(اس باب میں امام اور مقتدی نماز میں طرح کھڑے رہنے اوراس کے احکام اور آداب کا ذکر ہے)
دوآدمیوں کی جماعت کا بیان
ایک حدیث
In this chapter, the manner in which the Imam and the follower stand in prayer, along with the rulings and etiquette related to it, are discussed.
The description of a congregation consisting of two individuals is presented.
A Hadith
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں: (ایک مرتبہ) میں نے اپنی خالہ ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے مکان میں رات گزاری، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز تحد کے لیے کھڑے ہوئے تو میں بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے باہمی جانب نماز کے لیے کھڑا ہوگیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر اپنی پیٹ کے پیچے سے گھما کر مجھے اپنی سیدہ جانب کھڑا کردیا، (یہ کہ کر) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ویسے کر کے بتلا یا جس طرح حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا تھا۔ اس کی روایت بخاری اورمسلم نے متفرقہ طور پر لی ہے۔
مسلم (3) اس حدیث میں ذکور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو اپنے باٹھ سے پڑا کر گھما تے ہوئے سید ہے جانب کہرا کر دیا۔ اس سے ثابت ہوا کہ عمل قليل نماز میں ضرورتاً جائز ہے۔
مسلم (4) اس حدیث میں بیکھی ذکور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو اپنی پیٹھ کے پیچے سے گھما کر داٹے جانب کہرا کر دیا۔ حالاکہ سامنے سے گھما کر کہرا کرنا آسان تھا، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مقصدی کا امام کے آگے ہونا جائز نہیں ہے، اس لے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابن عباس رضی اللہ عنہما کو اپنی پیچے سے لائے، سامنے نہیں لائے۔
مسلم (5) اس حدیث میں بیکھی ذکور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تھا نماز شروع فرمائی اور بعد میں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آپ کی اقتداء کی، اس سے ثابت ہوا کہ ایسے تھا نماز پڑھنے والے کی اقتداء جائز ہے جس نے امام کی نیت نہیں کی ہو۔
پہلی حدیث
Abdullah ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated: "I stayed overnight at the house of my aunt, Maymunah. The Messenger of Allah (peace be upon him) stood up to pray, so I stood on his left side. He took me by the hand from behind his back and moved me to his right side." [Agreed upon]
ف: صاحب مرقات نے ثبوت السنہ کے حوالے کے لحاظ سے کاس حدیث ثبوتیف سے کئی مسائل معلوم ہوتے ہیں:
مسلہ (1) نفل نماز کا جماعت کے ساتھ اداء کرنا جائز ہے بشرط کہ اس کے لیے اذان اور اقامت نہیں جاتے۔
مسلہ (2) امام کی اقتداء اگر صرف ایک مقتدی کر رہا ہوتا تو امام کے دوسرے جانب اس طرح کھڑا رہے کہ مقتدی کے پیروں کی اطلاع امام کی ایراد کے پاس رہیں۔
(یاعلاے انسن میں خطائی کے حوالے سے ذکور ہے -12)
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ اگر ہم تین ہوں تو نماز کے لے ہم میں سے ایک آگے بر طہ کر امام بن اور باقی دو امام کے پیچے باہم مل کر کہرے رہیں۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
دوسری حدیث
Samurah ibn Jundub (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (peace be upon him) commanded us that if we were three (in prayer), one of us should stand in front." [Narrated by Al-Tirmidhi]
جابر رضی اللہ عنہ روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھنے کہرے ہوئے، میں بھی آکر حضور علی الصلاۃ والسلام کی با تین جانب کہرا ہوگیا تو حضور صلی اللہ علیہ الصلاۃ والسلام نے میرا باٹھ پڑا کر 11 اور گھما یہاں تک مجھے اپنی داگیں جانب کہرا کر لیا۔ پھر جبار بن صخر آگے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باگیں
جانب کھڑے ہوگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں دونوں کے ہاتھوں کو پکڑ کر، انہیں کو عمل قلیل کے ذریعہ) بھٹادیا، جہاں تک تم کوابہ پچھے کھڑا کر دیا۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔ ف: اس حدیث شریف سے ثابت ہوا کہ اگر مقتدی ایک ہوتا امام کے دامین طرف کھڑا رہے اور اگر دو ہوتے تو باہمل کرام کے پچھے کھڑے ہول۔ (اشعۃ اللمعات)
پہلی حدیث
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (peace be upon him) stood up to pray, so I came and stood on his left side. He took me by the hand and moved me to his right side. Then Jabbar ibn Sakhr came and stood on the left side of the Messenger of Allah (peace be upon him). He took both of us by the hands and moved us until he placed us behind him." [Narrated by Muslim]
ان کو اور ان کی مالیا خالہ کو (ان کے گھر میں) (نفل) نماز پڑھائی انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ کو اپنی سیدی جانب کھڑا کیا اور ان عورت کو (جو ہمارے ساتھ نماز میں شریک تھیں) ہمارے پچھے کھڑا کیا۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔ ف: اس حدیث شریف سے ثابت ہوا کہ اگر امام کے پچھے صرف ایک مرد اور صرف ایک عورت اقدام کر رہے ہوں تو مرد امام کے سیدہ جانب کھڑا ہو اور عورت ان کے پچھے کھڑی ہوجائے۔ (رواہتار)
دوسری حدیث
Anas (may Allah be pleased with him) narrated: "The Prophet (peace be upon him) prayed with me and my mother or my aunt. He placed me on his right side and the woman behind us." [Narrated by Muslim]
جو ہمارے گھر میں تھا نبی اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پچھے نماز پڑھی اور (میری مال حضرت) امیم رضی اللہ عنہا، ہمارے پچھے نماز پڑھ رہی تھی۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔ ف(1): اس حدیث شریف سے ثابت ہوا کہ مقتدی دو یا زیادہ ہوتے امام کے پچھے کھڑے ہوں اور امام آگے ہواؤر عورت ایک ہوتی سب سے پچھے تھا کہری ہو۔ (رواہتار میں کچھ ایسائی نذکور ہے) ف(2): اس حدیث شریف سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اگر مردوں کے ساتھ صرف ایک پچ
صف کے پیچھے اپنی صف بنالیس۔
تیسری حدیث
Anas (may Allah be pleased with him) narrated: "I and an orphan prayed behind the Prophet (peace be upon him) in our house, and Umm Sulaym (my mother) prayed behind us." [Narrated by Muslim]
انس رضی اللہ عنہ تے روایت سے کران کی دادی ملکیہ رضی اللہ عنہا نے رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم کے لئے ایک خاص فتنہ کا کہنا تیار کیا اور حضور صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم کی دعوت
کی، حضور صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم (تشریف لا ہے اور) اس میں سے پچھے تناول فرما نے پھر ارشاد فرما یا:
کہرے نوجوان میں (برکت کے لئے) تم کونماز پڑھاتا ہو نے انس رضی اللہ عنہ فرما تے میں کر میں
نے (نماز پڑھنے کے لئے) ایک حمیر انہالائی جودہری ربتے سے اس میں سختی آ گئی تھی اور گردہم کر
سیاہ ہوگئی، میں نے اس پر پھڑ پانی چھڑک دیا۔ (تاکر وہ نزم اور صاف ہو جائے) رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآ لہ وسلم اس پر کہرے ہوگے اور اسی حمیر پر میں اور بیٹیم نامی پھر نے باہم مل کر حضور صلی اللہ
علیہ وآ لہ وسلم کے پیچھے صف بنالی اور بؤہصی دادی ہمارے پیچھے (تتہا) کہری ہوگئی، رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآ لہ وسلم نے تم کودور کعتین (نفل) پڑھا تیم (اور واپس تشریف لے گئے)۔
(اس کی روایت ترتیزی نے کی ہے۔)
ف: اس حدیث تشریف میں ذکور سے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم نے انس رضی اللہ عنہ
کی دادی ملکیہ رضی اللہ عنہا کونماز میں سب کے پیچھے علیہ تھا کہرا کیا، حالا کہ جماعت میں صف کے
پیچھے الگ تھا کہرا ہونا کروہے اور امام احمد رحم اللہ کے نزدیک تو مفسد نماز ہی ہے، اس کے باوجود
حضرہ اکرم صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم کا ملکیہ رضی اللہ عنہا کو تھا پیچھے کہرا کرنے کی بجز اس کے کوئی وجہ معلوم
نہیں ہوتی کر عورت کا نماز میں مردول یا لڑکون کے ساتھ صف میں برابر کہرا ہونا مردول یا لڑکون
دونوں کی نماز کے لئے مفسد ہے، اگر عورت کا صف میں مردول یا لڑکون کے برابر کہرا ہونا جائز ہوتا تو
حضرہ صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم ان برطہیا کو تھا کہرا ہو نے ضرورت فرما تے جبر اس واقع میں ملکیہ رضی
اللہ عنہا اس رضی اللہ عنہ کی دادی جی اوران کے ساتھ ایک پڑھے اور ظاہر ہے کہ بہال کس قسم کا خطرہ
شہوت بھی نہیں ہے، اس کے باوجود مجھی ان برطیا کو تھا کہ اکرنا اس بات کا شہوت ہے کہ عورت کا صف میں
مرد ول یالکون کے برابر کہرا اہونا مطلقاً مر دول یالکون کی نماز کا مفسد ہے - (رد اخبار اوراعلاع اسنن)-
Anas (may Allah be pleased with him) narrated: "My grandmother, Mulaykah, invited the Messenger of Allah (peace be upon him) for a meal she had prepared. He ate from it and then said: 'Stand up, and I will lead you in prayer.' Anas said: 'I stood up to a mat of ours that had turned black from long use, and I sprinkled it with water. The Messenger of Allah (peace be upon him) stood on it, and I and the orphan stood behind him, while the old woman stood behind us. He led us in two Rak'ahs, then left.'" [Narrated by Al-Tirmidhi]
اںس رضی اللہ عنہ تے روایت ہے کہ (ایک روز) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
(ہمارے گھر تشریف لائے اس وقت مکان میں) صرف انس رضی اللہ عنہ ان کی والدہ اوران کی خالہ
موجود تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو (نفل) نماز پڑھانی تو انس رضی اللہ عنہ کو پچی
سیدی جانب کہرا اکیا اوران کی مال اور خال کو پچی پچی - (اس کی روایت نسائی نے کی ہے-)
ف: اس حدیث تشریف سے ثابت ہوا کہ امام کے ساتھ ایک مرداول عورت میں اقتداء کر رہے
ہوئے تو مرداول کے سیدی جانب کہرا اہواوردول عورت میں ان کے پچی پچی صف بنانے کہرا ہو جا یں -
Anas (may Allah be pleased with him) narrated: "He, the Messenger of Allah (peace be upon him), his mother, and his aunt prayed together. The Messenger of Allah (peace be upon him) placed Anas on his right side and his mother and aunt behind them." [Narrated by Al-Nasa’i]
From these narrations, it is understood that if women pray with men, it is permissible, but they should stand in the last rows. This was stated by Al-Allamah Al-Ayni.
ابن مسعود رضی اللہ عنہ تے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نماز میں عورتوں (کی
صف) کومردول (کی صف) سے آخر میں رکھو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھی عورتوں کو پر حثیت سے آخر
میں رکھا ہے (مجھی پہلے مردو پیدا فرمایا، پھر عورت کو، پھلے مردول کا ذکر فرماتے پھر عورتوں کا پھلے
مردول کے احکام بیان فرماتے پھر عورتوں کے، اور مرتبہ میں عورتوں کا مردول سے پچی پچی ہونا ظاہر
ہے۔ اس کی روایت طبرانی اور عبد الرزاق نے کی ہے-)
Ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) said: "Keep them (women) where Allah has placed them (in the back)." [Narrated by Al-Tabarani and Abdur-Razzaq]
ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ تے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ سنو! میں تم سے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کا طریقہ بیان کرتا ہون ( یہ کہ کر ابو ما ک اشعری رضی اللہ عنہ
نے فرما یا کہ جب ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز شروع کرنے کا ارادہ فرمایا تو پہلے مردون
کی صف میں قائم فرما تین، پھر پچول کی، پھر ان کو نماز پڑھائی (اور ختم نماز پر ) ارشاد فرمایا کہ یہ میری
امت کی نماز ہے۔ ( اس طرح ان کو پڑھنا چاہتے کر پہلے مردون کی صف میں ہون، پھر پچول کی )۔
( اس کی روایت ابوداود نے کی ہے۔ )
Abu Malik Al-Ash'ari (may Allah be pleased with him) narrated: "Shall I not tell you about the prayer of the Messenger of Allah (peace be upon him)? He established the prayer, arranged the men in rows, and placed the boys behind them. Then he led them in prayer and described his prayer. Then he said: 'This is how the prayer of, ' (Abdul-A'la said: I think he said) ', my Ummah is.'" [Narrated by Abu Dawud]
ابوماک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت سے کہ انہوں نے ( ایک دفعہ اتنی
قوم سے فرما یا ) اے جماعت اشعریین تم سب جمع ہو جا واورا پنی عورتوں اور پچول کو بھی جمع کر لوتا کر
میں تم کو بتلا دوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کیسے تھی؟ (پیسن کر ) سب لوگ جمع ہو گئے اور
عورتوں اور پچول کو بھی جمع کیا تو ابو ماک اشعری رضی اللہ عنہ نے خود وضو کر کے دکھا یا کر رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس طرح وضو فرما کرتے تھے پھر امامت کے لئے ابو ماک آگے برہے اور
(پہلے ) مردون کی صف اپنے قریب بناتی، ان کے پیچے لڑکوں کی صف بندی کی اور لڑکوں کے پیچے
(سب سے آخر میں ) عورتوں کی صف رکھی (پھر نماز شروع کی )۔
( اس کی روایت امام احمد نے اپنی مسنی میں کی ہے۔ )
Abu Malik Al-Ash'ari (may Allah be pleased with him) narrated: "He said: 'O group of Ash'aris, gather together and bring your women and children so that I may show you the prayer of the Messenger of Allah (peace be upon him).' They gathered and brought their children and women. He performed ablution and showed them how to perform it. Then he stepped forward, arranged the men in the front row, placed the children behind them, and the women behind the children." [Narrated by Ahmad in his Musnad]
In the narration of Al-Harith ibn Abi Umamah from him: "The Prophet (peace be upon him) would arrange them in prayer, placing the men in front of the boys, the boys behind them, and the women behind the boys."
اور حارث ابن الی عامہ رضی اللہ عنہ سے، یہ مروی
ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے صفون کو خود اس طرح قائم فرما کرتے تھے کہ مردون کی
صفوں کو لڑکوں کے آگے رکھتے تھے، اور لڑکوں کی صف میں مردون کے پیچے ہوتی تھیں اور عورتوں کو لڑکوں
کے پیچھے کہری ہوا کرتی ہے۔ -
تیسری حدیث
Abu Malik Al-Ash'ari (may Allah be pleased with him) narrated: "He said: 'O group of Ash'aris, gather together and bring your women and children so that I may show you the prayer of the Messenger of Allah (peace be upon him).' They gathered and brought their children and women. He performed ablution and showed them how to perform it. Then he stepped forward, arranged the men in the front row, placed the children behind them, and the women behind the children." [Narrated by Ahmad in his Musnad]
In the narration of Al-Harith ibn Abi Umamah from him: "The Prophet (peace be upon him) would arrange them in prayer, placing the men in front of the boys, the boys behind them, and the women behind the boys."
اَبومسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (نماز کے وقت) ہمارے موٹے حول پر باتمہڑک کر ارشاد فرما یا کرتے تھے کہ (صفوں میں) برابر کھڑے ہو جائیں اور آگے پیچھے نہ ہو (اگر صفون میں آگے پیچھے کھڑے ہو کر اختلاف پیا کروگئے تو) تمہارے دولت میں کچھ اختلاف پیا ہو جائے گا (اس کی وجہ یہ ہے کہ اعضاء کو قلب کے ساتھ ایک خاص تعلق ہے جسے قلب کی خرابی کا اثر قلب پر پرتا ہے اور اعضاء کچھ خراب ہو جائے گیں، اسی طرح جب صف میں آگے پیچھے کھڑے ہو کر اختلاف پیا کروگے تو اس کا اثر قلب پر پرتا ہے اور قلب کچھ خراب ہو جاتا ہے، اسی طرح جب میں کچھ اختلاف ہو جائے گا اور تم ایک دوسرے کے موافق نہ رہوگے تو نا اتفاقی اور پیچھے پیا ہو جائے گی) (اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہی ارشاد فرما یا کرتے تھے کہ نماز میں) میرے قریب علماء و عقلاء کھڑے ہو اکریں، پیچھے وہ جو (علم میں) ان کے قریب پیچھے پھر وہ جو ان کے قریب پیچھے۔ ابومسعود رضی اللہ عنہ نے (حدیث بیان کرکے) فرمایا: اس لے تم میں باہمی اختلاف ہے (کہ تم صف میں برابر نہیں کھڑے ہوئے، کیونکہ ظاہر کا باطن پر اثر پرتا ہے)۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے)
چوتھی حدیث
Abu Mas'ud Al-Ansari (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (peace be upon him) would touch our shoulders in prayer and say: 'Straighten your rows and do not differ, lest your hearts differ. Let those of understanding and maturity stand closest to me, then those next to them, then those next to them.' Abu Mas'ud said: 'Today, you differ even more.'" [Narrated by Muslim]
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرما یا: (نماز میں) میرے قریب علماء و عقلاء کھڑے ہو اکریں پیچھے وہ جو (علم میں) ان کے قریب پیچھے اور حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آخری جمل کو تین بار ارشاد فرما یا، (اور حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہی ارشاد فرما یا) کہ تم مسجدول میں بازارول کی طرح شورو
شغب اور لڑائی جھگڑا کرنے پچھرہو (اس کی روایت مسلم نے کی ہے)
پانچویں حدیث
Abdullah ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Let those of understanding and maturity stand closest to me, then those next to them, then those next to them (three times). And beware of the commotion of the markets." [Narrated by Muslim]
قیس بن عباد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں مسجد میں پہلی صف
میں کھڑا تھا کہ مجھے پچھے سے کسی شخص نے کھچکرا پینی جگہ سے بٹھاویا اور خود میری جگہ کھڑا ہوگیا - خدا
کی قسم (صف اول چھوٹ جانے سے مجھے اسقدر شدید رنج ہوا) اور اسی غصہ آیا کہ غصہ میں بھگنے
سکا کہ میں نماز (کس طرح) پڑھی (اور کتنی رکعتیں پڑھیں؟) جب وہ صاحب نماز سے فارغ
ہوکر پلٹ تو میں کیا و کیا ہوں کروہ جبل القدرصاحبی ابی بن کعب (رضی اللہ عنہ) ہیں (جنہوں نے
مجھے پچھے کھینچتا) (اس طرح پچھے کھینچنے سے مجھے جوصد مہوا حقا اس کی تسلی کے لئے) ابی بن کعب
رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے نوجوان! خدا تم کو کسی رنج و غم نہ دے، میں نے تمہیں جو پچھے کھینچتا ہے
اس کی وجہ یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کو صیت فرمائے ہیں کہ نماز میں امام سے
قریب رہنا کریں، (تو میں اس وقت اس حکم کی تتمیل کی ہے - میرے اسیا کر نے سے تمہیں آزردوہ
نہ ہونا چاہے) پھر ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے قبلہ روہوکر فرمایا: رب کعب کی قسم امراء بلاک ہوں
(احکام کی پابندی کروا نا ان کا کام تھا، ان کے خاموش رہنے سے تمام کوکروا نا پڑ رہا ہے) اس طرح
آپ نے تین مرتبہ فرمایا، پھر فرمایا: مجھے ان امراء پر دکھ نہیں ہورہا ہے بلکہ ان علماء پر دکھ ہورہا ہے
جنہوں نے ان امراء کو گمراہ کیا (کہ ان امراء کو احکام نافذ کرنے کے مشورے نہیں دیے اور خاموش
رہے) راوی کا بیان ہے کہ میں نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: اے ابو یعقوب!
آپ نے جوالل العقد فرمایا ہے اس سے کون لوگ مراد ہیں؟ تو آپ نے جواب دیا بل العقد سے
میری مراد امراء ہیں - (اس کی روایت نسائی نے کی ہے - )
مرد ول اور عورتوں کی صفوں کا بیان
Qays ibn 'Ibad reported: "While I was in the mosque in the front row, a man pulled me forcefully from behind and took my place. By Allah, I could not concentrate on my prayer. When the prayer ended, I saw that it was Ubayy ibn Ka'b. He said: 'O young man, may Allah not harm you. This is the instruction the Prophet (peace be upon him) gave us, to stand close to him.' Then he faced the Qiblah and said: 'The people of knots are ruined, by the Lord of the Ka'bah!' three times. Then he said: 'By Allah, I do not grieve for them, but I grieve for those they have misled.' I said: 'O Abu Ya'qub, who are the people of knots?' He said: 'The rulers.'" [Narrated by Al-Nasa’i]
وآ لہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مردوں کی صفوں میں (فضیلت اور ثواب کے اعتبار سے) سب سے بہتر
اگلی صف ہے (کیونکہ امام سے قریب اور عورتوں سے دور ہوتی ہے) اور مردوں کی صفوں میں سب
سے بدتر پہلی صف ہے (اس لیے کہ یہ عورتوں سے قریب اور امام سے دور ہوتی ہے، البتہ جماعت
میں عورتوں کی صفين نہ ہون بلکہ صرف مردوں کی صفن ہون تو ایسی صورت میں مردوں کی آخری
صف امام سے دور ہونے کی وجہ سے فضیلت اور ثواب میں سب سے کمتر ہوگی) اور عورتوں کی صفوں میں
سب سے بہتر پہلی صف ہے (کیونکہ یہ مردوں سے دور ہوتی ہے) اور عورتوں کی صفوں میں سب سے
بدتر اگلی صف ہے (اس لیے کہ مردوں سے قریب ہوتی ہے) - (اس کی روایت مسلم نے کی ہے - )
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The best rows for men are the first rows, and the worst are the last. The best rows for women are the last rows, and the worst are the first." [Narrated by Muslim]
وآ لہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ پہلی صف پر اپنی رحمت نازل فرما تے ہیں اور فرض ان کے
لئے دعا کے مغفرت کرتے ہیں، صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ علیہ وآلہ وسلم
دوسری صف کے لئے (جب کہی فرما دیجیئے) تو رسول اللہ علیہ وآلہ وسلم (دوسری بار کہی)
ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ پہلی صف پر اپنی رحمت نازل فرما تے ہیں اور فرض ان کے لئے دعا کے
مغفرت کرتے ہیں، صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ علیہ وآلہ وسلم دوسری صف کے لئے (جب کہی
کہی فرما دیجیئے) تو رسول اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (تیری بار کہی ہیں) ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ
پہلی صف پر اپنی رحمت نازل فرما تے ہیں اور فرض ان کے لئے دعا کے مغفرت کرتے ہیں، صحابہ
کرام نے پھر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دومسرے صف کے لئے (جبھہ پہی ارشاد فرمادتے ہیں) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (پچھی بار) ارشاد فرمایا کہ دومسرے صف پر (جبہہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت نازل فرماتے ہیں، اور فرشتے ان کے لئے وعاذے مغفرت کرتے ہیں) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہی ارشاد فرمایا کہ تم اپنی صفون کو سیدھی کرو، اور مونڈھون کو ایک دومسرے کے برابر رکھو (لیتن آگے پیچے نہ ہو) اور زمہوجاواپچھہجاٹول کے ہاتھوں میں (لیتن کوئی مونڈہ پر پاٹھر ٹکرصف میں برابر کرے تو اس کا کہا مانو) اور صف میں شیطان کے لئے خالی جگہ نہ چھوڑو کیونکہ شیطان بڑی کے پچکی طرح بن کرتہمارے درمیان (صف کی خالی جگہ میں) گحس جایا کرتا ہے۔ (اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔)
صفون میں سیدھے جانب کھڑے ہونے کی فضیلت
Abu Umamah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed, Allah and His angels send blessings upon the first row." They said, "O Messenger of Allah, and upon the second?" He said, "Indeed, Allah and His angels send blessings upon the first row." They said, "O Messenger of Allah, and upon the second?" He said, "Indeed, Allah and His angels send blessings upon the first row." They said, "O Messenger of Allah, and upon the second?" He said, "And upon the second." The Messenger of Allah (ﷺ) also said: "Straighten your rows, align your shoulders, be gentle with your brothers, and fill the gaps, for indeed Satan enters through the gaps like small lambs." [Narrated by Ahmad]
ام المومنین سیدتنا عائشہ رضی اللہ عنہا نے روایت کیا ہے آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر اپنی رحمت نازل فرماتے ہیں جو صفون میں داگین جانب ہوتے ہیں، اور فرشتے ان لوگوں کے لئے وعاذے مغفرت کرتے ہیں۔ (بشرطیہ صفون کا باپان جانب خالی نہ رہے)۔ (اس کی روایت البوداودی نے کی ہے۔)
صف بندی کا طریقہ
The Messenger of Allah ﷺ said: 'Allah, the Exalted, sends His mercy upon those who stand in the front rows in prayer, and the angels seek forgiveness for them. (On the condition that the front rows are not left empty.)'
ف: واضح ہو کہ فقہاء رحمہ اللہ نے صف بندی کا قاعدہ پیش کیا یہ کراول ایک شخص امام کے پچھے کھڑا ہو، پھر ایک اس کے داگین طرف ایک باگین طرف، پھر ایک داگین طرف ایک باگین طرف اسی طرح کرتے رہیں، تاکہ امام سب کے نچوں میں ہو، پس داگین جانب میں کہراہونا اس وقت افضل ہے جب داگین جانب اور باگین جانب برابر ہو، یا داگین طرف آدمی کم ہون ورنہ باگین طرف کہراہونا افضل ہے۔ (مرقات اعلاء السنن)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیہو فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ امام کو نچ میں کڑا کیا کرو ( لیمن صف میں امام کے پیچے دا کس با کس آدمی برابر برابر ہیں ) اور صف کے شگافون کو بند کیا کرو ( لیمن صف میں جگہ خالی نہ چھوڑ واور چسپید ہ رہا کرو ) - ( اس کی روایت البوداود نے کی ہے - )
ف : اعلاء السنن میں کہا ہے کہ اس حدیث شریف کے الفاظ "توسطوا الامام" ( امام کو نچ میں کڑا کیا کرو ) سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک صف بھر جانے کے بعد دوسرا صف امام کے سیدھ میں پیچے شروع کی جائے، اور پھر دا کسی اور با کسی آدمی برابر کر لے ہوتے رہیں -
ایک واقعہ
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Stand in the middle of the Imam and fill the gaps." [Narrated by Abu Dawud]
ابو برہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ( ایک بار حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں نماز پڑھارنے گئے اور ) وہ خدمت اقدس میں ایس وقت پہوچے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع میں تھے ( رکوع میں شریک ہوئے نے کے لیے وہ دوڑتے ہوئے چلے جس سے ان کی سانس پھول گئی تو وہ صف کے پیچے کڑے ہوئے نے، نیت کی اور تکبیر تحریمہ اداء کے ) پھر صف میں پیچے سے پہلے ( دوسری تکبیر کیتے ہوئے ) وہی رکوع کے چھر ( رکوع میں کی حالت میں ایک یاد و قدم ) چل کر صف میں شریک ہوئے نے ( ختم نماز پر جب ) حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اس کا تذکرہ ہوا تو حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابو برہ ! اللہ تعالی اس طرح ( نیک کاموں پر ) تہواری حرص بڑا ہادے، یہ کہ کہ حضرت نے فرمایا " لا تُعْدُ " ( تاء کے زبر، عین کے پیش، دال کے جزم کے ساتھ ) دوبارہ ایمان دکرنا ( لیمن نماز کے لیے دوبارہ چلنے ) جسیا کہ ایک روایت میں " لا تُعْدُ " ( تاء کے زبر، عین کے جزم، دال کے پیش کے ساتھ -12 )، صف کے پیچے تہوار نماز شروع نہ کرنا اور پھر صف میں شریک ہوئے نے کے لیے نماز کی حالت میں ایمان چلنے ) چونکہ اس واقعہ میں ابو برہ رضی اللہ عنہ سے کوئی ایمان فعل سرز دیکھا ہوا جومفسد نماز ہو، اس لے حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کو نماز کے اعادہ کا حکم نہیں دیا ) ایس لے ایک روایت میں " لا تُعْدُ " ( تاء کے پیش، عین
کے زبر، دال کے جزم کے ساتھ-12) آیہ جس کے معنی میں "نماز کون لوٹاو" -
(اس کی روایت بخاری نے کی ہے-)
امام اور جماعت رکوع میں ہوتو نماز میں شرکی ہوئے کا طریقہ
(once, the Messenger of Allah ﷺ went to the mosque to pray, and) he reached the Sacred Presence at a time when the Messenger of Allah ﷺ was in ruku'. (He hurried so much that his breath became heavy, then he joined the rear of the row, made the intention, and recited the takbir tahrima.) Then, before the second takbir, he joined the ruku' (in the state of ruku', taking one step forward) and joined the congregation. (When the prayer ended, and) the Messenger of Allah ﷺ was informed about this, he said: 'O Abu Burdah! Allah, the Exalted, greatly loves eagerness in good deeds. The Prophet ﷺ said, “Do not repeat” (with tashdid on the ta, fatha on the ain, and sukun on the dal) the intention (to start the prayer again after joining the congregation). As it is mentioned in one narration, “Do not repeat” (with tashdid on the ta, sukun on the ain, and fatha on the dal). Do not start the prayer behind the rows and then join the congregation while in the state of prayer, as in this incident, no visible movement of intention was seen from Abu Burdah (RA), which would have invalidated the prayer, so the Messenger of Allah ﷺ did not command him to repeat the prayer.) Hence, in one narration, it is said, “Do not repeat” (with fatha on the ta, tashdid on the ain, and sukun on the dal), meaning, “Do not redo the prayer.” - (This is narrated by Bukhari.) This is the manner in which one who joins the prayer when the imam and the congregation are in ruku' should act.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز کے لیے آئے تو وہ صف میں شامل ہوئے
بغیر صف کے پیچھے رکوع نکلے- (اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے-)
امام اور مقتری دونوں ایک سطح پر کھڑے ہوئے
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (ﷺ) said: "When one of you comes to the prayer, let him not bow until he takes his place in the row." [Narrated by Tahawi]
عدی بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ شہر مادان میں حضرت عمار
رضی اللہ عنہ کی امامت کا واقعہ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ عمار رضی اللہ عنہ نماز پڑھانے کے لیے
(تنہا) ایک چھوٹرہ پر کھڑے ہوگئے اور سارے مقتری اس چھوٹرے کے پیچھے صف باندھے کھڑے
تھے (پردیکھ کر) حذیفرہ رضی اللہ عنہ صف سے آگے برہے اور عمار رضی اللہ عنہ کو (چھوٹرہ سے اتارنے
کے لیے ان کے دونوں ہاتھوں پکڑ لیے (تاکہ امام اور مقتری ایک سطح پر ہو جائیں) عمار رضی اللہ عنہ
نے حضرت حذیفرہ کی اطاعت کر لی تو حضرت حذیفرہ نے ان کو چھوٹرہ پر سے اتار کر مقتریوں کی سطح پر
کھڑا کر دیا (چونکہ نماز شروع ہوئی، یہی اس لیے اس وقت حضرت حذیفرہ کو پیچھے کینے کا موقع نہیں ملا)
نماز سے فارغ ہوئے کے بعد حضرت حذیفرہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے فرمایا: کیا
آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرما تے نہیں سناتے کہ جب کوئی شخص کسی قوم کو نماز
پڑھانے تو وہ مقتریوں سے بلند مقام پر کھڑا نہ ہو، تو عمار رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: آپ کے ہاتھوں
پکڑنے سے وہ حذیث یاد آ گئی اور میں پیچھے اتر گیا- (ابوداود)-
Ammar (may Allah be pleased with him) narrated that he led the people in prayer in Al-Mada'in, standing on a platform while the people were below him. Hudhaifah came forward, took him by the hand, and Ammar followed him until Hudhaifah brought him down. When Ammar finished his prayer, Hudhaifah said to him, "Did you not hear the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'When a man leads the people in prayer, let him not stand in a place higher than their place or something similar?'" Ammar said, "That is why I followed you when you took me by the hand." [Narrated by Abu Dawud]
سہل بن سعد ساٰعدي رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں نے آپ سے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منبر ثریف کس طرح بناتا تھا انہوں نے جواب دیا کہ میں منورہ سے (9) میل کے فاصلے پر عابدی ایک جنگل میں اس جنگل کے جھاڑے کے درخت ہوتے تھے، جس کی کثرت ساگوان کی طرح عمہ اور مضبوط ہوتی تھی۔ (12) نامی درخت کی کثرت میں منبر ثریف بنایا گیا تھا۔ اس منبر ثریف کو عاشر انصاری کے آزاد کردہ غلام باقوم رومی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تیار کیا۔ (جس کی تین سیر حیات میں بسری میں اونچائی ایک بالشت اور اس کا طول ایک ذراع یعنی ایک باٹھ تھا) جب منبر ثریف تیار ہوا اور حسب ہدایت مسجد میں رکھ دیا گیا تو حضور علی الصلاۃ والسلام (صحابہ کو نماز سکھانے کے لیے منبر ثریف کی سب سے نچلی سیر میں پڑا) کھڑے ہوئے، پھر قبلہ روہوکر تکبیر تحریمہ ادا کر فرمائے اور صحابہ رحمت اللہ علیہم (آپ کے اقتداء کر کے) آپ کے پیچھے کھڑے ہوئے۔ پھر آپ نے قرآن کی رکوع کیا اور لوگوں نے جھی آپ کے پیچھے رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھانے اور قبلہ سے منہ پلٹانے بغیر منبر ثریف سے پیچھے اترے۔ اور منبر کے بازو میں پڑیدہ ادا کر فرمائے (حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل دوقدم میں ہوا اور یہ عمل قليل میں ہوا اور عمل قليل میں نماز فاسد نہیں ہوتی)۔ (پھر سجدہ سے سر اٹھانے اور قبلہ سے پلٹنے بغیر) منبر ثریف پر ثریف لا ہے، پھر قرآن کی رکوع فرما اور رکوع سے سر اٹھانے اور قبلہ سے منہ پلٹانے بغیر پیچھے پیر منبر ثریف سے پیچھے اترے اور منبر ثریف کے بازو میں پڑیدہ فرما کے جب حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نماز فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف خاطب ہوکر ارشاد فرما کے میں نے پیوچھا کیا سے صرف اس لیے کہ تم میری نماز دیکھو) میری اقتداء کرو اور میری نماز دیکھو (اور لوگوں کو سکھاؤ)۔ (اس کی روایت بخاری نے کی ہے اور مسلم نے جس کی اس طرح روایت کی ہے)
ف: اس حدیث شریف میں ذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام کو نماز سکھانے کے لیے منبر شریف پر کھڑے ہو کر نماز پڑھائی۔ اس بارے میں علامہ ابنی رحم اللہ نے عمدۃ القاری میں لکھا ہے کہ ضرورت امام کا مقصد یول سے بلند مقام پر کہراہونا جائز ہے، ورنہ بلا ضرورت امام مقصد یول سے بلند مقام پر کہراہوتا یہ کروہے، اس کی تائید حضرت عمار کی امامت والی نذکورہ حدیث اور اس قسم کی دیگر احادیث سے ہوتی ہے۔ امام اور مقصد یول کا ایک مکان میں اس طرح ہونا ضروری ہے کرام کی حالت مقصد یول پر مشترک ہو سکتا ہے۔ پہلی حدیث
Sahl ibn Sa'd Al-Sa'idi (may Allah be pleased with him) narrated that he was asked about what the pulpit was made of. He said, "It was made from the wood of the forest, crafted by so-and-so, the freed slave of so-and-so, for the Messenger of Allah (ﷺ). When it was made and placed, the Messenger of Allah (ﷺ) stood on it, faced the Qiblah, and said Takbir. The people stood behind him, and he recited, bowed, and the people bowed behind him. Then he raised his head, stepped back, and prostrated on the ground. Then he returned to the pulpit, recited, bowed, raised his head, stepped back, and prostrated on the ground. This is the wording of Bukhari. In the agreed-upon version, it is similar, and at the end, it says: When he finished, he turned to the people and said, 'O people, I only did this so that you may follow me and learn my prayer.'"
This noble hadith mentions that the Prophet ﷺ stood on the blessed pulpit to teach the noble Companions how to pray. Regarding this, Imam Ibn al-‘Arabi (RA) has written in ‘Umdat al-Qari that it is permissible for the imam to stand on a higher place than the congregation out of necessity; otherwise, without necessity, for the imam to stand on a higher place than the congregation is disliked. This is confirmed by the hadith mentioning the imamate of ‘Amr (RA) and other similar hadiths. It is necessary for the imam and the congregation to be in the same place, although the congregation can be on the same level as the imam. This is the first hadith.
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ ان دونوں جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اعتماد فرماتے تھا اور آپ کے لیے تعمیر کا ایک تجرہ بنایا گیا تھا۔ آپ نے اس تجرہ میں (تراوت کی نیت سے) نماز پڑھی تو صحابہ کرام نے اس تجرہ کے باہر آپ کی اقتداء (اس طرح) کی۔ کہ آپ کے جسم مبارک کا اثر حصر مقصد یول کو نظر آ رہا تھا، جس سے آپ کے افعال نماز مقصد یول پر مشترک ہوئے تھے۔ (اس کی روایت ابوداود نے کی ہے۔)
ف: اس حدیث شریف سے ثابت ہوا کر امام اور مقصدی کے درمیان کوئی جھڑ حائل ہوتا اقتداء صحیح ہے۔ بشرط کہ امام اور مقصدی ایک مکان میں ہوں اور امام کا حال مقصد یول پر مشترک ہو، یہ درخطار میں ذکور ہے۔ چونکہ اس حدیث شریف میں صحابہ کرام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتداء ایک سی مقام میں کی، اور حضرت علی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حال کچھ صحابہ پر مشترک نہ تھا اس لیے صحابہ کی اقتداء صحیح نہیں۔ خلاصہ اس مسئلہ کا یہ کہ مکان مختلف ہوئی تو امام اور مقصدی ایک مکان میں نہ ہوں تو اقتداء درست نہیں ہے۔ اگرچہ امام کا حال مقصد یول پر مشترک ہو یا نہ ہو، ایسا ہی اگر امام کا حال مقصد یول پر مشترک ہوتا ہے۔ اقتداء نا جائز ہے۔ اگرچہ امام اور مقصدی کا مکان مختلف ہو یا نہ ہو۔ (یہ خلاصہ رد اختیار سے ماخوذ ہے۔)
دوسری حدیث
The Messenger of Allah ﷺ would rely on those two places, and a place for prostration was built for him. He performed prayer in this place with the intention of prostration, and the noble Companions followed his example outside this place, as they could see the effect of his blessed body on the purpose of the prostration, which made his actions in prayer visible to them. (This is reported by Abu Dawud.)
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کے پاس ایک حجیرہ تھی جس کو دن میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بچا لیتے تھے اور رات میں اس کو کڑا
کر کے تجرہ کی طرح بنالیتے تھے (رمضان کے دن تھے اور حضور اعتماد فیل تھے اور آپ اس تجرہ
کے اندر کٹے ہو کر رات کی نماز ادا کرتے تھے) صحابہ نے آپ کو اس میں نماز پڑھتے دیکھا تو
آپ کے پچپ (اقتداء کر کے) صف بنا کر نماز پڑھنے کٹے ہو گئے۔
(اس کی روایت بخاری نے لکھے)
تیسری حدیث
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) used to pray at night in his chamber, and the wall of the chamber was short. People saw the figure of the Prophet (ﷺ), so some of them stood up and prayed following his prayer. [Narrated by Bukhari]
In Ad-Durr Al-Mukhtar: "A barrier does not prevent following the Imam in prayer as long as the Imam's condition is not ambiguous, and the place is not different."
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ (اللہ ونوں
میں تجرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اعتماد فیل تھے اور آپ کے لئے حجیرہ کا ایک تجرہ بنایا گیا
تھا) آپ حجیرہ کے اس تجرہ میں رات کی نماز ادا کرتے تھے (چونکہ) حجیرہ کے اس تجرہ کی دیواریں
چھوٹی تھیں، اس لئے صحابہ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس تجرہ میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لیا تو
صحابہ نے آپ کی اقتداؤ کر کے نماز پڑھنے کٹے ہو گئے۔ (اس کی روایت بخاری نے لکھے)
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) used to pray at night in his chamber, and the wall of the chamber was short. People saw the figure of the Prophet (ﷺ), so some of them stood up and prayed following his prayer. [Narrated by Bukhari]
In Ad-Durr Al-Mukhtar: "A barrier does not prevent following the Imam in prayer as long as the Imam's condition is not ambiguous, and the place is not different."