وقول الله عزوجل وقلبه مطمين بالايمان سور نحل ع ايت نمبر مي اور الل تعالي كا ارشاد بشر طيب اس كا دل ايمان ر مطمين و
وقول وكتب في قلوب م الايمان اور سور مجادله ع ايت نمبر مي الل تعالي كا ارشاد ان لو و ك دلو مي الل تعالي ن ايمان كو مضبوط فرماديا
وقول ولما يدخل الايمان في قلوبكم اور سور حجرات ع ايت نمبر مي ارشاد اور ان كي تك ايمان تم ار دلون مي داخل ن ي وا
وقول ان الذين امنوا وعملوا الصلحات اور سور بين ع ايت نمبر مي ارشاد باري ب شك جولو ايمان لاي اور ان و ن ا كام كي
وقول وان طايفتن من المومنين اقتتلوا فاصلحوا بين ما فان بغت احد ما علي الاخري فقاتلوا التي تبغي حتي تفيء الي امر الله اور سور حجرات ع ايت نمبر مي ارشاد اور ا ر مسلمانو مي دو رو ا س مي ل ي تو ان ك درميان اصلاح كرو ر ا ر ان مي كا ايك رو دوسرو رو ر زيادتي كر تو اس رو س ل و جوزيادتي كرتا ي ا تك ك و خدا ك حكم كي طرف رجوع وجاي
وقول ربنا واجعلنا مسلمين لك ومن ذريتنا امه مسلم
لک اور (سورہ بقرہ، پ: 1، ع: 15، آیت نمبر: 128، میں) ارشاد ہے : اے تمہارے پروردگار نے کوپنااور زیادہ فرامنبردار بنائے۔ اورتمہاری اولاد میں سے کچھ ایسی جماعت پیدا کیجے جوآپ پکی فرامنبردار ہو۔ وقولہ : هو سمكم المسلمين اور (سورہ حج، پ: 17، ع: 10، آیت نمبر: 78، میں) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (اس (اللہ) نے تمہارا قبیلہ مسلمان رکھا ہے - وقولہ : أسلمت لرب العالمين اور (سورۃ بقرہ، پ: 1، ع: 16، آیت نمبر: 131، میں) ارشاد ہے : میں نے اطاعت اختیار کر لی رب العالمین کی - وقولہ : امن الرسل بما أنزل إليه من ربّه والمؤمنون كل امن بالله وملئكته وكتبه ورسله، لا نفرق بين أحد من رسله اور (سورۃ بقرہ، پ: 3، ع: 40، آیت نمبر: 285، میں) ارشاد ہے : اعتقاد کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس چیز کا جوان کے پاس ان کے رباب کی طرف سے اتاری گئی ہے اورمومنین بھی سب کے سب عقیدہ رکھتے ہیں اللہ کے ساتھ اوراس کے فرشتوں کے ساتھ اوراس کی کتابوں کے ساتھ اوراس کے چیمبروں کے ساتھ اوراس کے چیمبروں میں کسی کے ساتھ جدالی اورتفريق نہیں کرتے۔ وقولہ : يا أيها الذين آمنوا امنوا باللہ ورسوله والكتب الذي نزل على رسوله والكتب الذي انزل من قبل ومن يكفر بالله وملئكته وكتبه ورسله واليوم الآخر فقد ضل ضلالا بعيدا اور (سورۃنساء، پ: 5، ع: 20، آیت نمبر: 136، میں) ارشاد ہے : اے ایمان والو! تم اعتقاد رکھو اللہ کے ساتھ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اوراس کتاب کے ساتھ جواس کے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائی اوران کتابوں کے ساتھ جوکہ پہلے نازل
ہوچکی ہیں اور جو شخص اللہ تعالیٰ کا انکار کرے اوراس کے فرشتوں کا اوراس کی کتابوں کا اور
اس کے رسولوں کا ورروز قیامت کا تو وہ شخص گمراہی میں برہی دورجاپڑا -
حدیث جبرئیل علیہ السلام
In Surah Al-Baqarah (Chapter 2, Part 1, Verse 128), it is revealed: 'O Lord, make this a city of peace and security, and raise up from among its people some who are truly God-fearing and righteous.' It is also said: 'He has made you Muslims' (Surah Al-Hajj, Chapter 22, Part 17, Verse 78), where Allah Almighty reveals: 'He has made you a Muslim community - and He says: 'I have submitted myself to the Lord of the worlds' (Surah Al-Baqarah, Chapter 2, Part 1, Verse 131). In Surah Al-Baqarah (Chapter 2, Part 3, Verse 285), it is revealed: 'The believers believe in what has been sent down to the Messenger and in all that has been sent down before it. They do not make any distinction between any of His Messengers.' And it is said: 'O you who believe! Believe in Allah and His Messenger and the Book which He has sent down to His Messenger and the Book which He sent down before. Whoever disbelieves in Allah and His angels and His Books and His Messengers and the Last Day has indeed gone far astray' (Surah An-Nisa, Chapter 4, Part 5, Verse 136).
And those who deny Allah, His angels, His Books, His Messengers, and the Day of Resurrection, such a person is indeed far astray, plunged into error, [this is] the Hadith of Gabriel (peace be upon him).
_حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہول نے فرمایا کہ تم ایک
روز حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کر اچاکہ ہمارے روبردا ایک شخص
ظاہر ہوا، جس کے کپڑے بے حد سفیداور بال نہایت سیاہ تھے، نتواس پرسفر کے آثار تھے اور نہ کسی میں
کوئی اس سے واقف تھا، وہ (شخص) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روبرودیہ گیااور اس پین دونول
زانووال کونی صلی اللہ علیہ وسلم کے زانو والے مبارک سے لگادیاور اس پین ہاتھوں کوائے دونول زانووال
پردکہ لیااور عرض کیا: اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)! مجھے بتائے کر اسلام کیا ہے؟
ارکان اسلام پانچ (5) ہیں
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام پیہ کرتا (1) گوانی دے کر اللہ کے سوا کوئی
معبد نہیں،اور پیکر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے پیغمبر (رسول) ہیں،اور (2) نماز کوآچی طرح پابندی
سے ادا کرے،اور (3) زکوۃ دے اور (4) رمضان کے روزے رکے اور (5) حج کرے خانہ کعبہ کا
بطریکہ وبال تک چلنچ پرتا درہو، اس شخص نے (پیش کر) کہا کر آپ پین چھ فرمایا۔ بمسب کواس
پچیرت ہوتا کر آپ پین پوچھتاہے اورسا تمہیں تقصد یقینی کروا تاہے، اس شخص نے کہا کر مجھے
امیان سے آگاہ کیجے۔
ارکان ایمان چھ (6) ہیں
تو آپ نے ارشاد فرمایا: ایمان پیہ کرتا اعتماد رکے (1) اللہ کے ساتھ اور (2)
اس کے فرشتوں کے ساتھ اور (3) اس کی کتابوں کے ساتھ، اور (4) اس کے پیغمبروں کے
ساتھ اور (5) روز قیامت پر،(6) اور یقین رکے نہیروثر پرکہ وہ قضاء وقدر ہے ہیں، اس
شخص نے کہا: آپ نے مجھ فرمایا پھراس شخص نے پوچھائے تو بنا کر احسان کیا؟
تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ تو اللہ تعالیٰ کی (دل لگا کر) اس طرح عبادت کرے
گویا کہ تو اس کود کیہ رہا ہے، اگر تو اس کواس طرح نہ دکیہ سکے تو (خیرات او خیال رکھ) کروہ
تجھ کود کیہ رہا ہے، پھراس شخص نے پوچھائے قیامت کی خبر دتے!
تو آپ نے فرمایا جس سے تم دریافت کر رہے ہو وہ مجھ پوچھ وا لے سے زیادہ
نہیں جانتا، پھراس نے پوچھا کہ قیامت کی نشانیاں کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا جب لوئدی
ما کو بن اور پکڑے گے پرچن وا لے، گے بد ن، تقدست اور بریان چرا نے والون
کوتود کیے کروہ بلند عمارتیں بنانے میں ایک دوسرے پر غر کریں گے۔
راوی لعن حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ شخص چلا گیااور میں دریتک
طعمر اربا، پھرا آپ نے مجھے فرمایا کہ اے عمر! (رضی اللہ عنہ) کیا تم جانتے ہو کہ سائل کون
تحا؟ میں جواب دیا کہ اللہاوراس کے رسول زیادہ جانتے والے ہیں، آپ نے فرمایا: وہ
توجہ تیل (علیہ الصلاۃ والسلام) تے، تمہارے پاس اس غرض سے آئے ٹے کہ تم کوتمہارا
دوین صحابی - (اس حدیث کی مسلم نے روایت کی ہے)
Umar ibn al-Khattab () (may Allah be pleased with him) said: While we were sitting with the Messenger of Allah (ﷺ) one day, a man appeared before us. His clothes were exceedingly white, and his hair was intensely black. There were no signs of travel on him, and none of us recognized him. He came and sat next to the Prophet (ﷺ), aligning his knees with his knees and placing his hands on his thighs. He said, “O Muhammad, inform me about Islam.”
The Prophet (ﷺ) replied:
“Islam is to testify that there is no god but Allah and that Muhammad is the Messenger of Allah, to establish prayer, to give zakah, to fast during Ramadan, and to perform Hajj to the House if you are able to do so.”
The man said, "You have spoken the truth.” We were amazed at him questioning the Prophet (ﷺ) and then confirming the answer.
He then said, “Inform me about faith (Iman).”
The Prophet (ﷺ) replied:
“Faith is to believe in Allah, His angels, His books, His messengers, the Last Day, and to believe in divine decree (Qadar), both its good and its bad.”
The man said, "You have spoken the truth.”
He then said, “Inform me about excellence (Ihsan).”
The Prophet (ﷺ) replied:
“Excellence is to worship Allah as if you see Him, and if you cannot see Him, then indeed He sees you.”
The man then said, “Inform me about the Hour (the Day of Judgment).”
The Prophet (ﷺ) replied:
“The one being asked knows no more about it than the one asking.”
He said, “Then inform me about its signs.”
The Prophet (ﷺ) said:
“That the slave girl will give birth to her mistress, and that you will see barefoot, naked, destitute shepherds competing in constructing tall buildings.”
He (Umar) said: Then the man left, and I remained for some time. Then the Prophet (ﷺ) said to me, "O Umar, do you know who the questioner was?" I replied, "Allah and His Messenger know best." He said, "That was Jibreel (Gabriel), he came to teach you your religion." [Narrated by Muslim].
It is also narrated by Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) with some differences, wherein it states:
"When you see the barefoot, naked, deaf, and mute becoming the kings of the earth..." and added, "in five matters that no one knows except Allah," then he recited: 'Indeed, Allah [alone] has knowledge of the Hour, sends down the rain…' to the end of the verse (Luqman: 34).
[Agreed upon by Bukhari and Muslim]
This hadith has been narrated by Muslim.
وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ، وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ
مَا ذَا تُكْسِبُ غَدًا، وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ ، إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ -
اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے تحویلے سے اختلاف کے ساتھ روایت کیاہے، اوران کی
روایت کے اختلاف فی الفاظ ہیں، جب تم نے پیر پچن وا لے، گے بد ن، جہرول اور گوگون کوز میں کے
باوشاہ ویصیں، (قیامت کا آنا) ان پانچ چیزون میں سے ہے، جتن کواللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں
جانتا۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے (سورۃ قمن، پ:21، ع:4، آیت نمبر:34 کی) یآ ئت پر طی
(بِشَكِّ اللَّہِ بزرگ وبرتر ہے (1) قیامت کی خبر ہے اوروں (2) بارش برستا ہے اوروں جانتا ہے جوپڑا (3) رحم میں ہے (جین حاملہ کے پیٹ میں لڑکا ہے یا لڑکی)اورکونی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا (4) عمل کرے گا اورکونی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس (5) زمین پر مرے گا، بِشَکِّ اللہ سب باتوں کا جاننے والاخبر ہے -(سورۃ لقمان،پ۔21،ع:4،آیت نمبر :34)(بخاری اورمسلم نے بالاتفاق اس کی روایت کی ہے-)
(1) کیا قول اورعمل داخل ایمان ہیں؟
(2) کیا ایمان بڑھتا اورگھٹتا ہے؟
(3) کیا ایمان اوراسلام دواگ چیزیں ہیں؟
پیحدیث اوراسے بعدوالی حدثنیں تین چیزوں کے بارے میں ہیں (1) کیا قول اورعمل داخل ایمان ہیں؟ (2) کیا ایمان بڑھتا اورگھٹتا ہے؟ (3) کیا ایمان اوراسلام دواگ چیزیں ہیں؟الن مباحث میں علماء کے درمیان اختلاف ہے علماء میں رحمۃ اللہ علی فرماتے ہیں کہ اختلاف محض لفظی ہے کیونکہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام مبارک میں ایمان دونوں معنوں میں آیہ-
ایمان، حدیث میں دومعنوں میں استعمال ہواہے وہ حدیث جس میں ایمان مراصرف عقیدہ اوراسلام سے مراصرف اعمال ہے
(1) ایک معنی کے لحاظ سے ایمان سے مراحض عقیدہ ہے جس میں عمل داخل نہیں،
چنانچہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد سے بھی ظاہر ہوتا ہے اور وہ ارشاد یہ کہ تو ایمان رکے اللہ برزگ وبرتر پر، اوراس کے فرشتوں پر، اوراللہ تعالیٰ سے ملت پر، اوراس کے رسولوں پر، اوریقین رکھ مرتن کے بعد اٹھنے پر، اوراسلام میں کرتے اللہ برزگ وبرتر کی عبادت کرنے اوراس کے ساتھ کسی کوشش کیے نہ بنائے اورنماز کو اچھی طرح پابندی سے ادا کرنے، فرض زکات کودیونے، اور رمضان کے روزہ رکے۔ (تا آخر حدیث) (اس حدیث میں ایمان سےصرف عقیدہ، اوراسلام سےصرف اعمال مراد ہیں۔)
وہ حدیث جس میں ایمان سےمراد عقیدہاور عمل دونوں پیاورپا ایمان کامل ہے دوسروں پیکر لفظ ایمان حدیث میں ایمان کامل کے معنی میں بھی آیاہے اوراس میں عمل داخل ہے چنانچہ وفرعبدالقیس کی حدیث میں سركار صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان کی تعریف فرماتے ہوئے اس میں عقیدے کے علاوہ عمل کو بھی داخل فرمایاہے، حدیث یہ "کیا تم جانتے ہواللہ واحد پرا ایمان کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ اللہاوراس کے رسول خوب جانتے ہیں، آپ نے ارشاد فرمایا: اس باٹ کی گواتی کر اللہ کے سوا کون لاکی عبادت نہیں، اوریکے حضرت محمد مصطفى (صلی اللہ علیه وسلم) اللہ کے رسول ہیں، اورنماز کا پابندی سے اچھی طرح ادا کرنا، اور زکات کا دینا، اور رمضان کے روزہ رکھنا، اوریکے تمام غنیمت میں سے پانچوال حصہ دیا کرو، اس معنی کے لحاظ سے یوہی ایمان ہے جس کی نغی حضرت صلی اللہ علیه وسلم کے اس ارشاد مبارک میں موجود ہے وہ حدیث یہ "ایسا نہیں ہوسکتا کہ زنا کرنے والازنا کرنے اوراس کا ایمان بھی باقی رہے"(تا آخر حدیث )الغرض ہروہ مقام جوابیاہوو بالبھی مراد ہے۔
وها ایمان جس کی وجہ سے مسلمان دوزخ میں داخل نہ ہوگا، اعمال سےآراستہ ایمان ہے اوروہ ایمان جس کی وجہ سے مسلمان دوزخ میں داخل نہ ہوگا وہ باقاق میں ایمان کامل ہے جو اعمال سےآراستہ او اوراس معنی پرجمع مسلمین کا اتفاق ہے۔
ایمان کے ساتھ عمل نہ ہو تو گناہول کی وجہ سے دوزخ میں داخل تو ہوگا لیکن بمیشہ نہ ہے گا اوروہ ایمان جس کی وجہ سے دوزخ میں (گناہول کی وجہ سے داخل تو ہو جائے گا) لیکن بمیشہ
نہ رہے گا، وہ با تقاق الہ سنٰت و جماعت پھلا ایمان ہے جس کے ساتھ اعمال نہ پائے جاسکی اس پرکئی
دلیلیں ہیں۔ جس میں ایک اپوز رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے (کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمايا کہ بنده " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " کہ او راسی پراسکی موت وا قع ہو پھروہ جنت میں داخل ہوایا نہیں
ہوسکتا، میں نے عرض کیا: اگر چاسے زنااورچوری ہوجائے؟ تو آپ نے جواب دیا: اگرچکہ اس
سے زنااورچوری ہوجائے (تا آخر حدیث)-
دوسری ویل حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک او راشادہ وہ پیکہ ہروہ شخص جس کے
دل میں ذرہ برابر ایمان ہوودوزخ سنجات پائے گا۔"
عمل کرن معنوں میں ایمان کارکن ہے
خلاصہ یہ کہ اسلاف اورامام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے عمل کو ایمان کے دورسرے معنی کے لحاظ
سے ایمان کارکن بنایا اوراگرايمان کے ساتھ اعمال نہ پائے جاسکین تو پہلمعنی کے لحاظ سے اس پر ایمان
کے باقی رستے کا حکم لگایا، کیونکہ ایمان اس کے سیدمیں موجود ہے (ایاشخص) بالآخر دوزخ سے
چھٹکارا پائے گا اگر چاسکے پاس ایمان کے ساتھ اعمال نہہوں-
ایمان سے مراد تصدیق قلبی ہوتا ایمان میں کیا اورزیادتی نہیں ہوتی، لیکن ایمان
سے مراد طاعتنہیں ہوتا ایمان میں کیا وزیادتی ہوتی ہے
ایمان سے مراد تصدیق قلبی ہوتا اس معنی کے لحاظ سے ایمان میں کیا اورزیادتی نہیں ہوتی
اوراگرايمان سے مراد طاعتنہیں اورعبادتیں ہوتا ایمان میں کیا اورزیادتی ہوتی ہے، اور حقیقت یہ
کہ عبادتیں تصدیق کی تمکیل کرتی ہیں تو ہروہ حدیث جوابیان کے نہ بلکہ اورنہ غلط پردلالت کرتی
ہوتا اس سے مراد اصل ایمان سے لیجن تصدیق محض جس میں عمل داخل نہیں، اور ہروہ حدیث جوابیان
کے بطور نہ اور غلط پردلالت کرتی ہوتا اس سے مراد ایمان کامل ہوتا ہے، جس میں اعمال داخل ہیں-
ایمان اوراسلام مفہوم میں اگر بھی کیا مصداق میں ایک ہیں
دوسری بجث اس بارے میں ہے کہ ایمان اوراسلام دونوں اگر چیزیں ہیں یادوں ایک
پس، ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: حق یہ ہے کہ ایمان اور اسلام میں لفظی اختلاف ہے کیونکہ اول
( جس ایمان اور اسلام کا اگر اگر بھونا ) لغت پرموقف ہے اور ثانی ( جس ایمان اور اسلام کا ایک
بھونا ) شریعت پر محصوب ہے، حقیقی یہ ہے کہ ایمان اور اسلام مفہوم کے لحاظ سے ایک دوسروں سے اگر بین
لیکن دونوں کا مصدر ایک ہی ہے -
ایمان شرعی میں تصدیق بلبلی اور اقرار لسانی داخل ہے اور عمل کمال ایمان کی شرط ہے
بدائیہ المسائل فی حل تفسیر المدارک میں کہا ہے کہ ایمان شرعی سے مراد تصدیق بلبلی مع اقرار لسانی
سے اور عمل اس میں داخل نہیں بلبلاس سے خارج ہے اور کمال ایمان کی شرط ہے اور جمع احناف جوامع
ابو منصور ماتزیدی رحمۃ اللہ علیہ کے پیروئی، ان کے پاس جی رانگ ہے، البتہ حقیقین کا ذہب یہ کہ ایمان
صرف تصدیق کانام ہے اور شاعرہ جس شافعی حضرات نے اس کورانج قرار دیا ہے -
اقرار زبانی ایمان کا مشروط کن ہے
پس جو شخص دل سے تصدیق کرے اور بلغر عذر کے زبان سے اقرار نہ کرے وہ عند اللہ موسی نہیں
اور وہ حضرات جن کے پاس اقرار زبانی ایمان کا کرنے ہے ایسا شخص دوزنی ہوگا۔ امام فخر الاسلام اور مفسر الالتمہ
اور اکثر فقہاء نے اس کواختیار کیا ہے البتر وہ حضرات جن کے پاس اقرار زبانی ایمان کا کرنے نہیں، ایسا شخص
ان کے پاس موسی توہے اور الد تعالیٰ کے پاس دنیاوی احکام میں غیر موسی ہے، یعنی صورت منافق کے بر عكس
سے ) کیونکہ منافق عند اللہ کفر ہوتا ہے لیکن عند الناس موسی نہیں -)
شرح مقاصد میں کہا ہے کہ یہ اختلاف اس صورت میں ہے کہ آدمی گفتگو کرسکتا ہو، اور اس کا
اقرار نہ کرنا انکار کی وجہ سے نہ ہو، مگر ایک شخص جس نے دل سے تصدیق کرلی، لیکن اس کو زبان سے
اقرار کرنے کا وقت نمل سکا تو سب اس بات پرتفق ہیں کہ بالاتفاق وہ موسی ہوگا، شرح مقاصد کی عبارت
سے میں واضح ہوتا ہے اور ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے شرح شفاء میں کہا ہے کہ وہ شخص جو اقرار شہادت
پر قادرش ہوسکا باجو دیکر اس سے تصدیق بلبلی ثابت ہوتی وہ موسی نہیں ہے کہنا ضعیف ہے، بل اس کو اتنا
وقت ملا کر اس میں وہ اقرار کر سکتا تھا اور اس سے اقرار کا مطالبہ کیا گیا اور اس نے انکار کیا تو ایسا شخص
باتفاق موسی نہیں بلکہ وہ عناد وسرشکی کی وجہ سے کافر ہی ہوگا -
اقرار زبانی کے معنوں میں ایمان کا رکن ہے
الغرض اس تفصیل سے پیشہ نظر ہے کہ اقرار زبانی ایمان کا ایک اور رکن ہے گر بھی یاد رہے کہ اصل
ایمان تو دل سے قدرت یقین کانام ہے، راکی واضح باطہ کر زبان خیالات کے اظہار کا ذریعہ ہے اس
لت ایمان کا زبان سے اقرار ایمان کے دل میں ہونے یانہوئے کی ویل ہوگی، اس لحاظ سے پیشہ کہ
اقرار زبانی ایمان کا ایک اپارکن ہے جو بعض حالات میں ساقط ہوسکتا ہے، لہذا حالات اختیاری میں
اقرارجزء ایمان قرار دیاجائیگا اور جبر و اکراه کے ذہوئے کی حالات میں اقرار کانہ ہونا قدرت یقین کے ذہوئے
کی ویل ہوگا، الغرض اقرار زبانی کا اس طرح رکن ہونا اس باط کے خلاف نہیں کہ ایمان کی حقیقت
قدر یقین ہےاور جن حضرات کے پاس اقرار ایمان کا رکن ہے وہ دراصل ایمانی معنوں میں ہے-
جمہور محد ثین کے نزدیک عمل کمال ایمان کا جزء ہے
جمہور محد ثین رحمہ اللہ کے نزدیک عمل ایمان کا جزء ہے اس طرح جسیا کہ باٹہ انسان کا جزہ تو
جسم طرح باٹہ کی نفی سے انسان کی نفی نہیں ہوسکتی بلدا ایک تقسیم عرب ہوگا باکمل اس طرح عمل کی نفی سے
ایمان کی نفی نہیں ہوسکتی _ محض بر عمل کمال ایمان کا جزء ہے البتہ محظ لہاول خوارج کے نزدیک عمل ایمان کا
جزء اصلی ہےاور عمل کے ذہوئے سے ان کے پاس ایمان باقی نہیں رہتا-
ایمان، اسلام، قدر یقین، اقرار او عمل کے مباحث کاخلاصہ
خلاصہ یک ایمان سے مراد اگر قدر یقین ہوتا اس میں کی اورز یادتی نہیں ہوتی، اور ایمان سے
مراد اگر قدر یقین، اقرار او عمل تینوں چیزیں ہوتی تو اس میں عمل کے لحاظ سے کی اورز یادتی ہوگی، لیکن
ایمان کی کی اورز یادتی معنی اول لیتن صرف قدر یقین کے لحاظ سے اس اعتبار سے ہوگی کہ جس شے
پرايمان لا یاگیاہے اس شے میں زیادتی یا کمی ہوتی نہ کر نفس ایمان میں -
ذکورہ مباحث کے لحاظ سے آیات اور احادیث میں بیان ممکن ہے
التفصیلات سے محمد للہ پتابت ہوتاہے کہ قرآن کی وہ آیتیں اور حدیث کی وہ روایتیں جن
سے ایمان کا حقنا اور بر طے هنا ظاہر ہوتا ہے، ان سب آئیول اور حد یثول میں جمع اور تقیق ممکن ہے اور پی
ایک دوم سے کے مخالف نہیں اوراس میں جو بھی اختلاف ہوا ہے وہ نزاع لفظی کی حد تک ہے، اس لے
خوب بھجو اور غور کرو۔
اسلام کی بنیاد پائے پچھلے پہے
پر کہی گئی ہے: (1) گواہی ویناس بات کی کر اللہ کے سوا کونی معبد نہیں اور حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم اس کے بندے اوراس کے رسول ہیں اور (2) نماز کو پابندی سے
اور کرنا، اور (3) زکات دینا، اور (4) نج کرنا اور (5) رمضان کے روزے رکھنا۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفرق طور پر کی ہے)
ایمان کی ستّر (70) پر کی شاخیں ہیں
پر کہی گئی ہے: (1) گواہی ویناس بات کی کر اللہ کے سوا کونی معبد نہیں اور حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم اس کے بندے اوراس کے رسول ہیں اور (2) نماز کو پابندی سے
اور کرنا، اور (3) زکات دینا، اور (4) نج کرنا اور (5) رمضان کے روزے رکھنا۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفرق طور پر کی ہے)
Indeed, Allah - with Him is the knowledge of the Hour, and He sends down the rain, and He knows what is in the wombs. And no soul knows what it will earn tomorrow, and no soul knows in what land it will die. Indeed, Allah is Knowing and Acquainted. (Surah Luqman, Chapter 31, Verse 34) (Bukhari and Muslim have narrated this by agreement.)
The following hadith and those that follow are about three things: (1) Whether speech and action are included in faith? (2) Whether faith increases and decreases? (3) Whether faith and Islam are two separate things? There is a difference of opinion among scholars on these issues. Some scholars, may Allah have mercy on them, say that the difference is merely linguistic because the blessed words of the Prophet ﷺ use 'faith' in both senses.
(1) In one sense, 'faith' refers only to belief, which does not include action, as evident from the guidance of the Prophet ﷺ, which states: 'Faith is to affirm the existence of Allah, His angels, His meeting, His messengers, and to believe in the resurrection after death.' And 'Islam' includes actions such as worshipping Allah, not associating any partners with Him, performing prayers diligently, paying the obligatory zakat, and fasting in Ramadan. (This hadith refers to 'faith' as belief alone and 'Islam' as actions alone.)
In another hadith, 'faith' encompasses both belief and action, making it complete. The word 'faith' in this hadith also means complete faith, which includes action. For example, in the hadith narrated by Abu al-Qays, the Prophet ﷺ defined 'faith' to include both belief and action, stating: 'Do you know what it means to have faith in the oneness of Allah? It means not worshipping anyone besides Allah, believing that Muhammad ﷺ is the Messenger of Allah, performing prayers diligently, paying zakat, fasting in Ramadan, and giving one-fifth of all spoils of war.' This definition of faith, as mentioned in the blessed guidance of the Prophet ﷺ, includes both belief and action.
It is impossible for someone who commits adultery to retain their faith while committing the act. (End of the hadith)
In summary, whether in one context or another, the intended meaning is clear.
The faith that ensures a Muslim will not enter Hell is a faith that is accompanied by good deeds. The faith that ensures a Muslim will not enter Hell is complete faith, which is accompanied by good deeds. There is a consensus among Muslims on this point.
If a person has faith but does not perform good deeds, they may enter Hell due to their sins, but they will not remain there forever. The faith that allows a person to enter Paradise despite not performing good deeds is based on several arguments, including the hadith of Anas (RA), where the Prophet ﷺ said: 'A person who says, "There is no god but Allah," and dies upon this belief will enter Paradise, even if they commit adultery or theft.' I asked, 'What if they commit adultery or theft?' He replied, 'Even if they commit adultery or theft.' (End of the hadith)
Another statement of the Prophet ﷺ is that every person who has even a grain of faith in their heart will be saved from the Fire.
Action is a part of faith.
In conclusion, the predecessors and Imam Shafi'i (RA) considered action as a part of faith in one sense, and if a person has faith but does not perform actions, they are still considered to have faith in the first sense, because faith resides in their heart, and ultimately, they will be saved from Hell if they have faith, even without actions.
Faith means heartfelt belief, and there is no increase or decrease in faith in this sense. However, if faith includes obedience and worship, there can be an increase or decrease in faith. Faith means heartfelt belief, and there is no increase or decrease in faith in this sense. If faith includes obedience and worship, there can be an increase or decrease in faith. The truth is that worship confirms belief, so every hadith that seems to contradict this actually refers to the original meaning of faith, which is mere belief without action, and every hadith that seems to confirm this actually refers to complete faith, which includes action.
Whether faith and Islam are conceptually the same or different.
Another discussion is whether faith and Islam are two separate things or one. Mulla Ali Qari (RA) said: The truth is that there is a linguistic difference between faith and Islam. The first (which refers to faith and Islam as two separate things) is a linguistic distinction, and the second (which considers them as one) is a legal distinction. In reality, faith and Islam are conceptually distinct but have the same source.
In the legal sense, faith includes heartfelt belief and verbal affirmation, and action is a condition for the perfection of faith.
In the beginning of the issues in the interpretation of the Madaarik, it is stated that legal faith means heartfelt belief with verbal affirmation, and action is not included in it but is a condition for the perfection of faith. This is the view of the majority of Hanafis, who follow Abu Mansur al-Maturidi (RA). However, the true position is that faith is merely heartfelt belief, as the Shafi'is have established.
Verbal affirmation is a condition of faith.
Therefore, a person who believes in their heart but does not verbally affirm due to a valid excuse is not a believer before Allah. Those scholars who consider verbal affirmation as a condition of faith hold that such a person will go to Hell. Imam Fakhr al-Islam, the interpreter of the Al-Tamhid, and most jurists have adopted this view. However, those scholars who do not consider verbal affirmation as a condition of faith hold that such a person is a believer in their view and a non-believer in the worldly commands of Allah, meaning they are like a hypocrite in reverse (since a hypocrite is a disbeliever before Allah but not before people).
In the Sharh al-Maqasid, it is stated that this difference applies when a person can speak but does not affirm out of denial. However, if a person has believed in their heart but did not have the opportunity to affirm verbally, all agree that they are believers. This is clear from the statement in the Sharh al-Maqasid. Mulla Ali Qari (RA) said in the Sharh al-Shifa that it is weak to say that a person who could have affirmed the testimony but did not is not a believer. Rather, if they had the opportunity to affirm and were asked to do so but denied, they are unanimously considered non-believers due to denial and arrogance.
Verbal affirmation is a component of faith.
In conclusion, verbal affirmation is a component of faith, although it must be remembered that the essence of faith is heartfelt belief. Verbal expression is a means to express inner thoughts, so the verbal affirmation of faith is a reflection of the faith in the heart. Therefore, verbal affirmation is a component of faith, which can be waived in certain situations. Thus, in voluntary circumstances, verbal affirmation is a part of faith, and in situations of compulsion or coercion, the lack of verbal affirmation is a reflection of the faith in the heart. In essence, the fact that verbal affirmation is a component of faith does not contradict the reality that the essence of faith is heartfelt belief, and those scholars who consider verbal affirmation as a component of faith do so in the context of faith's meanings.
The majority of the early scholars consider action as a component of the perfection of faith.
The majority of the early scholars (RA) consider action as a component of faith, similar to how a limb is a part of the body. The absence of a limb does not negate the existence of the body, just as the absence of action does not negate the existence of faith. Action is merely a component of the perfection of faith. However, according to the Khawarij, action is an essential part of faith, and the absence of action negates faith.
Summary of the discussions on faith, Islam, heartfelt belief, verbal affirmation, and action.
In summary, if 'faith' refers to heartfelt belief, there is no increase or decrease in it. If 'faith' includes heartfelt belief, verbal affirmation, and action, then there can be an increase or decrease in it based on actions. However, the increase or decrease in faith, in the first sense, is based on the belief itself, which does not change in its essence.
From the perspective of the discussed issues, it is possible to reconcile the verses and hadiths that appear to contradict each other. The verses of the Quran and the narrations of the hadith that clarify the nature and conditions of faith can be harmonized, and any apparent contradictions are merely linguistic differences. Therefore, one should carefully study and reflect on these matters.
The foundation of Islam is based on the following:
(1) Bearing witness that there is no god but Allah and that Muhammad ﷺ is His servant and Messenger, (2) Performing prayers diligently, (3) Paying zakat, (4) Fasting in Ramadan, and (5) Performing the pilgrimage to the House.
(These have been narrated separately by Bukhari and Muslim.)
The seventy branches of faith are based on the following:
(1) Bearing witness that there is no god but Allah and that Muhammad ﷺ is His servant and Messenger, (2) Performing prayers diligently, (3) Paying zakat, (4) Fasting in Ramadan, and (5) Performing the pilgrimage to the House.
(These have been narrated separately by Bukhari and Muslim.)
_ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا کہ ایمان کی ستّر پر کی شاخیں ہیں اوران سب میں فضل لاالہ الااللہ ” کا کہنا ہے اوران
سب میں کمزراست سے تکلیف دہ چیزا دور کرنا ہے اور حیا کی ایمان کی ایک بڑی شاخ ہے (اس کی
روايت بخاري اور مسلم نے متفرق طور پر کی ہے)
اعمال ایمان میں مجاز آدا خل ہیں
ف : علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ لغت میں ایمان کے تحت تصدیق کے ہیں، اورثر پیعت میں
دل اور زبان سے تصدیق کے ہیں، اور کمال ایمان اعمال سے حاصل ہوتا ہے، اس تفصیل کے لحاظ سے وہ
حد ثبت ہے میں ایمان کی ساطھ پر کی یاستر پر چند شاخیں یا ای قسم کی باٹلن کا ذکر ہے، ان حد ثبوت میں
در اصل اصل کا اطلاق فرع پر کیا گیا ہے لیکن ایمان تو اصل ہے اور اعمال ایمان کی فرع اور شاخیں ہیں، اس
بناء پر اعمال کو ایمان میں شامل اور داخل کر لینا چاہ آہ کیونکہ اعمال ایمان کی وجہ سے صادر ہوتے ہیں۔
کامل مسلمان اور حقیقی مهاجر کون ہے؟
Narrated Abu Huraira (1) (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Iman (faith) has over seventy branches, the highest of which is the declaration that there is no god but Allah, and the lowest of which is the removal of something harmful from the road. And modesty is a branch of faith." [Agreed upon]
The narration from Abu Huraira (may Allah be pleased with him)…: Al-'Ayni said that faith (Iman) literally means "belief," while in the terminology of Sharia, it refers to both the belief in the heart and the tongue. Its completeness and perfection are achieved through righteous actions. Thus, when it is stated that faith consists of over sixty or seventy branches, it is meant to refer to the principal concept of faith, with the actions being its branches. The term "faith" is applied to actions in a figurative sense, as these actions stem from faith.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کامل مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسروں مسلمان محفوظ رہیں، اور (حقیقی) مهاجر وہ ہے جو ان کا مول کو چھوڑ دے جن سے اللہ نے منع فرمایا (بخاری کے الفاظ میں) اور مسلم کی عبارت یہ ہے جس کو راوی نے بیان کیا کہ یہ آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ مسلماں میں کونسا مسلمان بہتر ہے آپ نے فرمایا کہ وہ مسلمان جس کے زبان اور ہاتھ سے دوسروں مسلمان محفوظ رہیں۔ مسلمان کے کامل الایمان بن جان کی نشانی یہ ہے کہ وہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے باب پیو لاورسارے انسانوں سے زیادہ محبوب بنا لے۔
From Abdullah ibn Amr (may Allah be pleased with him), the Messenger of Allah (ﷺ) said: "A Muslim is the one from whose tongue and hand the Muslims are safe, and the Muhajir (emigrant) is the one who abandons what Allah has forbidden." This is the wording of Bukhari. In Muslim's version, it is mentioned:
A man asked the Prophet (ﷺ): "Which Muslim is the best?" He replied: "The one from whose tongue and hand the Muslims are safe."
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی شخص اس وقت تک (کامل) مومن نہ ہوگا جب تک کہ میں اس کے پاس اس کے باب پچول اور تمام لوگوں سے محوب نہ ہوجائے۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے بالاتفاق لی ہے)- حلاوت ايماني تین چیزوں سے حاصل ہوتی ہے۔
The Messenger of Allah ﷺ said: 'No one will be a complete believer until his disposition is loved by his children and all people.' This is narrated by Bukhari and Muslim. - Piety is obtained through three things.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین با تین جس میں ہو لان کی وجہ سے وہ ایمان کی حلاوت پا ی گا(1) خدا و رسول اس کی نظر میں تمام ماسوا اللہ سے زیادہ پیارے ہو ن(2) اس کو اگر کسی سے محبت ہو تو صرف خدا کے لیے ہو(3) جو کفر کی طرف لوٹ جانے کو اتنا برا سمجھے جتنا کر آگے میں ذا لے جانے کو برا سمجھتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے اسے کفر سے بچا لیا ہے-(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے بالاتفاق لی ہے)-
ایمان کا مزہ کب حاصل ہوگا؟
From Anas (may Allah be pleased with him), the Messenger of Allah (ﷺ) said:
"There are three qualities, whoever possesses them will taste the sweetness of faith:
That Allah and His Messenger are more beloved to him than anything else.
That he loves a person only for the sake of Allah.
That he hates to return to disbelief after Allah has saved him from it, just as he would hate to be thrown into the Fire." [Agreed upon]
عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شخص نے ایمان کا مزہ چکھ لیا جو اللہ تعالیٰ کے رب ہونے پر، اور اسلام کے دین ہونے پر، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر ایمان لائے۔ (مسلم نے اس کی روایت کی ہے)
امت دعوت ہے جس کو حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے کی خبر لے اور وہ ایمان لائے تو وہ دوزخی ہوگا
From Al-Abbas ibn Abdul-Muttalib (may Allah be pleased with him), the Messenger of Allah (ﷺ) said: "He has tasted the flavor of faith who is pleased with Allah as his Lord, Islam as his religion, and Muhammad as his Messenger." [Narrated by Muslim]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے، جس کسی نے اس امت دعوت میں سے میرے نبی ہونے کی خبر سن لی خواہ یہودی ہو یا نصرانی، پھراس وہ پر ایمان لائے بغیر مر جائے جس کو مجھے دیکر بھیجا گیا ہے تو وہ دوزخی ہوگا۔ (مسلم نے اس کی روایت کی ہے)
مسلمان امت اجابت میں اور باقی سارے جن و انس امت دعوت میں فحضور علیہ الصلاۃ والسلام سے بیشتر قیامت میں حقہ جن و انس میں وہ سب حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں جنہوں نے حضرت پر ایمان لایا، وہ امت اجابت میں اور جنہوں نے ایمان لائے۔ نہیں کیا وہ امت دعوت میں۔
تمین آدمیوں کے لئے دوہراثواب ہے
From Abu Huraira (may Allah be pleased with him), the Messenger of Allah (ﷺ) said:
"By the One in Whose Hand is the soul of Muhammad, no one from this Ummah, neither a Jew nor a Christian, hears of me and then dies without believing in what I have been sent with, except that he will be among the people of the Fire." [Narrated by Muslim]
ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتا ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین آدمیوں کے لئے دوہراثواب ہے: (1) ایک وہ اہلِ کتاب (یہودی
یانصرانی) شخص جو اپنے نبی پر ایمان لا یاور (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) پر بھی ایمان لایا–(2) دوسرا وہ غلام
یا لونڈی جو خدا کا حق ادا کرے، اور اپنے مالکوں کا حق–(3) تیرا وہ شخص جس کے پاس کوئی بندی
ہوجس سے وہ جمع کرتا تھا پیس اس نے اس کو ادب سکھایا اور اس کی اچھی تربیت کی اور مسائل
شریعت کی اچھی تعلیم دی، پھر آزاد کیا اور اس سے نکاح کر لیا، اس کے لئے جسی دوہرا ثواب
ہے–(بخاری اور مسلم نے بالاتفاق اس کی روایت کی ہے)–
حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ملا کہ وہ اس وقت تک جنگ کرے تے رہی یہاں تک کہ
لوگ کلمہ پڑھیں، نماز قائم کریں اور زکات دین
From Abu Musa Al-Ash'ari (may Allah be pleased with him), the Messenger of Allah (ﷺ) said: "There are three who will have a double reward:
A man from the People of the Book who believed in his prophet and then believed in Muhammad.
A slave who fulfills the rights of Allah and the rights of his masters.
A man who has a slave woman, educates her well, teaches her well, then frees her and marries her, for him is a double reward." [Agreed upon]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کہ، کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک جنگ کرتا رہوں، جہاں تک کہ وہ لاالہ الا
اللہ اور محمد رسول اللہ، کی گواہی دیں اور نماز قائم کریں اور زکات دین، جب یہ سب کام
کر لیس تو انہوں نے اپنے خون اور مال کو مجھے محفوظ کر لیا، بھرچو اسلام کے (جس نے مشاگر کی تو تقی
کریں تو بد لے میں مارے جائیںگے) اور ان کا حساب اللہ پر ہے (بخاری اور مسلم نے بالاتفاق اس کی
روایت کی ہے) اور مسلم شریف میں لا بحق الِسلام نکو نہیں ہے–
ف: لیکن پیا حکام بصرق ول انجمام دیہیں یا حض طابرداری سے، اگر ظاہرداری سے انجمام
دیہے ہو لتواللہ تعالیٰ ہی اس کا حساب لیتا لے ہیں–
اللہاور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کس مسلمان کا ذم لیا ہے
Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: "I have been commanded to fight the people until they testify that there is no deity worthy of worship except Allah and that Muhammad is the Messenger of Allah, establish prayer, and pay zakat. If they do that, they will have secured their lives and property from me except by the right of Islam, and their reckoning is with Allah." [Agreed upon by Bukhari and Muslim, although Muslim did not include the phrase "except by the right of Islam."]
انس رضی اللہ عنہ نے روایت کہ، انہوں نے کہا کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
ارشاد فرما یا کہ جس نے ہماری طرز کی نماز پڑھی اور ہمارے قبل کی جانب رخ کیا، اور ہمارا ذن کیا
ہوا اکھا تو ہی ایا مسلمان ہے جس کے لئے اللہ اور اللہ کے رسول کا ذمہ ہے، پس اللہ کے اس
عبد و پیمان کون تو رو - (امام بخاری نے اس کی روایت کی ہے)-
ایک اعرابی کودربار رسالت (صلی اللہ علیہ وسلم) سے جنت کی بشارت، جب کہ
انہوں نے جنت میں داخل کرنے والے اعمال پر تم کا عمل کرنے کا عزم کر لیا
Anas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever performs our prayer, faces our qibla, and eats our slaughtered animals, he is a Muslim under Allah's protection and the protection of His Messenger. So do not betray Allah by violating His protection." [Narrated by Bukhari]
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک اعرابی حضرت
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوااور عرض کیا کہ مجھے ایسا عمل بتلائے کہ جب میں
اسے کروں تو جنت میں داخل ہوجاؤں، ارشاد ہوا کہ اللہ کی عبادت کر، اور سیکواس کا شریک نہ
بنا، اور نماز فرض پابندی سے پڑھ لیا کر، اور زکات وا جب ویا کر، اور رمضان کے روزے رکھ۔ اعرابی
نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اس پر پچھنے بلا حال کا اور نہ
گھٹاو لگا جب وہ واپس ہوگیا تو حضرت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس کسی کو جنت کے
دیکھنے کی خوشی ہوتی وہ اس شخص کو دیکھ لے -(بخاری اورمسلم نے بالاتفاق اس کی روایت کی ہے)-
ایمان باللہاوراس پراستقامت مسلمان کو بے نیاز کردیتا ہے
Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrated that a Bedouin came to the Prophet ﷺ and asked, "Guide me to an action that, if I do it, will lead me to Paradise." The Prophet ﷺ replied: "Worship Allah and associate nothing with Him, establish the prescribed prayers, pay the obligatory zakat, and fast during Ramadan." The man said, "By the One in whose hand is my soul, I will not do more nor less than this." When the man turned to leave, the Prophet ﷺ said: "Whoever wants to see a man of Paradise, let him look at this man." [Agreed upon]
سفیان بن عبد اللہ ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہا کہ میں نے آخحضرت صلی اللہ
علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اے رسول اللہ خدا، آپ مجھے اسلام کے متتعلق ایسی بات ارشاد فرمائیں کہ آپ کے
بعد پھر کسی سے اس کے متتعلق دریافت نکروں، ارشاد ہوا کہ "آمنْتُ باللّٰه" (میں اللہ پر ایمان
لا یا) کہ دے، پھراس پر جمارہ -(اسکی روایت مسلم نے کی ہے)-
ایک نجبری کودربار نبوت سے نجابت کی خوشخبری جبکہ انہوں نے نماز،
روزہ اور زکات کی پابندی پر تم کا عمل کرنے کا عزم کیا
Sufyan ibn Abdullah al-Thaqafi (may Allah be pleased with him) narrated: I said, "O Messenger of Allah, tell me something in Islam that I will not need to ask anyone else after you." He said: "Say, 'I believe in Allah,' and then remain steadfast." [Narrated by Muslim]
ظہر بن عبیر اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ابل نجد کا ایک آدمی
آخرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایسی حالت میں حاضر ہوا کہ اس کے سر کے بال پڑ گئے
تھے، جب اس کی آواز کی نگناہیت کو سن رہے تھے، مگروہ جوپچھے کہہ رہا تھا، تم نہیں بجھ رہے تھے، بہال
تم کروہ آخرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہواچھروہ اسلام کے متعلق پوچھنے لگا، آخرت صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا: کہوناورات میں پائے نمازیں، پھر پوچھا کہ کیا ان کے سوا پچھاوڑ بھی پروا جب ہے
ارشاد ہوا نہیں، مگر پیکہ طور نفل پڑھے لے، آخرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ماہ رمضان کے
روزے، اس کہا کہ اس کے سوا پچھاوڑ بھی پڑھیں، آپ نے فرمایا: نہیں مگر پیکہ طور نفل رکے لے
راوی نے بیان کیا کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے زکات کا ذکر فرمایا تو اس نے
کہا کہ اس کے سوا مجھے پرپچھاوڑ بھی ہے تو فرمایا: نہیں، مگر پیکہ طور نفل تو دیا کرے، راوی نے کہا کہ وہ
شخص یہ کہتا ہوا گے واپس ہوا کہ خدا کی قسم ناس پر زاگد کرول گا ناس سے پچھکم، پس آخرت صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شخص نے نجات پالی اگراس نے پچ کہا ہے۔(بخاری اور مسلم نے
بالاتفاق اس کی روایت کی ہے)-
قبیلہ عبرالقیس کے وفد کی دربار رسالت میں آمد، جنت میں داخل کرنیوالے اعمال
کی درخواست پرابتدائی چارول ارکان اور مال غنیمت سے پانچویں حصہ کی ادائیگی
تلقین اور ثواب کے چارول قسم کے برتنول کے استعمال سے ممانعت
Talhah ibn Ubaidullah (may Allah be pleased with him) narrated: A man from the people of Najd with disheveled hair came to the Messenger of Allah ﷺ. We heard the humming of his voice, but we could not understand what he was saying until he came near. He asked about Islam. The Messenger of Allah ﷺ said: "Five prayers during the day and night." The man asked, "Do I have to do anything else besides them?" The Prophet ﷺ replied: "No, unless you do so voluntarily."
Then the Prophet ﷺ said: "Fasting in the month of Ramadan." The man asked, "Is there anything else I have to do?" The Prophet ﷺ replied: "No, unless you do so voluntarily." Then the Prophet ﷺ mentioned zakat to him, and the man asked, "Is there anything else I have to do?" The Prophet ﷺ replied: "No, unless you do so voluntarily." The man turned away saying, "By Allah, I will neither increase nor decrease what Allah has obligated upon me." The Messenger of Allah ﷺ said: "He will succeed if he is truthful." [Agreed upon]
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ جب قبیلہ عبرالقیس کا
وفد آخرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت مبارک میں حاضر ہوا تو آخرت صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا کہ تم قوم کی طرف سے آ کے ہو، یا پیر فرمایا کرکے کی نمازندہ جماعت ہو؟ انہوں نے عرض کیا
: ہم قبیلہ ربعیہ کی طرف سے آ کے ہیں، آپ نے فرمایا: خوش آمدید! جس قوم کی طرف سے آ کے
بومبارک آنا ہو، کونی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور زمانے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے محرم کے اورہمارے درمیان قبیلہ مصر کے کافر حال میں لہذا حضور کو کونی حرم فیصل نہیں ملتا کیونکہ آپ کے اورہمارے درمیان قبیلہ مصر کے کافر حال میں لہذا حضور کو کونی حرم فیصل سنا دیتا کہ تم ادھروالول کو وہ حکم سنادی او راس کی وجہ سے جنت میں داخل ہوسکیں، اوراس کے بعد ان لوگوں کے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے شراب کے برتنوں کا حکم دریافت کیا تو آپ نے ان کو چار چیزوں کا حکم دیا،اورچار چیزوال سے منع فرما یا_ ان کو حکم دیا کہ اللہ واحد پر ایمان لا کئین اورفرما یا:تم جانتے ہو کہ اللہ پر ایمان لا نے کے کیا معنی ہیں: انہوں نے عرض کیا کہ اللہ اوراس کے رسول خوب واقف ہیں،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا(1)”لاِلہِ اَلا اللہُ مُحمّدُ رَسُوْلُ اللہِ“ کی شہادت دی جائے،اور (2) باقاعدہ پابندی سے نمازا دا کی جائے اور (3) زکات دیا کریں،اور (4) رمضان کے روزے رکھیں،اورپیکر مال غنیمت سے پانچوال حصر دیا کرو،اوران کو چار چیزوال کی ممانعت فرما لی کراس میں نتو نیبز بنالی جائے اوردان سے پانی پیا جائے اوروہیہیں:(1) حُنْتمُ (لا کہوالابرتن)(2) ذُبا ء (کد وکا تونبا)(3) نَقِیْرُ (کلری کانز اشاہوا برتن)(4) مز فّت (روغن رال والابرتن) اس کے بعد فرما یا کران کو یا در کھو،اورادھروالول کوان کی اطلاع دو _ (بخاری اورمسلم نے بالاتفاق اس کی روایت کی ہےاورالفاظ حدیث بخاری کے ہیں)۔ صاحبرضی اللہ علیہ کی ایک جماعت کے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے (6) امور پر بیعت لی 19/17_عبادہ بن صامت رضی اللہ علیہ نے ارشاد فرما یا:اوراس وقت صحابی کی ایک جماعت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد اگردونے آپ نے فرما یا کہ مجھ سے (ان امور پر) بیعت کرو کہ تم (1) اللہ کے ساتھ کسی کوشرکی نہ
پناوگے،اور(2)چورینہکروگے،اور(3)زنانہکروگے،اوراپنی(4)اولادکقتلنہکروگے،اور(5)
کسیپرائےدلسےبھٹاننہکاوگے،اور(6)کسینیکامکےانجامدینمینافرمائیں
کرو۔اگرانباتولکتممینستکونیشخصپوراکریاتواسکوثوابدیناخداےتقابلکےذمهہ
اورآگرکیںالامورمیںستکسیامرکارتکابکیااوراسکونیاییمیناسکیسرالگئیتوآخری
عذابستاسکےلتکفارهہوجائیگاؤرآگرکیںالانباتولمیںستکسیجرمکارتکابکیا
اورخداتعللنےاسکیپردہپوشیکری(لعندنیامیںکسیکواسکےگناہپراطلاعنهہوتی
اوردنیوسزاہیاسکونہملی)توخداکاختیارمیںہےچاہمعافکردوے،چاہمسزادوے(راوی
کہتبین)تمنالامورپرحضورصلیاللهعلیهوسلمسبیعتکی-(بخاریاورمسلمنمتفق
طورپراسکیروايتکیہے)-
عورتنیزیادهنمراتکیاکرسکیونکرحضورصلیاللهعلیهوسلمندیکهاکر
دوڑگکابراحصرعورتونستجہراهواہے
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated: When the delegation of Abd al-Qais came to the Prophet ﷺ, the Messenger of Allah ﷺ said: “Who are the people, or who is the delegation?” They replied: “We are from Rabi’ah.” He said: “Welcome, O people (or delegation), without disgrace or regret.” They said: “O Messenger of Allah, we can only come to you during the sacred month, as there is a hostile tribe of Mudar between us and you. So, instruct us with a decisive command that we may inform those behind us and by which we may enter Paradise.” They also asked about permissible and forbidden drinks. He instructed them with four things and forbade them from four things.
He commanded them to believe in Allah alone and said: “Do you know what belief in Allah alone is?” They replied: “Allah and His Messenger know best.” He said: “It is to testify that there is no god but Allah, and that Muhammad is the Messenger of Allah; to establish prayer; to give zakat; to fast in Ramadan; and to give one-fifth of the spoils of war.”
Then he forbade them from four things: from using the containers made of gourds, green-pitched vessels, hollowed stumps, and vessels lined with pitch. He said: “Remember these things, and inform those behind you.” Agreed upon, and the wording is from Bukhari.
After this, he said: 'O Kuraish, open the door and inform those inside the well.' (Bukhari and Muslim have narrated this tradition unanimously, and the words of the hadith are from Bukhari.) In the presence of a group of Companions, the Messenger of Allah (peace be upon him) took an oath on six matters (6) from Ubada bin Samit (may Allah be pleased with him), who reported: At that time, a group of Companions were gathered around the Messenger of Allah (peace be upon him), and he said: 'Take an oath from me that you will (1) not associate any partners with Allah, (2) not steal, (3) not commit adultery, (4) not kill your children, (5) not accuse anyone falsely, and (6) not disobey any command I give you. If you fulfill these conditions, the reward will be with Allah on the Day of Judgment. If you break any of these conditions and take an oath, the final punishment will be for you. If you commit any of these sins and Allah conceals it (so that no one knows about it in this world and you are not punished), then it is up to Allah whether He forgives you or punishes you (the narrator says) concerning these matters, the Messenger of Allah (peace be upon him) took an oath (Bukhari and Muslim have narrated this tradition unanimously). Women cannot do more than this, as the Messenger of Allah (peace be upon him) saw them and said, 'Run away, for this is the path of safety and guidance.'
_الوسعیدخردریرضیاللدعنتهروايتہفرماتہیںکرعیدافتیافطرمیں
حضرترسولصلیاللهعلیهوسلمعبداللهکیطرفتکاورعورتونپرتگزرے،پسفماکرے
عورتونکیجماعت!نمراتکیاکرو!کیونکدورزخیونمیںمیںنتہماراہیحسدنیادہویکھاہے،پس
عورتوننکہا:کسلےیارسولصلیاللهعلیهوسلم؟فرماکرتملعنتزیادہکرتیہو،اورشوہرکی
ناشنکریکرتیہو،نقصانقلاورنقصالدینہوںکےباوجودعقلمندکیعقلپرنالبآنوالے
تمنزیادهمیںنکسیکونمیندیکها،عورتوننکہا:یارسولاللهہماریعقلاورہمارےدینکا
نقصانکیاہے؟آخضرتصلیاللهعلیهوسلمنفرما:کیاایکعورتنکیگوانیایکمردکیگوانیکے
نصفنہیںہے؟عورتوننکہاکہ:کیوننبین(لعنبالبال)،آپنفرماکمرپانکنقصان
عقل کی وجہ سے، پھر آپ نے فرمایا کہ کیا ایسی نہیں جو کہ جب عورت حاضر ہوتی ہے تو وہ نماز نہیں پڑھتی اور روزہ بھی نہیں رکھتی، عورتوں نے کہا کہ کیون نہیں ( لیتنی باہ بال )، آپ نے فرمایا کہ پیاس کے دین کے نقصان کی وجہ سے۔ ( بخاری اور مسلم نے بالاتفاق اس کی روایت کی ہے )۔
اللہ تعالیٰ کو جعل نا اور گالی دینا کیا ہے؟
Abu Sa'id al-Khudri (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah ﷺ went out to the prayer place on the day of Eid al-Adha or Eid al-Fitr. He passed by the women and said: "O women, give charity, for I have been shown that you form the majority of the people of Hell." They asked, "Why is that, O Messenger of Allah?" He replied: "You frequently curse and are ungrateful to your husbands. I have not seen anyone more deficient in intellect and religion and more able to cause a resolute man to lose his reason than one of you." They asked, "What is the deficiency in our intellect and religion, O Messenger of Allah?" He said: "Isn't the testimony of a woman equal to half the testimony of a man?" They replied, "Yes." He said: "That is the deficiency in her intellect. Isn't it true that when she menstruates, she neither prays nor fasts?" They replied, "Yes." He said: "That is the deficiency in her religion." [Agreed upon]
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے روایت کہتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ابن آدم نے مجھ کو جعل نا اور اس کو ایمانہ چاہے تھا اور مجھ کو گالی دی اور اس کو پڑھ چاہے تھا، اس کا مجھے جعل نا، ( لیتنی ) اس کا یہ کہنا کہ میرے مجھے دوبارہ زندہ نہ کریںگا، جس طرح مرنے کے بعد مجھے پہلی دفعہ پیدا کیا تھا - حالاگہ پہلی دفعہ پیدا کرنے مجھے پراس کے دوبارہ زندہ کرنے سے آسان نہیں تھا ( لیتنی اس کو پہلی بار بنانے میں قادر ہو چکا تو دوبارہ بنانا کیا مشکل ہے؟ ) اور اس کا مجھے گالی دینا، ( لیتنی ) اس کا یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ نے میا بنالیا ہے، حالاگہ میں کیتا ہوں، ایسا بے نیاز نہ کیوں جنا اور نہ میں جناگیا، اور میرے لئے کوئی ہمسر نہیں ہے -
Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah ﷺ said: "Allah, the Exalted, says: 'The son of Adam denies Me, and he has no right to do so. He abuses Me, and he has no right to do so. As for his denial of Me, it is his statement: He will not resurrect me as He created me at first. But recreating him is not more difficult for Me than creating him initially. As for his abuse of Me, it is his statement: Allah has taken a son. But I am the One, the Self-Sufficient Master. I neither beget nor was I begotten, and there is none equal to Me.'"
In a narration from Ibn Abbas (may Allah be pleased with him): "As for his abuse of Me, it is his statement: I have a child. Glory be to Me! I am far above taking a wife or a child." [Narrated by Bukhari]
ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں یہ ہے : اس کا مجھ کو گالی دینا، اس کا یہ کہنا کہ میرے لئے پیٹا ہے، حالاگہ میری ذات پاک ہے، میری ذات اس سے بری ہے کیوں بناؤ لیابیا - ( بخاری نے اس کی روایت کی ہے )۔
زمین کو برا بجل کہنا اللہ تعالیٰ کو ایزا دینا ہے
Cursing me, saying that I have a son, while my essence is pure, my essence is free from it, why should I make a lie? Cursing the earth is cursing Allah the Exalted.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ زمانہ کو برا کہہ کر انسان مجھے ایزا دیتا ہے، حالاگہ زمانہ میں ہول، میرے یہ باتوں میں حکومت ہے، رات اور دن کو میں یہ بدلتا رہتا ہوں - ( بخاری و مسلم نے بالاتفاق اس کی روایت کی ہے )
اللہ تعالیٰ سے بر حکم کوئی صابرہمین کر لوگ اس کیلئے بھی ثابت کرتے ہیں
اور وہ ان کو عافیت اور رزق دیتا ہے
Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah ﷺ said: "Allah, the Exalted, said: 'The son of Adam offends Me by abusing time, and I am time. In My Hand is the command; I alternate the night and the day.'" [Agreed upon]
_ ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: فرمایا حضرت رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: تکلیف کے سبب پر اللہ تعالیٰ سے زانکوئی صابرہمین کر اس کے لئے بھی ثابت
کرتے ہیں، پھر جسی وہ ان کو عافیت بخشاتے اور رزق دیتا ہے۔ (بخاری و مسلم نے بالاتفاق اس کی
روایت کی ہے)-
بندرول پر اللہ تعالیٰ کا حق کیا ہے اور اللہ تعالیٰ پر بندرول کا کیا حق ہے؟
The Messenger of Allah ﷺ said: 'Allah, the Exalted, tests the one He loves with affliction, and He makes him patient and steadfast. Then, when He sees his patience, He grants him relief and provides sustenance.' (Bukhari and Muslim have narrated this.)
_معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ میں گردے پر نیا کرم صلی اللہ علیہ وسلم کے
پیچے سوار تھا، میرے اور آپ کے درمیان صرف پچھلے زین کی کلڑی کے سوا کوئی چیز حائل نہ
تھی، ارشاد ہوا کر معاذ! کیا تم جانتے ہو کہ اللہ کا سکے بندرول پر کیا حق ہے اور بندرول کا اللہ پر کیا حق
ہے؟ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول، میں خوب واقف ہیں، آپ نے فرمایا: حقیقت اللہ تعالیٰ کا
بندرول پر حق ہے کہ وہ اس کی پستش کریں، اور کسی کو اس کا شریک نہ بنائیں، اور بندرول کا اللہ پر یہ
حق ہے کہ اس شخص کو جسی کو اس کے ساتھ شریک نہ بنائے اسے عذاب نہ دے۔ میں نے عرض کیا
کہ کیا اس خوشخبری کو لگون کون سنا دول، فرمایا یہ خوشخبری نہ سنا کہ وہ اس پر محروس کریں گے-
(بخاری اور مسلم نے بالاتفاق اس کی روایت کی ہے)-
لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی گواہی صدق دل سے دین والے کے لئے
آتش دوزخ حرام ہے
Mu'adh (may Allah be pleased with him) narrated: I was riding behind the Prophet ﷺ on a donkey, and there was nothing between me and him except the back of the saddle. He said: "O Mu'adh, do you know what is the right of Allah upon His servants and the right of the servants upon Allah?" I replied: "Allah and His Messenger know best." He said: "The right of Allah upon His servants is that they worship Him and do not associate anything with Him, and the right of the servants upon Allah is that He does not punish those who do not associate anything with Him." I said: "O Messenger of Allah, should I not give glad tidings to the people?" He replied: "Do not inform them, lest they rely upon it." [Agreed upon]
_ انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ
علی و سلم سواری پرسوار تو اورمعاذ آخضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیپے بھٹے ہوئے تھے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے معاذ! تو انہیول نے کہا کر حضرت میں حاضرہون، پھرفرمایا: اے معاز! تو معاز ن عرض کیا: حضور حاضر ہون خدمت میں موجود ہول _اس طرح تین مرتبہ آپ نے آوازدی، ارشاد ہوا کر جوخص پے دل تے "لاِلہِ الا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ " کی شہادت دیگا س پرا للہ تعالی دوزخ کی آگ حرام کردیا گے _معاز ضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یارسول اللہ کیا میں لوگوں کواس فرمان کی خبر دیوال کروہ خوش ہوجائیں؟ آپ نے فرمایا: تو پھروہ اس پر جھروسہ کرنے گے (کے اعمال خیر زک کردیا گے )معاز ضی اللہ عنہ نے اس کو چھپانے کے (گناہ سے پچنے کے لے) انتقال کے وقت یہ حدیث بیان کی -
(بخاری اورمسلم نے بالاتفاق اس کی روایت کی ہے)
جو لاِلہِ الا اللہ کے اوراسی پرمرجاے تو وہ (بالآخر) جنت میں داخل ہوگا
Anas (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet ﷺ, while Mu'adh was riding behind him on the saddle, said: "O Mu'adh!" He replied: "At your service, O Messenger of Allah, and at your pleasure!" The Prophet repeated: "O Mu'adh!" He again replied: "At your service, O Messenger of Allah, and at your pleasure!" This happened three times. Then the Prophet ﷺ said: "No one sincerely testifies that there is no god but Allah and that Muhammad is the Messenger of Allah, except that Allah will make him forbidden for the Fire." Mu'adh said: "O Messenger of Allah, should I not inform the people so they may rejoice?" He replied: "Then they would rely upon it." Mu'adh informed about it at the time of his death, fearing sin for concealing it. [Agreed upon]
_ ابوزر ضی اللہ عنہ نے روایت کہ کہہ پین کر میں نی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر دیکھا کہ آپ سفید کپڑا اوڑے سورتے تھے، دوبارہ حاضر ہواتوآپ بیارہو پے تھے، پس آپ نے ارشاد فرمایا: جس بندہ نے "لاِلہِ الا اللہ " کہا اوراسی قول پرمرجیاب شک وہ جنت میں داخل ہو، میں نے عرض کیا: اگر چھاس نے زنا کیا ہو، اوراگر چھاس نے چوری کی ہو، آپ نے ارشاد فرمایا: اگر چھاس نے زنا کیا ہو، اوراگر چھاس نے چوری کی ہو میں نے عرض کیا: اگر چھ اس نے زنا کیا ہو، اوراگر چھاس نے چوری کی ہو؟ آپ نے ارشاد فرمایا: اگر چھاس نے زنا کیا ہواور اگر چھاس نے چوری کی ہو میں نے عرض کیا: اگر چھاس نے زنا کیا ہو، اوراگر چھاس نے چوری کی ہو؟ آپ نے ارشاد فرمایا: اگر چھاس نے زنا کیا ہو، اوراگر چھاس نے چوری کی ہو_ ابوزر کی ناک
خاک آلو دھو نے کے باوجود ( لیکن اگر چاپوز رکے خلاف مردی ہو، ) او راپوز رضی اللہ عنہ جس وقت
پیحدیث بیان کرتے تو کہا کرتے: اگر چاک آلو دھو، پوز رک ناکے-
( بخاری اور مسلم نے بالاتفاق اس کی روایت کی ہے-)
ف: اس حدیث میں "لاالله الاالله" کے کین پردخول جنت کی جوتوشخبری وارد ہے وہ
کفر کے مقابلے میں سے کر کافر کے لے دخول جنت محل سے لیکن مومن گناہون کے
باوجود بالآخر جنت میں داخل ہوگا، خواہ اللہ تعالیٰ گناہون کومعاف فرمائے بغیر دوزخ میں داخل کے اول
جنت میں داخل فرمادیں یا گناہون کے بد لے عذاب دیں اور پھر جنت میں داخل
فرما دیں - بہرحال مومن کے لے دخول جنت لازمی ہے-12-
البیجا ربا تین جنت کی گواہی دینے پربندہ جنت میں داخل ہوگا
Abu Dharr (may Allah be pleased with him) narrated: I came to the Prophet ﷺ while he was wearing a white garment and sleeping. Later, I came to him after he had awakened, and he said: "No servant says: 'There is no god but Allah,' and then dies upon that, except that he enters Paradise." I asked: "Even if he commits adultery and steals?" He replied: "Even if he commits adultery and steals." I asked again: "Even if he commits adultery and steals?" He replied: "Even if he commits adultery and steals." I asked a third time: "Even if he commits adultery and steals?" He replied: "Even if he commits adultery and steals, despite the disapproval of Abu Dharr." Abu Dharr used to say while narrating this: "Even if Abu Dharr’s nose is rubbed in the dust." [Agreed upon]
_عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرما یا کہ جس نے گواہی دی کہ (1) اللہو احد کے سوا کوئی معبد نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، اور پیکر
(2) محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اور پیکر (3) علی علی السلام اس
کے بندے اور اس کے رسول اور اس کی بندی کے فرزند ہیں اور اس کا کلمہ ہیں، جس کو اللہ تعالیٰ نے
مریم علیہا السلام کے پیچھا پیچھا اور اس کی طرف سے ایک جان بیان اور (4) جنت اوردوزخ حق ہیں تو
اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل کر لیس گے، اگر چاک عمل اس کا پچھا پچھا ہو-(بخاری اور مسلم نے
بالاتفاق اس کی روایت کی ہے-)
ف: حضرت علی علی السلام کو "کلمة الله" اس لے کہا کہ لمہ تکن کے کہنے سے بغیر والد
کے پیدا ہوئے
اسلام، مہجرت اور نجح، ان تین چیزوں سے تمام پچھلے گناہ مطاوبہ ہیں جاتے ہیں
Ubada ibn al-Samit (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever testifies that there is no god but Allah, alone without any partner, and that Muhammad is His servant and Messenger, and that 'Isa (Jesus) is the servant of Allah, His Messenger, and His word which He bestowed upon Maryam (Mary), and a spirit created by Him, and that Paradise is true, and the Fire is true, Allah will admit him into Paradise regardless of his deeds." [Agreed upon]
_عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں آخرت صلی
اللہ تعالیٰ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے عرض کیا کہ آپ اپنا اہنہا اٹھو برداہا کیسے تا کہ میں آپ
سے بیعت کروں، آپ نے اپنا سیدہا اٹھو برداہا، پس میں نے اپنا اٹھو چٹخ لیا، آپ نے ارشاد فرمایا
کہ ایسا کیوں لے عمر؟ میں نے عرض کیا کہ میں پچھشتر طلاق ناچاہتا ہون فرمایا کہ کیا شرط کرے گا؟
عرض کیا: میرے گناہوں کی معافی ہوئے، آپ نے فرمایا: اے عمر! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اسلام لا نا
متادیتاہے انگناہول کوجواسلام لا نے کے قبل ہوئے ہیں اور تحقیق متجرت انگناہول کومتادیتے ہے
جوبل تجرت کے ہوئے ہیں، اور تحقیق نہ متادیتاہے انگناہول کوجوال نے جوبل ہوئے ہیں۔(اس کی
مسلم نے روایت کی ہے)
جنت میں داخل کرنے والے اعمال چند ہیں
Amr ibn al-ʿAs (may Allah be pleased with him) narrated: I came to the Prophet ﷺ and said: "Extend your right hand so I may pledge allegiance to you." He extended his right hand, but I withdrew mine. He said: "What is the matter with you, O Amr?" I replied: "I wish to stipulate something." He asked: "What do you wish to stipulate?" I said: "That I be forgiven." He replied: "Do you not know, O Amr, that Islam erases what came before it, that migration erases what came before it, and that Hajj (pilgrimage) erases what came before it?" (1) [Narrated by Muslim]
أُخْفَى لَهُم مِّن قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَآءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴾ - (سورة السجده،پ:21،ع:
معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے عرض کیا: یارسول اللہ!
آپ مجھے ایسی عمل بتلا ئیے جو مجھے جنت میں داخل کرنے اور دوزخ سے محکودور کرنے ارشاد فرمائے
تم نے ایک امر عظیم (برتی بات) کا سوال کیا ہے، اور یقیناً وہ آسان ہے اس شخص کے لیے جس پر اللہ
تعالی آسان کردے -(1) اللہ کی عبادت کرنے اور (2) اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنے اور (3)
نماز کو پابندی کے ساتھ ادا کرنے -(4) زکات دینے، اور (5) رمضان کے روزے رکنے، اور
(6) بیت اللہ کا حج کرنے، پھر حضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تخمینہ جلالی کے دروازوں
کا پرتہ نہ دول؟
جلالی کے دروازوں میں (3) ہیں، روزہ، نحرات، وسط شب میں نماز
روزہ ذہال ہے اور نحرات گناہوں کو بجاویتے ہے (یعنی متادیتے ہے) جس طرح پانی آگ کو
بجاویتے ہے، اور وسط شب میں آدی کا نماز پڑھنا، پھر آپ نے آیت قرآنیہ ﴿تتجافی جنوہم﴾
عن المضاجع يدعو ربهم خوفا و طمعا ومما رزقنهم ينفقون فَلا تعلم نفس ما
،آیت نمبر:17/16) تلاوت فرمائی -
ترجمہ: یہہ (الن کے پھلو بسترول سے جدا ہوئے ہیں، وہ اپنے پروردگار کو پکارتے ہیں، ذر
سے اورامیدتے، اورجوپڑھتمے نے ان کو ریاہےاس میں سے خرنچ کرتے ہیں، یا انہوں کی طرف دک
ہے جوان کے لے چھپاری گئی ہے، اس کو ن نفس نہیں جانتا، یہ بدلا ہوگا اس عمل کا جودہ کیا کرتے
تے )-
فرمال برداری اصل دین کے، نمازویں کاستون کے، اور جہادویں کا اعلی مقام کے
فرمایا: کیا میں تم کو اصل دین، اور دین کاستون، اور دین کا اعلی مقام نہ تلاو؟ میں نے عرض
کیا: باش تلاویے یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ارشاد ہوا: اصل دین اسلام (فرمال برداری) کے اوراس
کاستون نماز کے، اوراس کا اعلی مقام جہاد کے (یعنی ہروہ کوشش جس سے اعلاء کلمۃ اللہ ہو)
سارے امور دین کا دارومدار زبان پر قابو رکھنے میں سے کیونکہ بدزبانی
کی وجہ سے، یا انسان جہنم واصل ہوتا ہے
پھر ارشاد ہوا کہ کیا میں تم کوالیکچیز نہ تلاوں جس پران تمام امور دین کا دارومدار ہے؟ میں
نے عرض کیا: باش تلاویے اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! تو آپ نے اپنی زبان مبارک پکڑ لی اور
فرمایا اس کو قابو میں رکھو، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! تو کیا تم لوگ جو پچھے ہو لے
پینے اس پر کچھ موافق ہوگا؟ فرمایا: کس قدر عاقل ہو اے معاف! لوگوں کو دوزخ میں منزل بلیانا کے
کے بل، یازبان کی کابلیہوئی کچیتی (یعنی کلمات کفر، تہمت، غیبت وغیرہ) کے سوااور کچھ کوئی چیز گرا میں گی؟
(امام احمد، تنزہی اور ابن ماجہ نے اس حدیث کی روایت کی ہے )
کامل الایمان کون شخص ہے؟
Narrated by Mu'adh (may Allah be pleased with him): He said, "I asked, 'O Messenger of Allah, inform me of an action that will admit me into Paradise and distance me from the Fire.' He replied, 'You have asked about a great matter, but it is easy for whom Allah makes it easy: You worship Allah and do not associate anything with Him, establish the prayer, give the zakat, fast the month of Ramadan, and perform Hajj to the House (the Ka'bah).'
Then he said, 'Shall I not guide you to the gates of goodness? Fasting is a shield, charity extinguishes sin just as water extinguishes fire, and the prayer of a person in the depths of the night.' Then he recited: "Their sides forsake their beds" (Surah As-Sajda, 32:16) until he reached: "They do (good deeds)."
Then he said, 'Shall I not inform you of the head of the matter, its pillar, and the peak of its summit?' I replied, 'Yes, O Messenger of Allah.' He said, 'The head of the matter is Islam, its pillar is the prayer, and its peak is jihad.' Then he said, 'Shall I not tell you the key to all of that?' I replied, 'Yes, O Prophet of Allah.' He took his tongue and said, 'Guard this.' I said, 'O Messenger of Allah, will we be accountable for what we speak?' He replied, 'May your mother mourn you, O Mu'adh! Is there anything that throws people into the Fire on their faces or on their noses except the harvest of their tongues?' [Narrated by Ahmad, Tirmidhi, and Ibn Majah]
Who is a person with complete faith?
_ ابوا مامر ضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: جس نے اللہ کے لئے محبت کی اور اللہ کے لئے بغض رکھا، اور اللہ کے لئے دعا اور اللہ کے لئے نہ دیتا تو اس نے اپنا ایمان کامل کر لیا۔ (اس کی روایت البوداوونے کی ہے۔)
Narrated Abu Umamah (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever loves for the sake of Allah, hates for the sake of Allah, gives for the sake of Allah, and withholds for the sake of Allah, has perfected his faith." [Narrated by Abu Dawood and also narrated by Tirmidhi from Mu'adh bin Anas with some variations]. In it: "He has perfected his faith."
اورترزدی نے معازبن انسرضی اللہ عنہ سے اس حدیث کو (بعض الفاظ کی) تقزیم اور تاخیر کے روایت کی ہے، اور (ترزدی کی روایت میں ہے۔ اس نے اپنا ایمان کو کمل کر لیا)-
سارے اعمال میں فضل عمل کیا ہے؟
Is there excellence in any deed among all deeds?
ابوزر ضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمام اعمال میں فضل عمل اللہ کے لئے محبت اور اللہ کے لئے بغرض رکھنا ہے۔ (ابوداؤدونے اس کی روایت کی ہے۔)
کامل مسلمان ومومن پچان کیا ہے اور حقیقی مجبد کون ہے؟
In all deeds, the most virtuous is to do them out of love for Allah and with the intention for Allah.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ کامل مسلمان وہ ہے کہ جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسروں مسلمان محافظ رہیں، اور کامل مومن وہ ہے کہ جس سے لوگ اپنے خون اور مال پر مطمئن رہیں۔ (اس کی روایت ترمزدی اور نساوی نے کی ہے)-
Narrated Abu Hurairah (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah ﷺ said: "A Muslim is one from whose tongue and hand other Muslims are safe. And a believer is one whom people trust with their lives and wealth." [Narrated by Tirmidhi and Nasai. And Al-Bayhaqi added in Shu'ab al-Iman with a narration from Fadalah: "The Mujahid is one who strives against his own self in obedience to Allah, and the Muhajir is one who abandons sins and wrongdoings."]
اورنہیں نے شعب الایمان میں بڑی روایت فضلاً اتنا اضافہ کیا ہے: اور حقیقی مجبد وہ ہے جس نے اللہ کی اطاعت میں اپنے نفس کو مشقت میں ڈالا، اور اصل تجردت کرنے والا وہ ہے جو چھوٹے اور بڑے گناہوں کو چھوڑ دے۔ امانتداری کے بغیر ایمان کامل نہیں اور عہد کی پابندی کے بغیر دین کامل نہیں
And in the virtues of faith, it is narrated with a lengthy chain that: 'The true worshipper is the one who has exerted himself in Allah's obedience, and the truly chaste is the one who has abandoned both minor and major sins. Faith is not complete without trustworthiness, and religion is not complete without adherence to covenants.'
لا إله إلا الله محمد رسول الله کی گوا،ی دین وا لے پردو زخ حرام بہ
انسرضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہیں کہ آخضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت
کہم الياخطبردياہ جس میں یردفرماياهوکاسکا ایمان کامل نہیں بہ جوابنتدارنہبو،اوراسکادین کامل نہیں بہ جوعهدکاپابندنهو(تبہقی نے شعب الایمان میں اسکی روایت کی بہ)- وینکی درست زبانکی درست پرموقوف بہ اورزبانکی درستدلکی درست پرموقوف بہ 37/35_ ابن مسعودرضی اللہ عنہ سے روایت بہ انہول نے کہا کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمايکه اسکا ایمان کامل نہیں جوابانتدا نہیں،اوراسکا دین کمل نہیں جوعهدکا پابند نہیں،اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان بہ اس وقت تک کسی بندہ کا دین درست نہ هوگاجب تک کر اسکی زبان درست نہ بو،اورزبان درست نہ ہوگی تاوقتیگردل درست نہ بو،اوروه شخص جنت میں داخل نہوگا،جس کاپروی اسکے باوقے امن میں نہ بو،تو عرض کیا گیا :بواق کیا ہیں؟ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ارشادہوا: اس کا ظلم وسطم _اورجو شخص حرام مال حاصل کرے اوراس کوخرچ کرے تواس میں اس کے لے کونی برکت نہ ہوگی اورآگراس مال کوخرات کرے تو قبول نہ ہوگی اورجوپیمانہ رہ وہ اس کے لے دوزخ کا توشهہ سنو!گندی چیز گندی چیز کونیس مثال لکین پاک چیز مطاوی بہ - (طبرانی نے اسکی مجتمعیہ میں روایت کی بہ-)
Narrated Ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah ﷺ said: "There is no faith for the one who does not fulfill his trust, and there is no religion for the one who does not uphold his covenant. By Him in Whose Hand is the soul of Muhammad, the faith of a servant will not be upright until his tongue is upright, and his tongue will not be upright until his heart is upright. And a person will not enter Paradise if his neighbor is not safe from his harm." It was asked: "What is meant by harm, O Messenger of Allah?" He said: "His oppression and injustice." And any man who acquires wealth through unlawful means and spends from it will not be blessed in it. Even if he gives charity from it, it will not be accepted, and whatever remains will increase his punishment in the Fire, except that the good deeds will expiate the bad ones." [Narrated by Al-Tabarani in his "Al-Mu'jam al-Kabeer"]
_عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت بہ انہول نے کہا کہ میں نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سناتہ کہ جو شخص " لا إله إلا الله محمد رسول الله " کی گواہی دے گا اللہ تعالی اس پر دوزخ کو حرام فرمادی گے -(مسلم نے اسکی روایت کی بہ)-
الدّعالی کے لئے پرمرے والا جنت میں داخل ہوگا
Narrated Ubadah bin al-Samit (may Allah be pleased with him): I heard the Messenger of Allah ﷺ say: "Whoever bears witness that there is no god but Allah, and that Muhammad is the Messenger of Allah, Allah has forbidden the Fire for him." [Narrated by Muslim]
عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص کی موت اس لیئے پربھوکہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔ (مسلم نے اس کی روایت کی ہے)- حالے ثرک مرے والا دوزخی ہے اور تو حید پرمرے والا جنتی!
Narrated Uthman (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever dies knowing that there is no god but Allah will enter Paradise." [Narrated by Muslim]
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ دوبائیں واجب کرنے والی ہیں، ایک شخص نے عرض کیا: یارسول اللہ وہ واجب کرنیوالی دوبا تین کیاہیں؟ فرمایا: جو شخص اللہ کے ساتھ کسی کوثریک کرتے ہوئے مرے وہ دوزخ میں داخل ہوگا، اور جو شخص خدا کیساتھ کسی کوثریک نہ کرتے ہوئے مرے؛ وہ جنت میں داخل ہوگا۔ (مسلم نے اس کی روایت کی ہے)- لا الہ الا اللہ کہنااورجو لا الہ الا اللہ نہ کہوہ کسی حال میں جنتی نہیں ہوسکتا۔ مسلمان لا اله الا اللہ کہنا کے بعد پہلےملی جنتی ہوجاتے گا یا گناہوں کی سزاپائے کے بعد داخل جنت ہوگا، بہرحال مسلمان کے لے جنت یقینی ہے، برخلاف کافر کے کروہ کسی صورت میں بھی لا الہ الا اللہ کہ بغیر جنتی نہیں بن سکتا
Narrated Jabir (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah ﷺ said: "There are two causes that lead to salvation." A man asked: "O Messenger of Allah, what are the two causes?" He said: "Whoever dies associating anything with Allah will enter the Fire, and whoever dies without associating anything with Allah will enter Paradise." [Narrated by Muslim]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ حضرت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد بیٹھے ہوئے تھااور ہمارے ساتھ حضرت ابوبر، حضرت عمر رضی اللہ عنہما بھی حاضرین کی جماعت میں شامل تھے، دفعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سامنے اٹھ کڑے ہوئے، اور دریک تشریف لالے تم کونوف ہوا کہمیں (خدانخواستے) کونی افادہ پڑی ہو، اس لے تم طبراکر
اطلاع کرتے ہوئے اور سب سے پہلے مجھے طبر ابن عباس رضی اللہ عنہ کے باغ میں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات میں
نگلا اور انصار بن نجار کے ایک باغ میں پھپھا، اس چند باغ کے چاروں طرف گھوما، مگر اندراجا نے کاکولی
dروازہ نہ ملا، اتفاقاً ایک رتنج (نہر) کے ایک جوہر ونی کنویں سے باق کے اندراجا، میں نے اور رنج،
نہر کو کہتے ہیں - ابو بریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اس نہر میں سمیت کرغس کیا اور حضور والصلی اللہ
علیہ وسلم کی خدمت میں پائے گیا - حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابو بریرہ! میں نے عرض کیا: میں حضور!
آپ نے فرمایا: تمہارا کیا حال ہے؟ میں نے عرض کیا: آپ ہمارے پاس تشریف فرما تو پھر ایک دم
اطلاع کر تشریف لے گئے اور واپس تشریف آوری میں آپ نے دیر فرمائی تو میں کو خوف ہوا کہ
(خداخواستہ) کہیں حادثہ نہ گزر ہو، اس لیے تمام طبرا گئے، سب سے پہلے مجھے، میں طبراہبت پیاہوتی
(تلاش کرتے کرتے ) میں اس باغ میں پھپھا اور لو مری کی طرح سمیت کرنہر کے راستے تے اندر
آگیا، اور لوگ میرے پیچے میں حضور اقدرس صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نعلین مبارک مجھے دے کر
فرمایا: ابو بریرہ! میری پیدونول جوہتیان (بطور ثبوت کے ) لے جاو اور باغ کی دیوار کے ادھر جو شخص
یقین قلبی کے ساتھ " لا اله الا الله" کی گواہی دیتا ہوا لٹاس کو جنت کی بشارت دے دو - (میں
نے حکم کی تقبل کی ) سب سے پہلے مجھے عمر رضی اللہ عنہ میں اورد ریافت کیا: ابو بریرہ پی جوہتیان کس کی
ہیں؟ میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جوہتیان ہیں، حضور نے پیدونول جوہتیان دے کر مجھے
مجھجاہے کہ جوشخص یقین قلبی کے ساتھ " لا اله الا الله" کی شہادت دینے والا تحقیق لے، میں اس کو
جنہ کی بشارت دیوال - عمر رضی اللہ عنہ نے پیس کر میرے سینے کے نچ میں ایک ضرب گاؤں جس کی
مجھ سے میں سر یعنی کے بلگر پڑا، اور عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ لوٹ جاو اے ابو بریرہ، چنانچہ میں
لوٹ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پھپھا اور آواز سے روئے لگا - میرے پیچے پیچے عمر رضی اللہ
عند مجھ آپنے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابو بریرہ! کیا بتے ہے؟ میں نے عرض کیا: میری ملاقات عمر
رضی اللہ عنہ سے بھولی اور جوپیام دے کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بچیا تھا میں نے ان کو پہچادیا،
انہوں نے میرے سین پراکی ضرب لگائی جس کی وجہ سے میں سریں کے بلغر پڑااور پھر کہنے لگے کہ
لوٹ جا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمر تم نے ایسا کیون کیا؟ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے مال باب آپ پر قرآن، کیا حضور نے ابوہریرہ کو اپنے نعلین مبارک
دے کر حکم دیا تھا کہ جو شخص قلبی یقین کے ساتھ لاالہ الا اللہ کی شہادت کا قائل ملاس کو جنت کی
بشرات دے دینا؟ ارشاد فرمایا: بلال! عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: حضور! ایسیانہ تجبہ
جس خوشخبری سے عمل میں کوتاہی کا اندیشہ ہواس کو چھپایا جاسکتا ہے
مجھے اندیشہ ہے کہ لوگ اس پر جھرو سے کر بیطیسین گے ان کو چھوڑ دیتے کر وہ عمل کریں، رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا چھوڑ دو۔ (مسلم نے اس کی روایت کی ہے)
جنت کی کنجیال "لاالہ الاالله" کی شہادت ہے
Narrated Abu Huraira (may Allah be pleased with him): We were sitting around the Messenger of Allah ﷺ, and with us were Abu Bakr and Umar (may Allah be pleased with them), and a group of people. The Messenger of Allah ﷺ stood up from among us and delayed in returning, and we feared that something might have happened to him, and we were alarmed. So, we got up, and I was the first to be alarmed. I went in search of the Messenger of Allah ﷺ until I came to a garden of the Ansar of Banu Najjar. I circled around it looking for a gate, but I could not find one. Then I saw a stream entering a garden from an area outside. The stream was called "Rabi'a." I hurriedly entered and found the Messenger of Allah ﷺ.
The Messenger of Allah ﷺ said: "O Abu Huraira, what is the matter with you?" I said, "You were among us, and then you stood up and delayed in returning. We feared something might have happened to you, and we became alarmed. I was the first to become alarmed, and I went in search of you until I reached a garden of the Ansar of Banu Najjar. I found no gate, but I saw a stream entering from the outside. I quickly entered and found you."
He then gave me his sandals and said: "Go with these sandals and whoever you meet behind this garden, who bears witness that there is no god but Allah, and whose heart is certain in this belief, give him the good news of Paradise."
The first person I met was Umar, who asked: "What are these sandals, O Abu Huraira?" I said: "These are the sandals of the Messenger of Allah ﷺ. He sent me with them to give the good news of Paradise to whoever bears witness that there is no god but Allah, with certainty in his heart." Umar struck me between the chest, and I fell to the ground. He said: "Return, O Abu Huraira." I returned to the Messenger of Allah ﷺ, weeping, and Umar followed me.
The Messenger of Allah ﷺ asked: "What is the matter, O Abu Huraira?" I replied: "I met Umar, and I informed him of what you had sent me with. He struck me between the chest, causing me to fall, and said: 'Return.'"
The Messenger of Allah ﷺ asked Umar: "O Umar, what made you do this?" Umar replied: "By my father and mother, O Messenger of Allah, did you send Abu Huraira with your sandals to give the good news of Paradise to anyone who meets him and believes in the testimony of faith with certainty in his heart?" The Messenger of Allah ﷺ confirmed: "Yes." Umar said: "Do not do this, for I fear that people will rely on it, and they will neglect to work for their deeds." The Messenger of Allah ﷺ responded: "Let them continue their work." [Narrated by Muslim]
معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: جنت کی کنجیال "لاالہ الاالله" کی شہادت ہے۔ (امام احمد نے اس کی روایت کی ہے)-
کلمہ طیبہ موجب نجات ہے
Narrated by Mu'adh ibn Jabal (may Allah be pleased with him), he said: The Messenger of Allah ﷺ said to me: "The keys to Paradise are the testimony that there is no god but Allah." [Narrated by Ahmad]
عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم علیہ الصلاۃ وا لتسليم کی وفات پرسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چند صحاب نہایت غم زدہ ہوئے، میں ان تک کر قریب تھا کہ بعض (نجات کے
بارے میں) وسوسہ میں پڑجا میں، عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مجھی ان کی لوگوں میں
تھا، میں ایک دن مجھا ہوا تھا کہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا گزر ہوا، اور انہوں نے سلام کیا، مگر مجھے پکڑ
معلوم نہ ہوسکا، عمر نے ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے اس کی شکایت کی تو دونوں تشریف لا کے اور دونوں
نے سلام کیا، ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کیا چیز باعث ہوئی کہ آپ نے اپنے مجاحی عمر رضی اللہ تعالیٰ
عنہ کے سلام کا جواب نہیں دیا، میں نے کہا: میں نے ایک نہیں کیا، عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہما: خدا کی فتنہ آپ نے اسی کیا ہے۔ میں نے کہما کر خدا کی فتنہ مجھ آپ کے گزرنے اور سلام کرنے کا علم، نہیں ہوا، ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہما رہے ہیں، ان کو کیا بات نے مشغول کر رہا ہے، میں نے کہما: بال (میں باٹ ہے) ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہما کر وہ کیا بات ہے؟ میں نے کہما کر اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے قبل، ہی اطلاع کرتم آپ سے (اس امر کی) نجات کی نسبت دریافت کر لیتا، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے آخیرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی نسبت دریافت کر لیا ہے، عثمان رضی اللہ عنہ کہ میں انہ کر ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قریب ہوگیا اور کہما: میرے مال باب آپ پرے قرآن، آپ، ہی اس کے زیادہ اعلیٰ تھے، ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اے رسول اللہ اس دین کی نجات کس میں ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے مجھے اس کلمہ کو قبول کر لیا، جس کو میں نے اپنے چھاپر پیش کیا تھا اور انہوں نے اس کو دکر دیا، پیکر قبول کرنے والے کے لئے موجب نجات ہے۔
(امام احمد نے اس کی روایت کی ہے)- کلمہ اسلام تمام روے زمین کے گوشہ گوشہ میں پھیل گا اور انسانوں کی عزت و ذلت اس کلمہ سے وابستہ ہوگی
Narrated by Uthman (may Allah be pleased with him), he said: When the Prophet ﷺ passed away, some of the companions were saddened to the extent that some of them began to have doubts. Uthman said: "I was one of them. While I was sitting, Umar and Abu Bakr passed by me, but I did not realize they had passed. Then Umar complained to Abu Bakr, and they both came to me and greeted me. Abu Bakr asked, 'What prevented you from responding to your brother Umar's greeting?' I said, 'I did not do that.' Umar replied, 'Yes, by Allah, you did!' I said, 'By Allah, I did not realize that you had passed by or greeted me.' Abu Bakr said, 'Uthman is speaking the truth; something has occupied him.' I said, 'Yes.' He asked, 'What is it?' I replied, 'Allah took His Prophet ﷺ before we could ask him about the safety of this matter.' Abu Bakr said, 'I asked him about that.' I went to him and said: 'O Messenger of Allah, you are the most deserving of this matter.' I asked, 'O Messenger of Allah, what is the salvation of this matter?' The Messenger of Allah ﷺ replied: 'Whoever accepts from me the words I have offered him and rejects them, it will be salvation for him.'" [Narrated by Ahmad]
مقدار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کر روے زمین پر کونی مٹی کام کان یا خیمہ ایسی نہوگا جس میں اللہ تعالیٰ کلمہ اسلام کو داخل نہ فرامائے، عزت دین عزیز کے ساتھ یا زلت دین ذیل کے ساتھ، یا تو ان کو اللہ تعالیٰ معزز فرماتے گا تو ان کو اس کلمہ کا اعلیٰ بنادے گا، یا ان کو ذیل کرے گا تو وہ اس کی اطاعت قبول نہ کریں گے، میں نے کہما: تب تو دین تمام کا تمام اللہ کا ہوگا-(امام احمد نے اس کی روایت کی ہے)-
لا الہ الا اللہ جنت کی وندان دار بنی ہے
Narrated by Al-Miqdad (may Allah be pleased with him), he said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: "There will not remain a house of mud or leather on the face of the earth, except that Allah will bring the word of Islam into it, either with honor from Allah the Almighty, making them among its people, or with humiliation, so that they submit to it." I asked: "So, will the entire religion be for Allah?" [Narrated by Ahmad]
وہ ببن منبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سروائت سے کہتا ہیں کر وہب سے کہاگیا کہ
کیا لا الہ الا اللہ جنت کی بنی نہیں ہے؟ انہول نکہا: کیون نہیں، لیکن بر بنی کے دندان
ہوتے ہیں اگرتا بنی بنی لا قے جس کودندان ہول تو تمہارے لئے جنت کو کولا جا گاور نہیں۔
(بخاری نے اس حدیث کی ترجمہ الباب میں روایت کی ہے۔)
ف: دندان سمراداعمال ہیں۔
اسلام کوبہتر بنالیجا لئے تو اجردس گنا ست سات سوگنا تک ملگا
Narrated by Wahb ibn Munabbih (may Allah have mercy on him), he was asked: "Isn't there no god but Allah the key to Paradise?" He replied: "Yes, but every key has teeth. If you bring a key with teeth, it will open for you; otherwise, it will not open." [Narrated by Bukhari in the chapter of translation]
ابوامام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سروائت سے کہ ایک شخص نے آخ ضرت صلی اللہ علی وسلم سے
د ریافت کیا کہ ایمان کیا چیز ہے؟ ارشاد ہوا: جب تج کو تیری نیکی سے خوشی ہوا اور برائی سے رنج ہوتا تو
مومن ہے، پھراس نے کہا: یا رسول اللہ گناہ کس کو کہتے ہیں؟ فرمایا: جب تیرے دل میں کوئی چیز لٹکے
جا لئے تو تو اس کو چھوڑ دے۔ (امام احمد نے اس کی روایت کی ہے۔)
فضل اسلام، افضل خوش کلامی اور کھانا کھانا اسلام ہے، صبراور سنوات ایمان ہے، افضل ایمان، افضل نماز، افضل بجرت، افضل وقت کیا ہیں
Narrated by Abu Umama (may Allah be pleased with him): A man asked the Messenger of Allah ﷺ: "What is faith?" He replied: "When your good deeds please you and your bad deeds sadden you, then you are a believer." The man said: "O Messenger of Allah, what is sin?" He said: "If something troubles your soul, leave it." [Narrated by Ahmad]
عمرو بن عبس رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے، کہ جس کر میں حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: یارسول اللہ (دین کے) اس کام میں آپ کے ساتھ کون ہے؟ فرمایا: ایک حر (آزاد لیجنی البکر رضی اللہ عنہ) اور ایک عبد (غلام لیجنی بالل رضی اللہ تعالیٰ عنہ) میں نے عرض کیا: اسلام کیا ہے؟ ارشاد ہوا: خوش کلامی اور کھانا کھانا، میں نے عرض کیا: ایمان کیا ہے؟ ارشاد ہوا: صبراور سنوات کرنا، میں نے عرض کیا: کونسا اسلام (لیجنی مسلماں) افضل ہے؟ ارشاد ہوا: جس کے زبان اور ہاتھ سے دومسرے مسلمان محفوظ رہیں، میں نے عرض کیا: کونسا ایمان افضل ہے؟ ارشاد ہوا: اتنے اخلاق، راوی نے کہا: میں نے عرض کیا: کونی نماز افضل ہے؟ ارشاد ہوا: جس میں قیام زیادہ ہو، راوی نے کہا کہ میں نے عرض کیا کونی بجرت بہتر ہے؟ ارشاد ہوا: ان باتوں کو ترک کرنا جن کو تیرارب پند نہیں کرتا، راوی نے کہا میں نے عرض کیا: کونسا جہاود افضل ہے؟ ارشاد ہوا: جس کا گھوڑا بلاک کیا جائے اوراس کا خون پھایا گیا ہو، میں نے عرض کیا: کونسا وقت بہتر ہے؟ ارشاد ہوا: اخیر شب کا درمیانی وقت۔
(امام احمد نے اس کی روایت کی ہے)
انسان کی نجات میں (3) چیزوں پر محصول ہے
Narrated by Amr ibn Abasa (may Allah be pleased with him), he said: I came to the Messenger of Allah ﷺ and asked: "O Messenger of Allah, who is with you in this matter?" He replied: "A free person and a slave." I asked: "What is Islam?" He replied: "Good speech and feeding the poor." I asked: "What is faith (Iman)?" He replied: "Patience and generosity." I asked: "Which Islam is the best?" He replied: "One from whom other Muslims are safe from his tongue and hands." I asked: "Which faith is the best?" He replied: "Good character." I asked: "Which prayer is the best?" He replied: "Long standing in prayer (Qunut)." I asked: "Which migration is the best?" He replied: "To abandon what your Lord dislikes." I asked: "Which jihad is the best?" He replied: "One whose horse is killed and whose blood is shed." I asked: "Which hours are the best?" He replied: "The last part of the night." [Narrated by Ahmad]
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت ہے کہ جس کر میں حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص اللہ سے اس حالت میں ملاقات کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ظہر ایا، (2) تھو وقتو نماز اداء کرتا رہا اور (3) رمضان کے روزے رکھتا تو اس کی
پچھش ہوگی، میں نے عرض کیا: یارسول اللہ اس کی خوشخبری لوگوں کو دے دو؟ آپ نے فرمایا: ان کو چھوڑ دو کرو عمل کریں - (امام احمد نے اس کی روایت کی ہے)-
فضل ایمان میں (4) باٹیں شامل ہیں
Narrated by Mu'adh ibn Jabal (may Allah be pleased with him), he said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: "Whoever meets Allah without associating anything with Him, prays the five daily prayers, and fasts during Ramadan, will be forgiven." I asked: "Shall I not give them the good news, O Messenger of Allah?" He replied: "Let them continue to do their deeds." [Narrated by Ahmad]
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سروائت سے، کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علی وسلم نے
فرمایا کہ جب تم میں کوئی شخص اپنے اسلام کو (اخلاص کے ساتھ) بہتر بنالے تو جو نکی کرے گا اس
کا اجر دس گنا ست سات سوگنا تک کمحاجا لئے گا اور جو برائی کرے گا تو اتنی، یکہ لی جا گی، یہاں
تم کر وہ ملاقات کرے اللہ سے۔ (بخاری اور مسلم نے بالاتفاق اس کی روایت کی ہے۔)
مومن کو نکی سے خوشی اور برائی سے رنج ہوتا ہے اور گناہ کی چیز کی طرف سے دل
میں کہ کا ہوتا ہے
Narrated by Abu Huraira (may Allah be pleased with him), he said: The Messenger of Allah ﷺ said: "When one of you improves his Islam, every good deed he performs will be recorded for him as ten times its reward, up to seven hundred times, and every bad deed he performs will be recorded as one single deed, until he meets Allah." [Agreed upon]