, the Prophet (peace be upon him and his family) would complete half of the congregation's obligatory prayer and then repeat the remaining half with the intention of a voluntary prayer, while the followers would proceed with the intention of an obligatory prayer. In this case, there would be no need for any movement that contradicts the prayer. The Prophet (peace be upon him and his family) would lead half of the congregation in one rak'ah with the intention of an obligatory prayer and the other half with the intention of a voluntary prayer, making it clear that the Imam does not lead the obligatory prayer with the intention of a voluntary prayer, which is not in accordance with the true religion. Imams like Imam Zuhri, Hasan Basri, Sa'id bin Musayyib, Imam Nakhai, Abu Qilabah, Yani bin Sa'id al-Nasari, Mujahid, and Tawus (may Allah be pleased with them) held this view.

The incidents of 'Salat al-Khawf' were narrated by Ibn Umar (may Allah be pleased with him) and Ma'az (may Allah be pleased with him), who accepted Islam early and in the initial period, he would perform one rak'ah of the obligatory prayer and then repeat it with the intention of a voluntary prayer, and those who followed him would do the same. Since the incidents of 'Salat al-Khawf' occurred in the later period and the time of Ma'az (may Allah be pleased with him) was in the initial period, his leading the congregation in the obligatory prayer was abrogated, and 'Salat al-Khawf' became established (Tahawi, Umda al-Qari, and Ibn Hajar).

One should perform the obligatory prayer once and then repeat it with the congregation. This is the first hadith.

1750-1753/5-2: Aswad bin Jabir (may Allah be pleased with him) and his father, Jabir (may Allah be pleased with him), narrate (an incident): Two men in the time of the Messenger of Allah (peace be upon him and his family) performed the Zuhr prayer at home without intending to join the congregation (in the mosque). Later, when they came to the mosque, they saw the people (performing the congregational prayer). They thought (that after performing one obligatory prayer, they should perform it again in congregation). Therefore, they stood aside in the mosque (without joining the prayer). When the Messenger of Allah (peace be upon him and his family) finished the prayer, he saw them standing aside (without joining the congregation) and asked them why they were standing. He then called Bilal, and when the two men were brought before him, he asked them about their condition, fearing that they might have some hidden wisdom or explanation regarding the matter. He (the Prophet) asked them why they stood separately and did not join the congregation. They explained their purpose (and made it clear that since they had already performed the prayer, they did not want to repeat it in congregation). The Prophet (peace be upon him and his family) then said: Listen! When you have performed the obligatory prayer and the opportunity arises to join the congregation, you should join the congregation. This is similar to what Imam Muhammad bin Muzahir (may Allah have mercy on him) narrated about the command for Asr and Maghrib prayers, and it is mentioned in Sharh al-Zarqani that Imam Abu Hanifah (may Allah have mercy on him), Taha'i, Tirmidhi, Abu Dawud, and Nasa'i agree that these prayers should not be repeated in congregation after being performed individually.

From this noble hadith, it is understood that if a person performs the obligatory prayer individually and reaches the mosque later to find a congregation, he should not join the congregation with the intention of a voluntary prayer. This applies to a person who has already performed the obligatory prayer. If someone performs the prayer in congregation in one mosque and then reaches another mosque where the same prayer is being performed in congregation, he should not join the congregation again. Imam Abu Hanifah, Imam Malik, and Imam Shafi'i (may Allah have mercy on them) all agree on this. (This is mentioned in the chains of narrations.)

Second Hadith

1754

بربن محٌّمد رضی اللہ عنہما پن والد حضرت محٌّمد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے

یعنی کہ حضرت محٌّمد (اپنے دفعے) مسجد کے کسی حصے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ پہنچے

ہوئے تھے (ازاں تو پہلے تھی اور جب) اقامت (جسیا کے مرقات میں مذکور ہے-12) کی گئی تو

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے، نماز اداء فرمائے اور (نماز سے پہلے) مسجد میں جس جگہ پہنچے

ہوئے تھے وہیں تشریف لاے -حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا دیکھتے ہیں کہ محٌّمد (جماعت) میں

شَرْکِ ہوے بغير، یو پی جی تو یے پی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیون

مجھن! مسلمانول کے ساتھ نماز پڑھنے سے تم کو کوئی چیز مانگ ہوتی! کیا تم مسلمان نہیں ہو؟ مجھن (رضی

اللہ عنہ) نے عرض کیا: حضور! میں مسلمان ہوں، نماز میں شرکی نہ ہوں نے کی یو نہیں سے بلکہ اس

وجہ سے جماعت میں شرکی نہیں ہوا کہ میں اپنے الہ و عیال میں (تنہا) نماز پڑھ کر آیا تھا (پھر

دوبارہ نماز میں شرکی ہوئے کو جائز نہیں سمجھا پین کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد

فرمایا: سنو! مجھن جب تم تہا نماز پڑھ کر مسجد میں آؤ اور دیکھو اقامت ہوری سے تو مسلمانول کے

ساتھ (نفل کی نیت سے) نماز میں شرکی ہو جائیا کرو اگر چہتم وی نماز فرض کی نیت سے پڑھے چکے ہو۔

(اس کی روایت امام ماک او رنسائي نے کی ہے)

ف: واخ ہو کہ یحدیث اوراس کے بعد کی چند حدیثول سے معلوم ہوتا ہے کہ تہا نماز پڑھنے

کے بعد مسجد میں جماعت لی جانے سے پاچو لنماز ول کو نفل کی نیت سے پڑھ سکتے ہیں لیکن ایسا نہیں

ہے بلکہ یہ کم صرف ظہراورعشاء سے متعلق ہے، ر باقی، عصراورمغرب کو ایک مرتبہ پڑھنے کے بعد پھر

دوبارہ نہ پڑھنے کی حد ثیس دارتی، امام ماک او عبد الرزاق سے آگے آری، پی جسیا کر مرقات

میں نذور ہے۔

It is narrated from Busr ibn Mihjan, from his father, that he was in a gathering with the Messenger of Allah (peace be upon him) when the call to prayer was made. The Prophet (peace be upon him) stood, prayed, and returned, while Mihjan remained in his place. The Prophet (peace be upon him) said to him: "What prevented you from praying with the people? Are you not a Muslim?" He said: "Yes, O Messenger of Allah, but I had already prayed with my family." The Prophet (peace be upon him) said: "When you come to the mosque and have already prayed, and the prayer is established, pray with the people even if you have already prayed." [Narrated by Malik and Al-Nasa’i]

تیسری حدیث
1755

قبیلہ اسد بن خزیمر کے ایک صاحب سے روایت سے کہ انہول نے ابوالیوب

انصاری رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ اگر کوئی شخص اپنے مکان میں تہا نماز پڑھے لے، پھر وہ مسئلہ

آئے اور دیکه کہ نماز کے لیے اقامت ہوری سے تو کیا وہ ایک صورت میں (نفل کی نیت سے)

جماعت میں شرکی ہوسکتا ہے؟ مجھے تو اس میں شک ہے (کیا جوصورت بیان کی گئی سے وہ ہے؟)

تو ابوالیوب رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: (شک کی ضرورت نہیں) ہم نے اس مسئلہ میں حضرت صلی اللہ

علیہ وآلہ وسلم سے حقیقت کر لی ہے حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایسے شخص کو مجھی

جماعت کا پورا ثواب ملتا ہے۔ (بشر طیبہ فجر، عصر اورمغرب نہہول اس لے کر ان نماز وں کو تھا پڑہ

یعنی کے بعد دوبارہ ان نمازوں کی جماعت میں شریک نہہونا چاہئے اس کی صراحت دار قطعی کی

حدیث سے آگے آرہی ہے)- (اس کی روایت امام ماک اورابوداوڈ نے کی ہے)

چوتھی حدیث

It is narrated from a man from Asad ibn Khuzaymah that he asked Abu Ayyub Al-Ansari (may Allah be pleased with him): "If one of us prays at home and then comes to the mosque and the prayer is established, should he pray with them? I feel uneasy about that." Abu Ayyub said: "We asked the Prophet (peace be upon him) about that, and he said: 'That will be a share of the congregation for him.'" [Narrated by Malik and Abu Dawud]

1756

_ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے مولی سلمیمان رضی اللہ عنہ سے روایت

ہے وہ کہتی ہیں کہ مسجد نبوی کے باہر جو چھوٹی مسجدا جس کو بلاط کہتے ہیں وہاں ابن عمر رضی اللہ عنہما بیٹھے

ہوئے تھے تو میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا، اور اس مسجد میں جماعت ہورہی تھی، میں نے ان سے

عرض کیا کہ آپ جماعت میں شریک نہ ہو کر پیشان کیون میں ہیں میں تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا

: میں ایک بار (جبیا کے تعیق مجید میں ذکور ہے-12)(فرض کی نیت سے جماعت سے) نماز پڑھ

چکا ہوں، اس لے پھر دوبارہ (فرض کی نیت سے) جماعت میں شریک نہیں ہوا۔ اس لے کہ میں

نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرمائے سن کہ ایک ہی دن میں ایک وقت کی نماز

کو(فرض کی نیت سے) پڑھ کر دوبارہ فرض کی نیت سے نہ پڑھا کرو-

(اس کی روایت امام احمد، ابوداوداورنسائی نے کی ہے)

ف : یہاں پیشہ موتابہ کے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرض کی نیت سے نماز پڑھنے کے خلاف

لے دوبارہ فرض کی نیت سے شریک جماعت نہیں ہوئے تو ان کو چاہئے تہا کر نفل کی نیت سے

شریک جماعت ہوجاتے اس کا جواب یہ کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جماعت کے ساتھ فرض کی

نیت سے نماز پڑھنے کے خلاف اور جماعت سے نماز پڑھنے والے کو، یہ نماز پھر دوبارہ نفل کی نیت سے محمل

جماعت میں شریک ہو کرنے پڑھنا چاہئے۔ اس لے آپ نفل کی نیت سے محمل شریک جماعت نہیں

ہوئے مرقات -

پہلی حدیث

It is narrated from Sulayman, the freed slave of Maymunah, that he said: "We came to Ibn Umar (may Allah be pleased with him) while he was on the pavement, and the people were praying. I said: 'Will you not pray with them?' He said: 'I have already prayed, and I heard the Messenger of Allah (peace be upon him) say: "Do not pray the same prayer twice in one day."'" [Narrated by Ahmad, Abu Dawud, and Al-Nasa’i]

In "At-Ta'liq al-Mumajjad," it is explained: "This means: Do not pray the same prayer twice with the intention of obligation, making both obligatory. Rather, the first is obligatory, and the second is voluntary."

فجر، مغرب اور عصر کی فرض نمازول کودوبارہ نفل کی نیت سے جمع اداء کرنا جائز نہیں
1757

نافع رضی اللہ عنہ نے روایت کہ کعب اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے کہ جو شخص مغرب یا عشائی فرض نماز کو (تنہا) پڑھے (یا جماعت سے) پھر ان نمازیں کسی بھی جماعت سے پڑھی جارہی ہو تو اوراس کو جماعت میں شرکیت ہونے کا موقع آئے تو ایسے شخص کو (نفل کی نیت سے نہیں) دوبارہ ان نمازوں کی جماعت میں شرکیت نہ ہونا چاہیے۔

(اس کی روایت امام ما لک نے کی ہے۔)

ف: واقع ہے کہ اس حدیث شریف میں ذکور ہے کہ فجر اور مغرب کے فرض ایک مرتبہ پڑھ لینے کے بعد پھر دوبارہ ان نمازوں کو پڑھنے جائز نہیں ہے۔ اب رہی عصر کی نماز تو اس کا بھی حکم ہے، اس کی ویل یہ ہے کہ بخاری اورمسلم کی روایت جوابوسعید خدیری رضی اللہ عنہ سے مردوی ہے اس میں صبح کے فرض کے بعد جسے نفل کا جائز نہ ہونا ذکور ہے ایسے، عصر کے فرض کے بعد بھی نفل کے جائز نہ ہونے کا ذکر ہے۔ اس طرح بخاری اورمسلم کی اس حدیث سے یہی معلوم ہوا کہ اس میں صبح کی نماز کے بعد جماعت میں شرکیت نہ ہونے کی جسے ممانعت ہے ویسے، عصر کے فرض کے بعد جماعت میں شرکیت ہونے کی ممانعت ہے، اب رہی یہ بات کہ صدر کی حدیث میں جو نافع رضی اللہ عنہ سے مردوی ہے اس میں عصر کی نماز کا کیون ذکر نہیں؟ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کے سامنے فجر اور مغرب کا ذکر آیا تو اس کے آپ نے صرف ان دونوں کی کا حکم بتلا یا اورآگر حضرت ابلعمرو کے سامنے عصر کا بھی ذکر آیا تو اس کا بھی جواب ارشاد فرماتے۔

اب رہا یہ کہ جب مغرب کے بعد نفل پڑھنے کی ممانعت نہیں ہے تو پھر ایسے شخص کو جس نے مغرب کے فرض پڑھ لے ہو تو اس کو دوبارہ جماعت میں نفل کی نیت سے شرکیت ہونے سے کیون منع کیا جارہا ہے؟ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ تین رکعت کا نفل کی نیت سے اداء کرناتیرا (نفل میں تین رکعت پیں) ہو نے کی وجہ سے ناجائز ہے اگر چہ کہ ایسا شخص امام کے سلام پھیرنے کے بعد ایک رکعت کا

اضافہ کر کے نماز کو جفت میں کیون نکر لے، اس لے کہ مقتری پرام کی متا بعت ضروری ہے اور اس صورت میں مقتری کا امام کی نماز پڑیا دتی کرنا لازم آتا ہے اس وجہ سے نفل کی نیت سے بھی مغرب کی نماز میں دوبارہ شریک ہونا جائز نہیں ہے۔

It is narrated from Nafi' that Abdullah ibn Umar (may Allah be pleased with him) used to say: "Whoever prays Maghrib or Fajr and then catches them again with the imam should not repeat them." [Narrated by Malik]

دوسرا حدیث
1758

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم نے اپنے گھر میں کوئی فرض نماز پڑھ لی (اس کے بعد مسجد آنے اور جماعت ہو رہی ہوتی) نفل کی نیت سے جماعت میں شریک ہو کر) اس نماز کو دوبارہ پڑھ لیا کرو، گر فجر اور مغرب میں ایسا موقع آنے تو نفل کی نیت سے بھی اس میں شریک نہ ہونا چاہیے۔ (ایاہی عصر کی جماعت میں بھی دوبارہ شریک ہو نے کا موقع آنے تو فجر اور مغرب کی طرح عصر میں بھی شریک نہ ہونا چاہیے جسیا کہ اس کی تحقیق ابھی او پرگز رچکی ہے)۔ (اس کی روایت دار کی نے کی ہے۔)

It is narrated from Ibn Umar (may Allah be pleased with him) that he said: "If you have prayed at home and then catch the prayer in the mosque with the imam, pray with him except for Fajr and Maghrib, for they are not prayed twice." [Narrated by Abdur-Razzaq]

تیسری حدیث
1759

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ جب تم نے اپنے گھر میں کوئی فرض نماز پڑھ لی اور اس کے بعد مسجد میں آنے اور جماعت ہو رہی ہوتی نفل کی نیت سے جماعت میں شریک ہو کر) اس نماز کو دوبارہ پڑھ لیا کرو، گر فجر اور مغرب میں ایسا موقع آنے تو نفل کی نیت سے بھی اس میں شریک نہ ہونا چاہیے۔ (ایاہی عصر کی جماعت میں بھی دوبارہ شریک ہو نے کا موقع آنے تو فجر اور مغرب کی طرح عصر میں بھی شریک نہ ہونا چاہیے جسیا کہ اس کی تحقیق ابھی او پرگز رچکی ہے)۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے یہی فرمایا کہ (اگر کوئی نفل کی نیت کی جا نے فرض کی نیت سے شریک ہونا چاہے تو بھی وہ شریک جماعت میں ہوسکتا اس لے کر) فجر ہو یا مغرب (یا ان کی سوا کوئی اور فرض نماز) دون میں دوبار (فرض کی نیت سے) نہیں پڑھی جائی۔ (اس کی روایت عبد الرزاق نے کی ہے۔)

It is narrated from Ibn Umar (may Allah be pleased with him) that he said: "If you have prayed at home and then catch the prayer in the mosque with the imam, pray with him except for Fajr and Maghrib, for they are not prayed twice." [Narrated by Abdur-Razzaq]

پچھلی حدیث
1760

ناعم بن اجیل جوام المومنین امّ سلمہ رضی اللہ عنہا کے مولی ہیں ان سے روایت ہے وہ فرما تے ہیں کہ میں نماز مغرب کے لے مسجد میں جا کر تا تھا تو بعض وقت کیا دیکھتا ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعض صحابہ (پچھلے حجرے میں وہ جہ ضرورت کی حالت میں) گھروں میں مغرب کی فرض پڑھ کر مسجد کے آخری حصہ میں بیٹھے ہیں اور مسجد میں مغرب کی فرض پڑھ رہے ہیں۔ اس میں یا صحابہ فرض پڑھ کی نیت سے شرکی جماعت نہیں ہوتی، اس سے معلوم ہوا کہ مغرب کی فرض پڑھنے کے بعد نفل کی نیت سے شرکی جماعت نہیں ہونا چاہئے۔ اس کی نیت سے کچھ جماعت میں شرکی نہیں ہونا چاہئے۔ اس لے کر ایک فرض نماز دن میں دو بار نہیں پڑھی جائے۔

(اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔)

It is narrated from Na'im ibn Ajil, the freed slave of Umm Salamah (may Allah be pleased with her), that he said: "I used to enter the mosque for Maghrib prayer and see some of the companions of the Messenger of Allah (peace be upon him) sitting at the back of the mosque while the people were praying inside. They had already prayed in their homes." [Narrated by At-Tahawi]

At-Tahawi said: "These companions of the Messenger of Allah (peace be upon him) did not pray Maghrib in the mosque because they had already prayed it in their homes, and none of the other companions of the Messenger of Allah (peace be upon him) disapproved of this. This, in our view, is evidence that the earlier statement of the Messenger of Allah (peace be upon him) had been abrogated. It is not permissible to assume that such a statement of the Messenger of Allah (peace be upon him) was unknown to all of them, leading them to act contrary to it. Rather, they acted in this manner because they were certain that the earlier statement had been abrogated."

Chapter on The Sunnahs and Their Virtues

And the saying of Allah, the Almighty: "So exalt Him, and when the stars disappear." (Quran 50:40)

And His saying: "So exalt Him when the stars set." (Quran 52:49)