Nūr al-Maṣābīḥ
باب السواك

یہ باب مسواک کرنے کے بیان میں

The Siwak (Tooth-stick)
Volume 1 · Purification

مسواک کی تاکید

Emphasis on the Use of Miswak

424

اَلْوَهْرِيْه رضي اللہ عنه روايت ہے، انهول نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر مجھے اپنی امت پر دشواری کا خیال نہ ہوتا تو میں ان کو ہر وضوے کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دیتا۔ (اس کی روايت امام شافعی، طحاوي اور زہقی نے سنن میں لکھے۔)

اَلْوَهْرِيْه رضی اللہ عنہ روایت ہے، انہول نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر مجھے اپنی امت پر دشواری کا خیال نہ ہوتا تو میں ان کو ہر وضوے کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دیتا۔ (اس کی روایت امام شافعی، طحاوی اور زہقی نے سنن میں لکھے۔)

Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "If it were not for the difficulty it would cause my Ummah, I would have commanded them to use the siwak with every ablution." [Narrated by Malik, Shafi'i, al-Tahawi, and al-Bayhaqi in their Sunan, and al-Tabarani in al-Awsat narrated a similar narration from Ali (may Allah be pleased with him).

425

اور طبرانی نے اوست میں حضرت علی رضی اللہ عنه سے ایسی ہی روايت کی ہے۔ امت پر گرانی کا اندیشہ نہ ہوتا تو ہر نماز کے لئے وضوے اور ہر وضوے کے ساتھ مسواک کا حکم دیا جاتا

اور طبرانی نے اوست میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ایسی ہی روایت کی ہے۔ امت پر گرانی کا اندیشہ نہ ہوتا تو ہر نماز کے لئے وضوے اور ہر وضوے کے ساتھ مسواک کا حکم دیا جاتا

Anas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “By the One in Whose Hand is my soul, a servant does not believe until he loves for his brother what he loves for himself.” [Agreed Upon]

426

اَلْوَهْرِيْه رضي اللہ عنه روايت ہے، انهول نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر مجھے اپنی امت پر دشواری کا خیال نہ ہوتا تو میں ہر نماز کے لئے وضوے کا اور ہر وضوے کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دیتا۔ (اس کی روايت امام احمد، نساوی اور حاکم نے مستدرک میں لکھے۔)

اَلْوَهْرِيْه رضی اللہ عنہ روایت ہے، انہول نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر مجھے اپنی امت پر دشواری کا خیال نہ ہوتا تو میں ہر نماز کے لئے وضوے کا اور ہر وضوے کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دیتا۔ (اس کی روایت امام احمد، نساوی اور حاکم نے مستدرک میں لکھے۔)

He (may Allah be pleased with him) also reported: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "If it were not for the difficulty it would cause my Ummah, I would have commanded them to perform ablution before every prayer and use the siwak with every ablution." [Narrated by Ahmad, al-Nasa'i, and al-Hakim in al-Mustadrak]

427

اَلْوَهْرِيْه رضي اللہ عنه روايت ہے، انهول نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر مجھے اپنی امت پر دشواری کا خیال نہ ہوتا تو ہر وضوے کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا۔ (اس کی روايت نساوی، ابن خزیمہ اور حاکم نے کی ہے اور حاکم نے کہا ہے اس کی اساناد میں اور امام بخاری نے اس کو تعليقاً بیان لیا ہے۔)

اَلْوَهْرِيْه رضی اللہ عنہ روایت ہے، انہول نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر مجھے اپنی امت پر دشواری کا خیال نہ ہوتا تو ہر وضوے کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا۔ (اس کی روایت نساوی، ابن خزیمہ اور حاکم نے کی ہے اور حاکم نے کہا ہے اس کی اساناد میں اور امام بخاری نے اس کو تعليقاً بیان لیا ہے۔)

He (may Allah be pleased with him) also reported: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "If it were not for the difficulty it would cause my Ummah, I would have commanded them to use the siwak with every ablution." [Narrated by al-Nasa'i, Ibn Khuzaymah in his Sahih, and al-Hakim, who said that the chain of narrators is authentic, and also by al-Bukhari in his commentary]

428

عاشر رضي اللہ عنها روايت ہے آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر مجھے اپنی امت پر دشواری کا خیال نہ ہوتا تو میں ہر نماز کے وقت وضوے کے ساتھ مسواک

کر نے کا حکم دیتا (اس کی روایت ابن حبان نے اپنے تحریر میں لکھا۔)

امت پروشواری کا خیال نہ ہوتا تو نماز عشاء کے دیے پڑنے کا حکم دیتا

If it were not for the women, I would command that the night prayer be performed in congregation.

429

ابوبهریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے

فرمایا: اگر مجھے اتنی امت پروشواری کا خیال نہ ہوتا تو میں ان کو نماز عشاء کے دیے پڑنے اور پر نماز

کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا۔ (بخاری اور مسلم نے بالاتفاق اس کی روایت کی ہے۔)

نماز عشاء کا مستحب وقت کیا ہے؟

ف(1): حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا رشادہ کہ میں اتنی امت پروشواری کا خیال نہ ہوتا تو

نماز عشاء کو دیے پڑنے کا حکم دیتا اس کے متعلق جمہور علماء کا اتفاق ہے کہ عشاء کے دیے پڑنے کا

استحباب تھالثی رات یا نصف شب تک ہے، البتہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس اول شب پڑنا

مستحب ہے۔ 12

مسواک کرنا احناف کے پاس سنت و ضوء ہے اور شوا فح کے پاس سنت نماز ہے

ف(2): رواختار میں کہا ہے کہ مسواک کرنا احناف کے پاس و ضوء کی سنت ہے اور شوا فح کے

پاس مسواک کرنا نماز کی سنت ہے، پی بھرا لا ق میں ذکور ہے، اس اختلاف کا تبیہ یہ ہے کہ ایک شخص

نے ایک سی و ضوء سے کئی نمازیں ادا کیں تو احناف کے پاس اس شخص کا و ضوء میں ایک دفعہ مسواک کرنا

کافی ہو گا اور حیث میں مسواک کے متعلق جوفضیلت ذکور ہے وہ اس کو حاصل ہو جائے گی لیکن امام شافعی

رحمۃ اللہ علیہ کے پاس ایسے شخص کا و ضوء میں ایک دفعہ مسواک کر لینا کافی نہ ہو گا بلکہ نماز کے لئے اس کو

مسواک کرنا ہو گا کیونکہ ان کے پاس مسواک نماز کی سنت ہے۔

صاحب رواختار نے اس بارے میں احناف اور شوا فح کے مسلک کی موافقت پر برتری عمدہ

طریقہ سے توضیح فراہمی ہے، فرما تے ہیں کہ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے مسواک کی فضیلت میں پیغدیث

روایت کی ہے "صلاة بسوَاکٍ افضل من سبعين صلاة بغیر سواک" (ایک نماز مسواک

کے ساتھ افضل ہے ایسے ستر نماز ول سے جو بغیر مسواک کے ادا کی جائیں) لیکن امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ

کے پاس اس حدیث میں مسواک کی جو فضیلت موجود ہے، وہ فضیلت اس وقت تک حاصل نہیں ہوگی

جب تک کہ مسواک کو نماز کے وقت نہ کیا جائے۔ لیکن احناف کے پاس فضیلت اس وقت بھی حاصل

ہو جائے گی۔ جب کہ وضو کے وقت مسواک استعمال کی جائے۔ اگرچہ نماز کے وقت مسواک نہیں ہو،

احناف کے پاس مسواک کو وضو کی سنن قرار دینے سے اس بات کی نہیں کہ مسواک نماز کے وقت

مستحب نہیں بلکہ احناف کے پاس مسواک نماز کے وقت بھی مستحب ہے۔

احناف کے پاس بھی نماز کے وقت مسواک کرنا مستحب ہے

احناف کے پاس مسواک جب محفوظ میں لوگوں سے ملاقات کے موقع پر مستحب ہے۔ نماز

کے وقت جس میں اللہ تعالیٰ سے مناجات اور سرگوشی کی جائے۔ تو ایسے مواقع کے موقع پر کیے مستحب ہیں

قرار دی جائے گی۔ چنانچہ نماز کے وقت مسواک کو مستحب قرار دینے کا ذکر حلبی نے شرح المذہب الصغير میں

کیا ہے۔ اور تا تارخانیہ تتمہ نقل کیا ہے کہ "ویستحب السواک عیندنا عند كل صلاة و

وضوء" (مسواک ہمارے لیے احناف کے پاس نماز اور وضو کے وقت مستحب ہے)۔

خلاصہ یہ ہے کہ حدیث میں "عند كل صلاة" کے حکم پر شواہ اور احناف دونوں نے عمل کیا

ہے۔ کہ شواہ نے مسواک کو نماز کی سنن قرار دیا اور احناف نے مسواک کو نماز کے لیے مستحب رکھا،

حدیث پر دونوں نے عمل کیا، فرق صرف اتنا ہے کہ شواہ نے اس کو سنن قرار دیا اور احناف نے

مستحب۔

(صاحب رداختار فرماتے ہیں کہ اس ناہاب تحریر کی قد کر کر واور اس کو غنیمت بھجو رداختار کی

پہلی عبارت یہاں ختم ہوتی۔)12

امت کی تکلیف کا اندیشہ ہوتا تو وضو میں مسواک فرض کر دی جائے۔ اور نماز عشاء

کی تا خیر کا نصف شب تک حکم دے دیا جاتا

It is narrated from Abu Barzah (RA) that he said:

The Messenger of Allah ﷺ said: 'If I were not concerned about placing too great a burden on my community, I would command them to use the miswak at the time of the Isha prayer and when it is time to pray.' (Bukhari and Muslim have both narrated this.)

What is the recommended time for the Isha prayer?

(1): The Blessed Prophet ﷺ has guided us that if I did not have such concern for the Ummah, I would have commanded the Isha prayer to be performed at nightfall. The majority of scholars agree that the recommended time for performing the Isha prayer extends until one-third of the night or midnight. However, according to Imam Shafi'i (RA), it is recommended to perform it at the beginning of the night.

Using a miswak is considered a Sunnah and a light (Sunnah) according to the Hanafis, and a Sunnah of prayer according to the Shafi'is.

(2): In the preferred view, it is stated that using a miswak is a Sunnah and a light (Sunnah) according to the Hanafis, and a Sunnah of prayer according to the Shafi'is. It is mentioned in the explanation of this difference that if a person performs several prayers with one ablution, then according to the Hanafis, using a miswak once during the ablution is sufficient, and the virtues associated with using a miswak will be attained. However, according to Imam Shafi'i (RA), using a miswak once during the ablution is not sufficient; rather, one must use a miswak for each prayer because, in his view, using a miswak is a Sunnah of prayer.

The author of the preferred view provides a clear explanation of the agreement between the Hanafis and the Shafi'is, stating that Imam Ahmad (RA) narrated a hadith about the virtue of using a miswak: 'A prayer with a miswak is better than seventy prayers without a miswak.' However, according to Imam Shafi'i (RA), the virtue mentioned in this hadith will not be attained unless the miswak is used during the prayer. According to the Hanafis, the virtue can be attained even if the miswak is used during the ablution, even if it is not used during the prayer. Although the Hanafis consider using a miswak as a Sunnah of ablution, they do not negate the recommendation of using a miswak during the prayer; rather, they also consider it recommended to use a miswak during the prayer.

According to the Hanafis, using a miswak is recommended during the prayer. They also consider it recommended to use a miswak when meeting people, especially during prayer, which involves supplication and intimacy with Allah Almighty. Therefore, it is recommended to use a miswak during the prayer. Al-Halbi mentions in Sharh al-Madhhab al-Saghir that 'using a miswak is recommended during every prayer and ablution,' and this is also quoted in Tatar Khaniyah.

In summary, both the Shafi'is and the Hanafis have acted upon the command in the hadith 'before every prayer.' The Shafi'is have considered using a miswak a Sunnah of prayer, while the Hanafis have considered it recommended for prayer. Both have acted upon the hadith, with the only difference being that the Shafi'is have considered it a Sunnah, and the Hanafis have considered it recommended.

(The author of the preferred view states that this concise writing is a valuable contribution, and the first statement of the preferred view ends here.)

If there were not such concern for the difficulty of the Ummah, the use of a miswak during ablution would have been made obligatory, and the Isha prayer would have been commanded to be performed until midnight.)

430

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے

فرما یا: اگر مجھے میری امت پر تکلیف کا اندیشہ ہوتا تو وضو کے ساتھ مسواک کو بھی فرض کر دیتا اور نماز

عشاء کو نصف شب کے آخری حصہ میں نماز کر دیتا تھا۔

(اس کی روایت حاکم نے مستدرک میں اور بہقی نے سنن میں لکھے ہیں۔)

From him (Abu Huraira) Allah said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "If it were not for the difficulty it would cause my Ummah, I would have made the use of the siwak obligatory with every wudu, and I would have delayed the Isha prayer until the last part of the night." [Narrated by Al-Hakim in Al-Mustadrak and Al-Bayhaqi in the Sunan]

431

جعفر بن تمام بن الحجاس بن عبد المطلب (رضی اللہ عنہ) نے اپنے والد تمام رضی

اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ چند صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم آخیرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں

حاضر ہوئے ارشاد ہوا کہ میں تم کو کچھ ہول کرتہ ہارے دانت زرد ہیں، تم سب مسواک کیا کرو، اگر

مجھے اپنی امت پر تکلیف کا انہیشہ نہوتا تو ہر نماز کے وقت مسواک کرنا کا حکم دیتا۔

From Ja'far bin Tamam bin Abbas bin Abdul Muttalib, from his father Allah said: Some people from the companions of the Prophet (ﷺ) entered upon him, and he said: "Why do I see you all bald-headed? Use the siwak, for if it were not for the difficulty it would cause my Ummah, I would have commanded them to use the siwak at every prayer." And in another narration: "Why do I see you entering upon me bald-headed? Use the siwak, for if it were not for the difficulty it would cause my Ummah, I would have commanded them to use the siwak at every prayer or at every wudu." [Narrated by Imam Abu Hanifa as a disconnected narration]

Ibn Hibban said: Tamam, the narrator, is a trustworthy Tabi'i (successor), and not the weak Tamam.

432

ایک روایت میں یول ہے (آپ نے فرمایا) کہ تم میرے پاس کیون زرد رنگ

کے دانت لے آئے ہوتم سب مسواک کیا کرو، اگر مجھے اپنی امت پر تکلیف کا انہیشہ نہوتا تو ہر نماز کے

وقت مسواک کرنا کا حکم دیتا، یا آپ نے یول فرمایا کہ ہر وضو کے وقت مسواک کرنا کا حکم دیتا۔

(امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو بطور ارسال روایت کیا ہے) اور ابن حبان نے کہا ہے کہ

تمام رضی اللہ عنہ جواس حدیث کے راوی ہیں وہ ایک ثقت ابی بین اور یوہ تمام نہیں جو ضعیف ہیں۔

حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تشریف لاٹے تو پہلا کام مسواک کرنا ہوتا

From Ja'far bin Tamam bin Abbas bin Abdul Muttalib, from his father Allah said: Some people from the companions of the Prophet (ﷺ) entered upon him, and he said: "Why do I see you all bald-headed? Use the siwak, for if it were not for the difficulty it would cause my Ummah, I would have commanded them to use the siwak at every prayer." And in another narration: "Why do I see you entering upon me bald-headed? Use the siwak, for if it were not for the difficulty it would cause my Ummah, I would have commanded them to use the siwak at every prayer or at every wudu." [Narrated by Imam Abu Hanifa as a disconnected narration]

Ibn Hibban said: Tamam, the narrator, is a trustworthy Tabi'i (successor), and not the weak Tamam.

433

شرتح بن بانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے

عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکان میں تشریف لاٹے تو ابتدا کس چیز سے

فرماتے؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ مسواک سے۔ (اس کی روایت مسلم نے لکھے ہیں۔)

تجد کے وقت کچھ مسواک استعمال کی جاتی تھی

From Shurayh bin Hani: I asked Aisha: "With what did the Messenger of Allah (ﷺ) start when he entered his house?" She replied: "With the siwak." [Narrated by Muslim]

434

حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم

رات میں تجد کا ارادہ فرماتے تو اپنا منہ مسواک سے ملتا۔ (بخاری اور مسلم نے بالاتفاق اس کی

روایت کی ہے۔)

دس چیزیں تمام انپیاءٰ علیہم السلام کی سنت ہیں

From Hudhayfa: The Prophet (ﷺ) used to clean his mouth with the siwak when he stood for the night prayer (Tahajjud). This is agreed upon (Muttafaq alayh).

435

عَاشِر رضی اللہ تعالیٰ عَنْہَا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دس چیزیں کل انپیاءٰ علیہم السلام کی سنت ہیں، اس لے پیش فطرت ہیں:(1) موچھ کٹانا(2) ذاکی بڑانا (ای مطہی تک)(3) مسواک کرنا(4) ناک کو پاکی سے صاف کرنا (پی غسل میں فرض ہے اور وضو میں سنت ہے)(5) ناخن تراشا(6) انگیون کے جوڑوں کا دھونا(7) بغل کے بال لینا(8) زیرناف کے بال مونڈنا (اور پاخانے کی جگہ کے گرد کے بال کا مونڈنا بھی مستحب ہے)،(9) پانی سے طہارت کرنا، راوی کا بیان ہے کہ میں دسوں چیز جو لگیا غالبًا وہ کلی کرنا ہے۔(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)

From Aisha, she said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Ten things are part of the fitrah (natural disposition): trimming the mustache, letting the beard grow, using the siwak, inhaling water into the nose, trimming the nails, washing the joints of the fingers, plucking the armpits, shaving the pubic hair, and performing istinja (cleaning with water after relieving oneself). The narrator said: I forgot the tenth, unless it is rinsing the mouth." [Narrated by Muslim, and in another narration: "Circumcision" replaces letting the beard grow]

Abu Dawood narrated something similar from Ammar bin Yasir.

436

اور ایک دوسری روایت میں دارصی کی جگہ ختنے کر نے کا ذکر ہے۔ اور ابوداود نے یہی عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کی روایت کی ہے۔ مسواک مندک پاکی اور پروردگاری خوششنودی کا سبب ہے

And in another narration, instead of 'Darasi,' 'circumcision' is mentioned. And Abu Dawud has narrated it on the authority of Jahi, Ammar ibn Yasir (RA).

Using a miswak, cleanliness, and circumcision are the causes of the Lord's pleasure.

437

عَاشِر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسواک کرنا مندک پاکی کا سبب ہے اور پروردگاری خوششنودی کا ذریعہ ہے۔(اس کی روایت امام شافعی، امام احمد، دارمی اور نسائی نے کی ہے۔) اور اس حدیث کو امام بخاری نے اپنی کتاب تج بخاری میں بغیر اسناد کے ذکر کیا ہے۔

چار چیزیں انپیاءٰ علیہم السلام کی سنت ہیں

From Aisha, she said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "The siwak is a purifier for the mouth and a means of pleasing the Lord." [Narrated by Al-Shafi'i, Ahmad, Al-Darimi, and Al-Nasa'I while Al-Bukhari narrated it in his Sahih without a chain of narration]

438

اَبُو ایوب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چار چیزیں انپیاءٰ علیہم السلام کی سنت ہیں:(1) حیا کرنا، اور ایک روایت میں حیا کے بدلے

ختند کرنا ہے اور (2) عطر کرنا اور (3) مسواک کرنا اور (4) نکاح کرنا۔ (اس کی روایت ترتیبی نہیں

ہے۔)

حضرت صلی اللہ علیہ وسلم دونوں یارات میں سوکر اٹھتے تو وضو کے پہلے ضرور مسواک فرماتے

From Abu Ayyub, he said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Four things are part of the Sunnah of the Muslims: modesty (and it is narrated that circumcision is also part of it), using perfume, using the siwak, and marriage." [Narrated by Tirmidhi]

439

عائشہ رضی اللہ تعالیٰ علیہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی

اللہ علیہ وسلم دونوں یارات میں سوکر اٹھتے تو ضرور وضو کے پہلے مسواک کرتے۔ (اس کی روايت

امام احمد اور ابوداود نے کی ہے۔)

From Aisha, she said: The Prophet (ﷺ) would not sleep at night or during the day without using the siwak before performing wudu. [Narrated by Ahmad and Abu Dawood]

440

عائشہ رضی اللہ تعالیٰ علیہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

مسواک کرنے کے بعد مجھے مسواک عطا کرتے فرماتے تاکہ میں اس کو دھولون تو اس کو دھولنے کے پہلے

میں آپ کی مستعمل مسواک سے خود (بغرض تبرک) مسواک کرتی، پھراس کو دھولتی (اس کے بعد

جب آپ کو ضرورت ہوتی پھر آپ کودے دیتے)۔ (اس کی روایت ابوداود نے کی ہے۔)

دوسرے کی مسواک کواس کی اجازت سے استعمال کرنا کرنا مکروہ نہیں ہے

ف: امام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ علیہا کا حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی استعمال کی ہوئی

مسواک کواس کے دھولنے کے پہلے اپنے منہ میں پھیر لینا، اس سے یہ مسئلہ نکلتا ہے کہ غیر کی مسواک کو

اس کی اجازت سے استعمال کر لینا کر وہ نہیں ہے۔ (ازمرقات)

مسواک کے دینے میں پہلے بڑے سے کرنا چاہیے

From Aisha, she said: The Prophet (ﷺ) would use the siwak and then give it to me to wash it. I would start with it and use it, then wash it and give it back to him. [Narrated by Abu Dawood]

441

ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ علیہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ

علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے خواب میں خود کو مسواک کرتے دیکھا، اتنے میں دو شخص میرے پاس

آئے ان میں سے ایک دوسرے سے برآتحا، میں نے مسواک پھوٹ کودیا تو مجھے سے کہا گیا برطے کو

دتبہے، تو میں نے مسواک برطے کودے دی۔ (بخاری اور مسلم نے بالاتفاق اس کی روایت کی ہے۔)

ف: اس حدیث میں جو اقدام ذکور ہے اس سے مسواک کی بزرگی معلوم ہوتی ہے کہ مسواک

ایسی چیز ہے جس کے لئے برے کوئی نہ کہا کہم ہوا، اس میں اس بات کا بھی اشارہ ہے کہ کہنا اور خوشبو

و غیرہ کے دینے میں پہلے برے میں سے کرے۔ 12

جبرائیل علیہ السلام کا مسواک کے لئے تاکید کرنا

From Ibn Umar, may Allah be pleased with him: The Prophet (ﷺ) said: "I saw in a dream that I was using the siwak, and two men came to me, one of them being older than the other. I gave the siwak to the younger one, and it was said to me: 'Give it to the older one.' So I gave it to the older one." It is [Agreed upon]

442

ابوبامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے

فرما یا: جبرائیل علیہ السلام جب آئے تو مجھے مسواک کرنا کا حکم دیتا، اس سے مجھے اندیشہ ہوا کہ

کہرت مسواک تو مندہچل جائے۔ (اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔)

From Abu Umamah, may Allah be pleased with him: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Jibril (Gabriel) never came to me except that he instructed me to use the siwak. I feared that I might be negligent in doing it." [Narrated by Ahmad]

443

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے

فرما یا: میں نے تم کو مسواک کرنا کے بارے میں کثرت سے تاکید کی ہے۔ (اس کی روایت بخاری

نے کی ہے۔)

From Anas, may Allah be pleased with him: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "I have emphasized the use of the siwak to you." [Narrated by Bukhari]

444

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی

اللہ علیہ وسلم مسواک کرنا کے پاس دوآمی موجود تھے، جن میں ایک دوسرا سے بڑا

تھا، پس آپ پر مسواک کی فضیلت میں وہی نازل ہوتی کہ برے سے ثروت کچھ۔ (یعنی مسواک ان

میں سے برے کودتے ہیں)۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)

مسواک کے ساتھ ایک نماز فضیلت میں ستر درج زائد ہے اس نماز پر جو بھی مسواک کے ہو

From Aisha, may Allah be pleased with her: The Prophet (ﷺ) said: "The prayer performed with the use of siwak is superior to the prayer without it by seventy times." [Narrated by Al-Bayhaqi in Shua'ib al-Iman]

445

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی

اللہ علیہ وسلم نے فرما یا: اس نماز کی فضیلت جس کے لئے مسواک استعمال کی جائے پنبت اس نماز

کے جس کے لئے مسواک کا استعمال نہ ہوا ہو ستر درج زائد ہے۔ (اس کی روایت تیمی نے شعب

الایمان میں کی ہے۔)

زید بن خالد رضی اللہ عنہ مسواک کو کان میں کاتب کے قلم کی طرح رکھا کرتے تھے

From Aisha, may Allah be pleased with her: The Prophet (ﷺ) said: "The prayer performed with the use of siwak is superior to the prayer without it by seventy times." [Narrated by Al-Bayhaqi in Shua'ib al-Iman]

446

ابو سلمہ رضی اللہ عنہ نے زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے

کہا کہ میں نے آخِذِرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بیفرماتے ہوئے سنا کہ اگر مجھے اپنی امت کی تکلیف کا

خوف نہ ہوتا تو بر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دے دیتا اور نماز عشاء کو تہاجی رات کے تاخیر

کرنے کا حکم دیتا۔ راوی کا بیان ہے کہ جب زید بن خالد رضی اللہ عنہ مسجد میں نماز کے لے آیا

کرتے تو ان کے کان میں کاتب کے کان کی طرح بجا کے قلم کے مسواک رہتی اور نماز کے لے

کھٹے ہوئے۔ میں مسواک کر لیتے چھر مسواک کواس کی جگہ کان پر کہ دیتے۔ (اس کی روایت ترمذی

اور ابو داود نے کی ہے) لیکن ابو داود نے "وَلَا خَرْثُ صَلاۃَ العِشاءِ الی ثُلُثِ اللَّیلِ" کا ذکر

نہیں کیا ہے اور ترمذی نے کہا کہ یہ حدیث حسن ہے۔

From Abu Salama, from Zaid bin Khalid Al-Juhani, may Allah be pleased with him: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: "If it were not for the difficulty it would cause my Ummah, I would have commanded them to use the siwak for every prayer and I would have delayed the Isha prayer until one-third of the night." Zaid bin Khalid used to attend prayer at the mosque with his siwak placed behind his ear, at the place where a pen is placed behind a scribe's ear. He would not stand for prayer without using the siwak, and then he would return it to its place. [Narrated by Tirmidhi and Abu Dawood, but Tirmidhi did not mention: "I would have delayed the Isha prayer until one-third of the night." Tirmidhi said: "This is a good, authentic hadith."