Nūr al-Maṣābīḥ
بَابُ تَكْمِلَةِ الْمَنْهِيّ عَنْهَا مِنَ الْبَيْعِ

Prohibited Sales (Continued)
Volume 6 · Transactions

اس باب میں وہ کیا ان ممنوعہ اقسام کا تکملہ ہے جس کا ذکر پہلے باب میں گزر چکا ہے۔

اور ان سے متعلق بعض امور کا بھی بیان ہے۔

(جسیا کراشعة اللمعات میں ذکور ہے)

درختوں کے پھل اور غلام کا مال معموآ پیچ و لے کے ہول گے

This chapter is a continuation of the prohibited categories mentioned in the previous chapter, and also discusses some matters related to them.

As mentioned in Jaseerat al-Lama’at, the fruits of trees and a slave’s property will generally be subject to division.

3947

امام محمد رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب الاصل کے "باب الشفع" میں روایت کی ہے

کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جو شخص کوئی زمین خریدے۔ جس میں کچور کے درخت ہوں

تو ایسی صورت میں گے ہوئے پھل پیچ و لے کے ہول گے سواے اس صورت میں کہ خریدار شرط

لا دے (کہ درختوں کے ساتھ پھل بھی اس کے ہول گے پر شرط اس لے درست ہے کہ اس میں

نفس معاملہ کی نہیں ہوتی۔)

Imam Muhammad (may Allah have mercy on him) narrated in his book Al-Asl, in the chapter 'Bab Ash-Shafa'

that the Noble Prophet ﷺ said: 'If a person buys land in which there are kuchur trees, then in such a case, the fallen fruits will belong to him, except in the case where the seller stipulates (that the fruits of the trees will also belong to him). However, this stipulation is only valid if it pertains to the same transaction.'

3948

اور مسلم نے "کتاب البيوع" میں اور بخاری نے "کتاب الشرب" میں

مرفوآ روایت کی ہے کہ جو شخص کوئی غلام خریدے اور اس غلام کے پاس پچھا مال بھی ہو تو وہ مال

(غلام کے) پیچ و لے کا بھی ہوگا سواے اس صورت میں کہ خریدار شرط لا دے۔ (کہ غلام کے

ساتھ اس کا مال بھی میرا ہوگا)-

نچ وا قع ہو جائے نے کے بعد کوئی رعايت دی جائے تو جائز ہے

Muslim narrated in The Book of Sales and Bukhari in The Book of Drinking (1) a marfu’ hadith: "Whoever buys a slave who possesses wealth, the wealth belongs to the seller unless the buyer stipulates otherwise."

(1) Bukhari in The Book of Drinking, As cited in Ashi’at al-Lama’at.

(2) "A slave who possesses wealth", The Malikis used this to argue that slaves can own property. Ahmad and Al-Shafi’i (in an earlier opinion) held that a slave owns property if the master permits it. Abu Hanifah and Al-Shafi’i (later) maintained that slaves cannot own property; the possessive pronoun here denotes restricted use (tamlik).

(3) "The wealth belongs to the seller unless the buyer stipulates otherwise", This is agreed upon, as mentioned in Rahmat al-Ummah.

3949

جابربن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ

صلوۃ اللہ علیہ و علی آلہ و صحبہ اور لوگوں میں تم سب سے پہلے پہلے رہے ہو میں نے عرض کیا کہ میرا اونٹ تھک گیا ہے (جس کی وجہ سے میں پیچھے ہو گیا ہو لیسن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ (اونٹ کے قریب تقریب لا گے) اس کی دم پکڑا اور اس کو چپکا یا (چھرتا پیاونٹ ایسا تیز چلنے لگا کہ) میں لوگوں میں سب سے آگے ہو گیا (اور اونٹ کی تیزی کا پیچال تھا کہ) اس کا سر (اور اونٹول سے آگے جار با تھا) جس سے مجھے جیرت ہو رہی تھی۔ جب تم مدینہ منورہ سے قریب ہوئے تو حضور علیہ صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ ارشاد فرمایا جابر تمہارا اونٹ اب کیسا ہے؟ وہ مجھے نظر آ دو، میں نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ ! وہ تو آپ ہی کہہ! آپ نے فرمایا (طیبہ) ایسائے کرو بلکہ اس کو مجھے (قیمتا) نظر دو، میں نے (دوبارہ) عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ ! یہ تو آپ ہی کامل ہے حضرت علیہ صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ (قیمتا) نظر دو! میں اس کو ایک او قیہ چاندی کے معاوضہ میں خرید لیا اور تم مدینہ پہوچنے تک اس پرسواری کر سکتا ہوا اور جب مدینہ منورہ پہوچا جاو تو اس اونٹ کو لے کر ہمارے پاس آجا چنانچہ جب میں مدینہ منورہ پہنچا تو اس اونٹ کو لے کر حضرت علیہ صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ علیہ صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ رضی اللہ عنہ فرمایا: اے بلال! تم (جابر کا اونٹ کی قیمت میں) ایک او قیہ چاندی تول کر دے دو اور ایک قیراط مزید چاندی دیو میں نے (دل میں) کہا یا ایک قیراط چاندی ایسی نعمت ہے جو قیمت کے علاوہ) رسول اللہ حضرت علیہ صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ نے مجھے زائد عطا فرمائی ہے انذا (میں نے عہد کر لیا کہ یہ زائد چاندی عمر بھر میرے پاس ہی تبرکارہے گی اور) جدانہ ہوگی - چنانچہ وہ میرے پاس ہی رہی بہال تک کہ یوم حرہ میں جب کرشامی فوجی آئی تو لوٹ ماریس (اور چیز ول کے ساتھ) پیغمت

جبہی تعم سے چھین لی گئی - (جس کا مجھے بیش افسوس رہا)- اس کی روایت نسلی نہیں ہے۔

It is narrated from Jabir bin Abdullah (RA) that he said:

I was among the people with the Messenger of Allah ﷺ, and I was the first to say, 'My camel is tired' (which caused me to fall behind). The Messenger of Allah ﷺ came near the camel, held its ear, and stroked it. It then started moving so quickly that I became the first among the people (and the speed of the camel was such that) its head (was ahead of the camels) which made me feel uncomfortable. When we were near Madinah, the Messenger of Allah ﷺ said, 'Jabir, how is your camel now?' Let me see it. I replied, 'O Messenger of Allah ﷺ! You yourself said it!' He said, 'No, show it to me, let me see it.' I replied, 'O Messenger of Allah ﷺ! It is completely fine, let me show it to you!' I bought it for a piece of silver and could ride it until we reached Madinah. When we arrived in Madinah, I brought the camel to the presence of the Messenger of Allah ﷺ, and he said, 'O Bilal! Give Jabir a piece of silver for the camel and an additional carat of silver.' I thought, 'An additional carat of silver is such a blessing that the Messenger of Allah ﷺ has given me beyond its value.' I resolved that this extra silver would remain with me as a blessing for my entire life, and it remained with me until the day of Harrah, when the Kharji army came and took it away along with other possessions, which caused me great sorrow. This is not a hereditary tradition.

3950

حضرت جابر رضي اللہ عنه تے ارشاد فرمايا) میں نے تمہارے اونٹ کو اتي چاندی کے معاوضے میں لیا اور (چونکہ تمہارے پاس اور کوئی سواری نہیں تھا اس لیے) عاریاً تم کو اجازت دیتا ہوں کہ مدینہ منورہ تک تم اس پرسوار ہو کر پہنچو۔

ف : اس حدیث شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ اس نے میں کوئی شرط شامل نہیں تھی، حضرت علیؓ نے حضرت جابر کو اتي کے لیے پاجانے کے بعد اونٹ سے استفادہ کی اجازت عاریاً دی ہے جو شرائط نہیں ہے۔ اس لیے پیغماءلہ مشر و اتي کی تعریف میں نہیں آتا۔

معاملات میں ایسی شرط جائز نہیں جو خلاف شرع ہے

This noble hadith establishes that there was no condition included in it. Ali (RA) granted Jabir permission to use the camel after paying its price without any conditions, which are not part of the transaction. Therefore, it does not fall under the definition of a sale with a condition. Conditions in transactions that are contrary to the Sharia are not permissible.

3951

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضي اللہ عنها سے روايت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ میرے پاس بریہ رضي اللہ عنها (لونڈی) آئی اور کہنے لگی کہ ام المؤمنین بلبلی عائشہ میں اس شرط پر مکاتب ہوتی کہ میں اپنے ماکو نو9 او قی ادا کر دوں اس طرح کہ ہرسال ایک او قی دیا کروں گی (ایک او قی میں چا لیس دراہم ہوتے ہیں اس طرح نو او قی کے 360 دراہم ہوتے) پس آپ اس معاملہ میں میری مدد کیجئے اور بریہ رضي اللہ عنها نے اپنی کتابت کے بارے میں (تفصیلات) لی نہیں کیے تھے (کتابت پیہ کر غلام یا باندی اپنی آزادی کے تعلق سے اپنے ماکے سے پچھ معاوضہ لی کر لے، حضرت بریہ رضي اللہ عنها کی مدد کی ورخواست پر) ام المؤمنین حضرت عائشہ رضي اللہ تعالیٰ عنها نے فرمايتم اپنے ماکے پاس جاؤ اور اگروہ اس بات کو پیند

کریں کہ میں ان کو کیمشت کتابت کا معاوضہ دیں گے تو وہ تمہیں آزاد کریں اورتی و لاء مجھے حاصل

ہوگا ( حق و لاء پیہ کر غلام یالوندی آزاد ہو نے کے بعد انتقال کر جائے اوراس کا حق و ارث نہ

ہوتا اس کا مال اس کے آزاد کرنے والے ما ک کولتا ہے ) حضرت برپہ رضی اللہ عنہا اپنے ما کے

کے پاس گئیں اوران سے پیصوت بیان کیس تو انہوں نے اس بات کے تسلیم کرنے سے انکار کیا

اور کہا تو چاہ تو کیمشت رقم دے کر آزادی حاصل کر لے کیین حق و لاء مجھی حاصل رہے گا ( پی

س کر ) ام المومنین رضی اللہ عنہا نے اس واقعہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے

ارشاد فرمايان لوگوں کے انکار سے تم اس ( نکے ) کام سے نہ رکو بلکہ برپہ کو خرید لوا اور پھر ( بغیر کسی

شرط کے ) آزاد کرو اور حق و لاء تو اس کا ہے جو آزاد کرتا ہے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان

کٹرے ہوئے اور ( خطبر ارشاد فرمايا ) اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان فرما تی اور ارشاد فرما کر لوگوں کا

کیا حال ہے کہ وہ ایسی شرطیں کرتے ہیں جوالشکی کتاب میں نہیں ہے ( یاد رکھو ) ہر ایسی شرط جو اللہ

کی کتاب میں نہیں ہے وہ باطل ہے اگر چہ وہ ایسی شرطیں جو کر لیں اللہ کا فیصلہ ہی برحق ہے اور

اللہ تعالیٰ کی شرط مستحکم ہے اور حق و لاء اس کو حاصل رہتا ہے جو ( غلام یالوندی کو ) آزاد کروے

اس کی روایت طحاوی نے کی ہے اور بخاری اور مسلم میں اس کے قریب قریب روایت ہے

حق و لاء فروخت ہوسکتا ہے نہ بہہ

Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: Barirah came to me and said"I made a contract of manumission (kitabah) with my owners for nine uqiyyat, payable annually. Help me, for I have not paid anything."

Aisha proposed"Return to your owners. If they agree, I will pay the full amount in exchange for your wala’ (right of inheritance)." They refused, saying"If she wishes to pay voluntarily, let her, but the wala’ remains ours."

When Aisha informed the Prophet (ﷺ), he said"Do not let this stop you. Buy and free her, for wala’ belongs to the liberator."

He then addressed the people: "Why do some impose conditions not in Allah’s Book? Every invalid condition is void, even if a hundred. Allah’s decree is most rightful, and His bond is strongest. Wala’ belongs to the liberator." [Narrated by Al-Tahawi; similar in agreed-upon hadiths]

(1) "Do not let this stop you", This implies the permissibility of selling a slave with a manumission condition, as the owners had stipulated retaining wala’, which presupposes freeing the slave. The Prophet (ﷺ) approved the sale but invalidated the condition, ruling that wala’ belongs to the liberator.

The Hanafis deemed such sales void due to the prohibition of combining sales with conditions (bay‘ wa shart). Al-Shafi’i (in his later view) validated the sale but nullified the condition.

The hadith also shows that a mukatab (slave under contract) can be sold if they consent or default, though Abu Hanifah and Al-Shafi’i disagreed, arguing that Barirah had defaulted.

(2) "Buy and free her", This indicates that a mukatab can be sold before completing payment, as Malik and Ahmad held. Abu Hanifah and Al-Shafi’i restricted this to cases of default.

(3) "Wala’ belongs to the liberator", Most scholars held that if a freed slave dies without heirs, their wealth goes to the treasury. Abu Hanifah argued that wala’ could also be established through oath (hilf).

3952

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے : آپ فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

نے حق و لاء کی فروخت پیاس کے بہبه کرنے ( لیجن پیچ دوسروں کو ( دین ) سے منع فرمایے اس

کی روایت بخاری اور مسلم میں متفرق طور پر کی ہے

ولاء کی حثیثت ایک رشتے دار کی طرح ہے

ف : اس حدیث شریف سے حق و لاء کی حقیقت معلوم ہوتی ہے اور یہی معلوم ہوتا ہے کہ و لاء کی حقیقت نہیں ہے اور و لاء کی فائقی حق ہے۔ اور و لاء کی حثیثت ایک نا تو اور رشتے کی طرح ہے۔ لہذا کوئی معاملہ ایسی شرط سے نکیا جائے جو شر عا نا جائز ہو ورنہ معاملہ کا عدم ہو جائے گا۔

خریدار کے اور نقصان دونوں کا ما لک ہوتا ہے

Ibn Umar (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited selling or gifting wala’ (right of inheritance)." [Agreed upon]

3953

_ مخلد بن خفاف رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک غلام خریدا اور اس کی کمالی کو پنے خرچ میں لا تار با پھر میں اس غلام کے ایک عیب سے واقف ہوا اور اس معاملے کی کیسوتی کیلئے حضرت عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہما کی خدمت میں پیش ہوا آپ نے فیصلہ فرمایا کہ میں غلام کو واپس کر دوں اور اس کی کمالی کی لوٹادوں (اطمینان مزید کی خاطر) میں حضرت عردو بن زیر رضی اللہ عنہما کے پاس حاضر ہوا اور ان کواس پورے واقعہ سے مطلع کیا آپ نے فرمایا (تم تحویل تو قف کرو) میں آپ نے شام حضرت عمر بن عبد العزیز کے پاس جاون گا اور ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے آگاہ کروں گا جس کو میں نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما سے سنایہ اور اس فتنہ کے مقصد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدموں میں فیصلہ فرمایا تھا کہ نفع تاوان کے مقابلہ میں ہے (یعنی اگر غلام مر جاتا اس میں اور کوئی عیب پیدا ہوجاتا تو پیچھے والے پراس کا اثر نہ پرتا اسی طرح جو نفع غلام سے ملا ہے وہ بھی پیچھے والے کو واپس نہ ملتا چاہے ) چنانچہ حضرت عروہ شام کو حضرت عمر بن عبد العزیز کے پاس گئے (اور حضرت علیہ کے اس فیصلے کے ان کو مطلع فرمایا تو) انہوں نے میرے حق میں پی فیصلہ فرمادیا کہ (عیب کی وجہ سے غلام کو تو واپس کر دو لیکن) غلام کی کمالی کا

نفع میں خود لے لون اس کی روایت ثرچ السے میں کی ہے۔

ف: اس حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ خریدار خریدے ہوئے مال میں جس نفع کا اک ہوتا ہے ویسے ہی

نقصان کا بھی ذمہ دار ہوتا ہے جیسے ذکورہ حدیث میں غلام کے بارے میں مکن ہے کہ خریدی کے بعد غلام جاگ جاتا

یا فوت ہوجاتا تو خریدار ہی اس نقصان کا ذمہ دار ہوتا۔ لہذا نفع کی صورت میں جواس غلام سے حاصل ہوخریدار ہی

ماکہوگا۔

فروخت شدہ چیز میں اختلاف ہوجائے تو کیسوئی کا طریقہ

Makhulid ibn Khaffaf narrated:

I bought a slave, used him, then discovered a defect. When I sued the seller, Umar ibn Abdul Aziz ruled that I could return the slave but must compensate for his labor.

I consulted Urwah, who told me Aisha had narrated that the Prophet (ﷺ) ruled, ‘Profit follows liability.’ Urwah relayed this to Umar, who then allowed me to keep the earnings. [Narrated in Sharh al-Sunnah]

(1) "Profit follows liability", Scholars differed on this. Al-Shafi’i held that all usufruct (e.g., crops, offspring) remains with the buyer if the sale is rescinded. The Hanafis restricted this to separable gains (e.g., harvested crops), not generated profits (e.g., offspring).

3954

عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

نے ارشاد فرمایا ہے کہ خریدار اور بیچ والا دونوں میں (اپنے معاملے میں) اختلاف ہوجائے اور

فروخت شدہ چیز جول کی تول موجود ہواورفر لیقین میں سے کسی ایک کے پاس دوسرو کے مقابلہ

میں گوائی دینے والا کسی موجودہ ہوتا ایسی صورت میں دونوں لیجن بالع اورمشتری قسم کا یعنی کہ (وہ حق پرہے)اوراسکےبعدمعاملکوردیں فش کر دیں(خریداراپنی رقم لے لے اور بیچ والا پی

چیز لے)۔

اس حدیث کی روایت داری اور طبرانی نے کی ہے اور ابن احمد نے زیادات المستند میں اس

کی روایت کی ہے۔

بیع کمل ہوجانے کے بعد فش کیجے کا ثواب

Abdullah ibn Mas’ud (may Allah be pleased with him) narrated: "If the buyer and seller dispute while the goods are intact and neither has proof, they may rescind the sale." [Narrated by Al-Darimi, Al-Tabarani, and Ibn Ahmad in Ziyadat al-Musnad]

(1) "If the buyer and seller dispute", Al-Shafi’i ruled that the seller’s oath is prioritized, and the buyer may accept or reject it. The Hanafis required mutual oaths if the goods still exist, followed by rescission. If one party has evidence, it prevails.

3955

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد

فرما ہیں کہ جو شخص کسی مسلمان (بجاٹی) کی بیع کو (جس سے وہ ناخوشی کی وجہ سے نہ کرنا چاہتا

ہے) واپس کر دے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے گناہوں کو فش دے گا۔

اس کی روايت ابوواداورا بن ماجر نے کی ہے۔

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: "Whoever rescinds a Muslim’s sale, Allah will forgive his stumble on Judgment Day." [Narrated by Abu Dawud and Ibn Majah]

3956

اور ثر ح الس ن میں اس کی روایت مصانع کے الفاظ سے ثرتع شامی سے

روایت کی گئی ہےاورپرروايت مرسلہ ہے۔

ف : واضح ہوگا کوئی معاملہ خیار شرط کے ساتھ ط کیا جائے اور شرط کی مدت گذر جائے اس کے باوجود ایک

فریق کسی وجہ سے نا خوش ہےاور فیج چاہتاہے اگرچہ کر فیج سے فریق دوسری کا نقصان ہوتاہے پھر بھی وہ

ایک مسلمان بجاہی کی خاطر اس پر راضی ہو جائے اور فیج کر دے تو مہترہے اس لئے کر اس میں ثواب ہےاور اپنے

بجاہی پراحسان ہےاورحدیث میں اس کی ترغیب ہے۔

فروخت کے بعد مکان میں دفینہ نکل تو وہ غیر پیدا کا نہیں ہوتا

It will be clear that if a transaction is made with a condition and the period of the condition has passed, yet one party is dissatisfied for some reason and the other party wishes to annul it, even though this would cause loss to the other party, then the one who is a Muslim should be satisfied and annul it for his sake, and there is virtue in doing so, as well as a reward in it, and it is a form of generosity. There is encouragement for this in the hadith. If a buried item is found after the sale of a property, it does not belong to the seller.

3957

رضي الله عنه رويت به وه فرما ت هين كرسول الله صلى الله عليه وسلم

ارشاد فرماي هين كتم س په (ليمي حضرت داو علي السلام) كي امت مين ايك شخص س

دوسر س ايك زمين خريد (خريد ك بعد) اس زمين مين خريدن وال لئ ن ايك گھرا

پايا جس مين سونا تھا خريدار ن پچھا وال لئ س جا كر كہا تمہارا سونا تم لولئ ن توصرف زمين

خريد ك تھي اور سونا نہيں خريدا پچھا وال لئ ن كہا مين ن تم كوز مين اورز مين ميل جو پچھا فروخت

كرو يا (لهذا يسونا كهي تمہارا تھي) بي دونو فيصل ك لئ ايك صاحب كحكم بن ك (اوروه

ايك روايت ك لحاظ س حضرت داو علي السلام مين) حكم ن ان دونو لئ س پوچھا تمہاري كولي

اولاد ك ايك ن كہا مير بال ايك لڑا كہ او ردوسر ن كہا مير بال ارکي س توآ پن

فيصل كيا كر ك كا نکاح اس لڑكي س كر داو اوراس سون كوان پرخرچ كرو اور پچھا خيرات كهي كرو

اس کی روایت بخاری اورمسلم میں مستقہ طور پر کی ہے۔

مکان یاز میں فروخت کے بعد وفینہ وغیرہ نظ تواس کے احکام

ف: واضح ہو کر مکان یاز میں کی خرید و فروخت میں بیمسلد یاد رکھ کے قابل ہے کہ مکان کی فروخت میں ہر

وہ چیز داخل ہے جو عرف عام میں مکانیت کے لوازم میں شامل جیسے دیوار، تختہ، فرش وغیرہ اس لے یتمام چیزیں

مکان کے ساتھ متصور ہونگی اس طرح زمین کی فروخت کا بھی معالم کے اس میں ہر وہ چیز داخل ہوگی جو نظر آئی ہو

اور عرف عام میں زمین کہلاتی ہے جیسے پتھر، مٹی، ٹیل وغیرہ۔ اب اگر مکان یاز میں کی فروخت کے بعد ان میں کوئی

دفینہ نکل آئے یاز میں میں کوئی کان نکل آئے یا کیسی چیز ہو جوز میں کی جنس سے نہ ہوتا وہ پیچ وا لے کی ملک ہوگی۔ اور

اگر باعذ فینہ یا کان وغیرہ کو پچی ملک نہ بھی کر لینے سے انکار کر دے تو اسی چیز کا حکم لقطا ہوگا اور وہ لقطا کے شرائط کے

حت اصل ما کی ملک ہوگی۔ ( در مختارا ور رد المختار )۔

It is clear that in the sale of a house or land, it is permissible to sell without specifying, on the condition that everything included in the common understanding of the property is included, such as walls, planks, carpets, etc. All these things will be considered part of the property. Similarly, in the sale of land, everything visible and commonly understood as part of the land, such as stones, soil, hills, etc., will be included. If after the sale of a house or land, any buried treasure or ore is discovered that does not belong to the same category as the property, it will belong to the finder. If the seller refuses to transfer ownership of the buried treasure or ore, then the ruling of lost property (lqata) will apply, and it will become the property of the one who meets the conditions of finding lost property. (Al-Muharrar wa al-Radd al-Mukhtar)