یہ باب پانی کے احکام کے بیان میں
وقول الله تعالي ويحرم عليهم الخبايث اور ارشاد باري تعالي ن سور اعراف ع ايت نمبر مي اور نبي صلي الل علي وسلم حرام كرت ي ان ر نا اك يزي
ف: اس میں دلیل سے کہ سوا میں چھلی کے، وریا کے اور جانور حرام ہیں، کیونکہ وہ خبیث ہیں۔
In this, anything that is harmful to the soul, such as deceit, hypocrisy, and animals that are impure, is forbidden, because they are evil.
وقوله تعالي وانزلنا من السماء ماء طهورا اور ارشاد باري تعالي ن سور فرقان ع ايت نمبر مي اور تم اسمان س اني برسات ي جو اك و صاف كرن والي يز
وقوله تعالي وينزل عليكم من السماء ماء ليطهركم به اور ارشاد باري تعالي ن سور انفال ع ايت نمبر مي اور الل تعالي تم ر اسمان س اني برسات ي تا ك اس اني س تم كو حدث اصغر و اكبر اك كرو
وقوله تعالي انزل من السماء ماء فسالت اوديه بقدرها اور ارشاد باري تعالي ن سور رعد ع ايت نمبر مي اور الل تعالي ن اسمان س اني برسات ي جو كر ا ني مقدار ك موافق لن يعني و نال مي ت و ا اور ب نال مي زياد اني
تُجِبْرَہوَ پانی میں جویل ہو، پیشہ اب کرنا ممنوع ہے
Fishing in water is now prohibited as a profession.
جا بر ضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہول نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تُجِبْرَہوَ پانی میں پیشہ اب کرنا سے ممانعت فرمائی ہے۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
ف: پانی سے مراد پیہان قیل پانی ہے، اگر پانی کئی ہوتے جاری کا حکم رکتا ہے اور وہ پیشہ اب
و غیرہ سے نجس نہیں ہوتا اور اس میں نہانا بھی جائزہ اور بعضوں نے کہاہے کاگرپانی کثرہ ہوتو نجس نہیں
ہوتا لیکن اس میں پیشاب کرنا طہیک نہیں، شاہود کیحاویسی اور لوگ بھی پیشاب کرنے لگیں، اور پردوان
پاجاے اور رفتہ پانی تغیر ہوجائے الغرض قليل پانی میں پیشاب کرنا کروہتخریمی اور کثرپانی میں
پیشاب کرنا کروہتخریبی ہے۔
طہیرہ ہوئے قليل پانی میں غسل جنابت نہیں کیا جاسکتا
Narrated Jabir: The Messenger of Allah ﷺ prohibited urinating in stagnant water. [Narrated by Muslim]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت ہے، انہول نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایاہے کوئی شخص طہیرہ ہوئے پانی میں جو پہتا ہوا نہو پیشاب کرنے اس سے غسل و غیرہ نہ
کرے۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے بالاتفاق کی ہے۔)
Narrated Abu Huraira: The Messenger of Allah ﷺ said: "None of you should urinate in standing water that does not flow, and then wash in it." [Agreed upon]
In a narration of Muslim, he said: "None of you should wash in standing water while in a state of janabah." They asked: "How should he do that, O Abu Huraira?" He replied: "He should take it out by scooping."
(1) The statement "None of you should wash...", The Qadi said: The restriction of the prohibition to a specific state indicates that the water used for the ritual washing (ghusl) after janabah (impurity) if it is stagnant, no longer retains its purity. Otherwise, there would be no benefit in the restricted prohibition. This is either because the purity is lost, as said by Abu Hanifa, or because the water ceases to be purifying, as said by Shafi'i. This is also the opinion of Muhammad, and it is the view followed in legal rulings, as mentioned in "Al-Mirqaat."
اور مسلم کی ایک روایت میں یول ہے کہ آپ نے فرمایا: کوئی شخص جنابت کی حالت
میں طہیرہ ہوئے قليل پانی میں غسل نہ کرے، لوگوں نے کہا کہ اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پھر کیا کیا
جاے؟ آپ نے کہا کہ باہون سے تھوزر اتحواراپانی لے کر غسل کرنا چاہیے۔
ف: طہیرہ ہوئے پانی میں جنابت کے غسل کی ممانعت کے متعلق قاضی نے کہاہے کہ اس
حدیث میں غسل کی ممانعت کو حالت جنابت کے ساتھ مشروط قرار دیا گیاہے جس سے پتہ چلتاہے کہ وہ
پانی جو غسل جنابت میں استعمال کیا جاے گب کہ وہ طہیرا ہوا ہوتو وہ اپنی اصلی حالت پر نہیں رہتا اگر یہ
بات نہ ہوتی تو ممانعت کوئی فائدہ مقصود نہ ہوتا۔
اس لیے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا مسلک یہہے کہ وہ پانی طاہر نہ ہے بلکہ ناپاک ہوگیا اور امام
شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا مسلک یہہے کہ وہ پانی پاک رہا، مگر پاک کرنے والا نہ رہا اور یہی قول امام محمد رحمۃ
اللہ علیہ کا ہے اور اسی پرفتوی ہے۔ (مرقات)-
استعمال شدہ پانی پاک ہوتا ہے مگر پاک کرنے والانہیں ہوتا
Narrated Abu Huraira: The Messenger of Allah ﷺ said: "None of you should urinate in standing water that does not flow, and then wash in it." [Agreed upon]
In a narration of Muslim, he said: "None of you should wash in standing water while in a state of janabah." They asked: "How should he do that, O Abu Huraira?" He replied: "He should take it out by scooping."
(1) The statement "None of you should wash...", The Qadi said: The restriction of the prohibition to a specific state indicates that the water used for the ritual washing (ghusl) after janabah (impurity) if it is stagnant, no longer retains its purity. Otherwise, there would be no benefit in the restricted prohibition. This is either because the purity is lost, as said by Abu Hanifa, or because the water ceases to be purifying, as said by Shafi'i. This is also the opinion of Muhammad, and it is the view followed in legal rulings, as mentioned in "Al-Mirqaat."
جابر رضی اللہ عنہ روایت ہے، انہول نے کہا کہ میں پہار ہوگیا تو میرے پاس
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ عیادت کے لے تشریف لاے دونوں
حضرات نے مجھے بہوش پائا تو نہیں کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا پھر وضو کا مستعمل پانی مجھے پر
ذال دیاتو مجھے بہوش آگیا۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔)
أبو جُحَيْفَةُ رضی اللہ عنہ تروايته انهول ن كها کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
ہمارے پاس تشریف فرما ہوئے آپ کے لے وضو کا پانی لا یا گیا تو آپ پر نے وضو فرمایا تو صحاب کرام
حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مستعمل پانی لے کرا پن اپن بدن پر ل رہے تھے۔ (اس کی روایت
بخاری نے کی ہے۔)
Abu Juhaifah (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah ﷺ came out to us and was brought some water for ablution. He performed ablution, and the people began to take from the leftover water of his ablution and wipe themselves with it." [Narrated by Bukhari]
مسور بن مخرمة رضی اللہ عنہ تروايته انہول ن کہا کر جب رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم وضو فرمایتے تولگ آپ کے لے وضو کے مستعمل پانی پر باہم لڑ پڑنے کے قریب ہوجاتے-
(اس کی روایت بخاری نے کی ہے) سعاية میں کہا ہے کہ اور اسی وقتم کی احادیث اس بات پر دلیل
پی کر مستعمل پانی پاک ہوتا ہے ورنہ اس کو تبرک مجھے اور جسم پر ملنے اور اس طرح استعمال کرنے کی
کوئی وجہ نہیں، نہ ہیب حقی میں فتوی اس پر ہے کہ استعمال شدہ پانی پاک ہے گر پاک کرنے والانہین
ہے-
کہوئی میں آدمی (یا آدمی کے بر ابر کوئی چیز) گر کر مر جاے تو کنوی کو پاک کرنے
کے لے پورا کنوال خالی کرنا ضروری ہے
Al-Miswar bin Makhrama (may Allah be pleased with him) narrated: "When the Prophet ﷺ performed ablution, the people nearly fought over his leftover water." [Narrated by Bukhari]
In the explanation: "These reports and similar ones indicate the purity of used water, and without this, there would be no meaning to seeking blessings and wiping with it. The legal ruling is that the water used for ablution remains pure according to the Hanafi school."
ابن سیرین رضی اللہ عنہ تروايته ہے، کہ زمزم کے چشمه میں ایک جبشتی گر کر
مرگیا تو ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے حکم دیا کہ اس آدمی کو نکالا جائے، چنانچہ وہ نکالا گیا پھر آپ
نے زمزم کے پورے پانی کو نکالنے کا حکم دیا، راوی کہتا ہے کہ کن (یعنی ججراسود) کی جانب ایک
جھرہ تھا جس سے پانی اس چشتم میں چلا آر باتحا اور بندہ ہوتا تھا آپ پر نے حکم دیا تو اس جھرہ کے منکو
سفید باریک پر ون اور رشی چادرول سے بندر کیا گیا یہاں تک کہ پورا پانی کسی لے اور جب سب پانی کسی چک تو تجرہ کحل گیا۔ (اس کی روایت دار طني نے بطریق مرسل کی لے، علامہ نیموی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے استاد کوچہ بتلا یہ اور یہی اور ابن ابی شیبہ نے اور عبد الرزاق نے اس طرح کی روایت کی لے اور ابن ابی شیبہ کی سنن چہے۔)
Ibn Sirin (may Allah be pleased with him) narrated: "A black man fell into the Zamzam well, meaning he died. Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) ordered his body to be removed, and he ordered that the water be drawn out. They were then overwhelmed by a spring that came from the corner. Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) ordered it to be drawn out with sheets and blankets until they drew it out, and when they did, it erupted." [Narrated by al-Daraqutni (with a broken chain)]
Imam al-Taymiyyah said: "Its chain is authentic," and al-Bayhaqi, Ibn Abi Shaiba, and Abdul Razzaq reported something similar, and Ibn Abi Shaiba's chain is also authentic.
زیر رضی اللہ علیہما کے حرم پراس کا پانی خالی کیا جانے لگا، جب پانی نمین رکن لگا تو دیکھا گیا کہ ایک جغرہ تجراسودی طرف تے جاری لے جس تے پانی چلا آر باہ حضرت ابن زیر رضی اللہ علیہما نے تمام پانی کے کسی لے جانے کے بعد فرمایا کہ بس کافی لے۔ (کیون کہ پورا پانی تقراً خالی ہو چکا تھا) (اس کی روایت طحاوی نے کی لے اور ابن ابی شیبہ نے بھی ابی، یروايت کی لے امام ابن همام کے یہ کے اس کی سنن چہے۔)
بلی ابلی کے بر ابر کوئی چیز کنوی میں گر کر مر جاے تو کنوی کی پاکی کے لے چاپس
یا پچپس دول پانی نکالا جائے
The water of the well of Banū Ghifār was being drained. When the water level became low, it was seen that there was a channel leading to the side of the well through which the water was flowing out. After all the water had been drained, Ibn Zayd (RA) said, 'That's enough.' (Because the water was almost completely drained.)
شعبی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت لے کہ پنده، بلی اور ان دونوں کی طرح کوئی جانور جب کنوی میں گر جاے تو ان کے بارے میں آپ نے فرمایا کہ اس میں سے چاپس (40) دول پانی کسی پاچے۔ (اس کی روایت طحاوی نے کی لے اور امام ابن همام نے کہا کر اس کی سنن چہے۔)
مردار چیز نکالے کے بعد پانی کسی پاچے؟
When a donkey, mule, or any animal like them falls into a well, you said about it that if there are forty saa's of water, it is pure. After removing the dead animal, is the water pure?
ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت لے کہ جب کنوی میں چوبا یا بلی گر کر مر جاے تو ان کے بارے میں آپ نے فرمایا کہ اس میں سے چاپس دول پانی نکالا جائے۔ (اس کی
روایت طحاوی نے کی ہے۔)
Ibrahim al-Nakha'i (may Allah be pleased with him) narrated: "If a rodent or cat falls into a well and dies, forty buckets of water should be drawn out from it." [Narrated by Al-Tahawi]
حماد بن ابی سلیمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب مرغ کنویں میں گر کر
مرجاے تو اس کے لے آپ نے فرمایا کر اس میں سے چاپس پیپاس دول پانی پیچ کرنے لا جائے،
پھراس کنویں کے پانی سے وضو کریں۔(اس کی روایت طحاوی نے کی ہے۔)
چوپاپچوہے کے برابر کوئی جانور کنویں میں گر کر مر جائے تو
میں یا تمیں دول پانی نکالا جائے
Hammad bin Abi Sulayman (may Allah be pleased with him) narrated: "If a chick falls into a well and dies, forty or fifty buckets of water should be drawn out, and then it can be used for ablution." [Narrated by Al-Tahawi]
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے چوہے کے بارے میں کہا کہ جب
وہ کنویں میں گر کر مر جائے اور اس وقت نکالا جائے تو کنویں سے میں یا تمیں دول پانی خارج کیا
جائے۔(امام ابن حمام اور زیلی نے بتلا یہ کہ امام طحاوی نے شرح الآثار کی سنن کے سوا دوسروں
چند اسناد سے اس کی روایت کی ہے۔)
Anas (may Allah be pleased with him) narrated: "If a rat dies in a well and is removed immediately, twenty or thirty buckets of water should be drawn out from it." [Narrated by al-Tahawi through various chains, as mentioned by Imam Ibn al-Humam and al-Zayla'i]
Abu Ali al-Hafiz al-Samarkandi also narrated a similar report with a chain.
اور ابوعلی حافظ سمرقندي نے اس میں کی ایک حدیث اپنے سندر فوع سے روایت
کی ہے۔
جب کنویں میں کوئی جانور خواہ چھوٹا ہو یا بڑا اگر اور مر کر پچول جائے تو
پورا کنوال خالی کیا جانا ضروری ہے
Anas (may Allah be pleased with him) narrated: "If a rat dies in a well and is removed immediately, twenty or thirty buckets of water should be drawn out from it." [Narrated by al-Tahawi through various chains, as mentioned by Imam Ibn al-Humam and al-Zayla'i]
Abu Ali al-Hafiz al-Samarkandi also narrated a similar report with a chain.
معمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مجھے ایک شخص نے بیان
کیا جس نے حسن بصری رضی اللہ عنہ سے سنا ہے کہ آپ نے کہا جب کنویں میں جانور مر جائے تو ہم
اس کنویں سے پکھ پانی نکالے تھے اور اگر مر کر اس میں پچول جاتا تو پورا کنوال خالی کیا جاتا۔(اس کی
روایت عبد الرزاق نے کی ہے۔)
Al-Ma'mar (may Allah be pleased with him) narrated: "I was told by someone who heard al-Hasan say: 'If an animal dies in a well, we take from the water, and if it decomposes, it is drawn out.'" [Narrated by Abdul Razzaq]
جا بر رضی اللہ عنہ نے روایت کی، انہوں نے کہا کہ میں ایک تالاب پر آیا جس میں ایک گھڑا مرا پڑا تھا، تھم اس کے پانی کو استعمال کرنے سے رک گیا۔ پھر میں نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے۔ اور فرمایا کہ کسی پانی کو کوئی چیز نہیں ملی تو، تم اس کا پانی پیئے اور ساتھ لے لو۔ (اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے اور طحاوی نے بھی اس طرح روایت کی ہے۔)
I came to a pond where a jar had fallen. I refrained from using its water. Then I brought it to the Messenger of Allah ﷺ and said, 'If nothing has fallen into any water, then you may drink from it and take it with you.' (This is narrated by Ibn Majah, and also by Tirmidhi in this manner.)
اور عبد الرزاق کی ایک روایت میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تالاب سے وضو کرتے ہوئے پانی پیتا۔ جس میں کچھ کوشت اور مردار چیزیں داخل ہوتی تھیں۔ جب لوگوں نے آخیرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ نے فرمایا کہ کسی پانی کو کوئی چیز نہیں ملتی۔ آب قليل اور آب کثر کی مقدار کیا ہے ف(1): علماء نے پانی کے ناپکے میں کے بارے میں اختلاف کیا ہے، امام ماکر حمد اللہ علیہ کہتے ہیں کہ نجاست سے ملے پر پانی اس وقت تک ناپاک نہیں ہوتا جب تک اس کے تین اوصاف میں کوئی ایک وصف بدل نہ جائے، لیکن حنفی، شافعی اور حنابلہ کہتے ہیں کہ قليل پانی نجاست سے ملے پر ناپاک ہوجاتا ہے، خواہ اس کا کوئی کچھ وصف نہ بدلے۔ لیکن آب قليل کے تقسیم کے بارے میں ان کا اختلاف ہے، امام شافعی اور امام احمد رحمهما اللہ نے آب قليل کا تقسیم دو قسم کیا ہے اور امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا قول جس کی صراحہ بدایہ میں ہے یہ ہے کہ ایسا تالاب کہ جس کے ایک جانب حرکت دینے سے دوسرا جانب پانی متحرک نہ ہو، ایسے تالاب کے کسی ایک جانب میں اگر نجاست گر جائے تو اس کی دوسری جانب سے وضو کرنا جائزہ اور بعضوں نے عوام کی سہولت کے خیال سے مقدار کا اندازہ دہ دودہ کیطرے نابنے کے گزنت کیا ہے اور اسی پرفتوی ہے۔
پر اتا لاب کس صورت میں آب جاری کے حکم میں داخل ہوگا؟
ف(2): ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے تشرح نقائص میں بیان کیا ہے واضح رہے کہ ہمارے علماء کا
اتفاق اس بات پر ہے کہ برے تالاب کا حکم آب جاری کا ہے اختلاف اس میں ہے کہ برے تالاب کس
طرح معلوم کیا جائے کہ جس کا حکم آب جاری کا ہے متقدمین نے کہا ہے کہ ایک جانب حرکت دینے
سے پانی کو دوسری جانب حرکت دے تو، اس طرح کہ حرکت دیتے وقت پانی نتو بلند ہوجائے اور نہ
چست پرامرو ضاحت طلب سے کہ حرکت سے کوئی حرکت مراد ہے، امام ابوحنیفرحمۃ اللہ علیہ سے مرودی
سے کہ غسل کی حرکت مراد ہے اس لیے کہ غسل کے وقت حوض کی زاند ضرورت پیش آتی ہے، چنانچہ ایک
روایت میں امام ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ سے اس طرح منقول ہے اور امام ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ سے
ایک دوسری روایت یہ ہے کہ باہر سے حرکت دینے کا اعتبار کیا جائے گا اور اس میں لوگوں کے لیے
اسانی ہے، البتہ امام محمد رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ ضوء کرتے وقت کی حرکت کا لحاظ ہوگا اور یہ
درمیانی صورت ہے، اور یہی امام ابوحنیفرحمۃ اللہ علیہ سے ایک روایت میں مرودی ہے اور امام ابوحنیفہ
رحمۃ اللہ علیہ سے ظاہر الرواية میں مرودی ہے کہ غالب گمان کا اعتبار کیا جائے گا اس طرح کہ ضوء
کرنے والے کو غالب گمان پیدا ہو جائے کہ ضوء کے وقت پانی کو حرکت دینے میں ناپاکی دوسری
جانب تک پہنچ گئی ہے تو اس سے ضوء نہ کرے اور اگر یہ غالب پیدا نہ ہو تو ضوء کرے غایہ میں
نذور ہے کہ یہ قول تین ہے اور ابو عصمہ نے کہا ہے کہ امام محمد رحمۃ اللہ علیہ اس کا تعین نہ وردہ ہے
کیا کرتے تھے پھر انہوں نے امام ابوحنیفرحمۃ اللہ علیہ کے قول کی جانب رجوع کیا ہے اور یہ کہا ہے کہ
میں اس بارے میں کوئی مقدار معمی نہیں کرتا۔
احناف کے پاس دو ورود مقدار پانی آب جاری اور آب کثیر کے حکم میں داخل ہے
البتہ ورودہ سے مقدار مقرر کر نے کا نہیں ابن مبارک اور علماء نے نہ او رمتاخرین میں سے ایک
جماعت نے اختیار کیا ہے، امام ابوالیث نے کہا ہے کہ ورودہ پرفتوی ہے اور صاحب بدایہ نہیں اس کے
قابل ہیں اور جس طرح احناف کے پاس پانی کی مقدار آب جاری کے حکم میں داخل ہونے کے لیے وہ
ورودہ مقرر ہے۔
شواہ کے پاس مقدار پانی آب جاری کے حکم میں داخل ہے۔
ای طرح امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے قلتین کی حدیث کی بناء پر قلتین کے مقدار پانی کو آب
جاری کے حکم میں داخل کیا ہے۔
حدیث قلتین کی تحقیق
جواباً تم کہتے ہیں کہ قلتین کی حدیث کو ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے جس میں حافظ ابن
عبد البر، قاضی اسماعیل بن اسحاق اور ابو بکر بن العربي ماکی پیں اور امام تہتی نے کہا ہے کہ یہ حدیث قوی
نہیں ہے اور اس حدیث کو خود امام غزالی اور امام روايتی رحمہ اللہ نے ترک کردیا ہے باوجود یہ کہ پیدولول
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے شدید اتباع کرنے والے تھے، اس طرح علی بن المدینی جو امام جخاری کے
استادوں میں انہوں نے کہا کہ قلتین کی حدیث تھابت نہیں ہوتی ہے۔
قلتین مقدار پانی آب جاری کے حکم میں داخل ہوتا تو چاہ زمزم کو ایک حبشی کے گر کر
مرجان کی وجہ سے خالی نکیا جاتا
مزید برآں پیکہ جب چاہ زمزم میں ایک حبشی گر کر مر گیا تھا اس وقت عبد اللہ ابن عباس اور
عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم دونوں حضرات نے چاہ زمزم کے خالی کرنے کا حکم دیا تھا، اگر قلتین کی
حدیث تھی تو بقیہ صحابہ اور تابعین قلتین کی اس حدیث کی بناء پر اندونوں صحابیوں سے احتجاج
فرما تے کہ قلتین نہیں ہوتا تو زمزم کا کنوں کیوں خالی کیا جارہے؟ ان دونوں حضرات کا حکم رد
کروایا جاتا جس طرح وہ حدیث رد کر دی گئی جس میں آگے سے کچھ ہوتی چیز کے کہانے سے وضو
کرنے کا حکم معلوم ہوتا ہے دیگر پیکہ قلتین کی حدیث کو ابوداود نے بھی ضعیف ثبت کرایا ہے اور پیتلا یاہے
کراس کی سنہ میں اضطراب سے اور متن میں کچھ اضطراب ہے۔
قلتین مقدار پانی کو کس صورت میں آب کثرت کی حد میں قرار دیا جاسکتا ہے
احیاء السنن میں ان احادیث کی وضاحت کے بارے میں جن میں قلتین کا ذکر ہے پیکہ اس کے
جس طرح حوضوں میں پانی پچیلا ہوا ہوتا ہے اس طرح قلتین کے پانی کا پچیلا ہوا ہونا مراد ہے کیونکہ
قلتین مقدار کا پانی پھیلا ہوا ہو، اوراس کی گھر ان اس قدر ہو کہ ہاتھ پانی اٹھانے میں تکی زمین کتل
شہ جائے اوراس کا پھیلا واس قدر ہو کر اس کی ایک جانب کو رکت دینے سے دوسرا جانب متحرک نہ
ہوتا ہو تو ندہب میں قلتین کے ایک پھیلے ہوئے پانی کی مقدار کو آب کثیر کی حد قرار دیا گیا ہے اور فقہاء
نے عوام کی سہولت کے لحاظ سے آب کثیر کی مقدار کا تقیین دہ دردو مقدار پانی سے کیا ہے، اور تم نے
قلتین مقدار پانی کا ای طریقت تجر ب کیا تو اس کو بالکل درست پایا، پانی کا حوض کی طرح زمین پر پھیلا
ہوا ہو نے کی شرط گا نے کاراز پیہ ک نجاست اس صورت میں دب جائے ہے اور جس جگہ ہاتھ پانی
لیا جارہا ہے و بال نجاست موثر نہیں ہو نے پانی، اس کے بر خلاف جب پانی کا پھیلا و کم ہوتا ہے تو پانی
کے اجزاء میں نجاست کا اثر قوی ہوجاتا ہے، حاصل کلام یہ کہ قلتین کی احادیث کا تعلق پانی کے
پھیلا ہو نے ہے، پانی کی گہرائی سے نہیں ہے قلتین مقدار کا پانی گہرائی کے لحاظ سے تو کم معلوم ہوتا ہے
لیکن در حقیقت اس کو حوض کی طرح پھیلا دیا جائے تو وہ کثیر ہوجاتا ہے اگر چیکہ وہ گہرائی میں کم رہے اور
اس طرح آب کثیر کا حکم اس پر صادق آجاتا ہے۔
فقہا ے احناف کا دہ دردو مقدار پانی می کو آب جاری کے حد میں داخل کر نے کا
ماخذ کچھ احادیث، یہیں
The Messenger of Allah ﷺ performed wudu from a pond and drank water from it, which contained some impurities and filth. When the people mentioned this to the Messenger of Allah ﷺ, he said, 'Nothing defiles water. What is the amount of little water and much water?'
Scholars have differed regarding the impurity of water. Imam Makki Hamd Allah (RA) states that water does not become impure when it comes into contact with impurity until one of its three characteristics changes. However, the Hanafis, Shafi'is, and Hanbalis assert that a small amount of water becomes impure upon contact with impurity, even if none of its characteristics change. There is a difference of opinion among them regarding the classification of a small amount of water. Imam Shafi'i and Imam Ahmad (RA) have classified a small amount of water into two categories. The initial view of Imam Abu Hanifah (RA) is that a pond where stirring one side does not affect the other side remains pure, and if impurity falls into one part, purification can be performed from the other part. Some scholars have estimated this for the convenience of the masses as ten dudah (a unit of measurement), and this has been adopted in fatwas.
In what condition does a pond come under the ruling of flowing water?
F(2): Mulla Ali Qari (RA) has stated in Tashrih al-Naqais that our scholars agree that a large pond follows the ruling of flowing water. The difference lies in how a large pond is identified as following the ruling of flowing water. The early scholars said that if stirring one side causes movement on the other side, such that the water rises or moves, then it is considered flowing water. Imam Abu Hanifah (RA) considered the movement during washing as the criterion because the sand in the pool stirs during washing. According to a narration from Imam Abu Yusuf (RA), this is the case. Another narration from Imam Abu Yusuf (RA) states that external movement should be considered, which is easier for people. Imam Muhammad (RA) held that the movement during ablution should be considered, which is an intermediate position. This is also one of the narrations from Imam Abu Hanifah (RA). The apparent view of Imam Abu Hanifah (RA) is that the predominant assumption should be considered, such that if the person performing ablution assumes that the impurity has spread to the other side, they should not perform ablution, and if not, they should. In summary, there are three views, and Abu Asim said that Imam Muhammad (RA) did not specify a particular quantity but later reverted to the view of Imam Abu Hanifah (RA), stating that he does not set a specific quantity for this matter.
For the Hanafis, a certain quantity of water comes under the ruling of flowing water and abundant water. However, there is no fixed quantity for this. Ibn Mubarak and other scholars have not specified a quantity, although a group of later scholars have adopted a fixed quantity. Imam Abu Layth said that a fixed quantity is established by fatwa but not by the primary sources, similar to how the Hanafis have a fixed quantity for water to come under the ruling of flowing water.
For the Shafi'is, a certain quantity of water comes under the ruling of flowing water. Imam Shafi'i (RA) based this on the hadith of Qalaitain, considering the quantity of Qalaitain as flowing water.
Examination of the Hadith of Qalaitain:
You ask about the hadith of Qalaitain, which some groups have deemed weak. Hafiz Ibn Abd al-Barr, Qadi Ismail bin Ishak, Abu Bakr bin al-Arabi al-Makki, and Imam Tuhafi have stated that this hadith is not strong, and Imam Ghazali and Imam Raawi (RA) have abandoned it despite being strict followers of Imam Shafi'i (RA). Ali bin Madini, one of Imam Juhari's teachers, said that the hadith of Qalaitain is not established. If the hadith of Qalaitain were valid, the well of Zamzam would have been emptied due to a dead body falling into it. When a black man fell into the well of Zamzam and died, Abdullah ibn Abbas and Abdullah ibn Zubair (RA) ordered it to be emptied. If the hadith of Qalaitain were valid, other Companions and Successors would have objected to their decision, asking why Zamzam was being emptied if Qalaitain was not applicable. Their command would have been rejected, just as the hadith was rejected, which suggests that wudu is required if something falls into the water before it. Additionally, Abu Dawud has also deemed the hadith of Qalaitain weak due to inconsistencies in the chain and the text.
Under what conditions can the quantity of Qalaitain be considered abundant water?
In Ihyaa al-Sunan, the hadiths mentioning Qalaitain are explained, indicating that just as water in pools spreads, the water of Qalaitain is meant to spread. Since the water of Qalaitain is spread out, its depth is such that when water is drawn, it does not reach the ground, and it is so spread out that stirring one side does not affect the other. Therefore, the spread-out quantity of Qalaitain is considered abundant water, and the jurists have estimated this for the convenience of the masses as ten dudah. If you test the quantity of Qalaitain, you will find it correct, as the water spreads like a pool, and impurities sink without affecting the water. Conversely, when water is less spread out, impurities have a stronger effect. In conclusion, the hadiths of Qalaitain relate to the spread of water, not its depth. The water of Qalaitain appears shallow but, when spread out like a pool, it is considered abundant, and thus the ruling of abundant water applies to it, even if it is shallow in depth.
The basis for the Hanafi jurists setting the quantity of ten dudah as the limit for flowing water is derived from certain hadiths.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہول نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرما یا ہے کہ کوئی کے گرد چا لیس (40) بات کہیں اس کے چاروں جانب دس دس ہاتھ تک کوئی دوسرا نہ تو
کنوال کھود سکتا ہے اور نہ سنگ اس بناس کتا ہے۔ (اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔)
Whoever recites forty hadiths around him, such that no one in the four directions within ten cubits can dig or strike a stone with it, then... (This narration is reported by Imam Ahmad.)
حسن بصری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا
کہ جو شخص کنوال کھودا لے تو کوئی کے اطراف ہر چہار جانب سے دس دس ہاتھ جملہ چا لیس ہاتھ اس
کے پیچ کے اس کے اندرون تو کوئی کنوال کھود وا سکتا ہے اور نہ سنگ اس (جس بیت الخلاء) بناس کتا
ہے۔) (اس کی روايت امام ابو يوسف رحمۃ اللہ علیہ نے کی ہے۔)
Whoever digs a latrine, no one can dig around it on all four sides within twelve cubits, and no one can dig a latrine inside the circumference of this area. And no stone should be used to build the latrine.
اور ابن ملج اور طبرانی نے عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً اس طرح
روایت کی ہے۔
شمعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ کنوی کی بھرچارطرف سے
دس دس ہاتھوں جملے پالیس ہاتھوں کو تشخص اس حد کے اندر داخل نہ دیوے اور نہ اس حد کے اندر دوسرا
کنوال کھود کر اس کے پانی میں تصرف کرے۔ (اس کی روایت امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ نے کی
ہے۔)
امام صدر الشریعت نے کہا کہ کنوی کے بھرجانب سے دس دس ہاتھوں کا احاطہ اس کنوی کا ہے
اور اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اگر کوئی دس ہاتھوں کے اندر دوسرا کنوال کھود وانا چاہے تو اس کو رکے
دیا جائے گا، اس لیے کہ پہلے کنوی کا پانی دوسرے کی جانب بچچ جائے گا اور پہلے کنوی کا پانی کم
ہو جائے گا اور اگر کوئی اس حد کے اندر گزرا ہا کھود وا لے حس میں غلط پانی جمع ہوتا ہے تو اس سے بھی رکے
دیا جائے گا اس لیے کہ پہلے کنوی میں اس کی نجاست سرايت کر جائے گی اور اس کا پانی نا پاک ہو جائے گا، البتہ کسی کوڑہ دروہ کے احاطہ کے بعد کنوال کھود والے سے منع نہیں کیا جائے گا، لہذا معلوم ہوا کہ
شریعت نے ناپاکی کے سرايت نہ کرنے کے متعلق وہ دروہ کا اعتبار کیا ہے، بلال اگر اس کے بعد کی
نجاست سرايت کر جائے تو والے سے بھی روا جاتا اور چونکہ ایسا نہیں ہوا ہے اس لیے ثابت ہوگیا کہ وہ
دروہ کے بعد نجاست سرايت نہیں کرتی ہے۔ اس تمام تقریر کا معنی یہ ہے کہ فقہاء کا دہ ورده پانی کی کوآب
کثرت کی تعریف میں داخل کر نے کا مأخذ یہی عدشیں ہیں اور وہ حضرات جنہوں نے قلتین مقداروالے
پانی کو آب کثرت کے حکم میں داخل کیا ہے وہ حضرات۔
قلتین مقداروالے پانی کو آب کثرت کے حکم میں داخل کرنے کے لیے
بہتر بضاعتے استدلال کے صحت پر نہ ہو نے کی تو ضیح
بہتر بضاعتے استدلال کر تے ہیں کہ بہتر بضاعتے مدینہ منورہ میں ایک کنوال تجا جس میں نجاست
گزرتی تھی اور اس کا پانی لوگ استعمال کرتے تھے اس سے ان حضرات نے ثابت کیا ہے کہ قلتین مقدار
والاپائی نجاست کا متخلص ہوتاہے اورآپ بھیثرحا حماس پر صادق آجا تاہے۔ اس کے جواب میں احتاف
پیروضاحت کی سے کہ بر بضاعت ایسا کنوالتھاجس کی تہہ میں ایک نہرتی جس سے مدینہ منورہ کے
باغوں کوزمین کے اندر سے بہیشہ پانی بہاکرتا تھا جس کی وجہ سے نجاست رہنمیں پانی تھی، بر بضاعت
اظہر تو ایک کنوالتھا لیکن حقیقت میں اس نہر کی وجہ سے اس کا پانی نہر جاری کے حکم میں تھا۔
From the side of the canal, ten by ten baths should not allow any police bath to enter within this limit, nor should anyone dig another canal and make alterations in its water. (This narration is from Imam Abu Yusuf, may Allah have mercy on him.) Imam Sadr ash-Shari'ah said: 'The area of ten by ten baths from the side of the canal belongs to that canal, and it is understood from this that if someone wants to dig another canal within ten baths, they will be stopped, so that the water of the first canal does not flow away to the other side and the water of the first canal decreases. If someone digs a hole within this limit and collects impure water, they will also be stopped, so that the impurity does not spread in the first canal and its water becomes impure. However, after the area of a well is dug, no one will be prevented from digging a canal, hence it is clear that the Shari'ah considers the well after which impurity does not spread. If impurity spreads after that, it will also be considered, but since this did not happen, it is established that it does not spread impurity after the well. The meaning of all this is that the basis for the jurists including the abundance of water in the definition of a large amount of water is these evidences, and those who included small amounts of water in the ruling of a large amount of water are those scholars. If the argument for including small amounts of water in the ruling of a large amount of water is not sound, then they argue that in Madinah Munawwarah, there was a canal through which impurity flowed, and people used its water, thereby proving that a small amount of water is free from impurity, and you are also truthful in this regard. In response to this, it is explained that such a canal existed, but in reality, due to a stream flowing from the gardens and lands of Madinah Munawwarah, the water of the canal was in the ruling of a flowing stream.'
واقعہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے، انہول نے کہاہے کہ بر بضاعت نامی کنویں
میں ایک نهرتی جو باغوں کی طرف بہتی رہتی تھی جس کا پانی بہیشہ جاری رہتا تھا تو اس کا حکم نہر جاری
کے پانی کا تھا۔ اس کی روایت طحاوی نے کی ہے، اورسعا ئی میں کہاہے کہ ناقدین کی ایک جماعت
نے واقعہ کی تو ثیق کی ہے اور علماء نے رحمۃ اللہ علیہ بنایی میں کہتے ہیں کرواقعہ رحمۃ اللہ علیہ بل
مدینہ میں سے خراج او روبال کے حالات سے خوب واقف تھے، مگر جن حضرات نے ان کی روایت کا
انکار کیاہے، شانداس کی وجہ یہ کہ بر بضاعت کا پانی بہ زمین پر نہیں بہتا تھا بلکہ وزمین کے اندر
جا ری تھااوراس ناواقفیت کی بناء پرانی روایت کا انکار کیاگیاہے۔ 12-
جب تک پانی کے رنگ یا مزہ یا بو پر کونی چیز غالب ذا جا ہے پانی نجس نہیں ہوتا
Al-Waqidi said: "The well of Buda‘ah was a water passage leading to the gardens, so water did not remain settled in it. Therefore, its ruling was like that of river water."
[Narrated by Al-Tahawi]
In Al-Sa‘ayah, it is mentioned that a group of critics have deemed Al-Waqidi reliable. Al-‘Ayni said in Al-Binayah: "Al-Waqidi, being from the people of Madinah, was more knowledgeable about its affairs. If someone denies his report, perhaps they mean that it was not a surface-flowing water source, while the water of Buda‘ah was flowing underground."
راشد بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا کہ پانی کو کوئی چیز نجس نہیں کرتی جب تک کہ اس میں کا ظراس کے رنگ یا مزہ یا بو پر
غالب نہ آ جا یے۔ اس کی روایت طحاوی نے کی ہے اوردارستی نے بطريق مرسل اس کی روایت
کی ہے۔ جس کو ابو حاتم نے تحقیق اردویہ اور ابن مجاح اورطبرانی سے بھی اوسط اورکبیرین اس طرح
روایت ہے۔)
سمعن در کا پانی پاک ہے!
Rashid bin Sa‘d narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Water is not rendered impure by anything unless its color, taste, or smell is altered." [Narrated by Al-Tahawi and Al-Daraqutni as a Mursal narration]
Abu Hatim deemed its Mursal status authentic. Ibn Majah and Al-Tabarani, in Al-Awsat and Al-Kabir, reported a similar narration.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہول نے کہا کہ ایک شخص نے رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، جب لوگ کشتی میں دریا کا سفر کرتے ہیں اور انہارے ساتھ حوض اپانی رہتا ہے۔ اگر اس سے وضو کر لے تو پیاسے رہ جائیں تو کیا انہم سمندربکے پانی سے وضو کر لیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سمندربکا پانی پاک ہے اور اس کا مردار حلال ہے (جتنی مریہوتی محملی )۔(اس کی روایت امام ماک،ترمزدی،ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ، دارقی اور امام محمد نے کی ہے۔)
ایسے جانور جس میں بہتا خون نہ ہو، کسی کہانے پاپنی میں کر کر مر جاتے تو وہ کہانے اور پاپنی ناپاک نہیں ہوتے
Abu Hurairah narrated that a man asked the Messenger of Allah (ﷺ), "O Messenger of Allah, we travel by sea and carry only a small amount of water. If we use it for ablution, we will be left thirsty. Can we perform ablution with sea water?" The Messenger of Allah (ﷺ) replied:
"Its water is pure, and its dead (animals) are lawful (to eat)." [Narrated by Malik, Al-Tirmidhi, Abu Dawud, Al-Nasa'i, Ibn Majah, Al-Darimi, and Muhammad]
ف: اس حدیث کو "الحل میتہ" (اس کا مردار حلال ہے) سے حقیقت کے زاویے سرف محمل مراد ہے کیون کہ وہ ذنگ کے بغیر خود بھی مر جاتی ہے، اس کا شکار کرنے اور اس کو پانی سے نکالنا یہ ذنگ کرنے ہے۔
سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے سلمان (رضی اللہ عنہ) کسی کہانے پاپنی میں کوئی ایسا جانور جس میں بہتا خون نہیں ہوتا گر کر مر جاتے تو ایسے کہانے کا کہالینا اور اس پاپنی کو پینا اور اس سے وضو کرنا جائز ہے۔ (اس کی روایت دار قطعی نے کی ہے۔)
Salman narrated that the Prophet (ﷺ) said: "O Salman, any food or drink in which a creature that has no blood falls and dies remains lawful to eat, drink, and use for ablution." [Narrated by Al-Daraqutni)
امہانی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور میمونہ رضی اللہ عنہا نے ایک ایسے برتن سے غسل فرمایا جس کے پانی میں آٹے کا اثر تھا لیکن وہ اثر اسقدر غالب نہ تھا کہ پانی کی حالت کو بدلت دے۔ (اس کی روایت نسائی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔)
Umm Hani narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) and Maymunah performed ghusl (ritual bath) from a bowl that had traces of dough in it." [Narrated by Al-Nasa'i and Ibn Majah)
نبیزے وضو کیا جا سکتا ہے
ابوزیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت
کرتے ہیں کر جنون کی (حاضری کی ) رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ
سے پوچھا تمہاری چھاگل میں کیا ہے؟ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتا ہیں کر میں نے عرض کیا کہ بیڑہ ہے،
آپ نے فرمایا کہور پاک ہے اور پانی بھی پاک کرنے والا ہے۔
(اس کی روايت البوداوود، ابن ماجه، برزاز، طبراني، دار قطني اور ابن عدي نے کی ہے اور امام أحمد،
ترمذي، ابن ابي شيبة ورطحاوي نے اس پر ياضاف کیا ہے کا آپ نے اس سے وضو فرمایا-
نبیزے جواز وضو ثابت ہو نے والی حدیث کی سنن پراعتراض اور
اس کے مدل او ر مفصل جواب
ترمذي کہتے ہیں کر ابوزید راوی مجھول ہیں، ترمذی نے ابوزید راوی کو جو مجھول کہا ہے اس کا
جواب پیش کر ابوبکر بن عربی نے ترمذی کی شرح میں کہاہے کر ابوزید، عمر وا بن حرش کے مولی ہیں ان
تے راشد بن کيسان عبسی کونی اور ابوروق دونوں حضرات نے روایت کی ہے اور جن سے دوراوي
روایت کریں ان کو مجھول نہیں قرار دیا جاسکتا علاوہ از یہ بکثیرت ہی مشہور ہیں - ترمذی کافشاء ابوزید
کے مجھول ہو نے سے پرحوصلتا ہے، کہ بینام کے اعتبار سے مجھول ہیں جس سے کونی ضرر واقع نہیں ہوتا
کیون کہ ایے راویوں کی ایک جماعت ہے جن کے اسامے نامعلوم ہیں، اوروہ کئیتوں سے مشہور ہو گئے،
امام ابن حما اور علماء نے بھی کہا ہے-
صاحب مشکات کا اعتراض کرتے روایت میں مردوی کے ابن مسعود رضی اللہ عنہ
ليلة اتجن میں آخرضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں تھے
Abu Zayd narrated from Abdullah bin Mas‘ud that the Prophet (ﷺ) asked him on the Night of the Jinn: "What is in your water container?" He replied, "I said: Nabidh (a drink made from dates soaked in water)." The Prophet (ﷺ) said: "A good date and pure water." [Narrated by Abu Dawud, Ibn Majah, Al-Bazzar, Al-Tabarani, Al-Daraqutni, and Ibn ‘Adi]
Ahmad, Al-Tirmidhi, Ibn Abi Shaybah, and Al-Tahawi added: "Then he performed ablution with it."
Al-Tirmidhi said: "Abu Zayd is unknown."
Abu Bakr bin Al-‘Arabi mentioned in his explanation of Jami‘ Al-Tirmidhi that Abu Zayd was the freed slave of ‘Amr bin Hurayth. Rashid bin Kaisan Al-‘Absi Al-Kufi and Abu Rawq narrated from him, removing him from the category of unknown narrators. He is only known by his kunya (nickname), which may be why Al-Tirmidhi referred to him as "unknown," but this does not affect authenticity, as many narrators were known only by their kunya, as mentioned by Imam Ibn Al-Humam and Al-‘Ayni.
The author of Mishkat stated: "It is authentically narrated from ‘Alqamah that Abdullah bin Mas‘ud said: 'I was not with the Messenger of Allah (ﷺ) on the Night of the Jinn.'" [Narrated by Muslim]
The response to this is from multiple angles:
Firstly, Imam Ibn Al-Humam mentioned that the narration from Ibn Mas‘ud stating he was not present on the Night of the Jinn contradicts the narration in Musannaf Ibn Abi Shaybah, which affirms that he was with the Prophet (ﷺ).
Similarly Abu Hafs bin Shahin also narrated from him that he said: "I was with the Prophet (ﷺ) on the Night of the Jinn."
And there is another narration from him states that he saw a group of people from Al-Rut and said: "These are the most similar people to the jinn I saw on the Night of the Jinn." Affirmation takes precedence over negation.
Secondly, as mentioned by Hafiz Ibn Hajar and others in reconciling the affirming and negating narrations, Ibn Mas‘ud was not with the Prophet (ﷺ) at the specific location where he met the jinn and recited the Qur'an to them. Rather, he remained seated at the spot where the Messenger of Allah (ﷺ) had drawn a line for him until the Prophet (ﷺ) returned to him, as stated in Musnad Ahmad. Therefore, when Ibn Mas‘ud or others denied his companionship, they meant his specific companionship at that location, which does not contradict the narrations affirming his presence on that night.
Thirdly, Al-‘Ayni mentioned that fourteen men narrated that Ibn Mas‘ud was with the Prophet (ﷺ) on the Night of the Jinn, which is sufficient as evidence.
اور صاحب مشکات نے پر اعتراض کیا ہے کر علقر رضی اللہ عنہ سے تے روایت ہے
آلی ہے اور وہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ میں جنون کی
(حاضری کی ) رات آخرضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں تھے-(اس کی روایت مسلم نے کی ہے)-
اس اعتراض کا جواب کر حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ لیلہ اگن میں آخضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں تھائی طریقون سے دیا گیا تھا:
ایک(1) جواب تویہ جس کو امام ابن حمام رحمۃ اللہ علیہ نے بیان کیا ہے کروہ روایت جوابن مسعود رضی اللہ عنہ تے آلی پہ کرا نہول نے خود کہا ہے کرمیں لیلہ اگن میں آخضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہ تھا، یہ حدیث ابن ابل شیبہ کی حدیث سے متعارض ہے جس میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتا ہے کرمیں ساتھ موجود تھا۔
And the objection is raised from Al-Qasr (RA) who narrates from Abdullah ibn Mas'ud (RA), who said: 'I was not with the Prophet ﷺ on the night of the Jinn's visit.' This narration is reported by Muslim. The response to this objection, given by Abdullah ibn Mas'ud (RA), is that on the night in question, I was with the Prophet ﷺ through three ways: One answer is what Imam Ibn Humam (rahimahullah) has stated, which is that Ibn Mas'ud (RA) himself said, 'I was not with the Prophet ﷺ on the night of the Jinn's visit,' which contradicts the narration of Ibn Abi Shaybah, where Ibn Mas'ud (RA) says, 'I was present with him.'
ایک اور روایت جس کو ابو حفص ابن شاہین نے بیان کیا ہے اس میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ تے صراح تے کرمیں لیلہ اگن میں آخضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا۔
اور عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تے پہلی روایت سے کرا نہول نے قبیل زط کے چند لوگوں کو دیکھ کر فرمایا کہ پیلوگ ان جنوب سے جن کو میں نے لیلہ اگن میں دیکھا تھا زیادہ مشابہت رکھتے ہیں اور ظاہر ہے کہ جہال ثبوت اور تقی دوشتم کی روایت کو مقدم رکھا جاتا ہے، اس لئے یہاں لیلہ اگن میں عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ درست کو منع قرار دیا جاتے گا۔
(2) دوسرا جواب ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ نے دیا ہے کہ اثبات وتفی کی روايات کے درمیان مطابقت اس طرح پیدا کی جاسکتی ہے کہ لیلہ اگن میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ آخضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تو تھا گراس خاص مقام پر تھیں تھے، جہال جنات نے آپ سے ملاقات کی اور آپ نے ان کو قرآن پڑھ کر سنایا بلکہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ اپنی جانب سے کہ رہے جہال آخضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے لئے ایک خط تحریرآپ کواس کے اندر محاضریا تھا اور آخضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جنوب سے ملاقات کر کے واپس آئے تک اس جلد میٹھے رہے، اور اس کی روايت مسند امام احمد میں موجود ہے، النظاير دا ضح
ہوگیا کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام کے متعلق لیلہ ابجن میں آخضور صلی اللہ علیہ وسلم کے
ساٹھ درست کی جونی واردہ اس نئی کا تعلق اس مقام سے ہے جس میں آخضور صلی اللہ علیہ وسلم کے
جنول سے ملاقات فرمائی، اس طرح اس خاص مقام پر نہ ربنے سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی بمرائی
سے انکار نہیں کیا جاسکتا،اللہ تعالیٰ سے اس رات آخضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ابن مسعود رضی اللہ عنہ
کے ربنے یادہ ربنے کی روایتوں میں اختلاف باقی نہ رہا۔
صاحب مشکات کے اعتراض کا جواب سوم
(3) اور تیرا جواب وہ ہے جس کو علماء عینی رحمۃ اللہ علیہ نے بیان کیا ہے اور وہ یہہ کہ چودہ
حضرات سے مرودی ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لیلہ ابجن میں
موجود تھا اور یہ چیز استدلال کے لیے کافی ہے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ نبیزخرما سے وضو کرنے میں کوئی مضاع قطعی نہیں ہوتی تو
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نبیز (خرما) سے وضو کرنے میں کوئی
مضاع قطعی نہیں ہوتی، ایسے ہی حسن بصری رضی اللہ عنہ اور امام اوزاعی نے بھی کہا ہے۔
اور عمر رضی اللہ عنہ نے کہا ہے کہ حسن کو پانی نہ ملا سکے لی نبیز وضو کے
لیے کافی ہے۔ (یعنے القاری میں ذکور ہے۔)
جب کا ثمار درندہ جانوروں میں ہے
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
بلی درندہ (جانور) ہے۔ (اس کی روایت حاکم نے لی ہے اور اس کو تحقر اردیاہ اور دار تقی اور امام
احمد نے بھی اس طرح روایت کی ہے۔)
کعب بنت کعب بن ماکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جواب ابن ابی قتادہ رضی
اللہ عنہ کے نکاح میں تحسین کہ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ تشریف لا لے تو میں ان کے لیے وضو کا پانی دالی، پس
ایک بلی آکراس میں سے پانی پینے گی تو ابوقداد رضی اللہ عنہ نے بلی کے لے برتن کو اور جھکادیا
پیحال تک کاس سے پانی پی لیا، کبشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کر ابوقداد رضی اللہ عنہ نے مجھے دکیلیا جبکہ میں
جیرت ست ان کی طرف دکیہ رہی تھی اور کہنے گئے اے میری بچی! کیا تم تجب کرتی ہو؟ میں نے کہا:
بلی! ابوقداد رضی اللہ عنہ نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ بلی نہس نہیں ہے
وہ تو تمہارے پاس (خادمون کی طرح) آئی جاتی رہتی ہے۔ (اس کی روایت امام ماک، امام احمد،
ترمذی، البوداوود، نسائی، ابن ماجہ، دار قی اور امام محمد نے کی ہے اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح
ہے)
ف: بلی تمہارے پاس (خادمون کی طرح) آئی جاتی رہتی ہے۔ اس کے متعلق علامہ شیخ عبد الحق
رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ بلی کی بار بار آمد و رفت کو بلی کے ناپاک نہ ہونے کی علم قرار دی گئی ہے
، جس سے پتہ چلتا ہے دراصل وہ ناپاک نہیں ہے اور اس کی ناپاکی حاجت اور ضرورت کے تحت (کہ وہ
موژی جانوروں کو مارتی ہے) معاف قرار دی گئی ہے، اس لحاظ سے درندہ کا جحوظ ناپاک ہوگا اور بلی کا جحوظ
اس کے درندہ ہونے کے باوجود ناپاک نہیں ہے، اس لحاظ سے اس میں ضرورت اور حاجت ہے، احياء
اشن میں بھی نذور ہے۔ بلی کی حاجت اور ضرورت اس طرح ہے کہ وہ خدمت کرتی ہے اور اس کی
خدمت پیہ کہ وہ موژی جانوروں کو مارتی ہے اور ان کی خبرگی ری میں ثواب ہوتا ہے، اور اسی ضرورت
کے تحت بلیوں کے جحوظ پانی کو پاک قرار دیا گیا کر اس سے وضع کیا جاسکتا ہے۔ 12
And Abdullah ibn Mas'ud (RA) saw some people from the tribe of Zut and said, 'These people bear a great resemblance to those I saw in the Night Journey in a blazing fire, and it is evident that the narration of Jahal Thabit and Tiqui Doshum is given precedence, so the presence of Abdullah ibn Mas'ud (RA) with the Messenger of Allah ﷺ in the Night Journey is considered correct. (2) Another answer given by Ibn Hajar (may Allah have mercy on him) and others is that the narrations of Athbat and Tafiq can be reconciled in such a way that Ibn Mas'ud (RA) was indeed present with the Messenger of Allah ﷺ during the Night Journey, but at a specific place. The Jinn met him there, and he recited the Quran to them. Ibn Mas'ud (RA) mentioned that the Jinn came to the Messenger of Allah ﷺ and wrote a letter for him, which they presented to him when they returned after meeting the Messenger of Allah ﷺ. This reconciliation is found in the Musnad of Imam Ahmad, and thus it is established that Ibn Mas'ud (RA) and other Companions were present with the Messenger of Allah ﷺ during the Night Journey at the place where the Jinn met him. Therefore, it cannot be denied that Ibn Mas'ud (RA) was present at this specific place, and the narrations about his presence with the Messenger of Allah ﷺ during the Night Journey do not contradict each other. (3) And another answer given by the scholars, including Al-Aini (may Allah have mercy on him), is that it is narrated from fourteen Companions that Ibn Mas'ud (RA) was present with the Messenger of Allah ﷺ during the Night Journey, and this is sufficient as evidence. It is narrated from Ali (RA) that there is no definitive proof of impurity from the date palm, and similarly, Hasan Basri (RA) and Imam Awza'i have also stated this. Umar (RA) said that if water does not reach Hassan, then performing ablution with dates is sufficient. (This is mentioned in Al-Qari.) Abu Hurairah (RA) narrated that the Messenger of Allah ﷺ said, 'A cat is a domestic animal.' (This narration is recorded by Hakim, who authenticated it, and Dar Qutni and Imam Ahmad also narrated it in this manner.) It is narrated from Kab bint Kab bin Maik (RA) regarding her response to the marriage of Ibn Abi Qatadah (RA), that when Abu Qatadah (RA) came, she poured water for his ablution. Then a cat came and drank from the bowl, and Abu Qatadah (RA) tilted the bowl until the cat drank from it. Kab (RA) said, 'Abu Qatadah (RA) gestured to me while I was facing him and said, “O my daughter! Are you pure?” I replied, “Yes!” Abu Qatadah (RA) said, “The Messenger of Allah ﷺ has instructed that a cat is not impure; it comes to you like a servant.” (This narration is recorded by Imam Malik, Imam Ahmad, Tirmidhi, Al-Bukhari, Nasa'i, Ibn Majah, Dar Qutni, and Imam Muhammad, and Tirmidhi said that this hadith is hasan sahih.) Thus, a cat is like a servant to you, and its coming and going establishes that it is not impure. Its impurity is excused due to necessity and need, as it hunts rodents, and there is reward in its service. Therefore, the urine of a cat, despite being a predator, is not impure, and this is based on necessity and need, as mentioned in Ihyaa Ulum al-Din. The need and necessity of cats are such that they serve by hunting rodents, and there is reward in their service, and thus the urine of cats is considered pure due to this necessity.
داود بن صاحب بن دینار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ اپنی والدہ سے روایت
کرے ہیں وہ کہتی ہیں کران کی ما کہے نے امام موثقین علیہم الصلاۃ والسلام کے پاس پہلس دے
کر روانہ کیا، وہ کہتی ہیں کہ میں نے حضرت علیہم الصلاۃ والسلام کو کیا کہ آپ نماز پڑھ رہے ہیں، مجھے
اشارہ سے فرمایا کہ اے رکدو، اتنے میں ایک بلی آئی اور اس سے پچھلی اور جب حضرت علیہم
رضی اللہ عنہما نماز فارغ ہوئی تو ای جلد تناول فرما جہاں سے بلی کہا کہ تھی اور فرما کہ رسول
الدّعوے کے ارشاد فرماپنے کے لیے پاک نہیں ہے، وہ تمہارے پاس (خادموں کی طرح)
آئے جائے والوں میں سے ہے، اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلی کے جحوتے پانی سے
وضوع فرما تے دیکھا ہے۔ (اس کی روایت البودا ود نے کی ہے اور علمہ نیوی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے
کہ اس حدیث کے اساندیج ہیں۔)
She sent a black sheep to the Messenger of Allah ﷺ as a gift. She said: 'I saw the Messenger of Allah ﷺ praying, and he gestured to me to stop. In the meantime, a black sheep came, and when the Messenger of Allah ﷺ finished his prayer, he quickly went to where the sheep was and said: 'It is not pure for the caller of the prayer to instruct while in this state. It is one of those who come to you like servants.' And I saw the Messenger of Allah ﷺ pour water over the sheep's urine.' (This is narrated by Al-Buwaydi and Imam Nawi (may Allah have mercy on him) said that there are chains for this hadith.)
میں بلی منہ دال کر پانی لے تو برتن کو ایک دفعہ دھولیا جائے اور اس کو تنزہی نے تنچ کہا ہے۔
If a dog licks the vessel, it should be washed once, and it is sufficient to purify it.
الدّعوی و سلم نے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ جب بلی برتن میں منہ دال کر پانی لے تو برتن کو
پاک کرنے کی صورت میں کہ برتن ایک دفعہ یا دو دفعہ دھولیا جائے اور دار قطنی نے کہا کہ یہ حدیث
صحیح ہے۔
Narrated by Abu Huraira (may Allah be pleased with him): "If a cat licks from a vessel, then spill it out and wash it once." [Narrated by Al-Daraqutni as a Mawquf (a narration attributed to a companion), with an authentic chain.
Al-Khalbi said:
"Regarding predatory animals, there are two rulings: the ruling of their leftover water (su’r) and the ruling of their meat. In the case of the cat, the ruling on its meat is that it is impermissible; there is no opposing view regarding this. As for the ruling on necessity and the ruling on leftover water, there are two aspects: impurity, as with land predators, and dislike, as with predatory birds. If impurity is negated due to the reasoning of frequent movement around humans, then we say that the ruling of dislike is affirmed."
This was also the opinion of Abu Hanifa, while Al-Shafi’i considered it pure.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کہ، انہوں نے کہا کہ جب بلی برتن میں منہ
دال کر پانی لے تو اس کے پانی کو گرا دے اور برتن کو ایک دفعہ دھو لے۔ (اس کی روایت دار قطنی نے
موقوفاً کی ہے اور اس کی اساندیج ہے۔)
بلی کا گوشت حرام ہے لیکن اس کا جحوتا کرنا وہ تنزہ ہی ہے۔
ف: علامہ جی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ درندول کے متعلق دو حکم ہیں: ایک حکم ان کے جحوتے
کے متعلق ہے اور دوسرا حکم ان کے گوشت کے متعلق ہے۔ بلی کے گوشت کے متعلق حکم ثابت رہا کہ اور
دیگر درندول کی طرح اس کا گوشت بھی حرام ہے، اس لئے اس کے خلاف کوئی حکم صادر نہیں ہوا، ربا
بلی کے جحوتے کا حکم اور بلی کی خدمت کی وجہ سے اس کی ضرورت کا حکم دو مختلف چیزیں ہیں، جانورول
میں بلی کی حثیت ایک توچیر پچار کر کہانے والے درندول اور دوسروں کو شت خور پرندول کی طرح ہے،
چیر پچار کر کہانے والے درندول کی حثیت سے اس کا جھوٹا نہس ہے اور کو شت خور پرندول کی حثیت
سے اس کا جھوٹا کروہے، بلی کی خدمت اور ضرورت کی بناء پراس کے جحوٹے کی نجاست کا حکم باقی رہ
رہاتو ظاہر ہے کہ لازماً اس کی کراہت کا حکم متغیر ہوگیا۔ چنانچہ امام ابوحنیفرحمۃ اللہ علیہ کا قول یہی ہے
کہ بلی کا جحوٹا کروہے اور سابقہ متعارض حدیثوں کی وجہ سے پیکراہت بھی تزہیبی ہوگی اور اس
کراہت تزہیبی کی وجہ سے اس کے جحوٹے برتن کو ایک بار دھونے کا حکم و یاگیاہے اور امام ابن اہمام
رحمۃ اللہ علیہ کراہت تزہیبی کے قائل ہیں البتر امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے جحوٹے کو پاک قرار
دیاہے۔
گلدہ کا کو شت حرام ہے
Narrated by Abu Huraira (may Allah be pleased with him): "If a cat licks from a vessel, then spill it out and wash it once." [Narrated by Al-Daraqutni as a Mawquf (a narration attributed to a companion), with an authentic chain.
Al-Khalbi said:
"Regarding predatory animals, there are two rulings: the ruling of their leftover water (su’r) and the ruling of their meat. In the case of the cat, the ruling on its meat is that it is impermissible; there is no opposing view regarding this. As for the ruling on necessity and the ruling on leftover water, there are two aspects: impurity, as with land predators, and dislike, as with predatory birds. If impurity is negated due to the reasoning of frequent movement around humans, then we say that the ruling of dislike is affirmed."
This was also the opinion of Abu Hanifa, while Al-Shafi’i considered it pure.
جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر کی راہی کے دون گردہوں کا کو شت کہانے سے منع فرمایا اور گھوڑوں کے کو شت کے
متعلق رخصت واجازت دی۔ (اس کی روایت بخاری نے لکھے۔)
The Messenger of Allah ﷺ prohibited spitting on the road and granted permission regarding spitting for horses.
اور بخاری کی دوسری روایت میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر کی راہی کے دون گھریلو گردہوں کے کو شت کہانے سے ممانعت فرمائی۔
گلدہ کے جحوٹے کے متعلق تفصیلی بحث
ف: گلدہ کا کو شت کہانے کے متعلق آخضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ممانعت فرمائی ہے، اس
کے متعلق تحقیق یہ ہے کہ اس کے کو شت کے حلال ہونے اور حرام ہونے کے متعلق دوالل میں خود
اختلاف ہے اور خود صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی گلدہ کے ناپاک ہونے اور پاک ہونے کے متعلق
اختلاف کیا ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ گلدہ پاک ہے اور ابن عمر رضی اللہ
عنہما سے روایت ہے کہ ہوہے، اس اختلاف کے لگدہ کے جحوٹے کے متعلق شک پیدا کر دیا کہ اس
کا حکم کیا ہے، اس بارے میں تحقیق یہ ہے کہ گلدہ کے
جوہے کی ضرورت کے بارے میں نزداور شکہے کریا کہ جائے ضرورت اس لے کر گلدہاگر کے
کنارے میں باندھا جاتاہے اور گھر کے برتنوں سے پانی پی جاتاہے اور پی مسلم سے کر ضرورت اور
حاجت اس باٹ کی داعی ہوتی ہے کرناپاک ہونے کا حکم نہ دیا جائے اس وجہ سے بلی اور چوپہے کے
جوہے کوناپاک نہیں قرار دیا گیا، مگر گلدہ کی ضرورت کم ہے اور بلی اور چوپہے کی ضرورت زائدہ،
کیونکہ بلی اور چوپہے گھر کے تین مقامات میں گھس جایا کرتے ہیں اس لے ان سے پچامشکل ہے اور
گلدہ سے پچا آسان ہے، اوراگر بالکلی ضرورت نہ ہوتی تو گلدہ کے جوہے کے متعلق بلا اشكال
حکم دیا جاتا کروہجس سے جس طرح کے اور دوسرے درندول کا حکم ہے، اوراگر گلدہ کی ضرورت اس
طرحدہوتی جس طرح کہ بلی اور چوپہے کی ضرورت درپیش ہوتی ہے تو گلدہ کے جوہے کا حکم بالکل بلا
اشکال وہی دیا جاتا جو بلی اور چوپہے کاہے کران کا جوہا کچھ ناپاک نہیں ہے، پس جب ایک حثیت سے
ضرورت ثابت ہوتی ہے کروہ گھرون میں باندھا جاتاہے اور برتنوں سے پانی پی جاتاہے اور دوسری
حثیت سے ضرورت ثابت نہیں ہوتی ہے لیئن وہ بالکل بلی اور چوپہے کی طرح برترگ مقام تک نہیں جا یا
کرتا تو اس کے لیے دونوں باتمیں برابر ہوگئیں، ایک ناپاکی اور دوسرے پاکی، اوریودونوں با تمیں ایک
دوسرے کے معارض اور مخالف ہوئے کی وجہ سے ساقط ہوگے۔ اس طرح ان دونوں باٹوں میں کسی کا
جبہی اعتبار نہیں کیا جاسکتا، اس لے اصل کی جانب لوٹا ضروری ہوا، اوریہی اصل دو چیزیں ہیں: ایک تو
پانی کروہ پاکہے اور دوسرے گلدہوں کا تحویل کروہ ناپاکہے اس لے کر اس کا گوشہ حرام ہے، اگر
پانی کو بیجا جائے تو گلدہ کے جوہے کو پاک کہنا پڑتاہے اور اس کے تحویل کا خا ظ کیا جائے تو اس کے
جوہے کوناپاک کہنا پڑتاہے اس لے گلدہ کے جوہے کا تصفیہ معرض اشكال میں ہونے کی وجہ فقہاء
نے گلدہ کے جوہے کو مشکوک کہاہے۔
گلدہ کا جوہا مشکوک ہے اگر پانی نہ ملتا گلدہ کے جوہے پانی
وضو کی کرنا جاچہے اور تہتم بھی
گلدہ کے جوہے کی دو حثیتیں ہیں: ایک حثیت خود اس کے پاک ہونے کی لے حس میں
کوئی شک نہیں ہے، البتہ دوسری حثیت جس میں شک ہے وہ یہ کہ کیا وہ پاک کرنے والا ہی ہے لیئن
طابر توہ کیا مطہر ہوگی ہے؟ تو اس کے مطہر ہونے میں شک کی بناء پر پانی ملنے کی صورت میں اس کو استعمال نہیں کرنا چاہیے، اگر پانی نہ ملتا ہے تو گردہ کے جحوٹے پانی سے وضو ہی کرنا چاہئے اور تمہیں بھی -
دصوب پے گرم شدہ پانی سے وضو یا غسل کرنا کر وہے کیول کاس سے کوڑہ پیرا ہوتا ہے
the Messenger of Allah ﷺ disapproved of the road traveler being called 'donkey's householder'.
A detailed discussion regarding the impurity of a camel’s urine:
F: The Prophet (peace be upon him) has expressed disapproval regarding the use of a camel’s urine. The investigation into whether it is permissible or prohibited is as follows: There is a difference of opinion among scholars regarding the permissibility and prohibition of using a camel’s urine, and even the Companions (may Allah be pleased with them) differed on whether it is pure or impure. According to the narration from Ibn Abbas (may Allah be pleased with him), a camel’s urine is pure, while according to the narration from Ibn Umar (may Allah be pleased with him), it is impure. This difference of opinion has created doubt about the ruling on a camel’s urine. The investigation into this matter is that the necessity of a camel’s urine should be considered. It is often tied near the camel and used to drink water from household utensils out of necessity and need. Therefore, it should not be ruled as impure for this reason, just as the urine of sheep and goats is not considered impure. However, the need for a camel is less compared to the need for sheep and goats, as sheep and goats can enter three places in a house, making it difficult to avoid them, whereas avoiding a camel is easier. If there were absolutely no need, the ruling on a camel’s urine would be clear, similar to other animals. If the need for a camel were as significant as the need for sheep and goats, then the ruling on a camel’s urine would be the same as that of sheep and goats, which is that their urine is not impure. Thus, when necessity is established, it is tied near the house and used to drink water from utensils. On the other hand, if no necessity is established, it does not reach the same level of prominence as sheep and goats. In such a case, both aspects would be equal, one being impure and the other being pure, and they would contradict each other, leading to their invalidation. Therefore, neither aspect can be given preference, necessitating a return to the original state. The original state consists of two things: one, that water is pure, and the other, that the transformation of a camel’s urine is impure. Hence, if water is poured over it, the camel’s urine must be considered pure, and if its transformation is apparent, it must be considered impure. Due to these conflicting aspects, jurists have deemed the camel’s urine doubtful.
The urine of a camel is doubtful. If water is not available, the urine of a camel should be used for ablution, and caution should be exercised.
There are two aspects of a camel’s urine: one aspect is its inherent purity, about which there is no doubt. The other aspect, where doubt arises, is whether it can purify something. If it cannot purify, then it cannot be considered pure. Therefore, in the absence of water, it should not be used, and if water is not available, the urine of a camel should be used for ablution with water, and you should also -
Use warm water for ablution or bathing, as it is more effective in cleansing.
عمربن خطاب رضی اللہ عنہ روایت ہے، آپ نے فرمایا کر ایا پانی جودصوب پے گرم ہوا ہو، اس سے غسل مت کیا کرو، اس لے کر وہ کوڑہ کو پیدا کرتا ہے۔ (اس کی روایت دار قطنی نے کی ہے-)
ف: صاحب "رداختار" نے وضو کے مستحبات کے بیان میں "امداد" کے حوالے سے نقش کیا ہے کہ مستحبات وضو سے پہلے سے کر وضو ای پانی سے نکیا جاے جودصوب پے نہ کی وجہ سے گرم ہوگیا ہے جس کی صراحت "حلیہ" میں کی گئی ہے، مصنف حلیہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے استدلال کیا ہے کر آپ نے اس کے استعمال سے منع فرمایا، اس لے "فتح" میں دصوب پے دو پانی کے کر وہ ہو نے کی صراحت کی گئی ہے اور "بحر" میں بھی بھی نذکور ہے اور "معراج الدراریہ" اور "قنیہ" میں نذکور ہے کر وہ پانی جودصوب پے گرم ہوگیا ہو، اس سے وضو نا کر وہے اس لے آخحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کومما نعت فرما دی تھی جب کر انہول نے پانی کودصوب میں گرم کیا تھا، پر فرمایا کر اے حمیراء (رضی اللہ عنہا) دصوب پے پانی گرم مت کیا کرو، اس سے برص (یعنی کوڑہ) کی پیاری پیدا ہوتی ہے-12-
آگے سے گرم شدہ پانی سے وضو اور غسل کیا جا سکتا ہے
It was narrated from Umar ibn al-Khattab (may Allah be pleased with him) that he said: "Do not perform ghusl (ritual washing) with sun-exposed water, for it causes leprosy." [Narrated by Al-Daraqutni]
(1) The statement "Do not perform ghusl with sun-exposed water": In the book "Radd al-Muhtar," it is mentioned that we previously stated in the recommendations for ablution in "Al-Imdad" that one should not use sun-exposed water. This is affirmed in "Al-Hilya," citing the prohibition from Umar (may Allah be pleased with him), and in "Al-Fath," it is declared disliked. Similar views are found in "Al-Bahr." In "Miraj al-Darayah" and "Al-Qunya," it is stated that using sun-exposed water for purification is disliked, supported by the narration where Umar advised Aisha (may Allah be pleased with her) not to use sun-exposed water, saying it causes leprosy. Some have narrated differently, stating it is not disliked, and Malik and Ahmad held this view. According to the Shafi'i school, it is disliked only if the intention is to expose the water to the sun. In "Al-Ghayah," it is stated that it is disliked to use sun-exposed water in hot regions at certain times, but the intent is considered weak, and its absence does not have a significant effect. From this, it is clear that the accepted view in our madhhab is that it is disliked, supported by the authentic narration, and that the absence of dislike is considered a weak view. It is also apparent that the dislike is in the form of a recommendation for avoidance, not an absolute prohibition, as evident from its classification under desirable actions in the books of fiqh. Therefore, there is no difference between our madhhab and the Shafi'i view on this matter. This clarification should be noted.
ا سلم رضی اللہ عنہ جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے مولی پیں روایت ہے کر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے لے تانبے کے برتن میں پانی آگے سے گرم کیا جاتا تھا اور آپ اس سے غسل فرما تے تھے۔ (اس کی روایت دار قطنی نے کی ہے اور پی وضاحت کی ہے کر اس کے اسناد میں-)
Narrated Aslam, the freed slave of Umar: That Umar ibn al-Khattab (may Allah be pleased with him) used to have water heated in a flask and would perform ghusl with it. [Narrated by Al-Daraqutni, who said: Its chain of narration is authentic]
ا سلم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ گرم پانی سے وضوے فرما تے تھا اوراس سے غسل بھی فرما تے تھے۔ (اس کی روایت سعید بن منصور نے لکھی ہے۔)
Allah's Messenger (ﷺ) used to perform ablution with warm water and also took a bath with it. (This is reported by Sa'id bin Mansur.)
ا بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ آگے سے گرم شدہ پانی سے غسل اور وضوے کرنے میں کوئی مضا اقتضاء نہیں ہے۔ (اس کی روایت عبد الرزاق نے سناد سے لکھی ہے۔)
And from Ibn Abbas (may Allah be pleased with him): He said: There is no harm in performing ghusl with hot water and using it for wudu. [Narrated by Abd al-Razzaq with an authentic chain of narration]