Nūr al-Maṣābīḥ
باب المحرمات

Prohibited Women
Volume 6 · Marriage
About this text. The Urdu here was machine-read (OCR) from the printed volumes and has not yet been proofread: it contains misread words, some of which change the meaning. Please check the printed Nūr al-Maṣābīḥ before quoting it. English beside a hadith is the scholarly Zujājah translation of the matching hadith; English commentary and chapter introductions are unreviewed machine translation.

(اس باب میں ان عورتوں کا بیان سے جن کا نکاح مرد ول پر حرام ہے)

ف: - واقع ہو کہ شریعت میں عورت حسب ذیل اسباب کی وجہ سے مرد پر حرام ہوتی ہے:

(1) نسب: انسان پراس کے اصول لیئے وال، والی، دادی، اس طرح او پرتک، اور فرو ع لیئے بی،

پوئی، نواسی اس طرح یہی تک حرام ہے-

(2) سرال: پیوی کی وال، دادی، والی وغیرہ اور اس طرح پیوی کی بی، پوئی وغیرہ-

(3) رضاعت: کسی عورت کا دودھ پینے کی وجہ سے، جس طرح نسب کی وجہ سے حرم ت وا قع ہے

رضاعت کی وجہ سے بھی حرم ت وا قع ہوگی-

(4) تجمع بین المحارم: جیسے دو بہنیں، پھوپھواؤر تی اور خالا اور بجا نی کو وقت واحد میں عقد میں تجمع کرنے-

(5) حق الغیر: وہ عورت جو دوسرے شخص کے عقد میں ہو، وہ عورت جس کی عدت باقی ہوا اور حاملہ

عورت جب تک وضع حمل نہ ہو-

(6) عدم الدین: جیسے مشرک عورت، یہودی عورت - پیمرقات سے۔جو الامام ابن الہمام ماخوذہ-

Machine translation, unreviewed

In this chapter, we discuss those women who are forbidden for marriage to men according to the Shariah.

F: - In the Shariah, a woman becomes forbidden to a man for the following reasons:

(1) Lineage: The mother, maternal grandmother, paternal grandmother, and so forth up to the remotest ancestor, and on the side of offspring, the daughter, granddaughter, great-granddaughter, and so forth up to the remotest descendant are all forbidden.

(2) Marriage: The wife’s mother, maternal grandmother, paternal grandmother, and so forth, and on the side of offspring, the wife’s daughter, granddaughter, and so forth.

(3) Suckling: Due to suckling from the same woman, just as lineage causes prohibition, suckling also causes prohibition.

(4) Gathering among Mahram relatives: For example, two sisters, two paternal aunts, two maternal aunts, and two first cousins cannot be married at the same time.

(5) Rights of others: A woman who is already married to another person, a woman whose Iddah period has not yet ended, and a pregnant woman until she gives birth.

(6) Lack of faith: Such as a polytheist woman or a Jewish woman - as mentioned by Imam Ibn al-Humam.

وقول الله عز وجل ولا تنكحوا ما نكح اباوكم من النساء الا ما قد سلف انه كان فاحشه ومقتا وساء سبيلا حرمت عليكم امهاتكم وبنتكم واخواتكم وعماتكم وخالتكم وبنات الاخ وبنات الاخت وامهاتكم التي ارضعتكم واخواتكم من الرضاعه وامهات نسايكم وربايبكم التي في حجوركم من نسايكم التي دخلتم بهن فان لم تكونوا دخلتم بهن فلا جناح عليكم وحلا يل ابنايكم الذين من اصلابكم وان تجمعوا بين الاختين الا ما قد سلف ان الله كان غفورا رحيما والمحصنت من النساء الا ما ملكت ايمانكم كتب الله عليكم

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: (سورۃ نساء، پ:4/5، ع:4، آیت نمبر:22/24، جیسے) تم اپنے باپ داوا

کی متلكوہ سے نکاح نہ کروگر جوگزر اسوغذر اس پہت سے حیاتی اور غضب کا کام تھا اور پہت کی براروانج اور

(رستور) تھا (مسلمانو!) تم پر حرام ہیں تہماری ماکی، پیٹیاں، بہنیں، پھوپھیاں، خالا کی، بھچیاں اور

بجا نجیال (سگی ہول یا سوتیلی) اور تمہاری (رضاعی) ما کی جنہول نے تم کو دودھ پلا یا ہے اور دودھ شرکی ہوئی ہے تو اور اگر تم بستر نہ ہوئے ہول تو ان لڑکیوں سے نکاح کر نے میں کوئی حرج نہیں اور (حرام ہیں)، تمہاری پیوی کی وہ لڑکیال (مجھی حرام ہیں) جوتمہاری پروش میں ہول بشرطیہ تم ان پیویوں سے تم بستر ہوئی چلے گیوں کی پیوالی چھیں۔ جہواور پیکہ جہنول کو (نکاح میں) مجع کرین مگر جوگزرا سوگزر چکا، پیشک اللہ تعالیٰ بچچے والے مہربان ہیں۔ (اس طرح حرام ہیں) شوہردار عورتیں مگروہ عورتیں (جوکافرون سے لڑائی میں قید ہوکر) تمہارے قبض میں آئی ہول۔ پر اللہ کا تحریک حکم ہے۔ اس آیت شریف میں ارشاد ہے۔ وَلَا تَنكِحُوا مَا نَكَحَ اَبَآؤُکُمْ،، لیعن اپنے باپ دادا کی منکوحہ سے نکاح نہ کرو۔ تفسیرات احمدی میں تفسیر مدارک کے حوالے کے حساب کے نکاح سے مراد وہی ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ باپ کی موتوئے لیعن جس اس نے صحبت کی ہے خواہ نکاح کر کے پابطریق زنا یا وہ باندی ہو، ان میں سے هرصورت میں بھی کاسے نکاح حرام ہے۔ (2) اس آیت شریف میں پیچھی ارشاد ہے وَأَمَّهُتُکُمُ الَّتِی أَرْضَعْتُکُمْ وَأَخَوَاتُکُمْ مِنَ الرَّضَاعَۃِ،، لیعن تمہاری رضاعی ما کی جنہول نے تم کو دودھ پلا یا ہواو تمہاری رضاعی بہنیں مجھی (تم پر حرام ہیں) و اضح ہوکہ دودھ کا رشتہ شیر خواری کی مدت میں تحویظ اودود پیا جانے یازیادہ اس کے ساتھ حرمت متعلق ہوتی ہے۔ شیر خواری کی مدت حضرت امام اعظم کے نزدیک تین ماہ ہے اور صحابیین کے نزدیک دوسال ہے، شیر خواری کی مدت کے بعد جودود پیا جانے اس سے حرمت متعلق نہیں ہوتی۔ البتہ اللہ تعالیٰ نے رضاعت (شیر خواری) کو نسب کے قائم مقام کیا ہے اور دود دود پلانے والی کو شیر خواری مال اوراس کی لڑکی کو شیر خواری مہن فرما یا طرح دود دود پلانے والی کا شوہر شیر خوار کا باپ اوراس کا باپ شیر خوار کا دادا اوراس کی مہن اس کی پچوپچی اوراس کا بھرپچی جودود پلانے والی کے سوائے اور کسی عورت سے مجھی ہو خواہ قبل شیر خواری کے پیا ہو یا س کے بعد پیس اس کے سو تیلے بحالی مہن یہ اور دود پلانے والی کی مال شیر خواری نالی اوراس کی مہن اس کی خالا اوراس شوہر سے اس کے جون پچ پیا ہول وہ شیر خوار کے رضاعی بحالی مہن اوراس شوہر کے علاوہ دومسرے شوہر سے جوہول وہ اس کے سو تیلے بحالی مہن پی۔ اس میں اصل یحدیث سے کر رضاعت سے وہ رشتہ حرام ہو جاتے ہیں جون سے حرام ہیں اس لے شیر خوار پراس کے رضاعی مال باپ اوران کے نسبی اور رضاعی اصول و فروع سب حرام ہیں۔

(ماخوذ از: حاشیہ تفسیر مولا نعیم الدین مرادآبادی) -

(3) صدر کی آیت شریف میں یہی ارشاد ہے: "وَانْ تَجْمَعُوا بَینَ الْخَطَیْنِ" لیکن دو جہنول کونکار میں

جمع کرنا ہی حرام ہے۔ اس بارے میں تفسیرات احمدی میں بہ تفصیل ذکور ہے کہ حدیث شریف پھوپھی، پھی، خالہ

جوہی کا نکاح میں جمع کرنا ہی حرام فرما یاگیا اور ضابطہ یہ ہے کہ زناح میں ہر دوالی عورتوں کا جمع کرنا حرام ہے جن میں

سے ہر ایک کومر درفض کرنے سے دوسری اس کے لئے حلال نہ ہوجیے پھوپھی پھی کا اگر پھوپھی مر درفض کیا جائے تو پھیا

جوہا اور پھی اس پر حرام ہے اور اگر پھی کومر درفض کیا جائے تو پھیجا ہوا پھوپھی اس پر حرام ہے۔ حرمت دونوں طرف ہے

اور اگر ایک طرف سے ہوتا جمع حرام نہ ہوگی۔ جیسے کہ عورت اور اس کے شوہر کی اڑکی جود وسری ہوئی سے ہوان دونوں کو

جمع کرنا حلال ہے کیونکہ شوہر کی اڑکی کومر درفض کیا جائے تو اس کے لئے باپ کی پیوی حرام رہتی ہے مگر دوسری طرف

سے یہ بات نہیں ہے لیکن شوہر کی پیوی کو اگر مر درفض کیا جائے تو پیا جوہی ہوگا اور ان میں کوئی رشتہ نہ ہو گا۔

(حاشیہ تفسیر مولا نعیم الدین مرادآبادی12)

(4) صدر کی آیت شریف میں یہی ارشاد ہے۔ اَلاَّ مَا مَلَکْتُمْ اَیْمَانُکُمْ۔ اس کی تفسیر حدیث طاووس

میں جواب سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مردی ہے اور جوآگے آرہی ہے اس میں بیان ہوگی۔

وقولہ تعالیٰ : "وَالْوَلَدُثْ يُرْضَعُنَ أَوْ لَا دُهْنَ حَوْلَیْنِ گامِلیْنِ لِمْنَ آرَادَ آنْ یُتَّمَ

الرَّضَاعَةَ" اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: (سورۃ بقرہ، پ:2، ع:30، آیت نمبر:233، میں) اور جوخص (اپنی

پیوی کو طلاق دے اس حالت میں کہ پی شیر خوار ہو) پوری مدت تک (اس پر کو) دودوہ پلوانا چاہے (اس کی

خاطر) ما میں اپنے پچون کو (پورے) دو برس دودوہ پلا کیلے۔

ف: واضح ہو کہ طلاق کے بعد پیوال طبعاً ساتھ آتا ہے کہ اگر طلاق والی عورت کی گود میں شیر خوار پیہ

ہوتا اس جدائی کے بعد اس کی پروش کا کیا طریقہ ہوگا اس کے لئے حسب ذیل احکام ہیں:

مال خواہ مطلقہ ہو یا نہ ہواس پر اپنے یہ کو دودوہ پلا نا واجب ہے بشرط کہ باب کو اجرت پر دودوہ پلا لے کی

قدرت اور استطاعت نہ ہو یا کوئی دودوہ پلا نے والی میسر نہ آئے یا جہاں کے سوا اور کسی کا دودوہ قبول نہ کرے۔

اگر پیذکورہ با تین نہ ہول لیکن پچکی پروش خاص مال کے دودوہ پر موافق نہ ہوتا مال پر دودوہ پلا نا واجب نہیں

مستحب ہے۔

ف: واضح ہو کہ شیر خواری کی مدت کے تعین میں امام اعظم اور صاحبین و امام شافعی کے درمیان اختلاف ہے۔

امام عظیم رحمۃ اللہ علیہ کے پاس مدّت رضا عت و حا لی برس اور صحیبین اور امام شافعی (رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِمْ) کے پاس صرف دو برس ہے اور امام زفر رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ کے پاس تین برس ہے، امام عظیم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ کی اس کے بارے میں دیلی سورۃ احتفاف کی بیان یہ ہے: "وَحَمْلُهَا وَفِصَالُهَا ثَلُثُونَ شَهْرًا" (سورۃ احقاف، پ:26، ع:2، آیت نمبر:15)

یعنی پھر کو پیٹ میں لے پھرنا اور اس کا ودوہ پھر انا تمیس مہینہ (میں پورا ہوتا ہے) اور صحیبین اور امام شافعی کی دیلی اس آیت کے ساتھ ساتھ بیان یہ ہے: "وَالْوَلَدُ يُرْضِعُنَّ أَوْ لَدْهُنَّ حَوْلَيْنِ گَامِلَيْنِ" اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: (سورۃ بقرہ، پ:2، ع:30، آیت نمبر:233، میں)۔ یعنی ما کیا پھر پھول کو پورے دو سال ودوہ پلا کیس طرح تیج قول صحیبین کا ہے اور امام طحاوی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ کے جیسی اس کو اختیار کیا ہے۔ اور امام بیضاوی نے جیسی یکھا ہے۔ اس طرح صحیبین کے پاس اکثر مدّت رضا عت و سال ہے اس لے دو سال کے بعد اگر ودوہ پلا یا جا گئے تو اس کا اعتبار نہ ہوگا البتہ دو سال سے پہلے چائے تو ودوہ پھر ایا جا سکتا ہے۔ (تفصیلات احمد ریا وریش محمد سے مخوذ ہے)

وَقَوْلُہُ تَعَالَی : "وَحَمْلُهَا وَفِصَالُهَا ثَلُثُونَ شَهْرًا" اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: (سورۃ احقاف، پ:26، ع:2، آیت نمبر:15، میں) اس کا (یعنی پھر کا) پیٹ میں لے پھرنا اور اس کا ودوہ پھر انا تمیس مہینہ (میں پورا ہوتا) ہے۔

وَقَوْلُہُ تَعَالَی : "فَانْعَلِمُتُمُوْنَ مُؤْمِنِتَ فَلاَ تُجْعَلُوْنَ إِلَى الْكَفَرِ، لاَ هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَلاَ هُمْ يَحِلُّوْنَ لَهُنَّ"۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (سورۃ ممتہ، پ:28، ع:2، آیت نمبر:10، میں) پھر اگر (جا پیچ لینے کے بعد) تخمینہ مسلمان عورتیں معلوم ہوں تو انہیں کافرون کی طرف واپس جانے نہ دو (اس لے کر) یہ تو ان کافرون کے لے حلال ہیں اور نہوہ (کافر) ان (مسلمان عورتوں) کے لے حلال ہیں۔

وہ عورتیں جن سے نکاح حرام ہے

Machine translation, unreviewed

The guidance of Allah Ta’ala is: (Surah Nisa, Vol. 4/5, Pg. 4, Verse Number: 22/24, for example) Do not marry women whom your fathers have married; it was a matter of lust and anger in the past, and the prohibition and abhorrence were in that. (O Muslims!) It is forbidden for you to marry your mothers, daughters, sisters, paternal aunts, maternal aunts, and nieces.

If a woman (whether a wet nurse or a foster mother) has breastfed you and the milk has been shared, then there is no harm in marrying those girls if you have not been in a conjugal relationship with them. (It is forbidden to marry) the daughters of your own wife, provided that you have had conjugal relations with her. And (it is also forbidden to marry) the women who are already married, except those who have come under your possession as captives in war. But Allah's command is a decree determined. This noble verse instructs: 'And do not marry those [women] whom your fathers have married,' meaning do not marry the women whom your father or grandfather has married. According to Tafsir-e-Ahmedi, based on Tafsir-e-Madarik, the term 'marriage' here refers to sexual intercourse, which implies that it is forbidden to marry any woman with whom your father has had sexual relations, whether through marriage or adultery, or if she was his slave. (2) The latter part of this noble verse instructs: 'And your mothers who have suckled you and your sisters through suckling,' meaning the women who have breastfed you and your foster sisters are forbidden to you. It is clear that the relationship through breastfeeding is established during the period of nursing and the act of drinking milk, and this relationship is considered sacred. The period of nursing, according to Imam-e-Azam, is three months, and according to the Companions, it is two years. After the period of nursing, drinking milk does not establish a forbidden relationship. However, Allah has made breastfeeding equivalent to kinship, and the one who breastfeeds is considered the nursing mother, and her daughter is considered the nursing sister. Thus, the husband of the nursing mother is considered the father of the nursed child, and his father is considered the grandfather of the nursed child, and his sister is considered the half-sister of the nursed child. Any other woman who has breastfed the child, other than the nursing mother, is forbidden to the nursed child, whether before or after the period of nursing, and this prohibition extends to all generations. The nursing mother's sister is considered the aunt of the nursed child, and the children of the nursing mother's husband from another wife are considered the foster cousins of the nursed child. In essence, the relationships established through breastfeeding are forbidden, just as those established through blood relations are forbidden. Therefore, the foster mother, the foster father, and all their descendants and ancestors, both through blood and through breastfeeding, are forbidden to the nursed child.

(Excerpted from: Commentary by Mulla Na'eem al-Din Muradabadi) -

(3) The noble verse at the beginning conveys: 'And if you marry two sisters' but combining in the case of two streams is forbidden. This is detailed in Tafsir Ahmad, stating that it is forbidden to marry both a paternal aunt and a maternal aunt, and the rule is that it is forbidden to marry any two women whose marriage to one makes the other unlawful. If a paternal aunt is divorced, then marrying her sister is forbidden, and if the sister is divorced, then marrying the paternal aunt is forbidden. The prohibition applies in both directions, and if it does not apply in one direction, the combination would not be forbidden. For example, it is lawful to marry both a woman and her husband’s stepmother, because even if the husband’s stepmother is divorced, his mother remains forbidden to him, but there is no issue from the other side; however, if the husband’s mother is divorced, she becomes a stepmother, and there will be no relation between them.

(Commentary by Mulla Na'eem al-Din Muradabadi)

(4) The noble verse at the beginning conveys: 'Except those whom your right hands possess.' Its interpretation is found in the hadith of Taawus, where Sa'id Khudri (RA) narrates that it refers to those who are under one's control, and what follows pertains to fosterage.

And Allah Almighty says: 'And those children who are suckled for two complete years, for whosoever intends to complete the suckling period' (Surah Al-Baqarah, Chapter 2, Verse 233). And the guidance of Allah Almighty is: (If a man divorces his wife while she is nursing her child) he must support her for the full term (of two years) until (the child is weaned).

It is clear that after divorce, it naturally follows that if the divorced woman has a nursing child, the question arises as to how the child will be cared for after separation. For this, the following rules apply:

Whether the woman is divorced or not, it is obligatory for the father to provide for the child’s nursing for two years, provided that the father does not have the means to hire a wet nurse or cannot find one, or if no one else is willing to accept the responsibility outside of the mother.

If the child is not well-nourished, but the mother is unwilling to nurse the child for a fee, it is not obligatory for the father to provide for the nursing, but it is recommended.

It is clear that there is a difference of opinion between Imam Abu Hanifah, his companions, and Imam Shafi'i regarding the duration of breastfeeding.

According to Imam Azam (RA), the period of satisfaction and weaning is thirty months, and according to Sahiban and Imam Shafi (RA), it is two years, and according to Imam Zafar (RA), it is three years. Imam Azam (RA) explains the verse as follows: 'And her carrying and her weaning take thirty months' (Surah Ahqaf, Vol. 26, Part 2, Verse 15). This means that the period of pregnancy and weaning together is thirty months. The statement of Sahiban and Imam Shafi (RA) regarding this verse is: 'And the child shall be suckled by its mother for two full years' (Surah Al-Baqarah, Vol. 2, Part 30, Verse 233). This means that the child should be suckled for two complete years, as is the opinion of Sahiban, which Imam Tahawi (RA) also adopted. Imam Baydawi has also stated this. Thus, the majority of the period of satisfaction and weaning is two years. Therefore, after two years, if the child is weaned or stops nursing, it will not be considered valid. However, before two years, the child can still be weaned. (Details are derived from Ahmad Ria Veri Muhammad)

His statement, exalted be He: 'And her carrying and her weaning take thirty months' (Surah Ahqaf, Vol. 26, Part 2, Verse 15) means that the period of pregnancy and weaning together is thirty months.

His statement, exalted be He: 'So you will know the believing women, then do not send them back to the disbelievers; they are not lawful for them, nor are they lawful for the disbelieving women' (Surah Al-Mumtahina, Vol. 28, Part 2, Verse 10) means that if, after examination, it is determined that the women are Muslim, do not send them back to the disbelievers, for they are not lawful for the disbelievers, nor are the disbelievers lawful for them.

The women with whom marriage is forbidden.

4297

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرما تے ہیں کہ نسب کی وجہ سے سات (عورتوں) سے نکاح حرام کر دیا گیا اور مصادرت یعنی سرالی رشتے کی وجہ سے بھی سات (عورتوں) سے نکاح حرام کر دیا گیا پھر آپ نے (اپنے قول کی تا نی میں بیان یہ آخر تک)

پر حسی " حُرْمَتُ عَلَیْکُمْ أَمْهَتُکُمْ " ...... اخ _ (اس کی روایت بخاری نے کی ہے ) -

ف : واضح ہوگا نسب سے جوسات عورتیں حرام ہیں وہیں مال، بیٹی، بہن، چچی، خالہ، چچی اور بھائی اور

سرالی رشتہ کی وجہ سے جوسات عورتیں حرام ہیں وہیں سرالی رشتہ کی وجہ سے چار عورتیں ابدی حرام ہیں وہیں :

(1) ساس اور ساس کی مال، نانی، یادادی و غیرہ (2) بھوپی کی بھوپی پوتو کی بھپکے (3) علاقو مال اور

علاقو دادی اور پرتک (4) سوتی پیپیان جن کی ماول سے صحبت ہوچکی ہے -

اور تین ایسی عورتیں ہیں جو سرالی رشتہ کی وجہ سے موقت طور پر حرام ہیں، وہ ہیں : یہوی کی موجودگی میں

اس کی بہن، اس کی پچوپچی اور اس کی خالہ کا جمع کرنا -

صحبت سے قبل طلاق شدہ عورت کی بیٹی سے نکاح کیا جا سکتا ہے

البتہ ساس سے کسی صورت میں نکاح نہیں کیا جا سکتا

Ibn Abbas (may Allah be pleased with them) narrated: Seven are prohibited by kinship, and seven by affinity, then he recited: Prohibited to you are your mothers [An-Nisa: 23], the verse. Narrated by Bukhari.

4298

عمر و بن شعیب اپنے والد کے واسطے اپنے راوا (رضی اللہ عنہ) سے روایت

کر تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے کسی عورت سے نکاح

کیا ہوا اور اس سے تم بستری کی تو اس کے لئے اس عورت کی لڑکی سے نکاح کرنا حال نہیں اور اگر

اس عورت سے تم بستری نہیں کی (اور اس عورت کو طلاق دی ہو) تو اس عورت کی لڑکی سے نکاح

کیا جاسکتا ہے۔ اور جس شخص نے کسی عورت سے نکاح کیا تو اس کے لئے اس عورت کی مال سے

نکاح کرنا حال نہیں خواہ اس عورت سے تم بستری کی ہویا نہ کی ہو -

(اس کی روایت تزندی نے کی ہے )

پیوی کی موجودگی میں اس کی پچوپچی یا خالہ کو نکاح میں جمع نہ کرے

Amr ibn Shu‘ayb, from his father, from his grandfather, narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "If a man marries a woman and consummates with her, it is not lawful for him to marry her daughter. If he does not consummate with her, he may marry her daughter. If a man marries a woman, it is not lawful for him to marry her mother, whether he consummated with her or not." Narrated by Tirmidhi.

4299

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

نے ارشاد فرمایا کہ (نکاح میں) عورت اور اس کی پچوپچی کو (اور پرتک اور ایسی بھپکے) جمع نہ

کیا جائے اور (اس طرح) عورت اور اس کی خالہ کو (اور پرتک اور ایسی بھپکے) جمع نہ کیا جائے -

(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے لی ہے)

دوسری حدیث

Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "A woman and her paternal aunt or a woman and her maternal aunt are not combined." Agreed upon.

4300

منہ فرمایے کہ عیسوعورت کا نکاح اس کی پھوپھی پریا پھوپھی کا نکاح اس کی بہن پرکیا جائے یا کسی عورت کا نکاح اس کی خالہ پریا خالہ کا نکاح اس کی بہانی پرکیا جائے نہ پھوپھی کا نکاح برطی پراورنہ برطی کا نکاح پھوپھی پرکیا جائے۔(پھوپھی سے مراد بہانی بہنی اور برطی سے مرادخالہ اور پھوپھی ہے) اس کی روایت ترمذی، ابوداود، دارقی اورنسائی نے لی ہےاورنسائی کی روایت بنت اختها پختہ وجاتی ہے لیکن پھوپھی کا نکاح برطی پرتے آخرتک نسائی کی روایت میں نذرنہیں ہے)- جورشتنسبے حرام ہیں وہی رشتہ رضاعت سے بھی حرام ہیں

Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited marrying a woman over her paternal aunt, or the paternal aunt over her brother’s daughter, or a woman over her maternal aunt, or the maternal aunt over her sister’s daughter. The younger is not married over the elder, nor the elder over the younger. Narrated by Tirmidhi, Abu Dawud, Ad-Darimi, and An-Nasa’i, whose narration stops at "her sister’s daughter."

4301

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمايے کہ دودھ پینے سے وہ رشتے حرام ہوجاتے ہیں جو والدت لیکن نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں-

اس کی روایت بخاری اورمسلم نے مستقیم طور پر لی ہے-

دوسری حدیث

Aishah (may Allah be pleased with her) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "What is prohibited by nursing is prohibited by birth." Agreed upon.

4302

امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا آپ نے اپنے پیچا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے نکاح کرنے کو پسند فرما تے ہیں اس لئے کہ وہ قریش کی لڑکیوں میں نہایت خوبصورت اورنو جوان لڑکی ہیں (یعنی کر)آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمايا:

کیا تم نہیں جانتے کہ حضرت محزہ میرے رضا علیہ بھائی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رضاعت سے وسی

رشۃ حرام کے بین جونسب کی وجہ سے حرام ہیں -

اس کی روایت مسلم نے لکھے۔

دو دونوں ایک چسلی پپیا جاے یا دو چسلی رشتو کو حرام کرتا ہے

Ali (may Allah be pleased with him) narrated: He said: "O Messenger of Allah, do you desire your cousin Hamzah’s daughter, as she is the most beautiful girl in Quraysh?" He said to him: "Do you not know that Hamzah is my brother through nursing? Indeed, Allah has prohibited through nursing what He prohibited through kinship." Narrated by Muslim.

4303

_ قادہ رحمۃ اللہ فرما تے ہیں کہ تم نے حضرت ابراہیم بن زیدی

رحمۃ اللہ علیہ کولی کر دریافت کیا کر دودو پلا لی کے احکام کیا ہیں تو انہوں نے (جواب

میں ) کہا کہ قاضی شرتح نے تم سے یہ حدیث بیان کی بے کہ حضرت علی اور حضرت ابن مسعود

رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے کہ دودو کم پیا جاے یازیاده اس سے رشتہ (رضاعت قائم ہوتا

ہے اور نکاح ) حرام ہوجاتا ہے-

اس کی روایت نسا ئی نے لکھے۔

4304

_ اور امام ابوحنیفرحمۃ اللہ علیہ نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ

سے روایت کی ہے کہ بی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرما یا ہے کہ دودو پینے سے وہ

رشتو حرام ہوتے ہیں جونسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں خواہ دودو ہو تو اپیا جاے یازیادہ-

اور امام ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ نے آپ سے ایک روایت کی ہے-

4305

_ امام ابوبرازی رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے

روایت نقل کی ہے کہ ایک چسلی دودو کی یا دو چسلی سے رشتہ کا حرام نہ ہونا پیلے زمانے کا اقتداء اور

اب توصرف ایک چسلی بھی رشتہ کو حرام کردیتا ہے۔ اورتنذی نے کہا کہ بی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ

سلم کے چند اعلی علم صحابراوران کے علاوہ دگر حضرات نے فرما یا ہے کہ دودو ہو تو اپیا بہت جب

پیٹ میں ہو تو جاے تو رشتہ کو حرام کرتا ہے اور امام سفیان ثؤری، امام ماک بن انس، امام او زاعی

اور امام عبد اللہ بن المبارک اور امام ورچ اور دگر فقہاء ابل کوفہ ان سب حضرات کا بھی قول ہے کہ دودہ حوراپیا جائے کہ بہت رشتہ کو حرام کرتا ہے۔12 رضاعت کا اعتبار اندرون مدت دودہ پلانے پر ہے

Qatadah (may Allah be pleased with him) narrated: We wrote to Ibrahim ibn Yazid an-Nakha‘i asking about nursing, and he wrote that Shurayh informed us that Ali and Ibn Mas‘ud used to say: Little or much nursing prohibits (1). Narrated by An-Nasa’i. Imam Abu Hanifah narrated from Ali ibn Abi Talib that the Prophet (ﷺ) said: "What is prohibited by nursing is prohibited by kinship, little or much." So narrated Imam Abu Yusuf from him. Abu Bakr ar-Razi narrated from Ibn Abbas that he said: His saying: "One or two sucklings do not prohibit" was so, but today, one suckling prohibits. Tirmidhi said: Some scholars among the Prophet’s Companions and others said: Little or much nursing prohibits if it reaches the stomach, which is the opinion of Sufyan ath-Thawri, Malik ibn Anas, Al-Awza‘i, Abdullah ibn al-Mubarak, Waki‘, and the people of Kufa.

(1) The statement: "Little or much nursing prohibits": An-Nawawi said in "Sharh Muslim": Aishah, Ash-Shafi‘i, and his companions said it is not established with less than five sucklings. The majority of scholars said it is established with one suckling, as narrated by Ibn al-Mundhir from Ali, Ibn Mas‘ud, Ibn Umar, Ibn Abbas, Ata, Tawus, Ibn al-Musayyib, Al-Hasan, Makhul, Az-Zuhri, Qatadah, Al-Hakam, Hammad, Malik, Al-Awza‘i, Ath-Thawri, and Abu Hanifah. Know that our position is what these authentic narrations indicate and the verse: Your mothers who nursed you [An-Nisa: 23], that little or much nursing is equal in prohibition, as the concept of nursing is realized with the least suckling if it reaches the stomach. Adding to it by a single report, especially one that is neither a Hadith nor Qur’an, which is five sucklings based on Aishah’s narration, as chosen by Ash-Shafi‘i, is an addition to the Book, so it is not permissible. Our position is narrated from Ali ibn Abi Talib, Ibn Mas‘ud, Ibn Umar, Ibn Abbas, Al-Hasan al-Basri, Sa‘id ibn al-Musayyib, Tawus, Ata, Makhul, Az-Zuhri, Qatadah, Amr ibn Dinar, Al-Hakam, Hammad, Al-Awza‘i, Ath-Thawri, Waki‘, Abdullah ibn al-Mubarak, Al-Layth ibn Sa‘d, and Mujahid. Shaykh Abu Bakr ar-Razi added Umar ibn al-Khattab, Ash-Sha‘bi, and An-Nakha‘i. Ibn al-Mundhir said: It is the opinion of most jurists, as in "Al-Binayah" by Al-‘Ayni. Muhammad narrated in "Al-Muwatta" the narrations of Sa‘id ibn al-Musayyib, Urwah ibn az-Zubayr, and Ibn Abbas on prohibiting one suckling. The opponents’ arguments are answered by the Book being stronger, and that Abu Bakr ar-Razi narrated from Ibn Abbas that he said: His saying: "One or two sucklings do not prohibit" was so, but today, one suckling prohibits. Thus, Aishah’s Hadith: "One or two sucklings do not prohibit" is either abandoned due to the generality of the Book, which is Your mothers who nursed you [An-Nisa: 23], or abrogated. Aishah’s Hadiths are inconsistent, so we revert to the Book. The Hadith of one or two sips is not authentic due to its inconsistency. The Hadith of five sucklings from Aishah is weak, as it leads to the Rafidi position of abandoning much of the Qur’an by the Companions, and because an abrogated recitation requires evidence for the ruling’s continuation. It is surprising that the Shafi‘is do not act on Ibn Mas‘ud’s reading in the expiation fast, but act on Aishah’s narration, while the Qur’an is not established by a single report, and acting on an irregular reading is not permissible. Summarized from "Tansiq an-Nizam." In "Al-Kawkab ad-Durri": It was revealed initially Your mothers who nursed you [An-Nisa: 23] as ten known sucklings, then abrogated by five known sucklings. Then the Prophet (ﷺ) said: "One or two sucklings do not prohibit," then this was abrogated by the generality of Your mothers who nursed you [An-Nisa: 23]. But this second abrogation did not reach Aishah, and she thought the matter remained as such, so she said: The Prophet (ﷺ) passed away, and the matter was as such. The evidence for our position is the famous, widely transmitted readings attributed to the seven readers; if the matter were as such at his death, the reading would be so. The claim that the recitation was abrogated but the ruling remained is a mere possibility requiring evidence.

4306

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کے پاس تشریف لاۓ اور اس وقت آپ کے پاس ایک شخص موجود تھا (اس آدمی کا رہنا) حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کونا گوار ہوا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا یہ میرے رضاعی بھائی ہیں۔ پیغمبر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم غور کرواور یاد کرو کہ واقعی یہ مہارے وہ بھائی ہیں جنہوں نے ایام رضاعت میں دودہ پیا ہے؟ اس لے کہ رضاعت تو اس وقت ثابت ہوتی ہے جب کصرف دودہ کی اس کی غذا ہواور یہ مدتو سال ہے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلموں متفق طور پر کی ہے۔

It is narrated from Umm al-Mu'minin Lady Aishah (RA) that the Noble Prophet ﷺ came to her, and at that time there was a man present with her. The presence of the Noble Prophet ﷺ made this man feel uncomfortable. Lady Aishah (RA) said, 'This is my foster brother.' The Messenger of Allah ﷺ said, 'Consider carefully and remember whether he truly is your foster brother who drank milk during the days of breastfeeding, for breastfeeding is only established when milk is the sole sustenance, and it has been a long time since then.'
4307

اور ابو داود طیس کی روایت میں جابر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان فرماتے ہیں کہ دودہ چڑائی کی مدتو کے بعد اگر پھر دودہ پلا یا جائے تو اس تو رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔

دوسری حدیث

4308

ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ دودہ پینے سے حرمت (رشتہ اور زناح) اس وقت ثابت ہوتی ہے جب کہ پچھی آنتی صرف پستانول کے دودہ کی وجہ سے کٹیس (یعنی صرف دودہ کی اس کی غذا ہو) اور پیواقدعا ندروان دوسال دودہ چڑائی سے پہلے ہو۔ اس کی روایت تزندی نے کی ہے۔

اورتنزی نے پیغمبر کہا ہے کہ بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ نے آپ کے بعد بھی اکثر علم ال

حضرات کے سوا دوسرا حضرات کا ایسی پر عمل ہے کہ وہ دودوہ پلانی جودوسال کے اندر ہووی (رشتہ

اورنکاح کو) حرام کرتے ہے اور جودوسال کے بعد ہووہ (رشتہ اورنکاح کو) حرام نہیں کرتے -

ف :۔ واضح ہو کہ شیرخواری کی مدت دوسال ہے اس لئے اگر کوئی پچردوسال کے اندر دودوہ پینا چچوڑ دے اور

غذا کھانے گے اور دوسال کے اندر پچھر دودوہ پی لئے تو اس دوبارہ اندر رون مدت دودوہ پینے کی وجہ سے رشتہ اورنکاح کی

حرمت ثابت ہوگی - ماخوذ ازم رقات، کوکب دری12

تیسری حدیث
4309

/1 _ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے و فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ

علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا ہے کہ شیرخواری کی مدت (رشتہ اورنکاح کی حرمت کے لئے ) و ہے

معتبرہ ہے جودوسال کے اندر ہوو -

(اس کی روایت دارتی نے کی ہے )

دودوہ پلانی کے لئے ایک عورت کی گو، ہی قبول نہیں

4310

/1 _ عمر بن خالد رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ امیر المومنین

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ایک عورت کو لاگیا جس نے ایک مرداور

اس کی پیوی کے بارے میں گو، ہی دی تھی کہ میں نے ان دونوں کو (پچپن میں ) دودوہ پلانی ہے

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھیس (میں اس بارے میں ایک عورت کی گو، ہی قبول نہیں

کرتا ) یہ حال تک کہ دومردا ایک مردا عورتیں گو، ہی دے دی (تو گو، ہی قبول ہوگی ) -

اس کی روایت تحقیق نے اپنی سنن میں کی ہے اورسعیدبن منصور نے بھی اس کی روایت کی ہے -

دومری حدیث

It is narrated from Umar ibn Khalid, may Allah have mercy on him, that in the service of the Commander of the Faithful, Umar (RA), a woman came who had accused a man and spoken about his private part, saying, 'I saw both of them together (in seclusion).' Umar (RA) said, 'I do not accept the testimony of a woman in this matter until another man or woman testifies (then the testimony will be accepted).' This narration has been recorded by Al-Tahqiq in his Sunan, and Saeed ibn Mansur has also narrated it.
4311

زیدبن اسلم رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ دودوہ پلاٹی کے بارے میں (تہا) ایک عورت کی گواہی کو قبول نہیں فرمایا کرتے تھے۔ اس کی روایت عبد الرزاق نے لکھا ہے۔

تیسری حدیث

4312

زیدبن اسلم سے روایت ہے کہ ایک مرداوراس کی پیوی (دونوں) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور (ان کے بمر اہ) ایک عورت بھی آئی اور اس کے کہنا کہ میں نے ان دونوں کو دودوہ پلاٹی تو حضرت عمر رضی اللہ نے اس کے قول کو قبول کرنے سے انکار فرمايااور (اس شخص سے) فرمایا تو اپنی پیوی کو (اپنے ساتھ) لجا۔ اس کی روایت جمعی نے سنن میں لکھا ہے۔

رضاعت سے مردارشتنہی ثابت ہوتا ہے

4313

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میرے رضاعی پیا فل حضرت اعرضی اللہ عنہ آئے اور مجھے (اندرآ نے کی) اجازت چاہی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت لے بغیر ان کو اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ (اس اثناء میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لاے تو میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم سے اجازت ماگی تو آپ نے ارشاد فرماياوہ تو تمہارے پچاپیل ان کو (اندرآ نے کی) اجازت دے دو! فرمائی پی پچھر میں نے عرض کیا یارسول اللہ مجھے تو عورت نے دودوہ پلاٹی ہے مرد نے نہیں پلاٹا (اس پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرماياوہ تمہارے پچاپیل اثنین

اندرا نے دواور پیاس وقت کا اقتہہ جبکہ پروہ کا حکم نازل ہو چکاتھا۔

اس کی روايت بخاري اور مسلم میں متفرق طور پر کی ہے۔

دووہ پلا نے والی کاحق کیہ اداہو سکتا ہے

4314

تجارج بن تجارج اسلمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے والد نے

عرض کیا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دودوہ پلا کاحق مجھے کس طرح اداہو سکتا ہے؟

(پین کر) رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ خادم (دین سے دودوہ پلا کاحق ادا

ہوسکتا ہے خواہ وہ) غلام ہو یا بندی۔ اس کی روایت تر مندی، ابوداوود، نساکی اور دار قط نی کی ہے۔

ف: صاحب ثعلب الاوطار نے کہا ہے کہ اس حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ دودوہ چھترانی کے وقت

مستحب ہیہ کہ دودوہ پلا نے والی کو کچھ عطیہ دیا جائے۔

رضاعی مال کی تغظیم سگی مال کی طرح کرنی چاہیے

4315

ابواطفیل غنوی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے کریم

صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدام میں جبہا ہوا تھا کہ اتنے میں ایک خاتون آئی تو نبی کریم

صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے لئے اپنی چادر پچھاتی اوروہ اس پر بیٹھ گیس جب وہ پچلی گیس تو کہا

گیا نبی وہ خاتون پیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دودوہ پلا یا تھا۔ اس کی روایت ابو

داود نے کی ہے۔

صاحب مرقات نے کہا ہے کہ پیخاتون جن کی تغظیم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے

کہرے ہو کر اپنی چادر پچھاتی حضرت حلمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا تھیں جنہوں نے آپ کو پچپن میں

دودوہ پلا یا تھا اور پیوا قعہ غزوہ حنین کے دن پچش آیا۔ اس واقعہ سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کمال

تو ضح معلوم ہوتا ہے اور یہ ثابت ہوتا ہے کہ رضاعی مال کی تغظیم سگی مال کی طرح کرنی چاہیے۔

آقا کالونڈی سے صحبت کر نے کا بیان

4316

محمود تول سے نکاح کرائے کی سزا ہے

ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ حنین کے موقع پر ( لیعن غزوہ حنین کے بعد ) ایک شگر ( ابوعامر اشعری کی سرکردگی میں ) مقام اطوس کی طرف بھیجا ( اطاوس کہ اور طائف کے درمیان ایک مقام ہے ) مسلمانوں کا جب رشمنول سے مقابلہ ہوا تو لڑائی ہوتی اور مسلمان ان پر غالب آئے اور مسلمانوں کے باٹھ کالونڈیال آگئیں۔ ( جب کالونڈیوال کی تقسیم ہوتی تو ) بعض صحابہ نے ان کالونڈیوال سے صحبت کر نے سے گریز کیا کیونکہ ان کے مشترک شوبر موجود تھے اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے یا یت نازل فرمائی : " وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ " ( سورۃ نساء، پ : 5، ع : 4، آیت نمبر : 24 ) ( حرام ہیں تم پر ) شوبردار عورتیں گروہ عورتیں ( جو کافرولے اطرافی میں قید ہوکر ) تہدارے قبضہ میں آئی ہوتی لیعن کالونڈیوال حلال ہیں ان کی عدت کے گزرنے کے بعد لیعن حاکظہ ہوتی ختم ہیش کے بعداوراگرا تہ ہوتا ایک مہینہ گزر نے کے بعداوراگر حاملہ ہوتی تو ضعفحمل کے بعد ) اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔

4317

براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میرے سامول ابوردوہ بن نیاز رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گزر رہے اوران کے ساتھ ایک جھنڈا اتحا میں نے ان سے دریافت کیا کہ پ کہال جارت ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایک شخص پر امامورفرما کر بھیجا ہے کہ میں اس کا سر کاٹ کر لے آؤن کیونکہ اس نے اپنے بابپ کی پیوی ( لیعن سوتیلے مال ) سے نکاح کر لیا ہے۔ اس کی روایت ترنذی اورابوداود نے کی ہے۔

4318

اور ابو داود کی ایک اور روایت اور نسائی، ابن ماجہ اور دار قی کی روايتوں میں اس طرح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اس کی گردن کاٹ دوں اور اس کا مال بھی لے آو۔ اور اس روايت میں مامول کے جاے پچا کاز کر ہے۔

4319

اور امام طحاوی نے معاون بن قره رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معاون بن قره کے دادا کو ایک شخص کے پاس بھیجا جس نے اپنی سوتیلی مال سے نکاح کیا تھا کراس کی گردن کاٹ دی جاے۔ اور اس کا مال بیت المال کیلے لیا جاے۔ اور امام طحاوی نے یہی فرمایا ہے کہ یہ حد ثبت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کیلے جدت ہیں اور ان کے خلاف نہیں کیوںکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے قتل کا حکم دیا اور اس پر (زنا کی) حد جاری نہیں فرمائی۔ ف: واضح ہوگا کہ شخص جان بوجھ کر حرم عورت سے نکاح کرے وہ کافر ہوگا اور اس پر مرتد کے احکام جاری ہوں گے اس لے کراس نے حرام کو حال سمجھاہے اس کو قتل کیا جاے گا اور اس کا مال بیت المال کے لیے جاے گا اور جس شخص کواس باٹ کا علم نہ ہو کہ حرم عورت سے نکاح جائز نہیں اور وہ نکاح کرے تو وہ کافر نہیں ہوگا اور جو شخص جانتا ہو کہ حرم عورت سے نکاح حرام ہے اور حرم کا علم ہو نے کے باوجود وہ نکاح کرے تو فرش ہے اور اس کے نکاح کے بعد دونوں میں تفرق کرائی جائے گی اور اس کوسزا کی دی جائے گی اس صورت میں وہ گا جبکہ دخول نہ ہوا اور اگر علم کے باوجود اس نے ایسی حرکت کی ہے تو وہ زانی ہے اور زنا کے احکام جاری ہوں گے اور اگر وہ ناواقف تھا تو وہ بری ناء شہب جماع کرے والا ہوگا اس پر مہر مش واجب ہوگا اور نسب بھی اس سے ثابت ہوگا اور صاحب حد ایسے فرماییہ کہ جو شخص کسی ایسی عورت سے نکاح کرے جواس پر حرام ہو جیے مال یا جی او پچھر جماع بھی کرے تو امام اعظم، سفیان ثوری اور امام زفر رحمہ اللہ کے پاس اس پر حنیفی بلدا س پر قتل جیسی سخت سزا واجب ہوگی اور اس کا مال بیت المال کے لیے جاے گا اس لے کراس نے حرام کو حال سمجھا جس سے وہ مرتد ہو گیا ہے۔

اسلام لا نے پہلے کا نکاح برقرار رہگا

اور چار تو زاگدیو پول کو طلاق دینا ہوگا

4320

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ غیران بن سلمہ ثقفی رضی اللہ عنہ نے

اسلام قبول کیا تو ان کے (نکاح میں) جاپلیت کے زمانے میں لیجنی اسلام لا نے پہلے دس عورتوں

تحصیل اور ان عورتوں نے بھی ان کے ساتھ اسلام قبول کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان

سے فرما یا کروہ (ان میں سے) چار کو (نکاح میں) رکھیس اور باقی کو (طلاق دے کر) چھوڑ دی۔

اس کی روایت امام احمد نے دی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔

It is narrated from Ibn Umar (RA) that Ghaylan bin Salamah Thaqafi (RA) accepted Islam, and during his period of marriage, he had ten women with whom he had contracted marriage before accepting Islam. These women also accepted Islam along with him. So, the Messenger of Allah ﷺ said to him: 'Keep four of them in marriage and divorce the rest.'
4321

اور امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت قماوہ رحمۃ اللہ علیہ

سے روایت کی ہے انہوں نے کہا ہے کہ پہلی بیوی، دومسری تیسری اور چوتھی کو (نکاح میں) رکھ

لے اور حضرت ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔

ف: واضح ہو کر اس حدیث ثبوت کے ذریعے سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام لا نے پہلے کا نکاح تجہ ہے اور اسلام لا تے

وقت تجدید نکاح کی ضرورت نہیں بلکہ اسلام لا نکاح میں شرعًا کوئی حرج نہیں مثالا دو بہنوں سے بیک وقت نکاح یا سو تیلی

میں نکاح ہوا ہے و غیرہ۔ (حاشیہ ترنزی 12)

اور امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت قماوہ رحمۃ اللہ علیہ

سے روایت کی ہے انہوں نے کہا ہے کہ پہلی بیوی، دومسری تیسری اور چوتھی کو (نکاح میں) رکھ

لے اور حضرت ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔

ف: واضح ہو کر اس حدیث ثبوت کے ذریعے سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام لا نے پہلے کا نکاح تجہ ہے اور اسلام لا تے

وقت تجدید نکاح کی ضرورت نہیں بلکہ اسلام لا نکاح میں شرعًا کوئی حرج نہیں مثالا دو بہنوں سے بیک وقت نکاح یا سو تیلی

میں نکاح ہوا ہے و غیرہ۔ (حاشیہ ترنزی 12)

دومسری حدیث
4322

زوفل بن معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ

(جب) میں نے اسلام قبول کیا تو میری پانچ بیویاں تھیں اس بارے میں میں نے بیکریم صلی

اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ (ان

میں سے) ایک کو چھوڑ دے اور چار کو رکھ لے تو میں نے اپنی سب سے پہلی بیوی کو جو با نجحتی

اور ساتھ برس سے میرے ساتھ رہتی اس کو میں نے چھوڑ دیا۔

اس کی روایت بلغوی نے ثریح السند میں کی ہے۔

اسلام لا نے سے پہلے دونوں نکاح میں بول تو ایک کو چھوڑ دے

4323

_ ضحا ک بن فیروز دیمی رحمۃ اللہ علیہ اپن والد (فیروز دیمی رضی

اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کران کے والد نے بیان کیا کر میں نے (رسول اللہ صلی اللہ

علیہ وآ لہ وسلم سے) عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم! میں نے اسلام قبول کیا ہے

اور میرے نکاح میں دونوں میں توا آپ صلی اللہ علیہ وسلّم نے ارشاد فرمایا کران دونوں

میں سے جس کو چاہے رکھ لے۔ اس کی روایت ترنزی، البوداوداورابین ماجح نے کی ہے۔

میال اور پیوی میں سے کوئی ایک اسلام قبول کر لے

تو دونوں میں تفرق کرادی جائیگی

4324

_ داود بن کردوش رحمۃ اللہ علیہ سے روایت سے وہ فرماتے ہیں کہ

ہمارے قبیلہ بنو تغلب کا ایک شخص جونصرانی تھا اور اس کی پیوی جونصرانی تھی جس انہوں نے اسلام

قبول کیا اور اس پر معاملہ کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش کیا تو حضرت عمر نے اس

(نصرانی کافر) سے فرمایا کہ تم کہی اسلام قبول کرلو ورنہ میں تم دونوں میں تفرق کر دوں گا تو اس

(نصرانی کافر) نے کہا کر میں اپنے (نہیں) کو عربول سے شرما کر نہیں چھوڑتا ہوں کر وہ کہنے

گیس کر اس نے ایک عورت کو اپنے نکاح میں رکھ کی خاطر اسلام قبول کیا ہے تو حضرت عمر رضی

اللہ عنہ نے دونوں میں تفرق کری۔ اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔

میال پیوی میں سے کوئی ایک اسلام لا لے تو ان میں تفرق کی صورتیں

ف: - واقع ہو کر امام اعظم ابوحنیفر رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کر اسلام لا نے کی وجہ سے میال پیوی

میں تفرق میں امور میں سے کی ایک امر کی جہت ہوگی:

(1) عدت کا غز رجانا (2) میان پوی میں ایک اسلام قبول کرے تو دوسرا پراسلام پیش کیا جائے گا۔

انکار کرے پرتفرق ہو جائے گی (3) میان پوی میں سے کوئی ایک دارالاسلام سے دارالحرب یا دارالحرب سے

دارالاسلام منتقل ہو جائے۔ (مرقات12)

اخلاف دار یں اور دین میان پوی میں جدائی کا سبب ہے

4325

/2_عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ اپنے والد کے واسطے اپنے دادا سے روایت

فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی صاحبزادی (لبی لی نینب رضی اللہ عنہا) کوال

کے شوہر ابوالحاصل بن الرنج رضی اللہ عنہ (کے اسلام لا نہ پر) اور نے نکاح کے ساتھ لوٹاویا اس

کی روایت ترمذی نے کی ہے۔ اور اس حدیث کی سنن میں تجارج بن اوطاة کوفی بین حسن کو محد ثین

نے ثقدقر اردیہ یہاں تک کہام مسلم نے مجھی ان سے حدیث روایت کی ہے۔

4326

/3_اورام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ کی روایت میں عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ

تے می روایت سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لبی لی نینب رضی اللہ عنہا کو (ان کے شوہر)

حضرت ابوالحاصل رضی اللہ عنہ پر نکاح کے ساتھ لوٹاویا اور ابن ماجہ اور امام احمد نے مجھی اس

طرح روایت کی ہے۔ اس حدیث شریف میں اس بات کی ویل ہے کہ (میان پوی میں) جدائی

اخلاف دار یں میں دارالاسلام اور دارالحرب کی وجہ سے واقع ہو جائے گا اور اس کی تا سیر اللہ تعالیٰ

کے اس قول (پ:28، سورۃ محمد، ع:2، آیت نمبر:10) سے ہوتی ہے: "فَانْعَلِمُتُمُوْهُنَّ

مُؤْمِنَتٍ فَلاَ تَرْجِعُوْهُنَّ إِلَى الْكُفَّارِ، لاَ هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَلاَ هُمْ يَحِلُّوْنَ لَهُنَّ"۔ (چہراگری تمہیں

ا میان والیان معلوم ہول تو انبیس کافرول کو واپس نہ دونہی (مسلمان عورتیں) ان کو حال اور نہ وہ

(کافر مرد) ان کیے حال پیں۔

4327

/3_اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث میں اس طرح مروی ہے کہ (میان

پوی) دونوں میں کوئی ایک تجرت کرے اور دوسرا دارالحرب میں رہ جائے تو انہیں اس بات کو تسلیم

کرے پیل کر ان دونوں میں فی الحقيقة اختلاف دار یں واقع ہوگیا لیکن تم اس بات کو تسلیم نہیں

کرے کر ان پر حم کے اعتبار سے کچھ اختلاف دار یں واقع ہوگا اس لئے کر میان پیوی دونوں نے

dارا لحرب میں اسلام قبول کر لیا اور ان میں سے ایک نے تجرت کر لی تو دورا جودارا لحرب میں ہے

حکم کے اعتبار سے دارالاسلام میں میں ہے اس لئے ان دونوں پراس صورت میں اختلاف دار یں کا

حکم صحیح نہیں اس وجہ سے ہمارا نہہب پیہ کر اختلاف دار یں حقیقت کے اعتبار سے اور حکم کے

اعتبار سے جدالی اور تفرق کا سبب ہوتا ہے۔ اب ربا صفوال بن امیکی پیوی اسلام لا چکی تحسین اور

صفوان فتح کے بعد میں جانے کے لئے بجاگ کے لیکن عمیر بن وهب نے ان کو پالیا اور رسول

اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس دین کا پیام دیا پی حاضر خدمت ہوئے اور غزوہ حنین کے بعد

اسلام لا یے اور ان کی پیوی نکاح اول، ی پران کے عقد میں رہی اس لئے کر اختلاف دار یں واقع

نہیں ہوا، اور حضرت عمر رضی (فتح کے بعد) بجاگ کے طرف ہوئے لیکن ان کی پیوی حضور صلی

اللہ علیہ وآلہ وسلم سے امان لے کر ان کو واپس لا کی اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور ان کی پیوی

جہی نکاح اول، ی پران کے عقد میں رہی اس لئے کہ پیال کچھ اختلاف دار یں واقع نہیں ہوا،

اس لئے کر پی کچھ حدود کے میں تھے