Nūr al-Maṣābīḥ
بَابُ الْإِنْفَاقِ وَ كَرَاهِيَةِ الْإِمْسَاكِ

یہ باب ستاوت کی فضیلت اور خلکی برانی کے بیان میں ہے

Spending and the Dislike of Hoarding
Volume 4 · Zakah

وقول الله عز وجل وانفقوا من ما رزقنكم من قبل ان ياتي احدكم الموت فيقول رب لولا اخرتني الي اجل قريب فاصدق واكن من الصالحين اور الل تعالي

کا ارشاد ہے (سورۃ منافقون، آیت نمبر:10، پ:28، ع:2، میں) اور انہیں نے جو پیغم کودیا ہے

اس میں سے خرچ کرلو، اس سے پیل کر تم میں سے کسی کوموت آجائے پھروہ (بطورتمنا اور حسرت)

کہنے گے اے میرے پروردگار مجھ کو اور تحویلے دنول کی مہلت کیول نہ دی کہ میں پکھے خیر خیرات

کر لیتااور نیک کام کرنے والون میں شامل ہوجاتا۔

ستاوت کی ترغیب

This is the guidance (from Surah Al-Munafiqun, verse number: 10, p. 28, v. 2) and what He has revealed is: Spend from it, so that you may be purified. If any of you were to die and thus (out of regret and longing) say, ‘O my Lord, if only You had granted me respite until I could have spent in charity and been among the righteous.’

2727

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ

وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ اگر میرے پاس أحد پہاڑ کے برابر جیسی سونا ہوتا تو مجھے یہ باٹ پسند نہ

ہوتی کہ اس پر تین را میں گزر جائیں اوراس میں سے میرے پاس پچھے باقی رہے، بلکہ صرف اتنا کہ

چھوٹولگا کچھ سے قرض ادا ہوجائے۔ اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “If I had gold equal to the mountain of Uhud, it would not please me to have any of it remain with me for more than three nights, except for what I set aside to pay off a debt.” [Narrated by Bukhari]

ستاوت کی ترغیب میں حضرت ابوذر کا ایک واقعہ
2728

ابوزر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے

حضرہوں کی اجازت چاہی تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے انتہائی اجازت دی یاور حضرت ابوذر

رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں میں (اس وقت) ایک لاٹی تھی، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کعب الاحبارت

(جواس وقت وہاں موجود تھے) پوچھا عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے وفات پائلی اور کثیر مال

چھوٹے گے ہیں، اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ (کہ انہوں نے اس قدر جو کثیر مال چھوٹا ہے

اس سے ان پر کیا پچھے و بال ہوگا) کعب رضی اللہ عنہ نے (پین کر) جواب دیا کہ (میری رائے میں)

اگروہ اس مال سے خدا کا حق لیجنی زکات نکلے تو اس سے ان پر کوئی و بال نہ آئے گا (پین کر)

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ (جو وہاں موجود تھے ان کو غصہ آیا اور) انہوں نے اپنی لاٹی سے کعب کو

مارتے ہوئے فرماپیش نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوارشاوفرماتے ہوئے سناتے کر اگر میرے پاس پیر (احد) پہائےسونے کا بن جاتے اوراس کو میں راہخدا میں خرچ کر دول اوروہ قبول کچھ ہوجاتے تو میں اس بات کو برگز پسند نہ کرول گا کہ چھاو قیہ سونا کچھ اس میں تے اپنے پیچے (پجاکر) چھوڑ جاول (پیکہ ہوئے) حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے کر اے عثمان! میں تم کو خدا کی فتنہ دیتا ہوں کر کیا آپ پنے کچھ ان کلمات کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تے فرماتے میں سنا ہے (اوراس سوال کو میں دفعہ دہرا یا تو حضرت عثمان نے جواب دیا بال میں نے کچھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بیفرماتے ساتے اس کی روایت امام احمد نے کی ہے- حضور کو تھوڑی دیر کے لیے جی اپنے پاس مال رکھنا پسند نہ تھا

Abu Dharr (may Allah be pleased with him) narrated that he sought permission to enter upon Uthman (may Allah be pleased with him), and he was granted permission. He had a stick in his hand. Uthman said: “O Ka’b, Abdur-Rahman has died and left wealth. What do you think should be done with it?” Ka’b said: “If he used to spend it in the way of Allah, there is no harm in it.” Abu Dharr raised his stick and struck Ka’b, saying: “I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘I would not like to have gold equal to this mountain and spend it all, and only six awqiyyah remain with me.’ I adjure you by Allah, O Uthman, did you hear that?” He said: “Yes,” three times. [Narrated by Ahmad]

2729

عقیہ بن الحارث رضی اللہ عنہ تے روایت ہے وہ فرماتے میں کہ میں نے دینہ پاک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز عصر پڑھی۔ آپ نے سلام کچھ را اور فوراً تیزی سے اٹھا اور لوگوں کی گرد میں پچاندتے ہوئے ازواج مطہرات کے چجر ول میں سے ایک کے چجرہ کی طرف تشریف لے گئے صحابہ کرام حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس طرح تیزی سے تشریف لے جانے سے پریشان ہوگئے۔ جب آپ پاپس تشریف لائے اور ملا حظفر مائے کر لوگ آپ کی اس تیزی سے جیران میں تو فرمائے مجھ کوسونے کی ایک چیز یاد آگئی جو گر میں رہ گئی تھی تو مجھے یا پچھا نہ معلوم ہوا کہ کیسے پیچھے تقرب ابی سے روک دے پس میں نے اس کو تقسیم کر دیئے کا حکم دییا- اس کی روایت بخاری نے کی ہے-

Uqbah ibn Al-Harith (may Allah be pleased with him) narrated: “I prayed behind the Prophet (ﷺ) in Madinah for Asr. After he finished the prayer, he hurriedly stepped over the people’s necks to one of his wives’ rooms. The people were alarmed by his haste. He came out and saw their concern, so he said: ‘I remembered some gold we had, and I disliked that it should keep me, so I ordered it to be distributed.’” [Narrated by Bukhari]

In another narration by Bukhari: He said: “I had left some gold from charity in the house, and I disliked to keep it overnight.”

2730

اور بخاری کی ایک دوسری روایت میں اس طرح ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ میں سونے کا ایک ذہب جوز کات کا تھا چھوڑ آیا تھا تو میں نے اس کو برا تچھا کر ایک رات کچھ اس کو اپنے پاس رکھون-

حضرور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بعد رحلت مال کا چھوڑ جانا پسند نہ تھا

Uqbah ibn Al-Harith (may Allah be pleased with him) narrated: “I prayed behind the Prophet (ﷺ) in Madinah for Asr. After he finished the prayer, he hurriedly stepped over the people’s necks to one of his wives’ rooms. The people were alarmed by his haste. He came out and saw their concern, so he said: ‘I remembered some gold we had, and I disliked that it should keep me, so I ordered it to be distributed.’” [Narrated by Bukhari]

In another narration by Bukhari: He said: “I had left some gold from charity in the house, and I disliked to keep it overnight.”

2731

ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا تے روایت ہے آپ فرماتی میں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی علالت کے زمانے میں چھو یاسات اثر فی ال میرے پاس تھیں اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یہ کہم دیا تھا کہ میں ان اثر فیون کولوگول میں تقسیم کر دولیکن آپ کی علالت نے مجھے (ایا) مشغول رکھا (کہ میں ان کو تقسیم نہ کرسکی) پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے

نہیں۔ آپ کی علاوت نے مجھے

اور

اس

حال میں اللہ تعالیٰ کے اثر فیال ان کے پاس ہوتین (کیونکہ مال کا چھوٹا جانا نبوت

کے کمال کے منافی ہے (مرقات، اشعۃ اللمعات) اس حدیث کی روایت امام احمد نے کی ہے۔

ستاوت کی فضیلت اور بجل کی ندمت

Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: “The Messenger of Allah (ﷺ) had six or seven dinars with me during his illness. He ordered me to distribute them, but his pain preoccupied me. Later, he asked: ‘What did you do with the six or seven dinars?’ I said: ‘By Allah, your pain preoccupied me.’ He called for them, placed them in his palm, and said: ‘What would the Prophet of Allah think if he were to meet Allah with this?’” [Narrated by Ahmad]

2732

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ

وآ لہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ کوئی دن ایک نمیں کر جس میں مجھ کے وقت دوفر ثتے (آسان ہے) نہ

اترتے ہوئے جتن میں سے ایک تو بی کہتارہ تاہے کر اے اللہ (نیک کاموں میں) خرچ کرنے والے

(سخی) کواس کا بدل (دنیا ورآ خرت میں) عطا کر (اوراس کے مال میں زیادتی کر) اور دوسرا یول

کہتارہ تاہے کر اے اللہ نیل کا مال ضائع کرنے۔

اس کی روایت بخاری اور مسلم میں متفرق طور پر کی ہے۔

راہ خدا میں ایک تہائی نفع خرچ کرنے کی برکت کا ایک واقعہ

It is narrated from Abu Hurairah (RA) that he said:

The Messenger of Allah ﷺ said: 'There is no day in which one does not spend something, except that among what is spent, one part is for the one who says, “O Allah, spend (in good deeds),” and for him, (in this world and the Hereafter) it will be given and his wealth will increase; and another part is for the one who says, “O Allah, spend (in vain),” and for him, his wealth will be lost.' This narration is found separately in Bukhari and Muslim. A story about the blessing of spending one-third of profit in the way of Allah.

2733

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم سے

روایت فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ کا واقعہ کہ ایک

شخص جنگل میں کھڑا تھا اس سے ابر میں سے ایک آواز نی کہ (کوئی کہہ رہا تھا) فلال شخص کے باگ کو

سیراب کرتو وہ ابراکی جانب کو برہا اور اک پتھر لی زمین پر پانی برسایا، وہ پانی چھوٹی چھوٹی نالیوں

سے ایک بڑے نالے میں جمع ہوکر آگے بڑھاودے (جواس منظر کو دیکھ رہا تھا) معلوم کرنے کے

لیے کہ پانی کہاں جاتا ہے) پانی کے ساتھ ساتھ چلا، ناگہان اس نے ایک شخص کو دیکھا جو اپنے باگ

میں کھڑا ہوا اپنے پیچے سے پانی کو ادھر اور پچھلا رہا تھا۔ اس شخص نے (باگوالے سے) پوچھا کہ

آپ بندہ خدا آپ کا نام کیا ہے؟ تو اس شخص نے (جواب میں) وہی نام بتلا جو اس نے ابر میں سے

سنا تھا (تو باگوالے نے) اس شخص سے پوچھا کہ تم نے میرا نام کیوں دریافت کیا ہے؟ تو اس شخص

نے جواب دیا کہ میں نے اس ابر میں سے جس کا پانی ہے یا آواز نی کہ فلان شخص کے باگ کو

سیراب کر (لیجن) تیرا نام لیا۔ پس بتا کر تو اپنے باگ میں (ایسا) کونسا نیک کا کام کرتا ہے (کہ جس کی

مجھے تھوڑا پریہ مر بانی ہوتی) باغ وا لے نے جواب دیا (میں نہیں جاہتا تھا کر اپنے اس راز کو فاش کروں) لیکن اب جب تم پوچھنے رہے ہو تو (تم کو بتلاتا ہوں) کہ میرے باغ میں جو پھلوں پیداوار ہوتی ہے اس کا ایک تہائی تو میں خیرات کرتا ہوں اور ایک تہائی اپنے اور اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہوں اور ایک تہائی کو (کاشت کے لیے باغ میں) لگا دیتا ہوں۔

اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔

نغمتوں کو اتفاقی نہیں سمجھنا چاہئے بلکہ معنی کے حکم خداوندی ہی ملتے ہیں ف: تحقیق الاختيار میں کہا ہے مستحب یہ کر منافع میں ایک تہائی مال خدا کی راہ میں خرچ کریں اور حدیث شریف سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ فرشتے حکم الہی پائلی بر ساتے ہیں اور حکم نامو نشان کے ساتھ ہوتا ہے کر فلان ملک، فلان شخص کے کھیت میں پائلی بر ساواور اس طرح و نیا کے سب کا عمل فرشتہ حسب الحکم کرتے ہیں تو مسلمانوں کو جاپے کہ جو نعمت ان کو ملی خواہ وہ مال کی ہو یا جان کی، اس پر اپنے رب کا شکر ادا کرے اور اس کو اتفاقی نہ سمجھے۔

خیرات کے بغیر اور کم زیادہ کا خیال کے بغیر کرنا چاہئے

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (ﷺ) said: “A man was in a desert and heard a voice from a cloud saying: ‘Water the garden of so-and-so.’ The cloud moved and poured its water into a rocky area. A stream from that water filled up completely. The man followed the water and found a man standing in his garden, diverting the water with his shovel. He asked: ‘O servant of Allah, what is your name?’ The man replied with the name he had heard from the cloud. The man asked: ‘Why do you ask my name?’ He said: ‘I heard a voice from the cloud saying: “Water the garden of so-and-so,” with your name. What do you do with it?’ The man said: ‘Since you mentioned it, I look at what comes out of it. I give one-third in charity, I and my family eat one-third, and I return one-third to it.’” [Narrated by Muslim]

2734

اسماء رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ارشاد فرما ہے ہیں کر (اللہ کی خوش نودی میں مال) خرچ کرتی جا اور گنتی مرت رکھو (کر کیا دی اور کتنا دی، اگر گنتی رکھوگی تو آسندہ دین سے تم رک جا اوگی اور) اللہ تعالیٰ مجھی تم کو شمار کر کے دے گا، اور (فقیرے مال کو) مرت رکو، کیونکہ اللہ تعالیٰ مجھی تم سے (مال کو) رک دے گا (کم زیادہ کا خیال مرت کرو) تم سے جتنی مجھی ہو سکے ویدیا کرو اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔

مال کا خرچ کرنا زیادتی نعمت کا سبب ہے

It is narrated from Aishah (RA) that she said: The Messenger of Allah ﷺ said:

Spend in Allah's pleasure and keep track of what you spend (what you have given and how much you have given). If you keep track, you will stop giving due to the fear of poverty, but Allah will provide for you. And keep track of your wealth, for Allah will take care of it for you. Spend as much as you can, and do not worry about the amount, whether it is little or much. This has been narrated by Bukhari and Muslim on mutual agreement. Spending money is a cause of increased blessings.

2735

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ (ایک حدیث قدسی میں اس طرح) سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ارشاد فرما ہے ہیں کر اللہ تعالیٰ نفرمایے کہ ابن آدم تو خرچ کرتا جا، میں تجھ کو دیتا جا ئے گا، (دنیا میں مجھی اورآخرت میں مجھی، اس لیے خرچ کرنا مالی نعمت کا شکر ادا کرنا ہے اور شکر زیادتی نعمت کا سبب ہوتا ہے) (جبیا کر مرقات اور اشعة اللمعات میں ذکور ہے۔)

اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Allah, the Exalted, says: ‘Spend, O son of Adam, and I will spend on you.’” [Agreed upon]

مال جمع کرنے کی وعید
2736

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (اپنے دفاع) حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے، اس وقت ان کے پاس گھورول کا ایک ذہیہ لگا ہوا تھا (یہ دیکھ کر) حضور صلی اللہ علیہ وسلم دریافت فرماتے کر کیا ہے اے بلال! تو حضرت بلال نے عرض کیا: یہ گھور ہے، جس کو میں نے آٹھدہ کے لے جمع کیا ہے (پیس کر) آپ ارشاد فرماتے: اے بلال! کیا تم اس سے نہیں ڈرتے کہ پر (گھور کا ذہیہ) کل قیامت کے دن دوزخ کی آگ کا دھوان بن کر تم کو آ لیے (اور مزید پیچھی فرماتے) اے بلال! خرچ کرتے جاو اور عش (عظمیم) کے ماکے افلاس اور فقر کا انہیثمہ مت رکھو (پیارشاہ مقام توگلل اور حق سب حانہ و تعالی پر کامل اعتماد کی تعلیم کے لئے ہے، ور نہ اہل و عیال کے لئے ایک سال کا مال جمع کرنا جائز ہے (جبیا کہ مرقات اوراشعتہ المعاہت میں نذکور ہے-12) اس حدیث کی روایت سے شعب الایمان میں کہ ہے- ضرورت سے زائد مال جمع کرنے کا اور خرچ کی ابتدا اے اہل و عیال سے کرنے کا بیان

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (ﷺ) entered upon Bilal and saw a heap of dates. He asked: “What is this, O Bilal?” Bilal said: “Something I have saved for tomorrow.” The Prophet (ﷺ) said: “Do you not fear that you will see its smoke rising in the fire of Hell on the Day of Resurrection? Spend, O Bilal, and do not fear poverty from the Owner of the Throne.” [Narrated by Al-Bayhaqi in Shu’ab Al-Iman]

2737

ابواماہر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ اب آدم! اپنی ضرورت سے زائد مال کو خرچ کرو اتنا تیرے لئے بہتر ہے اور (ضرورت سے زائد) مال کو جمع رکھنا تیرے لئے برائے اور (بقدر ضرورت) مال جمع رکھ پر تجہ ملامت کا خوف نہیں اور (خرچ کی) ابتدا اے اہل و عیال سے کرو (جن کی پرورش تتمہارتے ذمہ ہے) اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے- ف: رواختار میں کہا ہے کہ جو مال اپنی اور اپنے اہل و عیال کی کفالت سے زائد ہو، اس کا خیرات کرنا مستحب ہے البتہ اگر کسی نے وہ مال خیرات کر دیا جواس کے اہل و عیال کی پرورش کے لئے تجاہس سے ان لوگوں کو تکفیف اتحانی پڑی اور ان کو نقصان ہوتا ایسی خیرات پر وہ شخص گناہگار ہوگا۔12

Abu Umamah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “O son of Adam, it is better for you to give away your surplus, and it is worse for you to withhold it. You will not be blamed for having just enough. Begin with those under your care.” [Narrated by Muslim]

(1) The statement: “Begin with those under your care.” In Rad Al-Muhtar: “Know that charity is recommended from what is surplus after one’s needs and the needs of those one supports. If one gives charity from what reduces the provision of those under his care, he sins.”

2738

امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں رسول صدق رو بلاء ہے

اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ (پیار بھونے یا موت سے پبل) صدقہ دینے میں جلدی کرو، اس لیے کہ (صدقہ دینے کے) بلاء آتی نہیں (یا گر آئی تو دفع ہو جائے)۔ اس حدیث کی روایت رزین نہیں ہے۔

یہ اور بخیل کی ایک مثل

Ali (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Hasten to give charity, for calamity cannot overtake it.” [Narrated by Razin]

2739

وآ لہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جبیل اورتی کی مثل ان دوآمیون جسی کے جولوہے کے دوزر میں پینے ہوئے ہول (اور جواس قدر رٹگ ہول) کران کے دونول باٹہ ان کے سین اور بششی کی بدیول تک جکڑ گے ہول۔ پس جب کہی کی خیرات کا ارادہ کرتا ہے اور خیرات دینے لئے تواس کے دونول جکڑ ہوئے باٹہ کشاوہ ہوجاتے ہیں) اور زرہ کحل جاتی ہیں، اور بخیل جب کہی خیرات کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے (دونول) باٹہ (اور) سکڑ جاتے ہیں اور زرہ کی بھرکری اپنی اپنی جگد تگ ہوجاتی ہے (یعنی کی جب خیرات کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کا سپرد کحل جاتا ہے اور وہ خیرات کرتا ہے، اس کے برخلاف جب کسی کو پچھا دینے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کا سپرد اور تگ ہوجاتا ہے اور وہ دینے سے رک جاتا ہے) اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفرق طور پر کی ہے۔

مرت وقت خیرات کرنے کی مثل

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “The example of a miser and a charitable person is like two men wearing iron cloaks that are tightly fitted around their chests and shoulders. Whenever the charitable person gives charity, the cloak expands until it covers him completely and conceals his footsteps. Whenever the miser intends to give charity, the cloak tightens, and every ring clings to its place.” [Agreed upon]

2740

وآ لہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جو شخص اپنی موت کے وقت خیرات کرے یا غلام باندی آزاد کرے، اس کی مثل اس شخص جسی کے جوسی کو ایسے وقت تھڑ دے جبکر (لین وا لے کا) پیٹ بھرا ہوا ہو (یعنی جس طرح کسی پیٹ بھر لے ہوئے کو کھانا دینے سے اتنا ثواب نہیں ہے جتنا کہ بجو کے کو کھانا کھلانے میں ہے، اس طرح مرت وقت خیرات کرنے میں اتنا ثواب نہیں ہے جتنا زندگی میں خیرات کرنے سے ثواب ملتا۔ اس حدیث کی روایت امام احمد، نسائی، دارقی اورترمزی نے کی ہے اورترمزی نے اس حدیث کو قراردیا ہے۔

یہ اور بخیل کا انجام

Abu Ad-Darda (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “The one who gives charity at the time of death is like one who gives a gift after being satiated.” [Narrated by Ahmad, Nasa’i, Al-Darimi, and Tirmidhi, who authenticated it]

2741

وآ ل و لم ارشاد فرما ئے جس کر سخاوت جنت میں ایک درخت (کے ما ند) ہے (جس کی شاخیں و نیا میں چھلی ہوتی ہیں تو جو کوئی شخص چھلی ہوگا وہ اس (درخت) کی کسی ایک شاخ کو پکڑ لے گا اور پیشاخ اس شخص کو اس وقت تک نہیں چھوڑتی جب تک کر اس کو جنت میں داخل نہ کرے، اور جعل (جہن) دوزخ میں ایک جہاز (کے ما ند) ہے، جس کی شاخیں بھی و نیا میں چھلی ہوتی ہیں تو جو کوئی شخص چھلی ہوگا وہ اس (جہاز) کی کسی ایک شاخ کو پکڑ لے گا اور پیشاخ اس شخص کو اس وقت تک نہیں چھوڑتی جب تک کر اس کو جہنم میں داخل نہ کر دے۔

اس کی روایت میں نے شعب الامان میں کی ہے۔

ثُغ کی ندمت

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Generosity is a tree in Paradise. Whoever is generous takes hold of one of its branches, and the branch does not let go until it brings him into Paradise. Stinginess is a tree in Hell. Whoever is stingy takes hold of one of its branches, and the branch does not let go until it brings him into Hell.” [Narrated by Al-Bayhaqi in Shu’ab Al-Iman]

2742

جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے و فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ارشاد فرما ئے جس کر ظلم کرنے سے نکہ رہو کر ظلم قیامت کے روز بہت تار کیوں کا سبب ہوگا اور شے سے پچو (ثُغ پیہ کر ایک شخص دوسرے کے مال کا ذمہ دار ہو، اور کوشش پیرتاہو کر اس دوسرے کا مال بھی خرچ نہ ہواور پیجل کی ایک فتنہ ہے) کیون کر ثُغ نے تمہے پہلے امتیاز کو بلاک کر دیا کر ان کو خوزریزی پراور حرام کوحلال کرنے پرتک آمادہ کر دیتا اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔

زاکد مال جمع کرنے کی وعید

Jabir (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Beware of oppression, for oppression will be darkness on the Day of Resurrection. Beware of stinginess, for stinginess destroyed those before you. It led them to shed blood and make lawful what was forbidden.” [Narrated by Muslim]

2743

ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے و فرما تے ہیں کر میں (ایک دفعہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ اللہ کے ساپی میں تشریف فرما تے مجھے دیکھتے ہی فرما ئے: (اے ابوذر!) رب کعبہ کی قسم وہ لوگ سخت نقصان اور خسارہ میں پیچ میں نے عرض کیا: میرے مال بابآ پ پر قربان! وہ کون لوگ ہیں؟ یا رسول اللہ! حضور صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرما ئے کہ زاکد مال جمع کرنے والے مگروہ لوگ اس سے مشقت ہیں جنہول نے (اپنے اموال کی) یول دادودہش کر دی۔ فرما تے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دست مبارک سے اپنے آگے، پیچے، داگین اور باہمی جانب اشارہ فرمااور (پیچی ارشاد فرما کر) اس طرح دین وا لے بہت کم لوگ ہیں۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے کی ہے۔

ناشکری سے نہمت کے زائل ہونے کا ایک عبرت دینے والے واقعہ

Abu Dharr (may Allah be pleased with him) narrated: “I came to the Prophet (ﷺ) while he was sitting in the shade of the Ka’bah. When he saw me, he said: ‘They are the losers, by the Lord of the Ka’bah.’ I said: ‘May my father and mother be sacrificed for you, who are they?’ He said: ‘Those who have the most wealth, except for those who say: “This is for this, this is for this,” in front of them, behind them, to their right, and to their left. But they are few.’” [Agreed upon]

2744

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کر کہ جب بن اسرائیل میں تین آدمی تھا (اپنے کورسی (دومرا) گنجا (تمبرا) اندھا اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمائے کا ارادہ فرمایا (کروہ نہمت کا شکردا کرتے ہیں یا نہیں) چنانچہ ان کے پاس ایک فرشتہ کو (ایک مسلمین آدمی کی صورت میں) روانہ کیا۔ فرشتہ پہلے کورسی کے پاس آیا اور اس سے پوچھا کہ تجھے کورسی چیز زیادہ پسند ہے؟ اس نے جواب دیا: خوش رنگ اور خوبصورت جلد اور بات (مجھ پسند ہے) کہ میرا بیماری دور ہوجائے جس کی وجہ سے لوگ مجھے نفرت کرتے ہیں۔ حضرت صلی اللہ علیہ وآلم وسلم ارشاد فرماتے کہ فرشتہ نے اس پر اتنہ پچھیرا تو اس کا کورہ جاتا رہا اور اس کو اچھا رنگ اور خوبصورت جلد و پیکی فرشتہ نے (پھر) اس سے پوچھا کہ تجھے کونسا مال زیادہ پسند ہے تو اس نے جواب دیا اونٹ یا گاے۔ حضرت صلی اللہ علیہ وآلم وسلم ارشاد فرماتے کہ اس کو گا جس اونٹیاں دیئیں اور فرشتہ نے کہا: اللہ تعالیٰ تم کو اس مال میں برکت دے۔ حضرت صلی اللہ علیہ وآلم وسلم ارشاد فرماتے کہ اس کے بعد وہ فرشتہ گئے کے پاس آیا اور اس سے دیا فت کیا کہ تجھ کو کوئی چیز زیادہ پسند ہے تو اس نے جواب دیا خوبصورت بال اور بات کہ میں جا پین دور ہوجائے جس کی وجہ سے لوگ مجھے نفرت کرتے ہیں۔ حضرت صلی اللہ علیہ وآلم وسلم فرماتے کہ فرشتہ نے اس (کے سر) پر اتنہ پچھیرا اور اس کا گنجا پین جا تا رہا اور اس کو خوبصورت بال دیئیے گئے۔ (پھر) فرشتہ نے اس سے پوچھا: کونسا مال تجھے زیادہ پسند ہے؟ اس نے جواب دیا: گاہے، اس کو حاملہ گاہیں عطا کی گئیں۔ فرشتہ نے (اس سے کہا) اللہ تعالیٰ تم کو اس میں برکت عطا فرمائے! حضرت صلی اللہ علیہ وآلم وسلم ارشاد فرماتے کہ فرشتہ (پھر) ناپینا کے پاس پہوچا اور پوچھا کہ تم کو کسی چیز زیادہ پسند ہے تو اس (ناپینا) نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ میری پیمانی میں دوبارہ عطا فرمائیں تاکہ میں لوگوں کو دیکھ سکوں۔ حضرت فرماتے کہ فرشتہ نے اس (کی آنکھوں) پر اتنہ پچھیرا، اور اللہ تعالیٰ نے اس کی پیمانی اس کو واپس دیئی۔ پھر فرشتہ نے پوچھا کہ تم کو کونسا مال زیادہ پسند ہے؟ اس نے جواب دیا کہ بڑی ایل تو اس کو پڑیا و ایک بڑی ایل دیئی گئی۔ چنانچہ ان دونوں پیمانی اونٹ والے کی اونٹیوں سے اور

گاہے والی کی گاہیوں نے پھر دیے۔ اوراس بگری والے کی بگریوں نے جسی پھر دیے، تو (اونٹ

والے کی) اونٹیوں نے ایک وادی اور گاہے والے کی گاہیوں نے ایک وادی اور بگری والے کی

بگریوں نے ایک وادی بھرگی۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ پھر وہی فرشتہ اپنی اسی

(پہلی) صورت اور پہیت میں کوڑی کے پاس آیا اور اس سے کہا کہ میں ایک مسکین اور نادار شخص

ہوں، میرے ذرا لے سفرتم ہوگے ہیں، اب اللہ کی مدد کے بغیر منزل مقصد تک پہنچنا ممکن نہیں (اور

اللہ کے بعد) پھر تیرا ذریعہ ہے۔ پس میں تجہے اس ذات کا واسطہ کر جس سے تجہے اچھا رہگا

اورا چھی جلد اور مال دیا ہے، ایک اونٹ کا سوال کرتا ہول کر جس کے ذریعہ میں اپنا سفر طے کر

سکون، اس (کوڑی) نے جواب دیا کہ مجھے پربہت حقوق ہیں (ان کی موجودگی میں تجہے کوئی حق نہیں

پہو چتا ہے ن کر) پھر فرشتہ نے کہا میرا خیال ہے کہ تو وہی کوڑی تو نہیں جس سے لوگ نفرت کرتے

تھے اور تو ناوار تھا۔ پس اللہ نے تجہے مال دیا کوڑی نے (اس کے جواب میں) کہا: میا مال مجھے اپنے

برطول سے نسلاً بعد سلی ملا ہے (یعنے) فرشتہ نے کہا: اگر تو (اپنے قول میں) جحوطہ تو اللہ تجہے اپنی

پہلی حالت میں پلتا دے، (یعنی تجہے کوڑی اور نادار کر دے) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد

فرما گے کہ وہ فرشتہ اپنی اسی (پہلی) شکل میں تجہے کے پاس پہو چا اور اس سے کہی اپنے سوال و

جواب ہوا جسیا کر کوڑی سے ہوا تھا، اور اس نے جسی ویسی جواب دیا جسیا کوڑی نے جواب دیا تھا

(پیس کر) فرشتہ نے اس سے کہا: اگر تو جحوط کہہ رہا ہے تو اللہ تجہے پھر ویسی (گنجا اور نادار)

کر دے جسیا کہ تو پہلے تھا۔

حضر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ وہ فرشتہ (اب) ناپنا کے پاس اپنی اسی (پہلی)

شکل اور حالت میں پہو چا اور اس سے کہا: میں ایک مسکین آدمی اور مسافر ہوں میرا سامان سفر جاتا رہا

اوراللہ تعالی کی مدد کے بغیر منزل مقصد تک پہو چنا ممکن نہیں (یا اللہ کے بعد) پھر تیرا ذریعہ ہے۔ پس

میں تجہے اس ذات کا واسطہ کر جس سے تجہے دوبارہ پینالی جسی ایک بگری کا سوال کرتا ہوں

جس کے ذریعہ میں اپنا سفر طے کر سکون۔ ناپنا نے یس کر کہا: بے شک میں ناپنا تھا اللہ تعالی

نے مجھے پینالی جسی تو جس قدر چاہے مال لیجا اور جس قدر تیرا جی چاہے جحوط جا اللہ کے لیے جس

قدر مال آج تم لوگ میں تعمیم (اس کی واقعی کی) تکلیف نہیں دول کا (پیس کر) فرشتہ نے کہا: تم

اپنا مال اپنے پاس میں رکھو تم (تین لوگوں کی اللہ تعالی کی طرف سے پی) آزماش لی گئی کہ تم پے ہو

یا جھوٹ، مخلص ہو، یا منافق اور شرکرگز ارہو یا ناشکر ہے) پس اللہ تعالیٰ تم سے راضی ہوا اورتمہارے دونول ساتحیون (کورسی اورجنحا) سے ناراض ہوا(کرانکوانی اصلی حالتو پرسزا علوطا ویاگیا)- اس حدیث کی روایت بخاری اورمسلم نے متفرق طور پرکی ہے۔

سائل کوخالی باتحوالوطا نے کا ایک عبرتنا ک واقعہ

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that he heard the Prophet (ﷺ) say: “There were three men from the Children of Israel: a leper, a bald man, and a blind man. Allah wanted to test them, so He sent an angel to them. The angel came to the leper and asked: ‘What do you desire most?’ He said: ‘A good complexion and good skin, and to be rid of what makes people avoid me.’ The angel touched him, and his ailment was cured, and he was given a good complexion and skin. The angel asked: ‘What kind of wealth do you desire most?’ He said: ‘Camels,’ or he said: ‘Cattle’, Ishaq was unsure, but one of them said ‘Camels,’ and the other said ‘Cattle.’ He was given a pregnant she-camel. The angel said: ‘May Allah bless you in it.’

The angel then came to the bald man and asked: ‘What do you desire most?’ He said: ‘Good hair and to be rid of what makes people avoid me.’ The angel touched him, and he was cured. He was given good hair. The angel asked: ‘What kind of wealth do you desire most?’ He said: ‘Cattle.’ He was given a pregnant cow. The angel said: ‘May Allah bless you in it.’

The angel then came to the blind man and asked: ‘What do you desire most?’ He said: ‘That Allah restores my sight so I can see people.’ The angel touched him, and Allah restored his sight. The angel asked: ‘What kind of wealth do you desire most?’ He said: ‘Sheep.’ He was given a pregnant ewe. The sheep and cattle multiplied until one man had a valley of camels, another had a valley of cattle, and another had a valley of sheep.

Then the angel came to the leper in his previous form and condition and said: ‘I am a poor man, and my journey has exhausted me. I have no means of reaching my destination except with the help of Allah and then you. I ask you by the One who gave you good complexion, good skin, and wealth to give me a camel to help me on my journey.’ The man said: ‘I have many obligations.’ The angel said: ‘I think I recognize you. Weren’t you a leper whom people avoided and a poor man? Allah gave you wealth.’ The man said: ‘I inherited this wealth from my ancestors.’ The angel said: ‘If you are lying, may Allah return you to your previous state.’

The angel then came to the bald man in his previous form and condition and said the same to him, and the man replied similarly. The angel said: ‘If you are lying, may Allah return you to your previous state.’

The angel then came to the blind man in his previous form and condition and said: ‘I am a poor man, and my journey has exhausted me. I have no means of reaching my destination except with the help of Allah and then you. I ask you by the One who restored your sight to give me a sheep to help me on my journey.’ The man said: ‘I was blind, and Allah restored my sight. Take what you want and leave what you want. By Allah, I will not burden you today with anything you take for the sake of Allah.’ The angel said: ‘Keep your wealth. You have been tested, and Allah is pleased with you but angry with your two companions.’” [Agreed upon]

This hadith has been narrated separately by Bukhari and Muslim. It relates to an incident involving a man who was found to be in a state of impurity (Junub) and was asked about it.

2745

پس کر (ایک وفد امام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس (پیہوئے) گوسشت کا ایک طکڑا تحفہ کچیا گیا تھا، چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گوسشت پسند تھا اس لے امام المومنین نے خادمہ سے کہا کہ اس گوگر میں رکھدو، ممکن ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو ناول فرمائیں تو خادمہ نے اس گوسشت کو گر کے ایک طاقتی میں رکھ دیا (اس کے بعد) ایک سال آیااوردوروازہ پرکطرے ہوکر سوال کیا: (گهر والو! پچھو) خبرات کرو، اللہ تعالیٰ تم کوبرکت دے، گهر والو نے سائل کوجواب دیا کہ خدا تجہ بھی برکت دے تو (پیس کر) سائل چلا گیا، اور بی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گهر میں تشریف لاگے اورفرما تے: ام سلمہ! تمہارے پاس کوئی چیز کہا نے کوہ؟ امام المومنین نے عرض کیا کہ جی بلال (تے) اورخادمہ سے کہا کہ جاؤاورو ہ گوسشت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لے آؤ۔ خادمہ وبلال نے (تو دیکھا) کہ (گوسشت کی بجائے گار کے پتھر کا ایک طکڑا وبال رکھا ہے (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب پرواقدہ علم ہوا) تو حضور ارشاد فرماتے کرو، یہ گوسشت، گار کا پتھر بن گیا ہے، اس لے کہ تم نے اس سائل کو نیب دیا۔ اس کی روایت تہقیق نے دلال النبوہ میں کی ہے۔

خبرات کرنے میں جلدی کرنے چاہئے

پہلی حدیث

A freed slave of Uthman (may Allah be pleased with him) narrated: “A piece of meat was gifted to Umm Salamah (may Allah be pleased with her), and the Prophet (ﷺ) liked meat. She said to the servant: ‘Put it in the house, perhaps the Prophet (ﷺ) will eat it.’ The servant placed it in a corner of the house. A beggar came and stood at the door, saying: ‘Give charity, may Allah bless you.’ They said: ‘May Allah bless you.’ The beggar left. The Prophet (ﷺ) entered and said: ‘O Umm Salamah, do you have anything to eat?’ She said: ‘Yes.’ She told the servant: ‘Bring that meat to the Messenger of Allah (ﷺ).’ The servant went but found only a piece of rock in the corner. The Prophet (ﷺ) said: ‘That meat turned into rock because you did not give it to the beggar.’” [Narrated by Al-Bayhaqi in Dala’il An-Nubuwwah]

2746

حارث بن وهب رضی اللہ عنہ سے روایت سے وہ فرماتے پس کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے پی کہ خبرات کیا کرو (اورخبرات کرنے کو غنیمت جانو، جب تک کہ تمہارے پاس مال موجود ہے اور مستحقین بھی مل جائیں ہیں) کیونکہ آندرہ ایک ایازمانہ آنے والا ہے کر انسان اپنی خبرات کو لے کر پچھرے گا لیکن کوئی اس کو قبول کرنے والا نہ مل گاہر شخص اس

سے بھی کہا اگر تم اس (خیرات) کو لالات تو میں لے لیتا۔ آج بھی اس کی حاجت نہیں۔

اس کی روايت بخاري اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔

ف: مرقات اور اشعة اللمعات میں کہا ہے کہ وہ زمانہ جس میں خیرات کو قبول کرنے والا نہ

ملگا وہ آخری زمانہ ہوگا جس میں حضرت مهدی ظہور گا اور حضرت عیسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام نزول

فرما کیں گے۔

Harithah ibn Wahb (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Give charity, for a time will come when a man will walk with his charity and not find anyone to accept it. A man will say: ‘If you had brought it yesterday, I would have accepted it, but today I have no need for it.’” [Agreed upon]

دومسری حدیث
2747

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کہ وہ فرماتے ہیں کہ ایک صحابی نے رسول

اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ کوئی خیرات ہے جس میں زاکا جر ملتا ہے؟ تو

حضرت صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرما کر ایسی حالت میں خیرات کرنے جبر تو تندرست ہواور تحقی مال

جمع کرنے کی حرص ہو، اور تو افلاس سے دورتا ہو اور تو نگر بن کی آرزودل میں رکتا ہے (تو ایسی

حالت میں خیرات کرنے میں بلا اجر اور ثواب ہے) اور (حضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرما کر) خیرات

کرنے میں اتنی استیاور درپیندا گا کہ تمہاری جان کندی کا وقت آپہو چا اوراس وقت تم یوصیت

کرنے گلو کرتا مال فلان کے لیے اور اتنا فلال کے لیے، حالانکہ تم پیجانے ہوگے مال فلال شخص

ی کو لے گا (لیجنی وارث کو لے گا) اس حدیث کی روايت بخاري اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that a man asked: “O Messenger of Allah, which charity has the greatest reward?” He said: “To give charity while you are healthy and stingy, fearing poverty and hoping for wealth. Do not delay until you are on your deathbed and say: ‘Give this to so-and-so and that to so-and-so,’ when it already belongs to so-and-so.” [Agreed upon]

تیسری حدیث
2748

ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے روایت کہ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی

اللہ علیہ وآ له وسلم ارشاد فرما کہ جس کر انسان کا اپنی تندرستی کی حالت میں ایک درہم خیرات کرنا

مرتے وقت کے سودرتم خیرات کرنے سے بہتر ہے۔ اس کی روایت البودا ود نے کی ہے۔

Abu Sa’id Al-Khudri (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “For a person to give charity during his life is better for him than to give a hundred at the time of his death.” [Narrated by Abu Dawud]

چوتھی حدیث
2749

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کہ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ

وآ له وسلم ارشاد فرما کہ جس کر کسی نزدیک ہے اللہ سے نزدیک ہے جنت سے اور نزدیک ہے لوگوں

سے (لیجنی لوگوں میں عزیز ہے) اوردورہوتا ہے دوزخ سے، اور جیل دور ہے اللہ سے، دور ہے جنت

سے اور دور ہے لوگوں سے اور نزدیک ہے دوزخ سے اور جبل تی اللہ تعالی کے پاس زاکد محبوب

ہے جیل عابد سے۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “The generous person is close to Allah, close to Paradise, close to people, and far from Hell. The miser is far from Allah, far from Paradise, far from people, and close to Hell. An ignorant but generous person is more beloved to Allah than a knowledgeable but miserly person.” [Narrated by Tirmidhi]

خیرات کی فضیلت
2750

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت

ہے کہ جب کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض بیوٹ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کر

(آپ کی وفات کے بعد) تم میں سے کون سب سے پہلے آپ سے ملیں گی - حضور واویسۃ فرماتے کر

تم میں سے جن کے باٹھ سب سے برتر ہوں! تو امہات المومنین ایک کڑی لے کراپنے اتحول کو

ناپے لگیس تو حضرت سودہ کا باٹھ سب سے لا نبا تھا ( لیکن جب حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا پیلے

انتقال ہوا تو ) تمام کو معلوم ہوا کہ لاش پاٹھون سے (حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ) مراد زیادہ خیرات

کرنے والے باٹھ سے، اور حضرت زینب رضی اللہ عنہا سب سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے جا

ملیس اور ان کو خیر خیرات سے بہت محبت تھی۔ اس کی روایت بخاری (اورمسلم) نے کی ہے۔

جل اور بد اخلاقي مومن کی شان نہیں

Aisha (may Allah be pleased with her) narrated that some of the wives of the Prophet (ﷺ) asked him: “Which of us will be the quickest to join you?” He said: “The one with the longest hand.” They took a stick and measured their hands, and Sawdah had the longest hand. Later, we learned that the length of her hand referred to her charity. Zainab was the quickest to join him because she loved to give charity, hoping that he would take notice and spend from what Allah had given him. [Agreed upon, and the wording is from Bukhari]

2752

ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ مومن میں دوبہتیں جمع نہیں ہوتیں (ایک) جعل (دوسرے) بد اخلاقي۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔

ف: اشعۃ اللمعات میں کہا ہے کہ جعل اور بد اخلاقي مومن کے شاپان شان نہیں اگر کسی مسلمان میں پی خصلتیں موجود ہوں تو اس کو چاہے کہ وہ رياضت اور مجاهدہ سے ان کو دور کر دے، تاکہ مومن کامل کہلا نے کا مستحق ہو۔12

دغا بازی، جعل اور احسان جتا نے کی وعید

Abu Sa'id (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "Two traits are not combined in a believer: miserliness and bad character." [Narrated by Tirmidhi]

2753

ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جنت میں نتو وعا باز واحلل ہوگا اور نہیل اور (خیرات و کبر) احسان جتا نے والا (یہی) جنت میں داخل نہ ہوگا (جب تک یہ ان براہیول سے توہین کریں یا ان کی سزا پا کر پچھکار نہ پائیں یا پھر اللہ تعالی خود اپنے فضل سے ان کو معاف نفرما دین، اس لئے مسلمان کوالن براہیول سے پچھرہ ناچاہے) اس حد یثکی روایت ترمذی نے کی ہے۔

جل اور بزدلی کی نذمت

Abu Bakr al-Siddiq (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "The deceitful, the miser, and the one who reminds others of his favors will not enter Paradise." [Narrated by Tirmidhi]

2754

اللہ کے نام پرندیئے کی وعید

وآ ل ر و لم ارشاد فرما ئے جین کرانسان میں دو خصلتين بدترین ہیں: ایک ایسا بجل جوانسان کومال کے حاصل کرنے پرحیص بنادے اورمال خرج کرنے کے مواقع پراس کوبےچین کروے۔ دوسروے ایسی برزدی کہ جواس کومشکیبن کے مقابلہمیں رونے سے روک دے اور ایسی برزدی جواس کونیک کام کرنے نہ دے۔ اس کی روایت ابوداوڈ نے کی ہے۔

The Prophet ﷺ said: 'There are two characteristics in people that are the worst: one is a young man who becomes bold in seeking wealth and anxious when spending it. The other is a weakness that prevents one from weeping in the presence of those who make one cry, and a weakness that prevents one from doing any work.'

2755

ابن عباس رضی اللہ عنهما سے روايت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما ئے جین کہ کیا میں تم کو اپیا شخص نہ بتاول کہ جوالله تعالیٰ کے پاس مرتبہ میں سب سے برا ہے (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے) عرض کیا گیا: جی بال! (ضرور بتائیے یارسول اللہ) حضور صلی اللہ علیہ آلہ وسلم ارشاد فرما ئے: وہ شخص (اللہ کے پاس مرتبہ کے لحاظ سے بدترین ہے) ہے کہ جس سے اللہ کا وسطتے کرسوال کیا جائے، (اور وہ باوجودیں کی قدرت رکھے کے اور پیجانتے ہوتے کہ جی کرسائل واقت مستحق ہے) اللہ کے نام پرندے۔

اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔

ف : مرقات میں کہا ہے کہ جو شخص سائل کودین کی قدرت رکھتا ہو، اور پیچھی جانب تو ہو کے سائل واقعی متاحج ہے اور وہ اللہ کا وسط دے کر ما نگے رباہ تو ایی صورت میں سائل کے سوال کور درنا گناہ کبیرہ ہے، اگر مستول حاجت اصلی سے زیادہ مال نہیں رکھتا تو ایی صورت میں سائل کے سوال کو رد کرنے سے گناہگار نہ ہو گا۔ الرحمۃ المهداة حاشیہ مشکوۃ میں ذکور ہے کہ اگر سائل واقعی اعتبارج کے بغیر اللہ کا وسط دے کر ما نگے اوراس کونہ دیاجائے تو اپیا سائل کی اللہ کے پاس سب سے بدترین شخص ہو گا۔12 جچپا کر خیرات کرنے کی فضلیت اور غیر مستحق کوالا علی سے خیرات دی جائے تواس کا ثواب مل جائے گا۔

In Merqat, it is mentioned that if a person has the ability to provide water, and there is actually water available behind him, and he refuses to give it despite having the means, then in this case, refusing to provide water is a major sin. If the one asking does not have more wealth than what is necessary for their basic needs, then in this case, refusing to provide water is not sinful. In Al-Rahmah Al-Muhdah, a commentary on Mishkat, it is stated that if a person refuses to provide water without any valid reason and denies it, then such a person will be the worst of people in the sight of Allah. If one gives charity with a good intention and provides it to someone who is not deserving, they will still receive reward.

2756

ابوہریرہ رضی اللہ عنه سے روايت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم ارشاد فرما ئے جین کہ (بنی اسرائیل میں سے) ایک شخص نے (اپنے ساتھیوں سے) کہا: میں (آج کی رات) ضرور پچھے خیرات کرون گا۔ (رات میں خیرات کرنے سے اس شخص کا مقصد پچپا کر خیرات کرنا تھا) چنانچہ وہ اپنی خیرات لے کر چلا اور (اندہیبرے میں) ایک چور کے

باتھو دے آیا، جب صبح ہوتی تو لوگوں میں چرچا ہوا کر آج کی رات چور کو خبرات دی گئی۔ اس شخص نے (پیس کر) کہا اے اللہ! تیرا شکر ہے (اگر چوکہ میری خبرات) چور کو میں (اس کے بعد اس کہا آج کی رات پھر) میں ضرور خبرات کرول گا، چنانچہ وہ اپنی خبرات لے کر نکلا اور (اندہیبرے میں) ایک زانیہ کے باتھو دے آیا۔ جب صبح ہوتی تو لوگوں میں چرچا ہوا کر آج کی رات ایک زانیہ کو خبرات دی گئی، جب اس شخص نے سنا تو کہا کر اے اللہ تیرا شکر ہے (کہ میری خبرات) زانیہ کو گئی۔ اس شخص نے پھر کہا کہ میں (آج کی رات بھی) ضرور خبرات کرول گا۔ چنانچہ وہ اپنی خبرات لے کر نکلا اور (اندہیبرے میں) ایک غنی کے باتھو دے آیا۔ جب صبح ہوتی تو لوگوں میں چرچا ہوا کہ آج کی رات غنی کو خبرات دی گئی (صدق دین والے نے) کہا اے اللہ! تیرا شکر ہے کہ (میری خبرات) چور، زانیہ اور غنی پر خرچ ہوتی۔ پس اس کو خواب میں دکھایا گیا کہ (تیرے تمام صدقات قبول ہوئے) جو صدق تو نے چور کو دیا ممکن ہے وہ اس کو چوری سے باز رکھا اور تو نے جو صدق زانیہ کو دیا ہے ممکن ہے وہ اس کو زنا سے باز رکھا اور جو صدق تو نے غنی کو دیا ہے ممکن ہے اس کو عبرت اور نصیحت ہوا اور وہ کہی اس مال میں سے خبرات دینے کے جوالش نے اس کو دیا ہے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر لی ہے۔ سائل کو پچھونے پکڑو رودیا چاپے گے

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "A man said, 'I will surely give charity.' So he went out with his charity and placed it in the hand of a thief. In the morning, people were talking, saying, 'Charity was given to a thief last night.' So he said, 'O Allah, praise be to You regarding the thief. I will surely give charity again.' So he went out with his charity and placed it in the hand of an adulteress. In the morning, people were talking, saying, 'Charity was given to an adulteress last night.' So he said, 'O Allah, praise be to You regarding the adulteress. I will surely give charity again.' So he went out with his charity and placed it in the hand of a wealthy person. In the morning, people were talking, saying, 'Charity was given to a wealthy person last night.' So he said, 'O Allah, praise be to You regarding the thief, the adulteress, and the wealthy person.' Then he was approached and told, 'As for your charity to the thief, perhaps it will prevent him from stealing. As for the adulteress, perhaps it will prevent her from committing adultery. And as for the wealthy person, perhaps he will reflect and spend from what Allah has given him.'" [Agreed upon, and the wording is from Bukhari]

2757

ام بُجَيْدٌ رضي الله عنهما ـ روايت ـه وه فرماي ـه كم ـيل ن ـع (رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ـه) عرض كيا كر يارسول الله مسكين ميرے دروازے پر (آگر) كطرارهتا به (اور بار بار سوال کرتا ـه) يہال تک کر مجھے شرم آتي ـه، كيونکہ ميرے پاس اس کو دینے کے لیے گھر میں پچھو نہیں ہوتا ـه (ايسی صورت میں میں کیا کرون؟ پیس کر) حضور صلى الله عليه وآله وسلم ارشاد فرما ـه: اگر تیرے پاس جلا ہوا کھرچی موجود ہوتا ـو، ایسے کے ہاتھوں پر کہ دے (یعنی اس کو معمولی سے معمولی چیزی کیون نہ ہودے کر روانہ کر دے، خالی باٹھا ـتے واپس نہ کر)۔ اس حدیث کی روایت امام احمد، ابوداود اورترمزی نے کی ـہ۔ اورترمزی نے کہا ـہ کہ یہ حدیث حسن ـہ۔

ام بُجَيْدٌ رضي الله عنهما روايت ه وه فرماي ه كم يل ن ع (رسول الله صلى الله عليه وآلہ وسلم ه) عرض كيا كر يارسول اللہ مسکین میرے دروازے پر (آگر) كطرارهتا به (اور بار بار سوال کرتا ہ) یہال تک کر مجھے شرم آتی ه، کیونکہ میرے پاس اس کو دینے کے لیے گھر میں پچھو نہیں ہوتا ہ (ایسی صورت میں میں کیا کرون؟ پیس کر) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما ه: اگر تیرے پاس جلا ہوا کھرچی موجود ہوتا و، ایسے کے ہاتھوں پر کہ دے (یعنی اس کو معمولی سے معمولی چیزی کیون نہ ہودے کر روانہ کر دے، خالی باٹھا تے واپس نہ کر)۔ اس حدیث کی روایت امام احمد، ابوداود اورترمزی نے کی ہ۔ اورترمزی نے کہا ہ کہ یہ حدیث حسن ہ۔

Umm Mujid (may Allah be pleased with her) said: “I said: ‘O Messenger of Allah, a poor man stands at my door until I feel ashamed, and I do not find anything in my house to give him.’ The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Give him even a broken hoof.’” [Narrated by Ahmad, Abu Dawud, and Tirmidhi, who said: “This is a Hasan Sahih Hadith”]