یہ باب غسل کے بیان میں
قال الله عز و جل وان كنتم جنبا فاط روا الدعو وجبا رشاد سور ما ند ع ايت نمبر مي ا ر تم حالت جنابت مي وتوا ي طرح غسل كرن اك و صاف وجاو و قوله و لا تقربو ن حتي يط رن من طاو ط كو تشريع ا جا اور قول باري تعالي سور بقر ع ايت نمبر مي ان ك غسل كرن تك تم ان س مجامع ن كرو و قوله اولم ستم النساء اور قول باري تعالي سور نساء ع ايت نمبر مي ايتم ن عورتو س جماع كيا و
غسل کب فرض ہوتا ہے؟
When does Ghusl become obligatory?
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص عورت کے چار شاخون (یعنی دونوں ہاتھوں اور
دونوں پائوں میں) میں جائے پھر کوشش کرے یعنی جماع کرنے تو اس پر غسل واجب ہوگا اگر چہ
منی نہ گلے۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے اور بخاری کی روایت مجھی اس طرح ہے)
ف : چار شاخون سے مراد عورتوں کے دونوں ہاتھوں اور دونوں پیر میں، اس کا حاصل یہ ہے کہ
بوقت جماع ذکر کے سر داخل ہوجانے سے غسل لازم ہو جاتا ہے خواہ منی نکل یا نہ نکلے، خلفاء راشدین
اور اکثر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور چاروں اماموں کامیں نذہب ہے۔
Narrated Abu Hurairah: The Messenger of Allah ﷺ said: "When one of you sits between the four parts (of the wife) and exerts himself, then ghusl becomes obligatory, even if he does not discharge." [Narrated by Muslim, and al-Bukhari reported something similar.)
ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ کہتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ پانی سے پانی واجب ہوتا ہے، (یعنی غسل انزالی منی سے واجب ہوتا ہے
بغیر انزال منی کے جماع کرنے سے غسل لازم نہیں آتا۔ اس کی روایت مسلم نے لی ہے۔ امام مجتبی السنۃ رحمۃ اللہ علیہ نے وضاحت کی ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص کے بدن میں احتلام ہو تو اس کی روایت تزندی نے کی ہے، جتنی خواب میں جماع کرتے ہوئے دیکھے تو بلا انزال غسل واجب نہیں ہوتا۔ حکم احتلام کے ساتھ خصوص ہوگا۔
Narrated Abu Sa'id: The Messenger of Allah ﷺ said: "Water comes from water (meaning, ghusl is required when there is a discharge of water)." [Narrated by Muslim]. The Imam of the Sunnah, Sheikh, said: "This is abrogated," and Ibn Abbas said: "Water comes from water in the case of wet dreams." [Narrated by Tirmidhi]
اپنے کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ نے کہا کہ خروج منی سے غسل واجب ہوتا ہے۔ اور اگر انزال نہ ہو، اور جماع کرے تو غسل واجب نہیں۔ (یہ حکم ابتداء اسلام میں تھا، پھراس کی معنیت کردی گئی ہے۔) اس لے اگر جماع کرے اور انزال نہ ہو تو بھی غسل واجب ہے۔ (اس کی روایت تزندی، ابوداؤد، دارقی اور امام احمد نے کی ہے اور تزندی نے اس کو صحیح بتایا ہے۔)
احلام یا وہو مگر کہتر پر منی نظر نہ آئے تو غسل واجب نہیں
Narrated Ali: The Messenger of Allah ﷺ said: "When you release semen, perform ghusl." [Narrated by Abu Dawood.) And in a narration from Ahmad: "When you ejaculate, perform ghusl, but if you have not ejaculated, then you do not have to perform ghusl."
ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کرام سلیم نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) خداکی بات سے نہیں شرما تا اگر عورت مثل مرد جماع کا خواب دیکھے تو کیا اس پر غسل واجب ہے؟ فرمایا کہ بالبشرطیہ منی نظر آئے، حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے شرما کر منہ ظاہر کر لیا اور عرض کی: یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کیا عورت کوہی احتلام ہوا کرتا ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ بالہوتا ہے، تجبہ تم پر (آپ ام سلمہ رضی اللہ عنہا) اگر عورت کو منی نہ ہوتی تو پکس طرح اس کے مشابہ ہوتا (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے بالاتفاق لی ہے۔)
Narrated Umm Salama: Umm Sulaym asked, "O Messenger of Allah, Allah is not shy about the truth, so is there any ghusl required for a woman when she experiences a wet dream?" The Prophet ﷺ replied, "Yes, if she sees the water." Umm Salama covered her face and said, "O Messenger of Allah, can a woman have a wet dream?" The Prophet ﷺ replied, "Yes, may your right hand be dusted. How else would her child resemble her?" [Agreed upon] Muslim narrated with an additional narration from Umm Sulaym: "The man's water is thick and white, while the woman's water is thin and yellow, so whichever of them rises or precedes, the resemblance of the child will be from that."
اور مسلم نے ام سلیم رضی اللہ عنہا نے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ مردوی منی غالب ہو یا سبقت گائرہی اور سفید ہوتی ہے اور عورت کی منی پتلی اور زرد تو ان دونوں میں جس کی منی غالب ہو یا سبقت کر جائے، پھرا اس کے مشابہ ہوا کرتا ہے۔
نیند سے بیدار ہو کر جسم یا کپڑے پر تری دیکھ مگر احتلام یاد نہ ہوتے غسل واجب ہے
Narrated Umm Salama: Umm Sulaym asked, "O Messenger of Allah, Allah is not shy about the truth, so is there any ghusl required for a woman when she experiences a wet dream?" The Prophet ﷺ replied, "Yes, if she sees the water." Umm Salama covered her face and said, "O Messenger of Allah, can a woman have a wet dream?" The Prophet ﷺ replied, "Yes, may your right hand be dusted. How else would her child resemble her?" [Agreed upon] Muslim narrated with an additional narration from Umm Sulaym: "The man's water is thick and white, while the woman's water is thin and yellow, so whichever of them rises or precedes, the resemblance of the child will be from that."
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو نیند سے بیدار ہو کر جسم یا کپڑے پر تری دیکھ اور اس کو احتلام یاد نہ ہو، آپ نے ارشاد فرمایا کہ وہ غسل کر لے اور ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس کو احتلام یاد ہوا ورتی نہ پایے آپ نے ارشاد فرمایا: اس پر غسل واجب نہیں، ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے دریافت کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر عورت کو ایسا تقاق پیش آئے تو کیا اس پر غسل واجب ہے؟ آپ نے فرمايا: بال غسل واجب ہے کیونکہ عورت میں (پیاٹش اور طباخ میں) مردول کے ماہندہ ہیں۔ (اس کی روایت تزندی اور ابوداود نے کی ہے البتہ وارثی اور ابن بلحٰی نے صرف (لا غسل علیہ) تک روایت کی ہے، خطابی کا بیان ہے کر اس حدیث میں قیاس کا ثبات اور ایک نظیر کو دوسروں نظیر کے حکم سے الحاق کا ثبوت ملتا ہے۔)
مرداور عورت کے خطا میں کمل جانے سے غسل واجب ہوجاتا ہے اگر چیکہ انزال نہ ہو
Narrated Aisha: The Messenger of Allah ﷺ was asked about a man who feels wetness but does not recall having a wet dream. He said, "He should perform ghusl." And about a man who believes he had a wet dream but finds no wetness, he said, "He does not need ghusl." Umm Sulaym asked, "Does a woman have to perform ghusl if she sees that?" He said, "Yes, for women are the counterparts of men." [Narrated by Tirmidhi and Abu Dawood, and Darimi and Ibn Majah narrated up to his statement: "He does not need ghusl"). Al-Khatabi said: "This indicates the confirmation of analogy and the comparison of the similar to the similar."
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب مردوں کا ختان (ذکر کا سر) عورت کے ختان (فرج کے ابتدائی) حصہ میں سے گزر جائے (اگر چیکہ انزال نہ ہو) تو غسل واجب ہوگا، حضرت ام المومنین رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اور حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا پھر تم دونوں نے غسل کیا۔ (اس کی روایت تزندی اور ابن بلحٰی نے کی ہے)۔
میں کے کو کر نکل جانے سے غسل لا زم ہوجاتا ہے
Narrated Aisha: The Messenger of Allah ﷺ said: "When the circumcised parts meet, ghusl becomes obligatory." I did this and so did the Messenger of Allah ﷺ, and we performed ghusl. [Narrated by Tirmidhi and Ibn Majah.)
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ
علی وسلم نے ارشاد فرمایا: جب منی تم سے کود کر نکل تو غسل کر لیا کرو (اس کی روایت ابوداود نے کی
ہے۔)
Narrated Ali: The Messenger of Allah ﷺ said: "When you release semen, perform ghusl." [Narrated by Abu Dawood.) And in a narration from Ahmad: "When you ejaculate, perform ghusl, but if you have not ejaculated, then you do not have to perform ghusl."
اور امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے ایک روایت میں ہے کہ جب منی کود کر
نکل تو غسل کر لیا کرو اور جب کود کر نہ نکل تو غسل نہ کرو۔
مزی نظر آئے تو شر مگاہ کو دھویس اور ضوء کر لیں
Narrated Ali: I was a man who emitted pre-seminal fluid frequently, so the Messenger of Allah ﷺ told me: "When you see pre-seminal fluid, wash your private part and perform wudu for prayer, and if you ejaculate, then perform ghusl." [Narrated by Nasai and Ahmad in his Musnad, and all of its narrators are trustworthy.)
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں مجھے نذی اکثر نکلا کرتی تھی
تو آپ تے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم نذی ویحوتو ا پنی شر مگاہ کو دھولیا
کرو، اور نماز کے لیے جس طرح وضو کرتے ہو، ویا، وی وضو کیا کرو، اور جب تم سے منی کود کر نکل تو
غسل کیا کرو۔ (اس کی روایت نسائی نے اور امام احمد نے اپنی مسنی میں کی ہے اور اس کے تمام راوی
ثقہ ہیں۔)
Narrated Ali: I was a man who emitted pre-seminal fluid frequently, so the Messenger of Allah ﷺ told me: "When you see pre-seminal fluid, wash your private part and perform wudu for prayer, and if you ejaculate, then perform ghusl." [Narrated by Nasai and Ahmad in his Musnad, and all of its narrators are trustworthy.)
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ
کہ معظہ فتح ہو نے تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (جماعت کے بعد) انزال نہ ہو نے کی صورت میں
غسل نہیں فرماتے تھے، لیکن فتح کہ معظہ کے بعد آپ نے خود ہی غسل فرمایا اور لوگوں کو بھی غسل کا حکم
دیا۔ (اور غسل نہ کرنے کا حکم منسوخ ہو گیا)۔ (اس کی روایت ابن حبان نے اپنی صحیح میں کی ہے۔)
Narrated Aisha: The Messenger of Allah ﷺ would use siwak but would not perform ghusl until the conquest of Makkah, after which he began to perform ghusl and instructed the people to do the same. [Narrated by Ibn Hibban in his Sahih.)
عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بروايت والد اپنے دادا سے
روایت کرتے ہیں کہ سائل نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ غسل توصرف منی کے نکلنے
و اجب ہوتا ہے، آپ نے فرمایا: جب مرد کا محل ختنہ عورت کے محل ختنہ سے مل جائے اور حشفہ
(لیٹی ذکر کا سر) نما ئب ہو جائے تو غسل کو واجب کر دیتا ہے، انزال نہویانہ ہو۔ (اس کی روایت طبرانی
نے مجمو سط میں کی ہے اور امام البیہقی عبد اللہ بن وهب نے اپنی مسنی میں اس طرح روایت کی ہے۔)
کلی کرنا اور ناک میں پانی لینا جنبی کے لیے فرض ہے
Narrated Amr ibn Shu'aib, from his father, from his grandfather: A man asked the Prophet ﷺ, "What makes ghusl obligatory except for semen?" He replied: "When the circumcised parts meet and the glans of the penis is inside, ghusl becomes obligatory, whether or not semen is released." [Narrated by Tabarani in his Al-Awsat and Imam Abu Muhammad Abdullah ibn Wahb in his Mustadrak, with a similar narration.)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
ارشاد فرمایا: کلی کرنا اور ناک میں پانی لینا جنبی کے لیے فرض ہے، دار قطنی، جہیق اور حاکم نے اس کی
روایت کی ہے، دار قطني اور حاكم کا بیان ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے اور ہر دو کے راوی ضعیف ہیں،
لیکن علامہ عینی نے امام تقی الدین نے (اس حدیث کے ضعف کی تحقیق میں) نقل کیا ہے کہ امام
موصوف کا بیان ہے کہ حدیث ذکور کی روایت بلاواسطہ برکت راوی کے طریقہ کے علاوہ اور دگر
طریقوں سے کی گئی ہے جس کو امام ابوبرکہ خطیب نے دار قطنی کی سنن سے بیان کیا ہے اور جس کی سنن
یہ ہے:
Narrated Abu Huraira: The Messenger of Allah ﷺ said: "Rinsing the mouth and inhaling water into the nose is obligatory for the junub (one in a state of major ritual impurity)." [Narrated by Darqutni, Baihaqi, and Hakim.) However, Darqutni and Hakim mentioned that the narrator's integrity is weak. Imam Taqi al-Din mentioned that this hadith was also narrated through other chains, one of which was narrated by Imam Abu Bakr al-Khatib through Darqutni's chain.
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُهْرَانَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْمَهْدِيُّ،
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ خَالِدٍ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي
هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِهَذَا الْحَدِيثِ -
اگر جنبی وقت غسل کلی اور ناک میں پانی لینے کو جول جانے تو وہ نماز کا اعادہ کر لے
Narrated Ibn Abbas: He said: "If you forget to rinse the mouth and inhale water into the nose while in a state of junub, then you should repeat your prayer." [Narrated by Abdul Razzaq and Said ibn Mansur.)
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا جس نے
کلی کرنا اور ناک میں پانی لینا جول گیا، کیا وہ (نماز کا) اعادہ کرے؟ آپ نے جواب دیا: بالا گروہ
جب ہوتا نماز لوٹا گے، اس لئے کلی کرنا اور ناک میں پانی لینا غسل میں فرض ہے۔ (اس کی روایت
بیہقی نے کی ہے اور امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس کی روایت کی ہے۔)
He replied: When the time for prayer comes, they will return to perform it, therefore performing istinja and putting water in the nose is obligatory in ghusl.
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، آپ نے فرمایا کہ جب تم کلی کرنا اور
ناک میں پانی لینا جول جاوا اور تم حالت جنابت میں ہوتا اپنی نماز کو لوٹا لو۔ (اس کی روايت عبد الرزاق اور سعید بن منصور نے کی ہے۔)
ہر بال کے پیپ جنا بت ہوا کرتی ہے اس لے غسل میں بالوں کے پیپ کے
پائی پیپ جانا ضروری ہے
When you perform ablution and take water into your nose, and when you are in a state of janabah, return to your prayer. Every hair follicle commits sin, so it is necessary to thoroughly wash the hair follicles during ghusl.
علیہ وسلم نے ارشاد فرما یا: ہر بال کے پیپ جنا بت ہوا کرتی ہے اس لے تم بالوں کو (اس طرح) وصویا
کرو کہ (بالوں کے پیپ کے پانی پیپ جا یے) اور بد ن کو (اس طرح) پاک و صاف کر لیا کرو کہ بال
برابر جگہ جگہ خشک نہ رہے پا یے۔ (اس کی روايت ابودا ود، ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے) علامہ عینی
رحمۃ اللہ علیہ فرما تے ہیں کہ ناک میں کچھ بال ہوا کرتے ہیں اور اس حديث سے معلوم ہوتا ہے کہ
ناک میں پانی لینا کچھ فرض ہے اور امل لغت کا بیان ہے کہ بثرہ میں بد ن کا تمام ظاہری حصد داخل ہے
اس طرح اس حديث سے غسل جنا بت میں کلی کرنے کی فرضیت کچھ ثابت ہوتی ہے کیونکہ منظہر
بدن میں داخل ہے۔
غسل جنا بت میں بال برا بر جگہ جگہ دھو نے سے رہ جا یے تو دوزخ میں قسم کے
عذاب میں بھلا کیا جا یے گا
علیہ وسلم نے ارشاد فرما یا: ہر بال کے پیپ جنا بت ہوا کرتی ہے اس لے تم بالوں کو (اس طرح) وصویا
کرو کہ (بالوں کے پیپ کے پانی پیپ جا یے) اور بد ن کو (اس طرح) پاک و صاف کر لیا کرو کہ بال
برابر جگہ جگہ خشک نہ رہے پا یے۔ (اس کی روایت ابودا ود، ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے) علامہ عینی
رحمۃ اللہ علیہ فرما تے ہیں کہ ناک میں کچھ بال ہوا کرتے ہیں اور اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ
ناک میں پانی لینا کچھ فرض ہے اور امل لغت کا بیان ہے کہ بثرہ میں بد ن کا تمام ظاہری حصد داخل ہے
اس طرح اس حديث سے غسل جنا بت میں کلی کرنے کی فرضیت کچھ ثابت ہوتی ہے کیونکہ منظہر
بدن میں داخل ہے۔
غسل جنا بت میں بال برا بر جگہ جگہ دھو نے سے رہ جا یے تو دوزخ میں قسم کے
عذاب میں بھلا کیا جا یے گا
Narrated Abu Huraira: The Messenger of Allah ﷺ said: "There is impurity under every hair, so wash the hair and purify the skin." [Narrated by Abu Dawood, Tirmidhi, and Ibn Majah.) Imam Al-Ayni mentioned in his commentary that this hadith implies the obligation of washing the hair, and according to linguistic scholars, "bashara" refers to the skin, emphasizing the requirement to purify the outer body, including the mouth for its external part.
علی رضی اللہ عنہ سے روايت ہے، آپ فرما تے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما یا: جس نے غسل جنا بت میں ایک بال کی جگہ جگہ چھوڑ دی کہ اس کو نہ وصویا
ہوتا اس کو دوزخ میں قسم کے عذاب میں بھلا کیا جا یے گا، حضرت علی رضی اللہ عنه فرما تے ہیں کہ میں
اسی وجہ سے اپنے سر کا شمن ہوگیا، میں اس وجہ سے اپنے سر کا شمن ہوگیا، اس جملہ کو تین بار فرما یا (یعنی
غسل میں سر کے بالوں کے پیپ کے پانی پیپ کی وعید سے کر میں نے اپنے سر کے بالوں سے شمن
جسیا معا لہ کیا، جس طرح ایک دشمن دوسرے دشمن کو مارنے التا ہے، اس طرح میں نے اپنے سر کے بال
موٹا ہدیٰ)۔
(اس کی روایت البوداور نے کی ہے اور سکوت اختیار کیا ہے اور البوداور کا سکوت صحیح کی
علامت ہے اور تلخیص حجیر میں ذکور ہے کراس حدیث کی اسادت ہے۔
تمام سر کے بالول کا رکنا سنت ہے اور تمام سر کا منڈوانا مستحب ہے
ابن مجبر رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ خلیفہ پہارم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے عمل سے ثابت ہوتا
ہے کہ آپ سر منڈوا کرتے تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور تینوں خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم
سر میں بال رکھتے تھے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کا فعل رخصت اور اجازت پرکمول ہوگا خلاصہ یہ کہ
تمام سر کا منڈوانا مستحب اور تمام سر کے بالول کا رکنا سنت ہوگا لیکن اس بچت سے نچ کا مسلک خارج
ہوگا، وجوہ یہ کہ کام نچ سے فراخت کے بعد سر کا منڈواناست ہے۔
غسل جنابت کا مسنون طریقہ
All shaving of the head is Sunnah, and all combing of the head is recommended. Ibn Majah (may Allah have mercy on him) said that it is established from the practice of the first Caliph, Ali (RA), that he used to comb his hair. The Prophet ﷺ and the three Rightly-Guided Caliphs (RA) used to keep their hair, so the action of Ali (RA) was based on leniency and permission. In summary, combing the entire head is recommended, and keeping hair on the entire head is Sunnah, but this does not apply to the private parts, as it is obligatory to shave the private parts after purification. The recommended method for the ritual bath (ghusl) for janabah is as follows:
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ
حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کیا کرتے تھے تو (یعنی) شروع فرما تے کہ
دونوں باہوں کو (پہو چوں تک) وصولیتے پھر دانتہ باٹھتے باہیں ہاتھ پر پانی ذال کر اپنی شرمگاہ کو
وصولتے، اور پھر ایسا وضو فرما تے جسیا کہ نماز کے لیے کیا جاتا ہے، پھر پانی لے کر پانی کو اپنی انگلیوں
کے ذریعہ بالول کی جڑوں میں پہنچاتے اور جب لیقین نمازا کر تمام بالول کی جڑوں میں پانی پہنچ چکا
ہے تو تین چلو پین سر پڑا لے، اس کے بعد تمام جسم پر پانی بہاتے اور پھر دونوں پیروں کو وصولیتے تھے
۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے اور البوداور طیسی نے کہی اس کی روایت ای طرح کر کے پر اضافہ کیا
ہے کہ جب فارغ ہو جاتے تو دونوں پیروں کو وصولیتے تھے)۔
Narrated Aisha: When the Messenger of Allah ﷺ performed ghusl from janabah, he began by washing his hands, then poured water with his right hand over his left to wash his private parts. He then performed ablution (wudu) as for prayer, and then took water and inserted his fingers into the roots of his hair. After ensuring his hair was fully wet, he scooped three handfuls of water and poured them over his head. Then he poured water over the rest of his body, and finally washed his feet. [Narrated by Muslim. Abu Dawood al-Tayalisi narrated something similar, and added at the end: "Then, when he was finished, he washed his feet.")
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ
حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنازت کا ارادہ فرماتے تو دونوں ہاتھوں سے ثروت
فرماتے لیجن ہاتھوں کو بہنچون تک وصولیتے، پھر جسم کے ان حصوں کو وصولیتے جہاں عموماً میل جمع ہوا کرتا
ہے ( لیجن اطراف ثروت کاہ جڑا اور بل اور ران پر ) پانی پہاتے اور جب اچھی طرح وصولیتے تو پوار پر
باٹھوں کو رگڑتے پھر وضو فرماتے اور اپنے سر پر پانی پہاتے۔ ( اس کی روایت ابوداود نے کی ہے )
When the Messenger of Allah ﷺ intended to perform the funeral washing, he would use both hands to rub, ensuring that both hands reached up to the elbows, then he would rub those parts of the body where dirt usually accumulates (such as the sides of the thighs, the armpits, and the knees), pouring water over them. When he had thoroughly rubbed these areas, he would rub his hands on the ground and then perform wudu, pouring water over his head. (This is reported by Abu Dawud.)
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ اگرم
چاہو تو میں تمہیں حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک کے شانات بتادوں جہاں آپ
غسل جنازت کے وقت دیوار پر رگڑتے تھے۔ ( اس کی روایت ابوداود نے کی ہے )
عورتوں کے لیے حیض و نفاس کے غسل میں خوشبو دار کپڑے کا استعمال مستحب ہے
If you wish, I can tell you about the blessed hands of the Messenger of Allah ﷺ, where they would rest on the wall during the ritual bath (ghusl) for the deceased. It is recommended for women to use fragrant clothes in the ritual bath (ghusl) after menstruation and postpartum bleeding.
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ انصار
کی ایک عورت نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ وہ حیض کا غسل کس طرح کیا کرے؟ تو
آپ نے اس کو غسل کس طرح کیا جاتے تفصیل وار بتلا یا پھر فرمایا کہ مشک میں ایکی اور خوشبو میں
بسا یہوا کپڑا لے کراسے پاکی حاصل کرنی چاہئے، ( دوسرا حدیث میں " مُمَسَّکَہ " کے
لفظ سے جس کے معنی مشک میں بسا یہوا کپڑا" کے دونوں کی تفسیر ہوتی ہے ) اس عورت نے پوچھا
کہ میں کس طرح پاکی حاصل کروں؟ آپ نے ارشاد فرمایا: اسے پاکی حاصل کرو، پھراسے
پوچھا کہ میں اسے کس طرح پاکی حاصل کروں؟ آپ نے فرمایا: سجان اللہ! اسے پاکی حاصل
کرو۔ ( حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اس عورت کو پتی طرف کہتی لیا اور کہا کر اس
خوشبو دار کپڑے کو خون کے اثرات اور شانات کے مقام پر لینا چاہئے )۔ ( اس کی روایت بخاری
اور مسلم نے بالاتفاق کی ہے )۔
علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ نے عمدہ القاری میں استنباط احکام کے بیان میں کہا ہے کہ اس حدیث
میں اس چیز کی ویل بھ ک حیض و نفاس سے فارغ ہو کر غسل کرنے والی عورت کے لئے مستحب ہے کہ اس کے بدلاً میں جن جگہوں کو خون لگتا ان پر خشبو لگائے۔ اور مثالی نہ کہا کر خوشبو لگانے سے جلد جمل قرار پاتا ہے اور بہت جلد بدبو دور ہوتی ہے۔ البتہ اس میں اختلاف ہے کہ خوشبو دار کپڑا کپ استعمال کیا جائے، بعضوں نے کہا کر غسل حیض یا نفاس کے بعد استعمال کیا جائے اور دوسروں نے کہا سے کر غسل کے پیشتر استعمال کیا جائے اور اس حیثیت سے پیشہ ثابت ہوتا ہے کہ عورت کے لئے مستحب ہے کہ پیشتر مرغہ کو ایسے کپڑے سے خوشبو دار کرے جس کو مشک یا کسی اور خوشبو ملنے والی چیز سے اور غسل کے بعد اس خوشبو دار کپڑے کو اپنی شرمگاہ میں رکھ لے اور نفاس والی عورت کے لئے پیشہ مستحب ہے۔ غسل جنابت میں اگر پانی اچھی طرح بالون کی جزویت کے پیشہ جائے تو عورت میں اپنی چوٹیاں نہ کھولیں۔
"A woman from the Ansar asked the Prophet ﷺ about how to perform the ritual purification after menstruation. He instructed her on how to perform the ghusl (ritual bath), and then said: 'Take a piece of musk and purify yourself with it.' She asked, 'How should I purify myself with it?' He replied, 'Purify yourself with it.' She repeated, 'How should I purify myself with it?' He said, 'SubhanAllah, purify yourself with it.' I (Aisha) then pulled her towards me and said, 'Use it to cleanse the traces of blood.' [Agreed upon]"
(1) The statement: "Take a piece of musk..." – Al-Aini in Umdat al-Qari mentioned in his explanation of deriving legal rulings from this that it is recommended for a woman who is performing ghusl (ritual bath) after menstruation or childbirth to use perfume on all the areas of her body that were affected by blood. Al-Mahmali stated that this is because it helps in conceiving quickly and also prevents bad odors. There is a difference of opinion regarding when it should be used. Some say it should be applied after the ghusl, while others say it should be applied before. It is also recommended to use perfume on a woman's private parts by taking a piece of cotton or something similar, applying musk or something similar on it, and inserting it into her private parts after the ghusl, with the same practice recommended for a woman after childbirth.
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! میں اپنے سر کے بالوں کی چوٹیوں کو خوب مضبوط گوندھتی ہوں کیا غسل جنابت کے وقت ان کو ہول دیا کروں؟ تو فرمایا: نہیں، تمہارے لئے یہی کافی ہے کہ سر پر تین چلو پانی اس طرح ڈالو کہ (پانی بالوں کی جزویت کے اچھی طرح پیشہ جائے) پھر باقی بدن پر پانی پھاکر (اس طرح) پاک ہو جائیں۔ (کہ جسم میں بال برابر جگہ جگہ خشک رہتے رہے پائے)۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے)۔
And from Umm Salama, she said: I said, "O Messenger of Allah, I am a woman who braids my hair tightly. Should I undo it for the ritual bath of janabah?" He said, "No, it is enough for you to pour three handfuls of water over your head, then pour water over yourself to purify." [Narrated by Muslim.
ف : عورتوں کے سر کے بال اگر گوندھے ہوئے ہوں اور وہ بوقت غسل اپنے سر کے بالوں پر اس طرح پانی ڈالیں کہ بالوں کی جزوی اچھی طرح پیشہ چلی ہوئی تو ایسی صورت میں عورت میں اپنے بالوں کو نہ چھوئیں، اگر یہ معلوم ہے کہ بالوں کو چھوئے لے بغیر جزویت نہ ہوئی تو پچھر بالوں کا چھولنا ضروری ہے، بخلاف مردوں کے کروہ بوقت غسل اپنے سر کے بال ضرور چھول لیا کریں۔
جا بر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب عورت غسل جنابت
کر لے تو وہ اپنے سر کے بال نہ ٹھوکے بلکہ بالوں کی جڑوں میں پانی بہائے اور جڑوں کو تر کرے
–(اس کی روایت داری نہ کی ہے–)
And from Jabir, he said: When a woman performs the ritual bath for janabah, she does not undo her hair, but she pours water over its roots and wets it. Narrated by Al-Darimi.
عطاء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ ان سے ایسی عورت کے متعلق سوال کیا گیا
جس کو غسل جنازت کی ضرورت پیش آئی جس وقت اس کے سر کی چوٹیاں گوندھی ہوئی ہوئے تو کیا وہ اسے
کھول دے؟ عطاء رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ نہیں بلکہ وہ سر پر اچھی طرح پانی ذرا لے کر جس کے
سر کے بالوں کی جڑوں میں خوب جھیک جائیں۔ (اس کی روایت داری نہ کی ہے)–
حضرت صلی اللہ علیہ وسلم وضو میں ایک سیر اور غسل میں چار سیر تے پانچ سیر تک پانی
استعمال فرمایا کرتے تھے
who needed the ritual bath (ghusl) while her hair was plaited. He was asked: Should she undo her plaits? 'Ata (RA) replied: No, rather she should take a little water and pour it over her head so that it reaches the roots of her hair. (This narration is not confirmed.) The Messenger of Allah ﷺ used one sa' (of water) for ablution and four to five sa's for the ritual bath.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ نے فرمایا کہ حضرت رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم ایک بد (یعنی ایک سیر مقدار) پانی سے وضو اور ایک صاع (یعنی چار سیر) سے لکر
پانچ بد (یعنی پانچ سیر پانی سے) غسل فرمایا کرتے تھے۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم میں
بالاتفاق ہے–)
وضوء اور غسل میں قد پانی استعمال کیا جاتے اس بارے میں
علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ کی تحقیق اور تو چیخ
ف: اس حدیث میں ذکور ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سیر مقدار پانی سے
وضوء اور 4 سیر سے لے کر 5 سیر مقدار پانی سے غسل فرمایا کرتے، اس کے بارے میں علامہ شامی رحمۃ
اللہ علیہ نے روایات میں بحوالحلیہ بی تحقیق بیان فرمایا ہے کہ وضو اور غسل میں پانی کی مقدار کے متعلق
بہت سے علماء نے مسلمانوں کا اجماع علی کیا ہے کہ وضو اور غسل میں پانی کی کوئی خاص مقدار مقرر
نہیں ہے البتہ ظاہر الرواية میں وضو میں کم سے کم پانی کی مقدار ایک سیر اور غسل میں 4 سیر سے لے کر
سیر جوپیان کی گئی بھ وہ بخاری اور مسلم کی اس زیربحث حدیث کی بناء پرہے، لیکن پرا ی مقدار نہیں
کر جس کی پابندی لازمی سے بلکہ یوضوعاور عسل کی کم سے کم مسنون مقدار سے،چنانچہ برخیں کصحابہ کے
جس کی کاوضوعیا عسل اس سے کم مقدار پانی سے پوراہوجاتا سے تواس مقدار سے کم سے اس کاوضوعیا
عسل جائے سے اور آگر پی مقدار اس کے لے کافی تواس مقدار سے زیادہ پانی استعمال کرسکتا سے
کیونکہ انسانوں کی طبعیتین اوراحوال مختلف ہوا کرتے ہیں، براہ اورامداداور دگر کتابول میں بیتوضح
نذورہ۔
حاصل کلام یہ کہ پانی کے استعمال میں اسراف نہیں ہونا چاہے جہال تک ہوسے پانی کافی
احتیاط سے استعمال کیا کریں اور حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کے استعمال میں اسی احتیاط
کو عملآ کر کے دکھایا ہے -(یہ پورا مضمون رواجتارشیقے لیاگیا ہے -)
And from Anas, he said: The Prophet ﷺ used to perform wudu with a mud, and used to bathe with a sa' (a unit of measurement), which is equal to five amdad (a handful). [Agreed upon]
موٹی ابتہن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہول نے کہا کر مجابر ضی اللہ عنہ کے
پاس ایک بڑا برتن لا یاگیا، میں نے اس کے متعلق اندازہ کیا کر اس میں آبطرط (لمبن4 سیر ) کی
گنجائش تھی، پھر کہا کہ مجھے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے حدیث بیان فرمائی ہے کر رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم اس برتن بھر پانی سے غسل فرمایا کرتے تھے -(اس کی روایت نسائی نے کی ہے)-
اس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہول نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرما کر وضو میں دورطل (لمبن ایک سیر ) پانی کافی ہے -(اس کی روایت ترمذی نے کی ہے)-
And from Anas, he said: The Messenger of Allah ﷺ said: "Two ritl (approx. 2.5 liters) of water is sufficient for wudu." Narrated by Al-Tirmidhi.
معاذۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتی ہیں کرام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے
فرما کر میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بیبرتن سے غسل کیا کرتے تھے جوہمارے درمیان
میں رکھا جاتا تھا، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پانی لین میں جلدی فرماتے تھے تو میں کہتی کر
میرے لے چھوڑیے، میرے لے چھوڑیے، ام المومنین فرمائی ہیں کر دونوں جنا بت کی حالت
میں ہوتے تھے جس کے لے غسل کرتے تھے -(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے مستقیم طور پرکی
ہے-)
And from Mu'adhah, she said: Aisha said: I used to perform the ritual bath along with the Messenger of Allah ﷺ from one container between me and him, and he would hurry to use it until I would say, "Leave some for me, leave some for me." She said: And both of them were in a state of janabah. [Agreed upon]
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کرنے کے بعد وضو نہیں فرما کرتے تھے۔ (پیل کے جوسے وضو پراکتفا فرما تے تھے)۔ (اس کی روایت ترمذی، ابوداؤد، نسائی اور ابن ماجہ نے کی ہے اور اس حدیث کے اسانید میں -)
And from Aisha, she said: The Prophet ﷺ did not perform wudu after the ritual bath. Narrated by Al-Tirmidhi, Abu Dawood, Al-Nasa'i, and Ibn Majah. Its chain of narration is authentic.
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل جنا بت میں سر مبارک کو غطی سے (جو ایک قسم کی خوشبو دار بوٹی ہے) دھولیا کرتے تھے اور آپ اس پراکتفا فرما تے اور اس پر پانی نہ ذا لے۔ (یعنی خطی کے نہا کے لے جس پانی کوسر پڑتا ہے اس پر کفايت فرما تے اور نہا تے وقت سردحو نے کے لے مزید پانی استعمال نہیں فرما تے)۔
(اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے-)
غسل کے وقت پردہ کرنا چاہئے
And from her (Aisha), she said: The Prophet ﷺ used to wash his head with a comb while in a state of janabah, and he would suffice with that, without pouring water over it. Narrated by Abu Dawood.
جلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کر وہ میدان میں (برہمنہ) غسل کر رہا ہے تو آپ منبر پر چڑھ گئے اور بعدهم وثنا کے فرما یا کر اللہ تعالیٰ بھی حیا والے ہیں اور بہت پردہ پوش ہیں، حیا اور پردہ کرنے کو روس ت رکھتے ہیں،جب تم میں سے کوئی شخص غسل کرنے تو پردنے میں کیا کرے-(اس کی روایت ابوداوداورنسائی نے کی ہے-)
And from Ya'la, he said: The Messenger of Allah ﷺ saw a man washing himself in an open area, so he ascended the pulpit, praised Allah, and then said: "Indeed, Allah is Shy and Concealing. He loves modesty and concealment. When one of you takes a ritual bath, let him conceal himself." Narrated by Abu Dawood and Al-Nasa'i, and in his narration, it says: "Indeed, Allah is Concealing. So if one of you wants to take a bath, let him conceal himself with something."
اور نسائی کی روایت میں ہے کہ خضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا کر اللہ تعالیٰ نہایت پردہ پوش ہیں، جب تم میں سے کوئی غسل کرنا چاہے تو کسی چیز سے پردہ کر لے-
غسل جنا بت میں ناخن برابر کی دھونے سے رہ جائے تو غسل نہ ہوگا
And from Ya'la, he said: The Messenger of Allah ﷺ saw a man washing himself in an open area, so he ascended the pulpit, praised Allah, and then said: "Indeed, Allah is Shy and Concealing. He loves modesty and concealment. When one of you takes a ritual bath, let him conceal himself." Narrated by Abu Dawood and Al-Nasa'i, and in his narration, it says: "Indeed, Allah is Concealing. So if one of you wants to take a bath, let him conceal himself with something."
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے کہا کر ایک شخص رسول اللہ صلی
اللہ تعالیٰ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے کہا کہ میں نے غسل جنازت کیا اور فجر کی نماز پڑھی، اس
کے بعد میں کہ ناخن برابر جگہ جحوط گئی ہے کہ جہاں پانی نہیں پہنچا ہے تو آخضرت صلی اللہ علیہ وسلم
نے فرماگر تم اس جگہ پر غسل کے وقت بھیگا ہوا ہاتھوں حس سے پانی طپکتا ہوا ہوچھیر لیے تو کافی ہوا اور
غسل ہوجاتا، چونکہ ایسا نہیں ہوا سے اس لے اس جگہ کا دھولینا اور نماز لوطا نا ضروری ہے۔ (اس کی
روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔)
پیشابت احتیاط نہ کرنے پر عذاب قبر ہوا کرتا ہے
And from Ali, he said: A man came to the Prophet ﷺ and said: I performed the ritual bath from janabah and prayed Fajr, but I saw that a small part, the size of a fingernail, did not get water. The Prophet ﷺ said: "If you had wiped it with your hand, it would have sufficed." Narrated by Ibn Majah.
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ تم نے رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیشاب لگ جانے کے متعلق سوال کیا، ارشاد فرمایا کہ جب تم کو کچھ پیشاب
لگ جائے تو اس کو دھوو دلو، اس لے کر میں خیال کرتا ہوں کہ عذاب قبر اس کی وجہ سے ہوا کرتا ہے
(اس کی روایت بزار نے کی ہے) اور تخصیص میں کہا ہے کہ اس حدیث کی سنہسن ہے اور وہ حدیث
کہ جس کی سنہ میں ایوب بن جابر بین حس میں کہرے کو پیشاب لگ جانے پر ایک دفعہ دھوو نے کا ذکر
ہے ان کے ثقة ہونے میں اختلاف ہے۔
نجاست حقیقی اور کیسے کپرے کو پاک کرنے کا طریقہ
ف: ظاہر حدیث کا معنی یہ ہے کہ پرے کو پیشاب لگ جانے سے ایک دفعہ دھوو لینا چاہئے اور
پرامم شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے مسلک کے موافق ہے، اور انہوں نے کہا ہے کہ کپڑا ایک دفعہ دھوو نے سے
پاک ہوجاتا ہے، مجھیہے کہ پانی پاک کرنے والاتے، جب پانی ایک دفعہ استعمال کر لیا جائے تو کپڑا
پاک ہوجائے گا، جس طرح بدنبہی نجاست حکمی سے ایک بار دھوو نے سے پاک ہوجاتا ہے، لیکن
ہمارے علماء خفیہ نے کہا ہے کہ کپڑا انتہا دھوویا جائے کہ مگر نغالب اس کے پاک ہو نے کا ہو جائے اور
گمان غالبا کے حصول کی مقدار تین دفعہ دھوو نا ہوتا ہے، مجھیہے کہ بار بار دھوو نے سے نجاست خارج
ہو جائے ہے اور اس کی دلیل پیمان کی ہے کہ نینے سے بیدار ہو نے والے کے متعلق جو حدیث وارد ہوئی
اس میں آخِذرت صلی اللہ علیہ وسلم سے صراحت ہے کہ آپ نے نجاست موہومہ کے بارے میں تین رفع دوں ل باہوں کو دھوئے کا حکم فرمایا، اللہذا اگر حقیقی نجاست ہوتی تین رفع دھوئے کا حکم بطور اوّلی ہوگا اور ہمارے ذہب حقی کے ظاہر الروایہ کی کتابوں میں نذکور ہے کہ ہر رفع چوڑ ناضوری ہے، اس لے کہ چوڑ نے سے، نی نجاست خارج ہوجائے ہے امام محمد رحمۃ اللہ علیہ سے ایک روایت پیہ کہ انہوں نے کہا سے کہ جب تم نے تین رفع دھویا اور تیسری رفع دھوکر چوڑ لیا تو کپڑا پاک ہو جائے گا۔ ( ماخوذ از: مرقات و مستخلص )۔
And from Ubadah bin al-Samit, he said: We asked the Messenger of Allah ﷺ about urine, and he said: "If anything touches you from it, wash it, for I think it is part of the punishment of the grave." Narrated by Al-Bazzar.
And he said in the "Takhrees": Its chain of narration is good. And in the hadith regarding washing clothes from urine once, Ayyub bin Jabir narrated, and they differed on its weakness.
(1) The statement: "Wash it", The apparent meaning of the hadith about washing clothes from urine once aligns with what Al-Shafi'i said, that it becomes pure by washing once; because water is purifying, and once it is used, it purifies, just as the body is purified from ritual impurity. Our Hanafi scholars considered strong suspicion, and they determined it should be washed three times; because repetition is necessary for extraction, as mentioned in the hadith of the one who wakes up from sleep; he was commanded to wash three times for imagined impurity, so for actual impurity, it is more applicable. Furthermore, squeezing is required in every wash according to the apparent narration, as squeezing is what extracts the impurity. According to Muhammad, if you wash three times and squeeze on the third time, it becomes purified. "Al-Mirqat" and the extract are selected from both of them.
Chapter on the interaction of a person in a state of major impurity (Janabah) and what is permissible for them
And Allah's saying: "None touch it except the purified." (Al-Waqi'ah: 79)