نے کی قربانی اور قربانی کے جانورول کا بیان
وقول الله عز وجل يا ايها الذين امنوا لا تحلوا شعاير الله ولا الشهر الحرام ولا الهدي ولا القلايد اور الل تعالي كا رشاد سوره ما نده ع ايت نمبر مي ا ايمان والو الل تعالي ك دين كي نشا ون كي ب حرمتي ن كرو مناسك ن كو وري تعظيم اور ا تمام ك سات ادا كرو اور حدود حرم اور احرام كي حالت مي شكارت ن كرو اور حرمت وا ل محيطون كي ب ي ب ادبي ن كرو كس مي كافرون س كر ن لو اور قرباني ك جانورول س تعرض ن كرو يعني غصب ن كرو راست ن روكاس ل ك ي حرم مي ذن و ن دال جانور ي اور ن ان جانورول كو ايذا يو ن او جتن ك لون مي و ن ي ك ي حرم مي قرباني ك ل خاص كردي ي وقوله والبدن جعلناها لكم من شعاير الله لكم فيها خير فاذكروا اسم الله عليها صوافا فاذا وجبت جنوبها فكلوا منها واطعموا القانع والمعتر كذلك سخرناها لكم لعلكم تشكرون لن ينال الله لحومها ولا دماوها ولكن يناله التقوي منكم كذلك سخرها لكم لتكبروا الله علي ما هدايكم و بشر المحسنين اور الل تعالي كا رشاد سوره نج ع ايت نمبر مي م ن قرباني ك اون اور ا اور ب ي وبري كو الل تعالي ك دين كي ياد ار بنايا ان جانورول مي تم ار ل كيي فايد ي دنيوي فايد ي ك تم
زِنگ کر کے کھائے۔ اور کھلا تے ہواور اخر وی فاندہ پیہ کر اس سے تم کو ثواب بھی مل گا) جب تم
(زِنگ کے لئے ان اونٹول کو) کطر اکرو تو (زِنگ کے وقت ان پر اللہ کا نام لو (یعنی بسم اللہ واللہ اکبر کہہ
کر (زِنگ کرو) جب وہ کسی کروط گر پڑی اور تختہ لے ہوجا کیسے تو ان کو تم بھی کھاوا اور (مثالج کو)
خواہ وہ ماگنے والا ہو یا نہماگنے والا ہو، ان کو کھلا او رتم نے ان جانورول کو تمہارے تالع کرواۓ
(کہ تم اپنے ضعف اور ان کی قوت کے باوجود ان کے زِنگ پر قادر ہوئے) تاکہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کا
شکر ادا کرو (خوب یاد رکھو کر) اللہ تعالیٰ کوان قربانیول کا نگوشت پہو چتا ہے اور نہ خون بلکہ اس کے
پاس تہمارا تقوا پہو چتا ہے (اس لئے اخلاص نیت سے محض اللہ تعالیٰ کی خوشنوودی کے لئے قربانی
کرنے چاہیے) اللہ تعالیٰ نے ان جانورول کواس لئے تہمارے تالع کیاہے تاکہ تم (ان کواللہ کی راہ میں
قربانی دے کر) اللہ تعالیٰ کی برداشت اس کے بتاؤے ہوئے طریقہ پر کرو (کراس نے تم کو قربانی اور
دیگر مناسک کی توفیق عطا فرمائی) اور (اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) خلوص نیت کے ساتھ ان
مناسک کے ادا کرنے والوں کو (مغفرت اور ثواب کی) خوشخبری سنا دتے ہیں۔
صلح حذیبی کے موقع پر حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قربانی دینے کا بیان
And eat thereof and feed the needy and the beggar. And when you have slaughtered them, you will also receive reward. When you slaughter these camels, invoke Allah’s name upon them (i.e., say Bismillah and Allahu Akbar) at the time of slaughter. When one of them falls down after being struck, take the knife and slaughter it. Feed them, whether they are beggars or not, and let them eat. Allah has subjected these animals to you so that, despite your weakness and their strength, you can slaughter them, in order that you may give thanks to Allah. Remember that Allah is interested neither in the flesh nor the blood of the sacrifices, but rather in your piety. Therefore, sacrifice with sincerity and solely for the pleasure of Allah. Allah has made these animals subservient to you so that you may offer sacrifices in His path and perform the rites as He has prescribed. Thus, He has granted you success in performing the sacrifices and other rituals, and (O Prophet ﷺ) He gives glad tidings of forgiveness and reward to those who perform these rites with sincerity. This is the account of the sacrifice offered by the Prophet ﷺ during the Treaty of Hudaybiyah.
2/3664 _ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم حذیبی کے سال (6 ہجری میں جب کرح حذیبی ہوئی اور آپ عمرہ کے لئے تشریف لے
گئے تو) قربانی کے جانورول میں ابونٹ بھی شامل تھا اونٹ کی ساتھ لے گئے (یوہی اونٹ تھا جو غزوہ بد ر کے
موقع پر مال غنیمت میں حاصل ہوا تھا) اس کی ناک میں سونے کی نتخن تھی (حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم اس اونٹ کو قربانی کے لئے اس لئے ساتھ لا لے تاکہ مشہر کیاں اس کو (زِنگ ہوتے ہوئے) دکھ کر
جلیس (کہ ان کے سردار کا اونٹ مسلمانوں کے باتدہ زنگ ہورہاہے)۔ اس حدیث کی روایت البودود
نہیں ہے۔
ف: واضح ہوگرہے حضرت علیؓ کے موقع پر حضوراقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو قربانی دی ہیں
وہ نفل اور شکرا نہیں دی گئی ہیں، اس لے کہ عمرہ میں قربانی واجب نہیں ہے۔
مرقات، اشعۃ اللمعات
قربانی کے اوٹھ کونشان لگانے کے لے بلکا زخم کرنا
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated: "The Prophet (ﷺ) offered as sacrifice at Hudaybiyyah a camel that belonged to Abu Jahl, which had a silver nose-ring (in another version: gold), to anger the polytheists." [Narrated by Abu Dawud]
_ ابنعباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (جب الوداع کے موقع
پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مقام ذو الحدید پر (جو اعلیٰ مدینہ منورہ کی میقات ہے ظہر کی
نماز ادافرماماآوراس اوٹھ کو طلب فرمایا(جس کو آپ بطور بدی قربانی کے لے لجانا چاہتا تھا)
پھرآپ نے اس اوٹھ کے کوبان کے سیدی جانب کنارے پر (بطور نشانی کے ) زخم لگا (تاکہ لوگ
تعرض نہ کریں، اوراس کو ایزا نہ پہو چا یں)اور (زخم کو صاف کیا اور) خون کو پو چھڑ دیا اوراس کے
گل میں دو یعنی بطور بار کے ذا لے (تاکہ پیاوراوٹھیول میں ممتاز رہے اور پچانی جاسکے)اور پھر
اوٹھ پرسوار ہوگے اور جب اوٹھ آپ کو (ذوالحدید سے لے کر) مقام بیراء میں پہو چی تو آپ نے
مج کے لے لیک فرمایا-
اس کی رويت مسلم نے کی ہے۔
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) prayed Zuhr at Dhul-Hulayfah, then called for his she-camel. He marked it on the right side of its hump, wiped away the blood, garlanded it with two sandals, mounted it, and when it stood upright at al-Bayda', he commenced the Talbiyah for Hajj." [Narrated by Muslim]
In the agreed-upon narration from Anas (may Allah be pleased with him): "I heard the Messenger of Allah (ﷺ) combining Hajj and Umrah in his Talbiyah: 'Labbayka Umratan wa Hajjan (Here I am for Umrah and Hajj)."
In Abu Ya'la's version from Ibn Abbas: "The Prophet (ﷺ) marked his sacrificial camels on their left side and wiped the blood with his finger."
_اوربخاری ومسلم کی متفق روایت میں ابنعباس رضی اللہ عنہما سے اس طرح مرودی ہے
کہ حضرت انس فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (جب الوداع کے وقت
قر ان کی نیت سے) مج اور عمرہ کا ایک ساتھ اس طرح تلبیہ پڑھتے ہوئے سنائے آپ فرماتے
تھے "لَبِكَ عُمْرَةً وَحَجًا" (اے اللہ! میں عمرہ اورحج کے لے حاضر ہوں)
Salman (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Your Lord is Ever-Living and Generous; He is too shy to let His servant return empty-handed when he raises his hands to Him." [Narrated by Tirmidhi, Abu Dawud, and al-Bayhaqi in al-Da’awat al-Kabir]
_اورابوعلی کی روایت میں ابنعباس رضی اللہ عنہما سے اس طرح مرودی سے کہ بی
کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (قربانی کی) اوٹھ کے کوبان کے با تمس جانب اشعار کیا لیتنی (بلکہ)
سا) زتم لگا(تاکر نشان رہے) پھر (اس زتم کے ) خون کو اپنی مبارک انگل سے پوچھ کر صاف فرمایا۔
پڑی کوساتھ در کہنے، اس کے اشعاراور حکمرانے کی تفصیل
The Messenger of Allah ﷺ, after offering the sacrifice, turned towards Bani Ka'b and marked the animal so that it would be recognizable, then he wiped the blood with his blessed fingers and said, 'This is how it should be done, along with its marking and commanding.'
نفع رحمہ اللہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے لئے روانہ ہوتے تو وہ مدینہ منورہ سے ایک بڑی لینی قربانی کے جانوروں کو لے لیتے اور جب ذو الحجفہ پر (جو اعلیٰ مدینہ کی میقات ہے) پہوچتے تو ہی کے لئے میں (بطور نشانی) نعلین ذوالعوراس کے کوبان کو اشعار کرتے ہیں بلکہ اس زتم کا اوراس موقع پر پہلے نعلین کے میں ذوالعتر اشعار کرتے اور پیدولوں کام ایک ہی جگہ کرتے اوراس وقت قبلہ روہو کر (پہلے) نعلین جانور کے میں ذوالعتر اسور پھراس کے کوبان کے باقی جانب اشعار کرتے پھراس پڑی کو اپنے ہمراہ رکھتے یہاں تک کہ اور لوگوں کے ساتھ مقام عرفات میں وقوف کرتے پھر جب لوگ (عرفات سے مزدلف) روانہ ہوتے تو پڑی بھی ان کے ساتھ یرتی - پھر جب دسویں ذو الحج کی صبح میں پہوچتے تو (ری کے بعد) حل قیاقصہ پہلے اس جانور کو ذخ کرتے اوراس جانور کو خود اپنے باٹھتے ذخ کرتے ان جانور کو (خرکرنے کے لئے) کطرے کرتے تو ان کو قبلہ رخ کرتا (کرتے نعر) کرتے اور (ان جانور کے گوشے کو) خود بھی کھائے اور دوسروں کو کھلا تے اس کی روایت امام ماکے نے کی ہے۔
اشعاد کے وقت بسم اللہ واللہ اکبر کہنا چاہیے
Nafi' narrated from Abdullah ibn Umar (may Allah be pleased with him): "When sending sacrificial animals from Medina, he would garland and mark them at Dhul-Hulayfah - garlanding before marking, while facing the Qiblah. He garlanded them with two sandals and marked the left side. The animals would proceed with him to Arafah and Mina, where he slaughtered them on Eid morning before haircutting. He slaughtered them himself while they stood, facing the Qiblah, then ate and distributed the meat." [Narrated by Malik]
نفع رحمہ اللہ سے روایت کہ وہ فراماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما (جب نے کے لئے تشریف لے جاتے اور پڑی ساتھ ہوتی تو) اپنی اوہنی کے کوبان کے باقی جانب، ہی اشعار فرماتے البنتاگر کو بان (کا بایاں جانب) اس قابل نہ ہوتا اوراس میں دشوائی ہوتی اور باقی طرف
اِشعار مکن نہ ہوتا تو (کو بان کے) سید ﷺ جانب اشعار فرماتے اور جب اشعار کا ارادہ فرماتے تو اونچی کو قبلہ رو کرتے اور بسم اللہ و اللہ اکبر کہ کر اپنے ہاتھ اشعار کرتے (پھر جب نکا وقت آتا تو) اونچی کو کڑا کر کے اپنے ہاتھ نخر کرتے۔ اس کی روایت امام محمد نے اپنی موطا میں کی ہے۔
ایک گاۓ کی قربانی ایک شخص کی طرف سے یہی دی جاسکتی ہے
This narration is recorded by Imam Muhammad in his Muwatta. One sheep can be sacrificed on behalf of one person.
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (چھے الوداع کے موقع پر) وسویں زواج کے دن ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے ایک گاۓ ذبح فرمائی۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
ف: واضح ہو کر اونٹ یا گاۓ کی قربانی میں زیادہ سے زیادہ سات آدمی شریک ہوسکتے ہیں اور چاہئے توصرف ایک آدمی کی طرف سے بھی ایک گاۓ یا اونٹ کی قربانی دی جاسکتی ہے، البتہ قربانی غیر کی طرف سے دی جارہی ہوتا اس سے اجازت کے بغیر نہیں جائے۔ مرقات اور ارشعۃ اللمعات اور فتاوی عالمگیری میں کہا ہے کہ اگر گاۓ یا اونٹ کی قربانی ایک شخص کی طرف سے دی جائے تو پوری گاۓ یا اونٹ کی قربانی ایک ہی کی طرف سے ہوگی۔ 12
گاۓ یا اونٹ کی قربانی سات آدمیوں کی طرف سے کی جائے
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) slaughtered a cow on behalf of Aisha on Eid day." [Narrated by Muslim]
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حذیبیہ کے سال، بھیم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ (جب عمرہ کے لیے آئے اور انہیں کو عمرہ کے روح دیا گیا تھا تو اس وقت انہیں اونٹ کی قربانی سات آدمیوں کی طرف سے اور اسی طرح گاۓ کی قربانی بھی سات آدمیوں کی طرف سے ادا کی ہے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
غیر حاچی کے پہلی روانہ کرنے کوئی حلال چیز اس پر حرام نہیں ہوتی
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: "At Hudaybiyyah, we shared with the Prophet (ﷺ) - seven people per camel and seven per cow." [Narrated by Muslim]
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ حضر
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب اوّل کو بطور بدی (کہ معظّم) روز انفر ما یا تھا۔ ان اوّل کے قلادہ لیعنی بارگی رسیاں میں نے اپنے دونوں ہاتھوں نے بانطسی میں۔ پچران رسیوں کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (اپنے ہاتھوں نے) ان جانوروں کے گلوں میں ذو الاعور اشعار فرما یا اورا پن طرف نے (حضرت اوبکر رضی اللہ عنہ کے امر اہ بجرت کے نویں سال کہ معظّم) بطور بدی کے روانے فرما یا (اوراس طرح بطور بدی ان جانوروں کو روانے کرنے نے) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کوئی حلال چیز حرام نہیں ہوئی۔ (لیعنی بدی نہیں وا لے پر اگروہ اپنے مقام پر، یہ تو اس پر بدی کچھ نہیں کی وجہ سے کوئی پابندی لا زم نہیں آئی)۔
اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔
فیرو حتی کہ اپنی طرف نے کہ معظّم کو بدی روانے کر سکتا ہے
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: "I twisted the garlands for the Prophet's (ﷺ) sacrificial camels with my hands. He garlanded and marked them, then sent them (to Makkah). This did not prohibit anything previously permissible for him." [Agreed upon]
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ میں نے بدی کے جانوروں کے قلادہ کی رسیوں کو اس اون نے جو میرے پاس تھا بانطسی تھی اور ان جانوروں کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (بجرت کے نویں سال اپنی طرف نے) میرے والد (حضرت اوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے امر اہ جب کہ وہ امیر مج مقر فرما لے گے تھے) (بطور بدی کہ معظّم) روانے فرما یا تھا۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔
شریعہ دردت کے سوابدی پرسواری نہیں جاتے
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: "I twisted the garlands from wool we had, then the Prophet (ﷺ) sent them with my father (Abu Bakr)." [Agreed upon]
ابوالزجیر رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے بدی لیعنی قربانی کے جانور پر بیعن کے بارے میں پوچھا گیا تو میں نے ان کو یہ فرماتے سنا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پارشا د فرماتے سنا ہے کہ اس جانور پر احتیاط کے ساتھ سوار ہو۔ (تاکہ اس کو ضرر نہ پہوچے) بثر طیہ تم اس پرسواری کے لیے مجبور نہ
ہو جائے۔ یہاں تک کہ کے تم کودومسری سواری میں جائے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
نفل قربانی کے جانور کا گوشہ فقراء کا حق ہے
Abu al-Zubayr narrated that Jabir ibn Abdullah (may Allah be pleased with him) was asked about riding sacrificial animals. He replied: "I heard the Prophet (ﷺ) say: 'Ride them properly when necessary, until you find a replacement.'" [Narrated by Muslim]
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے ایک صحابی (یعنی ناجیا سلمی رضی اللہ عنہ) کے بھراہ سولہ (16) اونٹ بطور بدی
کے (نفل قربانی کے لئے کہ مغظّم) روانہ فرما لے اور ان کوالن جانور کو پرامیر بچھی بنایا (تاکران کی
تگران کریں) تو انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ! اگران میں سے کوئی جانور (تجہن یاپیاری کی وجہ
سے) چل نہ سکے تو میں اس کے ساتھ کیا کروں؟ تو حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا (ایسی
صورت میں) تم اس کو زنگ کرو، اور اس کے نعلین کو (جو بطور قلادہ کے اس کے گل میں ڈالے گئے
ہیں) اس کے خون میں رنگ کران کواس کے کوبان کے اوپر رکھ دو (تاکہ فقراء اور راہرواس سے
واقف ہو جائیں کہ یہ بدی کا جانور ہے اور وہ اس کے گوشت کو کھائیں) لیکن تم اورتمہارے (توگر)
ساتھی اس کو نہ کھائیں (حضرت ناجیا اور ان کے ساتھیوں کواس جانور کے گوشت کھانے سے اس
کے بچچی منع کیا گیا کہ ان کو تمہیں سے پچایا جائے کہ انہوں نے اس کے کہانے کے اس کو زنگ کیا
ہے۔ اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) sent sixteen camels with a man (Najiyah al-Aslami), instructing him: 'If any are lost, mark them by soaking their sandals in blood and smearing it on their humps. Neither you nor your companions may eat from them.'" [Narrated by Muslim]
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ کا گزرائے شخص پر ہوا جو پھی اوٹھی
کوخر کرنے کے لئے بھجاتے رکھا تھا (پردیکر) آپ نے اس شخص سے فرمایا کہ اس کو کڑا کر اور
(اس کا اگلا باپل چیر) باندھ کر خرکر (اونٹ کو خرکر نے کا طریقہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
سنہ ہے۔ اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔
ف: فتاوی عالمگیری میں لکھا ہے کہ اونٹول کوطر کرنا اورگاہے اورکریون کوزنے کرنا افضل ہے
اونٹول کوطر اکر کے نخر کرنا چاپیے۔ اگر چاپیہ تو اونٹول کو بھلا کر جی نخر کر سکتا ہے لیکن کطر اکر کے نخر کرنا
فضل ہے اورگاہے اورکریون کوطر اکر کے ذنے کرنا چاپیے بلکہ ان کو لا کروزے کرے۔12
قصائی کی اجرت کو قربانی کے گوشت وغیرہ میں منہماں کرنا چاپیے
a person was sent to pasture a camel which had been sent out to fatten up. He instructed this person to make it strong and to tie its next offspring with a rope, as the method of fattening camels is according to the Sunnah of the Messenger of Allah ﷺ. This hadith has been narrated by Bukhari and Muslim on mutual agreement.
امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ
(جبکہ الوداع کے موقع پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کی اونٹیوں پر
گھران رہول اور (ذنے کے بعد) ان کے گوشت چڑھے اور جحولون (یعنی اوچھڑی، بوئی) کو (غرباء
اور فقراء میں) خیرات کرول اور قصاب کو (اجرت میں انتیون کی) کوئی چیز (منہما کرے) نہ دول۔
حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھی ارشاد فرما یا کہ تم قصائی کی اجرت اپنے پاس سے ادا کریں
گے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفرق طور پر کی ہے۔
واجب قربانیول کا گوشت خود کھی کھاس کے پیا اور ذخیرہ کہی کر سکتے ہیں۔ پہلی حدیث
Ali (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) ordered me to supervise his sacrifices, distribute their meat, skins, and coverings to charity, and not to pay the butcher from them. He said: 'We will pay him ourselves.'" [Agreed upon]
Al-Hidayah adds: "It's better to slaughter personally if skilled, as the Prophet (ﷺ) took with him one hundred camels and slaughtered himself over sixty on them during Hajjat al-Wada' and ordered Ali (may Allah be pleased with him) for the rest to slaughter them. As it is a qurbah (righteous deed) and Self-performance is preffered in righteous deeds, but delegation is permitted for the unskilled."
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (ابتدا اسلام میں جب
تم کی وجہ سے لوگوں کو اعتیاج ہی تو) تم اپنی قربانیول کا گوشت تین دون سے زیادہ رکھ کر نہیں کھاتے
تو (بلکہ لوگوں میں تقسیم کر دیا کرتے تھے، پھر جب اللہ تعالیٰ نے وسعت دے دی اور) رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تم کو اجازت دے دی کے تم (قربانیول کے گوشت کو) کھاو اور تو شہ بناؤ
، لیکن تین دون کے بعد کہی گوشت رکھ سکتے ہو) تو تم نے کہا اور تو شہ کہی بنایا۔ اس کی روایت بخاری
اور مسلم نے متفرق طور پر کی ہے۔
نفل قربانی اور دم کی قربانی کا گوشت صرف غرباء کا حق ہے
ف: اشعۃ اللمعات میں لکھا ہے کہ واجب قربانی جیسے تمتع اور قر ان کی قربانی کے گوشت کو خود
مجھی کھا سکتے ہیں اور اغذیاء اور فقراء کو مجھی کھلا سکتے ہیں اور اس کا ذخیرہ مجھی بناسکتے ہیں البندل قربانی اور دم کی قربانی جواب طور جنايات و جرمانہ لازم آے ابی قرابینوں کا گوشت خود نہ کھائے بلکہ صرف غربا اور مساکین میں تقسیم کر دے - بدایی میں مجھی اسیا،ی نکور ہے
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: We would not eat from the meat of our sacrificial camels beyond three days, but the Prophet (ﷺ) granted us permission, and said: “Eat (1) and take provisions.” So we ate and took provisions. [Narrated by Bukhari and Muslim]
سلامہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم سے ارشاد فرمایا (جب کہ قط سالی تھی ) کہ تم میں کوئی شخص اپنے گھر میں قربانی کے گوشت کو تین دن سے زیادہ نہ رکھے (بلکہ غرباء میں تقسیم کر دے ) جب دوسرے سال ( قط سالی نہ رہی ) تو صحاب کرام نے عرض کیا یارسول اللہ ! کیا تم (قربانیوں کے گوشت کو ) گزشتہ سال کی طرح (تقسیم کر دیا ) تو حضرت صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اور کہلا واور (تین دن سے زائد ) جمع مجھی رکھو (پہلے سال قط سالی کی وجہ سے ) لوگوں پر فاقہ تھا (اس لیے گوشت کا ذخیرہ بنانے سے میں نے منع کیا تھا ) تاکہ تم (گوشت کو تقسیم کر کے غرباء کی ) مدد کرو اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے -
Salamah (may Allah be pleased with him) narrated: The Prophet (ﷺ) said: “Whoever among you offers a sacrifice, then let nothing remain in his home from it after three days.” The following year, they said: “O Messenger of Allah, shall we do as we did last year?” He said: “Eat, feed others, and store it; for that year the people were facing hardship, and I wanted you to help them.” [Narrated by Bukhari and Muslim]
نہیشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم ارشاد فرما لے ہیں کہ تم نے تم کو قربانیوں کے گوشت کو تین دن سے زیادہ رکھ کر کھانے سے منع کیا تھا تاکہ (تم اس گوشت سے نہارت کریں اور غرباء کو مدہ دے اور ) سب کے لیے کافی ہو جائے اب اللہ تعالیٰ نے (تنگی دور فرما دی ہے اور ) نخوش حالی مہیا فرما دی ہے (جس سے غربا کی احتیاج باقی نہیں رہی ) اس لیے اب تم (قربانی کے گوشت کو ) کھاؤ جب تک چاہے رکھو اور (نہارت کرے ) اجر حاصل کرو (لیکن اس کو پچھینیں، اس لیے کہ قربانی کے گوشت کی تجارت جائز
نہیں) یاد رکھو (منی میں قیام کے) پر (چارون) دون کہانے پین اور اللہ کو یاد کرنے کے دون پین - اس کی روایت البودا ود نے کی ہے -
پچھلی حدیث
Nubayshah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Indeed, We had forbidden you from eating its meat beyond three days so that it might suffice for everyone. But now Allah has brought ease, so eat, store, and trade. Verily, these days are days of eating, drinking, and remembering Allah.” [Narrated by Abu Dawud]
عبداللہ بن قرۃ طرضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ کے پاس یوم آخر کچھ نسویں زواجہ برطی فضیلت کا دن ہے۔ چھ فضیلت میں یوم القربہ (اس حدیث کے راوی) ثور کہتے ہیں کہ پیدوسر ادن ہے (یعنی گیارہویں ذوالحجبہ) راوی حدیث حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں پائے یا پہلاونٹ حاضر کے گئے (تاکہ آپ حضرت کی چاہیں پہلے قرآنی فرمادیں) تو وہ اونٹ ایک دومڑے پر سبقت کرے حضور سے قریب ہونے گئے۔ (کہ حضور اپنے دست مبارک سے اس کو پہلے ذنگ فرمادیں) راوی کا بیان ہے جب وہ (ذنگ کے گئے اور) پہلو کے بلگر پڑے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آہستہ سے پچھا ارشاد فرمایا جس کو میں نے سکا میں نے ان صاحب سے جو حضور سے قریب تھے پوچھا کہ حضور نے کیا ارشاد فرمایا ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ حضور نے یا ارشاد فرمایا کہ جو جاہے ان جانورول کے گوشت کا کٹ کر لے جائے۔ اس کی روایت البودا ود نے کی ہے -
Allah, the Exalted, has a day of marriage for some women on the Day of Resurrection. Thawr, one of the narrators of this hadith, says that it is the thirteenth of Dhu al-Hijjah. The narrator of the hadith, Abdullah, says: I came to the service of the Messenger of Allah ﷺ or went ahead to be present first (so that I could receive his commands first), and he rode a she-camel, and I went close to him (so that he could touch me first with his blessed hand). When he (touched me and) I fell to the side, the Messenger of Allah ﷺ gently inquired, and I asked those who were near him what he had said. They replied that he had said, 'Whoever takes a piece of the meat of these animals.' This is narrated by Al-Buwaydi.