جہاد میں قتل کا بیان
The Martyrdom of Being Slain in Jihad
الله بزر وبرتر كا رشاد ياي ا الذين امنوا اذا لقيتم الذين كفروا زحفا فلا تولو م الادبار ومن يول م يوميذ دبر الا متحرفا لقتال او متحيزا الي في فقد باء بغضب من الل وماوي ج نم وبيس المصير
"اے ایمان والوں جب (میران جنگ میں) کفار کے شکرے تمہارا مقابلہ ہوتا تو نے
پیٹھ نہ پہیرواور جو شخص جنگ کے روز اس صورت کے سوا کرنا کی کے لے پیٹراپنے لیا پنی جماعت
میں ملنے چاہے، ان سے پیٹ پہیروے گا تو وہ اللہ کے غضب میں گرفتار ہوگیا اور اس کا نکاح دوزخ ہے
اور وہ جہت براثکانہ ہے" -(سورہ انفال، آیت نمبر:15/16)
O believers, when you faced the disbelievers in battle (on the day of Badr), do not turn your backs [to them]. And whoever turns his back on the day of battle, except as a stratagem or to rally to another company, will incur the wrath of Allah, and his abode will be Hell, and wretched is the destination.
جا بر ضی اللہ علیہ روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ احد کے
دون ایک شخص نے عرض کیا آپ کیا فرماتے ہیں اگر میں قتل کروا جا تو میں کہاں رہتول گا؟ حضرت
صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا جنت میں تو انہوں نے اپنے اتنے میں کے مجھورون کو مجھینک تو لا پھرلا تے
رہ یہاں تک کہ وہ شہید ہو گے -(متفق علیہ)
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: A man said to the Prophet (ﷺ) on the day of Uhud, “If I am killed, where will I be?” He said: “In Paradise.” So the man threw away the dates in his hand and fought until he was killed. [Narrated by Bukhari and Muslim]
کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
کسی غزو میں ارادہ کیس فرماتے تھے مگراس کے سوا وسرے غزو میں توری فرماتے 1 یہاں تک کہ پی
غزو میں غزو میں تبک ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت گرمی میں یغزو میں کیا اور آپ علیہ
اس کے لئے دور دراز سفر، جنگل کا اور بہت سے شہرول کا سامنا کیا۔ پس آپ علیہ صلٰی اللہ علیہ وسلم کے لئے ان کے معاملے کو واضح کر دیا تا کہ وہ اپنے غزو کی کامل تیاری کر لیں اور آپ علیہ صلٰی اللہ علیہ وسلم کے باختر کیا جس کا آپ علیہ صلٰی اللہ علیہ وسلم ارادہ فرماتے ہیں۔ ( حدیث متقدم علیہ اور الفاظ بخاری کے ہیں )
Ka‘b ibn Malik (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) would not intend an expedition without (1) concealing it by mentioning something else, until the expedition of Tabuk. The Messenger of Allah (ﷺ) undertook it in extreme heat, facing a long journey, a desert, and a numerous enemy. He clarified their objective to the Muslims so they could prepare adequately and informed them of the destination he intended. [Narrated by Bukhari and Muslim, with the wording from Bukhari]
1قولہ: وری بغیرها (دوسرے غزو میں توری کرتے تھے) ابن الملک نے کہا اس کے سوا دوسری پیڑے
اس کو پچھادیے تھا اور پیٹاہر کرتے کا پے علیہ کسی دوسرے غزو میں کا ارادہ فرماتے ہیں پیاس لے کراس میں احتیاط
دوران دی اور دثمن کو پے خبر رکھا اور اس جاسوس سے حفاظت مقصود ہے جواس پر مطلع ہو کر دثمن کواس کی خبر دے گا حضرت
اکرم صلی اللہ علیہ وآلم وسلم کا توری فرمانا بلطور کنایہ اس طرح ہوتا کہ مثل کے طور پر آپ علیہ غزو میں کہ کا ارادہ فرماتے تو
لوگوں سے خبری کی حالت اور اس کے راستوں کی کیفیت وریافت فرماتے آپ علیہ صراحت کے ساتھ اس طرح نہیں
فرما تے تھے کہ میں فلال مقام کے باشندوں کے ساتھ جنگ کا ارادہ رکھتا ہوں جب کہ آپ کا ارادہ کسی دوسروں کے
ساتھ جنگ کر نے کا ہو کیونکہ یہ جحوت ہے جو درست نہیں -(مرقات)
جا بر ضی اللہ تعالیٰ عز و جل سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنگ ایک تدبر ہے۔ 2 (متقدم علیہ)
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: “(2) War is deception.” [Narrated by Bukhari and Muslim]
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ کے لئے تشریف لے جاتے تو ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور انصاری کچھ عورتوں کو بھی غزوہ میں لے ساتھ لے جاتے جب آپ غزوہ فرماتے تو وہ پائل پلا تین اور زخمیوں کا علاج کرتیں۔ 3 (مسلم)
قولہ: الحرب خدعة (جنگ ایک تدبر ہے) امام نووی نے کہا اس میں زیادہ تحقیق خاص کے فخر اور دلال کے سکون کے ساتھ خدعتہ ہے اور بیانی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی لغت ہے۔ کفار کے ساتھ جنگ میں جس طرح کچھ ہو تدبر کے جواز پر سب کا اتفاق ہے مگر بیکاس میں عہد شکنی یا قرض امن ہو۔ (قوی جائزہ میں) حدیث تشریف سے تین پیروں میں کذب کا جواز معلوم ہوتا ہے۔ طبری نے کہا ہے کہ جنگ میں کذب بطور تحریض جائزہ اور حقیقت میں کذب جائز نہیں۔ اور بظاہر حقیقت میں کذب جائز معلوم ہوتا ہے لیکن کناپیرا اکتفا کرنا فضل ہے۔ 3قولہ: اذا غزا يسقين الماء ويداوين الجرحى (جب آپ جہاد کرتے تو وہ پائل پلا تین اور زخمیوں کا علاج کرتیں) ہداپی میں ہے عورتوں کو اور قرآن مشریف کو مسلمانوں کے ساتھ لے جانے میں کوئی حریم نہیں جب کے شکر ایسا برداہو جس میں امن ہو۔ اس لئے غالبا اس میں سلامتی ہی ہوا کرتی ہے اور غالب چیز واقع کے درجہ ہوتی ہے البتہ ایسے مریم میں ان کو لے جانے کیروہے جس میں امن کی تو قع نہ ہویعنی بوطی عورتیں اپنے مناسب خدمت انعام دینے کے لئے برے لشکر میں جا سکتی ہیں۔ جیسے پکانا، پانی پلانا اور علاج معالج کرنا۔ البنت جوان عورتوں کا گهر میں رہنا ہی دفع فتنہ کا زیادہ باعث ہے۔ اور عورتیں خود راست طور پر جنگ نہیں کریں گی کیونکہ اس سے مسلمانوں کی کمزوری وذلت معلوم ہوتی ہے۔ البتہ کہ ضرورت ہواوران کو مہبسزی اور خدمت کی خاطر لے جانا کروہے۔ اگران کو لے جانا او قتی ضروری ہوتا بند پول کو ساتھ لے جا تین نکرآزاد عورتوں کو۔ صاحب عمدۃ القاری نے کہا اگر تم کہو یہ کیوں کر درست ہوگا؟ میں کہو نگا کہ پیالن میں سے عمر رسیدہ عورتوں کے لئے درست ہے کیونکہ زخم کے مقام کوس کرنے سے کوئی لزت حاصل نہیں ہوتی بلکہ اس سے روگ کے طرے ہوجاتے۔ جیسے میں بتا زوہ ہو جاتا ہے۔ اس کا چھونا، چھونے والے اور جس کوس کیا گیا ہے ان دونوں کے لئے تکلیف ہے ہوتا سے۔ البنت عمر رسیدہ عورتوں کے علاوہ تو وہ بغیر با تحملگا۔ ان کا علاج کر سکتی ہیں وہ دوادیگی اور کوئی دوسرا اس کو زخم پر رکے کا اور پیالی ہو سکتا ہے کہ بغیر حسم کو چھونے کے خود دوار حسن اور اس کی دیبل علماء کا اتفاق ہے کہ عورت جب
Anas (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) would go on expeditions with Umm Sulaym and some Ansari women who, when he went out, (3) would provide water and treat the wounded. [Narrated by Muslim]
The saying: 'War is deceit' (Jihad is a stratagem). Imam Nawawi said that this involves extensive investigation with the pride of speciality and the tranquility of deliberation, and it is part of the language of the noble Prophet (peace be upon him). In war against disbelievers, whatever form it may take, the permissibility of stratagem is universally agreed upon, but breaking a covenant or violating a peace treaty is not permissible. (In a strong narration) it is evident from the honored hadith that lying to the enemy for the purpose of deception is permissible. Tabari said that lying in war as a means of incitement is permissible, but lying in reality is not permissible. However, it appears that lying in reality is permissible, but refraining from it is virtuous. The saying: 'When they go out for Jihad, they provide water and treat the wounded' (When the Prophet (peace be upon him) went out for Jihad, the women provided water and treated the wounded). It is mentioned in the hadith that there is no harm in taking women and the Holy Quran with the Muslim army if it ensures safety and security. Therefore, it generally ensures safety and is usually a matter of practical necessity. However, taking women who do not ensure safety, such as young girls, is not permissible, meaning that suitable women can join the army to provide necessary services like cooking, providing water, and treating the wounded. Keeping young women at home is often more effective in preventing fitnah (mischief). Women should not engage directly in combat, as this would indicate the weakness and humiliation of Muslims. However, if necessary, they can be taken along for nursing and service purposes. If their presence is essential, then even captives can be taken along, but free women should not be taken. The author of 'Umdah al-Qari' said, if you ask why it is correct, I would say that it is correct for mature women because there is no benefit in touching the wound site, and it can lead to further complications, such as infection. Touching the wound and the person who touches it cause distress to both. However, apart from mature women, others can treat wounds without touching, using bandages or other methods. The consensus among scholars is that a woman can treat a wound without touching it, and this is based on the principle of maintaining modesty and the consensus of scholars that a woman can treat a wound when necessary.
ام عطیم رضی اللہ عنہ ا سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سات جنگوں میں شیرک رہی۔ میں ان کے قافلے میں ان (صحابہ) سے چچہ ربا کرتی ان لوگوں کے لیے کھانا تیار کرتی اور زخمیوں کا علاج کرتی اور پہاڑوں کی دکیہ بحال کرتی۔ (مسلم)
Umm Atiyyah (may Allah be pleased with her) narrated: I went on seven expeditions with the Messenger of Allah (ﷺ), staying behind with their baggage, preparing food, treating the wounded, and caring for the sick. [Narrated by Muslim]
سمہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مشرکین کے سردارول کو قتل کرو اور ان کے چھوٹے بھائیوں کو زندہ رہنے دو۔ (ترمذی، ابوداود)
Samurah ibn Jundub (may Allah be pleased with him) narrated: The Prophet (ﷺ) said: “(1) Kill the elderly polytheists but spare their youth,” meaning their children. [Narrated by Tirmidhi and Abu Dawud]
اس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے نام سے اللہ کی مدد سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ پر وانہیوں جا کسی شیخ فانی کو قتل مرنے کو 5اور نکسی چچو لے نچ کو اور نکسی عورت کو اور خیانت مرنے کرو اپنی غیبت مرنے کو اکتحا کرو اور اصلاح کرو، احسان کرو بے شک اللہ حسان کرنے والوں کو پسندر کرتا ہے۔ (ابوداود)
مرجاء اور اس کو غسل دینے والی عورت نمل سے تو آدمی اس کو راست طور پر غسل نہیں دے سکتا بلکہ اس کو کسی حامل چیز کے ذریعہ دے گا۔ یہ سن بصری، امام نخعی، امام زہری، امام ثاودہ اور امام احتج کے قول کے مطابق ہے اور سعید بن مسیب، امام ماک، فقہاء کوفہ اور امام احمد رحمہ اللہ کے پاس پاک مطی سے تیمم کرنا کہ اور شافعی کے پاس بھی (تیمم کرنا) زیادہ رانگ ہے۔ اور امام اوزاعی نے کہا کہ اس کو ویہی دفن کیا جائے گا۔ اور تیمم نہیں کرنا کہ اور یہ بات کچی کچی کہ علاج کرنے اور میت کو نہلا لئے کے درمیان فرق ہے کہ غسل و پنا کی عبادت ہے، جب کہ دو اور علاج کرنا ایک ضرورت ہے اور ضرورت میں ممنوع چیز وں کو مباح کر دیتی ہے۔
قولہ: اقتلوا شیوخ المشرکین الخ (مشکیں کے بطول کے قتل کرو) اس میں (شیوخ سے) مراد وہ جو پچون کے مقابلہول ابر باشیخ فانی (ایسا بوڑھا جوموت کے دباؤ نے پر ہو) تو اس کو قتل نہیں کیا جائے گا مگروہ جب کہ راے ویاہو (مرقات)
قولہ: لا تقتلوا شیخا فانيا الخ (کسی شیخ فانی کو مرنے کو قتل کرو) پہاپی میں سے کسی عورت کو قتل نہ کرو اور نکسی پچکو اور نکسی شیخ فانی کو اور نکسی اپنے کو اور نکسی ناپنا کو کیونکہ قتل کو جائز کرنے والی چیز ہمارے پاس جنگ کے اور پی ان لوگوں سے نہیں ہوتی اس لے ایے شخص کو قتل نہیں کیا جائے گا جس کا ایک حصہ سوگگیا ہو اور ناس شخص کو جس کا داوال با تحویبات کو اور پر کالف سمیت کے کات وے گئے ہوں۔ عمر رضیہ، اپنے اور ناپنا کے بارے میں امام شافعی رحمہ اللہ کہتم (احناف) سے اختلاف ہے کیونکہ ان کے پاس قتل کو جائز کرنے والی چیز کفر ہے اور ان پر جحت وہ شے جس کو تم نے بیان کیا ہے اور یہ بات سمیت کے ساتھ ثابت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچوں، عورتوں اور نسل کو قتل کرنے سے منع فرما یہ اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قتل کی ہوتی عورت کو ملاحظہ فرما یا تو ارشاد فرما یا فسوس فرما یا عورت تو لے نے والی نہیں تھی پھراس کو کیون قتل کیا گیا؟
Anas (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Go in the name of Allah, with Allah, and upon the religion of the Messenger of Allah. Do not (2) kill a frail elder, a child, a young boy, or a woman. Do not embezzle, gather your spoils, reform, and do good, for Allah loves those who do good.” [Narrated by Abu Dawud]
In the case of a woman who has died due to being crushed and the one who gives her the ritual bath, a man cannot directly give her the ritual bath; rather, he will do so through some intermediary means. This is according to the view of Saeed bin Al-Musayyib, Imam Makh, the jurists of Kufa, and Imam Ahmad (RA), who consider it purer to perform tayammum instead. And according to Imam Shafi (RA), performing tayammum is more preferable. Imam Awza'i said that she should be buried without a ritual bath. The difference between treating a living person and washing a dead body is that the ritual bath and shrouding are acts of worship, whereas treatment is a necessity, and necessity makes forbidden things permissible.
The statement: 'Kill the leaders of the polytheists' (i.e., the elders of the disbelievers) refers to those who are in opposition to Islam. If someone is very old and close to death, they should not be killed. However, if they are still active and capable, they can be killed.
The statement: 'Do not kill an elderly person who is close to death' (i.e., a very old person) means do not kill any woman among them, nor any child, nor any very old person, nor any cripple. This is because the justification for killing, in our view, is war, and this does not apply to these people. Therefore, a person who is partially paralyzed or a person whose limbs have been cut off, including the fingers, should not be killed. There is a difference of opinion between Imam Shafi (RA) and the Hanafis regarding the killing of one's own and crippled individuals, as the Hanafis consider apostasy as the justification for killing, and it is established that the noble Prophet (SAW) prohibited the killing of children, women, and the disabled. When the Messenger of Allah (SAW) saw a woman who was about to be killed, he either advised against it, expressed doubt, or asked, 'Was she carrying a child? Why was she killed?'
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا۔ (متفق علیہ)
Abdullah ibn Umar (may Allah be pleased with them both) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited (1) the killing of women and children. [Narrated by Bukhari and Muslim]
In another agreed-upon narration, As-Sa‘b ibn Jaththamah said: The Messenger of Allah (ﷺ) was asked about the people of a household attacked at night from the polytheists, where their women and children are harmed. He said: “(2) They are from them.” In another narration: “They are from their fathers.”
قَوْلُهُ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ ( رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَوْرَتَوْنَ أَوْرَ بَحُوْلَ كَوْلَ كَرَنَ سَمَحَ فَرْمَايَا ) - ثُخَ ابْنِ هَمَامَ نَ كَهَا بَجَرَ نَسَائِي كَتَمَامَ اصْحَابَ صَحَاحَ سَتَ، نَ عَبْدَ اللَّهِ بْنِ عَمْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَ رَوَايَتَ كِيَبَ كَأَيِكَ عَمُورَتَ مَقْتَوْلَ پَالِگَ تَوَ حَضُوْرَ صَلِيَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَ عَوْرَتَوْنَ أَوْرَ بَحُوْلَ كَوْ قَتْلَ كَرَنَ کَی حَرْمَتَ پَرَ قَتْلَ كَرَنَ سَمَحَ فَرْمَايَا انْهُوْلَ ( ثُخَ ابْنِ هَمَامَ ) نَ کَهَا مِلَ تَوْبِيَ بَجَمْتَا هَوْلَ کَعَوْرَتَوْنَ أَوْرَ بَحُوْلَ کَوْ قَتْلَ کَرَنَ کَی حَرْمَتَ پَرَ اجْمَاعَ هَ ابُوْکَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَ مَرُوْیَ سَہَ کَ انْهُوْلَ نَ يَزِيْدَ بْنِ ابِي سَفْيَانَ کَوْ مَلَکَ شَامَ بَجَجَتَ وَقْتَ وَصِيْتَ فَرْمَايَا اورَ کَہَا پَحُوْلَ، عَوْرَتَوْنَ أَوْرَ بَوْظَوْنَ کَوْ قَتْلَ مَتَ کَرَوَ ( حَدِيثَ ) ابْنِ هَمَامَ نَ کَهَا البَتَ جَبَ کَ بَارَ مِیَنَ تَمَ نَ کَهَا کَرَانَ کَوْ قَتْلَ نَ کَیَا جَاَ اَگَرَوْهَ جَنْگَ کَرَیَنَ تَوَ پَحْرَانَ کَوْ قَتْلَ کَیَا جَاَ گَا جَجَیَ مَجْنُوْنَ، پَچَ، عَوْرَتَ، بَوْظَ هَ اورَ رَا هَبَ ( پَاوَرِیَ ) - مَگَرَ پَچَ اورَ مَجْنُوْنَ کَوْتَوَانَ کَ لَا نَ کَی حَالَتَ مِیَنَ قَتْلَ کَرَوْیَا جَاَ گَا البَتَ انَ کَ عَلاوَهَ عَوْرَتَمِیَنَ، پَاوَرِیَ اورَانَ جَجَیَ لَوْگَ، تَوَانَ کَوَا سَ وَقْتَ قَتْلَ کَیَا جَاَ گَا جَبَ کَرَ قَیْدَیَ بَناَ لَ جَاَ نَ کَ بَعْدَ جَنْگَ کَرَیَنَ حَکْمَ اَنَ عَوْرَتَ کَوْ قَتْلَ کَرَوْیَا جَاَ گَا اَگَرَ پَچَیْلَ وَهَ خَوْدَ نَ لَا سَ اَسَ طَرَحَ حَکْمَ اَنَ اورَ پَچَ اورَ شَیْمَ پَگَلَ حَکْمَ اَنَ کَا حَکْمَ سَ کَیْوْنَکَ باَوْشَا هَ کَوْ قَتْلَ کَرَنَ مِیَنَ انَ کَیَ شَوْکَتَ کَوْتَوَرَ نَا سَ
صعب بن جذاۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزروں میں رہنے والے مشرکوں کے بارے میں دریافت کیا گیا کہ ان پر شب خون مارا جاتا ہے تو ان کی عورتوں اور بچوں کی قتل ہوجاتی ہے، آپ علیہ الصلاۃ نے فرمایا: وہ انہی 7 میں سے ہیں۔
(مرقات)
قَوْلُهُ : هُمْ مِنْهُمُ الْخَ ( وَهَ لُوْگَ اَنْہِیَ مِیَنَ سَہَ پَیْنَ ) صَاحَبُ عَدَةِ القَارِیَ نَ کَہَا سَ اَگَرَتَمَ کَہَوْکَ رِیَا سَ رَوَایَتَ کَ خِلا فَ بَہَ جَسَ کَوَا مَامَ بَخَارِیَ نَ سَیْدَنَا عَبْدَ اللَّهِ بْنِ عَمْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا سَ ذَکَرَ کِیَا بَہَ کَرَ حَضُوْرَ صَلِيَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَ عَوْرَتَوْنَ اورَ بَچُوْنَ کَوْ قَتْلَ کَرَنَ سَمَحَ فَرْمَایَا تَوْ مِیَنَ کَہُوْنَ کَا خَطَابِ نَ کَہَا آَ پَ کَا رَشَادُ هُمْ مِنْهُمْ، ( وَهَ لُوْگَ اَنْہِیَ مِیَنَ سَہَ پَیْنَ ) سَہَ دِیْنَ کَ حَکْمَ مِیَنَ اَسَ مِیَنَ سَہَ ہَوْنَا مَرادَہَ کَیْوْنَکَ کَا فَرَ کَ پَچَ پَرَ فَرَیَ کَا حَکْمَ عَانَدَ ہَوْگَا - اَسَ اَرْشَادَ سَ عَمَدَ اوْ قَصدَاَنَ کَا خَوْنَ کَرَنَ کَوْ مَبا حَ قَرَارَوْ یَنا مَقصُوْدَ مِیَنَ سَہَ - یَ حَکْمَ اَسَ وَقْتَ سَ جَبَ کَمَا نَ کَآَ بَاءَ ( پَاپَ دَا دَا ) تَکَ انَ کَ بَغیرَ پَچَچَنَا مَمْکَنَ نَہَوْ جَبَ وَہَا پَآَ بَاءَوَا جَدا دَ کَ سَا تَہَرَ سَنَ کَیَ وَجَ سَ قَتْلَ کَرَوَ سَگَ تَوَا نَ کَ قَتْلَ کَرَنَ مِیَنَ انَ لُوْگَوْلَ پَرَ کَوْنِ پَیْزَ نَہِیْنَ - حَضَرَتَ نَبِیَ اَکْرَمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَ عَوْرَتَوْنَ اورَ بَچُوْنَ کَوْ قَتْلَ کَرَنَ سَ جَوْمَحَ فَرْمَايَا سَ تَوَ وَہَ یَہَ کَ بَا لَ قَصدَاَنَ کَوْ قَتْلَ نَہِیْنَ کَیَا جَاَ گَا جَبَ عَوْرَتِمِیَنَ جَنْگَ کَرَیَنَ تَوَ مَمَانْعَتَ خَتَمَ ہَوْجَاَ گَا اَوْرَ کَا فَرُوْنَ کَ خَوْنَ حَلالَ ہَوْجَا کَمِیْنَگَ مَگَرَ جَا نَ کَ حَفَاظَتَ کَا مَعا بَدَہَوْ ( تَوَ حَلالَ نَہِیْنَ ) - عَبْدَ اللَّهِ بْنِ عَمْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا کَ اَسَ حَدِیثَ کَیَ بَنَاءَ پَرَ حَسَ کَ اَمَامَ تَزَنْدَیَ سَہَ رَوَایَتَ کَیَ سَہَ جَسَ مِیَنَ عَوْرَتَوْنَ اورَ بَچُوْنَ کَوْ قَتْلَ کَرَنَ کَیَ مَمَانْعَتَ سَہَ تَوَ انْہُوْلَ نَ کَہَا نَبِیَ اَکْرَمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .......
کے صحابہ وغیرہ میں سے بعض اہل علم کے پاس اس عمل سے انہوں نے عورتوں اور پچول کے قتل کر نے کو ناپسند کیا ....
ہے اور ثوری اور امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی قول ہے اور بعض اهل علم نے شب خون مار نے کی صورت میں ان (مردون)
کے ساتھ رہنے والی عورتوں اور پچول کے قتل کے جانے کی اجازت دی ہے اور یہ قول امام احمد اور اٹھ کا ہے۔ اور
ہمارے شیخ نے کہا امام ترمذی نے ثوری اور امام شافعی سے عورتوں اور پچول کے قتل کی کراہت کا جواب تو ل نقل کیا ہے وہ مطلق
قتل نہ کرنے میں طاہربہ شب خون مار نے کی صورت ہو یا س کے سوا کوئی اور صورت ہو کین با ت اسی نہیں سے شب
خون نہ مار نے کی صورت میں ان کے قتل کی حرم ت پر اجماع ہے جب کہ وہ جنگ نہ کریں جسیا کے امام نووی نے تشریح
مسلم میں اس کو قتل کیا ہے اور اگر وہ قتل کریں تو تشریح مسلم میں جہور علماء سے منقول ہے کہ ان کو قتل کیا جائے گا۔
امام طحاوی رحمہ اللہ نے دار الحرب میں عورتوں اور پچول کے قتل کے ممانعت کا ایان عوان قائم کیا پھر پچول
اور عورتوں کے قتل کے ممانعت کے بارے میں نو (9) صحابہ کرام سے روايتیں بیان کیں پھر کہا ک ایک جماعت اس
طرف گئی ہے کہ عورتوں اور پچول کو دار الحرب میں کسی بھی حالت میں قتل کرنا درست نہیں اور ان (عورتوں اور پچول) کے
علاوہ لوگوں کو قتل کرنے کا ارادہ کرنا بھی درست نہیں جب کہ اس میں (پچول اور عورتوں) کے ضائع ہوجانے کا اندیشہ ہو
مثالا لازمی کرنے والے جب اپنے پچول کو ظہال بنانے اور مسلمان ان پچول پر تیراندازی کے بغیر ان لوگوں پر تیراندازی
چلا سکتے ہوں تو ان حضرات کے قول میں ان پر تیرچلانا حرام ہے۔ اور اس طرح اگر وہ کسی قلعہ میں محفوظ ہو جائیں اور اس
میں پچول کو رکھدی تو اس قلعہ پر تیراندازی حرام ہے جب کہ میں ان کی عورتوں اور پچول کے ضائع ہوجانے کا اندیشہ ہو
اور انہوں نے ان احادیث سے استدلال کیاہے جن کو تم نے روایت کیاہے۔
میں کہتا ہو: امام طحاوی نے علماء کی ایک جماعت کے امام اوزاعی، امام ماک ایک قول کے مطابق امام شافعی
اور ایک روایت کے مطابق امام احمد کو مراد لیاہے۔ اب عمر و نے کہاہے قلعون پر گوپشن کے ذریعہ تیراندازی کرنے میں علماء
نے اختلاف کیاہے جب کران قلعون میں مشکول کے نچے مسلمانوں کے قیدی ہوں۔ امام ماک نے کہاہے قلعہ پر تیراندازی نہیں کی جائے گی اور نہ کافرون کی کشتی کو جالا یا جائے گا جو کے اس میں
مسلمانوں کے قیدی ہوں اور امام اوزاعی نے کہاہے جب کفار مسلمانوں کے پچول کو ظہال بنانے تو ان پر تیراندازی
نہیں کی جائے گی اور نہ اس سواری کو جلد یا جائے گا جس میں مسلمانوں کے قیدی ہوں امام ثوری امام ابوحنیفہ، امام ابو
یوسف اور امام محمد نے اور امام شافعی نے قول کے بموجب، اور امام احمد واختی رحمہ اللہ نے کہاہے۔ پچول اور عورتوں
کے تلف و ضائع ہو نے بغیر ان کے قتل کر نے کی کوئی راہ نہ ہو تو اس میں کوئی مضا نہیں۔
اب عمر و نے کہا امام ابوحنیفہ نے اصحاب اور ثوری نے کہاہے مشکول کے قلعون پر تیر بر سانے میں کوئی حرج
نہیں اگر چیکہ ان میں مسلمانوں کے قیدی اور ان کے نچے ہوں یا مشکول کے نچے ہوں اور کشتیوں کو جلا نے میں کچی کوئی
مضا نہیں جب کراسے مشکیں کا قصد کیا جائے۔ اگر اس کی وجہ سے کسی مسلمان کا قتل ہو جائے تو ندیت ہے اور نہ
کفارہ ہے۔ ثوری نے کہا اگر وہ (مسلمان کو) قتل کریں تو اس میں کفارہ ہے دیت نہیں۔
Abdullah ibn Umar (may Allah be pleased with them both) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited (1) the killing of women and children. [Narrated by Bukhari and Muslim]
In another agreed-upon narration, As-Sa‘b ibn Jaththamah said: The Messenger of Allah (ﷺ) was asked about the people of a household attacked at night from the polytheists, where their women and children are harmed. He said: “(2) They are from them.” In another narration: “They are from their fathers.”
His statement: 'They are among them' (i.e., those who are among them are three in number). The commentator of 'Several' said that if it is said that this is a variant reading, then the meaning is as follows: Our master Abdullah ibn Amr (RA) mentioned that in the presence of the Prophet (SAW), he permitted the killing of women and children. This was addressed to those who were among them, and he said, 'Your guidance is that they are among them' (i.e., they are included in the same ruling). This means that they are subject to the same legal ruling as others, because the obligation to perform a duty and the prohibition of neglecting it apply equally. This guidance indicates that intentional and deliberate actions are what are being considered here, and the purpose is to establish that the ruling at that time was as follows: (the father's father) until the grandfather, and without the grandfather, it would not be possible. When they came into existence, they were separated by a period of time, and if they were killed, it would not be permissible to kill them. The Noble Prophet (SAW) permitted the killing of women and children, but he said that it should not be done intentionally or with premeditation. If women engage in warfare, then resistance will cease, and their killing will become permissible, but only for the purpose of self-defense, not otherwise (it is not permissible).
Abdullah ibn Amr (RA) based his position on this hadith, and some of the Companions and others found the act of killing women and children to be undesirable. This is also the view of Thawri and Imam Shafi (RA). Some scholars have allowed the killing of women and children in the context of night raids, and this is the view of Imam Ahmad and Uthman. Our teacher said that Imam Tirmidhi has narrated the disapproval of killing women and children from Thawri and Imam Shafi, which means that killing should not be done, whether in the context of a night raid or any other situation. There is consensus that in the context of a night raid, it is forbidden to kill them if they do not engage in warfare, as Imam Nawawi explained in his commentary on Muslim. If they do engage in warfare, then according to the majority of scholars, they should be killed.
Imam Tahawi (RA) established the prohibition of killing women and children in the land of war. He then cited nine traditions from the noble Companions regarding the prohibition of killing women and children. He then stated that one group of scholars holds that it is not right to kill women and children in the land of war under any circumstances, and it is also not right to intend to kill other people, especially when there is a risk of harm to women and children. For example, when someone makes their child a shield and Muslims can attack the enemy without harming the child, it is forbidden to shoot arrows at the child. Similarly, if they take refuge in a fortress with children, it is forbidden to shoot arrows at the fortress if there is a risk of harm to the women and children. He argued this based on the hadiths you have narrated.
I say: Imam Tahawi has referred to a group of scholars, including Imam Awza'i, Imam Malik, Imam Shafi according to one view, and Imam Ahmad according to another view. Abu Umara said that there is a difference of opinion among scholars regarding shooting arrows at fortresses to protect them when there are Muslim prisoners in the fortresses. Imam Malik said that arrows should not be shot at the fortress, nor should the ships of the disbelievers be burned if they contain Muslim prisoners. Imam Awza'i said that if the disbelievers use Muslim children as shields, then arrows should not be shot at them, nor should the mounts be burned if they contain Muslim prisoners. Imam Thawri, Imam Abu Hanifa, Imam Abu Yusuf, Imam Muhammad, and Imam Shafi, according to one view, and Imam Ahmad Waqidi (RA) said that if there is no way to avoid the loss of children and women without killing them, then there is no harm in doing so.
Abu Umara said that Imam Abu Hanifa and Thawri said that there is no harm in shooting arrows at the fortresses of the enemy if there are Muslim prisoners inside or below them, and there is no harm in burning ships if the intention is to target the fortresses. If a Muslim is killed as a result, there is no indemnity or expiation. Thawri said that if a Muslim is killed, there is expiation but no indemnity.
اور ایک روایت میں بھوہ ان کے آباء (باب دادا) سے ہیں۔ (متفق علیہ)
And in another narration, they are from their forefathers (ancestors). (Agreed upon)
رباح بن ربع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ تھم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں تھا پس آپ علیہ صلی اللہ وسلم نے لوگوں کو ملاحظہ فرمایا کر وہ کسی چیز پر تجہیں تو آپ صلی اللہ علیہ نے ایک آدمی کو جھنج کر فرمایا کر ویہوں پیلوگ کس چیز پر تجہے ہوئے ہیں تو وہ صاحب حاضر ہوئے اور عرض کیا کر ایک عورت پر جوٹل کی گئی ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورت تو لڑنے والی نہیں ہی! اس وقت فونج کے اگے دستہ پر خالد بن وليد مقرر تھا چنانچہ آپ علیہ صلی اللہ علیہ نے ایک آدمی کو جھنجا اور فرمایا: خالد سے کہو کہ تم نے کسی عورت کو قتل کر واورنے کسی مزدور کو 8 (ابوداود)
Rabah ibn ar-Rabi‘ narrated: We were with the Messenger of Allah (ﷺ) on an expedition. He saw people gathered around something and sent a man, saying: “See what they are gathered around.” He returned and said: “Around a slain woman.” He said: “She was not one to fight.” Khalid ibn al-Walid was leading the vanguard, so he sent a man, saying: “Tell Khalid not to kill a woman or a hired servant (1).” [Narrated by Abu Dawud]
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بن نظیر کے کچور کے درخت 9 کا طن اور جلا نے کا حکم فرمایا سے متعلق حسان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔ نی لوی (یعنی قریش) کے سردار ول پرا سان سے بویرہ میں بھٹکی ہوتی آگ لگنا۔ اس کے بارے میں آیت نازل ہوئی: مَا قَطَعْتُم مِّن لِّينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَى أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ اللَّهِ "۔ (جوپہ تم کچور کے درخت کا لے ہویالن کوان کی جڑول پر باقی کچور دے ہویسب اللہ کے حکم سے ہے۔ (59-سورۃ الحشر، آیت نمبر:5) (متفق علیہ))
Ibn Umar (may Allah be pleased with them both) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) cut down (2) the palm trees of Banu an-Nadir and burned them. For this, Hassan said: The nobles of Banu Lu’ayy found it easy, the blazing fire at Buwayrah spreading.
For this, the verse was revealed: “Whatever you have cut down of [their] palm trees or left standing on their trunks, it was by permission of Allah” [Qur’an 59:5]. [Narrated by Bukhari and Muslim]
عروہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھ کو اسامہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے عہد لیا تھا اور فرمایا تھا تم 'ابنا' پر نہ میں حمل کرو اور آگ لگادو۔ (ابوداود)
Urwah narrated: Usamah told me that the Messenger of Allah (ﷺ) instructed him: “Raid Ubna in the morning and burn.” [Narrated by Abu Dawud]
قولہ : ولا عسیفا (اور نہ مزدور کو قتل کرو) عسیف سے مزدور اور خدمت گزار مراد ہیں۔ ممکن ہے کہ اس کی علامت اس کا بغیر تحمیا کے رہنا ہو۔ (مرقات)
قولہ : قطع نخل بنی النضیر وحرق الخ (نی نضیر کے کچور کے درخت کا طن اور جلا نے کا حکم فرمایا)۔ ابن همام نے کہا یہ جائزہ کیونکہ اس سے اللہ کے شمنون کوز لیل کرنا اور ان کی شوکت کو توڑنا مقصود ہے اور یہ چیز اس عمل کے ذریعہ حاصل ہوسکتی ہے پس وہ جومکن ہو کر یں گے جی آگ لگنا، ور ختو کو کاٹنا اور کھتیوں کو خراب کرنا لیکن پیاس وقت سے جب کس کے بغیر ان لوگوں کے پر کے جانے کا غالب مان نہ ہو پس اگر بات ظاہر ہو کر پیلوگ مغلوب ہو جا یں گے اور کامیابی نظر آ رہی ہو تو پھر عمل ناپسند یہ ہے۔ کیونکہ یہ ضرورت بگڑ پیا کرنا ہے اور اس کی اجازت تو ضرورت کے وقت ہی ہے۔ (مرقات)
عبداللہ بن عموں رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نافع نے انہیں خبر دیا
ہوئے کہ حاکم ابن عمر رضی اللہ نے اپنے بیٹے کے نیاکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی مصطفٰی پر 10 جملہ
فرمایا جب کہ وہ صحابہ کے وقت اپنے مویشیوں میں مقام مرتبہ چلنے رہے تو اور جنگجو جماعت کو قتل
کرنے اور پھول کو قید کرنے کا حکم فرمایا۔ (مشق علیہ)
Abdullah ibn Awn narrated that Nafi‘ wrote to him, informing him that Ibn Umar told him the Prophet (ﷺ) raided (3) Banu al-Mustaliq unexpectedly at Muraysi‘ while they were tending their livestock, killed their fighters, and took their women and children captive. [Narrated by Bukhari and Muslim]
ابو سید رضی اللہ سے روایت ہے کہ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے جنگ
بدر کے دن جب کہ تم قریش کے مقابل صف آراہوگے اور وہ جہاں میں مقابل صف بستے ہوگے
تو فرمایا جب وہ تمہارے قریب آجیں تو تم پر لازم ہے کہ تم اندازی کرو۔
Abu Usayd narrated: On the day of Badr, when the Prophet (ﷺ) arrayed us against Quraysh and they arrayed against us, he said: “When they approach you in large numbers, use your arrows.” In another narration: “When they approach you in large numbers, shoot them and spare your arrows.” [Narrated by Bukhari]
اور ایک روایت میں ہے جب وہ تم سے قریب آجیں تو ان پر تیر برساو اور
ابن تیرول کو باقی رکھو۔ (بخاری)
Abu Usayd narrated: On the day of Badr, when the Prophet (ﷺ) arrayed us against Quraysh and they arrayed against us, he said: “When they approach you in large numbers, use your arrows.” In another narration: “When they approach you in large numbers, shoot them and spare your arrows.” [Narrated by Bukhari]
اور ایک سے روایت ہے کہ رسول اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر کے دن
فرمایا جب وہ تمہارے نزدیک آجاں تو ان پر تیر چلاو اور تلوارول کو بے نیام مت کرو پیہال تم کہ کر
وہ تم سے بالکل قریب آجاں۔ (ابوداود)
Abu Usayd (may Allah be pleased with him) narrated: On the day of Badr, the Messenger of Allah (ﷺ) said: “When they approach you in large numbers, shoot them with arrows, but do not draw your swords until they overwhelm you.” [Narrated by Abu Dawud]
عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ تم کو نیاکرم صلی اللہ علیہ
وسلم نے بدر میں رات کے وقت جنگ کے لئے تیار کیا۔ (ترمذی)
Abdur-Rahman ibn Awf (may Allah be pleased with him) narrated: The Prophet (ﷺ) organized us for battle at Badr during the night. [Narrated by Tirmidhi]
محلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ علیہ وسلم نے فرماياگر
تو شہن تم پر شب خون مارے تو تمہاری شناخت ہم لا ینصرون۔ نہوںی چاہے۔
(ترمذی، ابوداود)
If the night were to devour you, then your recognition would bring us victory. No, by Allah.
سہرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مهاجرین کی (جنگی) شناخت
عبداللہ جب کے نصاری (جنگی) شناخت عبد الرحمٰن، تقی۔ (ابوداود)
the war emblem of the Muhajirun was 'Abdullah, while the war emblem of the Christians was 'Abdur-Rahman, the pious.
سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ تم نیاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے
مبارک زمانے میں ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ جنگ میں شریک رہے پس تم ان کو لکرتے ہوئے
he was with Abu Bakr (RA) during the blessed time of the Messenger of Allah ﷺ, and he participated in battles alongside him.
10قولہ: اگر علی بنی المصطلق الخ (حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نیا مصطلق پر حملہ کا حکم فرمایا)
عالمگیری میں ہے کہ دعوت دے بغیر کہیں ان پر دن یارات میں حملہ کر نے میں کوئی حرج نہیں ہے اور یاس سرز میں میں
ہے جس کے باشندگان کا دعوت پہنچ چکی ہو۔ (محیط السرخسي)
شَبْخون مارے اوراس رات ہماری شناخت "امت امت" (مارؤال، مارؤال) ﷺ - (ابوداود)
صحابہ جنگ کے موقع پر آواز کرنا پسند نہیں کرتے تھے -11 (ابوداود)
Shabkhoon maray, and that night our identification was 'Ummah Ummah' (Mar'ul, Mar'ul) ﷺ - (Abu Dawud) The Companions did not like to raise their voices during battles - 11 (Abu Dawud)
سید نا علی رضی اللہ عنہ روایت سے کہا جب بدراون آیا تو عقبہ بن ربيعہ آ گے برہا، اس کا پیٹا اوراس کا بھائی اس کے پیچھے آیا اوراس نے آواز دی کون مقابلہ کرے گا - جب انصار کے پچھو جوان نے اس کا جواب دیا اس نے کہا تم کون ہو تو انہوں نے اس کو بتادیا اس نے کہا تم کو تمہاری کوئی ضرورت نہیں ہے اس کے سوا نہیں کہ تم نے اپنے پچازاد بھائیوں کا ارادہ کیا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے حمزہ کطرے ہوجاؤ، اے علی کطرے ہوجاؤ، اے عبیدہ بن حارث کطرے ہوجاؤ پس حمزہ، عتبہ کی طرف چلے اور میں شیبکی طرف چلا اور عبیدہ اور و لید کے درمیان ایک دوسرے پروار ہوئے اور ان میں سے ہر ایک نے اپنے
ساتھی کو نہیں کر دیا، پھر تم وليد پر توٹ پڑے 13 اور اس کو قتل کر دیا اور عبیدہ کو اٹھالے۔
(احمد، ابو داود)
Ali (may Allah be pleased with him) narrated: On the day of Badr, Utbah ibn Rabi‘ah stepped forward, followed by his son and brother, and called out: “(2) Who will duel?” Some young Ansar volunteered, but he asked, “Who are you?” They informed him, and he said, “We have no need of you; we only want our cousins.” The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Rise, O Hamzah! Rise, O Ali! Rise, O Ubaydah ibn al-Harith!” Hamzah faced Utbah, I faced Shaybah, and Ubaydah and al-Walid exchanged blows, each severely wounding the other. Then (3) we turned to al-Walid and killed him, and we carried Ubaydah away. [Narrated by Ahmad and Abu Dawud]
جنگ کرنے والوں کی عادت ہے کہ وہ اپنی آواز وں کو بلند کرتے ہیں یا تو اپنی بطالت کے لئے یا زیادہ آواز کرکے کثرت بتلانے کے لئے یا پنے دشمنوں کو خوف زدہ کرنے کے لئے یا شجاعت و بہادری کے اظہار کے لئے اس طور پر کہ میں بہادر و دلیر ہوں جنگ کا طلبگار ہوں۔ جب کہ صحابہ کرام ﷺ کے الرضوان الہیں سے کسی چیز کے لئے کچھ آواز بلند کرنے کو پسند نہیں کرتے تھے چونکہ ان چیزوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل نہیں کیا جاسکتا بلکہ یہ حرارت اللہ تعالیٰ کا ذکر بآواز بلند کیا کرتے تھے کیونکہ ایسے دنیاوی آخرت کی کامیابی ہے (مرقات)
قولہ: فنادی من بیارز الخ (اس نے آواز دی کون مقابلہ کرے گا) ثرہ السنبلہ کے کفارے جہاد میں مقابلہ میں نکلنا حاکم کی اجازت سے ہوتا اس میں علماء نے کوئی اختلاف نہیں کیا۔ اور اگر امام کی اجازت کے بغیر ہو تو اس میں اختلاف ہوا ہے۔ علماء کی ایک جماعت، امام شافعی اور امام ماکے نے کہی اس کی اجازت دی ہے (مرقات) اور صحابہ رحمۃ اللہم علیہ کہا ہے کہ اگر مسلمان آغاز کر کے مبارزت طلب کرے تو یہ جائز نہیں ہے۔ علماء شافعی میں سے ابن حبیب رہ نے اس کو مروہ کہا ہے اور امیر کی اجازت بغیر مبارزت طلب کرے گا تو جائزہ گمر مستحب یہ کہ امیر کی اجازت کے بغیر مبارزت طلب نہ کرے۔ امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہم علیہ کہا ہے کہ اگر قوت کی حالت ہے تو جائزہ ورنہ حرام ہے۔
اپن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ تم کرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
ایک سری میں بھیجا لس لوگ بجاگ نکل اور تم مدینہ طیبہ حاضر ہوئے اور وہال چھپ گئے اور تم نے
کہا تم تو بلاک ہوگے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یارسول
اللہ صلی اللہ علیہ! تم تو بجاگ آئے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں! بلکہ تم پلٹ کر جملہ کرنے
والے ہو اور میں تمہاری پناہ ہوں۔ (ترمزی)
the Messenger of Allah ﷺ sent a detachment of twelve men. They set out at night and arrived in Madinah. They went into hiding, and you said, 'You have been delayed.' Then they came into the presence of the Messenger of Allah ﷺ and said, 'O Messenger of Allah ﷺ, we have come at night.' The Messenger of Allah ﷺ said, 'No! Rather, you have returned as those who are astray, and I am your refuge.' (Tirmidhi)
ابوداود کی ایک روایت اس کے تم معنی ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
نہیں بلکہ تم پلٹ کر جملہ کرنے والے ہو راوی نے کہا تم قریب ہوئے اور تم نے حضور صلی اللہ علیہ
وسلم کے دست مبارک کو بوس دیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں مسلمانوں کی پناہ ہوں۔
Ibn Umar (may Allah be pleased with them both) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) sent us on a detachment, but the people fled in panic. We arrived in Madinah and hid, saying, “We are ruined.” Then we came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said, “O Messenger of Allah, we are the deserters.” He said: “No, you are the ones who return to fight, and I am your company.” [Narrated by Tirmidhi]
In a narration by Abu Dawud, similar wording is used, and he said: “No, you are the ones who return to fight.” We approached and kissed his hand, and he said: “I am the company of the Muslims.”
ثوبان بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے
طائف والوں پر محی نصب فرمائی۔ (ترمزی مرسلا)
قولہ : ثم ملنا على الوليد ( پھر تم وليد پر توٹ پڑے ) اس میں ویلے کے اس بات کی کروا لگ اگ
صف آ راجما عتمین ایک دورے کی مد کر سکے پیں صحابہ نے الاوطار نے یہ بات کی ہے اور صحابہ شرح اسیر اکبر
نے کہا ہے پیں جب مسلمان اور مشرك مقابلہ میں اتریں تو مسلما نوں کو اگر قدرت ہوتا اپنے ساتھی کی مد کرنے میں کوئی
حرج نہیں کیونکہ مشرك جسیا وہ ان کے ساتھی کو قتل کرنے کا ارادہ کیا ہے اگر اس کا بس چل تو اس کا ان کو جسی قتل کرنے کا
ارادہ ہے تو ان لوگوں کو قن حاصل ہے کہ اس کے شرکو دن فخر کریں اگر ان کے ( قتل کا ) ارادہ نہ کیا ہوتا کہ پیلوگ اس کو
قتل کر سکتے پیں کیونکہ وہ برسر پیکار مشرك ہے جنگ بدر کے دن صف آ را جما عتوں کے قصد میں ذکور ہے کری رضی اللہ
عنہ نے شہید کو قتل کیا اور حمزہ رضی اللہ عنہ نے عتبہ کو قتل کیا جب کر عبیدہ رضی اللہ عنہ اور وليد کے درمیان دو ضریبن ہوئیں تو
علی و حمزہ رضی اللہ عنہما نے عبیدہ رضی اللہ عنہ کی وليد کے مقابلہ میں مدد کی پیہال تک کران دونوں نے اس کو قتل کرنے والا تو
تم کواسے یہ معلوم ہوا کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
قولہ : نصب المنجنيق ( حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجنیق نصب فرمائی ) پڑایی میں ہے ان کا فروغ پر
مسلمان گوچھن نصب کر سکتے پیں جسیا کہ حضرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف پر مجنیق نصب فرمائی۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
Thawban ibn Yazid narrated: The Prophet (ﷺ) set up (1) a catapult against the people of Ta’if. [Narrated by Tirmidhi, mursal]
13قولہ : ثم ملنا على الوليد ( پھر تم وليد پر توٹ پڑے ) اس میں ویلے کے اس بات کی کروا لگ اگ
صف آ راجما عتمین ایک دورے کی مد کر سکے پیں صحابہ نے الاوطار نے یہ بات کی ہے اور صحابہ شرح اسیر اکبر
نے کہا ہے پیں جب مسلمان اور مشرك مقابلہ میں اتریں تو مسلما نوں کو اگر قدرت ہوتا اپنے ساتھی کی مد کرنے میں کوئی
حرج نہیں کیونکہ مشرك جسیا وہ ان کے ساتھی کو قتل کرنے کا ارادہ کیا ہے اگر اس کا بس چل تو اس کا ان کو جسی قتل کرنے کا
ارادہ ہے تو ان لوگوں کو قن حاصل ہے کہ اس کے شرکو دن فخر کریں اگر ان کے ( قتل کا ) ارادہ نہ کیا ہوتا کہ پیلوگ اس کو
قتل کر سکتے پیں کیونکہ وہ برسر پیکار مشرك ہے جنگ بدر کے دن صف آ را جما عتوں کے قصد میں ذکور ہے کری رضی اللہ
عنہ نے شہید کو قتل کیا اور حمزہ رضی اللہ عنہ نے عتبہ کو قتل کیا جب کر عبیدہ رضی اللہ عنہ اور وليد کے درمیان دو ضریبن ہوئیں تو
علی و حمزہ رضی اللہ عنہما نے عبیدہ رضی اللہ عنہ کی وليد کے مقابلہ میں مدد کی پیہال تک کران دونوں نے اس کو قتل کرنے والا تو
تم کواسے یہ معلوم ہوا کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
قولہ : نصب المنجنيق ( حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجنیق نصب فرمائی ) پڑایی میں ہے ان کا فروغ پر
مسلمان گوچھن نصب کر سکتے پیں جسیا کہ حضرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف پر مجنیق نصب فرمائی۔