پیاپ سجدۃ تلاوت کے بیان میں ہے
قرآن شریف میں کتنی سجدے جی او رکھال کہال ہیں؟
ان کی تفصیل
ف - واخ ہو ک قرآن شریف میں ایک آیتیں چودہ جی کہ جن کو پڑھنا اور سننا والے ہر دو پر
سجدہ کرنا واجب ہوجاتا ہے۔ سنن والا آیت سجدہ کونواہ قصد آستے پابلاقصد، اور کہی نہہب حقی ہے، وہ
سورتین جن میں سجدے واقع ہیں ان کے نام یہیں: (1) سورۃ اعراف - (2) سورۃ رعد - (3) سورۃ
نحل - (4) سورۃ بنی اسرائیل - (5) سورۃ مریم - (6) سورۃ نج کا پہلا سجدہ - (7) سورۃ فرقان -
(8) سورۃ نمل - (9) سورۃ الحج زیل - (10) سورۃ ص - (11) سورۃ فصلت - (12) سورۃ جم -
(13) سورۃ انشقاق - (14) سورۃ علق -
سجدہ تلاوت اداء کرنے کا مستحب طریقہ
سجدہ تلاوت اداء کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ آیت سجدہ پڑھنے یا سننے کے بعد سجدہ کرنے والا
کہتا ہو کر اللہ اکبر کہتے ہوئے سجدے میں جائے۔ سجدہ میں کہ از کہ میں مرتہب " سُبْحَانَ رَبِّی
الأعلى " کہ کر اللہ اکبر کہتے ہوئے پھر کہتا ہو جائے۔
سجدہ تلاوت کے ثواب کا اورآ داب
جو چیزی نماز کے لے شرط ہیں وہی سجدہ تلاوت کے لے بھی شرط ہیں، جیسے وضو کا ہونا اور
جگہ و بدن کا پاک ہونا و غیرہ البتہ سجدہ تلاوت اداء کرنے والا نہ تو تکبیر تر بیم کہ نہ باٹھا اٹھانے نہ شہد
How many prostration verses and their locations are there in the Holy Qur'an? Their details are as follows: There are fourteen verses in the Holy Qur'an where both the reader and the listener are obligated to perform a prostration. The listener must prostrate whether they hear the verse intentionally or unintentionally, and it is true that the prostration is required. The names of the chapters containing these prostrations are: (1) Surah Al-A'raf - (2) Surah Ar-Ra'd - (3) Surah An-Nahl - (4) Surah Bani Isra'il - (5) Surah Maryam - (6) The first prostration in Surah An-Naml - (7) Surah Al-Furqan - (8) Surah An-Naml - (9) The end of Surah Al-Hajj - (10) Surah Sad - (11) Surah Fussilat - (12) Surah Jumu'ah - (13) Surah Al-Inshiqaq - (14) Surah Al-Alaq.
وقول الله عز و جل واذا قري عليهم القران لا يسجدون اورالل تعالي كا ارشاد سور الانشقاق ايت نمبر مي جب ان ك سامن قران ا جاتا تو و الل ك ا سجد ن ي كرت
سجدۂ تلاوت کے واجب ہونے کی دلیل ف - ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے مرقات مین کہاہے کہ اوپر ذکر کی گئی آیت شریف "وَاذا قُرِئَ عَلَيْهِمُ الخ" سے سجدۂ تلاوت کا وجوب اس طرح ثابت ہوتاہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں سجدۂ ترک کرنے والوں کی ندمت فرمائی ہے، چنانچہ ارشاد ہے کہ جب ان کے سامنے قرآن پڑھا جاتا تو وہ (اللہ کے آگے) سجدہ نہیں کرتے۔ اور یقاعدہ ہے کہ ندمت ایسے موقع پر کی جاتی ہے جب کوئی ایسا امر ترک ہوا ہو جو واجب تھا، چونکہ یہ حال صرف سجدۂ تلاوت ترک ہوا ہے جس کا اداء کرنا واجب تھا، اس لیے سجدۂ ترک کرنے والوں کی ندمت کی گئی۔ اس طرح ثابت ہوا کہ سجدۂ تلاوت واجب ہے اور کیسی نہیب حقی ہے (یہ ضمیں بعض حواشی سے ماخوذ ہے)۔
سجدۂ تلاوت کی فضیلت
The proof for the obligation of prostration during recitation (Sujud al-Tilawah) is as follows: Mulla Ali Qari (RA) has stated in Mirqat that the noble verse mentioned above, 'And when it is recited to them,' establishes the obligation of Sujud al-Tilawah in this manner: Allah the Exalted has expressed regret over those who do not perform the prostration, indicating that when the Quran was recited to them, they did not prostrate before Allah. It is a principle that regret is expressed only when a person has neglected an obligatory act. Since the situation described pertains solely to the neglect of Sujud al-Tilawah, which was obligatory, regret has been expressed over their neglect. Thus, it is established that Sujud al-Tilawah is obligatory, and this is a valid proof (this excerpt is taken from some commentaries).
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب آدمی سجدہ کی آیت پڑھ کر سجدہ کرتا ہے تو شیطان روتا ہوا اگلے ہو جاتا ہے اور کہتا ہے کہ باے میری بختی! آدمی کو سجدہ کا حکم دیا گیا اس نے تو سجدہ کر لیا اور اس کے لیے جنت و اجرب ہوگی اور مجھے سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا تو میں نے انکار کیا اور میرے لیے جہنم و اجب ہوگی۔ مسلم، ابن ماجہ۔
سجدۂ تلاوت واجب ہونے کے دلائل ف - اس حدیث شریف میں ارشاد ہے "أُمِرَ ابْنُ آدَمَ بَالسُّجُودِ فَسَجَدَ" الخ (انسان کو سجدہ کا امر - حکم - کیا گیا)۔ یہ قاعدہ کلیہ ہے کہ حکیم جب غیر حکیم کی بات سنے پر اس غیر حکیم کی
اس بات کا انکار کرے تو حکیم کا غیر حکیم کی بات کو سنائے کرنا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حکیم کے غیر حکیم کی جوابات سنائی ہے وہ تھے۔
واضح ہوگا یہ حال حکیم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اور غیر حکیم شیطان پر، اور غیر حکیم کی بات جوسائی گئی ہے وہ یہ "امرا ابن آدم بالسجود فسجد"، نہور کہ کہ حکیم لعنہ رسل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غیر حکیم لعنہ شیطان کی بی بات سنائی کر (انسان کو سره کا امر کیا گیا) اور شیطان کی اس بات کو سنائے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شیطان کے اس قول کا رد کرما اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حقیقت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا شیطان کے اس قول کو رد کرما اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حقیقت میں انسان کو جبر کرنے کا امر ہوا تھا، اوریہی واضح ہے کہ امر مطلق سے وجوہ کافہ نہ حاصل ہوتا ہے اور جونکہ یہ حال مطلقہ سجدہ کرنے کا حکم ہواہے اس لے سجدہ کرنے کے اس مطلب امر سے ثابت ہوا کہ جبرہ تلاوت کا ادا کرنا واجب ہے۔
یہ حال ایک پیشہ کیا جاسکتا ہے کہ امر وجوب کے علاوہ استجابہ کے لے بھی ہوتا ہے تو یہ حال سجدہ کرنے کے امر کو کیون مستحب نقر اردیا جائے؟
اس شبہ کا جواب یہ کہ قریبہ سے یہ حال سجدہ کرنے کا وجوب ثابت ہوتا ہے، استجابہ میشہ نہیں ہوتا۔ اس لے کہ سجدہ نہ کرنے پر دوزخ کی وعید ہے اور سجدہ کرنے پر جنت کا وعدہ ہے اور اس میں کا وعدہ اور وعید کی امر مستحب کے لے نہیں آتا بلکہ امر واجب کے لے ہی ہوتا ہے اس طرح اس سے بھی ثابت ہوا کہ یہ حال سجدہ کا امر، امر واجب ہے نہ کہ امر مستحب۔
ہر دو وریلون سے ثابت ہوا کہ سجدہ تلاوت کا ادا کرنا واجب ہے۔
سجدہ تلاوت کے وجوب پرتیسری دلیل یہ کہ آیات سجدہ سے جسی سجدہ تلاوت کے واجب ہو نے کا پیٹا چلتا ہے اس لے کہ سجدہ کی آیتین تین طرح کی ہیں، ایک تو وہ ہیں جس میں صراحت کے ساتھ کہ سجدہ کا امر ہوا ہے۔ دوم سے وہ آیتین ہیں جو انپیاء علیہم الصلاۃ والسلام کے سجدہ کرنے کے واقعت کے بیان پر مشتمل ہیں اور تیسری وہ آیتین ہیں جو کفارا ورمشرکین کی ایک حالت کو پر مشتمل ہیں جس میں ان کو سجدہ کرنے کا امر کیا گیا تو انہول نے انکار کیا۔ آیات سجدہ کی یہ تینوں وقتوں لعنہ امر خداوندی کی تقبل، انپیاء علیہم الصلاۃ والسلام کی اقدام اور اتباع اور کفار ومشرکین کی خلافت، یہ تینوں
چیزیں واجب ہیں، بشرطیہ ان میں سے کسی چیز کے واجب نہ ہونے پر کوئی دلیل قائم نہ ہوجائے، چوکہ آیت
سجدہ کی نذکورہ تینوں قسموں کا واجب نہ ہونا ثابت نہیں ہوتا ہے، اس لے تلاوت کے تمام حجے واجب ہیں -
سجدہ تلاوت کے وجوب پر چھٹی دلیل وہ ہے جس کو جامع الآثار میں بیان کیا ہے کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تلاوت کے سب دونوں پر مواطبت اور پابندی فرمائی ہے اس سے محمل سجدۃ
تلاوت کے واجب ہونے کا ثبوت ملتا ہے -
آیت سجدہ سنے والے پر کیا سجدہ واجب ہوتا ہے
پہلی دلیل:
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "When the son of Adam recites a verse of prostration and prostrates, Satan withdraws, weeping and saying, 'Woe to me! The son of Adam was commanded to prostrate, and he prostrated, so Paradise is his. I was commanded to prostrate, but I refused, so the Fire is mine.'" [Narrated by Muslim and Ibn Majah]
In Jam' al-Athar, the command is for obligation, and the approval of the Shari'ah confirms its validity. It has been mentioned earlier that the Prophet (peace be upon him) consistently performed some prostrations, and there is no distinction between one prostration and another.
(1) The statement: "The son of Adam was commanded to prostrate, and he prostrated." is based on the principle that when the Wise One (Allah) narrates something from someone who is not wise and does not follow it with disapproval, it indicates that it is correct. This serves as evidence that the son of Adam is commanded to prostrate, and the command implies obligation. Moreover, every prostration mentioned in the Qur'an also indicates this obligation. The prostrations in the Qur'an are of three types:
Those accompanied by an explicit command.
Those that include a narration of the disbelievers' refusal when they were commanded to prostrate.
Those that narrate the actions of the prophets in prostrating.
Compliance with the command, following the example of the prophets, and opposing the disbelievers are all obligatory, unless there is specific evidence indicating that it is not obligatory. However, the indication of obligation in these cases is speculative (zanni), so the established ruling is that it is obligatory (wajib), not obligatory in the sense of being a definitive duty (fard). This is as mentioned in Sharh al-Nuqayah.
The proofs for the obligation of prostration during recitation (Sajdah al-Tilawah) - In this noble hadith, it is stated: "Adam’s son was commanded to prostrate, so he prostrated." This is a general principle that when a wise person hears the words of an unwise person and then denies those words, it proves that the wise person heard the unwise person's words. It will be clear that this situation applies to the wise Messenger of Allah (peace be upon him and his family) and the unwise Satan. The words that were heard from the unwise are: "Adam’s son was commanded to prostrate, so he prostrated," not that the wise Messenger of Allah (peace be upon him and his family) heard the unwise Satan's words (that Adam’s son was commanded to rebel) and the Messenger of Allah (peace be upon him and his family) denied Satan’s statement by hearing it, which proves that in reality, the command to compel Adam’s son was given. It is clear that a general command does not yield a specific reason, and since this situation involves a general command to prostrate, it proves from the meaning of this command that performing prostration during recitation is obligatory.
One might argue that a command can also be for recommendation (istijabah) besides obligation, so why should the command to prostrate be considered recommended rather than obligatory?
The answer to this objection is that from a closer perspective, this situation proves the obligation of prostration, not recommendation. This is because there is a threat of Hellfire for not prostrating and a promise of Paradise for prostrating, and such threats and promises do not come with a recommended act but with an obligatory one. Thus, it is also proven that the command to prostrate is an obligatory command, not a recommended one.
From both perspectives, it is established that performing prostration during recitation is obligatory.
A third proof for the obligation of prostration during recitation is that the verses of prostration indicate that prostration during recitation is obligatory. This is because the verses of prostration are of three types: one type explicitly commands prostration, the second type describes the prostration of the prophets (peace be upon them), and the third type describes the rejection of the command to prostrate by disbelievers and polytheists. These three types of verses, acceptance of the divine command, the actions and following of the prophets (peace be upon them), and the rejection by disbelievers and polytheists, are all obligatory. If any of these were not obligatory, no proof would stand, as it cannot be proven that the verses of prostration are not obligatory. Therefore, all the proofs for prostration during recitation are obligatory.
A sixth proof for the obligation of prostration during recitation is mentioned in Jam'i al-Athar, where it states that the Messenger of Allah (peace be upon him and his family) adhered to and was consistent in performing prostration during recitation. This establishes the obligation of prostration during recitation.
Is prostration obligatory for the one who hears the verse of prostration?
First proof:
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلّم نے فتح کے موقع پر سجدہ کی آیت تلاوت فرمائی تو سب لوگوں نے سجدہ کیا، ان میں سے بعض
لوگ سوار تھے اور جو لوگ پیادہ تھے وہ زمین پر سجدہ کر رہے تھے، اب رہ سوار تو چوکہ ان پر سواری
کی حالات میں سجدہ تلاوت واجب ہوا تو انہوں نے اپنی ہاتھوں پر سجدہ کیا -
(اس کی روایت البوداود نے کی ہے)-
ف: اس حدیث شریف سے پی ثابت ہوتا ہے کہ سواری کی حالات میں آیت سجدہ سنے یا پڑھنے
سے اگر سجدہ تلاوت واجب ہوا تو اتر کر زمین پر کیا سجدہ تلاوت اداء کیا جاسکتا ہے اور اگر اتنے
بغیر سواری میں پر اشارے سے سجدہ تلاوت اداء کیا جائے تو کیا سجدہ تلاوت ہو واجب ہے اداء
ہو جائے گا۔ البنت سجدہ تلاوت اگر زمین پر چلنے کی حالات میں واجب ہوا تو اس کوسواری پراداء نہیں
کیا جاسکتا، زمین پر سجدہ کو اداء کرنا ضروری ہے -(ردالمختار)
حدیث شریف میں جو ذکور ہے کہ جو حضرات سوار تھے انہوں نے ہاتھوں پر سجدہ کیا، اس بارے
میں ترجماعلاء السن میں لکھا ہے۔ ہاتھوں پر سجدہ کرنا اشارہ سے سجدہ کرنا، ای تھا اگر چاشارہ کے لے اس
قدر سر جھکانا ضروری نہ تھا مگر ان حضرات نے غايت کے لے اس قد رس جھکایا -
دوسری ویل
Ibn Umar (may Allah be pleased with him) narrated that during the year of the Conquest, the Messenger of Allah (peace be upon him) recited a verse of prostration and all the people prostrated, including those on horseback, who prostrated on their hands. [Narrated by Abu Dawud]
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: جب آیت سجدہ پڑھی
جاتے تو جسے پڑھنے والے پر سجدۃ تلاوت واجب ہے (اس طرح) سن وا لے پڑھنے والے پر بھی سجدۃ تلاوت
واجب ہے۔ (اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے کی ہے۔)
Ibn Umar (may Allah be pleased with him) also said: "The prostration is obligatory for whoever hears it." [Narrated by Ibn Abi Shaybah, and Al-Bukhari narrated something similar in a suspended (mu'allaq) form.
اور بخاری نے بھی اس طرح تعليقاً روايت کی ہے-
تیسری ویل
And Bukhari has also narrated it in this manner - Third vigil
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
جب کبھی آیت سجدۃ تلاوت فرماتے اور تم حضور علی الصلاۃ والسلام کے پاس موجود ہوتے تو حضور علی الصلاۃ
والسلام خود کبھی سجدہ فرماتے تھا اور آپ کے ساتھ تم بھی سجدہ کرتے تھا اور اس وقت اتنا زد بام ہوجاتا تھا کہ
تم میں بعض کو سجدہ کرنے کے لئے پیشانی رکھنی جگہ کبھی نہیں ملتی تھی۔ (اس لئے ان حضرات کو پیلے والون
کے بعد سجدہ ادا کرنا پڑتا تھا)- (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے مستقطر برکی ہے-)
ف : اس حدیث ثریف سے سجدۃ تلاوت کا شدت اہتمام معلوم ہوتا ہے جو سجدۃ تلاوت کے واجب ہونے کی
علامت ہے اور اس حدیث ثریف سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ سجدۃ تلاوت جس طرح پڑھنے والے پر واجب ہے، اس
طرح سن وا لے پر بھی سجدۃ تلاوت واجب ہے(مرقات، اطفاء الفتن ترجمہ علاء السنن)
تجبیر تحریم کے اور کانول تک باٹھا تحاے ہے بلغیر اللہ اکبر کہ کہ سجدہ میں جائے کا ثبوت
Ibn Umar (may Allah be pleased with him) further reported: "The Messenger of Allah (peace be upon him) would recite a verse of prostration while we were with him, and he would prostrate, and we would prostrate with him, to the extent that some of us could not find a place to place our foreheads due to the crowding." This was agreed upon (by Al-Bukhari and Muslim]
(1) The statement: "We crowded" indicates the obligation of the prostration of recitation (Sajdah al-Tilawah). This is as mentioned in Al-Mirqat.
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھمین
قرآن پاک سنا کرتے تھا اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کی آیت پڑھتے تو اللہ اکبر کہتے
ہوئے سجدے میں جائے اور آپ علیہ السلام کے ساتھ تم بھی سجدہ کیا کرتے تھے-
(اس کی روایت البوداودی نے کی ہے-)
"الآن تنزيل" میں سجدۃ تلاوت ہونے کا ثبوت
Ibn Umar (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (peace be upon him) would recite the Qur'an to us, and when he reached a verse of prostration, he would say 'Allahu Akbar' and prostrate, and we would prostrate with him." [Narrated by Abu Dawud]
(2) The statement: "When he reached a verse of prostration, he said 'Allahu Akbar,' prostrated, and we prostrated with him." This indicates that the takbir (saying "Allahu Akbar") is only said for the prostration. This is the view taken by Abu Hanifah. According to Shafi'i, one raises their hands and says takbir for the opening of the prayer (ihram), and then says takbir again for the prostration. This is as mentioned in Al-Mirqat.
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ظہر اداء فرمائی اور سجدۃ تلاوت کے بعد حضور علی الصلاۃ والسلام نے قيام فرمايا اور قيام میں پڑھقرأت کے لگیرکوع میں پچے گے صحابہ کاخیال ہے کہ حضور علی الصلاۃ والسلام سورۃ الآن تنزیل السجده پڑھ کر سجدہ تلاوت ادا فرماے۔(اس کی روایت ابوداوڈ نے لی ہے۔)
سورۃ "والنججم" میں سجدۃ تلاوت کا ثبوت
Ibn Umar (may Allah be pleased with him) also reported that the Prophet (peace be upon him) prostrated during the Zuhr prayer, then stood up and bowed. The people thought he had recited Surah As-Sajdah. [Narrated by Abu Dawud]
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورۃ والنججم تلاوت فرما کر سجدہ فرمایا حضور علی الصلاۃ والسلام کے ساتھ تمام مسلماں نول اور مرشکول اور جن و انس نے بھی سجدہ کیا۔(اس کی روایت بخاری نے لی ہے۔)
ف: اس حدیث شریف سے اور اس کے بعد والی دونوں حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے کہ مفصلات میں بھی سجدۃ تلاوت کے اوران کا اداء کرنا بھی واجب ہے اور بھی نہیں ذہب حقی ہے(مرقات)
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated: "The Prophet (peace be upon him) prostrated at Surah An-Najm, and the Muslims, the disbelievers, the jinn, and mankind prostrated with him." [Narrated by Al-Bukhari]
1400 Ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) narrated: "The Prophet (peace be upon him) recited Surah An-Najm and prostrated in it, and those with him also prostrated, except for a man from Quraysh who took a handful of pebbles or dust and raised it to his forehead, saying, 'This is enough for me.' Abdullah (Ibn Mas'ud) said: 'I later saw him killed as a disbeliever.'" This was agreed upon (by Al-Bukhari and Muslim], and Al-Bukhari added in one narration: "He was Umayyah ibn Khalaf."
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتہ سورۃ والنججم تلاوت فرماي تو آپ نے بھی اس میں سجدہ کیا اور جوآ پ کے ساتھ تھے، انہوں نے بھی سجدہ کیا جزا ایک بوڑے کے کاس نے سجدہ نہیں کیا بلکہ کفر یوں یا مٹی کی ایک مٹی لے کر پیشانی سے لگالی اور کہا کہ مجھے تو یہی کافی ہے،حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماے یعنی کہ پچھے زمانے کے بعد ) میں ای شخص کو دیکھا کہ وہ کفر ی کی حالت میں مارا گیا۔(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر لی ہے۔اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے دوسرا ایک روایت میں پر اضافہ کیا ہے کروہ شخص امیبن خلف تھا۔
سورۃ انشقاق اور سورۃ علق میں سجدہ تلاوت کا ثبوت
the Prophet ﷺ recited Surah Al-Najm one time, and he prostrated during it, and those who were with him also prostrated, except for an old man who did not prostrate but instead took a piece of dust and placed it on his forehead, saying, 'This is sufficient for me.' Ibn Mas'ud (RA) said, meaning, 'I saw a person later in the future who was killed while in a state of disbelief.' This narration is agreed upon by Bukhari and Muslim. And Imam Bukhari (may Allah have mercy on him) added in another narration that this person was a freed slave of the caliphs. The evidence for prostration during the recitation of Surah Al-Inshiqaq and Surah Al-'Alaq is established.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سورۃ "اذا السماء انشققت اور اقرأ باسم ربک"، میں سجدہ تلاوت اداء کیا۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
سورۃ نج میں صرف پہلا سجدہ سجدہ تلاوت ہونے کا ثبوت پہلی دلیل:
You have performed the prostration of recitation with the Messenger of Allah ﷺ in Surah 'When the sky splits' and 'Read in the name of your Lord.' (This is narrated by Muslim.) In Surah Najm, there is only evidence for the first prostration being the prostration of recitation as the first proof:
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے سورۃ نج میں تلاوت کے سجدول کے متعلق فرمایا کر اس سورت کا پہلا سجدہ (سجدہ تلاوت ہے اور وہ) واجب ہے اور دوسرا سجدہ سجدۃ تعلیمی ہے۔ (یعنی اس آیت کے ذریعے نماز میں رکوع اور سجدہ کرنا سکھایا گیا ہے، اس لئے پی تلاوت کا سجدہ نہیں ہے اس پر قرینہ پیہ کر آئت میں سجدہ کے ساتھ رکوع کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے اس لئے پی تلاوت کا سجدہ نہیں ہے) اس کی روایت امام طحاوی نے لکھی ہے، اور امام طحاوی رحمۃ اللہ نے کہا ہے کہ تم ابن اسحاق رضی اللہ عنہ کے اس قول کو اختیار کرتے ہیں کہ سورۃ نج کا پہلا سجدہ واجب ہے اور ترک ذی نے کہا ہے کہ بعض ائمہ کا قول یہ کہ سورۃ نج میں ایک ہی سجدہ تلاوت ہے اور امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ، امام ماک ک اور فقہاء کوفہ رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے۔ اور امام محمد رحمۃ اللہ نے کہا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سورۃ نج میں صرف ایک ہی سجدہ کے قائل تھے اور وہ سجدہ اول ہے اور تم اس کو اختیار کرتے ہیں۔
دوسری دلیل
regarding the prostration in Surah Najm, the first prostration in this surah is a prostration of recitation and it is obligatory, while the second prostration is a prostration of instruction. (This means that through this verse, bowing and prostration in prayer have been taught, so there is no prostration for recitation here; rather, the command to bow along with prostration has also been given in this verse, so there is no prostration for recitation.) Imam Tahawi wrote this narration, and Imam Tahawi (may Allah have mercy on him) said: 'You adopt the view of Ibn Ishaq (RA) that the first prostration in Surah Najm is obligatory, and Dhun-Nun said: Some scholars hold that there is only one prostration of recitation in Surah Najm. Imam Sufyan Thawri (may Allah have mercy on him), Imam Maqil, and the jurists of Kufa (may Allah have mercy on them) also hold this view. And Imam Muhammad (may Allah have mercy on him) said: 'Ibn Abbas (RA) held that there is only one prostration in Surah Najm, and it is the first prostration, and you adopt this view.'
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ سورۃ نج میں صرف ایک ہی سجدہ تلاوت ہے (اور وہ پہلا ہے) اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے لکھی ہے۔
In Surah Najm, there is only one prostration of recitation (and it is the first one). This is reported by Ibn Abi Shaybah.
_ ابن ابی شیبہ کی ایک دوسری روایت میں حضرت ابن المسبی، حسن بصری،
ابراہیم نخعی اور سعید بن جبیر رضی اللہ عنہم سے یہی اس طرح مروی ہے-
سورۃ ص میں سجدۃ تلاوت کا ثبوت
پہلی ویل:
The evidence for the recitation of the prostration in Surah Sad.
_ ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے خواب میں
کہ سورۃ ص کھڑا ہول جب میں (خواب میں) آیت سجدہ تک پہوچا اور اس کو لحا تو کیا و کہتا
ہوں کہ دوات اور قلم اور جو چیزیں میرے سامنے تھیں سب سجدہ میں گرنے، ابوسعید رضی اللہ عنہ سے
کہا کہ میں نے اپنا یخواب حضور علی الصلاۃ والسلام کے سامنے بیان کیا حضور علی الصلاۃ والسلام
نے مجھ کہ اس میں حق تعالی کی طرف سے تم کو سجدۃ تلاوت کر نے کی تعلیم ہور، یہ اس لئے اس
کے بعد سورۃ ص کے آیت سجدہ پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم بمیش سجدۃ تلاوت کیا کرتے تھے-
(اس کی روایت امام احمد نے کی ہے-)
ف: جامع الآثار میں کہا ہے: اس حدیث شریف کے الفاظ "فَلْمَ يَزَلْ يَسْجُدُ بَهَا"
( حضور علی الصلاۃ والسلام سورۃ ص کے سجدۃ تلاوت کو بمیش ادا فرما تے تھے) واضح رہ کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سورۃ ص کے اس سجدۃ تلاوت کو بمیش ادا کرنا، اور اس کو کسی وقت بھی ترک نہ
کرنا اس سے ثابت ہے کہ سورۃ ص کا سجدۃ تلاوت کی واجب ہے (پیر قدري میں ذکور ہے)-
ایضاً وسری ویل
Abu Sa'id (may Allah be pleased with him) narrated: "I saw a dream while I was writing Surah Sad. When I reached the verse of prostration, I saw the inkpot, the pen, and everything around me turning into prostration. I narrated this to the Messenger of Allah (peace be upon him), and he continued to prostrate in it." [Narrated by Imam Ahmad]
In Jam' al-Athar, the consistent practice without abandonment indicates obligation, as is evident from the apparent meaning of his statement: "He continued to prostrate," which indicates obligation, as mentioned in Fath al-Qadir.
_ مجاهد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے ابن عباس رضی
اللہ عنہما سے دریافت کیا کہ کیا میں سورۃ ص کے سجدۃ تلاوت کو ادا کیا کروں تو ابن عباس رضی اللہ عنہما
نے (سورۃ انعام پ 749) کی آیت (نمبر:85 تا 90) "وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِ دَاوُدَ وَسُلَیْمَنَ " سے
ثروت کر کے "فَبْهَدْنُهُمْ اقْتِدَةً، لَعْنًا لَّعِنِر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم بھی ابی پیغمبر ولی
اقتداء کیا کرو تو تلاوت فرمائی - پھر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: داود علیہ السلام (یزرجحم بخاری کے دومرے نسخ کے لحاظ سے کیا گیا ہے) جسی مجمل ان انبیاء کے پین جن کی اقتداء کا حکم تہوارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا گیا ہے (جو کہ سورۃ ص میں حضرت داود علیہ السلام کے سجدہ کرنے کا ذکر ہے جس کی اقتداء میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ ص کے اس مقام پر بمیشہ سجدہ کیا کرتے تھے جسیا کے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث میں اس کی گزر چکا ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس دوامی فعل سے سورۃ ص کاسجده تمام پڑھی واجب (یعنی مضمون عمدہ الرعايتے ماخوذہ)-
(اس کی روایت بخاری میں ہے-)
Mujahid said: "I asked Ibn Abbas, 'Should I prostrate in Surah Sad?' He recited: 'وَمِن ذُرِّيَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ حَتَّى أَتَى فَبِهُدَتْهُمُ اقْتَدِه' 'And among his descendants were David and Solomon... so follow their guidance.' (Surah Al-An'am, 6:90) Then he said: 'Your Prophet (peace be upon him) was commanded to follow their guidance.'" [Narrated by Al-Bukhari]
سابہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے منبر پر سورۃ ص تلاوت فرماتے ہوئے (جب آیت سجدہ پڑھی تو فوراً منبر سے اتر کر سجدہ ادا کیا۔ اس اہتمام سے معلوم ہوتا ہے کہ سورۃ ص کا سجدہ بھی واجب ہے-
(اس کی روایت تہقیق میں ہے-)
As-Sa'ib ibn Yazid reported that Uthman ibn Affan (may Allah be pleased with him) recited Surah Sad while on the pulpit, then descended and prostrated. [Narrated by Al-Bayhaqi]
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ایک صحابی (یعنی ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ جسیا کہ دار قطی نے اپنی علی میں اس نام کی صراحت کی ہے) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدام میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ علیہ وسلم میں آج کی رات سورۃ تھا خواب میں کیا و کیتا ہوں کہ ایک درخت کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہوں، نماز میں میں نے (سورۃ ص کی آیت سجدہ کو پڑھا) سجدہ کیا (اور اس آیت سجدہ کوسن کر) درخت نے مجھی میرے
ساتھو جبڑه کیا اور میں نے درخت کو جڑہ کی حالت میں پیدا کرتے ہوئے سنا۔
اللہم اکتب لی بہا عندک اجراً۔ و حطّ بها عِنی وزراً۔ واجعلها لی عندک
ذُخراً و تقبلها منی کما تقبلتها من عَبدک داودَ۔
اے اللہ اس سجدہ کی مجہتے اپنے پاس میرے لے اجر و ثواب کہ دتے اور اس سجدہ کی مجہتے میرے (کبیرہ) گناہ معاف کر دتے اور اس سجدہ کی مجہتے (اس اجر و ثواب کو) میرے لے اپنے پاس ذخیرہ بنادتے اور مجہتے اس سجدہ تلاوت کو ایمانی قبول فرما یے جسے آپ نے داود علیہ السلام کے سجدہ کو قبول فرما یے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرما یا کہ میں اب سن کر بی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد سورۃ ص کی آیت سجدہ کو تلاوت فرما کر آپ نے بھی سجدہ اداء فرما یا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سجدہ فرما نے سے پیچڑہ تم پر بھی واجب ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرما تے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو، یو عاء پڑھتے ہوئے سنا جو درخت نے پڑھتی ہیں اور جس کواس دن صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تھا۔ (اس کی روایت تنزہی اور ابن ماجہ نے کی ہے) البتہ ابن ماجہ نے " واجعلها لی عندک ذُخراً" تک روایت کی ہے۔
سجدہ تلاوت کی ایک اور دعا کا بیان
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated that a man came to the Messenger of Allah (peace be upon him) and said, "O Messenger of Allah, last night I saw myself in a dream as if I were praying behind a tree. I prostrated, and the tree prostrated with me. I heard it saying: 'O Allah, record for me a reward with You, remove from me a burden, and make it a treasure for me with You. Accept it from me as You accepted it from Your servant Dawud.'" Ibn Abbas said: The Prophet (peace be upon him) then recited a verse of prostration and prostrated, and I heard him saying the same as what the man had reported the tree saying. [Narrated by Tirmidhi and Ibn Majah, except that they did not mention the phrase: "Accept it from me as You accepted it from Your servant Dawud"]
_ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز تھی اداء فرما تے اور اس میں آیت سجدہ پڑھتے تو سجدہ میں پیدا فرما تے تھے۔
"سَجَدَ وَجُهِی لِلَّذِی خَلَقَهُ وَ شَقَّ سَمَعَهُ وَ بَصَرَهُ بَحَوْلِهِ وَ قُوَّتِهِ"
میرے چہرے نے اس کو سجدہ کیا جس نے اس پیار فرما یا اور اس کو اپنی قدرت و قوت سے سماعت اور بصارت عطا فرما یا۔
(اس کی روایت البوداود، ترجمی اورنسائی نے کی ہے، اورترجمی نے کہاہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے)
سجدۃ تلاوت میں مأثور دعاوں کے پڑھنے کا طریقہ
ف: واقع ہو کہ نماز کے بعد میں جس تشیع لینے سبّحان رَبِّی الْا عُلی کا پڑھنا مسنون ہے،
سجدۃ تلاوت میں بھی اس تشیع کا پڑھنا کافی ہے اس لیے کہ نماز کا سجدہ بعد تلاوت کے بعد سے افضل
ہے۔ اور جب نماز کے بعد میں سبّحان رَبِّی الْا عُلی کا پڑھنا کافی ہے تو سجدۃ تلاوت میں
سُبْحَانَ رَبِّی الْا عُلی کا پڑھنا بر جہ اوّل کافی ہوگا۔ خواہ فرض نماز میں سجدۃ تلاوت اداء کیا جارہہو
یا نفل نماز میں یا خارج نماز، الفرض سجدة تلاوت اداء کرنے والاسجدة تلاوت میں سُبْحَانَ رَبِّی
الْا عُلی پڑھے۔
اب رپاپرکی دونوں حدیثوں میں تلاوت کے بعد دونوں میں مأثور دعاوں کا پڑھنا جوز کورہے
وان کو ای نماز ول کے سجدۃ تلاوت میں سُبْحَانَ رَبِّی الْا عُلی کے بعد پڑھنا مستحب ہے جوعمو ما
تتہا پڑھی جاتی ہیں جیسے تحدیر، وتر، سنت اور نفل، اس طرح کوئی شخص کسی فرض نماز کو تہا پڑھر باہے اوراس
میں آیت سجدہ پڑھی گئی تو وہ سجدۃ تلاوت میں سُبْحَانَ رَبِّی الْا عُلی کے ساتھ ان مأثور دعاوں کو
جبی پڑھ سکتا ہے اور خارج نماز سجدة تلاوت اداء کرنے والے کے لیے بھی سُبْحَانَ رَبِّی الْا عُلی
کے ساتھ ان مأثور دعاوں کا پڑھنا افضل ہے۔
(اشعة اللمعات، مرقات، درختار، رواختار، کوکب دری، اعلاء اسنن)
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) would say during the prostration of recitation at night:
"سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ بِحَوْلِهِ وَقُوَّتِهِ"
"My face has prostrated to the One who created it, gave it hearing and sight by His might and power."
[This was narrated by Abu Dawud, Tirmidhi, and Nasa’i. Tirmidhi said: This is a Hasan Sahih Hadith]