(اس باب میں معاملات میں نزاع اور رعايت کرنا کاپیانے)
معاملات میں نزاع کرنے والے پر دعا کے رحمت
In this chapter, the discussion revolves around conflicts and the preservation of harmony in matters. It includes prayers for those who engage in disputes.
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرماے گا (جو معاملات میں) نزاع اور رعايت کیا کرتا ہے جب کہ وہ کوئی چیز فروخت کرتا ہے اور جب کہ وہ خریدتا ہے اور (قرض کے مطالبہ میں) تقاضہ کرتا ہے۔ اس کی روایت بخاری نے لکھے۔
معاملات میں نزاع کرنے والے پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کا ایک واقعہ
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
"May Allah have mercy on a man who is lenient when selling, buying, and collecting debts." [Narrated by Bukhari]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ پھلی امتوں میں سے ایک امت میں ایک شخص ایسا گزر رہا کہ اس کے پاس موت کا فرشتہ اس کی روح قبض کرنا کے لیے آیا تو اس سے سوال کیا کہ کیا تیرے پاس کوئی نیک عمل ہے؟ تو اس نے جواب دیا مجھے تو (کوئی نیک عمل) یاد نہیں! فرشتہ نے اس سے کہا پھر سوچ لے اور یاد کر لے (سوچنے کے بعد) اس نے جواب دیا مجھے کوئی نیک عمل یاد تو نہیں لیکن ایک عمل مجھے یاد آتا ہے اور وہ یہ ہے کہ) دنیا میں، میں لوگوں سے خرید فروخت کا معاملہ کرتا تو لوگوں پر (اس طرح) احسان کرتا کہ تقاضے کے وقت خوشحال کومہلت دیتا (کروہ سہولت سے ادا کرتا) اور تنگدست کو معاف کر دیتا تو اللہ تعالیٰ نے اس کی اس بات کو جنت میں داخل فرمائے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر لکھے۔
Hudhayfah (may Allah be pleased with him) narrated:
"A man from previous nations was about to die when the angel asked if he had done any good. He replied: 'I only know that I used to give extensions to the solvent and forgive the insolvent.' So Allah admitted him to Paradise." [Agreed upon]
Muslim's version from Uqbah ibn Amir and Abu Mas'ud adds: Allah said: "I am more worthy of such mercy - forgive My servant."
اور مسلم کی ایک روایت میں عقبہ بن عامر اور ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہما سے
حدیث کے آخری الفاظ اس طرح مردی میں کر (اس شخص کا بیان سن کر) اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ عفو اور درگز رکے معاون میں تجہ سے زیادہ معاف کرنے کا مستحق ہوئے (اے فرشتو!) میرے اس بندہ سے درگز رکرو! (سبحان اللہ! خداوند کریم کی اپنے بندر پر قدر عنايت کے ایک ذرا سی نگی پر (اس کے سارے گناہ معاف فرمادیا)۔
معاملات کے وقت فتنہ کے نے برکت میں جائیے۔
Hudhayfah (may Allah be pleased with him) narrated:
"A man from previous nations was about to die when the angel asked if he had done any good. He replied: 'I only know that I used to give extensions to the solvent and forgive the insolvent.' So Allah admitted him to Paradise." [Agreed upon]
Muslim's version from Uqbah ibn Amir and Abu Mas'ud adds: Allah said: "I am more worthy of such mercy - forgive My servant."
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ خرید و فروخت کے وقت معاملات میں زیادہ فتنہ میں نکھلا کرو (جبیا کہ بازار پول کی عادت ہے اس لیے فتنہ میں کہانے سے چڑیں) کہ جائیں لیکن خیر و برکت میں جائیں۔
(اور جھوٹی قسموں کا رواج ہوجاتا ہے)۔ اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔
ایضًا دوسری حدیث
Abu Qatadah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
"Beware of frequent oath-taking in sales, for it may boost trade but erase blessings." [Narrated by Muslim]
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنایہ کر (معاملات خصوصاً خرید و فروخت میں) فتنہ کے نے سامان تو فروخت ہو جاتا ہے لیکن (اس مال میں) برکت نہیں ہوتی۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔
وہ تین آدمی جن سے اللہ تعالیٰ ناراض رہیں گے
I heard the Messenger of Allah ﷺ say: 'When a person sells goods, especially in transactions of buying and selling, the goods are sold but there is no blessing in them.' This hadith is narrated by both Bukhari and Muslim. He also mentioned three people whom Allah will be displeased with.
ابوزر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ ارشاد فرمایا کہ تین آدمی ایسے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ناں سے بات کریں گے ناں کی طرف ویسے گے اور نہ ان کو (گناہوں سے) پاک کریں گے اور ان کو دور ناک عذاب
ہوگا۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا لیے بندخت اور محرم لوگ کون ہیں یارسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (ایک شخص سے نیچے تہ بند لکا نے والا (دوسرا) احسان جتنے
والا (تیسرا) جھونی قسم کھا کراپنال پیچے والا اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
پے اور دیانت دارتاجر کامرتہ
Abu Dharr (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (ﷺ) said:
"Three types of people Allah will not address on Judgment Day nor look at nor purify - for them is painful punishment." Abu Dharr asked who they were. He replied: "The one who lets his garment drag (out of pride), the one who reminds others of his favors, and the one who sells goods with false oaths." [Narrated by Muslim]
ابوعید خدری رضی اللہ عنہ تروايته وهفرماتے پی کرسول اللہ علیہ صلی اللہ
ارشاد فرما تے پی کر نہایت سچائی اور دیانت داری ستتجارت کرنے والا (کاحثر) انپیصد لیفین
اور شہدا ئے کے ساتھ ہوگا۔
اس کی روایت تزندی داری اور دار تینی نے کی ہے۔
He who trades with honesty and integrity will be with the martyrs.
اور ابن ماجہ نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس کی روایت کی ہے۔
خبرات تجارت میں ہوئے والی غلطیوں کا کفارہ ہے
the expiation for mistakes in trade is [the act of] giving information.
قیس ابن الی غرزہ رضی اللہ عنہ تروايته وهفرماتے پی کر تعم رسول
اللہ علیہ صلی اللہ کے زمانے میں دلالوں کو سا سره کیتے تھے ایک دفعہ رسول اللہ علیہ وآلم وسلم کا گزر
ہماری طرف ہوا تو آپ نے ہمارا ایا نام رکھا جو پہلے نام سے بہتر تھا اور ہم کو
یا مغشر التجار ! (اے گروہ تاجران) سے خطاب فرمایا (اور پیگی ارشاد فرمایا کہ تجارت میں
والا کچھ باع کی طرف ہوجاتا ہے اور کچھ مشتری کی طرف اور اس طرح دیانت سے دور ہوجاتا
ہے اور بعض وقت خود تاجر سمیں کہا لیتا ہے اس طرح) تجارت میں یہودہ با تین اور قسمیں شامل
ہو جاتی ہے اس لے تم (اے تاجر و! ان کے کفارہ میں) خبرات کیا کرو اس کی روایت ابو
دارد، تزندی، نسائی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
ان تاجرول کا بیان جن کا حشر فاجرول میں ہوگا
Qays ibn Abi Gharzah (may Allah be pleased with him) said:
"We were called 'brokers' (samasira) during the Prophet's time. Once he passed by us and gave us a better name, saying:
'O merchants! False speech and oaths often accompany trade, so mix it with charity.'" [Narrated by Abu Dawud, Tirmidhi, Nasa'i, and Ibn Majah]
عبید بن رفاعہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کے واسطے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عام طور پر تاجرول کا حشر قیامت کے دن فاجرول میں ہوگا سواۓ ایسے تاجرول کے (جو معاملات میں اللہ تعالیٰ سے ذریعے والے نکوکاراور سے پچھول (تجویزتمیں کہانے والے نہہول)- اس کی روایت ترمذی، ابن ماجہاوردارقینے کی ہے۔
Generally, the resurrection of the unjust judges will be with the tyrants on the Day of Resurrection, except for those who seek the help of righteous intermediaries and avoid speaking falsehood in their recommendations.
اور ترمذی نے کہانے کہ یہ حدیث حسن ثبت ہے۔
And Tirmidhi said: This hadith is hasan sahih.