Nūr al-Maṣābīḥ
بَابُ النَّظْرِ إِلَى الْمَخْطُوْبَةِ وَبَيَانِ الْعُوْرَاتِ

Looking at the Betrothed and the Limits of Awrah
Volume 6 · Marriage

متقنت شدہ عورت کو کہنا کہ بیان اور ان پیزاول کا بیان

جن کا پچھیاناواججبہ

It is said that the concealed private parts are referred to as those which are covered and hidden.

وقول الله عز وجل فانكحوا ما طاب لكم من النساء اور الل تعالي كا رشاد سور نساء ع ايت نمبر مي تم ا ني مرضي ك مطابق جن عورتو س ا و تو كاح كرو وقوله تعالي يا ايها النبي قل للازواجك وبناتك ونساء المومنين يدنين عليهن من جلابيبهن ذلك ادني ان يعرفن فلا يوذين اور الل تعالي كا رشاد سور احزاب ع ايت نمبر مي ا نبي علي الصلا والسلام ا ني بيويو اور صاحبات زوج او ون اور مسلمانو كي عورتو س فرما دو ك ا ني ادرول كا ايك حص ا ني لو بطور حجاب كرت ا ن من وال ر ين يعني سراور كو ا مي جب كي حا جت ك لي ان كو ن ي و اس س يرا ساني ان لي جايي ي ك ي ره عورت ي ي اور ستايي ن جايي ي منافقين ان ك در ن ولن منافقين كي عادت ي ي ك و بانديو كو لي اكرت ت اس لي حر عورتو كو حكم ديا ك و ادر س حجم ظ ر كرسا اور من ا كربانديو س ا ني ضلع متازكر دي وقوله تعالي او ما ملكت ايمانهن ورالله تعالي كا رشاد سور نور ع ايت نمبر مي ا عورتو مي ممنوع ن ي كرو ا ناس ار طابر كري ا ني بانديو رجواني مملوك ي

شاہی سے پہلے عورت کو کہنا کہ بیان

Before the royal, say to the woman: O noble lady,

4224

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تے روایت سے وہ فرماتے ہیں کہ ایک صحابی نے کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدام میں حاضر ہو کر عرض کیے کہ میں ایک انصاری خاتون سے شادی کا ارادہ رکتا ہوں (پیس کر) حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اس کودیکھ لو کیونکہ انصار کی آنکھوں میں پھر خلل ہوتا ہے۔ اس کی رواًتمسلم نہیں ہے۔

ف: واگہ ہو کر علماء میں اس بارے میں اختلاف ہے کہ حسن عورت سے شادی کا ارادہ ہوااس کو پیچنا جائز ہے

چنانچہ امام اوزاعی، امام سفیان ثوری، امام ابوحنیفہ، امام شافعی، امام احمد اور امام اسحاق رحمهم اللہ نے حضرت جابر اور

حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہما کی حدیث کی بناء پر مطلقًا لی عورت کے دیکھنے کو جس سے شادی کا رادہ ہو جائے قرار دیا گیا ہے۔

وہ عورت اجازت دے یا ندے البنت امام ما کو رحمۃ اللہ علیہ نے عورت کی اجازت دے دیکھنے کو جائزہ قرار دیا ہے۔

– ایک دورسری روایت میں امام ما کو سے مطلقاً منع کیا گیا ہے، ان اختلافات سے نہیں کی بہتر صورت پیہ کر کی

عورت کو آگز کچھ وی جودا پین آکراس عورت کا حال بیان کرو تو مناسب ہے۔

پی مضمون مرقات اور لماعت سے ماخوذ ہے، البنت رمختار میں کہا ہے کہ شادی سے پہلے عورت کو دیکھ لیا

جا سکتا ہے –12

صاحب مرقات نے پیش کیا ہے کہ اگر لاکی پسند نہ ہو تو جن حضرات نے پیام کیجیا تھا ان کے اپنے

اقتباس سے ناپسند ہونے کو شہرت نہ دینی تاکراکے اور لاکی والوں کو ایذانہ پیو پچ –12

دوسری حدیث

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: A man came to the Prophet (ﷺ) and said: I have married a woman from the Ansar. He said: Look at her, for there is something in the eyes of the Ansar [Narrated by Muslim].

(1) The statement: Look at her, etc. Scholars have differed regarding the permissibility of looking at a woman one intends to marry. Al-Awza‘i, Ath-Thawri, Abu Hanifah, Ash-Shafi‘i, Ahmad, and Ishaq permitted it absolutely, whether the woman consented or not, based on the hadiths of Jabir and Al-Mughirah. Malik permitted it with her consent, and it is narrated from him that he prohibited it absolutely. If a woman were sent to describe her, it would be more in line with avoiding disagreement. Al-Mirqat and Al-Luma‘at are sourced from this. It is said in Ad-Durr Al-Mukhtar: It is recommended to look at her beforehand.

4225

مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں ایک عورت کو

پیام شادی کیجا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلم وسلم نے مجھے دریافت کیا کہ کیا تم نے اس کو دیکھ لیا

ہے میں نے عرض کیا نہیں تو حضور صلی اللہ علیہ وآلم وسلم نے فرمایا تم اس کو دیکھ تو لو کیونکہ یہ چیز

تمہارے درمیان میں محبت اور موافقت کا بہترین سبب بنگی۔

اس کی روایت امام احمد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہاورداری نے کی ہے۔

تیسری حدیث

Al-Mughirah ibn Shu‘bah (may Allah be pleased with him) narrated: I proposed to a woman, and the Messenger of Allah (ﷺ) said to me: Have you looked at her? I said: No. He said: Then look at her, for it is more likely to foster harmony between you [Narrated by Ahmad, Tirmidhi, Nasa’i, Ibn Majah, and Ad-Darimi].

4226

جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلم وسلم

نے ارشاد فرما یہ کہ جب تم میں سے کوئی کسی عورت کو شادی کا پیام کیے اور اگر وہ کسی ایسی باٹ کو

وکیسے تاہے جواس میں نکاح کی رغبت پیدا کرے تو وہ ایسا کرے لے اس کی روایت ابوداود نے کی ہے۔

ف : حدیث ثریف میں ارشاد ہے کہ کوئی شادی کا پیام کیجیتا ہوتا شادی کے داعیات لیجن مرغوبات کو دیکھ

لے اس ارشاد سے یہ مراد ہے کہ وہ سارے اموراورمناسبات جوشادی کے سلسہ میں ضروری ہوسکتے ہیں ان پرغور کر

معلوم ہوتو ندامت انہائی نہ پڑے۔

ایک عورت دوسری عورت سے مباہرت نہ کرے

Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: When one of you proposes to a woman, if he is able to look at what would encourage him to marry her, let him do so [Narrated by Abu Dawud].

4227

ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

ارشاد فرماپنے کہ کوئی عورت کسی عورت سے مباہرت نہ کرے لیکن اپنے بدن کواس کے بدنتے

ملے پھراس عورت کا حال اپنے شوہر تے اس انداز سے بیان کرے گویا کہ وہ اس (اجنبی

عورت ) کود کیہر پابے۔

اس کی روایت بخاری اور مسلم میں متفرق طور پربے۔

ف : اس حدیث شریف سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک عورت دوسری عورت کے بدنتے لینے اور چمن کی وجہ

تے وہ اس عورت کے جسمانی کیفیات بیان کرنے کے قابل ہوجائے ہے خصوصاً شاہی شدہ عورت آگراپا کرے اور

اپنے شوہر تے اس عورت کے جسمانی کیفیات کوپیان کرے تو اس کا ایساپیان شوہر کے لیے اس اجنبی عورت کود کیہ لینے

کے برابر ہے جس سے اندیشہ ہے کہ شوہراس اجبی کی طرف ماگل ہوجائے۔ اس وجہ سے حدیث شریف میں ایسے کام

سے منع فرماپیا ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ شریعت میں اجنبی عورت کے ساتحتہائی اور سفر ممنوع ہے۔12

مردم دکے ستراوار عورت عورت کے ستراونے دیکھے

Ibn Mas‘ud (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: A woman should not touch another woman to describe her to her husband as if he were looking at her [Agreed upon].

(1) The statement: To describe her to her husband as if he were looking at her. In Sharh Al-Akmal: Jurists have used this hadith as evidence for the permissibility of forward sales in animals, as it indicates that describing something makes it as if it were seen. Thus, it is something whose characteristics can be precisely defined and its quantity known, like something tangible and observed at the time of sale. Whatever can have its characteristics precisely defined and its quantity known is permissible for forward sale by consensus. I say: The Prophet’s (ﷺ) statements indicate that describing something makes it as if it were seen in what is observed, as evidenced by his saying: As if he were looking at her. The prohibition of forward sales in animals according to Abu Hanifah is not from this perspective, but because animals include internal characteristics that cannot be known by looking at them. Thus, it is something whose characteristics cannot be precisely defined, and what cannot have its characteristics precisely defined is not permissible for forward sale. This is stated in Al-Mirqat.

4228

ابوبعدیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

آلہ وسلم نے ارشاد فرماپنے کہ (ایک ) مردوسرے مردوکے ستراونے دیکھے اور نہ کوئی عورت کسی

عورت کے ستراونے دیکھے اور کوئی مرد کسی مردوکے ساتحد برہمنہوکر ایک، ایک چادر میں نہ لیے اور ایک

عورت دوسری عورت کے ساتحد برہمنہوکر ایک چادر میں نہ لیے۔ اس کی روایت مسلم میں ہے۔

ستر کی تفصیل

ف : واضح ہوکہ مردو کا سترا ناف سے لے کر گہتنہ سمیت ہے خواہ نماز میں ہوں یا غیر نماز کی حالت میں اور حرہ عورت کا

ستر پورا جسم میں جس میں سر کے بال اور چوٹی کے داگ لے بہ جزیرے، تحلیل ان اور پیڑ کے اور باندی کا ستر مردو کے ستر کے

برابر ہے البنا س کا پیٹ اور پیٹ کی ستر میں داگ لے۔ اہ

فتاوی عالمگیری، مرقات میں امام نووی رحمہ اللہ کا قول ذکور کے مردو کا جنبی عورت کے جسم کے کسی حصہ کو

دیکھنا، اور عورت کا مردو کی جناشوں کے ساتھ ہو یا بغیر شہوت کے، اور مردو کی بالغ بہ ریش اڑ کا جونو بصورت ہوا س کو

دیکھنا پساری چیز یہ حرام ہے اہ۔ ای طرح خوش تصاویر کو دیکھنا بھی حرام ہے۔12

کوئی مردا جنبی عورت کے ساتھ تہمانہ ہے

Abu Sa‘id (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: A man should not look at the private parts of another man, nor a woman at the private parts of another woman. A man should not lie with another man under one cloth, nor a woman with another woman under one cloth [Narrated by Muslim].

4229

جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ علیہ و آلہ

وسلم نے ارشاد فرما یہ خبر دار برگز کوئی مرد کی ثیہ عورت کی پیوہ مطلق عورت کے ساتھ ہرات نہ

گز ارے گمر پی کر اس کا شوبرہو یا محرم ہو

اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔

ف: وا ضح ہو کر ا جنبی عورت کے پاس کسی مردو کا رہنا اور خلوت کرنا حرام ہے خواہ رات ہو یا دن اور خواہ عورت

کنواری ہو یا پیاری یا پیوہ، عورت کا اپنے خاوند یا محرم کے سوا کسی کے ساتح تہما ہونا اس لے حرام ہے کر اس میں برے

بطے فساد واقع ہو نے کا اندیشہ ہے محرم وہ مردو ہے جس کے ساتح اس عورت کا نکاح بھی بھی درست نہ ہو جیے باب،

بحالی حقیقی یارضاعی، پیچا، بھتیجا، بھانجا، بیتا، نواسرا ور پوتا۔ (حاشیہ مشکلہ 12)

جبی مردا ور عورت کے ساتح تہمانی میں شیطان ہوتا ہے

It is narrated from Jaber (RA) that he said: The Messenger of Allah ﷺ instructed,

‘Be cautious, for no man should be alone with a woman who is not his mahram, whether it be during the day or night, and whether she is a virgin, married, or divorced. It is forbidden for a woman to be alone with any man other than her husband or mahram, as there is fear of evil and corruption occurring. A mahram is a man with whom the woman’s marriage is permanently prohibited, whether by blood, fosterage, or kinship, such as a brother, nephew, uncle, son, grandson, etc.’ (Explanation: When a man and a woman who are not mahrams are alone together, Satan is present.)

4230

امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضور

صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیان فرماتے ہیں کہ جب کسی کوئی مرد کی ا جنبی عورت کے ساتح تہمانی میں

رہتا ہے تو ان دونوں کے ساتح تیرا شیطان ہوتا ہے (کروہ شہوت ابھار کر دونوں کو زنا میں مبتلا

کرویتا ہے)۔

اس حدیث کی روایت ترنذی نے کی ہے۔

شوهبر کی عدم موجودگی میں اس کی یوی کے پاس کونی آیاجائیںگے

Umar (may Allah be pleased with him) narrated from the Prophet (ﷺ): No man should be alone with a woman unless the third of them is the devil [Narrated by Tirmidhi].

4231

جا بر ضی اللہ علیہ روایت سے وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت

پیان کرتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا وہ عورتیں جن کے خاوند غائب ہو لان کے پاس تم نہ جائیا

کرواس لئے کہ شیطان (کاوسوس او رکروفریب) تم میں خون کی طرح جاری وساری رہتا ہے۔ تم

نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم؟ کیا آپ کے ساتھ بھی ایسا ہوتا ہے؟ آپ نے ارشاد

فرمایا (بال!) میرے ساتھ بھی ایسا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے میری اس کیخلاف مدفر مانی تو وہ

(میرا) مطیع ہوگیا (اس لئے میں اس کے ثرے پچار رہتا ہوں)۔

اس کی روایت تزندی نے کی ہے۔

ف: واقع ہو کہ ساری نامحرم عورتوں سے تہمانی اور خلوت نا جائز ہے اور حدیث شریف میں ان عورتوں کے

ساتھ جن کے شوہر غائب ہو لے یعنی خصوصی طور پر ذکر فرمایا گیا کہ وہ محبت کی مشاہق ہوتی ہیں اور میں قطعا زیادہ

اندیشر رہتا ہے (حاشیہ مشکاة)12

شوهبر کے رشتہ دارول کوالن کی یوی کے پاس پہلے

آنے جانے کی ممانعت

Jabir (may Allah be pleased with him) narrated from the Prophet (ﷺ): Do not visit women whose husbands are absent, for the devil runs through one of you like the blood. We said: And you? He said: And me, but Allah has helped me against him, so I am safe [Narrated by Tirmidhi].

4232

عقرب بن عامر ضی اللہ علیہ روایت سے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ

علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عورتوں کے پاس (پہلے) آیا جائیںگے روا ایک صاحب

نے عرض کیا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جیہاورد پورے کے بارے میں آپ کی فرماتے ہیں

تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے (پین کر) فرمایا د پورا ور جیہ تو موت ہے۔

(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے کی ہے۔)

ف: اس حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ خاوند کے رشتہ دارول کوجیسے د پور جیہ کو خلوت میں عورت کے

پاس رہنااور پر دہ کے لگیرا نا جاناورست نہیں۔ (حاشیہ مشکاة)12

ضرورت پر مردو عورتوں کے مرضی جگہو کی سکتا ہے

Uqbah ibn Amir (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: Beware of entering upon women. A man said: O Messenger of Allah, what about the in-law? He said: The in-law is death [Agreed upon].

4233

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سینگھی کچوانے ( لیعن فاسد یازا ند خون کونکلوانے ) کی اجازت چاہی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابوطیب کو حکم دیا کہ ام سلمہ رضی اللہ عنها کو سینگھی لگا تین حضرت جابر فرماتے ہیں میرا گمان ہے کہ ابوطیب ام سلمہ رضی اللہ عنها کے رضا علی مجاحلی تھے یانا بلغ الرکے تھے

( اس کی روایت مسلم نے کی ہے )

ف : علامہ طیبی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ علاج کے لئے عورت کے سارے بدن کو کچنا جائز ہے جسے قاضی اور گواہ کو عورت کا کچنا درست ہے اس طرح طبیب کو اس مقام کا کچنا درست ہے جہاں علاج کے لئے کچنا کی ضرورت ہو۔ پڑاپی میں بھی بھی نذور ہے اور پڑاپی میں بیچی کے حاہے کسی عورت کو اس باٹ کی تعلیم دینی چاہے کروہ عورتوں کے علاج کے قابل بن جائے اور اگر بیمکن نہ ہو تو عورت کے دورسرے غیر متغلق اعضاء کو چھپا کر مرضی جگہ طبیب کو کہاںی جاسکتی ہے اہا ور مرقات میں بیچی صراحت نذور ہے کہ ناہرم ضرورت پرفصد کول سکتا ہے، بیچی ناکسکتا ہے اور ختمہ بیچی کر سکتا ہے۔ 12

اجنبی عورت پر اچا کے نظر پڑ جائے تو نگاہ پچھیر لے

Imam Muslim has narrated this. Alama Taqi al-Din al-Subki (may Allah have mercy on him) said: It is permissible for a woman's entire body to be uncovered for treatment, just as it is correct for a judge or witness to see a woman's uncovered body. Similarly, it is correct for a physician to uncover the part of her body that needs to be treated. In teaching, there is also a need, and in teaching, a midwife can instruct any woman to become capable in treating women, and if possible, she can cover the non-adjacent, non-intimate parts of the woman and show the physician only the necessary area. In the Maraqi, it is clearly stated that a midwife can do what is necessary, a midwife cannot do what is not necessary, and a midwife can complete what is necessary. If a foreign woman’s private part is seen, one should avert their gaze.

4234

جربر رضی اللہ عنه روايت سے وه فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( اجنبی عورت پر ) اچا کے نظر پڑ جائے کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں اپنی نگاہ کو پچھیر لولے

جربر رضی اللہ عنہ روایت سے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( اجنبی عورت پر ) اچا کے نظر پڑ جائے کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں اپنی نگاہ کو پچھیر لولے

اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔

اجنبی عورت پر بغیر قصد کے پہلی نظر معاف ہے

Jarir ibn Abdullah (may Allah be pleased with them) narrated: I asked the Messenger of Allah (ﷺ) about an accidental glance, and he ordered me to avert my gaze [Narrated by Muslim].

4235

بریدہ رضی اللہ عنه روايت سے وه فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ

و سلیم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو فرمایا: اے علی (بغیر قصد کے کسی اجنبی عورت پرتمہاری نظر پڑ جائے تو پہلی نظر کے بعد (دوبارہ پھر) نظر مت دالو، کیونکہ پہلی (بار نظر) تمہارے لئے معاف ہے۔ لیکن دومسری نظر معاف نہیں۔ اس کی روایت امام احمد، ترمذی، ابوداوداورداری نے لکی ہے۔ اپنی نگاہوں کو اجنبی عورتوں سے پچانے پرعبادت کی لزت نفیسبہوتی ہے۔

It is narrated from Salim that he said to Ali (RA):

O Ali, if your gaze falls upon a non-mahram woman unintentionally, do not look again after the first glance, for the first glance is forgiven for you, but the second glance is not forgiven. This has been narrated by Imam Ahmad, Tirmidhi, Abu Dawud, and Daruqutni. Keeping your gaze away from non-mahram women greatly enhances the sweetness of worship.

4236

روایت فرماتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ مسلمان کی نظر (اچانک) پہلی بار کسی حسین عورت پر پڑ ہی جائے پھر وہ اپنی نگاہ کو پچی کر لے تو اللہ تعالیٰ اس کو ایک نئی عبادت (کی ثواب) عطا فرما ئیں گے جس کی وہ حلاوت پائے گا۔ اس کی روایت امام احمد نے لکی ہے۔ ف: اس حدیث شریف میں کسی حسین عورت پر بلا قصد نظر پڑ جائے اور ایسا شخص اپنی نظر کو پچی کر لے تو اللہ تعالیٰ اس کی جزاء میں اس شخص کو ایک نئی عبادت کی ثواب عطا فرماتے ہیں اور اس شخص کو اس عبادت کی حلاوت بھی نصیب ہوتی ہے۔ حقیقت میں یہ دل کے اللہ تعالیٰ کے احکام کی تقلید کا اوراس کی پصبر کرنے، اوراس لئے تے منہ موٹے کا جواز عورت کو دیکھنے سے حاصل ہوتی ہے۔ چنانچہ اس کا ارشاد حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ایک ارشاد میں فرمایا: "قُرَۃُ عَیْنی فِی الصَّلوۃ"، لیعنی میری آنکھ کی طندک نماز ہے۔

تاکہ واپس تک جانے والی پراللہ کی لعنت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ مرسلاً مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ یہ روایت پہلی سے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی

Abu Umamah (may Allah be pleased with him) narrated from the Prophet (ﷺ): No Muslim looks at the charms of a woman the first time and then lowers his gaze except that Allah grants him worship, the sweetness of which he finds [Narrated by Ahmad].

مرقات)12
4237

ہے۔ تاکہ واپس تک جانے والی پر۔۔۔ اس کی روایت ترمذی نے شعب الایمان میں لکی ہے۔

عورت کا بغیر جواب نکنا ایک فتنہ ہے

A woman's going out without permission is a fitnah.

4238

ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ عورت (تمام تز) ستر ہے (اس کو پردہ میں اور جواب میں رہنا چاہے) جب وہ (بغیر جواب کے) باہر نکلتی ہے تو شیطان اس کے حسن کو دو بالا کرتے ہیں اور اس کی روایت تزدی نے کی ہے۔

اجنبی عورت اچھی معلوم ہوتی اس کا علاج کیا ہے

Ibn Mas‘ud (may Allah be pleased with him) narrated from the Prophet (ﷺ): A woman is a private part; when she goes out, the devil gazes at her [Narrated by Tirmidhi].

4239

جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمایا کہ عورت شیطان کی صورت میں آتی ہے اور شیطان کی صورت میں جاتی ہے۔ (کیونکہ عورت کو کچھ سے جماع کی خواہش پیدا ہوتی ہے اور شیطان کا اثر ہے) (اس لیے) تم میں سے کسی کو کوئی (اجنبی) عورت اچھی معلوم ہواور اس کے دل میں (اس کی محبت یا شہوت) پیدا ہو جائے تو ایسے شخص کو چاہے کراپنی یوی (کی طرف قصد کرے اور اس سے محبت کرے لیس لیکر اس سے اس کے دل میں جو چیز پیدا گئی ہے (جبین جماع کی خواہش) نقل جائے گی۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔

دوسری حدیث

Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: A woman approaches in the form of a devil and departs in the form of a devil. If one of you is impressed by a woman and she affects his heart, let him go to his wife and be intimate with her, for that will repel what is in his soul [Narrated by Muslim].

ف: واضح ہوگا اجنبی عورت کی اگر دل میں محبت پیدا جائے تو اس کا کامل علاج یہی ہے کراپنی یوی سے محبت کرے اس سے اجنبی عورت کا خیال دفع ہو جائے گا اور اگر کوئی شخص یوی نہ رکتا ہو تو اس کو چاہے کراستغفار کرے۔ (ماخوذ از مرقات)

4240

ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک عورت پر نظر پڑی اور وہ اچھی معلوم ہوتی تھی آپ امام المومنین سودہ رضی اللہ

عنہا کے پاس تشریف لاگئے اور وہ (اس وقت) خوشبو تیار کر رہی تھیں اور ان کے پاس چند عورتوں

بھی تھیں (آپ کی آمد پر) وہ عورتیں چلی گئیں تو آپ نے حضرت سودہ سے اپنی حاجت پوچی

فرمائی (لیکن صحت فرمایا) یہ آپ نے ارشاد فرمائی کہ تھیں کسی عورت پر نظر پڑ جائے اور وہ

عورت اس کو پسند آئے تو وہ اپنی بیوی سے صحبت کر لے کیونکہ اس کی بیوی کے پاس وہ چیز ہے جو

اس عورت کے پاس ہے۔ اس کی روایت داری نے کی ہے۔

ف: اس حدیث شریف میں ذکور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو ایک اجنبی عورت خوش گلی - یا بات بر بناء

مقتضاء طبعیت تجاوج و نسان کی بشریت ہے اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی پیشہ لی نظر تھی جواچا کے پر گئی اور

پی معاف ہے اور اس عورت پر آپ کی نظر پڑ جانا ایک شرعی حکم ہے سبب بنا جسے نماز میں آپ سے سہو کا ہوجانا، یا سے لے

تجا کرامت کے لے ایک راہ نکالی جاتے، چنانچہ سہو کے بارے میں آپ نے ارشاد فرمایا ہے میں بھولتا ہوں یا بھلا یا

جا تا ہوں تا کرا پی امت کے لے ایک راہ پیا کروں اور عام لوگوں کا بھولنا شیطان کے غلبے سے ہوتا ہے کر شیطان ان

کو خدا سے غفلت کر دیتا ہے اس کے برخلاف حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر شیطان کا پھڑا اثر نہ ہے، اس لے اللہ

تعالی کا آپ پر بھول کا طاری فرمانا اس میں حکمت یہی کرامت کو سہو کے مسائل معلوم ہو جا کیسے آپ کو بھول نہ ہوتی تو

امت کو سہو کے مسائل معلوم نہ ہوتے اور امت کے لے پیراہ نہ تی - (مرقات، اشعہ اللمعات، حاشیہ مشکوۃ12)

باندی کے ستراپیان

Ibn Mas‘ud (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) saw a woman who impressed him, so he went to Sawdah while she was making perfume, and there were women with her who left. He fulfilled his need, then said: If any man sees a woman who impresses him, let him go to his wife, for she has the same as she has [Narrated by Ad-Darimi].

4241

عمر و بن شعیب رضی اللہ عنہ پن والد کے واسطے سے اپنے دادا سے روایت

کرتے بیان کے دادا (حضرت عمر و بن عاص رضی اللہ عنہ) حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم

سے روایت کرتے بیان کے آپ نے ارشاد فرمائی کہ جب تم میں سے کوئی اپنے غلام کا نکاح پی

باندی سے کردے تو اپنی باندی کے ستراپی کے ستر کونہ دیکھے۔ اس کی روایت ابوداود نے کی ہے۔

قطنی کی ایک روایت میں حضرت عمر و بن العاص رضی اللہ عنہ سے

Umar ibn Shu'ayb (RA) narrated from his grandfather through his father, and his grandfather (Umar ibn al-Khattab (RA)) narrated from the Messenger of Allah ﷺ

that when any of you marries your slave girl to someone, then look at her private parts to ensure proper covering. This has been narrated by Abu Dawud. In one version of the narration, it is reported from Umar ibn al-Khattab (RA).

4242

اور دار

مروی سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمائی کہ جب تم میں سے کوئی اپنی باندی کا

نکاح اپنے غلام یا پنے خادم سے کر دے تو اس باندی کی ناف سے لے کر گھٹنے تک کے اعضاء کو

دو کیاس لے کر ناف سے لے کر گھٹنے تک ستر (مین داخل) ہے۔

Amr ibn Shu‘aib, from his father, from his grandfather (may Allah be pleased with him) narrated from the Prophet (ﷺ): If one of you marries his slave to his female slave, he should not look at her private parts [Narrated by Abu Dawud]. In a narration by Ad-Daraqutni from him, the Prophet (ﷺ) said: If one of you marries his female slave to his slave or his hired man, he should not look at what is below the navel and above the knee, for what is below the navel to the knee is the private part. In another narration by him from Ali, the Prophet (ﷺ) said: The knee is part of the private part. Abdul-Razzaq narrated from Anas that Umar struck a female slave of Anas’s family when he saw her veiled, saying: Uncover your head; do not resemble free women.

(1) The statement: Uncover your head, etc. For these hadiths, it is said in Al-Hidayah: According to us, the navel is not part of the private part, contrary to what Ash-Shafi‘i says. The knee is part of the private part, also contrary to him. It is mentioned in Kitab Ar-Rahmah fi Ikhtilaf Al-Ummah: They agreed that the navel of a man is not a private part. As for the knee, Malik, Ash-Shafi‘i, and Ahmad said it is not part of the private part, while Abu Hanifah and some of Ash-Shafi‘i’s companions said it is. As for the private part of a female slave, Malik and Ash-Shafi‘i said it is like that of a man, while Abu Hanifah added her belly and back. End of quote. For this narration.

4243

اوردوار قطنی کی ایک اور روایت حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنی

cریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ گھٹنے تک بندول پپتان کے ستر (مین داخل) ہے۔

It is narrated on the authority of Ali (RA) that the Prophet ﷺ said:

The thigh is a covering (veil) up to the knee.

4244

اور عبد الرزاق نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ حضرت

عمر رضی اللہ عنہ نے آل اس رضی اللہ عنہ کی ایک لونڈی کو گھوگھے ط ذا لے ہوئے دیکھا تو اس کو مارا

اور فرمایا پنے سر کو ہول دے او رحرہ عورتوں سے اپنے کو مشابہ نہ کرے

عورت کے اجنبی مردوں کی پیش کے مسائل

Ibn Az-Zubair (may Allah be pleased with him) narrated: A freedwoman of theirs took Az-Zubair’s daughter to Umar ibn Al-Khattab, and she had bells on her feet. Umar cut them off and said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: With every bell is a devil. (3) [Narrated by Abu Dawud]

4245

ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ ام المومنین میمونہ رضی

اللہ عنہا (پیردونوں) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھین کہ اچا کہ اب ن ام مکتو م رضی اللہ عنہا

تشریف لا لے تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم دونوں بھی ناپینا ہو، کیا تم ان کو

شمس د کیہری ہو اس کی روایت امام احمد، ترنذی اور ابوداود نے کی ہے۔

Umm Salamah (may Allah be pleased with them) narrated: She was with the Messenger of Allah (ﷺ) and Maymunah when Ibn Umm Maktum approached and entered upon him. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Veil yourselves from him. I said: O Messenger of Allah, is he not blind and unable to see us? The Messenger of Allah (ﷺ) said: Are you both blind? Do you not see him? [Narrated by Ahmad, Tirmidhi, and Abu Dawud]. Bukhari narrated from Aishah (may Allah be pleased with her): It was a festival day, and the Abyssinians were playing with shields and spears. Either I asked the Messenger of Allah (ﷺ), or he said: Would you like to watch? She said: Yes. He stood me behind him, my cheek against his cheek, and he said: Go on, Banu Arfidah, until I grew tired. He said: Is that enough? I said: Yes. He said: Then go.

(1) The statement: Are you both blind? Do you not see him? It is said that this prohibits a woman from looking at a non-relative man absolutely. Some specified it to cases where there is fear of temptation for her, to reconcile it with Aishah’s statement: I was watching the Abyssinians playing with their spears in the mosque. The more correct view is that it is permissible for a woman to look at a man from above the navel to below the knee without desire, as evidenced by Aishah’s statement: I was watching the Abyssinians, and because women used to attend prayers with the Messenger of Allah (ﷺ) in the mosque, and their gaze would inevitably fall on men. If it were not permissible, they would not have been commanded to attend the mosque and prayer ground. Women were commanded to veil from men, but men were not commanded to veil from women. This hadith is understood in the context of piety and righteousness. This is stated in Al-Mirqat. It is said in Al-Hidayah: It is permissible for a woman to look at a man at what a man may look at of another man if she is safe from desire. If there is desire in her heart, or she believes she may desire, or she is uncertain, it is recommended for her to lower her gaze.

4246

اور بخاری نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے

آپ فرما تی ہیں کہ ایک عید کے دن جب شی لوگ ظہال اور برچہوں سے کہیل رہے تھے (اس موقع پر)

یاتو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خواہش ظاہر کی یا آپ نے فرمایا کہ (اس کہیل کو

cو) کیا تم دیکھنا چاہتی ہو، میں نے کہا ابل! تو آپ نے مجھے اپنے پیچھے کھڑا کیا (اس طرح تے

cک) میرا رخسار پر تھا اور آپ فرما رہے تھے اے بنوار فده (اے جبشع والو!) تم دور

رہو! یہاں تک کہ جب میں اکتا گئی تو آپ نے دریافت فرما کیا تمہارے لے (انتا تماشر و کیفنا)

کافی ہے! میں نے جواب دیا بل! تو آپ نے ارشاد فرما تو تم (گرمیں) چلی جاو۔

ف: واضح ہو کہ صدر کی دونوں حدیثیں جو حضرت ام سلمہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما سے مردود ہیں ان دونوں حدیثوں میں بظاہر تعارض معلوم ہوتا ہے کہ پہلی حدیث سے عورت کا اجنبی مردوں کی طرف منع اور دوسری حدیث سے جائز معلوم ہوتا ہے۔ اس بارے میں تین قول یہ ہیں کہ عورت مردوں کے ساتھ چھوٹ کر اجنبی مردوں کی طرف شہوت کے وکیل سکتی ہے اس کی قوی دلیل یہ ہے کہ عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک زمانے میں نمازیں کے لئے مسجد نبوی آیا کرتی تھیں اگر پیچانے نہ ہوتا تو عورتوں کو مسجد اور عیدگاہ میں حاضر ہونے سے رک دیا جاتا، پول بھی عورتوں کو اجنبی مردوں سے پردہ کرنا کا حکم ہے اس کے برخلاف مردوں کو عورتوں سے پردہ کرنا کا حکم نہیں دیا گیا۔ پیرقات میں ذکور سے اور بڑا یہ ہے کہ عورت شہوت کے بغیر مردوں کو ستر کے علاوہ دیکھ سکتی ہے البنت اگر عورت کے دل میں شہوت ہے یا گمان غالب ہے پیش کہ ہے کہ کیسے سے شہوت پیدا ہوگی تو اس کیلئے مناسب یہ ہے کہ وہ اپنی نگاہ پچھ کر لے۔ 12 ران ستر میں داخل ہے

Aishah (may Allah be pleased with her) narrated: By Allah, I saw the Messenger of Allah (ﷺ) standing at the door of my chamber while the Abyssinians were playing with their spears in the mosque. The Messenger of Allah (ﷺ) covered me with his cloak so I could watch their play from between his ear and shoulder. He stood for my sake until I was the one who left. So consider the value of a young girl, new in age, eager for amusement. Agreed upon.

4247

جرہد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا تم نہیں جانتے ہو کہ ران ستر (میں داخل) ہے۔ اس کی روایت تزندی اور ابوداود نے کی ہے۔

دوسرا حدیث

It is narrated from Juhayd (RA) that he said:

The Noble Prophet ﷺ said: 'Do you not know that the Rān (a type of marsh or swamp) is (in it)?' This hadith is reported by Tirmidhi and Abu Dawud.

4248

محمد بن حبش رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مُتْعَر رضی اللہ عنہ پرے گزرے جب کران کی دونوں را نیں کحلی ہوئی تھیں (پید کیے کر) آپ نے فرمایا لے مُتْعَر! تم اپی دونوں را نوں کو ذا کے لواس لے کر دونوں را نیں ستر (میں داخل) ہیں۔ اس کی روایت بغوی نے شرح السنہ میں کی ہے۔

مردوں کی ران کی ستر ہے

It is narrated from Muhammad bin Habsh (RA) that he said:

The Messenger of Allah ﷺ passed by Mut‘ar (RA) when his two eyes were kohl-lined. The Prophet ﷺ said: 'O Mut‘ar! Take your two eyes and put them in the shade of the date palm.' This narration is reported by Baghawi in Sharh al-Sunnah. The shading of men's eyes is [permissible].

4249

امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ

علیہ وآ لہ وسلم نے فرمایا لے علی! تم اپنی ران کو مرت ظاہر کر واورنے کسی زندہ کی ران کو یہ دواورنے کسی مردو کی -اس کی روایت ابوداوداورابن ماجے نے کی ہے-

ستر کو ظاہر کر کہ کی تا کید

It is narrated from Amir al-Mu'minin Ali (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said:

O Ali! Show your wound to a dead person, but do not show it to a living woman or a living man.

4250

عبدالله بن عمر رضی اللہ عنهما سے روايت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم نے ارشاد فرمايا تم برہمنہو نے سے پکواس لے کر تمہارے ساتھ دوہ (یعنی کراں کا تین اورحفاظت کرنے والے فرشتے) ہیں جوتم سے جدا نہیں ہوتے گمر رف حا جت کے وقت یا اس وقت جب آدمی اپنی پیوی سے صحبت کرتا ہوتا تم ان سے شرم وحياء کرواوران کی تغظیم کیا کرو (یعنی بلاضرورت ستر کومت کھولو)۔ اس حدیث کی روايت تزندی نے کی ہے-

شرمگاہ کو پوشیدہ رکھ کا بیان اوراس کے متعلق مسائل

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم برہمنہو نے سے پکواس لے کر تمہارے ساتھ دوہ (یعنی کراں کا تین اورحفاظت کرنے والے فرشتے) ہیں جوتم سے جدا نہیں ہوتے گمر رف حا جت کے وقت یا اس وقت جب آدمی اپنی پیوی سے صحبت کرتا ہوتا تم ان سے شرم وحياء کرواوران کی تغظیم کیا کرو (یعنی بلاضرورت ستر کومت کھولو)۔ اس حدیث کی روایت تزندی نے کی ہے-

شرمگاہ کو پوشیدہ رکھ کا بیان اوراس کے متعلق مسائل

Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever believes in Allah and the Last Day should honor his guest, (1) should not harm his neighbor, and should speak good or remain silent.” (2) In another narration, instead of “neighbor”: “should maintain ties of kinship.” [Narrated by Bukhari and Muslim]

4251

بُخری بن حکیم رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد کے واسطے اپنے دادا سے روايت کرتے ہیں کہ (ان کے دادا نے) کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم نے ارشاد فرمايا پی شرمگاہ کوسواے پیوی اور باندی کے سب سے پوشیدہ رکھو میں نے عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! جب آدمی تہما ہواس صورت میں آپ کا کیا ارشاد ہے؟ (یعنی کر) آپ نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ ان سے شرم کی جائے-

اس کی روايت تزندی، ابوداوداورابن ماجے نے کی ہے-

بُخری بن حکیم رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد کے واسطے اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ (ان کے دادا نے) کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم نے ارشاد فرمایا پی شرمگاہ کوسواے پیوی اور باندی کے سب سے پوشیدہ رکھو میں نے عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! جب آدمی تہما ہواس صورت میں آپ کا کیا ارشاد ہے؟ (یعنی کر) آپ نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ ان سے شرم کی جائے-

اس کی روایت تزندی، ابوداوداورابن ماجے نے کی ہے-

اورابن ماجے کی ایک روایت میں امام موثقین حضرت عاشر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے آپ فرما تے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم کی شرمگاہ کو بھی نہیں دیکھا نے کہ میں میری نگاہ آپ کی شرمگاہ پر پڑی-

ف: مرقات میں کہا ہے کہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ پیوی اور باندی کی شرمگاہ کو بھی حاصل کرنا ہے اور

درختار میں بھی کچھ کہاہے کہ آدمی اپنی پیوی اور لونڈی کی شرمنگاہ کوشہوت سے دکھ سکتاہے لیکن اولی پیہ کہ نہ دکھے

کیونکہ اس سے بھجول پیاہوتی ہے۔ اور بدراپی میں کہاہے کہ شوہراور پیوی دونول ایک دوم سے کی شرمنگاہ کونہ کیسین

کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایاہے کہ جب تم میں کوئی اپنی پیوی سے صحبت کرے تو جمال

تک ہموں سے پردہ کرے اور گہوں کی طرح بل پردہ نہ ہوجا کیسے لے کراسے انسان میں بھجول پیاہوتی ہے۔

اور امام ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ آپ نے امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ سے دریافت کیاکہ مردآگراپنی پیوی

کی شرمنگاہ کوچھوں لے اور پیوی اپنی شوہر کی شرمنگاہ کوچھوں لے تاکہ پیوی میں شہوت پیاہوتی کیاسے کوئی گناہ ہے؟ یہ

سن کر امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا نہیں بلکہ مجھے امید ہے کراسے اجرزیادہ ملگا۔ (ذخیرہ12)

برہمنہوں کی مما نعت

مسور بن مخر مرضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (ایک مرتبہ)

میں نے ایک بجاری پتھراٹھالیااور جس وقت میں چلنے لگا تو میرا کپڑا (لیجنی ہے بند میرے بدن سے)

گزر پڑااور (بوچھلی ہوئے) میں اسکو پکڑ نہ سکا، میری اس حالت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا

تو فرمایا اپنا کپڑا لیجنی تھہی بندر لے لو (اور باندھلو) اور برہمنہ مرت چلو (اس کی روایت مسلم نے کی ہے)

غلام کی حثیت ماکده کے لے اجلی مرد جسی ہے

سعید بن المسیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (سورۃ نور،

پ:18، ع:4 کی آیت نمبر 31 کے پیکلمات) "اُومَا مَلَکْتُ أَيْمَانُهُنَّ" تم کو دھوکہ میں نہ

ڈالیں، کراسے مراد کنیزیں ہیں (کہ پیاپنی ماکده کا بناوسنگار دکیسکتی ہیں) اور (آیت کے ان

کلمات سے) مراد غلام نہیں ہیں (کیونکہ وہ اپنی ماکده کے مواضع زینت کنیزنہ کیسکتے کرانہیں

حثیت اجلی مرد جسی ہے)۔ اس حدیث کی روایت ابن الیثیب نے کی ہے اور شیخ البوعامد رحمۃ اللہ

علیہ نے حضرت فاطمہ کے واقعہ والی حدیث (جس میں غلام سے پردہ نہ کرنے کا ذکر ہے) اس

بات پر مول کیا بے کراس حدیث میں لفظ غلام کا ذکر بے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ رکا کم عمر بنی

نابالغ تھا اور پیرواقع ایک اتفاقی واقع تھا (جس سے ماکہ اور غلام میں بے پردگی پردیل نہیں لی

جا سکتی )-

ف (1): واخ ہو کر حدیث فاطمہ سے مراد وہ حدیث ہے جس کو البوداود نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے

روایت کی ہے جس میں حضرت فاطمرضی اللہ عنہا کے غلام سے پردہ فرما نے پرسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلم نے ارشاد فرما یا غلام سے

پردہ نہ کرنے میں کونی حرج نہیں -صدر کی حدیث جس کے راوی حضرت سعید ابن المسبیب بین اور یہ حدیث جس کے

راوی حضرت انس یعنی دونوں میں بظاہر تعارض معلوم ہوتا ہے اس تعارض کو حافظ البواحد جرجانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس

طریق دور فرما یا ہے کہ حضرت انس والی حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لی لی فاطمہ سے فرما یا

"ہو غلام کے " جس سے معلوم ہوتا ہے کروہ نا بالغ لڑکا تھا اس لے پچون سے گوش نہیں یا پہری ایک اتفاقی واقع تھا

جس سے غلام اور ماکہ میں بے پردگی کے ثبوت پر دلیل نہیں لی جاسکتی جسیا کہ نیل الاوطار میں صراح تے ہے

ف (2): صدر کی حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ غلام کی حثیت ماکہ کے لے اجنبی مرد جسی سے اس لے کہ

غلام گھر کے کاموں کے لے کر تے سے گھر میں آیا جا کرتا تے اور اسی وجہ سے فتنہ کا انڈیشہ رہتا ہے اس لے اس کا حکم

ماکہ کے لے اجنبی مرد کاہے جسیا کر حضرت حسن بصری اور حضرت ابن جبیر رحمہ اللہ نے فرما یا ہے البنت ضرورہ ماکہ

کے چھرے اور باہوں پراس کی نظر پڑ جا ے تو کوئی حرج نہیں اور ضرورہ وہ گھر میں بغیر اجازت کے داخل ہوسکتا ہے

البتہ ماکہ کے ساتھ سفر میں کر سکتا - پخلاص میں نذکور سے اور امام شافعی اور امام ماکہ رحمۃ اللہ علیہما نے فرما یا ہے کہ غلام

کی حثیت ماکہ کے لے محرم جسی سے ہے -12 (ماخوذ از درمتاراور رواختار)-

مختلف کا گھر ول میں آنا جانا ممنوع ہے

ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ

وسلم ان کے بعل تھا اور گھر میں ایک مختلف تھا تو اس نے عبد اللہ بن ابی امیہ جوام المومنین ام سلمہ

کے بجا تی تھا ان سے کہا اے عبد اللہ ! اگر اللہ تعالی طائف فتح کر دے تو میں تم کو غیلان کی جی

بتاول گا (وہ ایسی بخاری بھر کم عورت ہے) وہ آئی ہے تو چھار (شکن) کے ساتھ اور جانی ہے تو آٹھ (شکن) کے ساتھ (پین کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا لیے (مخنث) لوگ تمہارے گھر نہ آیا کریں۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پرکی ہے)۔ ف : درختار میں کہا ہے کہ خصی اور مخنث کا حکم جو جماع پر قدرت نہیں رکتا اجنبی عورت کے دیکھنے کے بارے میں صحیح اور سالم مرد کی طرح ہے۔12

Anas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “By the One in Whose Hand is my soul, a servant does not believe until he loves for his brother what he loves for himself.” [Agreed Upon]

4252

اورابن ماجے کی ایک روايت میں امام موثقین حضرت عاشر رضی اللہ عنہا سے مروي ہے آپ فرما تے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم کی شرمگاہ کو بھی نہیں دیکھا نے کہ میں میری نگاہ آپ کی شرمگاہ پر پڑی-

ف: مرقات میں کہا ہے کہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ پیوی اور باندی کی شرمگاہ کو بھی حاصل کرنا ہے اور

درختار میں بھی کچھ کہاہے کہ آدمی اپنی پیوی اور لونڈی کی شرمنگاہ کوشہوت سے دکھ سکتاہے لیکن اولی پیہ کہ نہ دکھے

کیونکہ اس سے بھجول پیاہوتی ہے۔ اور بدراپی میں کہاہے کہ شوہراور پیوی دونول ایک دوم سے کی شرمنگاہ کونہ کیسین

کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایاہے کہ جب تم میں کوئی اپنی پیوی سے صحبت کرے تو جمال

تک ہموں سے پردہ کرے اور گہوں کی طرح بل پردہ نہ ہوجا کیسے لے کراسے انسان میں بھجول پیاہوتی ہے۔

اور امام ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ آپ نے امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ سے دریافت کیاکہ مردآگراپنی پیوی

کی شرمنگاہ کوچھوں لے اور پیوی اپنی شوہر کی شرمنگاہ کوچھوں لے تاکہ پیوی میں شہوت پیاہوتی کیاسے کوئی گناہ ہے؟ یہ

سن کر امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا نہیں بلکہ مجھے امید ہے کراسے اجرزیادہ ملگا۔ (ذخیرہ12)

برہمنہوں کی مما نعت

In the matter of modesty, it is said that a person can see his own private parts out of desire, but not the first water, as it leads to arousal. And it is said regarding ugliness that both the husband and wife should not see each other's private parts, because the Messenger of Allah ﷺ said: 'When any of you has intercourse with his wife, he should keep it hidden from people, like a sheep, so that it does not become a cause of arousal.' And it is narrated from Imam Abu Yusuf, may Allah have mercy on him, that he asked Imam al-A'zam, may Allah have mercy on him: 'If a man covers his private part and his wife covers her private part, so that there is no arousal, is there any sin in this?' Upon hearing this, Imam al-A'zam, may Allah have mercy on him, said: 'No, rather I hope that there will be increased reward.' (Zakhirah 12) This is the characteristic of the Brahmins.

4253

مسور بن مخر مرضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (ایک مرتبہ)

میں نے ایک بجاری پتھراٹھالیااور جس وقت میں چلنے لگا تو میرا کپڑا (لیجنی ہے بند میرے بدن سے)

گزر پڑااور (بوچھلی ہوئے) میں اسکو پکڑ نہ سکا، میری اس حالت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا

تو فرمایا اپنا کپڑا لیجنی تھہی بندر لے لو (اور باندھلو) اور برہمنہ مرت چلو (اس کی روایت مسلم نے کی ہے)

غلام کی حثیت ماکده کے لے اجلی مرد جسی ہے

Miswar ibn Makhramah (may Allah be pleased with him) narrated: I was carrying a heavy stone, and while I was walking, my garment fell off me, and I could not pick it up. The Messenger of Allah (ﷺ) saw me and said to me: "Take your garment and do not walk naked" [Narrated by Muslim]

4254

سعید بن المسیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (سورۃ نور،

پ:18، ع:4 کی آیت نمبر 31 کے پیکلمات) "اُومَا مَلَکْتُ أَيْمَانُهُنَّ" تم کو دھوکہ میں نہ

ڈالیں، کراسے مراد کنیزیں ہیں (کہ پیاپنی ماکده کا بناوسنگار دکیسکتی ہیں) اور (آیت کے ان

کلمات سے) مراد غلام نہیں ہیں (کیونکہ وہ اپنی ماکده کے مواضع زینت کنیزنہ کیسکتے کرانہیں

حثیت اجلی مرد جسی ہے)۔ اس حدیث کی روایت ابن الیثیب نے کی ہے اور شیخ البوعامد رحمۃ اللہ

علیہ نے حضرت فاطمہ کے واقعہ والی حدیث (جس میں غلام سے پردہ نہ کرنے کا ذکر ہے) اس

بات پر مول کیا بے کراس حدیث میں لفظ غلام کا ذکر بے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ رکا کم عمر بنی

نابالغ تھا اور پیرواقع ایک اتفاقی واقع تھا (جس سے ماکہ اور غلام میں بے پردگی پردیل نہیں لی

جا سکتی )-

ف (1): واخ ہو کر حدیث فاطمہ سے مراد وہ حدیث ہے جس کو البوداود نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے

روایت کی ہے جس میں حضرت فاطمرضی اللہ عنہا کے غلام سے پردہ فرما نے پرسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلم نے ارشاد فرما یا غلام سے

پردہ نہ کرنے میں کونی حرج نہیں -صدر کی حدیث جس کے راوی حضرت سعید ابن المسبیب بین اور یہ حدیث جس کے

راوی حضرت انس یعنی دونوں میں بظاہر تعارض معلوم ہوتا ہے اس تعارض کو حافظ البواحد جرجانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس

طریق دور فرما یا ہے کہ حضرت انس والی حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لی لی فاطمہ سے فرما یا

"ہو غلام کے " جس سے معلوم ہوتا ہے کروہ نا بالغ لڑکا تھا اس لے پچون سے گوش نہیں یا پہری ایک اتفاقی واقع تھا

جس سے غلام اور ماکہ میں بے پردگی کے ثبوت پر دلیل نہیں لی جاسکتی جسیا کہ نیل الاوطار میں صراح تے ہے

ف (2): صدر کی حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ غلام کی حثیت ماکہ کے لے اجنبی مرد جسی سے اس لے کہ

غلام گھر کے کاموں کے لے کر تے سے گھر میں آیا جا کرتا تے اور اسی وجہ سے فتنہ کا انڈیشہ رہتا ہے اس لے اس کا حکم

ماکہ کے لے اجنبی مرد کاہے جسیا کر حضرت حسن بصری اور حضرت ابن جبیر رحمہ اللہ نے فرما یا ہے البنت ضرورہ ماکہ

کے چھرے اور باہوں پراس کی نظر پڑ جا ے تو کوئی حرج نہیں اور ضرورہ وہ گھر میں بغیر اجازت کے داخل ہوسکتا ہے

البتہ ماکہ کے ساتھ سفر میں کر سکتا - پخلاص میں نذکور سے اور امام شافعی اور امام ماکہ رحمۃ اللہ علیہما نے فرما یا ہے کہ غلام

کی حثیت ماکہ کے لے محرم جسی سے ہے -12 (ماخوذ از درمتاراور رواختار)-

مختلف کا گھر ول میں آنا جانا ممنوع ہے

Sa‘id ibn al-Musayyib (may Allah be pleased with him) narrated: Do not be deceived by the verse: except those whom their right hands possess. It refers only to female slaves and not to male slaves [Narrated by Abu Shaybah]. The Shaykh Abu Hamid interpreted the Hadith of Fatimah (may Allah be pleased with her) to mean that the slave was young, due to the use of the term "ghulam" (boy) and because it was a specific incident

(1) The statement: "It refers only to female slaves, etc." means that her male slave is like a stranger to her, because the risk of temptation from him is like that of a stranger, or even greater due to frequent interaction. The texts prohibiting this are absolute. The meaning of the verse: or those whom their right hands possess [An-Nur: 31] refers to female slaves, not male slaves, as stated by Al-Hasan and Ibn Jubayr. Thus, he may only look at her face and hands. Indeed, he may enter upon her without her permission by consensus, but he may not travel with her by consensus, as stated in "Khulasah." According to Ash-Shafi‘i and Malik, he is like her mahram. This is derived from "Ad-Durr al-Mukhtar" and "Radd al-Muhtar." In "Fatawa Qadikhan," a male slave looking at his free mistress, with no kinship between them, is like a free stranger man; looking at a free stranger woman, he may look at her face and hands but not at what a free stranger man may look at of a free stranger woman, whether he is castrated or not, if he has reached maturity.

(2) The statement: "The Shaykh interpreted, etc." is as stated in "Nayl al-Awtar"

Ibn al-Laythi has narrated this hadith, and Sheikh al-Bu'amad (may Allah have mercy on him) commented on the hadith concerning Lady Fatimah (may Allah be pleased with her) (which mentions not observing purdah from a slave) that in the Buhari hadith, the word 'slave' is mentioned without any qualifier, indicating that the slave was a young boy who had not yet reached puberty, and the incident was an isolated event (from which general rules regarding purdah between a woman and a slave cannot be derived).

(1): The hadith referred to as the hadith of Fatimah is the one narrated by Al-Bu'daud from Anas (may Allah be pleased with him), in which the Messenger of Allah (peace be upon him and his family) advised Lady Fatimah (may Allah be pleased with her) that there is no harm in not observing purdah from a slave. This is in contrast to the hadith narrated by Sa'id ibn al-Musayyib and the hadith narrated by Anas, where there appears to be a contradiction. Hafiz al-Bu'aini Jurgani (may Allah have mercy on him) resolved this contradiction by stating that in the hadith narrated by Anas, the Prophet (peace be upon him and his family) said, 'It is a young boy,' indicating that he was not yet pubescent, and it was an isolated incident. Therefore, it cannot be used as evidence for the permissibility of not observing purdah between a woman and a slave, as mentioned in Nihayat al-Awtar.

(2): The hadith of Sa'id ibn al-Musayyib establishes that a slave is considered a non-mahram man for a woman because slaves come into the house to perform household tasks, and there is a concern of temptation. Therefore, the ruling for a slave is the same as for a non-mahram man. As Imam Hasan Basri and Ibn Jubayr (may Allah have mercy on them) stated, if a woman's hair or arms are seen by a non-mahram man, there is no harm, provided it is out of necessity, and he can enter the house without permission. However, traveling with a non-mahram man is not permissible. Imam Shafi'i and Imam Malik (may Allah have mercy on them) stated that a slave is considered a mahram for a woman, meaning he is treated like a close relative.

It is prohibited for a non-mahram man to enter and leave a woman's house freely.

4255

ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ

وسلم ان کے بعل تھا اور گھر میں ایک مختلف تھا تو اس نے عبد اللہ بن ابی امیہ جوام المومنین ام سلمہ

کے بجا تی تھا ان سے کہا اے عبد اللہ ! اگر اللہ تعالی طائف فتح کر دے تو میں تم کو غیلان کی جی

بتاول گا (وہ ایسی بخاری بھر کم عورت ہے) وہ آئی ہے تو چھار (شکن) کے ساتھ اور جانی ہے تو آٹھ (شکن) کے ساتھ (پین کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا لیے (مخنث) لوگ تمہارے گھر نہ آیا کریں۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پرکی ہے)۔ ف : درختار میں کہا ہے کہ خصی اور مخنث کا حکم جو جماع پر قدرت نہیں رکتا اجنبی عورت کے دیکھنے کے بارے میں صحیح اور سالم مرد کی طرح ہے۔12

It is narrated from Umm Salamah, may Allah be pleased with her, that the noble Prophet ﷺ was her husband, and there was something different in the house, so he said to Abdullah bin Abi Umayyah, who was her foster brother, 'O Abdullah! If Allah, the Exalted, grants us the conquest of Ta'if, I will tell you about a woman from Ghilān (who is a very beautiful woman). If she comes, she will come with four (attendants), and if she is known, she will come with eight (attendants).' The Messenger of Allah ﷺ said, 'Do not let effeminate men enter your house.' (This narration is agreed upon by Bukhari and Muslim.)