یہ باب حیض کے بیان میں
وقول الله عز و جل ويسيلونك عن المحيض قل هو اذي فاعتزلوا النساء في المحيض اور الل تعالي كا رشاد سور بقر ع ايت نمبر مي ا يغبر صلي الل علي وسلم لو ا س حيض ك بار مي دريافت كرت ي ا ك ديجي ك حيض ند ي اس لي تم حيض كي حالت مي عورتو س دور ر و ليعن جماع نكرو
عورت شادی شدہ ہو یا کنواری دو نول کے لئے حیض کی کم از کم دت تین دن اور
زائد سے زائد دس دن سے
Whether a woman is married or unmarried, the minimum duration for menstruation is three days and the maximum is ten days.
ابوا مہر ضی اللہ علیہ روایت ہے، انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے فرمایا کہ باکرہ اور ثیبے دو نول کے لئے کم از کم حیض کی دت تین دن کی ہے اور زائد سے زائد
دت دس دن کی ہے، اس لئے اگر حیض دس دن سے زیادہ ہوجائے تو عورت مستحاضہ کہلاتی گی
- (اس کی روایت دار قطنی نے کی ہے)
مستحاضہ کی تعریف اور اس کا حکم
ف : مستحاضہ عورت کو کچھ پی جس کے رتم سے خون بغیر ایام حیض اور نفس کے جاری رہتا
ہے، عورت کے رتم میں ایک رگ ہوتی ہے جس کو عازل کہتے ہیں اور اس رگ کے پچھے جانے سے
خون جاری ہوتا ہے تو عورت کو جب اس وقت کا خون جاری ہوتا وہ نماز، روزہ اور تمام عبادتیں برستور پڑتا
کرے اور اس حالت میں صحبت کی ممنوع نہیں ہے۔ (مرقات 12)-
Narrated by Abu Umamah: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "The minimum period of menstruation for a virgin girl is three days, and the maximum is ten days. If it exceeds that, she is considered to be experiencing irregular bleeding (Istihadah)." [Narrated by Al-Daraqutni]
اس رضی اللہ علیہ روایت ہے، انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا کر حیض کی مدت (3) تین دن اور (4) چار دن اور (5) پانچ دن اور (6) چھ دن اور (7) سات
دن اور (8) آٹھ دن اور (9) نو دن اور (10) دس دن سے اور جب دس دن سے زائد ہو جائے تو
عورت مستحاضہ ہو لائے گی۔ (اس کی روایت ابن عدی نے کی ہے۔)
Narrated by Anas: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "The period of menstruation can be three, four, five, six, seven, eight, nine, or ten days. If it exceeds ten days, she is considered to be experiencing irregular bleeding." [Narrated by Ibn Adi, and Al-Daraqutni narrated it similarly from Abdullah bin Mas'ud]
اور دار قطنی نے عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ای طرح موافق روایت کی ہے۔
واثلة بن الاسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حیض کی مدت کم از کم تین دن سے اور زائد سے زائد مدت دس دن سے۔ (اس
کی روایت دار قطنی نے کی ہے۔)
Narrated by Wailah bin Asqa': The Messenger of Allah (ﷺ) said: "The minimum period of menstruation is three days, and the maximum is ten days." [Narrated by Al-Daraqutni]
معاز بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا کر حیض کی مدت تین دن سے کم کی نہیں، اور دس دن سے زائد مدت حیض میں شمار
نہیں ہے۔ (اس کی روایت ابن عدی نے کی ہے۔)
دو حیض کے درمیان پاک رہنے کی کم سے کم مدت پندرہ دن ہے
Narrated by Mu'adh bin Jabal: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "There is no menstruation less than three days, nor more than ten days." [Narrated by Ibn Adi]
خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا کر حیض کی کم سے کم مدت تین دن اور زائد سے زائد مدت دس دن کی ہے اور دو حیض کے درمیان کم
سے کم پاک رہنے کی مدت پندرہ دن ہے۔ (اس کی روایت ابن الجوزی نے کی ہے۔)
رداختار میں کچھ اہل کہ حیض کی کم سے کم اور زائد سے زائد مدت کے تعین کے متعلق چند صحابہ
سے مختلف اسناک کے ذریعہ روايتیں آئی ہیں اور بیشتر اسناک سن کے درجہ تک پہنچتی ہیں جس کی تفصیل
علامہ کمال اور علامہ عینی رحمہما اللہ نے شرح بدایی میں بیان کی ہیں اور جس کی تفصیل "بحر" میں بھی کی گئی
ہے۔ 12
Narrated by Al-Khudri: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "The minimum period of menstruation is three days, and the maximum is ten days. The minimum period between two menstrual cycles is fifteen days." [Narrated by Ibn al-Jawzi]
And it was stated in Radd al-Muhtar: "The determination of the minimum and maximum menstruation period has been reported from six of the Companions through various narrations, which go back to Al-Hasan, as elaborated by Kamal and Al-Ayni in their commentary on Al-Hidayah and summarized in Al-Bahr."
عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کر حیض والی
عورت کا خون دل دن سے متجاوز ہو جائے تو وہ عورت مستحاضہ کی طرح ہے، اس لے وہ غسل کرے
اور نماز پڑھے۔
(اس کی روایت دار قطعی نہیں ہے اور تہقیق نہیں اس اثر (یعنی حدیث کے متعلق کہا ہے کہ اس
کے اسانوں کوئی مضاضہ نہیں۔)
Narrated by Uthman (1) bin Abi al-As: He said: "If the menstruation exceeds ten days, she is considered to be in the state of Istihadah (irregular bleeding). She should perform Ghusl and pray." [Narrated by Al-Daraqutni]
Al-Bayhaqi said: "This narration has no objection in its chain of transmission."
(1) Sahabi (Companion of the Prophet ﷺ).
_ انس رضی اللہ عنہ تے روایت ہے، انہوں نے کہا کر حیض کی کم سے کم مد ت تین دن
ہے۔ (اس کی روایت دار نہیں اپنی سنن میں کی ہے اور اس حدیث کے راوی مسلم کے راوی ہیں۔)
نفاس کی زاندے تے زاند مد ت چا پیس دن ہے
Anas (may Allah be pleased with him) said: The minimum period of menstruation is three days. [Narrated by Al-Darimi in his Sunan, and its narrators are the narrators of Muslim]
_ ام سلمہ رضی اللہ عنہا تے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ علیہ وسلم کے
زمانے میں نفاس والی عورت چا پیس دن تک بیٹھی رہا کرتی تھی۔ (اس کی روایت البوداوی اور ترمذی
نہیں ہے۔)
Umm Salama (may Allah be pleased with him) said: The postpartum women (nifas) would sit for forty days during the time of the Messenger of Allah ﷺ. [Narrated by Abu Dawood and Tirmidhi]
_ انس رضی اللہ عنہ تے روایت ہے کہ رسول اللہ علیہ وسلم نے نفاس والی
عورت کے لے چا پیس دن میں فرمایے ہے گر بیکر چا پیس دن کے پہلے پاکی دکیہ لے (یعنی چا پیس
دن کے اندر خون بند ہو جائے تو وہ پاک بھی جائے گی۔ (اس کی روایت دار قطعی اور ابن ماجہ نے کی
ہے۔)
Anas reported that the Prophet (ﷺ) set the duration of postpartum bleeding (nifas) at forty days, unless a woman sees purity before that. [Narrated by al-Daraqutni and Ibn Majah]
_ البودراداء اور البودریہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمايکر نفاس والی عورت چا پیس دن تک انتظار کرے گر پیکر پاکی کو چا پیس دن کے
پہلے دکیہ لے اورا گر چا پیس دن کی مد ت کو پچھ جائے تو پاکی نہ دکیے تو وہ مستحاضہ کی
طرح ہو گی۔ (اس کی روایت ابن عدی اور ابن عساکر نے کی ہے۔)
Abu al-Darda and Abu Huraira reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The woman experiencing postpartum bleeding (nifas) observes (the period) for forty days unless she sees purity before that. If she reaches forty days and has not seen purity, she should perform ghusl, and she is in the state of a mustahada (a woman experiencing irregular bleeding)." [Narrated by Ibn Adi and Ibn Asakir]
_ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک عورت کے متعلق روایت ہے جو حاملہ ہو
اور حمل کی حالت میں خون دیکھتی ہوتی اس کو خون کا آنا ادائی نماز کے لئے مانع نہیں ہے اس لئے کہ یہ مستحاضہ ہی جائے گی۔ (اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں کی ہے اور اس کے راوی جماعت محمد ثمن کے راوی ہیں۔)
حاملہ دوران حمل یا قبل و لا دت خون دیکھ تو وہ استحاضہ کا خون ہو گا اور اس خون کو حیض ينفس قرآن دین کی وضاحت
ف: النحد یؤول کے پیش نظر صاحب بہاءی نے وضاحت کی ہے کہ وہ خون جس کو حاملہ عورت حمل کے زمانہ میں دیکھے یا زچگی کے وقت پڑ کے پیدا ہو نے سے پہلے دیکھے وہ استحاضہ کا خون ہو گا اور اگر دوران حمل میں خون زیادہ دنون تک جاری رہے تو وہ بھی استحاضہ کی ہو گا، البتہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے اس خون کو جو ولادت کے وقت پڑ کی پیداش سے قبل نظر آتا ہے نفاس کا اعتبار کرتے ہوئے حیض قرآن دیہ کیونکہ امام موصوف کے پاس نفاس کا خون اور وہ خون جو ولادت سے پہلے نظر آتا ہے رحمہی سے نکلتا ہے، لیکن احناف کی تحقیق یہ ہے کہ عادتاً حمل کی وجہ سے رحم کا منہ بند ہو جاتا ہے جو پڑ کے پیدا ہو نے کے بعد کھلتا ہے، اس لئے ولادت سے پہلے جو خون نظر آتا ہے گا وہ رحم کا خون نہیں ہے بلکہ ایک رگ کے پچھلے جانے کی وجہ سے آرہا ہے، اس خون کو حیض کا خون کہنا یا نفاس کا خون کہنا مناسب نہیں اور ای بناء پر ہمارے پاس یا استحاضہ کی ہے۔ (عمدۃ الرعاية میں بھی ایسا ہی ذکور ہے۔)
اللہ تعالی حیض کے خون کو حمل کے بعد پڑ کی غذا بنادیتے ہیں
Aisha reported regarding a pregnant woman who sees blood: "(1) This does not prevent her from praying." Narrated by Ibn Abi Shaybah in his Musannaf, and its narrators are those of the authentic collections.
(1) His statement: "Regarding a pregnant woman who sees blood, etc.": Based on these narrations, it is stated in Al-Hidayah that the blood seen by a pregnant woman, whether at the beginning of pregnancy or during childbirth before the child is born, is considered istihadah (irregular bleeding), even if it is prolonged. Imam Al-Shafi'i, however, regarded it as hayd (menstruation), by analogy with nifas (postpartum bleeding), since both originate from the womb. Our stance is that during pregnancy, the mouth of the womb remains closed as per natural practice, and nifas occurs only after it opens upon the child's birth.
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی حیض کے خون کو حاملہ رک دیتے ہیں اور اس حیض کے خون کو (جورتم میں جمع ہوتا ہے) پڑ کی غذا بنادیتے ہیں (1)
ف: اس حدیث میں "تَغْيُضُ الْرَّحَام" کا ترجمہ تکملہ جمع الجارے لیا گیا ہے۔ 12
Ali said: "Indeed, Allah has lifted menstruation from the pregnant woman and has made the blood that the wombs withhold (for the nourishment of the fetus)."
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی نے حاملہ
کے خون کوروک دیاہ اوراسی کو پڑکار زق بنایاہ -(2)
( ان دونول حدیثول کی روایت ابن شاہین نے کیہ جن کصاحب الجوهراتی نے نقل کیا
ہے- )
حاملہ عورت خون دیکے تواس کا حکم پاک عورت کا، ہوگا
Ibrahim said: "If a pregnant woman sees blood, she is not menstruating; she should pray, fast, her husband may approach her, and she should act as any pure woman does." Narrated by Muhammad in Al-Athar.
ابراہیم رضی اللہ عنہ تے روایت ہے، انہول نے کہا کہ اگر حاملہ عورت خون
دیکے تو وہ حاملہ نہیں ہے تو اس کو چاہے کہ نماز پڑھا اور روزہ رکے اور اس سے اس کا شوہر صحبت کرے
کر سکتا ہے اور وہ ان تمام کا مون کور سکتی ہے جو ایک پاک عورت کرتی ہے-
( اس کی روایت امام محمد نے کتاب الآثار میں لکھی ہے- )
حاصلہ کو حیض کے ختم پرسفید پانی کا نظر آنا حیض کے ختم ہونے کی علامت ہے
Ibrahim said: "If a pregnant woman sees blood, she is not menstruating; she should pray, fast, her husband may approach her, and she should act as any pure woman does." Narrated by Muhammad in Al-Athar.
علقرہ بن ابی علقرہ رضی اللہ عنہ تے روایت ہے کروہا پنی مال سے روایت کرتے
ہیں جوام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی آزاکروہا ندی تحسین، علقرہ رضی اللہ عنہ کی مال نے
کہا : عورتیں ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں تھیں میں حیض کی چندیال رکھ کر بھیجا کرتی
تحسین اگر حیض کے خون کارتے زردہوتا تو عائشہ رضی اللہ عنہا فرمادیا کرتیں کہ جلدی مست کرو، تاوقتگیر تم
حیض کوسفید پانی کی طرح نہ کیلو ( کیون کہ حیض جب ختم ہوجاتا ہے تو آخر میں سفید پانی خارج
ہوتا ہے جس سے رتم کی پاکی معلوم ہوتی ہے ) فرمانتے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا فشاہی
ہوتا تحاکر حیض سے بالکل پاکی حاصل ہوجاتے -( اس کی روایت امام ماک نے کی ہے اور
عبد الرزاق نے جبکہ اس کی روایت اسناد کے ساتھ کی ہے اور امام بخاری نے جبکہ اسی طرح تعليقاً
روایت کی ہے- )
حافظ عورت ایام حیض کے روزوں کی قضا کر لیکن ان دونوں کی نمازیں اس کومعاف ہیں
Alqama bin Abi Alqama narrated from his mother, who was a servant of Aisha, the wife of the Prophet (ﷺ), that she said: "Women used to send cloths with traces of yellow discharge from menstruation to Aisha for guidance. She would say: 'Do not rush until you see the white discharge,' meaning the sign of purity from menstruation." [Narrated by Malik and Abdul Razzaq with an authentic chain, and Al-Bukhari narrated something similar in a suspended form]
معاذۃ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتی تھی کہ میں نے ام المومنین عائشہ
رضی اللہ عنہا سے دریافت کی کہ کیا وجہ ہے کہ حافظہ روزوں کی قضاء کرتی ہے اور نماز کی قضا نہیں
کرتی؟ تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرما کر کیا تم خارجی عورت ہو؟ میں جواب دی کہ جی نہیں میں
خارجی عورت نہیں ہوں بلکہ صرف دریافت کرنے آچکی ہوں، تو ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی
ہیں کہ تم کو حیض آیا کرتا تھا تو تم کوروزوں کی قضاء کر نے کا حکم دیا جاتا تھا لیکن نمازوں کی قضاء کر نے
کا حکم نہیں دیا جاتا تھا۔
(اس حدیث کو بخاری اور مسلم نے متفق طور پر روایت کی ہے)
ف : اس حدیث میں لفظ حروریہ جو ذکور ہے وہ حرو راء کی طرف منسوب ہے جو کوفی کے نواح
میں ایک قریہ ہے اور حرو راء وہ قریہ ہے جہاں سے قتہ خارجیت کا آغاز ہوااور خوارنج ایک ایسافرقہ ہے
جنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوت کی ہے اور ابل سنت وجماعت کے مسلک سے
ہٹ کر عقائد اور اعمال میں ایک علیحدہ راستہ اختیار کیا جو آگے چل کر ایک گراہ فرقہ بن گیا۔
اس حدیث میں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ساکل عورت نے جب سوال کیا تو ام
المومنین رضی اللہ عنہا کو اندیشہ واکر ان کاپرسوال براعتقادی کی وجہ سے تو نہیں ہے اس لے ام المومنین
عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ تمہارا تعلق حرو ریجنی فرقہ خوارنج سے تو نہیں ہے ام المومنین عائشہ رضی
اللہ عنہا نے پیاس لے کری دریافت کیا کہ خوارنج کی ایک جماعت نے حافظہ پر ایام حیض میں فوت
شره نمازوں کی قضاء کو واجب قرار دیا ہے جو خلاف اجماع ہے اور جب ساکل عورت نے جواب دیا کہ
میں خارجی نہیں ہوں تو پھر ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کو جواب دیا تھا دیا جو صدر میں ذکور ہے۔
(یعنی، محکم البلدان اور دائرۃ المعارف بستانی)-12-
حیض کی حالت میں مرد کے لے پیو کی کیا چیز حلال ہے
Mu'adhah said: "I asked Aisha, 'Why is it that a menstruating woman makes up the missed fasts but does not make up the missed prayers?' She replied: 'Are you a Haruriyyah (i.e., from the Kharijites)?' I said, 'I am not a Haruriyyah, but I am asking.' She said: 'We used to experience this, and we were commanded to make up the fasts but not the prayers.'" Agreed upon [Narrated by both Bukhari and Muslim]
عبد اللہ بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت، ہے وہ کہتی تھی کہ میں نے رسول اللہ صلی
اللہ تعالی و سلم سے دریافت کیا کر میری یہوی حیض کی حالت میں ہوتے تو میں اپنی یوی سے کیا چیز حلال
ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ تمہارے لئے جائزہ کرناف اور گھٹنے کے درمیانی حصہ پر کپڑا
ڈھالنا کر کپڑے کے اوپر سے نفع لین (اور بخیر کپڑا اؤ ہا کے ناف اور گھٹنے کے درمیانی حصے سے نفع لینا
جا زمیں - ) (اس کی روايت البوداوو، ابن ماجا اور امام احمد نے کی ہے - )
اور نہیں میں نذور سے کہ ابوداوو کی روایت میں دوراوی صدوق میں اور ابوداوو کے باقی راوی
کی ثقت ہیں -
Abdullah bin Sa’d said: "I asked the Messenger of Allah (ﷺ), 'What is permissible for me from my wife when she is menstruating?' He said: 'What is above the waist wrapper (izar).' (1)" [Narrated by Abu Dawud, Ibn Majah, and Ahmad]
In Nayl it is mentioned: "In Abu Dawud’s narration, there are two truthful narrators, and the rest are trustworthy." Abu Ya’la also narrated it from Umar, and its narrators are those of the authentic collections.
(1) His statement: "What is above the waist wrapper (izar)": The jurists have defined it as the area between the navel and the knees, based on common customary practice. This is mentioned in Fath al-Bari.
نیز اس کی روایت ابویعلی رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ سے کی ہے اور ابویعلی
رضی اللہ عنہ کے تمام راوی صحیح کے راوی ہیں -
حیض کی حالت میں مردوی کے بد ن سے کس طرح استفادہ کر سکتا ہے
ف : عورت جب حیض کی حالت میں ہوتا اس کے بد ن سے استفادہ کے متعلق علامہ شامی رحمۃ
اللہ علیہ نے وضاحت کی ہے کہ عورت کی ناف اور ناف کے اوپر کے سارے بد ن اور گھٹنے اور گھٹنے کے پچھے
پچھول تک کے حصے سے کپڑا اؤ ہا کے بخیر عورت کے جسم سے فائدہ حاصل کرنا جائزہ بلکہ ناف اور گھٹنے
کے درمیانی حصے سے بھی کپڑا اؤ ہا کے کر نفع حاصل کیا جا سکتا ہے اگر چیک کر سف لیں حیض کے کپڑے پر
خون آ رہا ہو، امام ابوحنیفہ اور امام ماکر ہمہا اللہ کا قول یہی ہے اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے قول
جید میں اس کو اختیار کیا ہے - (رواحتا راور مرقات - )
Abdullah bin Sa’d said: "I asked the Messenger of Allah (ﷺ), 'What is permissible for me from my wife when she is menstruating?' He said: 'What is above the waist wrapper (izar).' (1)" [Narrated by Abu Dawud, Ibn Majah, and Ahmad]
In Nayl it is mentioned: "In Abu Dawud’s narration, there are two truthful narrators, and the rest are trustworthy." Abu Ya’la also narrated it from Umar, and its narrators are those of the authentic collections.
(1) His statement: "What is above the waist wrapper (izar)": The jurists have defined it as the area between the navel and the knees, based on common customary practice. This is mentioned in Fath al-Bari.
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ میں خود اور
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم جنابت کی حالت میں ایک برتن سے غسل کیا کرتی تھا اور حیض کی حالت
میں آپ مجھے حکم دیا کرتے تھے کہ میں ناف اور گھٹنے کے درمیانی حصہ پر کپڑا اؤ ہا کے لون اور آپ مجھے
سے لیتے تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم اعتکاف کی حالت میں (مسجد میں بیٹھ کر) میری جانب
اپنے سر مبارک کو برہا تے (اور میں مسجد کے باہر رہتی تھی) اور حیض کی حالت میں آپ کے سر مبارک
کو صحوپا کرتی تھی -
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے - )
And from Mu'adhah, she said: Aisha said: I used to perform the ritual bath along with the Messenger of Allah ﷺ from one container between me and him, and he would hurry to use it until I would say, "Leave some for me, leave some for me." She said: And both of them were in a state of janabah. [Agreed upon]
زید بن اسلم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ میری بیوی حالت میں میرے لے کر میری بیوی کی کیا چیز حلال ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا کہ تمہاری بیوی اپنی ناف اور گھٹنے کے درمیانی حصہ پر کپڑا باندھ لے اور پھر تم ( ناف اور گھٹنے کے درمیانی حصے ) کپڑے کے اوپر سے بلخیہ جماع کے نفع حاصل کریں ( اس کی روایت امام ماک کا اور داری نے مرسلا کی ہے - )
حالت کے ساتھ کھانا پینا جائز ہے
Zayd bin Aslam said: A man asked the Messenger of Allah (ﷺ), "What is permissible for me regarding my wife while she is menstruating?" The Messenger of Allah (ﷺ) replied, "Wrap a waist wrapper (izar) around her, and then you may enjoy what is above it." [Narrated by Malik and Al-Darimi as a mursal (chain missing a Companion]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ میں حیض کی حالت میں پانی پیا کرتی اور چھراس کو بی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کرتی تو آپ ( اس پانی کے کلو رے سے ) جہاں میں منگا کر پانی پیتی، اس جگہ پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میں لگا کر پانی پیتے اور اس طرح حیض کی حالت میں گوشت والی چڑی کے گوشت کو منگے چھتر اکر کھاتی اور اس ہی دی کو آپ پی خدمت میں پیش کرتی تو آپ پی میرے منگا کر کھانے کی جگہ تے اپنا وکن مبارک لگا کر گوشت کھاتے تھے - ( اس کی روایت مسلم نے کی ہے - )
Aisha said: "I would drink while menstruating, then hand the vessel to the Prophet (ﷺ), and he would place his mouth on the same spot as mine and drink. I would chew on a piece of meat (araq) while menstruating, then hand it to the Prophet (ﷺ), and he would place his mouth on the same spot as mine." [Narrated by Muslim]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ میں حیض کی حالت میں ہوتی اور بی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گودے میں لگتے پھر قرآن پڑھتے - ( اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے - )
Aisha said: "The Prophet (ﷺ) would recline on my lap while I was menstruating, and he would recite the Quran." Agreed upon [Narrated by both Bukhari and Muslim]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ بی کریم صلی
اللہ تعالیٰ وسلم نے مجھے فرمایا کہ باتہ برہا کرمسی میں سے نہیں تھیمر دے دو، میں جواب دی کر میں
حالت حیض میں ہول آپ نے ارشادفرمايا کہ تمہارا حیض تمہارے باٹہ میں نہیں ہے۔ (اس کی
روایت مسلم نے کی ہے۔)
Aisha said: "The Prophet (ﷺ) said to me, 'Hand me the prayer mat (khumrah) from the mosque.' I said, 'I am menstruating.' He replied, 'Your menstruation is not in your hand.'" [Narrated by Muslim]
ام المومنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم اپنی چادر اور ہکر نماز پڑھا کرتے تھے کہ جس کا پکڑ حصر ہو پڑھوتا تھا اور پکڑ حصر آ پ صلی
اللہ علیہ وسلم پڑھوتا اور میں حیض کی حالت میں ہوتی تھی۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ
طور پر کی ہے۔)
Maymunah said: "The Messenger of Allah (ﷺ) would pray while wearing a cloak, part of which was covering me, and part was covering him, while I was menstruating." [Agreed upon]
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ حیض کی حالت میں نہیں کریں
صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک بی لحاف میں سوجا کرتی تھیں۔ (اس کی روایت سعید بن منصور نے
کی ہے۔)
حالہ کے جمانے کرنے، عورت کی پچلی راہ سے محبت کرنے اور نجومی کے پاس جانے کی دعید
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
Aisha said: "She used to sleep with the Prophet (ﷺ) under the same blanket while she was menstruating." [Narrated by Sa‘id bin Mansur]
فرمایا کہ جس نے حالہ کے جمانے کیا، یا عورت کی پچلی راہ سے محبت کی، یا نجومی کے پاس گیا تو اس
نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر جو چیز اتاری گئی ہے اس سے کفر کیا۔ (اس کی روایت ترمذی، ابن ماجہ اور
دار قی نے کی ہے۔) اور ابن ماجہ اور دار قی کی روایت میں ہے کہ جس نے نجومی کے قول کی تصدیق کی،
پس بے شک وہ کافر ہوا۔
Abu Huraira said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever has intercourse with a menstruating woman, engages in anal intercourse, or consults a soothsayer has disbelieved in what was revealed to Muhammad." [Narrated by Al-Tirmidhi, Ibn Majah, and Al-Darimi but both last versions include: "And if he believes in what the soothsayer says, he has disbelieved"]
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے حیض کی حالت میں جمانے کرنے تو وہ نصف دینار خیرات
کرے۔ (اس کی روایت ترمذی، ابو داود، نسائی، دار قی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔)
Ibn Abbas said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "If a man has intercourse with his wife while she is menstruating, he should give charity of half a dinar." [Narrated by Al-Tirmidhi, Abu Dawood, Al-Nasa'i, Al-Darimi, and Ibn Majah]
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے روایت کر، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کر اگر ( ایسی حالت میں جماع کرے کر ) حیض کا خون سرخ ہوتا ایک دینار ( جسے ساتھ ہی چار ماشہ سونا ) نہیں تکرے اور اگر خون کا رنگ زرد ہوتا نصف دینار، نہیں تکرے۔ ( اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔ ) حاضم کے ساتھ جماع سرزدہ وجہ تو کیا کیا جائے؟ اور اکثر علماء نے کہا ہے کہ حیض کی حالت میں جماع کرنے والے پر استغفار کے سوا کوئی چیز واجب نہیں ہے اور ہمارے اصحاب کا بھی قول ہے، واضح رہے کہ جو علماء اس باٹ کے قائل نہیں کہ حالت حیض میں جماع کرنے سے نہیں تکرتے واجب نہیں ہوتی، انہوں نے پی جواب دیا کہ حاضم کے جماع کرنے کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد میں نہیں تکرتے کرے کا جوڑ کرے وہ استخبار پر ہمول ہے چاہے تو نہیں تکرتے کرے اور چاہے تو نہیں کرے، چنانچہ علماء میں رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو عدہ القاری میں بیان کیا ہے اور اس طرح عام گیری میں نہ کور ہے، البتہ بزل انجہو دیں کہا ہے کہ علماء نے حاضم کے جماع کرنے کے لفظ واجب ہو نے کے بارے میں اختلاف کیا ہے، امام ماک، امام ابوحنیفہ اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہم نے کہا ہے کہ ایسے شخص پر پچھلی واجب نہیں ہے بلکہ نہیں تکرتے دینا مستحب ہے اگر ابتدا کی حیض میں جماع کر لیا ہوتا ایک دینار نہیں تکرتے کرے اور اگر آخری حیض میں جماع کیا ہوتا نصف دینار نہیں تکرتے کرے اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت مانگے۔
Ibn Abbas narrated from the Prophet (ﷺ) that he said: "If the blood is red, then the charity is one dinar, and if the blood is yellow, then it is half a dinar." [Narrated by Al-Tirmidhi]
Most scholars have stated that there is no obligation on the person except to seek forgiveness, and this is also the opinion of our companions. Those who hold that charity is not obligatory interpret the Prophet's statement "let him give charity" as a recommendation, if he wishes, he may give charity, and if not, he is not obliged to. This was mentioned by Al-Allama Al-'Ayni in ‘Umdat al-Qari and similarly in Al-Alamkiriyya.
In Badh al-Majhud, it is stated: There is a difference of opinion regarding the obligation of expiation for intercourse with a menstruating woman. Malik, Abu Hanifa, and Al-Shafi'i said: Nothing is obligatory on him, but it is recommended that he give charity, if he had intercourse at the beginning of menstruation, then a dinar; if at the end, then half a dinar, and he should seek forgiveness from Allah Almighty.