(یہ باب نماز میں صفوف کے سیدہا کر نے اور برابر کرنے کے بیان میں ہے)
ف: واضح ہو کر نماز میں صفوف کو سیدہا کر نے اور برابر کرنے کی تاکید پر اورنہ کرنے کی وعید
میں متعدد احادیث واروہوائی ہیں اس لے نمازی جب صف بستے کرتے ہوئے لگین تو چاہے کر آپس
میں اس طرح متصل کرتے رہیں کر ایک دوسروں کے درمیان میں جگہ نہ چھوڑ اورآگے پیچھے جگہی
نہ کرتے رہیں اور اگر کسی صف میں ہون تو ایک صف دوسری صف کے متوازی اور برابر چاہے، اور
صفوں کے قائم کرنے میں ایسا نکیا جا کے تو ظاہری طرح باطن میں بھی اتفاق ہرہے گا۔ (اشعۃ
المعدات)
This chapter discusses the proper arrangement and alignment of rows in prayer.
It is clear that there are numerous traditions and reports emphasizing the importance of aligning the rows properly and maintaining order in prayer, and warning against neglecting this duty. Therefore, when forming rows for prayer, one should ensure that they remain connected with each other, leaving no gaps between individuals, and maintaining a consistent line without any forward or backward deviations. If one is in a row, it should be parallel and aligned with the other rows. Properly arranging the rows externally will also foster internal unity. (Ash'at al-Ma'ad)
وقول الله عزوجل ان الله يحب الذين يقاتلون في سبيله صفا كانهم بنيان مرصوص الل تعالي كا ارشاد سور صف ع ايت نمبر مي خدا توان لو ول كو دوست رك تا جو اس كي را مي صف باند كر ل ت ي اوراس حالت مي ك ويا ايك ديوار ي جو سيسم لاويا يا
ف: واضح ہو کر صدر میں سورۃ صف کی اس آیت کو صف کی تعریف بیان کرنے کی غرض سے
لا یا گیا ہے گویا آیت میں میدان جہاد کی صف کا ذکر ہے اور باب میں نماز کی صف کا بیان ہے، کوئی بھی
صف ہو مگر صف کیسے ہوئی چاہے اس کو آیت میں "کانہم بُنیان مرصوص" کہہ کر بیان فرمایا گیا
ہے جسی صف، سیسم پلاوی ہوئی دیوار کی طرح سیدہ اور چمپیدہ ہوئی چاہے صاحب مرقات نے
جبی اس وجہ اس باب کے صدر میں اس آیت کو بیان فرمایا ہے۔
صفوں کو سیدہا کر نے کی تاکید
پہلی حدیث
علی وآ لہ وسلم ہماری صفوف کو ایسا سیدہا کر تے تھے کہ گویا صفوف کے سیدے پن سے تیروں کو سیدہا
It is clear that this verse from Surah al-Saff has been introduced at the beginning to define the concept of a row or formation. Although the verse refers to the rows in the battlefield, and the chapter discusses the rows in prayer, any formation is being described here. The formation is described in the verse as 'built like a well-constructed wall,' meaning it should be straight and orderly, just like a wall made of bricks laid neatly and firmly. The author of Mirqat has thus presented this verse at the beginning of the chapter for this reason, emphasizing the importance of keeping the rows straight and orderly.
The First Hadith
May Allah be pleased with him and grant him peace, he would align our rows so perfectly that it seemed as if the straightness of the rows was making us straight.
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
کیا جائے گا (اس میں مبالغہ ہے، چاہے تو پیٹھا کر تیرے صف کو سیدہا کرنے کا بیان ہوتا اس کی
جواب یہ ذکور کے صف ایسی سیدہ بناتے ہیں کہ صاف کے سیدے پن تے تیر سیدے کر سکیں)
(حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے پہلی صفوں کو بیش سیدہا فرمایا کرتے تھے) یہاں تک کہ جب
آپ کو یہ معلوم ہوگیا کہ صفوں کو سیدہا کرنے کے حکم کو تم بمہمج پچھین اوراس کی تقبل کر رہے ہیں (تو
پھر آپ صفوں کو سیدہا کرنے کے لئے جو تشریف لا کرتے تھے اس کو تک فرامادیے) ایک دون کا
ذکر کے آپ تشریف لا کے اور نماز پڑھانے کے لئے (مصلی) پر کٹرے ہوئے قریب تکا کے
تحبیر تحریم کیسے کرتا تا ایک شخص پر نظر پڑتی جس کا سیدہ صف کے باہر نکلا ہوا تھا (ان شخص کو خطاب
بناتے تو ان کی دل شکنی ہوتی تھی، اس لئے عام طور پر خطاب فراماتے ہوتے) ارشاد فرماتے: صاحبو!
صف میں باہممل کر ایک دورسرے سے نزدیک نزدیک رہا کرو، آپ پیچھے ہوکر اختلاف پیدا نہ کرو،
اگر ایسا کرو گے تو تمہارے دولون میں بھی ایک دورسرے سے خلافت پیدا ہوگی، ملاقات نہ رہے گا،
پھر تو اورنا اتفاقی پیدا ہوجائے گی جس کے اثرت ایک دورسرے سے منہ موٹے ہوئے رہو گے
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
دوسری حدیث
An-Nu'man ibn Bashir (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (peace be upon him) would straighten our rows as if he were straightening arrows, until he saw that we had understood. Then one day, he came out and stood (for prayer) until he was about to say the Takbir. He noticed a man whose chest was protruding from the row, so he said: 'O servants of Allah, you must straighten your rows, or Allah will cause discord among your faces.'" [Narrated by Muslim]
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما نے روایت کہ وہ فراماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کو صفوں کے درست کرنے اور سیدہا کرنے میں خاص اہتمام تھا جب تم نماز کے لئے
کٹرے ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری صفوں کو (اپنی باطن سے کہہ کر ایک
اشارہ فرمایا کر) سیدہا کرتے تھے، جب ہماری صفن تھیک تھیک سیدہ ہوجا تین تو اس وقت آپ تکبر
تھریمہ فراماتے۔
(اس کی روایت البوداود نے کی ہے۔)
An-Nu'man ibn Bashir (may Allah be pleased with him) also reported: "The Messenger of Allah (peace be upon him) would straighten our rows when we stood for prayer. When we were aligned, he would say the Takbir." [Narrated by Abu Dawud]
اس رضی اللہ عنہ سے روایت ہو فرما تے میں کہ ایک بار نماز کی تکبیر ہوتی - رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہماری طرف متوجہ ہو کر ارشاد فرمایا: اپنے صفون کو سیدی کرو اور صفون میں چسپید ہو کر کھڑے رہو (تم بچٹے ہو لگے گر ) میں سامنے، پیچھے دیکھتا ہوں، ایسا جیسے ہے بلکہ میں اپنے پیچھے سے بھی ایسائی دیکھتا ہوں جسیا کہ سامنے (اس لئے میں دیکھ لیتا ہوں کہ تمہاری صفین سیدی ہوتی یا نہیں ) -(اس کی روایت بخاری نے کی ہے-)
Anas (may Allah be pleased with him) narrated: "The Iqamah was called, and the Messenger of Allah (peace be upon him) turned to us and said: 'Straighten your rows and stand close together, for I can see you from behind my back.'" [Narrated by Al-Bukhari]
In another agreed-upon narration, he said: "Complete the rows, for I can see you from behind my back."
اور بخاری اور مسلم کی متفقہ روایت میں ہے کہ تم صفون کو پوری کر لیا کرو، لیکن پہلی صف کو پوری کر کے پھر دوسرا صف شروع کیا کرو۔
Anas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Complete the front row, then the one following it. If there is any deficiency, let it be in the last row." [Narrated by Abu Dawud]
اس رضی اللہ عنہ سے روایت ہو فرما تے میں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (جب جماعت کہری ہوتی تو تکبیر تحریک کے پہلے ہی ) ارشاد فرمایا کرتے تھے صاحبو! صفین سیدی کرو، باہم مل کر ایک دوسرے سے مل کر ایک دوسرے سے نزدیک کہرے رہو، پھر کہتا ہوں صفین سیدی کرو، باہم مل کر ایک دوسرے سے نزدیک کہرے رہو، (میرے) قلب رخ رہنے سے تم بچٹے ہو لگے میں تم کو نہیں دیکھ رہا ہوں) اس مبارک ذات کی فتنہ حس کے باتعمل میری جان ہے، میں تم کو اپنے پیچھے سے ایسائی دیکھتا ہوں جسیا تم کو سامنے سے دیکھتا ہوں (اس لئے صفون میں تمہارے آگے پیچھے کہرے ہو نے کو اور صفون کے نچ میں تمہارے جگہ خالی چھوڑ نے کو برادر دیکھتا رہتا ہوں ) -(اس کی روایت ابوداود نے کی ہے-)
Ibn Umar (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Straighten the rows, align your shoulders, fill the gaps, be gentle with your brothers, and do not leave openings for Satan. Whoever joins a row, Allah will join him (with His mercy), and whoever breaks a row, Allah will cut him off (from His mercy)." [Narrated by Abu Dawud and Al-Nasa’i narrated part of it: "Whoever joins a row..." to the end]
اس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرما تے میں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اپنی صفون کو سیدی کرو، باہم مل کر ایک دوسرے سے نزدیک کہرے
رہو، اس لئے صفوں کو سید حاکر نا ان چیزول میں سے جن سے نماز کی اصلاح ہوتی ہے –
(اس کی روايت بخاري اور مسلم نے متفرق طور پر کی ہے)
Anas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Straighten your rows, for straightening the rows is part of establishing the prayer." [Agreed upon]
In Muslim's version: "Straightening the rows is part of perfecting the prayer."
اٌس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (جب
جماعت کطری ہوتی تو تکبیر تحریمہ سے پہلے ) اپنی دوسری طرف متوجہ ہو کر ارشاد فرمایا کرتے تھے
" اعتمدو ا " صف میں امام کے دونوں جانب برابر کطرے رہو، لیجن ایک طرف زیادہ اور دوسری
طرف کم نہ رہو "سوؤا صفو فگم" اپنی صفين سید حی کر لو، باہممل کرا ایک دوسروں سے نزدیک
کطرے رہو، ایسا کی باہمین جانب متوجہ ہو کر ارشاد فرمایا کرتے تھے " اعتمدلوا " صف میں امام کے
دونوں جانب برابر برابر کطرے رہو، لیجن ایک طرف زیادہ اور دوسری طرف کم نہ رہو "سوؤا
صفوفگم" اپنی صفين سید حی کر لو، باہممل کرا ایک دوسروں سے نزدیک کطرے رہو
(اس کی روایت البوداوونی کی ہے)
Anas (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (peace be upon him) would say to his right: 'Align yourselves, straighten your rows,' and to his left: 'Align yourselves, straighten your rows.'" [Narrated by Abu Dawud]
اٌس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کرتے اپنی صفوں میں خوب مل کر (اس طرح) چسپیدہ کطرے رہا کرو (کرا ایک
دوسروں کے درمیان میں جگہ خالی نہ رہنی پائے) اور ایک صف دوسری صف سے قریب رکھو، اور گر دونوں
کو ایک دوسروں کے برابر رکھو لیجن آگے پیچے نہ ہول، اس مبارک ذات کی فتنہ جس کے باعث میں میری
جان سے دیکھتا ہوں کر شیطان بڑی کے پریکی طرح بن کر صف کی خالی جگہ میں داخل ہوا کرتا ہے (اس
لئے تم صف میں جگہ خالی نہ چھوڑ واور چسپیدہ رہا کرو) _ (اس کی روایت البوداوونی کی ہے)
دوسری حدیث
Ibn Umar (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Straighten the rows, align your shoulders, fill the gaps, be gentle with your brothers, and do not leave openings for Satan. Whoever joins a row, Allah will join him (with His mercy), and whoever breaks a row, Allah will cut him off (from His mercy)." [Narrated by Abu Dawud and Al-Nasa’i narrated part of it: "Whoever joins a row..." to the end]
جا بر بن سمرة رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کر (ایک بار)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لاگے اور ملاحظہ فرماتے کہ تم علیہ علیہ حلقت جنا کر بیٹھے ہوئے
ہیں، ارشاد فرمایا: کیا وچہے کہ میں تم کوالگ اگ حلقوں میں بیٹھے ہوئے دیکھ رہاہوں؟ (یعنی اس
طرحا نہیں جس طرح کہ یہاں اتنا تقاطی کی علامت ہے) اس کے بعد پھر (ایک بار) جمارے پاس تشریف
لاگے اور ارشاد فرمايا: تم نماز میں ایک صف بندی کیون نہیں کرتے جیسا کہ فرضۃ اللہ تعالیٰ کے
سامنے صف بندی کیا کرتے ہیں؟ تم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرضۃ اپنے
رب کے سامنے طرح صف بندی کیا کرتے ہیں؟ ارشاد فرمایا کہ پہلی صف اول کو پورا کرتے
ہیں، پھر صف دوسری کو اور اس کے بعد دیگر صفوں کو (یعنی جب تک ایک صف پوری نہ ہو، اس کے بعد
کی دوسری صف کو شروع نہیں کرتے) اور صفوں میں باہم خوب مل کر چسپیدہ کھڑے ہوا کرتے
ہیں - (اس کی روایت مسلم نے کی ہے-)
تیسری حدیث
Jabir ibn Samurah (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (peace be upon him) came out to us and saw us in separate groups. He said: 'Why do I see you disunited?' Then he came out to us again and said: 'Will you not align your rows as the angels align themselves before their Lord?' We asked: 'O Messenger of Allah, how do the angels align themselves before their Lord?' He replied: 'They complete the front rows first and stand close together in the row.'" [Narrated by Muslim]
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پہلی صف کو پورا کرو پھراس کو جواس کے قریب ہو، پھر جو پھکی رہے تو اخیر
صف میں رہے - (اس کی روایت ابوداود نے کی ہے-)
صف اول کی فضیلت
پہلی حدیث
Anas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Complete the front row, then the one following it. If there is any deficiency, let it be in the last row." [Narrated by Abu Dawud]
امام الحموین سید نا عا تشر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کر رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو لوگ (لا پرواہی کر کے یابعدی صفوں میں راحت وآرام
کے خیال سے) پہلی صف کو زکر کرنے کی عادت کر لیتے ہیں تو جسے یہ فضل کے پچھلے حصہ کو پسند
کر لیتے ہیں، ایسے کی اللہ تعالیٰ ان کودوزخ کی تمیں جودوزخ کا پچھلا حصہ ظالماں گے۔
(اس کی روایت ابوداود نے کی ہے)
ف - واخ ہو کر نمازی کے صف اول میں کہرے ہونے کی بہت برتری فضیلت ہے لیکن صف
اول میں کہرے ہونا واجب نہیں بلکہ مستحب ہے اور اس پرتمام اتمکرام کا اتفاق ہے، یعنی عام لگیری
میں قیام سے منقول ہے۔
اب رہی وہ عیسی جو صدر کی اس حدیث میں ذکور ہے تو وہ ایسے اشخاص سے متعلق ہے جو نیپول
اورفضیلت کے کاموں کے حاصل کرنے میں سستی اور غفلت کرنے کے عادی ہوجاتے ہیں اور ان کے
دلوں میں نیپول کی رغبت نہیں رہتی اور خواہ کو اہ صف اول کو چھوڑ بیٹھے ہیں، حالاکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد
ہے: "فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ" (لوگو! تم نیک کاموں کی طرف دورو) ایس اور جگہ ارشاد ہے
"سَابِقُوَا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَآءِ وَالأَرْضِ" (لوگو!
اپنے پروردگار کی مغفرت کی طرف دورو اور ایسی جنت کی طرف دورو جس کی وسعت آسمان اور زمین
دونوں کی وسعت کے برابر ہے)-
ان دونوں آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے دلون میں نیپول کے کرنے کی رغبت اور
نیپول کا خیال رہنا چاہئے اور یو اجب ہے اگر کسی کے دل سے نیپول کی رغبت اور نیپول کا خیال نہ ہو
جاے اور نیپول کے کرنے سے پروا نی کرے تقی دل کا گناہ ہے اور ایسا کرنے سے واجب ترک
ہوتا ہے تو ایسے شخص کا صف اول میں نشر کیے ہونا اور اس سے پروا نی کرنا واجب کو ترک کرنا ہوا،
اس لئے گناہ کا کام ہوا اور ایسی وجہ سے اس وعید کا مستحق ہوگا جو صدر کی حدیث میں ذکور ہے، بخلاف
اس کے اگر کسی کے دل میں نیپول کی رغبت ہے اور نیپول کے کرنے کا خیال جما ہوا اور باوجود اس
کے پیصف اول میں کسی وجہ سے شرکی نہوسکا تو وہ اس وعید کا مستحق نہ ہوگا۔
یہی واقع ہے کہ صدر کی حدیث میں جو عیسی ذکور ہے وہ اس شخص سے جس متعلق ہوگی جو اولاً
صف اول میں جگہ حاصل کر لے پھر فرض نماز اداء کرے نے پہلے کسی دینی غرض سے مثلًا نماز کے
بعد مسجد سے جلد نکل کا خیال یا گرمی کے موسم میں راحت حاصل کرنے کے لئے اندر ون مسجد سے نکل
کسی مسجد میں آجائے، ظاہر ہے کہ ایسے شخص کا ان اغراض کے لئے صف اول کو چھوڑ کر پچلی صفون میں پہوچ جانا حصول تقرب سے اعراض ہوا، اس لئے ایسے شخص اس عمدہ مستقیم ہوا البتر صف اول میں احترام کسی اعلی علم کو یا پنے سے زیادہ عمر والے صاحب کو گردین کے لئے پچلی صف میں نشست ہو نیوالا اس وعید کا مستحق ہوگا اس لئے کہ پرثر عاً مطلوب ہے۔ (یہ پورا مضمون تعلیق اعلاء السنن سے ماخوذ ہے)۔
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "A group of people will continue to lag behind the front row until Allah will place them in the Fire." [Narrated by Abu Dawud]
It is highly meritorious to stand in the first row for prayer, but standing in the first row is not obligatory; rather, it is recommended, and there is consensus among the scholars on this point, which is derived from common practice. Now, regarding those mentioned in this hadith as 'Isa, they refer to individuals who habitually show laxity and negligence in acquiring virtuous deeds and have no desire for excellence, and thus they may remain absent from the first row, although Allah, the Exalted, has instructed: “So vie with one another in good works” (O people! Strive towards good deeds), and in another place, He instructs: “Strive for forgiveness from your Lord and a Paradise as vast as the heavens and the earth” (O people! Strive towards the forgiveness of your Lord and a Paradise whose width is like that of the heavens and the earth). From these two verses, it is evident that Muslims should have a desire and intention to excel and perform virtuous deeds. It is a sin if someone lacks the desire or intention to excel and avoids doing so, as it is a sin of the heart. If such a person avoids standing in the first row and neglects what is recommended, then his act becomes sinful, and he will be deserving of the warning mentioned in the hadith. Conversely, if someone has the desire and intention to excel but, despite this, cannot stand in the first row due to some reason, he will not be deserving of the warning. The reality is that the 'Isa mentioned in the hadith refers to a person who, after securing a place in the first row, performs the prayer and then, before completing the prayer, leaves the mosque for some religious purpose, such as leaving the mosque quickly after the prayer or stepping out of the mosque to seek comfort during hot weather and entering another mosque. Clearly, such a person’s leaving the first row to join a later row for these purposes is a deviation from seeking nearness to Allah, and therefore, such a person will be considered guilty of this specific sin. Similarly, if someone leaves the first row to make way for someone of higher knowledge or an elder, he will also be deserving of the warning because the primary objective is to honor the first row. (This entire discussion is derived from Taliq Al-A'la Al-Sunan).
البوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت بہ وہ فرماتے ہیں کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم نے اپنے اصحاب کو (صف اول تے) پچپی بنے ریکھا تو ارشاد فرمایا: آگے برحواور صف اول میں رہاکرو، اس سے تم کوان اعمال کے دیکھنے کا موقع ملے گا جن کو میں نماز میں کیا کرتا ہوں جسے میں کرتا ہوں ویہ، یہ تم کر سکوگے پھر تمہارے بعد وا لے تمہارے اعمال نماز کو پیچ کر ویہی اعمال کیا کریںگے اپیا نہ کر کے جولوگ (لا پروا، یسے) صف اول میں نہ رہ کر پچلی صفون میں رہا کریں گے تو اللہ تعالی ان کو ہر کار خیرتے پچپی رکسن گے، لیجن خیر کی تو فیق نہیں دی گے۔
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
صف میں کہرے ہوئے کا طریقہ
The Messenger of Allah ﷺ drew a line in front of his Companions and then instructed: 'Move forward and stand in the first row; this will give you the opportunity to see the actions I perform in prayer, which you can then emulate. After you, those who come later will follow your actions in prayer, either by imitating them or by neglecting them. If people do not remain in the first row and instead stand in the back rows, Allah, the Exalted, will deprive them of every good deed. Indeed, they will not be given any share of goodness.'
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت بہ وہ فرماتے ہیں کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اپنی صفون کو سیدی کرو اور اپنے مونڈھون کو ایک دوسرے کے برابر رکھو (لیجن آگے پچپی نہ ہوں) اور صف کے شگافون کو بند کرو (لیجن صف میں جگہ خالی نہ چھوڑ اور پچپیدہ رہا کرو) اور زمہ وجہ اپنے بجاٹیول کے باہمیں (لیجن کوئی مونڈہ سے پر با تھو رک کر صف میں برابر کرے تو اس کا کہنا مانو، یا صف میں گنجائش ہو، اور کوئی آنا چاہے تو اس کو آنے دو اور اپنے بازووں کو
نزم رکھو اور مزاحمت نہ کرو، یا کوئی اکیلا شخص صف کے آخری شخص کو دوسری صف میں لانے کے لئے موٹے پر باہو رکے تو پیش اس کا کہنا مانے اور پیچھے بھٹکر صف ثانی میں اس کے ساتھ نماز ادا کرے گر شرط یہ ہے کہ صف اول سے صف ثانی میں صرف ایک یا دو قدم میں آ جائے) اور صف میں شیطان کے لئے خالی جگہ نہ چھوڑ واور جو شخص صف کو ملا دے (یعنی صف کی خالی جگہ میں جا کر کہا ہو جائے) تو اللہ تعالیٰ بھی اس کو پیچھے فضل و رحمت سے ملا یویں گے (یعنی اس سے خاص تعلق رکھین گے) اور جو شخص صف کو قطع کرے (یعنی صف کی خالی جگہ میں کھڑا نہ ہو) تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے قطع تعلق کر لین گے (یعنی اپنی رحمت سے اسکو دور کر دیں گے)۔ (اس کی روایت البوداودی نے کی ہے اور نسائی نے بھی اس کے قریب قریب روایت کی ہے۔)
پہلی حدیث
Ibn Umar (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Straighten the rows, align your shoulders, fill the gaps, be gentle with your brothers, and do not leave openings for Satan. Whoever joins a row, Allah will join him (with His mercy), and whoever breaks a row, Allah will cut him off (from His mercy)." [Narrated by Abu Dawud and Al-Nasa’i narrated part of it: "Whoever joins a row..." to the end]
براء بن عازب رضي الله عنه سے روايت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول الله صلى الله عليه وسلم ارشاد فرمايا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے ان پر درود بھیجتے ہیں جو اگلی صفون کو رست کرتے ہیں (یعنی پہلی صف والے اپنے اگلی صف میں کہی جوئی جگہ خود پر کرتے ہیں اور دوسروں کو اسکو پر کرنے کی رغبت دلاتے ہیں) اور اللہ تعالیٰ کے پاس وہ قدم سب سے زیادہ پسندیدہ ہے جو صف کی خالی جگہ کو پر کرنے کے لئے اٹھا جاتا ہے۔ (اس کی روايت البوداودی نے کی ہے)
براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے ان پر درود بھیجتے ہیں جو اگلی صفون کو رست کرتے ہیں (یعنی پہلی صف والے اپنے اگلی صف میں کہی جوئی جگہ خود پر کرتے ہیں اور دوسروں کو اسکو پر کرنے کی رغبت دلاتے ہیں) اور اللہ تعالیٰ کے پاس وہ قدم سب سے زیادہ پسندیدہ ہے جو صف کی خالی جگہ کو پر کرنے کے لئے اٹھا جاتا ہے۔ (اس کی روایت البوداودی نے کی ہے)
صف میں کھڑے ہونے کا طریقہ
پہلی حدیث
This is the first hadith.
صف میں کھڑے ہونے کا طریقہ
ابن عباس رضي الله عنهما سے روايت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول الله صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمايا کرتے میں بهترین اخلاق والے وہ ہیں جو نماز میں اپنے موتھوں کو نزم رکھتے ہیں
( لیکن کوئی مونث ہے پر بات ہو رہی کر صف میں بر ابر کرے تو اس کا کہنا مانتے ہیں، یا صرف میں گنجائش ہے اور کوئی آنا چاہے تو اس کو آنے دیتے ہیں اور اپنے بازوں کو بانے ہوئے رکھتے ہیں اور مزاحمت نہیں کرتے، یا اپنے مونث ہول سے اپنے ساتھی کے مونث ہول کو دھکا نہیں دیتے بلکہ اپنے بازوں کو دبا کے ہوئے رکھتے ہیں تاکر اس کو تکلیف نہ ہو، اور نماز سکون اور وقار سے اداء کرتے ہیں یا کوئی اکیلا شخص صف کے آخری شخص کو دوسری صف میں لا کے لے مونث ہے پر بات ہو رکے تو اس کا کہا مان کر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور اس کے ساتھ صف ثانی میں نماز اداء کرتے ہیں ) – ( اس کی روایت ابوداود نے کی ہے – )
But if there is a space in the row and someone wants to join, then his word is accepted, or if there is room and someone wants to come, then they let him come and keep their arms extended without causing inconvenience, or they do not cover their companion's space with their own but keep their arms pressed so as not to cause discomfort, and they perform the prayer with tranquility and dignity, or if a person at the end of the row wants to bring another person into the second row and stops speaking, then they accept his word, move back, and pray in the second row.