(یہ باب اس بیان میں ہے کہ اگر نماز میں سہو ہو جائے تو کیا کرنا چاہئے؟)
نماز میں جس کی کوئی بھر میں پہلی مرتبہ تقداور کے ات میں شک ہوتا اس کو کیا کرنا چاہئے
This chapter deals with the instructions to be followed if one makes a mistake during prayer.
In prayer, if someone has any doubt for the first time during the initial prostration, what should they do?
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے ایک شخص کے بارے میں فرمایا
جس کو پیاڑی بیٹی کے اس نے تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار (اور پیشک اس کو عمر بھر میں پہلی مرتبہ ہوا اور
ایسے شک کی اس کو عادت نہیں) تو وہ (بات کر کے یا سلام پیچھے کر) نماز توڑ دے اور پھر ازسر نوماژ
شرو عے پڑھتا کر اس کی نماز شک سے نہ ہو بلکہ یادت ہو۔
(اس حدیث کا ترجمہ بدایی، بنایی، ردالمختار، موطا، امام محمد، تعیق محمد، شرح وقایع، عمدۃ الرعاية
اور علاے اسناد کتابول کو پیش نظر رک کر کیا گیا ہے۔)
اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے، یا پنی ایک اور روایت میں ابن عمر رضی اللہ عنہما
سے یہ اس طرح روایت کی ہے کہ ابن عمر نے فرمایا میرا کچھ ایسے ی وا قع ہوا ہے کہ (جب عمر بھر میں
پہلی بار مجھ کو نماز میں شک ہوا کر) میں نے تین رکعتیں پڑھی ہیں، تو میں نے نماز توڑ کر ازسر نو شروع
سے نماز پڑھی ہے۔ (اس حدیث کا ترجمہ عمدۃ الرعاية سے ماخوذ ہے۔)
اور ابن ابی شیبہ کی ایک اور روایت میں کہی ابن جبیر، شعی اور شرتح رضی اللہ
عنہم سے اس طرح روایت ہے کہ کسی کو عمر بھر میں پہلی بار نماز میں شک ہوا ہوتا وہ نماز توڑ کر شروع
سے نماز پڑھے۔
نماز میں جس کی کوئی جگہ میں پہلی مرتبہ تعداد و رکعات میں شک ہوتا اس کو کیا کرنا چاہیے؟
ایسے میں ایک سے زیادہ مرتبہ شک ہوتا اس کا کیا حکم ہے؟
طاؤس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ جب تم نے نماز پڑھی اور تم کو (نماز میں عمر بھر میں پہلی مرتبہ) شک ہوا کہ کتنی رکعتیں پڑھی ہیں تو نماز توڑ کر ازسرنوثر و عے نماز پڑھو، اگر دوبارہ ایسا ہی شک ہو کہ کتنی رکعتیں ادا کی ہیں تو اب نہ تو نماز توڑ واور نہ ازسر نو نماز پڑھو۔
(اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے کی ہے۔)
Tawus (may Allah be pleased with him) said: "If you pray and do not know how many Rak'ahs you prayed, repeat it once. If you are confused again, do not repeat it." [Narrated by Ibn Abi Shaybah while Malik narrated a similar report from Ata]
In a narration by Al-Bukhari and Abu Dawud from the Prophet (peace be upon him): "If one of you is confused during prayer, let him determine the most likely correct number, complete the prayer, say the Taslim, and then perform two prostrations of forgetfulness."
Al-'Ayni said: Abu Dawud's chapter heading indicates that one should act according to the most likely assumption, as he said: "Chapter on Those who say to complete based on the most likely assumption."
اور امام ما لک نے عطاء سے اس طرح روایت کی ہے۔
نماز میں جس کی کو تعداد و رکعات میں شک ہوا کر لے تو اس کو تری کر کے گمان غالب پر عمل کرنا چاہیے
Tawus (may Allah be pleased with him) said: "If you pray and do not know how many Rak'ahs you prayed, repeat it once. If you are confused again, do not repeat it." [Narrated by Ibn Abi Shaybah while Malik narrated a similar report from Ata]
In a narration by Al-Bukhari and Abu Dawud from the Prophet (peace be upon him): "If one of you is confused during prayer, let him determine the most likely correct number, complete the prayer, say the Taslim, and then perform two prostrations of forgetfulness."
Al-'Ayni said: Abu Dawud's chapter heading indicates that one should act according to the most likely assumption, as he said: "Chapter on Those who say to complete based on the most likely assumption."
بخاری اور ابوداود کی ایک روایت میں عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے ارشاد فرما کر جس شخص کو اپنی نماز کی (تعداد و رکعات میں) شک ہوا کرے (کہ کتنی رکعتیں پڑھی ہیں) تو اس کو چاہے کہ تری کر لیجئے سوائے کہ طیب بات معلوم کرے اور تری کے بعد جو طیب بات معلوم ہو اس لحاظ سے اپنی نماز پوری کر لے اور سلام کے بعد سہو کے دو سجدے کرے۔
ف: واضح ہو کہ بخاری اور ابوداود کی اس روایت میں نماز میں شک واقع ہونے سے تری کر کے گمان غالب پر عمل کر نے کا حکم ہے، نہ ہیب حسنی بہی بہی ہے، چنانچہ علامہ عینی رحمہ اللہ نے فرما یہ کہ ابوداود کا جمہ اس بارے میں بہی قول ہے، اس وجہ سے ابوداود نے جواب قائم کیا ہے وہ یہ "باب مَنْ قَالَ يَتُمْ عَلَى أَكْبَرِ ظَنِّهِ"، لیعن جس شخص کو نماز میں شک ہووہ اپنے گمان غالب پر عمل کر لے۔
نماز میں جس کسی کو تعداد رکعات میں شک ہوا کرے تو اس کو تری کر کے اکبر را ے لیعن
گمان غالب پر عمل کرنا چاہئ اس پر دومری حدیث
Tawus (may Allah be pleased with him) said: "If you pray and do not know how many Rak'ahs you prayed, repeat it once. If you are confused again, do not repeat it." [Narrated by Ibn Abi Shaybah while Malik narrated a similar report from Ata]
In a narration by Al-Bukhari and Abu Dawud from the Prophet (peace be upon him): "If one of you is confused during prayer, let him determine the most likely correct number, complete the prayer, say the Taslim, and then perform two prostrations of forgetfulness."
Al-'Ayni said: Abu Dawud's chapter heading indicates that one should act according to the most likely assumption, as he said: "Chapter on Those who say to complete based on the most likely assumption."
عبداللہ بن مسعور رضی اللہ عنہ تے روایت ہے، انہون نے کہا کہ جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز کی تعداد اور رکعات میں شک ہوا کرے کہ تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چارتی وہ ترتی کر کے گمان غالب معلوم کرے اگراس کا گمان غالب پیہو کر اس نے تین رکعتیں پڑھی ہیں تو (وہ تیسری رکعت کے رکوع اور دونول سجدول سے فارغ ہو جائے اور چونکہ اس تیسری رکعت میں چوٹی رکعت کا کچھ اختلال ہے اس لے اس تیسری رکعت سے فارغ ہو نے کے بعد قعدہ میں بیٹھ جائے، اس لے کہ چوٹی رکعت کا قعدہ فرض ہے) اس کے بعد کہ اہو کر چوٹی رکعت ادا کرے اور چوٹی رکعت کے بعد قعدہ اخیرہ کرے اوراس میں التحیات پڑھ کر سلام پھیرے اور سہو کے دوسیہ کرے اور اگرتی کے بعد اس کا گمان غالب پیہو کر اس نے چار رکعتیں پڑھ لی ہیں تو وہ قعدہ اخیرہ کے لے بیٹھ جائے اور التحیات پڑہ کر سلام پھیرے اور سہو کے دوسیہ کرے۔ (اس کی روایت امام محمد نے کتاب الآثار میں لی ہے۔)
نماز میں جس کسی کو تعداد رکعات میں شک ہوا کرے اس کو تری کر کے اکبر را ے لیعن
گمان غالب پر عمل کرنا چاہئ اس پر تیسری حدیث
Abdullah ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) said: "If one of you is uncertain during prayer and does not know whether he prayed three or four Rak'ahs, let him determine the most likely assumption. If he thinks it is three, let him add one more, then say the Tashahhud, say the Taslim, and perform two prostrations of forgetfulness. If he thinks it is four, let him say the Tashahhud, say the Taslim, and perform two prostrations of forgetfulness." [Narrated by Muhammad in Al-Athar]
عمرو بن دینار رضی اللہ عنہ تے روایت ہے، انہون نے کہا کہ ابن عمر اور ابوبسیعی خدری رضی اللہ عنہما نے ایس شخص کے متعلق دریافت کیا گیا جس کو نماز کی تعداد (رکعات کے بارے میں) بجول ہوگی اوراس کو یاد نہیں رہا کر اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں تو ان دونول حضرات میں سے ہر ایک نے یہی فرمایا کہ وہ شخص تری کرے لیعن سوپچ کر طیک بات معلوم کرے اور ترتی کے بعد جو
بات طے کے معلوم ہوائے لحاٰظ تے اپنی نماز پوری کرے اور سلام کے بعد سے ہو کے دو سجدے کرے - (اس
کی روایت امام طحاوی نے کی ہے - )
نماز میں جس کسی کو تقداور کعات میں شک ہوا کرے اس کو تری کرے اگر راے لین
گمان غالب پر عمل کرنا چاہئے اس پر چوٹی حدیث
Amr ibn Dinar (may Allah be pleased with him) narrated that Ibn Umar and Abu Sa'id Al-Khudri were asked about a man who forgot and did not know how many Rak'ahs he prayed. They said: "He should determine the most correct number, complete the prayer, and then perform two prostrations of forgetfulness." [Narrated by At-Tahawi]
ابراہیم نخی رضی اللہ عنہ تے ایس شخص کے متعلق وریافت کیا گیا جس کسی فرض
نماز کی رکعت کے بارے میں بھول ہوئی ہواور اس کو یاد میں کر اس کے چار کعتیں ادا کی ہیں یا تین تو
ابراہیم نخی نے جواب دیا (اگر اس کو پیشک عمر جہر میں چہی بار ہواہ اور ایس شک کی اس کو عادت
نہیں) تو وہ (بات کرے یا سلام پچیر کر) نماز توڑ دے اور پچیر ازسر نوثرودے نماز پڑ ہو اور اگراس
کو بھول نے کی عادت ہے تو وہ شخص تری کر کے گمان غالب معلوم کرے اور اگراس کا غالب گمان یہ ہو
کر اس نے پوری نماز پڑ ہو لی ہے تو وہ (سلام کے بعد) سہو کے دو سجدے کرے، اور اگراس کا گمان
غالب یہو کر اس نے تین رکعتیں پڑ ہیں (تو وہ تیسری رکعت کے رکوع اور دو نون سجدول سے
فارغ ہو جاے اور چونکر اس تیسری رکعت میں چوٹی رکعت کا کچھ احتمال ہے اس لے اس تیسری
رکعت سے فارغ ہو نے کے بعد قعدہ میں بیٹھ جاے - (اس لے کر چوٹی رکعت کا قعدہ فرض ہے) اس
کے بعد کہراہو کر چوٹی رکعت ادا کرے پچیر سلام کے بعد سے ہو کے دو سجدے کرے - (اس کی روایت
امام محمد نے 'الآثار' میں کی ہے - )
نماز میں جس کسی کو تقداور کعات میں شک ہوا کرے اور اس کا گمان غالب کسی طرف
جہی قائم ہو تو اس کو کی رکعات پر عمل کرنا چاہئے
Ibrahim (may Allah be pleased with him) said regarding someone who forgets the obligatory prayer and does not know whether he prayed three or four Rak'ahs: "If it is his first time forgetting, he should repeat the prayer. If he frequently forgets, he should determine the most correct number. If he thinks he completed the prayer, he should perform two prostrations of forgetfulness. If he thinks he prayed three, he should add one more and then perform two prostrations of forgetfulness." [Narrated by Muhammad in "Al-Athar"]
عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ تے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سناتے کر آگے کسی کونماز کی (تعدادرکعات) میں ایسا
شک ہو کراس کا گمان غالب کسی طرف کچھ قائم نہیں ہوتا ہے ) مثلًا نتو چار رکعت پڑھم رہا ہے اور نہ
تمین پر اور وہ ان دونوں اختیارات میں سے کسی اختیال کو کچھ زیادہ نہیں دے سکتا ہے تو وہ اقل لیتن تین کو
اختیار کر کے تین رکعت پر نماز کی بناء کرے اور چونکہ تیری رکعت میں چوٹی رکعت کا کچھ اختیال ہے
اس لے تیری رکعت کے بعد قعدہ کر کے چوٹی رکعت کو ادا کرے، اس طرح چوٹی پڑھتے وقت اس کو
پی خیال ہوگا کروہ چوٹی رکعت پڑھرہا ہے یا پا چوپی اب تک کی رکعت میں شک تحاب زیادتی رکعت
میں شک ہور با ہے، اس وقت اگر غلطی ہوگی تو بھی ہوگی کر نماز زیادہ ہوجائے گی اور عبادات میں
زیادتی کا ہونا بہتر ہے کی ہو نے سے - ( اس کی روایت امام احمد نے کی ہے )
( اس حدیث کا ترجمہ بنایہ، مرقات اور داخترا کو پیش نظر رک کر کیا گیا ہے )
نماز میں جس کسی کو تعدادرکعات میں شک ہوا کرے اور اس کا گمان غالب کسی طرف
کچھ قائم نہ ہو تو اس کو کی رکعات پرمل کرنا چاہے اس پر دوسری حدیث
اور ترجمہ کی ایک اور روایت میں عبد الرحمن ابن عوف رضی اللہ عنہ سے، یہ
مرودی ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سناتے کر آگے کسی کونماز
کی تعدادرکعات کے بارے میں بجول ہوجائے اور اس کو ایشا کے ہو کراس کا گمان غالب کسی طرف
کچھ قائم نہیں ہور با ہے، نتو کی رکعات پرخیال چم رہا ہے اور نہ زیادتی رکعات پر اور ان دونوں
اختیارات میں سے کسی اختیال کو کچھ زیادہ نہیں دے سکتا ہے مثلًا ) اس کو پیا دیس کر ایک رکعت پڑھی
سے یادو تو اس صورت میں وہ (اقل لیتن ) ایک رکعت پر نماز کی بناء کرے ) اور چونکہ اس ایک رکعت
میں دوسری رکعت کا کچھ اختیال ہے اس لے ایک رکعت کے بعد قعدہ کر کے دوسری رکعت ادا کرے )
اور آگراس کو پیا دنے ہو کہ دور کعتیس پڑھی جس یا تین تو وہ دور کعت پر نماز کی بناء کرے ) اور دوسری
رکعت کے بعد قعدہ کر کے تیسری رکعت شروع کرے) اور اگر اس کو یاد نہ ہو کہ تین رکعتیں پڑی ہیں یا چار تو وہ تین رکعت پر نماز کی بناء کرے (اور چونکہ اس تیسری رکعت میں چوتھی رکعت کا بھی احتمال ہے اس لئے تیسری رکعت کے بعد قعدہ کر کے چوتھی رکعت شروع کرے اور سلام کے بعد) سہو کے دوسرے کرے -
سجدۃ سہود و سلام مول کے درمیان ہونے کا ثبوت
Abdur Rahman ibn Awf (may Allah be pleased with him) narrated: I heard the Messenger of Allah (peace be upon him) say, "Whoever prays a prayer and is in doubt about whether he has shortened it, let him pray until he is certain of the excess." [Narrated by Ahmad]
In another narration by Tirmidhi, Abdur Rahman ibn Awf (may Allah be pleased with him) said: I heard the Prophet (peace be upon him) say, "If one of you is in doubt during his prayer and does not know whether he has prayed one or two rak'ahs, let him assume it is one. If he does not know whether he has prayed two or three rak'ahs, let him assume it is two. If he does not know whether he has prayed three or four rak'ahs, let him assume it is three, and then perform two prostrations of forgetfulness." Tirmidhi said: This is a Hasan Sahih Hadith.
The conclusion is that three narrations have been established in this Chapter on
"If one of you is in doubt during his prayer, let him start over," or something similar.
"Whoever is in doubt about his prayer, let him strive to determine the correct number."
This hadith, which instructs building upon what is certain.
Our Imam Abu Hanifah (may Allah have mercy on him) reconciled these narrations by interpreting the first as referring to the first occurrence of doubt, the second as referring to cases where one can determine the correct number, and the third as referring to cases where one cannot determine the correct number. This is the perfection of comprehensiveness upon which the school of Imam Abu Hanifah is based, as mentioned in Sharh al-Munyah.
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص کو اپنی نماز میں شک ہوجائے تو اس سلام کے بعد سہو کے دوسرے کرے چاہے - (اس کے بعد پھر تشهد - جسیا کہ ترنڈی اور دیگر محمد شیخ نے عمران بن حسین رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے جو آگے آرہی ہے-) درود اور دعاے پر ہو کر نماز سے باہر آنے کے لئے دوبارہ سلام پھیرے - (اس کی روایت البوداووی نے کی ہے-)
سجدۃ سہود و سلام مول کے درمیان ہونے کا ثبوت پر دوسرا حدیث
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں شک ہونے کی وجہ سے سلام پھیرنے کے بعد سجدہ سہود فرمایا - (اس کی روایت نسائی نے کی ہے-)
سجدۃ سہود و سلام مول کے درمیان ہونے کا ثبوت پر تیسری حدیث
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (peace be upon him) performed prostrations of forgetfulness after the salam due to uncertainty. [Narrated by Nasa'i]
علقہ رضی اللہ عنہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سلام پھیرنے کے بعد سہو کے دوسرے کرے ادا کے اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس طرح کیا ہے - (اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے اور ترنڈی نے مجھی اس طرح روایت کی ہے-)
Alqamah reported that Ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) performed two prostrations of forgetfulness after the salam and mentioned that the Prophet (peace be upon him) did the same. [Narrated by Ibn Majah, and Tirmidhi narrated something similar]
روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہری عصر کی نماز کو (بجاۓ چار رکعت کے سہواً کم کر کے ) دو رکعتیں پڑھیں (اور ایک صحابی کے یاد دلانے پر ) باقی دو رکعتیں پڑھ کر سلام پچیرا، پھر تھوہیر کہہ کر سجدہ فرمایا، پھر تھوہیر کہہ کر سرا اٹھایا، پھر تھوہیر کہہ کر سجدہ فرمایا، پھر تھوہیر کہہ کر سرا اٹھایا، اس کے بعد آپ پنے (نماز سے باہر ہونے کے لے دوبارہ ) سلام پچیرا۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔)
حسین بن رضی اللہ عنہما سے (ایک طویل ) حدیث میں مرودی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (عصر کی نماز بجاۓ چار رکعت کے سہواً کم کر کے ) تین رکعتیں پڑھا یں (اور ایک صحابی کے یاد دلانے سے ) باقی ماندہ ایک رکعت پڑھ کر سلام پچیرا پھر سہود کے دو سجدے کے اور اس کے بعد (نماز کے باہر آنے کے لے دوبارا ) سلام پچیرا۔
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
ف : ان دونوں حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے کہ جب سہود و سلام مول کے درمیان ہوتا ہے، اور نہ سہود ہی ہی ہے۔
Imran ibn Husayn (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) prayed Asr and said the salam after three rak'ahs. He then entered his house, and a man named Khirbaq, who had long arms, came to him and mentioned what he had done. The Prophet (peace be upon him) came out angrily, dragging his cloak, and asked, "Is what he said true?" They replied, "Yes." So he prayed one rak'ah, said the salam, performed two prostrations, and then said the salam again. [Narrated by Muslim]
محمد بن صالح بن علی بن عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے محمد بن صالح نے کہا کہ میں نے اس بن ماک رضی اللہ عنہ کے پچپی ایک نماز پڑھی تو نماز میں ان سے سہواً ہوگیا، اس پرانہول سے سلام پچیر کر سہود کے دو سجدے کے (اور ختم نماز پر )ہماری طرف متوجہ ہو کر اس
رضی اللہ عنہ نے فرماياوا ضح ہو کر (سلام پچھر کر میں نے سہو کے دوسبدے کے بین) یا ایا عمل ہے جس کو میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ (اس کی روایت طبرانی نے کی ہے۔)
نماز میں سجدہ سہو کے بعد دوبارہ تشهد پڑھنا کا ثبوت
Muhammad ibn Salih ibn Ali ibn Abdullah ibn Abbas reported that he prayed behind Anas ibn Malik (may Allah be pleased with him), who made a mistake in the prayer and performed two prostrations after the salam. Anas then turned to them and said, "I only did what I saw the Messenger of Allah (peace be upon him) do." [Narrated by Tabarani]
In a narration by Tirmidhi, Abu Dawud, and Nasa'i from Imran ibn Husayn (may Allah be pleased with him), the Prophet (peace be upon him) led them in prayer, made a mistake, performed two prostrations, then recited the tashahhud and said the salam. Tirmidhi said: This is a Hasan Gharib Hadith. Hakim and Ibn Hibban narrated something similar, and Hakim said it is Sahih according to the conditions of Bukhari and Muslim. In Umdat al-Ri'ayah, it is mentioned that this indicates the tashahhud before the prostrations is invalidated, and one must recite it again afterward.
حضران بن حصین رضی اللہ عنہما سے مردی سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحاب کو نماز پڑھائی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سہو ہوگیا اس پر آپ نے (سلام کے بعد) دوسبدے کے اور اس کے بعد تشهد پڑھا (اور نماز سے باہر آنے کے لئے پچر) سلام پچھرا۔ (اس کی روایت ترمذی، ابوداود اور نسائی نے کی ہے اور حاکم اور ابن حبان نے بھی اس طرح روایت کی ہے اور حاکم نے کہا ہے کہ یہ حدیث بخاری اور مسلم کی شرط کے موافق ہے، اس لئے صحیح ہے۔)
ف: عمدۃ الرعاية میں لکھا ہے کہ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ سہو کے سبدول کی وجہ سے سبدول کے پیلے جو تشهد پڑھنا جاتا ہے اس کا شمار دویں ہوتا، اس لئے سہو کے سبدول کے بعد پچر تشهد پڑھنا چاہیے۔ (اور دوبارہ تشهد پڑھنا کے بعد حسب قاعدہ درود اور دعاے پڑھ کر نماز سے باہر آنے کے لئے سلام پچھرا۔)
سجدہ سہو و سلام مول کے درمیان ہونے کے ثبوت پر ایک اور حدیث
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ایک بار) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز میں چار رکعت کے بعد قعدہ اخیرہ کر کے ایک رکعت کی زیادتی سے پاتھ رکعتین پڑھا میں (ایک صحابی کے یاد دلانے پر) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پچھر کر سہو کے دو سبدلے کے (پچر تشهد درود اور دعاے پڑھ کر) آپ نے (نماز سے باہر آنے کے لئے پچر) سلام پچھرا۔ (اس کی روایت بخاری اور ابوداود نے کی ہے۔)
نماز میں سہواً کی بھویازیادتی ہر دو صورت میں سلام پچھیر کر سہوا کے دو حجے کرنا کافی ہوتا ہے۔
ف: واقعہ ہو کر ابین سیرین اور عمران بن حسین رضی اللہ عنہم کی دونوں حدیثیں جو اوپر گزر چکی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں کیا کیا ہو نے سے سلام پچھیر کر سہوا کے دو حجے کرنا چاہئے۔ اور اس طرح ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی نذکور الصرحدیث سے بھی بھی معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں زیادتی ہو نے سے بھی سلام پچھیر کر سہوا کے دو حجے کرنا چاہئے۔ اس طرح ثابت ہوا کہ نماز میں سہوا آخواہ کی بھویازیادتی دونوں صورتوں میں سلام پچھیر کر سہوا کے دو حجے کریں، پچھر شہد (دروداور دعا پڑھ کر نماز سے باہر آنے کے لے پچر) سلام پچھیر کر سہوا کے نہیں چاہئے۔
(پیغمبر مرقات سے ماخوذ ہے)
نماز میں سہوا کی بھویازیادتی سے ہر دو صورت میں سجدہ سہوا دا کرنا کا ایک یہ طریقہ ہے۔
Abdullah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) prayed Zuhr with five rak'ahs. He was asked, "Has the prayer been increased?" He replied, "What is that?" They said, "You prayed five rak'ahs." So he performed two prostrations after the salam. [Narrated by Bukhari and Abu Dawud]
ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرما تے ہو نے سنا کہ نماز میں سہوا کے لے (خواہ سہوا کی وجہ سے بھویازیادتی کی وجہ سے) سلام پچھیر نے کے بعد دو حجے ہیں۔ (اس کی روایت ابن ماجراورابوداود نے کی ہے اورامام احمد، عبد الرزاق اورطبرانی نے بھی اس طرح روایت کی ہے۔)
نماز میں سہوا قعدہ اولی کے بغیر کہرے سے بھوجا تین تو کیا کرنا چاہئے۔
Thawban (may Allah be pleased with him) narrated that he heard the Messenger of Allah (peace be upon him) say, "For every mistake, there are two prostrations after the salam." [Narrated by Ibn Majah and Abu Dawud, and Ahmad, Abdur Razzaq, and Tabarani narrated something similar]
شعیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں سہوا رضی اللہ عنہ نے میں کو نماز پڑھائی تو وہ دور کعتون کے ختم پر (سہوا قعدہ اولی کے بغیر) کہرے ہو گیا (ان کی غلطی
محسوس کرنا نہ کے لئے) مقصد یول نے سجان اللہ کہا تو مغیرہ رضی اللہ عنہ نے (قعدہ کی طرف لوٹ
بغیر خود کی ) سجان اللہ کہا (تا کر مقصدی کچھ کہرے بھوجا گیا) اور جب انہوں نے نماز پوری کی تو
سلام پچھیرا اور سہو کے دو تحدبے بیٹھ بیٹھ کے (خلاف سجدہ تلاوت کے کراس کو کہرے بھوکرادا کرنا
مسنون ہے اور سہو کے سجدول میں کہرے ہونا نہیں ہے) نماز سے فارغ ہو نے کے بعد مغیرہ بن
شعبہ نے حاضرین سے کہا کہ (ایس مو قع پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھی ایسائی کیا تحاجسیا
کہ میں نے (اس وقت) کیا ہے-
(اس کی روایت تزندی نے کی ہے-)
نماز میں سہو قعدہ او لی کے بغیر کہرے بھوجا گیا کرنا چاہئے اس پر دوسری حدیث
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے روایت کہ، انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی تو آپ پے سہو بھوگیا کر (آپ قعدہ او لی کے بغیر) دور کعتون کے بعد
کہرے بھوگے ہم نے اطلاع کی خاطر سجان اللہ کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (قعدہ او لی کی
طرف لوٹ بغیر) اسی حالت میں نماز جاری رکھی اور جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پوری فرمائی
تو سلام پچھیرا کر سہو کے دو تحدبے ادا کیے-
(اس کی روایت طحاوی نے کی ہے-)
نماز میں سہو قعدہ او لی کے بغیر کہرے بھو نے گلیس تو کیا کرنا چاہئے؟
وَصَلَّى اللَّهُ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ نَبِيِّ الْأُمِّيِّ وَعَلَى آلِهِ الْكِرَامُ وَصَحْبِهِ الْعِظَامِ
بَارَكَ وَسَلَّمَ ، وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنَّ اللَّهُمُدْ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ .
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے روایت کہ، انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب امام دور کعتون کے بعد (قعدہ او لی کے بغیر سہوآ) کہرہ اہو نے گا اور
سیرہ اہو نے سے قبل (جب تک زمین سے جدا ہو نے سے پہلے) قعدہ او لی نہ کرنا یاد آ جائے تو وہ
(قعدہ او لی کے لئے) پیچھے جائے (اور مفتی جیہے کراس صورت میں سجدہ سہو نہ کرے) اور اگر امام
قیام کے قریب ہوگیا ہے (لیکن اس کے گھٹنے زیادہ سے جدا ہوچکے پہلے تو وہ قعدہ اولی کے لئے) نہ
بیٹھا اور (نماز پوری کر کے قعدہ اولی نہ کرنے کی وجہ سے) سہو کے دو حجرے ادا کرے۔
(اس کی روايت ابودا و داود را بن ماجہ نے کی ہے۔)
احمد شاہ کے وفات کی سے آج بھارت کے 11 رجب الثانی 1380 ہجری یوم دوشنبہ مطابق 3 راکتوبر 1960ء زجا جہ المصا ح کے اردو ترجمہ کی بہ "نور المصابیح" کا دوسرا حصہ کتاب الصلاۃ سے شروع ہو کر باب السہو پڑھو ری تشریحات اور مباحث کے ساتھ کامل ہوا جو بدیع ناظرین کرام سے دعا کے اللہ تعالیٰ اس کی افادیت کو عام فرمائے اور مولف علیم مذہب کے ساتھ عاطفت کورپا سلامت باکرامت رکھ آئیں! امید ہے کہ اس کا تیرا حصد کی باب سجود القرآن سے شروع ہو کر ان شاء اللہ تعالیٰ اس طرح تکمیل کو پیچھے گا۔
رجب الثانی، 1380 ہیوم دوشنبہ
مطابق 3 راکتوبر 1960 عیسوی
منشی اب
مجلس نشر و اشاعت نور المصابیح
حسین علم