Nūr al-Maṣābīḥ
باب مخالطۃ الجنب وما یباح لہ

Associating with a Person in Major Impurity and What Is Permitted for Him
Volume 1 · Purification

(باب، جنب کے ساتھ اختلاط کے بیان میں اور ان چیزوں کے بیان میں جواس

کے لئے مباح یعنی جائز ہیں)

ف: اختلاط سے مراد کہنا، کلام کرنا مصافحہ کرنا اور آنکھوں کے معاملات مراد ہیں، اور مباح سے

مراد کہنا، پینا اور نیند و غیرہ ہیں -

وقول اللہ عز وجل: لا یمسُّهَا المُطَّہِرُونَ اور اشارہ باری تعالیٰ نے (سورۃ

واقعہ، پ: 27، ع: 3، آیت نمبر: 79، میں) اس قرآن کو طہارت والے، یعنی باطہ کے ہیں -

جبہی کے ساتھ مصافحہ اور بات چیت کی جاسکتی ہے

(Chapter, concerning the permissibility of interaction with women and the permissibility of certain actions such as drinking and sleeping)

Explanation: By 'interaction' is meant speaking, conversing, shaking hands, and matters related to the eyes, and by 'permissible' is meant speaking, drinking, and sleeping, etc.

And Allah, the Exalted and Glorious, says: 'None shall touch it except the purified ones' [Qur'an, Surah Al-Waqi'ah, Chapter 56, Verse 79], indicating that this Qur'an can only be touched by those who are pure, i.e., free from impurity.

Shaking hands and conversation with women are permissible.

567

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے

میری ملاقات ہوگی اور میں اس وقت جبہی تھا تو آپ پر نے میرا باٹھ کر لیا اور میں آپ پر کے ساتھ ہولیا

پیہال تک کرا ایک مقام پر پیہلو گے تو میں پپکے نے نقل گیا اور اپنے مقام پر پہنچا اور عسل کر کے پھر آپ

کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم پیہلو گے تھے، ارشاد فرمایا: اے ابو ہریرہ رضی اللہ

عند تم کہا ل تھے؟ تو میں نے آپ سے اپنے عسل کرنے کا حال بیان کیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے

تجبہ سے سجان اللہ فرما تے ہوئے ارشاد فرمایا کہ مومس تو ناپاک ہوتا ہے نہیں (یہ الفاظ بخاری کے

ہیں اور مسلم نے جبہی اس طرح معاً روايت کی ہے۔ البتہ مسلم میں یزائد ہے کہ آپ سے میری

ملاقات ایسی حالت میں ہوتی تھی کہ میں جبہی تھا تو مجھے اچھا معلوم نہیں ہوا کہ آپ کے پاس بلا عسل

پیہول -

It is narrated from Abu Hurairah (RA) that he said:

I met the Messenger of Allah ﷺ while I was uncircumcised. He took me aside and circumcised me himself, and I walked with him until we reached a place where he leaned against a wall. I felt the need to urinate and went to relieve myself at my own spot, and then returned to serve him. When the Messenger of Allah ﷺ leaned against the wall, he asked: 'O Abu Hurairah, what did you do?' I told him about my need to urinate. The Messenger of Allah ﷺ, may Allah praise him, said while smiling: 'Urine does not make one impure.' (These words are from Bukhari, and Muslim has narrated it thus. However, in Muslim, there is an addition: 'I met him in such a state that I did not realize that he was without circumcision until he leaned against the wall.')

568

(اور بخاری کی دوسری روایت جبہی اس طرح کی ہے)

ف: اس حدیث میں ارشاد ہے کہ مومس ناپاک نہیں ہوتا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ جنابت

نہیں جائے گی۔ اس کا حکم شارع علیہ السلام نے دیا ہے اور غسل اس پر واجب کیا ہے، اس لئے جنازت کی وجہ سے حقیقتاً مسلمان اور مومن نجس نہیں ہو جاتا اور اس لئے جنبی کا پیشہ اور جھوٹا، اور اس سے مصافہم اور اس کے ساتھ اؤنہا بیٹھنا و غیرہ جائز نہیں ہے۔ (لمعات)

This hadith indicates that semen is not impure; what is meant is that it does not cause ritual impurity (janabah). The ruling was given by the Prophet ﷺ, and ghusl is obligatory for it. Therefore, a Muslim and a believer do not become impure due to semen, and thus engaging in the profession of a prostitute, lying, and sitting with such people and the like are not permissible. (Lum'at)

569

اِمَّا الْمُؤْمِنِينَ عَلَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ رَوَاهُ ، آبَ فَرْمَائِيْنِ كَ حَضْرَتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَسَلَ جَنَازَةَ فَرْمَايَتَ ، چَهَرَآ پَ پَ غَسَلَ جَنَازَةَ کَرَنَے سَے قَبْلَ گَرِمِ حَاصلَ کَرَنَے کَی خَاطِرِ مَجْهَتَ چَہَتَ جَاپَآ کَرَتَ تَخَ (اسَ سَ مَعلُومَ هَوَا کَ جَنبِ کَا بَدَن پَاکَ تَ )۔ (اِسَ کَ رَوَایَتَ ابْنِ مَجَّہَ نَے کَ لَیَہَ اورَ تَزْدِیَ نَ جَبِّ اِسَ طَرِحَ کَ رَوَایَتَ کَ لَیَہَ اورَ مَصَاحِحَ کَ الْفَاظَ تَ شَرْحَ السَّنَ مِلَ جَبِّ پَ حَدِیثَ نَذْکُو رَہَ )۔ رَاتَ مِیَ غَسَلَ جَنَازَةَ کَ ضَرُوْرَتَ پَرْطَهَارَتَ اورَ وَضُوْ کَ بَعْدَ سَوَ نَ کَ اَجازَتَ

اِمَّا الْمُؤْمِنِينَ عَلَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ رَوَاهُ، آبَ فَرْمَائِيْنِ كَ حَضْرَتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَسَلَ جَنَازَةَ فَرْمَايَتَ، چَهَرَآ پَ پَ غَسَلَ جَنَازَةَ کَرَنَے سَے قَبْلَ گَرِمِ حَاصلَ کَرَنَے کَی خَاطِرِ مَجْهَتَ چَہَتَ جَاپَآ کَرَتَ تَخَ (اسَ سَ مَعلُومَ هَوَا کَ جَنبِ کَا بَدَن پَاکَ تَ(اِسَ کَ رَوَایَتَ ابْنِ مَجَّہَ نَے کَ لَیَہَ اورَ تَزْدِیَ نَ جَبِّ اِسَ طَرِحَ کَ رَوَایَتَ کَ لَیَہَ اورَ مَصَاحِحَ کَ الْفَاظَ تَ شَرْحَ السَّنَ مِلَ جَبِّ پَ حَدِیثَ نَذْکُو رَہَرَاتَ مِیَ غَسَلَ جَنَازَةَ کَ ضَرُوْرَتَ پَرْطَهَارَتَ اورَ وَضُوْ کَ بَعْدَ سَوَ نَ کَ اَجازَتَ

Anas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “By the One in Whose Hand is my soul, a servant does not believe until he loves for his brother what he loves for himself.” [Agreed Upon]

570

اِبْنِ عَمْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا رَوَاهُ ، كَ عُمْرَ بْنَ الْخَطَابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعَرْضَ کَیا کَ ان کُورَاتَ مِیَ غَسَلَ جَنَازَةَ کَ ضَرُوْرَتَ درَ پَچِشَ ہَوَجَانِی لَہَ توَ حَضْرَتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَ فَرْمَا کَرَ وَضُوْ کَرْلِیَا کَرَوَ ، اورَ پَ عَضُوْ مُخْصُوصَ کَوَ حُوْکَرَ سَوَجَا کَرَوَ (اِسَ کَ رَوَایَتَ بُخَارِیْ اورَ مُسْلِمَ نَ مُتَفَقْ طُوْرَ پَرِکَ لَہَ )۔ جَمَاعَ کَ بَعْدَ پَانِی چَہُوْ نَ بَغِیرَ جَبِّ سَوَسَکَ ہَیَ

اِبْنِ عَمْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا رَوَاهُ، كَ عُمْرَ بْنَ الْخَطَابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعَرْضَ کَیا کَ ان کُورَاتَ مِیَ غَسَلَ جَنَازَةَ کَ ضَرُوْرَتَ درَ پَچِشَ ہَوَجَانِی لَہَ توَ حَضْرَتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَ فَرْمَا کَرَ وَضُوْ کَرْلِیَا کَرَوَ، اورَ پَ عَضُوْ مُخْصُوصَ کَوَ حُوْکَرَ سَوَجَا کَرَوَ (اِسَ کَ رَوَایَتَ بُخَارِیْ اورَ مُسْلِمَ نَ مُتَفَقْ طُوْرَ پَرِکَ لَہَجَمَاعَ کَ بَعْدَ پَانِی چَہُوْ نَ بَغِیرَ جَبِّ سَوَسَکَ ہَیَ

Narrated Ibn Umar: Umar ibn al-Khattab mentioned to the Messenger of Allah ﷺ that he would experience janabah at night. The Messenger of Allah ﷺ said to him, "Perform wudu (ablution) and wash your private parts, then sleep." This is agreed upon by both Al-Bukhari and Muslim.

571

اِمَّا الْمُؤْمِنِينَ عَلَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ رَوَاهُ ، آبَ فَرْمَائِيْنِ کَ حَضْرَتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِپْنِ پَیَوَی سَ جَمَاعَ کَرَتَ چَهَرَ سَوَجَا کَرَتَ تَخَ اورَ پَانِی چَہُوْ نَ تَخَ اورَ آگَرَ آخِرَ شَبَ مِیَ بِیْرَارَہَوَ تَ توَ چَهَرَ جَمَاعَ کَرَتَ اورَ غَسَلَ فَرْمَايَتَ

(اِسَ کَ رَوَایَتَ اِمَامِ مُحَدَّ نَ مُوْطَا مِیَ ہَما رَ اِمَامِ ابْوَحَنِیفَ رَحْمَتَ اللَّهِ عَلَيْهِ سَ کَ لَیَہَ اورَ نَوَوِیْ نَ کَہَآ لَہَ کَ پَ حَدِیثَ تَخَ اورَ ابُو دَاوَدا وَ دَاوَرَتَزْدِیَ نَ جَبِّ اِسَ طَرِحَ کَ رَوَایَتَ کَ لَیَہَ )

It is narrated by Imam Muhammad Muwatta, Imam Abu Hanifah (may Allah have mercy on him), and Nawawi, who said that this hadith is also reported by Abu Dawud and Dar Qutni in this manner.
572

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مسجد میں واپس بھوٹ تو اللہ تعالیٰ کو جتنی نمازیں منظور ہوتیں ان کو ادافرماتے پھر اپنے بستر اوراپنی بیوی کی جانب مائل ہوجاتے تھا اوراگرحاجت (جتنی جماعت کرنا ہوتا تو اس سے فارغ ہوجاتے) پھرپانی کو باٹھ لگا کے بغیر اس حالت میں سوجاتے تھے۔ (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے اور ابن الی شیخ، ابن جریر، عبد الرزاق اور سعید بن منصور نے بھی اس طرح روایت کی ہے۔)

Narrated Aisha: When the Messenger of Allah ﷺ would return from the mosque, he would pray as much as Allah willed, then he would lean towards his bed and his family. If he had any need, he would fulfill it, then he would sleep in the same position and would not touch water. [Narrated by Al-Tahawi, and a similar narration was [Narrated by Ibn Abi Shaiba, Ibn Jarir, Abdul Razzaq, and Sa’id ibn Mansur.

573

ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہوجاتے تھے پھر سوجاتے، پھر بیمار ہوتے اور پھر سوجاتے (اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔) جبالت جب پڑھ کر کہا ناہوتو کیا کیا جاتے؟

Umm Salamah (RA) narrates that she said:

When the Messenger of Allah ﷺ would fall ill, he would regain consciousness, then become ill again, and then regain consciousness.

574

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جبی ہوتے اورآپ کہا نے اورسو نے کا ارادہ فرما تے تو آپ نماز کے وضو کی طرح وضو کر لیا کرتے تھے۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے مستقیم طور پر کی ہے۔)

Umm al-Mu'minin 'A'ishah (RA) narrates:

When the Messenger of Allah ﷺ intended to have intercourse with one of his wives, he would perform ablution like the ablution for prayer.

575

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جالت جنابت میں سو نے کا ارادہ فرما تے تو آپ نماز کے وضو کی طرح سونے قبل وضو فرمالیا کرتے تھے، اور جب جالت جنابت میں کہا نے کا ارادہ فرما تے تو دونوں پہو چول تک ہاتھوں کو دھولیا کرتے اور کلی کرتے پھر تناول فرما تے (اس کی روایت دار قطی نے کی ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے۔)

Umm al-Mu'minin 'A'ishah (RA) narrated, she said:

When the Messenger of Allah ﷺ intended to sleep while in a state of janabah, he would perform wudu like the wudu for prayer before sleeping. And when he intended to have intercourse while in a state of janabah, he would wash his private parts up to the thighs and then perform ghusl.

576

ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کرام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرما یا کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جالت جنابت میں سو نے کا ارادہ فرما تے تو

آپ وضو فرما کر تے تو اور جب آپ کہانے پائین کا ارادہ فرماتے تو عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتے

پی کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں باہوں کو پیو پچول تک وصولیا کرتے، پھر کہاتے پائیتے تو

– (اس کی روایت نسائی نے کی ہے اور ابن ابی شیبہ اور سعید بن منصور نے بھی اس طرح روایت کی

ہے–)

Abu Salamah (RA) reported: He said, the most virtuous of the believers, Aishah (RA), narrated that whenever the Messenger of Allah ﷺ intended to sleep while in a state of janabah, he would perform wudu, and when he intended to lie down, he would drink water, and the noble presence of the Messenger of Allah ﷺ would extend his arms up to the elbows and then lie down.
577

ام المومنین عائشہ ضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی پین کر جب رسول

اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حالت جنابت میں کہانے کا ارادہ فرماتے تو آپ پیو پچول تک دونوں باہوں کو

وصولیا کرتے تے –(اس کی روایت طحاوی نے کی ہے–)

It is narrated from Umm al-Mu'minin Aishah, may Allah be pleased with her, that she said:

When the Messenger of Allah ﷺ intended to recite the Qur'an while in a state of janabah, he would wipe both arms up to the elbows.

578

ام المومنین عائشہ ضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی پین کر جب رسول اللہ صلی

اللہ علیہ وسلم حالت جنابت میں کہانے پائین کا ارادہ فرماتے تو آپ دونوں باہوں کو پیو پچول تک

وصولیا کرتے اور کلی فرماتے پھر پیتے یا کہاتے – (اس کی روايت عبد الرزاق اور سعید بن منصور نے کی

ہے–)

جبی کو کہانے پین اور سونے سے قبل وضو کر لینا مستحب ہے

حضرات احناف نے کہانے کران احادیث سے پبات ظاہر ہوتی ہے کہ جبی کے لے اس امر

میں کوئی مضا لقہ نہیں کروہ حالت جنابت میں بھی وضو کے کہانے اور پینے یا سوجانے، البتہ جبی کے

لے مستحب ہے کروہ وضو کر لے، جس نے وضو کر لیا تو اچھا لیا اور جس نے وضو نہیں کیا تو کوئی حرج

نہیں –

Narrated Aisha: The Messenger of Allah ﷺ, when he wanted to eat or drink while in a state of janabah, would wash his hands and rinse his mouth, then drink or eat. [Narrated by Abdul Razzaq and Sa’id ibn Mansur]

The scholars say: From these hadiths, it is clear that there is no harm in eating, drinking, or sleeping while in a state of janabah without wudu. However, they preferred performing ablution (wudu). Whoever does so has done well, and if not, there is no harm.

579

ابوسعید خدری ضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت رسول اللہ صلی

اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں کوئی شخص اپنی پیوی سے جماع کرے پھر دوبارہ اپنی پیوی

سے جماع کا ارادہ کرتا ہوتا وہ ہر دو جماع کے درمیان وضو کرے – (اس کی روایت مسلم نے کی

ہے۔)

Narrated Abu Sa'id Al-Khudri: The Messenger of Allah ﷺ said, "When any of you comes to his wife, then wants to return, let him perform ablution between them." [Narrated by Muslim]

580

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جماعت کرتے تھے پھر دوبارہ جماعت کرتے اور ضوئیں فراماتے تھے۔ (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے۔)

It is narrated from Umm al-Mu'minin Aishah (RA) that

the Messenger of Allah ﷺ would lead the prayer, then lead it again and two lights would come forth.

581

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سب بیبول سے جماعت کے بعد ایک ی غسل پر اکتفا فراماتے تھے۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔) اور ترنذی نے کہی اس طرح کی روایت کی ہے۔

اور ترنذی نے کہا کہ انس رضی اللہ عنہ کی حدیث تھی کہ اور ابل علم میں بہت سے حضرات نے اپنا کیا تھا، جن میں حسن بصری رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ اور انہوں نے کہا کہ جماعت کے بعد وضو کے بغیر دوبارہ جماعت کرنے میں کوئی مذاہب نہیں۔

Narrated Anas: The Prophet ﷺ would visit all his wives with one bath. [Narrated by Muslim, and a similar narration was [Narrated by Al-Tirmidhi, who said: "The hadith of Anas is authentic," and it was the view of many scholars, including Al-Hasan Al-Basri, that there is no harm in returning to a wife before performing ablution.

582

ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن اپنی بیبول میں ہراکی کے ساتھ جماعت فراماتے اوران میں سے ہراکی کے پاس غسل فراماتے جاتے تھے۔

ابورافع رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیون آپ آخر میں ایک ی غسل پر اکتفا فراماتے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ اگر اگر غسل کرنا زاکر صفائی زاکر بہتر اور زاکر پاکی ہے۔ (اس کی روایت امام احمد اور ابو داود نے کی ہے۔ اور اس کی اسناد تھے۔)

دور فعم جماعت کے درمیان غسل یا وضو کر لینا فضل ہے علامہ شاہی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ کران احادیث سے یمعلوم ہوتا ہے کہ دور فعم جماعت کرنے

کے درمیان وضوے نہ کرنا اور غسل نہ کرنا جائزہ اور افضل یہ کہ دودفع جماع کرنے کے درمیان میں

غسل یا وضو کر لیا جائے۔

Narrated Abu Rafi: One day, the Messenger of Allah ﷺ visited his wives, taking a bath with each one of them. I asked, "O Messenger of Allah, why not make it one final bath?" He replied, "This is purer, more pleasant, and more proper." [Narrated by Ahmad and Abu Dawood, and its chain of narration is Hasan]

The scholar Al-Shami said: From these hadiths, it can be understood that having sexual relations without performing ablution or taking a bath between two encounters is permissible, but it is better to perform ablution or take a bath in between.

583

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برحالت میں (خواہ جنبی ہول یا وضوے) اللہ تعالیٰ کا ذکر فرمایا کرتے تھے۔

(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)

جبہی کا قرآن پڑھنا ممنوع ہے البتہ بغیر وضوے قرآن کو پاٹھ کرنا بغیر زبان سے قرآن پڑھ سکتے ہیں

It is narrated from Umm al-Mu'minin Aishah (RA) that she said:

The Messenger of Allah ﷺ would recite the remembrance of Allah in a state of major ritual impurity (whether he was junub or in a state of minor ritual impurity).

584

علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء سے نکلے تو (بغیر وضوے کے) نہم کو قرآن پڑھاتے تھے اور ہمارے ساتھ گوشت تناول فرماتے، (اس سے معلوم ہوا کہ بے وضوے زبان سے قرآن کا پڑھنا جائزہ ہے، بلکہ وضوے قرآن کو پاٹھ کرنا جائز نہیں ہے) اور آپ کو قرآن پڑھتے میں جنابت کے سوا کوئی اور چیز مانع نہیں ہوتی تھی۔ (اس کی روایت البودا ودا ورنسائی نے کی ہے اور ابن ماجہ نے بھی اس طرح کی روایت کی ہے۔)

حافظ کے لے قرآن کی تلاوت جائز نہیں

Narrated Ali: The Prophet ﷺ would come out of the restroom and recite the Qur'an to us, and eat meat with us. Nothing would prevent him from reciting the Qur'an except for ritual impurity. [Narrated by Abu Dawood and Al-Nasa'i, and a similar narration was [Narrated by Ibn Majah.

585

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حیض والی عورت اور جنبی قرآن کو تحورا ایاہیت پڑھنے نہ پڑھے۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)

ف: حافظ اور جنبی کے لے قرآن کی آیت یا جزء آیت کا (تلاوت کی نیت سے) پڑھنا جائز نہ ہیوں کر حدیث میں "شَیْئًا" کا فظآ ایہ البند معلم ہے ارت حیض قرآن کو ایک ایک کلمہ کر کے

پڑھاسکتی ہے جو اس حدیث کے حکم میں داخل نہیں ہے، البتہ ذکر یا دعا کی نیت سے اگر قرآن کی کوئی آیت پڑھے آیت پڑھنے لی جائے تو اس میں کوئی مضار نہیں اور پڑھنے والے کے حکم میں شامل نہیں ہوگا۔

مطلق ذکر کے لیے وضو کرنا مستحب ہے

Narrated Ibn Umar: The Messenger of Allah ﷺ said, "Neither a menstruating woman nor a junub (one in a state of major impurity) should recite any part of the Qur'an." [Narrated by Al-Tirmidhi]

586

مہاجر بن قطن فذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک وقت حاضر ہوئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پیشہ اب کر رہے تھے، انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا تو آپ نے وضو فرما لینے کے سلام کا جواب نہیں دیا، اس کے بعد آپ نے ان سے عذر بیان کیا اور فرما یا کہ میں نے بغیر وضو کے ذکر ابی پسند نہیں کیا۔ (اس کی روایت ابوداود نے کی ہے اور نسائی نے نہی تو ضع کیا) تک روایت کی ہے اور اپنی سنن میں پیاضافہ کیا ہے کہ مہاجر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرما اور اس کے بعد سلام کا جواب دیا۔

ف : ہمارے علماء فرما تے ہیں ان احادیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ مطلق ذکر کے لیے وضو کرنا مستحب ہے اور وضو کرنا خلاف اولی اور کروہ تنزیہی ہے۔ پانی کی موجودگی میں عذر کے بغیر کن صورتوں میں تیمم جائز ہے

Narrated Al-Muhajir ibn Qunfudh: He came to the Prophet ﷺ while he was relieving himself, and he greeted him. The Prophet did not respond until he performed ablution, and then he apologized, saying, "I disliked mentioning Allah except in a state of purity." [Narrated by Abu Dawood and Al-Nasa'i, and the latter included the phrase "until he performed ablution." When he did, the Prophet responded to his greeting.

Our scholars have concluded that ablution for general remembrance of Allah is recommended. Leaving it is contrary to what is preferred, and it is considered disliked (makruh) in terms of detesting the action.

587

نافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ میں عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ ہولیا، جب وہ حاجت کے لیے نکل اور ابن عمر رضی اللہ عنہما نے حاجت سے فراغت حاصل کر لی، اس دونوں حالتیں آپ نے بیان فرما کیں اس میں سے ایک حدیث پیچھے آپ نے فرمایا کہ ایک شخص گلی میں گزر را تو ایک ایسی ملاقات حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی حالت میں ہوتی کہ آپ قضاء حاجت سے فارغ ہوکر نکل تھے اس نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے سلام کا جواب نہیں

دیا، یہاں تک کہ جب وہ شخص (جان لگا) او قریب تھا کہ وہ گلی میں نگاہے دور ہو جائے، اس وقت رسل اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں باہوں کو دیوار پر مار کر اپنے چہرے پر چھرا پھر دوبارہ دونوں باہوں کو دیوار پر مار کر دونوں کھینچ لیکر چہرا اس کے بعد آپ نے اس شخص کے سلام کا جواب دیا او رفر مایا کہ تم کو سلام کے جواب دینے میں صرف یہی چیز مائع ہے کہ میں وضوعے نماز (اس کی روایت ابوداود نے کی ہے۔)

ف: ہمارے علماء کہتے ہیں کہ اس حدیث میں اس بات پر دلیل ہے کہ تم شرائط یہم کے پائے جانے کے بغیر برائی چیز کے لئے جائزہ حس کے لئے وضوعشر وطہیں سے اگر چیک پانی موجودہ اور پانی کے استعمال کے لئے کوئی عذر نہیں ہے لیکن اسی چیز حس کے لئے وضوعشر طہے تو تم شرائط یہم پائے جانے کے بغیر جائزہ نہیں ہوگا۔ مشاہدہ قرآن پڑھنے کے لئے تم کرنا کر اس کے لئے وضوعشر وطہیں سے تو قرآن پڑھنے کے لئے شرائط یہم پائے جانے کے بغیر تم کر سکتا ہے لیکن جائزہ یہ قرآن کو پاتے لگانا مقصود ہے تو ان صورتوں میں تم اسی حالت میں جائزہ ہوگا کہ تم کے شرائط پائے جانے ہوں ورنے پانی کی موجودگی میں جائزہ کے لئے عشل اور مسی قرآن کے لئے وضو کرنا ضروری ہوگا۔ عورت کے وضو غسل کے بعد پچھوٹے پانی کو مرداوضوع غسل کے لئے استعمال کرنا کر وہ تمزہ ہی ہے

Narrated Nafi': I went with Ibn Umar on an errand, and when Ibn Umar had completed his task, he narrated a story in which a man passed by the Prophet ﷺ who had just come out of relieving himself. The man greeted him, but the Prophet did not reply until he rubbed his hands on a wall and wiped his face and arms with them. Then, he responded to the greeting, saying, "The only reason I did not respond to your greeting was that I was not in a state of purity." [Narrated by Abu Dawood]

Our scholars say that this hadith indicates that tayammum (dry ablution) is allowed for all acts that do not require purification, even if water is available. For actions that do require purification, the absence of water is a condition, such as in the case of reading the Qur'an for an impure person or one who is junub.

588

حکم بن عمر وضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہول نے کہا کہ رسول اللہ علیہ وسلم نے مرداومی کو عورت کے غسل یا وضو کے بعد پچھوٹے پانی سے وضو کرنے کی ممانعت فرمائی ہے۔ (اس کی روایت ابوداود، ابن ماجہاورترمزی نے کی ہے۔)

اورترمزی نے کہاہے کہ یہ حدیث حسن تجہہاورترمزی نے "او قال بسو رها" لیکن لفظ "فضل" کے جا لی لفظ "سور" کی روایت کی ہے۔ (حس کے معنی یہی کہ عورت کے پینے کے بعد پچھوٹے پانی سے یا عورت کے نہانے یا وضو کرنے کے بعد باقی مانده پانی سے مردو وضو غسل

ذکر سے )

ف : اس حدیث میں عورت کے پچائے ہوئے پانی سے وضوے یا غسل کی ممانعت ثابت ہوتی ہے

ہے اوراس کے بعد والی حدیث ( نمبر: 591/25 ) جس کے راوی عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ہیں

اور جس کو ترجمہ سنہ میں آپ نے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے، اس سے ظاہر عورت

کے پچائے ہوئے پانی سے وضوے یا غسل کا جواز معلوم ہوتا ہے تو یہ بات واضح رہے کہ اس حدیث میں جو

ممانعت ذکور ہے وہ تنزیہی ہے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کی بعد میں آنے والی حدیث میں جوازت

وارد ہے وہ بیان جواز کے لئے ہے۔

Narrated Al-Hakam ibn Amr: The Messenger of Allah ﷺ forbade a man from performing ablution with the leftover water from the woman’s ablution. [Narrated by Abu Dawood, Ibn Majah, and Al-Tirmidhi, who added, "or with her leftover water." He said, "This is a sound and authentic hadith"]

589

حُمَید حمیری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں رسول اللہ

صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی سے ملا جو چار سال تک آخرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ابو

ہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرح حاضر رہا، ان صحابی نے مجھ سے کہا کہ آخرت صلی اللہ علیہ وسلم نے

عورت کو مرد کے پچائے ہوئے پانی سے یا مرد کو عورت کے پچائے ہوئے پانی سے غسل کرنے کی ممانعت

فرمائی ہے، البتہ مسعودی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ دونوں ایک ساتھ چلوتے پانی استعمال کریں۔

( اس کی روایت ابودا و داونساوی نے کی ہے )

Narrated Humayd al-Himyari: I met a man who had accompanied the Prophet ﷺ for four years, just as Abu Huraira had. He said: The Messenger of Allah ﷺ forbade a woman from performing ghusl (ritual bath) with the leftover water of a man, or a man from performing ghusl with the leftover water of a woman. Musaddad added: "And both should scoop the water together." [Narrated by Abu Dawood and Al-Nasa'i. Ahmad added at the beginning: "He forbade one of us from combing his hair every day or urinating in a bath." [Narrated by Ibn Majah from Abdullah ibn Sargis] Our scholars said: "This prohibition is for discouragement."

590

اورامام احمد نے اس حدیث کی ابتدا میں یہ طرحا یہ کہ آخرت صلی اللہ علیہ وسلم نے

بھی میں سے کسی کو روزانہ گھسی کر نے یا غسل کر نے کی ممانعت فرمائی ہے، اس کی

روایت ابن ماجہ نے عبد اللہ بن سرجس سے کی ہے اور ہمارے علماء نے کہا کہ یہ ممانعت تنزیہی ہے۔

Narrated Humayd al-Himyari: I met a man who had accompanied the Prophet ﷺ for four years, just as Abu Huraira had. He said: The Messenger of Allah ﷺ forbade a woman from performing ghusl (ritual bath) with the leftover water of a man, or a man from performing ghusl with the leftover water of a woman. Musaddad added: "And both should scoop the water together." [Narrated by Abu Dawood and Al-Nasa'i. Ahmad added at the beginning: "He forbade one of us from combing his hair every day or urinating in a bath." [Narrated by Ibn Majah from Abdullah ibn Sargis] Our scholars said: "This prohibition is for discouragement."

591

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی

کسی بی بی ( رضی اللہ عنہا ) نے ایک گنگال سے غسل فرما کیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس

سے وضو کرنے کا ارادہ فرما تو وہ عرض کر نے لگیں : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں جنتی ہیں تو آپ

نے فرما کہ پانی جتنی نہیں ہوتا۔

(اس کی روایت تزکی، البوداود، اور ابن ماجے نے کی ہے اور داری نے بھی اس طرح روایت کی

ہے۔)

Narrated Ibn Abbas: One of the wives of the Prophet ﷺ performed ghusl in a large bowl, and the Messenger of Allah ﷺ wanted to perform ablution from it. She said: "O Messenger of Allah, I was in a state of major impurity (janabah)." He said: "Water does not become impure." [Narrated by Al-Tirmidhi, Abu Dawood, and Ibn Majah]

Al-Darimi narrated something similar. In the explanation of Al-Sunan, it was narrated from him through Maymuna.

592

اور ثر ح السنه میں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے میمنہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی

ہے۔

It is narrated from Ibn Abbas (RA) that he reported from Maymunah (RA)
593

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ خضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے

زمانہ میں مردا پنی پیپون کے ساتھ مل کروضو کیا کرتے تھے

(اس کی روايت امام احمد اور نسا ئی نے کی ہے اور امام محمد نے کہا ہے کہ کوئی مضا لقہ بین سے کہ

عورت اپنے شوہر کے ساتھ مل کر ایک ہی برتن سے وضو اور غسل کر لے خواہ ابتدا ء عورت کی جانب

سے ہو یا شوہر کی جانب سے ہو، اور یہ قول امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا ہے)

ف: اس حدیث میں "گا ن الرجّال والنساء یتو ضؤون جمیعا" (مرداور عورتیں ایک

ساتھ مل کروضو کیا کرتے تھے) جو ذکورہ اس زمانے کامل ہے جبکہ پردے کے احکام نازل نہیں

ہوئے تھے اور جب پردے کے احکام نازل ہوئے تو عمل شوہراور بی بی کے ساتھ مختلط ہوگیا۔ (التعلیق

ا حمد، فتح الباری)

قرآن شریف کو باوضوء اٹھانا چاہیے

Narrated Ibn Umar: In the time of the Messenger of Allah ﷺ, men and women would perform ablution together. [Narrated by Muhammad and Al-Nasa'i]

Muhammad said: "There is no harm if a woman performs ablution and takes a bath with a man from the same vessel, whether she starts before him or he starts before her." This is the opinion of Abu Hanifa.

594

عبد اللہ بن ابی بکر بن محمد بن عمر بن حزم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے

کہا کہ اس خط میں جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بن حزم رضی اللہ عنہ کو عالم بن کر کہیا

وقت دیتا اس میں کہا تھا کہ قرآن شریف کو باوضوء اٹھانا چاہیے۔

(اس کی روایت امام ما لک اور دار قطنی نے کی ہے اور مستدرک میں حاکم نے اس طرح روایت

کی ہے اور کہا ہے کہ اس حدیث کی سنن ت ہے اور بخاری اور مسلم کی شرط کے موافق ہے اگر چہ کہ

انہوں نے اس کی روایت نہیں کی ہے۔)

حاٌضہ اور جنبی مسجد میں داخل ہو کر نماز پڑھ سکتے ہیں اور نہ گزر سکتے ہیں

Narrated Abdullah ibn Abi Bakr ibn Muhammad ibn Amr ibn Hazm: In the letter that the Messenger of Allah ﷺ wrote to Amr ibn Hazm, it was stated that no one should touch the Quran except someone who is pure. [Narrated by Malik and Al-Daraqutni]

Al-Hakim narrated something similar in his "Mustadrak" and said it has a Sahih chain of narration, though they did not include it in their compilation. It was also narrated by Al-Tabarani and Al-Bayhaqi in their collections.

595

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں کہ آخضرت صلی اللہ

علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنے گھروں کے دروازے مسجد کے رخ تے دوسرا جانب چھیر دو، اس لے

کر میں حیض والی عورت اور جنبی کے لے مسجد میں داخل ہونا جائز نہیں قرار دیتا۔(اس کی روایت ابو

داود نے کی ہے۔)

ف: یہ حدیث اوراس کے بعد والی حدیث سے جس کے راوی مجاهد رضی اللہ عنہ ہیں، پی ثابت

ہوتا ہے کہ حاٌضہ اور جنبی مسجد میں داخل ہو کر نماز پڑھ سکتے ہیں اور نہ مسجد سے گزر سکتے ہیں۔ مسجد میں

سے گزر رجانا مسجد میں داخل ہو کر پڑھنا ونول بر ابر ہیں، اس وجہ سے کہ دخول مسجد کی ممانعت جناہت یا

جنب کی وجہ سے ہے اور گذر نے والا اس حالت میں گزر رہا ہے تو اس حالت کے باقی رہتے ہوئے مسجد

میں سے گزر رجانا بقیناً بیٹھنے کے مساوی ہوگا، اس وجہ سے احناف کے پاس حاٌضہ اور جنبی دونوں کے

لے مسجد میں پڑھنا اور گزر رجانا دونوں با تیں ناجائز ہیں، لیکن امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس حاٌضہ اور

جنبی مسجد میں پڑھنے کے سے گزر سکتے ہیں، اور اس لے امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے آیت "وَلاَ جُنُباً

إِلاَّ عَابِرِى سَبِيلٍ" میں "عَابِرِى سَبِيلٍ" کے معنی گذر نے والے کے مراد لے ہیں، حال انکہ "

عَابِرِى سَبِيلٍ" کے معنی مسافر کے ہیں، چنانچہ اس کی تفسیر میں حضرت علی اور حضرت ابن عباس رضی اللہ

عنہم سے مسافر کی منقول ہے اور "عَابِرِى سَبِيلٍ" سے مسافر مراد لینے کی ویل کی یہ حدیث ہے

جس سے جنبی اور حاٌضہ کومرود مسجد کی اجازت ثابت نہیں ہوری ہے۔

Narrated Aisha: The Messenger of Allah ﷺ said: "Turn these houses away from the mosque, for I do not permit the mosque for a menstruating woman or a person in a state of janabah (major impurity)." [Narrated by Abu Dawood]

596

مجاهد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جنبی اور حاٌضہ مسجد میں سے

نہ گزریں، آیت کریمہ "وَلاَ جُنُباً إِلاَّ عَابِرِى سَبِيلٍ" (سورۃ نساء، پ:5، ع:7، آیت

نمبر:43) (مسجد میں سے گزر نے والے کے لے نہیں ہے بلکہ) مسافر کے بارے میں نازل ہوئی

ہے جو (پانی نہ لینے کی صورت میں) تیمم کر کے نماز پڑھتا ہے۔(اس کی روایت عبد بن حمید نے کی

ہے۔)

ف: آیت "وَلا جُنبًا إِلَّا عَابِرٌ سَبِيلٍ"، کا ترجمہ یہ (اس طرح نہاں کی حاجت ہو تو نماز کے پاس نہ جانا، یہاں تک کہ غسل کر لو، بال سفر کی حالت میں راستے جارہے ہواور پانی نہ ملتا تھیں کر کے نماز پڑھلو۔)

جس گرمی تصویریا کتا یا جنبی ہول فر ثت داخل نہیں ہوا کرتے

Narrated Mujahid: A person in a state of janabah or menstruation should not pass through the mosque. The verse "And do not approach prayer while you are in a state of janabah, except those who pass by on the way, and they should make tayammum" (Al-Nisa: 43) was revealed in this context. [Narrated by Abd al-Humayd]

597

_علی رضی اللہ عنہ روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فرثت اس گرمی داخل نہیں ہوا کرتے جس میں تصویریا کتا یا جنبی ہول۔

(اس کی روايت ابودا ود اور نسا ئی نے کی ہے۔)

ف(1): اس حدیث میں فرشتوں سے رحمت اور برکت لائے والے فرثت اور وہ فرثت مراد ہیں جو زکر سن کے لے اترتے ہیں کہ فرثت انصور توں میں گرمی داخل نہیں ہوتے۔

ف(2): جنبی سے وہ جنبی مراد ہیں جہاں کو غسل نہ کرنے کی عادت ہوا کرتے ہے اور وہ جنبی مرادہ جو غسل کرنے میں اتنی دیر کر دے کہ نماز کا وقت گزر جاتے۔

وہ تین آدمی کون ہیں جن سے رحمت کے فرثت قریب نہیں ہوتے

Narrated Ali: The Messenger of Allah ﷺ said: "Angels do not enter a house that contains a picture, a dog, or a person in a state of janabah." [Narrated by Abu Dawood and Al-Nasa'i]

598

_عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تین آدمی ایسے ہیں کہ جن سے رحمت کے فرثت قریب نہیں ہوتے۔ ایک کافر (خواہ زندہ ہو یا مردہ) دوسروں وہ شخص جو ایسی خوشبو استعمال کرے جو عورتوں کے لئے مختص ہے۔ کیونکہ اس سے عورتوں کے مشاہدت ہوتی ہے۔) اور تیسرے ملاکہ اس جنبی کے پاس جنبی نہیں آتے جب تک کہ وہ غسل نہ کر لے یا کم سے کم وضو۔ (اس کی روایت ابودا ود نے کی ہے۔)

Narrated Ammar ibn Yasir: The Messenger of Allah ﷺ said: "Three people the angels do not approach: the corpse of a disbeliever, the one smeared with perfume (a type of fragrance called 'khaluq'), and the one in a state of janabah unless they perform ablution." [Narrated by Abu Dawood]