حاکمون کے لئے روزینہ اور تعاون کا بیان
Daily and cooperative provisions for rulers
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ علیہ روایت ہے انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرماش میں تم کو یتاہول اور نہ تم سے رک لیتاہول میں تقسیم کرے نے والاہول میں وہی رکتاہول جہال مجھے حکم دیا گیا ہے۔ (بخاری)
The Messenger of Allah ﷺ said: 'I command you to give the zakat, and I do not take it from you except as Allah has commanded me to take it. I will only take what Allah has commanded me to take.'
سیدنا خولم انصاری رضی اللہ تعالیٰ علیہ روایت ہے انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرماش پہلوگ اللہ تعالیٰ کے مال میں ناحق تصرف 1 کرتے ہیں پس ان کے لئے قیامت کے دن آگے ہے۔ (بخاری ثریف)
Khawlah al-Ansariyyah (may Allah be pleased with her) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Indeed, some men misuse Allah’s wealth unlawfully, and for them is the Fire on the Day of Resurrection.” [Narrated by Bukhari]
(1) The statement: “Indeed, some men misuse Allah’s wealth unlawfully, and for them is the Fire on the Day of Resurrection”: The term “misuse” here refers to disposing of the public treasury, spoils, and the like without right, and taking from them beyond what is legislated. This encompasses the actions of governors and subjects who take more than their allotted sustenance and share. As stated in Al-Lam‘at.
سیدنا بریدہ رضی اللہ تعالیٰ علیہ روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرماش: جس شخص کو تم نے کسی کام پر مامور کیا پھراس کے لئے پچھڑوز پینے مقصد کر دیا پس اس کے بعد جو پچھڑی لے گا تو وہ خیانت ہے۔ (ابوداؤد)
Buraydah (may Allah be pleased with him) narrated: The Prophet (ﷺ) said: “Whomever we appoint to a task and provide with sustenance, whatever he takes beyond that is misappropriation.” [Narrated by Abu Dawud]
سیدنا معاذ رضی اللہ تعالیٰ علیہ روايت ہے انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے میمن کی طرف بھیجا پس جب میں روانہ ہوا تو آپ علیہ صلی اللہ نے میرے پیچھے حکم بھیجا پس میں واپس بلوالیا گیا اور فرماش کیا تم جانے ہو کر میں نے تمہیں کیوں بلا بھیجا ہے؟ میری اجازت کے بغیر کوئی چیز 2 برگز نہ لینا کیونکہ پیخیانت ہے اور جو شخص خیانت کرتا ہے تو وہ قیامت کے دن اس چیز
حاکم تو ان کے لئے بدایی قبول کر نے سے پچنا لازم ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ بدی دین وا لے کا اتو کوئی مقدرمہوگا یا
نہیں ہوگا۔ اگر اس کا کوئی مقدمہ ہے تو (یقاضی یاحاکم) اس کا بدی قبول نہیں کرے گا اگر پچیدہ کاس کی عادت بدی
دین کی رہی ہو۔ یا وہ اس کا قریبی رشتہ دار ہو۔ اور اگر بدی دین وا لے کا کوئی مقدمرہ واور قضاء سے پیلے اس کو رشنہ
داری یادو ت کی بناء پر بدی دین کی عادت نہ رہی ہوتا اس کا بدی قبول نہیں کرنا چاہئ اور اگر اس کو بدی دین کی عادت
رہی ہوتا اس کا بدی قبول کیا جائے گا بشر طی کہ منصب قضاء پر فائز ہو نے سے پیلے بدی دین کی عادتاً جومقدار کی اس سے
زاگندہ ہو۔ اور اگر زیادہ ہوجائے تو وہ زاگند مقدار قبول نہیں کی جائے گی۔
اس میں اصل عده وہ حدیث ہے جس کو امام بخاری نے سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نقل کی ہے
انہوں نے کہا کہ مجی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ ازد کے ایک شخص جس کو ابن لتبیہ کہا جاتا ہے زکوۃ وصول کرنے کے
لئے عامل بنی اپس وہ حضور علی الصلاۃ والسلام کی خدمت میں آئے تو انہوں نے کہا یا پ کاہا اور پیراہے تو حضور
علی الصلاۃ والسلام نے فرمایا: اپنے باب پاپی مال کے گھر میں کیون سمجھار باکر کیفآ ایتیرے پاس بدیآ تاہے یا
نہیں؟
عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ نے کہا پیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بدی تھا اورآج تو رشوت ہے۔
امام بخاری نے اس کا ذکر کیا ہے اور سید ناعمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سیدنا ابو بریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو گورز مقبر کیا تو وہ مال
لے کر آئے تو آپ نے ان سے کہا تم کو پیال کہان سے ملا تو انہوں نے کہا بکثرت بدایا آئے پیا تو ان سے سید ناعمر
رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا اللہ کے دشمن تو کیون ناپنگہر میں بیچار باکر کیفآ ایتیرے پاس بدیآ تاہے یا نہیں
پھرآ پ نے ان سے وہ مال لے کر بیت المال میں داخل کر دیا۔
اور مجی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یعنی بیان فرما نا (و کیفآ ایبدیآ تا نہیں) ایہ بدی کے حرام ہو نے کی دلیل
ہے مجس کا سبب اقتدار ہے (خالقدری) صاحب۔ بگرنے کہا کہ بدی کا ذکر احرار زی نہیں سے کیونکہ قاضی پرجس کے بدی
کو قبول کرنا حرام ہے اس سے قرض لینا عاری طلب کرنا بھی حرام ہے۔ (خانی)
میں کہتا ہوں اس کا تقاضہ تو یہ کہ اس پرتام رضا کارانے تقریب حرام ہوجاتے ہیں۔ جس کے نتیجہ میں عطیاور
نذرانے کہی حرام ہوجاتے ہیں گے۔ اگر واپس کر دینے سے بدی وا لے کونا گواری ہوتی ہوتا پچی خلاصی کے لئے اس پدیکی
خلاص قیمت کے مثل اس کو دیکا اور اگر اس کی شاخت نہ ہو نے کی وجہ سے یا اس کا مقام دور ہو نے کی وجہ سے واپس
کرنا دشوار ہوتا اس کو بیت المال میں رکھ دے۔ اور حضور پاک علی الصلاۃ والسلام کے خصوصیات میں سے ہے کرآ پ
صلی اللہ علیہ وسلم کے بدایا (آپ علیہ صلی اللہ کو پچش کے جانے والے) آپ علیہ صلی اللہ کے پیا (تا تارخانی)
اس کا مفاد یہ کہ امام کے لئے بدی قبول کرنا نہیں ہے۔ ورنہ وہ خصوصیت نہیں ہوگی اور اسی میں ہے امام مفتی
اور واعظ کے لئے بدی کا قبول کرنا جائز ہے۔ کیونکہ وہ عالم کو بدی پچش کر رہا ہے۔ اس کے عالم کی بناء پرخلاف تقاضی
کے شارح نے تا تارخانی سے ذکر کیا ہے اور جو پچہ خانی میں ہے کر امام اور مفتی کے لئے بدی قبول کرنا اور خاص۔......
دعاوتوں کو قبول کرنا جائز ہے۔ پھر انہیں لے کر امام کے مراد مسجد کے امام ہونے کے معنی میں
ہوتا اس کے لئے بدري جا رہیں ہیں۔ تو اب دونوں عبارتوں میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ اور کیا بات والل کے مناسب ہے
اور اس لئے کہ وہ تمام عالمین کا سردار ہے۔ اور صاحب نہرے کہا کہ ظاہر بات پیہ کر لے مراد وہ اقتدار کے جواب میں
اس کے نام کی طرف سے حاصل ہوتا ہے۔ جسے زکوۃ اور عشر وصول کرنے والے ہیں۔ میں کہتا ہوں اب کی طرح ہیں
بستی کے اور برزگ پیشہ جات کے بڑے لوگ اور اس جیسے وہ لوگ جن کو غلبہ اور اپنے کمتر لوگوں پر تسلط حاصل ہے
کیون کہ پیلوگ ان کے شرطے ذرکران کوئی دیتے ہیں یا س لئے کر ان کے پاس مقبول ہوجائیں۔ مفتی اور قاضی کے
درمیان فرق تو واضح ہے کیونکہ قاضی احکام کو نافذ کرنے میں ذو مردارا ورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے خلیفہ ہے
لہذا اس کا بدیع لینارشوت ہوجائے گا۔ اس فیصلہ کے لئے جس کی بدیعیں والا امیر رکھائے اور اس کی وجہے اس کے
فیصلہ کا باطل ہونا لازم آئے گا۔ اور مفتی ایا نہیں ہے۔ اور کیا بات کچھ کی جاتی ہے کہ مفتی کے لئے بدیعی کے جائز
رہنے سے مراد یہ ہے کہ جب بی بدیعی اس کے لئے علم کی وجہ سے ہواور بدیعی نے والے کی اعانہ کی غرض سے نہ ہو
( ماخوذ از مبسوط، فتح القدیر، رد المختار، در مختار )
اور عالمگیری میں ہے اب رہی گفتگو قاضی کی دعوت کے بارے میں امام محمد رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب الاصول میں
فرمایا عالم دعوت کو قبول کرنے میں قاضی کے لئے کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن خاص دعوت کو وہ قبول نہیں کرے گا۔ ( فتاوی
قاضی خان )
اور چہ بات تو یہ ہے کہ میزبان کی اگر بی بات معلوم ہوئی کہ قاضی نہیں آئے گا تو وہ دعوت کا اہتمام نہیں کرے گا تو
پر دعوت خاص ہے اور اگر اس کے نا آنے پر کچھ دعوت کا اہتمام کرتا ہے تو یہ دعوت عام ہے۔ کتاب " کافی " میں ایسا ہے
ہے۔ اور خاص دعوت میں رشتہ دار اور اہلی کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ اس طرح کوئی فرق نہیں کیا گیا ہے ان
دونوں کے درمیان۔ جب کہ قاضی اور دعوت دین والے کے درمیان منصب قضاء کے پیہلے سے خوشگوار تعلق رہاہو خواہ
وہ اس کی خاطر دعوت کیا کرتا تھا، ہو یا نہیں۔ اور صاحب قدوری نے کہا ہے کہ قاضی رشتہ داروں میں خاص دعوت قبول
کر سکتا ہے۔ اور شمس اللہ حرطوائی نے کتاب " تشرح ادب القاضی " میں ایسا ہے ذکر کیا ہے۔ اور امام طحاوی نے اپنی کتاب
" مختصر " میں ذکر کیا ہے کہ امام اعظم ابوحنیفہ اور امام ابویوسف رحمہما اللہ تعالیٰ کے قول کے مطابق قبول کرے گا۔ اور امام شمس اللہ مرغیبی اور شیخ الاسلام نے
نہیں قبول کرے گا۔ اور امام محمد رحمہ اللہ تعالیٰ کے قول کے مطابق قبول کرے گا۔ اور امام شمس اللہ مرغیبی اور شیخ الاسلام نے
ذکر کیا ہے کہ صاحب دعوت اگر قاضی کے اس کے منصب قضاء پر فائز ہوئے ہے پیلے دعوت نہیں کرتا تھا تو وہ اس کی
دعوت قبول نہ کرے خواہ وہ رشتہ دار ہو کہ ابھی اور اگر صاحب دعوت منصب قضاء پیلے اس کی میں میں ایک مرتبہ
دعوت کرتا تھا اور منصب قضاء پر فائز ہوئے نے کے بعد هفتہ میں ایک مرتبہ کرے تو قاضی اس کی دعوت کو میں میں صرف ایک
مرتبہ قبول کرے گا۔ اور اس طرح جب صاحب دعوت قاضی کے منصب قضاء پر فائز ہوئے نے کے بعد، سابلق کے لوازمات
میں اضافہ کر دے تو قاضی دعوت کو قبول نہ کرے سواے اس کے کہ دعوت دین والے کے مال میں اضافہ ہوا ہواور۔۔۔۔۔
کے ساتھ آئے گا جس کی اس نے خیانت کی ہے۔ میں نے اس کے تمہیں طلب کیا تھا اب تم اپنے کام کے لیے روانہ ہو جاؤ۔ (نزدیک)
Mu‘adh (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) sent me to Yemen. When I set out, he sent someone after me, and I was brought back. He said: “Do you know why I sent for you? Do not take anything without my permission, for that is misappropriation. And whoever misappropriates will come with what he misappropriated on the Day of Resurrection. This is why I called you. Now proceed to your task.” [Narrated by Tirmidhi]
This was contested in Al-Bahr with what the commentator mentioned from Tatarakhaniyyah and Al-Khaniyyah, that the leader and mufti may accept gifts and specific invitations. It then said: Unless the leader means the mosque imam, but for the leader as governor, gifts are not permissible, which aligns with the evidence, as he is the head of officials. In Al-Nahr, it is apparent that the task refers to authority from the leader or his deputy, like the collector or tithe-taker. I say: Similarly, village or guild leaders and those with authority over others, as gifts are given to them out of fear or favor-seeking. The difference between a mufti and a judge is clear: A judge is binding, a deputy of the Prophet, fulfilling the duty to enforce rulings, so, his gift is a bribe for the hoped-for ruling. and his judgment is invalid. A mufti is not so. It may be said: Their intent is that a gift to a mufti is permissible for his knowledge, not for aiding the giver. Compiled from Al-Mabsut, Ahmad al-Qadir, Radd al-Muhtar, and Al-Durr al-Mukhtar.
In Al-Alamgiriyyah: Regarding a judge’s invitation, Muhammad said in the principle: There is no harm in a judge accepting a general invitation, but not a specific one, as in Bukhariyyah. The correct view is: If the host would not hold it without the judge, it is specific one; if he would, it is general. No distinction was made for specific invitations from relatives or acquaintances before judgeship, whether held for the judge or not. Quduri said a judge accepts a specific invitation from close relatives, as did Shams al-A’immah al-Halwai in Sharh Adab al-Rahi.
Tahtawi said in his Mukhtasar: Per Abu Hanifah and Abu Yusuf, a judge accepts no specific invitation from relatives; per Muhammad, he does. Shams al-A’immah al-Sarkhasi and Shaykh al-Islam said: If the invitee never held invitations for the judge before judgeship, he accepts neither from relatives nor strangers. If he held them monthly before judgeship but weekly after, the judge accepts only monthly. If the invitee increased expenses after judgeship, the judge accepts only if the invitee’s wealth increased proportionally. This applies if the invitee has no dispute; if he does, the judge accepts no invitation, even with prior kinship or acquaintance, as in Al-Muhit.
For general invitations: If it is an innovation, like a competition, he must not attend, as it is impermissible for non-judges, more so for judges. If it is a Sunnah, like a wedding or circumcision feast, he attends, as it follows the Sunnah without suspicion, as in Al-Bada’i. In Al-Kifayah: The author of Al-Hidayah did not distinguish specific invitations by whether the inviter is a stranger or close relative. In the gift section, he said gifts are accepted only from close relatives, necessitating reconciliation. They said: The hospitality ruling applies if the relative’s invitation or gift-giving began after judgeship, making it like a stranger’s. The gift ruling applies if gift-giving occurred before judgeship due to kinship, so accepting post-judgeship is permissible, as stated by Shaykh al-Islam, known as Khwahir Zadah. In Shaykh al-Islam’s Mabsut: Unless the host is a litigant, the judge should not accept, even if general.
1قولہ: ان رجلا يتخوضون في مال اللہ بغير حق فلهم النار يوم القيامة (پہ شک پچھلوگ اللہ تعالی کے مال میں ناحق تصرف کرتے ہیں تو ان کے لئے قیامت کے دن آگے ہے) پیال "خوض" سے مراد بیت المال اور مال غنیمت وغیرہ میں ناحق تصرف کرنا ہے اوراس میں سے مقررہ مقدار کے بھٹکر لینا ہے اور یہ حکم حکام اور رعايا ہر دو کے تصرف کاواران کی روزینہ ومقصد کے حصر سے زائد لین کوشامل ہے۔ (کنز الفیلمعات)
قولہ: لا تصيبين شيئا بغير اذنى الخ (میری اجازت کے بغیر کوئی چیز برگز نہ لینا) اس میں حکام کے تحائف کی طرف اشارہ ہے اوراس کی تفصیل یوں ہے کہ بدیقبول کرنا شریعت میں مستحب ہے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرماش کیتی اچھی چیز ہے جب وہ دروازے میں داخل ہوتی ہے تو دلیز خوش بو جاتی ہے۔ اور فرماش پر سینہ کے کپڑے کو دور کرتا ہے اور آپ علیہ صلی اللہ نے ارشاد فرماش ہے ایک دومر کو بدیا کروآ پس میں محبت برطہ گی۔ لیکن پیاس شخص کے حق میں ہے جومسلمانوں کے کسی کام پرمعین نکیاگیا ہو البتہ جواس کے لئے متعمین بو جاتا ہے جیسے قاضی اور......
عدی بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ 3 سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا لے لوگو! تم میں سے جو کوئی ہماری طرف سے کسی کام پر مقرر کیا جائے یا سوہاس میں سے سوگی بر ابریاس سے چھوٹی چیز تم سے پچھا لے تو وہ خانہ بے وہ قیامت کے دن اس کو لے کر آ کے گا۔ تو انصار میں سے ایک صاحب کہ لے ہو گے اور کہما یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ آپ کا کام (جو آپ میرے پردہ کے پین) اس کو واپس لے لیجے تو آپ اللہ صلی اللہ علیہ نے فرما یا وہ کیون تو اس نے کہما میں آپ اللہ صلی اللہ علیہ کو ایسا ایافرما تے ہو گے سنا ہول آپ اللہ صلی اللہ علیہ نے فرما یا میں وہی بات پھر کہتا ہو گے، جس کو
..... وہ اپنے مال میں اضافے کے بقدر لوازمات کا اضافہ کرتا ہے تو تقاضی اس کو قبول کرے گا، یہ سب اس وقت ہے جب کہ دعوت دینے والے کا کوئی مقدود نہ ہو اور اگر دعوت دینے والے کا کوئی مقدود ہے تو دعوت قبول نہ کرے اگر چیہ ان دونوں کے درمیان رشتہ داری ہو یا منصب تقاضا پر فائز ہو نے سے پہلے سے خوشگوار تعلقات ہو گے۔ (محیط میں ایسے ہے)۔ اب رہی عام دعوت اگر وہ بدعت ہو جسے بلطو ر تقاخر دعوت کرنا یا اس جسے کوئی دعوت، تو تقاضی کے لیے اس میں حاضر ہونا جائز نہیں ہے کیونکہ جب غیر تقاضی کے لیے جسی ایسی دعوت قبول کرنا جائز نہیں ہے تو تقاضی کے لیے بڑج او لی جائز نہیں۔ اور اگر دعوت سفت ہو جسے شادی کا ویہم اور خطبت کی دعوت ہے تو اس کو قبول کرے کیونکہ اس کا قبول کرنا سنت ہے اور اس میں کوئی تہمت نہیں ہے۔ "بدائع" میں اس طرح ہے۔
صاحب کفاہی نے کہا ہے صاحب بدایی نے دعوت خاص کے بارے میں کوئی فرق نہیں کیا ہے کرداری اجنبی ہو یا اس کا قریبی رشتہ دار اور تحقی فصل میں انہول نے پیکھا ہے کر وہ اپنے قریبی رشتہ دار کے سوا کسی کی دعوت قبول نہ کرے۔ ایسی صورت میں ان دومسلون میں تاویل ضروری ہے۔ فقہاء نے کہا ہے ضیافت کے بارے میں انہول نے جو کہا ہے اس کو مول کریں گے لیکن اس صورت پر جب کروہ ایسی قریبی رشتہ دار ہو کر ان کے درمیان رشتہ داری کی بناء پراس سے پہلے کوئی دعوت نہیں ہوئی نہ کوئی بدعت نے تحقیق دے نے گے ہو گے بلکہ یہ دعوت منصب تقاضا پر فائز ہو نے کے بعد کوئی تحقیق پیش کرے تو قبول کر نے میں کوئی حریج نہیں ہے۔ صورت ہے تو رشتہ دار اور اجنبی دونوں بر ابر میں اور بدایی میں جو ذکر کیا گیا ہے کر قریبی رشتہ دار کی دعوت کو قبول کرے تو اس کو مول کریں گے اس صورت پر جب منصب تقاضے پر فائز ہو نے سے پہلے رشتہ دار کی بناء پر تحقیق کا فرے جاتے رہے ہو لے تو ایسی صورت میں اگر منصب تقاضے پر فائز ہو نے کے بعد کوئی تحقیق پیش کرے تو قبول کر نے میں کوئی حریج نہیں ہے۔ رشخ الا اسلام رحمۃ اللہ علیہ جو خواہر زادہ میں شہور میں انہول نے ایسے کی ذکر کیا ہے۔ اور شخ لا سلام کی میں سوط میں یہ "گمریکہ دعوت دینے والے کا اگر کوئی مقدود ہے تو تقاضی کو چاہے کر اس کی دعوت قبول نہ کرے اگر چر کر اس کی دعوت عام ہو۔"
بھی کسی کام پر مقرر کریں تو وہ اس کا حوزہ اور بہت سب لے کر آئے پس اس میں سے اس کو (تکواہیا
معاوضہ کے طور پر) جو پڑھ دیا جائے تو اس کو لے لے اور جس سے اس کو رک دیا جائے اس کے
رک جائے۔ (مسلم، البوداوداورالفاظ، البوداود کے ہیں)
Adi ibn Umairah narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: “O people, whoever we appoint to a task among you and conceals from us even a needle or more, it is misappropriation, and he will come with it on the Day of Resurrection.” A man from the Ansar stood and said: “O Messenger of Allah, take back your task from me.” He said: “Why is that?” He said: “I heard you say such and such.” He said: “And I say that: Whoever we appoint to a task, let him bring its little and much. What he is given, he takes; what he is forbidden, he avoids.” [Narrated by Muslim and Abu Dawud, with the wording of the latter]
If he increases his wealth by the amount of necessities, then the claimant will accept it. This is all when there is no ulterior motive for the one giving the invitation. If there is an ulterior motive for the one giving the invitation, then the invitation should not be accepted, even if there is a relationship between them or if they have had pleasant relations before the claimant's request. (This is how it is in the Muheet). Now, regarding a general invitation, if it is an innovation, such as inviting someone to a gathering where there is competition or inviting someone who has not been invited, then it is not permissible for the claimant to attend because if accepting an invitation for a non-claimant is not permissible, then it is certainly not permissible for a claimant. And if the invitation is for a wedding feast or a sermon, then it should be accepted because accepting it is a Sunnah and there is no blame in it. This is how it is in the Badai. Al-Kifayah states that Al-Badai did not differentiate in the case of a specific invitation whether the invitee is a relative or a stranger, and in the Fiqh of the subject, it is considered that one should not accept an invitation from anyone other than their close relative. In such a situation, interpretation is necessary. The scholars have said that regarding the feast, what has been stated will be followed, but in a situation where the invitee is a close relative and there was no prior invitation or innovation, then there would be no objection. However, if an investigation is conducted after the claimant has been granted a position, there is no harm in accepting the invitation. This applies to both relatives and strangers, and in the Badai, it is mentioned that if a close relative’s invitation is accepted, it will be followed, provided that the investigation was ongoing based on the relationship before the claimant was granted the position. If the investigation was ongoing based on the relationship before the claimant was granted the position, then there is no harm in accepting the invitation after the position has been granted. Al-Razi Al-Islam (May Allah have mercy on him) mentioned this in the Khawarizmi. And in the Shams Al-Salam, it is mentioned: 'If the one giving the invitation has an ulterior motive, then the claimant should not accept the invitation, even if it is a general one.' If someone is appointed to a task, they should bring the necessary items and take them, and if they are given something as compensation, they should take it, and if they are stopped from taking something, they should stop. (Muslim, Al-Bukhari, and the words of Al-Bukhari are mentioned).
3قولہ: عن عدي بن عميرة ..... الخ : اس حدیث شریف کی روشنی میں امام البوداود نے اپنی سنن میں عالمین (وصولی زکوہ کے لیے حاکم کی طرف سے مقررہ افراد) کو تحقیق دے جانے کا مسئلہ مستنبط کیا ہے۔ اس مسئلہ پر تم نے ابھی تفصیل پیش کی ہے۔
مستورد بن شد ارضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ
وسلم کو فرما تے ہوئے سنا ہوں جو آدمی ہماری طرف سے عالم 4 (گورنرو غیرہ) ہوتا وہ ایک پیوی
قوله: من كان لنا عاملا فليكتسب زوجة (جوآدمی ہماری طرف سے عالم (گورنرو غیرہ) ہو)
صاحب ہرامی نے کہا ہے کہ اگر قاضی تقدست ہوتا اس کے لے افضل بلد واجب ہے کہ وہ بقدر ضرورت کے لے اور اگروہ
والدار ہے تو بہتر ہے کہ بیت المال کے مفاد کے پیش نظر بیت المال سے وہ اپنارزق لینے کے رک جائے۔ اور یہی کہا
گیا ہے کہ منصب قضاء کو بے وقاری سے پچانے اور اس کے بعد ضرورت مندول میں سے کوئی منصب قضاء پر فائز
ہوسکے کے پیش نظر اس کو لینازیادہ درست ہے اور وہ اپنی اور اپنے بال پچون کے لے بقدر کفايت لے۔ (عمدۃ القاری)
عالمگیری میں ہے کہ قاضی اگر تقدست اور محترم ہوتا بیت المال سے اس کو اپنی روزی حاصل کرنا بہتر ہے بلکہ اس پر
فرض ہے۔ اور اگروہ تو گر ہوتا اس کے بارے میں گفتگو کی گئی۔ اور بہتر یہ ہے کہ وہ بیت المال سے نہیں۔ (فتاوی قاضی خان)
اور وہ صرف اپنے اس علاقہ کے بیت المال سے لے گا جس میں وہ کام کرتا ہے۔ کیونکہ وہ اس علاقہ کے لوگوں
کے لے کام کر بائے تو اس کا روزی ادا کی علاقہ کے بیت المال میں ہوگا۔ (عمدہی)
جس طرح قاضی کو اپنے لے بقدر کفايت بیت المال سے لینا جائز ہے اس طرح سے اپنے بال پچون کے لے
اور اپنے خاندان اور خادمین کے لے جواس کے زیر پروش ہیں بیت المال سے بقدر کفايت لینا جائز ہے۔ اور امام محمد
رحمۃ اللہ تعالیٰ سے قاضی کے لے تعطیل کے دون کا روزی لینے سے متعلق کوئی چیز منقول نہیں ہے۔
فقہاء متاخرین کا اس بارے میں اختلاف ہے اور درست بات یہ ہے کہ وہ اس دون کا روزی لینے لے سکتا ہے۔ تا تارخانی میں ایسا ہے۔
قاضی جب بیت المال سے کوئی چیز لیتا ہے تو اجرت پر کام کرنے والانیس سمجھا جائے گا بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی کے
لے کام کرنے والا ہوگا۔ اور اپناحق اللہ تعالیٰ کے مال میں سے پورا پورا حاصل کرنے گا۔ اور اس طرح فقہاء، علماء اور معلمین
حضرات میں جو قرآن مجید کی تعلیم دیتے ہیں۔ روایت ہے کہ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب خلیفہ ہوئے تو بیت
المال میں سے روزی لیا کرتے تھے اور اس طرح سیدنا عمر اور سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہیں۔ البنت سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ
عنہ صاحب ثروت اور خوش حال تھا اپنی نیت رکھتے تھے اور پچھن لیتے تھے کتاب الخلاص میں ایسا ہے۔
امام کے لے مناسب یہ کہ اس پر اراس کے بال پچون پر روزی لینے کو سمجھ کیا جائے تاکہ لوگوں کے مال میں اس کی طمع نہ ہو۔ اور
روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب عتاب بن اسید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مکہ کے مردو انفر میا اور وبال کے معاملات کا ان کو امیر بنا
دیا تو ان کے لے پرسال چار سودر تم روزی مقرر فرمادیا۔ اور روایت ہے کہ صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لے سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ علیہ کے لے
اس کے بقدر بیت المال سے اجرت مقرر کی۔ سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لے بیت المال کی جانب سے روزانہ ایک پیالہ شریکا تھا۔ اور
یہی روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لے ماہانہ پانچ سودر تم مقرر کے گئے تھے۔
اختیار کر لے پس اگر کوئی ملازم نہ ہوتا ایک غلام بنا لے پس پر اگراس کیلے گھر نہ ہوتا ایک گھربنا لے۔
Mustawrid ibn Shaddad (may Allah be pleased with him) narrated: I heard the Prophet (ﷺ) say: “Whoever is an official for us, let him acquire a wife; if he has no servant, let him acquire a servant; if he has no dwelling, let him acquire a dwelling.” In another narration: “Whoever takes beyond that is a misappropriator.” [Narrated by Abu Dawud]
Aishah (may Allah be pleased with her) narrated: When Abu Bakr al-Siddiq was appointed Caliph, he said: “My people know my trade sufficed for my family’s needs, but I am occupied with the Muslims’ affairs. So, Abu Bakr’s family will eat from this wealth, and he will work for the Muslims in it.” [Narrated by Bukhari]
Al-Harami has stated that if a judge is dignified, it is preferable and obligatory for him to take his sustenance according to his needs. If he is wealthy, it is better for him to refrain from taking from the public treasury (Bait al-Mal) in view of its sanctity. It has been said that to avoid demeaning the office of the judiciary and to ensure that someone in need does not assume the position, it is more correct for him to take what is sufficient for himself and his dependents. (‘Umdah al-Qari)
In Al-Alamgiri, it is mentioned that if a judge is dignified and respected, it is better and even obligatory for him to take his daily sustenance from the public treasury. If he is poor, discussions have been held regarding this. It is better for him not to take from the public treasury. (Fatawa Qadi Khan)
He will only take from the public treasury of the area where he works, because he serves the people of that area, and his sustenance should be provided by the public treasury of that area. (‘Umdah)
Just as it is permissible for a judge to take what is sufficient for himself from the public treasury, it is also permissible for him to take what is sufficient for his dependents, family, and servants who are under his care. There is no transmitted report from Imam Muhammad (may Allah have mercy on him) regarding the judge taking his and his dependents' sustenance. The later jurists have differed on this matter, and the correct view is that he can take their sustenance. This is stated in Ta'tar Khani.
When a judge takes anything from the public treasury, he should be considered as working for a wage, but he is actually working for Allah Almighty and will fully receive his due from Allah's wealth. Similarly, scholars, teachers, and those who teach the Quran are entitled to take their sustenance from the public treasury. It is narrated that when Abu Bakr al-Siddiq (RA) became the caliph, he used to take his sustenance from the public treasury, and similarly, Umar and Ali (RA) did so. However, Uthman (RA) was wealthy and self-sufficient, so he refrained from taking from the public treasury, as mentioned in Kitab al-Khulas.
It is appropriate for the judge to understand that he should take his and his dependents' sustenance to avoid any greed for the people's wealth. It is narrated that when the Prophet (peace be upon him) appointed Utbah ibn Asid (RA) as the governor of Makkah and the judge for its affairs, he assigned him a yearly stipend of four thousand dirhams. It is also narrated that for Utbah ibn Asid (RA), Abu Bakr al-Siddiq (RA) assigned a stipend from the public treasury according to his needs. Ali (RA) received a daily share of a bowl of dates from the public treasury, and it is narrated that he was assigned a monthly stipend of five thousand dirhams.
If there is no servant, he should acquire one, and if he does not have a house, he should acquire one.
اور ایک روایت میں ہے جو آدی اس کے سوا اختیار کرے گا تو وہ دھوکے باز
ہے - (ابوداود)
And in a narration: If one acts on anything other than this, then he is a deceiver - (Abu Dawud)
سیرتا عاشر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب ابو بکر خلیفہ ہوئے تو انہوں نے کہا میری قوم اچھی طرح جانتی ہے کہ میرا پیشہ میرے گھر والون کے اخراجات کیلے ناکافی نہیں تھا اور اب میں مسلمانوں کے کام میں مشغول ہوگیا ہوں پس ابو بکر کے خاندان والے اس مال میں سے (جو بیت المال میں ہے) کہا تمیں گے اور وہ اس کے بعد مسلمانوں کے امور کو انجام دے گا - (بخاری)
when Abu Bakr became the caliph, he said: 'My people know well that my profession was not sufficient to support my family, and now I have become occupied with the affairs of the Muslims. Therefore, let the family of Abu Bakr take from this wealth (which is in the public treasury), and he will continue to manage the affairs of the Muslims.' - (Bukhari)
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مجھے عالم بنایا گیا پس آپ علیہ السلام نے مجھے روز پینے عطا فرمایا - (ابوداود)
in the time of the Messenger of Allah ﷺ, I was made a scholar, and then he ﷺ granted me the ability to drink every day.
حضرت عمر و بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے پاس قاصد کو روانہ فرمایا کہ تم اپنے تحقیار اور اپنے کپڑوں کو جمع کر کے میرے پاس آ جاؤ - وہ کہتے ہیں کہ میں آپ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ وضو فرما رہے تھے آپ نے فرمایا اے عمر و میں نے تم کواس لے بلا بجھا تا کہ تم کو کسی کام پر روانہ کرول - اللہ تعالیٰ تحمیس سلامت رکھ اور مال غنیمت عطا کرے - اور میں تم کو پچھمال دینا چاہتا ہوں تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ علیہ وسلم میری بجرت مال کے لیے نہیں تھی وہ تو صرف اللہ دا وراس کے رسول کے لیے ہے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ اچھی چیز ہے - اچھا مال اچھا آدمی کے لیے - یہ روایت ثریح السنن میں ہے -
Amr ibn al-As narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) sent for me, saying: “Gather your weapons and clothes, then come to me.” I came while he was performing ablution. He said: “O Amr, I am sending you on a mission, that Allah may grant you safety and spoils. I hope for you a good share of wealth.” I said: “O Messenger of Allah, my migration was not for wealth, but for Allah and His Messenger.” He said: “How excellent is righteous wealth for a righteous man.” [Narrated in Sharh al-Sunnah]
Ahmad narrated similarly, and in his narration: “How excellent is righteous wealth for a righteous man.”
امام احمد نے کہی ایسی کی روایت کی ہے اور ان کی روایت میں الفاظ یہ ہیں "نعَم المال الصالح للرجل الصالح" اچھا مال اچھا آدمی کے لیے کتنا اچھا ہے -
Amr ibn al-As narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) sent for me, saying: “Gather your weapons and clothes, then come to me.” I came while he was performing ablution. He said: “O Amr, I am sending you on a mission, that Allah may grant you safety and spoils. I hope for you a good share of wealth.” I said: “O Messenger of Allah, my migration was not for wealth, but for Allah and His Messenger.” He said: “How excellent is righteous wealth for a righteous man.” [Narrated in Sharh al-Sunnah]
Ahmad narrated similarly, and in his narration: “How excellent is righteous wealth for a righteous man.”
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر لعن فرمائی ہے 5 (ابوداود، ابن ماجہ،
ترمذی)۔
Abdullah ibn Amr (may Allah be pleased with them both) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) cursed the briber and the bribed. [Narrated by Abu Dawud and Ibn Majah]
Tirmidhi narrated it from him and Abu Hurairah. Ahmad and Bayhaqi in Shu‘ab al-Iman narrated it from Thawban, adding: “And the intermediary,” meaning the one who facilitates between them.
نیز ترمذی نے اس حدیث کو سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ علیہ سے
اور امام احمد اور امام نہیں نے شعب الایمان میں حضرت ثوبان رضی اللہ علیہ سے روایت کی ہے اور جوان دونوں کے درمیان (رشوت لینے دینے والے کے درمیان) معاہدے کرتا ہے، کا (روایت میں) اضافہ کیا ہے۔
.....ہے کہ پیغام اس وقت درست ہے جب کوئی دارگی ایسے کام پراس کو اجرت پر لے جس میں اجرت پر لینا درست ہے (مجیط میں ای طرح ہے) مثلًا پیغام کا پیپانا وغیرہ اور آگردت کوپیان نہ کرے تو پیجا نہیں لیس ہے۔ (خلاصہ میں ای طرح ہے)
اب رہائی کر اس حیلے کے بغیر مجھی دینا جانے ہے یا نہیں؟ اس میں علماء نے گفتگو کی ہے۔ چنانچہ بعض کے قول میں ناجائز ہے اور بعض کے قول میں جائز ہے اور کچھ بات زیادہ درست ہے۔ یہ گفتگو اس وقت ہے جب کوہ اس پن معاہدہ کیسوٹی سے پہلے مال دے۔ اب رہا آگروہ اس کو پن معاہدہ کی کیسوٹی کرنے اور اس کو صاحب اقتدار کے ظلم سے نجات دلانے کے بعد تو اس کا دینا اور اس کا لینا دونوں جائز ہیں۔ اور کچھ ترین قول ہے۔ "مجیط میں" میں ایسا ہے۔
ہے۔ فتاوی تاضی خان میں مجھی اس کی تائیمو جود ہے۔
اس کی دوسری صورت یہ ہے کہ وہ ایسی کوئی شرط و ضاحت کے ساتھ تو نہ گا کہ لیکن اس کے پاس یہ حق ہے کہ اس لے کر کہ وہ صاحب اقتدار کے پاس (معاہدہ میں) اس کی مدد کرے۔ اور اس صورت میں علماء کرام رحمہم اللہ کا اختلاف ہے اور اکثر علماء کے پاس یہ کہ وہ نہیں ہے کراہت اور عدم کراہت کا پر اختلاف اس وقت ہے جب کے اس سے پہلے کسی کچھی وجہ سے دونوں کے درمیان تقریبا کوئی عمل نہیں تھا۔ اور آگر اس سے پہلے سے دوستی یا رشتہ داری کی بناء پر ہی دینے کا عمل تھا اور سابقہ کی طرح پراس کو پہلے دیا ہے پھر جس کو بدی دیا گیا وہ اس کے معاملہ کو تحقیق کرتا ہے تو یا مر مستحسن ہے کیونکہ احسان کا بدلہ احسان اور کرم ہے۔
ایک اور تمہیں یہ کہ صاحب اقتدار کو بدی پیش کرنے والا اس غرض سے دیتا ہے کہ وہ اس کو منصب قضاء پر یا کسی بھی دوسرے کام پر مقرر کرے ایسی صورت میں لینے والے کو لینا اور دینے والے کے لئے دینا دونوں ناجائز ہیں۔ (مجیط)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
It is narrated from Thawban (RA) that he said: 'The message is correct when someone performs a task for a fee, in which taking a fee is permissible, such as delivering a message, etc., but if he does not deliver it, then he should not take the fee. In summary, it is like this.' Now, whether to give without resorting to this stratagem is a matter of scholarly debate. Some say it is impermissible, while others say it is permissible, and some consider one view more correct. This discussion applies when the payment is given before the agreement. If the person fulfills the agreement and delivers the person from the oppressor's tyranny, then both giving and taking are permissible. There is another opinion on this matter. In the 'Majit,' it is stated that there is a legal obligation to fulfill this. Another version is that he may not do so with any conditions or stipulations, but he has the right to take it if he helps the oppressor in the agreement. In this case, there is a difference of opinion among the noble scholars (may Allah have mercy on them), and most scholars hold that it is not reprehensible, and the difference of opinion regarding its reprehensibility or lack thereof arises when there was no prior relationship or interaction between them. If, however, there was a prior friendship or kinship that led to the act of giving, and if the previous act was done in the same manner, then giving beforehand is commendable because repaying kindness with kindness and generosity is praiseworthy. Another scenario is when the person gives to the authority figure to secure a position in the judiciary or any other role; in such a case, both giving and taking are impermissible. In the name of Allah, the Most Merciful, the Bestower of Mercy.