Nūr al-Maṣābīḥ
بَابُ مَا يُقَالُ عِنْدَ مَنْ حَضَرَهُ الْمَوْتُ

جس شخص پر موت کے آثار و علامات ظاہر ہوگئے جیسا واقعین ہموگیا ہو کری شخص مرنے والے کا اوراس پر سکرات کا علم ہوا لیے وقت اس شخص کے پاس کیا کہا جائے اور کیا پڑھا جائے؟ اس باب میں اس کاپیانہ

What Should Be Said at the Time of Death
Volume 4 · Funerals

ف: موت قریب ہونے کے آثار و علامات پیش، سانس اکثر جاتے اورجلدی جلدی چلنے

لغ، طاغیس وہیلی پڑجا کیل کر طاگول کوکطر اکیا جاتے تو کطرے نہ ہوسکیں، ناک طیرصی ہوجاتے اور

کنپیال پیٹجا کیں جب پرآ ثار وعلامت ظاہر ہوجا کیں تواس کے سامنے پیٹ کرزوزور سے کلمہ رططو

تاکہ تم کو پڑہتنے کروہ خود کی کلمہ پڑہتنے کے اوراس کو کلمہ پڑہتنے کا حکم نہ کرو، کیونکہ وہ وقت برہامتشکل

ہے، نہ معلوم اس کے منہ سے کیا نکل جاوے اوراس کے پاس پیٹ کرسورة میں اس طرح پڑتوکروہسن

سکے، سورہ پیشن پڑہتنے سکرات کی نہتی کہ مہوتی ہے اوراس وقت اس کے سامنے ایس با تیں نہ کرو کر

اس کا دل دنیا کی طرف ما ل ہوجاتے۔ (اشعۃ اللمعات12)

وقول اللہ تعالیٰ: "وَلَوْ تَرَى إِذِ الظِّلْمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلَكَةُ

بَاسْطُوا أَيْدِيهُمْ، أَخْرِجُوا أَنْفُسَكُمْ، الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ " اوراللہ تعالیٰ کا

ارشاد ہے (سورۃ انعام، صفحہ:7، ع:11، آیت نمبر:93، جلد) اے تغبر صلی اللہ علیہ وسلم کی

کفار پڑے طالم پیں، ان طالمون کا پیحال ہے کہ) اگرآ بانکواس وقت وکیسین (تو پڑاہولنا کے

منظر دلحالی دے گا) جب کہ پی طالم لوگ موت کی سختیوں میں گرفتار ہوں گے اورموت کے فرشتے ان

کی روح نکالنے کے واسطے اپنے باتمہ پڑھاری ہے ہوں گے اوران پرحتی کرنے کے لے کمت جاتے

ہوں گے کہ ہم کوتمہاری جا نیں جلدی نکالنے دو (کہا ل پچائے پڑرتے ہیں) دیکھوآ نج تم کو زلت کی

سرزا دی جاتے گی (جس میں تکلیف جسمانی بھی ہوگی اورزلت روحانی بھی۔)

وقولہ: "النَّارُ يُعرَضُونَ عَليها غُدوًا وَعشِيًّا" اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (سورۃ مومن،

صفحہ:24، ع:5، آیت نمبر:46، جلد) کافرول کو قبر کے عذاب کے سوا بھی عذاب دیا جاتے گا

کہ) ان کو قبر میں مح وشام دوزخ کے سامنے لا یاجاتا ہے (ان کو بتلا یاجاتا ہے کہ تم قیامت کے روز

اس جہولنا کے عذاب میں داخل کے جاپے، اگر ایک بی وقت ان کو دوزخ میں داخل کیا جاتا تو پر اچھا

تحا، اسلے کر بارباران کو کھایا جاتے کر دوزخ میں ان کا مقام ہے، کیونکہ جو پریثانی اور تکلیف اس

سے ہوتی ہے وہ ان کے لئے بہت بڑا عذاب ہے۔)

وَقَوْلُہُ: " گَذَلِکَ يَجْزَى اللَّهُ الْمُتَّقِينَ ۙ۵۰ الَّذِينَ تَتَوَفَّهُمُ الْمَلَٰئِكَةُ طَيِّبِينَ

یَقُولُونَ سَلَمَ عَلَيْكُمُ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ " -اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

(سورۃ نحل، پ:14، ع:4، آیت نمبر:32، میں) اللہ تعالیٰ متقین کو ان کے تقوی کا عوض دے گا

(کہ جب ان کے سکرات کا وقت ہوگا تو) فرشتے ان سے کہیں گے کہ ماشاء اللہ تم بہت پاک زندگی

بسر کی ہو، اس کے عوض خدا کا سلام تم پر نازل ہو رہا ہے، اب چلو جنت میں داخل ہو جاؤ، و نیا میں تم

جو نیک کام کے خواس کا بل اب تم کول رہا ہے۔ (مرنے والے کو پی نو تخبری سن کر بہت بڑا آرام

اور راحت ملگی اور وہ خوش خوش موت کے فرشتوں کو پی جان دیدے گا۔)

تعلیم میت کا بیان

When the signs and symptoms of impending death appear, breathing becomes frequent and rapid. The throat constricts so much that it cannot be widened, and the nose flares. When these signs and symptoms become evident, the patient should be made to recite the Kalimah with great effort, but you should not force them to recite it themselves or command them to do so, because at that time they are in a state of extreme weakness; it is unknown what might come out of their mouth. They should be made to recite the Kalimah by placing a Surah in front of them, which they can read if they are able. Reciting the Surah in front of them is beneficial, as it helps to keep their heart focused away from worldly matters. (Ash'at al-Lama'at 12)

And Allah, the Exalted, says: 'And if you could see when the wrongdoers are in the pangs of death, and the angels extend their hands, [saying], “Yield your souls; today you will be recompensed with a humiliating punishment.”' And the guidance of Allah, the Exalted, is (Surah Al-An'am, page 7, verse 11, Ayah number 93, volume): O Messenger of Allah ﷺ, the disbelievers will be in a state of torment, and their end will be such that if you were to witness it, it would bring you joy, while the wrongdoers will be caught in the severe pangs of death, and the angels of death will be ready to extract their souls, urging them to yield their souls quickly (as they plead for more time). See, indeed, you will be given the punishment of degradation (which will include both physical and spiritual torment).

And He says: 'They will be exposed to the Fire morning and evening.' This is the guidance of Allah, the Exalted (Surah Al-Mu'min, page 24, verse 5, Ayah number 46, volume). Besides the punishment in the grave, the disbelievers will also be punished by being brought before the Fire every morning and evening (and they will be told that they will face this torment until the Day of Judgment).

This is the torment into which they will be cast; if they were to be cast into Hell at once, it would be even better. Indeed, the place of these barbarians in Hell is where they are devoured, for the suffering and distress they endure is a great punishment for them. And His statement: 'Thus does Allah reward the righteous, those whom the angels take [in death] while they are good. They say, “Peace be upon you; enter Paradise for what you used to do.”' - and the guidance of Allah Almighty is: (Surah An-Nahl, Part:14, Juz:4, Verse number:32) Allah Almighty will reward the righteous for their piety (that when the time of their death comes) the angels will say to them, 'Indeed, you lived a pure life by the will of Allah; in return, the peace of Allah descends upon you. Now, enter Paradise for the good deeds you used to do.' (The dying person will feel great comfort and relief upon hearing this glad tidings and will happily depart with the angels.) Explanation of the state of the deceased.

2399

_ البصیری اور ابو جریرہ رضی اللہ عنہما ان دونوں حضرات سے روایت ہے، یہ دونوں

حضرات فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جس شخص کی موت قریب

آگئے ہے (اور سکرات شروع ہوئی ہو تو) اس کے سامنے آواز سے کلمہ توحید لا الہ الا اللہ محمد

رسول اللہ،(اس طرح) پڑھے (کہ مرنے والا اس کو سنائے اور کلمہ توحید اس یاد آ جائے اور وہ

زبان یاد لے کلمہ توحید پڑھے اور کلمہ توحید پڑھی اس کا خاطر ہو جائے۔)

اس حدیث کی روایت مسلم نے لی ہے۔

ف: درختار میں ذکور ہے کہ اس طرح تعلیم کرنا مستحب ہے اور بعضوں نے اس کو واجب کہا

قرار دیا ہے، مرنے والے کو کلمہ توحید پڑھنا کا حکم ذکرے کروہ سکرات کی تکلیف کی وجہ سے کہیں انکار

نہ کردے، اگر مرنے والا ایک دفعہ کلمہ توحید پڑھ لے تو دوبارہ اس کو کلمہ توحید پڑھنے پراسرار نہ کرے

بلا اگر وہ کلمہ توحید پڑھنے کے بعد دنیا کی کوئی بات کیا ہوتا اس کے سامنے پھر کلمہ توحید پڑھے تاکہ

وہ اس کوسن کرخود کی کلمہ توحید پڑھے اور اس کا آخر کلام "لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ"، ہوا

یا، ایکن کے بعد کی قبر کے پاس بیٹھ کر کلمہ توحید "لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ" آوازے

پڑھنا اہل السنہ والجماعت کے پاس جائزہے جسیا کہ جو پرہ میں ذکور ہے، اس لئے کہ مردو اس کو سنتا

ہے اور اس کو فرشتوں کے سوال و جواب دینے میں سہولت ہوتی ہے، قبر کے پاس بیٹھ کر تعلیم ان الفاظ

سے کی جائے: "یا فلان یا ابن فلان اذكر ما کنت علیہ و قل رضیت بالله ربّا و

بالاسلام دینا و بسیدنا محمد صلی الله علیہ وسلم نبیا"۔

یعنی مردو کا نام اور اس کے بابپ کا نام لے کر پیکہ کردنیا میں جسے تو تو حید اور رسالت کا

اقرار کیا کرتا تھا، اب کچھ فرشتوں کے ساتھ تو حید و رسالت کا اقرار کر (ذرا نہیں، پھر غرغروں میں ہونا

ایس طرح کہنا کہ میں دل سے راضی ہوں کہ اللہ میرا رب ہے اور دین میرا اسلام ہے اور رسول میرے

حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہیں -

تلقین کرنے والے سے جب مردو پیش تابہ اور میں فرشتوں کو جواب دینا چاہتا ہے تو فرشتے

کہتے ہیں اس کے بجا ئے نے اس کو سکھا دیا ہے، اب اس سے پوچھنے کی ضرورت نہیں، ایسا واقعہ کب میں

ذکور ہے اور امام سیوطی نے اپنے رسالہ میں ایک عی تقریب کی ہے اور جوہرہ میں یہ کچھ ذکور ہے کہ قبر

میں جن سے سوال نہیں ہوتا ہے ان کو تلقین نہیں کرنا چاہئے اور تشریح سنی میں کہا ہے کہ جن سے قبر میں

سوال نہیں ہوتا ہے آٹھ لوگ ہیں:

(1) ایک اللہ کی راہ میں کافرون کے مقابلے میں لڑ کر شہید ہوئے والا - (2) دوم راہ شخص ہے

جوسرحد اسلام پرسرحد کی حفاظت کر رہا ہے اور وہ اپنی موت سے مرگیا تو اس سے کچھ قبر میں سوال نہیں

ہوتا ہے (3) تیسرا شخص جس سے قبر میں سوال نہیں ہوتا وہ جو طاعون میں مبتلا ہوکر مرنے (4) چوتھا

وہ شخص جس سے قبر میں سوال نہیں ہوتا ہے وہ جو طاعون کے زمانے میں کسی دوسری پیاری میں مبتلا

ہوکر مرنے بشرط کہ وہ اس پر صابر اور طاب ثواب رہا ہو (5) پانچویں وہ لوگ جن سے قبر میں سوال نہیں

ہوتا وہ صد ایق جو انیاء کرام کی امت میں سب سے زیادہ رتبہ کے ہوتے ہیں، جن میں کمال باطنی

جسے ہوتا ہے اور جن کو عرف میں اولیاء کہا جاتا ہے (6) چھٹا نابالغ پچھیں جن سے قبر میں سوال نہیں

ہوتا ہے (7) ساتویں وہ لوگ جو جمع کے دونیا شب جمعہ مرنے ہوں، ان سے قبر میں سوال نہیں

ہوتا (8) آٹھواں وہ شخص جس سے قبر میں سوال نہیں ہوتا وہ جو براث میں سونے سے پہلے سورۃ ا

ملک (سورۃ تبارک الذی) پڑھ کر سوتا ہوا اور بعض علماء فرماتے ہیں کہ وہ شخص جو پیچ مرض الموت میں

سورۃ "قل هو اللہ احد" پڑھا ہو، اس سے کچھ قبر میں سوال نہیں ہوتا ہے

کلمہ طیبہ پر خاتمہ کی فضیلت

Abu Sa'id and Abu Hurairah (may Allah be pleased with them) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Prompt your dying ones to say: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ (There is no god but Allah)." (1) [Narrated by Muslim]

(1) His statement: "Prompt your dying ones to say: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ..." It is said in Ad-Durr al-Mukhtar: "It is recommended to prompt them, and some say it is obligatory, with the testimony of faith (Shahadah), because the first part is not accepted without the second. This should be done before the death rattle, without being commanded, so as not to cause distress. If they say it once, it suffices, and it should not be repeated unless they speak, so that their last words are: 'La ilaha illallah.' It is also recommended to recite Surah Ya-Sin and Surah Ar-Ra'd. Prompting should not be done after shrouding, but if done, it is not prohibited. In Al-Jawharah, it is mentioned that this is a practice of the Sunnis, and it suffices to say: 'O so-and-so, son of so-and-so, remember what you were upon, and say: I am pleased with Allah as my Lord, with Islam as my religion, and with Muhammad (ﷺ) as my Prophet.' It was said: 'O Messenger of Allah, what if his name is not known?' He said: 'Refer him to Adam and Eve.' Those who are not questioned (e.g., martyrs) should not be prompted."

In Radd al-Muhtar, it is elaborated that the majority hold the view that the dead can hear, and it is mentioned in Sharh al-Munyah that the majority interpret the hadith metaphorically. However, it is not prohibited to prompt after burial because there is no harm in it; rather, it is beneficial, as the deceased finds comfort in the remembrance, as mentioned in various narrations. It is also mentioned that eight categories of people are not questioned: the martyr, the one guarding the frontier, the one who dies of plague, the one who dies during a plague while being patient and hopeful, the truthful believer, children, the one who dies on Friday or its night, and the one who regularly recites Surah Al-Mulk. Some also include those who recite Surah As-Sajdah and Surah Al-Ikhlas during their illness. The commentator also added that the Prophets (peace be upon them) are included, as they are more deserving than the truthful believers.

This hadith has been narrated by Muslim.

It is mentioned in the Fatawa that it is recommended to teach in this manner, and some have declared it obligatory. The command to recite the Kalima al-Tawhid for the dying person is due to the ease of the soul's transition, so that it does not face any difficulty. If the dying person recites the Kalima al-Tawhid once, they should not be urged to recite it again unless they speak about worldly matters after reciting it, in which case the Kalima al-Tawhid should be recited before them again so that they may reaffirm it, and their last words should be 'La ilaha illa Allah Muhammad rasul Allah.'

After death, sitting near the grave and reciting the Kalima al-Tawhid aloud ('La ilaha illa Allah Muhammad rasul Allah') is permissible according to the Ahl al-Sunnah wa al-Jama'ah, as mentioned in the Fatawa, because the deceased can hear it, and it facilitates their response to the angels' questions. Near the grave, the following should be taught: 'O [name], O son of [father's name], remember what you were upon and say, 'I am satisfied with Allah as my Lord, Islam as my religion, and Muhammad (peace be upon him) as my Prophet.'

This means to call the deceased by their name and their father's name, reminding them of the declaration of faith they made in life, and now they should affirm it to the angels, saying, 'I am content that Allah is my Lord, Islam is my religion, and Muhammad (peace be upon him) is my Prophet,' in a way that shows sincerity, even if it is whispered, so that they can answer the angels confidently.

When the deceased is ready to respond to the angels, the angels say that they have already taught them, so there is no need to ask them again. This situation is mentioned in the works of Imam Suyuti, who provides an approximate account, and in Jawharah, it is stated that those who will not be questioned in the grave should not be taught. In the Tafsir al-Suni, it is said that there are eight people who will not be questioned in the grave:

(1) One who dies as a martyr in the path of Allah against the disbelievers - (2) One who dies while guarding the frontiers of Islam - (3) One who dies from the plague - (4) One who dies from another disease during the plague, provided they remained patient and content - (5) The most perfect among the righteous, who possess inner perfection and are known as the awliya (saints) - (6) Unmarried minors - (7) Those who die on Friday night - (8) One who dies after reciting Surah Al-Mulk (Surah Tabarak alladhi) before sleep, and some scholars say that one who recites Surah 'Qul Huwa Allahu Ahad' in the throes of death will not be questioned in the grave.

2400

معاز بن جبل رضی اللہ عنہ روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی

اللہ علیہ و آلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ موت کے وقت جس کا آخری کلام "لا الہ الا اللہ" ہو وہ جنت

میں داخل ہوگا - اس کی روایت ابوداود نے کی ہے -

ف : اس حدیث شریف میں فرمایا گیا ہے کہ "لا الہ الا اللہ" جس کا آخری کلام ہو، وہ جنت

میں داخل ہوگا - مراد "لا الہ الا اللہ" سے پورا کلمہ طیبہ "لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ

بھے، ایسائیوں کے جیسے جوڑے کہ کر کل مراد لیتے ہیں، مثلًا کوئی کہ کر "قل حوا للہ" پڑھتا کا یثواب سے تو

اس کا مطلب پیہوتا ہے کہ پورا سورہ "قل حوا للہ" پڑھنے پر یثواب ملتا ہے ایسائی "لا الہ الا اللہ"

پڑھنے کا جوہم ہور پا ہے، جزء کہا گیا ہے مراد پورا کلمہ پڑھنا ہے لیعن جس کا آخری کلام "لا الہ الا اللہ"

محمد رسول اللہ "ہووہ جنت میں داخل ہوگا، اوراس حدیث شریف میں پیکھی اشارہ ہے کہ

مرے والے کے ساتھ "لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ" آوازے پڑھ کر تلقین کی جائے

تاکہ مرے والا کچھ زبان سے یادل میں "لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ" پڑھے اوراس کلمہ

طیبہ پراس کا خا تمہ ہو اوروہ جنت میں داخل ہوجائے۔

تلقین میت کی ایک دعا ہے

Mu'adh ibn Jabal (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever's last words are لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ will enter Paradise." [Narrated by Abu Dawud]

2401

اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ "(اے اللہ ایک جہہ پر، یہ کہ آپ کا فضل و کرم ہو رہا ہے)

عبد اللہ بن جعفر (رضی اللہ عنہما) سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ

صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما یے ہیں کہ جس شخص کی موت قریب آگئی ہو (جب سکرات شروع

ہوگئی ہوتی) اس کو زیل کے الفاظ کی تلقین کرو (تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے ذیل کے صفات سے اوراس کے

ذہن میں وہ صفات موجود ہول اوراس کی پراس کا خا تمہ ہو جائے اوراس کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ حسن ظہر

پیا ہو اوروہ اللہ تعالیٰ سے برہی برہی امیدی کا ہے ہوئے دنیا سے جل بے، وہ الفاظ یہیں):

"لا الہ الا اللہ الحليم الكريم"۔

تم (اب ایسی مبارک ذات کے ساتھ جارہ ہو) جووہی معبود ہے، اس کے سوا کوئی معبود

نہیں (تم جواس کی عبادت کے ہووہ عبادت کو قبول کر کے سرفراز فرما گا) وہ برہے حلم والے ہیں

(زنگی میں تم جو کوئی قصور کے ہوتا اس نے تم کو اپنے حلم کی وجہ سے زمانی دی، اب مرے کے بعد

بھی ایسائی حلم کی وجہ سے وہ تمہارے گناہوں کو درگز رفرما گا) اوروہ کریم بھی ہے (بہ ما لگے عطا

فرما تا ہے، زندگی میں تم کو برہی برہی نعمتین دیتا، ایسائی مرے کے بعد بھی آخری نعمت عطا فرما گا)

گا۔ "سبحان اللہ رب العرش العظیم"۔

(کیا کہوں وہ یسی عظمت والا ہے) اس کی جو عظمت تمہارے ذہن میں آئے، اس سے وہ

پاک ہے اوراس سے زیادہ عظمت والا ہے، عرش عظیم کا وہ ما لک ہے (جس کی پرشان ہو، اس کے

سا من تمہارے گناہ کیا چیز ہے، تم ڈرومت اس کی رحمت کی امید کے ہوئے، اس کے سامنے جاووہ

تم پرتمہاری امیدے زیادہ رحمت نازل کرے گا، جب تم اس کو اپنے اوراس طرح فضل و کرم کرتا ہو ا

دیکھو گے تو باختیار تمہارے منہ تے لگا گا۔ "الحمد للہ رب العالمین"۔

آپ رب العالمین ہیں (ساردے عالم پر آپ کا فضل و کرم ہے، ایسے فضل و کرم والے سے اسی کی فضل و کرم کی امید لے ہوئے آپ ہولے)

پیس کر صحابہ عرض کرتے حضور پر دعاے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کی امیدوار بناتے ہیں، زندول کو بھی تو اللہ کے فضل و کرم کی ضرورت ہے اگر ہم پر دعاے زندول کو سکھا نہیں تو کیساہے حضور فرما ہے بہت بہتر ہے! بہت بہتر ہے (زندول کو بھی تو زندگی میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا امیدوار رہنا چاہیے ضرور پر دعاے زندول کو بھی سکھا یے۔)

اس حدیث کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔

سکرات کے وقت سورۃ فاتحہ پڑھنے کا حکم

Abdullah ibn Ja'far (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Prompt your dying ones to say: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ, الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ، سُبْحَانَ اللهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالِمِينَ " They said: "O Messenger of Allah, what about the living?" He said: "Even more so, even more so." [Narrated by Ibn Majah]

2402

مَعْقِل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما یے میں کہ جس شخص کی موت قریب آ گئی ہو (اور اس کو سکرات شروع ہوئی ہو) تو (اس کے نزدیک پیٹھ کر) اس کے سامنے سورۃ فاتحہ پڑھا کرو۔ (اس سے مرنے والے پسکرات آسان ہوتی ہے، دوسری حدیث سے بھی ایسے معلوم ہوتا ہے۔)

اس حدیث کی روايت امام احمد، ابوداود اور ابن ماجہ نے کی ہے۔12

مرنے والے کے ذریعہ حضور اقدس کی خدمت میں سلام بھیج کا بیان

It is narrated from Ma'qil bin Yasar (RA) that he said:

The Messenger of Allah ﷺ instructed us that when a person's death is near (and his agony of death begins), then (sit near him and) recite Surah Al-Fatihah in front of him. (This makes the agony of death easier for the dying person, as is also indicated by another hadith.)

2403

جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کی خدمت میں ایسے وقت حاضر ہوا کہ وہ سکرات کی حالت میں تھے میں ان سے عرض کیا کہ حضرت آپ اب دنیا سے جارہے ہیں (اور عالم بزرگ میں سب سے پہلا کام آپ کا یہوگا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شرف ملاقات حاصل کریں گے، تو میرا سلام بھیج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں پہوچا یے۔)

اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔

ف: مجاہد رسول کے لیے یہ حدیث ثبوتی برہانی تسلی والاتی ہے، اگر کہی وقت نہیں آیا ہو کہ تم حضور کی خدمت اقدس میں پہوچ سکو تو کیا ہوا تمہارا سلام تو مرے نے والے کے ذریعہ سے بھی دربار پہوت میں پہوچ جاتا ہے، اس لے کر تم اپنے اس سلام کو جس مرے نے والے کو پہوچا نے کے لے کیتا

میرے، اس پرتمہارے سلام کو حضور کی خدمت میں پہوچجانا ضروری ہو جاتا ہے۔ ایسائی رواج کے میں

شریعت کے حوالے کہاہے۔12

مرے والے کے ذریعہ آگے گئے ہووں کو سلام پہوچیا نے کا بیان

Muhammad ibn al-Munkadir reported: I visited Jabir ibn Abdullah (may Allah be pleased with him) while he was dying, and I said: "Convey my greetings (1) to the Messenger of Allah (ﷺ)." [Narrated by Ibn Majah]

(1) His statement: "Convey my greetings..." Ash-Sharnbulali said: "This is to convey greetings to the Prophet (ﷺ) on behalf of the one who commanded it." This is mentioned in Radd al-Muhtar.

2404

رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت کعب کی وفات کا وقت قریب آیا تو ان کے پاس

ام بشر بنت براعبن معروآ میں اور کہیں کعب! (اب تم دوسروں عالم میں جارہے ہو، تم جانتے ہوگے

میرے فرزند بشر کا انتقال (مرقات میں ابن الی الدنیا کے حوالے ایسا کہاہے۔12) ہو چکا ہے،

جبہ ان کی جدانت کا بردا صدمہ ہے اپنی تسلی کے لکھتی ہوں کر) اگر بشر کے تمہاری ملاقات

ہو جاتے تو ان کو میرا سلام پہوچیا یے، کعب فرماتے ام بشر تم کیا کہرہی ہو، معلوم نہیں و بال کیا پچش

آتا ہے، اتم اپنی حالت میں پریثان رہین گے (لوگوں کو سلام پہوچیا نے کا کیسا موقع آ گیا) ام

بشر کہنے لگیں کعب تم پیا کہہ رہے کو (مسلمان کو بال پریثاني نہیں ہے بلکہ امن چین ہے) تم بھی

سن ہول گے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیا فرماتے ہیں؟ حضور کا ارشاد ہے جس کا مفہوم ہے

کہ (جسے جسے! آنج کل کی دنیا میں ہوائی جہاز میں لوگ بیٹھے ہوئے سیر کرتے ہیں ایسے،

مسلمانوں کے روحیں سبر پرندول کے خول میں بیٹھے ہوئے جنت کے درخون میں میوہ خوری کرتے

پھر یہ حضرت کعب فرماتے بال میں نہیں حضور کو ایسائی فرماتے سناہے پھرامم بشر فرماتین کہ

آپ بھی جنت میں ایسے سیر کرتے پھریں گے (وبال پریثاني کا کیاز کرہے بلکہ و بال آپس میں

ملاقات ہوتی رہے گی، اس لے کہتی ہوں کہ تم میرے فرزند بشر کو میرا سلام پہوچیا چکے۔)

اس حدیث کی روایت ابن ماجے نے کہ اور کہتے نے کہ اس کی روایت کتاب البغوث

و النشور، میں کیہے۔

میت کو پوسدین کا بیان

سمل حدیث

Abdur Rahman ibn Ka'b reported from his father (may Allah be pleased with him) that when Ka'b was nearing death, Umm Bishr bint al-Bara' ibn Ma'rur came to him and said, "O Abu Abdur Rahman, if you meet so-and-so, convey my greetings to him." He replied, "May Allah forgive you, O Umm Bishr. We are too preoccupied for that." She said, "O Abu Abdur Rahman, have you not heard the Messenger of Allah (ﷺ) say, 'The souls of the believers are in green birds hanging from the trees of Paradise'?" He said, "Yes." She said, "That is it." [Narrated by Ibn Majah and Al-Bayhaqi in Kitab al-Ba'th wa an-Nushur]

2405

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آپ فرماتی

ہے کہ حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ (جو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے رضا علیہ جہاںی چکے)

کے مرے نے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روے ہوئے ان کا بوسہ لے اور (اس وقت)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (اس قدر رورہے تھے کہ آپ کے ) آنسو حضرت عثمان بن مظعون کے چہرہ پر بہ رہے تھے۔ اس کی روایت ترمذی، ابوداوداورابن ماجہ نے کی ہے۔ ف: ان حوالات میں مختی کے حالے کے لحاظ سے کہہا ہے کہ میت کو بوسردینا جائزہے، اورعمدة القاری میں بھی اسی طرح نکودہ اورمرقات میں کہہا ہے کہ مردو پر بگیرآواز کے آنسو کے رونا جائزہے۔12

Aisha (may Allah be pleased with her) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) kissed (1) Uthman ibn Maz'un (may Allah be pleased with him) after his death and wept until the tears of the Prophet (ﷺ) flowed onto Uthman's face. [Narrated by Tirmidhi, Abu Dawud, and Ibn Majah]

(1) His statement: "Kissed..." In Al-Mujtaba, it is mentioned: "There is no harm in kissing the deceased." This is stated in Bahr ar-Ra'iq, and similarly in Umdat al-Qari.

دومسری حدیث
2406

امام مالک نے حضرت عاشرصد رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ (حضرت ابو بکر صد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جمعہتی وہ سب کو معلوم ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد (جو صدمہ حضرت ابو بکر صد رضی اللہ عنہ کو ہوا تو گا وہ حضرت صد رضی اللہ عنہ کے قلب مبارک میں برداشت کی جو قوت تھی وہ اورول کے قلب میں ایسی نہیں تھی، اس لے حضرت ابو بکر صد رضی اللہ عنہ برداشت کر رہے تھے اور بڑے بڑے صحابہ کرام کو تسلی دے رہے تھے، اپنی تسلی کے لے فرط محبت سے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشانی مبارک پر (کئی مرتبہ) بوسردے (اور بار بار کہتے تھے واخِلیلاہ! واصفیاہ! وانبیاہ! میرے دلی دوست آپ کے بعد مجھے کسی تسلی آتی ہے، جب حضوری یاد کے کوئی چیز سے تسلی نہیں ہوگی، بالا آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کا غم حضرت ابو بکر صد رضی اللہ عنہ کا سبب ہنا۔) اس حدیث کی روایت ترمذی اورابن ماجہ نے کی ہے۔

Aisha (may Allah be pleased with her) narrated that Abu Bakr (may Allah be pleased with him) kissed the Prophet (ﷺ) after his death. [Narrated by Tirmidhi and Ibn Majah]

مرین والے کے پاس دعا خیر کرنے کا بیان
2407

امام مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں جب تم کسی بیمار کے پاس (عیادت کے لے) جاؤ (گومرض کسی بی مایوس کن حالت میں ہوگرتا تو) اس کے لے دعا خیر کرو (اوراس کی شفاء کے لے دعا کرو، فرست اس وقت حاضر رہے ہیں اورتم جو پڑھو گے اس پرآمین کہتے ہیں، مریض کے لے اچھی دعا کرو تاکہ تہجارتی دعا فرشتوں کے آمین کہنے سے قبول ہو جائے۔) اوراس کو شفاء ہو جائے اسی طرح اگرتم کسی ایسے شخص کے پاس جاؤ کہ جس کی موت قریب آگئی ہے اوروہ سکرات میں بتلا ہے تو اس کے لے بھی دعا خیر کرو (اوراس کی شفاء کی بھی دعا کرو اوراس کے سامنے مایوس کے الفاظ نہ کہو)

فرثت اس وقت حاضر رہے ہیں، تم جود عاے کرو گے ای پروہ آ مین کہین گے ( ایا ای جب کوئی شخص

مرجاے اور تم اس کے ورثاء کو پرسدین کے لے جا تو مر نے والا گو کیسا ای براہو، اس وقت اس کی

برائیا ل ظاہر مت کرو، مر نے والے کے لے مغفرت کی دعا کرو فرثت اس وقت حاضر رہے ہیں

تم جو پچھا کہو گے اس پرآ مین کہتے ہیں، تمہاری مغفرت کی دعاے سے شاہید اللہ تعالی اس پر تم کرے اور

اس کی مغفرت ہو جائے۔ ) اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔

مر نے کے بعد مر نے والے کی آ کمیص بندر کرنے کا حکم

It is narrated from Imam Malik (RA) that he said:

The Messenger of Allah ﷺ said: 'When you visit a sick person (even if he is in a hopeless condition), make good supplications for him (and supplicate for his recovery, for the angels present at that time will say amen to what you read, and your supplication for the sick person will be accepted by the angels’ amen, so that it may be answered, and he may recover). And if you visit someone who is near death and in the throes of death, make good supplications for him as well (and supplicate for his recovery, and do not speak words of despair to him). At that time, the angels will be present, and they will say amen to what you recite. If someone dies and you go to console his heirs, do not speak ill of the deceased at that time; rather, make supplications for his forgiveness, for the angels will be present, and they will say amen to what you say, and Allah will witness your supplication for his forgiveness, and his forgiveness will be granted.' This hadith is narrated by Muslim. After death, there is a command to wrap the deceased in a shroud.

2408

ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ

وآلہ وسلم ابوبسلہ کے انتقال کے بعد ابوبسلہ کے گھر تشریف لا ہے اور ملاحظہ فرما کے ابوبسلہ کی

آ کمیص کٹی ہوئی ہیں تو آپ نے ان کی آ کمیص بندر کیس اور فرما گے ( جب روح نکل کے لے

فرثت آتے ہیں تو مر نے والا یمان و کیتا رہتا ہے اور ) روح نکل جانے سے پینالی چھی اس کے

ساتھ چلی جاتی ہے ( اور اس میں آ کمیص بندر کرنے کی قوت باقی نہیں رہتی، اس لے آ کمیص کٹ کے کٹل

رہ جاتے ہیں، اس لے حضور ابوبسلہ کی آ کمیص بندر کرنے، اس سے معلوم ہوا کہ مردنے کی آ کمیص

بندر کر دیا کریں ) حضور کے یالفا ظلن کرگہروا لے سمجھ کر ابوبسلہ کا انتقال ہوگیا ہے، اس لے رونا اور

چینا شروع کے ( جب غم زیادہ ہوتا ہے تو اپنے کو کسی کلتے ہیں اور ابوبسلہ کے گھر میں کچھ ہی ہور با

تحاس لے ) حضور فرما گے ( چینا، چلا ناب صبر کی علامت ہے ایا اے کرنا چاہیے اور اپنے کو کس لینا

کچھ نہیں چاہیے اس لے گے ) اس وقت فرثت موجود رہتے ہیں اور جو پچھت کہتے ہیں اس پرآ مین

کچھ رہتے ہیں ( جب تم اپنے کو کسی کلو کے تو فرشتن کے آ مین کچھ سے وہ بد عا تمہارے حق میں

بھی قبول ہو جائے گی اس لے کو سنے سے پکو ) پھراس کے بعد حضور ابوبسلہ کے لے اس طرح دعا کرے نے گے : اللہم اغفر لابی سلمۃ، و ارفع درجتہ فی المہدیین، و اخلفہ فی عقبہ

فی الغابرین، و اغفر لنا و لہ یارب العالمین، و افسح لہ فی قبرہ و نور لہ فیہ۔

ایہی ! ابوبسلہ کی مغفرت فرما یہ اور بدایت یافتا لوگول میں سب سے زیادہ ان کا درجہ

برطا حیہ، ایہی ! باقی مانده لوگول کوسنجبا لے والا چلا گیا، آ پ ابوبسلہ کے خلیفہ ہو کر سب کوسنجبا لے

اور تمہاری بھی مغفرت فرما اور ان کی بھی مغفرت فرما یہ، اے تمام عالم کے پروردگار ! اور ان کی قبر کو

کشادہ کر دے اور ان کی قبر میں نور بھر دے اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔

Umm Salamah (RA) reported: She said,

The Messenger of Allah ﷺ visited the house of Abu Basalah after his death and observed that Abu Basalah's shirt was torn. He mended Abu Basalah's shirt and said, 'When the soul is taken away, the deceased remains in a state of purity, and when the soul departs, the impurity leaves with it. There is no strength left to mend the shirt, so the shirt remains torn. This is how I knew that Abu Basalah had passed away, and thus weeping and wailing began. When grief intensifies, people tend to tear their clothes, but this should not be done. Instead, one should show patience and not tear their clothes. At that time, the angels are present, and whatever they curse, Allah will accept against the person. So, do not tear your clothes, for if you do, the angels' curses will be accepted against you. After that, the Prophet ﷺ prayed for Abu Basalah as follows: O Allah, forgive Abu Basalah, raise his rank among the guided ones, and succeed him with good in his family after him. Forgive us and him, O Lord of the worlds, and make his grave spacious and fill it with light. Thus, O Allah, forgive Abu Basalah and make him among those who are foremost in goodness, and make him among those who are patient and steadfast, and forgive us and him, O Lord of the worlds, and make his grave spacious and fill it with light.' This is narrated by Muslim.

مصیبت کے وقت پڑھی جانے والی دعاء
2409

امام امامین حضرت امام سلمہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما یے ہیں کہ اگر کسی مسلمان پر کوئی مصیبت آئے اور وہ اللہ

تعالیٰ کے حکم کے موافق " انا للہ وانا الیہ راجعون " (تم تو اللہ کے ہیں، تم ہمارا مال اور

ہمارے اہل و عیال سب اللہ کے ملک ہیں، وہ تم کو جس حال میں رکھ اس کو اختیار ہے اور وہ جو

تصرف چاہے کر سکتا ہیں، یہ تصرف ایسا ہی ہے جیسے ما لک کو اپنے ملک میں تصرف کرے نہ کرتے

ہوتے ہے، اگر کوئی نقصان پیچ تو تم کو اس نقصان کی وجہ سے نہیں شکایت کرتے ہے اور نہ رنج کرتے کہ

اور پھر پیلے اور بعد کا فرق ہے وہ چیز پیلے گئی ہے اور تم کو جیسی ایسی اس کے بعد اللہ کی طرف

جاناتے، اس لے کوئی رنج کا موقع نہیں ) یہ ذکورہ آیت پڑھ کر اس طرح کرے :

اللہم اجرنی فی مصیبتی و اخلف لی خیرًا مِنْہَا۔

ایہ ! (مجھے پر نا قابل برداشت مصیبت آئی ہے میں اس مصیبت پر آپ کے لے صبر کرتا

ہوں ) مجھے اس مصیبت پر صبر کرتے کا اجر و ثواب دے کر اور جو چیز گئی ہے جدہ ہوئی ہے مجھے اس کا نغمہ

بدل عطا فرما یے - (اس سے بہتر نیمہت عطا کیے )

تو اللہ تعالیٰ مصیبت پراس کو ثواب دیتے ہیں اور جو چیز جدہ ہوئی ہے اس کا نغمہ بدل مجھے ضرور

عطا فرما تے ہیں (امام امامین فرماتے ہیں کہ یہ دیث مجھے یاد ہی اور ) جب (میرے شوہر ) اب سلمہ

رضی اللہ عنہا انتقال ہوگیا (کیا کہوں اس وقت مجھے پر کسی مصیبت کوٹ پڑی ایس وقت مجھے پر

حدیث ذکور یاد آ گئی، میں چاہتی تھی کہ اس حدیث میں جود عائے نذکور ہے وہ دعا کرولیکن میرے

دل میں پھر خیال آیا کہ اب سلمہ بہترین مسلمان تھی ان کا کوئی نظیر نہیں ) سب سے پہلے پی بجرت

کرتے کے مدینہ منورہ آئے اب ان کا نغمہ بدل مجھے کون لے گا پھر خدا کے تعالیٰ مجھے اس نذکورہ دعا کے حکم

کرنے کے ارادہ پر عزم عطا فرما یا، اور میں نذکور الصدر دعا کی (کر لی ) میں آپ کے نبی کے حکم

کی تقبل کرتی ہوں میرے شوہر کے انتقال کرتے ہے مجھے پر جو مصیبت آئی ہے مجھے اس کا ثواب

دے کر اور میرے شوہر کا نغمہ بدل عطا فرما یے ) زمین انتظار کر رہی تھی میرے شوہر کا نغمہ بدل مجھے

کون لے گا نہ شان نگمان کر ) اللہ تعالیٰ نے اب سلمہ رضی اللہ عنہا کا نغمہ بدل (مجھے اس طرح ) عطا

فرما یا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے پیام بھجا اور مجھے نکاح کر لیا -

اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔

روح نکل کے بعد میت پر چادر اٹھا نے کاپائے

Umm Salamah (may Allah be pleased with her) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "No Muslim is afflicted with a calamity and says what Allah has commanded him to say, 'Indeed, we belong to Allah, and indeed, to Him we will return. O Allah, reward me in my affliction and replace it for me with something better', except that Allah will replace it for him with something better." When Abu Salamah (may Allah be pleased with him) died, she said"Which Muslim is better than Abu Salamah, the first household to migrate to the Messenger of Allah (ﷺ)?" Then she said the supplication, and Allah replaced him for her with the Messenger of Allah (ﷺ). [Narrated by Muslim]

In this hadith, Jood (RA) mentions that she was asked to make a supplication, but then it occurred to her that now Salmah was the best Muslim, with no equal (as she was the first to emigrate to Madinah Munawwarah). She thought, 'Who will take me now that my condition has changed?' Then Allah, the Exalted, granted her the intention to comply with the command of this mentioned supplication, and she made the supplication as ordered. She accepted the command of the Prophet (SAW). When my husband passed away, I faced a great calamity; grant me its reward and change my condition for the better. The earth was waiting for my husband's condition to change, and who would take me with dignity? May Allah, the Exalted, change Salmah’s (RA) condition in such a way. The Messenger of Allah (SAW) sent me a message and married me. This narration is reported by Muslim. After the soul departs, it is permissible to remove the shroud from the deceased.

2410

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے روایت کہ، آپ فرماتی

ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد جسم مطہر پر ایک بیچی دھاری دار چادر

اٹھادی گئی - اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر لی ہے -

تجہیز و تکفین میں جلدی کرنا چاہیے

Aisha (may Allah be pleased with her) narrated that when the Messenger of Allah (ﷺ) passed away, he was covered with a striped cloak. [Agreed upon]

2411

حسین بن وحوح رضی اللہ عنہ نے روایت کہ، وہ فرماتے ہیں کہ طلح بن براع

رضی اللہ عنہ پہار ہوئے ان کی عیادت کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس تشریف

لے گئے اور فرماتے ہیں ایسا معلوم ہورہا ہے کہ طلح کا انتقال ہوجا گے گا جب ان کا انتقال ہوجا گے تو

تم (ان کے انتقال کی) مُجِّہ خبر دینا (میں ان کی نماز جنازہ میں شریک رہون گا) اور ان کی تجہیز و تکفین

میں جلدی کرنا کیونکہ مسلمان کی نغش کوگر والون کے سامنے زیادہ دریک نہیں رکھنا چاہیے -

اس کی روایت ابو داود نے کی ہے۔

مومن کی روح اور کافر کی روح کے قبض کرنے کی کیفیت

Husayn ibn Wahwah reported that Talhah ibn al-Bara' (may Allah be pleased with him) fell ill, and the Prophet (ﷺ) visited him. He said, "I do not see Talhah except that death has approached him. Inform me when he passes away and hasten, for it is not appropriate for the body of a Muslim to be kept waiting among his family." [Narrated by Abu Dawud]

2412

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کہ، آپ فرماتے ہیں کر رسول اللہ صلی اللہ

علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کر جب کسی کی موت کا وقت آگیا ہو (اور سکرات شروع ہوگی ہو) تو

اس کے پاس فرشتے آجاتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ مرنے والامسلمان کے اور اس کی زندگی اکثر نمیال

کرتے ہوئے گزری ہے تو اس سے فرشتے کہتے ہیں: اے پاک روح! (تو حیدرسالے کے قائل

ہوئے تے اور نمیال کرنے کی وجہ سے تیرا جسم بھی پاک تھا) اپنے پاک جسم کے باہر نکل آ، (دونیا

میں بھی تو نیک نامرہی اور فرشتے میں بھی تیری تعریف ہورہی ہے) تجہ نوشخبری دی جاتی ہے کہ

(تو نے دونیا میں جو پاک زندگی بسر کی ہے، اس کی وجہ سے عالم برزخ میں راحت وآرام کا سامان مہیا

ہے، جنت میں جو بھی ہے لے گا، اس کو پچھونے پچھوطرح طرح کی نعمتیں اور) گل وریحان تیرے لے

تیار ہیں (سب نعمتوں سے برہ کر رہے ہیں) اللہ تعالیٰ نے راضی اور خوش ہیں اور تمہیں ناراض

نہیں ہیں، (جب تو اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرنے گیا اور اللہ تعالیٰ کو پڑھے نے راضی اور خوش دیکھی گئی تو

اس نعمت کے مقابلے میں ساری نعمتوں کو بھول جائے گی) مرتن وا لے کی روح کواس طرح کی خوش

خبریاں سنانے جاتی رہتی ہیں اور روح (پیخوش خبریاں سن کر بہت خوش اور فرحان) جسم کو چھوڑ باہر

ٹکل آتی ہے، پھر فرشتے اس نیک روح کو لے کر آسمان و نیا کی طرف چلتی ہیں، پھر آسمان و نیا کا

دروازہ کھلا یا جاتا ہے تو آسمان کے در بان پوچھتے ہیں کہ تمہارے ساتھ یہ کون ہے؟ روح لے جانے

والے فرشتے کہتے ہیں کہ فلان نیک شخص کی روح ہمارے ساتھ ہے (در بان اس کو پہچان لیتے ہیں

اور) خوش آمدید کہتے ہیں (اور آسمان اول کا دروازہ کھول دیتے ہیں، اور پیکہ ہیں) مر حامرحبا!

ای پاک روح (جب تک) تو پاک جسم میں تھی (اللہ تعالیٰ کی مطیع اور فرماںبردار رہی اس کے صلی میں

تمہیں پیغزن تہوری ہے) اور پیال فرشتے میں تمہیں تعریف کہوری ہے، اب تک خوشخبری دی جاتی

ہے کہ طرح طرح کی نعمتیں اور گل و ریحان تیرے لیے تیار ہیں (اور سب نعمتوں سے برہ کر رہے ہیں

کہ) اللہ تعالیٰ نے راضی اور خوش ہیں اور تمہیں ناراض نہیں ہیں، ہر آسمان میں اس روح کی

اسی طرح آو بجلتہوتی رہتی ہے، یہاں تک کہ پیپک روح اس آسمان میں پہوچتی ہے جہاں اللہ

تعالیٰ کے خاص تجلیات ہوتی رہتی ہیں اور جب کوئی برا آدمی (جو نہ تو حیدا قابل تحقا اور نہ رسولت

کا، جب اس کو سکراتہ شروع ہوجاتی ہے تو فرشتے اس کے پاس آ جاتے ہیں) اور اس مرتن والے

سے پیکہ ہیں کہ (کفر اور شرک کے عقائد کی وجہ سے) تمہیں روح نجس طرح اور (کفر و شرک کے

اعمال کرنے کی وجہ سے) جسم کہی نجس طرح تو اے نجس روح نجس جسم سے باہر نکل آ دیکہ چکے (فرشتون

میں) کیسا برآسمجحا جار پایہ اور تیرے لیے گرم کھولا پانی اور پیپ و لبوتم کے عذاب تیار ہیں، اس

طرح سے عذاب کی خبریں جسم سے نقل تک پیغبیث روح کو ستانی جاتی ہیں، خبیث روح اپنے جسم

سے نقلنا تو نہیں جاتی ہے، زبردستی فرشتے اس کو جسم سے نکال کر لے گے آسمان کی طرف جاتے

ہیں اور آسمان کے دروازے پر پہوچ کر آسمان کا دروازہ کھولا نا چاہتے ہوتے روح لے جانے والے فرشتے اس بری روح کا

تمہارے ساتھ کون ہے؟ کس کو تم اندر لا نا چاہتے ہوتے روح کا آسمانوں میں کیا کام ہے؟

نام اور پیچہ بتاتے ہیں تو در بان کہتے ہیں کہ ایسی نجس اور خبیث روح کا آسمانوں میں کیا کام ہے؟

(کفر و شرک کی وجہ سے پیدا نام ہے، سب فرشتے میں اس پر لعنہ کی جاتی ہے) ایسی نجس اور

خُبیث روح کے لئے آسان کا روازہ نہیں ہوتا جا تا تو پھراس کو آسان پر سے پچھلے دیا جاتا ہے اور

وہ اپنی قبر کی طرف آ جاتی ہے، (اور قبر کا عذاب پچھلی رہتی ہے۔)

اس حدیث کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے)-

روح نکل کے بعد مومکن اور کافر کی روح کے ساتھ جو معاملہ پیش آتا ہے اس کا بیان

پہلی حدیث

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The deceased is attended by angels. If the person was righteous, they say, 'O pure soul that was in a pure body, come out praised and receive the glad tidings of refreshment and fragrance, and a Lord who is not angry.' This is repeated to the soul until it leaves the body. Then it is taken up to the heavens, and the gates are opened for it. It is asked, 'Who is this?' They reply, 'So-and-so.' It is said, 'Welcome to the pure soul that was in a pure body. Enter praised and receive the glad tidings of refreshment and fragrance, and a Lord who is not angry.' This is repeated until the soul reaches the heaven where Allah is. If the person was evil, they say, 'O foul soul that was in a foul body, come out despised and receive the tidings of boiling water and pus, and other torments of the same kind.' This is repeated until the soul leaves the body. Then it is taken up to the heavens, but the gates are not opened for it. It is asked, 'Who is this?' They reply, 'So-and-so.' It is said, 'No welcome to the foul soul that was in a foul body. Return despised, for the gates of heaven are not opened for you.' Then it is sent back from the heavens and returns to the grave." [Narrated by Ibn Majah]

This hadith has been narrated by Ibn Majah:-

The situation that arises with the souls of believers and disbelievers after their departure is described in the first hadith.

2413

ابوبهریہ رضی اللہ عنہ روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کر سول اللہ صلی اللہ

علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جب مسلمان کی روح اس کے جسم سے نکلتی ہے تو دو فرشتے اس

روح کو لے کر آسان کی طرف پڑتے ہیں (اور کی فرشتہ جس کی اس روح کے ساتھ درست ہیں) اس

حدیث کی راوی جو حضرت حماد ہیں وہ اپنی روایت میں ذکر کرتے ہیں کر سول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

ارشاد فرماتے ہیں کہ مسلمان کی روح میں خوشبوروتی ہے، اور مشکلی طرح سے وہ مہمت رہتی ہے، اس

روح کو لے جانے والے فرشتہ جب اس کو آسان کے لیے جاتے ہیں تو ہر آسان کے فرشتے کہتے

ہیں کہ زمین سے آئی ہوئی اس پاک روح میں ماشاء اللہ کیا خوشبوروتی ہے، اس روح تک پراور تیرے

اس جسم پر کر جس میں تو ہی اللہ تعالیٰ کی رحمتیں نازل ہوں! (دنیا میں تو نے خدا کی اطاوعت کرتے

ہوئے کیسے اچھی زندگی برکی ہے) پھراس کے بعد فرشتہ اس روح کو اللہ کے ساتھ پیش کرتے

ہیں (تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر رحمتیں نازل ہوتی ہیں) پھر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوتا ہے کر اس

پاک روح کو برزخ کی مدت پوری ہو نے تک علییں میں رکھو (تا کر وہ بال راحت وآرام پانی

رہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہی ارشاد فرماتے ہیں کہ جب کافر کی روح اس کے جسم سے

نکلتی ہے، حضرت حماد جو اس حدیث کے راوی ہیں وہ اپنی روایت میں ذکر کرتے ہیں کر سول اللہ صلی

اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ کافر کی روح میں (کفر و شرک کی وجہ سے) بد بورتی ہے (اور

اس پر لعنہ برستی رہتی ہے، اس روح کو لے جانے والے فرشتہ جب اس کو آسان دنیا کے دروازے

تک لے جاتے ہیں تو آسان کے فرشتے کہتے ہیں کہ زمین سے آئی ہوئی اس خبیث روح میں (کفر

و شرک کی وجہ سے) نعوذ باللہ کیا بد بور ہے (اللہ تعالیٰ اس روح پر ایسے غضبناک رہیں کے کر خود پکھے

ارشاد نہیں فرماتے، فرشتے کے ذریعے کہا جاتا ہے کا اس خبیث روح کو برزخ کی مدت پوری

ہو نے تک سجین میں رکھو (تا کر وہ بال قبر کے عذاب میں بتلا رہے) (راوی کہتے ہیں) ابوبهریہ رضی

اللہ تعالیٰ نے جب کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کافر کی روح کی بدبو کا ذکر فرمائے تو آپ برکشف ہوگیا اور کافر کے روح کی بدبو آپ کو آنے لگی اس لے آپ اپنی مبارک ناک پر کپڑا رکھ لے اور حضرت ابوہریرہؓ اس طرح اپنی ناک پر کپڑا رکھ کر (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ناک پر کپڑا رکھ کو ) بتلاے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔12

دوسرا حدیث

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "When the soul of a believer is taken, it is met by two angels who ascend with it." Hammad mentioned its fragrant scent and compared it to musk. The Prophet (ﷺ) said, "The inhabitants of heaven say, 'A pure soul has come from the earth. May Allah bless you and the body you inhabited.' Then it is taken to its Lord, who says, 'Take it to the end of its term.' When the soul of a disbeliever is taken, Hammad mentioned its foul odor and curse. The inhabitants of heaven say, 'A foul soul has come from the earth.' It is said, 'Take it to the end of its term.'" Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) said, "The Messenger of Allah (ﷺ) then wiped a cloth over his nose like this." [Narrated by Muslim]

2414

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کہ، آپ فرماتے جب کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے جب کسی مسلمان کی موت کا وقت قریب آجاتا ہے (اور سکرات شروع ہوجاتی ہے تو اس وقت مسلمان کی جوعزت ہونی ہے وہ سنے کے قابل ہے، جسم تو دینیوی کفن میں لپٹا ہوا قبر میں رہتا ہے اور روح کے لے خاص اہتمام کیا جاتا ہے وہ اس طرح کے رحمت کے فرشتے سفید رنگ کی لباس لے ہوئے آ کر مرے والے کے پاس بیٹھے ہیں اور برے ادب سے کہتے ہیں: (آپ پاک روح! دنیا میں چندروز اللہ کی اطاعت اور فرمانبرداری کرتی رہی، آج اس کا تجھ صدل رباہے) اللہ تو راضی اور تجھے اللہ راضی! تیرے لے رحمت کے سامان مہیا ہیں، طرح طرح کی نعمتیں اور گل وریحان تیار ہیں، دنیا کے مصیبت کده کو چھوڑ کر ان نغمتوں کی طرف چل آ (دکیہ تیرے لے کیا کیا آو بھگت کے جارہے ہیں اور سب سے بری نعمت تو تیرے لے پیہ کے) اللہ تعالیٰ تجھے راضی اور خوش ہیں، ناراض نہیں ہیں (پیخوش خبری سن کر) جب روح جسم سے نکلتی ہے تو مشک کی طرح عجب خوشبو اس کی روح سے نکل کر پھیلتی ہے، فرشتے (بری تظہیم کے ساتھ) ہاتھوں ہاتھوں مسلمان کی روح کو لے ہوئے کی بحد و گیر آ سا نوں کے دروازون تک پہو چتے ہیں (آ سا نوں پراس کی جوعزت ہونی ہے وہ کہی قابل دیتے ہے۔) ہر آ سا ن کے فرشتے (اس کی روح کی خوشبو کو دکیہ کر برے تجبتے) کہتے ہیں ماشاء اللہ کیا خوشبو دار روح ہے! جو، زمین کی طرف سے آتی ہے، پھر (اللہ تعالیٰ کے حکم سے علیہین میں، جہاں مسلمانوں کی روحیں جمع ہیں اس علیہونی روح کو لے جاتے ہیں جسے تم لوگوں سے ایک زمانہ کا پچھرا ہوا شخص واپس آ کر ملتا ہے تو تم اس کی ملاقات کے قدر خوش اور شادالی ہوتے ہو، ویسے (علیہین میں جہاں مسلمان روحیں محض) یہ نئی روح آ کر ملک سے وہ سب ایسے ہی بے حد خوش ہوتے ہیں اور اس علیہونی روح کو پہلی روحیں تھیر لیتے ہیں، اور دنیا میں جتن جن کو وہ چھوڑ کر گئے ہیں، ان سب کے احوال پوچھتے ہیں، ان سے

میں کی بع ض روحین کہتی ہیں (ا جی نئی روح و نیا چھوٹا کر ) سکرات کی تکلیف اظہار کر اجی آنی ہے، اس

کو آرام لینے دو، پہلے کی روحین پچراس نئی آنی ہوتی روح سے پوچھتی ہیں، اچھا یو بتا کر فلان شخص

کو نہم چھوڑ کر آئے تو وہ کیسا ہے، یہ روح کہتی ہے وہ تو میرے سے پہلے ہی مر گیا ہے کیا وہ نئی آآیا

تو وہ روحین کہتی ہیں افسوس اپیا معلوم ہوتا ہے کہ (بری روحول کور کہنا جومقام ہے جیے دوزخ کو

باوی کہتی ہیں ایسے، یہ برزخ میں بری روحول کے رکن کی جگہ کو جی باوی کہتی ہیں) برزخ کے اس

باوی میں اس کو پیو نچا دیا گیا ہے، اس لے وہ ہمارے پاس نئی آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

اس کے بعد ارشاد فرما نے ہیں کہ جب کافر کی موت آ جائی ہے (اور سکرات شروع ہوتی ہے تو اس کی

اہانت اور زلت کا سامان اس طرح مہیا کیا جاتا ہے کہ ) عذاب کے فرشتے مات لے ہوتے پیو چتے

ہیں تاکہ اس کی روح کو مات میں لپیط کر لے جائیں، پھر فرشتے کافر کی روح سے اس طرح کہتے

ہیں (تو نے دنیا میں کفر و شرک کی وجبت اللہ تعالی کوناراض کر رکھا تھا تو تیرے لے عالم برزخ میں

عذاب مہیا کیا گیا ہے اور تھے عذاب کی طرف آنا آنا گوار ہوگا) پھر پھی ہوتے عذاب کی طرف آنا

ہی پڑے گا، آد کہ اللہ تعالی تجہ پر کس قدر غضب ناک ہیں (یعنی کہ ) کافر کی روح چارو نا چار جسم

سے نکلی ہے اور اس وقت کافر کی روح میں مردار کی بدبو سے زیادہ بدبو ہوتی ہے (پھراس روح کو

فرشتنے آسامان دنیا کے دروازہ تک لے جاتے ہیں، اس کے لے آسامان کا دروازہ نہیں کھلتا ہے اس

لے ) زمین پروانے لاتے ہیں (اس کی بدبو سے ) فرشتے (تگ آگر ) کہتے ہیں (اس بد نصیب

روح میں نعوذ باللہ ) کس قدر بوہے، پھراس کو چین کی طرف لے جاتے ہیں، جہاں کافرول کی

ارواح جمع ہیں (اور چیں میں اس کور کہتے ہیں جہاں وہ برزخ کے عذاب میں بتلارتے ہے )

اس حدیث کی روایت امام احمد اور نسائی نے کی ہے۔

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "When the soul of a believer is taken, it is met by two angels who ascend with it." Hammad mentioned its fragrant scent and compared it to musk. The Prophet (ﷺ) said, "The inhabitants of heaven say, 'A pure soul has come from the earth. May Allah bless you and the body you inhabited.' Then it is taken to its Lord, who says, 'Take it to the end of its term.' When the soul of a disbeliever is taken, Hammad mentioned its foul odor and curse. The inhabitants of heaven say, 'A foul soul has come from the earth.' It is said, 'Take it to the end of its term.'" Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) said, "The Messenger of Allah (ﷺ) then wiped a cloth over his nose like this." [Narrated by Muslim]

This hadith has been narrated by Imam Ahmad and Nasa'i.

تیسری حدیث
2415

براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ انہم ایک روز

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بمر اہ ایک انصاری کے جنازہ کے ساتھ گے اور قبر تک

پہو چے، اجی قبر کھد کر تیار نہیں ہوتی تھی (قبر تیار ہونے کا انتظار تھا ) اس لے رسول اللہ صلی اللہ علیہ

وآلہ وسلم تشریف فرما ہوگے اور تم جی آپ کے اطراف (انہا لی ادب اور سکون سے ) بیٹھے گے (کیا

کہول اس وقت صحابہ کی کیا حال تھی، رعب و بیت سب پر چھائی ہوتی تھی، سب کے سب سر

جہاں ہوئے ہیں، کوئی ادھر ادھر نمیں دکھ رہا ہے، ایسے بہ حس و حرکت ہے۔ معلوم ہو رہا ہے کہ سب کے مردول پر پرنے لیے ہوئے ہیں (پرنے کی عادت ہے کہ وہ متحرک چیز پر نمیں میٹھاتے ہیں، صحابہؓ ایسے بہ حس و حرکت لیے ہوئے ہیں، صحابہ کرامؓ کی توی جالت ہیں، اور حضورؓ کی حالت مبارک کیا ہوئی؟ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ انتہا درجہ کی فکر میں ہیں، جیسے متفکر شخص زمین کرپیتا ہے ایسے، حضورؓ کے دست مبارک میں بھی ایک کلری ہیں، اور آپ اس کلری سے زمین کرپیرہ ہے تھے، پھر سر مبارک کو اٹھائے (اور صحابہ کرامؓ کی طرف متوجہ ہوگئے) دویا تین بار فرمائے صاحبو! عذاب قبرؓ میں اللہ کی پناہ ماگو (یقبر کی کے لیے جنت کی کیاری ہے تو کی کے لیے دوزخ کا گزر ہا) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ارشاد فرمائے: جب مسلمان دنیا میں جاربا ہو، اور آخرت اس کے سامنے ہوگی ہوتو (اس کی شان اور عزت ظاہر کرنے کے لیے) آسان سے ایک فرشت آئے ہیں جن کے پچھے نورانی ہوئے ہیں، اور جوآ فتاب کی طرح چمکتے رہتے ہیں اور ان فرشتوں کے ساتھ جنت کا رشتہ کفن ہوتا ہے اور وہ جنت کی خوشبو دار چیزیں بھی لاتے ہیں (تاکہ اس کو خوشبو میں باسیں) پھر یہ فرشت (کمالی ادب سے) کہی قدر فاصلے اس کے قریب بیٹھ جاتے ہیں (اور اس کی روح کے نکلنے کا انتظار کرتے ہیں) پھر ملک الموت اس مرے والے کے سر پانے آکر بیٹھتا ہیں، اور (بہت نرمی سے اس مرے والے کی روح سے) کہتے ہیں، اے پاک روح (دنیا میں تو اللہ کی فرمانبردار رہی) اب نکل آ (وکیا اس کا صلد چہ پیلتا ہے کہ) اللہ تعالیٰ تجھے راضی ہیں (اور طرح طرح کی نعمتیں تیرے لیے تیار ہیں) اور اللہ تعالیٰ نے تیری مغفرت فرمادی ہے (جب سکرات شروع ہونی چلی تو اس وقت سکرات کی تکلیف اور شدت رہی تاکہ روح پاک وصاف ہو جائے پھر ملک الموت سے پی نخوشخبری سن کر) روح خوش خوش جسم سے ایک جلد نکلتی ہے جیس مشکیزہ سے پانی کا قطرہ آسانی سے نکلتا ہے، جسم سے نکل ہوئی پیروح ملک الموت کے باٹھ میں بہت درپک نمیں رہتی ہے، آسامنے آ کے ہوئے فرشتے (جو اس روح کے اشتیاق میں ہے) پلک جھک کے اس روح کو لے کر (نہایت ادب سے) جنت کا کفن پہنا تے ہیں اور جنت کی خوشبووگاتے ہیں، پھراس روح سے ایسی خوشبو مہکتی ہے کہ زمین پر واپسی خوشبو میں نمیں پانی گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پھر ارشاد فرمائے کہ پھر فرشتے اس روح کو لے ہوئے آسامن کی طرف پڑتے ہیں راستے میں فرشتوں کی جس جماعت پر اس روح کو لے کر پیرو فرشتے گزرتے ہیں تو وہ فرشتے

پوچھتا ہے کہ بیس شخص کی پاک روح کے تو ساتھ وا لفرشت (بری تغظیم سے) جواب دیتے ہیں

اور جس نام اور جس صفت سے دنیا میں بی تغظیم سے پکارا جاتا تھا اس نام اور اس صفت کے ساتھ ظاہر

کرتے ہیں کہ یہاں بن فلان بن پھر (اسی تغظیم کے ساتھ) روح کو لے جانے والے فرشتے اس

روح کو لے ہوئے آسمان و نیا تک پہو چتے ہیں اور اس روح کے لے آسمان کا دروازہ کھلاواتے ہیں

تو آسمان و نیا کے دروازے کے دربان اس دنیا کے آئی ہوئی روح اور اس کے ساتھ وا لفرشتون

کے لے دروازہ کھول دیتے ہیں (اسی عزت کے ساتھ) اس کو ایک آسمان سے دوسرا آسمان تک

پہو چیاتے ہیں، ہر آسمان کے مقرب فرشتے اس کے ساتھ ساتھ جلو میں چلتے ہیں (تا کہ اس کی شان

وشوکت کا اظہار ہوتا رہے) اس طرح سارے آسمانوں سے گزرتے ہوئے اس روح کو ساتویں

آسمان تک پہو چیاتے ہیں (ساتویں آسمان میں اللہ تعالیٰ کی خاص تجلیات ہوتی رہتی ہیں، ان

تجليات سے) ارشاد ہوتا ہے اس (فرمان بردار مسلمان) کی روح کو علیہین میں لے جائے، علیہین میں

اس کا نامہ اعمال رکھا اور اس روح کا اصل مقام علیہین کو بنا اور اس روح کا تعلق قبر سے اور اس کے

جسم سے (اپنا) رکھو (جب آ فتاب آسمانوں میں سے اور اس کا تعلق زمین سے اس طرح سے کر میں

پر روشنی اور گرمی پہو چیاتا ہے، یا یون بھی کہ سونے والے کی روح جسم میں سے اور پر جسم سیر کر آتی

ہے، ایسے مسلمان کی روح رہتی تو علیہین میں سے مگراس کا تعلق قبر سے اور جسم سے اپنا ہوتا ہے کر

قبر پر آ نے والے کو پیر روح پچان لیتی ہے، قبر سے اور جسم سے اپنا تعلق اس لے رکھو) کر میں انسان

کو خاک سے پیدا کیا ہو ل اور انسان کے جسم کو اگر چیز خاک میں ملا ہو ل پھر خاک میں قیامت

کے دن اس کو اٹھاول کا (کیون کہ جب میں انسان کو خاک سے پیدا کر کے اس کی روح کا تعلق

خاک سے رکھا راس کو چلتا پھرتا انسان بنایا تھا اور جسیا کر قیامت میں اس کی روح کا خاک کی جسم کے

تعلق رکھا راس کو میدان قیامت میں لا کر اکرون گا، اپنا، یقبر میں بھی) اس کے خاک کی جسم کے

ساتھ روح کا تعلق رکھو (تا کہ قبر پر آ نے والوں کو پچان سکے اور منکر و کافر جب آ نے تو ان کو جواب

دے سکے) جب اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تتمیل ہو جائے گی اور خاک کی جسم سے روح کا تعلق ہو جائے گا

تو منکر و کافر دوفرشتے اس کو اگر بھیجا تمیں گے اور اس سے دریافت کریں گے "من ربک؟" اچھا ہی

تو بتا دے تمہارا رب کون ہے؟ تو وہ کہ گا میرا رب اللہ تعالیٰ ہے، اس کے سوا میرا کوئی رب نہیں

ہے، پھر منکر و کافر دریافت کریں گے کہ تمہارا دین کیا ہے؟ (تم کس دین پر ہے ہوتے) پی کہ گا کہ اللہ

کا دین یعنی اسلام میرادین تھا اور میں اسلام پر باقاعدہ پہراس کی قبر سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر شریف تک ایک راستہ ہو جائے گا پہراس سے مگر وکیفر دریافت کریں گے اچھا کہو یہ صاحب کون ہیں، کیا یوں یہیں جوتمہارے پاس پیغمبر بناء کر بیچے گے چھ؟ (تواس تخص بر نور ایمان ضع واجہو جائے گا اور) وہ کہے گا (روتی فداہ! میری جان آپ پرتقریبان) میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، میں میرے رسول اور نبی ہیں، پیغمبر منکر وکیفر اس سے دریافت کریں گے کیسے تم کو معلوم ہوا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول اور نبی ہیں؟ تو مسلمان مردوں جواب دے گا، آفتاب آمد، دلیل آفتاب، آفتاب کے ہونے پر خود آفتاب دلیل سے، محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نبی اور رسول ہونا آفتاب کی طرح بالکل واضح اور ظاہر ہے اور رسول اور نبیوں کے نبی ہونے پر جو پاکیزہ اوصاف دلیل تھے وہ سب پاکیزہ اوصاف حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں پائے گئے، اس عقلی ویل سے مجھے یقین ہوگیا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رسول اور نبی ہیں اور پیغمبروں کو مججزات دینے کے لیے کسی کو دو اور تکسی کو چار، حضرت موسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام جسے جعل القدر نبی کو نو مججزات دینے کے لیے، اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ساتویں چار بڑے مججزے دینے گے تھے، اس سے مجھے ثابت ہوا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رسول اور نبی ہونے پر عقلی دلیل مجھے ہے)، تم دلیل ہے، ایسائی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رسول اور نبی ہونے پر عقلی دلیل مجھے ہے)، تم مسلمانوں کو قرآن دیا گیا (اور بہت تاکید فرمایا گیا کہ اگر کسی سے ہو سکے تو اس کی چھوٹی سورۃ کے جسیما بناء کر لاو، باوجود عرب تھے اور بلغہ ہونے کے قرآن کے چھوٹے سورہ کے جسیما سورۃ بنانے سے عاجز ہو گئے، کوئی نہ بناسکا) اس سے میں سمجھا کہ قرآن اللہ کا کلام ہے۔ کسی بشر کا کلام نہیں اور قرآن میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رسول اور نبی کہا گیا ہے، اس عقلی ویل سے میں سمجھا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیقیناً نبی اور رسول ہیں پیغمبر (جب مسلمان مردوں کہہ چکے ہیں اللہ تعالیٰ اس کی اس طرح قدرافزائی کریں گے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے) اس طرح ندا کی جائے گی کہ میرا بندہ چچکہا اس کاصل اس کو دیا جائے (کہ عالم بزرگ میں جہاں اس کا مقام ہے) وہال جنت کا اس کے لیے فرش پچھا جائے اور اس کو جنت کا لباس پہنا جائے کہ وہ جنت میں جائے سے پہلے جنت کی نغمتوں کا لطف اٹھا تا رہے اور جنت کی طرف سے اس کے لیے ایک دروازہ کھولا جائے (تاکہ وہ جنت میں اپنے مقام کو دیکھ کر بیشتر مسرور ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیغمی ارشاد

فرماے ہیں، کہ جنت کی طرف سے دروازہ کھلے ہے۔ جنت کی ہوااور جنت کی خوشبو اس کو آتی رہے گی، جس سے یہ حد محظوظ ہوتا رہے گا، تاکہ اس مقام میں ایک قسم کی تکلیف کا باعث ہوتا ہے۔ مسلمان مردے کے لئے (جب بھر طرح کا قبر میں آرام او راحت مجمع کرو دی گئی ہے تو جہاں تک) اس کی نگاہیہو پچی ہے، قبر میں (و بال تک) اس کا مقام و سج کرو یا جاتا ہے (تاکہ و سعت مقام کی وجہ سے وہ راحت حاصل کرتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پیغمبر ارشاد فرماتے ہیں کہ مسلمان مردہ پھر کیا دیکھتا ہے کہ اس کے پاس ایک شخص آ رہا ہے، کیا کہون اس کا چہرہ کیسا ہوتا ہے، ایساحسین کرہیں و یہن میں نہیں آیا اور اس کالباس کہی نہایت پاکیزہ اور صاف و ستہارہ گا اور اس سے نہایت خوشبو مہک رہی ہوگی، ایسا شخص آکر مسلمان مردہ سے کہ گا، تم کو خوشخبری دیتا ہوں کہ تمہارے لئے برتم کی راحت اور نعمت تیار ہے۔ جس سے تم نہایت مسرور ہوں گے، پھر تم کوخبر کہی سے پوچھے گا، صاحب! تم کون ہو؟ کیا چہرہ تمہارا! جس سے بدحد مسررت حاصل ہو رہی ہے تم کو دیکھنے سے طرح طرح کے خیر و برکات حاصل ہورہے ہیں، وہ خوبصورت شخص جواب دے گا، (تم مجھے نہیں پچانتے؟) میں تمہارا نیک عمل ہوں (اس صورت میں متمشہ ہو کر آیاہوں تاکہ تم کو خوشخبری دوں) مسلمان مرده جب سن کہ یہود اس کے نیک عمل ہیں (تو اس کو ایک امید بندہ ہی اور اس کو یاد آ جاتے گا کہ نیک اعمال سے جنت ملتی ہے، میرے نیک اعمال جب ایسے تو اب مجھے امید ہورہی ہے جنت ملکی، اس لئے) دعا کرتے گا، اللہمّا جلدی قیامت قائم کر تاکہ مجھے میرے نیک اعمال کا بدلہ جنت میں مل اور مجھے میرے امل لیٹی حور و غلمان ملیں اور مال لیٹی جنت کے راحت و آرام کا سامان ملے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پیغمبر ارشاد فرماتے ہیں کہ جب کافر کے لئے و نیا چھوڑنے کا اور آخرت کی طرف جلنے کا وقت آتا ہے (اور سکرات ثرو عہوجانی ہے) تو اس کے پاس آسان نے (عذاب کے) فرشتے آتے ہیں، ان کے سیاہ چہرولے ہیپت اور خوف طاری ہوتا ہے اور ایا پنے ساتھ طاقت لیتے ہو کے آتے ہیں (اس مرے والے کافر پر اللہ تعالیٰ بہت غضبناک رہتے ہیں، اس لئے فرشتے کواس سے نفرت رہتی ہے اور) اس لئے آکروہ دور بھیک رہتے ہیں (اور اس کی روح نکلنا انتظار کرتے رہتے ہیں) پھر ملک الموت آ جاتے ہیں اور اس کے سر پائے پیٹ کر پیچتے ہیں (کہ تو کفر و شرک کر کے دنیا میں کیا بری زندگی کیا، اس کے اثر

سے تیری روح نجس بھوگی ہے اب) اپنے جسم سے نکل (اے نجس روح) دیکھ کر اللہ تعالیٰ تجوبر کس

قدر غضبنا کرتا ہے، اس بری خبر کے ساتھ تیری روح کو جسم سے نکلنا بہت ناگوار ہوتا ہے، وہ جسم سے نکلنا

نہیں چاہتا ہے اور جسم میں چھٹی پڑرتی ہے تو) ملك الموت اس روح کو جسم سے بہت نچتی کے ساتھ

اس طرح کھینچ کر نکالتے ہیں جیسا کہ نعل دار چیز کو تز کھڑے سے نکالا جاتے تو کپڑا تار تار ہوجاتا ہے

(اپنے روح کو تی کے ساتھ نکالنے کی وجہ سے جسم کونا قابل برداشت تکلیف ہوتی ہے) جو فرشتے

روح نکلنے کے منتظر ہوتے ہیں ملک الموت کے باٹھ میں اس روح کو ایک پلک مارنے کے برابر (تجوزی

دیر) جس نیس رہندی ہے ہیں، فوراً ملک الموت کے باٹھ سے لے کر (زلت و ابانت ظاہر کرنے کے

لئے) ماہ میں پلک ہیں، اس وقت اس روح سے ایک بدبو پچھلتی ہے جس سے لوگ مردار ہوتے

ہیں بدبو کے رو ماغ کو پریشان کردیتی ہے روح کے زمین پر ایک بدبو کی میں نہیں ہوتی، جسی بدبو اس روح

میں ہوتی ہے اس بدبو دار روح کو لے ہوئے فرشتے آسمان پر چڑھتے ہیں، زمین و آسمان کے چھ

میں جہاں جہاں فرشتے کی جماعت ملتی ہے، اس نجس روح کی بدبو سے متاثر ہو کر پیکھتے ہیں کہ

کس خبیث کی روح ہے؟ تو ساتھ وا لے فرشتے اس کافر کا نام بہت بری صفت کے ساتھ اس طرح

لیتے ہیں جیسے دنیا میں کسی برے آدمی کا ذکر لوگ بری صفت سے کرتے ہیں، اور فرشتے کہتے ہیں کہ

یہ فلان بن فلان ہے (کس نے اپنی ساری عمر کفر و شرک میں گزاری ہے) اس زلت اور ابانت

کے ساتھ) پیروح ہر مقام سے گزرتی ہوتی آسمان و نیا کے پہو چیائی جاتی ہے آسمان و نیا کا دروازہ

کھلا یا جاتا ہے گرآسمان کے دروازے کے دربان دروازہ نیبین کھولتے ہیں (پیاس روح کی انتہائی

زلت اور ابانت کا سبب ہوتا ہے) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیارشاد فرماتے کہ اس کی جنت میں

پیا آیت تلاوت فرماتے: "لا تُفَتَّحْ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَلا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ

الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِياطِ"۔ (سورۃ اعراف، پ:8، ع:5، آیت نمبر:40)

کفار کے لئے آسمان کا دروازہ نہیں کھولا جاتا گا اور نہ وہ جنت میں داخل ہوں گے، کفار کا

جنت میں جانا ایسے محال (نا ممکن) ہے جیسے اونٹ کا سوٹی کے ناک میں سے گزرنا (نہ تو اونٹ

سوٹی کے ناک میں گزر سکتا ہے اور نہ کفار جنت میں داخل ہوسکتا ہے۔)

پھر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا کہ اس خبیث کا نام اعمال سبین میں رکھااور سبین میں کو اس خبیث

روح کا مقام بناؤ جو زمین کے سب سے نچلی طبقے میں ہے (تاکہ وہ وہاں طرح طرح کے عذاب

جہنتی رہے) اس حکم کی تتمیل میں آسمان کے دروازے کے پاس سے اس کافر کی روح کو (نہایت زلت کے ساتھ وز مین کی طرف) پچھلے دیاجائے گا (اور جبین میں اس کا اصلی مقام بناؤ کراس کافر کی روح کا تعلق قبر سے یاس کے جسم کے کسی حصے سے جہالت کیسی ہو، کرو دیاجائے گا، تاکہ مغر وکیر اس سے سوال کرسکیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیارشاد فرمادرا کراس کی تانبیر میں پیآ بیت تلاوت فرماے:

"وَمَن يُشْرِكْ بِاللّهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ أَوْ تَهْوِي بِهِ الرِّيْحُ فِي مَكَانٍ سَحِيقٍ"۔(سورۃ نج،پ:17،ع:4،آیت نمبر:31)

شرف پچھلے دیاجانا، اس سے بطہ کر اور کیا زلت ہوگی، راستے میں فرشتوں سے طرح طرح کی اذیت انہاں ہوئے جبین میں حاگرن اورو بال طرح طرح کی ایزا ئا نہاں رہنایا نہتا لی زلت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تتمیل کی جائے گی، اس کافر کی روح کا تعلق اس کے جسد سے یا جسم کے کسی حصے سے کرو دیاجائے گا، پھر منکر وکیر اس کے پاس مووجود ہول گے اور بتھا کرسوال کریں گے، بتاتیرا رب کون ہے؟ تو وہ کافر (جیران ہوگا کر کیا جواب دول، جب تک میں دنیا میں ربا، مسلمان جس ذات مبارک کورب مانتے تھے، میں ان کو جہنم لا تاربا اب میں کس کورب کہوں، پیال کہی اسی طرح کہتا ہوں) میں نہیں جانتا کہ رب کون ہے! پھر منکر وکیر دریافت کریں گے اچھا پیتا کہ تیرادین کیا تھا (تو پیکافر مردہ بتھا گا میرادین تو کفر وشرک سے مجرا ہوا تھا اگر میں اپنے دین کا نام لون تو اپنے آپ کو اپنی زبان سے مجرم ظہیر انا پڑے گا اس لے) کافر مردہ کہ گا مجھے نہیں معلوم کہ میرادین کیا تھا، پھر منکر وکیر دریافت کریں گے کہ تودنیا میں سنا ہوگا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رسول ہوگر آ گے تھا ن کی نسبت تیرا کیا خیال تھا (تو کافر مردہ خیال کرے گا کہ عالم برزن میں تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بول بالا ہے اگر میں ان کی رسالت کا انکار کرول تو اپنے منہ سے آپ پلمزم ظہیر تا ہوں اس لے) کہ گا میں نہیں جانتا کہ وہ کون تھا؟ پی جواب ختم ہوئے تی اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی پکارے گا کہ اس خبیث کافر کو نیا میں سب پکھا معلوم تھا، جہنم لا تا، ہی ربا، اب کچھ باجو جو معلوم ہو نے کے جحوط کہہ ربا ہے، اس جحوط کے لے آگے کا پچونا پچھاو (تا کہ اس کو ایک آن کچھ آرام نہ لے) اور دوزخ کی طرف سے ایک دروازہ کھول دو، (تاکہ وہ دوزخ میں اپنا مقام و کیسا

رہتا کر پیغمبر اس کے لئے تکفیر کا باعث ہوتا رہے اور دوزخ کی طرف سے دروازہ کھلتے ہیں۔

ناقابل برداشت حرارت اور دوزخ کی آگ کی لو (اور دوزخ کی بدبو) اس کو پہوچتی رہے (تاکہ

قبر کے عذاب پر بھی عذاب زیادہ ہوجائے)۔ چھراس کافر کی قبر ایسی ٹگ کی جائے گی کہ جس کے

dboiچ سے کافر کی پہسلیال ادھر کی ادھر اور ادھر کی ادھر ہو جائے گی (کافر کے لئے جبائے خودی

جس ایک عذاب ہو گا)۔ چھرا کافر کی ادھر کے کاراس کے پاس ایک شخص آر بائے نہایت بشکل (کہ جس

کا و کیسا ای جباے خود عذاب ہے)۔ چھرا کہی اس کے (اس کی صورت کے جسے) بنمار ہیں گے،

اور بدبو اس کے اس قدرا رہی ہو گی (کہ جس سے دام غ پھڑا جار پا ہو) ایسابل شکل شخص آ کر کافر مردہ

سے کہ گا طرح طرح کے عذاب کی تحقیب رہی جائے ہے (دنیا میں) جس دون سے تحقیب را جائے گا

تحا (اور جس کا تو انکار کرتا ہے) دیکھ آنج پروی دن ہے، کافر مردہ کہ گا (کہ میں خود عذاب میں ہوں

تو اور عذاب کی تحقیب دینے آیا ہے) تو کون ہے؟ تمہیں کیا منہوس صورت ہے کہ تمہیں صورت و کیسا ہی

عذاب معلوم ہوتا ہے، تو وہ بدشکل آ نے والا کہ گا تو تمہیں پچپانا، میں تمہارا عمل ہول (کہ مجنت تو

نے دنیا میں کیا کیا کفر و شرک میں رہا تمیشہ اللہ تعالیٰ کی نافرمائی کرتا رہا، اگر کوئی کہ کر تحقیب یردن

د کیسا ہو گا تو تو اس کو ذاق میں اثراتا رہا، کہی اس کو غصہ سے جحر کتابا، کافر مردہ بچچہ گا کہ میرے

اعمال مجھے دلحاصل گے ہیں، برے اعمال سے دوزخ ملتے ہے) خدا کرے کہ تقدمت نہ آئے (تاکہ

برے اعمال کے بدلے میں دوزخ میں جانانہ پڑے) ایک روایت تو پیہال ختم ہوئی۔

Al-Bara' ibn Azib (may Allah be pleased with him) narrated: We went out with the Prophet (ﷺ) for the funeral of a man from the Ansar. When we reached the grave, it had not yet been dug. The Messenger of Allah (ﷺ) sat down, and we sat around him as if birds were perched on our heads. In his hand was a stick with which he was tapping the ground. He raised his head and said, "Seek refuge in Allah from the punishment of the grave," two or three times. Then he said, "When a believing servant is about to depart from this world and enter the Hereafter, angels with white faces descend from the heavens. Their faces are as bright as the sun, and they bring with them a shroud from Paradise and embalming perfume from Paradise. They sit as far as the eye can see. Then the Angel of Death comes and sits at the head of the dying person and says, 'O pure soul, come out to forgiveness and pleasure from Allah.' The soul then flows out like a drop of water flowing from a waterskin. The Angel of Death takes it, and they do not leave it in his hand for even a moment before placing it in the shroud and perfume. A fragrance like the finest musk on earth emanates from it. They ascend with it, and whenever they pass by a group of angels, they ask, 'Who is this pure soul?' They reply, 'So-and-so, the son of so-and-so,' using the best names he was called in the world. They continue until they reach the lowest heaven and request it to be opened for them, and it is opened. The angels of each heaven accompany it to the next until it reaches the seventh heaven. Allah, the Exalted, says, 'Record the book of My servant in Illiyyin and return him to the earth, for I created them from it, and to it I will return them, and from it I will bring them forth again.' The soul is then returned to the body, and two angels come to him, sit him up, and ask, 'Who is your Lord?' He replies, 'Allah is my Lord.' They ask, 'What is your religion?' He replies, 'My religion is Islam.' They ask, 'Who is this man who was sent among you?' He replies, 'He is the Messenger of Allah (ﷺ).' They ask, 'What is your knowledge?' He replies, 'I read the Book of Allah, believed in it, and affirmed it.' A caller from heaven announces, 'My servant has spoken the truth. Spread for him from Paradise, clothe him from Paradise, and open for him a gate to Paradise.' He is then enveloped by its breeze and fragrance, and his grave is expanded as far as the eye can see. A man with a handsome face, beautiful clothes, and a pleasant fragrance comes to him and says, 'Receive the glad tidings that please you. This is your day that you were promised.' He asks, 'Who are you? Your face brings good news.' The man replies, 'I am your good deeds.' He then says, 'O Lord, hasten the Hour so that I may return to my family and wealth.'

When a disbelieving servant is about to depart from this world and enter the Hereafter, angels with dark faces descend from the heavens, wearing coarse garments. They sit as far as the eye can see. Then the Angel of Death comes and sits at the head of the dying person and says, 'O foul soul, come out to the wrath and anger of Allah.' The soul is then dispersed throughout the body and is extracted like a skewer is pulled from wet wool. The Angel of Death takes it, and they do not leave it in his hand for even a moment before placing it in the coarse garments. A stench like the foulest corpse on earth emanates from it. They ascend with it, and whenever they pass by a group of angels, they ask, 'Who is this foul soul?' They reply, 'So-and-so, the son of so-and-so,' using the worst names he was called in the world. They continue until they reach the lowest heaven and request it to be opened for them, but it is not opened. The Messenger of Allah (ﷺ) then recited, 'The gates of heaven will not be opened for them, nor will they enter Paradise until a camel passes through the eye of a needle' (Qur'an 7:40). Allah, the Exalted, says, 'Record his book in Sijjin in the lowest earth.' His soul is then cast down, and the Messenger of Allah (ﷺ) recited, 'And whoever associates others with Allah, it is as though he had fallen from the sky and was snatched by the birds or blown away by the wind to a far-off place' (Qur'an 22:31). The soul is then returned to the body, and two angels come to him, sit him up, and ask, 'Who is your Lord?' He replies, 'Hah, hah, I do not know.' They ask, 'What is your religion?' He replies, 'Hah, hah, I do not know.' They ask, 'Who is this man who was sent among you?' He replies, 'Hah, hah, I do not know.' A caller from heaven announces, 'He has lied. Spread for him from Hell, and open for him a gate to Hell.' He is then enveloped by its heat and scorching winds, and his grave is constricted until his ribs are crushed together. A man with an ugly face, filthy clothes, and a foul stench comes to him and says, 'Receive the tidings that displease you. This is your day that you were promised.' He asks, 'Who are you? Your face brings bad news.' The man replies, 'I am your evil deeds.' He then says, 'O Lord, do not hasten the Hour.'"

In another narration, it is added: "When the soul of a believer is taken, every angel between the heavens and the earth and every angel in the heavens prays for him, and the gates of heaven are opened for him. There is no gatekeeper who does not pray to Allah that his soul be taken through their gate. When the soul of a disbeliever is taken, it is extracted along with his veins, and every angel between the heavens and the earth and every angel in the heavens curses him. The gates of heaven are closed, and there is no gatekeeper who does not pray to Allah that his soul not be taken through their gate." [Narrated by Ahmad, Abu Dawud in his Sunan, Al-Hakim in his Mustadrak, Ibn Abi Shaybah in his Musannaf, Al-Bayhaqi in Kitab 'Adhab al-Qabr, At-Tayalisi and 'Abd (1) in their Mustadraks, Hannad ibn As-Sari in Az-Zuhd, Ibn Jarir, Ibn Abi Hatim, and others through authentic chains. Mi'rak said, "The hadith of Ahmad is a good hadith."

(1) His statement: "'Abd" refers to 'Abd ibn Humaid, the first to write a Tafsir. This is mentioned in Al-Mirqat.

2416

اور دومسری روایت ہی ایسی ہی ہے اور دومسری روایت میں اس طرح زیادہ

ہے کہ جب مسلمان کی روح (اس کےجسم سے) نکلتی ہے تو آسان او رزمیں کے درمیان میں جو

ملائکہ ہیں وہ سب اس مسلمان مرده کے لئے رحمت نازل ہوتے ہیں وعاکر ہے ہیں اور (مجیسے

مسلمان کی روح آسامنوں کی طرف چھستی جائے ہے آسامنول کے دروازے (اس کی شان وشوکت

دلحاصل کے لئے جلدی جلدی) کہتے جاتے ہیں (اور مسلمان کی روح تمام آسامنول سے گزر جائی

بہ ) (اس مسلمان کی روح کوفرشتہ الی مہربک نہجتہ ہیں کہ ) ہرآسامن کے دروازول کے فرشتہ

دعائے کرتے ہیں کہ اس مہربک روح کو ہمارے دروازہ سے گزاریں (تاکہ تم اس روح سے برکت

حاصل کریں) اور کافر مردہ کی روح کو (عالم ملكوت سے پکڑ تعلق ہی نہیں تھا، دنیا میں رات دن

چھنسی ہوتی تھی تو اس کو دنیا چحوڑ نا بطاشوار ہوگا، اس لئے روح تو جسم میں رہنا چاہے گی اور فرشتہ

اس کو حصنیا جا ہیں گے اس کشا کشی میں ) فرشتے ( اس ختی کے ساتھ اس روح کو جسم کی رگیس تارتار ہوجا یں گی (یعنی اس کافر کی روح کے لے اکی عذاب بن گا ) جب اس ختی سے روح نکالی جائے ہے تو زمین اور آسمان کے درمیان میں جوفرثتے ہیں وہ سب اس کافر کی روح پر لعنہ ہیں اور آسمان و نیا کے برداروازہ کے فرشتے لعنہ ہیں اور دعا کرتے ہیں کرا ہی ! اس خبیث روح کو ہمارے پاس تنگزار کے (تا کر اس کی خباشت تم پرانثر کرے، فرشتوں کی دعا ئقبل ہوتی ہے اور ) اس کے لے آسمان و نیا کے تمام دروازے بند کردے جاتے ہیں۔ اس کی روایت امام احمد نے کی ہے اور اس کی روایت البوداوی نے اپنی سنن میں اور حاکم نے اپنی مستدرک میں ابن ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں اور ترمذی نے کتاب عذاب القبر میں اور طیالسی نے اپنی مسنن میں اور عبید بن حمید نے اپنی مسنن میں اور هناد بن السری نے کتاب الزهد میں اور ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے تج طرق سے اس کی روایت کی ہے اور میرک نے کہا ہے کر امام احمد کی حدیث حسن ہے۔

تمہید

مومن کی روح جنت میں سیر کرتی رہتی ہے۔

روح انسانی عالم ملوت کی رہن والی مثل فرشتوں کے ہے جسے فرشت ایک، یو وقت میں کئی

جگہ دکھائی دے سکتا ہے اور جسے ملک الموت ہر مرتبہ والے کے پاس دکھائی دیتے ہیں، اپنے

روح انسانی جس کی جگہ دکھائی دے سکتی ہے، مگر جب حضرت انسانی میں روح مقید ہوتی ہے تو اس سے یہ

صفت نکل جاتی ہے، کی جگہ نظر نہیں آ سکتی ہے مگر اولیاء اللہ کےجسم میں جوروح ہوتی ہے اس روح

میں اس کی اصلی صفت پانی جاتی ہے کہ باوجودجسم میں ہونے کے ایک وقت میں کئی جگہ نظرآ سکتی

ہے، جسے حضرت مجدرالف ثانی رحمۃ اللہ علیہ ایک، یو وقت میں سات دعوت میں نظرآ سے،جسم سے

نکلنے کے بعدرواح میں اس کی اصلی صفت لوٹ آتی ہے، پھراولیاء اللہ کی خصوصیت نہیں بلکہ برسلمان

کی روح ایک وقت میں کئی جگہ رہ سکتی ہے، اس لے روح کا اصلی مقام علیین سے قبر سے بھی اس کا

تعلق رہتا ہے، قبر پرآنے والوں کو پیچاتی اور ان کے سلام کا جواب دیتے ہے، اس جسم خاکی کے

ساطے روح جنت میں نہیں جا سکتی، بال قیامت کے بعدجسم خاکی میں ہوکر روح جنت میں داخل

ہوگی - بلکہجسم خاکی کے اب بھی روح جنت میں جا سکتی ہے، جسے اس حدیث میں:

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "When the soul of a believer is taken, it is met by two angels who ascend with it." Hammad mentioned its fragrant scent and compared it to musk. The Prophet (ﷺ) said, "The inhabitants of heaven say, 'A pure soul has come from the earth. May Allah bless you and the body you inhabited.' Then it is taken to its Lord, who says, 'Take it to the end of its term.' When the soul of a disbeliever is taken, Hammad mentioned its foul odor and curse. The inhabitants of heaven say, 'A foul soul has come from the earth.' It is said, 'Take it to the end of its term.'" Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) said, "The Messenger of Allah (ﷺ) then wiped a cloth over his nose like this." [Narrated by Muslim]

2417

عبد الرحمٰن بن کعب رضی اللہ عنہ اپنے والدحضرت کعب سے روایت کرتے

ہیں کہ ان کے والدحضرت کعب فراماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہوا ہے کہ

مسلمان کی روح پردے کے خول میں (اپنے) بیٹھ کر (جبیا تمہواآجہاز میں بیٹھ کر سیر کرتے

ہیں) جنت میں سیر کرتے ہیں اور دبال میوہ خوری کرتے ہیں (علیین میں کہیں رہتے ہیں اور قبر سے بھی

اس کا تعلق رہتا ہے) پھر جب قیامت قائم ہوگی تو یہی روح انسانی جسم خاکی میں ہوکر جسم خاکی کے

ساطے جنت میں جا سکتی ہے اس کی روایت امام ماک اور نسائی نے کی ہے اور تہقی نے بھی اس کی

روايت كتاب البعث والنشور میں کی ہے۔

Abdur Rahman ibn Ka'b reported from his father (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The soul of a believer is like a bird hanging from the trees of Paradise until Allah returns it to his body on the Day of Resurrection." [Narrated by Malik, Nasa'i, and Al-Bayhaqi in Kitab al-Ba'th wa an-Nushur]