Nūr al-Maṣābīḥ
بَابُ فَضْلِ الأَذَانِ

وَ أَفْضَلِيَةِ الإِمَامَةِ وَاجَابَةِ الْمُؤَذِّنِ

The Virtues of the Adhan, the Excellence of Leading Prayer, and Responding to the Mu'adhdhin
Volume 2 · Prayer

(یہ باب اذان کی فضیلت اور امام کے موؤدن پرا فضل ہونے اور موؤزن کے کلمات کا جواب دینے کے بیان میں)

وقول اللہ عز و جل: "وَمَنْ آمَنَ قَوْلاً مِّنْ دَعَا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صَالِحاً" - اور ارشاد باری تعالیٰ ہے (سورۃ حم السجده،پ:24،ع:5،آیت نمبر:33،میں)اوراس کے بہتر کس کی بات ہوسکتی ہے جو (لوگوں کو) خدا کی طرف بلاے اور نیک عمل کرے۔ موؤزن کی ذمہداریوں کا بیان

This chapter discusses the virtue of the Adhan, the excellence of the Imam’s call, and the importance of responding to the words of the Mu'adhin.

And Allah, the Exalted and Glorious, says: “And whoever believes in a word from one who calls to Allah and does righteous deeds” - and the guidance is from the Lord Almighty (Surah Sajdah, Part 24, Section 5, Verse 33), and who could be better than one who calls people to Allah and performs righteous deeds? The responsibilities of the Mu'adhin are as follows:

1011

- ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلما نوں کے دو چیزوں کی ذمہداری موؤزن کی گردان پر ہے:(1) ایک تو مسلما نوں کے روزوں کی ذمہداری اور(2) دوسروں مسلما نوں کے نمازوں کی ذمہداری (اس لئے موؤزن کو چاہے کرتے وقت ازاں دے تاکہ نماز اور روزوں میں خلل نہ ہو)- (اس کی روایت ابن مجہے کی ہے-)

اذان دینے والے کی فضیلت

It is narrated from Ibn 'Umar (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Two things are hung around the necks of the Mu'adhdhins of the Muslims: their fasting and their prayer." [Narrated by Ibn Majah]

1012

- معاویر ضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سناتا کہ اذان دینے والے قیامت کے دن سب سے زیادہ دراز گردان (معنی شاندار) ہوں گے-(اس کی روایت مسلم نے کی ہے-)

اذاں کی فضیلت اوراس سے شیطان کا بھاگنا

It is narrated from Mu'awiyah (may Allah be pleased with him) that he said: I heard the Messenger of Allah (peace be upon him) say: "The Mu'adhdhins will have the longest necks on the Day of Resurrection." [Narrated by Muslim]

1013

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہول نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب نماز کیے اذان دی جائے تو شیطان اذان نہ سن کی غرض سے گوز مارتے ہوتے ہیں ہوا چھوڑتے ہوئے پشت پچھر کر بھاگتا ہے اور جب اذان ختم ہوجائے تو واپس آتا ہے اور جب نماز کیے اقامت ہوتی ہے تو پچھر بھاگتا ہے اور جب اقامت ختم ہوجائے تو پچھر والپس آکر نمازی کے دل میں وسوے ذاتار ہمتا ہے اور کہتا ہے کہ فلان بات یاد کرو، اور فلان بات یاد کرواوروہوہ با تمی یاد لاتا رہتا ہے جواتے پیلے یاد نہیں، بالآخر آدمی بھول جاتا ہے کہ اس نے کتنی نماز پڑھی۔

اذاں کی فضیلت اوراس سے شیطان کے بھاگنے پردوسری حدیث

It is narrated from Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "When the call to prayer is made, Satan flees, passing wind so as not to hear the Adhan. When the call is finished, he returns. When the Iqamah is called, he flees again, and when it is finished, he returns to whisper into the heart of a person, saying, 'Remember this, remember that,' about things the person had not remembered, until the person does not know how many Rak'ahs he has prayed." This is agreed upon (by Al-Bukhari and Muslim]

اس کی روايت بخاری اورمسلم نے متفق طور پرکی ہے
1014

جا بر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہول نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنایا کہ جب شیطان نماز کی اذان سنتا ہے تو وہ بھاگتا ہوا روحاتک چلا جاتا ہے راوی کہتے ہیں کہ روحامدینہ منورہ سے چھٹتیس میل کے فاصلے پر ہے۔

اذاں دینے والے کی فضیلت پردوسری حدیث

It is narrated from Jabir (may Allah be pleased with him) that he said: I heard the Prophet (peace be upon him) say: "When Satan hears the call to prayer, he runs away until he reaches Rawha." The narrator said: Rawha is thirty-six miles from Madinah. [Narrated by Muslim]

اس کی روايت مسلم نے کی ہے
1015

ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہول نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس کسی نے خواہ جتنہ ہو انسان یا کونی اور چیز موؤزن کی اذان سنی ہو تو یہ سب قیامت کے دن موؤزن کیے گوائی دیے گے۔ (اس کی روایت بخاری نے کی ہے)

بلند آواز سے اذان دینے والے اور باجماعت نماز پڑھنے والے کی فضیلت

It is narrated from Abu Sa'id Al-Khudri (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "No jinn, human, or anything else hears the voice of the Mu'adhdhin without testifying for him on the Day of Resurrection." [Narrated by Al-Bukhari]

1016

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیہے، انہول نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جتنی دور تک موؤن کے ازان کی آواز پہنچتی ہے اتنیاس کی جخش ہوتی ہے۔ لیعن اگر گناہوں کا جسم فرض کیا جائے اور انہیں گناہ ہونے کے جہاں تک آواز پہنچتی ہے اتنے حسنین وہ بجر جائے ہی تو سارے گناہ معاف کردیے جائے گی اس لے موؤن کو چاہے کہ بآواز بلند اپنی پوری قوت کے ساتھ اذان دیا کرے۔ اور موؤن کے لے ہرتر اور خشک شے گوئی دے گی اور نماز باجماعت ادا کرنے والے کیلے پچپس نماز ون کا ثواب کے حا جاتا ہے اور باجماعت نماز ادا کرنے والے کی دوباجمعت ادا کے جانے والی نماز ون کے درمیانی اوقات کے گناہ مجھی بخش دیے جائے گی۔ اس کی روایت امام احمد، البوداووداور ابن ماجہ نے کی ہے اور نسائی نے ہرتر اور خشک کے ذکر کے روایت کرنے کے بعد وَلَہُ مِثلُ أَجْرِ مَنْ صَلَّى ( لیعن موؤن کوسب نماز یون کے ثواب کے برابر ثواب لیگا ) کا اضافہ کیا ہے۔

اخلاص کے ساتھ بغیر دکھاوے کے اذان دینے والے کی فضیلت

It is narrated from Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "The Mu'adhdhin is forgiven as far as his voice reaches, and every wet and dry thing testifies for him. The one who attends the prayer is written twenty-five prayers, and it expiates his sins between them." [Narrated by Ahmad, Abu Dawud, and Ibn Majah]

Al-Nasa’i narrated it up to the words: "Every wet and dry thing," and added: "He receives the reward of those who pray with him."

1017

ابن عباس رضی اللہ عنہما نے روایت کیہے، انہول نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص سات برس تک بغیر دکھاوے کے اللہ کی رضا جوئی اور ثواب کیلے اذان دیتارہ تو اس کیلے جہنم کی آگ سے برآت لیجن نجات کے دی جائی ہے۔ اس کی روایت ترمذی، البوداووداور ابن ماجہ نے کی ہے۔)

اذاں اور اقامت کیے والے کی فضیلت

It is narrated from Ibn 'Abbas (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Whoever calls the Adhan for seven years, seeking reward, will be granted freedom from the Fire." [Narrated by Al-Tirmidhi, Abu Dawud, and Ibn Majah]

1018

ابن عمر رضی اللہ عنہما نے روایت کیہے، انہول نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص بارہ برس تک اذان دیتارہ تو اس کیلے جنت واجب ہوجائی ہے، اور اذان

ویں کی وجہ سے اس کیے روزانہ پردازش پرساں نیمیالاورا قائم کہنے کی وجہ سے پرآمدت پرتین

(30) نمیال کہی جاتی ہے - (اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے - )

قیامت کے دونوں تین شخص مشک کے میلون پرہول گے

It is narrated from Ibn 'Umar (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Whoever calls the Adhan for twelve years, Paradise becomes obligatory for him, and he is written sixty good deeds for every Adhan and thirty good deeds for every Iqamah." [Narrated by Ibn Majah]

1019

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

نے ارشاد فرمایا کہ تین آدمی قیامت کے دونوں مشک کے میلون پر ہیں گے (1) ایک وہ غلام جس نے

اللہ کا حق ادا کیا اور اپنے ما لک کا حق ادا کیا اور (2) دوسرا وہ شخص جولوگوں کی امامت کرتا رہا اور

لوگ اس سے خوش رہے، اور (3) تیسرا وہ شخص جو دن رات پا چوں نماز وں کی اذان دیتا رہا -(اس

کی روایت ترمذی نے کی ہے - )

اذاں کی فضیلت

It is narrated from him (Ibn 'Umar) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Three people will be on hills of musk on the Day of Resurrection: a slave who fulfilled the rights of Allah and his master, a man who leads a people in prayer and they are pleased with him, and a man who calls to the five prayers every day and night." [Narrated by Al-Tirmidhi]

1020

ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے

ارشاد فرمایا: اگر لوگوں کو معلوم ہوتا کہ اذان دینے میں کیا فضیلت ہے تو (ہر شخص اذان دینا چاہتا اس

لے ) اذان دینے کیلئے تلواریں لے کر لڑ پڑتے -(اس کی روایت امام احمد نے کی ہے - )

دارالگفر میں اذان کی آواز سنائی دے تو حمل کرنا جا زمزہ بین

It is narrated from Abu Sa'id Al-Khudri (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "If people knew what is in the Adhan, they would fight over it with swords." [Narrated by Ahmad]

1021

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

(جس کسی قوم پر حملہ کرتے تو ) صحابہ صادق طلوع ہوئے کے بعد حمل کیا کرتے اور اذان کی طرف کان

لگا ئے منتظر رہتے اگر وہال سے اذان سنائی دیتے تو رک جاتے ورنہ (اس بستی پر) حمل کردیتے تو،

ایک بار کسی شخص کے پیالفاظ سے "اللہ أكبر اللہ أكبر"، تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"عَلَى الْفِطْرَةِ"، یا سلام پر ہے (کیونکہ مسلمان ہی اذان کیتے ہیں) پھراس شخص نے "أشهد أن لا إله إلا الله" کہا (یعنی میں گواہ ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبد نہیں ہے) کہا تورسول اللہ صلی اللہ

علیہ وسلم نے فرمایا کہ (توحید کے اقرار سے) تم جنہم کی آگ سے نکل گئے ہو، صحابہ نے دیکھا تو وہ شخص بڑیان چرانے والاتھا_ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے_)

امام کے فضل ہونے کا بیان

It is narrated from Anas (may Allah be pleased with him) that he said: The Prophet (peace be upon him) would launch raids at dawn, and he would listen for the Adhan. If he heard the Adhan, he would hold back; otherwise, he would attack. Once, he heard a man saying, "اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ," and the Messenger of Allah (peace be upon him) said, "He is upon the Fitrah (natural disposition)." Then the man said, "أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ," and the Messenger of Allah (peace be upon him) said, "You have been saved from the Fire." They looked and found that he was a shepherd. [Narrated by Muslim]

1022

عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہول نے کہا کہ جب رسول اللہ صلی علیہ وسلم کی وفات ہونے تو النصاری نے کہا کہ تم میں سے ایک امیر ہواورآپ (مهاجرین) میں سے ایک امیر ہوتا ان کے پاس حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اور کہا کہ کیا آپ لوگوں کو معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تھا کہ وہ لوگوں کونماز پڑھائی تو (اب میں تم پوچھتا ہوں کہ) وہ کون شخص ہے (جو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ہوتے ہوئے) ان سے سبقت کرنے کو پسند کرتا ہے، سب نے بیک زبان کہا کہ تم حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ پر سبقت کرنے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ ماگئے ہیں_

(اس کی روایت نسائی نے کی ہے_)

ف(1): امام ابن حمّام رضی اللہ عنہ نے کہا ہے کہ ہمارے پاس ازان دینے کے امامت کرنا فضل ہے اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امامت کرنے پر داومت فرمائی ہے اور اس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافت راشدین رضی اللہ عنہم نے بھی امامت کرنے کی تمسک پابندی کی ہے_

ف(2): واضح ہو کہ ہمارے پاس اذان دینے کے امامت کرنا فضل ہے، اس کے برخلاف امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس امامت کے اذان دینے کے فضل ہے، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے اذان کی فضیلت پر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی جس حدیث کے استدلال کیا ہے وہ حدیث پیہ کہ "الامام ضامن و المؤذن مؤتمن . اللہم ارشد الآئمة و اغفر للمؤذنين" امام ضامن ہے_( کہ مقتریوں کی نماز کی صحت امام کی صحت نماز پر محصربہ)اورموؤذن امامت دار ہے_( کلوگ نماز ول کے پٹہن اورروزول کے افطاریں موؤذن پراعتماد کرتے ہیں)اللہاما سون کعلم عمل کی بدایت فرماورموؤذنوں کو خش دے_

امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا اس حدیث کے استدلال پیہ کہ ایمن کی حالت ضامن کی حالت

سے فضل ہوتی ہے۔ اس لئے امام پر موٹوں کو فضیلت حاصل ہے، لیکن اس حدیث کے بارے میں اشتعلاً

المعدات میں کہا ہے کہ اس حدیث سے امام اور موٹوں میں کسی کی فضیلت ظاہر کرنے مقصود نہیں ہے بلکہ

حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرا کے حال کو بیان فرمادے ہردو کیلے دعا کے خیر فرمائی ہے - اشعیاً

المعدات کی عبارت ختم ہوتی )

اگراس حدیث سے کسی ایک کی فضیلت ظاہر کرنے مقصود ہے تو درحقیقت امام کی فضیلت

معلوم ہوتی ہے کہ موٹوں توصرف اوقات نماز پرامین ہے حالاکہ امام ارکان نماز کا ضامن ہوتا ہے، نیز

امام وقت وعاء مقتریول اور پروردگار کے درمیان سفارت اور واسطہ کا کام دیتا ہے، یکہوالاور وہ

کہا؟ امام فضل کیون نہ ہو کروہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خلیفہ ہے اورموٹوں بالل رضی اللہ عنہ کا

جاشیبن ہے، اس سے۔خوبی ظاہر ہے کراماماورموٹوں میں فضل کون ہے؟ علاوہ از یہ حضرت صلی اللہ علیہ

وسلم نے اماموں کیلے راہ حق پر قائم رہنے کی دعا فرمائی ہے اورموٹوں میں کیلے مغفرت کی دعا فرمائی

ہے، واخ ہو کر راہ حق پر قائم رہنے کی دعا مغفرت کی دعا سے اعلیٰ وارفع ہے کیون کر مغفرت کا تقاضہ یہ

ہے کہ پکڑناہ مرزد ہو یہ جیلان کی جخشش کی دعا کی جارہی ہے اس کے برخلاف راہ حق پر قائم

رسے کا تقاضہ مقصود کو پالی ناہے - (یمرقیات میں نذور ہے -)

امامت کے فضل ہو نے کی تا سیر میں اورحد ثبت کی جوزیل میں آری ہیں -

امام کے فضل ہو نے پر دوسری حدیث

It is narrated from 'Abdullah (may Allah be pleased with him) that when the Messenger of Allah (peace be upon him) passed away, the Ansar said, "Let there be a leader from us and a leader from you." 'Umar came to them and said, "Do you not know that the Messenger of Allah (peace be upon him) commanded Abu Bakr to lead the people in prayer? Which of you would feel comfortable surpassing Abu Bakr?" They said, "We seek refuge in Allah from surpassing Abu Bakr." [Narrated by Al-Nasa’i]

Imam Ibn Al-Humam said: "In our view, leading prayer is superior to calling the Adhan (1) because of the Imam's consistent role in it, and the same applies to the rightly guided Caliphs after him."

(1) Explanation of the statement: "Leading prayer is superior to calling the Adhan in our view":

The Shafi'i school uses the hadith of Abu Hurairah: "The Imam is a guarantor, and the Mu'adhdhin is a trustee. O Allah, guide the Imams and forgive the Mu'adhdhins," to argue that the Adhan is superior to leading prayer because the trustee is in a better position than the guarantor. However, this trustee only manages the timing, while the guarantor oversees the pillars of prayer and acts as an intermediary between the people and their Lord in supplication. How can the two be compared? The Imam is the successor of the Messenger of Allah (peace be upon him), while the Mu'adhdhin is the successor of Bilal. Moreover, the supplication for guidance is higher than the supplication for forgiveness, as forgiveness implies prior sin, while guidance implies achieving one's goal. This is supported by the following hadiths, as mentioned in Al-Mirqat.

f(1): Imam Ibn Humam (RA) has stated that leading the prayer and giving the call to prayer is meritorious because the Messenger of Allah ﷺ emphasized leading the prayer, and after him, the Rightly Guided Caliphs (RA) also adhered firmly to leading the prayer.

f(2): It is clear that leading the prayer and giving the call to prayer is meritorious for us. In contrast, Imam Shafi'i (RH) holds that giving the call to prayer is more meritorious than leading the prayer. Imam Shafi'i (RH) based his argument on the hadith narrated by Abu Hurairah (RA), which states: 'The imam is a guarantor, and the mu'adhin is trustworthy. O Allah, guide the imams and forgive the mu'adhins.' The imam is a guarantor (meaning that the correctness of the congregation's prayer depends on the correctness of the imam's prayer), and the mu'adhin is a trustee (because people rely on the mu'adhin for the times of prayer and breaking fast). O Allah, initiate knowledge and action through them and grant forgiveness to the mu'adhins.

Imam Shafi'i (RH) argued that the state of being an imam is more meritorious than the state of being a guarantor. Therefore, the imam has greater merit over the mu'adhin. However, it is mentioned in Ash-Shi'a Al-Mu'adah that the purpose of this hadith is not to indicate the superiority of either the imam or the mu'adhin, but rather to describe their respective roles and to invoke blessings and forgiveness for both.

If the purpose of this hadith is to indicate the superiority of one over the other, then in reality, the imam's superiority is evident because the mu'adhin merely announces the times of prayer, whereas the imam is responsible for ensuring the correctness of the prayer and acts as an intermediary between the worshippers and their Lord. Moreover, the imam is the successor of the Messenger of Allah ﷺ and the mu'adhin is like a companion to him, which clearly shows who has greater merit. Additionally, the Messenger of Allah ﷺ invoked guidance for the imams to remain on the right path and forgiveness for the mu'adhins, and the invocation for remaining on the right path is higher and nobler than the invocation for forgiveness, as forgiveness is sought when one has committed a sin, while the invocation for remaining on the right path is for achieving the ultimate goal.

The merits of leading the prayer and giving the call to prayer are established in various traditions and hadiths.

1023

حضرت علي رضي الله عنه روايت ہے کہ انہوں نے کہا کر رسول الله صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمايا کہ مسجد میں تمام لوگوں میں افضل امام ہے اور امام کے بعد موٹوں ہے اوران دونوں کے بعد وہ شخص ہے جو امام کی سیدھی جانب ہو - (اس کی روايت دیلمى نے اپنی مسندي میں کی ہے)

حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت ہے کہ انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مسجد میں تمام لوگوں میں افضل امام ہے اور امام کے بعد موڑنے ہے اور ان دونوں کے بعد وہ شخص ہے جو امام کی سیدھی جانب ہو۔ (اس کی روایت دیلمى نے اپنی مسندي میں کی ہے)

امامت کے مستحق کون ہیں؟

Who is worthy of leadership?

1024

ما لك بن الاكبر ث رضي الله عنه روايت ہے، انہوں نے کہا کہ تم ہے

رسول الله صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمايا کہ تم اس طرح نماز پڑھو جس طرح تم نے مجھے نماز پڑھتے

جو سے میں پھر تم میں کوئی شخص اذان دے پھرتم میں سے۔

علم میں یاعمر بن )سب سے بر اہمووه امامت کرے -

(اس کی روايت بخاري اور مسلم نے متفرق طور پرکی ہے -)

ف : مرقات میں کہاہے کہ اس حدیث سے امامت کی اذان پرضیلت ثابت ہوتی ہے کیون

کرازان دین والے کسی قسم کی شرط میں لگائی جائے اس کے برخلاف امام کیلے برے ہو نے کی شرط

لگائی گئی ہےاورپرامامت کے فضل ہو نے کی واضح ترین دلیل ہے

امام کے فضل ہو نے پرتیری حدیث

It is narrated from Ibn 'Abbas (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Let the best among you call the Adhan, and let your reciters lead you in prayer." [Narrated by Abu Dawud]

1025

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمايا کہ رحمت سب سے پہلے امام پرانزل ہوتی ہے، پھراس شخص پرانزل ہوتی جو امام کے سیدے جانب (قریب ہو نے میں )اول ہے، پھراس کے بعد جو اول ہے اس لحا ظ سے رحمت نازل ہوتی جاتی ہے -(اس کی روایت ابواشخ نے کی ہے -)

امام کے فضل ہو نے پرچوٹی حدیث

It is narrated from Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Mercy descends upon the Imam, then upon the one to his right, then the next, and so on." [Narrated by Abu Ash-Shaikh]

1026

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمايا کہ تم ان لوگول کو امام بنایا کرو جوتم میں سب سے اچھے ہووال اس لے کروہتمہارے او رتمہارے رب کے درمیان نمازندے ہو تے ہیں -

(اس کی روایت دارقطنی نے کی ہےاوریہقت نے سنن میں اورطرانی نے کبیر میں اس طرح روایت کی ہے -)

ازان کے کلمات کا جواب دینے کی فضیلت

It is narrated from Ibn 'Umar (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Make your Imams the best among you, for they are your intermediaries between you and your Lord." [Narrated by Al-Daraqutni and Al-Bayhaqi in As-Sunan while At-Tabarani narrated something similar in Al-Kabir]

1027

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نعم رسول اللہ صلی اللہ

علیہ وسلم کے ساتھ ہے، بلال رضی اللہ عنہ اٹھ کر اذان دینے لگے، جب بلال رضی اللہ عنہ خاموش

ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائا کہ جو شخص (موڑنے کی طرح) لپیٹنے کے ساتھ اذان کے

ہر کلمہ کا جواب دیتا جائے تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔

(اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔)

ازان کے کلمات کا جواب دینے کی فضلیت پر دوسرا حدیث

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک شخص نے

عوض کیا کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) بے شک اذان دینے والے کو تم پرفضلیت رکھتے ہیں تو

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم مجھی جس طرح موڑنے کیتے ہیں کہا کرو اور ججب تم اذان

کے جواب سے فارغ ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ سے دعا مانگو تو تجہاری دعا قبول ہو گی۔ (اس کی روایت

ابوداود نے کی ہے۔)

ازان کے کلمات کا جواب دینے کی فضلیت پرتیری حدیث

جابر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

نے ارشاد فرمایا کہ اذان دینے والے اور اذان کا جواب دینے والے اپنی اپنی قبروں سے اس طرح

تلخیص کے موڑنے اذان دے ر باہوگا اور جواب دینے والا جواب دے رباہوگا۔

(اس کی روایت طبرانی نے الاوسط میں کی ہے۔)

ازان سننے والوں کی الفاظ دہرائے جوموڑنے کیتاہے، پھر درود پڑھے، پھر حضرت صلی اللہ

علیہ وسلم کیے مقام وسیلے کی دعا کرے

عبداللہ بن عمر و بن الحاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ

It is narrated from Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) that he said: We were with the Messenger of Allah (peace be upon him) when Bilal stood up to call the Adhan. When he finished, the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Whoever says this with certainty will enter Paradise." [Narrated by Al-Nasa’i]

1030

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم موؤذن کو ازان دیتے ہو تو سنوتے تم بھی موؤذن کی طرح کہو جو وہ کہتا ہے۔ پھر جب پروردگار کہیں، اس لئے کہ جو مجھ پرا کی دعا درود کیجیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس ایک درود کے بدلا اس پردس دفع رحمت کیجیتا ہے۔ پھرتم اللہ تعالیٰ سے میرے لئے مقام و سیلم ملک کی دعا کرو، کیون کہ وسیلم جنت میں ایک اپیاد رحمہ جو اللہ تعالیٰ کے بندرن میں سے کسی ایک کی کیلے خصوص ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ وہ بندہ میں ہی ہوں گا (جس کو مقام و سیلم ملگا) تو جو شخص میرے لئے مقام و سیلم کے ملک کی دعا کرے گا اس کیلے میری شفاعت لازم ہوگی - (اس کی روایت مسلم نے کی ہے)

ف: اس حدیث میں ذکور ہے کہ تم بھی اس طرح کہو جو موؤذن کہتا ہے اس سے مراد یہ ہے از ان سن وا لے پروا جب ہے کہ موؤذن جمن الفاظ کو ادا کرے، جواب دین والاجب انہی الفاظ کو جواب میں ادا کرتا جائے لیکن امام حلوانی نے کہاہے کہ موؤذن کا جواب دیناز بالن سے مستحب ہے اور وا جب ہے کہ از ان سن ئی مسجد کی طرف پلیتا کہ جماعت فوت نہ ہو اگر ازا نسن کرمسجد کو نہ جائے تو ترک واجب سے گنجگار ہو گا۔

(پیدرمختار میں ذکور ہے اور در مختار میں اس جلد او ربحی تفصیل ہے -(جس کی تشریح ردالمختار میں کی گئی ہے)

اذا ن میں "حَیّ عَلَى الصَّلوۃ" اور "حَیّ عَلَی الفَلاح" کا جواب

It is narrated from 'Abdullah ibn 'Amr ibn Al-'As (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "When you hear the Mu'adhdhin, say what he says, then send blessings upon me, for whoever sends blessings upon me once, Allah will send blessings upon him ten times. Then ask Allah to grant me Al-Wasilah, for it is a rank in Paradise that is fitting only for one of Allah's servants, and I hope to be that one. Whoever asks for Al-Wasilah for me, intercession will be granted to him." [Narrated by Muslim]

(1) Explanation of the statement: "Say what he says": This means responding to the Adhan is obligatory. However, Al-Hulwani said it is recommended. The obligatory part is responding promptly so as not to miss the congregational prayer, which would be sinful. This is mentioned in Ad-Durr Al-Mukhtar. There is further elaboration on this matter in Rad Al-Muhtar.

1031

لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ " کہے ، پھر مَوْزَن "حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ" کہ تویہ لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ

إِلَّا بِاللهِ" کہے ، پھر مَوْزَن "اللہُ أَكْبَرُ اللہُ أَكْبَرُ" کہ تویہ جس "اللہُ أَكْبَرُ اللہُ أَكْبَرُ" کہے ، پھر

مَوْزَن "لا إِلَهَ إِلَّا اللهُ" کہ تویہ شخص کہے "لا إِلَهَ إِلَّا اللهُ" کہ او رسب کاجواب صدق دل سے

دو تو ایسا شخص جنت میں داخل ہوگا -

حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہول نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر موؤذن "اللہُ أَکْبرُ اللہُ أَکْبرُ " کہ تو سن والا (موؤذن کے جواب میں ) "اللہُ أَکْبرُ اللہُ أَکْبرُ " کہ، پھر موؤذن "أَشْهدُ أن لا إله إلا الله" کہ توی شخص بھی (اس کے جواب میں ) "أَشْهدُ أن لا إله إلا الله" کہ، پھر موؤذن "أَشْهدُ أن محمدًا رَسُولُ اللہ " کہ توی بھی "أَشْهدُ أن محمدًا رَسُولُ اللہ " کہ پھر موؤذن "حَيّ عَلَى الصَّلوۃ" کہ توی

(اس کی روایت مسلم نے کی ہے-)

ف(1): علماء شوکانی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ اس حدیث میں ازال کے تمام کلمات ایک

ایک بار نذور میں جو بغرض تعليم اختصار کے ساتھ ذکر کی گئی ہیں ورنہ جیسے اوپر گذر چکا ہے ازال کے

پیش کلمات دودوبار میں-

ف(2): اس حدیث میں نذور میں "حَيَّ عَلَى الصَّلوة" اور "حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ"

ان ہر دو کلمات کے جواب میں "لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" کہیں-

عمدۃ المفتی میں لکھا ہے کہ "حَيَّ عَلَى الصَّلوة" اور "حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ" ان ہر دو کلمات

کے جواب میں "لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" کے ساتھ "مَاشَاءَ اللَّهُ كَانَ" اضافہ کریں اور

"کافی" میں ان دونوں چیزوں میں اختیار دیا ہے کہ جاپیں تو "حَيَّ عَلَى الصَّلوة" اور "حَيَّ عَلَى

الْفَلاحِ" کے جواب میں صرف "لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" پر حسن یصرف "مَاشَاءَ اللَّهُ كَانَ"

پرحصین، البتہ "محيط" میں تفصیل ہے کہ "حَيَّ عَلَى الصَّلوة" سے کر "لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ

" کہ اور "حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ" پر "مَاشَاءَ اللَّهُ كَانَ" کہ (اسامعیل ) لیکن قول متقارول اول ہے کہ "حَيَّ

عَلَى الصَّلوة" اور "حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ" ان کلمات میں سے ہر ایک کے جواب میں "لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ

إِلَّا بِاللهِ" اور "مَاشَاءَ اللَّهُ كَانَ" کو جمع کرے (نوح آفندی ) پیرداختار میں نذور میں

ازال میں "حَيَّ عَلَى الصَّلوة" اور "حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ" کے جواب پر

دوسری حدیث

It is narrated from Omar (RA) that he said:

The Messenger of Allah ﷺ instructed that if the mu'adhin says 'Allahu Akbar, Allahu Akbar,' then the one who hears should say 'Allahu Akbar, Allahu Akbar.' Then if the mu'adhin says 'Ashhadu an la ilaha illa Allah,' the person should also say 'Ashhadu an la ilaha illa Allah.' Then if the mu'adhin says 'Ashhadu anna Muhammadan Rasulullah,' the person should also say 'Ashhadu anna Muhammadan Rasulullah.' Then if the mu'adhin says 'Hayya 'ala as-salat,' the person should...

1032

علقہ بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کر میں معاویہ

رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا کر ان کے موذن نے اذان دی، معاویرضی اللہ عنہ اس طرح کہتا

گیا جس طرح موذن نے کہا، میہان تک کرجب موذن نے "حَیّ عَلَی الصَّلوۃ" کہاتو انہوں نے

لا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ" کہااور جب موذن نے "حَیّ عَلَی الْفَلاح" کہاتو انہوں نے

لا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ الْعَلِیّ الْعَظِیم" کہااوراس کے بعد موذن نے جس طرح کہا اس طرح

کہہ کر فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کواذان کے جواب میں اس طرح کہتا ہوئے سنا

ہے۔(اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔)

ازان میں شہادتين کے جواب کا ایک اورطریقہ

It is narrated from 'Alqamah ibn Abi Waqqas that he said: I was with Mu'awiyah when his Mu'adhdhin called the Adhan. Mu'awiyah repeated what the Mu'adhdhin said until he reached "حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ", at which point he said, "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ" When the Mu'adhdhin said, " حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ", Mu'awiyah said, "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ الْعَلِيِّ العَظِيمِ" After that, he repeated what the Mu'adhdhin said and then said, "I heard the Messenger of Allah (peace be upon him) say that." [Narrated by Ahmad]

1033

اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللّٰهِ ، کہہ رباہ تو حضرت صلی اللہ عليه وسلم فرماتے "وَاَنَا وَاَنَا" ( لیعن جسم )

گوانی دے رہ ہو، میں کہی ایسی ہی تو حیدا ورسالت دونوں کی گوانی دیتا ہوئے اس لے حضرت صلی

الله عليه وسلم نے "آنآ" کہہ را رشاد فرمایا ) - ( اس کی روايت ابوداود نے کی ہے )

اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللّٰهِ، کہہ رباہ تو حضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے "وَاَنَا وَاَنَا" ( لیعن جسم )

گوانی دے رہ ہو، میں کہی ایسی ہی تو حیدا ورسالت دونوں کی گوانی دیتا ہوئے اس لے حضرت صلی

اللہ علیہ وسلم نے "آنآ" کہہ را رشاد فرمایا ) - ( اس کی روایت ابوداود نے کی ہے )

It is narrated from 'Aisha (may Allah be pleased with her) that she said: When the Prophet (peace be upon him) heard the Mu'adhdhin saying the Shahadah, he would say, "And I, and I." [Narrated by Abu Dawud]

تکبیراور "قدقامت الصلاوة" کے جواب کا طریقہ
1034

ابوامامہ رضی اللہ عنہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کسی صحابی

سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ بالل رضی اللہ عنہ نے اقامت کہنا شروع کیا جب بالل رضی اللہ

عزز "قدقامت الصلاوة" پر پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " واقامها اللہ وآدامها

" لیعن الدعائی نماز کو قائم رکے اوراس کو بمیش رکے اورحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بقیہ الفاظ اقامت کا

جواب ای طرح ادا فرمایا؛ جس طرح عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہوتی۔ حدیث ( حدیث

نمبر: 1031/21 ) میں ازان کا جواب دیا گیا ہے ( لیعن حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اقامت کے الفاظ

کوموڈنے جس طرح کہ آپ نے مجھی اس طرح ادا فرماے البتر حی علی الصلاوۃ

اور حی علی الفلاح کے جواب میں لا حول و لا قوۃ الا باللہ فرماياور قد قامۃ

الصلوۃ کے جواب میں اقامہ اللہ و ادامہا ارشادفرمايا، اس سے معلوم ہوا کہ تعبیر کے لفظات کا

جواب مجھی اس طرح دینا چاہئے جس طرح اذان کے لفظات کا جواب دیا جاتا ہے۔ اس کی روایت

ابوداود نے کی ہے۔

اذان کے بعد کی دعا

It is narrated from Abu Umamah or one of the Companions of the Messenger of Allah (peace be upon him) that he said: "When Bilal began the Iqamah and said, 'قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ' the Messenger of Allah (peace be upon him) said, 'أَقَامَهَا اللَّهُ وَأَدَامَهَا'" He responded to the rest of the Iqamah in a manner similar to 'Umar's response to the Adhan. [Narrated by Abu Dawud]

1035

سعید بن الی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ

صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمايا کہ جو شخص موذن کی اذان سن کر اشہد ان لا الہ الا اللہ و احدہ

لا شریک لہ و ان محمد اعبده و رسولہ رضیت باللہ رببا و بمحمد رسولا

و بالاسلام دینا، لیتن میں گواہی دیتا ہوں کہ میں بھکونی معبود سے اللہ تعالی کے جو کیتا ہے اور

جس کا شریک کونی نہیں اور پھر گوائی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کے بندر اوراس

کے رسول ہیں، میں اللہ تعالی کے پروردگار ہوں سے راضی ہوں، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول

اللہ ہوں پر راضی ہوں اوراپناوین اسلام ہوں سے راضی ہوں۔ اذان کے اس طرح کہنا والے

کے گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔

(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)

اذان اورا قامت کے درمیان دعا کی قبولیت

It is narrated from Sa'd ibn Abi Waqqas (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Whoever says when he hears the Mu'adhdhin:

أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ، رَضِيْتُ بِاللهِ رَبًّا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُوْلًا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا,

his sins will be forgiven." [Narrated by Muslim]

1036

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ علیہ وسلم

نے ارشادفرمايا کہ اذان اورا قامت کے درمیان کی دعا رونمیس ہوتی۔ لیتن ضرور قبول ہوتی ہے۔)

(اس کی روایت ابوداوداورترمزی نے کی ہے۔)

It is narrated from Anas (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Supplication between the Adhan and Iqamah is not rejected." [Narrated by Abu Dawud and Al-Tirmidhi]

قبولیت و عا کے اوقات
1037

سهل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کر دو وقت ایسے ہیں جن میں دعا کی روحیت ہوتی ہے، یا تو فرمایا کہ بہت کم روحی جاتی ہیں، ایک از ان کے وقت کی دعا دوسروں کے جہاد کے وقت کی دعا کے جب ایک دوسروں سے گھٹ جاتے ہیں، یا تو فرمایا رش میں محکمہ وقت کی دعا۔

It is narrated from Sahl ibn Sa'd (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Two supplications are not rejected, or are rarely rejected: supplication at the time of the call to prayer and supplication during the chaos of battle when the fighting intensifies." In another narration, it adds: "And during rainfall." [Narrated by Abu Dawud and Al-Darimi, except that he did not mention "during rainfall"]

اس کی روایت ابوداود نے کی ہے
1038

اورداری نے جب اس کی روایت کی ہے لیکن داری نے بارش میں محکمہ وقت کی دعا کا ذکر نہیں کیا ہے۔

اذاں کے بعد کی دوسروں دعا

Dari did not mention the prayer for the time of the court during the rain. The second prayer after the adhan.

1039

"اللّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلْوَةِ الْقَائِمَةِ أَتْ سَيِّدَنا مُحَمَّدَ نَ الوَسِيلَة وَالْفَضِيلَةَ وَابْعَثْهُ مَقامًا مَحْمُودًا نَالَذِى وَعَدْتَهُ".

جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کر جو شخص (پوری) اذان سن اور اس کا جواب دینے کے بعد دیا پڑھے:

اے اللہ! اے ہمارے پروردگار، سب بلاوول سے نماز کا بلاوا کامل ہے اور اسے موجودہ نماز کے ما کے جس کی اذان دی جاری ہے! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مقام و سید اور فضیلت عطا فرما اور آپ کو مقام محمود عطا کر (جس کا تو نے آپ سے وعدہ فرما یہ) تو اس دعا کے پڑھنے والے کیلئے قیامت کے دن میری شفاعت ضرور ہو گی۔ (اس کی روایت بخاری نے کی ہے)

اذاں مغرب کے وقت دعا کرنے کا حکم

It is narrated from Jabir (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Whoever says upon hearing the Adhan:

اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ، وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ، آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ، وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُوْدًا الَّذِي وَعَدْتَهُ

(O Allah, Lord of this perfect call and the established prayer, grant Muhammad the Wasilah and the virtue, and raise him to the praiseworthy station that You have promised him), my intercession will be granted to him on the Day of Resurrection." [Narrated by Al-Bukhari]

1040

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ تم کو حکم دیا جاتا تھا کہ تم

اذا ان مغرب کے وقت دعا کریں۔ (اس کی روایت جہیتی نے الدعوات الکبریٰ میں ہے۔)

اذا ان مغرب کے وقت دعا کر نے کی دوسری حدیث

It is narrated from Ibn 'Umar (may Allah be pleased with him) that he said: "We were commanded to make supplication at the time of the Maghrib Adhan." [Narrated by Al-Bayhaqi in Ad-Da'awat Al-Kabir]

1041

ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ

علیہ وسلم نے اذان مغرب کے وقت اس دعا کی تعلیم دی ہے، اللہُمَّ هذا اقبال لیلک وادبار

نہارک واصوات دعائک فاغفر لی۔

اللہ! پروقت تیری رات کی آمد کا ہے اور تیرے دن کے رخصت کا اور تیری اذان دین

والوں کی اذان کا وقت ہے پس تو مجھے بخش دے۔

(اس کی روایت ابو داود نے کی ہے اور جہیتی نے الدعوات الکبریٰ میں کہی اس کی روایت کی ہے۔)

مغرب کی اذان اور قامت کے درمیان نماز پڑھنا کروہے

d

It is narrated from Umm Salamah (may Allah be pleased with her) that she said: The Messenger of Allah (peace be upon him) taught me to say at the time of the Maghrib Adhan:

اللَّهُمَّ هَذَا إِقْبَالُ لَيْلِكَ وَإِدْبَارُ نَهَارِكَ وَأَصْوَاتُ دُعَاتِكَ فَاغْفِرْ لِي

(O Allah, this is the arrival of Your night and the departure of Your day, and the voices of Your callers, so forgive me). [Narrated by Abu Dawud and Al-Bayhaqi in Ad-Da'awat Al-Kabir]

1042

ابن بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ عبد اللہ بن مغفل مزني رضی اللہ عنہ

سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ پرواذاذان لیجن

اذا ان اورا قامت کے درمیان (کم سے کم) دور کے ہیں، سواے نماز مغرب کے لیجن نماز مغرب کی

اذا ان اورا قامت کے درمیان کوئی نماز نہیں ہے۔)

قطنی نے کی ہے اور دار قطنی نے کہا کہ اس کی سنہ معترہ ہے۔)

(اس کی روایت دار

It is narrated from Ibn Buraidah, from 'Abdullah ibn Mughaffal Al-Muzani (may Allah be pleased with him), that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "There are two Rak'ahs to be prayed between every two Adhans, except for Maghrib." (1) [Narrated by Al-Daraqutni, who said: "This is the Mahfooz narration."]

Al-Bazzar also narrated something similar from Buraidah (may Allah be pleased with him). In another narration, it says: "Prayer except for two Rak'ahs, except for Maghrib."

(1) Explanation of the statement: "Except for Maghrib": The summary is that it is recommended to pray between the Adhan and Iqamah. However, Abu Hanifah disliked voluntary prayers before Maghrib due to this hadith, as mentioned in Al-Mirqat.

1043

اور برزار نے کہی بریدہ رضی اللہ عنہ سے اس طرح روایت کی ہے۔

It is narrated by Buraydah (RA) that he said:
1044

اور ایک روایت میں رکعتین ماخلا کے بجاے صلاۃ الا کے الفاظ ہیں۔

ف: اذان اورا قامت کے درمیان بجز نماز مغرب پرواذاذان کیے سنن ہیں، اس حدیث کی وجہ

سے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے مغرب کی اذان اورا قامت کے درمیان نفل نماز کو کروہ قرار دیا ہے۔

(پیرقات میں ذکور ہے۔)

It is narrated from Ibn Buraidah, from 'Abdullah ibn Mughaffal Al-Muzani (may Allah be pleased with him), that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "There are two Rak'ahs to be prayed between every two Adhans, except for Maghrib." (1) [Narrated by Al-Daraqutni, who said: "This is the Mahfooz narration."]

Al-Bazzar also narrated something similar from Buraidah (may Allah be pleased with him). In another narration, it says: "Prayer except for two Rak'ahs, except for Maghrib."

(1) Explanation of the statement: "Except for Maghrib": The summary is that it is recommended to pray between the Adhan and Iqamah. However, Abu Hanifah disliked voluntary prayers before Maghrib due to this hadith, as mentioned in Al-Mirqat.

اذان کہنے پر اجرت لینے کا بیان
1045

عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ مجھے میری قوم کا امام بنادتے ہیں! حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا کہ تم ان کے امام ہواورتم ان میں سب سے ضعیف کا لحاظ کیا کرو، اور ایک ایسے شخص کو موزن بنالو جواز ان پر اجرت نہ لیتا ہو۔ (اس کی روایت امام احمد، ابوداوداورنسائی نے کی ہے۔)

It is narrated from 'Uthman ibn Abi Al-'As (may Allah be pleased with him) that he said: I said, "O Messenger of Allah, make me the Imam of my people." He said: "You are their Imam. Follow the weakest among them, and appoint a Mu'adhdhin who does not take payment for his Adhan." [Narrated by Ahmad, Abu Dawud, and Al-Nasa’i]

اذان کہنے پر اجرت لینے جائزہ ہونے کا بیان
1046

ابومجزورہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اذان سکھاتے گئے اور میں اذان دیتا گیا، پھر جب میں اذان دینے سے فارغ ہوا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک ٹھلی عطافرمائی۔ حس میں پھول چاندی تھی۔

(اس کی روایت ابن حبان نے کی ہے، اور باب کا عنوان اذان پر اجرت لینے کا جواز رکھا ہے۔ اور اس کی روایت نسائی نے بھی کی ہے۔)

ف: علماء نے اذان، اقامت اور امامت پر اجرت لینے کے بارے میں اختلاف کیا ہے، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے اذان، اقامت اور امامت پر اجرت لینے کرروہ قرار دیا ہے اور امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اور ان کے شاگرد ول نے کہا ان پر اجرت لینا ممنوع قرار دیا ہے اور اس پر عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کے حدیث سے استدلال کیا ہے کیونکہ اس حدیث میں ذکور ہے کہ ایسے شخص کو موزن بنالو جواز ان دینے پر اجرت نہ لیتا ہو۔ متفقین احناف کا قول ہے کہ متنہریں احناف نے اجرت کے جائزہ ہونے پر فتوی دیا ہے اور ابن حبان کی اس حدیث سے جواب مجزورہ رضی اللہ عنہ سے مردوی ہے، استدلال کرتے ہیں۔ (اس مستند کی تفصیل بزل اچھو دیں نذکور ہے ملاحظہ ہو۔)12

بخیر عوض ثواب کے لیے اذان دینے والے کی فضیلت

It is narrated from Abu Mahdhurah (may Allah be pleased with him) that he said: The Messenger of Allah (peace be upon him) taught me the Adhan, and I called it. Then, when I finished, he gave me (1) a pouch containing some silver. [Narrated by Ibn Hibban, who titled a chapter on the permissibility of this, and it was also narrated by Al-Nasa’i]

(1) Explanation of the statement: "He gave me...": Scholars have differed regarding taking payment for the Adhan, Iqamah, and leading prayer. Imam Shafi'i disliked it, while Abu Hanifah and his companions prohibited it, citing the hadith of 'Uthman ibn Abi Al-'As: "Appoint a Mu'adhdhin who does not take payment for his Adhan." This was the opinion of the early scholars. However, later scholars permitted it, using this hadith as evidence. The detailed discussion is found in Bazl Al-Majhud, and it should be referred to.

1047

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ

وہ میں ارشاد فرما یا کر اللہ تعالیٰ سے ثواب کا طالب موزن (جو اجرت نہ لیتا ہو) اس کی مثل اسے شہید کی ہے جواب پڑھون میں لست پرت ہو، اور جب وہ مر جائے گا تو قبر میں اس کے بدن میں کیرے نہیں پڑیں گے۔ (اس کی روایت طبرانی نے اکبیر میں کی ہے۔)

جنگل میں اذان دے کر نماز پڑھنے والے کی فضیلت

It is narrated from Ibn 'Amr (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "The Mu'adhdhin who seeks reward is like a martyr drenched in his blood, and when he dies, his body does not decay in the grave." [Narrated by At-Tabarani in Al-Kabir]

1048

عقیہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما یا کر تمہارا رب اس کبریال چرانے والے پر تجب کرتا ہے جو کسی پہاڑ کی چوٹی کے کسی بلند حصد پر نماز کیلے اذان دیتا ہے اور نماز پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرما تا ہے کہ میرے اس بندے کو دیکھو کہ اذان دیتا ہے اور نماز قائم کرتا ہے اور مجھ سے ذر تا ہے میں نے اپنے اس بندے کے گناہوں کو بخش دیا اور اس کو جنت میں داخل کر دیا۔

(اس کی روایت ابوداوداورنسائی نے کی ہے۔)

جنگل میں اذان وا قامت کہ کر نماز پڑھنے والے کی فضیلت

It is narrated from 'Uqbah ibn 'Amir (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Your Lord is amazed by a shepherd on a mountain peak who calls the Adhan and prays. Allah, the Almighty, says: 'Look at this servant of Mine; he calls the Adhan and establishes the prayer out of fear of Me. I have forgiven My servant and admitted him to Paradise.'" [Narrated by Abu Dawud and Al-Nasa’i]

1049

سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما یا کر جب کوئی شخص کسی جنگل میں ہوا اور نماز کا وقت آ جائے تو وہ وضو کر لے اور اگر پانی نہ ملا تو تیم کر لے، اگر اس نے (صرف) اقامت کی ہے تو اس کے ساتھ دو فرض نماز پڑھے جس اور اگر اس نے اذان وا قامت کی ہے تو اس کے پچھے اللہ تعالیٰ کی اتنی برکت فروج نماز پڑھتی ہے جس کے اول و آخر کے دونوں سرے دکھائی دینے دے سکتے۔

(اس کی روایت عبد الرزاق نے کی ہے اور پیامی حدیث ہے جس کی سنہ کے راوی صحاح کے راوی ہیں۔)

It is narrated from Salman Al-Farisi (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "If a man is in a deserted land and the time for prayer comes, let him perform ablution. If he does not find water, let him perform Tayammum (dry ablution). If he calls the Iqamah, two angels will pray with him. If he calls the Adhan and Iqamah, an army of Allah, whose ends cannot be seen, will pray behind him." [Narrated by 'Abdur-Razzaq, and its chain consists of reliable narrators from the authentic collections]