(کتاب اللہ اور سنن رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر مضبوطی سے جڑنے کا بیان)
ف: "کتاب" سے مراد کلام اللہ ہے اور "سنن" سے مراد آخضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے
اقوال، افعال اوراحوال پر جمن کوثر ریعت، طریقت اور حقیقت کہتے ہیں۔
وَقَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ: ﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا﴾ اور ارشاد باری تعالیٰ ہے
(سورۃ آل عمران، پ:4، ع: 11، آیت نمبر:103 میں) اللہ کی رہ کوسب کے سب مضبوطی سے
پکڑے رہیں۔
وَقَوْلُہٗ: ﴿لَقَدْ كَانَ لَکُمْ فِی رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ﴾ اور ارشاد باری تعالیٰ ہے
(سورۃ احزاب، پ:21، ع:3، آیت نمبر:21، میں) مسلماں! تمہارے لئے (پیروی کرنے کے
لئے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک عمدہ نمونہ موجود ہے۔
وَقَوْلُہٗ: ﴿قُلْ إِنْ کُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِی يُحْبِبْکُمُ اللَّهُ وَیَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوبُکُمْ
وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ﴾ اور ارشاد باری تعالیٰ ہے (سورۃ آل عمران، پ:3، ع:4، 31، میں) کہہ دو
(اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم!) اگرتم اللہ سے محبت رکھتے ہوتے میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت رکھے گا اور
تمہارے گناہوں کو خش دے گا اور اللہ بہت بخش دالے مہربان ہیں۔
وَقَوْلُہٗ: ﴿وَمَا اتَّبَعُکُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ، وَمَا نَهَاکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوا﴾ اور ارشاد باری
تعالیٰ ہے: (سورۃ حشر، پ:28، ع:1، آیت نمبر:7، میں) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) جس چیزا
حم دیاس کو لے لو اور جس سے منع کریاس سے بازرہو۔
وَقَوْلُہٗ: ﴿وَمَنْ یُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَٰئِکَ مَعَ الَّذِینَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَیْهِمْ مِنَ
النَّبِیِّنَ وَالصِّدِّیقِینَ وَالشُّہَدَآءِ وَالصَّلِحِینَ﴾ اور ارشاد باری تعالیٰ ہے (سورۃ نساء، پ:5،
ع:9، آیت نمبر:69، میں) جو اللہ کی اور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اطاعت کرے گا اس کا ثواب ان
لوگوں میں ہو گا جن پر اللہ تعالیٰ نے احسان فرمایا ہے نبیاں، صدیقین، شہدا اور صالحین میں۔
وَقَوْلُہٗ: ﴿مَنْ یُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ﴾ اور ارشاد باری تعالیٰ ہے (سورۃ نساء،
پ: 5، ع: 11، آیت نمبر: 80 میں) جس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اطاعت کی اس نے
اللہ کی اطاعت کی -
و یہ میں بات کا پیڑا کرنا قابل رہے
The Path to Firmly Adhere to the Book of Allah and the Sunnah of the Messenger of Allah (peace be upon him and his progeny).
The term 'Kitab' refers to the Word of Allah, and 'Sunnah' refers to the sayings, actions, and states of the Messenger of Allah (peace be upon him), which are known as his conduct, method, and reality.
And the statement of Allah, the Exalted and Glorious, is: "And hold firmly to the rope of Allah all together" (Surah Al-Imran, Vol. 4, Part 11, Verse 103), and the guidance of the Lord Almighty is to hold firmly to the path of Allah.
And His statement: "There is certainly in the Messenger of Allah an excellent example for you" (Surah Al-Ahzab, Vol. 21, Part 3, Verse 21), and the guidance of the Lord Almighty is that O Muslims! There is an excellent model for you in the Messenger of Allah (peace be upon him).
And His statement: "Say, [O Muhammad], 'If you should love Allah, then follow me, [so] Allah will love you and forgive you your sins. And Allah is Forgiving and Merciful.'" (Surah Al-Imran, Vol. 3, Part 4, Verse 31), and the guidance of the Lord Almighty is to say (O Muhammad, peace be upon him!), if you love Allah, then follow me, and Allah will love you and forgive your sins, and Allah is All-Forgiving and Most Merciful.
And His statement: "And whatever the Messenger has given you, take it; and what he has forbidden you, refrain from it" (Surah Al-Hashr, Vol. 28, Part 1, Verse 7), and the guidance of the Lord Almighty is that whatever the Messenger of Allah (peace be upon him) gives you, take it, and whatever he forbids you, refrain from it.
And His statement: "And whoever obeys Allah and the Messenger - those will be with the ones upon whom Allah has bestowed favor of the prophets, the steadfast affirmers of truth, the martyrs, and the righteous. And excellent are those as companions" (Surah An-Nisa, Vol. 5, Part 9, Verse 69), and the guidance of the Lord Almighty is that whoever obeys Allah and the Messenger (peace be upon him) will be among those upon whom Allah has bestowed favor, including the prophets, the truthful, the martyrs, and the righteous.
And His statement: "Whoever obeys the Messenger has obeyed Allah" (Surah An-Nisa, ...
In Surah Al-Anfal, verse number 80, it is stated that whoever obeys the Messenger of Allah (peace be upon him) has indeed obeyed Allah -
And may I be capable of laying the foundation of this discourse.
عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنبہاتے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
ارشاد فرمايا: جو شخص ہمارے اس (دین) میں ایک بات پیڑا کرے جواس دین میں نہیں ہے تو وہ قابل
رد ہے - (بخاری اور مسلم نے بالاتفاق اس کی روایت کی ہے) -
بہترین سیرت سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ہے
From Aisha (may Allah be pleased with her), who said: The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Whoever introduces something into this matter of ours that is not part of it, it will be rejected." [Agreed upon]
جابر ضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
حد و صلواۃ کے بعد فرمایا: واضح رہے کہ سب سے بہترین کلام، اللہ کی کتاب ہے، اور سب سے بہترین
سیرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ہے اور بدترین امور (دین میں) نئی باٹیں ہیں، اور ہر بدعت
گمراہی ہے - (مسلم نے اس کی روایت کی ہے) -
اللہ کے نزدیک تمام لوگوں میں تین شخص مبغوض ترین ہیں
From Jabir (may Allah be pleased with him), who said: The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "As for what follows: The best of speech is the Book of Allah, and the best of guidance is the guidance of Muhammad, and the worst of matters are those that are newly introduced, and every innovation is misguidance." [Narrated by Muslim]
ابن عباس ضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے نزدیک تمام لوگوں میں زیادہ مبغوض تین شخص ہیں: (1) حرم (مکہ کرمه)
میں بھویی کا روانج دینے والا، (2) اسلام میں جعلیت کا طریقہ چلنے والا، (3) ناقص مسلم کے
خون کا خوابال کاس کی خونزیزی کرے - (بخاری نے اس کی روایت کی ہے) -
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرماںبردار داخل جنت ہوگا اور آپ کا نفر مان منکر ہے
From Ibn Abbas (may Allah be pleased with both of them), who said: The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "The most disliked of people to Allah are three: a heretic in the sanctuary, one who seeks in Islam the practices of the time of ignorance, and one who demands the blood of a Muslim without a right, to shed his blood." [Narrated by Bukhari]
حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو ایک مثل دے کروا ضح کرنا
ابوہریرہ ضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا کہ میری تمام امت جنت میں داخل ہوگی۔ جزاس شخص کے جوانکار کرے، دریافت کیا گیا کہ انکار کرنے والے سے مراد کون ہے؟ فرمایا: جس نے میری فرمانبرداری کی وہ جنت میں داخل ہوااور جس نے میری نافرمانی کی اس نے انکار کیا۔ (بخاری نے اس کی روایت کی ہے)-
From Abu Huraira (may Allah be pleased with him), who said: The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Every member of my Ummah will enter Paradise, except for those who refuse." It was said: "Who would refuse?" He said: "Whoever obeys me will enter Paradise, and whoever disobeys me has refused." [Narrated by Bukhari]
جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چند فرشتے حاضر ہوئے اور آپ نیند میں تھے، انہوں نے کہا کہ تمہارے آخحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک مثل بہ اس کو بیان کرو، بعض فرشتے نے کہا کہ وہ نیند میں ہیں اور بعض نے کہا کہ ان کی آنکھ سو رہی ہے۔ کچھ دل بیدار ہے تو پچھروہ کچھ گل کر آخحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مثل اس شخص کی طرح جس نے ایک مکان تعمیر کیا اور مکان میں کھانا تیار کیا اور ایک دعوت دینے والے کو بھیجا جس نے دعوت دینے والے کی دعوت کو قبول کیا تو مکان میں داخل ہوااور کھانا کھایااور جس نے دعوت قبول نہیں کی تو وہ نگھر میں داخل ہوااور نہ کھانا کھایا، فرشتے نے آپس میں کہا کہ اس کی وضاحت بیان کروتا کہ وہ اس کو بچھیس، بعضول نے کہا: وہ تو سورہ ہیں اور بعضول نے کہا کہ آنکھ نیند میں ہےاور دل بیدار ہے، فرشتے نے اس مثل کی وضاحت یول کی کروہ مکان جنت ہے اور (بلانوالے) محمد صلی اللہ علیہ وسلم پیں تو جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں فرق کرنے والے ہیں لیجنی موسی اور کافر میں فرق کرنے والے ہیں-(بخاری نے اس کی روایت کی ہے)-
پیدونوں با تین بالکل ظاہر تحسین اس لے فرشتوں نے ان کی وضاحت نہیں کی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زندگی سب کے لئے ایک کامل نمونہ تو جو
آپ کے طریقتے روگردان ہوجائے اس کا آپ سے کوئی تعلق نہیں
From Jabir (may Allah be pleased with him), who said: The angels came to the Prophet (peace be upon him) while he was asleep, and they said: "Your companion has an example, so strike an example for him." Some of them said: "He is asleep." Some of them said: "His eyes are asleep, but his heart is awake." They said: "His example is like a man who built a house, placed a banquet in it, and sent an inviter. Whoever answered the call entered the house and ate from the banquet, and whoever did not answer the call did not enter the house and did not eat from the banquet." They said: "Interpret this for him so that he may understand it." Some of them said: "He is asleep." Some of them said: "His eyes are asleep, but his heart is awake." They said: "The house is Paradise, and the inviter is Muhammad (peace be upon him). Whoever obeys Muhammad (peace be upon him) has obeyed Allah, and whoever disobeys Muhammad (peace be upon him) has disobeyed Allah. Muhammad (peace be upon him) is the distinction between the people." [Narrated by Bukhari]
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم فرق کرنے والے ہیں کہ فرق کر دیا کافر اور موسی میں، حق اور باطل میں، صالح اور فاسق میں، کہانے سے مراد بہشت کی نعمتیں ہیں اور خضے مراد اللہ تعالیٰ ہیں،
_ اس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ تین ثلث ( لیعن علی، عثمان
بر مظعون او عبد اللہ بن رواحد رضی اللہ عنہم ) نی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بییون کی خدمت میں حاضر
ہوئے کہ آخحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت گزاری کے متتعلق دریافت کریں جب آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کی عبادت گزاری کی ان کو تفصیل سنا کی تو گویا انہوں نے اس کو کہمجھا اور انہوں نے کہا: تم
کہوالاور نی صلی اللہ علیہ وسلم کہمال، اللہ تو آپ کو اگلے پچھلے گناہوں سے محفوظ رکھا، ان میں سے
ایک نے کہا: اب میں تو، میش رات بھر نماز پڑھتا رہیون گا، دوسروں نے کہا: میں بیش دن میں
روزے رکھون گا اور کسی دن کا روزہ نہیں چھوڑوں گا اور تیسرے نے کہا: میں عورتوں سے کنارہ کش
رہیون گا اور کسی نکاح نہ کروں گا، پس آخحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے پاس تشریف فرما ہوئے
اور فرمایا: تم، یوہ لوگ ہو جنہوں نے ایا ایا کہا ہے، سنو! خدا کی فشت میں تم سے زیادہ اللہ سے ظرتا
ہوئے، اور سب سے زیادہ تقوی کرتا ہوئے، اور نی ( نف ) روزے رکہ لیتا ہوئے اور نہی اس کو چھوڑ دیتا
ہوئے، رات میں نمازیں نہی پڑھتا ہوئے اور سوتا ہیں ہوئے، اور عورتوں سے نکاح نہی کرتا ہوئے - تو جو
میرے طریقتے روگردانی کرے گا وہ مجھے نہیں ہے - (بخاری اور مسلم نے اس کی روایت کی ہے)-
دین میں غلو کرنے والوں پر تنزیہ
From Anas (may Allah be pleased with him), who said: Three men came to the wives of the Prophet (peace be upon him) asking about the worship of the Prophet. When they were informed about it, it seemed to them that it was too little. They said: "Where are we in comparison to the Prophet (peace be upon him), for Allah has forgiven him for his past and future sins?" One of them said: "As for me, I will pray all night forever." The second one said: "I will fast during the day forever and will not break my fast." The third one said: "I will abstain from women and will never marry."
Then the Prophet (peace be upon him) came to them and said: "Are you the ones who said such and such? By Allah, I am the most fearful of Allah and the most pious of you. But I fast and break my fast, I pray and sleep, and I marry women. So whoever turns away from my Sunnah is not from me." [Narrated by Bukhari and Muslim]
_ عاشر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
کوئی کام کیا اور لوگوں کو اس کے متتعلق رخصت دے دی - ایک قوم نے اس کے کر نے سے پرہیز کیا،
آخحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ملی تو آپ نے خطبے دیا، اللہ کی حمد بیان کی پھر فرمایا: اس قوم کا کیا
حال ہے کرائی بات سے پرہیز کرتے ہے جس کو مین کرتا ہول، خدا کی فتم میں ان تمام کی نسبت اللہ سے زیادہ واقف اوران سے زیادہ اللہ سے قربے والا ہول - (بخاری اور مسلم نے بالاتفاق اس کی روایت کی ہے)- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دین کی بات لے بغیر چارہ نہیں لیکن آپ اپنی راہے ظاہر فرمائی تو کیا کیا جائے؟
From Aisha (may Allah be pleased with her), who said: The Messenger of Allah (peace be upon him) did something and made it permissible, but some people refrained from it. When this reached the Messenger of Allah (peace be upon him), he delivered a sermon, praised Allah, and then said: "What is the matter with certain people who refrain from something that I do? By Allah, I know them best in relation to Allah and am the most fearful of Him." [Narrated by Bukhari and Muslim]
_ رفع بن خدنج رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے انہول نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لاگئے اور اہل مدینہ (کھجور کے نذر درخت کے پھول ماہے درخت میں ذو الاکرتے ٹھ)آپ نے فرمایا: کیا کر رہے ہو؟ انہوں نے کہا کہ تم اس طرح کیا کرتے ہیں، فرمایا: اگر تم ایمان کرو تو اچھا ہے، تو ان لوگوں نے (پطریقه) پھول دیا تو کھجور کم نقل، راوی نے کہا کہ ان لوگوں نے آخفرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، آپ نے ارشاد فرمایا: میں ایک انسان ہون، اگر میں تم کو تماہار دین کی کوئی بات کہون تو تم اس کو لے لواورجب میں تم کو اپنی راہے سے پھکہ کہون تو میں ایک انسان ہون (یعنی ہوسکتا ہے کہ اس میں چوک ہوجائے اس پر عمل کرنے ضروری نہیں ہے)-(امام مسلم نے اس کی روایت کی ہے)- حضرت صلی اللہ علیہ وسلم اوراس دین کی مثل اورآپ کی فرمائبرداری اورنا فرمائی کر نے والوں کی مثل
From Rafi' ibn Khadij (may Allah be pleased with him), who said: The Messenger of Allah (peace be upon him) came to Madinah and saw them grafting the date palms. He asked, "What are you doing?" They replied, "We are grafting them." He said, "Perhaps if you didn't do that, it would be better." They left it, and the yield decreased. They mentioned this to him, and he said: "I am only a human being. If I command you to do something concerning your religion, then follow it, but if I command you to do something based on my own opinion, I am just a human being." [Narrated by Muslim]
_ ابوموسی اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری مثل اوراس دین کی مثل جس کو اللہ نے مجھے دیکر بجاہے اس آدمی کے منڈے جو کسی قوم کے پاس آئے اور کہا قوم! میں نے اپنی آنکھوں سے ایک فونج کودیکھا جس
سے میں تم کو یقین کے ساتھ ظاہر کرتا ہوں جلد سے جلد یہاں سے نقل جائے، قوم کے ایک حصے نے اس بات کو مانا لی اور اخیر رات میں نقل پڑے اور اطمینان سے حج اور نماز پاگے اور قوم کے دوسروں حصن نے اس کو جھونٹا سمجھا وہ اسی جگہ پڑے رہے، فون نے ان پر نج مجحمل کردیا اور ان کو پوری طرح بلا کر دیا۔ میں مثل اس شخص کی بہمس نے میری اطاعت کی اور میری لاپتہ ہوتی باتوں کی پیروی کی (لمحت نجابت پاپا)اور میں شخص کی بہمس مثل بہمس نے میری نافرمانی کی اور اس حق کی تنذیب کی جس کو لے کر میں آیا ہوں (لمحت عذاب میں گرفتار ہوا)(بخاری اور مسلم نے بالاتفاق اس کی روایت کی ہے)-
From Abu Musa (may Allah be pleased with him), who said: The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "The example of me and what I have been sent with is like that of a man who came to a people and said: 'O my people, I have seen the army with my own eyes, and I am the clear warner. So flee, flee.' Some of his people obeyed him and left, traveling at their own pace, and they were saved. Some of them denied him, and they stayed in their place. The army came upon them in the morning and destroyed them. That is the example of the one who obeys me and follows what I have brought, and the example of the one who disobeys me and denies the truth that I have brought." [Narrated by Bukhari and Muslim]
حضرت صلی اللہ علیہ وسلم اورآپ کی امت کی ایک اور مثل وضاحت کے ساتھ علیہ وسلم نے فرمایا میری مثل اس شخص کے ماںدہ جس نے آگ سلکانی جب اس کے اطراف (لمحت چارول حث)روشن ہوگئے تو پھگ اورآگ میں گرنے والے کیڑے آگ میں گرنے گے، ایسا ہے میں تم کو آگ میں گرنے سے پچانے کے لیے تمہاری کمر کو پکڑ ربا ہول اورتم آگ میں گرتے جارہے ہو(بخاری کی روایت کے)-
From Abu Huraira (may Allah be pleased with him), who said: The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "My example is like that of a man who lit a fire, and when it illuminated everything around it, the moths and insects began falling into the fire. He tried to prevent them, but they overwhelmed him and continued to fall into it. I am holding onto your waist to pull you away from the fire, but you are slipping away and falling into it." [Narrated by Bukhari, and a similar narration is Narrated by Muslim, who adds at the end: "This is my example and your example. I am holding onto your waist to pull you away from the fire, saying: 'Come away from the fire, come away from the fire,' but you are overpowering me and falling into it."
اورمسلم میں بعضی یہاں کے ای طرح بہ جس کے آخر میں پول کے: پس میری اور تمہاری مثل ہے کہ میں تمہاری کمر پکڑے ہوئے ہول کرتا آگ کے سے پچانے، میری طرف آؤ آگ کے سے پچو! میری طرف آؤ آگ کے سے پچو! مگر تم مجھ پر غالب ہوکر آگ میں گرنے ہو(لمحت میرا کہنا نہیں سنے ہو)-
علم رسالت کی ایک روش تمثال
From Abu Huraira (may Allah be pleased with him), who said: The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "My example is like that of a man who lit a fire, and when it illuminated everything around it, the moths and insects began falling into the fire. He tried to prevent them, but they overwhelmed him and continued to fall into it. I am holding onto your waist to pull you away from the fire, but you are slipping away and falling into it." [Narrated by Bukhari, and a similar narration is Narrated by Muslim, who adds at the end: "This is my example and your example. I am holding onto your waist to pull you away from the fire, saying: 'Come away from the fire, come away from the fire,' but you are overpowering me and falling into it."
اللہ تعالیٰ و سلم ﷺ فرمايا: اس بھدابت اور علم کی مثل جس کو دے کر خدا نے مجھ کو بھیجا ہے کئی بارش کے ما نہ دے ہو کسی زمین پر برے، زمین کا (1) ایک عمدہ حصہ تھا کر جس نے پانی کو قبول کر لیا اور اس سے خشک گھاس اور زرگھاس کو بکثرت اگایا، اور زمین کا (2) دوسرا حصہ سخت تھا جس نے پانی کو رک کر گھا، اللہ نے اس سے لوگول کو نفع پہنچایا، لوگ خود پیے اور جانورن کو پلا یے اور کچیتی باری کی، زمین کا (3) تیسرا حصہ جوچیل میدان تھا ن تو وہ پانی کو رک کر گھا اور زرگھاس پاتا گا ے، پیمثال اس شخص کی ہے جس نے اللہ کے دین کو تجھا اور اللہ نے اس کو علم و بہايت سے نفع پہنچایا جس کو مجھ دے کر بھیجا ہے کر اس نے خود علم سیکھا اور دوسرو ل کو سکھا اور پیاس شخص کی بھی مثل ہے جس نے اس بہايت کی جانب توجہ دین کی اور ن اللہ کی اس بہايت کو قبول کیا جس کو مجھ دے کر بھیجا گیا ہے (بخاری اور مسلم نے بالاتفاق اس کی روایت کی ہے)-
From Abu Musa (may Allah be pleased with him), who said: The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "The example of what Allah has sent me with, of guidance and knowledge, is like a heavy rain that fell upon the earth. Some of the land was good, accepting the water, which then grew lush plants and abundant grass. Some land was hard, retaining the water, and people benefitted from it by drinking, irrigating, and planting. And some land was barren, unable to retain the water or grow plants. This is the example of the one who understands the religion of Allah and benefits from what I have been sent with, who learns and teaches others. And the example of the one who turns away and does not accept the guidance of Allah that I have been sent with." [Narrated by Bukhari and Muslim]
عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (سورۃ آل عمران،پ:3،ع:1،آیت نمبر:7،کی)یا آیت تلاوت فرماتی ہو الّذی انزل عَلَیْکَ الْکِتَبَ مِنْہُ ایث مُحْکَمَتٌ هُنَّ أُمُّ الْکِتَبِ وَأُخَرُ مُتشَبِهَتٌ، فَاَمَا الَّذِينَ فِی قُلُوبِهِمْ زَیْغٌ فَیتَّبعُونَ مَا تَشابَهَ مِنهُ ابْتِغاًءَ الْفِتنَةِ وَابْتِغاًءَ تَاوِیلِهِ، وَمَا یَعْلَمُ تَاوِیلَهُ الا اللہُ، وَالرَّسِخُونَ فِی الْعِلْمِ یَقُولُونَ امَنا بِهِ، كُلٌّ مِنْ عِندِ رَبِّنا، وَمَا یَذَّکَرُ الا اُولُوا الْبَابِ)
حال انہوں اللہ کے سوال کا اصلی مطلب یہ کو معلوم نہیں اور جولگ علم (دین میں) پختہ ہیں وہ تو اتنا ہی
کہہ کر رہ جاتے ہیں کہ اس پر ہمارا ایمان ہے، یہ بھی چہہ ہمارے پروانگار کی طرف سے ہے اور
نصحت وہی لوگ قبول کرتے ہیں جن کو عقل اور بجہت ہے۔
قتہ آیت کی ثواب میں رہے والوں کا شمار ہو گا اور وہ میں ہے
ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ خضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جب وقت کے توڑ کیے اور مسلم میں پول ہے۔ جب تم ان کو کچھ کہو کہ قوت آیت کے پیچھے پڑ گئے ہیں
تو مجھے لوحہ پیچھی وہ لوگ پیچھے جن کا نام اللہ نے (اس آیت میں) کہ روا کرنے والے رکھا ہے تو تم
ایسے لوگوں سے دور رہو۔ (بخاری اور مسلم میں متفرق طور پراس کی روایت کی ہے)-
پیچھے امتون میں لوگ کتاب اللہ میں اختلاف کرنے سے پلاک ہوئے ہیں
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں ایک دن
دوپہر کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم
نے دوآدمیوں کی آواز سن جو ایک آیت کے بارے میں اختلاف کر رہے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ
وسلم برآمد ہوئے اور آپ کے چہرہ مبارک پر غصہ کے آثار تھے، فرمایا: تم سے پیلے کے لوگ اللہ کی
کتاب میں اختلاف کرنے کی وجہ سے پلاک ہوئے ہیں۔ (اس کی روایت مسلم میں کی ہے)-
ف : یہاں اختلاف سے مراد گمراہ فرقون کا اختلاف ہے، اتمہ مجہتدین کا اختلاف مراد نہیں، ایسا
اختلاف تو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے کچھ منقول ہے جو باعث رحمت ہے-
مسلمانوں میں سب سے بڑا مجرم مسلمان کون ہے؟
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرودی کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلموں میں سب سے بڑا مجرم وہ مسلمان ہے جس نے کسی ایک چیز کا
سوال کیا جو مسلماں پر حرام نہیں گراس کے سوال کی وجہ سے وہ حرام کردیگئی - (مسلم نے اس کی روایت کی ہےاور بخاری کی روایت کی اس طرح ہے)- آخری زمانے میں بکثرت دجال اور کذاب پیراہول گے اور ان سے دور رہنے کی تاکید فرمائی: آخری زمانے میں بہت سے دجال اور کذاب پیراہول گے جو عقائد فاسدہ اوراحکام باطلہ ثابت کرنے کے لیے) ایسے حدثین بیان کریں گے جن کونہ توتم نے سنااور نہ تمہارے بابپ دادا نے، ان سے تم دور رہو، کہیں وہ تم کوگمراہ نہ بنادیں اورفتنه میں متلازمردیں -(مسلم نے اس کی روایت کی ہے)- اعلی کتاب کی نقصانی کی جاے اور نہ تکذیب
From Aisha (may Allah be pleased with her), who said: The Messenger of Allah (peace be upon him) recited: {He is the One who sent down to you the Book, containing verses that are clear and others that are ambiguous...} (Al Imran 3:7), and then he recited: {None will take heed except those with understanding.} The Messenger of Allah (peace be upon him) then said: "When you see those who follow the ambiguous verses, they are the ones whom Allah has mentioned. Be cautious of them." This is agreed upon by Bukhari and Muslim.
The actual meaning of Allah's question is unknown to them, and those who are well-versed in religious knowledge only say so much that they have faith in it, and this too is due to the guidance of our Prophet (peace be upon him). Only those who possess wisdom and discernment accept advice. Those who remain steadfast in the reward of the verse will be counted among them, and I am among them. Aishah Siddiqah (may Allah be pleased with her) narrates that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: 'When the time comes, and it is mentioned in Muslim, if you tell them that they have fallen behind due to the power of the verse, then those whose names Allah has recorded as those who will fall behind in this verse, stay away from such people.' (This tradition is narrated in Bukhari and Muslim separately.)
People have been misled from the Book of Allah due to disagreements. It is narrated from Abdullah bin Umar (may Allah be pleased with both of them) that he said: 'One day, at noon, I was in the service of the Messenger of Allah (peace be upon him) when he heard two men arguing about a verse. The Noble Prophet (peace be upon him) came out, and his blessed face showed signs of anger. He said: 'People before you were destroyed because they disagreed about the Book of Allah.' (This tradition is narrated in Muslim.)
Here, disagreement refers to the misleading differences, not the differences of opinion among the mujtahids. Such differences are reported from the noble Companions (may Allah be pleased with all of them) and are a source of mercy.
Who is the greatest sinner among Muslims? Saad bin Abi Waqas (may Allah be pleased with him) narrates that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: 'The greatest sinner among Muslims is one who asks about something that is not forbidden for Muslims, and due to his question, it becomes forbidden.' (Muslim has narrated this tradition, and Bukhari's narration is as follows:)
In the last times, many Dajjal and false prophets will appear, and you are advised to stay away from them. In the last times, many Dajjal and false prophets will appear, who will propagate false beliefs and invalid commands. They will narrate hadiths that neither you nor your forefathers have heard. Stay away from them, lest they mislead you and cause you to fall into trials. (Muslim has narrated this tradition.)
Do not tamper with the noble book or deny it.'
(اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم )وہی (زات پاک) جس نے تم پر(پی) کتاب اُتا ری جس میں بعض آیتیں کی (یعنی صاف اور صرتے) ہیں کرو،ی اصل کتاب میں اور بعض دوسری مبہم (کہ ان کے معنون میں کئی پہلو نکل سکتے ہیں) تو جن لوگوں کے دولون میں گی ہے وہ تو (ویں میں فسار پیادا کرنے اور ان کے اصل مطلب وصونت نے کی غرض سے قرآن کی نہیں مبہم آئیوں کے پیچ پڑے رہے ہیں
عنبرانی زبان میں پڑھ کراعلی اسلام کے لےعربی میں اس کی تفسیر کیا کرتے حتیوہ آخضرت صلی اللہ علیه وسلم نےفرمايا کراعلی کتاب کی نقصانی کرواور نہ تکذیب بلکہ یول کہو امنا بالله وما انزل علينا الخ (سورہ بقرہ،پ:1،ع:16،آیت نمبر:136)،تم اللہ پر ایمان لاے اوراس کتاب پر ایمان لاے جوہمارے لے نازل کی گئی ہے-(امام بخاری نے اس کی روايت کی ہے)- کسی چیز کوس کر بلا تحقیق بولا پھر ناکہی ججوٹ ہے
·
Anas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “By the One in Whose Hand is my soul, a servant does not believe until he loves for his brother what he loves for himself.” [Agreed Upon]
عنبرانی زبان میں پڑھ کراعلی اسلام کے لےعربی میں اس کی تفسیر کیا کرتے حتیوہ آخضرت صلی اللہ علیه وسلم نےفرمايا کراومی کے ججوٹاہو نے کے لے اتنا کافی ہے کہ وہ جوپکھسن لے اس کو(بلا تحقیق) بولا پھر ہے-(اس کی روايت امام مسلم نے کی ہے)-
جہاد بالیدر، جہاد بالسان اور جہاد بالقلب کی ضرورت
The necessity of jihad with the hand, jihad with the tongue, and jihad with the heart.
ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کسی نبی کو اللہ تعالیٰ نے مجھ سے پہلے کسی امت میں بھیجا تو لازماً اس نے کے لئے اس کی امت میں چند مدگار ورسائی رہے ہیں جواس نبی کے طریقے پر پابند رہے اوراس کے حکم کی پیروی کرتے رہے۔ ان کے بعد ان کے برے جاشین آئے جوانی با تمی کیتے رہے جو خود نہیں کرتے تھا اور ایسے کام کرتے رہے جن کے کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا، ایسے لوگوں کے ساتھ جس نے ہاتھ تے جہاد کیا وہ مومکن ہے اور جس نے ان کے ساتھ زبان سے جہاد کیا (لعن منع کیا) وہ جسی مومکن ہے اور جس نے ان کے ساتھ دل سے جہاد کیا وہ جی مومکن ہے اور اس کے سوا ایمان کا کوئی درجہ نہیں کے دانے کے برابر جی نہیں ہے (یعنی جس نے دل سے برآئے جانا تو گویا بری بات پر راضی ہوا؛ پس یکفرہ )۔( اس کی روایت امام مسلم نے کی ہے )۔
ہدایت کی طرف بلانے والے کی فضلیت اور گمراہی کی طرف بلانے والے کی نذارت
From Ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him), who said: The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "There was no prophet sent by Allah to any nation before me, except that he had companions and disciples who followed his way and acted according to his commands. Then after them came a group who spoke without acting, and acted without being commanded. Whoever struggles against them with his hand is a believer, and whoever struggles with his tongue is a believer, and whoever struggles with his heart is a believer. There is no faith beyond that, not even the weight of a mustard seed." [Narrated by Muslim.
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص بدایت کی طرف بلاتا ہے تو اس کو اتنے ثواب ملے گا جتنا اس بدایت پر عمل کرنے والے کو ملے گا اور ان پیروی کرنے والوں کے ثواب میں سے ثواب پچھکی نہ کرے گا، اور جس نے گمراہی کی جانب بلا یا تو اس پر اتنا، یا گناہ ہوگا جتنا اس گمراہی کے عمل کرنے والوں پر ہوگا اور یہ گناہ اس پر مل کرنے والوں کے گناہوں میں سے کوئی کی نہیں کرے گا۔( اس کی روایت مسلم نے کی ہے )۔
اسلام کا آغاز غریب الوطنی میں ہوا
From Abu Huraira (may Allah be pleased with him), who said: The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Whoever calls to guidance will have the same reward as those who follow him, without diminishing their rewards in any way. And whoever calls to misguidance will have the same burden of sin as those who follow him, without diminishing their sins in any way." [Narrated by Muslim.
علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام کا آغاز غریب الوطن میں ہوا اور منقریب لوٹ کر الیا، غریب الوطن بن جائے گا جسیا کہ ثروت عطا ہوئی تو خوشی بھوگریب الوطن کے لئے۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے)-
ایمان میں کی جانب سمٹ کرآجاۓ گا
From Abu Huraira (may Allah be pleased with him), who said: The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Islam began as something strange and it will return to being strange, so blessed are the strangers." [Narrated by Muslim.
چندفرشتول نے اللہ تعالیٰ نہیں صلی اللہ علیہ وسلم، اسلام اور جنت کو ایک مثل کے ذریعہ بجايا
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان میں کی جانب سمٹ کرآجاۓ گا جس طرح کسی ساتھ چوطرف پھر کر پھراپھی بل میں آجاتا ہے۔ (بخاری اور مسلم نے بالاتفاق اس کی روایت کی ہے)-
Faith will be lost in the same way that a pot turns on its side when it is placed on a slope.
ربیعة الجرشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں چندرفت شتہ دکانی ویا اورآپ سے کہا گیا کہ تمہاری آتمہ سوجابے اور کان ستہ رہیں اور دل بچتار ہے، آپ نے فرمایا: میری آتمہ سوتی ہے اور میرے دونوں کانول نے سناؤر میرادل سمجھا (آخحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے کہا گیا کہ ایک مردار نے مکان بنایااوراس میں پھڑکانا تیار کیااور ایک دعوت دینے والے کو بھیجا تو جس نے بلا نے والے کی دعوت کو قبول کیا تو گهر میں داخل ہوااور کہنا نتاول کیااوراس سے مردار خوش ہوا، اور جس نے دعوت قبول نہیں کی تو وہ گهر میں داخل نہیں ہوااور کہنا بھی نہیں کہیااوراس سے مردار ناراض ہوا۔ آپ نے فرمایا کہ مردار تو اللہ ہے اور مجھے صلی اللہ علیہ وسلم دعوت پیچھا نے والے پیااور مکان اسلام میں اور کہنا جنت ہے۔ (اس کی روایت داری نے کی ہے)-)
انکار حدیث کے فتنہ کی جانب اشارہاوراس کی نذمت
From Rabi'a al-Jurashi (may Allah be pleased with him), who said: The Prophet (peace be upon him) was approached, and it was said to him: "Let your eyes sleep, let your ears hear, and let your heart understand." He said: "My eyes slept, my ears heard, and my heart understood." Then it was said to me: "A master built a house and set up a banquet within it. He sent an invitation, and whoever responded to the invitation entered the house, ate from the banquet, and was pleased with the master. But whoever did not respond to the invitation did not enter the house, did not eat from the banquet, and the master was angry with him." I said: "Allah is the master, Muhammad is the inviter, the house is Islam, and the banquet is Paradise." [Narrated by al-Darimi.
ابورافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہرگز نہ پاول میں تم سے کسی کو اس طرح کروہا پنی کری پر طیک لگائے ہواوراس
کے پاس میری کوئی حدیث پائے، جس میں میں نے حکم کیاہے یا جس میں منع کیاہے اوراس پروہ کچھ
کر میں نہیں جانتا (یعنی اس حدیث کو نہیں مانتا) اہلِ کتاب میں جوپڑھہ تم نے پایاہے اس کی تم
پڑھوی کریں گے۔ (اس کی روایت امام احمد، البخاری، ترمذی، ابن ماجہاور نہیں نے دلالہ نہیں ہے)
ف: اس حدیث میں حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکرین حدیث کے متعلق واضح
اشارہ فرمایے کہ وہ ازراہ جہالت پول کہا کریں یا کر کتاب اللہ کے سوا تم پڑھنیں جاتے اوراس کے
سوامتمکسی پڑھوی نہیں کرتے حالاکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جس طرح قرآن عطا ہواہے اس
طرحدیت کچھ عطا ہونی ہے اورثریعت کے احكام جس طرح قرآن سے ثابت ہوتے ہیں، اس طرح
احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہوتے ہیں اس کے بعد جو حدیثیں آری، یہیں وہ کچھ اس کی
تاشیکرتی ہیں۔
منکرین حدیث کی تردید اور ان چیزوں کا ذکر جن کی حرمت اورحلت قرآن میں
موجود نہیں بلکہ صرف حدیث سے ثابت ہوتی ہے
The Messenger of Allah ﷺ said: 'I will never accept any innovation from you that is based on ignorance, nor will I accept any tradition from which I have not commanded or prohibited something, and of which I am unaware (meaning, I do not accept it). Whatever you find in the Book of Allah, recite it as such. (This hadith is reported by Imam Ahmad, Bukhari, Tirmidhi, Ibn Majah, but there is no evidence for it.) In this hadith, the Messenger of Allah ﷺ clearly indicated that they would innovate out of ignorance or act contrary to the Book of Allah, and they would not recite anything other than what is in the Quran, although the noble Prophet ﷺ was given something similar to the Quran, and the rulings of the Shariah are established through the Quran just as they are through the hadiths of the Prophet ﷺ. After that, whatever hadiths come, they are verified in this manner. The rejection of hadith and the mention of things whose sanctity and status are not found in the Quran but are only established through hadith are addressed.'
مقدارم بن معد کبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت نے انہوں نے کہا کر رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھی طرح سن لو مجھے قرآن دیا گیا اور اس کے ساتھ اس کے مثال
حدیث دی گئی نہیں لو! عمنقریب ایک شخص پیٹ بھراؤا پنی کری پر تکبیر کیہوئے کہ گا کر اس قرآن کو
لے لو، اس میں جو چیز حلال پاواس کو حلال کچھ، اور جس چیز کو حرام پاواس کو حرام کچھ حالاکہ خدا کے
رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح بعض چیزوں کو حرام قرار دیاہے جس طرح اللہ نے حرام قرار دیا
ہے، آگاہ ہو جاو کہ یہ لگدا تمہارے لیے حلال نہیں ہے اور ہر کوئی والادرندہ کچھ حلال نہیں ہے
اور زمی کا فری کی راستی میں پڑی ہوئی چیز کچھ حلال نہیں ہے لیکن ایسی صورت میں کہ اس کا ماک اس
راستے میں گری ہوئی چیز کی پرواہ نہ کرتا ہو، اور جو شخص کسی قوم کے پاس مہمان جائے تو اس قوم پراس
کی مہمانی ضروری ہے، اگر وہ اس کی مہمانی نہ کرے تو مہمان اس سے بقدر مہمانی جبرآحاصل کرسکتا
ہے۔ (اس کی روایت ابوداود نے کی ہے اورداری نے کہی اس طرح کی روایت کی ہے اوران ملجہ
نے "کما حَرَّمَ اللہ "مک ایسائی روایت کی ہے)-
ف(1): ملاعلی تاری رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ خضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد "فَعَلیْهِمْ آنُ
یَقْرُوْہ فَان لَمْ یَقْرُوْہ فَلَہ آنْ یُعْقِبُہُمْ بِمِثْلِ قِرْآہ۔" (قوم کے مہمان کی ضیافت قوم پر ضروری ہے
اگر وہ اس کی مہمانی نہ کریں تو وہ ان سے بقدر مہمانی جبرآحاصل کرسکتا ہے) یہ حکم ابتداء اسلام میں
ضروری تھا اور میزبان سے بقدر میزبانی حاصل کر لینا مجمل ان واجبات کے ہے جو وجوب زکوۃ سے
منسوخ ہوچکہ ہیں-
ف(2): اس حدیث میں گریلوگدے کی حرمت کا ذکر ہے جوصرف سنن لیعن حدیث سے
ثابت ہے، کتاب اللہ میں اس کا ذکر نہیں ہے اور حکم بطورمثال بیان کیا گیا ہے، اس پر انحصار مقصود
نہیں، اس کا ذکر طبی نے کیا ہے اور اس طرح بہت سی چیزیں حدیث سے حرام کردی گئی ہیں اور حدیث
میں ذم کی گری ہوتی چیز کا بطور خاص اس لے ذکر فرمایا گیا ہے کر اس سے معابدہ کے اہتمام کا ظہار
مقصود ہے کیون کہ فری ملک ہو نے کی وجہ سے اس کو اٹھا لین اور اس کو لے لین کا خیال پیرا ہوتا ہے
حالا نک کافر سے معابدہ ہو نے کے بعد معابدہ کا حاظ ثر پیت میں نہایت ضروری ہے-(ازمرقات)-
ف(3): "فَعَلیْهِمْ آنْ یَقْرُوْہ " راہ خدا کے مجابد کی مہمانی کے نزوم کا حکم ابتداء اسلام میں تھا
کیون کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جہاد کے لے فوج کے جتہ روانہ فرما تے تھے جن کا گزر عرب کے
قبیلوں پر ہوتا تھا، مہمان کے لے نقوکولی بازار ہوتا کہ کہنا خرید لیس اور نفو جیول کے ساتھ تو شہوتا،
اس لے قبیلوں پران فو جیول کی مہمانی لازمی قرار دی گئی تا کہ ان کا سفر منقطع نہ ہو جائے گر جب اسلام
قوی ہوگیا تو عام طور سے رحم و کرم کا سلوک جی عام کرو یا گیا اور میزبانی کا نزوم منسوخ کرو یا گیا البتہ
صرف جواز اور استحباب باقی رہ گیا-(ازمرقات)-
حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ میں منہر بن حدیث کا رد فرماناوران چیزوں کا ذکر فرماناجن کی مما نعت صرف حدیث سے ثابت ہے
The Messenger of Allah ﷺ said: 'Listen well to me. The Quran has been given to me along with its like, but not its example. Take it! A man will fill his belly and perform ablution, then say the takbir and take this Quran. In it, whatever is declared lawful is lawful, and whatever is declared unlawful is unlawful. However, the Messenger of Allah ﷺ has made some things unlawful in the same way that Allah has made them unlawful. Know that what is prohibited for you is not lawful for you, and no one who is under obligation can make anything lawful, and nothing found on the road is lawful unless one does not care about it. If someone goes as a guest to a people, it is obligatory for that people to entertain him. If they do not entertain him, he may forcibly take from them the equivalent of his entertainment.' (This narration is reported by Abu Dawud, and Darin has narrated it thus, and An-Malji has narrated it as 'kama harraAllah' in another version.)
This hadith mentions the sanctity of women's private parts, which is established by the Sunnah, meaning it is derived from the hadith, as it is not mentioned in the Book of Allah. The ruling is presented as an example, and reliance is not intended solely on this. It has been mentioned by physicians, and many things have been declared forbidden through hadith. In this hadith, a specific thing that is considered reprehensible is mentioned to emphasize the importance of maintaining modesty, because the thought of picking it up and taking it away arises due to its being uncovered. However, after purification from a non-believer, it is extremely necessary to maintain purity in the place of worship, (from Al-Marghah), (3): 'So they may graze' refers to the command for hospitality towards the guests of God’s path, which was in practice at the beginning of Islam. This was because the noble Prophet ﷺ would send out armies for jihad, and their route would pass through Arab tribes. There were markets where they could buy provisions and travel with ease. Therefore, these tribes were obligated to provide hospitality to ensure that their journey was not interrupted. When Islam became strong, the general practice of kindness and generosity became widespread, and the obligation of hospitality was abrogated. However, the permissibility and desirability remained, (from Al-Marghah), In his sermon, the Prophet ﷺ refuted the hadith of Manah ibn Hadith and mentioned those things whose characteristics are only established by hadith.
مسلمان حاکم کی اطاعت اور خلافاء راشدین رضی اللہ عنہم کے طریقے کے اختیار کرنے پرتا کیے
عرباض بن ساریرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ کیا تم میں سے کسی کا یخیال ہے کہ وہ اپنی کسی پرتکیفگا کہ ہوئے یگمان کر کے اللہ نے سوا میں چیزوں کے کسی کو حرام نہیں فرمایا جن کا ذکر قرآن میں ہے! سنو خدا کی فتوی میں میں نے حکم کیا دیا ہے، وعظ کی کہا ہے اور کیا میں چیزوں سے منع کیا ہے جو قرآن کی ممنوع چیزوں کے مشہور یا نہیں زاہد نہیں، چنانچہ اللہ نے پیجا تزرق ارہیم رکھا ہے کہ تم ابل کتاب کے گروں میں ان کی اجازت کے بغیر داخل ہوجاؤ اور ناس کی اجازت دی ہے کہ تم ان کی عورت کو مار پیٹ کرو، اور ناس کی اجازت ہے کہ ان کے میواد کو کھلا لو، جبکہ وہ اس رقم کو ادا کریں، جس کی ادائیگی ان پروا جب ہے۔ (اس کی روایت بودا ودنے کی ہے)
Narrated Al-Irbad ibn Sariyah (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (ﷺ) stood up and said: "Does any one of you think, reclining on his couch, that Allah has not prohibited anything except what is in this Qur'an? Verily, by Allah, I have commanded, admonished, and prohibited things. They are like the Qur'an or even more. And indeed, Allah has not permitted you to enter the houses of the People of the Book except with permission, nor to strike their women, nor to eat their fruits unless they give you what is owed to them." [Narrated by Abu Dawood]
عرباض بن ساریرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ایک روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام کونماز پڑھائی، چھترہماری جانب متوجہ ہوئے اور ایسا بلیغ خطبہ ارشاد فرمایا کہ نسوں کل پڑھے اور دل خوف سے لرزے، ایک شخص نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ وعظ تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایک رخصت کرنے والے شخص کا وعظ ہے، ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام کو پڑھو صیت فرمائیے، ارشاد ہوا: میں تم کو خدا کے ذرت رہنے اور (حاکم کی) اطاعت اور تابعداری کی وصیت کرتا ہوں اگر چہتمہارا امیر جبشتی غلام ہے کیونکہ ہو، اس کے میرے بعد جو کچھ تم میں زندہ رہے گا وہ بہت سے اخلافات دیکھے گا، ایسی حالت میں تم پر میری سنہ اور نیک بدایت یافتہ خلفاء کا طریقت اختیار کرنا
ضروری ہوگا، ان طریقون کو دانشول سے مضبوط پکڑ لو، اور نئی نئی بالول سے پکڑو، اس
لئے کہ هرئی باٹ بدعت ہے اور بدعت گمراہی ہے۔ (امام احمد، البوداود، ترمذی اور ابن
مجہد نے اس کی روایت کی ہے اور ترمذی اور ابن ماجہ نے نماز پڑھنا نے کازکر نہیں ہے)-
حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خط کچھ کر صراط مستقیم اور گمراہ راہوں کی تفصیم فرمائی،
راہ حق ایک ہے ناقق بہت ہیں
And from him (may Allah be pleased with him) who said: The Messenger of Allah (ﷺ) led us in prayer one day, then he turned to us with his face and gave us an eloquent admonition, from which tears flowed and hearts trembled. A man said: "O Messenger of Allah, it seems as if this is a farewell advice. So advise us." He (ﷺ) said: "I advise you to fear Allah, listen, and obey, even if a black Abyssinian slave becomes your leader. Indeed, whoever lives after me will see many differences. So, you must follow my Sunnah and the Sunnah of the rightly guided Caliphs. Hold fast to it and bite onto it with your molars. And beware of newly introduced matters, for every innovation is a misguidance, and every misguidance is a deviation." [Narrated by Ahmad, Abu Dawood, Tirmidhi, and Ibn Majah, except they did not mention the prayer.]
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم
علیہ الصلاۃ وا سلام نے ہمارے سامنے ایک خط کچھ پا اور پھر فرمایا: یہ دا کاراستہ ہے، پھراس خط کے
سیدے اور باقی جانب چند خطوط کچھ اور فرمایا: یہ چند راستے ہیں ان میں سے ہر ایک راستہ پر ایک
شیطان ہے جو پیطرف بلا تا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (سورہ انعام، پ:8، ع:19، آیت
نمبر:153، کی) پرآیت) تلاوت فرمائی وَآَنَّ هَذَا صِرَاطِی مُسْتَقِیمًا فَاتَّبِعُوْهُ ...... الخ)
(یہ میرا راستہ سیدہا ہے اس کی چروی کرو!) - (اس کی روایت امام احمد، نسائی اور دارمی نے کی
ہے)-
کوئی شخص پورا ایمان دار نہیں ہوتا جب تک اس کی خواہشات ثمر لیعت کے تابع نہیں ہوتین
Narrated Abdullah ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (ﷺ) drew a line for us, then said: "This is the path of Allah." Then he drew several lines to the right and left of it and said: "These are the paths, and on each of them there is a devil calling to it." Then he recited the verse: {And indeed, this is my straight path, so follow it} (Al-An'am: 153). [Narrated by Ahmad, Nasai, and Darimi]
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے روایت ہے انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص موسی نہیں ہوسکتا یہاں تک کہ اس کی خواہش اس دین کی
انح نہ بن جانے جس کو میں لا یا ہوں (امام بلغوی نے شرح السنة میں اس کی روایت کی ہے اور امام
نووی نے اپنی اربعین میں فرمایا ہے کہ پیغمبر کے اوراس کوتم نے کتاب انجیل میں تج اساد کے
ساتھ روایت کیا ہے)-
کسی مردوہ سنہ کو زندہ کر نے کا ثواب اور دین میں کیا بات پیدا کر نے کا گناہ
The Messenger of Allah ﷺ said: 'None of you can be like Moses, who wished to see Allah but was not granted it. And none of you can be like the one whom I bring forth (in terms of status or virtue).' [Imam Baghawi has narrated this in Sharh as-Sunnah, and Imam Nawawi has mentioned in his Forty Hadith that the Prophet and the people of the Book have narrated it along with the Tafsir of the Gospel.] - The reward for reviving a dead year and the sin of introducing something new in religion.
بلال بن حارث رضی اللہ تعالیٰ علیہ روایت نے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے میری کسی سنہ کو زندہ کیا جو میرے بعد مردہ ہوئی ہو (یعنی اس پر خود عمل کیا اور لوگوں کو اس پر عمل کرایا) تو اس کواس پر عمل کر نے والوں کے ثواب کی طرح جسی ثواب ملے گا اور اس تے ان کے اجر میں کسی فرق کی کی نہ ہوگی اور جس نے کوئی نئی گراہ کی باٹ ایجاد کی جس کو اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پسند نہیں کرتے ہیں تو اس کواس کے عمل کر نے والوں کا گناہ بھی ملے گا اور اس تے ان عمل کر نے والوں کے گناہوں میں کسی فرق کی کی نہ ہوگی۔ (اس کی روایت تزندی نے کی ہے)۔
دین میں جواز میں سمط کرآ جاتے گا
Narrated Bilal ibn Harith al-Muzani (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever revives a Sunnah of mine that has been neglected after me, will have the reward of those who act upon it, without diminishing their rewards in any way. And whoever innovates a misguided innovation, which neither Allah nor His Messenger are pleased with, will have the burden of the sins of those who act upon it, without diminishing the sins of the people in any way." [Narrated by Tirmidhi]
عمرو بن عوف رضی اللہ تعالیٰ علیہ روایت نے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دین، جواز میں سمط کرآ جاتے گا جس طرح سانپ (چوطر فگوم کر) پھرا پھی بل میں آ جاتا ہے اور دین جواز میں طرح پناہ گزیں ہوگا جس طرح پہاڑی بکری پہاڑ کی چوٹی میں پناہ گزیں ہوتی ہے اور دین کی ابتدا غریب الوطنی سے ہوتی ہے اور عمق ریب پھراس کی ہی حالت ہوگی۔ جس طرح کاس کی ابتدا ہوتی ہے۔
غریب الوطون کو خوشخبری اور یکون؟
پس غریب الوطون کو خوشخبری ہو، اور پیوہ لوگ ہول گے جو میری سنہ کو درست کریں گے جس کو میرے بعد لوگوں نے بغاڑ دیا تھا۔ (اس کی روایت تزندی نے کی ہے۔)
بنی اسرائیل (72) فرقوں میں بٹ گئے اور امت محمدؐ (صلی اللہ علیہ وسلم)
(73) فرقوں میں تقسیم پاجائے گی، اور نجات صرف اس فرقے کو ہوگی جو
رسول اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے طریقہ کا پابند رہیگا
Narrated Amr ibn Awf (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed, religion will return to the Hijaz, just as the snake returns to its hole. And religion will be preserved in the Hijaz, just as the 'Urwah (a type of wild goat) is preserved on the top of the mountain. Religion began as something strange, and it will return to being strange. So, blessed are the strangers, those who will reform what the people corrupted of my Sunnah after me." [Narrated by Tirmidhi]
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ضرور میری امت میں وہ تمام باقی اس طرح پوری پوری ہون گی جو بنی
اسرائیل میں ہو گی۔ جس حیثیت کر آگران میں کا کوئی شخص علائیا پی مال سے زنا کا ارتکاب کیا ہوگا تو
میری امت میں کہی ایسا شخص ہوگا جو ایسے کرے گا، اور بنی اسرائیل (72) فرقوں میں بٹ گئے اور
میری امت (73) تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی اور سواے ایک فرقے کے سب کے سب دوزخ میں
جا گئیں گے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ایک نجات پائے والافرقہ کون سا فرقہ ہوگا؟ فرمایا: وہی
فرق نجات پائے والا ہوگا جس پر میں اور میرے اصحاب ہیں -(اس کی روایت تزدی نے کی ہے)-
Narrated Abdullah ibn Amr (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (ﷺ) said: "There will come upon my Ummah what came upon the Children of Israel, so much so that if among them there was one who openly committed an immoral act with his mother, there will be among my Ummah those who do the same. The Children of Israel split into seventy-two sects, and my Ummah will split into seventy-three sects, all of them in the Fire except one." They asked: "Which one is that, O Messenger of Allah?" He replied: "The one I and my companions are upon." [Narrated by Tirmidhi]
And in the narration of Ahmad and Abu Dawood from Muawiyah: "Seventy-two of them will be in the Fire and one in Paradise, and that is the Jama'ah. And indeed, there will emerge from my Ummah some people who will be swept away by those desires, just as the dog is swept by its master, and not a single vein or joint will be left in them except that it will be affected."
اور امام احمد اور ابو داود نے معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے
کہ (72) تہتر فرقوں میں اور ایک فرقہ جنت میں ہوگا، اور وہ ایسی جماعت (یعنی سوارا عظیم)
ہوگا جو کتاب و سنہ پر قائم رہے گا اور عقیدہ میری امت میں چند ایسے لوگ پیدا ہوں گے جن میں
آہوائے (یعنی نفسانی خواہشات) اس طرح سرايت کر جائیں گے جس طرح کسی مریض میں مریض
کلب (کے کاٹنے کی پیاری) سرايت کر جائے ہے کوئی رگ اور جوڑا ایسائی میں ہوتا ہے میں یہ
پیاری سرايت نہیں ہو
امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کمرائے پر جمع نہیں ہوگی کیون کہ جماعت پر اللہ کا اتعہ بے
that (72) one of the seventy-two sects will be in Paradise, and it will be the group (i.e., the great majority) that remains steadfast on the Book and the Sunnah. In my Ummah, there will be some people in whom worldly desires will dominate to such an extent as a disease affects a sick person, causing pain in every vein and joint. I do not find this sweet pain in the Ummah of Muhammad ﷺ. The Ummah of Muhammad ﷺ will not gather in a room, for Allah's protection is with the group.
ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ میری امت کو یاپول فرما کر : امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مراہی پر جمع نہیں فرما لگا اور اللہ کا باجو بجاعت پرہ تو جو بجاعت سے اگہواوہ (جنیٹول کی بجاعت سے اگ کر کے ) دوزخ میں ڈال دیاجائے گا۔ (ترنی ناس کی روایت کی ہے )۔ جوسوارا عظیم لعنہ برہی بجاعت کا اتباع نہ کرے گا اس کو نہادوزخ میں ڈال دیاجائے گا
The Messenger of Allah ﷺ said: 'Allah, the Exalted, has said to my ummah: I do not gather My ummah on the Day of Resurrection except by the Miraah (a specific type of scale or measure). And whoever cheats with the balance, even if it is a small amount, will be thrown into Hell.' (This is narrated by Tarni Nas.) Indeed, the one who does not follow the practice of cheating with the balance will not be thrown into Hell.
ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے فرمایا کہ برہی بجاعت کی اتباع کرو، اس لئے کہ جو بجاعت سے جدا ہواوہ تھا آگ میں ڈال دیاجائے گا۔ (اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے )۔ دل میں کسی کی طرف سے برانی کا نہ ہونا حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایساطر یقہ ہے جوجنت میں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی میعت نصیب کرے گا
Narrated Ibn Umar (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Follow the larger group, for indeed, whoever separates himself will be in the Fire." [Narrated by Ibn Majah]
ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مرودی ہے آپ نے فرمایا کہ مجھ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہواہے کہ اے پیارے بیٹا ! اگر تجھے اس بات پر قدرت ہوکہ تیری صح وشام کی گزرے کہ تیرے دل میں کسی کی نسبت کوئی برانی نہ آئے تو اس طرح گزرادے، پھر ارشاد ہوا: اے پیا میرا طریقت ہے، جس نے میرے طریقت کو پسند کیا سے نمجھ کو وست رکھا اور جس نے مجھے دوست رکھاہے میرے ساتھ جنت میں ہوگا۔ (اس کی روایت ترنی نے کی ہے )۔ فساداً مرت کے زمانے میں پاندہ سنت کو (100) شہید ول کا اجر ملے گا
Narrated Ibn Umar (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (ﷺ) said: "O my son, if you can wake up in the morning and evening without any malice in your heart towards anyone, then do so." Then he said: "O my son, this is part of my Sunnah, and whoever loves my Sunnah loves me, and whoever loves me will be with me in Paradise." [Narrated by Tirmidhi]
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے فرمایا: جومیری امت کے بڑے جانے کے زمانے میں میری سنت کا پابند رہتواس کو (100) شہید ول کا اجر ملے گا۔ (امام نہیں نے اس کی روایت اپنی کتاب الزہد میں کی ہے )۔
اگر موٹی علی السلام آج موجود ہو تو انہیں بھی آخضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی
پیرودی کے بغیر چارہ نہ ہوتا
Narrated Ibn Abbas (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever holds fast to my Sunnah at the time of corruption in my Ummah will have the reward of a hundred martyrs." [Narrated by Al-Bayhaqi in his book "Zuhd"]
جا بر ضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ آخضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت
کرتے ہیں کہ جب عمر ضی اللہ عنه، آخضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو تو عرض کیا
کہ تم یہود سے چند باقیہ سے ہیں جو تم کو پسند آئی ہیں، کیا آپ کی اجازت سے کر اس کو قلمبند
کر لیں، ارشاد ہوا: کیا تم یہود و نصاری کی طرح جیران وسرگردان ہو جس طرح کہ یہود و نصاری
جیران ہو ہیں، میں تمہارے پاس روشن، واضح اور پاک وصاف دین لا یہود، اگر موٹی علیہ
السلام موجود ہو تو میری اتباع کے سوا ان کو کوئی چارہ کار نہ ہوتا۔ (اس کی روایت امام احمد نے اور
تہذیب نے شعب الایمان میں لی ہے)-
جنہ میں داخل ہو نے کی تین شرطیں کیا ہیں؟
Narrated Jabir (may Allah be pleased with him): When Umar (may Allah be pleased with him) came to the Prophet (ﷺ) and said: "We hear some narrations from the Jews that amaze us, do you think we should write some of them?" He (ﷺ) replied: "Are you trying to become like the Jews and Christians? I have brought to you something pure and clear. If Musa (Moses) were alive, he would have no choice but to follow me." [Narrated by Ahmad and Al-Bayhaqi in "Shu'ab al-Iman"]
ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص (1) پاک (یعنی حلال) غذا کھائے اور (2) سنت پر عمل کیا کرے
اور (3) لوگ اس کے ثرے محفوظ رہیں تو وہ جنت میں داخل ہو گا، ایک شخص نے عرض کیا: یارسول
اللہ آج ایسے لوگ بہت ہیں، فرمایا: میرے بعد کے زمانوں میں بھی ایسے لوگ رہیں گے۔ (اس کی
روایت ترمذی نے لی ہے)-
آخری زمانے میں عمل میں تخفیف کے باوجود نجات کی خوشخبری
Narrated Abu Sa'id al-Khudri (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever eats what is pure, works according to the Sunnah, and the people are safe from his evil, will enter Paradise." A man said: "O Messenger of Allah, this is rare among the people." He replied: "It will be common in the generations to come." [Narrated by Tirmidhi]
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا: تم ایسے زمانے میں ہو کہ اگر تم میں سے کوئی شخص بھی ان بالول کا دسوال حضرت کے
کر دے جن کے کر نے کا حکم دیا گیا ہے تو وہ بلاکہ وگا، پھر ایک زمانہ آئے گا کہ اس زمانہ میں جو شخص
ان باٹول کے دسویں حصر پر عمل کرے گا جن کا اس کو حکم دیا گیا ہے تو وہ نجات پائے گا - (اس کی
روایت ترندي نے کی ہے)-
کسی قوم کا بدایت کے بعد گمراہ ہونادین میں محکم نے کی وجہ سے ہوتا ہے
Narrated Abu Huraira (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (ﷺ) said: "You are living in a time where anyone who abandons one-tenth of what he has been commanded will perish, and then there will come a time where anyone who practices one-tenth of what he has been commanded will be saved." [Narrated by Tirmidhi]
ابوبامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو قوم مجھی بدایت پانے کے بعد گمراہ ہوئی ہے وہصرف دین میں محکم نے کی
وجہ سے گمراہ ہوئی ہے، پھر آپ پنے (سورۃ زخرف، آیت نمبر:58، پ:25، ع:6، کی ) یہ
آیت ﴾مَا ضَرَبُوهُ لَكُمْ إِلَّا جَدَلاً، بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ﴿ تلاوت فرمائی-
ترجمہ: ان لوگوں نے جو یہ (عجیب مضمون) بیان کیا ہے تو محض محکم اکر نے کے لئے بلکہ یہ
لوگ ہیں، یہ محکم الو (اس کی روايت امام احمد، ترندي اور ابن ماجہ نے کی ہے)-
دین کے بارے میں پچھتی مناسب نہیں!
Narrated Abu Umama (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (ﷺ) said: "A people will never go astray after having been guided except that they will engage in arguments." Then the Messenger of Allah (ﷺ) recited the verse: "They did not strike it for you except as an argument. Rather, they are a people of dispute." (Az-Zukhruf: 58) [Narrated by Ahmad, Tirmidhi, and Ibn Majah]
انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ علیہ وسلم فرمایا
کرتے تھے کہ (دین کے بارے میں) اپنا پچھتی نہ کرو کہ اللہ تعالیٰ مجھی تم پچھتی کرے گا، چنانچہ ایک
قوم نے اپنا پچھتی کر لی تو اللہ نے ان پراس کو سختی کروایا، چنانچہ گر جاگرول میں اور پہودے کے
عبادت خانوں میں ان کے باقی مانده لوگ، جی تو ہیں کہ انہوں نے رہبانیت (دینیاتے بتلقی) کو
خوداپچاود کر لیا جس کواللہ نے ان پر لا زم نہیں کیا تھا - (اس کی روایت ابوداود نے کی ہے)-
قرآن پاچھتہم کی باٹول پرانزل ہوا ہے
Narrated Anas (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (ﷺ) used to say: "Do not make things difficult for yourselves, for Allah will make things difficult for you. A people made things difficult for themselves, so Allah made things difficult for them. That is why their remnants are found in their monasteries and their homes, a form of monasticism they innovated, which We did not prescribe for them." [Narrated by Abu Dawood]
ابوبهریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا کہ قرآن کا نزول پانچ طرح پڑھوا ہے (۱) حلال (۲) حرام (۳) محکم (۴) متشابہ
(۵) اور امثال۔ حلال کو حلال بھجواور حرام کو حرام، محکم آئتوں پر عمل کرو، اور متشابہ آئتوں پر ایمان لاو، اور
امثال (جسے گذری ہوئی امتیاز کے قصور) سے عبرت حاصل کرو (یعنی صاحب کے الفاظ جس اور بہترین
شعب الایمان میں جور و ایت کی بہوہیہ کے حلال پر عمل کرواور حرام سے پچاو رحم کی اتباع کرو)۔
ف: محکم سے مراد قرآن کی ایسی آیتیں جس جن کے معنون میں کوئی اشتباہ نہ ہو جیسے
وَأَقِیْمُوا الصَّلوۃَ وَآتُوا الزَّکوۃَ (نماز پابندی سے باقاعدہ پڑھا کرواور زکات ادا کرتے
رہیو) (سورہ بقرہ، پ:۱، ع:۵، آیت نمبر:۴۳)۔
اور متشابہ سے وہ آیتیں مراد ہیں جن کے معنی خوب واخ نہیں اور ان کے کئی معنی ہوسکتے ہیں،
جبے وَجَاءَ رَبُّ (تمہاراپروردگار آیا) (سورہ فجر، پ:۳۰، ع:۱، آیت نمبر:۲۲) وغیرہ۔۱۲
احکام تین قسم کے ہیں
Narrated Abu Huraira (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (ﷺ) said: "The Qur'an has descended in five ways: lawful, unlawful, clear, ambiguous, and parables. So, make the lawful lawful and the unlawful unlawful, act upon the clear verses, believe in the ambiguous ones, and take heed from the parables." This is the narration of Al-Masabih, and Al-Bayhaqi narrated it in "Shu'ab al-Iman" with the wording: "Act upon the lawful, avoid the unlawful, and follow the clear."
_ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، انہول نے کہا کہ آخحضرت صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حکم تین طرح کے ہیں: (۱) وہ حکم جس کی بدایت ظاہر ہے تو اس کی چیزوی کیا
کرو (جبے نماز اور زکات کا حکم) (۲) وہ حکم جس کی گمراہی ظاہر ہے تو اس سے پچتہ رہو (جبے زنا)
(۳) وہ حکم جس میں اختلاف کیا گیا ہے تو اس کو اللہ عزوجل کے سپرد کرو (جبے قیامت کے دن کا
تعین) وغیرہ۔ (اس کی روایت امام احمد نے کی ہے)۔
جماعت اور جمعہ کو لا زم کر لیا جاتے کیون کہ شیطان جماعت سے
دور رہے و اس کو پکڑ لیتا ہے
Narrated Ibn Abbas (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (ﷺ) said: "There are three types of matters: a matter whose right is clear, so follow it; a matter whose wrong is clear, so avoid it; and a matter about which there is disagreement, so leave it to Allah, the Almighty." [Narrated by Ahmad]
_ معاز بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہول نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان انسان کا ایسا بھیطریہ جس طرح کبر پول کا بھیطریا ہوتا ہے کروہ
اکملی دورہ واقی اور کنارے پر چڑھنے والی بگڑی کو پکڑ لیتا ہے تو تم شاہ راہ اسلام کو چھوڑ کر گمراہی کی
گھاٹیوں سے بچو، اور تم لا زم کرلو جماعت کو اور جمہور کو (یعنی چھوٹے چھوٹے فرقوں میں شہرت
جاوے)۔ (اس کی روایت امام احمد نے کی ہے)۔
جو جماعت سے ایک باشندہ بھی جدا ہو جائے تو اس نے اسلام کا طوق گردان سے اتر دیا
Narrated Abu Dharr (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever separates from the congregation by a handspan has removed the yoke of Islam from his neck." [Narrated by Ahmad and Abu Dawood]
ابوزر علیہ اللہ تعالیٰ عنہ روایت کہ، انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ایک باشندہ بھی جماعت سے جدا ہو جائے تو اس نے اسلام کا طوق اپنی
گردان سے اتر دیا۔ (اس کی روایت امام احمد اور ابو داود نے کی ہے)۔
اللہ تعالیٰ کی کتاب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر
جب تک عمل رہتا گمراہ نہیں ہوسکتا
Narrated Abu Dharr (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever separates from the congregation by a handspan has removed the yoke of Islam from his neck." [Narrated by Ahmad and Abu Dawood]
ما کہ بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بطور مرسل روایت کہ انہوں نے کہا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تم میں ایک دوبارہ تین چھوٹے رہاہوں، جب تک تم ان پر عمل کرتے
رہو گے گمراہ نہ ہوگے۔ (1) ایک اللہ کی کتاب (2) دوسرا اس کے رسول کی سنت۔ (اس کی روایت
موطا میں ایسی طرح ہے۔)
دو میں جس قدر نئی بات نکلی جائے گی اس قدر سنن اتحادی جائے گی
The Messenger of Allah ﷺ said: 'I have left among you three small things, so long as you adhere to them, you will not go astray. (1) The Book of Allah, (2) the Sunnah of His Messenger. In this tradition from the Muwatta, it is stated: Whatever new matters arise, to that extent the Sunnah will provide guidance.'
غُضَیْفُ بن حارث ثمالی رضی اللہ عنہ روایت کہ، انہوں نے کہا کر رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کچھ کسی قوم میں دین میں نئی بات نکلی تو اتنی، ای سنن اتحادی جائے
ہے، اس سنن پر عمل کرنے بدعت کے ایجاد کرنے سے بہتر ہے۔ (اس کی روایت امام احمد نے کی ہے)۔
بدعت کی نذرت
Narrated Ghudayfah ibn al-Harith al-Thamali (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (ﷺ) said: "No people have innovated a bid'ah (innovation) except that something similar to it is removed from the Sunnah. So adhering to the Sunnah is better than innovating a bid'ah." [Narrated by Ahmad]
حسان رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کہ انہوں نے کہا کہ جب کچھ کسی قوم میں
اپنے دین میں نئی بات ابجاد کر لی تو اللہ تعالیٰ سنہ ان سے اٹھائیں ہیں، جس کو پچھر قیامت کے ان کے
پاس واپس نہیں فراماتے۔ (داری نے اس کی روایت کی ہے)-
بدعت کی تغظیم کرنا اسلام کے ذہانے میں مدد کرنے ہے
Narrated Hassan (may Allah be pleased with him): "No people have innovated a bid'ah in their religion except that Allah removes something of the Sunnah similar to it, and then does not restore it to them until the Day of Judgment." [Narrated by Darimi]
ابراہیم بن میسرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی بدعت کی تغظیم کی تو اس نے اسلام کے ذہادینے میں مدد کی۔ (امام
شہیہ نے شعب الایمان میں اس کی روایت بلطوارسال کی ہے)-
احکام خداوندی کی تغییر کا ثرہ
Narrated Ibrahim ibn Maysarah: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever honors a person of bid'ah has aided in the destruction of Islam." [Narrated by Al-Bayhaqi in "Shu'ab al-Iman," mursal]
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ جس نے اللہ کی
کتاب کی تعلیم پانی پھراس کے احکام کی تغییر کی تو اللہ تعالیٰ ونیا میں اس کو گمراہی سے پچا کیں گے اور
قیامت میں اس کو بر حساب محفوظ رکھیں گے-
Whoever alters the commands of Allah's Book and changes the rulings of purification, Allah will protect him from misguidance in this world and will preserve him on the Day of Resurrection.
اور ایک دوسری روایت میں (ایا کچھ) آیات کے جس نے اللہ کی کتاب کی پڑوی کی
تو وہ دنیا میں گمراہ نہ ہوگا اور آخرت میں بدصیب نہ ہوگا پھر آپ نے (سورہ طہ، آیت نمبر: 123، پ:
، ع: 7 کی) یا آیت تلاوت فرمائی: فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَاىَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقَىٰ)-
(ترجمہ: تم میں جو کوئی میری اس ہدایت کی پرآن اور سننت کا اتباع کرے تو وہ نہ دنیا میں گمراہ
ہوگا اور نہ آخرت میں بدصیب۔ (اس کی روایت رزین نے کی ہے)-
صراط مستقیم کی اللہ تعالیٰ نے کس طرح مثال دی ہے؟
Narrated Ibn Abbas (may Allah be pleased with him): "Whoever learns the Book of Allah, then follows what is in it, Allah will guide him from misguidance in this world, and protect him from the evil reckoning on the Day of Judgment." In another narration, he said: "Whoever follows the Book of Allah will not go astray in this world nor will he be miserable in the Hereafter," then he recited the verse: {And whoever follows My guidance will not go astray and will not be miserable} (Taha: 123). [Narrated by Razin]
ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے صراط مستقیم کی ایک مثل اس طرح بيان کی ہے کہ ایک سیدہ راہ
پر، اوراس کے ہر دو جانب دودیواریں جس میں دروازے کھلے ہوئے ہیں اور دروازوں پر
پردے لٹکے ہوئے ہیں، مسراہ ایک پکارنے والا پکارنے والے کے سیدی راہ پر قائم رہتو، اور تمہی راہ نہ چلو
( لیتندا کیں اور باہمیں جودرواں سے پیش کارخ نکرو) اوراس سیدے راستے پراک اور پکارنے
والا کچھ پکارنے والے، جب کچھ بندہ ان دروازوں میں سے کسی کو ہونا چاہتا ہے ( وہی پکارنے والا کہتا
ہے ) افسوس اس کونہ کہول، اگرتواس کو کول دے گا تو اس میں داخل ہو جائے گا۔ پھراس کی آپ نے تفسیر
یول فرمائی اور فرمایا کہ صراط سے مراد اسلام ہے، اور کہل دروازے اللہ کے محارم ( لیتن حرام کر دے چیزیں )
ہیں اور لگے ہوئے پردے اللہ کے حدود ہیں، راستے پر کڑاہوکر پکارنے والا قرآن ہے اور اس کے اوپر جو
دوسرے پکارنے والا ہے وہ اللہ کا وعظ ہے جو ہر مومن کے دل میں ہے ( جو ہر برانی کے وقت اس کواسے
روکتا ہے گریاس کی نہ کراس میں بھلا ہوجاتا ہے )۔ ( اس کی روایت 'رزین' نے کی ہے )۔
Narrated Ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Allah has set forth a parable of a straight path. On both sides of the path, there are two walls, and within them are open doors with curtains hanging over them. At the head of the path, there is a caller who says: 'Stay straight on the path and do not deviate.' Above that, there is another caller who calls: 'Whenever a servant is about to open one of these doors, he is warned: 'Woe to you! Do not open it, for if you open it, you will enter.'" Then the Messenger of Allah (ﷺ) explained: "The path is Islam, the open doors represent the prohibitions of Allah, the curtains are the limits set by Allah, the caller at the head of the path is the Qur'an, and the caller from above is the admonisher of Allah in the heart of every believer." [Narrated by Razin, Ahmad, Al-Bayhaqi in "Shu'ab al-Iman" from Nawwas ibn Sam'an, and also narrated by Tirmidhi, though he mentioned a shorter version]
اورامام احمد اورامام تہقی نے "شعب الايمان" میں حضرت نواس بن سمعان
سے اس کی روایت کی ہے اور تزدی میں اس کا اختصار ہے۔
اسو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اہمیت اوراس پر عمل نجات کی علامت ہے
Imam Ahmad and Imam Tirmidhi have narrated this from Nawas bin Sam‘an (RA) in 'Shu‘ab al-Iman,' and it is summarized in Tazkirah. This highlights the importance of the noble Companions (RA) and acting upon it is a sign of salvation.
ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہول نے فرمایا: جو شخص کسی
طریقہ پر چلنے چاہتا ہے تو اس کو چاہے کہ ان لوگوں کے طریقہ پر چلے جواس دنیا سے گذرے ہیں
کیول کہ زندہ شخص کا فتنہ سے پناہ شوار ہے اور پیلوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ( رضی اللہ عنہم ) ہیں
جواس امت میں فضل ہے، جن کے دل نہایت نیک اور جن کا علم بہت وسیع تھا اور جو تکلف سے دور
تھے، ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت و رفاقت اور دین کے قیام کے لیے منتخب
فرمایا تھا، ان کی فضیلت کو بھجو، ان کے نقش قدموں پر چلواور جس قدر ہو سکے ان کے اخلاق و سیرت کو
اختیار کرو کہ حضرات راہ راست اور بدایت مستقیم پر تھے۔ ( اس کی روایت رزین نے کی ہے )۔
حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عمر رضی اللہ عنہ کے باٹھیں تورات کو لیکر غضبناک ہوجانااور ارشاد فرما نا کر اگر موی علی السلام موجود ہوتے تو وہ ا خضرت صلی اللہ علیہ وسلم، یہی پیروی فرماتے
Narrated Ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him): "Whoever seeks to follow a good example should follow those who have passed away, for the living are not safe from trials. Those who were companions of Muhammad (ﷺ) were the best of this nation: they had the purest hearts, the deepest knowledge, and the least affectation. Allah chose them for the companionship of His Prophet and for the establishment of His religion. Recognize their virtue, follow their example, and cling to as much as you can of their character and way of life, for they were on the straight path." [Narrated by Razin]
جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے انہول نے کہا کر امر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنه، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تورات کا ایک نسخہ لے جا کر حاضر ہوتے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ تورات کا ایک نسخہ تو آپ نے سکوت فرمایا، عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو پڑھنا شروع کیااور نیکریم صلی اللہ علیہ وسلم کاچہرہ مبارک (غصہ) متغیر ہور باقتا، ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے عمر (رضی اللہ عنہ)، تجبہ "ثَگْلُتَكَ الثَّوَاکِلُ" (یہ جملہ مقام تجب میں کہا جاتا ہے) کیا تم اخضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کے تغیر کو نیب دیکھ رہے ہو؟ عمر رضی اللہ عنہ نے اخضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کو دیکھا اور کہا میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں، اس کے غضب تو اوراس کے رسول کے غضب سے، تم اللہ کے رب ہو نے پراوراسلام کے دین ہو نے پراورسیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہو نے پر راضی ہیں، اخضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے، اگر موی علیا السلام تم میں ظاہر ہوتے اورتم ان کی پیروی کرتے اور مجھے چھوڑ دیتے تو تم راہ راست سے گمراہ ہوجاتے اوراگر موی علی السلام موجود ہوتے اور میری نبوت کو پائے تو وہ مجھی صرف میری پیروی کرتے (اس کی روایت داری نے کی ہے)- احناف کے پاس کتاب اللہاور سنن رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نہ کی چارصورتیں ہیں
Narrated Jabir (may Allah be pleased with him): Umar ibn al-Khattab (may Allah be pleased with him) brought a copy of the Torah to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: "O Messenger of Allah, this is a copy of the Torah." The Prophet (ﷺ) remained silent, and his face began to change. Abu Bakr (may Allah be pleased with him) said: "May your mother grieve for you! Do you not see what is happening on the face of the Messenger of Allah?" Umar (may Allah be pleased with him) then looked at the face of the Prophet (ﷺ) and said: "I seek refuge in Allah from His anger and the anger of His Messenger. We are pleased with Allah as our Lord, with Islam as our religion, and with Muhammad as our Prophet." The Prophet (ﷺ) then said: "By Him in Whose hand is the soul of Muhammad, if you had followed Moses and left me, you would have gone astray from the right path. And if Moses were alive and had reached my prophethood, he would have certainly followed me." [Narrated by al-Darimi]
کلامی لا ینسخ کلام الله سے کیا مراد ہے؟
جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے انہول نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: میرا کلام اللہ کے کلام کو منسوخ نہیں کرتا لیکن اللہ کا کلام میرے کلام کو منسوخ کرتا ہے - (اس کی روایت وارتي نہی ہے)-
ف(1): شیخ لیمن شاہ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے لمعات میں کہا ہے کر حفیظ کے نزد کی ثابت ہے کر حدیث کچھ کتاب اللہ کی ناسخ ہوتی ہے، انذااس حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کلامی (میرے کلام) سے مراد وہ قول ہے جس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بخیر وہی کے اپنے اجتهاو اور رائے سے کہا ہے لیعن میرا ایا کلام اللہ کا ناسخ نہیں ہوتا۔ البتہ آخضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد "كنسخ القرآن" جواس کے بعد والی حدیث میں ذکور ہے اگراس کے معنی مصدری کو مفعول کی طرف مضاف کر دین تو اس معنی کے لحاظ سے حدیث کا ناسخ قرآن ہونا ثابت ہوتا ہے اور اس صورت میں "كنسخ القرآن" کے معنی کنسخ الأحادیث القرآن لیعن "احادیث کا قرآن کو منسوخ کرنا ہون گے"
احناف کے نزد کی کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں نسخ کی چار صورتیں ہیں:
ف(2):(1) پہلی پیکر کتاب اللہ کی نسخ، کتاب اللہ سے ہو (2) دوسرا پیکر ایک سنت کی نسخ دوسرا سنت سے ہو (3) تیسرے پیکر کتاب اللہ کی نسخ، سنت سے ہو (4) چوتھی پیکر سنت کی نسخ، کتاب اللہ سے ہو۔
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس نسخ کی صرف دو صورتیں جائز ہیں۔ امام شافعی رحمۃ اللہ نے مختلف فیصوت میں اختلاف کیا ہے، انذاالن کے پاس دو صورتیں نسخ کی جائز ہونگی:(1) ایک پیکر کتاب اللہ کی آیت کتاب اللہ کی دوسرا آیت کو منسوخ کر دے (2) دوسرا صورت نے کی پیہوگی کر ایک حدیث کے ذریعے دوسرا حدیث منسوخ قرار پاے۔
احناف کی ویل پیہ چونکہ نسخ کے معنی حکم مطلق کی مدتو بیان کرنا ہے کر اس حکم کی مدتو اتنی تھی پس پر جائز ہے کر اللہ اپنے رسول کے کلام کی مدتو بیان فرمادیں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
اپنے رب کے کلام کی مدّت بیان کر دی اور آخِرِت صلی اللہ علیہ وسلم کا یار شاد "کلامی لا ینسخُ
کلام اللہ"، (میرا کلام، کلام اللہ کو منسوخ نہیں کرتا) گوہہ ب امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی بظاہر تفسیر کرتا
ہے لیکن آخِرِت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا یعنیاء ہے کہ جس چیز کو اپ پبغیر وہی بطور اجتهاد یا
بطور رائے فرماتے ہیں اور وہ ناسخ قرآن نہیں ہے لیکن وہ احادیث جو وہی کے ذریعے ثابت ہوتے ہیں
وہ کتاب اللہی ناسخ ہوتی ہے اور اس کی تا سیر ارشاد وہی "کنسخ القرآن" سے ہوتی ہے۔
اس حدیث کے بعد والی حدیث (حدیث نمبر: 201) (ان احادیث نا ینسخ الخ) کا مطلب
یہ ہوگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احادیث بعض احادیث کو اس طرح منسوخ کرتی ہیں جس
طرحا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض احادیث بعض قرآن کو منسوخ کرتی ہیں، کنسخ القرآن
میں (نسخ) مصدر کی اضافت قرآن کی جانب سے، جومفعول سے اور فاعل "احادیث" سے یعنی حدیث کو
قرآن کے لے ناسخ کہا جاتے گا۔
حدیث سے کتاب اللہ کے منسوخ ہونے کی بحث
نسخ کی پہلی قسم یعنی حدیث سے کتاب اللہ کے منسوخ ہونے کی مثال یہ ہے: والدین اور
قرابتدار ول کے لے وصیت کا حکم قرآنی حکم تجاوج حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم "لا وصیّة لیوارث"
(وارث کے لے وصیت نہیں کرنا چاہئے) سے منسوخ ہوگیا، اس پرا عتراض کیا گیا ہے کہ اس حدیث سے
وصیت والی آیت کو جو منسوخ قرار دیا جارہے اس کی ناسخ تو دراصل آیت میراث سے نہ کہ حدیث، اس
کا جواب یہ ہے کہ منسوخ آیت میں صرف وصیت کا ذکر ہے نہ کہ ورثاء کی مقدار میراث کا، تو آیت میراث
ایک آیت کی ناسخ قرار دینے پاسکتی ہے آیت میں صرف وصیت کا ذکر ہو، البتر وہی حدیث میں صرف
وصیت کا ذکر ہے منسوخ آیت کی ناسخ ہوسکتی ہے۔
اس کی دوسری مثال قول نبوی صلی اللہ علیہ وسلم "نہحن معاشر الأنبياء لا نورث" سے (یعنی
انبیاء کی جماعت کی کو وارث نہیں بناتے) یہ حدیث کی آیت میراث کے ایک خاص حصہ کی جوابیہ
سے متعلق ہے ناسخ ہوتی ہے اور باقی آیت اپنے حال پر رہے گی، اس دوسری مثال سے یہی حدیث کا
کلام اللہ کے لے ناسخ ہونا ثابت ہوتا ہے، واضح باہوکہ یہ کی پہلی قسم یعنی حدیث کے ناسخ قرآن
ہوئے کی مشاہدہ ہے۔
قرآن سے حدیث کا منسوخ ہونا
شَرْعِ کی دوسری قسم "وَکَلَامُ اللَّهِ یُنْسَخُ کَلَامِیٌّ" بھی عین اللہ کا کلام میں رَکَلَام کو منسوخ
کرتا ہے اوراس سے نہیں حقی کی تائیر ہوتی ہے اور شَرْعِ کی اس دوسری قسم کی مثال یہ ہے: بیت
المقدس کی جانب رَخ کرنے کا حکم یوں منسوخ ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کی جانب رَخ کرنے کے نماز
اداء فرما تے ہی بعد ازاں بیت المقدس کی جانب متوجہ ہو کر نماز پڑھنے لگے اوراس پر قرآن کا کوئی حکم
موجود نہیں تھا اور پھر عمل قول باری تعالیٰ فَوْل وَجُہَکَ شَطْرَ الْمُسْجِدِ الْحَرَامِ (آپ اپنے
رَخ کو مسجد حرام کی جانب کردیتے تھے) (سورہ بقرہ، پ:2، ع:17، آیت نمبر:144) سے منسوخ ہوا۔
قرآن کی ایک آیت کا دوسری آیت کو منسوخ کرنا
شَرْعِ کی تیسری قسم کی مثال "وَکَلَامُ اللَّهِ یُنْسَخُ بَعْضُہُ بَعْضًا" (کلام اللہ کی بعض آیتیں
بعض آیات کو منسوخ کر دیتی ہیں) اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں اوراس کی مثال سے کی آیات ہیں
جو جہاد کی آنتول سے منسوخ ہوگئیں۔
ایک حدیث کے دوسری حدیث کو منسوخ کرنے کی بحث
اب رہ گئی چوٹی قسم، وہ شَرْعِ السَّتَہ بالسَّتَہ بھی عین ایک حدیث سے دوسری حدیث منسوخ
پا گئے اوراس کے جانب ہوئے پرسب کا اتفاق ہے۔ اس کی مثال حدیث ثریف: "کُنْتُ نَهَیْتُکُم عَنْ
زِیَارَۃِ الْقُبُرِ اَلاَ فَزُوْرُوْہَا" بھی (یعنی میں نے تم کو زیارت قبور کی ممانعت کی تھی اب زیارت کیا
کرو) اس حدیث ثریف میں ناخ اور منسوخ دونوں جمع ہیں، اور حدیث "انَّ اَحَادِیثَا یُنْسَخُ بَعْضُہُ
بَعْضًا۔" کا مطلب یہ ہے کہ ہماری حدیثیں ایک دوسرے کو منسوخ کر دیتی ہیں۔ (یہ مضامین نور
الانوار، قمر الاقمار، لمعات اور مرقات سے اخذ کیے گئے ہیں)
فرشتون کا آدم علیہ السلام کو سجدہ کس قسم کا ہے؟
روا مختار میں کہا ہے کہ فرشتوں کے سجدہ کے بارے میں علماء میں اختلاف کیا ہے، ایک قول ہے
سے کر فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کو جبرہ کیا اور حضرت آدم علیہ السلام کی جانب صرف رخ اور توجہ کی، اور رخ کر نے کا حکم اس لے دیا گیا کہ اس سے حضرت آدم علیہ السلام کی بزرگی ثابت ہو، اور حکم کعبے کی طرف رخ کرنے کی طرح ہے اور دومرا قول یہ کہ فرشتوں نے حضرت آدم علیہ السلام کو جبرہ تعظیمی کی لیکن پس جبرہ تعظیمی کا حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد "لو أمرت أحدا أن يسجد لاحد لا مرة أن تسجد لزوجها" سے منسوخ ہے (یعنی اگر میں کسی کو کسی کے لے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کروہا پے خاوند کو جبرہ کرے) (ماخوذ از تا تارخانیہ)
تمامین الحارم میں صراحت کی گئی ہے کر فرشتوں کا سجدۃ آدم علیہ السلام کو بطور عبادت نہ ہوا بلکہ سجدہ تعظیمی وتو قیری تھا اور اس لے سجدہ سے اپس نے انکار کیا اور پیسجبرہ تعظیمی پہلے زمانے میں جائز تھا، چنانچہ حضرت یوسف علیہ السلام کے والد نے اور پھر یوسف کا یوسف علیہ السلام کو سجدہ کرنا سجدہ تعظیمی تھا۔ امام ابو منصور ماتری دی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کرآن میں حضرت آدم علیه السلام اور حضرت یوسف علیہ السلام کے قصوں میں سجدہ تعظیمی کا جو جواز معلوم ہوتا تھا وہ ذکور الصدر حدیث "لو أمرت أحدا أن يسجد لاحد لا مرة أن تسجد لزوجها" سے منسوخ ہوگیا اس سے ظاہر ہوتا ہے کر حدیث قرآن کو منسوخ کر سکتی ہے۔
Narrated Jabir (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (ﷺ) said: "My words do not abrogate the words of Allah, and the words of Allah abrogate my words, and the words of Allah abrogate some of each other." [Narrated by al-Daraqutni]
The scholar in "Al-Lam'aat" explained that according to the Hanafi school, this hadith refers to words that are opinions or ijtihad of the Prophet (ﷺ), not the Qur'an itself. The concept of abrogation here does not necessarily apply to the Qur'an alone but also to the prophetic sayings in the context of legal rulings.
The discussion you've shared elaborates on the concept of abrogation (نسخ) in Islamic jurisprudence, particularly with reference to the Qur'an and the Sunnah (Prophet’s sayings). It explains that both the Qur'an and the Sunnah can abrogate each other, and there are four possible combinations of abrogation: Qur'an abrogating the Qur'an, Sunnah abrogating the Sunnah, Qur'an abrogating Sunnah, and Sunnah abrogating Qur'an. This is a point of difference with the Shafi'i school, which holds that only the Qur'an can abrogate the Qur'an, and only the Sunnah can abrogate the Sunnah.
The hadith "My words do not abrogate the words of Allah" refers to the Prophet (ﷺ) mentioning his personal opinions or ijtihad (reasoning). These personal opinions are not considered as abrogating the Qur'an, but the Sunnah, when firmly established by revelation, can abrogate certain verses of the Qur'an.
Examples of abrogation include the direction of prayer (Qibla), where initially the Prophet directed prayers towards Jerusalem but later the Qur'an abrogated that ruling, directing prayers towards Makkah. Another example is the changing ruling on visiting graves, where the Prophet initially prohibited it but later permitted it.
The conversation also touches on how the Sunnah and Qur'an work together, with the Prophet’s words and actions complementing the Qur’an, sometimes explaining it in greater detail or abrogating or modifying certain earlier laws.
There is also a clarification on the issue of prostration (Sujood). The original practice of prostrating to Adam (عليه السلام) by the angels was for honor, not worship. Later, this practice was abrogated, and a new rule was established where, if prostration was to occur, it would be for a wife to show respect and honor to her husband.
This discussion highlights the depth of Islamic legal thought, where rulings evolve over time based on both the Qur'an and Sunnah, ensuring they suit the changing circumstances of society.
Sheikh Liman Shah Abd al-Haq al-Muhaddith al-Dihlawi (RA) has stated in Luma'at that it is established with Hafiz that some hadith abrogates the Book of Allah. In the hadith, 'My speech does not abrogate the Speech of Allah,' the term 'my speech' refers to what the Prophet (SAW) said based on his own ijtihad and opinion, meaning that his speech does not abrogate the Speech of Allah. However, the phrase 'kun naskh al-Qur'an' mentioned in another hadith can be interpreted as 'hadith abrogates the Qur'an' if the source is considered as the object, making the hadith an abrogator of the Qur'an.
According to the Hanafis, there are four types of abrogation in the Book of Allah and the Sunnah of the Prophet (SAW):
1. The abrogation of the Book of Allah by the Book of Allah.
2. The abrogation of one Sunnah by another Sunnah.
3. The abrogation of the Book of Allah by the Sunnah.
4. The abrogation of the Sunnah by the Book of Allah.
Imam Shafi'i (RA) allows only two types of abrogation. Imam Shafi'i (RA) made a distinction in different cases, and according to him, the two permissible types of abrogation are:
1. One verse of the Book of Allah abrogates another verse.
2. One hadith abrogates another hadith.
The Hanafis, however, consider that the meaning of abrogation is the declaration of an absolute command for a certain period, and it is permissible for Allah to declare the duration of His command through the speech of His Prophet (SAW), or for the Prophet (SAW) to declare the duration of the command of his Lord, and the final statement of the Prophet (SAW) is 'kalam la yunsaq kalam Allah' (my speech does not abrogate the Speech of Allah). Although this appears to contradict Imam Shafi'i's (RA) interpretation, the meaning of the Prophet's (SAW) statement is that what he says based on ijtihad or opinion does not abrogate the Qur'an, but the hadiths that are established through him do abrogate the Book of Allah, and this is indicated by the phrase 'kun naskh al-Qur'an'.
The hadith following this (Hadith number: 201) (an ahadith na yunsaq al-kalim) means that the hadiths of the Prophet (SAW) abrogate some other hadiths in the same way that some hadiths abrogate parts of the Qur'an. In 'kun naskh al-Qur'an', 'naskh' is added to 'Qur'an' as the object, and 'ahadith' as the subject, meaning that hadiths abrogate the Qur'an.
Discussion on the abrogation of the Book of Allah by hadith
The first type of abrogation, i.e., the abrogation of the Book of Allah by hadith, is exemplified by the command of will for parents and relatives, which was abrogated by the prophetic hadith 'la wasiyya li-l-warith' (no will for the heir). It has been argued that the abrogation of the will-related verse is actually due to the inheritance verse, not the hadith. The response is that the abrogated verse only mentions wills, not the share of inheritance, so the inheritance verse can abrogate a verse that only mentions wills. Similarly, the hadith only mentions wills and can abrogate the verse.
Another example is the prophetic statement 'nahan min ma'shar al-anbiya la nurith' (we prophets do not leave inheritors), which abrogates a specific part of the inheritance verse, while the rest of the verse remains intact. This hadith clearly shows that hadith can abrogate the Speech of Allah.
Abrogation of hadith by the Qur'an
The second type of abrogation, 'wa kalam Allah yunsaq kalamun', abrogates the Speech of Allah by the Speech of Allah, and this does not imply any imperfection. An example of this is the command to face the Temple, which was abrogated when the Prophet (SAW) started praying towards the Kaaba, and then faced the Temple again. There was no command in the Qur'an for this, and it was abrogated by the command 'wajhaka shatra al-masjid al-haram' (turn your face towards the Sacred Mosque) (Surah Al-Baqarah, 2:144).
One verse of the Qur'an abrogating another verse
The third type of abrogation, 'wa kalam Allah yunsaq ba'duhu ba'dan' (the Speech of Allah abrogates some of its verses), is undisputed, and examples include verses that were abrogated by later verses on jihad.
Abrogation of one hadith by another hadith
The last type, 'shar' al-sata bi-al-sata', involves one hadith abrogating another hadith, and there is consensus on this. An example is the hadith of Thawr: 'kuntu nahaytukum an tazur al-qubur illa fa-zuruhu' (I forbade you from visiting graves, but now visit them), where both the abrogated and the abrogating elements are present. The hadith 'inna ahadithi yunsaq ba'duha ba'dan' means that my hadiths abrogate each other. (These topics are derived from Nur al-Anwar, Qamar al-Aqmar, Luma'at, and Maraqat)
What type of prostration was the angels' prostration to Adam (AS)?
In Mukhtar, it is reported that scholars differ regarding the nature of the angels' prostration to Adam (AS). One view is that the angels performed a forced prostration to Allah, merely turning their faces towards Adam (AS) to demonstrate his greatness, similar to the command to face the Kaaba. Another view is that the angels performed a prostration of reverence to Adam (AS), but this command was abrogated by the Prophet's (SAW) statement 'if I were to command anyone to prostrate to someone, I would command a woman to prostrate to her husband' (meaning if I were to command anyone to prostrate to someone, I would command a woman to prostrate to her husband) (from Tafsir Tabari).
It is explicitly stated in Tamhin al-Haram that the angels' prostration to Adam (AS) was not an act of worship but a prostration of reverence and respect. They rejected this prostration, and forced prostration was permissible in earlier times, as seen in the prostration of reverence by Joseph's (AS) father and then by Joseph (AS) to Joseph (AS). Imam Abu Mansur al-Maturidi (RA) stated that the permissibility of prostration of reverence mentioned in the stories of Adam (AS) and Joseph (AS) in the Qur'an was abrogated by the hadith 'if I were to command anyone to prostrate to someone, I would command a woman to prostrate to her husband', indicating that hadith can abrogate the Qur'an.
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہول نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری بعض حدیثیں بعض کو منسوخ کر دیتی ہیں، باکل اس طرح جس طرح میری حدیثیں قرآن کو منسوخ کر دیتی ہیں - (اس کی روایت دار قطعی نے کی ہے)-
چند اہم اعمال پر پابندی کی تاکید
Ibn Umar (may Allah be pleased with both of them) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed, some of our sayings abrogate others, just as the Qur'an abrogates itself." [Narrated by Al-Daraqutni]
ابو ثعلبہ خشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہول نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے کی فراض فرض کے یعنی پس تم ان کو ضائع نہ کرو، اور کئی چیزیں حرام کی ہیں ان کا ارتکاب نہ کر واور چند حدود مقرر فرمائے ہیں ان سے تجاوز نہ کرو، اور چند باتوں کے بارے میں بلا کسی بجل کے سکوت فرمایا ہے، ان میں کرپید نہ کرو - (دار قطعی نے اس کی روایت کی ہے)-
Abu Tha'labah Al-Khushani (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed, Allah has prescribed obligations, so do not neglect them. He has set limits, so do not transgress them. He has forbidden certain things, so do not violate them. And He has remained silent about some matters out of mercy and not forgetfulness, so do not probe into them." [Narrated by Al-Daraqutni]