زادها الله تعالي شرفا و تعظيما
(اس باب میں مدینہ منورہ کی فضیلت کا بیان ہے،
اللہ تعالیٰ اس ارض پاک کی عظمت کو برآہے)
مدینہ منورہ میں شکار کرنا حلال ہے
In this chapter, the virtues of Madinah Munawwarah are expounded, may Allah the Exalted glorify the sanctity of this pure land. Hunting in Madinah Munawwarah is permissible.
اس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابو ظہر رضی اللہ عنہ کا ام سلیم رضی اللہ عنہما کے
بطن سے ایک لڑکا تھا جس کو ابو عمیر کہا جاتا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے پہلے اور دجویں
کی باپی فرمایا کرتے تھے جب کہی وہ خدمت اقدام میں حاضر ہوا کرتے،اور ان کے پاس ایک
پرنده ہوتا تھا (جس کو انہوں نے پکڑ رکھا تھا) ایک مرتبہ ابو عمیر حاضر ہوئے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے ان کو رنجیدہ پایا تو دریافت فرمایا: ابو عمیر رنجیدہ کیون ہیں؟ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
ان کا پرنده "نُغَیْر" مرگیا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ابو عمیر تمہارا "نُغَیْر" کیا ہوا۔
اس کی روایت امام احمد نے کی ہے اور ابن الاثیر نے کہا ہے کہ یہ حدیث تھی ہے اور بخاری اور
مسلم نے اپنی پنچ میں اس کی روایت کی ہے۔
اور اس طرح ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے بھی روایت کی ہے۔
مدینہ منورہ میں شکار کے جائز ہونے کی ثبوت
ف: اس حدیث شریف سے واضح ہوگا کہ ابو عمیر رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ میں ایک پرنده کو
جس کر رکھا تھا اوراس بات سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واقف تھا، جس سے ان کو روا کچھ
نہیں گیا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کہ معظّم میں شکار کی جوما نہیں ہے وہ مدینہ منورہ میں نہیں ہے۔
اگر مدینہ منورہ میں شکار ممنوع ہوتا تو حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابو عبیدہ کو اس کی اجازت نہیں دیتے جسیما
کر امام طحاوی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے اور علامہ ذوالفستی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ اگر مدینہ منورہ میں شکار
حرام ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہیں کے شکار پر سکوت نہیں فرماتے اور حضرت ابن مسعود اور
حضرت ابن عمر اور امام الموتین علیہ رضی اللہ عنہم سے بھی مرودی ہے کہ مدینہ منورہ میں شکار ممنوع نہیں
ہے جسیما کہ کہ معظّم میں منع ہے اور نہیں بحقیقتی ہی ہے۔ جسیما کہ مرقات میں ذکور ہے۔12
مدینہ منورہ میں درختول کا کاشاجات زیادہ ہے
Anas (may Allah be pleased with him) narrated:
"Abu Talha had a son from Umm Sulaym called Abu Umayr. The Prophet (ﷺ) would joke with him when visiting. The boy had a small bird that died, making him sad. The Prophet (ﷺ) asked: 'Why is Abu Umayr sad?' They said: 'His bird died.' So he said: 'O Abu Umayr, what happened to your little bird?'" [Narrated by Ahmad. Ibn al-Athir said: This is sahih and recorded by Bukhari, Muslim, Tirmidhi, Nasa'i and Ibn Majah]
_ انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم (جب کہ معظّم سے تجرت فرما کر) مدینہ منورہ تشریف لا لے تو مسجد کی تعمیر کا حکم فرما اور بنو نجار
(کی جس زمین کو پسند فرما تو ان) سے ارشاد فرما کہ تم اس کی قیمت لے لو انہوں نے عرض کیا ہے کہ
اس کی قیمت تو اللہ تعالیٰ ہی سے لیں گے (یعنی دنیا میں تم کو اس کا معاوضہ مطلوب نہیں ہے، جب
پہان مسجد کی تعمیر کا آغاز ہوا تو) اس زمین میں مشرکین کی قبریں تھیں ان کو اکھاڑ دیا گیا اور اس میں جو
شیخ تھا ان کو برائی گیا اور کچور کے جو پیر تھا ان کو کٹ دیا گیا اور کچور کے تن کو مسجد کے قبل کی
جلد جمادی الیا۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم میں متفرق طور پر ہے۔
ف: اس حدیث تشریف میں ذکور ہے کہ مسجد نبوی کی تعمیر کے وقت اس زمین میں کچور کے جو
پیر تھا ان کو کٹ دیا گیا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر مدینہ منورہ میں درختول کا کاشا حرام ہوتا تو
حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کچور کے ان درختول کو کاٹنے کی اجازت نہیں دیتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مدینہ
منورہ میں شکار کرنے اور درختول کو کاٹنے کی ممانعت ایسی نہیں ہے جسے کہ معظّم میں ہے (ماخوذ از:
مرقات)
مدینہ منورہ میں شکار حلال ہے
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: When the Prophet (ﷺ) arrived in Madinah, he ordered the construction of the mosque and said, “O Banu Najjar! Name your price for this land.” They replied, “We do not seek any price except from Allah.” He then commanded that the graves of the polytheists be dug up, the ruins be leveled, and the date palms be cut. They aligned the cut palms towards the qibla of the mosque. [Agreed upon]
سلمۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے (ایک مرتبہ) دریافت فرمايتم کہ بال تھا (وہ کہتے ہیں) میں نے عرض کیا یارسول اللہ! میں شکار کر نے کے لئے باہر نکل گیا تھا حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر دریافت فرما کہ بال (شکار کر کے آنے ہیو) میں نے جب حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے شکار کی جلد بتانے تو مجھے ایسا محسوس ہوا کہ حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ جلد زیادہ پسند نہیں چنا پڑآ پہنے ارشاد فرمایا اگرتے (شکار کر کے) عقیق جاتے تو میں مجھی تمہارے ساتھ شکار میں رہتا (یا اگر تمہارے ساتھ نہ چل سکتا اور تم عقیق شکار کر کے) والپس ہوتے تو تم سے ملتا اس لئے کہ عقیق کی سرز میں مجھے بہت محبووب ہے (اور وبال کا شکار مجھے بہ حد پسند ہے)۔
اس کی روایت ابن ابی شیبا اور طحاوی نے کی ہے۔
Maslamah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) asked me, “Where were you?” I said, “Hunting.” He asked, “Where?” I informed him of the area, and he seemed displeased with it, saying, “If you had gone to Al-Aqiq, I would have escorted you when you left and welcomed you when you returned, for I love Al-Aqiq.” [Narrated by Ibn Abi Shaybah and Al-Sahawi; Al-Tabarani also narrated it with a chain authenticated by Al-Mundhiri]
اور طبرانی نے مجھی اس کی روایت ایسی سنے کے ساتھ کی ہے جس کو امام منذری نے حسن قرار دیا ہے۔
مدینہ منورہ میں شکار حلال ہونے کی تحقیق
ف: واضح ہو کہ صاحب نخیبر نے کہاہے کہ اس حدیث ثریف سے صراحت کے ساتھ واضح ہے کہ مدینہ منورہ میں شکار جائز ہے۔ اس لئے کہ سرزمین عقیق مدینہ منورہ میں داخل ہے اور اس پر سبقا اتفاق ہے اور حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عقیق کا شکار اس لئے پسند تھا کہ یہ بال کے جانور مدینہ منورہ کی نباتات کھاتے ہیں اس لئے عقیق کے شکار کو دوم رے مقامات کے شکار پرفوقیت ہے جیسے مدینہ منورہ کے پچلون کودوم رے مقامات کے پچلون پرفضیلت حاصل ہے جسیا کہ مرقات میں ذکور ہے۔ اس اس سے پی ثابت ہوا کہ اگر مدینہ منورہ کا شکار جائز نہ ہوتا تو حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عقیق میں شکار کر نے کو پسند نہیں فرما تے۔ اور اس حدیث سے ذہب حق کی تائید ہوتی ہے کہ مدینہ منورہ میں
شکار حالہ ہے۔12
مدینہ منورہ کے درختوں کی بولی کائن جاسکتی ہے
Maslamah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) asked me, “Where were you?” I said, “Hunting.” He asked, “Where?” I informed him of the area, and he seemed displeased with it, saying, “If you had gone to Al-Aqiq, I would have escorted you when you left and welcomed you when you returned, for I love Al-Aqiq.” [Narrated by Ibn Abi Shaybah and Al-Sahawi; Al-Tabarani also narrated it with a chain authenticated by Al-Mundhiri]
اس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرماپیا کہ کوئی احد ایسا پہائی ہے جو انہم سے محبت رکھتا ہے اور انہم اس سے محبت رکھتے ہیں، اس لے جب کچھ تم وال (جیسی کوئی احد کے پاس) پھو پھوتو اس کی بولی اگر چہ کہ خار دار ہو، کہا لیا کرو۔
اس کی روایت طبرانی نے اوسط میں کی ہے اور طبرانی سنن میں کثرت نزیدا ایک راوی ہیں جس کو امام احمد اور دیگر ائمه حدیث نے ثقت قرار دیا ہے اور ابن شہبہ نے کچھ ایسی ہی روایت کی ہے۔
ف: اس حدیث شریف میں ذکور ہے کوئی احد کے درختوں کی بولی کائن جاسکتی ہیں اور کوہ احد مدینہ منورہ میں واقع ہے، اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ مدینہ منورہ کے درختوں کو کائن جاسکتا ہے۔
اور یہی نہیب حقی ہے۔12
قیام میں میں وہال کی مشقتول پر صبر کرنا حضرت کی شفاععت کا باعث ہے
Anas (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said, “Uhud is a mountain that loves us and is loved by us. When you go there, eat from its trees, even from its thorny bushes.” [Narrated by Al-Tabarani in Al-Awsat; its chain includes Kathir ibn Zayd, whom Ahmad and others deemed reliable. Ibn Abi Shaybah narrated a similar version.]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرماپیا کہ میری امت میں سے جو کچھ شخص مدینہ منورہ کی سختی (اور بھوک،سردی یا گرمی) پر صبر کریگا تو میں اس کے لے قیامت کے دن شفاععت کرول گا۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said, “No one among my Ummah endures the hardships of Madinah except that I will be their intercessor or witness on the Day of Resurrection.” [Narrated by Muslim]
In another narration: “No one leaves Madinah out of dislike for it except that Allah replaces them with someone better. And no one steadfastly endures its hardships except that I will intercede or testify for them on the Day of Resurrection.”
اور مسلم کی ایک روایت میں حضرت سعد رضی اللہ عنه، سے اس طرح مرودی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرماپیا کہ (مدینہ منورہ میں جو لوگ سکونت اختیار کرتے ہیں دین و دنیا کی بحالی کے لے) مدینہ ان کے لے بہتر ہے، اگر وہ یہاں کے برکات اور یہاں کے قیام کی فضیلت کو محسوس کریں۔ (حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہی ارشاد فرماپیا کہ) اگر
کوئی شخص بے رغبت سے (بلا کسی ضرورت کے) مدینہ منورہ کو چھوڑ دے (تو وہ اپنا، یعنی نقصان کرے گا) اور اللہ تعالیٰ اس سے بہتر شخص کو (وہال کے قیام کے لئے) اس شخص کی جگہ بسادے گا اور (حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیغمبرشاد فرمایا کہ) جو شخص (مدینہ منورہ میں قیام کرے اور) یہال کی سختی، مشقت (اور بھوک پیاس کو) برداشت کرے اور ثابت قدم رہے تو میں قیامت کے دن اس کی شفاعت کرولگا اور (اس کی ثابت قدیم پر) گواہ رہونگا۔
عسرت (غریبی) کے ساتھ مدینہ منورہ میں رہنادوسرے مقاموں میں فارغ البالی کے ساتھ رہنے سے بہتر ہے
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said, “No one among my Ummah endures the hardships of Madinah except that I will be their intercessor or witness on the Day of Resurrection.” [Narrated by Muslim]
In another narration: “No one leaves Madinah out of dislike for it except that Allah replaces them with someone better. And no one steadfastly endures its hardships except that I will intercede or testify for them on the Day of Resurrection.”
سفيان بن ابي زهير رضی اللہ عنہ روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنائے کہ (میرے بعد) یہ سارے ملک فتح ہول گے اور مدینہ کے لوگ وہال جابین کے چناچہ پیلے) میں فتح ہولگا اور مدینہ کی ایک جماعت اپنے اہل و عیال اور اپنے ماتحت لوگوں کے ساتھ کوئچ کرے گی اور کسی جابے کی حالانکہ مدینہ منورہ کا قیام (یہاں کے برکات اور فضائل کے لحاظ سے) ان کے لئے بہتر تھا، اگروہ جانے تو پھراس کے بعد ملك شام فتح ہولگا اور ایک جماعت مدینہ منورہ سے اپنے اہل و عیال اور ما مالین کے ساتھ کوئچ کر گی اور وہال جابے گی حالانکہ مدینہ منورہ کا قیام ان کے لئے بہتر تھا اگروہ اس کو تجحتے پھر ملک عراق فتح کیا جابے گا اور اس طرح مدینہ منورہ سے ایک جماعت اپنے اہل و عیال اور ما مالین کے ساتھ وہال جابے گی، حالانکہ مدینہ منورہ کا قیام ان کے لئے (وہال کی سکونت سے) بدر جہاں بہتر تھا اگروہ اس کو تجحتے اس کی روایت بخاری اور مسلم میں متفرق طور پر ہے۔
ف: واضح ہوکہ اس حدیث شریف میں حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چند محجوزے ذکور ہیں:
اول یہ کہ حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہاں، شام اور عراق کی فتح کی خبر دی اور ایا کہ ہوا کر خلفا ہے
دوسرے بیکر بیسارے مماک اس ترتیب سے فتح ہوئے، پبل مین، چھر شام اور آخر میں عراق فتح ہوا۔ اور تیسرے بیکر مدینہ منورہ سے لوگ ان مکون میں جاکر آباد ہوگئے۔ اس حدیث شریف سے مدینہ منورہ میں سکونت کی فضیلت ثابت ہوتی ہے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل مدینہ کے لئے اپنی بہسا بیگی چھوڑنا پسند نہیں فرمایا۔ اس لئے کہ مدینہ منورہ کی برکات سے محرم ہوجانا ان لوگوں کے لئے بہتر نہیں۔ 12 مدینہ منورہ میں وفات پائے والوں کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خصوصی شفاعت کی خوشخبری
Sufyan ibn Abi Zuhayr (may Allah be pleased with him) narrated: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say, “Yemen will be conquered, and people will come forth with their families and followers. Yet Madinah is better for them if they knew. Then Syria will be conquered, and people will come forth with their families and followers. Yet Madinah is better for them if they knew. Then Iraq will be conquered, and people will come forth with their families and followers. Yet Madinah is better for them if they knew.” [Agreed upon]
اللہم ارزق نی شہادۃ فی سبیلک، واجعل موتي ببلد رسولک ایبی! تو مجھے اپنی راہ میں شہادت دے اورآپ کے رسول کے شهر میں میری موت دے۔
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرما یہ کہ جس کسی شخص کے لئے ممکن ہو کہ وہ مدینہ منورہ میں وفات پاسکے تو اس کی پینیت مبارک ہے، وہ مدینہ منورہ کو اپنی قیامگاه بنالے تاکہ اس کی وفات و بالہو سکے۔ اس لئے کہ جومدینہ منورہ میں وفات پائے جیں میں ان کی (خصوصی) شفاعت کرولگا۔ اس کی روایت امام احمداورترمزدی نے کی ہے۔ ف: صاحب مرقات نے کہاہے کہ اگر کوئی شخص مدینہ منورہ میں مستقل سکونت اختیار نہ کرے تو مدینہ پاک کی موت حاصل کرنے کے لئے اس کو چاہے کہ عمر کے آخری حصہ میں یا جب امراض کا تجوم ہو جائے اور موت کا اندیشہ ہو تو وہ مدینہ منورہ چلا جائے تاکہ و بال وفات پاسکے، اگروہ اس نیت سے راستے میں کسی مر جاے تو امید ہے کہ اللہ تعالی اس کو بھی اجر عطا فرما ئیں گے۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ یہ عافر ما کرتے تھے:
یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ مدینہ منورہ میں وفات پائے والے کو خصوصی شفاعت ملگی ہے
اس مبارک شہر میں وفات پائے والے کے لئے یغوث نبیؓ کے اس کا خاتمہ ایمان پر ہوگا - ماخوذ
از: "مرقات"
مدینہ منورہ کی آب وہوا اور غلم میں برکت کی دعاء
Ibn Umar (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said, “Whoever can die in Madinah, let them do so, for I will intercede for those who die there.” [Narrated by Ahmad and Al-Tirmidhi, who said: “This is a hasan sahih gharib hadith.”]
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مدینہ منورہ تشریف لا نے کے بعد (آب وہوا کی تبریکی کی وجہ
سے) حضرت ابو بکر اور حضرت بلال رضی اللہ عنہما کو جائزے سے بخارا نے لگا تو (ام المومنین فرماتی
ہیں کہ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (ان حضرات کی پیاری کی) خبر دی تو حضرت نے یہ
سن کر دعا فرمائی اے اللہ! جس طرح تو نے مکہ معظّمہ کو ہمارے لئے محبوب بنایا تحاسا ی طرح مدینہ
منورہ کو بھی ہمارا محبوب بنا بلکہ اس سے بھی زیادہ عزیز بناؤر (اے اللہ!) مدینہ منورہ کی آب وہوا کو
ہمارے لئے بہتر اور موافق فرمادے اور مدینہ منورہ کے پیانول صاح اورمدد (ناب پول) میں برکت
عطافرمااورحس وبا کی بخار میں ابل مدینہ بتلا جین اس کو یہاں سے ہٹادے (اور ان کو شفادے) اور
اس وبا کو جُعہ کی طرف (جہاں یہود آباد ہیں) منتقل فرمادے اس کی روایت بخاری اور مسلم نے
متقق طور پرکی ہے-
دعاوں سے بلا کیسے خلی جاتی ہیں
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: When the Messenger of Allah (ﷺ) arrived in Madinah, Abu Bakr and Bilal fell ill. I informed the Prophet (ﷺ), and he prayed, “O Allah, make Madinah as beloved to us as Makkah or more, and bless its sa‘ and mudd (measures). Remove its fever and relocate it to Al-Juhfah.” [Agreed upon]
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک مبارک خواب
کو جس کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ منورہ (کی وباے) کے بارے میں دیکھا تحاس طرح
پیان فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں نے خواب میں ایک سیاہ فام عورت
کو دیکھا جو پراغندہ بال تھی اور وہ مدینہ منورہ سے نکلی اور مجھیم میں چلی گئی - حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
فرماتے ہیں کہ میں نے اس کی تعبیر لی کہ یہ (سیاہ فام عورت) مدینہ منورہ کی وبا تھی جو مہیع ہوئی
جوہر میں منقل ہوگی۔ اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
ف: صدر کی دونوں حدیثوں سے چند فوائد حاصل ہوتے ہیں ایک یہ کہ جوہر جس مقام پر
رہتا ہووہال کی خوش حالی اور آمن وسلامتی کی دعا کیا کرے۔ دوسرا یہ بات یہ کہ بلا بین دعا کے
طل جاتی ہیں اور تیری بات پیکہ جو قوم اسلام اور مسلمانوں کی دشمن ہویا ظالم، اس کے لے بدوعا کرنا
چاہے۔ (اشعۃ اللمعات)
نے چھلون کو پہلے چھول میں تقسیم کرنا چاہے۔
Abdullah ibn Umar (may Allah be pleased with him) narrated regarding the Prophet's (ﷺ) dream about Madinah: "I saw a disheveled black woman leaving Madinah and settling at Mahya'ah. I interpreted this to mean that Madinah's plague would be transferred to Mahya'ah, which is Al-Juhfah." [Narrated by Bukhari]
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ تے روایت سے وہ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم
کی عادت یہی کہ جب (مدینہ منورہ میں) نیا چھل آتا تو اس کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت
اقدس میں لاتے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اس کو اپنے دست مبارک میں لیتے تو اسطرح دعا
فرماتے اے اللہ! ہمارے لے ہمارے چھلون میں برکت عطا فرما، اور ہمارے شہر میں بھی نہیروبرکت
نازل فرما اور اسیطر ح ہمارے صاحب اور ہمارے مدد بھی ناپ اور تول کے پیمانوں میں بھی برکت
نازل فرما۔ اے اللہ! حضرت ابراہیم (علیہ السلام) آپ کے خاص بنده، آپ کے دوست اور
آپ کے نبی تھا اور میں بھی آپ کا بندہ اور آپ کا نبی ہوں، تو جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام
نے کہ معظّم میں نہیرو برکت کی دعا کی تھی میں بھی اسی طرح مدینہ منورہ کے لے دعا کرتا ہوں۔
راوی حدیث حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ (اس طرح دعا فرما نے کے بعد) حضور صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے خاندان کے چھوٹے چھول کو بلاتے اور وہ چھل ان میں تقسیم فرماتے۔ اس کی
روایت مسلم نے کی ہے۔
ف: اس حدیث شریف میں ذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چھلون کو پہلے
چھول میں تقسیم فرما کرتے تھے، اس بارے میں صاحب اشعۃ اللمعات نے کہا ہے کہ حضور صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کا عمل ازراہ شفقت تھا اور صاحب مرقات نے کہا ہے کہ اس کی وجہ یہی کہ چھل ابھی
شروع ہوئے اور ہر کس و نا کس کو میسر نہیں آ سکتا اس لئے کاملین کی پیعادت مبارک ہوتی ہے کہ میوں اور چپلون کواس وقت تک تناول نہیں فرما تے جب تک سب کو میموں میسر نہ آئے۔ اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چپلون کو پیلے پھول میں تقسیم فرما کرتے تھے۔ 12 مدینہ میں خیر و برکت کے لئے دعاء
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: "When people would see the first fruits of the season, they would bring them to the Prophet (ﷺ). When he took them, he would say: 'O Allah, bless our fruits, bless our city, bless our sa' and mudd measures. O Allah, Ibrahim was Your servant, friend and prophet, and I am Your servant and prophet. He prayed to You for Makkah, and I pray to You for Madinah with what he prayed for Makkah and more.' Then he would call the youngest child present and give them the fruits." [Narrated by Muslim]
اس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (مدینہ منورہ کے لئے اس طرح) دعا فرمائی: اے اللہ! تو نے کہ معظّم میں جنتی برکت رکھی اس سے ذگنی برکت مدینہ منورہ کو عطا فرما اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔
مدینہ منورہ اور اہل مدینہ کی فضیلت
O Allah! You have placed the blessing of Paradise in Khaibar; grant double the blessing to Madinah al-Munawwarah. This narration is agreed upon by Bukhari and Muslim.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرما یہ کہ مجھے ایسی بستی میں تجارت کا حکم دیا گیا جو ساری بستیوں کو لحا لے گی (یعنی سارے شہر ول پر غالب آ یے گی جسے سب پر اعلیٰ دینے غالب اور فاتح رہیں گے اور تمام ان کے تالع رہیں گے) لوگ اس بستی کو (زمانہ جاهلیت میں) یثرب کہتے تھے اور (حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تجارت کے بعد) اس کا نام مدینۃ رکھا ہے اور پیغمبر کہا رول کواس طرح دور کر دے گا جس طرح جھٹی لوپ کے زنگ کو دور کر دیتی ہے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔
مدینہ منورہ قیامت کے آبادوشاداب رہے گا
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "I was commanded to migrate to a town that will consume (in importance) all other towns. They call it Yathrib, but it is Madinah. It purges away bad people as the furnace removes impurities from iron." [Agreed upon]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ارشاد فرما یے ہیں کہ (قیامت کے قریب جب کہ تمام بلاوی اسلامی ویران ہو جائیں گے
مدینہ منورہ آباد رہے گا اور سب سے آخر میں (عیسیٰ کی قیامت کے وقت) ورثان اور تبّاہ ہوگا (مدینہ منورہ کے آخر وقت آباد اور سرسبز رہنے کا سبب حضور مسرو کا نبات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وجود با برکت ہے)-اس حدیث کی روایت ترتیبی نہیں ہے۔ مدینہ منورہ میں بڑے لوگ نہیں رہ سکتے
The Messenger of Allah ﷺ said: 'Near the end of time, when all the calamities of Islam have been laid waste, Madinah will remain inhabited. And at the very end (at the time of the descent of Jesus), it will be inherited and destroyed. The reason Madinah remains inhabited and verdant until its final days is due to the presence of the Prophet ﷺ and the blessings of his residence.' - This hadith is not narrated in sequence. Great people cannot remain in Madinah.'
جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے (مجرّت کے بعد آپ کی خدمت اقدام میں رہے پر) بیعت کی، اس اعرابی کو مدینہ منورہ (میں قیام کے دوران) میں بخارآ نے لگا (جس پروہ صبر نہ کرسکااور) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا لے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میری بیعت نہ واپس فرامدتبے (جبہی مدینہ منورہ سے واپس کی اجازت دے دیکھے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے انکار فرمایا (وہ چلاگیا اور دوبارہ) حاضر ہوا اور پھر وہی سوال کیا کہ آپ میری بیعت واپس فرامدتبے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر انکار فرمایا (تیسری بار) پھر حاضر ہو کر عرض کیا کہ میری بیعت نہ واپس فرامدتبے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (تیسری بار کی) انکار فرمایا تو وہ اعرابی (سے صبری کی حالات میں بگیر اجازت مدینہ منورہ سے) چلاگیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب یہ معلوم ہوا تو) ارشاد فرمایا مدینہ منورہ کی مثل کچھ جسے ہے-(حس طرح کچھ میل چیل کودور کر دیتی ہے اس طرح) مدینہ منورہ ہیں لوگ کو دورو کر دیتا ہے اور اتنے لوگ کو خالص بنادیتا ہے-اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے-
Jabir ibn Abdullah (may Allah be pleased with him) narrated that a Bedouin pledged allegiance to the Messenger of Allah (ﷺ) then fell ill in Madinah. He came to the Prophet (ﷺ) saying: "O Muhammad, release me from my pledge." The Prophet refused. He came again and was refused. When he came a third time, the Prophet (ﷺ) said: "Madinah is like a furnace - it expels its impurities and purifies what is good." [Agreed upon]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآ لہ وسلم ارشاد فرما ئے جس کہ قیامت اس وقت تک قائم رہیں ہوگی جب تک کہ مدینہ ثمریول (یعنی کافرین اور منافقین ) کونکل باہرنے کرے گا جس طرح بھٹی لوپہ کے میل چیل کونکل دیتے ہے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
کہ معظّمہ اور مدینہ منورہ پردجال کا قابوئیس چلگا
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The Hour will not be established until Madinah expels its wicked people just as the furnace expels impurities from iron." [Narrated by Muslim]
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم ارشاد فرما ئے جس کہ (قیامت کے قریب) پرمشیر کودجال پمال کرے گا لیکن پرشہریین اس کا عمل داخل ہو جائے گا بجز کہ معظّمہ، اور مدینہ منورہ کے (کران دونوں مبارک شهرول پردجال کا قابونہ پچی گا۔ جب دجال کہ معظّمہ میں داخل ہوتے ماپوس ہو کر مدینہ منورہ کا رخ کرے گا تو دیکھے گا) کہ مدینہ منورہ کے پرراستہ پرفرش صف بستہ گغرانی کر رہے ہیں تودجال (فرشتون سے دمتکارے جانے کے بعد مدینہ منورہ کے باہرا کیشور زمین پراتر جائے گا تو اس وقت مدینہ منورہ میں رہن والوں کو تین مرتبہ ججوڑے گا جس کی وجہ سے پردجال کافر اور منافق مدینہ منورہ سے باہرنکل جائے گا(اور دجال سے جائے گا)۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفرق طور پر کی ہے۔
مدینہ منورہ میں قیامت تک وباءا ورطاعون داخل نہیں ہوگا
Anas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "There is no town that Dajjal will not enter except Makkah and Madinah. Every entrance of Madinah will have angels standing in rows guarding it. Dajjal will camp at the salt marsh, and Madinah will shake three times, expelling every disbeliever and hypocrite from it." [Agreed upon]
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم ارشاد فرما ئے جس کہ مدینہ منورہ کے راستوں (اور دروازول) پربیشتر فرشتے مقبر ہیں (جو اس پاک شہر کی گغرانی کرتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے) اس میں طاعون نہیں آ سکتا اور (قیامت کے قریب اس میں) دجال بھی داخل نہیں ہوسکتا۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفرق طور پر کی ہے۔
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ طاعون مذینہ منورہ میں نہیں ہوگا۔ یہ حضور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا مجھزہ ہے کہ چودہ صوبہ (1400) ہوئے میں اور مدینہ پاک میں ایک مرتبہ بھی طاعون نہیں ہوااور قیامت تک بھلا طاعون نہیں ہوگا۔ 12
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: If someone whose religion and character you are pleased with proposes to you, marry him. If you do not, there will be temptation on earth and widespread corruption. [Narrated by Tirmidhi]
(1) The statement: If someone whose religion and character you are pleased with proposes, He did not mention lineage or wealth, as if they are not to be considered, and because people seek them without mention, so there was no need to mention them. This is stated in Al-Kawkab Ad-Durri.
ابو برہ رضی اللّٰہ عنہ حضرت نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا(قیامت کے قریب) جس دن دجال نکل گا (اور ہر بستی کو تباہ کر لے گا لیکن) مدینہ منورہ میں (اس کا داخل ہونا تو کجا ابل مدینہ کو) اس کا خوف نہ ہوگا۔ اس لئے کہ مدینہ پاک کے سات دروازوں میں سے ہر دروازہ پر دودوفرشٹے (اس کی گزرائی کے لئے) امور ہول گے۔ اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
ابل مدینہ سے مگر کرنے کی وعید
Abu Bakrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (ﷺ) said: "The terror of Dajjal will not enter Madinah. At that time, Madinah will have seven gates, with two angels at each gate." [Narrated by Bukhari]
سعد رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ ابل مدینہ سے جو شخص بھی کمر وفریب کر لے گا تو وہ اس طرح محل جا گا جس طرح نمک پانی میں محل جا تا ہے۔
مدینہ منورہ کی پاکی وجوہ نبوی صلی اللّٰہ علیہ کی وجہ سے ہے
Sa'd (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "No one plots against the people of Madinah except that they will dissolve like salt dissolves in water." [Agreed upon]
جابر بن سمرة رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے مدینہ منورہ کا نام طابہ (پاکیزہ) رکها ہے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
ف: صحاب اشعة اللمعات نے کہا ہے کہ مدینہ منورہ کا نام اللّٰہ تعالیٰ نے طابہ اس وجہ سے رکها کہ ساکنان مدینہ پاک، شرک، کفر اور نفاق کی نجاستوں سے پاک رہتے ہیں۔ چنانچہ بعض عرفاء نے کہا ہے کہ مدینہ پاک کے درودیوار سے خوشبو آتی ہے۔ جس کوہرصحاب ایمان سونگھ سلتا ہے البتہ ایسا
شخص جس کا باطن کفر و نفاق اور دگر خباشون سے ملوث ہو، وہ اس سے محروم رہتا ہے۔ کسی نے خوب فرماپایہ: “بَطْنِب رَسوٰ لِ اللّٰہ طَابَ نِسِيْمُهَا” کہدینہ پاک کی آب و هواآجدارمیں دکے جود بابرکت کی وجہ سے معطر ہے۔ -12 حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کومدنہ پاک سے حد محبوب تھا 23/3794 - انس رضی اللہ عنہ سے رواپیت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کسی سفر تے (مدینہ پاک) تشریف لاپے اور مدینہ پاک کے درود پوار پرنگاہ مبارک پرتی (اور ناقہ پر آپعلیہ سوار ہوتے) تو ناقہ کودوزاپے اور (گھوڑے پاچیر ہوتے تو) اس سواری کو تیز چلاپے (اس لے کرآپ کومدینہ منورہ سے مجبت تھی اورآپجلد پہوچنا چاپے تھے)۔ اس کی رواپیت بخاری نے کی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مجبت کا پہاڑوں کو بھی اوراکے ہے 24/3795 - سهل بن سعد رضی اللہ عنہ سے رواپیت ہے وہ فرماپے میں کرسول اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماپے میں ککوہ اخد الیا پہائے ہے جو انہم سے مجبت رکتاپے اور انہم اس سے مجبت رکتا ہیں۔ اس کی رواپیت بخاری نے کی ہے۔ ف : واضح ہوکر صحاب مرقات نے فرماپیہ ککوہ اخد کی فضلیت میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کاپیارشاو اس وقت کا واقعہ ہے جب کرسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کے بمر اہ اس پر دونق افرود زتے تو کوہ اخد خوشی کے ماردے متحرك ہوگیا تو آپ نے ارشاد فرماپا: اے اخد پہار! تو ظہر جاپے وقت تجو پراپی نبی، اپیصد لیق اوردوشہید میں۔ اہ اس حدیث سے معلوم ہوتاپے کہ جس دل میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مجبت نہیں وہ قطرا سے سخت اور بدتر ہے اور اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتاپے کہ پہاڑوں کو بھی شعور اور اوراکے ہے۔
وہی کے ذرائع مدینہ منورہ کودارا لبجر ة قرار دیاگیا
Jabir ibn Samurah (may Allah be pleased with him) narrated: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: "Allah has named Madinah 'Taybah'." [Narrated by Muslim]
جعر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر تو نازل فرمائی (اور اختیار دیا) کہ ان تین شہروں میں سے آپ جس شہر کو ترجیحت کے لئے منتخب فرما کیں وہی آپ کا دار الہجرۃ ہوگا (وہ تین شہر یعنی) ایک مدینہ پاک (دومسر)۔ بحرین (جو دریا کے عمان میں ایک جزیرہ ہے اور آج تک اسی نام سے معروف ہے)۔ (تیسرے قصیرین (جو ملک شام کا ایک شہر ہے)۔ چنانچہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ پاک کودارا لبجر ة مشتب فرمایا)-
اس حدیث کی روایت ترمذی نے کی ہے-
Jarir ibn Abdullah (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (ﷺ) said: "Allah revealed to me to choose between these three places as my city of migration: Madinah, Bahrain or Qinnasrin." [Narrated by Tirmidhi]
امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ایک صحابی حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جوشخ (میرے روضے کی) زیارت کے ارادہ سے (مدینہ منورہ) حاضر ہوتے وہ قیامت کے دن میری پناہ میں ہوگا اور جوشخص مدینہ منورہ کو اپنا طن بنا لے اور بال کی خیتوں پر صبر کرے تو میں قیامت کے دن اس کا گواہ اور شفاعت کرنے والا ہوں گا اور جوشخص دونوں حرموں کے معظموں اور مدینہ منورہ میں سے کس ایک میں انتقال کرے تو اس کا حشر قیامت کے دن اس پا نے والول میں ہوگا-
اس کی روایت ترمذی نے "شعب الايمان" میں کی ہے-
نج اور زیارتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ترتیب کا بیان
A man from the family of Al-Khattab narrated that the Prophet (ﷺ) said: "Whoever visits me intentionally, I will intercede for him on the Day of Judgment. And whoever dies in either of the two Harams (Makkah or Madinah), Allah will resurrect them among the secure on the Day of Judgment." [Narrated by Al-Bayhaqi in Shu'ab Al-Iman]
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جوشخص نج کرے پھر میرے
بعد میری قبر کی زیارت کر تو اس کی مثل ای شخص کی ہوگی جس نے میری زندگی میں میری زیارت کی۔ اس کی روایت جہاں نے شعب الامان میں کی ہے۔ ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے "من حج فزار قبري"، جس کے لئے میرے روڈ کی زیارت کرے۔ یہاں لفظ "فزار" میں "ف" تعقیبی ہے، جس کے طرف اشارہ ہے کہ زیارة نبوی صلی اللہ علیہ و آل وسلم نے کے بعد کی جائے۔ جس کے قواعد ثبوت کا اقتضاء ہے کہ فرض کوسنت پرمقدم کیا جائے۔ چنانچہ ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے آگر فرض نماز کی ادائیگی کے لئے روایت ہوتی۔ بہتر ہے کہ عازم نماز پڑھنے کے لئے نماز کی زیارت کی جائے۔ جس کے علیہ و آل وسلم کے لئے قصد کرنا اور آگر نماز کی ادا کرنے کے بعد کی جائے۔ جس کے قواحد ثبوت کے مطابق پہلے نماز کرنا اور بعد میں زیارت کرنا ثابت ہوتا ہے۔ اور یہ واضح باٹ ہے کہ حق اللہ کو مقدم کرنا چاہیے۔ حق نبوی صلی اللہ علیہ و آل وسلم پر جسیا مسجد نبوی میں حاضری دینے جانے کے دوران خل ہوتے ہیں۔ تحیہ المسجد ادا کی جانے کے بعد روضہ قدس کے پاس حاضر ہو کر سلام عرض کیا جاتا ہے۔ ماخوذ از:
مدینہ منورہ میں دفن ہونے حضرت صلی اللہ علیہ و آل وسلم کو بحد پسند ہے۔
Ibn Umar (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Ill fortune is in the woman, the house, and the horse. [Agreed upon] In another narration: Ill fortune is in three: the woman, the dwelling, and the beast.
یہ بن سعید رحمۃ اللہ علیہ روایت ہے کہ (ایک مرتبہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم مدینہ منورہ کے مقبرے میں تشریف فرما ٹھاوار ایک قبر کودی جاری ہے۔ ایک شخص قبر میں جہاں کا اور کہا قبر مومس کی۔ بہت بری خواب گاہ ہے۔ پسن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آل وسلم نے اس کے ارشاد فرما تو نے جوکہا برا کہا! اس شخص نے عرض کیا (یا رسول اللہ!) میرا مشاء اللہ میں تجا بلکہ میرا تجا کر خدا کی راہ میں شہید ہو نے سے بہتر کوئی چیز نہیں (اور گر میں مر نے والے مومس کی قبر اس کے لئے بری خواب گاہ ہے) حضور صلی اللہ علیہ و آل وسلم نے پھر فرما (پتن کے) خدا کی راہ میں شہید ہو نے کے برابر کوئی چیز نہیں ہے (اور پیغی یاد رکھو!) زمین کا کوئی حصہ مجھے اتنا محوب نہیں کہ
وہال میری قبر ہو جتنا کہ مدینہ میں ( لیتنی مدینہ منورہ مجھے ساری دنیا سے زیادہ پسند ہے اور میں میں
اپنی قبر پسند کرتا ہوں ) ان الفاظ کو آپ نے تین مرتبہ فرمایا -
اس کی روايت امام ما لك نے مرسلا کی ہے -
واردی عقیق میں نماز پڑھنے کا ثواب
Yahya ibn Sa'id narrated that while the Messenger of Allah (ﷺ) was sitting near a grave being dug in Madinah, a man looked into it and said: "What a terrible resting place for a believer!" The Prophet (ﷺ) said: "How terrible is what you said!" The man replied: "O Messenger of Allah, I didn't mean that. I meant dying in Allah's cause." The Prophet (ﷺ) said: "Nothing compares to dying in Allah's cause. There is no place on earth where I would prefer to be buried more than this" - meaning Madinah - which he repeated three times. [Narrated by Malik as mursal]
الْحَمْدُ لِللهِ آج بَارتَخ 7/ شعبان المعظم 1393 ه مطابق 15/ ستمبر 1973ء بعد نماز مغرب مسجد حضرت پیرومرشد قبل قدس سرہ عبادات کا بیان ختم ہوا -
ان شاء الله تعالی آگنده معاملات کتاب الْبُیُوع سے شروع ہول گے -
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت فرما تے ہیں کہ انہوں نے فرمایا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو واردی عقیق میں پیارشاد فرما تے سناتے کر آئے کی رات ایک فرشتہ میرے پروردگار کی طرف سے آیا اور کہا اس مبارک واردی میں نماز پڑھتے اور بیفرما تے کہ بھال نماز پڑھنے کا ثواب اس عمر کے ثواب کے برابر ہے جونگ کے ساتھ کیا جائے اور ایک روایت میں اس طرح ہے کہ بھال نماز پڑھنے کا ثواب نے اور عمرہ دونوں کے ثواب کے برابر ہے -
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated that Umar ibn Al-Khattab (may Allah be pleased with him) said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say in Wadi Al-Aqiq: "A messenger from my Lord came to me tonight and said: 'Pray in this blessed valley and say: Umrah in Hajj.'" In another version: "Umrah and Hajj." [Narrated by Bukhari]