(اس باب میں ان دعاوں کا ایانہ جن میں الفاظ کم اور معنی زیادہ ہوں)
تعلیم امت کے لئے ایک جامع دعا
In this chapter, we discuss those supplications in which the words are few but the meanings are profound.
A comprehensive supplication for the instruction of the Ummah
اللّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي وَجَهْلِي وَإِسْرَافِي فِي أَمْرِي، وَمَا أَنتَ أَعْلَمُ بَهِ مِنِّي.
اللّهُمَّ اغْفِرْ لِي جَدِّي وَهَزْلِي وَخَطَأِي وَعَمْدِي وَكُلُّ ذَلِكَ عِندِي. اللّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَنتَ أَعْلَمُ بَهِ مِنِّي، أَنتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنتَ الْمُؤَخِّرُ، وَأَنتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ.
حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (تعلیم امت کے لئے) یہ دعا فرما کرتے تھے:
یا اللہ! میرے گناہ کو، میری ناواقی کو اور اعمال کی کوتاپی کو اور ان گناہ کو جس کو مجھے زیادہ آپ جانتے ہیں۔ خش و تبہ یا اللہ! ان گناہ کو خش و تبہ جس کو میں نے قصد کے اور نذاق سے کے اور ناواست کے اور بالا راد کے اور پیسار کے گناہ کو میں ہیں۔
یا اللہ! میرے ان گناہ کو جس کو میں نے پہلے کے ہیں اور بعد میں مجھے سرزدہ کے اور جن کو میں نے چھپ کر کیا اور جن کو علی الاعلان کیا اور جن کو آپ پمجھے سے زیادہ جانتے ہیں۔ (نیپول میں) آگے برہا نے والے کچھ آپ کی ہیں اور چھپے ہٹانے والے کچھ آپ کی ہیں اور آپ کی ہر چیز پر قادر ہیں۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔
جب کوئی اسلام لائے تو حضرت صلی اللہ علیہ وسلم پیدا سکھاتے
Abu Musa al-Ash'ari (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (ﷺ) used to make this supplication: "O Lord, forgive me my sins, my ignorance, my excesses in my affairs, and what You know better than I. O Allah, forgive me my serious and trivial sins, my mistakes and intentional wrongs - all that is present with me. O Allah, forgive me what I have sent forth and what I have left behind, what I have concealed and what I have made public, and what You know better than me. You are the Bringer Forward and You are the Delayer, and You have power over all things." [Agreed upon]
اللّٰهمّ اغفر لی وارحم نی واهدینی وعا فینی وارزق نی۔
حضرت ابو ماکے اشجع رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ان کے والد نے بیان کیا ہے کہ جب کوئی شخص اسلام قبول کرتا تو حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو نماز سکھاتے اوراس کو حکم دیتے کہ وہ ان کلمات کے ساتھ دعا کرے:
یا اللہ! آپ (میرے گناہوں کو) بخشن دیکھ اور میرے (عیوب کو چھپا کر) مجھ پر رحم فرمائے اور مجھے (صراط مستقیم پر) چلا دیئے (اوراس پر مجھے قائم رکھی اور بلاول اور خطاوں سے مجھے عافیت دتے اور مجھے حال روزی دتے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔ دین اور دنیا کی درستی کے لیے ایک دعا ہے)
Abu Malik al-Ashja'i reported from his father (may Allah be pleased with him) who said: "When a man accepted Islam, the Prophet (ﷺ) would teach him how to pray, then instruct him to say these words: 'O Allah, forgive me, have mercy on me, guide me, grant me well-being and provide for me.'" [Narrated by Muslim]
اللّٰهمّ أصلح لی دینی الّذی هو عصمۃ أمری، وأصلح لی دنیائی الّتی فیها معاشی۔ واصلح لی آخرتی الّتی فیها معادی۔ واجعل الحیاة زیادة لی فی کلّ خیر۔ واجعل الموت راحۃ لی من کلّ شرّ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا بھی فرمایا کرتے تھے:
یا اللہ! میرے دین کو سنوار دتے جو میرے تمام کاموں کا محافظ ہے۔ اورآپ میری دنیا کو سنوار دتے جس میں میری زندگانی ہے۔ اور میری آخرت کو بھی سنوار دتے جہاں مجھے لوٹنا ہے۔ اور میری زندگی کو بھری بھری میں زیادتی کا سبب بنادتے۔ اورموت کو میرے لیے برترانی سے راحت کا سبب بنادتے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ کی ایک مستقل وعاء
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) used to say: "O Allah, set right for me my religion which is the safeguard of my affairs. Set right for me my worldly affairs wherein is my livelihood. Set right for me my Hereafter to which is my return. Make this life a source of every good for me, and make death a relief for me from every evil." [Narrated by Muslim]
اللّٰهمّ اجْعَلْنِی أُعْظُمُ شُکْرَکَ، وَأَكْثُرُ ذِکْرَکَ، وَأَتَّبُعُ نُصُحَکَ، وَأَحْفَظُ وَصِيَّتَکَ۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک دعا یاد کی بہ جس کو (کہیں) نہیں چھوڑتا ہون (وہ دعا یہ ہے):
یا ای آپ بھی برطاشکرنزاراوربرطاشارکربناذکراوارآپکینصحتون(یعنی حقوق العباد) کو ادا کرنے والا اور آپ پ کی وصیت (یعنی حقوق اللّٰہ) کی حفاظت کرنے والا بنادتے اس کی روایت ترنزدی نکی ہے۔
نفاق اور شہرت سے نچنے کی وعاء
I memorized a supplication from the Messenger of Allah ﷺ which I never neglect. The supplication is: 'O Allah, make me one who remembers You, fulfills Your rights (i.e., the rights of the servants), and protects Your trust (i.e., the rights of Allah). The narration of this supplication is sound. It is a protection against hypocrisy and fame.'
اللّٰهمّ طَهِّرْ قَلْبِی مِنَ النِّفَاقِ، وَعَمَلِی مِنَ الرِّیاءِ، وَلِسَانِی مِنَ الْگِذَبِ، وَعَیْنِی مِنَ الْخِیَانَةِ، فَانَّکَ تَعْلَمُ خَائِنَۃَ الْعُیُنِ وَمَا تُخْفِی الصُّدُورِ۔
حضرت امام معبد رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ دعا فرماتے سنا:
یا ای! آپ میرے دل کو نفاق سے اور میرے عمل کو دھاوے اور شہرت سے اور میری زبان کو جھوٹ سے اور میری آنکھوں کو خیانت سے اور خیانت کرنے والی آنکھوں اور دل کے جھیڈول کو آپ کی جانب سے اس کی روایت یہی نے دعوات کبیر میں کی ہے۔
وعاول میں حضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو وسیلہ بنانے کا طریقہ
Umm Ma'bad (may Allah be pleased with her) reported that she heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: "O Allah, purify my heart from hypocrisy, my deeds from show, my tongue from lies, and my eyes from treachery. Indeed You know the treachery of the eyes and what the hearts conceal." [Narrated by Al-Bayhaqi in Al-Da'awat al-Kabir]
اللّهمّ اِنِّي أَسْأَلُكَ وَاَتَوَجَّهُ الَيْكَ بِنَبيِّكَ مُحمَّدٍ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ، اِنِّي تَوَجَّهْتُ بَكَ إِلى رَبِّي، لِيُقْضِى لِي فِي حَاجَتِي هَذِهِ. اللّهمَّ فَشَفَعْهُ.
حضرت عثمان بن عفیف رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ: ایک ناپینا شخص حضرت کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ: آپ اللّٰہ تعالی
سے دعا فرما لے کروہ مجھے عافیت دے (جتنی مجھ پینالی عطا کروے) آپ نے جواب دیا تم چاہو تو میں اللہ تعالیٰ سے (تمہارے لئے) دعا کرولیا چاہوتوم صبر کرواورصبرتمہاردے لئے بہتر ہے (یہ سے کر) انہوں نے جواب دیا: آپ پڑعاے، فرمادتے راوی کاپیانہ کراپنے ان کو حکم دیا کروہ وضو کریاورچھی طرح وضو کریاورپھر ان کلمات کے ذریعہ دعا کرتے:
یا اللہ! میں آپ سے سوال کرتا ہوناورآپ کیطرف متوجہ ہوتا ہوناپکے نبی محمد اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وسيلے سے جوئی رحمت میں (اسے بی) میں آپ کے وسيلے سے اپنے رب کی طرف رجو ع ہوتا ہونتاکروہ میری اس حاجت کو میرے لئے پوری کروے۔ یا اللہ! حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت کو میرے لئے میں قبول فرمائے۔ اس کی روایت ترنزی نے کی ہے۔
ایک عمومی دعا
Uthman ibn Hunayf (may Allah be pleased with him) reported that a blind man came to the Prophet (ﷺ) and said: "Invoke Allah to heal me." He said: "If you wish I will supplicate for you, and if you wish you may be patient which is better for you." The man said: "Then supplicate." So the Prophet (ﷺ) instructed him to perform ablution perfectly and say this supplication: "O Allah, I ask You and turn to You through Your Prophet Muhammad, the Prophet of mercy. I turn through him to my Lord to fulfill my need. O Allah, accept his intercession for me." [Narrated by Al-Tirmidhi who said it is hasan sahih gharib]
اللّهمَّ اِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُداى وَالتُّقَى ، وَالْعَفَافَ وَالْغِنى .
حضرت عبد اللہ بن مسعود روایت میں حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں کراپیرودعا کی فرمایا کرتے تھے:
یا اللہ! میں آپ سے بدایت، پرہیزگاری (نفس اوردل کی) پاکی اور (مخلوق سے) پہ نيازی ماگنا ہون مسلم نے روایت بیان کی ہے۔
صحت و عافیتاورحسن عمل و غیرہ کی دعا
Abdullah ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (ﷺ) used to say: "O Allah, I ask You for guidance, piety, chastity and self-sufficiency." [Narrated by Muslim]
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر دعا کی فرمایا کرتے تھے:
اللّہُمَّ إِنِّیْ أَسْأَلُكَ الصِّحَّةَ وَالْعِفَّةَ وَالْأَمَانَةَ، وَحُسْنَ الْخُلُقِ وَالرِّضَا بِالْقَدْرِ.
یا اللہ! میں آپ سے صحت اور عافیت و پاک دامنی، امانت داری، اچھے اخلاق اور تقذیر پر رضا مندی مانگتا ہوں۔ اس کی روایت جہت نے دعوات کبیر میں کی ہے۔
دین و دنیا کی بجلائیوں پر مشتمل ایک جامع ترین دعا ہے۔
Abdullah ibn Amr (may Allah be pleased with them) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) used to say: "O Allah, I ask You for health, chastity, trustworthiness, good character, and contentment with divine decree." [Narrated by Al-Bayhaqi in Al-Da'awat al-Kabir]
اللّهُمَّ بَعْلِمْکَ الْغَیْبِ وَقُدْرَتِکَ عَلَى الْخَلْقِ أَخْبِنِیْ مَا عَلِمْتَ الْحَیَاۃَ خَیْرًا
لِّی، وَتَوَفَّنِیْ إِذا عَلِمْتَ الْوَفَاةَ خَیْرًا لِّی .
اللّهُمَّ وَأَسْأَلُکَ خَشْیَتِکَ فِی الْغَیْبِ وَالشَّهَادَةِ، وَأَسْأَلُکَ کَلِمَۃَ الْحَقِّ فِی الرِّضَا وَالْغَضَبِ، وَأَسْأَلُکَ الْقَصْدَ فِی الْفَقْرِ وَالْغِنَیْ، وَأَسْأَلُکَ نَعِیْمًا لاَّ یَنْفَدُ،
وَأَسْأَلُکَ قُرَّۃَ عَیْنٍ لاَّ تَنْقَطِعُ، وَأَسْأَلُکَ الرِّضَا بَعْدَ الْقَضَاءِ، وَأَسْأَلُکَ بَرْدَ الْعَیْشِ
بَعْدَ الْمَوْتِ، وَأَسْأَلُكَ لَذَّةَ النَّظَرِ إِلَى وَجْهِكَ، وَالشَّوْقِ إِلَى لِقَائِكَ فِي غَيْرِ
ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ وَلَا فِتْنَةٍ مُضَلَّةٍ .
اللَّهُمَّ زَيِّنَا بِزِينَةِ الْإِيمَانِ، وَاجْعَلْنَا هُدَاةً مَهْدِيِّينَ .
یعنی کہ: حضرت عمر بن یاسر رضی اللہ عنہ نے تمسیل (ایک مرتبہ) نماز پڑھائی اور آپ نے بہت محترم نماز پڑھی (یعنی قرآن اور تسبیحات زیادہ نہیں پڑھیں) تو (حاضرین میں سے) بعض لوگوں نے (اعتراضاً) کہا کہ: آپ نے نماز میں تخفیف کی اور نماز کو بہت محقر کیا! حضرت عمر نے جواب دیا: اس تخفیف کا مجھے کچھ افسوس نہیں! اس لئے کہ میں نے اس نماز میں ایسی دعا کی جس جن کو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے جب حضرت عمر و بال سے چلتے ایک شخص آپ کے ساتھ ہوگیا اور وہ میرے والد (حضرت ساتب) کی کین انہوں نے (بطور تواضع) اپنے آپ کو ظاہر کے بغیر اپنے شخص کہا اور اس دعا کوال نے پوچھا اور واپس آ کر سب کو وہ دعا بتائی (اور وہ دعا یہ ہے):
یا اللہ ! آپ پر علم غیب اور مخلوقات پر آپ کی قدرت کا واسطہ آپ مجھے اس وقت تک زندہ رکھے جب تک آپ زندگی کو میرے لئے بہتر جانے ہیں اور آپ مجھے اس وقت موت دے دیں جب آپ موت کو میرے لئے بہتر جانے ہون۔ یا اللہ باطن اور ظاہر میں آپ کا ظہر ماگما ہول اور خوشی اور غصہ کی حالات میں حق بولنے کی ورخواست کرتا ہول۔ اور محتاج توگری میں اعتدال ماگما ہول۔ اور آپ سے میں نہمت ماگما ہول جو ختم نہ ہو (یعنی جنت ماگما ہول) اور آگھول کی میں تمنا ک ماگما ہول جوز کل نہ ہو۔ اور تقذر رضا مندی ماگما ہول اور مرے کے بعد زندگی کی تمنا ک ماگما ہول۔ اور آپ کے چہرے کی طرف دیکھنے کی لذت اور آپ سے ملاقات کا شوق ماگما ہول (یعنی دیار کی لذت اور ملاقات کا شوق ماگما ہول) جونقصان پہو نچا نے والا اور گمراہی کے فتنہ میں مبتلا کرنے والا نہ ہو۔ یا اللہ! تم کوزینت ایمانی سے سنوار دتے اور تم کوراہ راست پر بنادتے۔ اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔
نماز فجر کے بعد ایک مختصر دعا
Ata ibn as-Sa'ib reported from his father who said: "Ammar ibn Yasir (may Allah be pleased with him) led us in a brief prayer. Some people remarked: 'You made the prayer very short.' He replied: 'Nevertheless, I supplicated during it with supplications I heard from the Messenger of Allah (ﷺ).' When he left, a man from the congregation - who was Ubayy though he concealed his identity - followed him and asked about the supplication. He then returned and informed the people: 'O Allah, by Your knowledge of the unseen and Your power over creation, keep me alive as long as You know life is good for me, and cause me to die when You know death is better for me. O Allah, I ask You for fear of You in secret and in public. I ask You for the word of truth in times of pleasure and anger. I ask You for moderation in poverty and wealth. I ask You for everlasting bliss. I ask You for coolness of the eye that never ends. I ask You for contentment after Your decree. I ask You for pleasant life after death. I ask You for the delight of looking at Your Face and longing to meet You without harmful distress or misleading trials. O Allah, adorn us with the adornment of faith and make us guides who are rightly guided.'" [Narrated by An-Nasa'i]
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا، وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا، وَرِزْقًا طَيِّبًا .
یا اللہ ! میں آپ سے نافع علم اور مقبول عمل اور حلال رزق ماگما ہول۔ اس کی روايت امام احمد، ابن ماجہ اور ترمذی نے دعوات کے بیٹے کی ہے۔
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز فجر کے بعد یہ دعا فرما یا کرتے تھے:
حضرت عمر کو سکھلا کر بھولی اپنی دعا
He taught it to Umar, saying: 'Use it in your forgotten supplications.'
اللّهُمَّ اجْعَلْ سَرِيرَتِي خَيْرَاً مِنْ عَلانِيَتِي، وَاجْعَلْ عَلانِيَتِي صَالِحَةً. اللّهُمَّ إِنّى أَسْأَلُكَ مِنْ صَالِحِ مَاتُوْتِي النَّاسَ مِنَ الْأَهْلِ وَالْمَالِ وَالْوَلَدِ غَيْرَ الضَّالِّ وَالْمُضِلِّ.
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یہ عیسکھا کہ ارشاد فرمایا: تم پون دعا کرو:
یا اللہی! آپ میرے باطن کو میرے ظاہر سے بہتر بنادتے اور میرے ظاہر کو (مجھی نکیول تو) سنوار دتے۔ یا اللہی! میں آپ سے وہ نکی چیزی اور بہتر مال اور نکی اولاد ماگتہا ہول جوآ پ لوگول کوعطا فرما تے ہیں جون تو (خور) گراہ ہول اور نہ (دوسری کو) گراہ کر نے والے ہول _ اس کی روایت ترجمہ نے کی ہے
Umar (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) taught him to say: "O Allah, make my inner self better than my outward appearance, and make my outward appearance righteous. O Allah, I ask You for the best of what You give people regarding family, wealth and children - not those who lead astray or are led astray." [Narrated by Al-Tirmidhi]
حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور رونے لگے (اس لے کر آپ کو اپنی امت کے فتنوں میں گرفتار ہونے کا خیال آیا) اور آپ نے فرمایا: تم اللہ تعالیٰ سے عفو (یعنی گناہوں سے معافی) اور عافیت (یعنی دین اور دنیا کی سلامتی) مانگا کرو اس لے کر ایمان کے بعد عافیت سے بہتر کوئی نعمت کسی کو نہیں دی گئی۔
اس کی روایت ترجمہ اور ایک ملچہ نے کی ہے
دنیا اور آخرت کی عافیت ماگنا کی بہتر دعا ہے
Abu Bakr (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) stood on the pulpit and wept, then said: "Ask Allah for pardon and well-being, for after certainty of faith, no one has been given anything better than well-being." [Narrated by Al-Tirmidhi and Ibn Majah. Al-Tirmidhi said it is hasan gharib in chain]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک صاحب نے کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدام میں حاضر ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (ارشاد ہو)
کوئی دعا (میرے لئے) زیادہ بہتر ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا: تم اپنے رب سے تندرستی اور دنیا اور آخرت میں عافیت (یعنی ایک دومسرے کے ثروتوں سے حفاظت اور نکیوں میں ایک دومسرے کی مدد) مانگا کرو۔ پھر وہی صاحب آپ کی خدمت میں دومسرے دن حاضر ہوئے اور عرض کیے: یارسول اللہ (ارشاد ہو کر) کوئی دعا (میرے لئے) زیادہ بہتر ہے؟ تو آپ نے اسی دعا کو پھر ہی تلقین فرمائی وہ صاحب تیسرے دن پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے اسی (دعا) کے کرنے کی تاکید فرمائی اور پھر فرمایا: جب تم کو دنیا اور آخرت کی عافیت اور تندرستی دے دی گئی تو تم کامیاب ہوگے۔
اس کی روایت ترجمہ اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کو سکھلا تھا یہوی ایک خصوصی دعا
اللّهُمَّ اهْدِنِي وَسَدِّدْنِي۔
امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا کہ تم یہ دعا کیا کرو:
یا ابی! آپ بدایت پر مجھے یہ بتقدم رکھے اور مجھے راہ راست پر چلا کے اور فرمایا کہ حضوری قلب کے لئے جب تم بدایت کی دعا کرو تو سیدہ راست کا تصوّر کرو اور راہ راست کے لئے جب دعا کرو تو تیرے کے سیدہ پن کا تصوّر کرو۔
اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
حضرت علی اللہ علیہ وسلم کی کثرت سے پر صی جانے والی دعا
The Messenger of Allah ﷺ said to me: 'O my father! When you begin, keep this in mind and guide me on the right path. He then said to me: For the presence of heart, when you make the beginning supplication, imagine the straight path; and for the right path, when you supplicate, imagine your uprightness.' This is narrated by Muslim. This is a frequent supplication attributed to Ali (RA).
حضرت اس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اکثر پیدا فرما کرتے تھے:
اللہم آتنا فی الدنیا حسنة وفی الآخرۃ حسنة وقنا عذاب النار۔
یا ابی! آپ بھی دنیا میں (جہاں تی) لیتن صحبت، رزق اور توہین) دتکے اور آخرت میں بھی
جہاں تی (لیتن مراتب عالیہ اور دیار ابی) سے مشرف فرمائیں اور تم کو (اپنی مغفرت سے) دوزخ
کے عذاب سے پاچیے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے کی متفق طور پر کی ہے۔
اللہ تعالیٰ سے عذاب طلب کرنے کی ممانعت
Anas (may Allah be pleased with him) reported that the most frequent supplication of the Prophet (ﷺ) was: "O Allah, grant us good in this world and good in the Hereafter, and protect us from the punishment of the Fire." [Agreed upon]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
ایک مسلمان صاحب کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے جو پڑنے کے پری کی طرح کمزور ہو گئے
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا کہ کیا تم نے اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز
(لیتن مصیبت) کی دعا کی ہو؟ یا سکو ماگ لیا تھا (جس کی وجہ سے تمہاری پیحالی ہوگی ہے)
انہوں نے جواب دیا: بلال! میں اس طرح دعا کرتا تھا یا ابی آپ جو عذاب مجھے آخرت میں
دینے والے ہیں اس کو دنیا میں فوراً دیتے (پین کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
سبحان اللہ! (تو نے عجب دعا ماگ لی ہے) تو نے تو (دنیا میں) اس کے عذاب کی طاقت رکھتا ہے
(نہ آخرت میں) اس کو برداشت کر سکتا (کیا ئے اچھا ہوتا اگراس کے بدل میں) تو نے یہ دعا کر لی
ہوتی 'اللہم آتنا فی الدنیا حسنة وفی الآخرۃ حسنة وقنا عذاب النار'۔
راوي کا بیان ہے کران صاحب نے جبی دعا ماگی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو شفافی دی۔
مسلمان وہی کام لے جس کو وہ کرسکتا ہے
Anas (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) visited a Muslim man who had become as weak as a chick. The Prophet (ﷺ) asked him: "Were you supplicating for something or asking for it?" The man replied: "Yes, I used to say: 'O Allah, whatever punishment You would give me in the Hereafter, bring it forward to me in this world.'" The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Glory be to Allah! You cannot bear it. Why didn't you say: 'O Allah, give us good in this world and good in the Hereafter, and protect us from the punishment of the Fire'?" Then he supplicated for him and Allah healed him. [Narrated by Muslim]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مسلمان کو بات مناسب نہیں کہ وہ اپنے آپ کو رسا کرے
صحابہ نے عرض کیا کہ (یارسول اللہ) مسلمان اپنے آپ کو کس طری رسا کرتا ہے؟ تو آپ نے فرمایا
اس کی روایت ترمذی، ابن ماجہ اور نہجہ نے شعب الایمان میں کی ہے۔ اس کی روایت مسلسل
کی ہے۔
نغمتوں کو اللہ تعالیٰ کی خوشنوائی میں لگانے کی دعا
خطبہ عبادۃ کی رضی اللہ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت
The Messenger of Allah ﷺ said: 'It is not appropriate for a Muslim to act arrogantly.' The Companions asked: 'O Messenger of Allah, how does a Muslim act arrogantly?' He replied: 'By considering himself better than others.' This hadith is reported by Tirmidhi, Ibn Majah, and Nihj in Shu'ab al-Iman. Its chain of transmission is continuous. The invocation to sing songs in the pleasure of Allah, the Exalted, and the sermon on worship are reported from the Messenger of Allah ﷺ.
عبادۃ کی حضوری دعا کی فرمايگرتے تھے:
اللہُمَّ ارْزُقْنِی حُبَّكَ وَحُبَّ مَنْ یُنْفَعِنِی حُبُّهُ عِندَكَ۔ اللہُمَّ مَا رَزَقْتَنِی مِمَّا
أُحِبُّ فَاجْعَلْهُ قُوَّةً لِی فِیمَا تُحِبُّ۔ اللہُمَّ مَا زَوَیْتَ عَنِّی مِمَّا أُحِبُّ فَاجْعَلْهُ فَرَاغًا لِی
فِیمَا تُحِبُّ۔
یا اللہی! آپ مجھے اپنی محبت نصیب فرمایے اور اس شخص کی محبت جس کی محبت مجھے آپ
کے پاس فائدہ دے۔ یا اللہی! آپ پر نہ میری پسندی ہے (نعمتیں) جو مجھے دی ہیں ان کو آپ اپنی
خوشنوائی (مجھی اپنی اطاعت کے کاموں) میں لگادیں۔ یا اللہی! آپ پر نہ میری جن خواہشات کو
روک رکھیے ان سے مجھے فارغ کر کے اپنی مرضايت میں مشغول فرما دیں۔
(اس کی روایت ترمذی میں کی ہے)-
حضرت داود علیہ السلام کی دعا
Abdullah ibn Yazid al-Khatmi (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) used to say in his supplication: "O Allah, grant me Your love and the love of those whose love will benefit me with You. O Allah, whatever provision You have given me of what I love, make it strength for me in what You love. O Allah, whatever You have withheld from me of what I love, make it a relief for me in what You love." [Narrated by Al-Tirmidhi]
اللّهُمَّ اجْعَلْ حُبَّكَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي وَمَالِي وَأَهْلِي، وَمِنَ الْمَاءِ الْبَرَدِ.
حضرت البودردا عرضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرما تے ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ حضرت داود علیہ میا وعلیہ الصلاۃ والسلام یول دعا فرمایا
کرتے تھے:
اللہُمَّ إِنِّی أَسْأَلُكَ حُبَّكَ وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ، وَالْعَمَلَ الَّذِی يُبَلِّغِنِی حُبَّكَ۔
یا اللہ! میں اپنے آپ کی محبت اور آپ کے محبتین کی محبت اور وہ عمل مانگتا ہوں جو آپ کی محبت کے پہچادے۔ یا اللہ! آپ اپنی محبت کو مجھے اپنی جان اپنے مال، اپنے اہل و عیال اور محبوب بناتے۔
حضرت ابوردا فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب حضرت اور وعلی السلام کا ذکر فرماتے اور ان کا کوئی واقعہ بیان فرماتے تو ارشاد فرماتے کہ وہ (اپنے زمانے کے) سے برے عبادت گزار بنے۔ اس کی روایت ترنزی نے کی ہے۔ اختتام مجلس پر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ کی ایک عمومی دعا ہے۔
Abu al-Darda (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Among the supplications of Dawud was: 'O Allah, I ask You for Your love, the love of those who love You, and deeds that will bring me to Your love. O Allah, make Your love dearer to me than myself, my wealth, my family, and cold water.'" The Prophet (ﷺ) added when mentioning Dawud: "He was the most devout of mankind." [Narrated by Al-Tirmidhi who said it is hasan gharib]
اللّهُمَّ اقْسِمْ لَنا مِنْ خَشْيَتِكَ مَا تَحُولُ بَيْنَنا وَبَيْنَ مَعَاصِيْكَ، وَمِنْ طَاعَتِكَ مَا تُبَلِّغُنا بِهِ جَنَّتَكَ، وَمِنَ الْيَقِينِ مَا تُهَوِّنُ بِهِ عَلَيْنا مُصِيبَاتِ الدُّنْيا، وَمَتَّعْنا بَأَسْمَاعِنا وَأَبْصارِنا وَقُوَّتِنا مَا أَحْيَيْتَنا. وَاجْعَلْهُ الْوَارِثَ مِنَّا، فَاجْعَلْ ثَارَنا عَلى مَنْ ظَلَمَنا، وَانْصُرْنا عَلى مَنْ عَادانا، وَلا تَجْعَلْ مُصِيبَتَنا فِي دِينِنا، وَلا تَجْعَلِ الدُّنْيا أَكْبَرَ هَمِّنا وَلا مَبْلَغَ عِلْمِنا، وَلا تُسَلِّطْ عَلَيْنا مَنْ لا يَرْحَمُنا.
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کچھ مجلس سے اٹھتے تو اپنے اصحاب کے لیے اکثر دعا کرتے۔
یا اللہ! آپ ہمیں اپنی خشیت اس قدر نصیب فرمائیے جس کی وجہ سے آپ ہمارے اور ہمارے گناہوں کے درمیان حائل ہوجائیں۔ اور ہم کو اس قدر اطااعت نصیب فرمائیے جس کی وجہ
سے آپ نے مکوائی جنت میں پھو نچادی _اوراس قد ر لیقین نصیب فرمایے جس کی وجہ سے آپ نے مہر پر دنیا کی مصیبتیں آسان فرامادی اورہماری سماعت کو اورہماری بصارت کو اورہماری قوت کو زندگی بہر تم اربے لے فانکہ مند بنادتے اوراس (انعام) کوہماری نسل میں جاری وساری رکے اورجنہول نے تم پرظلم کیا ہے آپ پی ان سے ہمارا انقام لے لیے _اورجنہول نے تم سے دشمنی کی ہے ان کے مقابلہ میں آپ تم اربے مد فرمایے _اورہماری مصیبتون کوہمارے دین میں (کی) لیئے بد عقیدگی، حرام خوری اورعبادتوں میں کوتاہی کا سبب نہ بنائے _اورآپ پ دنیا کوہماری فکر اور تم اربے علم کا سب سے برانصب ایین نہ بنائے اورایسول کوتم پر مسلط نفرمایے جوتم پرتم نہ کریں _ اس کی روایت تزدی نے کی ہے _اورکہہے کہ: یہ حدیث حسن غریب ہے _ علم نافع اور عمل صالح کی دعاے
Ibn Umar (may Allah be pleased with them) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) would rarely leave a gathering without supplicating for his companions with these words: "O Allah, apportion to us such fear of You as will come between us and acts of disobedience; such obedience to You as will bring us to Your Paradise; such certainty as will make the calamities of this world easy for us. Let us enjoy our hearing, our sight and our strength as long as You keep us alive, and make it our last share. Make our revenge upon those who wronged us, and grant us victory over those who oppose us. Do not make our calamity in our religion. Do not make this world our greatest concern nor the limit of our knowledge. Do not give power over us to those who will not have mercy on us." [Narrated by Al-Tirmidhi who said it is hasan gharib]
(1) The statement "our greatest concern" indicates that a small amount of concern for necessary worldly matters is permitted, even recommended, and sometimes obligatory. As mentioned in Al-Mirqat.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنه سے روايت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ عليه وآلہ وسلم یودعاء (یہی) فرما کرتے تھے:
اللہُمَّ انفَعْنی بِمَا عَلَّمْتَنِی، وَعَلِّمْنِی مَا یَنفَعُنِی، وَزِدْنِی عِلْمًا. الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى کُلِّ حَالٍ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ حَالِ أَهْلِ النَّارِ.
یا اللہ! آپ نے مجھے جوعلم دیاہے اس کومیرے لے نافع بنائے اورمجھے ایا علم سکھایے جو (دنیا اورآخرت میں) مجھے نفع دے اورمجھے اورزیادہ علم نصیب فرمایے بر حال میں اللہ تعالی کا شکر ہے اور میں دوزخیول کے حال (جبتن ان کے اعمال سے) میں اللہ تعالی کی پناہ میں آتاہوں _اس کی روايت تزدی، حاکم اور ابن ماجہ نے کی ہے اورحاکم نے کہاہے کہ یہ حدیث خاری کی شرط کے مطابق ہے _
سورۃ مومنوں کی ابتدائی دس آیتوں کے نزول پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قلب دروہوکر دعا فرمانا
Upon the revelation of the first ten verses of Surah Al-Muminun, the heart of the Prophet ﷺ was moved to make supplication.
اللّٰهُمَّ زِدْنَا وَ لَا تَنْقُصْنَا، وَ أَكْرِمْنَا وَ لَا تُهِنَّا، وَ أَعْطِنَا وَ لَا تَحْرِمْنَا، وَ آثِرْنَا وَ لَا تُؤْثِرْ عَلَيْنَا، وَ أَرْضِنَا وَ ارْضَ عَنَّا.
امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نے کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جس وقت وقی نازل ہوتی تو آپ پ کے چہرے کے پاس شہد کی کھیول کی بھنگی ناہست کی طرح ایک آواز سنائی دیتی (ایک دفعہ) دن کے وقت آپ پ کے اوپر وقی نازل ہوتی تو انہم پچھوڑا نظار کرتے رہے (تاکہ وقی کی کیفیت آپ پر ہے دور ہوجائے) چنانچہ وقی کیفیت آپ پر سے زائل ہوگئی (انہم نے دیکھا کہ) آپ قبلا کی طرف رخ فرمایا اور اپنے دونوں بازو اٹھا کے اور یہ دعا فرما لی:
یا اللہ! (ہماری بجلاتیوں اور تحدادیں) اضافہ فرمائے اور (ان چیزوں میں) کمی نہ کیجئے۔ اور (دنیا و آخرت میں) تمام سربلند فرمائے۔ اور تمیل (ان میں) زیل نہ فرمائے۔ اور تم کوسرفراز فرمائے۔ اور تم میں محروم نہ کیجئے۔ اور تم کو (لوگوں پر) غالب رکھے۔ اور (ان کا) مغلوب نہ بنائیے۔ اور تم کوراضی رکھے۔ اور تم سے راضی ہوجائے۔ پھر آپ پ نے ارشاد فرمایا: مجھ پر (اہلی اہلی) دس آیتوں نازل ہوتی ہیں جو شخص ان پر عمل کرے تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔ پھر آپ پ نے (سورۃ مومنوں کی نازل شدہ ابتدائی دس آیتوں کی) تلاوت فرمائیں (جن کو) قد افلح المؤمنون سے شروع فرمائے ہم فیہا خالدون پر دس آیتوں ختم فرمائیں۔ اس کی روایت امام احمد اور زندی نے کی ہے۔
دین اور دنیا کی بجلائیوں پر مشتمل ایک جامع دعاے
Umar ibn al-Khattab (may Allah be pleased with him) reported: "When revelation descended upon the Messenger of Allah (ﷺ), a sound like the buzzing of bees could be heard near his face. One day revelation came and we waited for some time until it lifted from him. He faced the qiblah, raised his hands and said: 'O Allah, increase us and do not decrease us, honor us and do not humiliate us, give us and do not deprive us, prefer us and do not prefer others over us, be pleased with us and make us pleased.' Then he said: 'Ten verses have been revealed to me - whoever acts upon them will enter Paradise.' Then he recited: 'Successful indeed are the believers...' (23:1) until he completed ten verses." [Narrated by Ahmad and Al-Tirmidhi]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنهما سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ حضرت نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یادعاے (بھی) فرما کرتے تھے:
رَبِّ أَعْنِی وَلا تُعْنُ عَلَی، وَانْصُرْنِی وَلا تَنْصُرْ عَلَی، وَامْكُرْ لِی وَلا تَمْکُرْ عَلَی،
وَاهْدِنِی وَيَسِّرِ الْهُدَی لِی، وَانْصُرْنِی عَلَی مَنْ بَغَی عَلَی.
رَبِّ اجْعَلْنِی لَکَ شَاکِرًا، لَکَ ذَاکِرًا، لَکَ رَاهِبًا، لَکَ مِطْوَاعًا، لَکَ
مُخْبِتًا، إِلَیْكَ أَوَّاهًا مَنِيبًا. رَبِّ تَقَبَّلْ تَوْبَتِی، وَاغْسِلْ حُوبَتِی، وَأَجِبْ دَعْوَتِی، وَثَبِّتْ
حُجَّتِی، وَسَدِّدْ لِسَانِی، وَاهْدِ قَلْبِی، وَاسْلُلْ سَخِیمَةَ صَدْرِی.
اے میرے رب (آپ کے ذکر، شکر اور عبادت کی بجا آوری میں) میری مدد فرمائے اور
(ان کاموں میں میرے لئے رکاوٹ کا جو سبب ہیں) ان کی مدد آپ مت فرمائیے اور (مخالفین پر)
مجھ کو غلب نصیب فرمائیے اور ان کو مجھ پر غالب نفرمائیے اور آپ میرے لئے تدبریں فرمائیے اور
میرے خلاف تدبریں نہ کیے۔ اور مجھے راہ راست پر چلا ئیے اور راہ راست پر چلنے میرے لئے
آسان فرمائیے۔ اور جو مجھ پر ظلم اور زیادتی کریں ان کے مقابلہ میں میری مدد فرمائیے۔ اے
میرے رب مجھے (نغمتوں پر) آپ کا شکر کرنے والا (بھیش) آپ کو یاد کرنے والا (برحال میں)
آپ، میں سے دور نہ والا، آپ پا کامل اطاعت گزار، آپ پا میں کے آگے عاجزی کرنے والا، آہ
وزاری کے ساتھ آپ، میں کی طرف رجونے ہونے والا (بندہ) بنادتے اے میرے ماک میری توہ
قبول فرمائیے، مجھے گناہوں سے پاک کر دیں میری دعاوں کو قبول فرمائیے، اور (قبر میں منکر و کیفر
کے سوال کے جواب میں) اپنی محبت (بھیں اقرار اور تصدیق پر) مجھے ثابت قدم رکھے اور میری
زبان کو (حق اور صدق کے پر) قائم رکھے اور میرے دل کو (اپنی معرفت کی) راہ دکھائیے اور میرے
سینے سے (وسوسن کی سیاحی کو) دور کر دیتا ہے۔ اس کی روایت تزندی، ابوداوداورابن ماجہ نے کی ہے۔
دعائے میں صاحبین کو وسیلم بن نامسنون نے
أمتنہ بن حالد بن عبد اللہ اسیر رضی اللہ عنہ سے روایت کے وہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم سے روایت فرماتے جن کا پ فقراء مهاجرین کے وسیلم نے (کفار پر) فتح کے دعائے مانگا کرتے
تھے۔ اس کی روایت امام بخاری نے ثرواح السنن میں کی ہے۔
ہی حدیث زجاہۃ المصانع جلد چہارم کے باب فضل الفقراء و ما کان من عیش النبی
صلی اللہ علیہ وسلم، میں مروی ہے۔ اوراس حدیث کو باب نذر کے اختتام پر بلحا ظ موز ونیت
درج کیا گیا ہے۔ (متزجم)
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Ibn Abbas (may Allah be pleased with them) reported that the Prophet (ﷺ) used to supplicate: "O Lord, help me and do not help others against me. Support me and do not support others against me. Plan for me and do not plan against me. Guide me and make guidance easy for me. Grant me victory over those who wrong me. O Allah, make me grateful to You, remembering You, fearing You, obedient to You, humble before You, penitent and returning to You. O Lord, accept my repentance, wash away my sins, answer my supplication, establish my proof, make my tongue truthful, guide my heart, and remove all malice from my breast." [Narrated by Al-Tirmidhi, Abu Dawud and Ibn Majah]