Nūr al-Maṣābīḥ
بَابُ الْجَمَاعَةِ وَ فَضِلَهَا

Congregational Prayer and Its Virtue
Volume 3 · Prayer

(یہ باب جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی فضیلت اوراس کے احکام اور آداب کے بیان میں ہے)

نماز باجماعت کی فضیلتیں

ف: واضح ہوکہ پڑھنا نماز دول کو جماعت کے ساتھ اداء کرنا شعار اسلام سے ہے، اور حقیقت یہ ہے کہ یہ دین حنیف کی ایک عظیم اشان خصوصیت ہے، ایک خصوصیت کہ سابقہ ادیان میں کسی دین کے لئے مشروع نہیں کی گئی اور جو چیز شعار اسلام میں داخل ہوتی ہے اس کا ظہار ضروری ہوتا ہے۔

ہر مرد کے لئے نماز جماعت سے اداء کرنا واجب ہے۔

جماعت کی فضیلت اور تاکید میں تحقیق دیشیں کثرت وارد ہوئی ہیں، ان احادیث تقریباً کے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز ون کے لئے جماعت کا قائم کرنا واجب ہے اور عامہ فقہاء حنفی رحمہم اللہ کے پاس یہی قول رائج ہے، چنانچہ صاحب بحر، بدائع، جہتی، غایہ، مذہب اور تحفہ نے اس کو اختیار کیا ہے اور علامہ شاہی رحمہ اللہ نے رواجتار میں صاحب نہر کا قول نقل کیا ہے کہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کو واجب کہنا قوی ترین قول ہے، صاحب نہر نے پہلی کہا ہے کہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کے بارے میں فقہا کے امت کے مختلف اقوال میں ان سارے اقوال میں جماعت سے نماز پڑھنے کو واجب کہنا ایسا قول ہے جو افراد اور تفرقیت سے پاک ہے، ملا علی قاری رحمہ اللہ نے مرقات میں کہا ہے کہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کو واجب کہنا ہمارے ذہب حقی میں قول اختار ہے۔

نماز باجماعت کے تارک پروا عیدیں

احادیث تقریباً میں تارک جماعت پرشید وعیدیں وارد ہوئی ہیں، ایک حدیث میں ارشاد ہے "نماز باجماعت سے تو منافق ہی چچہ رہتا ہے" ایک دوسرا حدیث میں ارشاد ہے "مومن کے

نفاق اور ناکامی کے لئے بات کافی ہے کہ موت کو نماز کا اعلان کرتے ہوئے سن اور جماعت میں حاضر نہ ہو۔ ایک اور حدیث میں ارشاد ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے: میرا ارادہ تھا کہ اول کہوں جمع کروں، پھر ازان دین کا حکم دوں، ازاں کے بعد کسی کو امامت کے لئے مقرر کر کے ان لوگوں کے پاس جاؤں جو جماعت میں شرکی نہیں ہوتے اور جا کر ان کے مکانات کو آگ رگادوں۔” پیاوراس قسم کے بخترت و عیدی تارک جماعت پروا ردوہوئی ہیں، ان سے کیا ثابت ہوتا ہے کہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا واجب ہے، چنانچہ اعلاء اسنن میں کہا ہے کہ پیاوراس قسم کی وعید یہ ایس عمل کے چھوٹے نے پڑی واردہوئی ہیں، جب کا اداء کرنا واجب تھا اور اسے چھوڑ دیا گیا۔ مذکورہ بالتفصیل سے صراحت کے ساتھ ثابت ہوگیا کہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا واجب ہے۔ لیکن اس کی نو عیت ان واجبات سے جدا ہے جو افعال نماز میں داخل ہیں جیسے جماعت نماز کے لئے ایس واجب نہیں جیسے مثلًا نماز وتر میں دعا قنوت کا پڑھنا واجب ہے کہ اگر دعا کے قنوت چھوڑ دی جائے تو نماز نقص ہوجائے گی۔ اور نماز کا اعادہ ضروری ہو جائے گی، اس کے برخلاف اگر نماز جماعت سے نہ پڑھی جائے تو نماز چھوڑنے ہوگی اور اس کا اعادہ (لوتانا) ضروری نہیں ہوگا۔ اور اس سے نماز میں ایس خرابی پیدا نہیں ہوگی جیسے واجبات نماز کے چھوڑنے سے نماز میں خرابی ہوتی ہے بلکہ جماعت سے نماز کا پڑھنا ایس نو عیت کا ایس مستقل واجب ہے اگر بگیر عذر کے جماعت چھوڑ کر دی گئی تو نماز کبیرہ ہوگی۔ نماز با جماعت کامسجد میں قائم کرنا واجب ہے۔ یہ جس واقعہ سے کہ جیسے نماز پنجگانہ کے لئے جماعت واجب ہے ایسی جماعت کامسجد میں قائم کرنا بھی واجب ہے چنانچہ اشعة اللمعات میں بدائع کا قول نقل کیا ہے کہ ‘‘ہر بالغ عاقل مرد پر جومعزور نہ ہو واجب ہے کہ وہ جماعت سے نماز پڑھنے کے لئے مسجد میں حاضر ہوا کرے’’ ایس بارے میں اعلاء اسنن میں مذکور ہے کہ اگر کوئی نماز کے لئے مسجد کے بجائے گھر میں جماعت قائم کرے تو اس میں جماعت سے نماز پڑھنے کے واجب کو تو اداء کیا لیکن جماعت کو مسجد میں قائم کرنے کے واجب کو چھوڑ کر دیا، اس لئے اس نے بہت برا کیا اور گناہ کا رہواں ابھی آپ نے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ مسجد میں جماعت

کے ساتھ نماز پڑھنے کے لئے نآ کیں "میرا ارادہ ہے کہ ان کے گھروں کو آگے لگا کر جلا دوں" اس ارشاد مبارک سے دوالگ اللہ حکم ثابت ہورہے ہیں "(1) نماز کو جماعت سے پڑھنا جس کی تفصیل اوپرگزرچکی ہے - (2) جماعت کو مسجد میں قائم کرنا اوراس حدیث شریف میں جو عیید نکورہ اس سے ان دونوں چیزوں کا وجوب ثابت ہورہا ہے، لیکن جماعت کو قائم کرنے کے لئے مسجد میں آنا ایسا ہی واجب ہے جیسے خود نماز کے لئے جماعت کا قائم کرنا واجب ہے اگر نماز کے لئے صرف جماعت کا قائم کر لینا ہی واجب ہوتا اور جماعت کے لئے مسجد میں آنا واجب نہ ہوتا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان لوگوں کے گھروں کو آگ لگانے کا ارادہ نہ فرماتے جو جماعت کے لئے مسجد میں نآ چکے ہوتے، اس لئے کہ وہ ان اس بات کا اختیار نہ کر وہ لوگ گھروں میں جماعت قائم کر کے نماز پڑھتے ہوتے، اس اختیار کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مسجد کی جماعت میں شریک نہ ہونے والوں کے گھروں کو آگ لگانے کا ارادہ فرمانا اس وعید کے صراحت کے ساتھ ثابت ہوتا ہے کہ جماعت کا مسجد میں قائم کرنا واجب ہے۔

(عمدة القاري، فتح القدري، بدایۃ، بنایہ، رواجتار، شرح وقایی، عمدۃ الرعايی، مرقات، اشعثہ الممتعات، فتح المفتاح والسائل، اعلاء السنن)

عورتوں کے جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی تفصیل

شریعت کا عام قاعدہ ہے کہ اوردونوں کی مردوں کو دی جاتے ہیں اور چونکہ عورتوں مردوں کے تالح ہیں اس لئے سارے احکام عورتوں سے بھی متعلق ہوجاتے ہیں، البتر کی مثل میں عورتوں سے کوئی خاص حکم متعلق ہوتا مردوں کے حکم کے ساتھ ساتھ عورتوں کے حکم کی بھی علم صراحت کردی جاتی ہے۔

چنانچہ آیت "وَارْكَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ " کے تحت اوران احادیث کے پیش نظر جن سے نماز وں کو مسجد کی جماعت کے ساتھ اداء کرنے کا وجوب ثابت ہے مردوں پر جماعت میں شریک ہونے کے لئے مسجد میں کوآ نا واجب کر دیا گیا تو صدر کے عام قاعدہ کے لحاظ سے عورتوں بھی اس حکم میں شامل ہوجاتی ہیں اس لئے عورتوں کو زیل کے احادیث سے مسجد کی جماعت میں شرکت سے منع کیا گیا۔

ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عورت کی نماز اس کے گھر میں بہتر ہے اس کی اس نماز سے جواس کے حکم میں

ہو، اوراس کی نماز جواس کے حسن میں ہو۔ہر بھاس کی اس نماز سے جواس کے احاط میں ہواوراس کی

نماز اس کے احاط میں ہر بھاس کی اس نماز سے جواس کے محل کی مسجد میں ہو۔اس کی روایت طبرانی

نے اوسط میں عمدہ سنده سے کی ہے۔

ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت سے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد

فرمایا کہ عورت کی امام نہیں، اعلاء اسفن میں کہاہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کاہے جو مطلق ارشاد

ندکور سے اس سے ثابت ہوتاہے کہ عورت میں امامت کی صلاحیت نہیں ہے لیکن وہ نتو مردون کی

امامت کی اعلیٰ ہے اور ند عورتوں کی اعلاء اسفن میں یہ کہاہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اس

مطلق ارشاد کو متقید کرنے والی کوئی دلیل نہیں ہے۔

اب رہا بعض حدیثول میں جوام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا عورتوں

کی جماعت کو امام بن کر نماز پڑھانے کا ذکر ہے، اس کے بارے میں اعلاء اسفن میں کہاہے کہ ام

المومنین حضرت عائشہ اور ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہما نے عورتوں کو نماز سکھلانے کے لیے عورتوں کی

جماعت کی امامت فرمائی اور پیغمبر کا عمل نہیں، اس لے ان امہات المومنین کے اتفاقی عمل کو مجت

پنا کر عورتوں کے باہمل کر جماعت قائم کرنے کو جائز قرار نہیں دیا جاسکتا۔

وقول اللہ عزوجل " وَارْكَعُوا مَعَ الرَّكَعِينَ " اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد سے (سورۃ

بقرہ پ1 ع5، آیت نمبر:43 میں) اور نماز پڑھونماز پڑھنے والوں کے ساتھ مل کر لیجنی جماعت کے ساتھ

نماز پڑھا کرو (پیتر زجمہ جلا میں، معالم النثر لیل، خازن، البوسعود، مدارک اور تفسیر کبیر سے ماخوذہ۔12)

(اس آیت سے ثابت ہوتاہے کہ جماعت سے نماز پڑھنا واجب ہے، تفسیرات احمدی)

نماز باجماعت کی فضیلت

This chapter deals with the virtues of performing prayer in congregation, along with its rules and etiquette.

The Virtues of Congregational Prayer

It is evident that reading the prayer and performing it in congregation with the community is a hallmark of Islam, and the truth is that this is a great characteristic of the pure religion, a feature that was not legitimized for any previous religion, and whatever is included in the banner of Islam must necessarily be manifest.

It is obligatory for every man to perform the congregational prayer. Numerous traditions have been transmitted regarding the excellence and emphasis on the congregation, which make it evident that establishing the congregation for the prayer is obligatory. This is the prevalent view among the Hanafi jurists, as adopted by the authors of Bahar, Badai, Jhati, Ghaya, Madhab, and Tahfah. Imam Shahi (RA) has quoted the prevalent view of the author of Nahr that considering it obligatory to pray with the congregation is the strongest opinion. The author of Nahr states that among the various opinions of the jurists concerning praying with the congregation, the opinion that it is obligatory to pray with the congregation is free from individual and sectarian biases. Mulla Ali Qari (RA) has stated in Mirqat that considering it obligatory to pray with the congregation is the chosen opinion in our true creed.

The Abandonment of Congregational Prayer and Its Consequences on Festivals

In the Hadith, there are approximately warnings and threats against those who abandon the congregation. One Hadith states, 'He who does not pray with the congregation remains a hypocrite.' Another Hadith instructs, 'The believer...'

Sufficient is it as a sign of hypocrisy and failure that one hears the call to prayer for a funeral but does not attend the congregation. In another hadith, it is reported that the Messenger of Allah ﷺ said: 'I intended to order the gathering of people, then command the adhan for prayer, and after the adhan, appoint someone to lead the prayer, and go to those who do not join the congregation, and set their houses on fire.' These threats against those who forsake the congregation and fail to attend have been revealed to emphasize that praying in congregation is obligatory. It is stated in Al-Ala Al-Sunan that these threats were issued for minor acts that were obligatory but were neglected. From this, it is clearly established that praying in congregation is obligatory. However, this obligation is distinct from the obligations that are part of the actions of prayer, such as the fact that it is not obligatory to pray in congregation in the same way that it is obligatory to recite the qunut supplication in the Witr prayer; if the qunut is omitted, the prayer becomes deficient, and its repetition becomes necessary. Conversely, if one does not pray in congregation, it is considered neglecting the prayer, and its repetition is not required. Moreover, it does not cause the same kind of deficiency in the prayer as would be caused by omitting the obligatory parts of the prayer. Rather, praying in congregation is an independent obligation. If one forsakes the congregation without a valid excuse, it is a major sin. It is obligatory to establish the prayer in congregation in the mosque. This is similar to the obligation of establishing the five daily prayers in congregation, which must also be done in the mosque. As mentioned in Ash-Shawarir Al-Lama'at, quoting from Badai' Al-Sunan, 'It is obligatory for every adult, sane male who is not compelled to be present in the mosque to pray in congregation.' It is stated in Al-Ala Al-Sunan that if someone establishes a congregation at home instead of in the mosque, they have fulfilled the obligation of praying in congregation but have neglected the obligation of establishing the congregation in the mosque. Therefore, they have acted wrongly and have incurred sin. You have heard that the Messenger of Allah ﷺ said: 'The congregation in the mosque...'

With regard to performing prayer in congregation, the Prophet (peace be upon him) said, 'I intend to set fire to the houses of those who do not attend the congregation.' From this blessed hadith, it is established that: (1) Prayer should be performed in congregation, as detailed above, and (2) Congregation should be established in the mosque. This is evident from the noble hadith which mentions the disapproval of not attending the congregation. Both these obligations are firmly established. However, coming to the mosque to establish the congregation is as obligatory as establishing the congregation itself. If it were only obligatory to establish the congregation without the necessity of coming to the mosque, the Prophet (peace be upon him) would not have intended to set fire to the houses of those who did not come to the mosque for the congregation, because they could have established the congregation in their own homes. The fact that the Prophet (peace be upon him) expressed his intention to set fire to the houses of those who did not participate in the mosque congregation, despite having the option to establish it elsewhere, clearly indicates that establishing the congregation in the mosque is obligatory. (Qari's Umda, Fath al-Qadri, Badaia, Binaia, Rawaajtar, Waqai's Sharh, Umda al-Raaya, Merraqat, Ashath al-Mumtahat, Fath al-Miftah wa al-Saail, Aala al-Sunan)

The general rule of Sharia is that commands are given to both men and women. Since women are companions of men, all rulings apply to women as well. In cases where specific commands pertain to women, they are explicitly stated alongside the commands for men. Therefore, under the verse 'And bow with those who bow [in prayer]' and in light of the relevant hadiths which establish the obligation for men to perform prayers in congregation at the mosque, it follows from the general principle of Sharia that women are also included in this command. Hence, women have been prohibited from participating in congregational prayers at the mosque based on the following hadiths.

It is narrated by Umm Salamah (RA) that the Messenger of Allah (peace be upon him and his family) said: 'A woman's prayer in her house is better than her prayer in the mosque.' This indicates that her prayer in her house is superior to her participation in the congregational prayer at the mosque.

And let it be so, and let his prayer be in the beauty of Jibril. Every word of this prayer should be in the presence of Jibril, and his prayer should be in the mosque of Jibril's abode. This tradition has been narrated by Tabarani with a good chain of narrators.

According to the tradition from Umm Salama, may Allah be pleased with her, the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him and his family, said that a woman cannot lead in prayer. In the elevated position, it is stated that the absolute guidance from Ali, may Allah be pleased with him, indicates that women do not have the capability to lead in prayer, but they can lead in the higher position among women. There is no evidence to restrict the absolute guidance of Ali, may Allah be pleased with him.

Now, regarding some hadiths where it is mentioned that Umm al-Mu'minin Aisha and Umm Salama, may Allah be pleased with them, led the congregation of women in prayer, it is stated in the elevated position that Umm al-Mu'minin Aisha and Umm al-Mu'minin Umm Salama, may Allah be pleased with both of them, led the congregation of women in prayer to teach them how to pray, and this was not the practice of the Prophet. Therefore, their unanimous action cannot be used to justify leading mixed congregations of men and women in prayer, which is not permissible.

And the saying of Allah, the Exalted, 'And bow with those who bow' [Surah Al-Baqarah, verse 43], and the guidance of Allah, the Most High, indicates that one should pray in congregation with those who pray. (Extracted from Ma'alem al-Nathr, Khazain, Al-Busayuti, Madarik, and Tafsir Kabir, 12)

This verse establishes that praying in congregation is obligatory (Tafsir Ahmad).

1631

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت سے کر وہ فرماے ہیں کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ

وآلہ وسلم ارشاد فرماے ہیں کہ تھا نماز پڑھنے والے سے 27 درجہ برطہ کر ثواب جماعت سے نماز

پڑھنے والے کو ملتاہے۔

اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔

It is narrated from Ibn Umar (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "The prayer in congregation is twenty-seven times superior to the prayer offered alone." This is agreed upon (by Al-Bukhari and Muslim] Ali Al-Qari said: Abu Hanifah and Malik used this as evidence for the Sunnah of congregational prayer.

نماز باجماعت کی فضیلت اور فجر و عشاء کو جماعت سے نہ پڑھنے کی وعید
1632

أبی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوائی دونوں فجر کی نماز پڑھانے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو دریافت فرماتے کر کیا فلال شخص حاضر ہے، صحابہ نے عرض کیا: حضرتوہ موجود نہیں ہے، پھر آپ نے دوسرا شخص کا نام لے کر پوچھا کیا فلال شخص حاضر ہے، صحابہ نے پیش کیا: حضرتوہ بھی موجود نہیں ہے آپ نے ارشاد فرمایا: یہ دونمازی بھی عشاء اور فجر منافقوں پرتمام نمازوں سے زیادہ گرالگزر تی ہیں، اگر تمہیں معلوم ہوجائے کہ ان دونمازوں کا کس قدر ثواب ہے تو تم ان دونمازوں کے لئے اگر پیار کی ہو تو اور نہ چل سکتا ہو تو گھٹنوں کے لئے چل کر آیا کرتے اور نماز کی پہلی صف (فضیلت میں) فرشتوں کی صف کے مانند ہے، اگر تم کو صف اول کا ثواب معلوم ہوجائے تو تم پہلی صف میں شریک ہو نہ کے لئے جلدی کر کے ایک دومبرے پرسبقت کرتے۔ ایک آدی کے ساتھ جماعت کر کے نماز پڑھنے والے کو تھا نماز پڑھنے والے سے زیادہ ثواب ملتا ہے اور وہ ایس طرح دوآ دمیول کے ساتھ جماعت کر کے نماز پڑھنے والے کو ایک آدی کے ساتھ نماز پڑھنے والے سے زیادہ ثواب ملتا ہے ایس طرح جماعت میں جس قدر نمازی زیادہ ہوتے جا میں گے نمازی کو ای قدر زیادہ ثواب ملتا جاتے گا، اس لئے جماعت میں جس قدر نمازی زیادہ ہوتا ای قدر اللہ تعالیٰ کی پسند یگی زیادہ ہوتی جاتی ہے۔ اس کی روایت ابوداوداورنسائی نے کی ہے۔

It is narrated from Ubayy ibn Ka'b (may Allah be pleased with him) that he said: "One day, the Messenger of Allah (peace be upon him) led us in the Fajr prayer. After he finished, he asked, 'Is so-and-so present?' They said, 'No.' He asked, 'Is so-and-so present?' They said, 'No.' He then said: 'These two prayers (Fajr and Asr) are the heaviest prayers for the hypocrites. If you knew the virtue of these two prayers, you would come to them even if you had to crawl on your knees. The first row is like the row of angels. If you knew its virtue, you would race to it. A man’s prayer with another man is more virtuous than his prayer alone, and his prayer with two men is more virtuous than his prayer with one man. The more (people there are), the more beloved it is to Allah.'" [Narrated by Abu Dawud and Al-Nasa’i]

ف: حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جماعت میں نہ آنے والوں کو منافق فرمایا، اس سے جماعت کا وجوب ثابت ہوااور نماز کے لئے مسجد میں آنے کا وجوب بھی اس سے ظاہر ہو رہا ہے کیون کہ حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی غیر حاضری مسجد پر، یہ نہت و عیب فرمائی۔ اگر گھر کی جماعت کافی ہوتی تو مسجد میں نہ آنے پر یو عیب نہ ہوتی۔ (اعلاء السنن)

نماز فجر جماعت سے اداء کرنے کی فضیلت
1633

ابوکبر بن سلیمان بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں: ایک دن کاظم کرے کہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نماز فجر کی جماعت میں میرے والد سلیمان رضی اللہ عنہ کو موجود نہ پایا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ بازار جارہ سے راستے میں سلیمان کا گھر واقع تھا، سلیمان کی والدہ جن کا نام شفاء تھا، ان سے ملاقات ہوتی تو دریافت فرمایا کہ شفاء! تمہارے گھر زندہ سلیمان کہاں ہیں؟ آج صبح کی نماز میں نظر نہیں آئے، شفاء نے عرض کیا: امیر المومنین! سلیمان بہت دیر تک نماز تھوڑی پڑھتے رہے، آخر رات میں ان پر نیند کا غلبہ ہوگیا (اس لئے نماز فجر کی جماعت میں حاضر نہ ہوسکے) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: نماز تھوڑی برتر فضیلت کی نماز ہے اس کے لئے جاگنا ایسے شخص کے لئے بہتر ہیں عبادت کے جس کی فجر کی جماعت نہ جائے تو، اگر کوئی تھوڑی جاگ کر فجر کی جماعت کھودیتا ہے تو میرے نزدیک تھوڑی نماز سے فجر کی جماعت میں شریک ہونا بہتر ہے۔ اس کی روایت امام ماکے نے کی ہے۔

نماز باجماعت کا مسجد میں قائم کرنا واجب ہے

It is narrated from Abu Bakr ibn Sulayman ibn Abi Hathmah that Umar ibn Al-Khattab (may Allah be pleased with him) noticed Sulayman ibn Abi Hathmah’s absence from the Fajr prayer. The next day, Umar went to the market, and Sulayman’s house was between the mosque and the market. He passed by Ash-Shifa, Sulayman’s mother, and asked her, "I did not see Sulayman at Fajr prayer?" She replied, "He was praying at night and was overcome by sleep." Umar said: "To attend the Fajr prayer in congregation is more beloved to me than staying up all night in prayer." [Narrated by Malik]

1634

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں: مجھے وہ وقت یاد ہے کہ (مساجد میں) جماعت کی نماز سے سوا کہلم کھلا منافق یامریض کے اور کوئی غیر حاضر نہ ہوتا تھا اگر کوئی پیارا یا ہوتا کر دوآ دییون کے سہارے سے پاؤں چل کر نماز میں آ کر شریک ہوسکتا ہوتا ہے۔ آتا تھا اور اب مسعود رضی اللہ عنہ نے یہی کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تم کو ہدایت کے تمام طریقے سکھا دیے ہیں، ہدایت کے انبیا طریقے میں سے یہ بات کچھ کہ کر جس مسجد میں اذان ہوتی ہو، اس میں نماز پڑھی جائے (گھر میں نہ پڑھی جائے)۔

It is narrated from Abdullah ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) that he said: "We used to think that only a known hypocrite or a sick person would miss the prayer. Even the sick person would walk supported by two men to attend the prayer." He also said: "The Messenger of Allah (peace be upon him) taught us the ways of guidance, and among the ways of guidance is to pray in the mosque where the call to prayer is made." In another narration, he said: "Whoever would be pleased to meet Allah as a Muslim, let him take care of these five prayers when they are called, for Allah has prescribed for your Prophet the ways of guidance, and these prayers are among the ways of guidance. If you were to pray in your homes as this person who stays behind prays in his home, you would be abandoning the Sunnah of your Prophet. If you abandon the Sunnah of your Prophet, you will go astray. There is no man who purifies himself and performs his purification well, then heads to one of these mosques, except that Allah writes for him a good deed for every step he takes, raises him a degree, and removes a sin from him. We used to see that only a known hypocrite would miss the prayer, and a man would be brought supported by two men until he was placed in the row." [Narrated by Muslim]

1635

ایک اور روایت میں یول ہے کہ اب مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جس کو پی

بات پسند ہو کہ کل (قیامت میں) اللہ تعالیٰ سے پا مسلمان بن کر ملاقات کرے تو اس کو چاہے کہ وہ ان پا چول نماز ول کوال مساجد میں (جماعت سے) پاپنڈی کے ساتھ اداء کرے، جہال ان کے لے اذان دی جائے ہو، کیون کر اللہ تعالیٰ نے تمہارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے لے ہدایت کے تمام طریقہ مقرر فرمادیے ہیں اور مسجد ول میں ان نماز ول کو (جماعت سے) اداء کرنا ہی ہدایت کے طریقوں میں سے ایک طریقت ہے۔ اگر تم اپنے گھروں میں نماز پڑھیا کرو گے (خواہ جماعت سے کیوں نہ ہو) جسیا کہ پیمانش اپنے گھر میں نماز پڑھا کرتا ہے تو تم سنت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خلاف ورزی کرو گے اور سنن نبوی کو ترک کرو گے تو گمراہ ہوجاؤ گے، پس جو خض (سن ومستحبت کے ساتھ) اچھی طرح وضو کر کے مسجد کو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ ہر قدم پراس کے واسطہ ایک نیک کھٹہ ہیں، اپنے قرب کے درجول میں ایک درجہ بلند کرتے ہیں، اور اس کا ایک ایک گناہ معاف کردیتا ہیں۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے وہ وقت یاد ہے جب کہ مساجد میں جماعت کی نماز سے سوا کہلم کلا منافق کے اور کوئی نہ رہ جاتا تھا، بعض مریضوں کو دو آدمی سہارا دے کر لا تے تھے اور لاکر جماعت کے ساتھ کطر اکثر دیتے تھے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔ ف: اس حدیث سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ نماز ول کو جماعت سے اداء کرنا اور جماعت کو مسبہ میں قائم کرنا واجب ہے (مرقات، اعلاء السنن)۔

It is narrated from Abdullah ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) that he said: "We used to think that only a known hypocrite or a sick person would miss the prayer. Even the sick person would walk supported by two men to attend the prayer." He also said: "The Messenger of Allah (peace be upon him) taught us the ways of guidance, and among the ways of guidance is to pray in the mosque where the call to prayer is made." In another narration, he said: "Whoever would be pleased to meet Allah as a Muslim, let him take care of these five prayers when they are called, for Allah has prescribed for your Prophet the ways of guidance, and these prayers are among the ways of guidance. If you were to pray in your homes as this person who stays behind prays in his home, you would be abandoning the Sunnah of your Prophet. If you abandon the Sunnah of your Prophet, you will go astray. There is no man who purifies himself and performs his purification well, then heads to one of these mosques, except that Allah writes for him a good deed for every step he takes, raises him a degree, and removes a sin from him. We used to see that only a known hypocrite would miss the prayer, and a man would be brought supported by two men until he was placed in the row." [Narrated by Muslim]

نماز باجماعت کی تاکید
1636

ام در داء رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ ایک روز ابو در داء رضی اللہ عنہ میرے پاس تشریف لائے اس وقت آپ پر کچھ غصہ میں تھے، میں نے عرض کیا: غصہ کی کیا وجہ ہے؟ فرمایا: خدا کی قسم میں دکیہر پاہول کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس تشریعت پر تھا س میں کسی قسم کا تغیر نہیں (پیتر جمع عینی شرح بخاری سے ماخوذ ہے۔ 12) ہواہے گر نماز کو جماعت سے

پڑھنے میں لوگ سستی کر رہے ہیں ( حالاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کا بڑا اہتمام فرمایا

کرتے تھے، اس لے نہیں غصہ آیہ )۔ اس حدیث کی روایت بخاری نے کی ہے۔

نماز باجماعت کا وجوب اور تارک جماعت کی عقیدہ

It is narrated from Umm Ad-Darda (may Allah be pleased with her) that she said: "Abu Ad-Darda (may Allah be pleased with him) entered upon me angry. I asked, 'What has made you angry?' He said: 'By Allah, I do not recognize anything from the affairs of the Ummah of Muhammad except that they pray together.'" [Narrated by Al-Bukhari]

1637

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ( ایک بار ) رسول اللہ

صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: فتمہے اس خدا کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے

میرا ارادہ تھا کہ کہاں جمع کرنے کا حکم دول، جب کہ یاں جمع ہوجا گیا تو نماز کی تیاری کا حکم دول،

پھر ازان کے ذریعے نماز کا اعلان کرادول ( اذان کے بعد ) کسی کو امامت کرنے کا حکم دول اور

میں خود اپنے اس حکم کا خلاف کرکے، خود نماز میں شریک نہ ہوکر، جماعت میں نہ آنے والوں کی

طرف چلا جاون اور ان کے مکانات کو آگ لگادول، فتمہے اس خدا کی جس کے قبضہ قدرت میں

میری جان ہے، جماعت میں شریک نہ ہوئے والوں کو آختت کے ثواب کا لیقین نہیں، و نیایی و نیالن

کے پیش نظر ہے، اگر ایک حقیر بدیا معمولی تیری مسجد میں دیتے جانے کا ان کو علم ہوتا تو یقینا کے

بندہ نماز عشاء کی جماعت میں ضرور آتے (اور جماعت میں تو شریک ہوکر ریاء کرے مخلوق کا

حسن ظن حاصل کر سکتا ہے، اس لے دون کی جماعت میں کچھ آ کچھ جاتے ہیں لیکن عشاء کی نماز کو

جماعت سے ادا کرنے کا آخرت میں جو ثواب ملنے والا ہے ان کواس کا لیقین نہیں، اس لے وہ عشاء

کی جماعت میں نہیں آتے ہیں )۔

( اس کی روایت بخاری نے کی ہے، اور مسلم نے کچھ اس طرح روایت کی ہے )

ف : اس حدیث شریف میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ نماز باجماعت میں

شریک نہ ہوئے والوں کے مکانات کو آگ لگادول۔ اب نہیم نے کہاہے کہ اس فتم کی پروعید ظاہر ہے

کہ صغیرہ گناہ پر نہیں ہوتی، اس لے ثابت ہوتا ہے کہ مسجد کی جماعت کا ترک کرنا بڑیہ گناہ ہے، اور

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے شروع سے اپنی وفات تک جماعت پر مواطبت فرمائی اور جماعت کے ترک

کی اجازت ندی، اگر چھکر از ان سنن والا ناپینا ہو، اس سے کچھ ثابت ہوتا ہے کہ جماعت کا مسجد میں اداء کرنا واجب ہے۔ (مرقّات، ابن حمام اور عینی)۔

It is narrated from Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "By the One in Whose Hand is my soul, I was about to order that firewood be gathered, then order the call to prayer to be made, then appoint a man to lead the people in prayer, and then go to the men who do not attend the prayer and burn their houses down. By the One in Whose Hand is my soul, if any one of them knew that he would find a fat bone or two good hooves, he would attend the Isha prayer." [Narrated by Al-Bukhari and a similar narration is found in Muslim]

In Al-Mirqah, it is said: "The Hadith indicates the obligation of congregational prayer. The apparent texts of Ash-Shafi'i indicate that it is a communal obligation (Fard Kifayah). I say: The apparent meaning of the Hadith contradicts this, for if it were a communal obligation, those who neglect it would not deserve punishment." Sheikh Ibn Al-Humam said: "There is no doubt that it was established during the time of the Prophet (peace be upon him) in his mosque, and yet he said what he said about those who stayed behind and intended to burn their houses. Such a statement was not made about those who missed funerals, even though they were performed by others." Al-'Ayni said: "The obligation of congregational prayer is also indicated by the prayer of fear, which involves actions contrary to prayer, and such actions are not performed for a communal obligation or a Sunnah."

نماز عشاء جماعت سے نہ پڑھنے والے کی وعید
1638

صلى الله عليه وآله وسلم نے ارشاد فرمایا اگر گھروں میں عورتیں اور پڑے نہ ہوتے تو میں نماز عشاء کی جماعت قائم کرنے کا ارادہ کرتا اور اپنے نوجوان صحابہ کو حکم دیتا کہ عشاء کی جماعت میں حاضر نہ ہونے دا لے (ب عقلون) کے گھروں کو آگ لگا کر جلا دیں۔ اس کی روايت امام احمد نے کی ہے۔

ف(1): اس حدیث شریف میں ارشاد ہے۔ اگر گھروں میں عورتیں اور پڑے نہ ہوتے تو عشاء کی جماعت میں حاضر نہ ہونے والوں کے گھروں کو آگ لگا کر جلا دیں کا حکم دیتا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ نماز کا جماعت سے اداء کرنا عورتوں اور پڑولوں پر واجب نہیں ہے، اگر عورتوں اور پڑولوں کے گھروں میں ہوتے ہوئے نماز میں نہ آنے والوں کی وجہ سے گھر جلادی کی جاتی تو ان کے ساتھ ہی بے قصور بھی جس پر جماعت واجب نہیں جل جاتے، اس وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھروں کے جلا نے کا ارادہ ترک فرم دیا۔

ف(2): اس حدیث شریف میں نماز باجماعت میں شرکت کے لے مسجد میں حاضر نہ ہونے والوں کے بارے میں ارشاد ہے۔ امرت فتیانی یحرقون ما فی البيوت بالنار۔ (میں اپنے نوجوان صحابہ کو حکم دیتا کہ عشاء کی جماعت میں حاضر نہ ہونے والے ب عقلون کے گھروں کو آگ لگا کر جلا دیں)۔ یہاں ان لوگوں کے لے حرف میں کی جائے میں کا استعمال فرمایا ہے اور ظاہر ہے کہ حرف میں کا استعمال غیر زوی العقول کے لے ہوتا ہے اور میں کا استعمال زوی العقول کے لے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا زوی العقول کے لے حرف میں کا استعمال فرماناسے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مسجد کی نماز باجماعت میں شریک نہ ہونے والے واقعہ بے عقل ہیں۔ (مرقّات)

It is narrated from Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) that the Prophet (peace be upon him) said: "If it were not for the women and children in the houses, I would have established the Isha prayer and ordered my young men to burn the houses with fire." [Narrated by Ahmad]

نماز باجماعت کی تاکید
1639

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک ناپینا صحابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر عرض کے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے بات کر پیٹ کر مسجد کی طرف لا نے والا کونی نہیں ملتا، اس لے انہوں نے عرض کیا کر یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے اپنے گھر میں نماز پڑھ لینے کی اجازت دی کہ (یعنی) حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اس کی اجازت دی یہ جب وہ واپس ہو نے گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں بلا کر ارشاد فرمایا: کیا تمہیں ازال کی آواز (اپنے گھر میں) سنائی دی ہے؟ انہوں نے عرض کیا: جی بال! (سنائی دی ہے) تو حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پھر تو تم کو مسجد کی طرف جسی طرح جسی آنا ہوگا اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔

ف: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ نماز کا مسبہ میں جماعت کے ساتھ ادا کرنا واجب ہے، اس لے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ناپینا صحابی کے اجازت طلب کرنے کے باوجود مجھی ترک جماعت کی اجازت نہیں دی، اب رہی بات کہ ناپیناگی جماعت میں حاضر ہو نے کے لے عذر ہے تو اس بارے میں تحقیق یہ کہ عذر دو قسم کے ہیں: ایک وہ عذر کہ جس کی وجہ سے جماعت میں آنا تامکن ہے لیکن آنے میں مشقت اور مشقت تکلیف اطمینانی پرتی ہے اس لے اس صورت میں جماعت میں حاضر ہو نے کا وجوب تو باقی رہتا ہے اگر تکلیف اور مشقت کی وجہ سے جماعت میں حاضر نہوں تو رخصت ہے اور اجازت ہے۔ چنانچہ عقبان بن ماکر رضی اللہ عنہ کو حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جماعت میں حاضر ہو نے کی جوازت دی یہ وہ اس لے کہ ناپیناگی عذر ہے، اگر کونی ناپینا ہو نے کی وجہ سے حاضر جماعت نہ ہو تو اس کے لے رخصت ہے لیکن وجوب باقی ہے اور مشقت اور تکلیف کے باوجود جماعت میں حاضر ہو تو اس کے لے عزیمت ہے، لیکن برہی ہمت کی بات ہے اور ثواب کثرت کے حصول کا باعث ہے اور ناپینا کے جماعت میں حاضر ہو نے کی عزیمت پر صدر کی یحدیث دلالت کرتی ہے جو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرودی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ناپینا صحابی کو اجازت طلب

کر نے کے باوجود جسی تزک جماعت کی اجازت نہیں دی - اب رباجماعت میں حاضرنہونے کے عذر کی دوسری قسم وہ عذر ہے جس کی وجہ سے جماعت میں حاضر ہونا ممکن، نہ نہیں ہے جیسے فانی وغیرہ۔ اس عذر میں عذر والے سے جماعت میں شرکی ہونے کا وجوب بھی ساقط ہو جاتا ہے اور جماعت میں ذہآ نے اس پر کوئی غناہ نہیں ہوتا۔ (مرقّات، رواجتا راوراعلاۓ اسنن)۔

It is narrated from Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) that a blind man came to the Prophet (peace be upon him) and said: "O Messenger of Allah, I have no one to lead me to the mosque." He asked the Messenger of Allah (peace be upon him) for permission to pray in his house, and he granted him permission. When he turned to leave, the Prophet called him back and asked: "Do you hear the call to prayer?" He said, "Yes." The Prophet said: "Then respond to it." [Narrated by Muslim]

From this hadith, it is established that performing the prayer with the congregation in the masjid is obligatory, as the Prophet ﷺ did not grant permission to a companion to leave the congregation despite his request. Now, if there is a valid excuse for not being present in the congregation, the investigation is as follows: excuses can be of two types: one is where it is possible to join the congregation but doing so involves difficulty and hardship. In such a case, the obligation to attend the congregation remains; however, if one is unable to attend due to the difficulty and hardship, they are excused and permitted to do so. For example, the Prophet ﷺ granted permission to 'Uqba bin Ma'ik (RA) to join the congregation because he had a valid excuse. If someone is unable to attend the congregation due to a valid excuse, they are excused, but the obligation remains. Attending the congregation despite the difficulty and hardship is praiseworthy and leads to greater reward. The hadith narrated by Abu Hurairah (RA) indicates that the Prophet ﷺ did not grant permission to a companion to leave the congregation despite his request, which emphasizes the importance of attending the congregation even when one has a valid excuse. The second type of excuse is one where it is impossible to attend the congregation, such as being far away or other similar reasons. In such cases, the obligation to attend the congregation is waived, and there is no sin in not attending. (Maraqi, Rawaqit, and Rafa' al-Asnan).

مسجد میں نماز باجماعت کے وجوب پر ایک اور دلیل
1640

عن عبد الله بن أم مكتوم رضي الله عنه أنه روى أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مد يده إلى موزى جانور أورد رنه بهت زین اور میں ہول ناپنا تو کیا مجھے (جمعت میں نآ کر) گهر پر نماز پڑھنے کی اجازت مل سکتی ہے؟ حضرت صلی الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا تم "حی علی الصلاة" کی آواز سنے ہوتے عبد الله نے عرض کیا: جی بلال سنتا ہوتا! تو حضرت صلی الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا: سنوعبد الله! جی علی الصلاۃ اور حی علی الفلاح سے تم کو جماعت میں حاضر ہونے کی نداؤی جارتی ہے اور حاضر ہونے پر خوشخبری سنائی جارتی ہے، اس لیے تم کواس ارشاد کی تقبل کرنا ضروری ہے (تمہارے لیے عزمیت کی ہے کہ تم مسجد آکر جماعت میں شرکی ہوا کرو) حضرت صلی الله عليه وسلم نے یفرما کران کو اجازت نہیں دی(اس حدیث سے جسی نماز باجماعت کے لیے مسجد میں آنے کا وجوب ثابت ہوتا ہے)۔

عن عبد الله بن أم مكتوم رضي الله عنه أنه روى أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مد يده إلى موزى جانور أورد رنه بهت زین اور میں ہول ناپنا تو کیا مجھے (جمعت میں نآ کر) گهر پر نماز پڑھنے کی اجازت مل سکتی ہے؟ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا تم "حی علی الصلاة" کی آواز سنے ہوتے عبد اللہ نے عرض کیا: جی بلال سنتا ہوتا! تو حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سنوعبد اللہ! جی علی الصلاۃ اور حی علی الفلاح سے تم کو جماعت میں حاضر ہونے کی نداؤی جارتی ہے اور حاضر ہونے پر خوشخبری سنائی جارتی ہے، اس لیے تم کواس ارشاد کی تقبل کرنا ضروری ہے (تمہارے لیے عزمیت کی ہے کہ تم مسجد آکر جماعت میں شرکی ہوا کرو) حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یفرما کران کو اجازت نہیں دی(اس حدیث سے جسی نماز باجماعت کے لیے مسجد میں آنے کا وجوب ثابت ہوتا ہے)۔

اس حدیث کی روایت ابوداووداورنسائي نے کی ہے۔

This hadith has been narrated by Abu Dawud and Nasa'i.

نماز باجماعت کے وجوب پر ایک اور دلیل
1641

عن ابن عمر رضي الله عنه أنه روى أن رسول صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کسی نبی کی جنازہ میں (کثرت عدد میں لوگ ہول تو ان پر جماعت واجب ہے) اگر تین مردوں ہول (تو ان کو بر نماز جماعت سے پڑھنا واجب ہے) اگر جماعت سے نماز نہیں پڑھیں گے تو شیطان ان پر مسلط ہو جائے گا۔ (حدیث ثریف میں جو تین شخصوں کا ذکر

اس کی وجہ یہ ہے کہ دو شخصوں سے بھی جماعت قائم ہو جائے تو جماعت کا کمال تین

سے ثروت ہوتا ہے کر ان میں سے ایک امام بن اور دومقتدی ہو کراس کے پچھے کڑے رہیں، اس

لئے حدیث شریف میں تین مردوں کا ذکر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ

جماعت سے نماز پڑھنے کو لازم کرلو، کیونکہ محض یا سی بگڑی کو پچار کہتا ہے جو گلدے سے خود ہے جائے

ہے۔(اس کی روایت امام احمد، ابوداووداورنسائی نے کی ہے۔)

ف: اس حدیث سے کچھ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کا وجہ ثابت ہوتا ہے۔

نماز باجماعت کیتا کیا اور جماعت میں حاضرنہ ہونے کے عذر کی تفصیل

It is narrated on the authority of two persons that when a congregation can be established even with two people, the perfection of the congregation is achieved by one acting as the imam and the other as the follower, standing behind him. This is why the noble hadith mentions three men. The Messenger of Allah ﷺ said:

Establish the prayer in congregation, for the devil whispers to the solitary one who remains alone. (This has been narrated by Imam Ahmad, Abu Dawud, and Nasa'i.)

1642

_ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ

علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص موذن کی اذان سن کر وہ اس کونماز کے لئے بلارپائے اور کوئی

عذر اس کو موڈزن کے بلا نے کی تقبل سے روکنے والانہیں ہے، باوجود اس کے وہ جماعت کے لئے نہ

آئے اور تھہا نماز پڑھ لے تو فرض تو اس کے ذمہ سے ساقط ہوجائے گا مگراس کی نماز قبول نہ ہوگی اور

اس کونماز کا ثواب نہیں ملے گا صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عذر سے

کیا مراد ہے؟ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جان، عزت اور مال کے جانے کا خوف ہو، یا

اپنی پیاری جس کی وجہ سے جماعت میں آنا ممکن نہ ہو۔ (یا جماعت میں آتے وقت یعنی مگراس کے لئے

برہی تکلیف اور مشقت اٹھانی پڑتی ہو)۔ (اس کی روایت ابوداووداوردارقطنی نے کی ہے۔)

سخت سردی، بارش اور ہوا میں گھروں میں نماز پڑھنے کی اجازت کے باوجود مسئلہ میں

جماعت سے نماز پڑھنا برتر درجہ اور بہتر ثواب کی بات ہے

Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Whoever hears the call to prayer and is not prevented from following it by an excuse..." They asked: "What is the excuse?" He said: "Fear or illness, then the prayer he offers will not be accepted." [Narrated by Abu Dawud and Al-Daraqutni]

In Mirqat al-Mafatih, it is explained: "The meaning of the prayer not being accepted is that there is no reward for it, even though it fulfills the obligation, like praying in a usurped house; it fulfills the obligation but there is no reward."

1643

_ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک بار نماز کے لئے اذان

دی اور چونکہ اس رات سردی بھی تھی اور ہوا بھی، اس لئے اذان کے بعد آپ پر فرمایا: لوگو! اپنے

اپنے مقام پر نماز پڑھ لو (گوتمہارتے ذمہ داری کے لئے جماعت میں آنے کا وجوب ساقط ہو گا۔ گر مشقت اور تکلف کی وجہ سے تم کو اجازت دی جائے گی۔) چہرا بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا (پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے سردی یا بارش کے وقت میں موٹے کواڑان کے بجے یکین کا حکم دیتا تھا کہ لو! اپنے مقام پر نماز پڑھ لو (اس کی روایت بخاری اور مسلم میں متفرق طور پر ہے۔)

ف: تعقیب میں نذور ہے کہ مردی اور تواؤرائی قسم کی چیزوں کے مثل آنے پر جماعت میں نہ آنے کی رخصت و اجازت ہے اور پیر خصوصاً شارع علیہ الصلاۃ والسلام کی جانب سے انہیں کوآرام اور سہولت پہوچا نے کے طور پر ہے۔ یعنی نماز کے لئے جماعت میں آنے کا وجوب باقی ہے اس لئے کوئی شخص تکلیف اور مشقت کے باوجود جماعت میں آنے تو یا سکے لئے عزیمت ہے اور برتر ثواب کا باعث ہے اس لئے کہ بہت سی حالتوں میں جماعت میں آنے کی فضیلت اور جماعت میں نہ آنے کی وعمید یا واردہوئی ہے۔

کہنا حاضر ہوااور جماعت میں تیار ہوتا جلدی کہنا کہا کر جماعت میں شرکی ہوجائے اور اگر کہنا نہ کہا کر جماعت میں شریک ہوگیا تو پیہلے درجہ اور بعد میں ثواب کی بات ہے۔

Ibn Umar (may Allah be pleased with him) narrated that he called the Adhan for prayer on a cold and windy night, then said: "Pray in your homes." He then said: "The Messenger of Allah (peace be upon him) used to instruct the Mu'adhin, on cold and rainy nights, to say: 'Pray in your homes.'" [Agreed upon]

In At-Ta'liq al-Mumajjad: "Skipping congregational prayer due to cold, wind, or similar conditions is a concession for comfort granted by the Lawgiver, but choosing to adhere to the congregation is better, as many Hadiths emphasize the severity of abandoning congregational prayer and the great encouragement to attend it."

1644

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر شام کا کہنا (یا کسی اور وقت کا کہنا ہو) سامنے لا کر کہو یا گیا ہو، اور اداہر نماز کی اقامت ہورہی ہوتی (چونکہ نماز کے لئے جماعت میں آنے کا وجوب باقی ہے) گر شدید محکوم کی مجبور قلب نہیں رہتا اس لئے) پہلے کہنا کہلو، اور کہا نے سے فارغ ہوئے تک نماز کے لئے جلدی نہ کرو (تاکہ حضور قلب کے ساتھ نماز اداء ہو، بشرط کہ ایا طویل کہنا نہ ہو جس سے جماعت میں فوت ہوجائے) اس پرحضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کا عمل درآمد تھا کہ آپ کے سامنے کہنا آجا تا تھا اور نماز کی تہبیر ہوتی رہتی تھی اور آپ امام کی قرآن تلاوت توجہ تک کہانے سے فارغ

شہوے نماز کونآ ےاور کہا نے فارغ ہو کر جماعت میں شریک ہوجائے، اگر کونی کہا نانہ کہا کر

جماعت میں شریک ہوجائے تو یاس کے لے عزیمت سے اور بر طے ثواب کی بات سے، چنانچہ

بخاری میں جابر رضی اللہ عنہ سے روایت سے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا "لا

تو خروج الصلاة لطعام و لا لغيره" ( کہا نے کی وجہ سے یا کسی اور ضرورت سے نماز کی جماعت

کو موخر نہ کرو ) اسی عزیمت عمل کرنے ہوئے ایک روز ( جسیا کہ بخاری میں عمر بن امیر رضی اللہ

عنہ سے مرودی ہے -12 ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دست کا گوشت تناول فرمادے تھا تے میں

آپ کونماز کے لے بلا آگیا تو آپ نے چھڑی پچینک دی اور نماز کے لے تشریف لے گئے )-

( اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے -)

پیشاب یا پاخانہ کے سخت تقاض کی حالت میں نماز پڑھنا کر وہ کریں ہے

پہلی حدیث

It is narrated from Ibn Umar (RA) that he said:

The Messenger of Allah ﷺ said: 'If the call to prayer for the evening (or any other time) is made in front of you or has been made, and the iqama for the prayer is being called (since the obligation to come for the congregation remains), if it does not severely compel your heart, then first make the call to prayer, and do not hasten to pray until you have finished the call to prayer (so that the prayer may be performed with presence of heart, provided that the call to prayer is not so long that it causes you to miss the congregation). This was the practice of Ibn Umar (RA) when the call to prayer would come to him while the preparation for prayer was ongoing, and he would finish the call to prayer before the recitation of the imam, then he would pray, and after finishing the call to prayer, he would join the congregation. If someone were to complete the call to prayer and then join the congregation, it would be out of determination and with the expectation of reward, as narrated by Jabir (RA) in Bukhari, the Messenger of Allah ﷺ said: “Do not leave the prayer for food or for anything else” (do not delay the congregation for the prayer due to the call to prayer or any other necessity). On one occasion, as narrated by Umar bin Amir (RA) in Bukhari, the Messenger of Allah ﷺ was eating meat from his hand, and I came to him for the prayer, so he gave me a piece of bread and went to perform the prayer. This hadith has been narrated by Bukhari and Muslim with agreement. In the case of a strong urge to urinate or defecate, it is permissible to pray.'

1645

_ ام المومنین عائشہ صدیقة رضی اللہ عنہا سے روایت سے وہ فرماتی ہیں کہ میں

نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پیار شاد فرماتے سناتے کہ اگر کہا نا سامنے رکن دیا گیا ہوتا ( چونکہ

نماز کے لے جماعت میں آنے کا جواب باقی سے مگر شدید محک کی وجہ سے حضور قلب باقی نہیں رہتا

اس لے ) بغیر کہا نے نماز میں شریک ہوجائے تو نماز ناقص ہوگی کامل نہیں ہوگی ( اس لے پہلے کہا نا

کہا لے پھر نماز میں شریک ہوجائے اگر کونی ایسا شخص ہو کہ محک کی وجہ سے اس کے حضور قلب میں

کوئی فرق نہیں آتا پہ تو اس کے لے عزیمت پیہ کر وہ پہلے نماز پڑھ لے اور بعد میں کہا نا کہا لے

تو ای شخص کے لے نماز ناقص نہیں ہوگی بلکہ کامل ہی رہے گی ) اور اگر کسی کو پیشاب یا پاخانہ ( یا

رتے ) کا ایسا سخت تقاضہ ہو جو نا قابل برداشت سے تو وہ اس تقاض کے باوجود نماز پڑھ لے تو ( حضور

قلب کے باقی نہ رہنے کی وجہ سے ) اس کی نماز ناقص ہوگی کامل نہیں ہوگی ( اس لے نماز کی

حالت میں پیش اب پاپ خان کا سخت تقاضہ ہو جائے تو ایس شخص کو چاہئے کہ وہ نماز توڑ کر -جسیا کہ رواختار میں ذکور ہے-12- بعد فرغت نماز پڑھے اور اگر نماز شروع نہیں کیا ہے اور اس کو سخت تقاضہ ہور باہے تو وہ نماز شروع نہ کر بلکہ پیش اب پاپ خان سے فارغ ہو کر نماز پڑھے، اس لیے کہ پیش اب پاپ خان کے تقاضہ کے باوجود نماز پڑھنا کر وہتر ہی ہے)-

(اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے-)

دوسری حدیث

It is narrated from Umm al-Mu'minin 'A'ishah Siddiqah (RA) that she said:

I heard the Messenger of Allah ﷺ say that if someone is about to pray and there is a strong urge to urinate or defecate (or menstruate), and due to this urge, the presence of heart cannot be maintained during the prayer, then if they join the prayer without relieving themselves, their prayer will be deficient and not complete. Therefore, one should first relieve themselves and then join the prayer. If someone is such that due to the urge, there is no difference in their presence of heart, then they should resolve to pray first and then relieve themselves; in this case, their prayer will not be deficient but will remain complete. And if someone has a strong urge to urinate or defecate (or menstruate) that is unbearable, and they pray despite this urge, then due to the inability to maintain the presence of heart, their prayer will be deficient and not complete. Therefore, if a strong urge to urinate or defecate arises during the prayer, such a person should break their prayer and, as mentioned in the narration, pray again after relieving themselves. And if the prayer has not yet begun and they have a strong urge, they should not begin the prayer but should relieve themselves first and then pray, because praying while having a strong urge to urinate or defecate is better.

1646

عبد اللہ بن ارم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیارشا دفرماتے سناتے کراگر نماز کی اقامت ہور، میں واورتم میں سے کسی کو پیش اب پاپ خان کا (ایا) سخت تقاضہ ہوربا ہو (جونا قابل برداشت ہے، گو جماعت فوت ہور، میں ہو پچربھی) پہ پیش اب پاپ خان سے فارغ ہو جائے (اور پچربھی نماز اداء کرے)-

(اس کی روایت ترنذی نے کی ہے اور امام ماک، ابوداووداورنسائی نے بھی اس طرح روایت کی ہے-)

تمین با تول کی ممانعت

It is narrated from Abdullah bin Umar (RA) that he said:

I heard the Messenger of Allah ﷺ reciting the chapter of Al-Baqarah during the Fajr prayer. I felt a strong urge to relieve myself, but I did not want to miss the congregation. So, I waited until I finished relieving myself and then performed the prayer.

1647

ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ تین چیزی ایسی ہیں کہ وہ کسی کونہ کرنی چاہئے۔ ایس تویہ کہ جب کوئی شخص کسی جماعت کا امام بنے (قعدہ اخرہ میں التیات اور درود پڑھنے کے بعد جب دعا کا موقع آئے تو) صرف اپنے لیے دعا کرے اور مقتدر پول کے لیے دعا نہ کرے، اگر اس نے ایسا کیا تو گویا مقتدر پول کے خیانت کی (اس لیے کہ جب وہ ان کا امام بنائے اور ان کی نمازندگی کردیا تو دعا میں بھی ان کوشکی کرے اور اس طرح خدا کے حضور میں نمازندگی کا حق بجا لائے، چنانچہ رواختار

مسلمین کو بھی شریک کرے )

دوسرے یہ کسی کے گھر کے اندر بغیر اجازت نہ جائے، اگر کسی نے اپنا کیا تو گویا اس نے گھر

والون سے خیانت کی ( کیونکہ اجازت صرف اس لئے رکھی گئی ہے کہ گھر والوں کی ناقابل دیر

حالت یا پردگی میں ان پر نظر رہے ) اگر اپنا کیا تو ( گھروالوں کے منشاء کے خلاف کیا ) اور

اس طرح جہاں کر ان سے خیانت کی۔ تیرے ( پاخانہ یا ) پیشہ اب کی حاجت کے وقت نماز نہ

پڑے حجب تک کران سے فارغ ہو کر ان کے دبا قتے بلکہ نہوجائے۔

( اس کی روایت البودا ود نے کی ہے او رتن ذی نے مجھ اس طرح روایت کی ہے )

کہا نے کے عذر کی وجہ تے جماعت کی نماز میں تا خبر نہ کرناعزیمت ہے او ر برتر

ثواب کی با تے لیکن عذر تے جماعت میں تا خبر کرے تو پیرخصت ہے او ر اجازت ہے

Thawban (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Three things are not permissible for anyone to do: A man should not lead people in prayer and then supplicate for himself alone, excluding them. If he does so, he has betrayed them. He should not look into the depths of a house before seeking permission, for if he does so, he has betrayed them. And he should not pray while holding back the urge to relieve himself until he relieves himself." [Narrated by Abu Dawud, and Al-Tirmidhi narrated something similar]

1648

جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

و سلم ارشاد فرماتے ہیں کہ حا نے کی وجہ تے یا کسی او رضرورت سے نماز کی جماعت کو موخر کر و !

( یعنی مت ہے او ر برتر ثواب کی با تے ہے او ر بعض حد یثون میں پہلے کہانا لحا نے او ر اس

کے بعد جماعت میں شریک ہو نے کا جوز کر ہے وہ رخصت او ر اجازت پر محول ہے، پس دونوں قسم

کی حد یثون میں تعارض نہ ہے ) ( اس حدیث کی روایت امام بغوی نے شرح السنن میں کی ہے )

کسی فرض نماز کی اقامت ہوری ہوتے سواے اس فرض کے جس کی اقامت ہوری ہے

کوئی او ر نماز نہ پڑھی جائے؟ سنن فجر جلد پڑھ کر فرض میں مل سکتے ہیں

It is narrated from Jaber (RA) that he said: The Messenger of Allah ﷺ

instructed that if one delays the congregational prayer due to some need or necessity, it is permissible to delay it. (This means that it is permissible and has a better reward, and some hadiths mention that it is preferable to pray the sunnah prayers before and after the obligatory prayer and then join the congregation, which is based on permission and leniency. Therefore, there is no contradiction between these two types of hadiths.) (Imam Baghawi narrated this hadith in Sharh al-Sunnah.) If the call to prayer for an obligatory prayer is made, no other prayer should be performed except the one for which the call to prayer was made. One can perform the Sunnah of Fajr early and then join the obligatory prayer.

1649

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں

کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب نماز کی اقامت ہو جائے تو سواے اس فرض

کے جس کے لئے اقامت ہی گئی ہو کوئی او ر نماز نہ پڑھی جائے، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ

وسلم نے یہی فرمایاہے کہ فجر کی سنت اس حکم سے مستثنیٰ ہے (اگر فجر کے فرض کی تکبیر کی جائے اور نماز بھی ہورہی ہو تو پھر بھی فجر کی سنت پڑھ دو رہت کر پڑھ لے اور جماعت میں شریک ہو جائے۔

(اس کی روایت تہقیق نہ کی ہے۔)

فجر کی جماعت ہورہی ہواورا لیے وقت کوئی شخص آ ے تو اس کو سنت فجر کس طرح ادا کرنا چاہے؟

پہلی حدیث

Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "When the prayer is called, there is no prayer except the obligatory one, except for the two Rak'ahs of Fajr." [Narrated by Al-Bayhaqi, and in its chain are Hajjaj and 'Abbad]

Al-Allamah Al-Ayni said: "Ya'qub ibn Shaybah said: I asked Ibn Ma'in about Hajjaj ibn Nusayr Al-Fasati Al-Basri, and he said: 'He is truthful.' Ibn Hibban mentioned him among the trustworthy. 'Abbad ibn Kathir was among the righteous."

1650

_ عبد اللہ بن ابی موسیٰ رضی اللہ عنہما پنے والد ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دن سعید بن العاص رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوموسیٰ، حضرت حذیفہ اور حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم کو ایسے وقت بلا لیا جبکہ ان حضرات نے ابھی فجر کی نماز ادا نہیں کی تھی، پھر یہ حضرات سعید بن العاص کے پاس سے ملاقات کرنے ایسے وقت نکل کر نماز فجر کی اقامت ہورہی تھی تو عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مسجد کے ایک ستون کی طرف برے ہی (یعنے جمع طبرانی کی روایت میں جولفظ فتقدم، نکورہے اس کے لحاظ سے کیا گیاہے) اور اس کو آئے بنا کر فجر کی دو سنتین اداء کی، پھر جماعت میں شریک ہو گیا۔ (اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔)

ف: امام طحاوی رحمۃ اللہ نے فرمایاہے کہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جس شان کے صحابی ہیں وہ تو سب کو معلوم ہے تو ایسے جلیل القدر صحابی کا نماز فجر کے فرض کی اقامت ہونے اور امام کے قرأت شروع کرنے کے باوجود فجر کی سنتوں کو جماعت سے دورہ بت کر ادا کرنا اور پھر جماعت میں شریک ہونا، اس سے معلوم ہوا کہ سابق کی حدیث جوابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مردویہے اس میں فجر کی سنتوں کو جو مستثنیٰ کیا گیاہے انہوں نے ایسے عمل کیاہے اس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ جس کو مستثنیٰ کیا گیا ہے لیکن "اَلا رَگْعَتی الفُجُر" حدیث مرویہی کا ظاہر اس کے علاوہ حضرت حذیفہ اور حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہما ندونوں حضرات نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے اس عمل کو یکساور

اس پرانکارنیس فرمایا اس سے پہلی معلوم ہوتا ہے کہ پیدونول حضرات کی حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے اس عمل سے موافقت رکھتے تھے ورنہ خاموش نہیں رہتے۔

Abdullah ibn Abi Musa reported from his father that when Sa'id ibn Al-'As invited them, Abu Musa, Hudhayfah, and Abdullah ibn Mas'ud, before the Fajr prayer, they left his place after the call to prayer had been given. Abdullah sat by a pillar in the mosque, prayed two Rak'ahs, and then joined the congregational prayer. [Narrated by At-Tahawi]

At-Tahawi said: "Abdullah did this, and Hudhayfah and Abu Musa did not object to it, which indicates their agreement with his action."

دوسرا حدیث
1651

ابوعبد اللہ عمنے روایت کے وہ کہتے ہیں کہ نماز فجر کے فرض کے لئے جماعت صف بستے ہیں تو پہلی صفوں کے اور ایک وقت جب کہیں ابودردا رضی اللہ عنہ خلاف عادت دیتے مسجد تشریف لا تے تو آپ پہلے مسجد کی ایک جانب صفوں سے علحدہ فجر کی سنن اداء فرما تے پھر جماعت میں شریک ہوجاتے۔ اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔

Abu Ad-Darda (may Allah be pleased with him) used to enter the mosque while people were lined up for Fajr prayer. He would pray two Rak'ahs in a corner of the mosque and then join the congregation. [Narrated by At-Tahawi]

تیسری حدیث
1652

ابوعثمان نہدی رضی اللہ عنہ روایت کے انہوں نے کہا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نماز فجر پڑھاتے ہوئے اور تم جب کہیں فجر کی سنن پڑھے بلخیر مسجد آ جاتے تو تم مسجد کے آخری حصے میں فجر کی سنن پڑھ لیتے پھر جماعت میں شریک ہوجاتے۔ اور تم پر کوئی رکاوٹ نہ ہوتی تھی۔ اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔

Abu Uthman An-Nahdi reported: "We used to come to Umar ibn Al-Khattab (may Allah be pleased with him) before praying the two Rak'ahs before Fajr while he was leading the prayer. We would pray the two Rak'ahs at the back of the mosque and then join the congregation." [Narrated by At-Tahawi]

چوتھی حدیث
1653

حسن بصری رضی اللہ عنہ روایت کے وہ فرما کرتے تھے کہ اگر کسی وقت تم مسجد کو فجر کی سنن پڑھے بلخیر آجا کیں گواس وقت امام نماز پڑھارہا ہو، پھر کہی تم فجر کی سنن تو کو پڑھ لو، پھر امام کے ساتھ جماعت میں شریک ہوجاؤ۔ اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔ عورت کا کہنا نماز پڑھنا فضل ہے

Al-Hasan (may Allah have mercy on him) said: "If you enter the mosque and have not prayed the two Rak'ahs of Fajr, pray them even if the Imam is leading the prayer, then join the Imam." [Narrated by At-Tahawi]

پہلی حدیث
1654

ابن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کے وہ فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ

علیہ وآ لہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عورت کے لئے کمرہ میں نماز پڑھنا دالان میں نماز پڑھنے سے بہتر

ہے اوراس کے لئے ترخانہ میں نماز پڑھنا کمرہ میں نماز پڑہنے سے بہتر ہے۔

(اس کی روایت ابوداود نے کی ہے۔)

ف: اس حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت جتنا اندر گھر میں چھپ کر نماز پڑھے اتنا س

کے لئے بہتر ہے، اس لئے کہ عورت پر دھکی چیز ہے اور لفظ "عورت" کے معنی اور معہوم میں پچھنا داخل ہے۔

دوسرا حدیث

Abdullah ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "A woman’s prayer in her house is better than her prayer in her courtyard, and her prayer in her private chamber is better than her prayer in her house." [Narrated by Abu Dawud]

1655

ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآ لہ

وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عورتوں کے لئے بہترین مسجد یی گھروں کے اندر ونی حیث ہیں۔

(اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔)

مسجد کے آداب میں پچھنا داخل ہے

Umm Salamah (may Allah be pleased with her) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "The best mosques for women are the innermost parts of their homes." [Narrated by Ahmad]

1656

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ

علیہ وآ لہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے لوگو! تم اپنی عورتوں کو مسجدوں میں زیب و زینت کے ساتھ آنے

سے منع کرو (کیاس میں خوف فتنہ کا ہے) اور مردوں کو چاہے کہ مسجدوں میں اتراتے ہوئے نہ

چلین، اس لئے کہ بنی اسرائیل پر ای وقت لعنت نازل ہوئی جبکہ عورتوں مسجدوں میں زیب و زینت

کے ساتھ آنے لگیں اور مردوں مسجدوں میں اتراتے ہوئے چلنے لگے۔

(اس کی روايت ابن عبد البر نے اپنی سنن میں تمہید میں کی ہے۔)

عورتوں کو مسجدوں میں آنے سے روک و پناچا ہے

Aisha (may Allah be pleased with her) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "O people, prevent your women from wearing adornments and displaying themselves in the mosques, for the Children of Israel were not cursed until their women wore adornments and displayed themselves in the mosques." [Narrated by Ibn Abd Al-Barr in At-Tamhid]

1657

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ اگر رسول

اللہ صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم ملاحظہ فرماتے کہ آپ کے بعد عورتوں نے جونی نئی باٹیں پیدا کر لی ہیں

(مثال زیب وزینت کالباس پہن کراورخوشبو لگا کر باہر نکلنا شروع کر دیاہے) تو آپ ان کو مسجد میں آنے سے ضرور رک دیتے، جس طرح کہ بنی اسرائیل کی عورتیں (مسجد میں آنے سے) رک دی گئی تھیں (کیون کہ اس طرح عورتوں اور مردوں کی ایک مکان میں پانچ وقت کی نمازیں بہت خطرناک ہوتی ہے اور اس سے نکلرہے ہوئے واپس فتنہ کہرہے ہو جاتی ہیں اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاص طور پر مسجد کی حضوری سے عورتوں کو منع فرمادیتے)- (اس کی روایت مسلم نے کی ہے-)

عورت کے خوشبو لگا کر باہر جانے پر وعید

Aisha (may Allah be pleased with her) said: "If the Messenger of Allah (peace be upon him) had seen what women have introduced after him, he would have prevented them from going to the mosques, just as the women of the Children of Israel were prevented." [Narrated by Muslim]

In Jam' al-Athar: "The first Hadith indicates that women’s attendance at the mosque is conditional upon the absence of fitnah (temptation) from them or others. The second Hadith indicates the absence of this condition in later times, so they are prevented from attending the mosque."

1658

ابوموسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہر آگلہ خواہ مرد کی ہو یا عورت کی اگروہ شہوت سے کسی نامحرم پر نظر دالے تو وہ اس آگلہ کا نامہ اور آگر کوئی عورت خوشبو لگا کر مردون کی مجلس سے گزرے تو وہ عورت ایسی ویسی ہے جسے زنا کا میلان رہتی ہے اور اپنی خوشبو سے مردون کو آگلہ کے زنا کی طرف ماکل کرتی ہے اس لیے وہ ہر جگہ جانے گی کہ وہ زانیہ ہے- (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے، اور ابو داؤد اور نسائی نے بھی اس طرح روایت کی ہے-)

اذاں سن کر مسجد سے باہر جانے کے احکام کیا ہیں

Abu Musa (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Every eye commits adultery, and when a woman applies perfume and passes by a gathering, she is such and such, meaning an adulteress." [Narrated by Al-Tirmidhi, and Abu Dawud and Al-Nasa’i narrated something similar]

1659

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم کو حکم دیاہے کہ جب تم مسجد کے اندر ہول (اور کبھی کبھی امام نہ ہول اور نماز پڑھنے ہوئے بھی نہ ہول) اور ایسے میں نماز کے لیے اذان ہوجائے تو تم کو جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے بغیر مسجد سے نہ نکلنا چاہیے (اور اگر ایسا شخص کبھی کا امام ہو، ایک نماز پڑھنے چکا ہوتا وہ اذان کے بعد مسجد سے باہر جا سکتا ہے)- (اس کی روایت امام احمد نے کی ہے-)

پہلی حدیث

Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) commanded: "When you are in the mosque and the call to prayer is made, none of you should leave until he has prayed." [Narrated by Ahmad]

1660

_ ابوعثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہو کہ جب کسی کو تم (ایک دن) مسجد میں

ابوہریرہ، رضی اللہ عنہ کے ساتھ چلتے ہوئے چلا، اتنے میں موؤذن نے اذان دی، اذان سن کر ایک

شخص مسجد سے باہر جانے لگا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس کے پیچھے نظر دوڑائی اور جب وہ مسجد سے

بالکل باہر چلا گیا تو فرمایا کہ اس شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے خلاف کیا۔

(اس کی روایت مسلم (اس حدیث کا ترجمہ مسلم کی ایک دوسری روایت کے لحاظ سے کیا گیا

ہے-12) نے کی ہے-)

دوسری حدیث

It is narrated from Abu Ayyub Al-Ansari (RA) that when someone was walking with him in the mosque one day, Abu Hurairah (RA) was also walking with them. As they were walking, the mu'adhin gave the adhan. Upon hearing the adhan, a man began to leave the mosque. Abu Hurairah (RA) looked at him, and when the man had completely left the mosque, he said that this person had acted against the command of the Messenger of Allah ﷺ.
1661

_ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ

علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص مسجد کے اندر ہواور ازاں ہوئی، پھر وہ شخص مسجد سے نکل گیا اور

کسی ضروری کام کے لیے نکل آور وہ دوبارہ مسجد میں واپس ہوئے کا ارادہ نہیں رکھتا ہے تو وہ

منافق ہے- (اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے-)

جماعت کے لیے کم سے کم تعداد کیا ہے؟

It is narrated from Uthman (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said:

Whoever is in the mosque and passes wind, then leaves the mosque without intending to return for prayer, he is a hypocrite. (This is narrated by Ibn Majah.) What is the minimum number for a congregation?

1662

_ ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد

فرمایا کہ دو شخص اور جوان سے زیادہ ہول جماعت ہے (یعنی جماعت کا ادنیٰ درجہ دو شخص ہیں، پیس دو شخصوں کے باہم نماز

پڑھنے سے جماعت کا ثواب مل جاتے گا) (اس طرح کر دو میں سے ایک امام بنے اور دوسرا مقتدی) (اس حدیث کا

ترجمہ مسلم کی ایک دوسری روایت کے لحاظ سے کیا گیا ہے-12)- (اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے-)

Abu Musa Al-Ash'ari (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Two or more constitute a congregation." (1) [Narrated by Ibn Majah]

(1) The statement "Two or more constitute a congregation" is supported by the explanation in Ad-Durr Al-Mukhtar: "The minimum number for a congregation is two, one being the Imam."