(یہ کتاب علم کے بیان میں ہے)
وقول اللہ عز وجل: فَلَوْلا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَائِفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَ لِيُنذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ۔
اور ارشاد باری تعالیٰ ہے (سورۃ توبہ، پ:11، ع:15، آیت نمبر:122 میں) کہ ایسا کیونہے موسیٰ ان کی ہرا کی بڑی جماعت میں ایک ایک چھوٹی جماعت (جہاد) میں جائی رہے تا کہ یہ باقیمانده دین کی بھی بوجھ حاصل کرتے رہیں، اس لئے کہ یہ لوگ اپنی اس قوم کو جب کہ وہ ان کے پاسوالپس آویں، ظراویں، اس غرض سے کہ وہ (ان سے دین کی باتیں سن کر برے کامول سے) پرتیزکریں۔
This book is about the exposition of knowledge.
And Allah, the Exalted and Glorious, says: 'Then why should not there come forward from every group of them a party to gain understanding in religion, and to warn their people when they return to them, so that they may beware.'
And the guidance is from Allah Most High (Surah Tawbah, Vol. 11, Pg. 15, Verse Number: 122) that why should it not be so that among Moses' (AS) people, a small group goes out from a larger group to engage in Jihad, so that they may continue to understand the religion? This is so that when these people return to their community, they can advise them and help them avoid evil deeds by listening to religious teachings.
ومن يوت الحكمه فقد اوتي خيرا كثيرا
اور ارشاد باری تعالیٰ ہے (سورۃ بقرہ، پ:3، ع:37، آیت نمبر:269 میں) اور جس کو حکمت (علم دانائی) دی گئی تو ان کو بہتبرکہ ہیرو دیا گیا۔
And the guidance is from Allah Most High (Surah Al-Baqarah, Vol. 3, Pg. 37, Verse No. 269) and to whom wisdom (knowledge and understanding) has been given, great benefit has been bestowed upon them.
قل هل يستوي الذين يعلمون والذين لا يعلمون
اور ارشاد باری تعالیٰ ہے: (سورۃ زمر، پ:23، ع:1، آیت نمبر:9، میں) کیا علم والے اور بے علم دونوں برابر ہوسکتےہیں۔
And the guidance is from Allah Most High: (Surah Az-Zumar, Vol. 23, Part 1, Verse number: 9) Can those who have knowledge and those who do not have knowledge be equal?
يرفع الله الذين امنوا منكم والذين اوتوا العلم درجات
اور ارشاد باری تعالیٰ ہے (سورۃ مجادلہ، پ:28، ع:2، آیت نمبر:11 میں) اللہ ان کے درجہ بلند فرماتے ہوتے میں سے ایمان لائے اور جن کو علم دیا گیا۔
And exalted is the rank of those whom Allah has guided to faith and bestowed with knowledge (Surah Al-Mujadalah, Vol. 28, Part 2, Verse Number: 11).
رب زدني علما
اور ارشاد باری تعالیٰ ہے (سورۃ طا، پ:16، ع:6، آیتنمبر:114، میں) اے میرے رب میرے علم میں زیادتی فرما۔
وعظ و تبلیغ کی اہمیت اور غلط طریقے کی وعید
And the guidance is from Allah Most High (Surah Ta Ha, Vol. 16, Part 6, Verse Number: 114, O my Lord, increase me in knowledge.)
The Importance of Preaching and Warning Against Incorrect Methods
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری جانب سے ایک آیت جس کی بھوت پہچاڑاور بنی اسرائیل کے واقعات بیان کر سکتا ہو، اور اس میں کوئی حرج نہیں اور جس نے میری جانب عمدہ جھوٹ کی نسبت کی (لیتن جو بات میں نہیں کی اس کو میری کہ کرپیان کرے) تو وہ اپنا مقام جنت میں بنالے۔ (اس کی راویت بخاری نے کی ہے)-
جھوٹا کون ہے؟
Abdullah ibn Amr (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Convey from me, even if it is a single verse, and narrate from the Children of Israel without any harm. But whoever deliberately lies about me, let him take his seat in the Fire." [Narrated by Bukhari]
سمرۃ بن جندب اور مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے میری جانب نسبت بیان کرتے ہوئے کوئی حدیث بیان کی، اور وہ گمان رکھتا ہو کہ وہ جھوٹ ہے تو وہ جھوٹا نہیں کا ایک جھوٹا ہے۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے)-
و یہ کیا جھوٹ کی فضیلت
Samura ibn Jundub and Al-Mughira ibn Shu’ba (may Allah be pleased with them) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever narrates a hadith from me thinking it might be false, then he is one of the liars." [Narrated by Muslim]
معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بحالی کرنا چاہتا ہے تو اس کو دین کی سماعتیات میں تقسیم کرنے والا ہو لاوراللہ تعالیٰ عطا فرما تے ہیں۔ (حدیث تو میں بیان کرتا ہوں، اور اس پر عمل کی تو فیق اور بھی جس قدر چاہتے ہیں اللہ تعالیٰ دیتے ہیں)۔ (بخاری اورمسلم نے بالاتفاق اس کی روایت کی ہے)- لوگ اخلاق کے لحاظ سے سو ناورچاندی کے معدن کی طرح ہیں
Mu'awiya (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "When Allah intends good for someone, He grants him understanding of the religion. I am merely a distributor, but Allah is the One who grants." [Agreed upon]
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: لوگ معدن (یعنی کان) میں (لمین صفات واخلاق کے اعتبار سے کی ویسی کا درجہ رکھتے ہیں)
جب سونے اور چاندی کے کان (معادن میں) جاپیت میں جونیک تھوہ اسلام میں بھی نیک میں
جب کروہ دین کی کچھ پیدا کریں۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے)-
وہ دو شخص کو نہیں جن پر شک کیا جا سکتا ہے؟
People are like mines (i.e., in terms of their qualities and characteristics). Just as there are mines of gold and silver, so too are there mines of good in Islam. And who are the two persons about whom there can be no doubt?
ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ مرودی کے انہول نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمايار شخصوں پر شک کیا جاسکتا ہے۔ ایک وہ شخص جس کو اللہ نے مال عطا کیا اور اس نے مال
کو حق میں (بموجب حکم شرع) خرچ کیا، اور دوسرا وہ شخص جس کو اللہ نے علم عطا فرمايا اور وہ علم کے
موافقت فیصلہ کرتا ہے اور اس کی تعالیم بھی دیتا ہے۔ (بخاری اور مسلم نے بالاتفاق اس کی روایت کی
ہے)-
وہ تین اعمال جن کے اجر و ثواب کا سلسلہ موت کے بعد بھی جاری رہتا ہے
Ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Envy is not justified except in two cases: a man whom Allah has given wealth and he spends it in the way of truth, and a man whom Allah has given wisdom and he judges and teaches by it." [Agreed upon]
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کے انہول نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمايا: جب انسان مر جاتا ہے تو تین اعمال کے ثواب کے سوا اس کے جملہ اعمال کا ثواب ختم ہوجاتا
ہے۔ (1) صدقہ جاریہ (جس کوئی زمین وقف کر دیا اکنوال یا قولي بناگیا) (2) علم جس سے فائدہ
حاصل کیا جاری ہے (جس کوئی کتاب تصنیف کی یا علم پڑھایا) (3) نیک اولاد جواس کے لیے دعا کرتی
رہے (یعنی کام ایسے ہیں جن کا ثواب مر نے کے بعد بھی انسان کو ملتا رہتا ہے)۔ (اس کی روایت
مسلم نے کی ہے)-
مومن کی زندگی کے فتنے کے اعمال سے بھرپور رہتی چلا ہے
Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "When a person dies, his deeds come to an end except for three: ongoing charity, beneficial knowledge, or a righteous child who prays for him." [Narrated by Muslim]
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کے انہول نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: (1) جس نے کسی مومن کی کسی تکلیف کو دینا میں دور کر دیا تو اللہ تعالیٰ اس سے قیامت کی سختیوں میں سے کسی سختی کو دور کر دے گا، اور (2) جس نے کسی گھگ حلال پر آسانی کر دی تو اللہ تعالیٰ اس کی دینی اور دنیوی تکلیفوں کو دور کر دے گا اور (3) جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوٹی کی تو اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کی عیب پوٹی کرے گا (4) اللہ اپنے بندے کی مد فرما تارہتاہے جب تک کروہا پچ بجائی کی مد کرتارہتاہے۔ علم دین کی طلب میں محنت کرنے کا ثرہ (5) اور جو شخص کوئی راستے علم (دین) کی طلب میں لٹکرتا ہے تو طلب علم کی جزاء میں اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان بنادیتاہے۔ قرآن کی تلاوت اور اس کا درس اطمینان اور رحمت حق کے نزول کا سبب ہیں اور جو قوم خدا کے غروب میں سے کسی غر میں جمع ہوکر اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتی ہے اور باہم اس کا درس دیتی ہیں تو ان پر اطمینان اور اطمینان کا نزول ہوتا ہے اور رحمت ان کو ظاہر کیتی ہے اور فرشتے ان کو گھیر لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ (فرشتون) میں ان کا ذکر فرماتاہے جواس کی بارگاہ میں حاضر رہتے ہیں۔ قرب خداوندی عمل سے حاصل ہوتاہے نک نسبت اور جس کسی کا عمل اس کو پیچھے ڈال دے گا تو اس کا نسب اس کو تیزی سے آگے نہیں برہا لے گا (کیونکہ) اللہ تعالیٰ اقرب اعمال صالح کی وجہ سے حاصل ہوتاہے نک نسبت (اس کی روایت مسلم نے کی ہے)۔
شہادت، تعلیم دین وقرآن اورسخاوت اگرپیسارے اعمال اخلاص کے بغیر شہرت
اورنا موری کے لے کے جا سیں گے تو آخرت میں دوزخ کا گرہا، نصیب ہوگا
Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
"Whoever relieves a believer of a worldly distress, Allah will relieve him of a distress on the Day of Resurrection. Whoever makes things easy for one in difficulty, Allah will make things easy for him in this world and the Hereafter. Whoever conceals (the faults of) a Muslim, Allah will conceal his faults in this world and the Hereafter. Allah is helping the servant as long as the servant is helping his brother. Whoever follows a path to seek knowledge, Allah will make the path to Paradise easy for him. No group gathers in one of the houses of Allah, reciting the Book of Allah and studying it together, except that tranquility descends upon them, mercy envelops them, angels surround them, and Allah mentions them to those who are with Him. And whoever is slowed down by his deeds will not be hastened forward by his lineage." [Narrated by Muslim]
Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
*"The first of the people against whom judgment will be pronounced on the Day of Resurrection will be a man who died as a martyr. He will be brought forward, and Allah will make known to him His favors, which he will recognize. Allah will ask, 'What did you do with them?' He will reply, 'I fought for Your cause until I was martyred.' Allah will say, 'You have lied. You fought so that it might be said: He is courageous. And it was said.' Then he will be ordered to be dragged on his face until he is thrown into the Fire.
Another will be a man who acquired knowledge, taught it, and recited the Qur’an. He will be brought forward, and Allah will make known to him His favors, which he will recognize. Allah will ask, 'What did you do with them?' He will reply, 'I acquired knowledge, taught it, and recited the Qur’an for Your sake.' Allah will say, 'You have lied. You acquired knowledge so that it might be said: He is learned, and you recited the Qur’an so that it might be said: He is a reciter. And it was said.' Then he will be ordered to be dragged on his face until he is thrown into the Fire.
Another will be a man whom Allah made wealthy and to whom He gave all kinds of wealth. He will be brought forward, and Allah will make known to him His favors, which he will recognize. Allah will ask, 'What did you do with them?' He will reply, 'I did not leave any way You like wealth to be spent except that I spent in it for Your sake.' Allah will say, 'You have lied. You did so that it might be said: He is generous. And it was said.' Then he will be ordered to be dragged on his face until he is thrown into the Fire." [Narrated by Muslim].
_ ابوبهریرضی اللہ تعالیٰ عنہ روايتہ انہول نے کہا کر رسول اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: (1) پہلا شخص جس کا قیامت میں فیصلہ ہوگا وہ شہید ہوگا، اس کو دربارا لی میں حاضر کیا جائے گا
اوراس کوان نغمتوں کی یاد لا کی جائے گی جواس پر کی گئی تحسین تو وہ ان کا اقرار کرے گا، پس کہا جائے گا
کرتوبے ان احسانات کے مقابلے میں کیا عمل کیا، کہ گا: میں نے تیرے لئے جہاد کیا ہے کر میں شہید
ہوگیا، اللہ تعالیٰ فرما گا: تو نے ججوٹ کہا ہے بلکہ تو نے توجہا داس لئے کیا تھا کہ تجہ بہادر کہا جائے،
چنانچہ تجھ کو بہادر کہا گیا، پھراس کے متعلق حکم ہوگا تم اس کو لے جا تو اس کو چھڑے کے بل دوزخ میں
ڈال دیا جائے گا، اور (2) دوسرا وہ شخص جس نے علم سیکھا اور لگون کو سکھا یا اورقرآن پڑھا وہ پیش کیا
جا گے کا اور اللہ تعالیٰ اے ان احسانات کو بتلا گا جواس پر کی گئی ہے، پس وہ ان کا اقرار کرے
گا، اللہ تعالیٰ فرما گا: ان احسانات کے مقابلے میں تو نے کیا عمل کیا؟ جواب دے گا کر میں نے علم
سیکھا اور دوسروں کو سکھا یا، اور تیری خوشنوودی کے لئے قرآن پڑھا، اللہ تعالیٰ فرما گا کر تو نے ججوٹ
کہا ہے بلکہ تو نے علم اس لئے سیکھا تھا کہ لوگ تجھے عالم کہیں اور قرآن اس لئے پڑھا کہ لوگ تجھے
قاری کہیں، چنانچہ تجھے (عالم و قاری) کہا گیا، پھراس کے متعلق حکم ہوگا تو وہ چھڑے کے بل غصیتا
جا گے کا اور دوزخ میں ججوٹ کے دیا جائے گا۔ اور (3) تیسرا وہ شخص جس کواللہ نے تو نگر بنایا اور
برتر حکی دولت سے سرفراز فرمایا تھا حاضر کیا جائے گا، اللہ تعالیٰ ان احسانات و عطا ئات کو یاد لائے
گا جواس پر کیا ہے، وہ ان کا اقرار کرے گا تو باری تعالی سوال فرما گا کر اس دولت سے کیا کام
انجام دیا؟ جواب دے گا: میں نے مال خرچ کیا پراس راست میں جس میں مال کا خرچ کیا جانا تجہے پسند
تھا، فرما گا: تو نے ججوٹ کہا، بلکہ تو نے مال و دولت اس لئے خرچ کیا تھا کہ تجھ کو تی کہا جائے،
چنانچہ بھٹھی کہا گیا، پھراس کے متعلق حکم ہوگا، پس وہ پچھر سے کے بل طہسیتا جا کر جہنم میں ذال دیا
جا یے گا۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے)-
علاء کا اطہجانا، علم کا اطہجانا ہے، جابل سردار خود گمراہ ہوتے ہیں
اور دوسرول کو بھی گمراہ کرتے ہیں
(1) The first person whose case will be decided on the Day of Resurrection will be a martyr. He will be brought forward, and it will be reminded to him of the praises that were showered upon him. He will acknowledge them, and it will be asked, 'What did you do in return for these favors?' He will say, 'I fought for Your sake and was martyred.' Allah will say, 'You have lied; rather, you did it so that you would be called brave, and indeed, you were called brave.' Then the command will be given, 'Take him and cast him into the Fire with a hook of iron.' And (2) the second person will be one who acquired knowledge and taught it to others and recited the Qur'an. He will be brought forward, and Allah will remind him of the favors bestowed upon him. He will acknowledge them, and Allah will ask, 'What did you do in return for these favors?' He will say, 'I acquired knowledge and taught it to others, and I recited the Qur'an for Your pleasure.' Allah will say, 'You have lied; rather, you acquired knowledge so that people would call you learned, and you recited the Qur'an so that people would call you a reciter, and indeed, you were called both.' Then the command will be given, 'Take him and cast him into the Fire with a hook of iron.' And (3) the third person will be one whom Allah made a ruler and gave him abundant wealth. He will be brought forward, and Allah will remind him of the favors bestowed upon him. He will acknowledge them, and Allah will ask, 'What did you do with this wealth?' He will say, 'I spent it in the way You approved of.' Allah will say, 'You have lied; rather, you spent your wealth so that you would be called generous, and indeed, you were called generous.' Then the command will be given, 'Take him and cast him into the Fire with a hook of iron.' (This is narrated by Muslim.)
_ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ علم کواس طرح نہیں اٹھاتے گا کہ لوگوں کے دولت سے علم چھین لے،
بلکہ علم کے اٹھائیں کی تصویرت ہوگی کہ علماء اٹھا لے گا تین گے، توجب کوئی عالم باقی نہ رہے گا تو
لوگ جائل سردارول کو متنہب کریں گے اور مسائل دریافت کرتے جا تین گے، تو وہ بے علم سے فتوی
دین گے، نیچا خود گمراہ ہوں گے اور دوسرول کو گمراہ کریں گے۔ (بخاری اور مسلم نے اس کی متفرق طور
پر روایت کی ہے)-
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نہ پچشنبہ کو عظفر ما یا کرتے تھے
‘Abdullah ibn ‘Amr (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed, Allah does not take away knowledge by snatching it away from the people, but He takes away knowledge by taking away the scholars, such that when no scholar remains, the people will take ignorant leaders. They will be asked, and they will issue verdicts without knowledge. They will go astray and lead others astray." [Agreed upon by Al-Bukhari and Muslim]
_ شقیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ
عنہ نہ پچشنبہ کو عظ کیا کرتے تھے، ایک شخص نے کہا: ایو عبد الرحمن! میری آرزو ہے کہ آپ تم کو ہر دن و عظ
فرما کریں، آپ نے فرمایا کہ تم ہر دن اس لے و عظ کہنا پسند نہیں کرتا کہ تمہیں روزانہ و عظ سے تگ
کرول، اور تم و عظ کے لے تمہارا ایمان خیال رکتا ہوں۔ جس طرح آنخ درت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے
آکتا نے کہ اند پشتے ہمارا خیال فرما تے تھے۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے بالاتفاق کی ہے)
کسی بات کا اہتمام مقصود ہوتا تو اس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم تین بارا رشا دفرما تے
Shaqiq narrated: ‘Abdullah ibn Mas‘ud (may Allah be pleased with him) used to give a reminder to the people every Thursday. A man said to him, "O Abu ‘Abdur-Rahman, I wish you would remind us every day." He replied, "The only thing that prevents me from doing so is that I dislike boring you. I take care to give you reminders at intervals, as the Prophet (ﷺ) used to do with us, out of fear of making us bored." [Agreed upon by Al-Bukhari and Muslim]
_ انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ آنخ درت صلی اللہ علیہ
وآ لہ وسلم جب کوئی بات (اہتمام سے) فرمانا چاہے تو اس کو تین مرتبہ فرماتے تاکہ اچھی طرح سمیں آ جائے اور جب کسی قوم کے پاس آئے تو تین وفع سلام فرماتے (پہلا سلام اجازت کا دوسرا سلام ملاقات کا تیسر اسلام رخصتی کا)۔ (اس کی روایت بخاری نے کی ہے)۔ خیر کی طرف رہبری کرنے والے کو اس خیر کے کرنے والے کے برابر ثواب ملگا
Anas (may Allah be pleased with him) narrated: The Prophet (ﷺ), whenever he spoke a word, would repeat it three times so that it could be understood. And when he came to a group and greeted them, he would greet them three times. [Narrated by Al-Bukhari]
ابومسعود انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک شخص آخضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوااور عرض کیا کہ میری سواری چل نہیں سکتی ہے، اللہذا میرے لے سواری کا انتظام فرمادیں، آخضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما کہ میرے پاس نہیں ہے، ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ایک شخص کو بتادوں جوان کے لے سواری کا انتظام کرو تو آخضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا: جس نے محلا تی کی جانب رہبری کی تو اس کو اتنا ی ثواب ملگا جتنا ثواب اس خیر کے کرنے والے کو ملگا۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے)۔ قبیلہ مضر کے چند شکست حال اشخاص کی دربار نبوت میں حاضری اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کے لے خیرات کا جمع کروا نا
Abu Mas‘ud Al-Ansari (may Allah be pleased with him) narrated: A man came to the Prophet (ﷺ) and said, "I am exhausted and unable to continue my journey; please help me with a mount." The Prophet (ﷺ) replied, "I do not have anything to carry you on." Then another man said, "O Messenger of Allah, I will guide him to someone who can help." The Prophet (ﷺ) said, "Whoever guides to good will have a reward similar to the doer of it." [Narrated by Muslim]
وَخَلَقَكُمْ مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ“(تا آخر آيت)” إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا (سورۃ نساء،
پ:4،ع:1،آیت نمبر:1) تلاوت فرمائی (اے لوگو! اس رب سے دور جس نے تم سب کو نفس
واحدہ (یعنی آدم علیہ السلام) سے پیدا کیا (یہاں تک کہ آیت کا آخری حصر) کی تلاوت فرمائی (اللہ
تمہاری نگرانی کرے نے والا ہے)-
اُور (سورۃ حشر پ:28،ع:3،آیت نمبر:18) يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ
وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ " مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ تلاوت فرمائی (اے ایمان والو! ذر تے رہو اللہ سے اور ہر شخص
دکھے لے کر کل (قیامت) میں اس نے اپنے لئے کیا ذخیرہ کیجیا ہے) اور ہر شخص کو چاہے کہ اپنے
dینار، اپنے دراہم، اپنے پارچہ (کپڑے) اور اپنے گیہون اور گھجور کے باغ میں سے ذخیرات کرے،
یہاں تک کہ فرمائی: کھجور کا ایک طرک ایک کیول نہ ہو، جو پرضی اللہ تعالیٰ علیٰ نے فرمائی کر ایک انصاری نے
dکی تحلیل ورہمیاد ینا رکی اطلا لئی جس کو اطلا نا مشکل ہور با تحقیق بلکہ اس کا اتحا س کے اتحا نے سے عاجز
dهوگیا اتحا س کے بعد لوگ فوراً کیے بعد دیگرے ذخیرات لا نا ثرو ع کے، یہاں تک کہ میں (یعنی جبری
dرضی اللہ علیہ) نے کہا نے اور کپڑے کے دو طہیعر دیکھ اور آخ ضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک
dنوشی سے سونے کی طرح چمکتا نظر آئے گا۔
جرر ضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے ابتدائی حصر میں آخضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تک آپ کی خدمت میں چند اشخاص برہمن بدن، دہاری دار بال کی لگی باندھے ہیں، عبا پینے ہوئے گل میں تلواریی لٹکے ہے حاضر ہوئے، اکثر بلد کل قبیلہ مضر کے تھے، ان کی حالات زار کو کیہ کر آخضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک غم کے آثار سے متغیر ہوگیا، فورا آپ مکان تشریف لے گئے پھر باہر آئے اور بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے ازال دی اورا قامت کی پھر آپ نے نماز پڑھائی اور خطبہ دیا: ﴿یَاَیْهَا النَّاسُ اتَّقُوَا رَبَّکُمُ اللَّذِی﴾
جو س نے اسلام میں اچھا طریقدارانگ کیا تو اس کواس طریقہ عمل پر اہو نے والے
dکا کچھ ثواب ملے گا اور جس نے کوئی بر اطریقدارانگ کیا تو اس کواس طریقہ پر
dعمل کرنے والوں کا کچھ عذاب ملے گا
dاور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس نے اسلام میں اچھا طریقدارانگ کیا تو اس کواس کا
dاجر اوران لوگوں کا کچھ اجر ملے گا جو آئندہ اس طریقہ عمل پر اہو نے گے اوران کے اجر میں کوئی کمی نہ
ہوگی اور جس نے اسلام میں کوئی براطریقدرانگ کیا تو اس پراس کے روانگ دینے کا عذاب ہوگا اور ان لوگوں کا جھیگناہ ہوگا جو آنکنده اس طریقہ عمل کرنے گے اوراس سے عمل کرنے والوں کے گناہوں میں کون کی نہ ہوگی - (اس کی روایت مسلم نے کی ہے)- جب کہ می خون ناحق ہوتا ہے تو اس قاتل کا پورا گناہ قاتل کو لے کے موجودہوں کی
It is narrated from Jareer (may Allah be pleased with him) that: We were with the Messenger of Allah (ﷺ) in the early part of the day when a group of people arrived. They were in dire poverty, wearing torn woolen cloaks or garments, with their swords slung around their necks. Most of them, or rather all of them, were from the tribe of Mudhar. When the Messenger of Allah (ﷺ) saw their poor condition, his face changed (out of concern). He went inside, then came out, and commanded Bilal (may Allah be pleased with him) to give the call to prayer (Adhan). He gave the Adhan and then the Iqamah, and the Prophet (ﷺ) led the prayer.
Afterward, he addressed the people, saying: "O people, fear your Lord who created you from a single soul..." (Surah An-Nisa: 1) and he recited the entire verse. He then recited the verse from Surah Al-Hashr: "Fear Allah, and let every soul look to what it has sent forth for tomorrow..." (Surah Al-Hashr: 18).
The Prophet (ﷺ) then said: "Let a man give in charity from his gold, silver, clothing, a measure of barley, a measure of dates, or even a piece of a date."
Then a man from the Ansar came forward with a bundle that was so heavy it nearly overwhelmed him. After this, the people followed suit, giving in charity, until I saw two heaps of food and clothes. The face of the Messenger of Allah (ﷺ) lit up as though it was a piece of gold (out of joy).
The Prophet (ﷺ) then said: "Whoever initiates a good practice in Islam will have its reward and the reward of those who act upon it after him, without their rewards diminishing in the least. And whoever initiates a bad practice in Islam will bear its burden and the burden of those who act upon it after him, without their burdens diminishing in the least." [Narrated by Muslim]
ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خون ناحق اور لم کے طور پر جوہی جان لی جائے ہے تو اس کے خون کا ایک حصہ آدم علیہ السلام کے پیلے کے (یعنی قاتل) کو پہنچاہے اس لے کر اس نے سب سے پہلے قتل کا طریقہ نکالا ہے (جو کوئی کسی کو ظالمانہ قتل کرتا ہے تو جتنا گناہ قاتل پر لحاجاتا ہے اتنای گناہ قاتل پر جس کہما جاتا ہے، اس لے کر اس نے سب سے پہلے اپنے بھائی (بائیل) کو قتل کیا تھا، اور دوسروں قاتلون کے گناہ میں پڑھی نہیں ہوتی ) - (بخاری اور مسلم نے بالاتفاق اس کی روایت کی ہے)- ایک شخص کاصرف ایک حدیث کے لیے مدینہ منورہ سے دمشق تک سفر کرنا
It is narrated from Ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "A soul will not be killed unjustly, except that the first son of Adam will have a share of its blood, for he was the first to commit murder." [Agreed upon]
کثیر بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں مسجد دمشق میں ابو درداء رضی اللہ عنہ کے ساتھ مجیما ہوا تھا کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہا: اے ابو درداء (رضی اللہ عنہ)! میں تمہاری خدمت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ منورہ سے صرف ایک حدیث کے لیے آیا ہوں، جس کی مجھے اطلاع میں کر آپ اس حدیث کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں اور میں کسی اور کام کے لیے نہیں آیا ہوں -
علم دین کا طالب جنت کے ایک راستے پر چلا، فرشتہ اس کے لے پر پھاتے
ہیں اور تمام مخلوق اور مچھلیاں اس کے لے وعاے مغفرت مانگتے ہیں
ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا
کہ کہ جو کسی راستے پر علم (دین) کی طلب میں چلتا ہے تو اس کی وجہ سے خدا تعالیٰ اس کو جنت کے
راستوں میں سے ایک راستے پر چلا دے گا اور فرشتہ طالب علم کی خوشنوائی حاصل کر نے کے لے اپنے
بازو بچھادیے ہیں، اور عالم (دین) کے لے آسمان اور زمین کی پوری مخلوق مغفرت طلب کرتی ہے
اور مچھلی پانی میں اس کے لے مغفرت چاہتی ہے اور اس کے لے دعا کرتی ہے، اور عابد پر عالم کی
فضیلت ایسی ہے جیسے چودہویں رات کے چاند کی فضیلت تمام تاروں پر ہوتی ہے اور علماء انہیں علیہم
السلام کے وارث ہیں -
علماً انہیں علیہم السلام کے وارث ہیں
انہیں نے دین اور دنیا کا نزک نہیں چھوڑا؛ بلکہ انہوں نے علم کو نزک میں چھوڑا، پس جس نے علم کو
حاصل کیا سے برانصیہ پایا۔ (اس کی روایت امام احمد، البخاری اور ابن ماجہ اور دار قطنی نے کی ہے)
عابد پر عالم کی فضیلت
It is narrated from Kathir ibn Qais (may Allah be pleased with him) who said:
I was sitting with Abu Darda (may Allah be pleased with him) in the mosque of Damascus, when a man came to him and said: "O Abu Darda, I have come to you from the city of the Messenger of Allah (ﷺ) with a matter that I heard you narrating from the Messenger of Allah (ﷺ), and I did not come for any other need." Abu Darda (may Allah be pleased with him) replied: "I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'Whoever follows a path in search of knowledge, Allah will make his path to Paradise easier. And the angels lower their wings in satisfaction for the seeker of knowledge. And the scholar is sought forgiveness by all those in the heavens and on the earth, even the fish in the water. The superiority of the scholar over the worshipper is like the superiority of the full moon on the night of its fullest over all other stars. And indeed, the scholars are the inheritors of the Prophets. The Prophets did not leave behind dinars or dirhams, but they left knowledge. So whoever takes it, takes a great share.'"
[Narrated by Ahmad, Abu Dawood, Ibn Majah, and Al-Darimi]
انما يخشى الله من عباده العلموا
ابومامہ باعلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے روایت کہ انہوں نے کہا کہ آخضرت صلی
اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو آدمیوں کا ذکر کیا گیا، ایک عابد اور دوسرا عالم، آخضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
عابد پر عالم کی فضیلت ایسی ہے جیسے میری فضیلت تم میں سے سب سے معمولی شخص پر ہے -
معلم خیر کا مرتبہ
پھر آخضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اور اس کے فرشتہ اور آسمانوں اور زمین والے
حتی کہ چیوٹی اپنے بل میں اور پیہال تک کے مچھلی سب کے سب اس شخص کے لئے دعا کرتے ہیں جو لوگوں کو خیر (یعنی علم و دین) کی تعلیم دینے والے ہے (اس کی روایت ترجمہ نے کی ہے) اور داری کے محول سے مرسلہ روایت کی ہے (اور دوآ دمیون کا ذکر نہیں کیا بلکہ بیان کیا ہے کہ "فضل العالم علی العابد کفضلی علی ادناکم" (عابد پر عالم کی فضیلت ایک سے جسے میری فضیلت تتمہارے معموی شخص پر ہے)-
خشیت ایہ علم اور آیہ کا ثمرہ ہے
پہر آخضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے (سورہ فاطر، پ:22، ع:4، آیت نمبر:28 کی) اس آیت کی تلاوت فرمائی ﴿ انما يخشى الله من عباده العلموا ﴾ اللہ تعالیٰ کے بندرول میں علماء کی سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے دارت ہیں۔ پھراس کے بعد انہیں تک ما قی حدیث کو بیان فرمایا۔
آخضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کو طا لپین کے بارے میں وصیت فرمانا
It is narrated from Abu Umamah Al-Bahili (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (ﷺ) was informed about two men: one was a worshipper, and the other was a scholar. The Messenger of Allah (ﷺ) said: "The superiority of the scholar over the worshipper is like my superiority over the least of you." Then the Messenger of Allah (ﷺ) added: "Indeed, Allah, His angels, the inhabitants of the heavens and the earth, even the ant in its hole, and the fish in the sea, pray for the one who teaches people good." This was narrated by Tirmidhi.
It was also narrated by Al-Darimi from Makhul in an abbreviated form, where he did not mention the two men, and said: "The superiority of the scholar over the worshipper is like my superiority over the least of you," and then recited the following verse: "Indeed, those who fear Allah among His servants are the scholars..." (35:28), and continued the narration.
ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہول نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگ تہمارے تالع میں اور اطراف زمین سے لوگ تہمارے پاس آ کر میں گے کہ دین میں سمجھ حاصل کریں، جب وہ تہمارے پاس آ کر میں تو میں تم کو وصیت کرتا ہوں کہ تم ان کے ساتھ بحالی سے میش آؤ اور انہیں علم دین کی تعلیم دیا کرو۔ (اس کی روایت ترجمہ نے کی ہے)-
حکمت اور دانائی کی بات حکیم لیجنی مومن کا گم شدہ سرمایہ ہے
It is narrated from Abu Sa'id Al-Khudri (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "People are followers of you, and some men will come to you from the farthest parts of the earth to learn about religion. When they come to you, advise them to be treated well." [Narrated by Tirmidhi]
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہول نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ بات جو (سر اپا) حکمت (اور عقلمندی) ہو حکیم (یعنی مومن کی) گم شدہ چیز ہے، اس کے اس کو جہاں پا گو، ایسے سے زیادہ اس کا حقدار ہے (اس کی روایت ترجمہ اور ابن ماجہ نے کی ہے)-
ایک عالم شیطان پر بھرار عابد سے گرال ہے!
It is narrated from Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Wisdom is the lost property of the wise one. Wherever he finds it, he is the most entitled to it." [Narrated by Tirmidhi and Ibn Majah]
Tirmidhi commented: "This is a Gharib hadith, and the narrator Ibrahim bin Al-Fadl is weak in hadith."
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا: ایک عالم شیطان پر بھرار عابد سے زیادہ گرال ہے۔ (اس کی روایت تزندی اور
ابن مجہد نے کی ہے)-
علم دین کی طلب ہر مسلمان پر فرض ہے اور نا ابل کو علم سکھانا نہیں وعید
It is narrated from Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "A single scholar is more harmful to Satan than a thousand worshippers."
This was narrated by Tirmidhi and Ibn Majah.
اس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: علم دین کی طلب ہر مسلمان پر فرض ہے اور نا ابل کو علم سکھانا نہیں واعل کی مثل خنزیر کے گل میں
جوہر موتیوں اور سونے کاملا ذا لے وا لے کی ہے۔ (مثالا عوام کے آگے تصوّف و غیرہ کی بار کیاں بیان
کرنا، کیونکہ اس سے ان کے گمراہ ہوجانے کا اندیشہ ہے اور ایسا بھی علم ان کے لئے سرا سر ظلم
ہے) اس کی روایت ابن مجہد نے کی ہے-
اور ہیہی نے شعب الایمان میں صرف "طلب العلم فريضة على كل مسلم" تک
روایت کی ہے)-
خوش اخلاقي اور دین کی سمجھ منافق میں نہیں جمع ہوتی
It is narrated from Anas (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Seeking knowledge is obligatory upon every Muslim. And placing knowledge in the hands of those who are not qualified to receive it is like placing pearls, jewels, and gold in the hands of pigs." This was narrated by Ibn Majah. Al-Bayhaqi also narrated it in "Shu’ab al-Iman," stating: "The text of this hadith is well known, but its chain of narration is weak. It has been narrated from various sources, all of which are weak."
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا: دو خصلتیں منافق میں جمع نہیں ہوتیں: خوش اخلاقي اور دین کی سمجھ۔ (اس کی
روایت تزندی نے کی ہے)-
علم دین کے طالب کی فضیلت
It is narrated from Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Two qualities do not combine in a hypocrite: good appearance and understanding of the religion." [Narrated by Tirmidhi]
اس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمايا: جو شخص علم دین کی طلب میں نکلوہ واپس بھونے تک راہ خدا (یعنی جہاد) میں ہے۔ (اس کی راویت ترنزی اورداری نکی ہے۔)
It is narrated from Anas (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever goes out seeking knowledge, he is in the path of Allah until he returns."
[Narrated by Tirmidhi and Darimi]
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہول نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام علماء کو مجع فرما گے کا اور ارشاد فرما گا کہ میں تمہارے دولت میں حکمت محض اس لئے ذوالدیجہ کرتے میرا رادہ جعلائی کا تھا،تم سب جنت میں داخل ہوجاؤ،پس میں نے تم سب کو خش وباخواہتم سے پچھلی ہوا ہو۔(ہمارے امام ابوحنیفرحمۃ اللہ علیہ نے اس کی روایت کی ہے)-
مومن کو علم کے خیر کے سنے سے کچھ سیری نہیں ہوتی
It is narrated from Abdullah bin Mas'ud (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "On the Day of Judgment, it will be said: 'I did not place My wisdom in your hearts except because I wanted good for you. Go to Paradise, for I have forgiven you for what you did.'" [Narrated by Imam Abu Hanifah]
ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہول نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خیر کی بات سنے سے مومن کا پیٹ نمیں بھرتا (یعنی بمیش ستارہ تا ہے)۔ یہال تک کہ اس کی انتہائے بھشت ہوتی ہے۔(اس کی روایت ترنزی نکی ہے)-
علم کو چھپانے کی وعید
It is narrated from Abu Sa'id al-Khudri (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "A believer will never be satisfied with the good he hears until the ultimate reward is Paradise." [Narrated by Tirmidhi]
ابومہریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہول نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص سے علم کی بات پوچھی جائے جس کو وہ جانتا ہو، پھروہ اس کو چھپاوے تو قیامت کے دن اس کے منہ میں آگ کی لگام دی جائے گی۔(اس کی روايت امام احمد، ابو داوداور ترنزی نکی ہے)-
The Messenger of Allah ﷺ said: 'Whoever is asked about knowledge which he knows and conceals it, then on the Day of Resurrection, a bridle of fire will be placed upon his mouth.' (This narration is reported by Imam Ahmad, Abu Dawud, and Tirmidhi.)
اور ابن ماجہ نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے-
جو علماء سے مقابلہ کر نے اور بھوتو فول سے جھگڑ نے والوگون کو پنی طرف متوجہ
کرنے کے لئے علم سکھ تواس کا ئہ کا نادوزخ ہے
The punishment for one who debates with scholars and argues over trivial matters is that he will be directed towards ignorance.
کعب بن ماک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے علم اس غرض سے سکھا کہ علماء سے مقابلہ کرے یا بھوتو فول سے
جھگڑ اور جھگڑا کرے یالوگون کو پنی طرف متوجہ کرے تو اللہ اس کودوزخ میں داخل کرے گا۔ (اس کی
روایت تزدی نے کی ہے۔)
It is narrated from Ka'b bin Malik (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever seeks knowledge to compete with the scholars, or to argue with the foolish, or to attract people's attention to himself, Allah will enter him into the Fire."
[Narrated by Tirmidhi and Ibn Majah from Ibn Umar (may Allah be pleased with him)]
اور ابن مجہر نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے۔)
علم دین کو دینیوی فانده کی غرض سے سکھنا والے کی وعید
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
The Messenger of Allah ﷺ said:
فرمایا: جس نے وہ علم سکھا جس سے خدا کی خوشنوی مطلوب ہوتی ہے مگراس کا مقصد دنیا کا فانده
حاصل کرنا تھا تو وہ قیامت کے دن جنت کی خوشبو کے نہ پائے گا۔ (اس کی روايت امام احمد، البوداود
اور ابن مجہر نے کی ہے۔)
احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو یاد کر کہ پچھا نے والے کے لئے
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا
It is narrated from Abu Huraira (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever learns knowledge for which the face of Allah is sought, but does not learn it except to obtain a worldly gain, he will not find the fragrance of Paradise on the Day of Judgment." [Narrated by Ahmad, Abu Dawood, and Ibn Majah]
ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اس بندر کو خوشحال رکے جس نے میری حدیث سن اور اس کو یاد رکھا اور یاد
رکھ کر لوگون تک اس کو پچھاپا کیون کہ بہت سے فقہ کا سرامیر کچھ وا لے فقیر (یعنی بچہدار) نہیں
ہوتے اور بہت سے لوگ فقہ کا علم ان لوگون تک پچھاپے میں جوان سے زاکر جحدارت ہوتے ہیں۔
تمین با تین ایسے جو کان میں مسلماونوں کادل خیانت نہیں کرتا ( لیعن پر با تین مومس میں ضروز
پائل جاتی ہے اور جب وہ ان پر عمل پچار کرتا ہے تو اس کے دول میں کیہیں پیدا ہوتا کراس کوقے
چھیردے )۔
عمل میں اخلاص، مسلماونوں کی خیرخواہی عقائداور عمل میں مسلماونوں کی
جماعت سے وا بستگی، تین با تین موس میں لا زما پائل جاتی ہے
(1) ایک پر عمل میں اخلاص اور رضا ئے ایسی مقصد ہو، (2) دوسرا مسلماونوں کی خیرخواہی
کیا کرے (3) تیسرے لازمی طور پرمسلماونوں کی جماعت کا (عقائداور عمل) میں ساتحدے، اس
لئے مسلماونوں کی دعا کی برکت سے کوچھبرے رہتے ہے ( لیعن دعا کوشیطان کے کمراورگراؤں
سے پچائے رہتے ہے، اس میں اس بات کی تشبیہ ہے کہ جو کوئی مسلماونوں کی جماعت سے نقل جاتا ہے
اس کو مسلماونوں کی دعا اور دعا کی برکت نہیں پہنچتی )۔ (امام شافعی نے اور بیعت کے "مدخل" میں اس
کی روایت کی ہے )۔
روایت کی ہے البتہ ترمذی اور ابوداود کے (و ثلاٌث لا يغْلُ عَلیهن ) سے آخر تک مردوی نہیں
It is narrated from Ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "May Allah brighten the face of a servant who hears my words, memorizes them, and conveys them. Perhaps a person who carries knowledge is not a scholar, and perhaps a person who carries knowledge to one who is more learned than him. There are three things upon which the heart of a Muslim does not harbor malice: sincerity of action for Allah, giving sincere advice to the Muslims, and adhering to their community, for their call surrounds them." [Narrated by Al-Shafi'i and Al-Bayhaqi in Al-Madkhal, and by Ahmad, Tirmidhi, Abu Dawood, Ibn Majah, and Al-Darimi from Zaid ibn Thabit, although Tirmidhi and Abu Dawood did not mention "three things upon which..."]
_ اور امام احمد، ترمذی، ابوداود، ابن ماجا اور دار قط نے زیدبن ثابت رضی اللہ عنہ سے
لسان نبوت سے حدیث کی خدمت کرنے والے کے لئے خوشحالی کی دعا
he said: 'May Allah grant joy to the one who serves the hadith of prophethood with his tongue.'
_ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، کہ جب کہ میں نے رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کو فرامانے سنا کہ اللہ تعالی آدمی کو خوش و خرم رکے جس نے ہماری حدیث سن کر یاد رکھے، پھر
جس طرح اس نے سنا سی طرح دوسرا تک پہنچادیا، کیونکہ بہت سے لوگ جس کے پاس پہنچا
جا نا ہو سن وا لے، ی پنپا نے وا لے سے بہتر جہا و ا لے ہوتے ہیں - (اس کی روايت ترجمي اور ابن مجھے کی ہے )-
It is narrated from Ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) that he heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: "May Allah brighten the face of a person who hears something from us, then conveys it as he heard it. Perhaps a person who conveys it is more retentive than the one who heard it." [Narrated by Tirmidhi, Ibn Majah, and by Al-Darimi from Abu Darda]
_اورداری_ نے اس کو ابوردا ئی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے-
ف: اس فتم کی حدثول سے محتمدین امت کی فضلیت ثابت ہوتی ہے
حدیث کے بیان کرنے میں احتیاط کیتا کیراورقصد اغلط بیان کرنے والے کی عقید
This hadith demonstrates the excellence of the believers of the Ummah through the Fatwa. Caution is exercised in narrating the hadith, and the purpose is to avoid misleading statements.
_ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے حدیث بیان کرنے میں احتیاط کرو (اور اسی حدیث کو بیان کرو ) جس کی
تحقیق تم کو ہو (کروہ حدیث میری ہی ہے پس جس نے قصد مجھ پر جحوٹ کہاوہ اپنے لے دوزخ کا
ٹھکانہ بنائے -(اس کی روایت ترجمی نے کی ہے-)
It is narrated from Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Beware of narrating Hadith from me except what you know. Whoever deliberately lies about me, let him take his seat in the Fire." [Narrated by Tirmidhi, and by Ibn Majah from Ibn Mas'ud and Jabir, though they did not mention "Beware of narrating Hadith from me except what you know."]
_اور ابن ماجہ نے اس کو ابن مسعود، اور جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کیا ہے
جس میں ( اتقوا الحدیث غنی الا ما علمتم ) کے الفاظ نہیں ہیں-
قرآن کی تفسیر بغیر سنداورعلم کے بیان کرنے والے کا طھکانا دوزخ ہے
It is narrated from Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Beware of narrating Hadith from me except what you know. Whoever deliberately lies about me, let him take his seat in the Fire." [Narrated by Tirmidhi, and by Ibn Majah from Ibn Mas'ud and Jabir, though they did not mention "Beware of narrating Hadith from me except what you know."]
_ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس نے قرآن کی تفسیر بغیر سندا کے اپنی عقل سے کی تو وہ اپنا طھکانا دوزخ میں
بنائے-
It is narrated from him (Ibn Abbas) that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
"Whoever speaks about the Qur'an based on his own opinion, let him take his seat in the Fire."
In another narration: "Whoever speaks about the Qur'an without knowledge, let him take his seat in the Fire." [Narrated by Tirmidhi]
_اور ایک روایت میں یول کے جس نے قرآن کی تفسیر بغیر علم (دین) کے بیان
کی تو وہ اپنا طھکانا دوزخ میں بنائے-(اس کی روایت ترجمی نے کی ہے-)
اپنی راے سے قرآن کی تفسیر بیان کرنے والا کچھ غلط بیان ہے
It is narrated from him (Ibn Abbas) that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
"Whoever speaks about the Qur'an based on his own opinion, let him take his seat in the Fire."
In another narration: "Whoever speaks about the Qur'an without knowledge, let him take his seat in the Fire." [Narrated by Tirmidhi]
_جنہ ب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ
علی وسلم نے فرمایا: جس نے قرآن کی تفسیراپی راہ سے بیان کی اور تج بیان کی تب وہی اس نے غلطی
کی - (اس کی روایت تزندی اور ابوداود نے کی ہے- )
قرآن میں جھگڑنا کفر ہے
The Messenger of Allah ﷺ said: 'Whoever interprets the Quran with his own opinion, and he speaks based on that interpretation, he has indeed committed a mistake.' - This is narrated by Tirmidhi and Abu Dawud. 'Disputing over the Quran is disbelief.'
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علی وسلم نے فرمایا: قرآن میں جھگڑنا کفر ہے - (اس کی روايت امام احمد اور ابوداود نے کی ہے)-
قرآن میں جھگڑنے کی توہین اوراس کا علاج
ف : جھگڑنے سے مراد یہ ہے کہ قرآن کی ایک آیت کو دوسری آیت سے جھٹلا یاجائے، مناسب
یہ کہ قرآن کی آئتوں میں موافقت کی کوشش کرے، اگر موافقت دشوار معلوم ہوتی یعنی عقیدہ رکہ کری
میری بدنهی بہاوراس کے علم کواللہاور رسول پرسونپ دے
چحل امتین کتاب اللہ میں جھگڑنے سے بر باہوٹی ہیں
It is narrated from Abu Huraira (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Arguing about the Qur'an is kufr." [Narrated by Ahmad and Abu Dawood]
عمر بن شعیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، وہ اپنے والد سے اوروہا کے
دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ہیں کہ نبی کریم علیہ الصلاۃ وا لتسليم نے ایک جماعت کو قرآن میں
جھگڑنے ہوئے سنا تو فرمايا: تم سے پیلے جولگے توہ اس قسم کے جھگڑوں کی وجہ سے تباہ و بر باد
ہوئے ہیں، اللہ کی کتاب کے ایک حصے کو دوسرا حصہ سے حضرت انہوں نے روكیا، حالانکہ اللہ تعالیٰ کی
کتاب اس طرح نازل ہوتی کراس کا ایک حصہ، دوسرا حصہ کی تصدیق کرتا ہے - تو اس کے ایک
حصے کواس کے دوسرا حصہ سے مت جھٹلا و-
جس بات کا علم نہ ہو اس کو عالم کے سپرد کرو نیاچا ہے
جس کوتم جانتے ہووہ کہ او رجس بات کوہیں جانتے ہو اس کو جانتے والے کے سپرد کرو -(اس
کی روايت امام احمد اور ابن ماجہ نے کی ہے-)
قرآن سات طرح پڑازل کیا گیاہے
It is narrated from Amr ibn Shu'aib, from his father, from his grandfather (may Allah be pleased with him), that the Prophet (ﷺ) heard a group of people disputing about the Qur'an. He said: "Those who came before you were destroyed by this. They used to strike parts of the Book of Allah against one another. The Book of Allah was revealed to confirm what came before it. So do not contradict some of it with others. Whatever you know of it, speak about it, and what you do not know, leave it to the scholars." [Narrated by Ahmad and Ibn Majah]
ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن نازل کیا گیا سات طرح (کے قرأتیا حکام پر) ہر ایک آیت کے لئے ایک ظاہر ہے اور ایک باطن اور ان دونوں میں سے ہر ایک کی ایک حد ہے جس کے لئے فنہم کی ضرورت ہے۔ (امام بغوي نے شرح السنة میں اس کی روایت کی ہے۔)
قرآن کے ظاہر اور باطن کی توہین ف : ظاہر آیت کے لئے علوم عربی اور باطن کے لئے تصوف و ریاضت، اکل حال اور صحبت کا لی ضرورت ہے۔12
علوم دین کیا ہیں؟
It is narrated from Ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The Qur'an was revealed in seven dialects. For each verse of it, there is an outer and an inner meaning, and for each limit, there is a point of emergence."
[Narrated by al-Baghawi in his Sharh al-Sunnah]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علم دین میں یہ (1) آیت محکم ہے (2) سنت قائمہ ہے (3) فریضة عادلہ، ان کے سوا قابل اعتبار نہیں (اس کی روایت امام بغوي نے شرح السنة میں کی ہے)۔
ف : (1) آیت محکم یعنی غیر منسوخ آیت جو ایک معنی کے سوا دوسرا معنی کا اختیال نہ رکھے، (2) سنت قائمہ ہے احادیث جو متن و اسانید کے ساتھ ثابت ہیں، (3) فریضة عادلہ ہے مراد اجماع اور قیاس ہے جس کا ماخذ کتاب و سنہ ہو، اجماع اور قیاس کو فریضہ لیا کہا کہ اس پر عمل واجب ہے کیونکہ لفظ عادلہ سے بھی مراد ہے۔
اصول دین چار ہیں: کتاب، سنہ، اجماع اور قیاس۔
اس حدیث کا حاصل یہ کہ اصول دین چار ہیں، کتاب و سنہ و اجماع اور قیاس اور جو علم ان کے سوا ہیں وہ زائد اور بے معنی ہیں۔12
میں شخص و عظ کہا کرتے ہیں، امیر، ما مورا و متکبر
The Messenger of Allah ﷺ said: 'In the knowledge of religion, this (1) is a decisive verse, (2) an established Sunnah, (3) a just obligation; nothing other than these is reliable (this narration is reported by Imam Baghawi in Sharh al-Sunnah).'
(1) A decisive verse means an un-abrogated verse that does not admit of any other meaning besides one, (2) an established Sunnah refers to hadiths that are firmly established with their texts and chains, (3) a just obligation means consensus and analogy, whose basis is the Book and Sunnah. Consensus and analogy are called obligations because acting upon them is obligatory, as the term 'just' also implies.
The principles of religion are four: the Book, the Sunnah, consensus, and analogy.
The essence of this hadith is that the principles of religion are four: the Book, the Sunnah, consensus, and analogy, and any knowledge beyond these is superfluous and meaningless.
عن عوف بن مالك رضي الله تعالى عنه روايت ہے، انهول نے کہا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمايا: جب کوئی وعظ کہگاوه یا تو حاکم ہوگا یا مقرب کر دہ شخص ہوگا یا متکبر ہوگا
عن عوف بن مالك رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے، انہول نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی وعظ کہگاوه یا تو حاکم ہوگا یا مقرب کر دہ شخص ہوگا یا متکبر ہوگا
Anas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “By the One in Whose Hand is my soul, a servant does not believe until he loves for his brother what he loves for himself.” [Agreed Upon]
اورداری نے عمر بن شعیب رضی اللہ عنہ تے، وہ اپنے والد تے، وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں -
اور ایک روایت میں متکبر کی جگہ ریا کار کا ذکر ہے -
And in one narration, instead of the arrogant, the mention is of the hypocrite.
مطلب یہ ہے کہ صرف تین شخصیات سے صادر ہوتا ہے، ان میں سے دو حق پر ہیں لیکن امیرا ور ما مور کے ان دونوں کو وعظ بیان کرنا چاہیے، البتہ متکبر یا ریا کار کو وعظ کرنا چاہیے، وعظ بیان کرنے کا حق اولاً حاکم کا ہے کیون کہ وہ رعیت پر مہربان ہوتا ہے اور ان کی صلاح اور فلاح کو خوب جانتا ہے، اور اگر خود نہ کہتا تو علماء میں جو صاحب تقوی اور بھیع ہوں ان کو مقرب کر دے گا۔
ابو هریرہ رضي الله تعالى عنه روايت ہے، انهول نے کہا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمايا: جس کسی شخص کو بغیر علم کے فتوی دیا گیا تو اس کا گناہ فتوی دینے والے پر ہوگا
مشورہ کس طرح دیاجائے؟
اور جس نے اپنے محالی کو کیا ایسا مشورہ دیا جس کے متعلق وہ جانتا ہے کہ اس کے خلاف دوسرا امر میں محالی کے تواس نے اس کی خیانت کی - (اس کی روایت ابوداود نے کی ہے)
مغالطہ میں دوالے سوالات ممنوع ہیں
How should advice be given? And what kind of advice did someone give to his wife, knowing that she had been unfaithful to him in another matter? - This narration is reported by Abu Dawud. Questions that lead to confusion are forbidden.
علی وسلم نے مغالطہ کی ذمہ داری کے سوالات سے منع فرماپیا (اس کی روایت ابوداود نے کی ہے)-
ف: علماء کے ایسے مسائل نہ پوچھے جس کا مقصد ان کو مغالطہ میں ڈالنا ہو، کیونکہ اس کے
مسلمان کو ایزہاہوتی ہے جس سے عداوت اور فتنہ پیدا ہوتا ہے اور چونکہ اس سے سائل کو اپنی فضیلت کا
اظہار مقصود ہوتا ہے اس وجہ سے پرہام ہے
فرائض اور قرآن سکھانا نہیں تاکید
Do not ask scholars such questions whose purpose is to lead them into confusion and error, for it causes distress to Muslims, which leads to enmity and discord. Moreover, the one who asks such questions aims to display his own superiority, and for this reason, it is forbidden. There is no emphasis on teaching the obligatory duties and the Quran.
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمايا: فرائض اور قرآن سکھاوار لوگوں کو سلحاو کیونکہ میں (دنیا کے) انتہائے جانے والا
ہوں- (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے-)
ف: فرائض سے مراد علم فرائض ہے یا وہ چیزیں جسے جن کو اللہ تعالیٰ نے فرض فرماپیا ہے جو
احادیث سے ثابت ہوتے ہیں
علم و حی کا (آخضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پردہ فرماپنے کی وجہ ہے) انتہائا
It is narrated from Abu Huraira (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Learn the obligatory duties (fara'id) and the Qur'an, and teach them to the people, for I am about to be taken away." [Narrated by al-Tirmidhi]
ابوودا راء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ تم آخضورت صلی
اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہے، اتنے میں آمان کی جانب آپ نے نگاہ انتہائی اور فرمایا: وہ وقت آگیا ہے
کہ لوگوں سے علم و حی (میری وفات کی وجہ ہے) چھین لیا جائے گا۔ نہیں یہوگا کہ وہ علم و حی کی کسی شخص پر
قادرنہ ہوں گے، اس وجہ سے کہ (میرے بعد کوئی نہیں ہے) (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے-)
علم کی طلب میں دور دراز کا سفر اختیار کیا جائے گا
We were with the Messenger of Allah ﷺ, and while we were sitting, he looked towards A'man and said: 'The time has come when knowledge and life will be taken away from people (due to my death). There will not be anyone who will be capable of possessing knowledge and life, because (after me there will be none). Therefore, journeys will be undertaken to seek knowledge over long distances.' (This is narrated by Tirmidhi.)
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ عقیب لوگ علم کی طلب میں
اونٹول کو بھیگا بھیگا کر دور دراز کا سفر کریں گے، پس وہ میں کے علم سے برہکر (علم میں) کسی کو نہ
پائیں گے- (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے)-
عالم دین کون تھا؟
اور جامع ترمذی میں ہے کہ ابن عبید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ عالم دین کے مراد امام ماک بن انس رضی اللہ عنہ ہیں، اور عبد الرزاق سے مجھی اس طرح وضاحت ہے، البتا اٹھ بن موسیٰ نے کہا کہ میں نے ابن عبید رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ عالم دین کے مراد عمری زابد ہیں جن کا نام عبد الحزیر بن عبد اللہ ہے۔
آخ ذرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قسمیا رشا دفر ما یا کر دین ثریا پر مجھی ہوتا فارس کا ایک شخص ضرور حاصل کر لے گا!
It is narrated from Abu Huraira (may Allah be pleased with him) in a narration: "People will soon travel far and wide, seeking knowledge, but will find no one more knowledgeable than the scholar of Madinah." [Narrated by al-Tirmidhi]
In collection of Tirmidhi, Ibn Uyaynah said: "This refers to Malik ibn Anas." Similarly, 'Abd al-Razzaq narrated it, and Ishaq ibn Musa mentioned that Ibn Uyaynah said: "This refers to 'Abd al-Aziz ibn Abdullah al-Umari, the ascetic."
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی فتنہ جس کے قبضہ (قدرت) میں میری جان ہے، اگر دین ثریا (یعنی ستارہ پروین) کے پاس محلق ہوتا اس کو فارس کا ایک شخص ضرور حاصل کر لے گا - (بخاری اور مسلم نے اس کی روایت متفقہ طور پر لی ہے)
It is narrated from him (Abu Huraira, RA) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "By Him in Whose hand is my soul, if religion were hanging from the Pleiades, a man from Persia would attain it." [Agreed upon]
Al-Tabarani narrated a similar version from Qays ibn Sa'd ibn Ubadah, with a slight variation: "If knowledge were hanging, a man from Persia would attain it." Al-Hafiz al-Suyuti said: "This hadith, narrated by the two Shaykhs (Bukhari and Muslim], is the foundation of the authenticity upon which Abu Hanifah is indicated. There is no doubt in its correctness." In the margin notes of al-Shabr Malisi on al-Mawahib, the Shami scholar (a student of al-Hafiz al-Suyuti) said: "Our Shaykh has confirmed that Abu Hanifah is indeed the one intended in this hadith, and there is no doubt about it, for no one from the descendants of Persia has reached the level of knowledge he attained."
او رطبرانی نے قیس بن سعد بن عبادہ سے اس طرح روایت کی ہے
اور ان کی روایت میں 'دین' کی جگہ علیم کا لفظ ہے - علامہ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ کا قول کہ فارس کے شخص کے امام الامام اعظم البوحنیف رحمۃ اللہ علیہ مراد ہیں حافظ سیوطی نے فرمایا کہ یہ دیث جس کو بخاری اور مسلم نے بالاتفاق روایت کیا ہے اصل ہے، اس میں امام البوحنیف رحمۃ اللہ علیہ کی جانب اشارہ ہوئے پر اعتماد ہوتا ہے اور اس حدیث کی صحت پر سب کا اتفاق ہے -
علاء الدین کی تائید کے حوالے سے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی مراد یہ،
کہوں کہ ابل فارس سے امام کے درجہ کو کوئی نہ چھوڑ سکا
موہب پرشہراملسی کے حاشیہ میں علامہ شامی جو حافظ سیوطی کے شاگرد تھے، لکھتے ہیں کہ
تمام سے شک کا بیقین سے کہ اس حدیث سے مراد ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی بالکل واضح بات ہے، جس
میں کسی شک کی کوئی نہیں، اس لیے کہ ابل فارس سے کوئی بھی امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے درجہ کو نہ
چھوڑ سکا۔
امت کی اصلاح کے لیے ہرسال کے بعد ایک مجد پیرا ہوگا
It is narrated from him (Abu Huraira, RA) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "By Him in Whose hand is my soul, if religion were hanging from the Pleiades, a man from Persia would attain it." [Agreed upon]
Al-Tabarani narrated a similar version from Qays ibn Sa'd ibn Ubadah, with a slight variation: "If knowledge were hanging, a man from Persia would attain it." Al-Hafiz al-Suyuti said: "This hadith, narrated by the two Shaykhs (Bukhari and Muslim], is the foundation of the authenticity upon which Abu Hanifah is indicated. There is no doubt in its correctness." In the margin notes of al-Shabr Malisi on al-Mawahib, the Shami scholar (a student of al-Hafiz al-Suyuti) said: "Our Shaykh has confirmed that Abu Hanifah is indeed the one intended in this hadith, and there is no doubt about it, for no one from the descendants of Persia has reached the level of knowledge he attained."
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے (وہ کہتے ہیں) مجمل ان چیزوں کے
جن کا مجھے علم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا ہے پیہ کر آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس امت کے
لیے ہرسال کے بعد ایک ایسا مجد پیرا کرے گا جو دین کی تجدید کرے گا۔ (اس کی روایت ابوداود
نے کی ہے)-
ف: اس حدیث سے مراد ہے کہ ایک شخص اس امت میں ممتاز ہوتا ہے جو اپنے زمانے میں
دین کی مدد اور تزکو کرے گا بدعت کو فتح کرتا ہے، بعض علماء نے اس کو عالم پرمول کیا ہے خواہ ایک شخص
ہو یا جماعت۔
امت کے انظام اور دین تحریفات کی اصلاح کے لیے ثقاور
عادل لوگ بیشتر موجود ہیں گے
It is narrated from him (Abu Huraira, RA) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed, Allah, the Mighty and Majestic, sends to this ummah at the head of every hundred years someone who will renew its religion." [Narrated by Abu Dawood]
ابراہیم بن عبد الرحمن عزری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے
کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس علم (كتاب وسنن) کو ہر بعد میں آنے
والوں میں سے ایسے ثقاور عادل لوگ اٹھائیں گے جو تحریف اور تغیر کرنے والوں کی تحریف
اوزیادتی اورائل باطل کے جھوٹ باندہ کو اور جابلول کی تاویلون کو دور کریں گے۔ (اس
کی روایت بہیمی نے کتاب المدخل میں لکھے۔)
اس شخص کی فضیلت جواسلام کے زندہ کرنے کی خاطر علم حاصل کرتا ہوامر جاتے
It is narrated from Ibrahim ibn Abd al-Rahman al-Udhri (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "This knowledge will be carried by every generation of trustworthy scholars. They will remove from it the distortion of the extremists, the misappropriations of the false claimants, and the misinterpretations of the ignorant." [Narrated by al-Bayhaqi in his book al-Madkhal]
حسن بصری رضی اللہ عنہ سے بطور ارسال روایت ہے وہ کہتا ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کوموت ایسی حالت میں آجائے کہ وہ علم حاصل کرنا تھا تا کر اس کے
ذریعہ اسلام کو زندہ کرے تو اس کے اور انپیاء کے درمیان جنت میں صرف ایک درجہ کا فرق رہے گا
(اس کی روایت داری نے کی ہے۔)
فرض نماز ول کے بعدویں کی تعلیم کے لیے بیٹھ جانا افضل ہے یادن بہتر
روزہ رکھ کر تمام رات عبادت کرنا؟
It is narrated from al-Hasan (may Allah be pleased with him), as a mursal (unattributed) hadith, that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever dies while seeking knowledge to revive Islam, there is between him and the Prophets one level in Paradise." [Narrated by al-Darimi]
حسن بصری رضی اللہ عنہ سے بطور ارسال روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم سے دوآدمیوں کے متعلق وریافت کیا گیا جو بنی اسرائیل میں سے تھے، ایک تو عالم تھا
جو فرض نماز پڑھ کر لوگوں میں دین اور علم کی تعلیم کے لیے بیٹھ جاتا تھا اور دوسرا شخص بیشتر دن میں روزہ
رکھتا اور تمام رات نماز میں گزارتا، ان میں سے کون افضل ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اس عالم کی فضیلت جو فرض نماز پڑھ کر لوگوں کو دین اور علم سکھانے کے لیے بیٹھتا ہے اس عابد پر جودن
میں روزہ رکھتا اور رات میں نمازی پڑھتا ہے ایسی بیری فضیلت تھا بارے ادنی شخص پر
(اس کی روایت داری نے کی ہے۔)
ویں کی صح فلر کہنے والے کی فضیلت
It is narrated from him (al-Hasan, RA) as a mursal hadith, that the Messenger of Allah (ﷺ) was asked about two men from the Children of Israel. One was a scholar who prayed the obligatory prayers, then sat to teach people goodness, and the other was one who fasted during the day and prayed at night. Which of the two was superior? The Messenger of Allah (ﷺ) replied: "The superiority of the scholar who prays the obligatory prayers and then sits to teach people goodness is over the worshiper who fasts during the day and prays at night, as my superiority over the lowest among you." [Narrated by al-Darimi]
علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرماياوہ شخص کیا، اچھا ہے جو دین میں بھی رکھتا ہے، اگراس کی طرف احتیاج ہوتا وہ دورسول کودین نفع پہنچایے، اگراس سے پردازی برتنی جاتے تو وہ دورسول سے اپنے کوب نیاز رکے - اس کی روایت رزین نے کی ہے - )
اہل علم کے لئے ایک مفید راہ عمل ف: حاصل حديث پیہ کر عالم کے لئے زاوار پیہ کروہ اپنی ضرورتوں کوعوام پرپیش کرے اور ان سے طمع نہ رکے اوراس کے لئے پیہی مناسب نہیں کر عوام سے مطلقاً بے تعلق ہوجائے، اس کی صورت پیہ کر آگروہ بغرض استفادہ اس سے رجوع ہول تو علم سے ان کو برا برفاکده پہنچائے رہے اور آگر عوام استفادہ نکریں تو وہ عبادت مولی اور خدمت علم کے لئے مطالع کتب اور تصنیف و تالیف میں مشغول ہوجائے
ہرہفتے میں کتنی مرتبہ وعظ کرنا چاہیے
A person who keeps something in reserve for his religion is good. If he needs it, he should benefit others from a distance; if he avoids it, he should keep his need hidden from others. This is reported by Razi. For the people of knowledge, this is a beneficial practice: after obtaining a hadith, one should provide sustenance to the scholar and present their needs to the common people without desiring anything from them. It is not appropriate to become completely detached from the common people. If someone turns away from benefiting them, they should still strive to guide them with knowledge. If the common people do not benefit, then they should engage in worship and serve knowledge by studying books and writing treatises. - How many times should one give sermons each week?
عزمرضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت سے انہوں نے کہا کہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرماياہرجمعہ میں ایک مرتبہ لوگوں کو وعظ کیا کرو، اگر تم کو پیش نہیں تو دور مرتبہ، اگراس سے زائد چاہے تو تو میں مرتبہ۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما کی واعظین کو ہدایات اور لوگوں کو اس قرآن سے تلاوت کرو (کروہا کتاب کیں) میں تم کو اس طرح دیکھا نہیں چاہتا کہ تم لوگوں کے پاس جاوااوروہ اپنی کسی بات میں مشغول ہول اورتم ان کے سامنے وعظ کرنا شروع کرو، اور ان کی بات کا ترو، جس سے وہ تلاوہو جائیں، بلکہ تم اس وقت خاموش رہو، پس جب وہ تم سے خواہش کریں تو تم ان کو وعظ سناو (اور ایسی حالت میں وعظ کر کہ ان کا شوق اچھی باقی ہے) اور دعا میں مسجع (لیکن قافیردار عبارت) سے احتیاط کرو، اس لئے کہ میں نے اللہ کے
رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کو کیا کہ کروہ اس طرح قافیہ بند دعا نہیں کیا کرتے تھے
( کیونکہ تکلف سے رقت قلبی باقی نہیں رہتی ہے ) - ( اس کی روایت داری نہیں ہے ) -
It is narrated from Ikrimah that Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) said:
"Talk to the people once every Friday. If you refuse, then twice, and if you exceed, then three times. Do not bore the people with this Qur'an. Do not come to the people while they are in conversation, and interrupt them with your narration. Do not make them weary, but listen, and when they ask you, then narrate to them what they desire. And avoid the rhyme in supplication, for I witnessed the Messenger of Allah (ﷺ) and his companions never doing so."
[Narrated by al-Bukhari]
واثلم بن الاسقع رضی اللہ تعالیٰ علیہ روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے علم دین طلب کیا اور اس کو حاصل کر لیا تو اسے دو اجر ملیس گے اور اگر وہ
حاصل نہ کر سکا تو اس کو ایک اجر مل گا ( اس کی روایت داری نہیں ہے )
وہ اعمال جس کا اجر مر نے کے بعد بھی جاری رہتا ہے
It is narrated from Wa'ilah ibn al-Asbah (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever seeks knowledge and attains it, he will have two rewards. If he does not attain it, he will have one reward." [Narrated by al-Darimi]
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ علیہ روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمايا: مجمل ان اعمال اور نیکیوں کے کر جن کا ثواب مومس کواس کی موت کے بعد بھی پہنچتا رہتا ہے،
ان میں سے (1) ایک علم ہے جس کواس نے سکھا اور اس کی اشاعت کی، اور (2) نیک اولاد
چھوڑا، (3) یا وارثوں کے لیے قرآن مجید چھوڑ گیا، یا مسجد بنا کر گیا، یا مسافر خانہ بنا کر چھوڑا، یا نہر
جاری کیا یا وہ نہیں رات جس کواس نے اپنے زندگی اور صحت میں اپنے مال سے کیا ہو جس کا اجر مر نے
کے بعد اس کو ملتا رہے - ( اس کی روایت ابن ماجہ نے اور نہیں نے شعب الایمان میں کی ہے ) -
علم کی طلب میں راستے چلنے کی فضیلت، نامینا کو جنت کی خوشخبری، علم کی زیادتی
عبادت کی زیادتی سے بہتر ہے، دین کا دارودار پر میزگاری پرتے
It is narrated from Abu Huraira (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Among the things that benefit a believer after his death are the knowledge he taught and spread, a righteous child he left behind, a Qur'an he bequeathed, a mosque he built, a house for travelers he built, a river he dug, or a charity he gave from his wealth while he was healthy and alive. These things continue to benefit him after his death." [Narrated by Ibn Majah and al-Bayhaqi in "Shu'ab al-Iman"]
عائشہ رضی اللہ تعالیٰ علیہا روایت ہے فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کو فرما تے ہوئے سناتے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر دی فرما تی ہے کہ جو شخص علم دین کی طلب میں کوئی
راستے پر گا تو میں اس کے لیے جنت کا راستہ سہل کر دوں گا اور میں نے جس کی دونوں آنکھوں لے لیں
( لیتنی وہ ناپینا ہوگیا ) تو ان کے عوض اس کو جنت دو لگااور علم میں زیادتی عبادت میں زیادتی سے بہتر
ہے اور دین کا ارومار پر تمیزگاری پر ہے - ( یہ مقام نے شعب الایمان میں اس کی روایت کی ہے ) -
رات میں تحوّری دیری علم کا پڑھنا پڑھنا تما م رات عبادت کرنے سے بہتر ہے
It is narrated from Aisha (may Allah be pleased with him) that she heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: "Indeed, Allah, the Almighty, has revealed to me that whoever treads a path in seeking knowledge, I will make the path to Paradise easy for him. Whoever seeks to acquire two noble qualities (of good character), I will establish him upon them in Paradise. The merit of knowledge is better than the merit of worship, and the foundation of religion is piety."
[Narrated by al-Bayhaqi in "Shu'ab al-Iman"]
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ رات میں تحوّری
دیری علم کا پڑھنا پڑھنا اور تصنیف و تالیف کرنا ) تمام رات عبادت کرنے سے بہتر ہے - ( داری نے
اس کی روایت کی ہے ) -
مجلس عبادت و دعا اور مجلس علم دونوں خیر پر یہ لیکن مجلس علم فضل ہے
It is narrated from Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) that he said:
"Studying knowledge for an hour during the night is better than spending the entire night in prayer." [Narrated by al-Darimi]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ خضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر
اپنی مسجد کی دو مجالسون پر ہوا، ارشاد ہوا کہ پیدونوں خیر پر یہ لیکن ایک جماعت نیکی میں دومسرے سے
فضل ہے، پیلوگ جو اللہ کی عبادت کر رہے ہیں اور دوسرے میں مشغول ہیں اوراس کی طرف متوجہ ہیں
( اللہ تعالیٰ ) چاہے تو ان کو عطا فرما ئے اور نہ چاہے تو عطاء کرے، لیکن پیدوسری جماعت جوفق سکیں
رہی ہے یعلم حاصل کر رہی ہے اور جامع کو علم سکھلا رہی ہے تو پیہلی جماعت سے فضل ہے اور
میں معلم ہی بنا کر بھیجا گیا ہوں، چھرا پ اس دوسری جماعت میں ( جو علم کی تھی ) پیہلے گے - ( اس کی
روایت داری نے کی ہے ) -
امت کے نفع کے لئے دینی امور کی 40 حدثیں حفظ کرنے والے کے لئے
ایک بڑی خوشخبری
the Messenger of Allah ﷺ passed by two groups in his mosque. He said: 'Both groups are good, but one group is better than the other. Those who are engaged in worship and those who are busy with it and paying attention to it, Allah may grant them or not grant them as He wills. But the group that is engaged in seeking knowledge and teaching it, and the one who teaches and sends forth teachers, is better. I was sent to teach this second group, which is concerned with knowledge. There is a great glad tiding for those who preserve forty hadiths for the benefit of my ummah.'
ابودردا رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ علم کی وہ کونی حد ہے جس تک کہ پہنچے سے آدمی فقیہ ہوجاتا ہے تو رسول
اللہ تعالیٰ کے دین کی امور کی چالیس حدیثیں حفظ کر لے تو اللہ تعالیٰ اس کو فقیہ انہا گا (یعنی اس کا حشر علماء کے زمرہ میں ہوگا) اور میں اس کے لیے قیامت میں شفعت اور گواہی ہوں گا - (1)
سب سے زیادہ تی کون ہے؟
It is narrated from Abu Darda (may Allah be pleased with him) that he was asked: "O Messenger of Allah, what is the most beloved type of knowledge that when a person attains it, he becomes a scholar?" The Messenger of Allah (ﷺ) replied: "Whoever memorizes forty hadiths from my ummah regarding their religious matters, Allah will raise him as a scholar, and I will be his intercessor and witness on the Day of Judgment."
اس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم کو معلوم ہے کہ کون سب سے زیادہ تی ہے؟ صحابہ نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ جانتے ہیں، آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ تی ہیں۔ وہ عالم جس نے علم کی اشاعت کی، بھوہ قیامت کے دن امیر کی طرح آئے گا۔ پھر میں تی آدم میں سب سے برہ کرتی ہوں اور میرے بعد سب سے زاندہی وہ مرد عالم ہے جس نے علم سیکھا اور اس کی اشاعت کی، ایسا شخص قیامت کے دن تنا امیر کی طرح آئے گا۔ امت واحده کی طرح آئے گا - (2)
ف: امیر و احدی امت واحده سے یہ مراد ہے کہ وہ ایک امیر کی حیثیت سے آؤ گا لیکن وہ کسی کے تابع نہیں ہوگا بلکہ اس کے ساتھ کوئی تابع اور خادم ہوں گے۔مقصود یہ ہے کہ وہ قیامت کے دن معزز اور کرم باشکر و حشمت آئے گا
دو حرص ایسے ہیں جن کا پیٹ نہیں بھرتا، علم کا بھوکا اور دنیا کا بھوکا
It is narrated from Anas ibn Malik (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Do you know who is the most generous in generosity?" They replied: "Allah and His Messenger know best." He said: "Allah, the Almighty, is the most generous in generosity. Then I am the most generous of the children of Adam, and the most generous after me is a person who learns knowledge and spreads it. He will come on the Day of Judgment as a leader alone," or he said, "as a single community."
اس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو حرص کرنے والے ایسے ہیں جن کا پیٹ نہیں بھرتا، ایک علم کا بھوکا جو علم سے سیر نہیں ہوتا اور دوسرا دنیا کا بھوکا جس کا دنیا سے پیٹ نہیں بھرتا - (3) (ذکورہ تینول حدیثوں کو جہاں نے شعب الایمان میں روایت کیا ہے)
صاحب علم اور دعاوارگی سیرتین بنیادی ہیں!
It is narrated from him (Anas) that the Prophet (ﷺ) said: "There are two types of people who will never be satisfied: the one who is greedy for knowledge, and the one who is greedy for the world. The one who seeks knowledge will never be satisfied with it, and the one who seeks the world will never be satisfied with it." [Narrated by al-Bayhaqi in "Shu'ab al-Iman]
Imam Ahmad said regarding the hadith of Abu Darda: "This text is well known among the people, but it does not have an authentic chain of narration."
عون رضی اللہ تعالیٰ علیہ روایت ہے، انہول نے کہا کہ عبد اللہ بن مسعود رضی
اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا کہ دو حیص ایسے ہیں کہ سیرتین بنیادی ہیں، ایک صاحب علم اور دوسرا دعاوار، اور
دونوں برادرین ہیں، صاحب علم تو اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کوزیادہ حاصل کرتا رہتا ہے اور دعاوار سرشی
میں بڑھتا جاتا ہے، پھر عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ علیہ نے (سورہ علق، آیت نمبر: 7/6،
پ:30، ع:1، کی) یا آیت تلاوت فرمائی (کَلَّا إِنَّ الْإِنسَانَ لَيَطْغَىٰ أَن رَّآهُ اسْتَغْنَىٰ)
ترجمہ: (گر انسان کا حال یہ ہو) خود کو بے نیاز بھی کر (شکر کے بدلا خدا کے لئے)
سرشی کرتا ہے اور عون رضی اللہ تعالیٰ علیہ نے کہا دوسرا لیجن (صاحب علم) کے متعلق عبد اللہ بن
مسعود رضی اللہ علیہ نے (سورہ فاطر، آیت نمبر: 28، پ:22، ع:4، کی) یا آیت اِنَّمَا يُخْشَىٰ
اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ تلاوت فرمائی کہ اللہ کے بندوں میں سے علماء، یعنی اللہ سے ڈرتے
ہیں -(اس کی روایت داری نے کی ہے)-
امراء کے پاس آمد و رفت رکھنے والے علماء کی زد مت
It is narrated from Awn that Abdullah ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) said:
"There are two types of people who will never be satisfied: the scholar and the seeker of the world. They are not equal. The scholar grows in contentment with Allah, while the seeker of the world continues in rebellion. Then Abdullah ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) recited: 'No! Indeed, man transgresses when he sees himself as self-sufficient.'" (Quran, 96:6)
He also said: "Indeed, the scholars are the ones who truly fear Allah from among His servants."
[Narrated by al-Darimi]
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ علیہما سے روایت ہے، انہول نے کہا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے لوگ عقیدہ دین میں بھی
پیدا کریں گے اور قرآن پڑھیں گے اور میں گے کہ انہم امراء (لیجن دولت مندول) کے
پاس جاتے ہیں کران کی دنیا کے پچھے حاصل کر لیں اور ان سے اپنے دین کو پچا کے رکھیں
گے حالاکہ ایمان ہو سکتا ہے کیون کہ جس طرح خاردار درخت سے صرف کاٹ کے سوا
کوئی چیز حاصل نہیں ہوتی، اسی طرح امراء کی نزدیکی سے اسی چیز کو حاصل کریں گے،
(امام جخاری کے استاد) محمد بن صالح رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ اور ان کی مراد اس سے
گناہ کی (جس امراء کی تمام نشینی سے گناہ، یہ حاصل ہون گے)۔ (اس کی روایت ابن مجہد کی ہے۔)
سرداری کس طرح حاصل ہوسکتی ہے؟
علم کو معاش کا ذریعہ بنایا جانے تو زلت حاصل ہوتی ہے
جس نے ساری فقر و نکوآ خرت کی فقر بنالی تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے کافی ہوجاتے ہیں
It is narrated from Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed, there will be some people from my Ummah who will seek knowledge in religion and recite the Quran. They will say, 'We will go to the rulers to take a portion of their world, and we will keep our religion separate from them.' But this will not be like the thorns of the plant al-Qatad, from which nothing can be gathered except thorns. Likewise, nothing will be gained from being close to them except sin." [Narrated by Ibn Majah}
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرودی ہے، انہوں نے فرمایا: اگر علم کو حفاظت کرتے اور علم کو اس کے لئے، یعنی پہچانے تو علم کے ذریعے زمانے کے سردار بن جاتے ہیں انہوں نے علم کو اعلیٰ دنیا کے لئے استعمال کیا تاکہ اس کے ذریعے ان کی دنیا میں پچھڑا حاصل کریں۔ تو دنیا داروں کی نظر میں ذیل ہو گے۔ میں نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سناتا کہ جس نے تمام فقر و نکوآ خرت کی فقر بنالی تو اللہ تعالیٰ اس کی دنیا کی تمام فقر و نکوآ لئے کافی ہوجاتے ہیں اور جس کو دنیا کی فقری اور احوال پر آگندہ کردی ہے (جس کسی فقر میں لگا اور بھی کسی میں) تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی پرواہ نہیں کر وہ دنیا کے کسی جنگل میں بلاک ہوجاتے۔ (اس کی روایت ابن مجہد کی ہے۔)
It is narrated from Abdullah bin Mas'ud (may Allah be pleased with him) that he said:
"If the people of knowledge had safeguarded their knowledge and placed it with those who deserved it, they would have dominated the people of their time. But instead, they gave it to the people of the world to gain from their worldly affairs, and so it became trivialized for them. I heard your Prophet (ﷺ) say: 'Whoever makes his concerns one concern, the concern of his Hereafter, Allah will take care of his worldly concerns. And whoever is overwhelmed with the various concerns of this world, Allah will not care in which valley he perishes.'"
[Narrated by Ibn Majah and also by Al-Bayhaqi in Shu'ab al-Iman from the statement of Ibn Umar (may Allah be pleased with him).]
اور ہیں نے شعب الایمان میں ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے "من جعل العلم کی آفت نسیان ہے اور اس کو ضائع کرنایہ کے نا ابل کے ساتھ بیان کیا جانے
The affliction of knowledge is forgetfulness, and its loss is not to be mentioned with a camel.
عمش رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علم کی آفت بھول جانا ہے اور اس کو ضائع کرنایہ کے تو اس کو نا ابل کے ساتھ
پیان کرے - (اس کی روایت داری نے بطریق الرسال کی ہے - )
در حقیقت علم کون ہے؟
It is narrated from Al-A'mash that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The affliction of knowledge is forgetfulness, and its loss is when you narrate it to those who are not its rightful people." [This was narrated by Al-Darimi as a Mursal hadith]
رضي اللہ عنه سفیان رضي اللہ عنه سے روايت ہے کہ عمر بن الخطاب رضي اللہ تعالى عنه سے کعب رضي اللہ عنه سے دریافت فرمایا کہ علم وا لکون ہے؟ کعب رضي اللہ عنه نے جواب دیا: وہ لوگ ہیں جو ان با تول عمل کرتے ہیں، جن کو وہ جانتے ہیں -
طمع علماء کے دولت علم کی برکت کون کال دیتے ہیں
عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ پھر وہ کیا چیز ہے جو علماء کے دولت علم کون کال دیتے ہے؟ کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: طمع (حرص) - (داری نے اس کی روایت کی ہے - )
ف : حرص اور طمع علماء کے دولت علم کی برکت، میں اور نور کو دور کر دیتے ہے
بڑے علماء بدترین خلافت میں اوراتیہ علماء بہترین خلافت میں
It is narrated from Sufyan (1) that Umar bin Al-Khattab (may Allah be pleased with him) said to Ka'b: "Who are the people of knowledge?" Ka'b replied: "Those who act upon what they know." Umar (may Allah be pleased with him) then asked: "What causes knowledge to depart from the hearts of the scholars?" Ka'b answered: "Greed." [Narrated by Al-Darimi]
(1) In the original text by the author: "bin" instead of "that".
احوص بن حکیم رضي اللہ تعالى عنهما اپنے والد حکیم سے روايت کرتے ہیں (ان کے والد حکیم) کہتے ہیں کہ ایک شخص نے آخ ضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے شرکی نسبت دریافت کیا، ارشاد ہوا مجھے شرکی نسبت نہ پوچھو، بلکہ مجھ سے نہیں سے متعلق سوال کرو، اس کو تین مرتبہ فرمایا، پھر ارشاد ہوا سنو! بڑول میں سب سے بڑے، بڑے علماء میں اور بحلول میں سب سے بہتر (بجل) علماء میں -
احوص بن حکیم رضی اللہ تعالیٰ عنہما اپنے والد حکیم سے روایت کرتے ہیں (ان کے والد حکیم) کہتے ہیں کہ ایک شخص نے آخ ضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے شرکی نسبت دریافت کیا، ارشاد ہوا مجھے شرکی نسبت نہ پوچھو، بلکہ مجھ سے نہیں سے متعلق سوال کرو، اس کو تین مرتبہ فرمایا، پھر ارشاد ہوا سنو! بڑول میں سب سے بڑے، بڑے علماء میں اور بحلول میں سب سے بہتر (بجل) علماء میں -
(داری نے اس کی روایت کی ہے - )
اپنے علم سے فائدہ حاصل نہ کرنے والا بدترین شخص ہے
Abu Dardaʾ said: The most wicked of people in the sight of Allah on the Day of Judgment is the scholar whose knowledge does not benefit him. [Narrated by Al-Darimi]
ابودردا رضي اللہ تعالى عنه سے روايت ہے، انهول نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ کے نزدیک بدترین شخص وہ علمہ ہے جس نے اپنے علم سے
پھر فائدہ حاصل نہیں کیا۔ (اس کی روایت داری نے کی ہے۔)
وہ تین چیزیں جو اسلام کو بر با کر دیتی ہیں
Ziyad ibn Hudayr narrated that Umar (may Allah be pleased with him) said to me: “Do you know what destroys Islam?” I said: “No.” He said: “It is the mistakes of the scholars, the arguments of the hypocrites with the Book, and the rulings of misleading rulers.” [Narrated by Al-Darimi]
زیاد بن خدیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ مجھے عرضی اللہ
تعالیٰ عند نفرما یا: کیا تم کو معلوم ہے کہ اسلام کو کیا چیز تباہ کرتی ہے؟ میں نے کہا: میں نہیں جانتا، فرما یا: عالم
کی (1) لغزش، (2) منافق کا کتاب اللہ سے (تاویلا ت باطل کے ذریعہ) جھگڑنا اور (3) گمراہ حکام کے
فصل (یہ سب اسلام کو) تباہ کر دیتے ہیں۔ (اس کی روایت داری نے کی ہے۔)
کارآمد علم وہ ہے جودل میں انترجا بے اوروہ علم جوزبان پر ہو، وہ انسان پروبال ہے
Ziyad ibn Hudayr narrated that Umar (may Allah be pleased with him) said to me: “Do you know what destroys Islam?” I said: “No.” He said: “It is the mistakes of the scholars, the arguments of the hypocrites with the Book, and the rulings of misleading rulers.” [Narrated by Al-Darimi]
حسن بصری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ علم دو قسم کے
ہوتے ہیں: ایک علم دل میں ہوتا ہے اور دوسرا علم کارآمد ہے، ایک علم زبان پر ہوتا ہے اور دوسرا علم اللہ کی
طرف سے انسان پر جاتا ہے (یعنی پر الزام دے گا کہ تم کو تم نے علم دیا تھا تو پھر کیوں تم نے اس پر
عمل نہیں کیا)۔ (اس کی روایت داری نے کی ہے۔)
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دو طرح کے علم میں
Hasan narrated: There are two types of knowledge: the knowledge in the heart, which is the beneficial knowledge, and the knowledge on the tongue, which is the proof of Allah (the Mighty and Majestic) over the son of Adam. [Narrated by Al-Darimi]
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم سے دو طرح کے علم محفوظ کیے ہیں: ایک علم کی تو میں نے تم میں اشاعت کی ہے، اگر
دوسرے علم کی اشاعت کرنے تو میگا کافر یا جا نے گا۔ (اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔)
ف: دوسرے علم سے مراد یہ ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم
ہوا تھا کہ آپ کی وفات کے بعد کی قسم کے فتنہ آجیب گے اور طالم حکام برسر اقتدار ہوں گے جن کے نام
تک ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو تلاشیے گے تھے۔
کسی چیز کا علم نہ ہو تو " اللہ اعلم"، کہ دینا، یا شانِ علم ہے
It is narrated from Abu Hurayra (may Allah by pleased with him): I have preserved from the Messenger of Allah ﷺ two containers of knowledge. As for one of them, I have spread it among you, and as for the other, if I were to spread it, this throat (meaning the food passage) would be cut off. [Narrated by Al-Bukhari]
جو شخص کسی چیز کا علم رکھتا ہو تو اس کو بیان کر دے، اور جو کسی چیز کا علم نہ رکھتا ہو تو کہ دیا کرے "اللہ اعلم" (اللہ زیادہ جانتے والے ہیں) اللہ نے اپنے نبی سے (سورہ ص، پ:23، ع:5، آیت نمبر:86) میں فرمایا: ﴾قُلْ مَا أُمِرْتُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ﴿ (کہو میں تم سے اس پر کوئی اجرت نہیں چاہتا اور نہ میں تكلف کرنے والوں میں سے ہوں)۔ بخاری اور مسلم نے با
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اے لوگو!
جو شخص کسی چیز کا علم رکھتا ہو تو اس کو بیان کر دے، اور جو کسی چیز کا علم نہ رکھتا ہو تو کہ دیا کرے "اللہ اعلم" (اللہ زیادہ جانتے والے ہیں) اللہ نے اپنے نبی سے (سورہ ص، پ:23، ع:5، آیت نمبر:86) میں فرمایا: ﴾قُلْ مَا أُمِرْتُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ﴿ (کہو میں تم سے اس پر کوئی اجرت نہیں چاہتا اور نہ میں تكلف کرنے والوں میں سے ہوں)۔ بخاری اور مسلم نے با
تفاق اس کی روایت کی ہے۔
علم دین کے لئے استاذ کے انتخاب میں احتیاط کی ضرورت ہے
O people! It is reported that caution is necessary in the selection of a teacher for religious knowledge.
ابن سیرین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ علم (کتاب و سنت) دین سے تو تم غور کر لو کہ اپنا دین کس سے حاصل کر رہے ہو (اس کی روایت مسلم نے کی ہے)۔ ف: غیر ثقة، بد دین، جائے اور بدعت سے علم حاصل نہ کیا جائے۔ 12 سلفِ صالح کی اتباع کو چھوڑنا گمراہی میں پڑنا ہے
Ibn Sirin said: "This knowledge is religion, so be careful from whom you take your religion." [Narrated by Muslim]
حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اے علماء کے گروہ! راہ راست پر قائم رہو یہ لوگ (راہ راست پر استقامت میں) تمہارے اسلاف تم پر سبقت پاچکے ہیں اور آگرتے (سلفِ صالح کی اتباع کو چھوڑ کر) داگین با گین چلو گے (جبتنے طریقہ ایجاد کرو گے تو راہ راست سے) بھٹک کر گمراہی میں بہت دور جا پڑو گے۔ (بخاری نے اس کی روایت کی ہے۔)
ریاکار علماءاورقرآنے، جب اخر نسخہ جنہم کی شدیدترین وادی میں ذالویجا یں گے
مبغوضترین قاری اورعالم وہ ہیں جوامراء کے پاس آیاجائیں گے
Hudhayfah (may Allah be pleased with him) said: "O gathering of Qurra (reciters), be upright, for you have gone ahead with a great lead, and if you take to the right or the left, you will be lost in a great error." [Narrated by Al-Bukhari]
ابو هریرہ رضي اللہ عنه روايتہ، انهول نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمايا: اللہ تعالیٰ کی جبّ الحزن (غم کے کنویں) سے پناہ مانگو، صحابہ نے عرض کیا: یارسول اللہ! جب
الحزن کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمايا: جبہم میں ایک وادی سے جس سے جبہم بھردن چارسو مرتبہ پناہ مانگتے ہیں،
عرض کیا گیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں کون داخل ہوگا؟ ارشاد فرمايا: وہ علماءاورقرآنے پچے عمل
میں ریاکاری کرتے ہیں۔ (تنزیل اس کی روايت کی ہے) ابن ماجہ نے اتنا اضافہ اور کیا ہے "و ان
من أبغض القراء إلى الله تعالى الذين يزورون الأمرا" (اللہ کے نزدیک مبغوضترین قرآنے وہ
جس جوامراء کے پاس آتے جاتے ہیں) محارب نے کہاہے کہ: امراء سے یہاں خالم امراء مراد ہیں۔
دویرفتگ کے آثار کیا ہیں؟
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روايتہ، انہول نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: اللہ تعالیٰ کی جبّ الحزن (غم کے کنویں) سے پناہ مانگو، صحابہ نے عرض کیا: یارسول اللہ! جب
الحزن کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا: جبہم میں ایک وادی سے جس سے جبہم بھردن چارسو مرتبہ پناہ مانگتے ہیں،
عرض کیا گیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں کون داخل ہوگا؟ ارشاد فرمایا: وہ علماءاورقرآنے پچے عمل
میں ریاکاری کرتے ہیں۔ (تنزیل اس کی روایت کی ہے) ابن ماجہ نے اتنا اضافہ اور کیا ہے "و ان
من أبغض القراء إلى الله تعالى الذين يزورون الأمرا" (اللہ کے نزدیک مبغوضترین قرآنے وہ
جس جوامراء کے پاس آتے جاتے ہیں) محارب نے کہاہے کہ: امراء سے یہاں خالم امراء مراد ہیں۔
دویرفتگ کے آثار کیا ہیں؟
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) said: The Messenger of Allah ﷺ said: "Seek refuge with Allah from the pit of grief." They said: "O Messenger of Allah, what is the pit of grief?" He said: "It is a valley in Hell, from which Hell itself seeks refuge four hundred times a day." They said: "O Messenger of Allah, who will enter it?" He said: "The reciters who show off with their deeds." [Narrated by Al-Tirmidhi and also by Ibn Majah]
In the additional wording, he said: "And among the most hated of reciters to Allah are those who visit the rulers." Al-Muharibi said: "By this he means the tyrants."
علی رضي اللہ تعالیٰ عنه روايتہ، انهول نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمايا: عمق ریب ایک ایازمان لوگوں پرآئے والاحکم اسلام کاصرف نام رہ جاتے گا اورقرآن کا
صرف رتم (یعنی قرآن کی تجویداور درسی الفاظ کی طرف تو توجہ کریں گے لیکن عمل سے دور رہیں گے)
ان کی مسجد میں آبادہوں گی، مگر بدايت اوریادا ہی سے خالی ہوں گے، اوران کے علماءآسان کے پچے
رہے والوں میں سب سے بدتر ہوں گے، ان میں سے فتنہ تکلیف گے اوران میں پی فتنہ لوٹیں
گے۔ (اس کی روايت تہقی نے شعب الايمان میں کی ہے۔)
علم پر عمل نہ کریں تو علم انہوں جاتا ہے
علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ روايتہ، انہول نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: عمق ریب ایک ایازمان لوگوں پرآئے والاحکم اسلام کاصرف نام رہ جاتے گا اورقرآن کا
صرف رتم (یعنی قرآن کی تجویداور درسی الفاظ کی طرف تو توجہ کریں گے لیکن عمل سے دور رہیں گے)
ان کی مسجد میں آبادہوں گی، مگر بدایت اوریادا ہی سے خالی ہوں گے، اوران کے علماءآسان کے پچے
رہے والوں میں سب سے بدتر ہوں گے، ان میں سے فتنہ تکلیف گے اوران میں پی فتنہ لوٹیں
گے۔ (اس کی روایت تہقی نے شعب الایمان میں کی ہے۔)
علم پر عمل نہ کریں تو علم انہوں جاتا ہے
Ali (may Allah be pleased with him) said: The Messenger of Allah ﷺ said: "A time will soon come upon people when nothing will remain of Islam except its name, and nothing will remain of the Qur'an except its script. Their mosques will be full, yet they will be empty of guidance. Their scholars will be the worst of those under the sky. From them will emerge fitnah, and in them it will return." [Narrated by Al-Bayhaqi in Shu'ab al-Iman]
زیاد بن لبید رضي اللہ عنه روايتہ، انهول نے کہا کہ خضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے
کسی چیز کا ذکر فرمایا اور فرما یا کہ میں پیغمبر اللہ صلی اللہ علیہ و آلم کے اہل جا نے کے وقت ہوگی، میں نے عرض کیا: یارسول اللہ جب کے تم قرآن پڑھتے ہیں اور اپنے بچوں کو پڑھاتے ہیں اور ہمارے نک اپنے چو ل کو قیامت کے پڑھاتے ہیں۔ ارشاد ہوا: اے زیاد! تم پر تجبہ میں تو تم کو دینے کے نہایت بھی دار لوگوں میں سے بہتر تھا، کیا پی مہود و نصاری تو ریت اور نہیں پڑھاتے ہیں، گر وہ ان بھرو کتابوں کی کسی چیز پر عمل نہیں کرتے۔ (اس کی روايت امام احمد اور ابن ماجہ نے کی ہے اور ترمذی نے زیاد ضی الدین کے طرح کی روایت کی ہے۔)
Ziyad ibn Labid (may Allah be pleased with him) said: The Prophet ﷺ mentioned something and then said: "That will be at the time when knowledge departs." I said: "O Messenger of Allah, how can knowledge depart when we recite the Qur'an, and we teach it to our children, and our children teach it to their children until the Day of Judgment?" He said: "May your mother mourn you, Ziyad! I used to think you were one of the most knowledgeable men in Madinah. Do not the Jews and the Christians read the Torah and the Gospel but do not act upon anything in them?" [Narrated by Ahmad, Ibn Majah, and also by Al-Tirmidhi and Al-Darimi from Abu Umama, may Allah be pleased with him]
اور داری کی روایت ابوا مامضی الدین کی ایسی ہے۔
علم دین کے سکھنے کی تاکید اور اس کا سبب
And the narration of Abu Mamdud al-Din emphasizes the importance of learning religion and its cause.
ابن مسعود ضی الدین سے مرودی ہے، انہوں نے کہا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلم نے فرمایا: علم دین سکھاوارے لوگوں کو سکھلاوے، فرانہ سکھاوارے لوگوں کو سکھلاوے قرآن پڑھاوارے لوگوں کو پڑھاواوے، اس لے کر میں وفات پائے والا ہول اور علم عنقریب اطلاعات کا اور فتنہ پھوت پڑنے گے حتی کہ دو آدمی کسی مستہ میں اختلاف کریں گے تو کسی کو کچھ علم کی تلت کی وجہ سے) ایا نہیں پائیں گے کہ وہ ان میں فیصلہ کر سکے۔ (اس کی روایت داری اور داری نے کی ہے۔)
و علم جس سے دوسرا کو فائدہ نہ پائے، اس اخزا نہے۔ جس کو راہ خدا میں خرچ نہ کیا جائے
Ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) said: The Messenger of Allah ﷺ said to me: "Learn knowledge and teach it to the people. Learn the obligatory duties and teach them to the people. Learn the Qur'an and teach it to the people. Indeed, I am a man whose life is limited, and knowledge will be taken away. Fitnah will appear until two people will differ over an obligatory matter and will not find anyone to judge between them." [Narrated by Al-Darimi and Al-Daraqutni]
ابوہریرہ ضی الدین سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلم نے فرمایا: اس علم کی مثل جس سے دوسرا کو فائدہ نہ پائے اس اخزا نہیں ہے۔ جس کو راہ خدا میں خرچ نہ کیا جائے۔ (اس کی روايت امام احمد اور داری نے کی ہے۔)
Abu Huraira (may Allah be pleased with him) said: The Messenger of Allah ﷺ said: "The example of knowledge that is not benefited from is like the example of treasure that is not spent in the way of Allah." [Narrated by Ahmad and Al-Darimi]