Nūr al-Maṣābīḥ
بَابُ تَمَنِّى الْمَوْتِ وَ ذِکْرِهِ

Wishing for Death and Its Remembrance
Volume 4 · Funerals

(اس باب میں موت کی آرزو کرنے کا اور موت کو یاد کرنا تے رہنے کی فضیلت کا

پیان ہے)

موت کی آرزونہ کرو

پہلی حدیث

This chapter discusses the virtue of desiring death and the merit of remembering and abiding by the remembrance of death.

Desiring Death

The First Hadith

2381

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ

وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ: کوئی شخص (مصیبتون کی یا پیار پول کی وجہ سے زندگی سے نفرت آکر)

موت کی آرزونہ کرنے (یعنی پچھڑے ہو کر مرنے سے اعمال ختم ہوجائے یا پھر تو پچھوں بنی کر سکتا،

زندگی کو غنیمت جانے) اگر (تو نکے سے تو) (تیری) نیوں میں اضافہ ہوجائے گا، اگر (تو) برے تو

شاید (تیرا) دل پچھی کھانے اور (تو) توپ کرنے کی نیاں کرنے گا (مرجانے سے پھری موق کہاں ملتا

ہے، اس لے مرنے کی ہرگز آرزونہ کرنے) اگر ایسا ہی تھا کوآ رزو کرنا ہے تو ان الفاظ (پر علاً

روا اختار ہے لیکن ہے اور بخاری نے بعض اس کی روایت کی -12) سے موت کی آرزونہ کرنے

"اللہُمَّ أَحْيِنِی مَا كَانَتِ الْحَیَاۃُ خَیْرًا لِی وَ تَوَفَّنِی إِذَا کَانَتِ الْوَفَاةُ خَیْرًا لِی"۔

اللہ! (میں نہیں جانتا کہ میرے لے خیر کیا ہے، آپ ہی کو غیب کی سب خبر ہے اگر باوجود جو

مصاب اور پیار پول کے)

میرا زندہ رہنا خیر ہے تو مجھے زندہ رکھ! اور اگر مرنے کی خیر ہے تو مجھے نمر کے ساتھ موت دے۔

اس حدیث کی روایت بخاری نے کی ہے۔

دوسری حدیث

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "None of you should wish for death. (1) If he is a doer of good, perhaps he may increase in good deeds, and if he is a wrongdoer, perhaps he may repent" [Narrated by Bukhari]

(1) His statement: "None of you should wish for death..." It is said in Radd al-Muhtar: "It is disliked to wish for death due to harm that has befallen one, as it is prohibited. If one must, then let him say: 'O Allah, keep me alive as long as life is better for me, and take my soul when death is better for me.' This is mentioned in As-Siraj."

2382

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ

علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما تے ہیں: (مسلمانو!) تم میں سے کوئی (پریثانیول کی وجہ سے) محبرا کر دول

تے) موت آنے کی آرزودہ کرنے اور (نزبان تے) موت آنے کی دعا کرنے (جب موت آنا

بھآ جائے گا) موت آنے سے پبل (موت کی آرزودہ کرنے یا موت آنے کی دعا کرنے کوئل ب

صبر یا اظہارکرتے ہو، اگر صبرکرتنتومتمکواسکاثوابملتا تمکوپچھخبرتھ)کمرتنینک

عمل کرنے کا موقع جاتارهتنا ب بلد عمر(کعبطصح)سمسلمانکلینپيونكوبڑهنكا

موقع ملتا مرتنکبعدتمبهتآرزودروگمرپینعملكرنهااموقعنمبنلمگا،زنگكو

غمبت جانوجلالتكبوسكنعما ل كرن نكششمن رتو،مسلمانكي زندگي حمي اينعمبت

ایس،اس وقت اس ك ل نياينمجحوتي رتهي پي،تمموتكيآرزدواوردعاكرنكيلوناس

موقع كو حو ناجايتو؟اس لموتكيآرزويادعابركندرنا)

اس حد يث كروايت مسلم ن كي به-

تبیري حد يث

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "None of you should wish for death or pray for it before it comes to him. When one dies, his deeds come to an end, and the life of a believer only increases him in good" [Narrated by Muslim]

2383

-جا بر ضی اللہ عنہ تروايت ہ،آپ فرمات پین کرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمات پين كر(مسلمانو!دنياكيمصيتوناورتكليفونكيوجحتموتكيارزودنه

كرو(دنياكيمصيتيناورتكليفينمرتنكبعدپيشآنوا لی تكفيفونكمقابلهم پحمجي نمين

پيين)موت كبعدجوپيشآن وا لامور پين وہ بہت تحت پيين(کیا تم انكوآسانجحوگه تو؟

مرتنكبعدكمصابتبكيابتداءسكراتسهنوتي بہ،چقرقربمنمنوروگيركسوالكجوناب

دينا به،قبر كهبولنا كامورقيامتكهبيتناكواقعتليكبعدديگربسبپيشآنوا ل پيساسليموتكيارزودكرنياموتآنكيوعاءكرنسكوئيفاندهنينزيندگيكو

غمبت جحو،آن وا لاموريآسانيكلدنيايزيزندگيسيسينتياري کرو،جوپچھكرنا بهدنيا

ti پیل كرلو،مرتنكبعدپچھنهكرسكوغ )بهت خوش نصيب بهوهمسلمانحسكي عمر دراز تواور

اس كو خدا كيطرف رجوع هو ني تو فيق هوتي تو(اوروهالله تعالى كيا طاعتكركموت كبعد

آنوا لاموريآسانيكلتيناري كلياهول)

اس حد يث كروايت اماماحمد نيكي به-

Jabbar (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Do not wish for death, for the horror of the grave is severe. Indeed, part of happiness is for a servant to live long and for Allah to grant him repentance" [Narrated by Ahmad]

پچھوی حدیث
2384

کہ تھم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت مبارک میں حاضر تھے، حضور تھم کو وعظ ونصیحت فرمادے تھے، حضور تھم کو رقت پڑا تو نے والی با تین فرامائیں بول حضور کا وعظ ونصیحت بمیشرا دل پلا نے والا ہوتا تھا،گراس وقت کا وعظ کیا کہون کیسا تھا،ہمارے دول کی عجیب حال تھی، اسیا معلوم ہوتا تھا کہ آخرت کے سارے احوال اور قیامت کے ہولناک واقعات ہمارے سامنے ہیں، بہ شخص پر ایک رقت کا عالم طاری تھا،حضرت سعد کہی ہمارے ساتھ تھے،اس حالت سے متاثر ہوکر حضرت سعد خوب رورہے تھے(بہ سد ہوگر) کہنے لگے: کاش میں (چپن،ی میں) مر جاتا (تو کہہ کار نہ ہوتا اور عذاب آخرت سے نجات پاجاتا میں کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: اے سعد! کیا تم میرے ساتھ موت کی آرزو کرتے ہو؟آخرت کی تمام نغمتوں سے میری صحبت بہترین نعمت ہے،میری صحبت میں رہنا کیا کم ہے کہ پھرتم کیون میرے ساتھ موت کی آرزو کر رہے ہو) تین بار حضور ایسائی فرماتے رہے(قطع نظر میری صحبت کے تم کو تو جنت کی خوشخبری دی گئی ہے نا،اگر جنت کی خوشخبری نہ میلی دی جاتی تو تم مسلمان تھے)اگر تمہارے مقصد میں جنت کا گئی ہوتی تو تمہاری عمر کا دراز ہونا اور نیا لکر کے جنت کے مرتب حاصل کرنا (چپن میں مر جاتے۔) بہت بہتر تھا-(چھراب تم چپن میں مر نے کی آرزو کر رہے ہو،پیتمہاری شان کے لا تق نہیں ہے-)اس حدیث کی روایت امام احمد نے کی ہے-

It is narrated that we were in the blessed service of the Messenger of Allah ﷺ, and he gave us advice and admonition. When we felt overwhelmed, he would speak to us in such a way that his advice and admonition would touch our hearts deeply. He said about the advice of that time, 'What kind of advice was it? Our state was such that it seemed as if all the conditions of the Hereafter and the terrifying events of the Day of Resurrection were before us. A state of fear had enveloped everyone. Sadaqah was with us, and he was deeply affected by this state, crying profusely. He said, 'I wish I could die in seclusion so that I would not be a burden and would be saved from the punishment of the Hereafter.' The Messenger of Allah ﷺ said, 'O Sadaqah! Do you wish to die with me? The best blessing is my companionship. Is staying in my companionship not enough that you wish to die with me?' He repeated this several times, saying, 'Have you not been given the good news of Paradise through my companionship? If you had not been given the good news of Paradise, you would still be a Muslim. If your goal was Paradise, then living longer and striving to attain a higher rank in Paradise would have been better than wishing to die in seclusion.' He said, 'Do not wish to die in seclusion; it does not befit your status.' This hadith is narrated by Imam Ahmad.
پانچوی حدیث
2385

تعالی عنہ (جو مشہور صحابی ہیں وہ پہار تھے، میں ان کی عیادت کے لیے ان) کے پاس گیا (کیا کہتا ہوں کہ حضرت خباب سخت پہار ہیں، ان کو علاج کے طور پر ایک دوگلہ نہیں بلکہ) سات گلداغ دیا گیا تھا (بعض حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ داغ دونے کر علاج نکیا جاتے ہے، وہ عام طور پر ممانعت نہیں ہے لوگوں کی عادت میں کرمعمولی ضرورت پر کی داغ دیا کرتے تھے، اس سے منع کیا گیا، اتنہم ضرورت ہوتی داغ دینا ممنوع نہیں ہے حضرت خباب جس صحابی ممنوع چیز برگز استعمال نہ کرتے، ایسی ہی اتنہم ضرورت کی اس وجہت حضرت خباب داغ دینے کے اپنا علاج کے تھے، اتنہم ضرورت کا

اس سے اندازہ کرو کر وہ بھی سخت بیماری ہوگی جس کی برداشت نہ کرے )حضرت خباب فرماتے ہیں : اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم موت کی آرزو کرنے سے منع نہ فرماتے تو میں (اس سخت مرض کی برداشت نہ کرے )موت کی آرزو کرتا (گر میں حضور کے ارشاد کی تتمیل کر کے کپڑا،ی مرض ہو، اس میں موت کی آرزو نہیں کرتا ہول، پی بیماری کیا چیز ہے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کسی ایسے صحابی کو نہیں جانتا جس نے میرے برابر بلا کی اور مصیبتین برداشت کی ہول، ال مصیبتوں کے وقت مجھی بے صبری کا ظہار نہیں کیا ہول اب اس بیماری میں بے صبری کر کے حضور کے ارشاد کے خلاف کر کے موت کی آرزو نہیں کرتا، ویجھواس وقت )میری پیحالتوں کی کوئی دریا تم مجھی میرے پاس نہیں تھا (گر مجھی میں نے بے صبری کا ظہار نہیں کیا)اور اب میرے گھر کے ایک کوئی میں 40 ہزار دورہم پٹے ہوئے ہیں (حارث) کہتا ہیں کر پھر حضرت خباب کا کفن لا یاگیا (جو بہت قیمتی تھا)جب (حضرت خباب) اس (کفن) کو دیکھے تو رونے لگے (روتے ہوئے) فرماتے (ایک کفن تو پیہے اور ایک کفن تو وہ تھاجو) حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو (دیا گیا، گنجائش نہ ہوئی نے تین کپڑوں کی جاگے) ایک دہاری دار چادر، جی میں آپ کو کفنایا گیا (کیا کہول وہ مجھی اتنا چھوٹا کفن تھا کر )سر کو ذها کے تحت پاؤں کحل جاتے تھا اور اگر پاؤں کو ذها کے تحت سر کحل جاتا تھا (مجبور ہوکر) اسی کفن سے سر کو ذها کے پاؤں جو کتل ہوئے تھا ان کو ازخرا میں خوشبو دار گھاس سے ذحا کے (اور اسی حالت میں حضرت حمزہ دون کے گے _ صاحبو! آپ نے دیکھا اس وقت کی زندگی کیسے تکلیف کی زندگی تھی، باوجود اس تکلیف کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جوعم تھا کے تکلیف کی وجہ سے موت کی آرزو نہ کریں، اس کے باوجود تکلیف کے کونی صحابی نے موت کی آرزو کے نے موت آنے کی دعا کے مسلما نو! تم مجھی کیسے، می تم پر پریثانی آنے حضور کے حکم کی تتمیل کر کے مجھی موت کی آرزو نہ کرنا اور نہ موت آنے کی دعا کرنا، صبر کے ہوئے صبر کا ثواب حاصل کرتے رہیں۔) اس حدیث کی روایت امام احمد نے کی ہے، او رتنہی نے مجھی اس کے قریب قریب روایت کی ہے۔

Harithah ibn Mudarrib (may Allah be pleased with him) narrated: I visited Khabbab (may Allah be pleased with him) while he was cauterizing himself seven times. He said, "If I had not heard the Messenger of Allah (ﷺ) say, 'None of you should wish for death,' I would have wished for it. I remember being with the Messenger of Allah (ﷺ) when I did not possess even a dirham, and now I have forty thousand dirhams in the corner of my house." Then his shroud was brought to him, and when he saw it, he wept and said, "But Hamzah (may Allah be pleased with him) was not given a shroud except for a striped cloak. If it was placed over his head, it would not reach his feet, and if it was placed over his feet, it would not reach his head. So it was placed over his head, and idhkhir (a type of grass) was placed over his feet" [Narrated by Ahmad and Tirmidhi, except that Tirmidhi did not mention the part about the shroud]

From some hadiths, it is known that branding with a hot iron for medical treatment is permissible. Generally, there is no prohibition against it; people used to brand themselves out of customary necessity, which was then prohibited. However, if there is a dire necessity, branding is not forbidden. For instance, Hazrat Khubab (RA), who would not use anything prohibited, also branded himself due to dire necessity. This indicates that his illness must have been very severe, which he could not bear. Hazrat Khubab (RA) says: 'If the Messenger of Allah (peace be upon him and his family) had not prohibited desiring death, I would have wished for death due to this severe illness. But because of my compliance with the Prophet's (peace be upon him and his family) guidance, even if I were to suffer from a more severe illness, I would not wish for death. I do not know of any Companion of the Messenger of Allah (peace be upon him and his family) who endured as much affliction and calamity as I did. During those afflictions, I did not show impatience. Now, in this illness, I do not wish for death or pray for its arrival, as it would go against the Prophet's (peace be upon him and his family) guidance. At that time, I had no means to alleviate my suffering, and I did not show impatience. Now, in my house, there are 40,000 dirhams worth of goods (Harith) says: Then the shroud for Hazrat Khubab (RA) was brought (which was very valuable). When Hazrat Khubab (RA) saw it, he began to cry, saying, 'One shroud is for wearing, and one is for covering.' It was given to Hazrat Hamzah (RA), and it did not fit properly, so it was a single-layered sheet. I was shrouded in it, and it was so small that when my head was covered, my feet were exposed, and when my feet were covered, my head was exposed. Thus, the shroud was used to cover my head and the part of my body that was cut off, which was placed in fragrant grass. Hazrat Hamzah (RA) said, 'O Companions! Have you seen what kind of life it was during those times? Despite such hardships, the Messenger of Allah (peace be upon him and his family) commanded us not to wish for death due to hardship. Despite such hardships, no Companion wished for death or prayed for its arrival. O Muslims! How should you behave? You should endure with patience and comply with the Prophet's (peace be upon him and his family) command not to wish for death or pray for its arrival, and continue to gain the reward of patience.' This hadith has been narrated by Imam Ahmad, and something similar has been narrated by others as well.

2386

انس رضي الله عنه رويت، آب فرما تے پی کر رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ارشاد فرما سی پی کر کو نی شخص (بدني يالي) مصيبتي كي وجتے (زندي سے تقى آكر)

"اللّٰهمّ أَحْيِنِی مَا كَانَتِ الحَیَاۃُ خَیْرًا لِی وَتَوَفَّنِی إِذَا کَانَتِ الوَفَاةُ خَیْرًا لِی".

اگر موت کی آرزو کرنا ہوتا تو الفاظ سے کی جاتے ہے گر موت کی آرزو نہ کرے،اگر تم کو ایسا،ی موت کی آرزو کرنا ہے تو (اپنے الفاظ میں ہرگز نہ کرنا، تم

الدّعائی کی شان کے خلاف پڑھ کر دوگے، بہتر یہ کہ حدیث کے ان الفاظ سے موت کی آرزو کرنا (وہ الفاظ یہیں):

ا ہی (میں تمہیں جانتا کہ میرے لئے خیر کیا ہے، آپ میں کو غیب کی سب خبر ہے، اگر باوجود مصائب اور پیار پول کے ) میرا زندہ رہنا خیر ہے تو مجھے زندہ رکھے اور اگر میرا مرنا ہی خیر ہوتا ہے تو خیر کے ساتھ موت دینے۔

جو الدّتعالی سے ملنے کو پسند کرتے ہیں الدّتعالی محض ان سے ملنے کو پسند فرماتے ہیں 2388-2387/8-7_عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جو شخص الدّتعالی سے ملنے پسند کرتا ہے تو اللہ تعالی محض اس سے ملنے پسند کرتے ہیں اور جو شخص الدّتعالی سے ملنے پسند نہیں کرتا تو الدّتعالی محض اس سے ملنے پسند نہیں کرتے (پسن کر) ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا عرض کیں یا رسول اللہ (اللہ تعالی سے ملنے سے مراد اگر موت ہوتی موت کو تو کونی محض پسند نہیں کرتا، پھر حضرت کا یقینا کہ بعض موت کو پسند کرتے ہیں اور بعض موت کونی پسند کرتے اس کا کیا مطلب ہے) تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے: عائشہ! (تم خدا کے ملنے کو اور موت کو ایک ہی محض رہی ہو) ایسا نہیں ہے (انسانی فطرت کے لحاظ سے تو موت کونی محض پسند نہیں کرتا، الدّتعالی سے ملنے اور موت کو ایک چیز نہیں ہے بلکہ) جب مسلمان کوموت آتی ہے تو (چون کہ وہ تو حیدراور رسالت کا قابل ہو کر الدّتعالی کو راضی کر لیا ہے) اس کے ساتھ فرشتہ آکر خوشخبری سناتے ہیں (کہ چلو اللہ تعالی کے سامنے اللہ راضی ہے، تمہارے لئے راحت وآرام اور باغ وپہارتیار کیا ہے) اس وقت مسلمان کے سامنے اللہ تعالی سے ملنے سے برہم کرنے والے چیز محبوب نہیں ہوتی ہے تو وہ الدّتعالی سے ملنے کو پسند کرتا ہے اور اللہ تعالی محض (چون کہ اس سے راضی ہیں) اس کے لئے اس سے ملنے کو پسند فرماتے ہیں، (اس کے برخلاف) جب کافر کو موت آتی ہے تو (چون کہ تو حیدراور رسالت کا انکار کر کے وہ الدّتعالی کو ناراضی کر رکھا ہے اس لئے) فرشتہ اس کے ساتھ آکر کہتے ہیں (کہ تم خدا سے مل کر کیا کروگے خدا تم سے ناراضی ہے) تمہارے لئے طرح طرح کے عذاب اور مصائب تیار کر رکھا ہے، تو اس وقت کافر کے سامنے الدّتعالی سے ملنے سے برہم کرنے والے چیز ناگوار نہیں ہوتی اس لئے وہ الدّتعالی سے ملنے کو

پسندشین کرتا اور اللہ تعالیٰ مجھی (جوگڑے اس بر غضب ناک ہیں) اس لئے وہ اس سے ملنے کو پسندشین

فرماتے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفرق طور پر کی ہے۔

قیامت میں مسلمان سے اللہ تعالیٰ کیا پہلا سوال کریں گے

Ubadah ibn as-Samit (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever loves to meet Allah, Allah loves to meet him. And whoever dislikes to meet Allah, Allah dislikes to meet him." Aisha (may Allah be pleased with her) or one of his wives said, "We dislike death." He said, "It is not that. Rather, when death approaches a believer, he is given the glad tidings of Allah's pleasure and honor, so there is nothing more beloved to him than what lies ahead. Thus, he loves to meet Allah, and Allah loves to meet him. When death approaches a disbeliever, he is given the news of Allah's punishment and retribution, so there is nothing more hated to him than what lies ahead. He dislikes to meet Allah, and Allah dislikes to meet him" [Agreed upon]. In another narration, Aisha (may Allah be pleased with her) mentioned death before meeting Allah.

In the Hereafter, what will Allah ﷻ ask the Muslim as the first question?

2389

معاذ بن جبل رضي الله عنه تعالى روايت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول الله صلى الله عليه وسلم (ایک ضروری بات سنانا چاہتا تھا خاص توچہ کے ساتھ اس کو سن کے لے پہ طور تمہیارشا د فرما ہے) (مسلم ان! ) تم کو پچھ معلوم ہے کر قیامت میں اللہ تعالیٰ مسلما نون سے پچھی بات کیا کریں گے، ایے، یا اس دون مسلما نون کی پچھی بات اللہ تعالیٰ سے کیا ہوگی اگر تم چاہتے ہوتے میں تمہیں اس کو سنا تا ہوں، پیس کر صحاب عرض کے، حضرور ضرور سنائیے (تم اس کو سن کے لے خاص توچہ کے ساتھ تویار ہیں) رسول الله صلى الله عليه وسلم ارشاد فرما ہے سنو! اللہ تعالیٰ کی (پہلی) بات (مسلما نون سے متوچہ ہوکر) پیہوگی کہ کیا تم کو پیقین حق کر (تم کو آخرت میں ایک دون آناتےاور)

اللہ تعالیٰ سے ملتا ہے تو مسلما ن عرض کریں گے بالا لے ہمارے ما کر (تم پیقین سے ایمان ہے ہو گے تم) تو اللہ تعالیٰ ارشاد فرما ئیں گے (جب تم کو مجھ سے ملتا ہو پیقین حقا پچھ تم گناہ کیے کے، مسلما ن عرض کریں گے ایی! (تم نادم اور شرمندہ ہیں، تم کو گناہ کیے کرنا چاہتے ہوگے) آپ پا کرم، آپ کا رحم، آپ کا حلم، تم کو جرات ولا یا (تم پیچھے ہو گے تم آپ کی مغفرت ہمارے گناہول سے زیادہ وسیع ہے، آپ کی مغفرت کے سامنے ہمارے گناہ کیا چیز ہیں، تم پر ی امیدآپ سے کے اس لئے گناہ کرنا حقا کے) تو اللہ تعالیٰ ارشاد فرما ئیں گے: (بندہ جیسے میری نسبت خیال کرتا ہے میں ویسا، ایس کے ساتھ برتاو کرتا ہوں، جب تمہارا میرے ساتھ ایسا خیال حقا تو) میں تمہارے سب گناہوں کو مخش دیا۔ اس کی روایت امام بخوی نے شرح السنن میں کی ہے اور ابو عمیم نے بھی حلقہ میں اس کی روایت کی ہے۔

موت کے وقت امیداور خوف کی حالترہناجا پے

When a Muslim meets Allah, he will say, 'O Lord, I have committed many sins.' Then Allah will instruct him, 'When you meet Me, you will truly believe, and you will have committed sins. You will be remorseful and ashamed, and you will wish you had not committed those sins.' He will then say, 'I am Most Merciful, Most Forbearing, and Most Kind. I will give you courage. You will turn back, for My forgiveness is greater than your sins. What are your sins compared to My forgiveness? Have hope in Me, for this reason, you truly committed sins.' Then Allah will say, 'As I am with My servant in his thoughts about Me, so shall I be with him. If he thinks of Me in this way, then I will forgive all his sins.' This tradition has been narrated by Imam Bukhari in his Sharih al-Sunan and by Abu Ayyub in his circle. At the time of death, one should be in a state of hope and fear.

2390

اس رضي الله عنه تعالى روايت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول الله صلى الله عليه وسلم ایک نوجوان کی عیادت کے لے تقریف لے گئے اور اس کو ملاحظہ فرما یے کر سکراتے کی حالت میں ہے، حضرور ان سے دریافت فرما یے: (اس وقت تمہارے دل کی) کیا حالت ہے؟ (تمہارے دل میں اس وقت کیا خیالات آ رہے ہیں) اس نوجوان نے عرض کیا: حضرور! گناہوں کی

مجھ سے خدا بے تعالیٰ سے دور رہا ہوں (کہ میرے ساتھ معلوم نہیں کیا برتا و کیا جاتا ہے اور ادحر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی مغفرت کا خیال آتا ہے تو) بڑی امید محجی ہوتی ہے (کہ اللہ تعالیٰ کی مغفرت کے ساتھ میرے گناہ کیا چیز ہیں ضرور اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے میرے گناہ معاف فرمائین گے اور مجھے مرنے کے بعد راحت و آرام نصیب ہوگا، اس وقت اس کشمش میں میرادل پحسا ہوا ہے)۔ یعنہ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ارشاد فرماتے: (سنو! اے لوگو ان پول تو ہروقت مسلمان کو اللہ تعالیٰ سے خوف کرتے ہوئے اور اس سے امید رکھتے ہوئے رہنا چاہئے خاص کر) ایسے سکرات کے وقت میں (جب شخص کے دل میں اپنے گناہوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ سے خوف ہو اور اللہ تعالیٰ کی شان رحمت اس کے پیش نظر ہو جس کی وجہ سے وہ بڑی امید لگا یہواہے، اللہ کی رحمت بیشتر اس کے غضب پر غالب رہتی ہے، ایسے بندہ کی حالت اللہ تعالیٰ کو بہت پسند آتی ہے) تو وہ بندہ جس چیز سے دور رہا ہے اس کواسے پچالیتے ہیں اور جس چیز کی امید لگا یہواہے اس کو عطا فرما کر امن اور راحت میں رکھتے ہیں۔

اس کی روایت تزدی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔

موت کے وقت مسلمان اللہ تعالیٰ سے حسن ظن رکھے

Anas (may Allah be pleased with him) narrated: The Prophet (ﷺ) visited a young man who was on the verge of death and asked, "How do you feel?" The young man said, "I hope in Allah, O Messenger of Allah, but I fear my sins." The Messenger of Allah (ﷺ) said, "These two feelings do not coexist in the heart of a servant in such a situation except that Allah will grant him what he hopes for and protect him from what he fears" [Narrated by Tirmidhi and Ibn Majah]

2391

جا بر ضی اللہ علیہ روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ (مجھ خوب یاد ہے) خود میں نے سنایہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے وفات ثبوت کے تین دن قبل اس طرح ارشاد فرماتے ہیں تم میں سے ہر ایک کی موت ایسی حالت میں ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ سے حسن ظن رکھتا ہو۔

اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔

ف : اس حدیث کی تفصیل یہ ہے کہ مسلمان کے دو بازو میں جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی طرف جانے کاراستہ ہے آسانی سے طے ہوتا ہے، ایک بازو قیہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کا خوف رہے جس کی وجہ سے وہ گناہوں سے پچدار ہوتا ہے اور دوسرا بازو یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ سے امید رکھے جس کی وجہ سے مسلمان اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی امید رکھتا ہے، حالہ صحیح اور زندگی میں خوف خدا کو غالب رکھے تاکہ گناہوں سے پچار ہے اور مرنے کے وقت خوف کی ضرورت نہیں رہی، اس لے کر وہ وقت گناہ کرنے کا نہیں ہے بلکہ موت کے وقت خدا کو رحمیم، کریم، ستار، غفار جان کر مغفرت کی امید دل میں لیا ہوا رہے، تاکہ خوش خوش خدا کے پاس جانے کے لے تیار رہے، مرنے سے بھی نہ چڑا ہے، یعنی مرنے کے وقت اگر خوف کی حالت رہی تو خدا کے سامنے الیا جانے گا جیسے ما کے

ساتھ جہاگا ہوا غلام ؤرتا ہوا جاتا ہے اس لے زندگی میں حتی الامکان نکیاں کرے تو رہے اور مرے تو وقت دل میں قیامی مغفرت کی لیا ہوارہ گا تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنا جائے گا جسے کوئی غلام ما کرے حرم کی تعزیل کرے ما کرے ساتھ برہی برہی امیر بن لگے ہوئے خوش خوش جاتا ہے۔

مومن موت سے راحت پاتا ہے اور دنیا کو فاجر کی موت سے راحت ملتی ہے

Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say three days before his death, "None of you should die except while having good thoughts about Allah" [Narrated by Muslim]

2392

ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ (ایک دن)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما تھا آپ کے ساتھ تے ایک جنازہ گزر را، آپ اس جنازہ کو دیکھ کر فرما تے یاقواس کوراحت ہوگی یااس سے راحت ہوگی، صحابہ نے عرض کیا حضرت آپ جوارشاو فرما تے ہیں تم اس کا مطلب نہیں سمجھتے، اس سے کیا مراد ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما تے سنو (میں نے جوکہا "اس کوراحت ہوگی اس سے مراد یہ ) کہ مسلمان بنده دنیا میں طرح طرح کی مصیبتیں اٹھاتا رہتا ہے، مرنے کی وجہ توہ ان تمام مصیبتوں سے چھوٹ جاتا ہے اور چونکہ وہ نیبال کرتا رہا، اس لے اللہ تعالیٰ اس پرمہربان ہیں (مرنے سے) وہ رحمت ابی میں پڑتی جاتا ہے اور راحت وآرام پاتا ہے، حضرت فرما تے (کہ میں نے "اس سے راحت ہوگی" جوکہا اس کا مطلب یہ ) کہ جوزالم بندہ (کہ جس کے ظلم سے سب تگ طرح طرح لوگوں کو ایزا پہو چ رہی ہے، اس کے مرنے کی وجہ سے سب کوراحت ہو جائے گے (اس لے کر اس کے ظلم کی وجہ تو رخت اور جانور اس کے مرنے سے سب کوراحت ہو جائے گے (اس لے کر اس کے ظلم اور گناہوں کی وجہ سارے عالم میں فساد پھیل گیا تھا اور اللہ تعالیٰ اس پر غضب ناک ٹھاس کے ظلم اور گناہوں کی وجہ سے بارش رک گئی، طرح طرح سے عالم میں خرابیاں ہورہی ہیں، اس کے مرنے کی وجہ سے ساری خرابیاں دور ہو گئیں، بارش کی وجہ سے زمین سرسبز ہوگی اور زمین پر بن والول کوآ رام نعیب ہوگیا س لے میں نے اس جنازہ کودیکھ کر کہا کہ اس کوآ راملگیا اس سے سب کوآ راملگیا۔)

اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم میں متفرق طور پر لکھے ہے۔

دنیا میں مسافر کی طرح رہو

Abu Qatadah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) passed by a funeral and said, "Is he relieved or is he a relief for others?" They said, "O Messenger of Allah, what is 'relieved' and 'a relief for others'?" He said, "The believing servant is relieved from the toil and harm of the world to the mercy of Allah, while the wicked servant is a relief for the people, the land, the trees, and the animals" [Agreed upon]

2393

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، آپ فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (خاص توجہ سے لے لے) میرے دونوں موٹے ہے پیٹ کر ارشاد فرما تے ابن عمر سنو!

(دنیا کو اپنا گھر نہ بنانا) تم دنیا میں ایسے رہو جیسے مسافر (مزل میں) رہتا ہے (کسی چیز سے دل نہ

لغو اس لئے کرائے دیناس کو جھوڑنا ہے، یہ حال کی لدّ توں سے نفع لینے کی عادت نہ ہو، لوگوں سے

گہرا تعلق (جسیا کر مرقات میں نذور ہے۔12 ) پیدا نہ کرو، ایک دین ان کو جھوڑنا ہے، بال خدا و

رسول کے حکم کے موافق ان کے حقوق اداء کرتے رہو، ابن عمر! تم بیرہ جہنا کر میں یہ حال بمیشہ رہنے

کے واسطہ آیا ہول، تم اپنے رہو جیے مسافر کہ وہ کسی سے گہرے تعلق پیدا نہیں کرتا، مسافر کے جیسے

مشاغل ہوتے ہیں اپنے مشاغل رکھو، بمیشہ رہے والے کے جیے مشاغل نہ پیدا کرو، تم مسافر ہو،

آخرت تمہارا اصلی وطن ہے، اصلی وطن میں رہنے کے لئے یہ حال سے سامان تیار کر کے چلو، سنوا بن

عمر! مسافر منزل میں ایک دوروز تو بھی قیام کرتا ہے لیکن تم کو یہ حال ایک دوروز بھی قیام کرنے کی

امید نہیں ) بلکہ تم اپنے کو جھوکر میں مسافر ہونے راستے چل رہا ہول (مجھے یہ حال دنیا میں ایک دن بھی

رہنے کی امید نہیں ہے، کیا معلوم کب وقت آتا ہے اور کب چلنے پڑتا ہے اگر شام ہو تو صبح کا انتظار

مت کرو (کیا معلوم تم صبح تک زندہ رہے گہی ہو یا نہیں) اور ایسا ہی جب (جسیا کر مرقات میں

نذور ہے۔12 ) صبح ہو تو شام کا انتظار مت کرو (کیا معلوم کہتم شام تک زندہ رہے گہی ہو یا نہیں، ابن

عمر! تم موت کی تیاری میں رہو) جو وقت لے اس کو غنیمت کرتو، صحت کے زمانے میں جہالت کے

ہو سے اعمال نکے کرتے رہو) جب پیارہ وجاة گے تو تم اعمال نکے کرتے رہو (موت کے بعد کا زمانہ جزاء ملنے کا

ہے زندگی کو غنیمت جانو، جہالت کے ہو سے اعمال نکے کرتے رہو (موت کے بعد کا زمانہ جزاء ملنے کا

زمانے ہے، عمل کرنے کا زمانہ نہیں ہے، ہزارتم عمل کرنا چاہو گے گرم عمل نہیں کر سکو گے۔)

اس حدیث کی روایت بخاری نے کی ہے۔

موت کو کثرت تے یاد کیا کرو

Abdullah ibn Umar (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) took hold of his shoulders and said, "Be in this world as if you are a stranger or a traveler." Ibn Umar (may Allah be pleased with him) used to say, "When evening comes, do not wait for the morning, and when morning comes, do not wait for the evening. Take from your health for your sickness and from your life for your death" [Narrated by Bukhari]

2394

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ

علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: (مسلمانو! کب تک غفلت میں رہو گے غفلت دور کرنے کے لئے)

لزوال کے مثال واقی کو کثرت تے یاد کیا کرو (پھر تمہیں کہ لزوال کومثال واقی کون چیز ہے؟ سنو)

وہ موت ہے (موت بجو لئے غفلت میں پڑے ہو گے ہو، جب موت تمہارے سامنے رہ گی

تو تم سفر آخرت کی تیاری میں لگ جاؤ گے اور اعمال نکے کر کے خدا کے سامنے میر خروج ان کے لئے

بمیشہ کوشش کرو گے)۔

اس حدیث کی روایت ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔

موت کو یاد کرتنے رہنا اطاعت اﷲ کا سبب بناتا ہے

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said"Frequently remember the destroyer of pleasures, death" [Narrated by Tirmidhi, Nasa'i, and Ibn Majah]

2395

ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے روایت کی، آپ فرماتے ہیں کہ (آیروز) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہلم صحابہ کرام سے خطاب ہوکر ارشاد فرماتے صاحب! اللہ تعالیٰ نے ایسا ثواب جیسے اس سے شرمنا چاہئے (صحابہ کرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منشا کو بھجھے گے کے حضور میں فرمانا چاہئے ہیں کہ اللہ کی نعمتوں کو حاصل کرنے کے احساسات میں رکڑ پھراس کی نافرمانی کرنا برتری بے حیائی اور بے شرمندگی کی باٹ ہے اس لے) صحابہ عرض کرتے حضور! اللہ کی نعمتین اوراس کے احساسات تم کو یاد ہیں احمد اللہ تم اس کی فرمانبرداری کے جارہے ہیں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے اللہ تعالیٰ کی بے ننتی نعمتوں کے اور کثرت کے احساسات کے مقابلے میں تمہاری فرمانبرداری پڑھی نہیں، اس لے کہتا ہون) اس طرح کی فرمانبرداری سے جسیما شرمنا چاہئے ویسا شرمنے کا حق ادا نہیں ہوتا، (جیسے میں کہتا ہوں اس طرح کرو تو کی قدر نہیں مانے کا حق اداء ہوجاتے گا، صاحب! سوچو) تم اللہ تعالیٰ نے جوسردیا ہے اس ستتم کو جوعین مل رہی ہیں ان نعمتوں کو یاد کرو اس کا شکریہ کے غیر خدا کے آگے مرزنہ جہاں جس نے سردیا ہے اس کے سامنے مر جہاں جا چاہئے، تکبر اور غرور سے مرنا اکثر انا اورسر میں بربے خیالات اورعقائد باطل نے جمع کرنا سر میں تمہارے زبان دیاے، آگہیس دی ہیں اورکان دے ہیں ان میں سے ایک ایک کیا کہوں کسی نہمت کے، اگر کسی میں پہاری سے تقاضا آجا گے اس وقت اس نعمت کی قدر ہوتی ہے اس لے تم ان نعمتوں کو زبان آ کہہ اورکان کو خدا کی نافرمانی میںصرف نکرنا جس نے نیعتین دی ہیں اس کی اطاعت میں رکنا مثلًا کان سے غیبت، جحوت اور برس با تین نفسنا اورآ کہہ نا محرم کی طرف نہ دکیہنا اور زبان سے جحوت غیبت اور بری با تین نکہنا، صاحب! پھرسوچو) تم اللہ تعالیٰ نے جو پیت دیا ہے وہ کسی بری نعمت ہے اس سے تم کو کیا کیا فائدہ لے مل رہے ہیں، اس کا شکریہ کے پیت کو ہرام غذا کے پیاو (اور پیت کے متعلقات میں دل ہے اس میں علم دین اور معرفت حق جمع کرو، اوردل کوماسوا اللہ کی محبت سے دور رکھو، سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا کرواور پیت کے متعلقات میں شرمنگاہ ہے، بات کہ پاول ہیں ان سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نکرو، ان سب کواللہ تعالیٰ خوشنوی اوراس کی رضا مندی کے کاموں میں لگے رکھو، خلاصہ یہ کہ جسم کو اورسارے اعضاء کواللہ تعالیٰ کی اطاعت اورفرمال برداری میں رکھنے سے بجا جا گا کہ تم اللہ تعالیٰ سے ایاشرمارہ ہو جسیا کہ شرمنا چاہئے، جسم کو

اورسارےاعضاءکواللہ تعالیٰ کیاطاعتاورفرمانبرداری میںرکھنےکےوعلاجبتاہولسنو! ایکتو

پیچکہ) بمیشہموتکویادکرتے رہواور(موتکےبعدقبرمیںجسمکےسرمنگلنکوبھیسوچترہو

(توتمہارتےدلمیرقتپیراهوگی، جسمکےسبستمتجسمکوارتماماعضاؤاللہ تعالیٰ کی

اطاعتاورفرمانبرداری میںرکھوگے،اوردوسراعلاجپیہکرنیاوردنیاکیزیبوزینتجتن

کےپیشنظرتمتبہوجسمکوارتماماعضاؤاللہ تعالیٰ کیاطاعتاورفرمانبرداری میںنہیںرکھ

سکےپیاسلتنتخوبسونچوکرتکودنیامیںبمیشہرہناہیںپیہایکدوندنیاچھوڑکراللہ تعالیٰ کے

سامنجاناپیاسلتے)دنیاوردنیاکیزینتکوچھوڑدو(دنیامیںزاپداشزنگیبسکروتوتمجسمکوار

تماماعضاؤاللہ تعالیٰ کیاطاعتمیںرکھسکوگےتو)سمجھاجائےگاکہاللہ تعالیٰ سےجبیاشرمانا

چائےوپیاشرمادرہےپیاسحدیثکیروايتماماحمداورترندی نےکیہے۔

تمہید

اللہ تعالیٰ کاارشاہے: "يحبهم ويحبونه" -(سورۃ انکه،پ:6،ع:8،آیت

نمبر:54)(اللہ تعالیٰ مسلماںولےمحبت رکتهیںاورمسلماںبھیاللہ تعالیٰ سےمحبت رکتهیں)

ایکاورجگرارشاہے: "وَاَللَّذِينَ اَمَنُواْ اَشَدُّ حُباً لِّلّهِ" -(سورۃ

بقرہ،پ:2،ع:20،آیت نمبر:165)(مسلمانسبسنےزیادہاللہ سےمحبت رکتهیں)اس

سسملومہواکہمسلماںولےواللہ تعالیٰ سےاوراللہ تعالیٰ کومسلماںولےمحبت کاتعلقہےاوریقاعدہ

سےکردوستدوستکےساتمہربانیاورسرفرازیالکراناچاہتاہےبعضموانعتکیوچہسے

سرفرازینبینکرسلتاہے،جبموانعتانہجاپیہیتدوستكوسرفرازکرنےکاموقملتاہے،اپیا

ےاللہ تعالیٰ کوخاصطورپرمسلماںولےمہربانیکرنےکااورانکوسرفرازکرنےکاونیامیںرہنکی

وجہسموقعنبیسلرپابہگودنیامیںبھیالنپرمہربانہےاورانکوسرفرازکرنےکاآخرت میں

جومہربانیاورسرفرازیالہولیمسلماںکودنیامیںرہنکیوچہےاللہ تعالیٰ نبیندےرپاہے)

مسلمانولکودنیاچھوڑکرخاصمہربانیاورسرفرازیالحاصلکرنےکےلےآخرت میںجانا

ضروریہے،اسلسےاللہ تعالیٰ موتبجلایکتفاورہدیکےپیاسکوچچکرمسلمانکوسرفراز

کرنےکےلےآخرت میںبلاتےپیاسلتے:

Ibn Mas'ud (RA) reported, saying:

O people! Allah, the Exalted, has prescribed such a reward that one should be ashamed of it.

The noble Companions should express their gratitude for the blessings of Allah in the presence of the Messenger of Allah (peace be upon him) and should not show any reluctance or disobedience, as such behavior is a sign of shamelessness and lack of modesty. Therefore, the Companions would say, 'O Messenger of Allah! The blessings of Allah and the sense of gratitude are well-known to us. We are grateful to Him and we are obedient to His commands.' The Messenger of Allah (peace be upon him) would say, 'Your obedience does not measure up to the boundless and numerous blessings of Allah. This is because such obedience does not fulfill the right of being ashamed, as it should. Just as if I were to tell you to do something, it would not be considered proper unless you felt the appropriate sense of shame. Consider this: the blessings that Allah has bestowed upon you are continuous, and you receive them constantly. Remember these blessings and be grateful to Him, and do not show ingratitude before anyone other than Him, who has bestowed these blessings upon you. Pride and arrogance often lead to false ideas and beliefs, which can corrupt your mind. Allah has given you a tongue, eyes, and ears. If you were to ask a mountain for a blessing, you would realize its value at that moment. Therefore, use your tongue to speak and your limbs to act in obedience to Him, who has given you these faculties. For example, do not use your ears for backbiting, lying, or engaging in vain talk, and do not look at what is forbidden, nor speak lies, backbite, or engage in vain talk. O people! Consider this: the blessings that Allah has bestowed upon you, such as your body, what benefit do you derive from them? Be grateful for these blessings and do not use your body to consume unlawful food or drink. The heart, which is part of the body, should be filled with knowledge, faith, and the love of Allah. Keep your heart free from anything other than the love of Allah. The most important thing is to cultivate the love of Allah and to keep the heart a place of shame, so that you do not disobey Allah through it. Engage all parts of your body in the obedience and service of Allah, and you will find that you are truly ashamed before Him, as you should be. In summary, by keeping your body and all its parts in the service of Allah, you will be truly ashamed before Him. Moreover, always remember death, and consider that after death, the body will be in the grave, where it will be in a state of shame. If your heart is filled with piety, your entire body and all its parts will be in the service of Allah. Another remedy is to practice abstinence and avoid the allurements of the world. If you cannot keep your body and all its parts in the service of Allah, then you will not be able to live a life of piety in this world. If you understand that true shame is to be ashamed before Allah, then you will leave the world and come before Allah. Thus, leave the world and its allurements, and live a life of piety. When you understand that true shame is to be ashamed before Allah, then you will be truly ashamed. This is the completion of the hadith and its explanation.

Introduction:

Allah Almighty says: 'He loves them and they love Him' (Surah Al-Ma'idah, 5:54). Allah loves the Muslims, and the Muslims love Him. Another verse states: 'And of those who believe, the most intense in love for Allah' (Surah Al-Baqarah, 2:165). This indicates that there is a mutual relationship of love between Allah and the Muslims. According to the principle of friendship, friends seek to elevate and benefit each other. Some positions require elevation, and when qualifications are met, friends naturally elevate each other. Similarly, Allah, in His special mercy, seeks to elevate the Muslims and show them favor. This is evident in the world, where He is merciful to them, and in the Hereafter, where He will show them even greater mercy and elevation. Therefore, it is necessary for the Muslims to leave the world and attain special mercy and elevation in the Hereafter. This is why Allah enlightens and guides them, so that they may achieve elevation in the Hereafter.

موت مومن کے لے تحفہ
2396

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرما تے ہیں کہ مجھ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما گے پین کر مسلمان کے لے موت مثل تحفہاور بدپیک خوش گوارہ ( کراس کے ذرائعے اللہ تعالیٰ کا قرب نصیب ہوگا، طرح طرح کی نعمتین اور راحت وآرام ملگا ) اس حدیث کی روایت جہت نے شعب الایمان میں کی ہے۔ مومن کا خاتمہ بالخیر ہونے کی ایک علامت

Abdullah bin Umar (RA) said:

The Noble Messenger of Allah ﷺ said: 'For a believing servant, death is like a gift and a pleasant fragrance (through which the proximity to Allah Almighty will be attained, and various blessings and comfort and peace will be obtained).' This hadith has been narrated by Juhayt in Shu'ab al-Iman. It is a sign that the end of a believer is with goodness.

2397

بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما گے پین کر مسلمان (جب اس کا خاتمہ بالخیر ہوتا ہے تو) مرتن وقت اس کی پیشانی پر پیشانزآتا ہے (اس لے کہ خاتمہ بالخیر ہونے کی پیشانی ایک علامت ہے۔) اس حدیث کی روایت تنزہی، نسائی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔ ناگہانی موت مومن کے لے رحمت اور کافر کے لے غضب ہے

It is narrated from Buraydah (RA) that he said:

The Messenger of Allah ﷺ said: 'When a Muslim drinks (and his end comes with goodness), a mark appears on his forehead at the time of death (for the mark of a good end is a sign.).' This hadith is reported by Tirmidhi, Nasa'i, and Ibn Majah. Sudden death is mercy for the believer and wrath for the disbeliever.

2398

ابوداؤد کی روایت میں عبید اللہ بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما گے پین کہ کیا کی اور اجا کے مرجانا اللہ تعالیٰ کے غضب کی علامت ہے (کس کے لئے؟ کافر کے لئے، اس وجہ سے کہ پیشانی اور روزہ دونوں نے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما گے پین کہ کیا کی مرجانا کافر کے حق میں غضب کی علامت ہے اور مسلمان کے لئے کیا کی مرنا رحمت کی علامت ہے۔)

Abu Dawud narrated from 'Ubayd Allah ibn Khalid (RA) that he said:

The Messenger of Allah ﷺ said: 'What is done with the forehead and nose is a sign of Allah's wrath (for whom? For the disbeliever, because both the forehead and nose have narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: what is done with the forehead and nose is a sign of Allah's wrath for the disbeliever, and what is done with the face and mouth is a sign of mercy for the Muslim.)'