Nūr al-Maṣābīḥ
بَابُ الشِّرْكَةِ وَالوَكَالَةِ وَالمُضارَبَة

Partnership, Agency, and Profit-Sharing
Volume 6 · Transactions

(شراکت، وکالت اور مضاربت کا بیان)

ف: اس باب میں معاملات اور کاروبار میں ایک دوسروں کے ساتھ شراکت ہونے، دوسروں کو اپنے کاروبار کا کوئی بنانے اور ایک کا پیسے اور دوسروں کی محنت سے کاروبار انجام دینے کا بیان ہے۔

وقول اللہ عزوجل: "وَإِذَا كَثِرُوا مِنَ الخُلْطَآءِ لَيُبْغِى بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ إِلاَّ الذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَاتِ وَقَلِيلٌ" مَاهُمْ".

اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: (سورۃ ص، پ:23، ع:2، آیت نمبر:24، میں) اور اکثر شرکاء کی عادت ہے کہ ایک دوسروں پر (یعنی) زیادتی کیا کرتے ہیں مگر ایسے جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اور نیک کام کرتے ہیں اور ایسے لوگ بہت ہی کم ہیں۔

وقول اللہ تعالیٰ: "فَأَبْعَثُوَا أَحَدًا مِنكُم بِوَرِقِكُمْ هَذَا إِلَى المَدِینَةِ فَلْيَنظُرْ أَيْهَا أَزْکَى طَعَامًا فَلْيَأتِكُم بِرُزِقٍ مِنهُ وَلِيتَلَطَّفُ وَلا يُشْعِرَنَّ بِكُمْ أَحَدًا".

اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: (سورۃ کهف، پ:15، ع:3، آیت نمبر:19، میں) (اصحاب کہف کے ایک دوسروں سے کہا) اپنے میں سے کسی کو روز پیہڑے کر شہر کی طرف بھیجو پھر وہ وہاں پہنچ کر خریدیں کرے کر کوئی کہنا حالال ہے تو اس میں سے تمہارے پاس پچھلے کھانا لے آوے اور (سب) کام خوش تدیری سے کرے اور (یہی یاد رہے کہ) کسی کو تمہاریخبر نہ ہوئے۔

ف: نذورہ دونوں آٹوں میں سے پہلی آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ شراکت معاملات میں درست ہے اور دوسری آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ معاملات میں وکالت جائزہ جسیا کہ اصحاب کہف نے اپنی طرف سے ایک شخص کو کوئی بنانے کر بھیجا تاکر وہاں کے لے حلال کھانا لاۓ۔

کاروبار میں شراکت کا جوابز

زبرہ بن معبد رحمۃ اللہ تے روایت ہے کران کے داراعبدا للہ بن بشام رضی اللہ عنہ ان کو بازار لے جاتے اور غلم خریدا کرتے۔ وہال ان سے حضرت ابن عمر اور حضرت ابن

زبیر رضی اللہ علیہما ملت اور فرما تے کہ خریداری میں تم کو مجھی شرکی کر لو کہ مجھی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تمہارے لئے برکت کی دعا ئے فرمائی بہ چنانچہ وہ ان حضرات کو اپنی خریداری میں شرکی کر لیا کرتے (راوی کہتے ہیں کہ میرے دادا کو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعا ئے کی برکت سے کاروبار میں اتنا فائدہ ہوتا کہ ) وہ کچھ (فا ئده میں ) اونٹ لا دہ کر (غلم ) اپنے گھر لے جایا کرتے _ (راوی کہتے ہیں دعا ئے کی برکت کا اقعیہ ہے کہ ) عبد اللہ بن بشام کوان کی والدہ نے بی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا تھا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سر پر با تہ کچھ اور ان کے لئے برکت کی دعا ئے فرمائی _ اس کی روایت بخاری نے کی ہے _ ف : اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ کاروبار میں دوسرے کو شریک کرنا جائز ہے _ ایک کی ملک اور دوسروں کی محنت سے کاروبار کا جواز

This chapter deals with partnerships, agency, and profit-sharing in business transactions. It discusses how people engage in partnerships, appoint others as their agents, and conduct business using one person's capital and another's labor.

And Allah, the Exalted, says: “And when they increase in number, some of them wrong others, except those who believe and do righteous deeds, and they are few.” (Surah Sad, Chapter 38, Verse 24)

And Allah, the Most High, instructs: (In Surah Al-Kahf, Chapter 18, Verse 19) “And send forth one of you with this silver (coin) to the city, then let him see which of them has the purest food, so let him bring you provision thereof, and let him be gentle, and let no one be aware of you.”

From these two verses, it is evident that partnerships in business transactions are valid, and the second verse establishes that agency in transactions is permissible, as the People of the Cave appointed one of their own to go and bring lawful food.

This is the response regarding partnership in business.

Zubayr (RA) used to take his partner and say, 'Include me in your business, for the Prophet (SAW) has invoked blessings for you.' Thus, he would include them in his business. (The narrator says that my grandfather, due to the blessings of the Prophet’s (SAW) invocation, would benefit so much in his business that) he would bring camels as profit and take them home. (The narrator says that the manifestation of the blessings of the invocation is that) Abdullah ibn Basham’s mother had presented a camel to the noble Prophet (SAW) in his service, and the Prophet (SAW) placed his hand on her head and invoked blessings for her. This narration is recorded by Bukhari. Hence, it is evident from this noble hadith that it is permissible to include others in one's business, whether through ownership or labor, thus making such partnerships lawful.

4010

(جب مهاجرین نے مکہ کے مرہ سے مہجرت کرنے مدینہ منورہ میں قیام کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مهاجرین اور انصار میں بجائی چارہ کروا دیا جس کے نتیجہ میں انصار نے اپنے مال واسباب پیہال تک کر اپنے زانک پیوپول کوطاق دے کر اپنے مهاجرین بجاپیول کے نکاح میں دے دیا ) ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ انصار نے ( اس جذبہ ايثار کے پیش نظر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ ہمارے اور ( مهاجرین ) بجاپیول کے درمیان کچور کے وخت کی کچی تقسیم فرامدت کر (پیس کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا (یا لگ کا شکاری نہیں جانتے اس لے ) ان کی محنت تم اپنے ذمہ رکھو لیجن کچیتوں کا پانی دینا اور گر انی کرنا ان کے ذمہ رہے گا ) اور پیاوار میں تم تمہارے شرکی کریں گے (اور محنت کے اعتبار سے پیاوار کی تقسیم کر دینا _ انصار کہنے گے (یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ ! )، تم

کوپیارشارہمرودپشتمنظورہے۔

اسکیروايت بخاری نے لی ہے۔

ف : اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ فریقین میں ایک کی ملک یا قلم ہوااور دورسرے کی محنت ہوتو منافع میں

فریقین کا حسب معابدہ شریک ہوناجاتہہے۔

معاملات میں دیانت کی برکت

Abu Hurairah narrated that the Ansar said to the Prophet (ﷺ): “Divide the palm trees between us and our brothers.” He said, “No.” They said, “You bear the labor, and we share the fruit with you.” They replied, “We hear and obey.” [Narrated by Bukhari].

(2) “Bear the labor…”: Al-Muhallab said this supports musaqah’s permissibility. [From Umdat Al-Qari].

4011

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ

(کسی کاروبار میں )دوآدمی شریک ہون تو میں ان کے ساتھ تیسراخود ہوتا ہول (تاکہ ان کے مال

کی حفاظت اور اس میں خیروبرکت ہو، یا س وقت تک ہے )جب تک کہ ان میں سے کوئی ایک

اپنے ساتھی کے ساتھ خیانت اور بدیائی نہ کرے اور اگران میں سے کسی ایک نے خیانت کی تو میں

ان کے پاس سے ہٹ جاتا ہول (جس سے معاملہ کی خیروبرکت اور حفاظت ختم ہوجاتی ہے )اس

کی روایت ابوداود نے لی ہے اور زینے اس روایت کے آخر میں اتنااضافہ کیا ہے کہ (جب

فریقین کے درمیان خیانت آجائے ہے تو اللہ تعالی و بال سے ہٹ جاتے ہیں )اور شیطان آجا تا

ہے (جس کی وجہ سے نفاق بہ برکت اورنقصان شروع ہوجاتا ہے )

ف : نیلاوطار میں کہا ہے کہ اس حدیث شریف میں خیانت سے نچکر شرکت کے ساتھ معاملات انعام

دنے کی ترغیب ہے۔

خیانت کابل خیانت سے نہ دینا چاہئے

From him, attributed to the Prophet (ﷺ), he said: “Allah, the Mighty and Sublime, says: I am the third of two partners as long as neither betrays the other. If one betrays, I depart from them.” [Narrated by Abu Dawud. Razin added: “And Satan comes.”]

(1) The statement: “I am the third of two partners as long as neither betrays”: This hadith encourages partnership without betrayal and warns against it with betrayal. This is stated in Nail Al-Awtar.

4012

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے

روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جوشخص تم پر اعتمااداور جھرو سے

کرے تو تم اس کے اعتبار کو پورا کرو۔ لیکن اگر امانت رکھائی بے تو حفاظت کرواور مطالبہ پرواپس کرو

اور اگر کونی کام سپرد کرے تو اس کودیانت کے ساتھ پورا کرواورحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیغمبرشاد فرمایا کہ )اور جو شخص تمہارے ساتھ خیانت کرے تو(اس کے بدلمیں تم بھی اس کے ساتھ)

خیانت نہ کرو۔ اس کی روایت قرآنی، اپرواوداورداری نہ کیے۔

امانت اور خیانت کا بیان

ف : اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ شخص تمہارے ساتھ خیانت کرتے تم اس کے ساتھ خیانت نہ کرو۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ خیانت کابل خیانت سے نہ دور نہ تم بھی خاصہوجاؤ گے۔ لیکن ایکصورت میں خیانت ہوگی

جب کسی شخص کے تمہارے پاس پچھا امانت رکھائی ہوااوروہتمہارا مقروض بھی ہے، اگروہشخص تمہارے قرض کی ادائی

میں کوتاہی کرے اور اپنی امانت تم سے لینا چاہے تو تم اپنا حق اس امانت میں سے نکلنے یا کولی اوردییرے روک کرباقی

مال واپس کروتو پی خیانت نہ ہوگی اس لے کر تم نہ اپنا حق لیاہے۔ اس کی تایر حضور علیہ صلاۃ اللہ کے ارشاد سے ہوتی ہے

جب کہ ابوسفیان کی یہوی نے آپ سے شکایت کی کہ ابوسفیان گھر کاخرچ دینے میں نجل کام لیتا تو حضور علیہ صلاۃ اللہ

نے ابوسفیان کی یہوی سے فرماياوستور کے مطابق تم اپنے اور اپنے چوک کاخرچ ان کے مال سے جو کفايت کے درجہ میں

ہو لیا کرو۔ ( ماخوذ از مرقات و کوب دری )-

شرکہ الا بدان کا جواز

From him, the Prophet (ﷺ) said: “Fulfill the trust to those who entrust you, and do not betray those who betray you.” [Narrated by At-Tirmidhi, Abu Dawud, and Ad-Darimi]

(1) The statement: “Do not betray those who betray you”: Al-Qadi said: This means do not deal with a betrayer by betraying him or reciprocate his betrayal with betrayal, becoming like him. It does not include taking one’s right from a denier’s wealth, as that is fulfillment, not betrayal’s aggression. This is stated in Al-Marqah. In Al-Kawkab Ad-Durri, it is stated: Its apparent meaning supports those who say one may not take their right from someone who owes it when they have the opportunity. However, deeper analysis confirms the Imam’s view undeniably. The explanation is that if someone takes a hundred from you, taking a hundred back does not wrong them. How could it, when Allah, the Exalted, said: The recompense for an evil is an evil like it (Ash-Shura: 40)? They agreed that calling the recompense an evil is for literary symmetry. Thus, the meaning here is: Do not take more than your right, as that is betrayal. Taking your exact right involves no betrayal. This is supported by the Prophet’s saying to Abu Sufyan’s wife, who complained of her husband’s stinginess: “Take what suffices you and your children reasonably.” The disagreement remains on whether one takes their right from the same type or from another. The Imam said: One may only take from the same type, as taking from another requires assuming a sale, which they have no authority for due to lack of guardianship. His two companions said: They may take from either, as they are equivalent in ruling. Ash-Shafi‘i said: They may take from another type, even real estate. Later jurists of our school favored this view due to the corruption of judges and their taking bribes in rulings.

4013

ابوعبیدہ رضی اللہ عنه، عبد اللہ بن مسعور رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں:

عبد اللہ فرماتے ہیں کہ میں، عمر اور سعد ( رحم میں ) غزوہ بدر کے دن مال غنیمت میں شرکت کا

معاہدہ طے کر لے ( لیکن جو پہلو لے گا تیول میں تقسیم ہوگا ) حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت

سعد روقیری لا گے اور مجھے اور عمر کو پچھی نہ ملا ( لیکن حسب معاہدہ تم تیول اس کی منفعت میں

شریک ہوئے )-

اس حدیث کی روایت ابوداود، نسائی اور ابن ماجے نے کی ہے۔

اور یہ حدیث "شِرْکَۃُ الْأَبْدَانِ" کے جواز کی ویل ہے۔

ف: واخ ہوکہ "شِرْکَۃُ الْأَبْدَانِ" (جسے دوآدمیوں کا ملک کرنا اور فح انجانا) پیہے کردو کا رگیر کسی

کام میں شرکت کا معنے کریں اور پیٹ کریں کر دو نول مساوی حثیت سے کام کریں گے اور فاکده کچھ مساوی لیس

گے۔ امام ما لك رحم اللہ نے کچھ اس کو جا تزر قرار دیا ہے۔ پینیلا اوطارے ماخوذ ہے۔

"شِرْکَۃُ الْأَبْدَانِ" کو جا تزر قرار دیا ہے۔ پینیلا اوطارے ماخوذ ہے۔

وہ تین چیزیں جواب عث برکت ہیں

Abu ‘Ubaidah narrated from ‘Abdullah, who said: “I, ‘Ammar, and Sa‘d partnered in what we would gain on the day of Badr. Sa‘d brought two captives, while ‘Ammar and I brought nothing.” [Narrated by Abu Dawud, An-Nasa’i, and Ibn Majah. It is evidence for partnership of labor]

(1) The statement: “I partnered”: This hadith is used as evidence for the permissibility of partnership of labor, as mentioned, where two workers partner in their work, each delegating the other to undertake and work for a known share of the wage, specifying the craft. Malik permitted it if the craft is the same. The Ahl Al-Bayt, Abu Hanifah, and his companions deemed it valid. Ash-Shafi‘i said all partnerships of labor are invalid. This is stated in Nail Al-Awtar.

4014

صحیب رومی رضی اللہ عنہ سے روایت سے وہ فرماتے ہیں کر سول اللہ صلی اللہ

علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما ہے ہیں تین چیز ول میں برکت ہے۔ وعدہ پر مال کا پچنا (تین ایک مقررہ

مدت کے وعدہ پر مال کا تج دینا کر خریدار قیمت کو حسب وعدہ سہولت ادا کرے) اور مضاربت

(تین ایک کامل ہواور دومسرے کی محنت ہواور نفع باہم تقسیم کر لیں) اور گھریلو استعمال کے لئے

گیہون میں جو کولانا نہ کرتا رت کے لئے۔ (کیونکہ پیگناہ ہے اور گھریلو استعمال کے لئے اپیا کرنا

با عث برکت ہے)۔ اس حدیث کی روایت ابن ماجے نے کی ہے۔

کاروبار میں کالت درست ہے

پہلی حدیث

Suhaib (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Three things bring blessing: sale on credit, profit-sharing, and mixing wheat with barley for the household, not for sale.” [Narrated by Ibn Majah. In some versions, “mutual partnership” replaces “profit-sharing.”]

4015

عروہ بن الی الجعد بارقی رضی اللہ عنہ سے روایت سے کر سول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ

وسلم نے ان کو ایک دینار دیا کر وہ کبری خرید لا یں تو انہوں نے اس ایک دینار میں دو کبریال

خرید یہ چھرا ایک کبری کو ایک دینار کے عوض تج دیا اور ایک دینار اور ایک کبری حضرت صلی اللہ علیہ و

آلد و سلم کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی خریدو فروخت میں برکت کی دعا فرمائی تو اب ان کا ایسا حال ہوگیا کہ وہ میں بھی خریدی تو ان کو فعہوتا اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔

ف: اس حدیث شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ معاملات میں کسی کو کیل بنانا جائزہ اور کالہ کے بعد ما کے مال میں ویل جوہی تصرف کر لے جائزہ اور کالا خریدو فروخت کی درست ہے بشرطیہ ما کے اس کواس تصرف کی اجازت دے مرقات

دوسری حديث

‘Urwah ibn Abi Al-Ja‘d Al-Bariqi narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) gave him a dinar to buy a sheep for him. He bought two sheep, sold one for a dinar, and brought him a sheep and a dinar. The Prophet (ﷺ) prayed for blessing in his trade. He was such that if he bought dust, he would profit from it. [Narrated by Bukhari]

(1) The statement: “To buy a sheep for him”: Ibn Al-Malik said: This indicates the permissibility of delegating in transactions and all matters allowing representation. If someone sells another’s property without permission, the sale is valid pending the owner’s approval. This is our view. Ash-Shafi‘i said in one opinion: It is not permissible, even if the owner approves afterward. This was discussed in the chapter on prohibited sales. This is stated in Al-Marqah.

4016

حجیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کو ایک دینار دے کر بیجا کر دیا اس سے قربانی کا جانور خرید کر لا کیا انہوں نے اس ایک دینار میں ایک دنیہ خریدارا اور پھراس کودودینار میں تج دیا پھرا ایک جانور قربانی کے لیے ایک دینار میں خریدا اور اس کو منافع کے ساتھ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس منافع کے دینار کو خیرات کر دیا (تاکہ ذخیرہ آخرت بن جائے) اور حضرت حجیم بن حزام کے لیے ان کے کاروبار میں برکت کی دعا فرمائی۔ اس کی روایت نزدیک اور ابوداود نے کی ہے۔

تیسری حدیث

Hakim ibn Hizam (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) sent him with a dinar to buy a sacrificial animal. He bought a ram for a dinar, sold it for two dinars, returned, and bought a sacrificial animal for a dinar. He brought it and the extra dinar from the other. The Messenger of Allah (ﷺ) gave the dinar in charity and prayed for blessing in his trade. [Narrated by At-Tirmidhi and Abu Dawud]

4017

جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں خیبر جانے کا راہ کیا تو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور سلام کر نے کے بعد عرض کیا کہ میرا خیبر جانے کا راہ ہے (اجازت کے لیے حاضر ہواہول پیکر) حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم

نے ارشاد فرمایا کر (بال خیر جا اور) جب و بال میرے و کیلے ملو تو 15 وسق کھجور یں میرے لے لیتے آنا۔ اگر قم دینے کے لے وہ کوئی نشانی ماںگے تو اس کے حلقوں پر ہاتھوں رکھ دینا (پنشانی حضور صلی اللہ علیہ وآلم وسلم نے اپنے و کیلے کو پیلے ہی بتلا دی تھی)۔

اس کی روایت ابوداود نے کی ہے۔

Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: I intended to go to Khaybar, so I came to the Messenger of Allah (ﷺ), greeted him, and said: “I intend to go to Khaybar.” He said: “When you reach my agent, take fifteen wasqs from him. If he seeks a sign from you, place your hand on his collarbone.” [Narrated by Abu Dawud]