Nūr al-Maṣābīḥ
بَابُ الْأَذَانِ

یہ باب اذان کے بیان میں ہے

The Adhan (Call to Prayer)
Volume 2 · Prayer

وقول الله عز وجل واذا ناديتم الي الصلاه اتخذوها هزوا ولعبا ذلك بانهم قوم لا يعقلون الل تعالي كا ارشاد سور ما ند ع ايت نمبر اور

جب تم (ازان دے کر) لوگوں کو نماز کیلئے بلاتے ہوتے پیلوگ نماز کو نہیں اور کہیل بناتے ہیں اور یہ

(حرکت پچا ان سے) اس لئے (سرزدہوئی ہے) کہ یا ایسے (بے وقوف) لوگ ہیں کہ (بالکل)

نہیں سمجھتے۔

When you call the people to prayer (by giving the adhan), they do not pray but engage in idle talk. This (restlessness) is because they are such (ignorant) people who (completely) do not understand.

وقوله يا ايها الذين امنوا اذا نودي للصلاه من يوم الجمعه فاسعوا الي ذكر الله اور الل تعالي كا ارشاد سور جمع ع ايت نمبر مي

مسلمانو! جب جمعہ کے دن نماز جمعہ کیلئے ازان دی جائے تو یاد ایسے (خطہ و نماز) کی طرف

پیلو۔

ازان مشروع ہونے سے پہلے نماز کیلئے ندا کرنے کی کیفیت

O Muslims! When the call to prayer is made on Friday for the Jumu'ah prayer, turn your attention towards it (the sermon and prayer). The manner of calling for prayer before the prescribed adhan is not permissible.

970

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مسلمان (اجرت کرے)

جب مدینہ منورہ پہنچاور اس وقت نماز کیلئے ندا نکی جاتی تھی تو نماز کیلئے وقت کا اندازہ کر کے خود جمع

ہوجاتے تھے، اس بارے میں صحابہ نے ایک دن آپ سے پوچھا کہ یہ کیا ہے کی راہے ہوئی کہ نصاری

کے ناقوس کی طرح ایسے ناقوس بنالیس اور بعض کیسے گے (پیپس) بلکہ یہودی سینگ کی طرح سینگ

جا نے کا نظام کر لیس، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایسے آدمی کو کیوں نہیں مقرر کر دیتے جو نماز

کیلے سب کوندا کر دیا کرے - (پیتجویسن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کر اے بلال (رضی اللہ عنہ) اطوا و نماز کیلے لوگول کو "الصلوۃ جامعۃ" نماز تیارے کہ کر) ندا کردو (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے - ) ف : واش ہو کر ابتدا میں اذان سے پہلے لوگول کونماز کیلے جمع کر نے کیلے "الصلوۃ جامعۃ" کے الفاظ سے بلا یاجا تا تھا پہر بعد میں اذان شروع ہوئی - (مرقات - ) اذان اور اقامت مشروع ہو نے کی ابتدا کی کیفیت

It is narrated from Ibn 'Umar (may Allah be pleased with him) that he said: When the Muslims arrived in Madinah, they would gather and wait for the time of prayer, but no one would call for it. One day, they discussed the matter, and some suggested using a bell like the Christians, while others proposed using a horn like the Jews. Then 'Umar (may Allah be pleased with him) said, "Why don’t you appoint a man to call for the prayer?" The Messenger of Allah (peace be upon him) said, "O Bilal, stand up and call for the prayer." [Agreed upon]

'Ali Al-Qari said: "Meaning, call out 'As-Salatu Jami'ah' (the prayer is gathering)." This is based on what is mentioned in the Mursal narration from Abu Sa'id that Bilal used to call out, "As-Salatu Jami'ah," and then the Adhan was established. In the explanation of Muslim, Al-Qadi 'Iyad said: "The apparent meaning is that it was an announcement and notification of the arrival of the prayer time, but it was not in the form of the prescribed Adhan." An-Nawawi said: "This is the correct view."

971

"الله أكبر الله أكبر الله أكبر .

أشهد أن لا إله إلا الله .

أشهد أن محمدا رسول الله .

حي على الصلاة .

حي على الفلاح .

لا إله إلا الله" -

طرح کہتا ہے: اللہُ اَکْبَرُ اللہُ اَکْبَرُ اللہُ اَکْبَرُ اللہُ اَکْبَرُ. أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللہُ. أَشْهَدُ

أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللہُ. أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہِ. أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہِ . حَّى

عَلَى الصَّلوۃِ. حَّى عَلَى الصَّلوۃِ. حَّى عَلَى الْفَلاحِ. حَّى عَلَى الْفَلاحِ. قَدْ قَامَتِ

الصَّلوۃِ. قَدْ قَامَتِ الصَّلوۃِ. اللہُ اَکْبَرُ اللہُ اَکْبَرُ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللہُ۔“(عبداللہ بن زید کیہے میں

عبداللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اذان کے متعلق فکر لاحق ہوتی یہاں تک کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خیال کیا چند لوگول کو ما مور کر دی کر وہ اٹھسین اور طیلون پر چڑھ جا یس اور لوگول کونماز کیلے اشارہ کر کے بلا کیس (عبداللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ کویا کی شخص دوسبر کپڑے پہنا ہوا مسجد کے حصارتی و پوار پر کڑا ہوا کہ رہا ہے :

(پکھو دی کے بعد وہ شخص ) پھر کڑا ہوا اور کہا (نماز کیلے تکبیر میں کہی "قد قامت الصلاة" قد قامت الصلاۃ" کے اضافے کے ساتھ ) وہ الفاظ کہو (جو اذان میں کہے گے ہیں، پی کہے کر تکبیر اس

کر) میں اپنا خواب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوسنا یاتو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کر

جاو اوراس کو بالل (رضی اللہ عنہ) کوسکھارو، میں ایسا کیا، (جو کہ میں چیز ہی اس لے) لوگ (میں

کردوڑتے ہوئے آئے اوروہ میں جائے تے کر (یکیاہے) یہاں تک کر بالل رضی اللہ عنہ اذان

سے فارغ ہوگے۔

حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کی تشریف لاے اور کہا کر اگر اس خواب کے بیان کر میں

میں عبد اللہ بن زید (رضی اللہ عنہ) سبقت ذکر تے تو میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دیتا کر میں

جہی ایسا کی خواب کہا کی دیا جو عبد اللہ ابن زید رضی اللہ عنہ کو کہا کی دیا۔

(اس کی روایت ابو شخ نے کی سے اور ابن ملجم البوداوی اور امام احمد نے یہی اس طرح روایت

کی سے اور تزدی اور ابن خزیمر نے اس حدیث کو قرار دیاہے اور تزدی نے بخاری سے اس کوعلل

میں نقل کیاہے۔)

ازان اور اقامہ مشروع ہو نے کی ابتدا کی کیفیت پر دوسری حدیث

It is narrated from 'Abdullah ibn Zayd Al-Ansari (may Allah be pleased with him) that he said: The Messenger of Allah (peace be upon him) was concerned about how to call people to prayer. He even considered appointing men to stand on high places and signal to the people when it was time for prayer. Then, in a dream, I saw a man wearing two green garments standing on the wall of the mosque, calling out: "الله أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ" four times, "أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا الله" twice, "أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ الله مَرَّتَيْنِ" twice, "حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ" twice, "حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ" twice, and then " الله أَكْبَرُ الله أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ". Then he stood up for Iqamah and repeated the same, adding at the end, "قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ" (the prayer has begun, the prayer has begun). I informed the Messenger of Allah (peace be upon him) about this, and he said, "Go and teach it to Bilal." I did so, and when Bilal called the Adhan, the people rushed to the mosque, not knowing what had happened. 'Umar ibn Al-Khattab (may Allah be pleased with him) came and said, "If I had not been preceded, I would have informed you that I saw the same thing in a dream." [Narrated by Abu Ash-Shaikh, and similar narrations were narrated by Ibn Majah, Abu Dawud, and Ahmad]

Al-Tirmidhi, Ibn Khuzaymah, and Al-Bukhari authenticated what Narrated by Al-Tirmidhi in ʾIlal.

972

ابن ابی لیلی رضی اللہ عنہ سے روایت سے، انہوں نے کہا کہ صحابہ میں سے جو

تمارے اساتذہ تک انہوں نے فرمایا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما کر یہی راچہا معلوم

ہوتاہے کر تمام مسلمانوں کی نماز ایک جاباجماعت اداہوا کرے، یہاں تک کر میں نے ارادہ کیا کر چند

لوگوں کو گھروں پر چھ دوں کر وہ نماز کیہے بالیا کریں، اور میں نے پیگی ارادہ کیا کہ چند لوگوں کو حکم دو

ل کروہ ثیلون پر کطرے بھوکر مسلمانوں کونماز کے وقت جمعہ وجوہ جانے کی اطلاع دی راوی نے کہا کہ ایک انصاری حاضر خدمت ہوئے اور عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! جب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ مسلمانوں کونماز کیے جمع کرنے کے بارے میں متفرج ہیں تو گھر لوٹا خواب میں ایک شخص کو دیکھا کہ وہ سبز کپڑے پینے ہوئے ہے اور وہ مسجد کے اوپر کطرے ہواہے اس نے اذان دی اور تحویزی دریائے گیا پھر کطرے اہوا (اور تکبیر کیلئے) اذان کی طرح وہی الفاظ کہ گر پیکہ اس نے "قد قامۃ الصلاۃ۔ قد قامۃ الصلاۃ" کا اضافہ کیا اور نذکورہ حدیث آخر تک بیان کی - (اس کی روایت ابوداود نے کی ہے۔)

ازان مشروع ہونے کی ابتدائی کیفیت پر تیسری حدیث

It is narrated from Ibn Abi Layla that he said: Our companions told us that the Messenger of Allah (peace be upon him) said, "I was pleased with the idea of the Muslims having a unified call to prayer. I even considered sending men to the houses to announce the prayer, and I also thought of appointing men to stand on high places and call the Muslims to prayer at its time." Then a man from the Ansar came and said, "O Messenger of Allah, when I returned, I saw a man wearing two green garments standing on the mosque, calling the Adhan. Then he sat for a while, stood up again, and repeated the same, but added, 'قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ' (the prayer has begun)." He then narrated the rest of the story. [Narrated by Abu Dawud]

973

یہ بن سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہول نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارادہ فرمایا تھا کہ دو کٹریال تیار کروا تین ایک کودومسرے پماری تاکراس کی آواز سن کر لگے نماز کیلئے جمع ہوسکیں، عبد اللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہ کو دو کٹریال خواب میں دکھائی دی انہول نے دل میں کہا کہ یہ دو کٹریال معلوم ہوتی ہیں جن کے بنوانے کا ارادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا، عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے خواب میں کہا گیا کہ کیون آپ لوگ نماز کیلئے اذان نہیں دیتے؟ عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ جب بیمار ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنا خواب حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اذان دینے کا حکم فرمادیا - (اس کی روایت امام ماکے نے موطا میں کی ہے۔)

ازان مشروع ہونے کی ابتدائی کیفیت پر چوتھی حدیث

It is narrated from Yahya ibn Sa'id that he said: The Messenger of Allah (peace be upon him) wanted to use two pieces of wood to strike together to gather people for prayer. Then 'Abdullah ibn Zayd Al-Ansari saw two pieces of wood in a dream and said, "These are similar to what the Messenger of Allah (peace be upon him) wants." It was said, "Why don’t you call the Adhan for the prayer?" When he woke up, he went to the Messenger of Allah (peace be upon him) and mentioned it to him. The Messenger of Allah (peace be upon him) then ordered the Adhan to be established. [Narrated by Malik in Al-Muwatta']

974

ابومیبر بن انس رضی اللہ عنہما نے اپنے ایک انصاری پچا سے روایت کی ہے کران کے پچا نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیلر کر رہے تھے کہ لوگوں کونماز کیے کس طرح جمع کیا

جا؟ آپ تے عرض کیا گیا کر نماز کے وقت ایک حضرت اقام کر دیں، جب لوگ اس کو دیکھیں گے تو

ایک دوم رے کو آ گاہ کر دیں گے، مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پی پیند ن آیا، راوی کہتے ہیں کہ پھر آپ

سے سیگہو بجا کر (نماز کیلئے) بالائے کا ذکر کیا گیا، آپ پ نے اس کو جی پیند ن کیا اور فرما یا کہ پی پود کا

طریقہ ہے، راوی نے کہا کہ پھر آپ پ نے ناقوس کا ذکر کیا گیا، آپ پ نے ارشاد فرما یا کہ ی نصاری کا

شعار ہے۔ اس کے بعد عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ گھر واپس ہو گے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی

قری وجب سے خود کو متفرغ رکھتے ان کو خواب میں ازال سکھائی گئی راوی کہتے ہیں کہ وجب رسول اللہ

صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ پ نے خواب بیان کیا اور کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ

علیہ وسلم میں پکہ نیند اور پکہ بیداری میں تھا کہ ایک شخص میرے پاس آیا وراس نے مجھے ازال سکھائی

راوی کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے مجھی میں روز پہلے اس طرح خواب دیکھا تھا

اور اسے پچھا کے ہوئے تھے، پھر انہوں نے مجی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اب اس کا ذکر کیا تو حضور

صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرما کہ تم نے مجھے اپنے خواب کی اطلاع کیوں

نہیں دی؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ مجھے پہلے عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے ذکر

کردیا تھا اس لئے مجھے ثرہ م معلوم ہوئی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما یا: اے بلال! اٹھو

اور عبد اللہ بن زید یہ کو جو سکھا دیا اس پر عمل کرو! تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے ازال کی-

ابو بشر راوی کا بیان سے کہ مجھے ابو عمیر رضی اللہ عنہ نے یکھا کہ انصار کا ی خیال تھا کہ اس روز

عبد اللہ بن زید پیا رنے ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (بجا ے بلال رضی اللہ عنہ کے) ان کوموڑن

مقرر فرماتے-

(اس کی روایت ابوداود نے کی ہے-)

اذاں اورا قامت مشروع ہو نے کی ابتدائی کیفیت پر پاچویس حدیث

It is narrated from Muhammad ibn 'Abdullah, from his uncle 'Abdullah ibn Zayd (may Allah be pleased with him), that he said: The Prophet (peace be upon him) considered various methods for the Adhan but did not implement any of them. Then 'Abdullah ibn Zayd was shown the Adhan in a dream. He went to the Prophet (peace be upon him) and informed him. The Prophet said, "Teach it to Bilal." He taught it to Bilal, and Bilal called the Adhan. 'Abdullah said, "I saw it in the dream, and I wanted to do it myself." The Prophet said, "Then you call the Iqamah." [Narrated by Abu Dawud, who remained silent about it]

Ibn 'Abdul-Barr said its chain is Hasan, and Al-Hazi said the same.

975

اللہُ أَکْبَرُ اللہُ أَکْبَرُ

أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ.

أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللَّهِ .

حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ .

حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ .

لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ -

اللہُ أَکْبَرُ اللہُ أَکْبَرُ

أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ.

أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللَّهِ .

حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ .

حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ .

علقہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ ابن بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے

ہیں کہ ایک انصاری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گذرے انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم

کو غمگین دیکھا ان انصاری کی عادت یہی کہ جب وہ کہاں کہاں تو آن کے ساتھ (شام کے کھانے

پر) اور لوگ بھی مجتمع ہوجاتے تھے (اس روز) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غمگین دیکھ کر وہ غمزہ دہ ہوئے

اور واپس چلے گئے اور کہا نا چھوڑ دیا اور جو اجتماع ان کے پاس ہوتا تھا وہ بھی نہ ہوا اور وہ (اپنے محل

کی) مسجد میں جا کر نماز پڑھنے لگے گئے ان کو اس حالت میں اونگہ آئی، خواب میں ایک شخص آیا اور ان

کے کہا کہ کیا تم جانتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیوں غمگین ہوئے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ

نہیں! اس شخص نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذان کے بارے میں غمگین ہوئے ہیں تو تم

خدمت اقدام میں جاؤ اور عرض کر دو کہ بالکہ حکم دی کر وہ اذان دی اور اس شخص نے ان انصاری کو

یہاں سکھاوی:

پھر ان کو اس شخص نے اذان کے یہی الفاظ تکبیر کیلئے بھی سکھا دیے اور آخر میں قَدْ قَامَتِ

الصَّلَاةِ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةِ۔ اللہُ أَکْبَرُ اللہُ أَکْبَرُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ۔ کہا اور اذان وا قامت کے

الفاظ و معنی کے جواب لوگوں کی از ان واقعات کے الفاظ و معنی، وہ انصاری آپ کے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر بیٹھے گئے اتنے میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے ان انصاری نے آپ سے عرض کیا کہ میرے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت طلب کرتے ہیں اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ مجھے بھی خواب دیکھ کر آئے تھے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اپنا جواب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان فرمایا، پھر ان انصاری نے اجازت طلب کی اور خدمت اقدس میں پہنچ آور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پناخواب سنا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ای طرح کا خواب مجھ کو ابو بکر (رضی اللہ عنہ) نے سنا یہ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے باللہ (رضی اللہ عنہ) کو کہ دیا کہ ای طرح از ان دیں۔

(اس کی روایت ہمارے امام ابو حنيفرحمۃ اللہ علیہ نے کی ہے اور طبرانی نے مجھی اوسط میں اپنی سنہ سے ای طرح امام ابو حنيفرحمۃ اللہ علیہ نے روایت کی ہے۔

It is narrated from 'Alqamah, from Ibn Buraidah, that a man from the Ansar passed by the Messenger of Allah (peace be upon him) and noticed that he was sad. The man used to gather people when he ate, but he left feeling sad because of the Prophet's sadness and abandoned his meal and the gathering. He entered the mosque to pray, and while he was in that state, he dozed off. In his dream, someone came to him and said, "Do you know why the Messenger of Allah (peace be upon him) is sad?" He replied, "No." The person said, "It is because of the call to prayer. Go to him and instruct him to order Bilal to call the Adhan." He then taught him the Adhan: "اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ" twice, "أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ" twice, "أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ" twice, "حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ" twice, "حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ" twice, " اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ" Then he taught him the Iqamah in the same manner, adding at the end, "قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، اللهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ" (the prayer has begun, the prayer has begun). The Ansari man then went and sat at the door of the Prophet (peace be upon him). Abu Bakr passed by and said, "Seek permission for me," as he had seen a similar dream. He informed the Prophet (peace be upon him) about it. Then the Ansari man sought permission and entered, informing the Prophet of what he had seen. The Prophet (peace be upon him) said, "Abu Bakr has already informed me of the same. Then he ordered Bilal to call the Adhan in that manner." [Narrated by our Imam Abu Hanifah, and At-Tabarani narrated something similar in Al-Awsat.

In the narration of Ibn Abi Shaybah and Sa'id ibn Mansur from Abu Mahdhurah, from the Prophet (peace be upon him), the Iqamah is:

"اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، اللهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ"

976

اور ابن ابی شیبہ اور سعید بن منصور کی روایت میں ابو حذورہ رضی اللہ عنہ نے صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ قامت اس طرح ہے:

It is narrated on the authority of Abu Hazurah (RA) that he said: The Messenger of Allah ﷺ said:

The standing is in this manner:

977

عبدالرحمٰن بن ابی بیل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم نے تم کو حدیث سنانی ہے کہ عبد اللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص دیوار پر کٹراہے اور دوسبرے چادرول میں سے اوراس شخص نے اذان کے الفاظ کودودو بار ادا کیا اور اقامۃ کے الفاظ کی دودومرتبا کہا اور بیٹھگیا، اس شخص کی اذان اورا قامۃ کو بلا ل رضی اللہ عنہ س نکر کٹرے ہوئے اور انہوں نے کہی اذان کے الفاظ کودودوبار ادا کیا اور اقامۃ کے الفاظ کی دودومرتبا کہا اور بیٹھگیا۔ (اس کی روایت ابن ابی شیبہاورابوشخص نے کی ہے۔)

It is narrated from 'Abdur-Rahman ibn Abi Layla that he said: Our companions among the Companions of the Messenger of Allah (peace be upon him) narrated that 'Abdullah ibn Zayd Al-Ansari came to the Prophet (peace be upon him) and said, "O Messenger of Allah, I saw in a dream a man standing, wearing two green garments, on a wall. He called the Adhan twice and the Iqamah twice, then sat for a while." Bilal heard this, stood up, and called the Adhan twice and the Iqamah twice, then sat for a while. [Narrated by Ibn Abi Shaybah and Abu Ash-Shaikh, Al-Bayhaqi also narrated something similar in his Sunan from Waki']

The scholars said: "The chain of narrators of this hadith consists of reliable narrators, and it is connected according to the methodology of the majority regarding the uprightness of the Companions. The fact that some of their names are unknown does not harm the narration."

978

اوریہی نے اپنی سنن میں کچھ رضی اللہ عنہ سے اس طرح روایت کی ہے اورالامام میں کہا ہے کہ اس حدیث کے ربال میں اور یہ حدیث محمد ثین کے نزہب کی بناء پر صحابہ کے عادل ہوئے کی وجہ سے متصل السند ہے اور ان کے ناموں کا معلوم نہ ہونا مضر نہیں ہے۔) ف: اس حدیث میں اذان اورا قامۃ کے بعد بیٹھنا کا جوڑ کر ہے اس سے اس بات کا اشارہ مقصود ہے کہ اذان اورا قامۃ ختم ہوئی، نہ اذان اورا قامۃ کے بعد بیٹھنے سے پروضاحت کی مقصود ہے کہ اذان اورا قامۃ کہ ہے کر کہنا مستحب ہے چنانچہ "تنویر الابصار" میں کہا ہے کہ بیٹھنے ہے۔ اذان اورا قامۃ کہنا کہروہے

اذاں مشروع ہونے کی ابتدائی کیفیت پرساتوی حثیث

This hadith combines the act of sitting after the adhan and the iqamah, indicating that the adhan and the iqamah have been completed, not that one should sit after the adhan and the iqamah. The intended meaning is that it is recommended to say 'adhan and iqamah' when sitting. As stated in 'Tanwir al-Abasar,' it is recommended to sit and say 'adhan and iqamah.' This indicates the initial manner in which the adhan was established.

979

اللہ أكبر اللہ أكبر

أشهد أن لا إله إلا الله

أشهد أن محمدا رسول الله

حی علی الصلاوۃ

حی علی الفلاح

اللہ أكبر لا إله إلا اللہ

عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارادہ فرما یا تھا کہ ( لوگوں کو نماز کیے سینگ بجا کر جمع کیا جائے ) اور ناقوس خریدنے کا بھی حکم دے دیا تھا عبد اللہ بن زید کہتے ہیں کہ میں کر میں غم کیا تھا کہ مجھے ایک خواب دکھائی دیا جس

میں میں نے ایک شخص کو دیکھا جو دوسبرے چادرول میں بے اور ناقوس لیا ہوا ہے، میں نے اس شخص سے کہا۔ بندہ خدا کیا ناقوس کو چپوگے؟ اس شخص نے کہا کر تم اس کو کیا کروگے؟ میں نے جواب دیا کہ میں اس سے لوگوں کو نماز کے لئے بلاون گا، اس شخص نے کہا کر کیا میں تم کو اس سے بہتر چیز نہ بتلاوں؟ عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ وہ کیا چیز ہے؟ اس شخص نے کہا کہ (نماز کیلئے) یہ کہہ کر بلا یا کرو:

عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا خواب بیان کیا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے ایک شخص کو خواب میں دوسبرے چڑھے میں دیکھا اور پورا خواب سنایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ تمہارے دوست نے ایک خواب دیکھا ہے (چھران سے پیر میا کرتے) بلال رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد کو جاو اور ان کو ازاں کے الفاظ سکھادو، اور بلال رضی اللہ عنہ ازاں دی، اس لئے کر بلال تم سے زیادہ بلند آواز والے ہیں، عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بلال رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد کو گیا اور میں ان کو ازاں کے الفاظ سکھا تا گیا اور بلال رضی اللہ عنہ ازاں دیتے گئے، عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کو ازاں کی آواز

سنگی دی تو مسجد وشریف لاے اور عرض کیا کر یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیشک مین نہیں اس

طرح کا خواب دیکھا ہے جس طرح انہوں نے دیکھا ہے۔

(اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے اور ابوداود نے بھی اس طرح روایت کی ہے)

ازان کی مشروعيت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجوہ

It is narrated from 'Abdullah ibn Zayd that he said: The Messenger of Allah (peace be upon him) had considered using a horn and ordered the use of a bell, which was carved. Then 'Abdullah ibn Zayd was shown in a dream. He said: "I saw a man wearing two green garments carrying a bell. I said to him, 'O servant of Allah, will you sell the bell?' He said, 'What will you do with it?' I said, 'I will call people to prayer with it.' He said, 'Shall I not guide you to something better than this?' I said, 'What is it?' He said, 'Say:

اللَّهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللهِ ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، اللهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ'"

'Abdullah ibn Zayd then went to the Messenger of Allah (peace be upon him) and informed him of what he had seen. He said, "O Messenger of Allah, I saw a man wearing two green garments," and he related the story. The Messenger of Allah (peace be upon him) said, "Your companion has seen a true dream. Go with Bilal to the mosque and teach it to him, and let Bilal call the Adhan, for his voice is louder than yours." 'Abdullah said: "I went with Bilal to the mosque, and I taught him the Adhan, and he called it out." 'Umar ibn Al-Khattab heard the voice and came out, saying, "O Messenger of Allah, I saw the same thing that he saw." [Narrated by Ibn Majah, and Abu Dawud narrated something similar]

980

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب رسول اللہ

علیہ وسلم کومعرج میں آسمان کی سیر کرتے گئے تو اس وقت آپ پر ازان (کے الفاظ) کی وقیعت ہوئی حضور

صلی اللہ علیہ وسلم معرج میں ازان کے الفاظ لے کراٹے اور آپ کو ازان جبرائیل علیہ السلام نے

سکھاتے۔ (اس کی روایت طبرانی نے اوست میں کی ہے)

ف: ہمارے علماء نے کہا ہے کہ طبرانی کی اس روایت میں جس معرج کا ذکر آیا ہے وہ مشہور

معرج نہیں، بلکہ معرج جس میں ازان کے الفاظ سکھاتے گئے میں جسمانی نہیں بلکہ روحانی تھی، کیونکہ

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جسمانی معرج ایک ہی ہوتی ہے، البتر روحانی معرج متعدد ہوتے ہیں، یاہی

حضر صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب تھا، جومعرج کے حکم میں ہے اور انہیں علیہم الصلاۃ والسلام کا خواب کچھ

وہی ہوتا ہے اور پیخواب کچھ ایک روحانی معرج تھی جس میں حضر صلی اللہ علیہ وسلم کو اذان کے الفاظ

سکھاتے گئے، صحابہ رضی اللہ عنہم کو پہلے خواب میں ازان سکھاتی گئی اور بعد میں حضر صلی اللہ علیہ وسلم کو

خواب میں ازان کے بارے میں وہی کی گئی، اس سے مقصد یہ تھا کہ ازان کے بارے میں اس موافقت

کی وجہ سے صحابہ کرام کو خوشی حاصل ہوااور پیالن سے منقول ہوورندہ و حقیقت ازان کا حکم ایک شرعی حکم

ہے جو نہیں صلی اللہ علیہ وسلم کے خواب کے سوا دور مرول کے خواب سے ثابت نہیں ہوسکتا۔ 12

وہی سے ازان کی مشروعيت پر دوسری حدیث

It is narrated from Ibn 'Umar that he said: When the Messenger of Allah (peace be upon him) was taken on the Night Journey (Al-Isra'), he was inspired with the Adhan. He brought it down, and Jibril taught it to him. [Narrated by At-Tabarani in Al-Awsat]

Our scholars said: "The Isra' mentioned in At-Tabarani's narration is not the well-known Isra'. It could have been in his spirit or in a vision, as the Isra' occurred multiple times. Thus, he saw it in his dream, and the dreams of the Prophets are a form of revelation. This was followed by the dreams of the Companions, and the Prophet (peace be upon him) showed approval to make them happy with the agreement of their visions. Otherwise, it is a legal ruling that cannot be established solely through the dreams of others."

981

عبید بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے

ازان کے بارے میں خواب دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں خواب بیان کر

آپ کے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا کر (میرے خواب دیکھنے پیل ) وی آپ کی بے جنا پچی

آپ تے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے خواب سے پیل از ان کے بارے میں وی

آپ کی سے-

(اس کی روایت ابوداوٰد نے مراسل میں کی ہے اور عبد الرزاق نے کچھ اپنی مصنف میں اس کی

روایت کی ہے-)

تبیر اذان کی طرح ہونے کا ثبوت

It is narrated from Ubayd bin Umar (RA) that when Umar (RA) had a dream about the call to prayer, he went to the Messenger of Allah ﷺ and related his dream.

When Umar (RA) had a dream about the call to prayer, he went to the Messenger of Allah ﷺ and related his dream. Upon hearing it, the Messenger of Allah ﷺ said, 'Your dream indicates that the call to prayer will be established in this manner.'

982

اسود بن زید رضی اللہ عنہ نے روایت کے، انہول نے کہا کر میں نے ابومزدوره

رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا کر آپ کس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تکبیر کہا کرتے

تھے، اور اس کوس طرح ختم کرتے تھے؟ ابومزدورہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ میں تکبیر کے الفاظ دو

دور فعازان کی طرح کہا کرتا تھا اور تکبیر لَا اللہِ اَلا اللہ پر ختم کرتا تھا-

(اس کی روایت ابوشعث نے کی ہے-)

اذان میں ترجیح نہ ہونے کا ثبوت

امام ابن الحمام رحمۃ اللہ نے کہا کہ

It is narrated from Al-Aswad ibn Yazid that he said: I asked Abu Mahdhurah, "How did you call the Adhan for the Messenger of Allah (peace be upon him), and what did you say at the end of your Adhan?" He replied, "I would repeat the Iqamah like the Adhan, and I would end the Adhan with 'لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ' (There is no god but Allah)." [Narrated by Abu Ash-Shaikh]

Imam Ibn Al-Humam said that At-Tabarani narrated in Al-Awsat from Abu Mahdhurah, who said: "The Messenger of Allah (peace be upon him) taught me the Adhan word by word: ' اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ...' and so on," but he did not mention the Tarji' (repeating the Shahadah twice).

983

تكبير اورازان کے الفاظ دودوہونے کا ثبوت

طبرانی نے الاوسط میں ابومزدورہ رضی اللہ عنہ نے روایت کی ہے، وہ کہتا ہیں کہ

مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذان کے ایک ایک لمڑ کو ‘اللہُ اَکْبَرُ اللہُ اَکْبَرُ’ سے شروع فرماتے

آخر تک سکھاتے رہتے اور اس میں ابومزدورہ رضی اللہ عنہ نے ترجیح کا ذکر نہیں کیا ہے-

ف: ترجیح یہ کہ "أشهد أن لا إله إلا الله۔ أشهد أن لا إله إلا الله۔ أشهد أن

مُحمَّدا رَسُولُ اللهِ۔ أشهد أن مُحمَّدا رَسُولُ اللهِ" کو پت آوازتے ادا کرے پراس کے

بعد کی الفاظ "أشهد أن لا إله إلا الله۔ أشهد أن لا إله إلا الله۔ أشهد أن مُحمَّدا رَسُولُ

اللهِ۔ أشهد أن مُحمَّدا رَسُولُ اللهِ" کو بلندآوازتے کہ ترجیح اس کو کیتے ہیں اور یترجیح احناف

کے پاس جائزہ میں بھی جس کی تائیر ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے موافق ہے اور اس طرح حضرت بلال اور ابن ام ملتوم رضی اللہ عنہما کی ازمان سے بھی زوجج ثابت نہیں۔ (شرح وقایع عمدۃ الرعاية، بدایاور مرقات -)

It is narrated from Al-Aswad ibn Yazid that he said: I asked Abu Mahdhurah, "How did you call the Adhan for the Messenger of Allah (peace be upon him), and what did you say at the end of your Adhan?" He replied, "I would repeat the Iqamah like the Adhan, and I would end the Adhan with 'لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ' (There is no god but Allah)." [Narrated by Abu Ash-Shaikh]

Imam Ibn Al-Humam said that At-Tabarani narrated in Al-Awsat from Abu Mahdhurah, who said: "The Messenger of Allah (peace be upon him) taught me the Adhan word by word: ' اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ...' and so on," but he did not mention the Tarji' (repeating the Shahadah twice).

984

عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کے محمد مبارک میں) ازان اور قامت کے الفاظ دودو تھے۔

(اس کی روایت تنزیل نے کی ہے-)

تکبیر اورازان کے الفاظ دودوہونے کے ثبوت پردوسري حدیث

It is narrated from 'Abdullah ibn Zayd that he said: "The Adhan of the Messenger of Allah (peace be upon him) was in pairs, both in the Adhan and the Iqamah." [Narrated by Al-Tirmidhi]

985

عبد الرحمن بن الیاسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے موزن عبد اللہ بن زید الصاري رضی اللہ عنہ ازاں اور قامت کے الفاظ دودوارا کرتے تھے۔ (اس کی روایت ابن الیاسی نے کی ہے-)

تکبیر اورازان کے الفاظ دودوہونے کے ثبوت پرتسری حدیث

It is narrated from 'Abdur-Rahman ibn Abi Layla that he said: "Abdullah ibn Zayd Al-Ansari, the Mu'adhdhin of the Prophet (peace be upon him), would say the Adhan and Iqamah in pairs." [Narrated by Ibn Abi Shaybah]

986

عبداللہ بن زید الصاري رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازاں اور قامت کے الفاظ دودوہونے تھے۔

(اس کی روایت ابو الشيخ نے کی ہے-)

تکبیر اورازان کے الفاظ دودوہونے کے ثبوت پر چوئی حدیث

It is narrated from 'Abdullah ibn Zayd Al-Ansari that he said: "The Adhan and Iqamah of the Prophet (peace be upon him) were in pairs." [Narrated by Abu Ash-Shaikh]

987

اسود رضی اللہ عنہ بلال رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ بلال رضی اللہ عنہ ازاں کے الفاظ کودودو مرتبہ ادا کرتے تھے اور قامت کے الفاظ کو بھی دودو رفع ادا کرتے تھے۔

(اس کی روایت طحاوي، عبد الرزاق اور دارقطني نے کی ہے-)

تکبر راوزان کے الفاظ دودوہونے کے ثبوت پر پاچھویس حدیث

It is narrated from Al-Aswad, from Bilal, that he would say the Adhan and Iqamah in pairs. [Narrated by At-Tahawi, 'Abdur-Razzaq, and Al-Daraqutni]

988

- ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہول نے کہا کہ ثوبان رضی اللہ عنہ از ان کے کل دودوبارا اکرتے تھا ارا قامت کے کلمجی دودودفع کہتے تھے۔

(اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔)

تکبر راوزان کے الفاظ دودوہونے کے ثبوت پرچھٹی حدیث

It is narrated from Ibrahim al-Nakha'i (RA) that he said:

Thawban (RA) used to recite the Takbir twice when he stood up for the second rak'ah, and he would say the Takbir twice when he stood up for the third rak'ah.

989

- عبادعزیبن رفح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہول نے کہا کہ میں نے ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کوازان وپے ہوئے سناتے کروہ از ان کے الفاظ کودودودفع کہتے تھا ارا قامت کے الفاظ کی دودودفع ادا کرتے تھے۔(اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔)

تکبر کے ستہ کلمات ہونے کا ثبوت

It is narrated from 'Abdul-'Aziz ibn Rufay' that he said: "I heard Abu Mahdhurah calling the Adhan in pairs and saying the Iqamah in pairs." [Narrated by At-Tahawi]

990

- کحو ل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابن مجیر رضی اللہ عنہ نے ان کو حدیث بیان کی کہ انہول نے ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سناتے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اقامت کے ستہ کلمات ہیں۔(اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔)

تکبر کے الفاظ ایک ایک کرواپنے جانے کی وجہ

It is narrated from Mak'hul that Ibn Muhayriz narrated to him that he heard Abu Mahdhurah saying: "The Messenger of Allah (peace be upon him) taught me the Iqamah in seventeen words." [Narrated by At-Tahawi]

991

- مجادر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہول نے اقامت کے بارے میں کہا ہے کہ اقامت کے الفاظ کو جواپنے ایک دفعہ کہتے ہیں پاپنے چیز ہے جس کو امراء نے اپنی آسانی کیے جاری کردیا ہے،(اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔)

ف: امام زیمعی نے تین حقائق میں واضاحت کی ہے کہ ابوالفرح کا قول ہے کہ اقامت کے الفاظ دودومرتہب کہ جاتے ہیں جب بنوامیکی حکومت آئی تو ان لوگوں نے اقامت کے الفاظ کو ایک ایک مرتبہ جاری کردیا۔

It is narrated from Mujahid regarding the Iqamah being said once: "This is something that the rulers made light of." [Narrated by At-Tahawi]

Az-Zayla'i said in Tabyin Al-Haqa'iq: "Abu Al-Faraj said that the Iqamah used to be in pairs, but when the Umayyads came to power, they made it singular."

992

-چناچھرا برہم نہی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کر ان باوشاہول کی حکومت آنے تک اقامت کی اذان کی طرح تختی لکین جب پیر باوشاہ نماز کیلئے نکلے تو نماز جلد شروع کرنے کی غرض سے اقامت کے الفاظ کو ایک ایک وفع کر دیا (زیلے کی عبارت میں ختم ہوئی - ) فجر کی اذان میں "الصلوة خیر مِنَ النوم" کے اضافے کا بیان

It is narrated from Chunaqra b. Rahm (RA) that he said:

I continued giving the call to prayer in the manner of the iqama until the reign of Bawshah. When Bawshah came out for prayer, he shortened the words of the iqama one by one with the intention of finishing the prayer quickly. In the Fajr adhan, he added 'al-salatu khayrun min an-nawm'.

993

-بلال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ صادق کی اطلاع دینے کے واسطہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کوسویا ہوا پائے، انہوں نے دو وفع "الصلوة خیر مِنَ النوم" (نماز نیندے میترہے) پکارا، پس کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اے بلال (رضی اللہ عنہ) تمہارے یالفاظ بہت اتنے ہیں تم "الصلوة خیر مِنَ النوم" کوصح کی اذان میں کہا کرو۔ (اس کی روایت طبرانی نے اکبیر میں کی ہے اور ابن ماجہ نے بھی اس طرح روایت کی ہے - ) فجر کی اذان میں الصلوۃ خیر مِنَ النوم کہنا کثبوت

It is narrated from Bilal that he came to the Prophet (peace be upon him) to call him for Fajr prayer and found him sleeping. He said, "الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ" (Prayer is better than sleep) twice. The Prophet (peace be upon him) said, "How good this is, O Bilal! Include it in your Adhan." [Narrated by At-Tabarani in Al-Kabir, and Ibn Majah narrated something similar]

994

-البمحذورہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اذان دیا کرتا تھا اور فجر کی اذان میں "حی علی الفلاح" کے بعد "الصلوة خیر مِنَ النوم، الصلوة خیر مِنَ النوم، اللہ أكبر اللہ أكبر . لالہ الا اللہ" کہا کرتا تھا -(اس کی روایت نسائی نے کی ہے - ) فجر کی اذان میں الصلوۃ خیر مِنَ النوم کہنا سنت ہے

It is narrated from Abu Mahdhurah that he said: "I used to call the Adhan for the Messenger of Allah (peace be upon him), and in the first Adhan of Fajr, I would say,

'حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ اللَّهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ'"

This was narrated by Al-Nasa’i.

995

-ابن سیرین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ پیسنت ہے کہ موذن اذان فجر میں "حی علی الفلاح" (کے بعد) "الصلوة خیر مِنَ النوم" کہے -(اس کی روایت تبہقی اور ابن خزیمرہ نے کی ہے - )

تقویب،یعنی اذان اور اقامۃ کے درمیان نماز کیلئے بلا نے کا ثبوت

It is narrated from Ibn Sirin that he said: "It is from the Sunnah for the Mu'adhdhin to say in the Fajr Adhan, 'حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ'" [Narrated by Al-Bayhaqi and Ibn Khuzaymah]

996

- ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز نے کیتا، نکلا حضور صلی اللہ علیہ وسلم جس کسی کے پاس سے گذر تے گے تو اس کو 'الصلوۃ' کہ کر آواز دیتے گے یاقد مبارک سے بلاکر جاتے گے۔

(اس کی روایت ابوداوود نے کی ہے )

ف: ملاعلی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ اس حدیث سے تقویب کی مشروعت معلوم ہوتی ہے، چنانچہ نقائص کتابہ کہ تقویب پیہ کہ برشہ والون کے عرف کے موافق جوہی لفظ مقرر کیا جاتے اس کے ذریعہ اذان اور اقامۃ کے درمیان نماز کا اعلان کیا جاتے اس کے تقویب پر نماز میں جمارے پاس مستحب ہے کیونکہ امور دینی کی ادائی میں لوگوں میں کستی پڑا ہوچکی ہے البتہ امام ماک اور امام شافعی رحمہ اللہ نے تقویب کومطلقاً کروہ قرار دیا ہے

It is narrated from Abu Bakr (RA) that he said:

I prayed with the Messenger of Allah ﷺ, and when he finished, he would pass by people and say to them, 'As-Salat,' or he would call out to the blessed one and go.

اذان اور تکبیر کے احکام
997

- جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بالال (رضی اللہ عنہ) سے ارشاد فرمایا کہ جب تم اذان ریاکروتو اذان کے کلمات کو ظہر ظہر کر جدا جدا کہا کر واور جب اقامۃ کہا کروتو اقامۃ کے الفاظ کو جلد جلد ادا کیا کرواور ازاں واقامت کے درمیان اتنا وقت دیا کر وک کہنا کہ انے والا کہانے سے اور پانی پینے والا پانی پینے سے فارغ ہوجائے اور جو قضاء حاجت کو گیا ہواس سے فارغ ہوکر آ سکے اور جب تک تم مجھے دکیہ نہ لواس وقت تک نماز کیلئے کہر نے ہوا کرو۔ (اس کی روایت ترمزی نے کی ہے)

It is narrated from Jaber (RA) that he said:

The Messenger of Allah ﷺ instructed Bilal (RA), saying: 'When you call the Adhan, pronounce the words of the Adhan clearly and distinctly, and when you call the Iqamah, recite the words of the Iqamah quickly. And between the Adhan and the Iqamah, allow enough time for the one who is answering the call to come, and for the one drinking water to finish drinking, and for the one who has gone to relieve himself to return, and until I have performed my ablutions.' (This narration is reported by Tirmidhi.)

998

- اور ابن الی شیبہ نے حماد رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ اس رضی اللہ عنہ اس وقت کہر ہوتے جب موؤن قد قامت الصلاة کہ اور امام (تکبیر تحریمہ کے لے) اللہ أکبر کہ

ف: اس حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جوارشا دفرمایا کہ جب تک تم مجھے دکیہ نہ لونماز

کسی کو طرے نہوا کرو، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ غالب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حجرے مبارک سے موذون کی قامت ثروع کردینے کے بعد نکلے تو اورموؤزن جب "حَیّ عَلی الصَّلوۃ" کہتا تو آپ مسجد کے محراب میں آجاتے، اس لیے ہمارے امام نے کہا ہے کہ امام اورمقتدی سب "حَیّ عَلی الصَّلوۃ" کے وقت کطرے ہوجائیں اورامام "قدقامت الصلاة" کے وقت نمازثروع کردے۔ پی امام ابوحنیفہ اورامام محمد رحمہما اللہ کا قول ہے اورامام البیوسف رحمہ اللہ نے کہا ہے کرا قامت سے فرغت کے بعد نمازثروع کی جائے۔

"خلاصہ" میں کہا ہے کہ فتوئی امام ابوحنیفہ اورامام محمد رحمہما اللہ کے قول پر ہے اس لیے "قدقامت الصلاة" پرنمازثروع کی جائے۔ واسطے کہ نمازثروع کرنے کے بارے میں ہمارے امام کے درمیان جواختراف پایاجاتا ہے اس کاتعلق اختیاب سے ہے کہ "قدقامت الصلاة" کے وقت نمازثروع کرنامستحب ہے یا قامت سے فرغت ہو نے کے بعد نماز کا ثروع کرناسب کے پاس بالاتفاق جائزہے۔ چنانچہ خزا نے میں ذکورہے کراگر امام نے نماز ثروع نہیں کی یہاں تک کہ موؤزن اقامت سے فرغت ہوگیا تو اس میں کوئی مضاضہ نہیں ہے۔ یہاں خزانے کی عبارت ختم ہوئی )اورجمہور کا اتفاق امام البیوسف رحمہ اللہ کے قول پر ہے کہ موؤزن کے اقامت سے فرغت ہو نے کے بعد نمازثروع کی جائے، کیونکہ اس صورت میں موؤزن کو کچھ نماز امام کے ساتھ ابتدا ء، یہ مل جائے ہے اور اسی پر عمل حر میں کامل ہے۔ و اللہ تعالیٰ اعلم۔ البتہ امام ماکر اور امام شافعی رحمہما اللہ کا قول یہ ہے کہ امام نمازثروع کرنے میں اتنی تاخیر کرے کہ موؤزن اقامت سے فرغت ہو جائے اور میں درست کریں جائیں۔( ماخذاز مرقاۃوشرح نقاید)

جواؤن دے اس کا اقامت کہنا افضل ہے ضروری نہیں ہے

It is narrated from Ibn al-Shihab that he said: 'When the Mu'adhin would call the Adhan, he would say, 'Allahu Akbar,' and when the Imam (for the Takbir al-Tahrima) would say, 'Allahu Akbar,'

In this hadith, the Prophet ﷺ instructed that until he had performed the Dhuhr prayer, no one should perform any act of purification. This indicates that the Messenger of Allah ﷺ would usually come out of his blessed room after the Mu'adhin had called the Iqama, and when the Mu'adhin would say, 'Hayya 'ala as-Salat,' he would enter the mihrab of the mosque. Therefore, our Imam has stated that both the Imam and the followers should stand at the time of 'Hayya 'ala as-Salat,' and the Imam should begin the prayer at the time of 'Qad Qamat as-Salat.' This is the view of Imam Abu Hanifah and Imam Muhammad, may Allah have mercy on them, and Imam al-Buwayti, may Allah have mercy on him, said that the prayer should be started after the completion of the Iqama. In 'Khulasah,' it is mentioned that the fatwa follows the view of Imam Abu Hanifah and Imam Muhammad, may Allah have mercy on them, so the prayer should be started at the time of 'Qad Qamat as-Salat.' Since there is a difference of opinion among our Imams regarding when to start the prayer, it is a matter of choice whether to start the prayer at the time of 'Qad Qamat as-Salat' or after the completion of the Iqama, which is permissible by consensus. Therefore, if the Imam does not start the prayer until the Mu'adhin has completed the Iqama, there is no harm in this. The majority agree with the view of Imam al-Buwayti, may Allah have mercy on him, that the prayer should be started after the completion of the Iqama, because in this case, some part of the prayer can be joined with the Imam, and this is the practice in the Haram. And Allah, the Most High, knows best. However, the view of Imam Malik and Imam Shafi'i, may Allah have mercy on them, is that the Imam should delay starting the prayer until the Mu'adhin has completed the Iqama and can correct himself. It is not necessary that saying the Iqama is better.

999

زیاد بن حارت صداقی رضی اللہ عنہ روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ میں فجر کی اذان کہوں میں نے اذان کی بلل رضی اللہ عنہ نے اقامت کیتا کا اردو کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ صداقی قبیلدوالے نے اذان

دی کے اور جواز ان دے وہی اقامت کے۔

(اس کی روایت ترجمہ، اپوداواداوران لاجتنے کی ہے۔)

ف: اس حدیث میں ذکور کے جواز ان دے وہی اقامت کے، اس بارے میں ہمارا ذہب

پیش کر آگرازان دین والے کی رضا مندی سے دور را شخص اقامت کے تو پیکروہ نہیں سے اور امام

ما کر رحم اللہ کا مجھی مجھی قول کے، البتر امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے ازان دین والے کے سوا اگر دور را

اقامت کے تو اس کو مطلقاً کروہ قرار دیا کے لیکن ازان دین والا حاضرنہ ہوتا متفق طور پر کسی امام کے

پاس مجھی دور را کا اقامت کہنا کروہ نہیں کے، ہمارے پاس مجھی فضل مجھی کے کر ازان دین والا، کی

اقامت کے، علاوہ ازی ازان دین والے کے سوا دور را کی اقامت جوہمارے پاس جائزہے، اس

کی تفسیر میں زیل کی حد ثیس ملاحظہ کجے۔ (ردالمختار، تشرح وقاید)

ایک ازان دے تو اس کی رضا مندی سے دور را کی تعبیر کمنہ کا ثبوت

It is narrated from Ziyad ibn Al-Harith As-Suda'i that he said: The Messenger of Allah (peace be upon him) commanded me to call the Adhan for Fajr prayer, so I called the Adhan. Bilal wanted to call the Iqamah, but the Messenger of Allah (peace be upon him) said, "The brother from Suda' has called the Adhan, and whoever calls the Adhan should also call the Iqamah." (1) [Narrated by Al-Tirmidhi, Abu Dawud, and Ibn Majah]

(1) Explanation of the statement: "Whoever calls the Adhan should also call the Iqamah": In our view (Hanafi school), it is not disliked for someone other than the Mu'adhdhin to call the Iqamah with the Mu'adhdhin's consent. This is also the opinion of Malik. However, Shafi'i disliked it. If the Mu'adhdhin is not present, there is no dislike in someone else calling the Iqamah, according to unanimous agreement. Nevertheless, it is preferable for the Mu'adhdhin to also call the Iqamah, based on this hadith and the following narrations. This is summarized from Sharh An-Nuqayah.

1000

محمد بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ اپنے پچا عبد اللہ ابن زید رضی اللہ عنہ سے روایت

کرتے ہیں کر عبد اللہ ابن زید رضی اللہ عنہ نے کہا کر بی صلی اللہ علیہ وسلم نے ازان کی جائے کی

چیزوں کے انظام کا ارادہ فرمایا تھا مگر ابمجھی کونی چیز طغیبن پائلی تھی، راوی نے کہا کر عبد اللہ بن زید

رضی اللہ عنہ کو ازان کے بارے میں خواب دکھائی دیا تو وہ بی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر

ہوئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا خواب سنایا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تم بلال

(رضی اللہ عنہ) کو از ان سکھاتے جاؤ تو عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنه، بلال رضی اللہ عنہ کو از ان سکھاتے

گئے اور بلال رضی اللہ عنہ از ان دیتے کے، عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میں نے خواب

دیکھا کہ اور میں کی ازان دینا چاہتا ہوں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (از ان تو بلال رضی اللہ

عنہ کو دینے دو) اور تم اقامت کہو۔

(اس کی روایت اپوداواد نے کی کے اور سکوت اختیار کیا کے اور اپوداواد کا سکوت حدیث کے تے

جو نے کی ویل بھاورابن عبد البر نے کہاہے کر اس حدیث کی سن حسن بھاورحازمی نے جگی ایسا کی کہاہے۔

ایک اذان دے تواس کی رضا مندی سے دور مر آگبیر کہ اس کے ثبوت پر

It is narrated from Muhammad ibn 'Abdullah, from his uncle 'Abdullah ibn Zayd (may Allah be pleased with him), that he said: The Prophet (peace be upon him) considered various methods for the Adhan but did not implement any of them. Then 'Abdullah ibn Zayd was shown the Adhan in a dream. He went to the Prophet (peace be upon him) and informed him. The Prophet said, "Teach it to Bilal." He taught it to Bilal, and Bilal called the Adhan. 'Abdullah said, "I saw it in the dream, and I wanted to do it myself." The Prophet said, "Then you call the Iqamah." [Narrated by Abu Dawud, who remained silent about it]

Ibn 'Abdul-Barr said its chain is Hasan, and Al-Hazi said the same.

دوسری حدیث
1001

عبد اللہ بن محمد بن عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہم سے روایت ہے، اوروہ اپنے والد کے واسطے اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ جب عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے اذان کے بارے میں خواب دیکھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا نہول نے اذان دی اس کے بعد عبد اللہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہول نے اقامت کی۔(اس کی روایت امام طحاوی نے لکھے۔)

اذان کے وقت کے انگیال کانول میں رکنا سنت ہے

It is narrated from 'Abdullah ibn Muhammad ibn 'Abdullah ibn Zayd, from his father, from his grandfather, that when he saw the Adhan in a dream, the Prophet (peace be upon him) ordered Bilal to call the Adhan and then ordered 'Abdullah to call the Iqamah. [Narrated by At-Tahawi]

1002

عبد الرحمن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے والد سعد بن عمراپنے دادا سعد رضی اللہ عنہ سے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے موؤزن سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اذان دینے وقت اپنے دونوں کانول میں اپنی دونوں انگیال رکھا کریں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کانول میں انگیون کا رخنا تمہاری بلندآوازی کا باعث ہوگا۔(اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہےاورترمزی نے جگی اس طرح روایت کی ہے۔)

ف: نہیل الاوطار میں لکھاہے کہ دوانگیون سے مراد ہمی دوانگیال ہیں جن کو اذان کے وقت کان میں رکھا حکم ہے۔12

بلند مقام پر اذان دیا کرنے کا اورنج صادق کے طلوع ہونے کے بعد فجر کی اذان کیے کا ثبوت

It is narrated from 'Abdur-Rahman ibn Sa'd ibn 'Ammar ibn Sa'd, the Mu'adhdhin of the Messenger of Allah (peace be upon him), that he said: My father narrated to me from his father, from his grandfather, that the Messenger of Allah (peace be upon him) ordered Bilal to place his two fingers in his ears and said, "It makes your voice louder." [Narrated by Ibn Majah, and Al-Tirmidhi narrated something similar]

1003

عروة بن زبر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، اوروہ نے النجار کی ایک خاتون سے

روایت کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں کہ میرا گھر مسجد کے اطراف کے گھروں میں سب سے زیادہ بلند تھا

بلال رضی اللہ عنہ اس گھر پر چڑھ کر فجر کی اذان دیا کرتے تھا اور وہ آخری شب میں آجاتے اور گھر کی

چوٹ پر بیٹھ کر صح صادق کے طلوع ہونے کو دیکھتے رہتے اور جب صح صادق کو دیکھتے تو اگر اپنی لیے

پھر پیدعا ما نگے: "اللہمّ انی أحمّدک و استعينک علی قریش ان يقيموا دینک"۔

(اس اللہ میں تیری حمد بیان کرتا ہول اور قریش کیلئے تیری مد ماگتا ہول کر وہ تیرے دین کو قائم

کرنے) وہ کہتی ہیں کہ پھر وہ اذان دیتے، وہ پیغمبر کہتی ہیں کہ خدا کی فتنہ مجھے یاد دینے پر تا کر بلال رضی

اللہ عنہ نے کسی ایک شب میں مجھے پیدعانہ پڑھی ہو–

(اس کی روایت ابوداوود نے کی ہے، اور ابوداود نے کہا ہے کہ اس حدیث سے منارہ پرازائیں

دین کا ثبوت ملتا ہے– (اور اس حدیث کی اسناد حسن ہے–)

ازان دین اور امامت کرنے کے مستحق کون ہیں

It is narrated from 'Urwah ibn Az-Zubayr, from a woman of Banu Najjar, that she said: "My house was one of the tallest houses around the mosque. Bilal used to call the Adhan for Fajr from it. He would come in the early hours of the morning, sit on the roof, and wait for Fajr. When he saw it, he would stretch and say, 'O Allah, I praise You and seek Your help against Quraysh to establish Your religion.' Then he would call the Adhan. By Allah, I never knew him to miss these words for a single night." [Narrated by Abu Dawud, who said: "It indicates that the Adhan should be called from a high place. Its chain is Hasan."]

1004

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ

علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تمہاری اذان وہ لوگ دیا کریں جوتم میں نہایت نکہ ہول اور تمہاری

امامت وہ کریں جوسب سے زیادہ علم والے ہیں–

(اس کی روایت ابوداود نے کی ہے–)

باوضوء اور کفرے ہوکر اذان کہنا مستحب ہے

It is narrated from Ibn 'Abbas (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Let the best among you call the Adhan, and let your reciters lead you in prayer." [Narrated by Abu Dawud]

1005

وائل بن بجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کر اذان کیلئے افضل

اور سنہ یہ ہے کہ باوضوء شخص، جو اذان دے اور پیکر اذان دینے والا کہرا ہو کر، جو اذان کے–

(اس کی روایت ابوباشخ نے کی ہے–)

It is narrated from Wa'il ibn Hujr (may Allah be pleased with him) that he said: "It is a right and a Sunnah that the Adhan should only be called by one who is in a state of purity and standing." [Narrated by Abu Ash-Shaikh]

باوضوءازان کہنا مستحب ہے
1006

(اس کی روایت تنزیلی نہیں ہے اور اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے -)

- ابوہریرہ رضی اللہ عنه، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ باوضوئ شخص، یا از ان دیا کرے -

ف: ہمارے علماء کہتے ہیں کہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ باوضوئ شخص کا از ان ویا مستحب ہے اور از ان کیلے وضوئ ضروری نہیں ہے، اس کی وجہ یہ ہے جب قرآن کو عظمت میں از ان سے زیادہ ہے لگیر باتوں کے ہوئے لگیر وضوئ پڑھنے سکتے ہیں تو از ان جو عظمت میں قرآن سے کم ہے لگیر وضوئ از ان ویا کس طرح ناجائز ہوگا، اس لیے جتنی روایتوں سے باوضوئ از ان ویا ثابت ہوتا ہے ان سے از ان باوضوئ ویا مستحب قرار پائے گا، (اس کی تائید ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ کی آنے والی روایت سے ہوتی ہے)- (پیغیق، "اعلاء السنن" میں ذکور ہے)

Abu Hurairah (RA) narrates from the Prophet ﷺ that he said:

A person who has performed ablution or has given it - [the scholars say] this hadith indicates that it is recommended for a person who has performed ablution to give it, and it is not necessary to perform ablution again. The reason for this is that since the Quran is more exalted than other matters, one can read continuous verses with continuous ablution. Therefore, how can it be impermissible to give continuous ablution for matters that are less exalted than the Quran? Hence, as many narrations indicate that giving continuous ablution is established for a person who has performed ablution, it is considered recommended to give continuous ablution. This is confirmed by the narration of Ibrahim al-Nakha'i (RA) - (as mentioned in 'I'la al-Sunan')

بغير وضو ازان و يئاجا نزہے
1007

- ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہول نے کہا کر اگر موذن بلا وضوئ از ان دے تو اس میں کوئی مضاضہ نہیں ہے۔ اس کی روایت امام محمد نے کتاب الآثار میں کی ہے،) اور امام محمد نے کہا ہے کہ تم ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ کے اس قول کو اختیار کرتے ہیں اور بلا وضوئ از ان دین میں کوئی مضاضہ نہیں ہے۔ البتہ تم جنتی کے از ان دین کو کرو ہی جنتے ہیں۔ از ان اور اقامۃ کے کلمات کے آخر حرف کوسا کن پڑھنا

It is narrated from Ibrahim that he said: "There is no harm in a Mu'adhdhin calling the Adhan without ablution." [Narrated by Muhammad in Al-Athar, and he said: "This is our view; we see no harm in it, but we dislike it if he is in a state of major impurity (Junub)."]

1008

- ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہول نے کہا کر از ان جزم ہے اور تکبیر جزم ہے اور سلام جزم ہے اور قرآن جزم ہے (یعنی از ان کے جملے آخر کوسکون سے پڑھ اور تکبیر میں جمعی اس طرح اور سلام میں جمعی اس طرح آخر کلمہ کوسکون سے پڑھے اور قرآن میں جمعی جمال آیت ختم ہوتی ہے و بالوقف کر کے پڑھے )-

(اس کی روايت سعيد بن منصور نے کی ہے۔)

ازان کے بعد مسجد سے بغیر نماز پڑھے چل جانا منع ہے

It is narrated from him (Ibrahim) that he said: "The Adhan is decisive, the Takbir is decisive, the Taslim is decisive, and the Qur'an is decisive." [Narrated by Sa'id ibn Mansur]

1009

رضی اللہ عنہ - البواشعۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہول نے کہا کہ تم مسجد میں ابوہریرہ

رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھا تو میں موؤلن نے اذان وی ایک شخص مسجد سے انہکر جانے

لگا تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس کود کہتا رہ بہال تک کروہ شخص مسجد سے باہر ہوگیا تو ابوہریرہ رضی اللہ

عنہ نے فرمایا کہ اس شخص نے حضور ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی ہے(اس لے کر حضور صلی

اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے کہ مسجد میں اذان سن کے بعد بغیر نماز پڑھے مسجد سے جانا نہیں

چاہئے،اوراس نے اپنی نین کیاہے،اس لے پینافرمانی ہے۔)

(اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے اورمسلم،نسائی اورترمزدی نے بھی اس طرح روایت کی ہے۔)

ازان کے بعد مسجد سے بغیر نماز پڑھے چل جانے کی وعید

It is narrated from Abu Ash-Sha'tha that he said: We were sitting in the mosque with Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) when the Mu'adhdhin called the Adhan. A man stood up and walked out of the mosque. Abu Hurairah followed him with his gaze until he left, then said, "As for this man, he has disobeyed Abu Al-Qasim (the Prophet, peace be upon him)." [Narrated by Ibn Majah while Muslim, Al-Nasa’i, and Al-Tirmidhi narrated something similar]

1010

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،انہول نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ

علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص مسجد کے اندر ہے اور ازان ہوتی چلوہ شخص مسجد سے نکل گیا اور کسی ضروری

کام کیلے نہیں نکلا اور وہ دوبارہ مسجد میں واپس ہوئے کا ارادہ نہیں رکتا ہے تو وہ منافق ہے۔(اس کی

روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔)

It is narrated from 'Uthman (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Whoever hears the Adhan in the mosque and then leaves, not for a need and without intending to return, is a hypocrite." [Narrated by Ibn Majah]