اِمامت کے بیان
اِمامت کا مستحق کون ہے؟
پہلی حدیث
Who is worthy of leadership? This is addressed in the first hadith.
ابوموسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرما تے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اس مریض سے پوچھوئے (جس کے بعد آپ دنیا سے تشریف لے گئے) اور پی پیاری بہت برہم گئی (اور نا تو انی بیمار ہوئی جس کی وجہ سے آپ پاپر نہیں تشریف لا سکتے تھے، اس حالت میں موٹے نے حاضر ہو کر جماعت کے تیار ہوئے کی اطلاع دی) تو حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: ابوبکر (رضی اللہ عنہ) سے کہو کر (اما مہو کر) وہ لوگوں کو نماز پڑھا ئیں (اس پر) ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: حضور! وہ بہت نزم دل (آدی) ہیں (جب آپ کی جلد خالی وکیسین گے تو ان پر ایک رقت غالب ہوگی کر) وہ آپ کی جلد کطرے ہو کر (گریو بکا کی وجہ سے) لوگوں کو نماز نہیں پڑھا سکیں گے (پیس کر) حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: نہیں جی! ابوبکر سے کہو کر وہ لوگوں کو نماز پڑھا ئیں، ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے دوبارہ وہی عرض کیا جو پہلے عرض کیا تھا تو حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے (پیکر) ارشاد فرمایا: نہیں! ابوبکر، جی سے کہو کر وہ لوگوں کو نماز پڑھا ئیں، عائشہ! تم تو حضرت یوسف علیہ الصلاۃ والسلام کے زمانے کی عورتوں کی طرح معلوم ہوتی ہو کہ جیسے وہ اپنی بات منوانے اثری ہوتی تھیں تم بھی اپنی بات منوانے اثری ہوتی ہو) پیس کر ام المومنین خاموش ہوگئیں) اور حضور کی طرف سے پیام پہوچیا نے والا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آکر
آپ کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیام پہوچایا تو ابو بکر رضی اللہ عنہ ( حکم کی تتمیل کر کے ) حضور علیہ
الصلوۃ السلام کے دینیہ تشریف لے جانے تک لوگوں کو نماز پڑھاتے رہے۔ اس کی روایت
بخاری اور مسلم دونوں نے کی ہے۔
اس حدیث شریف سے ثابت ہوا کہ امامت کا مستحق اور امامت کے لیے افضل جماعت میں وہ
شخص ہے جو سب سے زیادہ علم والا ہو، اگر جماعت میں سب سے زیادہ قرآن ت جانے والا بھی ہوتا عالم
کے مقابلے میں وہ بھی امامت کا مستحق نہیں سمجھا جائے گا اور بھی حتمی نہہب ہے، امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ
ایسے کے قائل ہیں، اس لے انہوں نے صدر کی اس حدیث کو جس باب کے تحت ذکر کیا ہے اس کے
الفاظ میں - "بابُ اهلِ العِلمِ وَ الفَضلِ أَحْقُّ بِالإِمَامَةِ" ( علماء و فضلاء امامت کے زیادہ حقدار
ہیں ) اس حدیث شریف سے حتمی نہہب اس طرح ثابت ہو رہا ہے کہ صحابہ کرام میں سب سے زیادہ
قاری حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ تجہن کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا
ہے : "أقْرَؤُكُمْ أَبِی" ( تم میں سب سے برتر قاری ابی ہیں ) اس لے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ
نے فرمایا ہے "کانَ أَبُوبَکْرٌ أَعْلَمَنا" ( ہم میں سب زیادہ علم والے ابو بکر ہیں ) اگر قاری امامت
کے لے افضل ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امامت کے لے حضرت ابوبکر کو منتخب فرماتے، ایسا
نہیں ہوا بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امامت کے لے حضرت ابوبکر کو منتخب فرمایا، جس سے صاف
ظاہر ہے کہ سب سے زیادہ علم والا امامت کا سب سے زیادہ مستحق ہے، چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے سب سے برتر عالم کو امامت کا مستحق قرار دیا، اور امامت کے لے ترتیب دی اوریا پے کے
آخری زمانے کا اقتداء، اس لے اس کے منسوخ ہونے کا کچھ احتمال نہیں ہے۔ اس لے ثابت ہوا کہ
امامت کے لے زیادہ علم والے کی زیادہ قرآن توالے پرتزی قطعی امر ہے۔ ( مضمون عبد القادری،
فتح القدیر، جامع الآثاراور مرقات سے ماخوذ ہے۔12) اور حاکم اور دار قطعی کی روایت میں اس طرح
ہے کہ امامت کا مستحق اور امامت کے لے افضل جماعت میں وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ علم والا ہو،
اور سب سے زیادہ علم والے کی سمجھ رکھتا ہو، اگر سب کے سب علم دین کے جاننے میں برابر ہوں تو امامت
کے لے سب سے زیادہ مستحق اور افضل وہ ہے جو سب سے زیادہ قاری ہو، قرآن ت جاننے کے لحاظ سے
یا قرآن زیادہ یاد رکھنے کے لحاظ سے، اور مسلم کی ایک روایت میں اس طرح ہے کہ ( اگر سب کے سب
قرأت کے جائز میں برابر ہول تو) امامت کے لے سب سے زیادہ مستحق اور افضل وہ ہے جوگنا ہول
سے بجرت (پیرقات سے ماخوذہ -12) کر کے سب سے زیادہ نیکیوں کی طرف آیا ہو، لیتنی سب
سے زیادہ مستحق اور پرہیزگار ہو (اور اگر سب کے سب تقوا میں برابر ہول تو امامت کے لے سب سے
زیادہ مستحق اور افضل وہ ہے جوان میں زیادہ عمر رسیدہ اور دومسرے کے حلقوں میں (بغيراس کی اجازت
کے) کوئی امامت نہ کرے (اگرچہ اس سے افضل ہو) اور کسی شخص کے مکان میں اس کے خصوص
بستر وغیرہ پراس کی بغیر اجازت کوئی نہ بیٹھے۔ اور مسلم کی ایک اور روایت میں اس طرح ہے کہ کسی کے
گھر میں (گھروالے کی اجازت کے بغیر) کوئی امامت نہ کرے (اگرچہ کپراس سے افضل ہو)۔
Abu Musa (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (ﷺ) fell ill, and his illness became severe. He said, "Tell Abu Bakr to lead the people in prayer." Aisha said, "He is a soft-hearted man. If he stands in your place, he will not be able to lead the people in prayer." He said, "Tell Abu Bakr to lead the people in prayer." She repeated her objection, and he said, "Tell Abu Bakr to lead the people in prayer, for you are like the companions of Yusuf (Joseph)." The messenger went to Abu Bakr, and he led the people in prayer during the lifetime of the Prophet (ﷺ). [Narrated by Bukhari and Muslim]
I say: Bukhari's chapter heading indicates that the most deserving of leading the prayer is the most knowledgeable, as he said, "Chapter on The people of knowledge and virtue are the most deserving of leading the prayer." Our scholars said: This Hadith is evidence that the most knowledgeable takes precedence over the one who is more proficient in recitation, because Abu Bakr was the most knowledgeable among them and was given precedence over Ubayy, who was the most proficient in recitation. The evidence for the first is the statement of Abu Sa'id: "Abu Bakr was the most knowledgeable among us." The evidence for the second is the Prophet's (ﷺ) statement: "The most proficient among you in recitation is Ubayy." This is the later of the two statements of the Messenger of Allah (ﷺ), so it is the one to be relied upon. This is mentioned in Fath Al-Qadir and Jami' Al-Athar.
In a narration by Al-Hakim and Al-Daraqutni: "The most knowledgeable among them in religion. If they are equal in knowledge, then the most proficient in Quranic recitation." In a narration by Muslim: "The earliest among them in migration. If they are equal in migration, then the eldest among them in age. Let no man lead another in his authority, nor sit in his house on his honor except with his permission." In another narration by Muslim: "Let no man lead another in his family."
This noble hadith establishes that the most deserving for leadership and the most suitable person for leading prayers in a congregation is the one who possesses the greatest knowledge. Even if there is someone in the congregation who knows the most Quran, they will not be considered more deserving for leadership compared to a scholar. This is a definitive ruling, and Imam Bukhari (RA) is of this opinion. Therefore, he has mentioned this hadith under the chapter titled: 'Babu Ahli al-Ilmi wa al-Fadli Ahaqqu bi al-Imamah' (The scholars and the virtuous are more deserving of leadership). This noble hadith clearly establishes that among the Companions, the most knowledgeable was Abu Bakr (RA), as the Prophet (SAW) said: 'Abu is the most learned among you.' If the best reciter were the most suitable for leadership, then the Prophet (SAW) would have chosen Abu Bakr (RA) for leadership, which he did. This clearly shows that the most knowledgeable person is the most deserving for leadership, as the Prophet (SAW) appointed the most learned person as the leader, setting a precedent for the end of time, which cannot be abrogated. Thus, it is established that in matters of leadership, the one with the most knowledge is definitively more deserving than the one with the most Quranic recitation. (This topic is derived from Abd al-Qadiri, Fath al-Qadir, Jam al-Athar, and Mirqat.) According to the narration of Hakim and Dar Qutni, the most deserving for leadership and the most suitable person in a congregation is the one who possesses the greatest knowledge. If all are equal in religious knowledge, then the most deserving and suitable for leadership is the one who is the best reciter of the Quran, whether in terms of knowing the Quran or memorizing it. In a narration from Muslim, it is stated that if all are equal in recitation, then the most deserving and suitable for leadership is the one who is the most pious and abstinent. If all are equal in piety, then the most deserving and suitable for leadership is the one who is the oldest and has not led prayers in another's circle without their permission, even if they are more suitable. In another narration from Muslim, it is stated that no one should lead prayers in someone else's house without their permission, even if they are more suitable.
ابوعطیٰ عقیل رضی اللہ عنہ تے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ما کا ابن الحویث
رضی اللہ عنہ ہماری مسجد میں آیا کرتے تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشادات بیان
فرمایا کرتے تھا اور کچھ مسائل کا تذکرہ ربکرتا تھا ایک دن کا واقعہ ہے کہ وہ تشریف فرماتے اور نماز
کا وقت آگیا، تبم نے ان سے عرض کیا: تشریف لا یہ اور نماز پڑھائیے، انہوں نے فرمایا: تم اپنے
لوگون میں سے کسی کو امام بناؤ جوتمہین نماز پڑھائے یا اور میں تحمیل بتائے دیتا ہوں کر میں تحمیل کس
لے نماز تحمیل پڑھار پا ہوں؟ سنو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یارشاد فرماتے سنا ہے
کہ جوخص لوگوں کی ملاقات کوجا یے تو ان کا امام نہ بن بلکہ ایک لوگوں میں سے کوئی امام بنے اس
کی روایت ابوداوداورترمزی نے کی ہے اور سالی نے صرف متن حدیث کی روایت کی ہے۔
ف: اس حدیث تشریف میں ارشاد ہے جوخص لوگوں کو ملاقات کوجا یے تو ان لوگوں کا امام نہ
بن بلکہ ایک لوگوں میں سے کوئی امام بنے۔ یہ کم بظاہر مطلق معلوم ہوتا ہے لیکن خواہ مقامی لوگ
اجازت دیا ندی کسی حال میں کچھ ملاقات کے لے جانے والے کو امام نہ بننا چاہے گر حضرت
ابن مسعود اور دومسرے صحابہ رضی اللہ عنہم سے ای قسم کی جو حدثین مروی ہیں ان میں "الا باذن" کا
استثناء صاف موہود ہے لیکن ملاقات کوجانے والا مقامی لوگوں کی اجازت سے ان لوگوں کی امامت
کر سکتا ہے، اس لے صدر کی حديث جو ما لك ابن الحویرث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ بھی ان
حدیثوں میں جوازت مروی ہے اس سے مقید ہوجاتے گی اس لے ملاقات کوجانے والا مقامی لوگوں
کی اجازت سے ان کی امامت کر سکتا ہے۔
اب رہما لک بن الحویرث رضی اللہ عنہ نے مقامی لوگوں کی اجازت کے باوجود جوازت نہیں
کی تو بیان کا اپنا احتیاط تھا کر انہوں نے اس حدیث شریف کے مطلب کو مطلق رکھا اور باوجود اجازت
کے امامت نہیں فرمائی - (مشقی، اشعۃ اللمعات)-
Abu Atiyyah Al-Uqayli reported that Malik ibn Al-Khuwayrith used to come to our prayer place and talk to us. One day, when the prayer time came, Abu Atiyyah said, "We said to him, 'Go forward and lead us in prayer.' He said to us, 'Let one of you lead the prayer, and I will tell you why I do not lead you: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say, "Whoever visits a people should not lead them in prayer. Let one of them lead the prayer." [Narrated by Abu Dawud, Al-Tirmidhi, and Al-Nasa’i, except that Al-Nasa’i shortened it to the wording of the Prophet (ﷺ)]
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ کا بالغ ہونے تک نہ
(فرض نماز کی) امامت کرے (اور نفل نماز کی) اور تمہارے لئے اذان وہ لوگ دیا کریں جوتم میں
سب سے زیادہ نیک ہوں - (اس کی روایت عبد الرزاق نے کی ہے-)
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) said: "A boy should not lead the prayer until he reaches puberty, and let the best among you call the Adhan." [Narrated by Abdur-Razzaq]
In a narration by Al-Athram from Ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him): "A boy who is not subject to legal penalties should not lead the prayer."
In Al-Binayah: Al-Khattabi said, "The Hadith of Amr ibn Salamah was weakened by Al-Hasan, and he once said, 'Leave it, it is nothing.' Abu Dawud said, 'It was said to Ahmad: What about the Hadith of Amr?' He said, 'I do not know what this is.' It is astonishing that they did not consider the statements of Abu Bakr, Umar, and the senior companions as evidence, yet they used the action of a six-year-old boy as evidence, who did not even know the obligations of ablution and prayer. How could he lead the prayer? Prohibiting it is more cautious in religion." This is mentioned in Al-Mirqah.
اور اثر میں سنن میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے طرح مروی ہے کہ ایک کا
امامت نہ کرے جس پر حدود و عین شرعی سزا نہیں قائم نہیں ہوتی۔-
ف: واضح ہوگا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں ارشاد ہے کہ کا بالغ ہونے تک
امامت نہ کرے، چونکہ یار شاد مطلق ہے اور اس میں کسی فتن کی قید نہیں ہے، اس لے کا بالغ نہ کر تو
فرض نماز میں امامت کرے اور نفل نماز میں - چنانچہ عمدہ الرعاي میں کہا ہے کہ نابالغ نہ کرے کے
امامت نہ کرنے کا مطلق حکم ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کس کی امامت بالغ مرداور عورتوں کے
لئے تمام نمازوں میں جائز نہیں ہے، فرض نمازوں میں نہ کس کی امامت کے جائز نہوں پر ہمارے
جمیع ائمه احناف رحمہم اللہ متفق ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ کا احکام شرعی کامل نہیں ہوتا، اس لے اس
کی فرض نماز کی نفل، یہی جائے گی - اور اگر بالغ مرد یا عورت میں اس کی اقتداء کریں تو اس کا مطلب یہ
ہوگا کہ فرض نماز پڑھنے والے نفل نماز پڑھنے والے کی اقتداء کر رہے ہیں، حالاکہ فرض نماز پڑھنے
والوں کی اقتداء بالاتفاق نفل نماز پڑھنے والے کے چیچے جائز نہیں ہے -
اب رہماوتے اور دیگر نفل نمازوں میں نابالغ پھر کا امام بنانا تو اس بارے میں واضح ہو کہ مشاہدہ
نماز کے مقابلوں بہت کم درجہ رکھتی ہے۔ اس لے نابالغ پیچھے کی نفل نماز کم درجہ کی ہوتی ہے وہ ایسے نفل نماز پڑھنے والوں کی امامت نہیں کر سکتا جس نے نفل نماز کامل درجہ کی ہوتی ہے۔
(یہ پورا مضمون عمدہ الرعايت میں موجود ہے)
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) said: "A boy should not lead the prayer until he reaches puberty, and let the best among you call the Adhan." [Narrated by Abdur-Razzaq]
In a narration by Al-Athram from Ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him): "A boy who is not subject to legal penalties should not lead the prayer."
In Al-Binayah: Al-Khattabi said, "The Hadith of Amr ibn Salamah was weakened by Al-Hasan, and he once said, 'Leave it, it is nothing.' Abu Dawud said, 'It was said to Ahmad: What about the Hadith of Amr?' He said, 'I do not know what this is.' It is astonishing that they did not consider the statements of Abu Bakr, Umar, and the senior companions as evidence, yet they used the action of a six-year-old boy as evidence, who did not even know the obligations of ablution and prayer. How could he lead the prayer? Prohibiting it is more cautious in religion." This is mentioned in Al-Mirqah.
انس رضي الله عنه روايت به وه فرما تے جن کر رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم (اپنی غیر موجودگی میں) ابن ام مکتوم رضي الله عنه کو پناجا نشین بناتے (جب آپ پہلی نماز باہر غزوہ میں تشریف لیجا کرتے تھے) ابن ام مکتوم رضي الله عنه امام ہوکر لوگوں کو نماز پڑھا کرتے
حال انکہ وہ نامیا تھے۔ (اس کی روایت ابوداود نے کی ہے)
At that time, they were named. (This is reported by Abu Dawud)
اور سعید بن منصور نے غالب بن حذیل رضي الله عنه اس طرح روايت کی
ہے، غالب بن حذیل کہتے ہیں کہ (ایک دفعہ) میں سعید ابن جبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک مسجد میں داخل ہوا (نماز ثروت عبودی تھی) تو سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ نے (مقتدی ہوکر) لوگوں کے ساتھ نماز ادا کی۔ غالب کہتے ہیں: میں کیا دیکھتا ہوکر جو امام بن کر نماز پڑھا رہے تھے وہ نامیا تھے۔ لوگ امام کو ملامت کرنے گئے (کہ تم نے نامیا ہوکر کیے امامت کی پیس کر) سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس وجہ سے عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نامیا امام اور نامیا ماؤ زن کو ناپسند فرما تے تھے۔
I entered a mosque with Saeed bin Jubair (RA) (for the prayer of Thu al-Ubudi), and Saeed bin Jubair (RA) led the prayer with the people. Ghailan said: I saw that those who were leading the prayer were named. The people criticized the imam (saying, 'You led the prayer while being named'). Saeed bin Jubair (RA) said: This is why Umar bin al-Khattab (RA) disliked a named person leading the prayer and a named woman giving birth.
ابن ابي شیبہ نے مجھی سعید بن جبير اور انس رضي الله عنهما سے اس طرح روايت کی ہے
معلوم ہے، مرودی سے اللہ عز و جل رضی جو اس کے حیث صدر نذور کی اودی بودا کہ توہ ف۔
نامپینا کی امامت فی نفس جائزہ، اس لے کہ اودی بودا کر اس روایت میں کسی قید کے بغیر نامپینا کی
امامت کا ذکر ہے۔
اب را سعید بن منصور اور ابن الی شیخ کی روایت سے نامپینا کی امامت کا کروہ ہونا جو ثابت
ہور پاہے وہ اس اختمال سے ہے کہ شاہد نامپینا اپنی نامپینائی کی وجہ سے اپنے حسمیا پر کونجا ست سے
نہ پچاتا ہوگر ریا اختمال بہت ضعیف ہے اس لے کہ اس ضعیف اختمال کی وجہ سے نامپینا کی امامت کو کروہ
تنزیہی کہا گیا ہے، اگر نامپینا جماعت میں سب سے زیادہ عالم ہوتا اس کزو را اختمال کا لاحظ کہ بغیر نامپینا
کی امامت کو اولی اور قرار دیا گیا ہے البتہ اگر جماعت میں نامپینا سے زیادہ کوئی عالم ہوتا ہے موقع
میں اس ضعیف اختمال کا لاحظ کر کے نامپینا کو امام نہ بنانا چاہئے۔
اور سعید بن منصور کی اس روایت میں لوگوں نے نامپینا امام کو جوملامت کی اس کی تائید میں سعید
بن جبیر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا نامپینا کی امامت کو پسند نہ فرما نے کا ذکر کیا ہے اور قوم
نے امام کو جوملامت کی اس وجہ کی بھی کر قوم میں نامپینا سے زیادہ عالم موجودہ ہوتے ہوئے نامپینا نے
امامت کی تحقی - (مرقات، رد اختار، عمدة الرعاية، اعلاء السنن)
دیہائی، غلام اور ولد الزنا کی امامت کا حکم
It is known from Merudi that Allah, the Exalted and Glorious, is pleased with him who fulfills his vows. The leadership of a person who is unknown (namapina) is permissible in itself, because in this narration, the leadership of an unknown person is mentioned without any restriction. However, according to the narration of Sa'id bin Mansur and Ibn al-Sheikh, the leadership of an unknown person is disliked, which is based on the assumption that the unknown person might not be able to lead his congregation properly due to his unknown status. This assumption is very weak, and it is for this weak assumption that the leadership of an unknown person is considered disliked. If the unknown person is the most knowledgeable in the congregation, then despite this weak assumption, his leadership is given priority. However, if there is someone more knowledgeable than the unknown person in the congregation, then due to this weak assumption, the unknown person should not be made the leader. In the narration of Sa'id bin Mansur, it is mentioned that people confirmed the leadership of an unknown person, and Sa'id bin Jubayr (RA) mentioned that he did not approve of the leadership of an unknown person by Umar (RA), and the community also did not appoint an unknown person as the leader when there was someone more knowledgeable present in the community.
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (نہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
کے تجرت فرما نے سے پہلے آپ کے حکم سے ) جو صحابہ تجرت کر کے سب سے پہلے مدینہ منورہ پہنچ تو
ان کی امامت سالم رضی اللہ عنہ کیا کرتے تھے جو ابوحدیفہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کروہ غلام تھے، سالم رضی اللہ عنہ کی اقتدا کر نے والوں میں حضرت عمر بن خطاب اور ابوسلیم رضی اللہ عنہما کی تھے۔
(اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔)
It is narrated from Ibn Umar (may Allah be pleased with him) that he said: When the first Muhajireen (emigrants) arrived in Madinah, Salim, the freed slave of Abu Hudhaifa, used to lead them in prayer, and among them were Umar and Abu Salama ibn Abdul Asad. [Narrated by Al-Bukhari]
In another narration from Ibrahim, he said: There is no harm if a Bedouin, a slave, or the child of adultery leads them in prayer, provided he recites the Quran well. [Narrated by Muhammad in Al-Athar, and he said: We follow this opinion if the person is knowledgeable and well-versed in the matters of prayer. This is the opinion of Abu Hanifa.
اور ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ سے ایک روایت میں اس طرح ہے وہ فرماتے ہیں
کہ اس میں حرج نہیں کہ اعرابی (دیہائی) غلام اور ولد الزنا لوگوں کی امامت کریں جبکہ انہوں نے
قرآن پڑھیا ہو۔ اس کی روایت امام محمد نے کتاب الآثار میں لکھے اور امام محمد نے فرمایے کہ تم
جب اس کے قابل ہیں جبکہ وہ عالم ہواور نماز کے احکام جانتا ہواور امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ کا بھی قول
ہے۔
ف۔ واصل ہوکر بخاری اور کتاب الآثار دونوں کی نذکورہ روايتیوں سے ثابت ہوتا ہے کہ غلام دیہاتی
اور ولد الزنا تینوں کی امامت فی نفس جائزہ ہے اس لے کہ بخاری کی روایت میں بغیر کسی قید کے غلام کے
امامت کرنے کا ذکر ہے اور کتاب الآثار کی روایت میں جو "لا بأس" کا ذکر ہے اس سے قدرے کراہت کی
طرف اشارہ ہوتا ہے وہ اس احتمال سے ہے کہ شاہدان تینوں کو تربیت کا موقع نہ ملا ہو جس کی وجہ سے یاں
پڑھنے گے ہول گر پر احتمال بہت ضعیف ہے۔ اس لے کے اس ضعیف احتمال کی وجہ سے غلام، دیہاتی اور
ولد الزنا کی امامت کو کروہ تنزہی کہا گیا ہے، اگر پیجماعت میں سب سے زیادہ عالم ہول تو اس کمزور احتمال
کا حاظ کہ بغیر ان کی امامت کو اولی اور فضل قرار دیا گیا ہے۔12(عمدة الرعاية، اعلاء السنن)-
کن تین آدمیوں کی نماز قبول نہیں ہوتی
It is narrated from Ibn Umar (may Allah be pleased with him) that he said: When the first Muhajireen (emigrants) arrived in Madinah, Salim, the freed slave of Abu Hudhaifa, used to lead them in prayer, and among them were Umar and Abu Salama ibn Abdul Asad. [Narrated by Al-Bukhari]
In another narration from Ibrahim, he said: There is no harm if a Bedouin, a slave, or the child of adultery leads them in prayer, provided he recites the Quran well. [Narrated by Muhammad in Al-Athar, and he said: We follow this opinion if the person is knowledgeable and well-versed in the matters of prayer. This is the opinion of Abu Hanifa.
ابوا مہر ضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تین آدمی ایسے جن کر ان کی نماز (قبول ہوکر آسان کی طرف چڑھنا تو
کہاں) ان کے کانوں سے بھی آنے نہیں برحتی (یعنے قبول نہیں ہوتی، گوفرض ان کے ذمہ سے
ساقط ہوجاتا ہے): ایک (اب آتا ہے) جہاں ہو اغلام کر اس کی نماز اپنے ماکے پاس واپس
ہوئے تک قبول نہیں ہوتی۔ دوسرا اس عورت کی نماز قبول نہیں ہوتی جو ایسی حالت میں رات گزار
دے کر اس کا شوہراس سے ناراض ہے (بشرطیہ قصور عورت کا ہو، اگر قصور مردا کہ تو پھر عورت اس
وعید میں داخل نہیں ہوگی) تیسرے اس امام کی نماز یہی قبول نہیں ہوتی جس سے جماعت (اس وجہ
سے) ناراض ہے (کہ وہ شرعی احکام کا خلاف کرتا ہے۔ اگر جماعت اپنی ذاتی عداوت کی وجہ سے
ناراض ہے تو ایسا امام اس وعید میں داخل نہیں ہوگا)۔ (اس کی روایت ترنذی نے کی ہے۔)
دوسرا حدیث
The Messenger of Allah, peace be upon him and his family, said: 'There are three people whose prayer does not rise above their ears (meaning it is not accepted, although the obligation is lifted from them): one who goes to sleep while in debt and whose prayer is not accepted until he returns home; a woman whose prayer is not accepted if she spends the night in a state of dissatisfaction with her husband (provided the fault is hers; if the fault is the husband's, then the woman is not included in this warning); and the prayer of an imam is not accepted if the congregation is dissatisfied with him (because he violates the legal rulings; if the congregation is dissatisfied due to personal enmity, then such an imam is not included in this warning).'
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تین آدمی ایسے ہیں جن کی نماز قبول نہیں ہوتی، (گوفرض تو ان کے ذمہ سے ساقط ہو جاتی ہے لیکن ثواب نہیں ملتا): ایک وہ شخص ہے جو امت کے لئے آگے برہگیا، باوجود یہ کہ جماعت اس سے ناراض ہے (اس لئے کہ پیاحکام شرعی کا خلاف کرتا ہے) دوسرا اس شخص کی نماز قبول نہیں ہوتی (جس کو بغیر عذر کے آخر وقت نماز کے لئے آنے کی عادت ہو) تیسرے اس شخص کی نماز بھی قبول نہیں ہوتی جو اپنے غلام باندی کو آزاد کر کے پھران کو غلام باندی بنالے، ایسا ہے اگر کوئی شخص کسی مکروہ غلام کو بندی نہ ہونے برائے غلام کی باندی بنالے تو اس شخص کی بھی نماز قبول نہیں ہوتی _ (اس کی روایت ابوداوداور ابن ماجہ نے کی ہے)
تیسری حدیث
It is narrated from Ibn Umar (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "The prayer of three people is not accepted: someone who leads a people in prayer while they dislike him, a man who comes to prayer after its time has passed, and a man who re-enslaves a freed slave." [Narrated by Abu Dawud and Ibn Majah]
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تین آدمی ایسے ہیں (جن کی نماز قبول ہو کر آسان کی طرف چڑھنا تو کہاں) ان کے سرول سے ایک بالشت بھی اوپر نہیں جاتی: ایک ایسی شخص جو لوگوں کی امامت کرے باوجود پیکہ جماعت اس سے ناراض ہے (اس لئے کہ پیاحکام شرعی احکام کا خلاف کرتا ہے) دوسرا اس عورت کی نماز قبول نہیں ہوتی جو ایسی حالت میں رات گزارے کہ اس کا شوہراس سے ناراض ہے (بشرطیہ قصور عورت کا ہو) تیسرے ان دو بجا تیول کی بھی نماز قبول نہیں ہوتی جو ایک دوسرے سے (تین دن سے زیادہ) قطع تعلق کرے (سلام و کلام موقوف کر دے ہیں) ایا ای ایے دومسلمانوں کی نماز بھی قبول نہیں ہوتی، جو ایک دوسرے سے (تین دن سے زیادہ) قطع تعلق کرے (سلام و کلام موقوف کر دے ہیں) اگر قطع تعلق اللہ تعالیٰ کے واصلے ہوا تو تیرا س وعمید میں داخل نہ ہو لے گے)
(اس کی روایت ابن ماجہ نے لی ہے۔)
اہل کوامم بھی میں پس وپیش نہ کرنا چاہیے
It is narrated from Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "The prayer of three people does not rise above their heads even a handspan: a man who leads a people in prayer while they dislike him, a woman who spends the night while her husband is angry with her, and two brothers who are in conflict with each other." [Narrated by Ibn Majah]
سلامۃ بنت الحارثی اللہ عزوجل نے روایت کے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ قرب قیامت کی نشانیوں میں ایک نشانی یہ ہے کہ ( جہالت اور
مسائل سے ناواقفیت ایسی عام ہو جائے گی کہ )مسجد میں لوگ نماز کے لئے جمع ہون گے، اور ہر ایک
خود نماز نہ پڑھا کر دوسروں کو نماز پڑھانے کہ گا (اور نا امل ہوئے نہ کی وجہ سے) کوئی ان کو نماز
پڑھانے والانہیں لئے گا (اس سے معلوم ہوا کہ امامت کی الہیت رکن کے باوجود امامت سے گر پڑنے
کرنے اور امامت نہ کرنا کہروہے) اس حدیث کی روايت امام احمد، ابوداوداور ابن ماجہ نے کی ہے۔
It is narrated from Salamah bint Al-Hurr (1) (may Allah be pleased with her) that she said: The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Among the signs of the Hour is that the people of the mosque will push one another, and they will not find an imam to lead them in prayer." (2) [Narrated by Ahmad, Abu Dawud, and Ibn Majah]
In a narration by Muslim: "If there are three people, let one of them lead them in prayer." Ali Al-Qari said: This indicates the permissibility of a less virtuous person leading the prayer.
(1) The statement "Salamah bint Al-Hurr" in the original text of the author is "Salamah bint Al-Harith."
(2) The statement "They will not find an imam to lead them in prayer": Ali Al-Qari said that this is why later scholars from our companions permitted taking wages for imamate, adhan, and similar acts like teaching the Quran, unlike the earlier scholars who prohibited taking wages for acts of worship.
اور مسلم کی روایت میں اس طرح ہے کہ تین شخص یہی ہول تو ان میں کوئی ایک
امام بنے (اور ایک دوسروں پر نہ ڈھکلیں)۔
ہر مسلمان کے پچپچے نماز جاتنے ہے
پہلی حدیث
And in Muslim's narration, it is stated: Tamim said: 'If there are only two people, one of them should lead (and one should not impose upon the other). It is incumbent upon every Muslim to pray in congregation.' This is the first hadith.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہرا میر کی سرکردگی میں تم پر جہاد فرض ہے خواہ وہ نیک ہو یا بد۔اور
اگر چیکہ وہ گناہ کبیرہ کا مرتكب ہو، اور تم کو ہر مسلمان کے پچپچے نماز پڑھنے چاہیے۔ خواہ وہ نیک ہو یا
بد اگر چہ کہ وہ گناہ کبیرہ کا مرتكب ہی کیون نہ ہو ( ایسے امام کے پچپچے جماعت کا ثواب ضرور مل
جاے گا اب رہی مقبولیت اورفضیلت جو تمہیں امام کے پچپچے حاصل ہوتی ہے، وہ ایسے امام کے پچپچے
حاصل نہیں ہوگی اس لئے فقہاء نے ایسے امام کے پچپچے نماز پڑھنے کو کروہے نہیں ہیں ( درمتار -12)
قرار دیا ہے اور ہر مسلمان میں پر نماز جنازہ پڑھنا فرض ہے خواہ وہ میت نیک ہو یا بد، اور اگر چہ وہ
کبیرہ کام کتب میں کیول نہ رپاہو _ (اس کی روایت البوداورد کی ہے_)
دوسری حدیث
It is narrated from Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Jihad is obligatory upon you with every leader, whether he is righteous or sinful, (1) even if he commits major sins. And prayer is obligatory upon you behind every Muslim, whether he is righteous or sinful, even if he commits major sins. And prayer is obligatory upon every Muslim, whether he is righteous or sinful, even if he commits major sins." [Narrated by Abu Dawud]
(1) The statement "And prayer is obligatory upon you behind every Muslim, whether he is righteous or sinful": Ali Al-Qari said that the command to pray behind a sinful person, even though praying behind a corrupt or innovator is disliked according to us, is evidence for the obligation of congregational prayer. Reflect on this.
_ عبید اللہ بن عدی بن الخیار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ حضرت عثمان
رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ایس وقت حاضر ہوئے جب کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ باخیول میں
محصور تھے _ عبید اللہ نے آپ پر عرض کیا کہ خلیفۃ اسلامیین تو آپ ہیں لیکن آپ پر ملاحظہ فرامارہ
ہیں کہ اس وقت آپ پر کسی مصیبت آن پڑی ہے، فتنہ اگیز باعثی تم کونماز پڑھارے ہیں اور تم ان
کے چیچے مقتدی ہوکر نماز پڑھنے سے گنہگار ہورہے ہیں، اس پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ارشاد
فرمایا: (ایا نمیں) نماز سب اعمال میں بہترین عمل ہے، اگر کسی فاسق کے ساتھ مل کر تم نیے عمل
کری تو تم پراس کے فسق کا کوئی اثر نہ ہوگا اور تم گنہگار نہ ہوگے، بلکہ اگر فاسق کے ساتھ اس کے فسق
و فتنہ میں تم بھی شریک ہوئے تو اس وقت تم بھی فاسق ہو جائیں گے، ایا نمیں باعثی امام پربھاوت کا
گناہ ہوگا چونکہ تم دل سے اس بغاوت کو برآبمجہ رہے ہو، اس لے باعثی کی اقتداء کر کے نماز پڑھنے
سے تمہاری نماز میں کوئی خلل نہیں آئے گا (حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے اس ارشاد سے ثابت ہوا
کہ فاسق امام کے پیچھے نماز ہوجائے ہے _ چنانچہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی نذورہ حدیث میں حضور
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ هرنیک وبد کے پیچھے نماز ہوجائے ہے)_
(اس حدیث کی روایت بخاری نے کی ہے_)
It is narrated from Ubaidullah ibn Adi ibn Al-Khiyar that he visited Uthman (may Allah be pleased with him) while he was under siege. He said: "You are the leader of the general public, and what we see has befallen you. An imam of fitnah (discord) leads us in prayer, and we feel uneasy." Uthman replied: "Prayer is the best of what people do. So when people do good, do good with them, and when they do evil, avoid their evil." [Narrated by Al-Bukhari]